Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان

    جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان

    تعارف

    سید ریاض جاذب جنوبی پنجاب کے معتبر صحافی ہیں جن کی خدمات سوشل سیکٹر میں بھی نمایاں رہی ہیں۔ تین دہائیوں پر محیط صحافتی سفر میں انہوں نے قومی و بین الاقوامی اداروں میں کام کر کے اپنی دیانتداری اور تجربے سے منفرد مقام بنایا۔ اس وقت وہ باغی ٹی وی کے لیے تحقیقی و تجزیاتی مضامین لکھ رہے ہیں جو قارئین میں خاصی پذیرائی حاصل کر رہے ہیں۔

    جنوبی پنجاب میں سیلاب، معیشت اور زندگی کی بقا کا امتحان
    تحریر: ریاض جاذب (جاذب نامہ)
    جنوبی پنجاب ایک بار پھر سیلابی ریلوں کی زد میں ہے اور اس بار کی تباہ کاریاں پہلے سے زیادہ شدید ثابت ہو رہی ہیں۔ ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں پانی نے کھیتوں، بستیوں اور بنیادی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ گھروں سے بے دخل لاکھوں افراد سڑکوں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ روزگار کے ذرائع اجڑنے سے ان کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے۔

    محکمہ موسمیات اور مقامی انتظامیہ کے مطابق دریائے چناب اور ہیڈ تونسہ کے قریب پانی کے اخراج نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ صرف ملتان ڈویژن میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ تقریباً تین لاکھ لوگ اپنے روزگار اور مکانات سے محروم ہو گئے۔ ڈیڑھ سو کے قریب دیہات میں کھڑی فصلیں مکمل طور پر برباد ہو گئیں۔ ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں بھی یہی منظرنامہ ہے، جہاں سرکاری رپورٹوں کے مطابق چار لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور اڑھائی لاکھ ایکڑ اراضی زیرِ آب آ چکی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق اس لہر میں اب تک پنجاب میں 51 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں سے تقریباً آدھے کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں سڑکیں اور رابطہ پل بہہ گئے، بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے اور بعض بستیاں مکمل طور پر باقی ملک سے کٹ گئیں۔

    امدادی سرگرمیوں کے باوجود متاثرین کی مشکلات کم نہیں ہو سکیں۔ خیموں اور ضروری سامان کی کمی ہے، پینے کے صاف پانی اور ادویات کا شدید فقدان ہے اور بچے بیماریوں کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ لوگ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    سب سے بڑا نقصان زرعی معیشت کو ہوا ہے۔ دریاؤں کے کنارے تقریباً سات کلومیٹر چوڑے علاقے میں کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ پنجاب بزنس فورم کے اعداد و شمار کے مطابق چاول کی 60 فیصد، گنے کی 30 فیصد اور کپاس کی 35 فیصد پیداوار ضائع ہو گئی ہے۔ وزارت غذائی تحفظ نے وارننگ دی ہے کہ اس نقصان کے نتیجے میں ملک میں چاول کی کمی اور برآمدات میں کمی ناگزیر ہو جائے گی۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پانی جلد نہ اترا تو مزید فصلیں بھی برباد ہو سکتی ہیں، جس سے کسانوں کا اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا۔

    مجموعی طور پر 13 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ چکی ہے۔ یہ نہ صرف کسانوں بلکہ پاکستان کے غذائی تحفظ کے لیے بھی خطرہ ہے۔ پہلے ہی گندم اور کپاس کی کمی، درآمدات پر انحصار اور مہنگائی جیسے مسائل موجود ہیں، اب ان پر یہ سیلاب مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔ اگر کسانوں کو فوری سہارا نہ دیا گیا تو زرعی پیداوار سنبھلنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

    معاشی ماہرین اور کسان تنظیموں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے ہنگامی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔ بلا سود قرضے، بیج اور کھاد کی مفت فراہمی اور زمین کی بحالی کے لیے فنڈز قائم کیے جائیں تاکہ کسان دوبارہ کھیتی باڑی کے قابل ہو سکیں۔

    موسمیات کے ماہرین نے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس سے فلیش فلڈ کے نئے خدشات جنم لے سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے عوام کو محتاط رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا ہم ہر سال آنے والی ان تباہ کاریوں سے سبق سیکھنے پر تیار ہیں یا نہیں۔

    یہ وقت محض ریلیف فراہم کرنے کا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی بنانے کا ہے۔ اگر آبی ذخائر کے نظام کو بہتر نہ بنایا گیا، ڈیموں اور بیراجوں کی مینجمنٹ درست نہ ہوئی اور متاثرہ آبادیوں کے لیے پائیدار منصوبے نہ بنائے گئے تو سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک مستقل معاشی تباہی بن کر ہمارے سامنے کھڑا رہے گا۔

  • میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا  تحریر : عائشہ اسحاق

    میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا تحریر : عائشہ اسحاق

    آج کل جس بھی نیوز چینل یا سوشل میڈیا پر دیکھیں تو ہر طرف تباہی مچاتے ہوئے سلابی ریلے اور درد سے بھری داستانی دکھائی دیتی ہیں اس سب کے ساتھ ہر نیوز چینل پر بڑھ چڑھ کر امدادی کاروائیوں میں مصروف ریسکیو ٹیمیں ، پاک فوج کے دستے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی شخصیات فراٹے مارتے ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر سلابی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ہر نیوز چینل پر ان تمام کاروائیوں کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں مگر حقیقت وہی خوفناک اور دردناک ہے کہ میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے ہوئے با اثر لوگوں سے پوچھا جائے کیا پہلی بار سیلاب آیا ہے یا گلیشرز پہلی دفعہ پگھلے ہیں ،77 سال بیت جانے کے بعد بھی یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے کیونکہ قدرت کا بھی کچھ تقاضا ہوتا ہے ہر سال گلیشرز پگھلتے ہیں ہر سال بارشیں ہوتی ہیں دریاؤں ندی نالوں میں طغیانی ہوتی ہے سیلاب آے ہیں تو پھر کوئی مثبت بندوبست کیوں نہ کیا گیا؟ انڈیا کسی صورت پاکستان کو پانی دینے پر آمادہ نہیں مگر جب یہی پانی برسات کے موسم میں بھارت کو اپنی موت دکھائی دیتا ہے تو وہ بلا تاخیر سپیل کھول دیتا ہے جس سے پاکستان میں مزید تباہی مچتی ہے تو کیا ہمارے سیاسی اقتداری با اثر حکمران اس سب حقیقت سے نا واقف ہیں؟

    ہر سال لاکھوں کیوسک میٹھا پانی جو پورے ملک کو سیراب کر سکتا ہے بنجر زمینیں آباد کر سکتا ہے مگر صرف اس صورت میں جب یہاں ڈیمز بنائے گئے ہوتے یہ پانی ڈیمز میں محفوظ کیا جاتا تو یہی میٹھا پانی ہر طرف ملک میں خوشحالی لا سکتا ہے، مگر بد قسمتی سے اور حکمرانوں کی لالچی پولیسیوں کی وجہ سے یہ پانی غریبوں کی دنیا اجاڑ رہا ہے، خوشحالی لانے کی بجائے زندگی اور گرہستیاں اجاڑتے ہوئے سمندر میں جا کر ضائع ہو رہا ہے۔جی نہیں یہ سب اچانک یا قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانیت کا لالچ ہے، جو ہر طرف خوفناک تباہی مچاتے ہوئے لاکھوں دردناک داستانیں پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ ان اقتداریوں سے پوچھا جائے 77 سال بیت جانے کے بعد بھی ڈیمز کہاں ہیں؟ ملک ڈوبتا نہیں ہے ڈبویا جاتا ہے اور یہی آج 2025 میں بھی ہو رہا ہے۔ یہ پانی میرے وطن کے غریبوں کی ہستیاں اور بستیاں کسی ڈائن کی طرح نگل رہا ہے اور اقتداری اپنے محلوں میں محفوظ پرتیش زندگی گزار رہے ہیں ہوا میں اڑتی سواریوں پر اج بھی سالہ سال پرانی روایت کے مطابق صورتحال کا جائزہ لینے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اجڑے ہوئے غریبوں کے نام پر اربوں روپیہ بطور امداد وصول کیا جاتا ہے۔ یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہو رہا ہے۔۔۔

  • سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی عمر دیکھتے ہوئے بغور جائزہ لیا جائے تو ان سیاسی جماعتوں کا مستقبل سامنے آ جاتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں اس جماعت کی ممکنہ نئی قیادت مریم نواز اور حمزہ شہباز نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں۔ مریم نواز مستقبل میں پارٹی کی اصل جانشین سمجھی جا رہی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری عمر اور بیماری کے باعث زیادہ متحرک نہیں رہے۔ پیپلزپارٹی کی ممکنہ نئی قیادت بلاول بھٹو زرداری پارٹی کو نوجوان قیادت دینے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف ابھی تک عمران خان کی حد تک مقبول ہے لیکن عمران خان کی عمر اور قانونی مسائل ان کی سیاست پر اثر ڈال رہے ہیں۔ ممکنہ بظاہر نئی قیادت عمران خان کی پارٹی میں کوئی واضح جانشین نظر نہیں آرہا۔ کچھ نام زیر بحث ہیں جیسے شاہ محمود قریشی لیکن وہ بھی عمر رسیدہ ہے۔ مجموعی طور پر اگر ان تین سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا بغور جائزہ لیا جائے تو نون لیگ کی بھاگ دوڑ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے ہاتھ میں آئے گی۔ پیپلزپارٹی کو بلاول بھٹو زرداری آگے لے کر چلیں گے۔ پی ٹی آئی کا مستقبل سب سے زیادہ غیر یقینی ہے۔ کیونکہ عمران خان کی جماعت میں کوئی ایک شخصیت عمران خان کی طرح سب پر بھاری نہیں دکھائی دیتی۔

    اگر مریم نواز کامیاب سیاست کرتی ہیں تو مسلم لیگ ن مستحکم رہے گی ورنہ ن لیگ کا اثر صرف پنجاب تک محدود ہو جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی مکمل کمان سنبھالیں گے سندھ میں مضبوط رہیں گے لیکن پنجاب میں مشکل ہوگی۔ اگر بلاول بھٹو نے نوجوان ووٹر کو اپنی طرف متوجہ کیا تو پارٹی قومی سطح پر دوبارہ ابھر سکتی ہے۔ بصورت دیگر پیپلزپارٹی صرف سندھ تک محدود رہ جائے گی۔ عمران خان عمر اور صحت کے مسائل کے باعث پس منظر میں جا سکتے ہیں پارٹی کو قیادت کے خلا کا سامنا ہوگا۔ کچھ نوجوان آگے آ سکتے ہیں مگر کوئی بھی عمران خان جیسی مقبولیت نہیں رکھتا۔ اگر عمران خان کو متبادل قیادت نہیں ملی تو پارٹی تقسیم یا کمزور ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی نیا کرشماتی لیڈر ابھرا تو پی ٹی آئی ایک بار پھر مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم ن لیگ کا مستقبل مریم نواز کے ساتھ جڑا ہے۔ پیپلز پارٹی کا مستقبل بلاول بھٹو کے ساتھ جڑا ہے۔ پی ٹی آئی کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ ان تینوں بڑی سیاسی جماعتوں سے وابستہ جن کو عرف عام میں مرکزی قیادت کہا جاتا ہے ان میں اکثریت عمر رسیدہ ہیں۔ مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز کو نوجوان سیاسی قیادت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ ان تینوں سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ جڑا ہے۔ کچھ ایسی صورتحال سے پاکستان کی مذہبی جماعتیں بھی گزر رہی ہیں۔

  • ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود یورپی یونین کا گوگل پر  جرمانہ

    ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود یورپی یونین کا گوگل پر جرمانہ

    یورپی یونین نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتباہ کے باوجود گوگل پر 2.95 ارب یورو (3.47 ارب ڈالر) جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    یورپی کمیشن کے مطابق گوگل کا رویہ پبلشرز، مشتہرین اور صارفین کے مفادات کے خلاف تھا اور یہ یورپی اینٹی ٹرسٹ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔گوگل پر الزام ہے کہ اس نے اپنی اشتہاری خدمات میں مسابقت کو نقصان پہنچاتے ہوئے غالب پوزیشن کا غلط استعمال کیا۔گوگل نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر یورپ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنایا تو وہ بھی ڈیجیٹل مارکیٹ اور پالیسیوں پر اپنے قوانین کے ذریعے جوابی کارروائی کریں گے۔

    رپورٹ کے مطابق اینٹی ٹرسٹ کمشنر ٹریسا ریبیرا نے پہلے امریکی ردعمل کے خدشات کے باعث جرمانے پر توقف کیا تھا، تاہم بعد میں برسلز نے فیصلہ سناتے ہوئے گوگل کو حکم دیا کہ وہ اپنے ’خود پسندی کے طرز عمل‘ اور مفادات کے موروثی تنازعات کو ختم کرے۔یورپی یونین اب بھی اس انتظار میں ہے کہ امریکا جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت کاروں پر ٹیرف کم کرنے کے وعدے کو پورا کرے۔

    یوٹیوبر رجب بٹ کو جوئے کی ایپس کی تشہیر پر 9 ستمبر کو طلبی

    اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    بھارتی فوج سرحدی علاقوں میں، پاک فوج نے ڈرون مار گرایا، سیلاب سے مارنے کی تیاری

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش، اسپائس جیٹ کو مسلسل نقصان

    حماس نے دو اسرائیلی یرغمالیوں کی تازہ ویڈیو جاری کردی

  • اے پیغمبرﷺ! تیری عمر مقدس کے ہر لمحہ حیات پہ سلام

    اے پیغمبرﷺ! تیری عمر مقدس کے ہر لمحہ حیات پہ سلام

    اے پیغمبرﷺ! تیری عمر مقدس کے ہر لمحہ حیات پہ سلام
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    حضورﷺکی محبت ایسا جذبہ ہے کہ میرے جیسا جھوٹا بندہ بھی اگر ترجمانی کرے تو اس سے سچی عقیدت جنم لیتی ہے۔ مگر میں اس سچی عقیدت کا رُخ بھی سچی ذات کی جانب موڑنا چاہوں گا جو حقیقی حقدار ہیں۔

    ادبِ محمدؑ کے ایمان افروز اعمال کرنے والوں میں سے ایک نام محمود غزنوی کا بھی ہے۔ ایک بار ان کے پاس ایران کا سفیر بیٹھا ہوا تھا۔ محمود غزنوی نے اپنے خادم کو آواز دی: "حسن!” اور حسن پانی کا لوٹا لے کر آ گیا۔ محمود غزنوی نے لوٹا پکڑا اور وضو کرنے چلے گئے۔ ایرانی سفیر نے حسن سے سوال کیا کہ محمود غزنوی نے تو فقط آپ کو آواز دی اور آپ فوراً پانی لے آئے، آپ کو کیسے علم ہوا کہ محمود کو وضو کی حاجت ہے؟ حسن نے جواب دیا: "میرا پورا نام محمد حسن ہے اور محمود غزنوی مجھے صرف ‘حسن’ تبھی بلاتے ہیں جب ان کا وضو نہیں ہوتا، کیونکہ وہ محمدؑ کا نام بغیر وضو کے کبھی نہیں لیتے۔”

    اسی ادب کو حضرت فخرالدین سیالویؒ اپنے اشعار میں یوں بیان کرتے ہیں:

    باب جبریل کے پہلو میں ذرا دھیرے سے
    فخر جبریلؑ کو یوں کہتے ہوئے پایا گیا
    اپنی پلکوں سے درِ یار پہ دستک دینا
    اونچی آواز ہوئی تو عمر کا سرمایہ گیا

    ہر مسلمان کے لیے اسمِ اعظم درود پاک ہے۔ حضورؑ فرماتے ہیں: "دنیا و آخرت میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجے گا۔” اور سب سے قریب تو خود خدا ہے جو فرماتا ہے: "میں اور میرے فرشتے ہر وقت محمدؑ پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی انؑ پر درود بھیجو۔”

    عقل حیرت کی وادیوں میں بھٹکنے لگتی ہے جب سوچتے ہیں کہ خدا کسی کام میں اپنی کسی مخلوق کو شریک نہیں ٹھہراتا مگر درود پاک میں شرکت کی خود دعوت دیتا ہے۔ جو درود ہم بھیجتے ہیں اسے پہلے خدا سنتا ہے اور ہماری کمی بیشی کو دور فرما کر اپنے حبیبؑ کی شان کے مطابق بنا کر بارگاہِ محمدؑ میں روانہ فرماتا ہے، اور ساتھ ہی اس درود پاک کی وجہ سے ہمارے درجات بلند کرتا رہتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ درود والی زبانوں کی روحوں پر فیض کے ہر لمحے بڑھتے اضافے کا عمل ہی خدا کا درود ہے۔

    تخلیقِ کائنات سے پہلے وجہ تخلیق کائنات کا نور پیدا فرما کر اپنے قربِ خاص میں رکھنے والا خدا جب قیامت قائم کرکے سب کچھ صفحۂ ہستی سے مٹا دے گا تب بھی نورِ محمدؑ موجود ہوگا اور رب اس پر درود پڑھتا رہے گا۔ اپنے محبوب کی جدائی سے لمحہ بھر کو بھی محروم نہ ہونے والے رب سے جب موسیٰؑ نے پوچھا: "اے رب! تیرے قریب ہونے کا خاص طریقہ کیا ہے؟” تو رب نے فرمایا: "میرے محبوبؑ پر درود پڑھا کرو۔”

    حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اسپین کے شہر اشبیلیہ میں ایک لوہار رہتا تھا۔ وہ چھریاں، تلواریں اور نیزے بناتا مگر گفتگو نہ کرتا۔ گاہک کا سوال سن کر صرف جواب دیتا: "اللّٰہم صل علی محمد”۔ ہر وقت باوضو رہتا اور اسی ورد میں مصروف رہتا۔ یہاں تک کہ اس کا نام ہی "اللّٰہم صل علی محمد” مشہور ہو گیا۔ ابن عربیؒ کہتے ہیں کہ جب مجھے کوئی مشکل پیش آتی تو میں اس لوہار سے دعا کرواتا اور وہ دعا فوراً قبول ہو جاتی۔

    کلرکہار کے قریب خوشحال کلاں گاؤں کے نوجوان کرشن لال جو ہندو تھے، خواب میں خود حضورؑ نے کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا۔ ان کا نام غازی احمد رکھا گیا۔ پروفیسر احمد غازی درود پاک کی کثرت کرتے اور اپنی تنخواہ اپنے شاگردوں پر خرچ کر دیتے۔ ایک بار رسول پاکؑ نے دبئی کے ایک امیر شیخ کے خواب میں تشریف لا کر حکم دیا کہ "احمد غازی نے درود پاک کی کثرت بارش کی مانند کر دی ہے، اس کے پاس جا کر اسے ہمارے روضے پر لانے کا انتظام کرو۔”

    درود پاک مسلمانوں کا دفاع بھی ہے اور طاقت بھی۔ ایک فرشتہ قیامت تک درود پڑھنے والوں کے درود کو بارگاہِ محمدؑ میں پہنچانے پر مقرر ہے۔ مگر اہلِ محبت کا درود خود حضورؑ سماعت فرماتے ہیں۔ یہی اہلِ محبت وہ خوش نصیب ہیں جو درود کی کثرت سے اس قدر توجہ حاصل کر لیتے ہیں کہ حضورؑ ان کا نام اپنے رجسٹر میں درج فرما لیتے ہیں۔

    گجرات کے خواجہ گوہر الدینؒ نے کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل نہیں کی، مگر درود پاک کی برکت سے علمِ لدنی کے ایسے درجے پر فائز ہوئے کہ بڑے بڑے علماء مسائل میں آپ سے رجوع کرتے۔ ایک دن کسی عالم نے حدیث کے صفحے میں جھوٹ ملا کر پرکھا، تو آپ نے آنکھیں بند کرکے عرض کیا: "یہ حضورؑ کا فرمان نہیں، یہ جھوٹ ہے۔”

    مولانا جلال الدین سیوطیؒ کو بیداری میں حضورؑ سے ملاقات کا شرف حاصل تھا۔ وہ فرماتے ہیں: "جب مجھے کوئی بات سمجھ نہ آتی تو میں حضورؑ سے دریافت کر کے لکھ لیتا تھا۔”

    صوفی محمد افضل فقیرؒ درود کی کثرت کی بدولت ایسے مقام پر فائز ہوئے کہ لمحوں میں زمین کے کسی بھی حصے پر پہنچ جاتے تھے۔

    حضورؑ اپنی ظاہری حیات میں جیسے صحابہ کرامؓ کو نوازتے تھے، وہ سلسلہ روزِ حشر تک جاری و ساری رہے گا۔ ہر عبادت درود کے پروں سے ہی پرواز کرتی ہے۔ قربِ مصطفیؑ ہی قربِ خدا ہے۔

    حضرت موسیٰؑ کے دور میں ایک شخص نے دو سو سال رب کی نافرمانی کی۔ جب وہ مرا تو لوگوں نے اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ مگر اللہ نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی: "جاؤ میرے دوست کو غسل دو، کفن دو اور تدفین کرو۔” موسیٰؑ نے حیرت سے پوچھا: "یا رب! یہ تیرا دوست کیسے بنا؟” اللہ نے فرمایا: "جب یہ انجیل پڑھتا تھا تو جہاں میرے محمدؑ کا نام آتا، یہ اسے چومتا تھا۔”

    درود پاک احسانی کیفیت میں پڑھنا چاہیے، یوں کہ گویا آپؑ کو دیکھ رہے ہیں یا اس یقین سے کہ وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ بارگاہِ خداوندی میں محبتِ رسولؑ کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں۔ عبادت تو عبادت، وجودِ مومن بھی قبول نہیں۔

  • تبصرہ کتب،خلفائے راشدین ( بچوں کےلئے )

    تبصرہ کتب،خلفائے راشدین ( بچوں کےلئے )

    زیر نظر کتاب ”خلفائے راشدین “ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام کی شائع کردہ ایک خوبصورت پیشکش ہے جو بالترتیب چار حصوں پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب مشہور ماہر تعلیم، ادیب اور محقق اشفاق احمد خاں کی تصنیف ہے ۔ اشفاق احمد خاں کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری محمد یونس حسرت مرحوم کے فررزند ارجمند ہیں ۔محمد یونس حسرت مرحوم نے بچوں کےلئے بیشمار تربیتی اور اصلاحی کتب لکھیں ہیں ۔ اشفاق احمد خاں کی تحریر میں وہی اپنے والد مرحوم والی پختگی، شگفتگی، سلاست اور روانی پائی جاتی ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں کو بڑاانسان بنانا چاہتے ہیں تو انھیں بڑے لوگوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کروائیں۔مسلمانوں کے نزدیک انبیا ءعلیھم السلام کے بعد سب سے زیادہ عظمت اور شان والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم ہیں ۔ جبکہ صحابہ کرام میں سے سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنھم خلفائے راشدین ہیں اور ان کا عہد ۔۔۔۔ خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ خلافت راشدہ کے عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے۔ تیس سال کوئی بہت لمبا عرصہ نہیں صرف تین عشرے ہیں ان تین عشروں میں خلفائے راشدین نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اسلامی ریاست کی توسیع و استحکام کےلئے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو صدیوں میں بھی ممکن نہیں ہوتے ہیں ۔ خلفائے راشدین میں سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اولین خلیفہ ہیںجبکہ خلافت راشدہ کے زریں عہد کی آخری لڑی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

    خلافت راشدہ ۔۔۔۔کا دورہر لحاظ سے تاریخ کا سنہرا دور ہے جو ہمارے آج کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔ اس دور میں تمام رعایا کو بنیادی حقوق حاصل تھے۔ ان کی شخصی و سیاسی آزادی کی حفاظت کی جاتی تھی۔ مسلمان اور غیر مسلم کے حقوق یکساں تھے ۔ کوئی شخص کسی دوسرے کی حق تلفی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی کسی پر زیادتی کی جرا ت کرسکتا تھا۔ غیر مسلموں کو مذہبی آزادی حاصل تھی اس کے ساتھ ان کی جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت بھی کی جاتی تھی۔ عدل کا ترازو سب کے لیے برابر تھا۔ نہ کوئی امیر، نہ غریب، نہ بادشاہ ، نہ عامی، نہ گورا ، نہ کالا اور نہ ہی رنگ و نسل کا امتیاز تھا۔ سب برابر تھے۔ مجرم مجرم ہی تھا خواہ کوئی بھی ہو۔خلافت راشدہ میں فتوحات کا سلسلہ بھی جاری ہوا اور سلطنت وسیع ہوئی۔ اندرونی فتنوں کو بھی دبایا گیا اور بیرونی خطرات کا مقابلہ بھی ہوا لیکن ان تمام کاموں میں ایک چیز مشترک تھی وہ یہ کہ ان کا مقصد عوام کی فلاح، ان کی خوشحالی و آسودہ حالی، ان کو امن و سکون اور اسلامی ریاست و اسلام کا تحفظ تھا۔آج امت مسلمہ خستہ حالی کا شکار ہے اور اس کا جسد تارتار ہے تاہم نہیں ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے اللہ اسی امت میں سے ایسے جوان پیدا فرمائے گاجو امت کے درد کا درماں کریں گے شرط ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اچھی بنیادوں پر کریں انھیں اسلامی ، اخلاقی اور اصلاحی کتب پڑھنے کےلئے دیں ۔اور یہ بات سمجھیں کہ خلفائے راشدین کا بچپن ، جوانی اور بڑھاپا ۔۔۔۔ہمارے آج کے بچوں ، بچیوں ، جوانوں اور بزرگوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔
    یہ بات یقینی ہے کہ یہ فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے ، اس دور میں موبائل ، فیس بک ، پب جی گیم ، واٹس ایپ اور دیگر ایسے بہت سے ذارئع موجود ہیں جو بچوں اور بچیوں کے اخلاق وکردار پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔۔۔۔ان حالات میں والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں بچیوں کے لئے ایسی کتابوں کاانتخاب کریں جو ان کے اخلاق وکردار کو سنواریں اور ان کے دلوں میں اپنے نبی علیہ السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہھم اجمعین کی محبت پیدا کریں ۔” خلفائے راشدین “ بچوں کے مطالعہ لئے بہترین انتخاب ہے۔چار حصوں پر مشتمل اس خوبصورت اور لاجواب کتاب میں بطریق احسن خلفائے راشدین کے حالات زندگی بیان کئے گئے ہیں ۔ کتابوں کاانداز بیاں بہت دلچسپ ، سادہ، آسان اور شستہ ہے جو ان شاءاللہ بچوں کی شخصیت پر گہرے نقوش مرتب کرے گا ، ان کے دلوں میں اسلام ، نبی علیہ السلام اور خلفائے راشدین کی محبت پیدا کرے گا ۔ دیدہ زیب سرورق ، چہار کلر طباعت کی حامل یہ کتاب دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہے باطنی طور پر اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔چار کتابوں پر مشتمل سیٹ کی قیمت 1300روپے ہے جو دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ042-37324034 پر دستیاب ہے ۔مرکز ایف ایٹ اسلام آباد 051-2281513 ، دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796655پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • گوگل پر صارفین کی پرائیویسی خلاف ورزی پر 425 ملین ڈالر جرمانہ

    گوگل پر صارفین کی پرائیویسی خلاف ورزی پر 425 ملین ڈالر جرمانہ

    امریکا کی فیڈرل جیوری نے فیصلہ سنایا ہے کہ گوگل نے صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر کمپنی کو 425 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

    مقدمے میں الزام تھا کہ گوگل نے گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ایسے صارفین کا ڈیٹا جمع، محفوظ اور استعمال کیا جنہوں نے اپنے ویب اینڈ ایپ ایکٹیویٹی سیٹنگز میں ٹریکنگ بند کر رکھی تھی۔ یہ مقدمہ جولائی 2020 میں دائر ہوا تھا، جس میں صارفین نے 31 ارب ڈالر سے زائد کے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔جیوری نے گوگل کو صارفین کی پرائیویسی کی دو خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا، تاہم قرار دیا کہ کمپنی نے بدنیتی سے کام نہیں کیا، اس لیے سزا میں اضافی ہرجانہ شامل نہیں کیا گیا۔

    گوگل کے ترجمان خوسے کاسٹانیڈا نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی اس کے خلاف اپیل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ فیصلہ ہماری مصنوعات کے کام کرنے کے طریقے کو درست طور پر نہیں سمجھتا۔ ہمارے پرائیویسی ٹولز صارفین کو اپنے ڈیٹا پر کنٹرول دیتے ہیں اور جب وہ پرسنلائزیشن بند کرتے ہیں تو ہم اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔‘‘

  • تبصرہ کتب،دور نبوت کے بچے

    تبصرہ کتب،دور نبوت کے بچے

    ” دور نبوت کے بچے “ یہ دس کتابوں پر مشتمل حسین و معنوی سیٹ ہے ، جسے فور کلر اور معیاری طباعت کے ساتھ دارالسلام انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے، یہ بچوں کی تربیت و کردار سازی میں ایک بے مثال علمی و دینی خزانہ ہے۔ یہ کتابیں نہ صرف بچوں کے دل و دماغ کو ایمان کی گہرائیوں سے روشناس کراتی ہیں بلکہ انہیں اسلامی اخلاق و ایمان کے ساتھ مضبوط کردار اپنانے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں بچوں کی تربیت کو نہایت اہم مقام حاصل ہے کیونکہ بچے آئندہ نسل کے معمار ہوتے ہیں جبکہ بچوں کی تربیت میں اسلامی اصلاحی اور اخلاقی کتابیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ دور نبوت کے بچے اسی سلسلہ کی خوبصورت کڑی ہے یہ خوبصورت سیٹ بچوں کے ادب کے معروف لکھاری اشفاق احمد خاں کی کاوش ہے ۔ دارالسلام انٹرنیشنل کی اس پرفضا کاوش میں دس مندرج ذیل ہستیاں شامل ہیں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنھما۔ یہ دونوں شہزادے رسول اللہ ﷺ کے نواسے،جگر گوشہ فاطمہ بتول ، باغ نبوت کے پھول اور نوجوانان جنت کے سردار ہیں ،سیدنا عبداللہ بن عباس ہیں جنھو ں نے رسول مقبول ﷺ کے زیر سایہ بچپن گزارا ،انھیں بچپن ہی سے علم سے خاص شغف تھا ، سفر وحضر میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے ۔مزاج میں سنجیدگی تھی اس لیے رسول مقبول ﷺ نے ان کے لیے علم وحکمت کی دعا کی تھی اور یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ اسے مفسر قرآن اور دین میں سمجھ والا بنا دے ۔ کتاب میں سیدنا عبداللہ بن زبیر کا تذکرہ شامل ہے جو عظیم شاہسوار تھے اور شجاعت وفراست میں بے مثال تھے ۔ ، عبداللہ بن جعفر دور نبوت کے وہ عظیم بچے ہیں جنھیں سخاوت کا دریا کیا گیا ہے وہ اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرتے تھے ، عبداللہ بن عمر مطیع اعظم ہیں انھیں رسول ﷺ سے شدید محبت تھی ، یہ محبت ہمارے آج کے بچوں کےلئے مشعل راہ ہے ، عبداللہ عمرو ہیں وہ عظیم خاندان کے چشم وچراغ تھے ، ان کو وراثت میں عقل مندی ، بہادری اور فصاحت وبلاغت کی صفات ملیں اور وہ ہر وقت جنت کے متلاشی رہتے تھے ، سعید بن عاص ایک ایسے انوکھے سخے ہیں جنھیں رسول ﷺ نے مستقبل کا معزز آدمی قرار دیا تھا وہ جمعہ کی رات اپنے غلام کو دیناروں کی تھیلیاں دے کر کوفہ کی مسجد میں بھیجتے ۔ غلام وہ تھیلیاں لے جاکر نمازیوں کے سامنے رکھ دیتا ، ضرورت مند اس میں سے اپنی ضرورت کے دینار خود اٹھا لیتے ۔ پھر کتاب میں اسامہ بن زید کا تذکرہ شامل ہے جو وفا کا پیکر تھے ۔ وہ غلام کے بیٹے تھے لیکن ان کی خوش بختی کا کیا کہنا کہ انھیں دنیا کے بہترین رہبر ملے اور اس کےلئے محبت ، شفقت اور تربیت کے خزانوں کے منہ کھل گئے وہ وفا کا پیکر تھے جنھوں نے رسول ﷺ سے وفا نبھائی ۔ ، خادم خاص رسول مقبول ﷺ انس بن مالک رضی اللہ عنہ محض آٹھ سال کے تھے یہ کھیلنے کودنے کی عمر تھی خوش قسمتی سے وہ رہبر اعظم محمد ﷺ کے خادم خاص بن گئے ۔آغوش نبوت میں تربیت حاصل کرنے والے ان بچوں کے کمالات، بچوں کو اخلاقی و روحانی فضیلت کی طرف مائل کرتے ہے ۔ یہ کتابیں ان کی معصوم ذہانت میں نیکی، تقویٰ، صبر اور قربانی کی اعلیٰ اقدار بٹھاتی ہیں، جو ہماری دینی و معاشرتی ترقی کی بنیاد ہیں۔ دارالسلام انٹرنیشنل کی اشاعت نے اس مجموعے کو قوتِ بیان، فصاحت اور آسانی سے قابلِ فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ ہر کتاب ایک ایسا منبع ہے جو بچوں کے دلوں میں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت جگانے کے ساتھ ساتھ انہیں اچھے معاشرتی کردار کی تربیت بھی فراہم کرتی ہے، جو اسلام کے روشن چہرے کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ یہ کتابیں والدین، اساتذہ اور مربیوں کے لیے بہترین وسائل ہیں، جن کی مدد سے بچے زندگی کی سختیوں کا مقابلہ کرنے، حق و سچ کا ساتھ دینے، اور فضائل و نیکیاں اپنانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں بچوں کی شخصیت سازی پر زور دیتے ہوئے، یہ سیٹ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق بچوں میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتا ہے اور انہیں صداقت، عزم، اور محبت کے سنہرے اصولوں سے روشناس کرواتا ہے۔ کرے گا ۔ دیدہ زیب سرورق ، چہار کلر طباعت کی حامل یہ کتابیں دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہیں تعلیم وتربیت کے اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہیں ۔دس کتابوں پر مشتمل سیٹ کی رعایتی قیمت1870 روپے ہے ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹریٹ سٹاپ042-37324034 پر دستیاب ہے ۔مرکز ایف ایٹ اسلام آباد 051-2281513 ، دارالسلام کراچی مین طارق روڈ 0321-7796655پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  • چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    چین، روس اور بھارت کے حوالے سے جو نیا بلاک یا اقتصادی و سیاسی اتحاد کی بات ہو رہی ہے وہ اکثر (BRICS) یا اس سے آگے بڑھنے والے اقدامات کے تناظر میں سمجھا جا رہا ہے یا سمجھا جاتا ہے۔ یہ بلاک امریکہ اور ڈالر کو کمزور نہیں کر پائے گا ڈالر عالمی ریزرو کرنسی ہے۔ تقریبا 60 فیصد سے زائد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ڈالر میں رکھے جاتے ہیں۔ عالمی تیل و گیس کی زیادہ تر تجارت ڈالر میں ہوتی ہے۔ امریکہ کی مالیاتی منڈیاں شفاف اور مستحکم سمجھی جاتی ہیں جس سے سرمایہ کار ڈالر پر بھروسہ کرتے ہیں۔ روس پر مغربی پابندیوں نے اسے چین پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک مشترکہ کرنسی یا مالیاتی نظام بنانے کے لیے اعتماد ادارہ جاتی ڈھانچہ اور سیاسی یکجہتی کی ضرورت ہے جو اس وقت کمزور ہے۔ امریکہ کے پاس فوجی طاقت۔ ٹیکنالوجی۔ اور عالمی اداروں آئی ایم ایف۔ ورلڈ بینک پر اثر و رسوخ ہے۔ اگرچہ کچھ ممالک ڈالر کے متبادل پر کام کر رہے ہیں لیکن عالمی سطح پر اس کی فوری گنجائش نہیں ہے۔ روس اور چین کے درمیان توانائی کے معاہدے ڈالر کے بجائے اپنی کرنسیوں میں ہو رہے ہیں لیکن یہ سب ابھی جزوی ہے عالمی نہیں۔ امریکہ اور ڈالر کی جڑیں بہت گہری ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ عالمی نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے شگاف آ رہے ہیں۔ چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب ہے نہ یہ ڈالر کو کمزور کر سکتے ہیں نہ امریکہ کی عالمی برتری کو چیلنج۔ داخلی تضادات اور اعتماد کی کمی انہیں کبھی متحد نہیں ہونے دے گی۔

  • پانی کی شاخوں پر لٹکتے خواب.تحریر: اقصیٰ جبار

    پانی کی شاخوں پر لٹکتے خواب.تحریر: اقصیٰ جبار

    یہ زمین ہمیشہ سے پانی کی مہربانیوں سے زندہ رہی ہے۔ دریاؤں کی روانی نے دھرتی کو زرخیز کیا، کھیتوں کو سنہری خوشبو بخشی اور بستیوں میں زندگی کے چراغ جلائے۔ مگر کبھی کبھی یہی پانی جلال میں آ کر سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بادلوں نے زمین کو پھر آزمایا۔ بوندوں نے پہلی بار دھوکہ نہیں دیا، لیکن جب یہ بوندیں ریلوں میں ڈھلیں تو بستیاں ان کے حصار میں آ گئیں، اور خواب پانی کی شاخوں پر جھولتے رہ گئے۔

    یہ منظر نیا نہیں۔ ہم ہر سال یہی تماشہ دیکھتے ہیں۔ سیلاب آتا ہے، زندگیاں بہا لے جاتا ہے، اور پیچھے چھوٹی چھوٹی امیدوں کی مٹی رہ جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم کب بدلیں گے؟ پانی تو اپنا راستہ لے گا، یہ قدرت کا قانون ہے۔ لیکن انسان کے حصے میں تدبیر ہے، منصوبہ بندی ہے۔ جن قوموں نے پانی کو رحمت بنایا، انہوں نے مضبوط بند باندھے، ذخائر بنائے، اور آنے والے دنوں کے لیے تیاری کی۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اپنے خواب سیاست کے دھارے میں بہا دیے۔ ڈیم کے فیصلے میزوں پر سوتے رہے اور دریاؤں نے بستیاں جگا دیں۔

    اکثر کہا جاتا ہے کہ بھارت سے آنے والا پانی تباہی کا سبب ہے۔ یہ جزوی سچ ہے، لیکن کیا یہ پوری کہانی ہے؟ نہیں۔ اگر ہمارے پاس بڑے ذخائر ہوتے، چھوٹے ڈیمز کی قطاریں ہوتیں، اگر ہم نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہوتا، تو یہ پانی ہماری زمین کی پیاس بجھاتا، ہمارے مستقبل کو روشن کرتا۔ مگر ہم نے وقت کو کھو دیا، اور اب پانی ہماری کوتاہیوں کا ماتم کر رہا ہے۔

    یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، فیصلہ سازی کا ہے۔ ہمیں پانی سے دشمنی ختم کرنی ہوگی۔ یہ وہ دشمن نہیں جس سے جنگ جیتی جا سکے، یہ وہ دوست ہے جس سے تعلق نبھانا سیکھنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج بھی دیر کی، تو آنے والے برسوں میں یہ سوال اور کڑا ہوگا:
    “ہم نے پانی کو دوست کیوں نہ بنایا؟”

    پانی کی یہ یلغار ہمارے لیے سبق ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ قدرت سے لڑا نہیں جا سکتا، اس کے ساتھ جیا جا سکتا ہے۔ اگر آج ہم نے چھوٹے بڑے ذخائر، واٹر مینجمنٹ، اور قومی اتفاقِ رائے پر کام نہ کیا تو خواب یونہی پانی کی شاخوں پر لٹکتے رہیں گے۔