Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صاف چلی شفاف چلی ، کا نعرہ دفن .تحریر:نوید شیخ

    صاف چلی شفاف چلی ، کا نعرہ دفن .تحریر:نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ وفاقی کابینہ کے جتنے مرضی اجلاس ہو جائیں ، عمران خان جتنے مرضی دعوے کر لیں ۔ وزیر خزانہ جتنی مرضی خوشخبریاں سنا دیں ۔ جتنی مرضی بیرونی امداد مل جائے ۔ خطے میں ہم جتنے مرضی اہم پلیئر بن جائیں ۔ مگر عوامی مشکلات تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔ معذرت کے ساتھ سخت الفاظ کا چناؤ کر رہا ہوں پر پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے لیے موت کا فرشتہ ثابت ہورہی ہے ۔ اس وقت نہ کسی کو کوئی آسرا ہو رہا ہے نہ ہی کسی کو کوئی سکون مل رہا ہے ۔ ڈینگی سے چلڈرن ہسپتال میں آج آٹھ ماہ کا بچہ موسی جان کی بازی ہار گیا ہے ۔ ڈینگی شتر بے مہار پھیلاتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ مگر حکومت ، اندھوں ، گونگوں اور بہروں کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ پھر دن دیہاڑے نو بینکوں پر سائبر حملے ہوتے ہیں ، رقم نکوالنے اور ڈیٹا چوری ہونی کی خبریں سامنے آتی ہیں ۔ مگر اسٹیٹ بینک میں نہ مانوں کی رٹ شروع کر دیتا ہے ۔ مشیر خزانہ شوکت ترین جہاں عوام کو ایک بار پھر بجلی اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کرتے ہیں ۔ تو عمران خان دلاسے دیتے دیکھائی دیتے ہیں کہ جلد مہنگائی سے متعلق ایک ریلیف پیکج کا اعلان ہوگا ۔ فی الحال عوام کے لیے خرشخبری یہ ہے کہ چینی اور ایل پی جی کی قیمت پھر بڑھ گئی ہے ۔ پناہ گاہیں اور لنگر خانوں کے ڈرامے کا ایک بار پھر ڈراپ سین ہونے والا ہے ۔ موسم بدل چکا ہے ۔ پھر بھی سرد موسم میں پناہ گاہوں کی دیواروں کے ساتھ لوگ آپکو سوتے دیکھائی دیں گے ۔

    ۔ آج بھی اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ایسے مزدور طبقے کی کمی نہیں ہے جو پارکوں،فٹ پاتھوں،گرین بلیٹس اور پلوں کے نیچے زندگی گزار دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے کہ ایک کمرے کا کرایہ ان کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ یہ کوئی بھکاری نہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دیہاتوں اور چھوٹے شہروں سے بڑوں شہروں میں دیہاڑی لگانے آتے ہیں ۔ اصل مہنگائی کا شکار یہ لوگ ہوئے ہیں جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے گھر والوں سے دور رہ کر گزاراکرنے پر مجبور ہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ ملک کی معاشی صورت حال ایسی نہیں کہ معاملات پلک جھپکتے ہی ٹھیک ہوجائیں لیکن حکومتوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کریں اور عوام کو آسانیاں فراہم کریں۔ احساس پروگرام اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ مگر رزلٹ صفر بٹا صفر ہے ۔ ۔ پھر ایک اور اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ کہ ملک میں بلین ٹری سونامی برپا کیا جائے گا ۔ آج لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس دیکھیں تو حقیقت معلوم ہوجائے ۔ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوچکا ہے ۔ کبھی یہ پہلا نمبر دہلی کا ہوا کرتا تھا ۔ یہ درخت کہاں لگے ہیں آپ بھی ڈھونڈیں میں بھی ڈھونڈتا ہوں ۔ آپ دیکھیں عمران خان کو ایک کمزور اور بے اثر اپوزیشن سے واسطہ پڑا تھا جو کسی بھی طرح عمران خان حکومت کیلئے کوئی خطرہ یا چیلنج نہیں ہے۔ پھر بھی عوام کے وہ معاشی مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھے ہیں۔ مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ اس حکومت کا اندھیر نگری چوپٹ راج دکھیں کہ ترجمان اور وزیر یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ تمام معاشی اشاریئے مثبت ہیں۔ یہ عوام میں بغیر سیکورٹی کے جا کر دیکھائیں تو تمام اشاریے تتر بتر ہوجائیں ۔ ان وزیروں اور بڑے افسروں کے لئے مہنگائی صرف میڈیا میں ہے جس پر یہ ایک نظر ڈال کر یہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کی تمام شاہ خرچیاں تو عوام برداشت کرتی ہے ۔ ان کو اپنی جیب سے پیڑول ڈلوانہ پڑے یا خرچہ کرنا پڑے تو لگے پتہ ۔۔۔۔

    ۔ ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ مہنگائی میں ماہانہ اضافہ 9.19فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اب ہر ماہ نو سے دس فیصد مہنگائی ہو اور حکومت کو عوام کی چینخیں سنائی نہ دیں ۔ تو پھر اس حکومت کو اندھا ، گونگا اور بہرہ ہی کہا جائے گا ۔ ۔ اس حکومت میں ٹیکسوں کی اتنی بھرمار ہے کہ اب صرف ہوا ، دھوپ اور بارش پر ہی ٹیکس باقی رہ گیا ہے۔ ویسے حکومت کی معاشی ٹیم کے بس میں ہو تو وہ ان نعمتوں پر بھی ٹیکس لگا دے۔ ۔ برطانیہ کے معتبر جریدے اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق 42 ملکوں میں پاکستان چوتھا مہنگا ترین ملک ہے۔ اس وقت پاکستان میں بندہ مزدور و ملازم ہی نہیں، بندہ صنعتکار اور بندہ تاجر کے اوقات بھی بہت تلخ ہیں۔ ۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے معاشی ماہرین کو حقیقی مسائل کا کوئی ادراک ہی نہیں۔ ہمارے موجودہ گورنر سٹیٹ بینک اور دیگر آئی ایم ایف کے ملازم ہیں۔ وہ اس سے پہلے کئی ممالک کی معیشتوں کو بے حال کر چکے ہیں۔۔ میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وزیراعظم عوام کے حال سے بالکل بے خبر ہیں۔ غربت کا حال تو اُس سے پوچھیں کہ جس کے دودھ پیتے بچے کے لیے دودھ میسر نہیں۔ صرف تین روز پہلے بچوں کے دودھ کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ وہی بچے ہیں جنہیں کم خوراک ملنے کی کئی برس سے خان صاحب شکایت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اب اُن کے دور میں بچوں کو کم از کم خوراک بھی نہیں مل رہی۔۔ کہتے ہیں جنازے میں رو نہیں سکتے تو رونے والوں جیسا منہ ہی بنا لو۔ان سے تو اتنا بھی نہیں ہوا۔

    ۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے اس سے نمٹ نہیں سکتے تو عوام سے یک جہتی کے لئے دکھاوے کے لئے ہی سہی لینڈ کروزر اور مرسڈیز سے چھوٹی گاڑی پر آجاؤ۔ سرکاری ادارے گواہی دے رہے ہیں کہ ملک میں اس قدر مہنگائی پہلے کبھی نہ تھی۔ معیشت کو سمجھنے والے کہہ رہے ہیں یہ کم ہے مہنگائی اور بڑھے گی حال یہ ہے کہ غربت افلاس سے پریشان لوگ اپنے بچوں کو زہر دے کرخودکشیاں کر رہے ہیں اور کپتان تو کیا ان کی بی، سی، ڈی ٹیم کے بارھویں ،تیرھویں اور چودھویں کھلاڑی دو دو کروڑ کی سرکار ی گاڑیوں میں فراٹے بھر رہے ہیں ۔ کپتان کم ازکم عوام کے ساتھ رو نہیں سکتا لیکن ان کا دکھ سمجھ کر رونے والوں جیسی صورت ہی بنا لے ۔۔ اس حکومت نے اتنا مایوس کر دیا ہے کہ اب تو میری خواہش کہ کوئی اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرے کہ اقتدار پاتے ہی حکمران اپنے وعدے یکسر بھول کیوں جاتا ہے۔ اس کی نفسیات بالکل بدل کیوں جاتی ہے۔ پھر حکومت خود اپنے ہاتھوں سے نیب آرڈینس میں تیسری ترمیم کے ذریعے خود کو اور اپنی حکومت کو این آر او دے دیتی ہے ۔ ایسے احتساب کا گلہ پی ٹی آئی نے خود گھونٹ دیا ہے ۔ ساتھ ہی ایک اور آرڈینس سے پارلیمنٹ کے کردار پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے ۔ اس آرڈینس کے چیدہ چیدہ مندراجات یہ ہیں کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں نیب کے چیئرمین کو سپریم کورٹ کے جج کی طرز پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کو دے دیا گیا ہے۔ یوں صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹا سکیں گے۔۔ نئی ترامیم کے تحت مضاربہ کیسز بھی واپس نیب کے حوالے کردیے گئے اور ان کیسز کو 6اکتوبر سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کردیا گیا۔ ۔ حالیہ ترامیم کے تحت منی لانڈرنگ ریفرنسز اور مضاربہ اسکینڈل کیسز بحال ہوگئے جس سے آصف زرداری، شاہد خاقان، مریم نواز، شہباز شریف کو کوئی ریلیف نہیں مل سکے گا اور پہلے سے قائم تمام منی لانڈرنگ کیسز پہلے کی طرح چلتے رہیں گے۔۔ اب اس ترمیم کے بعد یہ تو واضح ہے کہ اپوزیشن کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ۔ مگر جو درجنوں وزیروں اور پی ٹی آئی اراکین کے نام پینڈوار پیپرز میں آئے تھے ۔ ان سب کی موجیں ہیں ۔ کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کی حکومت ہے ۔ ۔ یوں صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ بھی اب دفن ہی سمجھیں ۔

    ۔ اپنی پیدائش سے اب تک ایک ہی ڈبہ فلم دیکھتا آرہا ہوں ۔ پہلے بھی اسے فلاپ فلم کہتا تھا اور اب بھی اسی پر قائم ہوں ۔ اس ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے انوکھانہیں ہے۔ ۔ یہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ ان کے اقتدار کی کشتی اپنے ہی بوجھ سے ڈوبتی جارہی ہے اور یہ ہائبرڈ نظام اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جس کا آغازبلوچستان میں جام کمال کی حکومت کی ”باعزت رخصتی“
    سے شروع ہو چکا ہے۔ جہاں تک وفاق اور پنجاب کامعاملہ ہے تو بات صرف اس ایک نکتے پر رکی ہوئی ہے کہ اپوزیشن عبوری تبدیلی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ویسے تو بات absolutely not
    سے why not تک پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھتے ہیں حالات کااونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

  • پاکستانی ٹیم نمیبیا کے ڈریسنگ روم پہنچ گئی،ٹیم کی کارکردگی اور محنت کو سراہا

    پاکستانی ٹیم نمیبیا کے ڈریسنگ روم پہنچ گئی،ٹیم کی کارکردگی اور محنت کو سراہا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان نے نمیبیا کو باآسانی 45 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کر لی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان نے نمیبیا کو گزشتہ روا شکست دے کر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کر لی اور نمیبیا کو ایونٹ سے باہر کر دیا جیت کے بعد پاکستانی ٹیم نے خوشی تو منائی لیکن نمیبیا کے کھلاڑیوں کو بھی نہ بھولے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے پوری ٹیم ان کے ڈیسنگ روم پہنچ گئی جس کی ویڈیو پی سی بی نے اپنے سوشل میڈیا پر شئیر کی-


    پاکستانی کھلاڑیوں نے نمیبیا کو ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی اور محنت کو سراہا اور ایک اچھے ماحول میں تمام کھلاڑیوں نے ایک ساتھ وقت گزارا، جس میں جہاں محمد حفیظ ان کے کھلاڑی کو خاص ٹیپس بھی دیتے نظر آئے، وہیں ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔
    https://twitter.com/newspaperwallah/status/1455620131128692737?s=20
    پاکستانی ٹیم کے اس عمل نے انڑنیٹ پر صارفین کے دل جیت لیے، پاکستانی سمیت غیر ملکی صارفین کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بار ٹورنامنٹ میں میچ تو جیت ہی رہی ہے ساتھ ہی مسلسل دل بھی جیت رہی ہے۔


    https://twitter.com/Sarusa98379086/status/1455620528711012353?s=20
    یاد رہے گزشتہ روز نمیبیا کی ٹیم پاکستان کی جانب سے دیا گیا 190 رنز ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز بنا سکی پاکستان کے بولرز اوس کے باوجود اچھی بولنگ کا مظاہرہ کیا قومی ٹیم کی جانب سے حسن، شاداب، عماد اور حارث نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

  • فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا

    فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا

    رازداری ختم ہونے کے خدشات کے پیش نظر فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے پرائیویسی شکایات کے سبب اپنا چہرے کی شناخت کا سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پہلے سے موجود کروڑوں افراد کی معلومات بھی ڈیلیٹ کر دی جائیں گی۔

    فیس بک نے کہا کہ اس کی تمام مصنوعات میں استعمال ہونے والی چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کو "آنے والے ہفتوں میں” ہٹا دیا جائے گا غیرملکی میڈیا کے مطابق فیس بک کی جانب سے انتہائی اقدام حساس دستاویزات لیک ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔

    یہ نظام تصویر میں موجود لوگوں کی شناخت کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ اس ٹول کو اپ لوڈ کی گئی تصاویر میں لوگوں کو ٹیگ کرنے میں مدد کرنے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا اس ٹول کو استعمال کرنے والے صارفین کے چہرے کے معلومات بھی فیس کے پاس جمع ہوتی تھیں۔

    فیس بک کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کو حذف کر دیا جائے گا اس اقدام سےایک ارب سے زیادہ لوگوں کے چہرے کی شناخت کے انفرادی ٹیمپلیٹس کو حذف کیا جائے گا یہ فیصلہ ہماری مصنوعات میں چہرے کی شناخت کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے لیا گیا ہے اس ٹول کو ہٹانا ٹیکنالوجی کی تاریخ میں چہرے کی شناخت کے استعمال میں سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک کی نمائندگی کرے گا۔

    فیس بک نے کہا کہ یہ فیصلہ’’مجموعی طور پر اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات” کی وجہ سے کیا ہے، تاہم کمپنی کے اندر چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی پر کام جاری رہے گا-

    واضح رہے کہ بند کیے گئے فیچر سے صارفین کی تصاویر میں نظر آنے والے افراد کی شناخت خود بخود ممکن تھی۔

  • انڈیا کا برا وقت،تحریر: عفیفہ راؤ

    انڈیا کا برا وقت،تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک طرف الیکشنز کی تیاری تو دوسری طرف انڈیا کا برا وقت چل رہا ہے لیکن اس بار بھی مودی سرکار کے پاس ایک ہی حل ہے کہ اپنی عوام میں جنگی جنون کو ابھارا جائے مذہب کی بنیاد پر پہلے ہی تقسیم شدہ عوام کے سمندر کو اور تقسیم کیا جائے۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں ویسے ویسے بھارت میں کشمیر، پاکستان اور طالبان کے حوالے سے سیاست گرم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے ہر روز کوئی نہ کوئی متنازعہ بیان ضرور سامنے آتا ہے جو جلتی پر آگ کا کام کر سکے۔

    اب آدتیہ ناتھ یوگی کو تو آپ جانتے ہی ہیں ان کو تو عام حالات میں چین نہیں آتا تو ایسی صورتحال میں جب باقی سب سیاستدان بھی خوب ایکٹیو ہوئے ہوئے ہیں تو وہ کہاں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اتر پردیش میں الیکشنز کی وجہ سے بی جے پی نے ایک کمپئین شروع کی ہوئی ہے۔ اور آج اسی سلسے میں ایک جلسہ بھی منعقد کیا گیا جس میں یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے سیاسی مخالفیں پر تو گولہ باری کی ہی لیکن آپ کو پتہ ہے کہ انڈیا میں کوئی الیکشن ہو اور پاکستان کو اس میں نہ گھسیٹا جائے ایسا ہو نہیں سکتا تو آج کے اپنے بیان میں پاکستان کے حوالے سے ان کو کہنا تھا کہ طالبان کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان پریشانی محسوس کر رہے ہیں لیکن طالبان کو یہ بات معلوم ہے کہ اگر انہوں نے بھارت کی جانب قدم بڑھایا تو ان کے لیے فضائی حملہ تیار ہے۔ آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کافی طاقتور ہو چکا ہے اور کوئی بھی ملک بھارت کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات بھی نہیں کر سکتا ہے۔
    سب سے پہلے تو ان کا یہ بیان پڑھ کر مجھے کافی ہنسی بھی آئی کیونکہ جتنی مزاحیہ بات انھوں نے کی ہے اس پر انسان ہنس ہی سکتا ہے۔ یعنی وہ انڈیا جس کو طالبان کی حکومت آنے پر یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے لوگوں کو وہاں سے کیسے نکالے بلکہ ابھی تک بھی انڈیا کو کوئی راستہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ طالبان کے ساتھ اپنے رابطے کیسے بڑھائیں۔ وہ طالبان جن کی حکومت آنے پر پورے انڈین میڈیا پر سوگ منایا جا رہا تھا کہ ہماری سرکار کی بیس سالوں کی انویسٹمنٹ ڈوب گئی آج اس کی حکمران جماعت کے لوگ یہ بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان جس کے کردار کو طالبان حکومت بننے اور امریکہ کے افغانستان سے پر امن طریقے سے نکلنے پر پوری دنیا نے سراہا یہ ہمارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں۔

    اور یہ فضائی حملوں کی دھمکیاں بھی اب پرانی ہو چکی ہیں یاد کریں کہ چین سے ایل اے سی پر آپ کو کیسی مار پڑی تھی پاکستان میں جب آپ نے گھسنے کی کوشش کی تو ابھی نندن کو کیسی چائے پلائی تھی ویسے بھی پاکستان نیوی کے ہاتھوں بھی جتنی بار آپ ذلیل ہو چکے ہیں تو اس کے بعد اس طرح کے بیانات پر کوئی ان کو کیا کہہ سکتا ہے۔ لیکن حد تو یہ ہے کہ بی جے پی اپنے جنگی جنون اور ہندوتوا سوچ کی وجہ سے بیانات دیتے ہوئے اتنا آگے نکل جاتی ہے کہ اسے سیدھی بات بھی الٹی نظر آتی ہے۔ اسی جلسے میں یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی کہ انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کا موازنہ بھارتی رہنما سردار پٹیل سے کیا، جو ایک شرمناک بات ہے اور طالبانی ذہنیت کی عکاس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ طالبانی ذہنیت ہے، جو تقسیم پر یقین رکھتی ہے۔ سردار پٹیل نے تو ملک کو متحد کیا تھا۔ فی الحال وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک متحد اور اعلی ترین بھارت کے حصول کے لیے کام جاری ہے۔ حالانکہ اکھیلیش یادو نے موازنہ کرنے کی تو بات ہی نہیں کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ سردار پٹیل، گاندھی جی، جواہر لعل نہرو اور محمد علی جناح جیسی شخصیات نے ایک ہی ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی اور بیرسٹر بنے تھے۔ انہوں نے بھارت کی آزادی کے لیے جد وجہد کی اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔اب اس بیان میں آپ دیکھ لیں کہ انھوں نے تو ان شخصیات کو کوئی موازنہ کیا ہی نہیں اور جو کہا وہ حقیقت ہے کہ انھوں نے ایک ہی ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی۔دراصل جس بات سے آدتیہ ناتھ کو تکلیف ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ اکھیلیش یادو نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس کے نظریات پر پابندی بھی عائد کی تھی۔ آج اسی نظریے کے لوگ جو متحدہ کرنے کا دعوی کر رہے ہیں ملک کو مذہب اور ذات پات کے نام تر تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

    دراصل قائد اعظم تک کو جو اپنے بیانات اور سیاست میں گھسیٹا جا رہا ہے اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ یوپی کی یو گی حکومت کو اس بار سخت ترین حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے ریاست میں بے روزگاری، مہنگائی اور کورونا کی وبا کے سبب ہونے والی اموات ایسے بڑے موضوعات ہیں جس کی وجہ سے حکومت پر بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے اور اسی لیے وہ اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر کے اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے کیونکہ ایسی صورت میں ان کے پاس مذہبی کارڈ کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ اسی لیے اس مرتبہ بی جے پی اتر پردیش کے انتخابات میں طالبان کا بھی خوب ذکر کررہی ہے۔ تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ حکومت ہندوؤں کے مفادات کا خیال رکھتی ہے اور اس نے مسلمانوں کو قابو میں کر رکھا ہے۔ کیونکہ حکومت جانتی ہے کہ اس طرح کے تاثر سے اسے سیاسی فائدہ ہو گا، ورنہ الیکشن سے پہلے آپ خود سوچیں کہ اس طرح کے اعلانات کا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے؟لیکن اس نفرت میں بے جے پی اتنا آگے بڑھ چکی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ تک بھی کہہ دیا کہ طالبان کی حمایت کا مطلب بھارت کی مخالفت ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے یو پی میں بعض افراد کے خلاف بغاوت کا کیس بھی درج کیا تھا۔ اور بھارت کے ضلع سہارنپور کا قصبہ دیوبند جو اپنے تاریخی مدرسے دارالعلوم دیوبند اور فقہ اکیڈمی کے لیے عالمی سطح پر مشہور و معروف ہے۔ اس علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور نسبتا پرامن علاقہ ہے جہاں شاذ و نادر ہی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے وہاں ایک اینٹی ٹیررازم اسکواڈ کے لیے تربیتی مرکز کھولنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

    اس یوگی حکومت کی اصلیت تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس نے تبدیلی مذہب کے نام پر کئی سرکردہ مذہبی مسلم اسکالر کو گرفتار بھی کر رکھا ہے جبکہ حال ہی میں ریاست کے کئی مقامات پر گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی کا بھی اعلان کیا تھا۔تو ایک طرف تو بی جے پی کو یہ گھناونا چہرہ ہے کہ کیسے الیکشنز کے لئے لوگوں میں نفرت کو ابھارا جا رہا ہے۔ دوسری طرف انڈیا میں ایک نفرت انڈین کرکٹ ٹیم کی بری کارکردگی کی وجہ سے بھی پھیلی ہوئی ہے پاکستان سے ہار جب برداشت نہیں ہوئی تو کچھ لوگوں نے انڈیا کے فاسٹ بولر محمد شامی کو اس شکست کا ذمہ دار قرار دینا شروع کر دیا اور اس پر جان بوجھ کر رنز دینے کا الزام لگایا اور اسے غدار اور ملک دشمن کا ٹائٹل دے دیا۔ اور جب ایک ہفتے بعد انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے محمد شامی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے اور ٹرولنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرنے والوں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ سامنے آ کر کچھ بول سکیں۔ گزشتہ کچھ برسوں میں محمد شامی نے ہمیں کئی میچ جتوائے ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں جب بھی بولنگ کی بات کی جاتی ہے تو بمراہ کے ساتھ شامی ہمارے اہم ترین بولر رہے ہیں کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا بدترین انسانی عمل ہے۔تو اس بیان کے بعد محمد شامی کے ساتھ ساتھ کوہلی خود بھی سوشل میڈیا صارفین کے غصے اور تنقید کی زد میں آ گئے۔شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کے ساتھ مسلم دشمنی میں جو سلوک کیا گیا کچھ بھی ثابت نہ ہونے کے باوجود اس کی ضمانت کی درخواست بار بار مسترد کی جاتی رہی اس کو تقریبا ایک ماہ تک جیل میں رکھا گیا کہ اب وہ باہر آ کر بھی شدید ڈپریشن میں ہے اور نہ وہ کچھ کھا سک رہا ہے نہ سو پا رہا ہے۔ ڈاکٹرز کی ایک پوری ٹیم ہائر کی گئی ہے تاکہ کسی طرح اس کو اس کنڈیشن سے باہر نکالا جا سکے۔تو ان حالیہ واقعات سے دیکھ لیں جس حکومت کی اتنی جنونی سوچ ہو اور وہ لوگوں میں نفرت پھیلا رہی ہو جہاں اتنے بڑے بڑے نام محفوظ نہ ہوں تو سوچین کہ وہاں ایک عام مسلمان کس ٹرامہ سے گزرتا ہو گا۔

  • غریب عوام،  عمران خان سے پریشان .تحریر : بسمہ ملک

    غریب عوام، عمران خان سے پریشان .تحریر : بسمہ ملک

    22 کروڑ عوام کا ملک کون چلا سکتا ہے

    جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو کنٹینر پر بل جلایا کرتے تھے اور اب ہر دل عزیز عمران خان عوام کے دل جلا رہے ہیں وزیراعظم کہتے ہیں 22 کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے ہر جگہ مصیبت ہے خان صاحب ویسے آپ پر انکشاف کون سا ہوا 22 کروڑ عوام کا، مصیبت کا، یا ملک چلانے کا 23 سال پہلے جب آپ نے جدوجہد کا آغاز کیا تھا تب آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آبادی کا تناسب بڑھ رہا ہے ہر جگہ مصیبت ہے جب آپ پچھلی حکومتوں پر تنقید کرتے تھے سابق وزیراعظم عمران خان سے استعفے مانگتے تھے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے مطالبے کرتے تھے اس وقت آپ نہیں جانتے تھے کہ 22 کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے

    عمران خان جب آپ نے کنٹینر پر چڑھ کر بل جلایا تھا سول نافرمانی کا نعرہ لگایا تھا بغیر قرضہ لیے ملک کو چلانے کی باتیں کرتے تھے IMF کے پاس جانے سے بہتر خودکشی سمجھتے تھے ڈولر نیچے روپیہ اوپر کرنے کے دعوے کرتے تھے مہنگے ڈیزل، پٹرول کو حکمرانوں کی اوپر کی کمائی کہتے تھے قیمتیں عالمی منڈی کے برابر رکھنے کی باتیں کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے سستی بجلی، مہنگائی میں کمی گھر دینے اور نوکریاں بانٹنے کی باتیں کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے جب آپ ریاست مدینہ اور خلائی ریاست کے خواب دیکھایا کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ 22 کروڑ ہی تو ہیں جو آپ کی باتوں پر لبیک کہہ رہے ہیں عمران خان صاحب اگر مسئلہ آبادی ہے تو یہ بھی بتا دے آبادی کم کیسے کرے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کر تو رہے ہیں کوئی بےروزگار وزیراعظم ہاؤس کے سامنے خودکشی کرلیتا ہے کوئی باپ 5 بچوں کو نہر میں پھینک دیتا ہے کہی باپ بیٹیاں قتل کررہا ہے سلیکٹڈ صاحب جس چین کی ترقی کی مثالیں آپ دیتے ہیں ویسا نظام لانے کی آپ باتیں کرتے ہیں وہاں کی آبادی تقریبا 1.5 ارب ہے امریکہ سپر پاور ، عالمی طاقت ترقی یافتہ ملک جس کی آپ مثالیں دیتے ہیں امریکہ کی آبادی 32 کروڑ سے زیادہ ہے یعنی مسئلہ آبادی کا نہیں لیڈر شپ کا ہے پالیسی بیکنگ کا ہے پالیسی میکرز کا ہے آبادی کو مسئلہ بنا کر بری کارکردگی پر پردہ نہ ڈالے جو 22 کروڑ مصیبتوں سے چھٹکارے کے لیے آپ کو لائے لیکن کیا بنا ڈبل قرضے لیے گئے ڈبل مہنگائی کر دی گئی یہ ملا ہے عوام کو تحریک انصاف والوں کو ووٹ ڈالنے کا نتیجہ اور اگر آج بھی ان سے پوچھا جائے تو ان کی نظروں میں حکومت بہت اچھی چل رہی ہے عوام خوش ہے ارے عمران خان صاحب کچھ تو خدا کا خوف کریں

    عمران خان صاحب اب تو آپ کے دیرینہ دوست، اراکین اسمبلی کو توڑنے والے، جہاز میں سب کو بھر بھر کر لانے والے جہانگیر ترین بھی بول پڑے ہیں، جہانگیر ترین کا کہناتھا کہ حکومت کو فوری طور پر مہنگائی ختم کر نی چاہیئے ورنہ حالات خراب ہو جائینگے۔ سرائیکی صوبے کی آواز اٹھانے سے ترقیاتی کام شروع ہوئے ہیں صوبہ بننے کے بعد یہاں مزید کام شروع ہونگے میرے خلاف حکومت بنتے ہی سازشیں شروع ہو گئی تھی اگر مجھے نااہل نہ کیا جاتا تو نہ صرف صوبہ بن جاتا بلکہ اپر پنجاب سے زیادہ ترقی ہو تی چینی کا کاروبار شروع سے ہی کرتا ہوں مجھ پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ، خان صاحب اب اپنے دوست کی ہی کم از کم مان لیں اور عوام کو ریلیف دے دیں، اور اگر عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو گھر جائیں، وعدے پورے کرنا آپ کے بس کی بات نہیں، لارے لگائے رکھیں اور یوٹرن لیتے رہیں، اب یوٹرن نہیں بلکہ ڈبلیو ٹرن لیں

    @BismaMalik890

  • "بچوں کی پرورش کیسے کرنی چاہئیے” .تحریر: فرزانہ شریف

    "بچوں کی پرورش کیسے کرنی چاہئیے” .تحریر: فرزانہ شریف

    کہتے ہیں بچے کی تربیت ماں کی گود سے ہی شروع ہوجاتی ہے کسی بچے کی تربیت دیکھنی ہوتو اس کی ماں کو دیکھ لیں بچہ ماں کا پرتو ہوتا ہے ۔بچہ ایسی موم کی گڑیا ہوتا ہے شروع دن سے آپ اس کو جس طرف موڑنا چاہئیں گےمڑ جائے گا اللہ جب یہ نعمت۔رحمت دیتا ہے ماں کا فرض ہوتا ہے وہ بچے کا دنیا میں آنے کا حق ادا کردے اچھی تربیت کرکے۔۔۔ماں کا اس لیے کہہ رہی ہوں بچے کے ساتھ ذیادہ وقت ماں کا گزرتا ہے باپ تو روزی روٹی کی تلاش میں باہر کی چھان ۔چھان رہا ہوتا ہے اس لیے بچوں کی تربیت کی ذیادہ ذمہ داری ماں پر آجاتی ہے اپنے بچوں کے ذہین کی صاف سلیٹ پر آپ جو کچھ لکھیں گے جو کچھ نقش کریں گے وہ ان مٹ چھاپ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جائے گی جو کچھ بچوں
    کو ہم آج دیں گے کل کو وہی ہم پائیں گے اپنے بچوں کی تربیت میں سب سے پہلے خوش اخلاقی جیسی خوبی شامل کریں اچھا بولنا سکھائیں بڑوں کا ادب چھوٹوں سے پیار کرنا سکھائیں ۔
    انھیں بچپن سے ہی تعزیت۔تیماداری۔برداشت انکساری ۔تواضع اور صبر کرنا سکھائیں ان کو بچپن سے ہی نماز کا عادی بنائیں ۔ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وآلہ علیہ وسلم کی محبت ڈالیں ان کے دلوں میں صلہ رحمی ڈالیں بچوں کے دلوں میں ان چیزوں کی محبت ڈالنے کا سب سے بہترین وقت ان کا بچپن ہی ہے۔ جب ان کے دلوں میں اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کی محبت ہو گئی تو وہ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی لازمی کوشش بھی کریں گے ان کے دل میں لگن پیدا ہوگی ۔حرام حلال کھانے میں فرق بتائیں ۔ہمارے مذہب میں کن چیزوں کی سختی سے ممانعت فرمائی گی ہے ان چیزوں کے لیے ان کے دلوں میں ناپسندیدگی پیدا کریں ۔غلط صیحح کی پہچان کروائیں یہی ایک اچھے انسان کی خوبی ہے ورنہ تو کھلا پلا کرجانور بھی بچے پال لیتے ہیں اور آپ کے بچے آج کا سیکھا کل آپ پر آزمائیں گے اس لیے ہر وہ چیز اپنے بچے کے دماغ میں ڈالنے کی کوشش کریں جو کل اسے ایک صحت مند شہری بننے میں مدد کرے ایک صحت مند معاشرہ اکائی سے ہی بنتا ہے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنا رول ادا کرنا والدین کا فرض ہے۔ایک اور ضروری چیز ‏کوشش کریں اپنے بچوں کےسامنے
    اپنے گھر والوں بھائیوں۔بہنوں کی باتیں ڈسکس مت کریں
    بھائیوں،بہنوں میں جتنی جلدی غلط فہمیاں پیداہوتی ہیں وہ اتنی جلدی ختم بھی ہوجاتی یقین جانئےآپ کا جذبات میں آ کرکہا جانےوالا ایک بھی غلط لفظ آپکے بچوں کو عرصہ تک یادرہتااورتعلق میں غلط فہمی کاباعث بنتا.پھر آپ کے لاکھ سر پٹخنے سمجھانے کے باوجود آپ کے بچے کے دل سے وہ باتیں نہیں نکلتی جو آپ نے جذبات میں آکر ڈال دی تھیں آس لیے یہ والدین کے لیے امتحان ہوتا ہے تکلیف دہ باتیں اپنے تک محدود رکھ کر خود تکلیف برداشت کرکے بچوں کے دلوں کو زہر آلود ہونے سے بچا لیا جائے ۔

    آپ آج اپنے رشتہ داروں کے خلاف ان کے دلوں میں زہر ڈالیں گے تو یہ زہر کل سب سے پہلے آپ پر ازمائیں گے ۔ اپنے بچوں کو اچھے استاد سے قران مجید کی تعلیم دلوائیں جب آپکا بچہ قرآن مجید ختم کرلیتا ہےتو والدین انہیں، سورہ یوسف، سورہ نور ۔سورہ احزاب کی تفسیر اچھی طرح سے سمجھا دیں تاکہ انہیں معاشرتی قوائد کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کی حفاظت کرنا، سمجھ میں آجائے گااپنے بچوں کی دن بھر کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں ۔جھوٹ بولنےچوری جیسی برائیوں کی ناپسندگی اور اللہ کی ناراضگی اور اس کے نقصانات شروع سے ہی بچے کے دل ودماغ میں ڈال دیں ۔یورپ میں رہنے والے والدین کو چاہئیے کھانے پینے کی چیزیں خود گھر لاکر رکھیں 18 سال سے پہلے بچے کو کبھی پیسے نہ دیں اسے بولیں جو کچھ کھانا ہے یا لینا ہے ہم لے کر دیں گے ۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا بچہ باہر کے ماحول کی برائیوں سے بچ جائے گا کسی سے کچھ بھی نہیں لیکر کھائے گا ۔۔ جب جب موقع ملے اپنے آس پاس یا پھر اپنے پڑوسی رشتہ داروں کے بچوں کو بھی اچھی تربیت دینے کی کوشش کریں اپنے بچوں جیسی جیسا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے سلجھے ہوئے ہوں ایک اچھے شہری بنیں اسی طرح باقی بچوں پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔ ہم نے روز قیامت صرف اپنے بچے کے بارے میں حساب نہیں دینا بلکہ ارد گرد کے بچوں کی تربیت کے بارے میں بھی پوچھا جائے گااس لیے دوسروں کے بچوں کو بھی اپنے بچے سمجھ کر ان کو صحیح غلط کی تمیز سکھائیں جو کچھ اپ اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں وہ ان بچوں کو بھی سکھائیں ۔بچوں کی بہترین پروش کرنے کے ساتھ اپنے آس پاس کا ماحول بھی خوبصورت بنائیں کہ سیانے کہتے ہیں جہاں رہو ایسے رہو کہ آپ پاس ہوں تو ہنسیں ۔آپ چلے جائیں تو روئیں کسی کو ذلیل کرنے کی کوشش بھی نہ کریں، جو بات آپ کو تکلیف دیتی ہےآپکو کو بےچین کرتی ہے وہ بات دوسروں سے بھی نہ کریں جس سے وہ انسان درد محسوس کرے اگر کسی کو اپنی زات سے خوشی نہیں دے سکتے تو درد بھی نہ دیں انسان اللہ کی سب سے پیاری مخلوق ہے۔ اگر کوئی انسان آپ کے مطلوبہ معیار کا نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کم معیاری یا غیر معیاری ہے بلکہ وہ صرف آپ کے معیار کا نہیں ہے، یہ بھی تو ممکن ہے کہ آپ بھی کسی کے مطلوبہ معیار سے نچلے درجے پر ہوں، اور وہ اپکی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتا ہو ۔اللہ کی مخلوق کو اپنی پسند کے معیار پر نہ پرکھیں اگر آپ کے پاس بےشمار دولت ہے تو وہ اپ کی اپنی ذات کے لیے ہے دوسروں کو اس کا رتی بھر فائدہ نہیں ان کو فائدہ اگر کچھ ہے تو اپ کا ان کے ساتھ اچھا رویہ ہے اگر آپ ان کو دھتکاریں گے تووہ کونسا آپکو پھولوں کے ہار پہنائیں گے پیار عزت دینا بھی اعلی ظرف لوگوں کے پاس ہوتا ہے کم ظرف لوگوں کو اللہ نے یہ خوبی دی ہی نہیں ہوتی۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اسوہ حسنہ پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کوئی انسان اگر اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ معیار کا بھی نہیں ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے اسے بطور انسان اسے کبھی کم تر نہیں جانا اس کی سب سے بڑی مثال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورہ طائف سے ملتی ہے کہ جہاں آپ پر پتھر برسا کر آپ کو زخمی کیا گیا زبانی اور جسمانی ایذا دیا گیا وہاں بھی آپ نے بد کلامی، بد گمانی اور بد دعا کا سہارا نہیں لیا بلکہ اچھے گمان کے ساتھ دعا فرمائی، اس لئے اپنی پسند اپنی سوچ اور اپنی مرضی اپنی خواہش کو ٹھیک جان کر اللہ کے بندوں کے لئے فیصلے نہ کیجئے،بےشک آپ دن رات مصلحے پر بیٹھے ہوں پانچ وقت نماز ادا کرتے ہوں بے شک، آپ ایک سال میں چھ مہینے روزے رکھتے ہوں بے شک، آپ ہر ہفتے دو قرآن مجید مکمل کرتے ہوں بے شک،آپ جتنا کوئی نیک بندہ دنیا میں نہ ہو ، لیکن اللہ کے بندوں کو سخت سست سناتے ہوں، انہیں اپنے لیول کا نہیں مانتے ان سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہوں اپنی باتوں سے اپنے رویے سے ان کے دل چھلنی کرتے ہوں تو صرف ایک دفعہ وہ حدیث مبارک ضرور یاد کریں جس میں ایک نمازی، روزہ دار، زکوٰۃ ادا کرنے والے کے منہ پر اس کے اعمالوں کی گٹھڑی واپس مار دینے کا ذکر ہے،اور یہ واقعہ ایسا ڈرا دینے والا ہے کہ اگر انسان کو خود سے واقعی محبت ہے تو وہ ایسے کاموں سے بچ کر نکلنے کی کوشس کرے گا جس سے اللہ کی پکڑ کا ڈر ہوتا ہو اللہ تعالی ایسا وقت کسی دشمن پر بھی نہ لائے کہ اس کے اچھے کام اس کی عبادت ۔ایک ذرا سے تکبر کی وجہ سے اس کے منہ پر ماردی جائے اللہ سبحان تعالی ہمیں سیدھے راستے پر چلائے گمراہی اور تکبر سے محفوظ رکھے آمین ثمہ آمین

  • ناسا نے خلا میں سبز مرچیں اُگا لیں

    ناسا نے خلا میں سبز مرچیں اُگا لیں

    ناسا نے خلا میں کامیاب تجربے کے بعد سبز مرچیں اگا لیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ناسا کے خلا بازوں نے انٹرنیشنل خلائی سٹیشن پر مرچیں اگانے کا کامیاب تجربہ کیا اور اس کی تصاویر بھی جاری کریں ترجمان ناسا کے مطابق صفر کشش ثقل پر کاشت کاری کا تجربہ اگانے اور پیداوار کی وجہ سے کافی پیچیدہ تھا، خلائی سٹیشن پر اگائی گئی مرچوں کا کچھ حصہ خلا بازوں نے استعمال کر لیا ہے۔



    مرچوں کے ذائقہ، ساخت اور غذائیت پر مزید تحقیق کے لیے انہیں واپس زمین پر بھیجی جائیں گی یہ مرچیں جنوبی نیو میکسیکو ‘سینڈیا’ چلی اور لینڈریس چلی کے درمیان ایک کراس ہے، جو ریاست کے شمالی حصے میں پائی جاتی ہےآئی ایس ایس ریسرچ ٹیم نے اسے ‘آج تک کے سب سے مشکل پودوں کے تجربات میں سے ایک’ قرار دیا۔

    ناسا نے پہلے کہا تھا کہ کالی مرچ کو کئی ممکنہ خلائی فصلوں کے مقابلے میں کاشت کرنا زیادہ مشکل ہے کیونکہ ان کو اگنے، اور پھل پیدا کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

  • بھارتی انتہا پسندی میں پاگل ہو گئے،ویرات کوہلی کی 9 ماہ کی بیٹی کو ریپ کی دھمکیاں

    بھارتی انتہا پسندی میں پاگل ہو گئے،ویرات کوہلی کی 9 ماہ کی بیٹی کو ریپ کی دھمکیاں

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کی ٹیم مسلسل دو میچ ہار چکی ہے پہلے میچ روایتی حریف پاکستان سے 10 وکٹوں جبکہ دوسرے میچ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں 8 وکٹوں سے ہاری ہے بھارتیوں کو کرکٹ ٹیم کی شکست برداشت نہیں ہورہی تاہم اب تکبر اور جھوٹے احساس برتری میں مبتلا بھارتیوں نے تمام اخلاقی حدیں پار کرلیں۔

    باغی ٹی وی : ہندو انتہا پسندوں نے پاکستان کے خلاف شکست کا ذمہ دار بھارتی بولر محمد شامی کو قرار دیا تھا اور ساتھ ہی انہیں ‘غدار’ قرار دیا۔ بعد ازاں بھارتی کرکٹ بورڈ اور بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے محمد شامی کی حمایت میں ٹوئٹس کیں تھیں –

    محمدشامی کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے والوں کو کوہلی نے جواب دیتے ہوئے کہا "میرے لیے کسی کے مذہب کی وجہ سے اس پر حملہ کرنا سب سے شرمناک چیز ہے جو انسان کرسکتا ہے. اپنی رائے کو آواز دینا سب کا حق ہے.لیکن ذاتی طور پر میں نے کبھی کسی سے مذہبی بنیاد پر امتیاز کرنے کا سوچا بھی نہیں. یہ ہر انسان کےلئے انتہائی مقدس اور ذاتی چیز ہے اور اُسے وہیں رہنا چاہیئے لوگ اپنا غصہ نکالتے ہیں کیوں کہ انہیں سمجھ نہیں ہے کہ ہم افرادی طور پر کیا کرتے ہیں اور میدان میں کتنی کوشش کرتے ہیں-

    تاہم کپتان ویرات کوہلی کی جانب سے مسلمان فاسٹ بولر محمد شامی کے حق میں بیان دینے پر متعصب بھارتی باشندے تمیز کھوبیٹھے اور سوشل میڈیا پر اپنے اسٹار کرکٹر کو دھمکیاں دینا شروع کردیں دھمکی @Criccrazyygirl کے ٹوئٹر ہینڈل سے دی گئی جو بعد میں ڈیلیٹ کردیا گیا جس کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے. تاہم اس ٹوئٹ کے اسکرین شاٹس متعدد بار پوسٹ کیے گئے.


    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ویرات کوہلی کی 9 ماہ کی بیٹی وامیکا کوہلی کو ریپ کی دھمکیاں دی گئی ہیں جبکہ کوہلی کے خلاف ٹرینڈ بھی بنایا گیا۔

    سوشل میڈیا صارفین نے بھی ویرات کوہلی کی بیٹی کو ریپ کی دھمکیوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان کے لیجنڈری کرکٹر و سابق کپتان انضمام الحق نے بھی کوہلی کو دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    جب بھی کوہلی کی قیادت میں بھارت کی کارکردگی مداحوں کو مایوس کرتی ہے تو مداحوں کی جانب سے ان کی اہلیہ انوشکا شرما کو قصور وار ٹھہرانا اور نفرت انگیز پیغامات دینا اب ایک عام سی بات ہوچکی ہے 2016 میں بھی کوہلی نے اس وقت کی گرل فرینڈ انوشکا کی ٹرولنگ کرنے والوں کو کرارا جواب دیا تھا.

    2020 میں انوشکا شرما نے تب خاموشی توڑی جب ایک کرکٹ لیجنڈ نے تبصرہ کیا ویرات کوہلی کی فارم اور آئی پی ایل کےلئے تیاریوں پر تنقید کرتے ہوئے سنیل گواسکر نے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کوہلی صرف اپنی اہلیہ کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے دِکھائی دیئے.

    خیال رہے کہ بھارتی ٹیم کی شکست پر انتہاپسند ہندو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور ماضی میں بھی بھارتی کھلاڑیوں کے گھروں پر حملے کیے گئے تھے گزشتہ سال بھی انڈین پریمیئر لیگ میں شکست پر مہندرا سنگھ دھونی کی ننھی بیٹی زیوا کو بھی ریپ کی دھمکی دی گئی ہے-

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انگلینڈ کے ایمپائرمائیکل گف پرپابندی عائد

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انگلینڈ کے ایمپائرمائیکل گف پرپابندی عائد

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ : بائیو سکیور ببل کی خلاف ورزی پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انگلینڈ کے امپائرمائیکل گف پر 6 روز کی پابندی عائد کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز مائیکل گف بائیو سکیور ببل میں ہوٹل سے باہر نکلے اور بغیر اجازت لوگوں سے ملاقات کی جس کے بعد انہیں فوری طور پر قرنطینہ کردیا گیا قرنطینہ کے دوران مائیکل گف کا روزانہ کوویڈ ٹیسٹ کیا جا رہا ہے مائیکل گف نے پابندی کے باعث گزشتہ اتوار بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ میں امپائرنگ کے فرائض انجام نہیں دیئے، ان کی جگہ میریس ایراسمس نے اس میچ میں امپائرنگ کی۔

    رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے انگلینڈ کے امپائر مائیکل گف پرسخت ترین بائیو سکیور ببل توڑنے پر 6 روز کی پابندی عائد کی متحدہ عرب امارات میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں یہ بائیو سکیور ببل کی پہلی خلاف ورزی ہے جو کھلاڑی کے بجائے آفیشل کی جانب سے کی گئی ہے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل مقابلوں میں بہترین تصور کیے جانے والے امپائر مائیکل گف کو آئی سی سی بائیو سکیور کمیٹی نے 6 روز کے لیے قرنطینہ کردیا ہے جب کہ ان کی جانب سے بائیو سکیور ببل کی خلاف ورزی کی مزید تحقیقات کی جائیں گی قرنطینہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد مائیکل گف اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں گے تاہم انہیں آئی سی سی کی جانب سے مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس میں انہیں ٹی ٹوئنٹی کے سیمی فائنل کی امپائرنگ سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ 1998 سے 2003 تک یارک شائر سے کھیلنے والے سابق کرکٹر مائیکل گف نے 2013 میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی میچز سے اپنی امپائرنگ کا آغاز کیا اور اسی سال ستمبر میں ان دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے میچز سے بھی امپائرنگ شروع کی جب کہ مائیکل گف نے 2016 میں زمبابوے اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ سے اپنی ٹیسٹ امپائرنگ میں ڈیبیو کیا۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ :پاکستان اپنا چوتھا میچ آج نمیبیا کے خلاف کھیلے گا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ :پاکستان اپنا چوتھا میچ آج نمیبیا کے خلاف کھیلے گا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آج پاکستان اور نمبیا کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے میں آج نمبیا کے خلاف کھیلے گی میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے ابوظہبی میں کھیلا جائے گا قومی ٹیم میں آج چند تبدیلیاں کیے جانے کا امکان ہے۔

    گزشتہ روز قومی کرکٹ ٹیم نے دبئی میں آئی سی سی اکیڈمی میں بھر پور پریکٹس سیشن کیا کھلاڑیوں نے باؤلنگ ، بیٹنگ اور فیلڈنگ پریکٹس کی اور کوچز نے کھلاڑیوں کی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دی۔

    پاکستان نے ورلڈ کپ میں ابھی تک تین میچز کھلیے ہیں اور تینوں جیتے ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم نے روایتی حریف بھارت، نیوزی لینڈ اور افغانستان کو شکست دی ہے 3 میچ جیت کر چھ پوائنٹس کے ساتھ پاکستان اس وقت گروپ بی میں پوائنٹس ٹیبل میں سر فہرست ہے اور آج نمبیا سے کامیابی کی صورت میں گروپ بی سے قومی ٹیم باضابطہ طور پر سیمی فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بن جائے گی۔