Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    وقت ضائع کرنے سے کیسے روکا جائے ،تحریر:ام سلمیٰ

    حصہ دوئم

    آپ ہر روز ٹی وی کے سامنے کتنا وقت گزارتے ہیں؟ اگر آپ کے روزمرہ کے معمولات میں کام سے گھر آنا شامل ہے ، ذہنی طور پر صرف ٹی وی آن کرنے کے لیے تھک جاتا ہے اور اگلے تین سے چار گھنٹے بغیر سوچے سمجھے شوز دیکھتا رہتا ہے۔ آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں

    دن کا آغاز نیت سے کریں کے آپ نے کیا اہم کام کرنے ہیں ۔
    اگر آپ دن کا آغاز ہر دن مکمل کرنے کے معنی خیز مقاصد کے ساتھ کرتے ہیں تو آپ اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کر استعمال کر رہے ہیں۔

    مثال کے طور پر ، اگر آپ تیس منٹ ورزش ، ایک گھنٹہ سوشل میڈیا اور ایک دو گھنٹے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گزارنے کے منصوبے کے ساتھ اٹھتے ہیں تو آپ اپنے وقت کا اچھا استعمال کر رہے ہیں۔ (اور یہ آپ کے دن کے صرف ساڑھے تین گھنٹے ہیں) باقی وقت کو گزارنے کے لیے بھی اچھا منصوبہ بنائیں.

    صحت اور تندرستی ، تعلیم اور تعلقات کی تعمیر فضول سرگرمیاں نہیں ہیں۔ آپ کو سونے سے پہلے اپنے کیلنڈر کو دیکھنے کی ضرورت ہے ، دیکھیں کہ اگلے دن آپ کہاں جا رہے ہیں اور ان سرگرمیوں میں شامل کریں جو آپ اس دن کرنا چاہتے ہیں۔

    دن کے لیے اپنے مقاصد کو مکمل کرکے ، آپ محسوس کریں گے کہ آپ نے ایک معنی خیز دن گزارا ہے ، اور اس سے بہت زیادہ مثبت توانائی آئے گی۔ یہ آپ کو اگلے دن اسی طرح کے مزید کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

    کچھ ایسے مقاصد اپنی زندگی میں شامل کریں جو آپ کو بطور فرد بہتر بناتے ہیں ، آپ کے مثبت جذبات کو بلند کرتے ہیں اور آپ کی صحت کو برقرار رکھتے ہیں آپ کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

    ایک فعال حالت میں رہیں توجہ رکھیں اپنی کاموں پر.
    ہر دن اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ کرنا ایک رد عمل کی حالت سے تبدیل ہونے کے بارے میں ہے۔

    ایک رد عمل کی حالت وہ ہے جہاں آپ غیر ضروری چیزوں پے وقت لگا رہے ہوتے ہیں. جہاں آپ اپنے کنٹرول سے باہر کے واقعات کو کنٹرول کرتے کی کوشش میں وقت ضایع کرتے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں اور آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال ، منفی خبریں ، بے مقصد مباحثوں میں شامل ہونا اور ای میل کو کنٹرول کرنے کی اجازت دینا کہ آپ کام پر ہر روز کیا کرتے ہیں۔

    ایک فعال حالت وہ ہے جہاں آپ دن کا آغاز نیت سے کرتے ہیں۔ آپ کچھ ورزش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، اپنے علم کو بہتر بنائیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ آپ اس دن کیا کام کریں گے۔ آپ اپنے کنٹرول سے باہر ہونے والے واقعات کو آپ کے مزاج پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور آپ سیاست ، موجودہ معاملات یا مشہور شخصیات کی گپ شپ کے بارے میں فضول بحث سے گریز کرتے ہیں۔

    اگر آپ کے پاس دن کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے تو آپ ایک رد عمل کی حالت میں ہوں گے۔

    دن کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ پیچیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو صرف چند سرگرمیوں کو منتخب کرنے کی ضرورت ہے جو آپ کو تقویت بخشیں ، ایسی سرگرمیاں جو آپ کرنے کے منتظر ہوں گے اور کسی نہ کسی طرح آپ کی زندگی کو بہتر بنائیں گے۔

    ایک پھنسے ہوئے منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھانے کے ارادے سے اپنے کام کا دن شروع کرنا ، تیس منٹ باہر فطرت میں بغیر کسی کسی کام کسی وجہ کے پر سکون گزاریں، صرف تیس منٹ آف لائن رہنے کی آزادی سے لطف اندوز ہونا آپ کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے بہت کچھ سوچنے کا موقع فراہم کرے گے یہ 30 منٹ.

    روزانہ کرنے کے لیے چند ایک سرگرمیوں کا انتخاب ہو آپکو آپ کے وقت کو زیادہ سے زیادہ بہتر گزارنے کا احساس دیں ، یہ چیز آپ کے مزاج کو بہتر بناتی ہے اور آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ نے اپنا دن ضائع نہیں کیا۔اور اس کا کچھ اچھا استعمال کیا اور اس سے آپ نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا.وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے سب سے اہم ہے منصوبہ بندی اس کے بارے میں سوچیں منصوبہ بنائیں اپنا دن گزرنے کا اور اپنا وقت بچائیں۔

    Twitter Handle
    @umesalma_

  • مقبوضہ کشمیر: شہید عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ:شہادتوں کا سلسلہ نہ رُک سکا

    مقبوضہ کشمیر: شہید عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ:شہادتوں کا سلسلہ نہ رُک سکا

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر: شہید عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ:شہادتوں کا سلسلہ نہ رُک سکابھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں ایک جعلی مقابلے شہید ہونے والے کشمیری نوجوان عامر ماگرے کی میت اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ قبل ازیں جعلی مقابلے میں شہید ہونے والے دو شہریوں محمد الطاف بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کی میتیں ہندوازہ کے قبرستان میں قبرکشائی کے بعد لواحقین کے حوالے کی گئیں۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ٹویٹر پر لکھا”عامر ماگرے کے اہلخانہ بھی تاحال اپنے پیارے کی مناسب طریقے سے تدفین کے منتظر ہیں ۔انہوںنے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاندان انصاف مانگنے کے بجائے میت کی بھیک مانگ رہا ہے۔“

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا ”یہ کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ماگرے ایک عام شہری ہے۔ انتظامیہ ان کی لاش واپس کرے“

    دریں اثنا شہید نوجوان عامرماگرے کے والد نے ڈپٹی کمشنر اورایس ایس پی رام بن سے ملاقات کی اور اپنے بیٹے کی میت واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔شہیدعامر کے والد محمد لطیف ماگرے نے ا پنے گاوں کے سرپنچ اور اپنے کئی رشتہ داروں کے ہمراہ ڈی سی اور ایس ایس پی سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کی میت کے علاوہ کچھ نہیں مانگ رہا جو ہندواڑہ کے قبرستان میں دفن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب سری نگر کے دو شہریوں کی میتیں ان کے لواحقین کے حوالے کی گئیں میرے بیٹے کی میت بھی ہمارے حوالے کی جانی چاہیے۔

    ادھر دوسری طرف بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع کولگام میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے Ashmujiمیں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ آخری اطلاعات تک علاقے میں بھارتی فوج کا آپریشن جاری تھا۔

  • پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

    پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

    آج صبح سے پاکستان ٹوئٹرٹرینڈ نگ پینل پر "شلوار” ٹرینڈ کر رہا ہے جس پر صارفین شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستانی ٹوئٹر صارفین نے جب ٹاپ ٹرینڈ ’شلوار‘دیکھا تو حیرانی میں مبتلا ہوگئے کہ اب یہ ٹرینڈ کیا مواد لے کر آیا ہے جو ایک دم سے سر فہرست آ گیا تاہم بعد ازاں جب اس ٹرینڈ کو دیکھا تو پاکستانی صارفین یہ دیکھ کر سخت غم و غصے کی کیفیت میں آگئے کہ یہ ٹرینڈ ایک نازیبا ویڈیو کی بنیاد پر بنا-

    ویڈیو دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پاکستانی لڑکی بغیر شلوار پہنے چل رہی ہے۔ویڈیو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ویڈیو لڑکی کی مرضی سے بنائی جا رہی ہے جس میں وہ کسی ماڈل کی طرح کیٹ واک کرتی ہوئی کیمرہ کی طرف آرہی ہے۔

    علینا نامی اکاونٹ سے یہ ویڈیو شیئر کی گئی جس میں اس لڑکی کا کہنا تھا کہ مجھے پینٹ کے بغیر باہر جانا پسند ہے۔


  • پہلا ٹی ٹوئنٹی : آئی سی سی نے بنگلہ دیش ٹیم پر جرمانہ عائد کر دیا

    پہلا ٹی ٹوئنٹی : آئی سی سی نے بنگلہ دیش ٹیم پر جرمانہ عائد کر دیا

    آئی سی سی نے پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں میزبان ٹیم پر جرمانہ عائد کردیا۔

    باغی ٹی وی : آئی سی سی کے مطابق میزبان ٹیم بنگلادیش پر سلو اوور ریٹ پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بنگلادیش نے مقرررہ وقت میں ایک اوور کم کرایا جس کے باعث اس پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

    دوسری جانب بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں غلط رویئے پر حسن علی کی ایک طرف سرزنش کی گئی تو دوسری طرف ٹیم سے باہر بھی کر دیا گیا۔

    حسن علی نے گزشتہ روز بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹی 20 میچ میں نور الحسن کو آؤٹ کیا اور پھر انہیں گراؤنڈ سے باہر جانے کا اشارہ کیا۔

    کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی پر آئی سی سی بھی حرکت میں آ گیا اور اس نے غلط رویہ اختیار کرنے پر حسن علی کی سرزنش کی اور انہیں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا گیا۔

    آئی سی سی کا کہنا ہے کہ حسن علی نے 24 ماہ میں پہلی بار کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی پہلے ٹی 20 میچ کے مین آف دی پلیئر حسن علی کو آج باہر بھی بیٹھنا پڑ گیا، دوسرے ٹی 20 میچ میں انہیں پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں بنایا گیا، ان کی جگہ شاہین آفریدی کو کھلایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ حسن علی رواں سال سب سے زیادہ شکار کرنے والے بولر بن گئے ہیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں آؤٹ آف فارم نظر آنے والے پیسر نے بنگلہ دیش میں اچھا کم بیک کرتے ہوئے میزبان ٹیم کے3بیٹسمینوں کو پویلین بھیجااور مین آف دی میچ قرار پائے۔

    رواں سال ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں حسن کی انٹرنیشنل وکٹوں کی مجموعی تعداد 64 ہوگئی ہے شاہین شاہ آفریدی نے اب تک 62 اور سری لنکن دشمانتھا چمیرا اور پروٹیز تبریز شمسی نے 50،50 شکار کیے ہیں۔

  • دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ: بنگلہ دیش کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ: بنگلہ دیش کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    ڈھاکا: دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ میں بنگلا دیش نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈھاکا میں کھیلی جارہی 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں بنگلا دیش نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے ٹی ٹوئنٹی کے لیے قومی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، حسن علی کی جگہ شاہین آفریدی کو شامل کیا گیا ہے جب کہ بنگلا دیش کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

    پاک بنگلہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائےگا

    قومی ٹیم میں بابراعظم، محمد رضوان، فخر زماں، حیدر علی، شعیب ملک، خوشدل شاہ، شاداب خان، محمد نواز، شاہین آفریدی، حارث روف اور محمد وسیم شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں قومی ٹیم نے بنگلا دیش کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے شکست دی تھی پہلے میچ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو جیت کے لیے 128 رنز کا ہدف دیا تھا-

  • پاک بنگلہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائےگا

    پاک بنگلہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائےگا

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائےگا-

    باغی ٹی وی : پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا دوپہر ایک بجے شروع ہوگا تین میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر سے برتری حاصل ہے۔

    پہلے میچ میں بنگلا دیش نے پاکستان کو جیت کے لیے 128 رنز کا ہدف دیا، پاکستان نے ہدف 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا ڈھاکہ میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بنگلا دیش کے کپتان محمود اللہ نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو سود مند ثابت نہ ہوا پاکستانی بولرز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلا دیش کو مقررہ 20 اوورز میں 127 رنز تک محدود رکھا۔

    سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے بنگلادیش سے میچ جیت لیا

    بنگلا دیش کے خلاف پاکستان کی پہلی وکٹ پاکستانی بولر حسن علی نے لی جس کے بعد بنگلا دیشی کھلاڑیوں کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور یکے بعد دیگرے کھلاڑی پویلین لوٹ گئے پاکستان کی جانب سے حسن علی نے تین، محمد وسیم جونیئر نے دو جبکہ محمد نواز اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی اس میچ میں بہترین کارکردگی پر حسن علی کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا تھا-

    دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ 22 نومبر کو ڈھاکا میں کھیلا جائے گا۔

  • پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوست کھوسہ

    پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوست کھوسہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) سابق وزیر اعلی پنجاب وپاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ نیازی حکومت نے پارلیمنٹ میں روایات کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں ہیں۔پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، اب تو الیکشن کمیشن نے بھی برملا کہہ دیا ہے الیکٹرانک مشینوں سے انتخابات کرانے کے پابند نہیں ہیں ،نیازی سرکار ڈنڈے کے زور پر سیاہ قوانین پاس کروانے کے لیے سلیکٹرز کے پاو¿ں کیوں پکڑ رہی ہے۔ 2023کے الیکشن کو ہائی جیک کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری کی بھتیجی کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد سابق وفاقی مشیر داخلہ ملک اصغر علی قیصر،پی پی پی کے ڈویژنل و ڈسٹرکٹ میڈیا کووار ڈ ینیٹر محمد طاہر شیخ ،ٹکٹ ہولڈر چوہدری عمر دراز آزاد و دیگر جیالوں سے ملاقات کے دوران ملکی صورتحال پر گفتگو کے دوران کیا،سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ سلیکٹرز اور سلیکٹڈ نیازی پاکستانی قوم کے ساتھ ایک اور گھناو¿نا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔جو کہ تشویش ناک فعل ہے ِبحران خان کی حکومت نے اب قوم کو روٹی پکانے کیلئے گیس بھی دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، تین سالہ کارکردگی کا نچوڑ دن میں صرف تین بار گیس کی فراہمی کا اعلان ہے، یہ موسم سرما عمران خان کی حکومت اور سیاست کی تدفین کا موسم ثابت ہوگا،قوم ہر موسم سرما کو رہتی دنیا تک منحوس حکومت سے نجات کے موسم کے طور پر منائے گی،تبدیلی سرکار کے تمام دعوے اور وعدے پہلے بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے اب بھی قوم کے ساتھ ایک سنگین فراڈ ہو گا، متنازعہ قانون سازی پیپلز پارٹی کو ہر گز قبول نہیں پیپلز پارٹی حکومتی سیاہ قانون سازی کے خلاف ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دے گی ۔مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری نے کہا کہ ، اناڑی کو گاڑی پر بٹھائےںگے تو خود بھی مرے گا گاڑی کو بھی تباہ کرے گا ،اگر گاڑی اناڑی نہیںچلا سکتا تو 22 کروڑ عوام کا ملک کیسے چلا سکتا ہے ، قوم پوچھتی ہے کہ تبدیلی لانے والوں کو عمران نیازی کی حکمرانی پسند آئی؟تین ٹائم گیس کی فراہمی کا اعلان بھی دھوکہ ہے، گیس آئے گی ہی نہیں، بجلی، پٹرول اور گیس مہنگی کرنے کے بعد سلیکٹڈ قوم سے سہولتیں بھی چھین رہا ہے، سردیوں میں گیس کی فراہمی سے انکار کرنے والی حکومت کو لوگ نکال باہر پھینکیں گے۔سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ2018 میں پی ٹی آئی حکومت کو لا کر ملک کا ستیاناس ، بیڑہ غرق کردیا گیا ہے ،جو بھی اشیا ئے خوردونوش لینے جاتا ہے وہ اس حکومت کو گالیاں نکال کر نہیں آتا ؟، اس مہنگائی نے عوام کاجینا محال کر دیا ہے ، کہ ، جس نے قوم کو ڈینگی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ،،اس نے ہماری خارجہ پالیسی تباہ کر دی ہے ،دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے۔

  • فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین انٹر پرینوئر کی مصنوعات کی نمائشوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر سے نہ صرف خواتین کے کاروبار کا دائر ہ کار وسیع ہوگا بلکہ انہیں خریداروں سے براہ راست رابطوں میں بھی آسانی ہو گی۔ یہ بات فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی سابق نائب صدر محترمہ شمع احمد نے مسزعقیلہ عاطف کے ہمراہ فیصل آباد چیمبر کے آڈیٹوریم میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا ربن کاٹ کے افتتاح کرتے ہوئے بتائی۔ اس نمائش کا اہتمام فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آبادی کے تناسب سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ دلانے کیلئے وومن چیمبر بھر پور کوششیں کر رہا ہے جس سے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علاوہ معاشی ترقی کی رفتار کو بھی تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے وومن چیمبر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں خواتین کی ترقی کیلئے اہم خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے خواتین کو سرمایے کی فراہمی کیلئے کئی پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان تعلیم یافتہ خواتین پر زور دیا کہ وہ وومن چیمبر کے پلیٹ فارم سے اپنے مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ اُن کے حل کیلئے قومی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ مائکرو، چھوٹے اور درمیانے درجہ کا کاروبار کرنے والی خواتین کی مصنوعات کی تشہیر کیلئے قومی اور علاقائی سطح پر نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے فیصل آباد کی سرکردہ کاروباری خواتین کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ ”ایک ٹیم اور ایک مقصد“ کے نعرے کے تحت کام کر رہی ہیں جن سے بہت جلد اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے اس نمائش کے انعقاد کے سلسلہ میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، نائب صدر محترمہ فرحت نثار، محترمہ عائشہ مسعود، محترمہ حنا بابر کی خدمات کو سراہا جبکہ فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی نمائش دیکھی اور خواتین کی مصنوعات کے معیار کو سراہا۔ خواتین کی بڑی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا جبکہ اس سلسلہ میں مصنوعی جیولری، فیشن ڈریسز، ہوم ٹیکسٹائل، جوتوں، فوڈ پراڈکٹس کے سٹال بھی لگائے گئے تھے۔

  • یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید
    ایک کھیل تب تک ہی کھیل رھتا ہے جب تک اسے شوق پورا کرنے یا صرف وقت گذاری کےلئےکیھلا جائے اور جب وہی کھیل شوق سے بڑھ کر جنون بن جائے اور ہزار ہا لوگوں کے جذبات بھی اس سے جڑے ہوتو وہ کھلاڑی کی زندگی کا ایسا مقصد بن جاتا ہے جو اسے ہر ممکن صورت میں اپنے ملک کے عزت و وقار اور لوگوں کی خوشی کیلئے حاصل کرنا ہوتاھے۔
    یورپ میں جو مقام فٹبال کو حاصل ہے وہی مقام کرکٹ کو ایشیائی ممالک میں حاصل ہےیعنی لوگ جنون کی حد تک کرکٹ کے دلدادہ ہیں۔ پاکستان کا سب سے مشہور و مقبول اور زیادہ کھیلے جانے والا کھیل "کرکٹ”ہے

    پاکستان وقت کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں اسے اندرونی طور پر بہت سے چیلنجر کا سامنا ہے وہی دوسری طرف بیرونی طاقتیں بھی اسے ٹف ٹائم دے رہی پاکستان کے عوام لمبے عرصے سے مختلف مصائب میں گھرے ہوئے ہیں اس پریشانی کے ماحول میں ہوا کا خوشگوار جھونکا” پاکستان نیوزی لینڈ سیریز” کے طورپر آ یا نیوزی لینڈ ٹیم چونکہ لمبے عرصے بعد کرکٹ کھیلنے پاکستان آ رہی تھی یہ خبر پاکستانیوں کے لیے کسی تہوار کے آ نے سے کم نہ تھی شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی پھر سےایک امید پیدا ہوگئی کہ انشاء اللہ نیوزی لینڈ کے اس دورے کے بعد تواتر سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے پاکستان کے لیے کھل جائیں گے اس خوشگوار خبر کے آ تے ہی زوروشورسے تیاریاں شروع کردیں گئیں ٹیم نیوزی لینڈ کے پاکستان آ نے سے قبل روزانہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے اداروں کی جانب سے اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل اور پھر ہوٹل سے اسٹیڈیم تک گشت کیا جانے لگا ہر ممکن کوشش کی گئی کہ مہمان ٹیم ہر حوالے سے پاکستان کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات سے مطمئن ہو بلآخر وہ دن بھی آ گیا جب ٹیم نیوزی لینڈ پاکستان پہنچ گئی انہیں فل پروف سیکیورٹی کے حصار میں اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل پہنچا یا گیا سب معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم نے دورے کے تین چار روز بعد ایک میل تھریٹ کی بناء پر اچانک دورہ پاکستان ملتوی کر دیا اس میل تھریٹ سے فائیو آئی نامی انٹیلیجنس ایجنسی جو کے (آسٹریلیا انگلینڈ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور امریکہ) کی انٹیلیجنس ایجنسیز پر مشتمل ہے، نےنیوزی لینڈ آفیشلز کو اس سے آگاہ کیا اور وہ مزید تفصیلات بتائے بغیر پاکستان سے روانہ ہوگئے ۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی پاکستان سے یوں اچانک واپسی پر جہاں ایک طرف ملک کو مالی طور پربھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں دوسری طرف شائقین کرکٹ میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اسی کے چلتے ہوئے انگلینڈ نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا

    چند ہی دنوں میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 کا میلا سجنے والا تھا شائقینِ کرکٹ نے قومی ٹیم سے امیدیں باندھ لیں کہ بھارت جو پاکستان کا روایتی اور تگڑا حریف ہے اسے تو ہرانا ہی ہے مگر اس بار نیوزی لینڈ کو بھی چاروں شانے چت کرنا ہے قومی کھلاڑیوں کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ وہ جارحانہ کھیل پیش کر کے ہی مقابل ٹیموں اور ممالک کو یہ باور کروا سکتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑی اپنے ہوم گراؤنڈز پر کھیل کر کے ہی متحدہ عرب امارات میں عمدہ کرکٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور پاکستان ہر لحاظ سے محفوظ اور پر امن ملک ہے۔اب کرکٹ میچ میں جیت ہی ملک کے عزتوقار کو بحال کرنے کا سنہری موقع تھا۔

    پھر وہ دن بھی آ گیا جس دن پاک بھارت میچ ہونا تھا کرکٹ دیوانوں نے میچ دیکھنے کے لیے خاص اہتمام کیا،مالز اور گراؤنڈز میں بڑی اسکرینیں لگائی گئیں پاکستان قوم کی دعائیں اور قومی ٹیم کی محنت بلآخر رنگ لے آئی۔ پاک بھارت میچ میں شروع سے آخر تک پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط رہی اور اس طرح بھارت کو دس وکٹوں سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی جیت کے ساتھ پورا ملک روشنیوں میں نہا گیا لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آ نسو اور زبان پر رب تعالیٰ کی تعریف تھی۔ وطن سے محبت ایک بہت ہی انوکھا اور خوبصورت احساس ہے اور یہ وہ جزبہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا خواہ آ پس میں لوگ ایک دوسرے سے کتنے ہی اختلاف رکھتے ہو مخالفین ایک دوسرے پر طنز و طعنہ کے نشتر کستے ہولیکن جب بات وطن پر آ تی ہے تو سب یک زبان ہوکر پاکستان کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ایک بار پھر کرکٹ کے کھیل نے پوری قوم کو اکٹھا کر دیا تھا۔

    ورلڈ کپ کا دوسرا میچ پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ تھا یہ میچ بھی پاک بھارت میچ سے کم نہ تھا پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین مطابق کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد قومی کھلاڑیوں نے یہ اہم جیت اپنے نام کی اور اسی کے ساتھ نیوزی لینڈ سے دورہ پاکستان ادھورا چھوڑنے کا بدلہ بھی پورا ہوا

    اس کے بعدپاکستان ٹیم نے لگاتار اپنے گروپ کے تمام میچز جیتے اور اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ جما لیا نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن نے کرکٹ مداحوں سے یوں دورہ پاکستان ادھورا چھوڑ کر جانے پر معافی مانگی۔انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز نے بھی آئندہ برس پاکستان آ کر میچز کھیلنے کا اعلان کیا ہے
    گویا یہ اک کھیل نہ صرف ملک کے وقار کو بحال کر گیا بلکہ پاکستانی عوام کو پھر سے متحد کر گیا ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے یہ جیت بہت ضروری تھی اور اس موقع پربلا شبہ پاکستان کرکٹ ٹیم تعریف کے لائق ہے جن کی بدولت دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثرگیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے معیار کو گرنے نہیں دیا بلکہ کرکٹ کے حق میں بہترین فیصلے کیے اور قومی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
    شکریہ پی سی بی
    شکریہ ٹیم پاکستان

    @SuBKeHDo4

  • میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    میڈیا کی بے لگام آزادی،تحریر: ارم شہزادی

    بین الاقوامی انسانی حقوق کے آرٹیکل نمبر 10 کے تحت ہر کسی کو بولنے اور آواز بلند کرنے کا حق ہے اور ہر ملک کے آئین میں اس بات کو شامل کیا گیا ہے کہ بنا کسی فرق کے ہر فرد کے پاس تنقید یا تعریف کا حق موجود ہے
    لیکن
    یہاں پھر کچھ باتیں ایسی جنم لیتی ہیں جن سے اس حق کا غلط استعمال ہوتا دیکھا جاتا ہے۔

    ہر کسی کے پاس بولنے کا حق موجود ہے لیکن کیا کسی کی ذاتی زندگی پر بنا ثبوت کے کیچڑ اچھالنے کا حق بھی ہے؟ کیا قومی حساس معاملات پر ان لوگوں کا بولنا بھی حق ہے ہے جو اسکا بلکل بھی ادراک نہیں رکھتے یا پھر جھوٹی خبر یا جھوٹ پر مبنی بنائی گئی کہانی گھڑنا بھی آزادی اظہار رائے میں آتا ہے؟تو جواب ہے بلکل نہیں۔ ہر بات اور ہر لفظ کا ذمہ دار اسکا بولنے والا استعمال کرنے والا ہوتا ہے اور ان الفاظ سے پیدا ہونیوالے اثرات کا بھی وہی ذمہ دار ہوتا ہےفرض کریں ایک شخص مزہبی منافرت کو ہوا دے رہا ہو جس سے فسادات برپا ہونے کا خدشہ ہو تو کیا اس فرد کو اس لئے بولنے دینا چاہیے کہ اسے انسانی حقوق نے یہ حق دیا ہے؟ آزادی اظہار رائے کا مطلب یہ ہے کہ ان معاملات میں بولنا چاہیے جو آپکا سرکل ہے۔ اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر کسی دوسرے کے دائرے میں بولنا دوسرے کی ناصرف حق تلفی ہے بلکہ ایک سوچ کی خرابی کو جنم لیتا ہے جسے کہتے ہیں ڈس انفارمیشن۔ تعلیم اور پیشہ ور معاملات کی ہی مثال لے لیجئے کہ ایک استاد جسکا پیشہ اور تعلیم ایک مخصوص شعبے کو پڑھانا ہے وہ کسی دوسرے شعبے کو نہیں پڑھا سکتا تو کیسے وہ اس پر رائے دینے کا بھی حقدار ہوگا؟

    اسی طرح کچھ میڈیا ہؤسسز ہیں جو اس آرٹیکل کو اپنی جھوٹی من گھڑت اور غلط معلومات پر منحصر خبریں نشر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اگر انہیں کوئی اس بات سے روکے تو میڈیا کی آزادی پر قدغن قرار دی جاتی پے۔ پاکستان بھی آجکل انہی حالات سے گزر رہا ہے۔ ٹالک شوز میں معیشیت پر اینکرز حضرات اپنا تجزیہ دے رہے ہوتے ہیں جنکی نہ تو تعلیم معیشیت پر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا تجربہ۔ کورٹ روم کے باہر اگر دس سال کوئی کیمرہ مین کوریج کرتا رہا ہے تو اسے قانونی امور پر تجزیے کے لئے بٹھا لیا جاتا ہے۔ اسی طرح ملک کے دفاعی اور حساس معاملات پر ایسے عجیب و غریب تجزئیے پیش کیے جاتے ہیں جیسے کل ہی دشمن ہمارے ملک پر قبضہ کرلے گا اگر ان جناب کا تجزیہ نہ مانا تو۔

    اصل میں پاکستان کا میڈیا خود کو بے لگام گھوڑا بنانا چاہتا ہے اور جھوٹی خبر اپنا حق سمجھنے لگا ہے۔ کچھ دن پہلے فیک نیوز پر قانون سازی کے کچھ پیپر ورک ہوا حکومت کیطرف اور میڈیا یونینز سے انکے نمائندے پیش کرنے کے لئے کہا گیا کہ اس قانون کے نکات پر اپنی رائے دیں تاکہ مزید بہتری آسکے۔ وہ سب بجائے ان نکات کو پڑھتے ان پر کام کرتے وہ سب دھرنےپر بیٹھ گئے کہ جھوٹی خبر دینا تو ہمارا حق ہے اور لوگوں میں افراتفری پھیلانا بھی۔ اس سے پاکستان کا امیج دُنیا میں ایک میڈیا پر پابند سلاسل لگانے والا ملک شو کیا گیا حالانکہ وہ قانون صرف اور صرف جھوٹی خبر پھیلانے والے کے خلاف تھا۔ مطلب میڈیا کو اس قدر آزادی چاہیے کہ اگر وہ جھوٹ بولیں تو ان پر کوئی قدغن نہ لگے اور نہ ہی ان سے کوئی پوچھنے والا ہو۔ سبھی ترقی یافتہ ممالک میں یہ قانون موجود ہے اور کڑھے جرمانے رکھے گئے ہیں جھوٹی خبروں پر۔ پاکستانی میڈیا ناصرف ملک کے اندرونی معاملات ہر جھوٹ پر مبنی خبریں پھیلانے میں ملوث ہے بلکہ خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات پر بھی کچھ صحافی جھوٹ بولنے میں پیش پیش ہیں

    پچھلے سال اقوام متحدہ کے ڈس انفارمیشن سیل نے اس بات کو واضح کیا کہ کس طرح بھارتی میڈیا کی جانب سے غلط انفارمیشن پھیلائی گئی پاکستان کے متعلق اور ان جھوٹی معلومات پر پاکستانی صحافیوں نے تجزئیے بھی پیش کیے ان سبھی معاملات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ میڈیا کی بے لگام آزادی کسی بھی ملک کے لئے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ ہر بات اگر نشر ہونے لگی تو حساس قومی معاملات کو نقصان پہنچے گا۔ آج کی ففتھ جنریشن وار میں سب سے بڑا ہتھیار میڈیا کا غلط استعمال کروانا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ نام نہاد صحافی انہیں ایجنڈوں پر کام کررہے ہیں۔ دنیا میں مختلف وارداتوں کے علاوہ بچوں کے ریپ ہوں یا قتل میڈیا حکومت کی اجازت کے بغیر خبر نشر نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن یہاں پولیس بعد میں پہنچتی ہے اور میڈیا تک خبر پہلے جاتی ہے جس کا، نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب تک حقائق پتہ چلتے ہیں تب میڈیا کی وجہ سے ایک ایسی رائے عامہ تیار ہوچکی ہوتی ہے کہ پھر اسے کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے، اس کی ایک مثال یہ بھی ہے "‏فرانس کمیشن مطابق وہاں چرچ 50 سالوں میں ساڑھے تین لاکھ بچوں ساتھ ریپ ہوئے جو سالانہ قریبا 5000 کیسز ماہانہ 400 روزانہ قریبا 14 child abuse کیس بنتے ھیں” اب یہی کیس اگر پاکستان میں ہو تو پوری دنیا میں پاکستان بدنام ہوجائے گا میڈیا کی بےلگامی کی وجہ سے، لیکن فرانس میں اسے میڈیا، پر اسے زیر بحث لانے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اگر پاکستان میں بھی ملک کو نیشنل اور انٹرنیشنل پر بدنامی سے بچانا ہے تو میڈیا کو ریگولیٹ کرنا ہوگا۔کچھ پابندیاں لگانا ہونگی خاص طور پر ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات زیربحث نہیں لائی جاسکتی۔۔
    تحریر ارم شہزادی
    @irumrae