اور یوں پاکستان کی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں فتوحات کا نہ رکنے والا سلسلہ کل رات بھی قائم رہا جب ہمسایہ برادر اسلامی ملک کی ٹیم کو ایک بار پھر ناقابل شکست پاکستانی ٹیم نے آخری دو اوورز میں سنسنی خیز میچ کے بعد شکست دے دی، اکثر ماضی میں یہ دیکھا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے میچ میں شائقین کے جذبات کو اس طرح پیش کیا گیا کہ یہ دو حریف ممالک کا میچ ہے اور شائقین ایک دوسرے کو دشمن کی نظر سے دیکھتے ہوئے بس ہر صورت گرانے کے خواہشمند ہیں، ہاں یہ سچ ہے افغانستان میں اس سے پہلے امریکی نواز حکومت کے ادوار میں جب بھی پاکستان افغانستان کا میچ ہوا، دونوں اطراف خصوصا افغانستان کے شائقین کی نظر میں ایک خاص نفرت کا عنصر دیکھا گیا جس کی بڑی وجہ بھارتی پراپیگنڈہ کے ذریعے ان کے دل میں پاکستان کے لیے پیدا کی گئی عداوتوں کا پہاڑ تھا لیکن جیسے ہی کابل میں افغان طالبان سرکار کا قیام عمل میں آیا دل پگھلے اور افغان عوام نے بھی دیکھا کہ افغانستان میں قیام امن میں پاکستان نے کس قدر تعمیری کردار ادا کیا اور بالآخر افغانستان جنگ زدہ حالات سے نکل کر ایک مستحکم اسلامی ملک بننے کی منزل پر چل نکلا، کل کے میچ میں افغان شہریوں کے جذبات الگ ہی تھے دونوں ممالک کے شائقین گھل مل کر بیٹھے میچ سے محظوظ ہوتے رہے، شائد ڈیورنڈ لائن کو مٹا کر بیٹھے تھے جیسے ایک ہی مذہب اور تقریبا یکساں کلچر والے دو مختلف حصوں میں رہنے والے دو بھائیوں کے مابین ایک لمحے کے لیے تمام فاصلے مٹ گئے ہوں، غور طلب بات یہ بھی رہی کہ افغان طالبان حکام کی جانب سے میچ سے پہلے دوران اور بعد میں بھی میچ کو دونوں ممالک کے مابین دوستی کے تناظر میں ہی پیش کیا گیا جبکہ پاکستانی سرکار اس ساری صورتحال میں دو قدم آگے ہی رہی، وزیراعظم نے میچ کے فوری بعد افغانستان ٹیم کی بہترین کارکردگی پر ان کو مبارک باد دی اور بطور کرکٹر ان کی جانب سے بہترین کرکٹ کھیلنے پر ان کو سراہا بھی اور مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی ہوا، یعنی یہ شاید گزشتہ تین میچز میں واحد میچ تھا جس میں پاکستانی شائقین کو بھی پاکستان کے جیتنے کی خواہش تو تھی لیکن افغانستان کی جیت بھی ان کی خوشی میں اضافے کا ہی باعث بنتی، کرکٹ سمیت دنیا بھر کے کھیل ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا اہم ترین ذریعہ بن چکے، بات چاہے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ میچ کی کریں یا پاکستان بھارت کی سیریز کی، دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے اور برف پگھلانے میں کھیل بہترین سفارتی آلہ بن چکے، پاک بھارت میچ کے دوران دونوں ممالک کے سوشل میڈیا صارفین بحث و مباحثے کی حد تک تو ایک دوسرے کے ساتھ مصروف عمل دکھائی دئیے لیکن بھارت کی بات کی جائے پاکستان یا افغانستان کی ٹیمز کی، تینوں ٹیمز کے کپتانوں سمیت کھلاڑیوں نے انتہائی ذمہ داری اور فراخی کا ثبوت دیا، ویرات کوہلی نے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کیا اور میچ ہارنے کے باوجود محمد رضوان کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد دی جبکہ سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی اس سے بھی دو قدم آگے بڑھے اور پویلین سے سٹیڈیم میں پہنچ کر پاکستانی ٹیم کو سراہا یہ ہی کل رات افغانستان کی ٹیم کی جانب سے دیکھا گیا جب سابق کپتان راشد خان میچ ہارنے کے باوجود بڑے دل کے ساتھ سٹیڈیم میں آصف علی کی دھوادھار بیٹنگ کو سراہتے نظر آئے، بس اب ضرورت ہے تو ممالک کے سربراہان کو سوچنے کی کہ وہ کس طرح دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرتے ہوئے بطور سفارتی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں تاکہ شہریوں کے مابین بڑھتے فاصلے بھی کم ہوں اور دو طرفہ تعلقات میں بھی بہتری آئے
Category: بلاگ
-

یو ٹیوب نے 17 سالہ نوجوان کو مجرم بنا دیا
نئی دہلی: بھارت میں 17 سالہ نوجوان نے یوٹیوب کی مدد سے جرائم کرنا سیکھا اور لاکھوں روپے لوٹ لئے۔
باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ نوجوان نے یوٹیوب کی مدد سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا اور واردات کے لیے یوٹیوب کا سہارا لینے لگا۔
نوجوان اے ٹی ایم سے رقم نکالنے والوں کی مدد کے بہانے ان کا کارڈ حاصل کرتا تھا اور ان کے اکاؤنٹس سے رقم نکال لیتا۔ یہ نوجوان اے ٹی ایم کے باہر رک کر ضعیف افراد کو اے ٹی ایم سے رقم نکالنے میں مدد کرتے ہوئے پن نمبر معلوم کرلیتا اور بڑی چالاکی سے انہیں ڈپلیکیٹ کارڈ دے دیتا جبکہ اصل کارڈ خود رکھ لیتا تھا۔
نوجوان نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے مختلف حصوں میں اے ٹی ایم کارڈ فراڈ کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے سے زائد رقم حاصل کی جس کے بعد اس نے طیاروں میں سفر کرنا اور فائیو اسٹار ہوٹلز میں قیام کرنا شروع کر دیا تھا گزشتہ ماہ چتور سے تعلق رکھنے والی ایک بزرگ خاتون نے اے ٹی ایم سے رقم نکالے جانے کی شکایت درج کروائی تھی پولیس نے ضعیف خاتون کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے شناخت کر کے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
قبل ازیں ہنی مون پر گئے نوجوان نے مہنگا موبائل فون خریدنے کیلئے بیوی کو فروخت کر دیا تھا واقعہ بھارت میں پیش آیا جہاں مہنگے موبائل فون کے چکر میں نوجوان نے اپنی بیوی فروخت کر دی انڈیا نیوز کے مطابق اوڈیشہ کے 17 سالہ نوجوان کی ایک ماہ قبل شادی ہوئی تھی نوجوان کی بیوی کی عمر 26 برس تھی، شادی کے بعد نوجوان اپنی بیوی کو ہنی مون کے لئے دوسرے شہر لے کر گیا جہاں اس نے اپنی بیوی کو ایک لاکھ اسی ہزار میں فروخت کر دیا، نوجوان نے جس شخص کو بیوی فروخت کی اسکا تعلق راجھستان سے بتایا جا رہا ہے اور اسکی عمر 55 برس ہے، نوجوان نے بیوی بیچنے کے بعد پیسے لئے ایک موبائل فون خریدا اور باقی رقم کھانے پینے و دیگر سرگرمیوں میں خرچ کر دی-
جب بیوی کو بیچنے کے بعد وہ گھر واپس آیا تو اس کے خاندان والوں نے بیوی کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ وہ کسی اور کے ساتھ چلی گئی ہے اور میں نے اسے چھوڑ دیا، نوجوان کے گھر والوں نے یقین کرتے ہوئے اسکی بیوی کے اغوا کا مقدمہ درج کروا دیا، پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے بعد کاروائی کی اور ملزم کو گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ اس نے اس عورت کو خریدا ہے،اور وہ عورت اپنی مرضی سے بھاگ کر نہیں گئی بلکہ اس کو اس کے شوہر نے فروخت کر دیا ہے ، اس دوران ملزم نے پولیس کے ساتھ مذاحمت بھی کی اور کہا کہ ہم نے خاتون کو خریدا ہے پیسے دیئے ہیں، تا ہم پولیس نے خاتون کو برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کیا بعد ازاں اس کے شوہر کو بھی گرفتار کر لیا،بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا ہے، عدالت کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ سنائے گی-
-

نیوزی لینڈ کے خلاف بھارتی بیٹنگ، کوہلی سمیت 5 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے
ٹی20 ورلڈ کپ 2021 میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھارتی بیٹنگ ، کپتان کوہلی سمیت پانچ کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔
باغی ٹی وی : دبئی میں کھیلے جا رہے میچ میں نیوزی لینڈ نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا بھارت کو پہلا نقصان اننگز کے دوسرے اوور میں ہوا جب ایشن کشن 4 کے انفرادی اسکور پر بولٹ کا شکار بنے۔
نیوزی لینڈ کا بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا
اس موقع پر روہت شرما و کے ایل راہول نے 24 رنز کی شراکت داری بنائی جو زیادہ لمبی نہ ہو سکی کے ایل راہول 18 رنز جب کہ روہت شرما 14 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی بھی بڑی باری کھیلنے میں ناکام رہے اور 9 رنز بنا کر چلتے بنے۔
واضح رہے کہ ٹاس کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے کہا کہ ہم بھی ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرتے، انہوں نے بتایا کہ ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ویلیمسن نے کہا کہ بھارت کو بڑا ہدف دینے کی کوشش کریں گے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:افغانستان نے نمیبیا کو شکست دے دی
لپ سیمی فائنل میں جانے کیلئے آج کے میچ میں جیت ضروری ہے نیوزی لینڈ کا ریکارڈ ہے کہ وہ 2016 سے بھارت سے کوئی ٹی ٹوئنٹی نہیں ہارا دونوں ٹیموں کو پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا انڈیا اور نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ میں دو بار 2007 اور 2016 میں آمنے سامنے آئیں، دونوں مرتبہ نیوزی لینڈ نے بھارت کو شکست کا مزہ چکھایا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: افغانستان کا نمیبیا کو جیت کیلئے 161 رنز کا ہدف:مگرفتح افغانستان…
-

لڑکیوں کا سوشل میڈیا تحریر: ماریہ ملک
دور حاضر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر متحرک ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے مثبت اثرات ہیں وہیں پر ایک تعداد اپنی منفی سوچ اور عوامل سے سوشل میڈیا سے منسلک لوگوں کے لئے تکلیف اور منفیت کا بھی باعث ہے۔
ذاتی حیثیت میں کوئی بھی چیز بُری نہی ہوتی جبتک اُس میں منفی عوامل کی آمیزش نہ کر دی جائے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ایک مضبوط اور وسیع پلیٹفارم مہیا کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کُچھ منفی سوچ کے حامل لوگوں کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی برائی کے اثرات سے بچ نہ پایا۔
سوشل میڈیا پر مرد و زن اپنی صلاحیات کو بروئےکار لانے میں یکساں طور پر متحرک اور اپنی قابلیت کی نکھار میں مصروفِ عمل ہیں۔
لیکن ایک بڑی تعداد اُن خواتین کی بھی ہے جو سوشل میڈیا پر موجود اوباش نوجوانوں کے منفی عوامل کی شکار نظر آتی ہیں اور بعظ اوقات انہی ہراسانی کیوجہ سے کنارہ کشی پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ دنیا کے بائیس مختلف ممالک کی لڑکیوں پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر بدسلوکی یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹفارمز میں سے فیس بُک پر سب سے سے زیادہ خواتین کو بدسلوکی کاسامنا نوٹ کیا گیا ہے۔ایک عالمی سروے کے مطابق آن لائن بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے لڑکیاں سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنےپر مجبور ہورہی ہیں۔ اس سروے میں شامل 58 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کے مطابق انہیں کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکیوں پر حملے سب سے زیادہ فیس بک پر ہوتے ہیں، اس کے بعد انسٹاگرام، واہٹس ایپ اور سنیپ چیٹ کا نمبر ہے۔
پلان انٹرنیشنل نامی تنظیم کی جانب سے کیے گئے سروے میں 22 ممالک میں 15 سے 22 برس کی عمر کی 14000 لڑکیوں سے بات کی گئی۔ اس میں امریکا، برازیل، یورپین ممالک اور بھارت کی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ ادارے کے مطابق ان لڑکیوں سے تفصیلی گفتگو کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بدسلوکی کا یہ سلسلہ ہر آنے والے وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی بدولت نوجوان اور ٹیلینٹڈ لڑکیوں کی بڑی تعداد خود یا اپنی فیملی کی وجہ سے سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور ہوئیںفیس بُک
سوشل میڈیا پر خواتین پر بد سلوکی اور ہراسانی ایک عام بات تصور کی جاتی ہے۔ فیس بک پر یہ حملے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ 39 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں فیس بک پر بدسلوکی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق انسٹا گرام پر 23 فیصد، واہٹس ایپ پر 14 فیصد، اسنیپ چیٹ پر 10 فیصد، ٹوئٹر پر 9فیصد اور ٹک ٹاک پر6 فیصد لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کا رجحان پایا گیا ہے۔ جو بتدریج بڑھ رہا ہےکوئی سوشل میڈیا محفوظ ہے؟
سروے سے اندازہ ہوا کہ بدسلوکی یا ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ہر پانچ میں سے ایک لڑکی نے سوشل میڈیا کا استعمال یا تو بند کردیا یا اسے بہت حد محدود کردیا۔ سوشل میڈیا پر بدسلوکی کے بعد ہر دس میں سے ایک لڑکی کے اپنی رائے کے اظہار کے طریقہ میں بھی تبدیلی آئی۔
سروے میں شامل 22 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ یا ان کی سہیلیوں نے ہراسانی کے خوف کی وجہ سے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
سروے میں شامل 59 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرحملے کا سب سے عمومی طریقہ توہین آمیز، غیر مہذب اور نازیبا الفاظ اور گالی گلوچ کا استعمال تھا۔ 41 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ ارداتاً شرمندہ کرنے کے اقدامات سے متاثر ہو کر کنارہ کش ہوئیں، حتیٰ کہ باڈی شیمنگ‘ اور جنسی تشدد کے خطرات کے خوف نے اُنہیں مجبور کر دیا۔ اسی طرح 39 فیصد نسلی اقلیتوں پر حملے، نسلی بدسلوکی کی شکار ہوئیں۔خود اعتمادی کو زوال
پلان انٹرنیشنل کی سی ای او اینی بریگیٹ البریکسٹن کا کہنا تھا کہ ”اس طرح کے حملے جسمانی نہیں ہوتے لیکن وہ لڑکیوں کی اظہار رائے کی آزادی اور سوشل ایکٹیویٹی کے لیے خطرہ ہوتے ہیں اور ان کے اعتماد محدود کردیتے ہیں۔اینی بریگیٹ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو آن لائن تشدد کا خود ہی مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
فیس بک اور انسٹا گرام انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بدسلوکی سے متعلق رپورٹوں کی نگرانی کرتے ہیں اور دھمکی آمیز مواد کا پتہ لگانے کے لیے آرٹیفیشل یا فہمی انٹلی جینس کا استعمال کرتے ہوئے کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
ٹوئٹر کا بھی کہنا ہے کہ وہ ایسی تکنیک کا استعمال کرتا ہے جو توہین آمیز مواد کی نشاندہی کرسکے اور اسے روک سکے۔
سوشل میڈیا مینجمنٹ کے اِن اقدامات کے باوجود مذکورہ بالا سروے سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے والی تکنیک اب تک اُس طرح سے موثر نہیں رہی۔
چنانچہ مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اِس اخلاقی اور قانونی جُرم کی روک تھام کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ والدین کو اپنی بیٹیوں کے اعتماد اور ہمت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ معاشرے میں خود اعتمادی کے ساتھ ہر آنے والے چیلنج کے ساتھ کامیابی سے نمٹ سکیں۔ شکریہ -

سہگل حویلی سے لال حویلی تحریر: عزیزالرحمن
راولپنڈی میں سہگل حویلی کی مرکزی عمارت، جو اب لال حویلی کے نام سے مشہور ہے، شہر کے بالکل وسط میں بوہڑ بازار میں ایک سو سال سے زائد زیادہ عرصے سے کھڑی ہے۔راولپنڈی شہر میں اس سے قبل ایسی کوئی عمارت نہ تھی۔ اس عمارت پر لکڑی، پیتل، چاندی اور دیگر دھاتوں کا استعمال کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت اس عمارت میں ایک کیمیائی لکڑی کا استعمال کیا گیا اور شہر میں یہ عمارت اپنی مثال آپ تھی۔ عمارت دو حصوں پر مشتمل تھی جس کا ایک حصہ مردوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جبکہ مرکزی اپارٹمنٹ اور پیچھے سے ایک حصہ خواتین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حویلی میں سہگل اور بدھاں بائی کے کمروں کو اعلیٰ پودوں اور پھولوں سے مزین کیا گیا تھا جو بوہڑ بازار میں کھلے بازاروں سے منسلک تھے۔ بدھاں بائی نے لال حویلی میں منتقل ہونے کے بعد رقص چھوڑ دیا تھا۔ راج سہگل نے حویلی کے اندر بدھاں بائی کے لیے ایک مسجد بھی تعمیر کرائی تھی جبکہ اپنی عبادت کے لیے ایک مندر تعمیر کرایا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ حویلی ایک مہاجر کشمیری خاندان کو الاٹ کی گئی ۔
بدھاں بائی کی اس داستان نے سہگل حویلی کو جنوں والی حویلی بنا دیا۔ سو برس بیت چکے لیکن محبت کی ادھوری داستان مر کر بھی زندہ ہے، بدھاں بائی کی یادیں پرچھائیاں بن کر آج بھی لال حویلی کے در و دیوار میں رقصاں ہیں۔
انمول پیار کی لازوال کہانی ایک صدی کا قصہ ہے، کہا جاتا ہے کہ اس حویلی کو شاہ راج سہگل نے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک جواں سال مسلم رقاصہ بدھاں بائی کے لیے تعمیر کیا تھا۔ مشہور ہے کہ سہگل جو جہلم کے ایک امیر کبیر ہندو خاندان سے تعلق رکھتا تھا سیالکوٹ کی اس رقاصہ سے ایک شادی کی تقریب میں ملاقات ہوئی۔ بدھاں کے گھنگھروں کی گھن سہگل کے دل پر ایسی اثر انداز ہوئی کہ پہلی ہی نظر میں سہگل بدھاں بائی کو دل دے بیٹھا اور اس کو شادی پر آمادہ کر لیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ان دونوں کی شادی ہو گئی اور سہگل باندھ بائی کو سیالکوٹ سے راولپنڈی لے آیا اور اس کے لیے ایک حویلی تعمیر کروائی اور اپنا پیار امر کر ڈالا۔
1947ء میں برصغیر تقسیم ہوا تو محبت بھی تقسیم ہو گئی، راج سہگل کو ہندوستان جانا پڑا لیکن بدھاں بائی یہیں رہ گئیں۔ پوری محبت کی اس آدھی کہانی میں پر اسرار موڑ اس وقت آیا جب بدھاں بائی اپنے بھائی کی موت کے بعد اچانک حویلی چھوڑ کر کسی گمنام وادی میں کھو گئیں۔ بدھاں کے بعد سہگل حویلی پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لئے اور اس حویلی کو جنوں کی حویلی کہا جانے لگا۔ وقت گزرا اور پھر اس حویلی کو نئی شناخت اس وقت ملی،جب 1985ء میں شیخ رشید نے سہگل حویلی کو خرید کر لال حویلی کا نام دے دیا، اب یہ حویلی محبت کی خوشبو کی بجائے سیاست کے دھوئیں کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔
کبھی یہ حویلی محبت کے علامت ہوا کرتی تھی جو آج کل عوامی مسلم لیگ کا پبلک سیکرٹریٹ ہے اور پارٹی کے سربراہ و وفاقی وزیر برائے داخلہ شیخ رشید احمد کی ملکیت بتائی جاتی ہے اور سیاسی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ 1985ء کے بعد شیخ رشید احمد نے اس کو سیاست کا گڑھ بنایا اس لال حویلی نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی میزبانی کی جن میں موجودہ اور سابقہ وزیراعظم شامل ہیں ۔ اسکے علاوہ 90 کی دہائی میں جب الیکشن ہو رہے تھے تو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بی بی سی نے انٹرویو کیا اور راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے بارے میں سوال کیا اسکے بعد صحافی نے بے نظیر بھٹو شہید صاحبہ کو مشورہ دیا کہ” آپ راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کو ٹکٹ لال حویلی کو دے دیں ۔”وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اب لال حویلی کو فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے ۔
-

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:افغانستان نے نمیبیا کو شکست دے دی
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں افغانستان نے نمیبیا کو شکست دے دی۔
باغی ٹی وی :افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقرررہ اوورز میں پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر 160 رنز بنائے اور نمیبیا کو جیت کے لیے 161 رنز کا ہدف دیاافغانستان کے محمد شہزاد 45 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ حضرت اللہ زازئی نے 33 رنز بنائے اور محمد نبی 32 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے نمیبیا کے جان نکول نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
نمیبیا نے 161 رنز کے تعاقب میں اپنی بیٹنگ کا آغاز کیا لیکن آغاز اچھا نہیں ہوا ابتدا میں ہی کریج ولیم ایک رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے جبکہ میچل وین صرف 11 رنز ہی بنا سکے نمیبیا کے جے جے سمتھ بغیر کوئی رن بنائے واپس پویلین لوٹ گئے۔ ڈیوڈ 26 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔
افغانستان کے نوین الحق اور حامد حسن نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ گلبدین نائب نے 2 اور راشد خان نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا افغانستان نے نمیبیا کو 62 رنز سے شکست دے دی جبکہ نوین الحق کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا-
-

نیوزی لینڈ کا بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 میں نیوزی لینڈ نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے ۔
باغی ٹی وی : ٹاس کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے کہا کہ ہم بھی ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرتے، انہوں نے بتایا کہ ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ویلیمسن نے کہا کہ بھارت کو بڑا ہدف دینے کی کوشش کریں گے۔
واضح رہے لپ سیمی فائنل میں جانے کیلئے آج کے میچ میں جیت ضروری ہے نیوزی لینڈ کا ریکارڈ ہے کہ وہ 2016 سے بھارت سے کوئی ٹی ٹوئنٹی نہیں ہارا دونوں ٹیموں کو پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا انڈیا اور نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ میں دو بار 2007 اور 2016 میں آمنے سامنے آئیں، دونوں مرتبہ نیوزی لینڈ نے بھارت کو شکست کا مزہ چکھایا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: افغانستان کا نمیبیا کو جیت کیلئے 161 رنز کا ہدف:مگرفتح افغانستان کا مقدربن سکتی ہے
آج کے میچ میں شکست کھانے والی ٹیم کے لئے سیمی فائنل تک رسائی مشکل ہوجائے گی۔ دبئی کے بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم میں شام سات بجے کھیلا جانے والا یہ میچ ہر لحاظ سے دلچسپ ہوگا۔
کیویز اپنے فاسٹ بولنگ اٹیک سے بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی تیار کیے ہوئے ہے، فاسٹ بولر ٹم ساؤدی کہتے ہیں کہ بھارت ایک بہترین ٹیم اور وہ بھی ہماری طرح فتح کیلیے بے چین ہوں گے، اس لیے یہ ایک زبردست مقابلہ ثابت ہونے والا ہے، پہلا میچ ہمیشہ ہی کافی مشکل اور ہمیں پاکستان کی بہترین ٹیم کے ہاتھوں ناکامی ہوئی مگر اب ہم اس مختصر ٹورنامنٹ میں آگے کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارت بھی اپنے تجربہ کار بیٹسمینوں کی مدد سے فتح حاصل کرنے کیلیے پراعتماد ہے، ٹیم میں فوری طور پر کسی ردوبدل کا امکان بظاہر کم ہے، جیت سے ویرات کوہلی بھی گرین شرٹس سے ملنے والی شکست کا غم کچھ کم کرنا چاہتے ہیں۔
سیمی فائنل اور فائنل میچ میں کونسی ٹیمیں پہنچیں گی سینئیر کرکٹر شین وارن کی اہم…
-

جمعتہ المبارک کی سنتیں تحریر: محمد آصف شفیق
جمعہ کا دن دین اسلام میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اس دن کے حوالے سے رب کریم قرآن کریم میں فرماتے ہیں
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذِکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو ، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔(9سورۃ الجمعہ)
اور پھر اگلی ہی آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔(10سورۃ الجمعہ )
اس دن میں غسل کرنا اچھی طرح تیار ہونا خوشبو لگانا سب نبی مہربان ﷺ کی سنتیں ہیں اس دن کی برکت کو سمجھنے کیلئے چند احادیث مبارکہ کا آج مطالعہ کریں گے
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور جس قدر ممکن ہو، پاکی حاصل کرے، یا پھر تیل لگائے یا خوشبو ملے اور مسجد میں اس طرح جائے کہ دو آدمیوں کو جدا کرکے ان کے درمیان نہ بیٹھے اور جس قدر اس کی قسمت میں تھا، نماز پڑھے، پر جب امام خطبہ کیلئے نکلے تو خاموش رہے، تو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 874
حضرت ابوالیمان، شعیب، زہری، طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرو، اور اپنے سروں کو دھولو، اگرچہ تمہیں نہانے کی ضرورت نہ ہو، اور خوشبو لگاؤ، تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا کہ غسل کا حکم تو صحیح ہے، لیکن خوشبو کے متعلق مجھے معلوم نہیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 850 )
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جو شخص جمعہ کی نماز کیلئے آئے تو وہ غسل کر لے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 860)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ مرد پر واجب ہے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 861)
حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعہ کے دن سویرے نکلتے اور جمعہ کی نماز کے بعد لیٹتے تھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 868)
حضرت یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب روایت کرتے ہیں، کہ ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن دوسری اذان کا حکم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا، جب کہ اہل مسجد کی تعداد بہت بڑھ گئی، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب کہ امام (منبر پر) بیٹھ جاتا تھا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 879)
نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے بروقت مسجد پہنچنے کی فضیلت اس حدیث مبارکہ میں یوں بیان کی گئی ہے
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور سب سے پہلے اور اس کے بعد آنے والوں کے نام لکھتے ہیں اور سویرے جانے والا اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ کی قربانی کرے پھر اس شخص کی طرح جو گائے کی قربانی کرے اس کے بعد دنبہ پھر مرغی، پھر انڈا صدقہ کرنے والے کی طرح ہے جب امام خطبہ کے لئے جاتا ہے تو وہ اپنے دفتر لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ کی طرف کان لگاتے ہیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 893)
جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی ہے جس میں اللہ رب العالمین سے جو بھی دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے جسے اس حدیث مبارکہ میں یوں بیان کیا گیا ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اس ساعت میں جو چیز بھی اللہ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے اس ساعت کی کمی کی طرف اشارہ کیا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 899 )
آپ ﷺ جمعہ کے دن نماز فجر میں سورۃ السجدہ اور سورۃ دہر کی تلاوت فرماتے
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت الم تَنْزِيلُ (السَّجْدَةُ) اور هَلْ أَتَی عَلَی الْإِنْسَانِ ( سورت دہر) پڑھتے تھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1025)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، مگر یہ کہ اس کے ایک دن پہلے یا اس کے بعد ملا کر روزہ رکھے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1910)
ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم جمعہ کے دن جلد مسجد پہنچیں تاکہ ہمارا نام بھی اول وقت میں آنے والوں میں لکھا جائے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے ہر دروازہ پر (متعین ہو کر) سب سے پہلے پھر اس کے بعد (پھر اس کے بعد اسی طرح) آنے والے کو لکھتے رہتے ہیں جب امام (خطبہ کے لئے) منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفوں کو لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لئے آجاتے ہیں۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 471)
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں جمعہ کی فضیلت کو سمجھنے والا اور اس دن کے اجر وثواب کو حاصل کرنے والا بنا دے آمین یا رب العالمین
-

ڈراموں کی اسٹوریز اور ہماری نسلیں ! تحریر علی مجاہد
آج کل اگر ہم ٹی وی چینلز کی بات کریں ویسے تو بہت ماڈرن زمانہ ہو گیا ہے ٹیلی ویژن کی تو ویلیو نہیں ہر چیز جب چاھیں جہاں چاھیں آپ کے موبائل،آم آئی پیڈ یا لیپ ٹاپ وغیرہ میں آسانی سے دیکھ سکتے ہیں بہرحال ہم بات کر رہے تھے ٹی وی چینلز کی سیٹینگ کی تو انکی سیٹنگ بھی بلکل اجیب ہے سب سے پہلے سارے فلموں والے چینلز پھر ڈراموں والے پھر نیوز والے اور پھر اینڈ میں کئی جا کر اسلامی چینلز، جو سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا وہ سب سے آخر میں اور جو آخر میں ہونے چاھیے تھے وہ سب سے پہلے ہوتے ہیں، آپ اگر شام 8 بجے کہ بعد ڈراموں والے چینلز دیکھیں گے تو کئی دائیں طرف سے عورت کو چانٹا لگ رہا ہوگا کسی کو بائیں طرف اور کئی پر الٹیاں ہوں گی پریگننسی ہو گئی میں یہ نہیں کہتا اس ملک میں عورتوں پر ظلم نہیں ہوتا مگر ہمارے ڈرامے والے بار بار ایک ہے چیز دیکھا کہ کیا کہنا چاھتے ہیں؟ کچھ دنوں پہلے ایک ڈراما (جدا ہوئے کچھ اسطرح) کا ٹریلر دیکھا کی جی وہ کوئی شادی ہو گئی ہے لڑکے لڑکی کی تو نانی جی کہتی ہیں یہ تو بہن بھائی ہیں وہ بھی رضائی والے مطلب دو کزن ہم عمر ہیں غلطی سے اپنے بچے کہ جگہ دوسرے کو دودھ پلا دیا تو ہوگئے رضائی بھائی بہن یعنی اپنی اولاد کو ہی نہیں پہچانا اور پھر نانی اما نے یہ تو بتا دیا یہ بھائی بہن ہے اور دوسری طرف اب لڑکی پریگننٹ ہو گئی ہے، اس ٹاپک کہ بعد آپکو پھر دیکھے گا ڈرامے کا دوسرا موضوع جس میں ہمیں دیکھایا جاتا ہے دیور بھابھی سے محبت کرتا یا لڑکی کئی جاب کرتی ہے تو وہاں بوس سے پیار کر بیٹھتی ہے بالکل بھی فرق نہیں پڑتا وہ شادی شدہ ہے یا اسکا بچہ ہے کچھ بھی نہیں یہ کہانی آپ نے پچھلے دنوں بہت نام سنا ہوگا ( میرے پاس تم ہو ) اسکا سین بیان کر رہا ہوں ہمارے یہاں آپکو صرف یہ دو ہی ٹاپک ملیں گے اور پھر ڈراما لکھنے والا کہتا ہے جو روز مرہ کی زندگی میں ہوتا ہے وہ دکھاتے ہیں ہم تو کیا ہمارے ملک میں ہمارے معاشرے میں بچے لوگ ٹیچرز نہیں بنتے یا پھر گورنمنٹ سکول یا ہسپتال کے ان لوگوں پر کہانی نہیں بن سکتی جو گھر بیٹھے بیٹھے تنخواہیں اٹھا رہے ہوتے ہیں میں ایسا ہر گز نہیں کہوں گا کہ سارے ایسا کرتے ہیں پر کچھ بھی آٹے میں نمک کے برابر لوگ ہی سہی کرتے تو ہیں تو ان پر کہانی بنائو، ہمارے یہاں آپ معاشرے میں دیکھیں گے بچوں نے انجیرنگ کی ہے کسی نے ڈاکٹری یا کچھ بھی کیا ہو محنت کی ہے تعلیم حاصل کی ڈگریاں حاصل کیں پر بیروزگار ہیں ان پہ بھی تو ایک بہت زبردست کہانی بن سکتی ہے یہ بھی تو زندگی میں ہو رہا ہے ان پہ کوئی کیوں کوئی ڈراما یا فلم نہیں بناتا ؟ آجکل ڈراموں میں بے حیائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیکھاتے پاکستان میں اس وقت جو طلاقوں کی سب سے زیادہ وجہ جو بنتی ہے میں سمجھتا ہوں وہ ڈراما سیریل ہے کیوں کہ ڈراموں کہ ذریعے ہماری نسلوں سے پیار ختم کرکے نفرتیں پیدا کر رہی ہیں وہ ہماری بچیوں اور خواتین میں آزادی کی باتیں ڈالتے ہیں کہ عورت کو آزادی ہونی چاہیے کچھ بہنیں سمجھدار ہوتی ہیں تو کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں ہیں جو پھر روڈ پر نکل آتی ہیں کہ ہمیں آزادی چاہیے میں تو وقت کے حکمرانوں اور گھر کے سربراہوں سے ایک گزارش کروں گا اگر آپ ریاست مدینہ چاھتے ہیں تو اپنی نسلوں کو ڈراموں سے نکال کر صحابہ کرام کی سیرت پڑھائیں صحابیات کے واقعات پڑھائیں پھر آپ ریاست مدینہ قائم کر سکتے ہیں ہر گھر کی زمہ داری اس گھر کے مرد کی ہوتی ہے نا کہ حکومت یا حکمرانوں کی تو بہرحال اپنی نسلوں میں اور انکی سانچوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔
-

فیصلہ پارٹ نمبر 3 تحریر سکندر علی
پھر اس نے خط جیب میں رکھا اور کمرے سے نکل کر مختصر برآمدے سے ہوتا ہوا اپنے باپ کے کمرے میں گیا جہاں
اس کا مہینوں سے جانا نہیں ہوا تھا۔ وہاں جانے کی اسے ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ کاروباری سلسلے میں روز ہی تو وہ
ملتے تھے اور کھانے کے وقفوں میں دوپہر کا کھانا بھی اکٹھے ہی کھاتے تھے۔ البتہ شام کو دونوں اپنے مرضی سے وقت
گزارنے میں آزاد تھے۔ جارج زیادہ تر دوستوں کے ساتھ باہر چلا جاتا یا جیسا کہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا کہ وہ اپنی منگیتر سے
ملنے چلا جاتا بصورت دیگر دونوں باپ بیٹا کچھ وقت ساتھ گزارتے اوراپی مشترکہ بینک میں بیٹھ کر اخبار پڑھتے ۔
جارج کو حیرت ہوئی کہ ایسے روشن دن میں بھی اس کے باپ کا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ کرہ تک مین کی
دوسری جانب اونچی دیوار کے سائے میں واقع ہونے کی وجہ سے سورج کی براہ راست روشنی سے محروم تھا۔ اس کا باپ
کھڑکی کے نزدیک ایک کونے میں بیٹا تھا جہاں اس کی مرحوم والدہ کی تصویریں اور تلف نشانیاں لگی ہوئی تھیں اور اخبار
کو پڑھتے ہوئے اپنی آنکھوں کے سامنے یوں ایک طرف کیے ہوئے تھا جیسے بھارت کے قص پر قابو پانے کی کوشش کر رہا
ہور میز پاس کے ناشتے کا، جس کا صاف معلوم ہوتا تھا کہ کم ہی حصہ کھایا گیا، باقی ماندہ حصہ پڑا تھا۔
اوہ جارج اس کے باپ نے فورا اپنی جگہ کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔ چلنے سے اس کا بھاری بھر کم شب خوابی کا
لباس کھل گیا اور پلواس کے جسم کے گرد پھڑ پھڑائے گئے۔
میرا باپ ابھی تک ایک جسیم انسان ہے۔ جارج نے خود سے کہا۔
وہ بولا ” یہاں نا قابل برداشت اندھیرا ہے ۔
ہاں، کافی اندھیرا ہے۔ اس کے باپ نے جواب دیا۔
آپ نے کھڑکیاں بھی بند کی ہوئی ہیں؟
ایسا ہی اچھا لگتا ہے۔
اخیر باہر کافی گری ہے۔ جارج نے کہا جیسے وہ اپنی پچھلی بات ہی کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہوں۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔
اس کے باپ نے ناشتے کے برتن صاف کیے اور انھیں ایک الماری میں رکھ دیا۔
دور میں صرف آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا تھا کہ جارج اپنے باپ کی حرکات کا مشاہدہ کرتے ہوئے بولتا رہا، میں
سینٹ پیٹرز برگ خط لکھ کر اپنی منگنی کی خبریج رہا ہوں ۔ اس نے اپنی جیب میں سے خط پہلے مجھے باہر کیا لیکن پھر اسے
والیں اندر سید لیا۔
سینٹ پیٹرز برگ؟ اس کے باپ نے پوچھا۔
میرے دوست کو جارج نے اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ
کاروباری معاملات میں مریض کتنا مختلف ہوتا ہے ۔ کیسے مضبوطی سے اپنے بازوں کو باندھے بیٹھتا ہے۔
۔
او ہاں، اپنے دوست کو اس کے باپ نے مجیب انداز میں زور دیتے ہوئے کہا ۔
اچھا، ای جان آپ تو جانتے ہیں کہ پہلے میں اسے اپنی نئی کے بارے میں بتانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ بس
اس کا سوچ کر ورنہ کوئی دوسری وجہ نہیں تھی۔ آپ خود جانتے ہیں کہ وہ ایک مشکل انسان ہے۔ میں نے خود سے سوچا کہ
اسے ضرور کسی نیکی ذریعے سے میری منگنی کے بارے میں پتہ چل جائے گا
، حالاں کہ اس کی خلوت گزینی کی زندگی میں
اس بات کا امکان بہت زیادہ نہیں ہے اور اسے میں روک بھی نہیں سکتا لیکن میں اسے خبر دینے پر تیارنہیں تھا۔
اور اب تم نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ اس کے باپ نے پوچھا، اپنا بڑا اخبار کھڑکی کی دہلیز پر پھیلاتے ہوئے
جب کہ اس کے ہاتھ میں نظر کا چشمہ تھا جسے اس نے ایک ہاتھ سے ڈھانپا ہوا تھا۔
ہاں، اس بارے میں سوچتا رہا ہوں ۔ میں نے خود سے کہا کہ اگر وہ میرا چھا دوست ہے تو میری خوشی سے اسے بھی
خوشی ہوگی ۔ اس لیے اب مجھے اس کو اس بارے میں بتانے میں کوئی پچکچاہٹ نہیں ہے لیکن خط بھینے سے پہلے میں نے سوچا کہ آپ سے بات کرو۔
جارج اس کے باپ نے اپنا بغیر دانتوں کا منہ پورا کھولتے ہوئے کہا میری بات سنو تم اس معاملے پر مجھ
سے بات کرنے آئے ہو۔ بلا شبہ یہ تمھارے سعادت مندی ہے لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔ بلکہ یہ پیش نہ ہونے کی
بہتر ہوتا تو مجھے پورا ن ت بتاتے ۔ میں ان باتوں کو نہیں پھیرنا چاہتا ہو اس موقع سے مناسب نہیں رکھتی ہیں تمھاری ماں
کی وفات کے بعد سے یہاں کچھ خاص قابل اعتراض باتیں ہوری ہیں۔ ایران پر بات کرنے کا ویتنے کا اور
شاید اس سے بھی جلدر جتنا ہمارا اندازہ ہے۔
کاروبار میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا مجھے علم نہیں ہو پاتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مجھ سے چھپائی جاتی ہوں ۔ میں یہ
نہیں کیہ رہا کہ نھیں جان بوجھ کر مجھ سے چھپایا جاتا ہے۔ میں پہلے ہمیں صحت مند نہیں رہا میری یادداشت کمز ور پوری
ہے۔ میں اب مزید بہت کی باتوں پر ایک ساتھ نظر نہیں رکھ پاتا۔ ایک تو یہ سب کچھ قدرتی عمل کا حصہ ہے اور دوسری بات
تمھاری ماں کی وفات تمھاری نسبت میرے لیے کہیں زیاد و پر ادا کی تھی لیکن چوں کہ ابھی ہم اس خط پر بات کر رہے
ہیں، جارج میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے دھوکہ مت دو۔ تو بہت معمولی بات ہے۔ اتنی بھی اہم نہیں ہے کہ اس کا
ذکر کیا جائے ۔ اس لیے مجھے دھوکہ مت دو۔ کیاوقتی سینٹ پیٹرز برگ میں تمھارا کوئی دوست ہے؟
جارج پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے دوستوں کی بات چھوڑیے۔ ہزاروں دوست بھی میرے لیے باپ کا
تبادل نہیں ہو سکتے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں کیا سوچتا ہوں؟ آپ اچھے طریقے سے اپنا خیال نہیں رکر ہے۔ بڑھاپے
میں زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروبار میں آپ کا ہونا میرے لیے ناگزیر ہے۔ آپ بھی یہ بات اچھی طرح
جانتے ہیں لیکن اگر کاروبار آپ کی صحت کے لیے منتر ثابت ہے تو میں اسے کل ہی ہمیشہ کے لیے بند کرنے پر تیار ہوں لیکن
اس سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں آپ کی طرز زندگی میں تبدیلی پیدا کرنی ہوگی ۔ ایک بڑی تبدیلی ۔ آپ یہاں تاریکی میں بیٹے
رہے ہیں جب کہ بینک میں اچھی خامسی روتی ہے ۔ اپنی صحت کا رسک لیتے ہوئے آپ بہت کم پاشی کرتے ہیں ۔ بند
کھڑکی کے پاس بیٹھے رہتے ہیں ۔ اگر ہوا آتی رہے تو اس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا ۔
( ابھی جاری ہے)