Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شعیب اختر بھارت کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی دعائیں کرنے لگے

    شعیب اختر بھارت کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی دعائیں کرنے لگے

    سابق کرکٹر شعیب اختر نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈ یو پیغام میں انہوں نے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ فائنل کھیلے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بھارت کے لیے یہ ہے کہ دل چھوٹا نہ کریں مایوسی ہوئی ہے اور بہت سے چیزیں مایوس کن تھیں اور ان کے مایوس بھرے بیانات سامنے آئے لیکن ابھی ٹورنامنٹ باقی ہے۔

    انہوں نے بھارتی ٹیم کو کہا ہے کہ ہم ابھی ٹورنامنٹ میں آپ سے دوبارہ ملنا چاہ رہے ہیں کیونکہ ہم نے آپ کو فائنل میں پھینٹی لگانی ہے اسی لیے ہم دعائیں کر رہے ہیں کہ آپ کوالیفائی کریں۔

    سابق فاسٹ باؤلر نے کہا کہ بھارت کے لیے ٹورنامنٹ میں ابھی وسیع موقع ہے بھارت کے آخرہ دو آسان میچز ابھی باقی ہیں ۔ بھارت کو چاہیے کہ ایک میچ میں دو ڈھائِی سو اسکور کرےدعا ہے سو پر دوسری ٹیم کو آؤٹ کر کے رن ریٹ اچھا کرے اور سیمی فائنل میں آ جائے۔

    واقعی:بھارت اور افغانستان کا میچ فکسڈ ہے؟ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    افغانستان اور بھارت سے متعلق میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے افغانستان کے خلاف زبردست پرفارمنس دکھائی۔ ان سے مزید ایسی پرفارمنس کی امید ہے۔

    بھارتی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں پہلے میچ سے ایسی پرفارمنس دکھانی چاہیے تھی لیکن بھارت کی ٹیم پہلے میچ سے مری ہوئی تھی۔ پاکستان نے ان پر حملہ کر دیا اور پوری ٹیم بکھر کر رہ گئی جس جارحانہ انداز سے وہ افغانستان کے خلاف کرے اگر شروع سے ایسے کھیلتے تو آج وہ بہتر پوائنٹس پر ہوتے-

    انہوں نے کہا ہے کہ سب کچھ نیوزی لینڈ پر منحصر ہے اگر نیوزی لینڈ ایک بھی میچ اور جیت جاتی ہے تو بھارت کے لیے کوالیفائی کرنا مشکل ہو جائے گا اگر نیوزی لینڈ ہارتی ہے تو بھارت کا چانس بن سکتا ہے بطور پاکستانی ہم تو چاہتے ہیں کہ بھارت آگے آئے اور ہمارے ساتھ کھیلے اور بھارتی ٹیم کو ایک اور “موقع “دیا جائے۔

    ’ویل پلیڈ انڈیا‘ یا ’ویل پیڈ انڈیا‘:بھارتی جیت کوافغان ٹیم کا احسان قراردیا جانے لگا

  • امریکا نے پیگاسس اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی کو بلیک لسٹ کر دیا

    امریکا نے پیگاسس اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی کو بلیک لسٹ کر دیا

    امریکا نے دنیا بھر کے کارکنوں، صحافیوں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور سیاستدانوں کے فون کی جاسوسی کے لیے پیگاسس اسپائی ویئر بنانے والی اسرائیلی کمپنی کو بلیک لسٹ کی فہرست میں ڈال دیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبررساں ادارے ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق اسپائی ویئربنانے والی کمپنی این ایس او ان دنوں منتازع خبروں کی زد میں ہے یو ایس کامرس ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ پیگاسس اسپائی ویئر سے غیر ملکی حکومتوں کو بین البراعظم جبر کرنے کے قابل بنایا ہے، یہ عمل آمرانہ حکومتوں کا طرز عمل ہے جو اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے اپنی خود مختار سرحدوں سے باہر مخالفین، صحافیوں اور کارکنوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

    ریاستہائے متحدہ نے بدھ کے روز اسرائیلی سپائی ویئر کمپنی NSO گروپ کو اپنی "اینٹی لسٹ” میں شامل کیا، ایک وفاقی بلیک لسٹ جس میں کمپنی کو امریکی ٹیکنالوجیز حاصل کرنے سے منع کیا گیا تھا، اس بات کا تعین کرنے کے بعد کہ اس کے فون ہیکنگ ٹولز کو غیر ملکی حکومتوں نے حکومت کو "بد نیتی سے نشانہ بنانے” کے لیے استعمال کیا تھا۔ دنیا بھر کے حکام، کارکنان، صحافی، ماہرین تعلیم اور سفارت خانے کے کارکنان کے فون کی جاسوسی کرنے کے لئے-

    یہ اقدام عالمی پیگاسس پروجیکٹ کنسورشیم، جس میں واشنگٹن پوسٹ اور دنیا بھر کی 16 دیگر خبر رساں تنظیمیں شامل ہیں، کی تحقیقات میں جولائی میں نمایاں ہونے والی کمپنی کے خلاف ایک اہم پابندی ہے۔ کنسورشیم نے درجنوں مضامین شائع کیے جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح NSO کے صارفین نے اس کے طاقتور اسپائی ویئر پیگاسس کا غلط استعمال کیا۔

    اس اقدام سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تناؤ بھی بڑھ سکتا ہے، جہاں NSO ایک قیمتی تکنیکی پاور ہاؤس ہے۔ NSO کے سافٹ ویئر کی برآمدات کو اسرائیل کی وزارت دفاع کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، جس کے لیے ان کی منظوری لازمی ہوتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی ہتھیاروں کی فروخت ہوتی ہے۔

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    اس معاملے سے واقف اسرائیل کے ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل اور دیگر ملوث ممالک کو صرف ایک گھنٹے کا نوٹس دیا گیا تھا کہ واشنگٹن میں ریگولیٹری رکاوٹوں کی وجہ سے کمپنیوں کو فہرست میں لایا جائے گا۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نوٹ کیا کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کے خلاف یا روس اور سنگاپور کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا، جو دیگر ممالک ملوث ہیں۔

    کامرس ڈیپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی بائیڈن انتظامیہ کی "امریکی خارجہ پالیسی کے مرکز میں انسانی حقوق کو رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے، بشمول جبر کے لیے استعمال ہونے والے ڈیجیٹل ٹولز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنا۔”

    انہوں نے کہا کہ "ہم اسرائیل کی حکومت کے ساتھ مزید بات چیت کے منتظر ہیں کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کمپنیوں کی مصنوعات کو انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں اور دیگر افراد کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے جنہیں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔”

    اس کے جواب میں اسرائیلی کمپنی این ایس او نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ٹیکنالوجیز دہشت گردی اور جرائم کو روک کر امریکی قومی سلامتی کے مفادات اور پالیسیوں کی حمایت کرتی ہیں ہم امریکی فیصلے کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ہماری مصنوعات کا غلط استعمال کرنے والی سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ متعدد رابطے ختم ہو گئے ہیں-

    کمپنی نے مسلسل پیگاسس پروجیکٹ کے نتائج کی تردید کی ہے، جس میں پتا چلا ہے کہ 40 سے زائد ممالک میں NSO کے درجنوں قانون نافذ کرنے والے، ملٹری اور انٹیلی جنس صارفین پیگاسس کے ساتھ معمول کی بنیاد پر صحافیوں، سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بناتے ہیں، جو ہیک کر سکتے ہیں۔ سیل فونز میں NSO نے ماضی میں کچھ صارفین کے ساتھ مسائل کا اعتراف کیا ہے۔

    پیگاسس سے جاسوسی پاکستان سالمیت پرحملہ ہے، قانونی چارہ جوئی کرینگے، مشیر داخلہ کا اعلان

    واشنگٹن نے اسرائیلی کمپنی ’کینڈیئریو‘ کے ساتھ سنگاپور میں قائم کمپیوٹر سیکیورٹی انیشیٹو کنسلٹنسی اور روسی فرم ’پازیٹیو ٹیکنالوجیز‘کو بھی نشانہ بنایا جن پر ہیکنگ ٹولز کی اسمگلنگ کا الزام تھا۔

    ایک بیان میں پازیٹیوٹیکنالوجیز نے کہا کہ فہرست سازی کا ’ہمارے کاروبار پر بہت کم یا کوئی اثر نہیں پڑے گا‘ اور یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔

    انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ ’ہم خلوص دل سے یقین رکھتے ہیں کہ جغرافیائی سیاست کو معاشرے کی تکنیکی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے اور ہم عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جو ہم سب سے بہتر کرتے ہیں وہ کرتے رہیں گے‘۔

    خیال رہے کہ ہیکنگ سافٹ ویئر کے ابتدائی ورژن کی تشخیص 2016 میں ہوئی اور یہ اپنے اہداف کو پھنسانے کے لیے انہیں ایسے ٹیکسٹ میسجز بھیجتے ہیں جس سے وہ میسج پر کلک کرنے پر مجبور ہو جائیں اس اسپائی ویئر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے وصول کنندہ کو اسپائی میسجز میں موجود لنک پر کلک کرنا ہو گا لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی کامیابی سے انسٹالیشن کے امکانات کم ہو گئے کیونکہ اب فون کے صارفین مشکوک لنکس پر کلک کرنے کے حوالے سے بہت محتاط ہو گئے ہیں۔

    سافٹ وئیر میں خرابی: ٹیسلا کی2017 میں بیچی گئی 12 ہزارگاڑیوں کی واپسی

  • ظاہر جعفر کے ڈرامے، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظاہر جعفر کے ڈرامے، تحریر: عفیفہ راؤ

    رندے ظاہر جعفر نے آج عدالت میں کافی تماشا کیا اور جتنی عدالت اور جج صاحب کی توہین آج اس نے عدالت میں کھڑے ہو کر کی ہے اس کی آج سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ویسے تو جب پولیس درندے ظاہر جعفر کو گرفتار کرنے اس کے گھر پہنچی تھی تب سے لیکر۔۔ اس کے بعد جب بھی اس کو عدالت میں پیش کیا جاتا رہا تب بھی وہ ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی ڈرامہ کرتا ہے۔
    یاد کریں پہلے اس نے پولیس کے سامنے موقع واردات پر نور کی لاش کو کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ گڑیا ہے۔ اور اس طرح کی ایکٹنگ کر رہا تھا جیسے وہ کوئی ذہنی مریض ہے۔ پھر عدالت میں بھی پہلے یہ صرف انگریزی بول کر ڈرامہ کرتا تھا پھر چند دن جیل کی ہوا کھا کر اس کو اردو بھی آ گئی تھی۔ بار بار اجازت کے بغیر یہ عدالت میں بولنے کی بھی کوشش کرتا تھا۔ جب اس حرکت پر ایک دو بار اسے عدالت سے باہر نکالا گیا تو اس نے عدالت میں اور راستے میں آتے جاتے بڑبڑانا شروع کر دیا تھا۔۔ اور تو اور ایک بار تو جج صاحب کو اس نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ مجھے بتائیں کہ مزید کتنے دن لگیں گے فیصلہ ہونے میں۔۔۔ پھر کبھی یہ عدالت کے سامنے ایمبسی والوں کی بات کر کے اپنے فارن نیشنل ہونے کا رعب جمانے کی کوشش کرتا تھا۔ اور تو اور یہ بھی فرمائش کی گئی تھی کہ معافی دے دیں یا پھانسی دے دیں میں جیل میں نہیں رہ سکتا۔۔ قیدیوں کے ساتھ بھی اس کی لڑائیاں ہو چکی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہر وہ عجیب حرکت جیل اور عدالت میں کی ہے جو آج سے پہلے تو سننے میں کبھی نہیں آئیں۔

    لیکن آج کی سماعت میں تو اس نے پچھلی تمام حدیں ہی پار کر دیں۔آج جب کیس کی عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو تین سرکاری گواہان کو گواہی دینے کے لیے عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔ایک سرکاری گواہ عامر شہزاد جو کہ ایک نقشہ نویس ہے جب اس نے جائے وقوعہ کی تفصیلات بتانا شروع کیں تو ظاہر جعفر نے اچانک ہی بغیر کسی اجازت کے بولنا شروع کر دیا۔ اور جب جج صاحب نے اسے خاموش رہ کر کارروائی کا حصہ بننے کا کہا تو اس نے اونچی آواز میں کہا کہ یہ میری کورٹ ہے اور میں نے بات کرنی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ آج عدالت میں یہ کسی حمزہ نامی شخص کا نام بھی لیتا رہا کہ میں نے حمزہ کو عدالت میں بلانا ہے۔ خیر آگے چل کر جب درندے کی سائیڈ کے گواہوں کے بیانات قلمنبد کروانے کا وقت آئے گا تو ہو سکتا ہے کہ پتہ چل ہی جائے کہ یہ حمزہ کون ہے اور اس کا اس کیس سے کیا تعلق ہے۔ اس دوران جج صاحب نے درندے ظاہر جعفر کے وکیل اکرم قریشی سے پوچھا کہ کیا ظاہر جعفر کی آج کی کارروائی میں ضرورت ہے جس پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی ضرورت نہیں ہے۔

    اس کے بعد عدالت نے نائب کورٹ کے ذریعے جب درندے ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت سے باہر لے جانے کا کہا تو عصمت آدم جی کے وکیل اسد جمال نے درندے کے کان میں کچھ کہا جس کے بعد ظاہر جعفر خاموش ہو کر کھڑا ہو گیا اور کمرہ عدالت کے دروازے کے ساتھ لگ کر عدالتی کارروائی کو سنتا رہا۔کچھ دیر تو ظاہر جعفر نے عدالتی کارروائی کو خاموشی سے سنا لیکن اس کے بعد آج پھر اس کو اپنی انگریزی یاد آ گئی اور وہ انگریزی میں بولنا شروع ہو گیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنے نااہل افراد نہیں دیکھے جتنے اس کمرے میں موجود ہیں۔ اور بار بار یہی دہراتا رہا کہ یہ میرا کورٹ ہے مجھے اور میری فیملی کو بتایا جائے کہ کیا ٹرائل چل رہا ہے۔ میں اور میری فیملی انتظار کر رہے ہیں کہ آخر آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے پھر اسے بولنے سے روکا جس کے کچھ دیر بعد ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں لگے پردے کو پہلے تو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر اونچی آواز میں بولا کہ پردے کے پیچھے کیا ہے؟جج عطا ربانی جو کافی دیر سے درندے کی ان تمام فضول حرکتوں کو برداشت کر رہے تھے آخر ان کا صبر جواب دے گیا اور انھوں نے ریمارکس دیے کہ ملزم یہاں پر خبر بنانے کے چکروں میں ہے اور ڈرامے بازی کر رہا ہے۔ ظاہری سی بات ہے وہ ایک قابل اور تجربہ کار جج ہیں روزانہ اتنے ملزمان کو دیکھتے ہیں ان سے زیادہ کون پہچان سکتا ہے کہ یہ درندہ اب ڈرامہ کرکے دراصل کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    جس کے بعد پھر بھی برداشت اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے عطا ربانی صاحب نے سکیورٹی پر مامور پولیس انسپکٹر کو حکم دیا کہ ملزم کو آرام سے کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں۔
    لیکن جب پولیس انسپکٹر مصطفی کیانی نے ظاہر جعفر کو ہاتھ سے پکڑ کر کمرہ عدالت سے باہر لے کر جانے کی کوشش کی توآج درندے نے عدالت میں ہی اپنی درندگی دکھانی شروع کر دی۔ پولیس انسپکٹر سے جھگڑا شروع کر دیا یہاں تک کہ پولیس افسر کا گریبان بھی پکڑ لیا اور درندے کی اس حرکت کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ یہ قانونا جرم ہے کہ آپ کسی سرکاری اہلکار کو آن ڈیوٹی یونیفارم میں اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالیں اگر اس نقطے کو اٹھایا جائے تو اس پر بھی اس درندے کی سزا بنتی ہے لیکن خیر ایسی چھوٹی موٹی سزا کا کوئی فائدہ نہیں اس کی اصل سزا تو یہی ہو گی کہ پوری قوم اس کو پھانسی کے تختے پر لٹکا ہو دیکھے۔خیر پولیس سے ظاہر جعفر کی لڑائی پر عدالت میں افراتفری مچ گئی دوسرے پولیس والے اپنے ساتھی کی مدد کرنے آگئے لیکن ظاہر جعفر اتناvoilentہوا ہوا تھا کہ وہ تین چار پولیس والوں سے تو قابو ہی نہیں ہو رہا تھا اس لئے وہاں مزید نفری بلانا پڑی اور اسے نہ صرف زبردستی کمرہ عدالت سے باہر نکالنا پڑا بلکہ باہر نکل کر بھی جب وہ قابو نہیں آ رہا تھا تو پولیس والوں کو اسے دونوں ٹانگوں اور دونوں بازوں سے پکڑ کربخشی خانے لے جانا پڑا۔لیکن اب میں آپ کو اندر کی بات بتاتا ہوں کہ پاکستان پینل کورٹ سیکشن 84کے مطابق اگر کوئی شخص پاگل ہے، نشہ کرتا ہے یا اگر اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے تو وہ جو Offenseکر رہا ہے وہ Considerنہیں کیا جاتا کیونکہ وہ ہوش و حواس میں نہیں ہوتا اور اسے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اور یہ بات درندہ اور اس کی فیملی بہت اچھے سے جانتے ہیں اس لئے وہ شروع دن سے ہی عجیب و غریب حرکتیں کر رہا ہے۔ اور عدالت کے سامنے بھی ڈرامہ کرنے کا یہی مقصد ہے کہ جب اس کے وکیل اپنے دلائل دیں تو اس سے پہلے ہی سب کے مائنڈ میں ہو کہ یہ درندہ تو پہلے بھی عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہا ہے اس لئے شاید واقعی یہ ایک ذہنی مریض ہے اس طرح اس کو جیل سے رہائی بھی دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔ اور صرف درندے کی حرکتیں ہی نہیں بلکہ اس کے ملازموں نے بھی جو 161کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے ہیں ان میں بھی ایسی ہی باتیں کی گئیں ہیں کہ نور نے جب چھلانگ لگائی اور ظاہر اس کو پکڑنے اس کے پیچھے آیا تو ظاہر کی حالت ٹھیک نہیں تھی یہ بات ملازموں کے اپنے بیانات میں کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ جب درندے نے نور کو قتل کیا تو اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ اسی لئے جعفر فیملی جو اپنے بیٹے کے لئے وکیل نہیں کر رہے تھے انھوں نے اپنے ملازموں کو اتنے مہنگے مہنگے وکیل کرکے دئیے ہیں تاکہ ان کی Loyalityتبدیل نہ ہو جائے اور وہ ان کے بیٹے کے خلاف کوئی ایسا بیان نہ دے دیں جو اس کے خلاف استعمال ہو سکے۔

    اس مقدمے میں ابھی تک بارہ گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں آج کی سماعت میں تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے تھے لیکن اس تمام بد تمیزی کی وجہ سے سماعت کو مختصر کرنا پڑا صرف نقشہ نویس عامر شہزاد کا ہی بیان ریکارڈ ہوا اور اس پر جراح کی گئی لیکن یہ جراح بھی ابھی نا مکمل ہے کیونکہ ذاکر جعفر کے وکیل بشارت اللہ جو کہ رضوان عباسی کی جگہ آئے ہیں وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے اس لئے اب وہ عامر شہزاد سے اگلے سماعت پر جراح کریں گے جو کہ دس نومبر کو ہو گی۔ امید ہے کہ اگلی دو سماعتوں میں اگر کوئی بد نظمی نہ ہوئی تو تمام سرکاری گواہوں کے بیانات قلمبند ہو جائیں گے جس کے بعد دوسری پارٹی اپنے دفاع میں گواہ پیش کرے گی۔ایک اور اہم پوائنٹ اس تمام کاروائی میں یہ بھی ہے کہ عدالتی کاروائی میں دخل اندازی کا مقصد کیس کو لٹکانا بھی ہے تاکہ ٹرائل جلد پورا نہ ہو سکے۔ عام لوگ اور صحافی سب اس کیس کو فالو کرنا چھوڑ دیں اور پھر درندے کی فیملی اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے اپنے بیٹے کو ذہنی مریض ثابت کرتے ہوئے رہا کروا لیں۔ لیکن ایسا ہو گا نہیں نہ تو ہم اس کیس کو بھولیں گے نہ ہی لوگوں کو بھولنے دیں گے اور انشا اللہ اس درندے کا ایسا عبرتناک انجام ہوگا کہ اس خاندان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔

  • کرسی ایک نشہ، تحریر: نوید شیخ

    کرسی ایک نشہ، تحریر: نوید شیخ

    وزیر اعظم نے مہنگائی میں پسی عوام کو ۔۔۔ ریلیف پیکج ۔۔۔ کے جھانسا دے کر ۔۔۔ تکلیف پیکج ۔۔۔ کا اعلان کر دیا ہے ۔۔ عمران خان کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ کررہے ہیں ، کریں گے ،
    ہوجائے گا ۔ میری نظر میں ان کو تو دلاسہ بھی نہیں دینا آتا ۔۔ روتے یہ ہیں کہ میڈیا وہ مثبت رپورٹنگ کرے جو یہ چاہتے ہیں اور پی ٹی وی بن جائے ۔ خان صاحب باہر جائیں اور دیکھیں عوام بلبلا رہے ہیں ۔ عوام خودکشیوں پر مجبور ہیں ۔ عوام مر رہے ہیں ۔ عوام کو نہ علاج میسر ہے نہ دوائی ۔ عوام کے گھروں پر بھوک وافلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔۔ ریلیف کیا دینا کپتان نے عوام پر یہ کہہ کر بجلی گرا دی ہے کہ گیس کا بحران آنے والا ہے اور پیڑول تو مزید مہنگا کیا جائے گا ۔ پر ان کے وزیر ، مشیر اور سوشل میڈیا ٹیمیں کپتان کی تقریر کو یوں سرخی پاوڈر لگا کرپیش کررہی ہیں جیسے عمران خان سے بڑا مسیحا اس قوم کو کوئی شاید ملا ہی نہیں ۔ حالانکہ میں نے کل کے وی لاگ بھی کہا تھا اور آج بھی کہوں کہ عمران خان اس قوم کے لیےموت کا فرشتہ بن چکے ہیں ۔

    ۔ آج حکومت اتنا شور مچا رہی ہے کہ انٹرنیشل مارکیٹ میں پیڑول کی قیمت 84فی بیرل تک پہنچ گئی ہم کیا کریں تو جناب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں یہ ہی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے اوپر تک گئی تھی ۔ لیکن پیڑول اتنا مہنگا نہیں ہوا ۔ اب آپ کہیں گے تب ڈالر سستا تھا تو یہ بھی بتا دیں کس نے روپے کی قدر گرائی ہے ۔ امریکہ اور یورپ کی مثالیں دیتی ان کو شرم نہیں آتی کہ وہاں پر فی کس آمدنی کیا ہے یہاں کیا ہے ۔ وہاں سوشل سیکورٹی کا نظام کیسا ہے اور یہاں کا کیسا ۔ وہاں کا ہیلتھ کا نظام کیسا ہے اور یہاں کا کیسا ہے ۔ اوپر سے آپ یہ کہہ کر دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی ہے عوام برداشت کرے اور حکومت کی مجبوریوں کو سمجھے ۔ نمک پاشی کرتے ہیں ۔ ان لیکچروں سے عوام کا کچھ نہیں بننا وہ رزلٹ مانگتے ہیں ۔ عوام کے چولہے ٹھنڈے ہوچکے ہیں ۔ آنکھیں کھولیں ۔ اب تو ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے ۔ کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ۔ دنیا کے کسی وزیراعظم کی تقریر دکھا دیں ۔ جس نے اتنی ڈھٹائی کے ساتھ ٹی وی پر آکر مہنگائی کا دفاع اور مزید مہنگائی کا اعلان کیا ہو ۔ تین سال بعد بھی ان کو مزید ٹائم چاہیئے ۔ بس دکھ سہنے کے لیے عوام تیار رہیں اور ان کے وزیروں اور مشیروں کی گالم گلوچ بھی سنیں ۔ پھر بھی ان کو اچھا کہیں ۔ نصیب اس عوام کی پھوٹے ہیں ۔ جو ایسی حکومت ملی ہے ۔ پناہ گاہوں ، لنگر خانوں اور احساس پروگرام اچھی بات ہے میں اس پر تنقید نہیں کروں گا ۔ پر کیا حکومتوں کا یہ کام ہوتا ہے۔ حکومتیں تو روزگار کے مواقع مہیا کرتی ہیں ۔ ایسے اقدامات کرتی ہیں کہ لوگوں کی قوت خرید بڑھے ۔ ان کی ماہانہ آمدنی بڑھے ۔ عمران خان نے کہا ہے کہ دو بڑے خاندانوں سے درخواست ہے کہ تیس سال کا چوری کیا پیسہ واپس کریں اشیاء کی قیمتیں آدھی کر دوں گا ۔ بڑی اچھی بات ہے ۔ ہونا چاہیئے ۔ پر سوال یہ ہے کہ کپتان نے اپنے اردگرد مافیاز کا کیا ۔۔۔ کیا ۔۔۔ کون کون سا مافیا گنواوں ۔ دوائی مافیا ، آٹا مافیا ، بجلی مافیا ، چینی مافیا ۔۔۔ آج کی سن لیں چینی 130روپے کلو کراس کر چکی ہے ۔

    عمران خان کی پارٹی کے جن لوگوں کے نام پینڈورا پیپرز میں آئے ان کے خلاف انھوں نے کیا کاروائی کی ۔ دوسروں کا بھی احتساب کریں مگر اپنے اردگرد بھی نظر دوڑائیں ۔۔ پھر لوٹی دولت تو کپتان نے پیٹ کاٹ کر نکالنی تھی ۔ پر برادشیٹ ہو ۔ شہباز شریف کو باہر سے صادق وامین ہونے کے سرٹیفیکٹ ملنا ہو ۔ اس حکومت کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ ۔ اچھا ہوتا یہ بات کرنے سے پہلے یہ بتاتے کہ کتنی لوٹی رقم یہ باہر سے پاکستان واپس لائے ہیں ۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ ہم پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ویلفیئر پروگرام عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔ اس کام کے لیے سب سے زیادہ مبارکباد احساس پروگرام کی ٹیم کو دینا چاہتا ہوں جنہوں نے تین سال میں ڈیٹا اکٹھا کیا ۔۔ یہ خوش فمہی بجی سمجھ سے باہر ہے کہ یہ خود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہتے ہیں خود ہی اپنی اور اپنی ٹیم کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ابھی عمران خان نے صرف 120 ارب روپے کا پیکج دیا۔ باقی سب وعدہ کیا ہے کہ دیں گے اور دو دن سے اس کا اتنا شور مچایا جا رہا تھا کہ پتہ حکومت کون سا تیر مارنے والی ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ یہ تین کروڑ خاندانوں کے لیے ہے ۔ ۔ دوسری جانب اس حکومت کے وزیر ، مشیر، ایم این ایز ، ایم پی اپیز ۔۔۔ وفاق ، پنجاب اور کے پی کے تینوں کے ملالیں تو سالانہ ان کے خرچے 120ارب سے زائد ہی ہوں گے ۔ یہ 120ارب کا پیکج دے کر عمران خان نے وہ کام کیا ہے جس کو
    حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا کہتے ہیں ۔ دراصل عمران خان مہنگائی ریلیف پیکج عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک اور شرمناک کوشش ہے ۔ حقیقت میں پی ٹی آئی نے اقتدار میں آکر مہنگائی کی سونامی لانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔ آپ دیکھیں وزیر اعظم عمران خان نے تاریخ کے سب سے بڑے پیکج میں صنعتکاروں سے اپیل کردی کہ اپنے منافع میں مزدوروں کو حصہ بنائیں ۔ یعنی حکومت نے سیدھا سا جواب دے دیا ہے کہ عوام حکومت سے نہیں سیٹھوں سے ریلیف مانگے ۔

    ۔ عمران خان فرما رہے تھے کہ جب ہمیں پاکستان ملا تب پاکستان کا خسارہ سب سے زیادہ تھا، قرضے بھی سب سے زیادہ تھے اور سود بھی ان قرضوں پر سب سے زیادہ دینا پڑا۔ تو جناب جب مشرف نے ملک سنبھالا تھا تو تب بھی حالات ٹھیک نہیں تھے ۔ پر انھوں نے کرکے دیکھایا ۔ اور یہ اتنا ہی بڑا ایشو تھا تو پہلے اپنی تقریروں میں قوم کو بتانا تھا کہ کس حالت میں پاکستان ملے گا تو یہ قوم کی تقدیر بدل سکیں گے ۔ سب کچھ پچھلی حکومتوں پر ڈالنا بڑا آسان ہے ۔ عمران خان کو ان تین سالوں کا حساب دینا چاہیئے کہ انھوں نے ان تین سالوں میں کیا ۔۔۔ کیا ہے ۔ مجھے تو نہیں دیکھائی دیتا کہ ایک دن بھی ان تین سالوں میں عوام نے سکھ کا سانس لیا ہو۔ پھر آج یہ بھی کہا کہ دوست ملک کی سپورٹ پر ان کے شکر گزار ہیں کیونکہ ان کی مدد سے روپیہ کو سنبھالنے میں مدد ملا۔ سعودی عرب، یو اے ای اور چین نے مشکل وقت میں مدد کی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ نواز شریف اور زردای دور کے ان بیانات اُٹھا کر دیکھ لیں اس وقت یہ کیا کہا کرتے تھے ۔ کہ مر جاوں گا قرضہ نہیں لوں گا کشکول نہیں اٹھاوں گا ۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا اب تو آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننے کو یہ حکومت تیار ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ جیسے یہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے لیٹی ہوئی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔

    ۔ حقیقت میں چیزیں ان سے مینج نہیں ہورہی ہیں ۔ نہ ان کو گورننس کا پتہ ہے ۔ نہ معیشت کا ۔ نہ سیکورٹی کا ۔ بس جو زور چلتا ہے وہ میڈیا پر ۔۔۔ کہ اس کو تن کر رکھو ۔ یہ سچ نہ دیکھا پائے ۔ یہ سچ نہ بتا پائے ۔ ان کو لگتا ہے کہ میڈیا پر سب اچھا اچھا دیکھا کر عوامی غم وغصہ کو دبا لیں گے ۔ بھول ہے انکی ۔۔۔ پھر بلاول بھٹو نے عمران خان کے خطاب پر درعمل دیتے ہوئے چوٹ لگائی ہے کہ کراچی پیکج، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کی طرح عمران خان نے آج بھی جو اعلانات کیے وہ عوام کے لیے لالی پاپ ہے ۔ میرے خیال سے وقت گزر چکا ہے ۔ اب لارے لپے نہیں چلنے۔ حکومت اب مزید کرونا ، عالمی کساد بازاری کے پیچھے نہیں چھپ سکتی ۔ مہنگائی سے پسے ہوئے عوام بھپرے ہوئے ہیں ۔ عمران خان کو چاہیے کہ اپنے وزراء کو کہیں کہ حلقوں میں جا کر عوام کا سامنا کریں ۔ پر کڑوا سچ یہ ہے کہ یہ کرسی ایک نشہ ہے جس کے پیچھے انسان ذلیل ہونا بھی برداشت کر لیتا ہے مگر کرسی نہیں چھوڑ سکتا ۔

  • تعلیمی نظام‏ اور ہم: تحرير فیصل رفیع 

    تعلیمی نظام‏ اور ہم: تحرير فیصل رفیع 

    جیسی خطرناک بیماری نے دنیا بھر میں تعلیمی نظام کو بہت حد تک متاثر کیا ہے اگر دیکھا جائے تو دنیا کے تمام شعبہ جات کو اس وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اس موزی بیماری کی روک تھام کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں  تاکہ طلبہ کی تعلیم پر کوئی حرج نہ آئے۔

    اگر کرونا وائرس سے پہلے تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تب ہم اپنے لئے تعلیم صرف کتابوں کی حد تک محدود رکھتے تھے۔ ہم روزانہ اپنی یونیورسٹی کالج یا سکول جاتے تھے اور ہمیں جو کتابوں سے رٹا رٹایا سلیبس دیا جاتا تھا ہم وہ یاد کرتے تھے اور اسی کو سمجھتے تھے کہ یہی آئندہ پیپرز  میں بھی آۓ گا۔ اسی امید کے ساتھ ہم لوگ کسی چیز کو انٹرنیٹ کے ذریعے دریافت کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ ہمیں پڑھنے کے لئے تمام مواد کتابوں سے بھی دیا جاتا تھا۔

    بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام اس طرح کا ہے کہ کتابوں کا رزلٹ آتا ہے اکثر طلبہ اگر رٹا رٹایا سلیبس نہ لکھیں تو ان کو کم نمبر دیے جاتے ہیں۔

    اگر ہم بات کریں کہ اس کو ‏covid-19 کی وجہ سے ہماری کلاسیں آن لائن پڑھائی جا رہی ہیں تو کیا ہم اس کو مثبت انداز میں استعمال کر رہے ہیں؟

    میرے مشاہدے کے مطابق میرے دوست، احباب میں جو کسی نہ کسی تعلیمی ادارے کا حصہ ہیں انہوں نے اپنے پورے سمسٹر میں اپنی پڑھائی کا آغاز پیپر سے دو دن پہلے شروع کیا کیونکہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ ہمارے پیپر کا دورانیہ8 گھنٹے ہو گا اور اتنے زیادہ وقت میں ایک بہترین قسم کا پرچہ لکھا جا سکتا ہے اگر ہم انٹرنیٹ اور کتابوں کا اچھے سے استعمال کریں۔

    بہت سے طلبہ ایسے ہیں جو کہ گروپ کی شکل میں اپنے تمام تمام پیپرز حل کرتے ہیں اور جو آپس میں میل جول نہیں کر سکتے وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے آسانی سے اپنے پرچے باہمی مشاورت کے ساتھ حل کر لیتے ہیں۔

    بظاہر اس تمام صورتحال میں اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے  ہیں کیونکہ کہ اس ٹیکنالوجی کا اور اس صورتحال کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

    جہاں پر اتنی زیادہ تنقید کی گئی ہے وہاں پر ہمیں مثبت پہلوؤں کو بھی سامنے لانا ہوگا کمالیہ میں ایک انٹر کی طالبات جو کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتی ہے اس نے تعلیمی میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے ہے طالبہ نے 1100/1100 نمبر حاصل کر کے آج تک کے تمام تعلیمی ریکارڈ توڑ دیے ہیں. پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں 

     ہے یہ ہم سب اچھے سے جانتے ہیں لیکن ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ہر چیز کا مثبت استعمال کریں۔

    جب ہمارے ہاتھوں میں ڈگری موجود ہوں گی لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوگا تو وہ نہ صرف ہمارے شرمندگی کا باعث ہوگا بلکہ ہمارے والدین کے لیے بھی ہو گا جنہوں نے ہمیں اتنی محنت کے ساتھ اتنی بھاری فیسیں جمع کروا کر ہماری پڑھائی کو مکمل کیا۔

    جب آئندہ مستقبل میں ہم سے ایسے سوال پوچھا جائے گا تو ہم اس کا جواب دینے کے لائق نہیں ہوں گے۔

    اگر ہم ہم تاریخ کو پڑھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تلوار سے زیادہ طاقت قلم میں ہے لیکن اگر ہمارے آج کے نوجوان میں علم کو حاصل ہی نہیں کیا تو ہم کیسے ایک روشن مستقبل کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔

    تاریخ اسلام میں علم کے حوالے سے اگر کسی کو فوقیت حاصل ہے تو وہ صرف اور صرف ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی ذات کو مکمل ضابطہ حیات بنا کر بھیجا گیا ہے۔

    ہماری اسلامی تاریخ کو دیکھا جائے تو حضرت علی کرم اللہ کی ذات علم کے حوالے سے بہترین نمونہ ثابت ہوتی ہے بے شک انہوں نے اپنے تمام دشمنوں کو اپنے علم سے اور تلوار سے شکست دی۔ جب مشرکین مختلف سوالات اسلام کو بنیاد بنا کر لے آتے تھے تب حضرت علی علیہ السلام ان کو اپنے علم سے حیران کردیتے تھے اور اسی علم کی بدولت بہت سے کافر مسلمان ہونے پر مجبور ہو گئے۔

    زیادہ دور نہیں ہم صرف اپنے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال جنھیں شاعر مشرق کا خطاب دیا گیا ان کی زندگی کے پہلو کو دیکھیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف  علم ہی وہ واحد چیز ہے جنہوں نے اایک نئے ملک کا کام شرمندہ تعبیر کیا اگر یہ لوگ اپنے علم اور جدوجہد سے ہم لوگوں کو قائل نہیں کرتے تو ہم کبھی بھی اس آزاد ملک میں سانس نہیں لے پا رہے ہوتے۔

    یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہماری تعلیمی معیار اور سوچ کو بدلنا ہوگا ہمیں صرف رٹا رٹایا اور یاد کرنے کی بجائے ان کی چیزوں کی گہرائی پر توجہ دینی ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اس کو کیوں پڑھ رہے ہیں؟ اس کا کیا مقصد ہے؟ اس سے ہماری ذات کو کیا کیا فرق پڑ سکتا ہے؟

    جب تک ہم ان تمام سوالات کو اپنے دماغ میں نہیں لائیں گے ہماری پڑھائی بے مقصد ہو گی۔

    تعلیمی نظام کیسا بھی ہو، بے شک ہم جا کر پڑھائی کریں یا پھر آن لائن تعلیم حاصل کریں جب تک ہم تعلیم کے اصل مقصد کو نہیں سمجھیں گے ہم ترقی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

  • فیصلہ پارٹ نمبر 4 تحریر سکندر علی

    نہیں ابوجان، میں کسی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں اور ہم اس کی ہدایات پرمل کریں گے۔ ہم یہ کمرہ ہی بدل لیں گے۔ آپ

    سامنے کے کمرے میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔ میں یہاں آجاؤں گا۔ آپ کو اس تبدیلی کا معمولی ساہی احساس ہوگا ۔ ہر چیز آپ

    کے ساتھ ہی وہاں منتقل ہو جائے گی لیکن یہ سب کچھ بعد میں ہوگا، پہلے تو میں آپ کو کچھ دیر کے لیے بستر میں لٹا دیتا

    ہوں۔ مجھے یقین ہے آپ کو مل آرام کی ضرورت ہے۔ میں کپڑے اتارنے میں آپ کی مددکروں گا۔ آپ دیکھئے گا کہ

    میں ایسا کروں گا۔ اگر آپ فورا ہی سامنے کے کمرے میں منتقل ہونا چاہیں تو آپ فی الحال میرے بستر میں جا کر لیٹسکتے ہیں ۔ یہی سب سے بہتر رہے گا۔

    جارج اپنے باپ کے قریب کھڑا تھا جس کا الجھے ہوئے سفید بالوں والا سر اس کی چھاتی سے جالگا تھا۔

    جارج اس کے باپ نے بغیر ہلے مدھم آواز میں کہا۔

    جارج فورا ہی اپنے باپ کے ساتھ نیچے جھک گیا۔ اس نے اپنے باپ کے تھکے ہوئے چہرے پر پھیلی ہوئی پتلیاں

    دیکھیں جو آنکھوں کے کناروں سے اسی پر جمی ہوئی تھیں ۔

    سینٹ پیٹرز برگ میں تمھارا کوئی دوست نہیں ہے۔ تم ہمیشہ سے ایسے ہی فریبی ہو اور مجھ سے فریب کرنے سے باز

    نہیں آتے۔ وہاں تمھارا کوئی دوست ہوئی کیسے سکتا ہے؟ مجھے یقین نہیں آتا ۔

    ابو جان ز را یاد کرنے کی کوشش کئے جاری اپنے باپ کو آرام کری سے بلند کرتے ہوئے بولا اور جونہی وہ

    نقاہت سے سیدھا کھڑا ہو تو اس کا شب خوابی کا لباس اتارایا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد اس بات کو تین سال ہو جائیں گے

    جب میرا دوست آخری مرتبہ یہاں آیا تھا۔ مجھے یاد ہے آپ کو خاص طور پر وہ پیش نہیں تھا۔ کم ازکم دو بار میں نے آپ کو اس

    سے ملنے سے رد کے حالاں کہ تب وہ میرے ہی کمرے میں بیٹا ہوا تھا۔ میں اس سے آپ کی نفرت کو اچھی طرح سے مجھ سکتا

    ہوں ۔ میرا دوست بھی بہت عجیب ہے لیکن پھر بعد میں آپ کی ایک سے گاڑھی چھنے گی۔ مجھے یہ سوچ کر فخر محسوس ہوتا کہ

    آپ نے اسے سنا، ہاں میں سر ہلایا اور اس سے سوال پر تھے۔ دماغ پر زور دیں تو ضرور آپ کو یاد آ جائے گا۔

    وہ میں روی انقلاب کے بارے میں بہت کی غیر معمولی کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ مثال کے طور پر جب وہ کیو کے

    دورے پر تھا اور ایک نادی جلوس سے اس کی ٹڈ بھیڑ ہوئی تھی اور اس نے ایک پادری کو بالکونی میں دیکھا تھا جس نے اپنے

    ہاتھ میں خون میں لتھڑی ہوئی صلیب کا زخم بنایا تھا اور ہاتھ بلند کے ہجوم سے درخواست کر رہا تھا ۔ آپ نے اس واقعہ کا خود

    کبھی ایک سے زائد بار ذکر کیا۔

    اس اثنا میں جاری اپنے باپ کو پھر سے وہاں بٹھانے اور احتیاط سے اس کا سوتی پاجامہ اتارنے میں کامیاب ہو گیا

    جو اس نے اپنے لینن کے بنے ہوئے زیر جامہ اور جرابوں کے اوپر پہنا ہوا تھا ۔ زیر جامہ کی غلاظت کو دیکھ کر اس نے اپنے

    آپ کو ملامت کی کہ وہ اپنے باپ کو نظر انداز کیے ہوئے تھا۔ بی واقعتا اس کی زمہ داری تھی کہ وہ خیال رکھے کہ اس کے باپ

    نے زیر جامہ بدلا تھایا نہیں ۔ اس نے ابھی تک واضح انداز میں اپنی منگیتر سے بھی اس بارے میں بات نہیں کی تھی کہ وہ

    مستقبل میں اپنے باپ سے تعلق کیا انتظامات کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ انھوں نے اپنے طور پر فرض کرلیا تھا کہ شادی کے

    بعد اس کا باپ یونہی اس پرانے اپارٹمنٹ میں رہتا ہے لیکن اب اس نے فورآنی یہ پکا ارادہ کیا کہ وہ باپ کو نئے گھر میں

    اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ذرا سوچئے تو صاف معلوم ہوتا کہ جو د کھ ر کھ وہ اپنے باپ کی کرنا چاہتا تھا، اس کے لیے دیر ہو چکی تھی۔

    وہ اپنے باپ کو بازوں میں اٹھا کر بستر تک لے گیا لیکن چند قدم ہی بستر کی طرف بڑھا ہوگا کہ دیکھ کر اس کا

    پاپ اس کے سینے میں بندھی کھڑی کی زنجیر سے کھیل رہاتھا

    ، اسے دہشت کا احساس ہوا۔ وہ اپنے باپ کو بستر پر انہیں لٹا سکا 

    کیوں کہ زنجیر پر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی لیکن جوہی وہ بستر پرلیٹا، باپ نے زنجیر چھوڑ دیا۔ اس نے خود کھیل میں

    اچھی طرح ڈھانپ لیا بلکہ اسے اپنی عادت کے بکس کافی اوپر اپنے کندسوں تک لیا۔ وہ جاری کو نامهربان نظروں سے

    دیکھ رہا تھا۔

    آپ کو میرا دوست یاد آنے لگا ہوگا یا نہیں؟’ جارج نے حوصلاف انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

    کیامیں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ۔ اس کے باپ نے پوچھا جیسے وہ انداز نہیں لگا پارہا تھا کہ اس کے پیری

    طور پر بلا سے ڈھکے ہوئے تھے یانہیں ۔

    کیا آپ بستر میں آرام محسوس کررہے ہیں؟ جارج بولا اور باپ کے گرد بستر کو ہموار کر دیا۔

    کیا میں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ؟ اس کے باپ نے ایک بار پھر پوچھا اور لگتا تھا جیسے اسے جواب سنے

    میں دی تھی۔

    جارج ہے۔

  • ٹی ٹوئنٹی کی نئی رینکنگ: بابر اعظم نمبر ون بلے باز بن گئے

    ٹی ٹوئنٹی کی نئی رینکنگ: بابر اعظم نمبر ون بلے باز بن گئے

    آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ رینکنگ کے مطابق بابر اعظم 834 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کے کپتان بابر اعظم آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ رینکنگ میں پہلے نمبر پر پہنچ گئے ہیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سپر 12 مرحلے کے چوتھے میچ میں نمیبیا کے خلاف ففٹی کے بعد بابر اعظم تر قی پا کر دوسری سے پہلی پوزیشن پر آ گئے۔

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ رینکنگ میں انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان کا دوسرا نمبر ہے، ان کے ریٹنگ پوائنٹس کی تعداد 798 ہےجبکہ آسٹریلیا کے ایرون فنچ 733 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہیں-


    محمد رضوان چوتھی پوزیشن پر ہیں ان کے پوائنٹس کی تعداد 731 ہے اور ویرات کوہلی پانچویں پوزیشن پر ہیں ورلڈ کپ ایونٹ کے ٹاپ اسکورر جوز بٹلر 8 درجے بہتری کے بعد نویں نمبر پر آگئے ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان بھی آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ٹیمز رینکنگ میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے، بھارت اور نیوزی لینڈ کے بعد دبئی اسٹیڈیم میں افغانستان کے خلاف 5 وکٹوں سے کامیابی کی بدولت پاکستان نے عالمی رینکنگ میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کرنا ان کے لیے حوصلہ افزاء عمل ہے تاہم انہیں زیادہ خوشی پاکستان کرکٹ ٹیم کی درجہ بندی میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے اور ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے پر ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے اور ہماری اسکواڈ میں شامل ہر کھلاڑی ٹیم کی فتوحات میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہا ہے، ہم اس ایونٹ میں جیت کا تسلسل برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ٹاپ ٹین بالرز میں کوئی پاکستان شامل نہیں ۔ شاہین شاہ آفریدی حارث رؤف 20ویں پوزیشن پر براجمان ہیں ۔آئی سی سی کی نئی رینکنگ کے مطابق بالرز میں وانندو ہسارنگا نے تبریز شمسی سے پہلی پوزیشن چھین لی ہے۔

  • میک ان پاکستان پالیسی کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے،معروف کمپنی کا پاکستان میں موبائل تیار کرنے کا فیصلہ

    میک ان پاکستان پالیسی کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے،معروف کمپنی کا پاکستان میں موبائل تیار کرنے کا فیصلہ

    موبائل فون بنانے والی شیاؤمی ائیرلنک نے پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ میک ان پاکستان پالیسی کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے۔


    انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ فون بنانے والی دنیا کی دوسری بڑی کمپنی شیاؤمی ائیرلنک کمیونی کیشن کے اشتراک سے پاکستان میں اپنے موبائل فون بنائے گی۔

    رزاق داؤد نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ ابتدائی طور پر اڑھائی سے تین ملین موبائل فون سالانہ پاکستان میں تیار کیے جائیں گے، پیداواری سہولت قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور میں دی جائے گی جو کہ جنوری 2022 میں فنکشنل ہوجائے گا، جس سے 3 ہزار افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

  • بیٹی کے ریپ کی دھمکیاں،راہول گاندھی کوہلی کی حمایت میں سامنے آگئے

    بیٹی کے ریپ کی دھمکیاں،راہول گاندھی کوہلی کی حمایت میں سامنے آگئے

    انتہا پسند بھارتیوں کی جانب سے تنقید پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کی حمایت میں سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : ہندو انتہا پسندوں نے پاکستان کے خلاف شکست کا ذمہ دار بھارتی بولر محمد شامی کو قرار دیا تھا اور ساتھ ہی انہیں ‘غدار’ قرار دیا۔ بعد ازاں بھارتی کرکٹ بورڈ اور بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے محمد شامی کی حمایت میں ٹوئٹس کیں تھیں-

    محمدشامی کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے والوں کو کوہلی نے جواب دیتے ہوئے کہا "میرے لیے کسی کے مذہب کی وجہ سے اس پر حملہ کرنا سب سے شرمناک چیز ہے جو انسان کرسکتا ہے. اپنی رائے کو آواز دینا سب کا حق ہے.لیکن ذاتی طور پر میں نے کبھی کسی سے مذہبی بنیاد پر امتیاز کرنے کا سوچا بھی نہیں. یہ ہر انسان کےلئے انتہائی مقدس اور ذاتی چیز ہے اور اُسے وہیں رہنا چاہیئے لوگ اپنا غصہ نکالتے ہیں کیوں کہ انہیں سمجھ نہیں ہے کہ ہم افرادی طور پر کیا کرتے ہیں اور میدان میں کتنی کوشش کرتے ہیں-

    بھارتی انتہا پسندی میں پاگل ہو گئے،ویرات کوہلی کی 9 ماہ کی بیٹی کو ریپ کی دھمکیاں

    تاہم کپتان ویرات کوہلی کی جانب سے مسلمان فاسٹ بولر محمد شامی کے حق میں بیان دینے پر متعصب بھارتی باشندے تمیز کھوبیٹھے اور سوشل میڈیا پر اپنے اسٹار کرکٹر کو دھمکیاں دینا شروع کردیں دھمکی @Criccrazyygirl کے ٹوئٹر ہینڈل سے دی گئی جو بعد میں ڈیلیٹ کردیا گیا ر ویرات کوہلی کی 10 ماہ کی بیٹی وامیکا کوہلی کو ریپ کی دھمکیاں دی گئیں جبکہ کوہلی کے خلاف ٹرینڈ بھی بنایا گیا۔


    ویرات کوہلی کی 10 ماہ کی بیٹی وامیکا کو ریپ کی دھمکیاں ملنے پر راہول گاندھی نے ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے بھارتی کپتان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ڈیئر ویرات، دھمکیاں دینے والوں میں نفرت بھری ہوئی ہے کیونکہ کوئی انہیں محبت دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ ان لوگوں کو معاف کردو اور ٹیم کی حفاظت کرو۔

    راہول گاندھی کی اس ٹوئٹ کے بعد ٹوئٹر پر ’Dear Virat‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جس میں صارفین کی بڑی تعداد نے کانگریس رہنما کے بیان کا خیرمقدم کیا اور ویرات انوشکا کے لیے ٹوئٹس کیں۔

  • سافٹ وئیر میں خرابی: ٹیسلا کی2017 میں بیچی گئی 12 ہزارگاڑیوں کی واپسی

    سافٹ وئیر میں خرابی: ٹیسلا کی2017 میں بیچی گئی 12 ہزارگاڑیوں کی واپسی

    ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے 2017 میں بیچی گئی اپنی 12 ہزار گاڑیاں واپس منگوا لی ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ٹیسلا کمپنی کے مواصلاتی نظام میں خرابی کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جس کے بعد کمپنی نے گاڑیاں واپس منگوا لی ہیں ایمرجنسی بریکس کے اچانک حرکت میں آنے کی شکایات موصول ہونے کے بعد ہی ٹیسلا نے انسٹال شدہ ایف ایس ڈی 10.3 سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہٹا دی تھی، اور متاثرہ گاڑیوں میں 10.3.1 ورژن انسٹال کیا تھا۔

    نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق مواصلاتی نظام میں خرابی کے باعث گاڑی ٹکرانے کی غلط وارننگ اور ایمرجنسی بریک لگ سکتی ہے، جو خطرنات ثابت ہوتی ہےایف ایس ڈی سسٹم خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت فراہم کرتا ہے جس کے تحت گاڑی چلانے کے کچھ فنکشنز خود بخود متحرک ہو جاتے ہیں۔

    حفاظتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیسلا کے ساتھ رابطے میں رہے گی تاکہ کوئی بھی حفاظتی مسئلہ کو تسلیم کرتے ہوئے اسے صیح کیا جا سکے۔


    ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے بھی ٹویٹ کی تھی کہ ایف ایس ڈی 10.3 میں کچھ مسائل پیدا ہونے کے بعد وقتی طور پر 10.2 میں واپس منتقل کیا جا رہا ہے29 اکتوبر کو ٹیسلا نے کہا تھا کہ 99.8 فیصد گاڑیوں میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیا گیا تھا جس کے بعد کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت نہیں رہی ہے۔