Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چمگادڑ نے سال کے ’بہترین پرندے‘ کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    چمگادڑ نے سال کے ’بہترین پرندے‘ کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    مقابلہ کروانے والے ادارے فوریسٹ اینڈ برڈ نے رواں ماہ چمگادڑ کو پرندوں کی فہرست میں شامل کر کے مقابلے کا پہلی بارحصہ بنایا اور لمبی دُم والے نایاب چمگاڈروں کو نیوزی لینڈ میں 2021 کے بہترین پرندے کا ایوارڈ دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق فوریسٹ اینڈ برڈ 17 سالوں سے یہ مقابلہ منعقد کر رہی ہے ، جس میں دنیا بھر سے ووٹنگ کے ذریعے بہترین پرندے کا انتخاب کیا جاتا ہے پرندوں کے مقابلے کے لیے ووٹنگ اتوار کی رات کو بند ہوئی فوریسٹ اینڈ برڈ کی لسی فینکر ہیتھر نے ریڈیو نیوزی لینڈ سے پیر کو بات کرتے ہوئے مقابلے کی جیت کا اعلان کیا۔

    58 ہزار ووٹ موصول ہونے کے بعد ادارے کا کہنا تھا کہ اس بار مقابلے میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے جس میں نایاب چمگادڑ کو 3000 ووٹوں سے برتری حاصل ہوئی۔

    ‘پیکا پیکا توُ روا’ نامی چمگادڑ نیوزی لینڈ میں پائے جانے والے چمگادڑوں کی دو اقسام میں سے ایک ہیں ان کا سائز انگوٹھے جتنا ہوتا ہے جب کہ پیدائش کے وقت ان کا سائز شہد کی مکھی جتنا ہوتا ہے چمگادڑ نیوزی لینڈ کا واحد آبائی زمینی ممالیہ ہے اور اسے قومی سطح پر اہم سمجھا جاتا ہے۔

    چمگادڑ کو پرندوں کے مقابلے میں جگہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ چمگادڑ کو اسی طرح کے خطرات ہیں جو دیگر قومی پرندوں کو ہیں تو اس طرح لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان چمگادڑوں کی نسل کو چوہے، پوسمز، سٹوٹس اور بلیوں سے خطرہ ہے، جو ان کی آبادی کو ہر سال پانچ فیصد سے کم کر رہے ہیں اس مقابلے میں دوسرے نمبر پر دنیا کے واحد رات بھر جاگنے اور نہ اُڑنے والے طوطے، کاکاپو، کا نام آیا ہے-

  • قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی شرٹوں کے نمبرز میں چُھپے دلچسپ رازوں سے پردہ اٹھ گیا

    قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی شرٹوں کے نمبرز میں چُھپے دلچسپ رازوں سے پردہ اٹھ گیا

    قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی شرٹوں کے نمبرز میں کیا راز چھپا ہوسکتا ہے؟ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں تمام کھلاڑیوں نے اپنی شرٹوں کے نمبروں کے پیچھے چھپے راز بیان کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ میرا نمبر 56 ہے سب کو پتہ ہے اور اس میں راز ایسا کچھ نہیں ہے انہیں سب سے پہلے 33 نمبر ملا تھا پھر انہیں 56 نمبر کی آپشن دی گئی تو انہوں نے 56 رکھ لیا جو کہ اب انہیں اچھا لگتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ پہلے اتنا اہم نہیں تھا ان کے لئے نمبر لیکن اب یہ ان کی کرکٹ کے سفر کا حصہ بن گیا ہے کوشش کرتا ہوں کہ اس نمبر کی ویلیو برقرار رکھوں اور اس نمبر کو اپنا فخر محسوس کرتے ہیں اب وہ اسی نمبر کیساتھ ایک برانڈ بھی لانچ کرنے جارہے ہیں۔

    وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کے مطابق ان کی شرٹ کا نمبر 16 اس لیے ہے کیونکہ انہوں نے لیدر بال سے اپنی پہلی اننگز میں 16 رنز سکور کیے تھے۔ان کیلئے 16 نمبر خوش قسمت ہے۔چھ کا ہندسہ ان کی اور ان کی اہلیہ کی سالگرہ کی تاریخوں میں بھی آتا ہے،جبکہ ایک اور چھ کا ہندسہ ان کی دونوں بیٹیوں کی سالگرہ کی تاریخوں میں آتا ہے۔

    شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا پہلے ان کی شرٹ کا نمبر 40 تھا مگر وہ 10 نمبر شرٹ لینا چاہتے تھے کیونکہ شاہد آفریدی کی شرٹ کا یہ نمبر تھا اور ان کو دیکھ کر انہوں نے کرکٹ شروع کی تھی وہ ان کے پسندیدہ کھلاڑی ہیں اس نمبر کے لئے انہوں نے 2018 میں پی سی بی سے اس نمبر کے لئے درخواست بھی کی تھی لیکن اس وقت لالہ نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ نہیں لی تھی تاہم بعد میں انہیں شاہد آفریدی نے اجازت دی جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ جب وہ اس نمبر کی شرٹ پہنے گراؤنڈ میں ہوتے ہیں تو فخر محسوس کرتے ہیں کیونکہ اس نمبر کو لالہ پہنتے تھے فخر زمان نے بتایا کہ ان کی شرٹ کا نمبر پہلے کوئی اور تھا ،نیوی میں ان کے کمرے کا نمبر 39 تھا اس لیے انہوں نے اپنی شرٹ کے لیے 39 نمبر منتخب کیا۔

    شاداب خان کا کہنا تھا پہلے ان کا نمبر 29 تھا بعد میں انہوں نے سات نمبر سلیکٹ کیا کیونکہ 7 نمبر انہیں شروع سے پسند تھا شعیب ملک کے مطابق ان کی شرٹ کا نمبر 18 ہے،شروع سے انہیں یہی نمبر ملا،درمیان میں کچھ اور نمبر زبھی ملے مگر اب ان کی شرٹ کا نمبر 18 ہے اور اس کے پیچھے کوئی خاص کہانی نہیں ہے-

    آصف علی نے بتایا کہ ان کا شرٹ نمبر 45 ہے جس کے پیچھے کوئی کہانی نہیں، پی سی بی نے دیا تھا اب اس کے ساتھ ایک تعلق بن گیا ہے۔ آٹوگراف کے پیچھے 45 ضرور لکھتا ہوں۔

    فاسٹ بولر حارث رؤف نے بتایا کہ پی سی بی نے انہیں 97 نمبر دیا ہے لیکن انہوں نے 150 نمبر کی درخواست کی تھی کیوں کہ ان کی کوشش ہوتی ہے 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائیں۔

  • نقصان سےمحفوظ رہتے ہوئے ایٹمی تابکاری کے پرامن استعمال سے کیسے مستفید ہوں؟پاکستان نے دنیا کو آگاہ کر دیا

    نقصان سےمحفوظ رہتے ہوئے ایٹمی تابکاری کے پرامن استعمال سے کیسے مستفید ہوں؟پاکستان نے دنیا کو آگاہ کر دیا

    ویانا:پاکستان نے ریڈیو ایکٹیو ویسٹ مینجمنٹ کے انتظام کے شعبے میں حفاظت اور حفاظتی معیار کے بارے میں اپنی کامیابی کو اجاگر کیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان نے ریڈیو ایکٹیو ویسٹ مینجمنٹ پر بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا جو آج ویانا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے ہیڈ کوارٹر میں شروع ہوئی۔

    اقوام متحدہ کے اداروں میں پاکستان کے مستقل نمائندے ویانا کے سفیر آفتاب احمد کھوکھر نے تقریب سے افتتاحی کلمات کہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو ایکٹیو ویسٹ کا محفوظ انتظام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ ہمارے معاشرے اس کے نقصان دہ پہلوؤں سے محفوظ رہتے ہوئے ایٹمی تابکاری کے پرامن استعمال سے مستفید ہوتے رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال میں متاثر کن پیش رفت کی ہے اور جوہری اور تابکاری کے تحفظ کے اعلیٰ ترین معیارات پر پوری طرح عمل پیرا ہے۔

    محمد نعیم، چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC)، جو IAEA کانفرنس کے شریک چیئرمین ہیں، نے کہا کہ پاکستان کے پاس ریڈیو ایکٹیو ویسٹ کے مربوط نظام پر عمل کرنے کا 50 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے اور اسے ٹھکانے لگانے کے مستقل حل کی طرف پیش رفت کر رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا ریڈیو ایکٹیو ویسٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر پاکستان کے پائیدار قومی جوہری توانائی پروگرام کے مستقبل کے منصوبوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔

    PAEC اور IAEA کے ماہرین کی پریزنٹیشنز نے IAEA اور پاکستان کے درمیان تکنیکی تعاون کے پروگرام کے فریم ورک کے اندرریڈیو ایکٹیو ویسٹ کے انتظام میں پاکستان کی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ کانفرنس میں سائنسی ماہرین، IAEA کے حکام اور بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی جنہوں نے پریزینٹرز کے ساتھ ایک باہمی تبادلہ خیال کیا۔

    ہفتہ بھر جاری رہنے والی IAEA کانفرنس کا مقصد جوہری ایپلی کیشنز کے پرامن استعمال سے پیدا ہونے والے ریڈیو ایکٹیو ویسٹ کے انتظام میں معلومات کے تبادلے اور بہترین طریقوں کو فروغ دینا ہے۔ کانفرنس میں پاکستان کے متعدد ماہرین اور سائنس دان شرکت کر رہے ہیں اور سائنسی مقالے پیش کریں گے۔

  • سائبر حملہ :نیشنل بینک کے  صارفین کا ڈیٹا ہیک ہونے کے شواہد نہیں ملے      ایف آئی اے حکام

    سائبر حملہ :نیشنل بینک کے صارفین کا ڈیٹا ہیک ہونے کے شواہد نہیں ملے ایف آئی اے حکام

    ایف آئی اے حکام نے کہا ہے کہ نیشنل بینک پر سائبر حملے کے دوران صارفین کا ڈیٹا ہیک ہونے کے شواہد نہیں ملے-

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز سائبر حملے کے بعد نیشنل بینک کی ملک بھر میں خدمات روک دی گئیں تھیں صدر نیشنل بینک عارف عثمانی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہیکرز نے کل رات کو حملہ کیا تھا اور ہیکرز نے نیشنل بینک کے مائیکرو سافٹ والے سسٹم کو ہیک کر لیا ہیکرز نیشنل بینک کے مین سرور میں گھسنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور نیشنل بینک کے تمام کمپیوٹر نظام کو ماہرین ڈس انفیکٹ کر رہے ہیں۔

    سائبرحملہ:نیشنل بینک کی ملک بھر میں خدمات روک دی گئیں

    عارف عثمانی نے کہا تھا کہ اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، این بی پی اور نجی کمپنیز کے آئی ٹی ماہرین نظام بحال کر رہے ہیں اور وہ گزشتہ رات سے مسلسل کام کر رہے ہیں امید ہے پیر تک کامیاب ہوجائیں گے اگر پیر تک کامیابی نہ ملی تو آئسولیٹ کر کے سسٹم اور بینک سروسز جاری رکھیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ماہر نے کہا کہ نیشنل بینک پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) جیسا سائبر اٹیک ہوا ہے۔

    بعد ازاں ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم عمران ریاض نے آج یعنی پیر کی سہ پہر اپنی ٹیم کے ہمراہ نیشنل بینک ہیڈ آفس کا دورہ کیا اس دوران نیشنل بینک اور ایف آئی اے سائبر کرائم کے افسران کے مابین میٹنگ ہوئی۔

    یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران ریاض کا کہنا تھا کہ نیشنل بینک کے سرور پر ہفتہ واری تعطیلات کے دوران حملہ ہوا، نیشنل بینک کی انٹرنل ٹیم کی جانب سے بروقت اقدامات کی وجہ سے ہیکرز اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکے بینک کی تمام سروسز کام کررہی ہیں، ڈیٹاچوری ہونے سے متعلق اطلاعات غلط ہیں، کس ملک سے حملہ ہوا؟ اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں، ایف آئی اے سائبر کرائم کی فرانزک ایکسپرٹس بینک کا ساتھ دے گی، کسی کسٹمر کا ڈیٹا لیک نہیں ہوا، لوگ آج بھی اے ٹی ایم کا استعمال کر رہے ہیں۔

    عمران ریاض کے مطابق مالیاتی فراڈ اس وقت بہت بڑھ گیا ہے، عوام سے زیادہ تر کالز پر ہیکرز معلومات مانگتے ہیں، عوام کسی قسم کی انفارمیشن کا تبادلہ نہ کریں۔

  • پاکستانی کرکٹ ٹیم کو منیجمنٹ کی قدم زمین پر رکھنے کی ہدایت تحریر محمد طلحہ سلیم

    دبئی: بڑے حریفوں کو شکست دینے کے بعد ٹیم مینجمنٹ پاکستانی کرکٹرز کو قدم زمین پر ہی رکھنے کی ہدایت دینے لگی جب کہ چھوٹی ٹیموں کو تر نوالہ سمجھنے کی غلطی سے بچنے کی تلقین کر دی گئی۔

    بھارت اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے والی پاکستانی ٹیم کا اب اپنے گروپ میں نسبتاً آسان حریفوں افغانستان، نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ سے مقابلہ ہونا ہے،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ٹیم آسانی سے فتوحات حاصل کر کے سیمی فائنل میں رسائی کر لے گی، البتہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کو آسان تصور نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر افغانستان سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے، اس سے مقابلہ جمعے کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا۔

    پاکستانی ٹیم مینجمنٹ بھی اس خطرے سے آگاہ ہے، اس لیے پلیئرز کو بار بار یہی تلقین کی جا رہی ہے کہ سہل پسندی کا شکار نہیں ہونا، اپنے کھیل پر مکمل توجہ رکھتے ہوئے پہلی منزل فائنل فور میں رسائی پانا ہے،اس کے بعد فائنل اور ٹرافی پر نگاہیں مرکوز رکھنی ہیں۔

    گزشتہ روز ٹیم کے 6 کھلاڑیوں نے آئی سی سی اکیڈمی گراؤنڈ پر شام 6 سے رات 8 بجے تک ثقلین مشتاق کی زیرنگرانی ٹریننگ کی،ان میں سرفراز احمد، محمد نواز، وسیم جونیئر ،خوشدل شاہ،حیدر علی اور عثمان قادر شامل تھے، نیوزی لینڈ سے میچ میں حصہ لینے والے پلیئرز نے آرام کیا،یہ تمام اب جمعرات کو شام 6 سے 9 بجے تک آئی سی سی اکیڈمی میں ٹریننگ کریں گے۔

    ثقلین کی ورچوئل میڈیا کانفرنس دوپہر 12 بجے طے ہے، گالف کے شوقین محمد حفیظ بدھ کو کپتان بابر اعظم اور بولنگ کوچ ورنون فلینڈر کو بھی اپنے ساتھ کھیلنے کے لیے لے گئے،وہاں ان سب نے اچھا وقت گذارا۔

    افغانستان سے میچ کے حوالے سے ٹیم مینجمنٹ کا خیال ہے کہ اچھا مومینٹم بن چکا لہٰذا فی الحال کسی کھلاڑی کو آرام دینے کی ضرورت نہیں، البتہ آخری 2 میچز میں اگر ضرورت پڑی تو شاید کوئی تبدیلی کر لی جائے،جمعے کے روز فاتح دستے کو ہی میدان میں اتارنے کا امکان ہے، حریف ٹیم کے پاس مجیب الرحمان اور راشد خان جیسے معیاری اسپنرز اورکئی پاور ہٹرز موجود ہیں اس لیے پاکستان کوئی خطرہ مول نہیں لے گا۔

    نیوزی لینڈ سے میچ کے بعد قومی ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن نے کھلاڑیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیٹنگ کے لیے مشکل کنڈیشنز میں کھلاڑیوں نے ذمہ داری لی، محمد حفیظ نے اچھی بولنگ کی، ایک عمدہ کیچ لیا اور بیٹنگ میں پہلی ہی گیند پر چھکے سے عزائم ظاہر کیے،دیگر نے بھی فتح میں اپنا حصہ ڈالا،فخر زمان کی فیلڈنگ بہت اچھی رہی،مجموعی طور پر یہ ٹیم کی بہت زبردست کارکردگی تھی۔

    یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اب تک صرف ایک ہی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا گیا ہے،2013میں شارجہ میں منعقدہ مقابلہ گرین شرٹس نے ایک گیند قبل 6 وکٹ سے جیتا تھا،کپتان محمد حفیظ نے ناقابل شکست 42 رنز بنائے تھے، اس اسکواڈ کے جاری ورلڈکپ کھیلنے والے وہ واحد کھلاڑی ہیں،پاکستان کی افغانستان سے گذشتہ ماہ سیریز بھی ہونا تھی لیکن طالبان کی حکومت آنے کے بعد انعقاد نہیں ہو سکا، ورلڈکپ میں افغان ٹیم براہ راست سپر 12 راؤنڈ سے شریک ہوئی ہے۔

    اب تک اپنے واحد میچ میں اس نے اسکاٹ لینڈ کو 130 رنز کے بڑے مارجن سے ہرایا، شارجہ کی پچ پر زیادہ رنز نہیں بن رہے تھے مگر افغانستان نے 4 وکٹ پر 192 رنز بنا لیے،مجیب اللہ زدران نے نصف سنچری بنائی، پاور ہٹرز نے 11 چھکے لگائے، بعد میں اسپنرز مجیب  نے 5 جبکہ راشد خان نے 4 وکٹیں لے کر حریف ٹیم کو 60 رنز پر ٹھکانے لگا دیا۔

    پاکستان سے میچ دبئی میں ہوگا جہاں کی پچ افغان ہوم گراؤنڈ شارجہ جیسی اسپن فرینڈلی نہیں ہے،اس لیے ٹیم کو سخت چیلنج کا سامنا ہوگا، البتہ سابق جنوبی افریقی کرکٹر لانس کلوسنر کی کوچنگ میں اسے تر نوالہ نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔

     

  • الفاظ تحریر: علیزہ شاہ

    ہم الفاظ کی دنیا میں رہتے ہیں۔ الفاظ بے مقصد نہیں ہوتے ان میں تو ایک پوری زندگی اور روح ہوتی ہیں۔ الفاظ وہ ہیں جو ہمیں ہمت دیں یا ہمیں توڑ ڈالیں۔ الفاظ وہ ہیں جنہیں استعمال کر کے ہم کسی کے دل میں اپنے لئے محبت پیدا کر سکتے ہیں یا کسی کو اپنے خلاف کر سکتے ہیں۔ الفاظ وہ ہیں جس سے ہم کسی کے زخموں پر مرہم بھی لگا سکتے ہیں یا کسی کے زخموں کو ناسور بنا سکتے ہیں۔ الفاظ میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔
    الفاظ تو وہ ہیں جس کی بنیاد پر اللہ تبارک و تعالی نے انسانوں کو تمام مخلوقات سے ممتاز بنایا ہے۔ الفاظ کی طاقت سے ہی تو یہ دنیا قائم ہے۔ اللہ تبارک و تعالی کے الفاظ سے قرآن بنا، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے حدیث بنے، بزرگانِ دین کے الفاظ ملفوظات بنے، داناؤں کے الفاظ اقوال بنے۔ الفاظ ہی تو انسان کی خوبصورتی ہے۔ یہ الفاظ جتنی خوبصورتی سے ادا ہونگے انسان اتنا ہی خوبصورت اور نکھرتا رہے گا۔
    ہم بچپن سے ہی الفاظ سنتے اور سیکھتے ہیں۔ جس سے ہمارا کردار اور شخصیت بنتی ہے۔ یہی الفاظ ہی انسان کو اچھے یا برے بناتے ہیں، پسندیدہ اور نا پسندیدہ بناتے ہیں۔ الفاظ سے انسان کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔ ہم کسی انسان کے الفاظ سے ہی یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس گروہ، کس ثقافت یا کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔
    لاکھوں الفاظ رسالوں میں، کتابوں میں، اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں جس سے ایک معاشرے کا پتہ چلتا ہے۔ جس سے ایک معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی سوچ اور انکے خیالات کا پتہ چلتا ہے کیونکہ الفاظ ہی ہماری سوچ اور شخصیت کے ترجمان ہوتے ہیں۔
    الفاظ سے ہی ہمارے اچھے یا تلخ یادگار بنتے ہیں۔ لیکن آج کل اچھے الفاظ ناپید ہو چکے ہیں۔ برے اور تلخ الفاط عام ہو چکے ہیں۔ جس سے ہمارے معاشرے پر ہمارے موجودہ نسل پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ اور ہماری آنے والے نسلوں کے لئے ایک تلخ ماضی بن رہا ہے۔ ہم اپنا مقصدِ حیات بھول چکے ہیں۔ انہیں الفاظ کی وجہ سے ہم اپنے عزیز و اقارب کو خود سے دور کرتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے منفی خیالات کی دنیا میں اتنے گم ہو چکے ہیں کہ اپنے الفاظ کی ادائیگی سے ہم لوگوں کو جتنی تکلیف دے رہے ہیں اس کو دیکھ ہی نہیں پا رہے۔
    آج کل ہر دوسرا بندہ پریشان اور زندگی سے مایوس نظر آتا ہے۔ اگر ہم اپنے الفاظ کو خوبصورتی سے استعمال کریں تو اس سے ہم کسی مایوس اور شکست خردہ انسان کو نئی زندگی کے نئے راستے اور خوشحالی کے راستے دکھا سکتے ہیں۔ اگر ہم کسی کو اچھا مشورہ یا اچھی بات نہیں کہہ سکتے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم برا بھی نہ کہے اور بس چپ رہے۔ کیونکہ ہمارے برے الفاظ کی وجہ سے ایک مایوس انسان مزید مایوس اور پریشان ہو سکتا ہے۔
    برائے مہربانی اچھی باتیں کہے، اچھی باتیں پھیلائیں۔ منفی خیالات اور منفی رویوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے الفاظ اور دل میں نرمی پیدا کریں اور معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    شکریہ

  • شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر  تحریر :ساجد علی

    شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر تحریر :ساجد علی

    شہید بے نظیر بھٹو کسی بھی اسلامی ملک کی پہلی ہیڈ آف اسٹیٹ ہیں ان کی کہانی شہید ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوتی ہے شہید الفقار علی بھٹو جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں یہ پاکستان کے پہلے الیكٹڈ وزیراعظم ہیں بھٹو صاحب ایک زبردست سیاست دان تھے 

    جب بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو اس وقت بھٹو صاحب کے بیٹے مرتضی بھٹو ضیاء حکومت کے خلاف ایک تحریک بھی چلا رہے تھے 

    اس تحریک کا نام تھا "الذوالفقار”

    مرتضی بھٹو سیاست میں بہت مشہور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ان کی بہن بے نظیر بھٹو کو ضیاء حکومت نے نظر بند کر رکھا تھا جس کی وجہ سے سیاست میں وہ بھی بہت مشہور ہو رہی تھی آخر کار 1984 میں جب بے نظیر کو رہائی ملی تو ملک سے باہر باہر چلی گئیں اپنے والد کی طرح بے نظیر دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں گریجویٹ کر چکی تھی جس میں "ہاؤورڈ اور آکسفورڈ” یونیورسٹیز شامل ہیں ۔

    پاکستان سے باہر رہ کر بھی بے نظیر کافی مشہور ہو چکی تھی 

    1986 میں جب بے نظیر وطن واپس آئیں تو لاہور میں ان کا زبردست استقبال کیا گیا جس کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہے 

    اور استقبال کے بعد واضح ہو گیا کہ پاکستان کی اگلی وزیر اعظم بے نظیر ہی ہوگی اور بالکل ایسا ہی ہوا 1988 میں جب ضیاء الحق کا طیارہ تباہ ہوا تو اس کے بعد ہونے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ۔

    پاکستان دنیا کے پہلے ممالک میں سے ہے جنہوں نے ایک فیمیل ہیڈ آف اسٹیٹ سلیکٹ کی ہے جبکہ امریکا آج تک ایسا نہیں کر سکا 

    الیکشن سے پہلے بے نظیر کو مشورہ دیا گیا کہ آپ شادی کر لیں 

    ایک نوجوان لڑکی کی بجائے ایک شادی شدہ عورت زیادہ بردبار ذہین اور عوام سے جڑی ہوئی لگے گی اور بے نظیر اس مشورے کو مان گئی ۔

    اور بے نظیر نے فیصلہ کیا کہ وہ ارینج میرج کریں گے جس کے بعد ان کی والدہ نے اس کی شادی حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے کروائیں اور یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی جس میں دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔

     بے نظیر بھٹو وزیراعظم تو بن گئی لیکن پنجاب میں ان کی حکومت نہیں آئی اور بیوروکیسی کی بھی پیپلزپارٹی کو کوئی خاص سپورٹ نہیں تھی کیونکہ ضیاء دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کی پاکیات کو چن چن کر ختم کیا گیا تھا ۔

    اس لیے بے نظیر بھٹو کا پہلا دور تو حالات سنبھالتے سنبھالتے ہی نکل گیا کیونکے پنجاب کے وزیر اعلی نواز شریف نے بے نظیر کی ناک میں دم کر رکھا تھا اور جب سارے ہیں آپ کے پیچھے پڑ جائے تو حکومت کیا چلے گی اور بینظیر بھٹو کی حکومت تقریبا 20 ماہ کے بعد ختم ہوگئی 

    اور اسی طرح 1993 میں بینظیر بھٹو ایک بار پھر الیکشن جیت گئی اور اس بار وہ بہت میچور ہو گئی تھی اور اس بار وہ حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھی اسی دور میں بے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔ 

    آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ بے نظیر کے تین سالہ حکومت کے بعد بے نظیر کے اپنے ہی لگائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت توڑ دی 

    اور اگلی بار الیکشن میں شکست ہونے پر بے نظیر بھٹو صاحبہ ملک سے باہر چلی گئی ۔

    1999 میں مشرف نے ملک پر مارشل لاء لگا دیا تو 2000 میں نواز شریف بھی ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔

    اور مشرف سکون سے حکومت کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہی بنائی ہوئی مسلم لیگ ق سے تنگ آنے لگے  

    اور 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر نے ملک میں واپسی قدم رکھا اور بے نظیر کا بھرپور استقبال کیا گیا لیکن استقبال کے ساتھ ساتھ ایک بم دھماکا بھی ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے 

    اور شہدائے کارساز کے دھماکے کے بعد بھی ان کا حوصلہ بہت بلند تھا اور اس دھماکے سے صرف دو ماہ بعد 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر کا لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ تھا اور یہ وہی جگہ تھی جہاں پر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک افغان شہری نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اسی مقام پر محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ جب جلسہ ختم کرکے واپس جا رہی تھی تو اپنے کارکنوں کو داد دینے کے لیے وہ اپنی گاڑی سے باہر نکل کر کارکنوں کو ہاتھ ہلا کر داد دینے لگی اس کے بعد ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور پھر بم دھماکا ہوا اس طرح کچھ ظالموں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کر دیا ۔ 

    ہم سب کو وہ دن یاد ہے وہ وقت یاد ہے جب ان کو شہید کیا گیا خاص طور پر وہ لوگ جو بے نظیر صاحبہ کے ساتھ جلسے میں تھے پیپلز پارٹی کے تمام کارکن سڑکوں پر نکل آئے تھے اور حالات تمام خراب ہونے لگے تھے مگر پیپلز پارٹی کے لیڈر نے بات بگڑنے نہیں دی اور اپنےکارکنوں کو حوصلہ دیا 

    یہ بات تو سچ ہے بے نظیر ایک مضبوط لیڈر تھیں ان کو بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی اور ان کو کئی بار جیل کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی وہ ڈٹی رہی اور اپنے ملک کے لیے لڑتی رہی ایک باہمت اور ثابت قدم خاتون تھیں 

    دعا ہے اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

        

  • عزت نفس تحریر ۔محمد نسیم

    عزت نفس تحریر ۔محمد نسیم

    قارئین عزت نفس دُنیا کی سب سے مہنگی چیز ہوتی ہے یہ عزت نفس انسان کی پہچان ہوتی ہے اور یہ ہی کسی شخص کی زندگی کا نچوڑ بھی  ہوتی ہے
    عزت نفس انسان کی ہو یا ملکوں کی یہ ہی قوموں کا وقار ہوتی ہے اور یہ ایسا گراں قدر ہیرا ہے جو ایک بار کھو جائے تو پھر نایاب ہی میسر آتا ہے
    پچھلے دنوں ایسے ہی واقعات ملک پاکستان میں رونما ہوئے اُن میں سے ایک پر آج لکھنے کا موقع ملا آپ کی نظر سے بھی شاید وہ واقع گزرا ہو یا آپ نے بھی اس پر آواز اُٹھائی ہو وہ واقعہ ہمارے قومی ہیرو جو کہ ایک کرکٹر ہیں شعیب اختر کے ساتھ پیش آیا قومی ٹی وی چینل پر لائیو بیٹھ کر ایک ہوسٹ انٹرنیشنل تجزیہ نگار اور سابقہ کرکٹرز کے سامنے آپے سے باہر ہوگیا اور قومی ہیرو شعیب اختر کی عزت نفس اور دُنیا میں انکی شہرت و حثیت کا خیال کئیے بغیر انکو لائیو شو سے جانے کا کہہ دیا قومی ہیرو شعیب اختر نے قومی وقار کا خیال رکھتے ہوئے بات کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ہوسٹ کو معذرت کرنے کا کہا لیکن یہ میزبان شاید صحافت کی تعلیم لئیے بغیر ہوسٹ بنے تھے لہذا ڈھٹائی سے اپنی کم ظرفی پر قائم رہے اور بالاخر  شعیب اختر کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ اپنی عزت نفس بھریائی کے لئیے انتہائی قدم اُٹھائیں
    قصہ مختصر شعیب اختر نے لائیو شو سے استعفٰی دے کر جانے کا فیصلہ کیا اور اس بے حس میزبان کو مزید برداشت نا کیا شعیب اختر کا قصور کیا تھا اس نے حارث رؤف کی تعریف کے ساتھ ساتھ لاہور قلندر کے ڈویلپمنٹ پروگرام کی تعریف کردی تھی
    کیا یہ ملک دشمن تھے ؟
    چینل قومی ،حارث رؤف قومی لاہور قلندر قومی
    پھر میزبان کو کیوں ناگوار گزرا کیا قومی میزبان ایسی حرکت کرسکتا ہے ؟
    میزبان وہ جو مہمان کی ناگوار بات یا اختلاف کو اس لئیے برداشت کرے کہ یہ شخص میرا مہمان ہے اسکی عزت میری عزت ہے
    قارئیں اس کے برعکس شعیب اختر  ایسا قوم کا ہیرو ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت جہاں لاتعداد چینلز شعیب اختر کو مدعو کرتے ہیں شعیب اختر نے کبھی بھی پاکستان کے عزت نفس پر سمجھوتہ نہیں کیا وہ جس سپیڈ سے باؤلنگ کرتے ہیں اس سے ڈبل سپیڈ میں وہاں میزبان اور وہاں کی جنتا کو تگنی کا ناچ نچاتے ہیں وہاں شعیب اختر پاکستانی پرچم پر کبھی آنچ نہیں آنے دیتا وہاں شعیب اختر نہیں وہاں کے میزبان پروگرام چھوڑ کر بھاگتے ہیں کیونکہ شعیب اختر کے باؤنس وہ برداشت نہیں کرپاتے اور بھاگنے میں ہی عافیت جانتے ہیں
    حالیہ ورلڈ کپ T20کے دوران پاکستان پلئرز کی کارکردگی کا بھارتی چینلز پر خوب چرچا ہورہا ہے مگر وہاں کسی بھی میزبان نے کسی مہمان کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالا کہ تم نے پاکستانی پلئرز کی تعریف کیوں کی تمھیں اس پروگرام سے نکل جانا چاہئیے
    خیر قارئین اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر جب معاملہ نکلا تو واقعہ کی ویڈیو وائرل ہوگئی اور صارفین میں غم وغصہ کی لہر دیکھنے کو ملی اس غم و غصے کو دیکھتے ہوئے قومی ٹی وی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی نوٹس لیا اور قومی ہیرو کے ساتھ ہونے والے واقعےطکی مذمت کی اور قومی ہیرو کے ساتھ کھڑے ہوگئے
    اور ٹی وی انتظامیہ نے میزبان کو آف ائیر کردیا
    یہاں واضح رہے کہ اس واقعہ کے بعد تمام نجی ٹی وی چینلز نے قومی ہیرو شعیب اختر کی حمایت کرتے ہوئے تمام ذمہ داری ہوسٹ پر ڈال دی
    ظاہر ہے میزبان اور مہمان میں اکثر اختلاف رائے ہوجاتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میزبان مہمان کو پروگرام سے نکل جانے کا کہہ دے
    الغرض پورےملک کے تمام میزبانوں ،مہمانوں تمام سُپر سٹارز،قومی ہیروز،کرکٹرز،سیاستدانوں ،گلوکاروں ،ایکٹرز نے قومی ہیرو سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ایسے میزبان پر قومی چینل پر تاحیات پابندی لگائی جائے
    آخر پر قومی ہیرو کے ساتھ آنے والے اس واقعہ پر قوم کی جانب سے معذرت کا طلبگار  آپ ہمارے ہیرو ہیں

  • بالا خانے کی ڈومنی ،از۔ م۔م۔مغلؔ

    بالا خانے کی ڈومنی ،از۔ م۔م۔مغلؔ

    بالا خانے کی ڈومنی ،از۔ م۔م۔مغلؔ

    تقسیم ابھی نہیں ہوئی تھی… ٹین کے کنستروں کی کھڑکھڑاہٹ اور موتیے کی خوشبو اولین حیض سے اٹھنے والی بُو سے یُدھ میں مصروف تھی… طبلے کی تھاپ اور سارنگی کی سنگت میں بستر کی سلٹوں میں گم ہوتا چرمُرایا ہوا گجرا اور تکیہ پر پھیلا کجلا ایک نئے کمہلائے ہوئے وجود کے ہمکنے کا منتظر تھا…

    تقسیم کے بعد کوٹھے اور بالاخانوں کی تقسیم سے طبلے اور سارنگی کے وارثوں میں بدلے کی آگ نے جنم لیا… بالاخانے کے شودر لمس سے کسبِ لذت جاری رہا اسی دوران جنمے اس منحنی وجود نے جوبن پایا تو عنفوانِ شباب کی دہلیز پر پہلے رقص میں قسم کھائی کہ اجڑے بالاخانوں کو گھنگھروں کی لڑیوں میں پرو کر یکجا کر دکھائے گی تاکہ کسی طور طوائف الملوکی کی نشاۃ الثانیہ ہو سکے…

    شودروں اور پانڈوؤں کی ریڑھ کی ہڈی کے تیسرے مہرے سے وجود پانے والی برہمن سپتری تاحال بدلے کی آگ میں جل رہی ہے… آوازے لگانے والوں دلالوں طبلچیوں سازندوں نے ماحول بنا رکھا ہے… برہمن سپتری نے کوٹھوں کے مکینوں اور کوٹھیوں کے پترکاروں میں اپنا اثر رسوخ ایسا بنا لیا ہے کہ وہ تاحال بوڑھی نائکہ کی بجائے ناکتخدا کہلاتی اور کسی نوخیز ہرن کی طرح قلانچیں بھرتی پھرتی ہے…

    کوٹھے اجڑ جانے کے بعد روزگارِ روز و شب کا مرحلہ درپیش آیا تو ننھی کلی کے باپ نے اجڑے بالاخانوں کے مضافات میں لوہا کوٹنے کا کام شروع کیا اور مردِ آہن کہلایا… یوں زندگی کا پہیہ چلتا رہا کسی فلم کے پردے پر چلنے والی متحرک تصاویر کی طرح کم سنی کب جوانی کی دہلیز پر گمراہ ہونے پہنچ گئی اس بات سے بے خبر لوہا کوٹنے والا شودر اب لوہے کو پگھلانے والوں کی مِل میں برہمن کے منصب کو پہنچ چکا تھا…

    مشقت کے ان لمحوں میں بے قاعدہ حیض سے مانگ بھری کی گود بھرائی بھی کسی ایسے ثانیے میں ہوئی جب ٹین کباڑ کی ہلکورے کھاتی سواری… بالا خانوں کی مسہریوں کو کوسنے دینے میں مصروف تھی… وقت کروٹیں لیتا رہا کوٹھوں کے مکین اب کوٹھیاں تج کر محلات میں سازشی نسلیں پیدا کرنے میں مصروف ہوگئے… ماضی کی طرف جھانکھیں تو قدیم بالاخانوں میں نوابوں اور سستے تماش بینوں کو دادِ عیش دیتے لمحوں میں بٹوے پوٹلیاں اور کرتے کی جیبیں محفوظ تصور کی جاتی تھیں…

    مگر اس برہمن سپتری کو وہ ملکہ حاصل ہے کہ جنبشِ انگشت سے بالاخانوں کی تہذیب ہی بدل ڈالی… اب یہ جب چاہتی ہے نوابین معالجین معاونین مداخلین مصاحبین فولادین معادلین اور تماش بین قماش بینوں کے پوشیدہ لمحات کو اپنے تلذذ کی خاطر محفوظ کرتی پھرتی ہے… شنید ہے کہ لذت کے مناظر کے ذخیرہ کے سامنے عمروعیار کی زنبیل بھی دست بستہ ایک جانب ہو رہتی ہے…

    لوہا پگھلانے والوں اور لوہا ڈھالنے والوں کی مخبریاں کرتے کرتے ایک دن بوڑھے لوہا کوٹنے والا اپنے ہی مالکوں کو غچہ دے کر فرار ہو چکا تھا… سنا ہے عادت سر کے ساتھ جاتی ہے… ادھر برہمن سپتری بدلے کی آگ میں تپ کر کندن ہوچلی تھی اور لوہا کوٹنے والے تازہ تازہ برہمن کو راستے سے ہٹا کر طاقت کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کو پر تولنے لگی… بوڑھا لوہا کوٹنے والا اپنی سپتری کے خوابوں کے سامنے ہار مان گیا اور خون تھوکنے کا بہانہ کر کے پرانے تماش بینوں اور نوابین کی سر زمین کو رخصت ہوگیا…

    بالاخانوں کے قدیم اساطیری حوالوں پر اعتبار کیا جائے تو یہ برہمن سپتری ڈومنی کہلانے میں حق بہ جانب ہے… بالاخانوں کی سسکیاں جمع کرتی ڈومنی کے منھ کو تو جیسے خون لگ چکا تھا… دلالوں کنیزوں کی فوجِ مظفر موج جمع کرنے میں کتنی ہی بیسوائیں اور نرتکیاں اس کے قریب آنے لگیں… کچھ جمع جوڑ رودالیاں بھی کورس میں بین کرنے کی مشقوں میں مبتلا ہوگئیں…

    جہاں کچھ پترکاروں نے اسے بے پناہ طاقت کے حصول میں اپنی خدمات پیش کیں وہیں کچھ پترکاراؤں نے اپنے تھرکتے جسم بھی طوائف الملوکی کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے پیش کیے… یوں ڈومنی کو طاقت کا نشہ مسرور کرنے لگا کہ جب چاہے ملکی راز افشا کرے یا ملک کے اعلیٰ اداروں پر بول و براز کرتی پھرے… اسے یقین تھا کہ سارے ہی پنڈت جوگی داشتائیں اور کنیزیں اس کے فکری بول و براز کو متبرک جان کر چومتے چاٹتے نوش کرتے پھریں گے…

    رقص و سرور سے عیش کشید کرتے کرتے وقت گزرتا چلا گیا دن ہفتوں مہینوں اور برسوں میں سمٹتے گئے… تلبیس کاروں نے تلذذ کے ذخیرہ کو حواس پر طاری کرتے ہوئے ہمیشہ اس شودر برہمن ڈومنی کے سر پر ہاتھ رکھا… یوں مزید شہ پا کر اب یہ ڈومنی ملک کی نظریاتی جغرافیائی سرحدیں اپنے گھنگھروں سے پامال کرتی پھرتی ہے…

    سنتے ہیں… کوئی گرج دار آواز گونجے گی… اس برہمن سپتری ڈومنی اور اس کے ہمنوا طبلچیوں دلالوں پھیری بازوں گجرا فروشوں عصمت خروشوں کے حلقوم… خود ان ہی کی مکروہ ترین آوازوں کے قبرستان بنادیے جائیں گے… گھنگھرو ٹوٹ جائیں گے…

    @Mughazzal

  • خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    بھارت کی مصیبتوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کی سب سےبڑی وجہ مودی ہے ۔ بی جے پی کے کرتوں ہیں ۔ ان کے اقلیتوں کے خلاف اقدامات ہیں ۔ سکھوں اور خالصتان پر میں نے بہت سے وی لاگز کیے ہیں مگر آج وہ دن آ گیا ہے کہ اب سکھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مزید بھارت کے ساتھ نہیں رہا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں سکھوں کے علیحدہ وطن خالصتان کے قیام کیلئے لندن میں ریفرنڈم پر ووٹنگ ہوئی۔ مزے کی بات ہے کہ یہ ووٹنگ سرکاری عمارت کوئن ایلزبتھ دوئم میں ہوئی ۔ سرکاری عمارت کوئین ایلزبیتھ 2پر خالصتان کے جھنڈے بھی لگائے گئے ۔ اب لندن کے بعد برطانیہ کے دیگرشہروں میں بھی ووٹنگ ہوگی ۔

    سکھ رہنماؤں کا کہنا ہےکہ بھارتی دباؤ کے باوجود برطانوی حکومت نے ریفرنڈم کی اجازت دی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ سکھ رہنما پرم جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کی نگرانی غیر جانبدار کمیشن کر رہا ہے جبکہ سکھ رہنما پتوت سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت نے ریفرنڈم سے روکنے کیلئے مجھ پر جعلی مقدمات بنوائے۔ پھر سردار اوتار سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پنجاب پر قبضہ کر رکھا ہے اب سکھ اب اپنا آزاد وطن خالصتان بنا کر دم لیں گے۔۔ 50 ہزار سے زائد سکھوں نے اس ریفرنڈم میں حصہ لیا ہے ۔ یاد رکھیں یہ صرف لندن میں ہوئے ہیں ۔ برطانیہ کے باقی شہروں میں ابھی یہ ہونے ہیں ۔ تو ایک شہر کے حوالے سے اچھی خاصی تعداد ہے ۔ جس کے بعد اجیت ڈول اور مودی دونوں کے لیے یقیناً ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ آپ دیکھیں سکھوں کی آزادی کے سلسلے میں کینیڈا کی حکومت نرم رویہ رکھتی ہے۔ کینیڈا میں حالیہ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں جہاں justin treudu کو کامیابی نصیب ہوئی وہاں اس دفعہ سکھوں کی کافی تعداد کینیڈا کی قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی ہے۔ justin treudu کو اپنی حکومت بنانے کے لیے سکھوں سے مدد بھی لینا پڑی۔۔ ویسے justin treudu تو پہلے ہی سکھوں کے حق میں ہیں جس سے بھارتی حکومت ان سے سخت ناراض ہے مگر وہ بھارت کی پرواہ نہیں کرتے۔

    ۔ بھارت کے بعد برطانیہ ، کینڈا اور امریکہ میں سکھوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے اور یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جب آپریشن بلیو سٹار ہوا تھا تو یہ سکھ بھارت کو خیر آباد کہہ کر ان ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے ۔ پر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنی خالصتان تحریک کو مضبوط بھی کرتے آئے ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام بھی کرتے رہے ہیں ۔ چند روز پہلے خالصتان تحریک نے اپنا نقشہ بھی جاری کیا تھا ۔ اس کی بھی بھارت کو کافی مرچیں لگی تھیں ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں ۔۔ را ۔۔۔ کی سب سے بڑی موجودگی کینیڈا میں ہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بھارت کی سکھوں والی سٹیٹس نہ صرف پورے بھارت کے لئے غلہ پیدا کرتی ہیں بلکہ بھارتی فوج کیلئے سپاہیوں کی بھرتی کا سب سے بڑا مرکز بھی یہی اسٹیٹس ہیں۔۔ ان سٹیٹس کے ستر فیصد سے زائد نوجوان فوج کو جوائن کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس وقت سکھ انڈین آرمی کا پندرہ فیصد ہیں جبکہ مودی کا گجرات انڈین آرمی کو صرف دو فیصد جوان ہی دے پاتا ہے۔ یوں بھارت کی معیشت اور دفاع دونوں میں سکھ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ۔۔۔ را ۔۔۔ کو خالصتان کے حوالے سے بہت زیادہ سرگرم رہنا پڑتا ہے۔ پھر سینتیس برس پہلے آج کے دن بھارت بھر میں سکھوں کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی ہوئی تھی ۔ 31 اکتوبر 1984 کو انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ کے ہاتھوں قتل ہو گئیں۔ اس قتل کے فوراً بعد دہلی میں سکھ قوم کے خلاف جنونی ہندوؤں نے ایک قیامت برپا کر دی اور صرف تین دن کے اندر چھ ہزار سے زیادہ سکھ خواتین اور بچوں کو زندہ جلا دیا۔ اس وقت کے مرکزی وزراء جگدیش ، ایچ کے ایل بھگت اور سجن کمار سمیت بہت سے حکومتی رہنماؤں نے بذاتِ خود سکھوں کی نسل کشی کے عمل میں حصہ لیا اور پورے بھارت میں سکھوں کی جان و مال اس قدر غیر محفوظ ہو گئیں کہ ’’خشونت سنگھ‘‘ اور جنرل ’’جگجیت سنگھ اروڑا‘‘ کی سطح کے سکھوں کو بھی اپنی جان بچانے کیلئے غیر ملکی سفارت خانے میں پناہ لینی پڑی مگر بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ان ہزاروں سکھ خواتین اور بچوں کے قتلِ عام کو جائز ٹھہراتے یہاں تک کہا کہ جب کسی بڑے درخت کو کاٹ کر گرایا جاتا ہے تو اس کی دھمک سے ارد گرد کی زمین میں کچھ تو ارتعاش پیدا ہوتا ہی ہے اور درخت کی زد میں آنے والی گھاس پھوس ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں نے اس بھارتی بربریت کو فراموش نہیں کیا اور امریکہ میں قائم سکھ حقوق کی تنظیم ’’Sikhs For Justice‘‘ نے 31 اکتوبر 2013 کو مسز گاندھی کے قتل کی برسی کے موقع پر دس لاکھ سکھوں کے دستخطوں پر مبنی رٹ پٹیشن اقوامِ متحدہ کے ادارے UNHRC میں داخل کرائی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے ہاتھوں ہونے والے سکھوں کے قتلِ عام کو عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی ڈکلیئر کیا جائے۔

    ۔ دیکھا جائے تو سکھ کسانوں کے خلاف جو مودی نے محاذ گرم کیا ہوا ہے وہ بھی اس بات کی کڑی ہے کہ مودی چاہتا ہے کہ کسی طرح سکھوں کو کمزور کیا جائے ۔ تاکہ یہ خالصتان کا نام نہ لیں سکیں ۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے یہ تو ہو کر رہنا ہے ۔ کیونکہ جو ظلم اندرا گاندھی اور اسکے بعد آنے والوں نے سکھوں پر روا رکھا ہے ۔ اس کا کفراہ تو ادا کرنا ہی پڑے گا ۔۔ پھر جو پاکستان نے کرکٹ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کو پچھاڑا ہے اس کے بعد بھارت میں اس ہار کا بدلہ کشمیریوں اور باقی مسلمانوں سے تو لیا جا رہا ہے۔ ۔ پر بھارت کے لیے اصل درد سر سکھ بھی بنے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ پاکستان کی اس فتح پر اس دفعہ بھارتی سکھوں نے بھی شاندار جشن منایا ہے۔ سکھ اب کھلے عام پاکستان کی تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ دراصل بھارتی حکومت کی سکھ کش پالیسیوں سے بیزار ہیں۔ سکھ کسان اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے ایک سال سے مسلسل دلی کے اردگرد مظاہرے کر رہے ہیں مگر مودی حکومت ان کے مطالبات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ مظاہرہ کرنے والے کئی سکھوں کو قتل کردیا گیا ہے۔۔ بی جے پی کے ایک رہنما کے بیٹے نے جان بوجھ کر کئی مظاہرین کو اپنی گاڑی سے کچل دیا تھا اس واقعے کو اب ایک ماہ ہو رہا ہے مگر اب تک قاتل کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ سکھ دراصل آزادی کے بعد سے ہی بھارت کے خلاف چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ ان کے ساتھ نا انصافی اور حق تلفی کا ہونا ہے۔ آزادی سے قبل گاندھی اور نہرو نے واضح طور پر ان کے لیے خالصتان کے نام سے ایک آزاد اور خود مختار ملک قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر بعد میں وہ اس سے مکرگئے اور اب خالصتان کا نام لینا بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم سکھ اپنے آزاد وطن کے لیے ماضی میں بھی کوشش کرتے رہے ہیں اور آج بھی وہ اس سلسلے میں سرگرم ہیں۔

    ۔ آزاد خالصتان کا نعرہ بلند کرنے پر ہی بھنڈرا والا اور اس کے ساتھیوں کو امرت سر کے گولڈن ٹیمپل میں ٹینکوں سے حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا اور گولڈن ٹیمپل کے تقدس کو نقصان پہنچایا تھا۔ سکھ اس قتل عام کو نہیں بھولے ہیں۔ اب سکھوں نے بھارتی پنجاب ، ہماچل پردیش اور ہریانہ پر مشتمل اپنے آزاد وطن خالصتان کو قائم کرنے کے لیے پھر سے جدوجہد شروع کردی ہے۔ خالصتان کی تحریک اڑتیس سال سے جاری ہے۔ اور اب اس نے وہ رفتار پکڑ لی ہے جس کے بعد کامیابی ان کا مقدر ٹھہرے گی ۔ میں ایک بات جانتا ہوں کہ اگر خالصتان واقعی وجود میں آگیا تو کشمیر کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ اس لیے پاکستان کو بطور ریاست سکھوں کی اخلاقی ، قانونی اور ہر طرح کی مدد کرنی چاہیئے ۔ اور اس سلسلے میں کسی بھی پریشر کا سامنا نہیں کرنا چاہیئے یہ وہ وقت جب پاکستان کو کشمیر کی طرح خالصتان پر بھی واضح موقف لینے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ سکھ ہمارے بھائی ہیں ۔ ہماری زبان بولتے ہیں ۔ ان کا کلچر اور ہمارا کلچر سب سے زیادہ قریب ہے ۔ یہاں تک ہمارے دریا اور ندیاں بھی ایک ہیں ۔