Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر کرکٹ بورڈ ایکشن میں آگیا

    کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر کرکٹ بورڈ ایکشن میں آگیا

    ٹی 20 ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی اور پاکستان سے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ متحرک ہوگیا ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے اسٹرکچر بدلنے پر غور شروع کردیا جس کے تحت بنگلادیش پریمیئرلیگ کی پلیئنگ الیون میں غیرملکی کھلاڑی کم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہےکہ بی پی ایل میں 4 غیرملکی پلیئنگ الیون کا حصہ ہوسکتے ہیں لیکن انہیں بھی کم کیے جانے کا امکان ہے۔

    بنگلادیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی کم کرنے کا مقصد مقامی کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع دینا ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بنگلادیش میں اسپنرز کے لیے سازگار پچز ختم کرکے معیاری پچ بنانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

    ادھر بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے کے بعد پاکستان کو ٹرافی نہ دینے کے معاملے پر بیان جاری کردیا۔

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتح حاصل کرنے کےبعد پاکستانی کھلاڑی ٹرافی نہ ملنے پر حیران تھے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں تاہم اب بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس پر باضابطہ ٹیم مینجمنٹ کو آگاہ کیا گیا ہے۔

    ترجمان بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے کہا ہےکہ ٹی 20 کی ٹرافی ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر دیں گے کیونکہ ٹی 20 سیریز کی فاتح ٹرافی بنگلا دیشی بورڈ کےسربراہ نےدینی ہےجو ابھی دستیاب نہیں۔

    ترجمان بی سی بی رابد امام کا کہنا تھا کہ بنگلادیش بورڈ اور اسپانسر ادارے کے افراد بائیو سکیور ببل کا حصہ نہیں لہٰذا کورونا پابندیوں کےسبب ٹی20 ٹرافی پاکستانی ٹیم کو نہیں دی، اس لیے دونوں ٹرافی ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر ہی دی جائیں گی۔

    واضح رہےکہ پاکستان نے تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز میں بنگلادیش کو کلین سوئپ کیا اور آخری میچ میں انتہائی دلچسپ مقابلے کے کامیابی حاصل کی۔

  • سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    سناؤ کیہہ خبراں نیں. تحریر: نوید شیخ

    وطن عزیز میں موضوعات کی کوئی کمی نہیں ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ اب تو یہ ہماری تفریح بن چکی ہے جو ملتا ہے پوچھتا ہے۔ ”سناؤ کیہہ خبراں نیں“

    ۔ پر خبریں اچھی نہیں ہیں ۔ پاکستان اس وقت چاروں جانب سے مشکلات میں گھیرا دیکھائی دیتا ہے ۔ سیاست سے معیشت ، معیشت سے خارجہ محاذ اور حارجہ محاذ سے انصاف کی فراہمی تک پریشانیاں ہی پریشانیاں نظر آرہی ہیں ۔ ۔ عاصمہ جہانگیر پر ہونے والے کانفرنس اور وہاں ہونے والی باتوں سے حکومت اتنا ڈر گئی ہے کہ اب اس کو فنڈنگ کہاں سے آئی ۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے کو استعمال کرنے اور اسٹیٹ بینک کو کہاگیا ہے کہ پیسوں کے sourceکا پتہ لگا لیں ۔ اچھی بات ہے ہونا چاہیئے ۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ عاصمہ جہانگیر پر اس ایونٹ کے کروانے والے منتظمین کو آگے آکر سب کچھ خود ہی حقائق سامنے رکھ دینے چاہیں ۔ اور حکومت کو بھی چاہیے کہ پی ٹی آئی پر جو فارن فنڈنگ کیس چل رہا ہے ۔ وہ فنڈنگ کہاں سے اور کس مد میں ملی یہ الیکشن کمیشن سمیت ملک وقوم کوبتا دینا چاہیئے ۔ ۔ یہ جو مانگے تانگے کے وزیر روز کوئی نہ کوئی شدنی چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس نے پی ٹی آئی سمیت پورے ملک کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے ۔ یہ ہر کسی کو غدار ہونے تمغے بنٹتے پھرتے ہیں حالانکہ یہ خود سب سے بڑے لوٹے ہیں ۔ انھوں نے اتنی پارٹیاں بدل لی ہیں شاید اتنے غریبوں نے کپڑے نہیں بدلے ہوں گے ۔

    ۔ کون ہے جس کو یہ معلوم نہیں کہ ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف پاکستان پر پابندیاں لگانا چاہتے ہیں۔کسی سے یہ چیز ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کے خلاف داخلی و خارجی سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں۔۔ چند روز قبل امریکہ نے مذہب و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک کی نئی فہرست جاری کی ہے۔اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل کیا گیا جبکہ کئی گنا انتہا پسندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب بھارت کو اس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔۔ پر یہ تو ہو گا ہی کیونکہ آپ کو یاد ہو تو کئی روز پہلے جب وفاقی وزیر اطلاعات خود میڈیا پر آکر کہہ رہا ہو کہ ریاست اور حکومت شدت پسندی کے خلاف اتنی تیار نہیں ہے جتنا انہیں ہونا چاہیے۔ تو پاکستان دشمنوں کو تو ہلا شیری ملے گی ۔ اب پتہ نہیں ان کا یہ کلپ کہاں سے کہاں پہنچا ہوگا ۔بھگتیں گے پاکستانی عوام ۔۔۔ ۔ یاد رکھیں قومیں لوٹوں سے نہیں بنا کرتیں، منافق اور بددیانت لوگ قوموں کی تشکیل نہیں کر سکتے۔

    ۔ پھر ایک اور بہت ہی دلچسپ کھیل جاری ہے۔ جس نے عوام کو ٹی وی سکرینوں کے ساتھ چپکایا ہوا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے مقدمے سے لے کر آج تک بہت سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان دنوں اس سوال نے شدت اختیار کر لی ہے کیونکہ متواتر تین ایسے واقعات ہوئے ہیں پہلا سابق جج جسٹس شمیم رانا کا بیان حلفی ۔ پھر عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں کھل کر ملک کے نامور لوگوں کی جانب سے اس بات کا اظہار کہ پاکستان میں انصاف نہیں ہوتا ۔ پھر کل رات سے جو ثاقب نثار کی لیک آڈیو کلپ وائرل ہوا ہے ۔ اس نے پورے ملک میں بھونچال برپا کیا ہوا ہے ۔ ۔ اس سے ہٹ کر کہ یہ آڈیو صحیح ہے یا غلط ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے۔ یہاں سیاہ کو سفید کہا جا سکتا ہے۔ اکثریت کو بلڈوز کر کے اپنی مرضی کے نتائج نہیں لائے جاسکتے ہیں۔ کون ہے جو اس سے انکار کر سکے کہ اس ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ نظام موجود ہے۔ آج کی عدلیہ کیا کرتی ہے ۔ اس کا فیصلہ تو تاریخ کا مورخ کرے گا مگر ماضی میں عدلیہ کا جو کردار رہا ہے وہ تابناک نہیں ہے اور اس کا اظہار خود اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے اسی کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران کیا۔ انہو ں نے ایک نہیں کئی کیسوں کا حوالے دیا کہ کس طرح عدلیہ نے انصاف کو داغدار کیا ہے۔ فی الحال جو منظر کشی بنتی دیکھائی دے رہی ہے کہ متواتر ایسی خبریں اور چیزیں سامنے آرہی ہیں جس کا فائدہ نواز شریف اور مریم نواز کو ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اب اس سب کے پیچھے کون ہے مجھے نہیں معلوم مجھے بس یہ معلوم ہے کہ جو بھی ہو جائے شریفوں نے ابھی تک رسیدیں نہیں دیں ۔ آسان الفاظ میں اندرون ملک اور بیرون ملک کوئی ایسی خبر نہیں ۔ جس پر کہا جائے کہ پاکستان کے لیے اچھی ہے ۔ سیاست ، معیشت ، انصاف اور گورننس ہر طرف زوال یہ دیکھائی دے رہا ہے ۔ اب اس کا قصور وار کون ہے ۔ آپ نیچے کمنٹس میں لازمی بتائیں ۔ مگر میں اپنی رائے دے دیتا ہوں ۔ مہذب معاشروں اور یورپی جمہوریتوں میں جن کا عمران خان بہت حوالہ دیتے ہیں ۔ تمام مسائل کی ذمہ دار حکومت وقت ہی ہوتی ہے ۔ دوسری جانب مشیر خزانہ نے آج پریس کانفرنس کرکے اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ ۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں معاملات طے پا گئے ہیں ۔ مگر آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس ریفارمز جاری رکھے ۔ یعنی عوام کو تن کر رکھے ۔ کوئی ریلیف نہ دیا جائے ۔

    ۔ اب کیونکہ یہ بڑی ہی تابعدار حکومت ہے ۔ اور شوکت ترین نے تو بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیا ہے کہ اگلے چند ماہ اب بجلی کی قیمت بڑھا کر عوام کو جھٹکے دئے جائیں گے ۔ اس لیے اچھے بچوں کی طرح اس حکومت نے آج ہی بجلی کی قیمتوں میں چار روپے 75 پیسے بڑھانے کی سمری نیپرا کو بھیج دی ہے ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کپتان کی عقلمندی کی پیڑول کی قیمت نہیں بڑھائی تو خسارہ بجلی کی قیمت بڑھا کر پورا کر لیا جائے گا ۔ اس کو کہتے ہیں پرفارمنس ۔۔۔ ۔ پھر اب تو یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت ایک ڈالر فی لٹر نہ ہو جائے۔ ۔ یاد رکھیں یہ وہ ہی حکومت ہے جس نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم نہیں کریں گے ۔ ۔ فی الحال عوام کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری 4.8
    فیصد مزید بڑھے گی ۔ جس کے مطابق سال 2022ء پاکستان کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوگا اور اشیائے ضروری کی قیمتوں میں 8.5فیصد اضافہ جاری رہے گا۔ پچھلے دنوں عمران خان نے کہا تھا کہ ہمارے دور میں ملک سے غربت کم ہوئی ، غربت ان ممالک میں بڑھتی ہے جہاں حکمران چور ہوں ، وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ قانون کی بالا دستی والے ملک میں غربت نہیں ہوتی ۔ اب جب ملک کا وزیر اعظم یہ سوچ رکھتا ہوکہ اس کو ملک میں مسائل ہی نہ نظر آئیں تو حل کیسے ہوگا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے پاکستان میں غربت اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ممکن ہے کہ وزیر اعظم کو ان کے وزیر مشیر حقیقی صورتحال سے آگاہ نہ کرتے ہوں مگر ان کے عوام کے پاس آ کر اپنی آنکھوں سے حالات دیکھنے چاہئیں۔ معاشی اعتبار سے یہ تمام باتیں خوفناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ میں آپکو بتاوں پاکستان میں نوے فیصد آبادی لٹنے کے لئے ہے اور دس فیصد لوٹنے والے ہیں۔ مگر تاثر یہی دیا جاتا ہے یہاں ہر کوئی لوٹ مار کر رہا ہے۔ یہ پروپیگنڈہ بھی اشرافیہ کی سوچی سمجھی سازش ہے کہ ملک میں آوے کا اوا بگڑا ہوا ہے تاکہ اپنے ناجائز کاموں کو ایک جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس ملک کے کروڑوں کسان، مزدور، سفید پوش مڈل کلاسیئے، چھوٹے موٹے دکاندار، قلم پیشہ ہنر مند، اساتذہ اور فنکار کرپٹ نہیں کیونکہ کرپشن ان کی زندگی کا چلن ہی نہیں وہ تو صرف کرپشن کے جبر کا شکار ہیں۔ ۔ میں آپکو بتاوں 1965تک پاکستان کا شمار تیزی سے ترقی کرنے ممالک میں ہوتاتھا۔ پے درپے داخلی سیاسی بحرانوں میں اسے ایسا الجھایا گیا کہ ترقی کی پٹری سے نہ صرف اترگیا بلکہ نااہلی کا دیمک اسے مسلسل چاٹنے لگا۔ اب سارا نظام کھوکھلا ہو چکا ہے ۔

    حقیقت میں عمران خان نے اس ملک کو سب سے بڑا ڈینٹ ڈالا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے پورے ملک کو ۔۔۔ میرے ۔۔۔ اور ۔۔۔ تمہارے ۔۔۔ میں بانٹ دیا ہے ۔ میڈیا سے شروع کریں تو یہ بھی حکومتی ، اسٹمبلیشمنٹ اور اپوزیشن کے کمیپوں میں بٹا ہوا ہے ۔ ہماری بیوروکریسی بھی ریاست کی نہیں اپنی اور اپنی سیاسی جماعت کی وفادار ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمارا تاجر ، ہمارا صنعت کار ، ہماری تجارتی انجمنیں یہاں تک کہ ہمارا ریڑھی اور چنگ چی والا بھی سوائے اپنے مفاد اور اپنی پارٹی کے کوئی اور زبان نہیں سمجھتا۔ عدلیہ میں دیکھ لیں ، ڈاکٹرز میں دیکھ لیں ۔ ہر جگہ آپکو کپتان کی دی ہوئی یہ تفریق دیکھائی دے گی ۔ ۔ آج اس ملک میں جتنی polarization ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔

  • روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پر مل کر کام کرنے کے لیے تیار ، مشترکہ خلائی مشن سیارہ زہرہ پر بھیجا جائے گا جس کے لئے دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : روس نومبر 2029 میں مشن سیارہ وینس پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے مشن کو ابتدائی طور پر امریکہ اور روس کے مشترکہ مشن کے طور پر ہی پلان کیا گیا تھا لیکن گزشتہ سال روس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیاتھا کہ اب یہ صرف روس کا قومی مشن ہےاور کوئی بین الاقوامی اشراک اس میں شامل نہیں ہے۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    اب ایک بار پھر روسی خلائی تحقیقی ادارے روسکوسموس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مل کر وینس کی جانب ایک خلائی مشن بھیجا جائے گا۔

    اس ادارے کے سربراہ کے مطابق اس طرح معاشی کے علاوہ تیکنیکی حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنا بھی آسان ہو جائے گا سیارہ وینس کے ماحول کا مطالعہ کرنے اور مٹی کے نمونے جمع کرنے لیے ایک مشن 2031 اور ایک اور مشن 2034 میں بھیجے گا وینس نظام شمسی میں ہمارے نزدیک ترین سیارہ ہے اور اس کا سائز بھی ہماری زمین کے قریب برابر ہی ہے تاہم اس کی سطح کا درجہ حرارت کئی سو ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

  • پاکستان کے کپتان وزیراعظم عمران خان کے نام اسپورٹس کی دنیا کا بڑا اعزاز:عرب دنیا بھی معترف

    پاکستان کے کپتان وزیراعظم عمران خان کے نام اسپورٹس کی دنیا کا بڑا اعزاز:عرب دنیا بھی معترف

    دبئی :پاکستان کے کپتان وزیراعظم عمران خان کے نام اسپورٹس کی دنیا کا بڑا اعزاز:عرب دنیا بھی معترف،اطلاعات کے مطابق دبئی میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے عالمی اسپورٹس ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دبئی کا مشہور محمد بن راشد المکتوم تخلیقی اسپورٹس اعزاز حاصل کرلیا جو انہیں آئندہ سال جنوری میں دیا جائے گا۔

    وزیراعظم عمران خان کو یہ اعزاز 1992 کے کرکٹ ورلڈکپ جیتنے میں اپنے ملک کی کرکٹ ٹیم کی قیادت سمیت کھیلوں میں ان کی خدمات پر دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو 9 جنوری کو دبئی ایکسپو میں ایوارڈ دیا جائے گا۔

    انٹرنیشنل اسپورٹس ایوارڈ کے لیے عمران خان کے نام کا اعلان دبئی میں دنیا کے سب سے گہرے ڈائیونگ پول ڈیپ کے سنگم میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا گیاجہاں دبئی اسپورٹس کونسل کے چیئرمین شیخ منصور بن محمد بن راشد المکتوم مہمان خصوصی تھے۔

     

    اس تقریب میں عمران خان کو انٹرنیشنل اسپورٹس شخصیت قرار دیا گیا ۔خیال رہے کہ یہ بین الاقوامی ایوارڈ دبئی میں ہر سال دنیا کی ممتاز ترین شخصیات کو دیا جاتا ہے۔

    دوسری طرف سوشل میڈیا پرکپتان کے چاہنے والوں نے اپوزیشن اور پی ڈی ایم کو پیغام بھیجا ہے کہ آپ پاکستان کے کپتان کی صلاحیتوں‌کے بے شک منکرہوجائیں مگرعالمی دنیا وزیراعظم عمران خان کی صلاحیتوں‌کی معترف ہے اورتہہ دل سے تسلیم بھی کرتی ہے

  • مقبوضہ کشمیر:کورونا وائرس سے ڈی ایس پی سمیت دو افراد ہلاک:کورونا کا قہرجاری

    مقبوضہ کشمیر:کورونا وائرس سے ڈی ایس پی سمیت دو افراد ہلاک:کورونا کا قہرجاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:کورونا وائرس سے ڈی ایس پی سمیت دو افراد ہلاک:کورونا کا قہرجاری ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 24گھنٹے کے دوران ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت دو افرادمہلک کورونا وبا کے باعث ہلاک ہو گئے جبکہ مزید 176افراد مہلک وبا میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انڈین ریزرو پولیس کی پہلی بٹالین کے ڈی ایس پی 53 سالہ اجے کمار شرما گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں اور وادی کشمیر میں ایک سرکاری ملازم مہلک وبا کے باعث انتقال کر گئے۔وادی کشمیر میں128افراد میں، جموں میں 32 اور لداخ خطے میں 16 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو ئی ہے۔

    ادھر مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے کورونا وبا کی آڑ میں کئی علاقوں میں کرفیو کا سلسلہ مزید طویل کردیا ہے،

    قابض انتظامیہ نے سری نگر کے 14 علاقوں میں 10 روز کے لیے کرفیو نافذ کر کے دفعہ 144 کے تحت اجتماعات اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کر دی تھی ،مگراب اس میں مزید توسیع دی گئی ہے جس کی وجہ سے کشمیری بہت زیادہ پریشان ہیں‌۔

    مقبوضہ وادی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ قابض بھارتی انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کو لاوارث چھوڑ دیا ہے اورجان بوجھ کرمسلمانوں کو کورونا میں دھکیلنے کی نئی دہلی کی سازشیں جاری ہیں ،

    ادھر حریت کانفرنس نے قابض بھارتی انتظامیہ کے امتیازی رویے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے اور کہا ہےکہ مودی سرکار مسلمانوں کو جان بوجھ کرمسائل میں الجھا کراپنے مفادات حاصل کررہی ہے ، ادھر آج سری نگر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک طرف سخت سردی کی لہر جاری ہے تو دوسری طرف مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے ، کشمیری جائیں تو کدھر جائیں

  • رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    دنیا کی مہنگی ترین اور پر تعیش کاریں بنانے والی امریکی کمپنی رولز رائس نے اب دنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: 387.4 میل فی گھنٹہ کی رفتار رکھنے والے کے طیارے کو کمپنی نے اسپرٹ آف انوویشن کا نام دیا ہے، کمپنی کے مطابق 16 نومبر کو ٹیسٹ پرواز کے دوران طیارے نے مجموعی طور پر 3 ریکارڈز بنائے ہیں۔یہ دنیا کی تیز ترین الیکٹرک سواری ہے۔

    کمپنی نے بتایا کہ 16 نومبر کو ٹیسٹ پرواز کے دوران اس طیارے نے مجموعی طور پر 3 ریکارڈز بنائے جس میں 345.4 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 1.86 میل کا راستہ طے کرنا ہے اس طیارے نے 300 میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار پر برطانوی وزارت دفاع کی فوجی ٹیسٹنگ سائٹ پر 9.32 میل کا سفر کیا، جو سابقہ ریکارڈ سے 182 میل فی گھنٹہ زیادہ ہے۔

    ان اعدادوشمار کو عالمی گورننگ باڈی فیڈریشن ایروناٹیکل انٹرنیشنل (ایف آئی اے) کے پاس تصدیق کے لیے جمع کرایا گیا ہےیہ طیارہ 400 کلوواٹ الیکٹرک پاور ٹرین کی مدد سے پرواز کرتا ہے جبکہ سب سے بہترین پاور بیٹری پیک کو بھی اس کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    رولز رائس کے فلائٹ آپریشن ڈائریکٹر نے طیارے کو ٹیسٹ پرواز پر اڑایا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے کیرئیر کا اہم ترین لمحہ تھا۔کمپنی کے سی ای او وارن ایسٹ نے کہا کہ دنیا کے تیز ترین الیکٹرک طیارے کا ریکارڈز ایک زبردست کامیابی ہے۔

    برطانیہ کے بزنس سیکرٹری کواسی کوارٹنگ نے کہا کہ یہ طیارہ برقی پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایسی ٹیکنالوجیز کو ان لاک کرنے میں مدد کرے گا جن کو ہم روزمرہ کی زندگی کا حصہ بناسکیں گے۔

  • مراکش:انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت

    مراکش:انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت

    شمالی افریقی ملک مراکش کے ساحل سے انسانی تاریخ کے قدیم ترین زیورات دریافت ہوئے ہیں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ زیورات ڈیڑھ لاکھ سال پرانے ہیں یہ دریافت رباط میں مراکشی آثار قدیمہ ادارے، ایریزونا یونیورسٹی اور یورپ افریقا کی بحیرۂ روم کی لیبارٹری پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مراکش میں محققین نے جمعرات کو ایک لاکھ 42 ہزار سال اور ایک لاکھ پچاس ہزار سال کے درمیان قدیم ترین زیورات کی نقاب کشائی کی، یہ زیورات ملک کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ساحلی شہر الصویرہ کے بیزمون غاروں میں دریافت ہوئے۔

    مراکشی ماہر آثار قدیمہ عبدالجلیل بوزوگرکے مطابق یہ دریافت سوراخ شدہ اور سیاہی والے 30 سمندری خولوں پر مشتمل ہے، یعنی انسانوں نے ان خولوں پر آئرن آکسائیڈ سے بھرپور سرخ مادہ لگایا تھا سرخ مٹی کے رنگ سے رنگے ہوئے چھوٹے سوراخوں والی سیپیوں سے بنے کئی ہار اور کنگن ملے ہیں، جو چند ہفتے قبل الصویرہ کے قریب بیزمون غار میں پائے گئے تھے –

    انہوں نے کہا کہ یہ سیپیاں ڈیڑھ لاکھ سال پرانی ہیں، فی الحال اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا میں سب سے قدیم ہیں، دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب انسانوں نے ان سیپیوں کو آپس میں یا دوسرے لوگوں کے گروہوں کے ساتھ بات چیت کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مراکش اور انسانیت کے لیے ایک بڑی دریافت ہے، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دریافت ہونے والے ہاروں میں سے کچھ کو قدیم زمانے میں مواصلات کی ایک شکل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

    محققین کے مطابق مراکش میں دنیا کے قدیم ہومو سیپیئنز (ارتقا کے دوران بالکل ابتدائی انسان) سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کی باقیات دریافت ہوئی تھیں، جو 3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے تھے، انھیں 2017 میں فرانسیسی محقق ژاں ژاک ہوبلن کی ٹیم نے جبل الرحود میں دریافت کیا تھا۔

  • چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل    تحقیق

    چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق

    جارجیا: چٹکی بجاتے ہی مسئلہ حل ہونے کا محاورہ ہم اکثر سنتے ہیں لیکن سائنسی تحقیق کی رو سے چٹکی بجانا سب سے تیز رفتار عمل بھی ہے۔

    باغی ٹی وی :جارجیا ٹیک کے طالب علموں نے یہ تحقیق کی ہے جسے رائل سوسائٹی انٹرفیس کے جرنل میں شائع کیا گیا اس تحقیق میں جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے چٹکی بجانے کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اس کی طبیعیات کو نئے سرے سے کھوجا ہے۔

    سائنس دانوں نے انتہائی تیزعکس نگاری، خودکار امیج پروسیسنگ، ڈائنامک فورس سینسر اور دیگر ٹیکنالوجی سے چٹکی بجانے کے عمل کو دیکھا اور سمجھا۔ اس کے علاوہ انگلیوں کی رگڑ کو سمجھنے کے لیے ان پر پلاسٹک اور دھات وغیرہ بھی لگائی گئی۔

    جہاز میں دوران سفر مسائل ،حادثات کی نشاندہی اور فوری رپورٹ کے لئے ایپ متعارف

    تحقیق کے مطابق چٹکی بجانے کے عمل کو یوں سمجھیے کہ اس کا اسراع (ایسلریشن) اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ چٹکی کا انگوٹھا صرف سات ملی سیکنڈ میں ہتھیلی کو چھولیتا ہے جو پلک جھپکانے سے بھی تیزعمل ہے۔

    ماہرین کے مطابق انگلی اور انگوٹھے کے بیرونی جلد کی درمیانے درجے کی رگڑ (فرکشن) سے چٹکی کی آواز پیدا ہوتی ہے لیکن اس عمل میں گھماؤ کا اسراع خود بیس بال بلے باز سے بھی زیادہ ہوتا ہے اس مشاہدے سے مصنوعی ہاتھوں اور بازؤں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اس طرح وہ انسانی ہاتھوں سے مزید قریب ہوسکیں گے۔

    ڈائنو سار کے اصلی دانت سے بنا آئی فون کیس

    ماہرین نے نوٹ کیا کہ عام حالات میں چٹکی بجانے کے عمل میں روٹیشنل ولاسٹی 7800 ڈگری فی سیکنڈ اور روٹیشنل ایسلریشن 16 لاکھ ڈگری فی مربع سیکنڈ ہوتا ہے یعنی صرف سات ملی سیکنڈ میں ان انگوٹھا پھسل کر ہتھیلی پر جالگتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس عمل سے مزید تحقیق اور ٹیکنالوجی کی راہ ہموار ہوگی۔

    تحقیق میں شامل سائنس داں سعد بھملا نے بتایا کہ یہ تحقیق روزمرہ کی سائنس اور انسانی تجسس کو بھی ظاہر کرتی ہے جس سے دریافت کے نئے راستے کھلتے ہیں۔

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

  • اداروں کی بے توقیری،موجودہ حکمرانوں کا تحفہ .تحریر: نوید شیخ

    اداروں کی بے توقیری،موجودہ حکمرانوں کا تحفہ .تحریر: نوید شیخ

    معیشت تو حکومت کے لیے پہلے دن سے مسئلہ تھا لیکن کئی سال انہوں نے یہ کہہ کر گزار لئے ہیں کہ یہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے لیکن اب یہ دلیل بھی کافی کمزور ہو گئی ہے اور مہنگائی نے تو سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور حکومت کے پاس اس کا کوئی حل نہیں۔ ۔ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گھی، دال، انڈے، دودھ، دہی، گوشت اورچائے سمیت 27 اشیاء مہنگی ہوچکی ہیں۔ یوں صرف گزشتہ سات دنوں کے دوران مہنگائی میں 1.07 فیصد مزید اضافہ ہوا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 18.34
    فیصد تک پہنچ گئی ہے۔۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر عمران خان اعلان کرتے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے آٹا، چینی اور گھی بآسانی دستیاب ہوگا جنھیں عوام کی سہولت کے لیے ہر گلی محلے میں نصب کیا جا رہا ہے۔ عوام جائیں، معمولی سی رقم ڈالیں اور مقررہ مقدارمیں آٹا، چینی اور گھی نکال کرگھروں کو لے جائیں۔ مگرلگتاہے کہ ان مشینوں سے بھی کرپٹ سیاستدان ہی نکلیں گے۔ روبوٹ ہی نکلیں گے۔ پھر حکومتی وزیر جیسے فرخ حبیب جتنے مرضی دعوے کر لیں ٹویٹس کردیں کہ ایکسپورٹس ایسی بڑھ گئی ہیں کہ پتہ نہیں پی ٹی آئی نے کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ۔ پر سچ یہ ہے کہ معاشی اعشاریئے مسلسل منفی جا رہے ہیں اب ڈالر 177 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ پھر جیسے ہی سردی کا زور بڑھا ہے گیس بالکل غائب ہوگی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہ ۔۔۔۔ الٹا شہباز گل سمیت حماد اظہر اپنی نااہلی ماننے کے بجائے شاہ زیب خان زادہ سے اڈا لگا کر بیٹھ گئے ہیں کہ سب اچھا ہے ۔ کہ میڈیا ان کے خلاف سازشیں رچ رہا ہے ۔

    ۔ اس وقت شاید ہی کوئی ہو جو حکومت کو آڑے ہاتھوں نہیں لے رہا کیونکہ کارکردگی ہی ایسی ہے ۔ بڑے بڑے کالم نگار اور اینکرز حکومت کے خلاف لکھ رہے ہیں بول رہے ہیں ۔ بالکل وہ بھی جو حکومت کے سب سے بڑے حمایتی تھے ۔ وجہ یہ ہے کہ عوام بلبلا رہے ہیں۔ پھر بھی باہر سے آئے ہوئے ترجمان بضد ہیں کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور کپتان روز چوکا چھکے لگا رہا ہے ۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے عوام کے چھکے چھڑا دیے ہیں ۔ ۔ دعویدار تو یہ ریاست مدینہ کے ہیں پر آئے دن شرح سود میں اضافہ کرکے ملکی معیشت کو ریورس گئیر لگا رہے ہیں ۔ اب ایک بار پھر تیزی سے شرح سود بڑھائی جارہی ہے۔۔ ان کی ورداتوں پر سے پردہ میں ہٹا دیتا ہوں۔ فیصلہ آپ خود کر لینا ۔ پچھلے دنوں جب چینی کے ریٹ چند دن کے لیے ڈیڑھ سو روپے فی کلو سے اوپر چلے گئے تو شوگر مافیا نے ان چند دنوں میں کم از کم 60ارب روپے کما لیے تھے۔ اور پھر جب اس سال کے آغاز میں آٹا بحران لایا گیا تو اُس وقت بھی مافیا نے 100ارب روپے سے زائد کما لیے تھے۔ اس کے علاوہ جب پٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا تب بھی ایک رپورٹ کے مطابق 130ارب روپے کا ناجائز منافع کمایا گیا۔
    ۔ یہ ہے تبدیلی
    ۔ یہ ہے مافیا کے خلاف کاروائیاں
    ۔ یہ ہے ریاست مدینہ
    ۔ یہ ہوتا ہے سمارٹ ورک
    ۔ یہ ہوتا ہے وژن ۔ اب سمجھ آئی ۔۔۔
    ۔ یہ ہے نیا پاکستان ۔۔۔ جہاں سے اربوں روپے کمانا اتنا مشکل نہیں رہا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کو سمارٹ ورک آتا ہو۔

    ۔ آج ساڑھے تین سال بعد یہ حالت ہے کہ حکومت کو لانے والے بھی خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ مسئلہ صرف معاشی محاذ پر ہی نہیں۔ بلکہ ہر محکمہ ہر ادارے میں ریسوس گیئر لگ چکا ہے ۔ معاشی کے بعد سیاسی ماحول کی بات کی جائے تو وہ بھی منفی اشارے دے رہا ہے۔ تمام تر حربوں اور نیب کے استعمال کے باوجود ن لیگ سمیت پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک بھی قائم ودائم ہے ۔ ساتھ ہی حکومت کے دعوے کے ان کا پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکلوائیں گے ۔ یہ ایک دھیلا بھی نہیں نکلوا پائے ہیں ۔ الٹا براڈ شیٹ سمیت برطانیہ میں ریاست پاکستان کو بےعزت کروابیٹھے ہیں ، پھر عالمی،علاقائی اور داخلی حالات کے باعث اسٹیبلیشمنٹ بھی اب اپوزیشن سیاسی جماعتوں سے بات کرنے پر مجبور ہے۔ مگر اب تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا، دراصل سیاست دو اور دو چار کا کھیل نہیں بلکہ سیاست بہت وسیع اور پیچیدہ کھیل ہے۔ کرپشن کے علاوہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف یہ بھی بڑی دلیل دی جاتی ہے کہ بڑی جماعتوں میں موروثیت حاوی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے باریاں لگائی ہوئی تھیں یعنی دو پارٹیوں کا نظام بھی قابل قبول نہیں حالانکہ ان کی اپنی جماعت میں جو موروثیت ہے وہ کسی سےڈھکی چھپی نہیں ۔ جو عمران خان نے دسیوں بار چلے ہوئے کارتوس اپنے جماعت میں اکٹھے کیے ہوئے ہیں اس بارے بھی سب ہی جانتے ہیں ۔ پھر اپوزیشن تو ابھی سے کہہ رہی ہے حکومت نے ووٹنگ کے طریقہ کار کو بدل کے دھاندلی کی بنیاد رکھ دی ہے، چلیں آج کی سن لیں آج جہاں پی ڈی ایم نے پشاور میں پاور شو کیا تو مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے شہزاد اکبر، زلفی بخاری اور شہباز گِل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے باقاعدہ قانونی کاروائی کی نوید سنادی ہے ۔ پھر یہ کہہ کر تو حکومت کی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے کہ وزارت داخلہ کی توجہ کہیں اور ہے۔ جہاں شیخ رشید وزیر ہوں وہاں کا حال کیا ہوگا۔ ان کا اشارہ حریم شاہ اور شیخ صاحب جو گفتگو بارے تھا جو سامنے آئی ہے ، پھریہ کہہ کر شہزاد اکبر کو بھی خوب رگڑا لگایا کہ جس دور میں چینی 55روپے تھی اس کے کیس بنا دیے۔ اب سو روپے ہے تو کچھ نہیں کیا۔

    ۔ اب مولانا فضل الرحمان تو کوئی رعایت نہیں دے رہے ہیں انھوں نے تو کہہ دیا ہے کہ عمران خان غیروں کے ایجنٹ تو ہوسکتےہیں عوام کے نمائندہ نہیں۔ پھر کشمیر ، قانون سازی ، مہنگائی ، ریاست مدینہ ، آئی ایم ایف سمیت کون سی ایسی چیز تھی جس پر انھوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں نہیں لیا ۔ تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مہنگائی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تشویشناک بات وزیراعظم اور وزراء کا جھوٹ بولنا ہے۔ ایوان کو جان بوجھ کر مفلوج کر دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب انتخابی عمل میں ترمیم کے باوجود یہ بات وثوق سے کہنا مشکل ہے کہ ای وی ایم کو انتخابی عمل کا حصہ بنانے کا حکومتی مقصد باآسانی پورا ہو جائے گا کیونکہ ایک طرف اگر اپوزیشن کو تحفظات ہیں تو الیکشن کمیشن بھی پوری طرح مطمئن نہیں بار ایسوسی ایشنوں میں بھی اِس حوالے سے مخالفت اور بے اطمینانی موجودہے ۔ مسئلہ implementationکا ہے ۔ اس وقت ای وی ایم اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن واضح طور پر تذبذب کا شکار ہے ۔ مجھے نہیں لگتا یہ ہو پائے گا ۔ کیونکہ سیکرٹری الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کا پابند نہیں۔ اس پر الیکشن کمشن حکام کے مطابق ووٹنگ مشین متعارف کرانے سے پہلے 14تجرباتی مراحل سے گزرنا ہو گا۔ تین یا چار پائلٹ پراجیکٹ مکمل کرنا ہوں گے۔ پھر انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہو گی وہاں ووٹنگ مشین کیسے کام کرے گی۔ حکومت کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ ووٹنگ مشین کو انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں تاہم یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمشن کا عملہ الیکٹرانک مشین میں موجود نتائج کس طرح پریذائیڈنگ افسر یا الیکشن کمشن کو ارسال کرے گا۔

    ۔ پھر ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخاب کے لیے تین لاکھ الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں درکار ہوں گی۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے دنیا بھر سے مختلف کمپنیوں کو مدعو کیا تھا۔ پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے۔ اب پارلیمنٹ سے قانون سازی ہونے کے بعد اصولی طور پر الیکشن کمشن اس طریقہ کار کو مسترد نہیں کر سکتا۔ پر تیاری نہ ہونے کی وجہ سے یہ تاخیر کا بہانہ ضرور بنا سکتا ہے ۔ یوں اب یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن نے اس مشین کا استعمال نہ کیا تو پھر پی ٹی آئی الیکشن کو نہیں مانے گی ۔ ہار گئی تو وہ دھاندلی کا شور مچائے گی ۔ پر اگر اس مشین کے ذریعے الیکشن کروایا جاتا ہے تو جہاں بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں آئندہ انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے تو شہباز شریف بھی ای وی ایم کو شیطانی مشن قرار دیتے ہیں اِن حالات میں پہلی بار انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ ملک میں اس وقت اضطراب اور ہلچل کی جو کیفیت ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ سٹیک ہولڈر مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ کسی تبدیلی کی صورت میں انہیں مکمل تحفظ اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو اور حالیہ سالوں میں ان کے کئے کرائے پر پر مٹی ڈال دی جائے۔ دیکھا جائے تو اس وقت اپوزیشن، آزاد میڈیا، ججوں، وکلا تنظیموں اور سول سوسائٹی نے مل کر ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ جس میں حکومت کی ہر حرکت اس کے وبال جان بن رہی ہے ۔ یاد رکھیں قدرت کا قانون حرکت میں آنے کے لیے کسی اجلاس اور مشورے کا پابند نہیں ہوا کرتا۔ آج ہر شعبہ، ہر ادارہ بے توقیر ہے۔ یہ موجودہ حکمرانوں کا تحفہ ہے کہ ہر شعبہ زندگی کے لوگ باہمی طور پر گھتم گھتا ہیں۔ ۔ عمران خان سنگاپور، ترکی، چین، ریاست مدینہ، سعودیہ، ارطغرل، بابر، صلاح الدین ایوبی نہ جانے کتنی کہانیاں اور فلمیں اس عوام کو دیکھا چکے ہیں ۔ اب عوام حکمرانوں کو فلم دیکھنے نہیں ۔۔۔ دیکھانے کی موڈ میں ہے

  • کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کا پاکستان ، بن گیا غریب کیلئے قبرستان، تحریر: نوید شیخ

    ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب جہاں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہیں سماجی و نفسیاتی مسائل اور جرائم کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس لیے آج پہلے دو خبریں آپکے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ پھر آگے بات کریں گے ۔ ۔ سب سے پہلے بات کریں تو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے درالخلافہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاون میں دن دیہاڑے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر ڈاکو تین کروڑروپے مالیت کا قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے ہیں پھر ملزمان نے خواتین اور بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے ۔ دوسری وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈاکو مسلم لیگ ن کی سینیٹر کا گھر لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ڈکیتی کی واردات اسلام آباد کے پوش علاقہ ایف ٹین میں واقع سینیٹر نزہت عامر کے گھر ہوئی۔ یہاں بھی نامعلوم مسلح افراد نے اسلحہ کی نوک پر اہل خانہ کو یرغمال بنایا ۔ دراصل پی ٹی آئی نے حقیقی تبدیلی یہ برپا کی ہے پورےملک میں ڈکیتیاں معمول بن گئی ہیں۔ اب تو ہر کوئی انتظارکررہا ہوتا ہے کہ کب ہماری باری آئے گی۔ ۔ یہ عثمان بزدار اور عمران خان کی ان تھک محنت اور کوششوں کا پھل ہے ۔ جو انھوں نے پولیس میں اتنے تبادلے کیے ہیں ۔ کہ محکمہ پولیس صرف transfer and posting کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اس کے بعد ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کیسے ٹھیک رہ سکتی تھی ۔ اس وقت سٹریٹ کرائم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ عوام کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں ۔ اور بس ایک ہی دعا کر رہے ہیں کہ یا اللہ ان نااہل حکمرانوں سے جان چھڑا دے ۔ ۔ کیونکہ عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حصے میں صرف ڈبل ایکس مہنگائی ، اہل اختیار کی بے حسی اور خالی خولی دعووں اور وعدوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔

    ۔ مسائل کو حل کرنے کے ان کے طریقوں پر ذرا غور فرمائیں ۔ مہنگائی ہوگئی ہے تو شرح سود بڑھا دو، تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے تو روپے کو گرادو، عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ہے تو عالمی اداروں سے قرضہ لے لو۔ ٹیکس لگانا ہے تو ایسے لگا ئو کہ مراعات یافتہ طبقے کا بال بیکا نہ ہو۔ تحریک انصاف وہ سب کام کررہی ہے جس سے اشرافیہ کو فائدہ پہنچے لیکن اصرار یہ ہے کہ این آر او نہیں دینا اور عوام مزید صبر کریں ۔ مہنگائی و بے روزگاری کی چکی میں پستے عوام کے شب و روز تلخ ہو چکے ہیں۔عوامی غم و غصہ برداشت سے باہر ہے۔ کیونکہ عمران خان نے بننا تو پاکستان کو ملائیشیا یا سنگاپور تھا ۔ پر بنا افغانستان دیا ہے ۔ بلکہ اس سے بھی بدتر کر دیا ہے ۔ کیونکہ مہنگائی کی شرح یہاں افغانستان سے بھی زیادہ ہے ۔ ویسے جب ریاست اپنی مالی اور مالیاتی خودمختاری آئی ایم ایف کے پاس رہن رکھنے پہ مجبور ہو جائے ۔ تو اندازہ لگا لیں کون لوگ اس ملک پر مسلط ہوچکے ہیں ۔ پھر حکومتی وزراء کا وتیرہ بن گیا ہے کہ وہ اپنی ہر ناکامی کو ماضی کے حکمرانوں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جائیں۔ منجن وہ یہ بیچتے ہیں کہ ملک پر دو پارٹیوں کی دہائیوں تک حکومت رہی ۔ اس کے اثرات پورے نظام پر موجود ہیں اور انتظامی خرابیاں بھی اسی کی وجہ سے ہیں۔ اس وجہ سے اب تبدیلی نہیں آ رہی ہے۔ حالانکہ تبدیلی آرہی ہے ۔ کبھی عوام میں جا کر یہ پوچھیں تو انکو لگ پتہ جائے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ قوم ہمارا ساتھ دے جلد خوشخبری سنائیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا یہ خوشخبری قوم کے لیے کم ہے کہ وہ آٹا ، چینی اور بجلی کے بعد گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کررہی ہے ۔ آپ دیکھیں سردیاں آ تی ہیں تو گیس چلی جاتی ہے، گرمیاں آتی ہیں تو بجلی چلی جاتی ہے، کوئی وباء پھیلتی ہے تو ادویات کی قلت پیدا ہو جاتی ہے، رمضان المبارک کا آغاز ہوتا ہے تو اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ سچ یہ ہے جس کو حکومت اور حماد اظہر جھٹلاتے ہیں کہ پچھلے دور میں قدرتی گیس کی کمی کو دور کرنے کے لیے قطر سے ایل این جی کی درآمد کے معاہدے کئے گئے اور ملک میں بروقت اس کی درآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں اس کی ترسیل کا نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں موجودہ حکمرانوں سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ جن اوقات میں ایل این جی کی خریداری کے سستے سودے کیے جا سکتے تھے۔ تب یہ کر لیتے اور اب جو مہنگے داموں میں ایل این جی کی خریداری کے سودے کیے وہاں ملکی ضرورت کے مطابق 14کارگوز منگوانے کے بجائے صرف 12کارگوز کے سودے کرنے میں بمشکل کامیاب ہو سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ابھی جب کہ سردیوں کا پوری طرح آغاز بھی نہیں ہوا ہے ملک بھر میں گیس کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔

    ۔ اس وقت گیس کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے چند دنوں میں تین سو روپے سے زائد اضافے کے ساتھ لکڑی اب نو سو نوے روپے فی من فروخت ہو رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں چند روز قبل تک سترہ سو روپے میں ملنے والا گھریلو سلینڈر کی قیمت تین ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے گیس فراہم کی جا رہی ہے اس دوران بھی پریشر نہایت کم ہوتا ہے۔ پھر دیہاتی علاقوں میں تو سرے سے گیس بند ہی کر دی گئی ہیں ۔ یہاں تک اندسٹری بھی رو رہی ہے کہ گیس نہیں مل رہی ۔۔ سچ یہ ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو کوئی ویژن ہے نہ وزراء کو عوامی مسائل کا ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ تین سال میں عام آدمی کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ ۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کو نئے پاکستان کی تشکیل کے لیے کم از کم دس سال مزید چاہئیں ۔ جو کہ میری نظر میں صرف ای وی ایم ہی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ لکھ لیں خدانخواستہ یہ اگلے دس سال بھی مل گئے تو کپتان نے کَٹوں، وَچھوں، مرغیوں اور انڈوں کے ذریعے ہی ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ اور انھی سے سارے قرضے اُتار کر آئی ایم ایف پر لعنت بھیجنی ہے ۔ پھر بننی ہے کپتان کی ریاستِ مدینہ ۔۔ ہمارے آج کے مرکزی حکمران چند شیلٹر ہومز اور کچھ لنگر خانے بنا کر سمجھتے ہیں کہ ہم ریاستِ مدینہ پر عمل پیرا ہیں ۔ ۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں نے سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کے قصے تو عوام کو بہت سنائے اورمتعدد اعلانات بھی کیے کہ لُوٹی رقوم ہر صورت میں واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرواؤں گا۔ ہُوا مگر کیا؟ جواب ہم سب کے سامنے ہے۔

    ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ جب حکمرانوں کا اپنا حال یہ ہو کہ توشہ خانے کا حساب دینے کے لیے تیار نہ ہوں تو کسی اور سے کیا خاک پیسہ نکلوانا ہے انھوں نے ۔ ہمارے حکمرانوں کو بس اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور آئندہ کے انتخابات بھی اپنے حق میں رکھنے کا جنوں ہے۔ اب اگر لوگ ن لیگ یا پیپلزپارٹی کے دور کو یاد کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ نواز شریف یا آصف زرداری ان کے رشتہ دار ہیں بلکہ وہ ان کی دی ہوئی ڈیویلپمنٹ اور سہولتوں کو یاد کرتے ہیں۔ آپ جو مرضی کہہ لیں ۔ جتنی مرضی گزشتہ ادوار پر تنقید کرلیں ۔ اس کے باوجود گزشتہ دور اس دور سے لاکھ درجے بہتر تھے ۔ اور یہ میں نہیں عوام کہہ رہے ہیں ۔ دراصل یہ ہی تو اس ملک کے ساتھ المیہ ہوا ہے کپتان نے وہ کارکردگی دیکھائی ہے کہ اب لوگ کپتان کے علاوہ کسی کو بھی قبول کرنے کو تیار ہیں ۔ چاہے وہ چور ، لٹیرا یا ڈاکو ہی کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ عمران خان محض بیان بازی کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور عوام کو یہ دونمبری سمجھ آگئی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ یہ قرضے اب کی بار رکنے کے نہیں۔ یہ صرف اور صرف بڑھنے کے لیے ہیں ۔ کسی میں بھی جرات نہیں کہ یہ حقیقت بتا سکے۔ یہ حکومت پاکستان کی خود مختاری پر توسودا کررہی ہے ۔ پر لوگوں میں انوسٹ نہیں کررہی ، ترقیاتی کاموں پر زیادہ خرچہ نہیں کررہی ، تو لوگوں کا معیار زندگی کیسے بہتر ہوگا اور یوں جب لوگ ہنر مند نہیں ہوں گے، تو ہماری ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی۔ ہم ایک طویل دلدل میں پھنس چکے ہیں، ہم نے جو بیانیہ بنایا تھا، وہی آج ہمیں ڈس رہا ہے ۔ دنیا بہت بدل چکی ہے اور ہماری کوئی بھی تیاری نہیں۔ اس لیے جو بدحالی اب کے بار آئی ہے اس نے خان صاحب کو تو کیا خود اس کے پیچھے کھڑی ہوئی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا دیا ہے۔ یاد رکھیں حکمرانی کا شوق اور اقتدار کے مزے لوٹنا ایک ایسی خواہش اور تمنا ہے جو بہت سارے لوگوں کے دلوں میں مچلتی رہتی ہے۔ تاہم حکمرانی کے اُمور چلانا اور ماضی میں کیے جانے والے اپنے دعوؤں اور نعروں کو عملی جامہ پہنانا اور عوام کی توقعات پر پورا اُترنا آسان نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکمرانی کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کے لیے بلند ویژن کے ساتھ ہر لمحے، دانائی اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک لحاظ سے تنے ہوئے رسے پر چلنا پڑتا ہے۔ ہماری بدنصیبی اور بدقسمتی ہے کہ ہمیں ایسے حکمران اور ایسی حکومتیں نصیب ہوتی رہی ہیں جنہوں نے نہ تو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے کچھ کام کیا نہ ہی ملک میں پائی جانے والی بد عنوانی، رشوت ستانی، اقربا پروری جیسی بُرائیوں اور مہنگائی در مہنگائی جیسے عفریت کو ختم کرنے میں کوئی پیش رفت دکھائی۔

    ۔ اس لیے اگر وزیر اعظم جناب عمران خان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو سوائے اس کے کہ اس کے بار ے میں صفر +صفر+صفر = صفر0+0+0 = 0 کہا جائے، اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہیں بنتا۔۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جناب عمران خان کے دورِ حکومت میں مملکت اور ریاست پاکستان کی جو درگت بنی ہے۔ اس کی قیامِ پاکستان سے لے کر پچھلے ادوارِ حکومت تک کوئی مثال نہیں ملتی۔ ۔فی الحال تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں ملک کتنا پیچھے چلا گیا ہے اس کا صحیح اندازہ آنے والے وقتوں میں ہوگا۔