Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بیٹنگ کوچ پاکستانی ٹیم کوچھوڑ گئے:بابراعظم سوچنے پرمجبورہوگئے

    بیٹنگ کوچ پاکستانی ٹیم کوچھوڑ گئے:بابراعظم سوچنے پرمجبورہوگئے

    ڈھاکہ :بیٹنگ کوچ پاکستانی ٹیم کو چھوڑ گئے:بابراعظم سوچنے پرمجبورہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ واپس چلے گئےہیں‌ تو دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ بنگلاد دیش کیخلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے بیٹنگ کوچ ساتھ نہیں ہے جس کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ بنگلا دیش کے دورے میں پاکستان ٹیم کو بیٹنگ کوچ کی خدمات حاصل نہیں ہیں کیونکہ میتھیو ہیڈن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد قومی ٹیم کو دستیاب نہیں رہے۔جبکہ پاکستان اور بنگلادیش کی ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ کل سے چٹاگانگ میں شروع ہو رہا ہے۔

    ادھر ڈھاکہ سے ملنےوالی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ورچوئل پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ سیریز میں بیٹنگ کوچ نہیں ہے اور بیٹنگ کوچ کی کمی بھی محسوس کر رہے ہیں لیکن یہ میرا نہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کام ہے۔

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں اچھا پرفارم کرتی آ رہی ہے، بیٹنگ لائن میں سینئیر کھلاڑی شامل ہیں جو اسپنرز کو اچھا کھیلتے ہیں، ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل ہونے والے کھلاڑی پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہوئے آئے ہیں جس کا فائدہ ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ٹیسٹ سیریز بھی اہم ہے، ہم تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے، مجھے ٹیم پر اعتماد ہے کہ ٹیسٹ سیریز میں اچھا پرفارم کرے گی۔

    کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ہماری ٹیسٹ ٹیم اچھی ہے، اس مرتبہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے، ہوم گراونڈز پر زیادہ میچز ہیں لہذا اس مرتبہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اچھا کھیلیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش کی ٹیم سینئر کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں بھی اچھی ہے، انہیں آسان نہیں لیا جا سکتا، بنگلا دیش میں کنڈیشنز مشکل ہوتی ہیں، یہاں کھیلنا آسان نہیں ہوتا، فوکس ہوکر تحمل کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے، ہماری بھی یہی کوشش ہو گی کہ وکٹ پر ٹھہر کر کھیلیں۔

    بابر اعظم نے کہا کہ ٹیسٹ سیریز سے قبل وقت کم ملا ہے لیکن ہم پروفیشنل کرکٹرز ہیں ہمیں ٹیسٹ کرکٹ میں جلد سوئچ ہونا ہے، ہم کئی ماہ سے وائٹ بال کرکٹ کھیل رہے ہیں، اب ہمیں ریڈ بال کرکٹ کے لیے جلد از جلد خود کو ڈھالنا ہے، ہمارے پاس ٹاپ اسپنر ہیں ہمیں ان سے فائدہ ہو گا۔

    ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اپنے رنز نہ کرنے کے بارے میں بابر اعظم نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر سیریز میں میں نے ہی رنز کرنے ہیں، دوسرے بھی ساتھ آئے ہیں اچھی بات یہ ہے دوسرے بیٹسمینوں نے ذمہ داری لی اور رنز کیے۔

     

  • "رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی” تحریر محمد عبداللہ

    "رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی” تحریر محمد عبداللہ

    فیسبک ٹائم لائن پر کئی احباب کی تحاریر دیکھی ہیں جن میں جمعہ کے خطبہ، واعظین کے انداز بیان، سلیقہ گفتگو وغیرہ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے. یہ بات واقعی ہی حقیقت رکھتی ہے کہ واعظین کے سلیقہ گفتگو اور موضوعات کے انتخاب پر لازمی طور پر بحث ہونی چاہیے اور ان کو دونوں چیزوں کو یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے.
    بشمول میرے اکثر احباب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جمعہ کی نماز وہاں پڑھی جائے جہاں پر خطبہ دینے والا دھیمے مزاج میں گفتگو کر رہا ہو اور اس کی گفتگو کا موضوع ہمارے مسائل معاملات لیے ہو تاکہ ہم دلچسپی سے سن سکیں. وگرنہ تو جمعہ کے خطبہ کے دوران نیند معمول بنتی جا رہی ہے.
    ہم ڈی ایچ اے فیز تھری کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرتے رہے ہیں وہاں پر خطبہ دینے والے مولانا صاحب نے مجال ہے جو کبھی اپنے موضوع سے ہٹ کر بات کی ہو، یا موضوع کو ہی بہت زیادہ پھیلادیا ہوکہ بعد میں سمیٹنا مشکل ہوجائے اور عام موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کبھی مائک پھاڑا ہوا یا شدت جذبات سے ڈائس پر مکے مارے ہوں. ایسی بہت ساری مساجد اور وائطین دیکھے ہیں لیکن تاحال ہزاروں ایسے ہیں جو پورے ہفتہ کے غصے اور جذبات کے اظہار کے لیے جمعہ کے خطبہ کو بہترین خیال کرتے ہیں.
    مثال کے طور آپ نے بیان کرنا ہے کہ مسواک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آپ نے اس کی تاکید بیان کی ہے تو یہ بلکہ دھیمے انداز میں خوبصورت الفاظ کے ساتھ نرمی سے بیان ہوسکتا ہے اب مسواک کو اس طرح شدت سے "مسسسسسوااااااااااااااک” کہنے سے لوگ جمعہ چھوڑ کر مسواکیں خریدنے تھوڑا چلے جائیں گے.
    آپ جنت کے موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں تو جنت جتنی پیاری ہوگی ہم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن بعض وائظین ایسے گلہ پھاڑ انداز میں "جنت” لفظ کو کھینچتے ہیں ڈر لگنے لگ جاتا کہ جنت ہی ہے نا جس کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں شوق پیدا کیا کرتے تھے.
    ایک اور بڑا ایشو جمعہ کے خطبہ کے لیے موضوعات کا انتخاب اور اس کی تیاری ہے. معاشرے میں مسائل کیا چل رہے ہیں، نوجوان کن مسائل میں الجھا ہوا ہے، والدین کے ایشوز کیا ہیں. اگر عالم دین کو سامنے بیٹھے لوگوں کے معاملات و مسائل سے آگاہی اور وہ اس ترتیب میں موضوع کا انتخاب اور اسکی باقاعدہ تیاری کرے تو مجال ہے اس کی مسجد کا رش اور لوگوں کی دلچسپی کم ہو.
    لوگ موٹیویشنل اسپیکرز کو کیوں سنتے ہیں وجہ ہے کہ وہ ان کے مجموعی اور انفرادی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی امید دیتے ہیں. حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ محلے کی مسجد کا خطیب سب سے بڑا موٹیویشنل اسپیکر ہونا چاہیے اور ہوتے بھی ہیں. وہ لوگوں کو امید دے، شوق دے اور سوشل ہو اور سوشل ایکٹیویٹیز میں لوگوں کے ساتھ چلے.
    محمد عبداللہ

  • موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    گزشتہ چند سالوں میں موبائل فونز نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ہر انسان وہ چاہے دنیا کا امیر ترین شخص ہو یا غریب ریڑھی والا، کوئی ملٹی نیشنل فرم میں کام کرنے والی خاتون ہو یا پھر گھروں میں کام کرنے والی ملازمہ، ستر سال سے زائد عمر کا بوڑھا انسان ہو یا کوئی بچہ ہو آپ کو ہر ایک سمارٹ فون استعمال کرتا ضرور نظر آئے گا۔ یہاں تک کہ اب یہ انسانوں کی ضرورت سے زیادہ ایک عادت بن گیا ہے کہ ہر انسان نے اس کو تمام وقت اپنے پاس رکھنا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے آخری کام یہی ہوتا ہے کہ فون پر آئے تمام نوٹیفکیشنز کولازمی چیک کرنا ہے اسی طرح صبح اٹھ کر بھی سب سے پہلے موبائل چیک کرنا ہے کہ کہیں کوئی ضروری میسج تو نہیں آیا۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موبائل فون یا سمارٹ فون کی جگہ اب کوئی نیا Gadget ہو جو یہ تمام کام کرے جو سمارٹ فون کرتا ہے۔ اب ایسے Gadget کا ہمیں انتظار نہیں کرنا کہ وہ کب ایجاد ہو گا اور کب ہم تک پہنچے گا بلکہ وہ Gadget بن بھی چکا ہے اور وہ مارکیٹ میں دستیاب بھی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جیسے سمارٹ فون رکھنا اب انسانوں کی مجبوری بن چکا ہے تو کیا یہ نیا Gadgetبھی اسی طرح ہماری زندگیوں میں اپنی جگہ بنا سکے گا یا نہیں۔۔۔سمارٹ فون ایک ایسی ڈیوائس ہے جس کے ساتھ ہم اپنے دن کا زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں اور جس کے ہمارے استعمال میں آنے کے بعد بہت سی ایسی ڈیوائسز ہیں جو کہ ہم نے اب استعمال کرنا چھوڑ دی ہیں۔ جیسے Wrist watches،Cameras،Alarm clock اور چارج لائٹ وغیرہ۔۔۔ اب دنیا بھر میں کروڑوں لوگ الارم کلاک کی بجائے موبائل الارم استعمال کرتے ہیں جو وقت دیکھنے کے لئے گھڑی کا استعمال نہیں کرتے بلکہ فون پر وقت دیکھ لیتے ہیں بلکہ کلینڈر بھی فون پر ہی کھول کر دیکھا جاتا ہے۔ کیمروں کی جگہ بھی موبائل فون کا کیمرہ ہی استعمال ہوتا ہے اب کیمرے صرف پروفیشنل لوگ خریدتے ہیں ورنہ ہر ایک کے ہاتھ میں آپ کو سمارٹ فون کا کیمرہ ہی نظر آئے گا۔ اب کوئی بھی ٹارچ لائٹ الگ سے اپنے پاس نہیں رکھتا بلکہ موبائل میں موجود ٹارچ سے کام چلایا جاتا ہے۔ سٹاپ واچ اور آڈیو ریکارڈر بھی موبائل میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ آج کل کے بچوں نے ہو سکتا ہے کہ کاغذوں پربنے ہوئے نقشے کبھی دیکھے ہی نہ ہوں لیکن ان کو سمارٹ فون میں موجود گوگل میپ کا ضرور پتہ ہے کہ وہ کیسے استعمال کرنا ہے۔ خواتین نے الگ سے اپنے ہینڈ بیگز میں شیشہ رکھنا چھوڑ دیا ہے شیشے کا کام بھی سمارٹ فون کی ڈسپلے سکرین یا پھر فرنٹ کیمرے سے لیا جاتا ہے۔ I-pod اور ریڈیو کا کام بھی سمارٹ فونز نے ہی سنبھال لیا ہے۔ یہاں تک بہت سے ایسے کام جو ہم پہلے صرف کمپیوٹرز پر کرتے تھے ان کے لئے بھی اب ہم سمارٹ فون ہی استعمال کرتے ہیں جیسے ای میلز کے لئے، آن لائن شاپنگ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسمارٹ فونز نے ہمارا تصور ہی بدل دیا ہے کہ فون ہوتا کیا ہے اور اب وہ صرف کال کرنے والی سادہ ڈیوائس نہیں، درحقیقت ایک اسمارٹ فون مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا منی کمپیوٹر ہے جسے ہم اپنی زندگیوں میں بہت سارے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔لیکن اب فیس بک نے ایک ایسی ایجاد کی ہے جو کہ بہت ہی حیران کن ہے۔ جس طرح پہلے بہت سارے Gadgetsکے فنکشنز سمٹ کر ایک سمارٹ فون میں آگئے تھے ویسے ہی اب فیس بک نے گلاسز بنانے والی بہت ہی مشہور کمپنی Ray Banکے ساتھ مل کر ایسے گلاسز تیار کئے ہیں جس میں وہ سب فنکشنز ایڈ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ ہم اپنے سمارٹ فونز سے کرتے ہیں۔

    فیس بک کے ان اسمارٹ گلاسز کا نام Ray ban storiesہے۔ یہ اسمارٹ گلاسز دیکھنے میں عام چشمے جیسے ہی نظر آتے ہیں مگر ان سے اسمارٹ فونز جیسے کافی کام کیے جاسکتے ہیں۔
    ان اسمارٹ گلاسز میں پانچ پانچ میگا پکسل کے دو کیمرے موجود ہیں جن سے ہاتھ کا اشارہ کرکے تصاویر کھینچی جاسکتی ہیں اور ویڈیو بھی ریکارڈ کی جاسکتی ہیں۔ ساتھ ہی دونوں کیمروں کی مدد سے یوزر 3D effectsکو تصویروں اور ویڈیوز ایپ میں اپ لوڈ کرکے ایڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور ان تصویروں اور ویڈیوز کو فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹا گرام پر شیئر بھی کیا جا سکتا ہے۔ لائیو اسٹریم اور فیس بک پاور اے آئی سے اور بھی بہت سے کام کئے جا سکتے ہیں۔ اسمارٹ گلاسز میں کیمرے کے ساتھ ساتھ سپیکر اور مائیکروفون بھی ہے جس سے ہم گلاسز کے ذریعے فون کال بھی سن سکیں گے اور اس پر اپنی پسند کا میوزک بھی سنا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی ان گلاسز کے یہ تمام فنکشنز استعمال کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کو کسی آئی او ایس یا اینڈرائیڈ ڈیوائس سے کنکٹ کیا جائے اور فیس بک کی نئی View appکی مدد سے رے بین گلاسز سے کھینچی جانے والی تصاویر یا ویڈیوز یا میڈیا فائلز کو فونز میں ٹرانسفربھی کیا جاسکتا ہے۔اور استعمال میں یہ سمارٹ گلاسز اتنی ہلکی ہیں کہ ان کا وزن پچاس گرام سے بھی کم ہے اور یہ Leather Hard shell charging caseکے ساتھ ملتے ہیں اور کمپنی کا دعوی ہے کہ سمارٹ گلاسز کی بیٹری پورا دن کام کرتی ہے۔

    گلاسز میں 2 بٹن بھی ہے جن میں سے ایک میڈیا ریکارڈ کرنے کا کام کرتا ہے اور دوسرا آن آف سوئچ ہے۔گلاسز کی رائٹ سائیڈ میں ایک ٹچ پیڈ ہے جس سے مختلف کام جیسے Volume adjustmentیا فون کال ریسیو کی جا سکتی ہے۔گلاسز میں کمیرے کے ساتھ وائٹ ایل ای ڈی لائٹ ہوتی ہے جو ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے آن ہو جاتی ہے جس سے آس پاس موجود لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ویڈیو ریکارڈ کی جارہی ہے۔یہ اسمارٹ گلاسز ابھی واٹر پروف نہیں ہیں توان کو استعمال کے دوران پانی سے بچانا ہوگا۔یہ اسمارٹ گلاسز رے بین کے 3 کلاسیک اسٹائلز میں دستیاب ہیں اور مختلف رنگوں اور lens کے ساتھ خریدے جاسکتے ہیں۔ اور ان گلاسز کو نظر کے چشمے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔2020میں فیس بک کی آمدنی86 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی جس کے بعد کمپنی اپنا زیادہ ترسرمایہVirtual and augmented realityپر لگا رہی ہے۔Virtual realityدراصل ایک ایسا تجربہ ہے جو انسانوں کو ڈیجیٹل چیزوں کو حقیقت سے قریب تر دکھانے کے ساتھ انہیں محسوس بھی کرواتا ہے۔اس کے علاوہ اسمارٹ گلاسز میں Virtual assistantکی خصوصیت بھی ہے جس کے ذریعے ہاتھ کا اشارہ کیے بغیراستعمال کرنے والا صرف اپنی آواز کی مدد سے ہی تصاویر اور ویڈیوز بنا سکتا ہے۔لیکن ان سمارٹ فونز کی طرح ان گلاسز کو ہم ہر جگہ استعمال نہیں کر سکتے اس کے حوالے سے فیس بک نے ایک مکمل گائیڈ لائن بھی جاری کی ہے جس کے مطابق ان گلاسز کو نجی مقامات مثلا باتھ روم وغیرہ میں استعمال کرنا منع ہے اس کے علاوہ اسے غیر قانونی عمل جیسے ہراساں کرنا یا حساس معلومات یعنی پن کوڈز وغیرہ کے حصول کے لیے استعمال کرنا بھی منع ہے۔بہت سے فنکشنز تو ابھی بھی ان گلاسز میں ایڈ ہیں لیکن آنے والے دنوں میں یہ سپر گلاسز یاداشت کو بڑھانے، غیر ملکی زبانوں کا فوری ترجمہ، ارگرد ہونے والی بات چیت یا آوازوں کو کانوں میں جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ایک نظر میں انسان کے جسمانی درجہ حرارت کے بارے میں بھی بتانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔Facial recognationکی ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ اسمارٹ گلاسز ڈیٹا بیس میں موجود معلومات کی بنیاد پر سامنے والے شخص کو نہ صرف پہچان سکیں گے بلکہ اس کی دیگر معلومات تک رسائی بھی حاصل کر سکیں گے۔جس کی وجہ سے ان سمارٹ گلاسز پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کو اختیار مل جائے گا کہ وہ دوسروں کی ذاتی معلومات حاصل کر کے انھیں تنگ کر سکیں۔ لیکن فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی ایشو سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اور ان کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کے لئے جو ضروری اقدام ہوں گے وہ لازمی کئے جائیں گے۔ان سمارٹ گلاسز کو بنانے والے سائنسدانوں کے مطابق اے آر ٹیکنالوجی پر مبنی یہ گلاسز بہت جلد اسمارٹ فون کی جگہ لے لیں گے اور روزمرہ کی کمپیوٹنگ ڈیوائس بن جائیں گے۔ خاص طور پر دس سے پندرہ سال کے اندر لوگ اب فونز کی جگہ یہ اسٹائلش چشمے ہی پہننا پسند کریں گے۔جس کے بعد ہم کہہ سکیں گے کہ جیسے سمارٹ فون نے دوسرے Gadgetsکو نگل لیا تھا اور ان کی ضرورت ختم کر دی تھی اسی طرح اب آنے والے سالوں میں انسانوں کی صرف سمارٹ فونز پر Dependenceختم ہو جائے گی۔ اور ابھی تو صرف گلاسز ایجاد ہوئے ہیں جبکہ چانسز تو یہ بھی ہیں کہ آنے والے سالوں میں اور بھی Smart gadget ایجاد ہو جائیں جو کہ سمارٹ فون پر ہمارا انحصار بالکل ختم ہی کر دیں۔

  • سرینگر: خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور

    سرینگر: خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور

    سرینگر:خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری، فوری رہائی پر زور،اطلاعات کے مطابق بدنا م زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے” نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی “(این آئی اے) کی طرف سے انسانی حقوق کے کشمیری کارکن خرم پرویز کی گرفتاری پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھارت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ انہیں فوری رہا کرے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کشمیری کارکن خرم پرویز کی گرفتاری اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کس طرح بھارت میں انسانی حقوق کے کاموں کو مجرمانہ بنانے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکام کو انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے بجائے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے سری نگر میں ایک بیان میں خرم پرویرکی گرفتاری کو مودی حکومت کی علاقے میں اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی حکام کی طرف سے انسانی حقوق کے محافظوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر ظلم و ستم اور انتقامی کارروائیاں بی جے پی کی فسطائی حکومت کی آمرانہ ذہنیت کا واضح مظہر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کے بارے میں بھارتی قابض حکام کا ردعمل ہمیشہ سے آمرانہ رہا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گرفتاریوں، دھمکیوں اور توہین آمیز مہم کا مقصد آزادی کی حامی قیادت اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو خوف و دہشت کا شکار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ خرم پرویز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کے سفاکانہ چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

    جموں و کشمیر ایمپلائز موومنٹ کے جنرل سیکرٹری جنید الاسلام نے خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں کیے جانے کا موثر نوٹس لیں۔ این آئی انے خرم پرویز کو پیر کو سرینگر میں گرفتار کیا تھا ۔ انہیں منگل کے روز نئی دہلی منتقل کیا گیا ۔

  • اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    اٹلی نے ایمیزون اور ایپل پرغیرمسابقتی رویہ اپنانے کے الزام میں 225 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "اے پی” کے مطابق اٹلی کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی واچ ڈاگ نے امریکی ٹیک کمپنیوں ایپل اورایمیزون کو ایپل اور بیٹس کی مصنوعات کی فروخت میں مسابقتی مخالف تعاون کے الزام میں مجموعی طور پر 200 ملین یورو($ 225 ملین) سے زیادہ کا جرمانہ کیا ہے۔

    اطالوی مسابقتی اتھارٹی نے منگل کو کہا کہ ایک تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ایمیزون اور ایپل کے درمیان 2018 میں ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت دونوں کمپنیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مصنوعات کی فروخت میں مقابلہ نہ کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔

    جس کی وجہ سے اٹلی میں ایمیزون کی ویب سائٹ پر صرف مخصوص ری سیلرز کو اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔ اطالوی حکام کے مطابق، اس عمل سے مارکیٹ میں غیرمسابقتی روحجان کو فروغ ملا ہے۔

    واچ ڈاگ نے کہا کہ کمپنیوں کے درمیان معاہدے تحت صرف منتخب بیچنے والوں کو ہی ایمازون کی ویب سائٹ پر ایپل اور بیٹس کی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی ہے اور قیمتوں پر مسابقت کو متاثر کرتا ہے۔

    واچ ڈاگ نے ایپل پر 134.5 ملین یورو ($151.32 ملین) جرمانہ اور ایمیزون پر 68.7 ملین یورو ($77.29 ملین) جرمانہ عائد کیا اس نے انہیں پابندیاں ختم کرنے اور ری سیلرز کو "غیر امتیازی انداز” میں رسائی دینے کا بھی حکم دیا۔

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    دوسری جانب ایپل اور ایمیزون دونوں نے کہا کہ وہ اپیل کریں گے۔

    ایمیزون نے کہا کہ "مجوزہ جرمانہ غیر متناسب اور بلاجواز ہے۔” "ہم ICA کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہیں کہ ہمارے اسٹور سے فروخت کنندگان کو چھوڑ کر ایمیزون کو فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ ہمارا کاروباری ماڈل ان کی کامیابی پر انحصار کرتا ہے۔

    ایپل کمپنی نے کہا کہ وہ اطالوی مسابقتی اتھارٹی کا احترام کرتی ہے "لیکن یقین ہے کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔”

    ایپل نے کہا کہ منتخب ری سیلرز کے ساتھ مل کر کام کرنے سے صارفین کی حفاظت میں مدد ملتی ہے کیونکہ یہ یقینی بناتا ہے کہ مصنوعات حقیقی ہیں۔

    ایپل نے کہا، "غیر حقیقی مصنوعات کمتر تجربہ فراہم کرتی ہیں اور اکثر خطرناک ہو سکتی ہیں۔” "ہمارے صارفین حقیقی مصنوعات کی خریداری کو یقینی بنانے کے لیے، ہم اپنے ری سیلر پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور ہمارے پاس دنیا بھر کے ماہرین کی ٹیمیں ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں، کسٹمز اور تاجروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتی ہیں کہ ایپل کی صرف حقیقی مصنوعات ہی فروخت کی جائیں۔”

  • ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    امریکی کمپنی ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا خطاب چھین لیا-

    باغی ٹی وی : شیاؤمی کو عالی سطح پر چیپس کی قلت کا سامنا اور دوسری کمپنیوں سے سخت مقابلے سے اس کی رینکنگ پر اثر پڑا چینی کمپنی نے اپریل سے جون کے دوران ہی امریکی کمپنی کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری بڑی اسمارٹ فون کی کمپنی ہونے کا تاج چھینا تھا۔

    کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ اور کینالیز کے مطابق اسمارٹ فون بزنس کو سپلائی چین کے ساتھ سیمی کنڈکٹرز کی قلت کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جو اگلی آدھی شماہی تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔

    شیاؤمی کی جانب سے 23 نومبر کو جاری سہ ماہی رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ اس کا اسمارٹ فون بزنس سیمی کنڈکٹرز کی قلت کے نتیجے میں بری طرح متاثر ہوا ہے ایسی توقع کی جارہی ہے کہ چپس کا بحران 2022 کی اولین ششماہی کے دوران بھی برقرار رہ سکتا ہے۔

    شیاؤمی کے صدر وانگ شیانگ نے سہ ماہی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر بتایا کہ رواں سال خصوصی بیک گراؤنڈ کا حامل ہے اور عالمی سطح پر پرزہ جات کی کمی بھی ہے جو کہ ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے۔

    چینی کمپنی شیاؤمی نے 2021 کی تیسری سہ ماہی میں 4 کروڑ 39 لاکھ اسمارٹ فونز دنیا بھر میں فروخت کیے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6 فیصد کم ہیں یاد رہے شیاومی 2024 میں الیکٹرک گاڑیوں کی پروڈکشن بھی شروع کرنے والی ہے۔

    جون کے بعد سے شیاؤمی کو سپلائی چین کے مسائل کا سامنا ہوا اور کاؤنٹر پوائنٹ کے ریسرچ ڈائریکٹر ترون پاٹھک نے بتایا کہ اگرچہ اس قلت نے تمام کمپنیوں کو متاثر کیا مگر شیاؤمی کے لیے یہ زیادہ بڑا درد سر ہے جس کی وجہ اس کے متعدد ماڈلز ہیں۔

    تیسری سہ ماہی کے دوران کمپنی نے 50 سے زیادہ مختلف اسمارٹ فون ماڈلز مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیے، جس کی وجہ سے اسے بہت زیادہ تعداد میں پرزہ جات کی ضرورت پوتی ہے۔

    دوسری طرف ایپل کو اپنے مخصوص ماڈلز کی وجہ سے زیادہ مسئلے کا سامنا نہیں ہوا اور وہ تیسری سہ ماہی میں دوبارہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ایپل کو آئی فون 13 سے بھی فائدہ ہوا اور اس نے تیسری سہ ماہی کے دوران اس کا عالمی مارکیٹ شیئر 15 فیصد رہا جو شیاؤمی سے ایک فیصد زیادہ ہے۔

    تاہم شیاؤمی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے حل کے بعد وہ دوبارہ ایپل کو پیچھے چھوڑ کر اپنی پوزیشن واپس لے گا جبکہ ان کا مقصد اور حدف سام سنگ کو پیچھے چھوڑنا ہے، جس کے بعد وہ دنیا کی پہلی اسمارٹ فون کمپنی بن جائے گی۔

  • تبدیلی لانا آسان ہے کیا؟؟؟ تحریر فضل عباس

    تبدیلی لفظ سنتے ہی تمام پاکستانیوں کے ذہن میں ایک ہی نام آتا ہے وہ ہے عمران خان
    عمران خان نے سیاست میں لفظ "تبدیلی” اور "نیا پاکستان” متعارف کروایا ایک طویل جدو جہد کے بعد ان کو حکومت ملی اور لوگوں کی نظریں ان پر جم گئیں لوگ توقع کر رہے تھے کہ عمران خان چند ہی دنوں میں تبدیلی لاۓ گا عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے دوسرے دن نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟؟؟ یہ وہ سوال ہے جس پر آج ہم بات کریں گے

    پاکستان پچھلے چالیس سال سے انتظامی اور مالی مشکلات کا شکار ہے پاکستان ہمیشہ لیڈرز سے محروم رہا ہے جب پاکستان میں تیسرا مارشل لاء لگا تو جنرل ضیاء الحق خود ساختہ سیاسی جماعتوں کو وجود میں لاۓ تا کہ اسے طاقت کے استعمال میں کوئی مسئلہ درپیش نہ آۓ ایک طرف وہ میاں نواز شریف کو سیاست میں لاتے ہیں دوسری طرف الطاف حسین کو کراچی کا سکندر بناتے ہیں انہیں اس میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا تھا ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے وہ کچھ بھی کرنا چاہتے تھے اور وہ سب کر گزرے قوم کو نواز شریف اور الطاف حسین جیسے تحفے نوازے جو بعد میں پاکستان کی تباہی کا باعث بنے

    اس سب کے بعد پاکستان میں دو جماعتی رسم شروع ہوتی ہے ایک دفعہ ایک جماعت حکمران ہوتی ہے تو اگلی دفعہ دوسری جماعت ایک جماعت دوسری کو کرپٹ قرار دیتی ہے تو دوسری پہلی کو پیپلز پارٹی کی نظر میں سب سے کرپٹ اور نااہل جماعت مسلم لیگ ن ہوتی ہے اور مسلم لیگ ن کی نظر میں سب سے زیادہ کرپشن کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی
    ان دونوں جماعتوں نے اسی طرح اپنا کام جاری رکھا اور پاکستان کمزور ہوتا گیا ان کے ساتھ ساتھ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کراچی میں اپنی طاقت کے بل بوتے عذاب بنتی گئی پاکستان مالی اور انتظامی سطح پر بکھرنے لگا
    1999 ء میں جنرل پرویز مشرف مارشل لاء لگاتے ہیں آگے چل کر وہ صدر پاکستان بنے اور ایک نسبتاً اچھا بلدیاتی نظام لاۓ مگر وہ نظام ان کی حکومت جاتے ٹوٹ گیا اور پھر سے وہی دو جماعتی کھیل شروع ہو گیا اور پاکستان اب کی بار قرضوں کے سونامی میں ڈوبتا گیا اس بار ان دو جماعتوں کے مقابلے میں عمران خان آۓ اور بالآخر 2018 ء میں ان دو جماعتوں کو شکست دے کر وزیر اعظم پاکستان بنے

    عوام عمران خان کی تقاریر سن کر ان کی دیوانی ہو چکی تھی انہیں لگ رہا تھا کہ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ساتھ نیا پاکستان بن جاۓ گا لیکن ایسا نہیں ہوتا چالیس سال کا بگاڑ ایک ساتھ ٹھیک نہیں ہو سکتا وہ ٹھیک ہے کہ عوام کو عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں لیکن جتنی امیدیں ہوں اتنا وقت بھی دیا جاتا ہے خواب سپر پاور بننے کے ہوں اور وقت لمحوں کا بھی نہ ہو ایسا نہیں ہوتا اس پر تھوڑی واضح گفتگو کرتے ہیں

    تبدیلی لانے کے لیے سب سے پہلے نظام بدلنا پڑتا ہے اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی سے لڑنا پڑتا ہے یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جو طاقتیں سالوں سے اس ملک پر قابض ہیں انہیں لگام ڈالنا کو بچوں کا کھیل نہیں عمران خان کے پاس تو دو تہائی اکثریت بھی نہیں ہے عمران خان کو قانون سازی میں بہت زیادہ مشکلات ہیں بیوروکریسی اپوزیشن راہنماؤں کی ایماء پر حکومت کے کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اپوزیشن جماعتوں کی بلیک میلنگ الگ سے ہے اس سب سے لڑنے میں وقت لگے گا عمران خان کو لوہے کے چنے چبانا ہوں گے تب ہی پاکستان بدلے گا اس سب میں بہت محنت درکار ہے عمران خان تو لگا ہوا ہے وہ کر دکھاۓ گا لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کریں کیوں کہ یہی صبر ہمیں کل اس قابل بناۓ گا کہ ہم فخریہ کہہ سکیں ہم اس راہنماء کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے تھے جس نے نیا پاکستان بنایا تھا اللّہ تعالیٰ عمران خان کو اس کے اس عظیم مقصد میں کامیاب کرے آمین ♥️

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان کھلی جنگ کی خواہش مگرکس میدان میں:عرب رہنما نے بتادیا

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کھلی جنگ کی خواہش مگرکس میدان میں:عرب رہنما نے بتادیا

    لاہور:پاکستان اور بھارت کے درمیان کھلی جنگ کی خواہش مگرکس میدان میں:عرب رہنما نے بتادیا،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی دبئی کرکٹ کونسل نے پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ سیریز کرانے کی پیشکش کردی ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی کرکٹ کونسل کے چیئرمین عبدالرحمان نے پاک بھارت سیریز کی میزبانی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں شارجہ میں پاک بھارت میچز ایک جنگ کی طرح ہوتے تھے، وہ ایک کھیل کی جنگ ہوتی تھی جو کرکٹ کے لیے بہت اچھی تھی۔

    عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) سے ان کے تعلقات اچھے ہیں، بھارت اگر ہاں کرتا ہے تو دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان سیریز فائدہ مند ثابت ہوگی۔

    چیئرمین دبئی کرکٹ کونسل نے مزید کہا کہ ہم بھارت کو پاکستان کے خلاف کھیلنے کے لیے راضی کر لیں تو یہ بہترین ہوگا، سال میں ایک یا دو بار دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کروائی جاسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین آئی سی سی نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل موجود ہیں، لیکن کرکٹ ملکوں کے تعلقات کو بہتر کر سکتی ‏ہے، ہم پاکستان میں چیمپیئز ٹرافی 2025 کے انعقاد کے بارے میں پُرامید ہیں، پاکستان میں بین الاقومی کرکٹ ہو رہی ‏ہے جس کے پیش نظر پاکستان کو یہ ایونٹ دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کو 29 سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ایونٹ کی میزبانی ملی ہے جس کے بعد پاکستان 2025 میں چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان نے آخری مرتبہ 1996 میں آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کی تھی اور اس وقت 50 اوورز کے ورلڈ کپ کے کچھ میچز پاکستان میں ہوئے تھے۔ 2008 کی چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہونا تھی مگر حالات کی وجہ سے جنوبی افریقا منتقل ہوگئی تھی۔

  • ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    ابھینندن اور مودی کا ایک اور جھوٹ، تحریر: عفیفہ راؤ

    آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہو گا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے انسان کو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اس وقت یہی کام مودی سرکار کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ مودی جب سے وزیر اعظم بنا ہے اس نے اس تمام عرصے میں خود کو دنیا کے سامنے بہت ہی قابل اور اعلی لیڈر بنا کر پیش کرنے کے چکر میں اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب وہ خود مودی سرکار کے گلے پڑ رہے ہیں۔ آج مودی سرکار کا جو جھوٹ پکڑا گیا ہے اس کی وجہ سے پورے انڈیا کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ مودی سرکار کی جانب سے ایک ایسے انسان کو اعلی ایوارڈ دیا گیا جس کا مشن فیل ہو گیا تھا اور وہ پاکستان کے رحم و کرم پر تھا اگر پاکستان اس کو رہا کرکے واپس بھارت کے حوالے نہ کرتا تو وہ اب تک پاکستان کی جیل میں سڑ رہا ہوتا۔ لیکن انڈیا نے اپنے زیرو اور کھوٹے سکے کو ایسے ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی کہ وہ یہ بھول گئے کہ ان کا یہ نکما اور نالائق پائلٹ پاکستان میں کیا کارنامہ کرکے آیا تھا اس کا یونیفارم بھی آج تک پاکستانی فوج کے میوزیم میں سجا ہوا ہے۔

    انڈیا کے تین بڑے ایوارڈز ہیں پرم ویر چکرا، مہا ویر چکرا اور ویر چکرا جو جنگوں میں بہادری دکھانے والے افراد کو دیا جاتا ہے۔ اور آج مودی سرکار نے ائیر فورس پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو اپنے تیسرے بڑے ایوارڈ ویر چکرا سے نوازا ہے۔یہاں میں آپ کو یاد کروا دوں کہ یہ وہی بہادر پائلٹ ہیں جنہوں نے پہلے پاکستانی عوام سے مار کھائی پھر پاک فوج نے اس کی جان بچائی اور اس کو گرفتار کیا لیکن جذبہ خیر سگالی کے طور پر اسے Fantastic tea پلا کر واپس انڈیا کے حوالے کر دیا تھا۔جبکہ مودی سرکار نے ابھی نندن کو ایوارڈ یہ کہہ کر دیا ہے کہ اس نے ایک پاکستانی ایف 16 مارگرایا تھا۔ہوا یہ تھا کہ دو سال پہلے چھبیس فروری کو انڈین جہازوائلیشن کرتے ہوئے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں داخل ہوئے اور وہاں بم گرا کر حملہ کیا۔ جس پر انڈین فوج، حکومت اور میڈیا تینوں نے مل کر یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ وہاں کوئی جہادی کیمپس تھے جس پر حملہ کر کے اڑا دیا گیا۔ حالانکہ جس جگہ یہ کاروائی ہوئی تھی وہاں نہ تو کوئی کیمپ تھا اور نہ ہی اس میں کوئی ہلاکت ہوئی تھی۔ ہاں ہمارے کچھ درخت ضرور اس حملے میں جل گئے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔اس کے بعد اگلے ہی روز ایک بار پھر انڈین طیاروں نے پاکستانی علاقوں میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پاکستانی فضائیہ نے جوابی کارروائی کی جس کے دوران انڈین مگ21اڑانے والے ابھینندن کے جہاز کو نشانہ بنا کر گرا دیا گیا تھا اور ابھینندن کو پاکستانی حدود میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ 60 گھنٹے تک قید میں رہا تھا۔ لیکن انڈین میڈیا شور مچاتا رہا کہ بھارت نے تاریخ رقم کر دی ہے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی مگ21 طیارے نے کسی ایف 16 طیارے کو تباہ کیا ہو۔ کیونکہ مگ 21 پرانا جنگی طیارہ ہے اور ایف 16 کے مقابلے میں اس کی جنگی صلاحیت کہیں کم ہے۔

    حالانکہ پاکستان کئی مرتبہ اس انڈین دعوے کی تردید کر چکا ہے لیکن پھر بھی جب انڈیا اپنے جھوٹے پراپیگنڈہ سے باز یہ آیا توغیرملکی فوجی طیاروں کی فروخت پر استعمال کے معاہدے کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو دعوت دی کہ امریکی حکام خود آ کر ایف16 طیاروں کی گنتی کریں۔ جس کے بعد امریکی میگزین فارن پالیسی نے اس پر اپنی ایک مکمل رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا کہ اس واقع کی سچائی کو پرکھنے کے لئے امریکہ کے محکمہ دفاع کے اہلکاروں نے پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی تھی اور وہ تعداد میں پورے تھے اس لئے جب تمام جہاز پورے تھے تو آپ سوچ لیں کہ بھارت نے کونسا جہاز گرایا تھا۔ فارن پالیسی کی اس تصدیقی رپورٹ کے بعد اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے حملے اور اس کے اثرات کے بارے میں بھی دعوے جھوٹے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ انڈیا اپنی طرف ہونے والے نقصان بشمول پاکستان کے ہاتھوں اپنے دوسرے طیارے کی تباہی کے بارے میں سچ بولے۔ لیکن سچ بولنا تو دور بھارت نے تو اور زیادہ ڈرامہ کرنا شروع کر دیا۔ ابھی چند ماہ پہلے ابھی نندن کو ترقی دے کرونگ کمانڈر سے گروپ کپٹین بنایا گیا۔ جس کے بعد مودی سرکار نے سوچا کہ جب اس کو ترقی دینے پر سب خاموش رہے ہیں تو اب کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر اس کو ایوارڈ بھی دے دیا جائے۔

    مودی سرکار یہ سب کیوں کر رہی ہے۔ دراصل انڈیا میں اس وقت غربت سے برا حال ہے۔ مودی کو اس کی تمام پالیسیوں پر مار پڑ رہی ہے۔ کسانوں کے سامنے جس طرح مودی کو ہار مان کر معافی مانگنا پڑی اور اپنے تینوں قوانین واپس لینا پڑے وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ اس کے بعد اب سی اے اے اور این آر سی کو بھی واپس کروانے کے لئے ایک بار پھر تحریک زور پکڑنے لگی ہے۔ چین کے ہاتھوں جس طرح انڈین فوج کی پٹائی ہوتی رہی ہے وہ بھی ہم سب نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی صورت میں دیکھا۔ اور اب چین مسلسل انڈیا کے علاقوں میں اپنے گاوں تعمیر کر رہا ہے دو گاوں آباد ہونے کے ثبوت تو خود امریکی ادارے دنیا کے سامنے لاچکے ہیں لیکن بھارتی فوج یا حکومت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس بات کو تسلیم ہی کر لیں کہ چین یہ سب کر رہا ہے۔ کیونکہ الیکشنز سر پر ہیں اگر وہ یہ مان لیں تو وہ اپنی عوام کو کیا جواب دیں گے۔ چین کے ساتھ موجودہ حالات کی وجہ سے ان کی فوج کا مورال پہلے ہی بہت ڈاون ہے۔ اس لئے اپنی طرف سے تو مودی سرکار نے انڈین فضائیہ کا مورال بلند کرنے اور ان کو حوصلہ دینے کے لئے یہ سب ڈرامہ کیا تھا اور اس ڈرامے کی حقیقت مودی اور راج ناتھ کی شکلوں سے بھی پتا چل رہی ہے کہ کیسے جب ابھی نندن کو ایوارڈ دینے کے لئے بلایا گیا اور وہ جھوٹی کہانی سنائی گئی تو راج ناتھ اپنے ہاتھ مل رہا تھا مودی کی شکل پر بھی بارہ بج رہے تھے کوئی خوشی نہیں تھی نہ ہی ان دونوں نے اس کے لئے کوئی پر زور تالیاں بجائیں کیونکہ یہ جانتے تھے کہ وہ اس کو ایک جھوٹا ایوارڈ دے رہے ہیں۔ لیکن ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کا جھوٹ اتنی بری طرح بے نقاب ہو جائے گا اور سوشل میڈیا پر پوری دنیا کے سامنے ان کی جگ ہنسائی ہو گی۔کوئی سوشل میڈیا پر کہہ رہا ہے کہ۔۔ میں بہادر ابھینندن کو ایف سولہ گرانے اور پھر اپنی جیت کا جشن منانے کے لیے اپنے جہاز سے ایجیکٹ ہوکر پاکستان چائے پینے کے لیے اترنے پر مبارکبا دیتا ہوں۔کسی نے کہا کہ بالی ووڈ نے اکیلے پوری انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کرپٹ کردیا ہے۔ایک صارف نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو پاکستان میں مشن کے فیل ہونے پر ایوارڈ دیا جارہا ہے۔کوئی کہہ رہا ہے کہ۔۔ انڈیا کو ہیرو کو زیرو بنانا بخوبی آتا ہے۔ایک نے ٹوئیٹ کی کہ ابھینندن کو خود بھی نہیں پتا کہ انہیں ویر چکرا دیا کیوں گیا ہے۔ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ۔۔ صرف وزیراعظم نریندر مودی اور انڈین میڈیا کے حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کی وجہ سے بیچارے ابھی نندن کو بار بار اس وقت کو یاد کرنا پڑتا ہے۔

    لیکن اب مودی کو کون سمجھائے کہ آپ اپنے گودی میڈیا کے ساتھ مل کر انڈین عوام اور پوری دنیا کو اس طرح سے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ ورنہ اگر آپ چاہتے ہیں تو پاکستانی فوج کے پاس ابھی نندن کی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جس میں وہ خود اپنی فضائیہ میں موجود خرابیوں کا اعتراف کر رہا ہے اس کے علاوہ اپنی فیملی کے ساتھ رابطے میں بھی اس نے مودی سرکار اور انڈین فوج کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس لئے مودی اور اس کے وزیر دفاع راج ناتھ کو چاہیے کہ پاکستان کے بارے میں کوئی بھی بیان بازی کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں ورنہ آپ کے پاس تو ایف سولہ گرانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن ہمارے پاس ویڈیوز ہیں جو ہم سوشل میڈیا پر ریلیز کر سکتے ہیں۔ اپنے الیکشنز کی تیاری کرنی ہے تو اپنی کارکردگی کے سر پر کریں پاکستان پر جھوٹی بیان بازی مت کریں۔

  • پی ایس ایل 2022 کا پلیئرزڈرافٹ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کیے جانے کا امکان

    پی ایس ایل 2022 کا پلیئرزڈرافٹ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کیے جانے کا امکان

    لاہور، پی ایس ایل سیزن سیون کو بڑا ایونٹ بنانے کے لیے پی سی بی اور فرنچائز مالکان نے سرجوڑ لیے-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق مختلف معاملات پر پی ایس ایل فرنچائز اور پی سی بی کے رابطے جاری ہیں جبکہ مقامی کھلاڑی کی فہرست کو رواں ہفتے میں حتمی شکل دیئے جانے کا امکان ہے اور پلیئرز پک آرڈر اور پلیئرز ریٹینشن بھی رواں ہفتے فائنل ہوں گی-

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ایس ایل سیزن سیون کا پلیئرزڈرافٹ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں کیے جانے کا امکان ہے پی ایس ایل کا آغاز آئندہ سال جنوری کے آخری ہفتے سے کیے جانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے-

    پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی وکٹیں نصب

    ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ غیرملکی کھلاڑیوں کی آمد لیگ کے آغاز سے ایک ہفتے پہلے شروع ہوگیا اسپانسرشپ اور براڈکاسٹ کے ٹینڈرز بھی جلد فائنل کرلیے جائیں گے-

    واضح رہے کہ پی ایس ایل سیزن 2022 کے لیے تیاریوں کا آغاز رواں ماہ کے شروع سے ہی کردیا گیا ہے اس بار پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب 26 جنوری کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مجوزہ ہے، دوسری جانب قذافی اسٹیڈیم سے متصل ایل سی سی اے گراونڈ کے ایک کونے پر صفائی کرواکر فینز کی دلچسپی کے لیے بہت بڑا بیٹ اور وکٹیں نصب کی گئی ہیں۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کے کلب کے بالکل سامنے 20 فٹ لمبا اور 3 فٹ چوڑا فائبر کا بیٹ تیار کیا گیا ہے، اس کے ساتھ 12 فٹ اونچی اور 6 فٹ چوڑی بیلز کے ساتھ وکٹیں بھی لگائی گئی ہے، ان کی تزئین و آرائش کا کام بھی ہورہا ہے۔