Baaghi TV

Category: بلاگ

  • منی مارشل لاء کا گمراہ کن بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    منی مارشل لاء کا گمراہ کن بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز میں آجکل ایک مخصوص طبقہ بار بار یہ دعوی کرتا نظر آتا ہے کہ ملک میں منی مارشل لاء نافذ ہے اگر اس دعوے کو زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ بیانیہ ناصرف کمزور بلکہ گمراہ کن محسوس ہوتا ہے۔ مارشل لاء کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، آئین کی معطلی، اسمبلیوں کی تحلیل، سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اور براہ راست فوجی حکمرانی۔ سوال یہ ہے کیا آج پاکستان میں ان میں سے کوئی ایک عنصر بھی موجود ہے؟ جواب صاف اور واضح ہے (نہیں)، آج پاکستان میں آئین موجود ہے، پارلیمنٹ فعال ہے اور سب سے بڑھ کر ملک میں منتخب جمہوری حکومتیں برسراقتدار ہیں۔ مرکز میں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کام کر رہی ہے، مسلم لیگ ن بڑی پارلیمانی جماعت ہے، پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہے، سندھ میں پیپلزپارٹی کی منتخب حکومت موجود ہے، کے پی کے میں پی ٹی آئی کی جمہوری حکومت ہے، بلوچستان اور پنجاب میں بھی آئینی سیٹ اپ کے تحت حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ اگر یہ سب جمہوریت نہیں تو پھر جمہوریت کسے کہتے ہیں؟

    منی مارشل لاء کا شور دراصل سیاسی ناکامیوں اور عوامی حمایت میں کمی پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔ جب دلیل کمزور پڑ جائے تو اداروں پر الزام تراشی آسان راستہ بن جاتی ہے یہ طرزِ عمل نہ صرف سیاسی بلوغت کے منافی ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ ریاستی ادارے خصوصا قومی سلامتی کے ادارے کسی ایک جماعت یا فرد کے نہیں بلکہ پوری قوم کے ہوتے ہیں۔ ان پر بے بنیاد حملے دراصل ریاست کی جڑوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر اختلاف اور تخریب میں فرق ہونا چاہیے اگر واقعی کوئی غیر آئینی اقدام ہو تو اسکی نشاندہی آئینی فورمز، پارلیمنٹ اور عدالتوں کے ذریعے کی جائے نہ کہ سوشل میڈیا کے نعروں اور اشتعال انگیز بیانات سے۔

    منی مارشل لاء کا بیانیہ پھیلانا دراصل عوام کو کنفیوژن میں ڈالنے اور ریاستی اداروں اور جمہوری نظام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے نہ کہ ایسے بیانیوں کی جو مایوسی اور بداعتمادی کو فروغ دیں۔ جمہوریت کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مضبوط کرنا ہی تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ آخرکار نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ منی مارشل لاء نافذ ہے کا شور جو سنائی دے رہا ہے یہ دعوی سننے میں جتنا سنسنی خیز لگتا ہے اتنا ہی بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ یہ بیانیہ نہ صرف آئینی حقائق کے منہ پر طمانچہ ہے بلکہ جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی ایک خطرناک کوشش بھی ہے۔ اصل مسئلہ جمہوریت نہیں بلکہ کچھ سیاسی عناصر کی اپنی ناکامیاں ہیں جنہیں چھپانے کے لیے ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب سیاست خدمت کے بجائے الزام تراشی بن جائے تو ایسے ہی بے سروپا نعرے جنم لیتے ہیں۔ ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو بھڑکانا کسی بھی طور سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف اقدام ہے۔ یہ طرز سیاست ایک خطرناک بلکہ ناقابل قبول بھی ہے۔ اداروں کو کمزور کرنے کا نقصان کسی حکومت یا جماعت کو نہیں بلکہ پوری ریاست کو ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے اسی آگ سے کھیل رہے ہیں۔ جمہوریت کو کمزور کرنے والے دانستہ یا نادانستہ پاکستان کے مفادات سے کھیل رہے ہیں۔ قوم کو ایسے بیانیوں سے ہوشیار رہنا ہو گا اور سیاسی قوتوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ سیاست اقتدار کے لیے نہیں ریاست کے استحکام کے لیے ہوتی ہے۔

  • سر! یہ آپ کا ویژن ہے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    سر! یہ آپ کا ویژن ہے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    موجودہ حالات میں پاکستان دفاع کے علاوہ ہر میدان میں ناکام نظر آ رہا ہے جبکہ حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا کریڈٹ لیتی ہے، مسبب الاسباب کوئی نہ جانے کون تھا لیکن اس ملک کو شہباز شریف جیسا مفاہمت پسند لیڈر ملا۔ جہاں اپوزیشن کو بند گلی میں دھکیلا گیا، صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنا یا گیا، عدالتیں میں ترامیم کے ذریعے اختیارات چھین لیے گئے ، معیشت تباہی کے دھانے پر ہے،بیرون ملک دورے عروج پر رہے لیکن نتائج وہ حاصل نہ ہو سکے جن کی امیدیں لگائی جاتیں رہیں۔

    وفاقی حکومت نے پہلے بیس ماہ میں شہباز حکومت نے موجودہ 20 ماہ میں 19 ہزار 369 ارب روپے قرض لیا، 11 ہزار 300 ارب روپے مقامی، 869 ارب روپے غیرملکی قرض۔ ملکی قرض 76 ہزار 979 ارب روپے ہو گیا، قرضوں کے انبار کے باوجود ملک میں سیاسی گہما گہمی ، معاشی و سیاسی بحران نئے ریکارڈ قائم کر چکا ہے، اوور سیز پاکستانی موجودہ حکومت سے فی الحال متنفر ہو چکے ہیں۔ ویسے تو ریکارڈ لفظ بہتر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہاں سرمایہ کاری میں زوال کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کا خدشہ ہے جو ہمیں نہیں پتہ چلا کہ کس کا ویژن ہے مگر غریب ، نادار، لاچار اور مظلوم عوام کے سامنے شہباز شریف کا چہرہ آتا ہے۔ ایک سال میں پاکستانیوں نےدبئی میں 10دس ارب ڈالر کی جائیدادیں خریدیں،لیکن اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے لہذا سرمایہ کاری کےلئے رول آف لاءبہت اہمیت رکھتا ہے۔

    رواں مالی سال مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاری میں گراوٹ کا ایک ناخوشگوار ریکارڈ قائم ہوسکتا ہے۔ انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 13فیصد سے بھی نیچے گر سکتی ہے۔ سال 2023 میں انوسٹمنٹ پالیسی کا اعلان کرکے انوسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 20 فیصدتک لیجانے کا ہدف طے کیا گیا تھا۔ غیر سرمایہ کاری لانے کیلئے SIFC بھی قائم کی گئی جو ابتک ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تجارت اور صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی غیریقینیت اور دہشت گردی پر قابو پا کر سرمایہ کاری کے ماحول کر بہتر کیا جائے۔

    بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش فی کس آمدنی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کو سب سے پیچھے دیکھنا پڑتا ہے جس کا کریڈٹ لینے کیلئے عسکری اور نہ ہی مقننہ سامنے آتی ہے جبکہ سیاسی لیڈرز اور پارلیمان تو تسلیم کرتا ہے کہ ہم پر دباؤ ہے جس کی وجہ سے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔‏1990 میں پاکستان کی فی کس آمدنی بنگلہ دیش کے مقابلے میں دوگنی اور بھارت کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ تھی۔ 2024 میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان سے 53 فیصد زیادہ ہے، جبکہ بھارت کی فی کس آمدنی پاکستان سے 71 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔ آپ خود سوچیے کہ کیا کمبوڈیا اور برما بھی پاکستان سے بہتر؟ پاکستان میں معاشی حالات کا یہ عالم ہے کہ اس سال 24 ہزار پاکستانی کمبوڈیا گئے، 12 ہزار واپس نہیں آئے۔ 4 ہزار پاکستانی برما گئے، ڈھائی ہزار واپس نہیں آئے۔

    دسمبر کے دوسرے ہفتے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی دوسری جائزہ رپورٹ آئی ہے، 54 شرائط پر قرضہ دیا تھا، اب 11 مزید شرائط لگائی ہیں، چینی کے استعمال والی اشیاء پر ایف ای ڈی لگایا جائے گا۔مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ عوام پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 80 فیصد دے رہے ہیں، اس میں بھی 5 فیصد اضافہ ہونے جا رہا ہے، حکومت کو ٹیکس پالیسی اور گورننس پر بات کرنی چاہیے جبکہ پی بی ایس کی آفیشل رپورٹ کیمطابق رجیم چینج سے ایک ہفتہ پہلے اخبار کی ہیڈ لائنز کے مطابق پی ٹی آئی نے وزیرِ اعظم عمران خان کی سربراہی میں پہلے تین سالوں 55 لاکھ نوکریاں پیدا کی اِس دوران پوری دنیا میں کورونا وبا بھی پھیل چکی تھی جبکہ آج کی صورتحال یہ ہے کہ پچھلے تین سالوں میں 14 لاکھ بیروزگار ہوئے

    نا چیز دو دن قبل سوال سے آگے پروگرام سماعت کر رہا تھا جس میں سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفظ پاشا مہمان تھے، وہ بتا رہے تھے کہ ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان 190 ممالک میں 168 نمبر پر ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان اور بنگلہ دیش 135 کے قریب ہیں اور ان کی رینکنگ بہتر ہوتی جا رہی ہے۔1990 تک ہماری کارکردگی بہتر رہی، ہماری فی کس آمدنی ہندوستان سے بہتر تھی لیکن آج ہندوستان سے 40 فیصد کم ہوچکی ہے، یہ حقائق سننے کے بعد مجھے اپنے اور بچوں کے مستقبل کے ساتھ حال کی بھی فکر ہونے لگی کہ اگر یہی صورتحال رہی تو شہباز شریف کا ویژن تو تباہ ہو ہی جائے گا مگر نواز شریف کی بنائی گئی ن لیگ کا ویژن بھی تباہ ہو جائے گا۔17 دسمبر 2025 کو چئیرمین آل پاکستان ٹیسکٹائل ملز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ ملک بھر میں 144 ٹیکسٹائل ملز بند ہو گئیں اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ویژن کے ساتھ اگر ٹیسکٹائل بند ہو رہی ہیں تو پھر اسی ویژن کے ساتھ ان کو بھی تباہی کی جانب جان ہو گا جو اس ویژن کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہے ہیں۔

    پاکستان سے رواں سال 85 لاکھ افراد بیرون ملک گئے۔آج پاکستان کا عالمی کرپشن انڈیکس میں 135، نائیجیریا کا 140 نمبر ہے، کرپشن کے ساتھ ملک کو چلانا جمہوریت کے ساتھ چلانے سے ان تمام کیلئے زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ہر محکمہ عوام کیلئے دھما کہ ثابت ہو رہا ہے، کبھی لوگوں کو کاروبار تباہ کیا جاتا تو کبھی پولیس کو با اختیار بنانے کی بجائے بے اختیار بنا دیا جاتا ہے جہاں بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، کبھی چالان کے نام پر تو کبھی ٹریفک قوانین کے ذریعے، کبھی انکروچمنٹ تو کبھی کرائم کنٹرول، کبھی انصاف کا نعر ہ تو کہیں عورت کو با اختیار بنانے کا دعوی، یہ کام سب نے شروع تو کیے لیکن ان کو مکمل کرنے سے سب عاری رہے جس کی وجہ سے غربت کے ساتھ جرم، ظلم اور زیادتیاں معاشرے کا حصہ بنتی رہیں، پنجاب حکومت کے کچھ اقدام قابلِ تعریف ہیں جو ملک میں بہتری کا آغاز کر رہے ہیں۔

    ن لیگ مارچ 2022 سے حکومت میں ہے ، احسن اقبال صاحب نے کل ایک بیان دیا کہ حکومت کو مزید 15 سال دیے جائیں ترقی کے لیے پھر ملک کا کچھ ہو سکتا ہے، پرسوں شاہزیب خانزادہ کو بتا رہے تھے کہ ہم ایکسپورٹ کی صلاحیت کو نہیں بڑھا پا رہے، سوال یہ ہے کہ اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو ملک کو آگے کون لیکر جائے گا؟ ‏جب عمران خان کے دور میں عالمی مارکیٹ میں تیل $100 تھا اس وقت پٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی آج عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت $60 ڈالر سے کم مگر پٹرول کی قیمت 265 روپے فی لیٹر ہے۔ اب سوال کریں گے کہ اس وقت ڈالر کا ریٹ کیا تھا اور آج؟ جواب بھی لے لیں ڈالر کا ریٹ عمران خان نے تو نہیں بھڑایا؟ دوسرا اس وقت پیٹرولیم لیوی 20 روپے تھا اور آج 80 روپے فی لیٹر ہے۔ کیا پھر ہم یہ کہیں کہ پرانے پاکستان کے بعد نئے پاکستان کا نعرہ برُا تھا مگر ا تنا بڑا نہیں تھا جتنا آج تمام سیاسی جماعتوں نے مقتدر حلقوں کی مدد سے تحریک عدم اعتماد کے بعد ہمیں پرانا پاکستان واپس دے کر عوام کے ساتھ بُرا کیا۔لہذا ہماری خواہش ہے کہ یہ ویژن ہمارا نہ رہے بلکہ سر ! آپ کا ویژن آپ کو مبارک ہو۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • اصلاحات کی راہ میں حائل دیواریں،مسیحائی کا نوحہ اور سسکتی انسانیت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    اصلاحات کی راہ میں حائل دیواریں،مسیحائی کا نوحہ اور سسکتی انسانیت،تحریر :قمرشہزاد مغل

    مسیحا جب سے بیوپاری ہوئے ہیں
    سبھی جذبے یہاں آری ہوئے ہیں

    شعبہ صحت کی زبوں حالی اور اس میں اصلاحات لانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ایک ایسا موضوع ہے جس پر برسوں سے بحث ہو رہی ہے، لیکن نتیجہ وہی "ڈھاک کے تین پات” والا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر زمین پر اللہ کا وہ سایہ ہے جو انسانیت کو تکلیف سے نجات دلاتا ہے، اسی لیے اسے "مسیحا” کا لقب دیا گیا۔ مگر افسوس کہ آج کے سرکاری ہسپتالوں میں یہ لقب اپنی معنویت کھوتا جا رہا ہے۔ ہماری میڈیکل یونیورسٹیوں نے صرف "پیشہ ور” پیدا کیے ہیں، "انسان دوست” نہیں۔ ایسے ڈگری ہولڈر ڈاکٹر جن میں تربیت کی کمی ہے انکے لہجے کی تلخی غریب مریض کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک پاشی کا کام کرتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی زبوں حالی اور انتظامی خرابیوں پر جب بھی بات ہوتی ہے، تو اکثر سارا ملبہ تمام ڈاکٹروں پر گرا دیا جاتا ہے۔ بے شک، چند کالی بھیڑوں اور ہتک آمیز رویہ رکھنے والے ڈاکٹروں کی وجہ سے پورا شعبہ بدنام ہے، لیکن حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اسی نظام میں ایسے "ولی کامل” ڈاکٹرز بھی موجود ہیں جن کا وجود انسانیت کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی غریب مریض کو سب سے پہلے جس چیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ "علاج” نہیں بلکہ "تضحیک” ہے۔ مریضوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا اور لواحقین کو حقارت کی نظر سے دیکھنا اور مریضوں کو بلاجواز بڑے شہروں میں ریفر کرنا اب ایک "معمول” بن چکا ہے جو ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب تک سرکاری افسران اور سیاسی اشرافیہ خود ان ہسپتالوں میں علاج نہیں کرائیں گے، تب تک عام آدمی کی تضحیک کا یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ بلاشبہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی شعبہ صحت میں انقلابی اصلاحات کا عزم ظاہر کیا۔ عوام کو علاج معالجے کی جدید سہولیات باہم پہنچانا "فیلڈ ہسپتال” اور "کلینک آن ویلز” جیسے منصوبے اسی ویژن کا حصہ تھے تاکہ غریب کو اس کی دہلیز پر علاج مل سکے۔ تاہم، زمینی حقیقت یہ ہے کہ سی ایم کے ویژن کو "ہائر اتھارٹی” کے ایوانوں میں بیٹھے چند افسران اور بااثر مافیا سبوتاز کر رہا ہے۔ جب تک اوپر بیٹھی بیوروکریسی اور ہسپتالوں کی انتظامیہ مخلص نہیں ہوگی، سی ایم کے احکامات صرف فائلوں کی زینت بنے رہیں گے۔ پنجاب کے شعبہ صحت میں اصلاحات لانا اس لیے بھی مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ہائر اتھارٹی میں موجود بعض کالی بھیڑیں (Status Quo) برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال تب تک نہیں بدلے گی جب تک "احتساب کا عمل” بلا امتیاز شروع نہیں ہوتا۔ اگر کسی ڈاکٹر یا پیرا میڈیکل اسٹاف کی غفلت سے جان چلی جائے تو انکوائری کمیٹیوں کا قیام محض "وقت گزاری” کا حربہ ہوتا ہے۔ ان کمیٹیوں کی رپورٹس کبھی منظرِ عام پر نہیں آتیں اور نہ ہی کبھی کسی طاقتور کو سزا دی جاتی ہے۔ صرف اعلیٰ حکام کے ہنگامی دوروں اور معطلیوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ ایک ایسا خودکار نظام درکار ہے جہاں مریض کی شکایت پر فوری اور شفاف کارروائی ہو۔

    ہیپاٹائٹس سی ورٹیکل پروگرام کے بیشتر ڈاکٹرز کمیشن اور مراعات کے چکر میں مریض کو طاقت کی دوائی کے نام پر "ٹھیکے کی وہ ادویات” جن کے فارمولے سے عام آدمی تو دور فارماسسٹ بھی ناواقف ہوتے ہیں جسکے غیر معیاری ہونے کے خدشات ہمیشہ برقرار رہتے ہیں لکھ کر دیتے ہیں تو جب ایک غریب مریض اپنی جمع پونجی نکال کر باہر سے وہ مخصوص دوا خریدتا ہے اور اسے آرام نہیں آتا، تو یہ صرف دوا کی ناکامی نہیں بلکہ پورے انسانیت کے نظام کی ناکامی ہے۔ ادویات کی خریداری میں کمیشن، مشینوں کی مرمت کے نام پر خورد برد، اور تبادلوں کا کاروبار یہ وہ چند عوامل ہیں جن کی وجہ سے چیف منسٹر مریم نواز کا اصلاحاتی ایجنڈا رکاوٹوں کا شکار ہے۔ جب ہسپتالوں کے ایم ایس اور سیکرٹری لیول کے افسران سیاسی مصلحتوں یا ذاتی مفادات کے لیے ملی بھگت کر لیں، تو حکومتی ترجیحات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ اس صورتحال کا ذمہ دار صرف ڈاکٹر یا نچلا عملہ نہیں، بلکہ وہ پورا سسٹم ہے جس میں سزا اور جزا کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ جب بدتمیزی کرنے والے ڈاکٹر یا کرپشن کرنے والے افسر کو "سیاسی پشت پناہی” یا "یونین کے دباؤ” پر بچا لیا جائے، تو بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ سی ایم کو اگر اپنا ویژن کامیاب بنانا ہے تو انہیں ہسپتالوں کے دوروں کے ساتھ ساتھ "ہائر اتھارٹی” کی صفائی کرنی ہوگی۔ جب تک سیکرٹریٹ سے لے کر ہسپتال کے وارڈ تک احتساب کا ایک کڑا اور شفاف نظام وضع نہیں ہوتا، تب تک "مسیحائی” صرف کتابوں تک محدود رہے گی اور غریب مریض یوں ہی نظام کی بھٹی میں جلتا رہے گا۔ وزیر اعلی پنجاب کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی "ہائر اتھارٹی” اور بیوروکریٹک رکاوٹیں ہیں جو کسی بھی تبدیلی کو ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں رہتیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی چوری، ٹیسٹوں کی مشینوں کا جان بوجھ کر خراب رکھنا اور نچلے سے اوپر کے عملے کی "ملی بھگت” وہ دیواریں ہیں جنہیں مسمار کرنا آسان نہیں ہے۔ جب تک ہسپتالوں کے ایم ایس اور انتظامیہ کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر کے سخت "کے پی آئیز” (KPIs) پر نہیں پرکھا جائے گا، اصلاحات کا ثمر عام آدمی تک نہیں پہنچے گا۔اصلاحات تبھی کامیاب ہو سکتی ہیں جب وزیر اعلیٰ "سزا و جزا” کے نظام کو سختی سے نافذ کریں انکے پاس سیاسی عزم موجود ہے، لیکن شعبہ صحت کی درستگی کے لیے انہیں نظام کے اندر موجود ان کالی بھیڑوں سے لڑنا ہوگا جو اصلاحات کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی ٹیم، خصوصاً سیکریٹری صحت اور ہسپتالوں کے سربراہان کو جوابدہ بنانے میں کامیاب ہو گئیں، تو پنجاب کا شعبہ صحت واقعی بدل سکتا ہے یہ معرکہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

  • ہر ناپسندیدہ فیصلہ سازش نہیں ہوتا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر ناپسندیدہ فیصلہ سازش نہیں ہوتا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کی سیاست اس وقت جس فکری ابتری اور بیاناتی انتشار سے گزر رہی ہے اس میں سب سے خطرناک رحجان یہ بنتا جا رہا ہے کہ ہر عدالتی فیصلہ، ہر انتظامی اقدام اور ہر ناگوار نتیجے کو بلاتحقیق اور بلاتاریخ جانے براہ راست پاک فوج سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں اور حامیوں نے اس طرزِ فکر کو باقاعدہ سیاسی حکمت عملی بنا لیا ہے۔ جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ قومی اداروں کے وقار کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ حالیہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد جسٹس جہانگیری کے حوالے سے جو شور شرابا برپا کیا گیا وہ اسی روش کی واضح مثال ہے۔ بغیر یہ سمجھے کہ عدالتی فیصلے کس بنیاد پر ہوتے ہیں فورا انگلیاں پاک فوج کی طرف اٹھا دی گئیں۔ حالانکہ اگر ذرا سا بھی تاریخ کا مطالعہ کر لیا جائے تو حقائق بلکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

    جسٹس جہانگیری کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں وہ ایک وقت میں پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے رہے، پھر پی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے سیاست میں متحرک رہے، اس کے بعد ضیاء دور کے ایک جنرل کیساتھ تعلقات رہے اور اسی جنرل کی سفارش پر قائم لیٹریسی اینڈ ماس ایجوکیشن کمیشن (lamic) میں وہ بطور اسسٹنٹ خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ سب کچھ ضیاء الحق کے دور سے پہلے اور بعد کی اس سیاسی تاریخ کا حصہ ہے جسے نظر انداز کرنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ جب ضیاء الحق کا اقتدار حادثے کا شکار ہوا اور پیپلزپارٹی کا دور آیا تو جمہوری تسلسل کے تحت انہیں گورنر پنجاب جنرل ٹکا خان مرحوم کا پولیٹیکل سیکریٹری ٹو گورنر مقرر کیا گیا۔ پھر بعد میں انہیں سی ڈی اے اسلام آباد میں لینڈ پروکیومنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسی پرکشش ذمہ داری ملی جس نے انکی پیشہ وارانہ زندگی کو نئی سمت دی پھر یہ کچھ عرصہ وکالت بھی کرتے رہے۔ اب حالیہ معاملے میں جس جعلی ڈگری کیس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا اسے بھی محض اس لیے متنازع بنانے کی کوشش کی گئی کہ فیصلہ پی ٹی آئی کے بیانیے کے مطابق نہیں تھا۔ سوال یہ ہے اگر تین ججز ایک قانونی عمل کے تحت کسی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہیں تو اس میں پاک فوج کو گھسیٹنے کی کیا منطق ہے؟

    قوم کو سمجھنا ہو گا کہ ہر ناپسندیدہ فیصلہ سازش نہیں ہوتا، ہر عدالتی حکم کسی ادارے کی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہوتا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر تاریخ سے ناواقفیت اور جذباتی نعروں کے ذریعے قومی اداروں کو متنازع بنانا ایک خطرناک کھیل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ الزام تراشی سے پہلے حقائق جانیں اور یہ تسلیم کریں کہ ادارے اپنی آئینی حدود میں فیصلے کر رہے ہیں۔ ہر معاملے میں پاک فوج کو موردِ الزام ٹھہرانے سے نہ سیاست مضبوط ہوتی ہے اور نہ ہی جمہوریت تھوڑی سی احتیاط، تھوڑا سا مطالعہ اور کچھ سیاسی بلوغت ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے

  • امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    امت محمدیہ میں اللہ نے لاتعداد علما اور فقہا پیدا فرمائے لیکن ان میں امام ابن تیمیہ ایک ہی تھے ۔صدیاں گزر گئیں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی دوسری علمی شخصیت پیدا نہیں ہوئی ۔ امام صاحب کا تعلق حران کے معروف علمی خاندان سے تھا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے ” ایں ہمہ خانہ آفتاب است “ ۔ امام ابن تیمیہ حدیث ، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، تاریخ ، اسماءالرجال ، فسلفہ ،منطق ، ادب کے امام تھے ۔ ان کے علاوہ بھی وہ تمام علوم جو اس وقت رائج تھے حاصل کئے ۔ کوئی بھی ایسا علم نہ تھا جو حاصل نہ کیا ہو۔ تاہم علم تفسیر آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ آپ کی تربیت بہت ہی پاکیزہ علمی گھرانے میں ہوئی تھی ۔ قوت حافظہ غضب کا تھا جس کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لیتے وہ آپ کو مکمل طور پر یاد ہوجاتی ۔ قرون اولیٰ کے بعد جن چند اہم شخصیات نے اسلام کی نشرواشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سرفہرست ہیں ۔ امام ابن تیمیہ مجدد تھے اور علم وہدیت کا ایک ایسا سرچشمہ تھے جن کی ضیا پاشیوں سے دنیائے اسلام جگمگا اٹھی تھی ۔اگر ہم موجودہ حالات کا موازنہ امام صاحب کے دور سے کریں تو ہمیں کافی حد تک مطابقت نظر آتی ہے ۔امام صاحب کی زندگی میں دنیائے اسلام فتنہ تاتار کی غارت گری کا شکار تھی دینی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھی ، خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ حقانیت کا آفتاب ڈوب چکا تھا کہ اللہ نے امام صاحب کو علم وہدی کا آفتاب بنا پر دمشق کے آسمان پر طلوع کیا ۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو دنیائے اسلام اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے ۔ گو کہ آج ہم میں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی ہستی اور شخصیت موجود نہیں تاہم امام صاحب کی کتب سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں ۔

    زیر تبصرہ کتاب ” امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات “ اسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب اہل علم کےلئے بہتر ین تحفہ ہے، اس کتاب کی اشاعت سے دارالسلام نے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے ۔اردو زبان میں ایسی شہرہ آفاق، جامع ، علمی اور تحقیقی کتاب کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی ۔ یہ اپنے موضوع پر شاندار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے جو کہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کی تصنیف ہے ۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے امام ابن تیمیہ نے اس وقت کی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود ، تاریکی اور بزدلی کو اپنے قلم ، کردار اور گفتار سے دور کیا۔وہ ملت اسلامیہ کی ان چند شخصیات میں سے تھے جنھوں نے علمی جہاد کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد بھی کیا ۔اپنی زبان وبیان اور گفتار وکردار سے مجاہدین اسلام میں جہاد کی روح پھونک دی جبکہ اپنی تلوار سے فتنہ تاتار کا منہ موڑ دیا ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی زندگی ، حالات ، حیات اور خدمات کے متعلق میرے سالہاسال کے مسلسل مطالعہ کا ماحاصل ہے ۔ یہ کتاب علما ، طلبہ ، اساتذہ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں سمیت ہر ایک کےلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آج بھی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود اور بزدلی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اپنے وقت کے مجدد ، مصلح اور مجاہد تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ پوری زندگی حکومتی ایوانوں اور راہداریوں سے دور رہے ۔ انھوں نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا ۔ ساری زندگی مسجد اموی سے متصل ایک چھوٹے سے حجرے میں دین کی آبیاری ، درس وتدریس ، تصنیف وتحقیق اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزار دی ۔ وہ راست بازی ، حق گوئی وبے باکی ، زہد وبہادری کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے ۔کتاب میں امام صاحب کی ولادت ، خاندان ، ابن تیمیہ کہنے کی وجہ ، ابتدائی حالات ، علوم شریعت کی تجدید ، حصول علم ، دیگر عصری علوم کا حصول ، باکمال مصنف ، محبت رسول کا والہانہ جذبہ ، مخالفین کے درمیان ہمہ گیر شخصیت ، ملکی معاملات میں اصلاحی کردار ، امام صاحب بیحثیت بت شکن ، جیل کی زندگی ، کبائر علما ءکے ہاں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ ، امام ابن تیمیہ بطور ایک مجدد ، تاتاری جنگوں میں شرکت ، شاہ تاتار سے گفتگو ، امام صاحب بطور ایک کامیاب مناظر ، راہبوں ، صلیبیوں ، پادریوں، نجومیوں ، صوفیوں سے مناظرے ، امام صاحب کا دور ابتلاوآزمائش ، ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی ، امام صاحب کے شاگردان رشید ، تصانیف ، آپ کی مشہور تصانیف ، فضل وکمال ، وفات اور جنازہ ۔۔۔۔۔جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر طبع شدہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے باطنی اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ دلکش اور جاذب نظر ہے ۔ ایسی علمی ، اصلاحی اور رہنما کتاب کا مطالعہ ہر ایک کےلئے بے حد ضروری ہے ۔کتاب کی قیمت 2700 روپے ہے ۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹیریٹ سٹاپ سے حاصل کی جا سکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج فون نمبر 04237324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • 2025 میں پنجاب کی کارکردگی کا تاثر دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ واضح،تجزیہ”شہزاد قریشی

    2025 میں پنجاب کی کارکردگی کا تاثر دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ واضح،تجزیہ”شہزاد قریشی

    قومیں نعروں سے نہیں، کردار کی پختگی سے بنتی ہیں، حکمرانی کا اصل حسن عوام کے دکھوں کا مداوا ہے، نہ کہ اقتدار کا شور

    کیا آنے والے دنوں میں سیاستدان الزام کی سیاست ترک کر کے خدمت کی راہ اپنائیں گے؟ اگر ایسا نہ ہوا تو تاریخ بڑے بے رحم انداز میں فیصلہ سنایا کرتی ہے

    سیاست اگر خدمت سے خالی ہو جائے تو محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے، اور یہی تماشہ ہم نے ملک کے اکثر حصوں میں دیکھا

    سالِ دو ہزار پچیس جب تاریخ کے اوراق میں رقم ہونے کو ہے تو قومی سیاست کا منظر ایک ایسے شوریدہ دریا کی مانند دکھائی دیتا ہے جس میں آوازیں تو بہت ہیں، مگر سمت کا تعین کم۔ ملک کے چاروں گوشوں میں سیاست دانوں کی زبانیں تیز، لہجے، بلند اور دعوے بے شمار رہے۔ الزام در الزام کا ایسا سلسلہ چلا کہ اصل مسائل گردِ راہ میں دب کر رہ گئے اور عام آدمی حسبِ معمول تماشائی بن کر رہ گیا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب قوموں کی تقدیر کا فیصلہ تقریروں سے نہیں بلکہ تدبیر سے ہوا کرتا ہے، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں گفتار کو کردار پر فوقیت دی جاتی رہی۔ اس عمومی ابتری میں اگر کہیں نظم و نسق کی کوئی کرن دکھائی دیتی ہے تو وہ پنجاب کے افق پر نمایاں نظر آتی ہے، جہاں وزیراعلیٰ نے سیاست کے شور سے ہٹ کر حکمرانی کے تقاضوں کو سمجھنے اور نبھانے کی سعی کی۔ پنجاب کے شہروں کی گنجان آبادی ہو یا دیہات کی دور افتادہ بستیاں، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے باب میں جو عملی اقدامات سامنے آئے، وہ محض اشتہار کی زینت نہیں بلکہ عوامی زندگی سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں اصلاح، عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامیہ کو جواب دہ بنانے کی کوششیں اس بات کی شاہد ہیں کہ اقتدار اگر چاہے تو خدمت کا روپ دھار سکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ کوئی بھی حکومت کامل نہیں ہوتی، مگر یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ 2025 میں پنجاب کی سطح پر کارکردگی کا تاثر دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ واضح رہا۔ جب باقی سیاسی افق پر گرد و غبار چھایا رہا، تب یہاں کم از کم یہ احساس زندہ رکھا گیا کہ حکومت کا پہلا فرض عوام کی خبرگیری ہے، نہ کہ محض مخالفین کی خبر لینا۔ چراغ حسن حسرت کے بقول، سیاست اگر خدمت سے خالی ہو جائے تو محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے، اور یہی تماشہ ہم نے ملک کے اکثر حصوں میں دیکھا۔ مولانا ابو الکلام آزاد کی فکر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، کردار کی پختگی سے بنتی ہیں، اور حکمرانی کا اصل حسن عوام کے دکھوں کا مداوا ہے، نہ کہ اقتدار کا شور۔ سالِ رفتہ ہم سے یہ سوال چھوڑ کر جا رہا ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں سیاست دان الزام کی سیاست ترک کر کے خدمت کی راہ اپنائیں گے؟ اگر ایسا نہ ہوا تو تاریخ بڑے بے رحم انداز میں فیصلہ سنایا کرتی ہے، اور قومیں پھر افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لایا کرتیں۔ روس کے صدر پوٹن نے یورپی رہنماؤں کے بارے میں جو الفاظ ادا کیے ان سے ناصرف دکھ ہوا بلکہ عالمی سفارتی اقدار پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔

    قیادت کا اصل حسن طاقت کے اظہار میں نہیں بلکہ ضبط، بردباری اور اخلاقی وقار میں ہوتا ہے۔ روس جیسے بڑے ملک کے صدر سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود اخلاقیات کا دامن تھامے رکھیں گے۔ بین الاقوامی تعلقات میں زبان محض الفاظ نہیں ہوتی بلکہ رویوں اور نیتوں کی عکاس ہوتی ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، مفادات کی جنگ بھی اپنی جگہ، مگر تہذیب اور اخلاق وہ اقدار ہیں جو طاقتور کو مزید معتبر بناتی ہیں۔ اگر عالمی رہنما ان حدود کا خیال نہ رکھیں تو پھر امن، مکالمے اور سفارتکاری کی باتیں محض کھوکھلے نعرے بن کر رہ جاتی ہیں۔

  • گڈ گورننس یا بند دروازے؟تجزیہ  :  شہزاد  قریشی

    گڈ گورننس یا بند دروازے؟تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب میں موجودہ حکومت کی جانب سے گڈ گورننس، میرٹ پر تقرریوں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کا بارہا ذکر کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں جو اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں، وہ بلاشبہ قابلِ تحسین ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں بہتری، تعلیمی اداروں کی بحالی اور عوامی سہولیات پر توجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی واقعی عام آدمی تک پہنچ رہی ہے؟ حکومتی پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان جو خلا موجود ہے، وہ ضلعی انتظامیہ کے دفاتر میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔راولپنڈی سے لے کر پنجاب کے دیگر اضلاع تک عام شہری کی سب سے بڑی شکایت یہی ہے کہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر جیسے اعلیٰ افسران عوام سے براہِ راست ملنے سے گریز کرتے ہیں۔ دفاتر میں وقت کی پابندی کاغذی حد تک تو موجود ہے، مگر عملی طور پر صورتحال مختلف ہے۔ عام شہری صبح سویرے اپنی درخواستیں لے کر دفاتر پہنچتا ہے، مگر افسران اکثر گیارہ بجے یا اس سے بھی بعد میں تشریف لاتے ہیں۔ اس کے بعد بھی پہلے چند مخصوص افراد، وی آئی پی یا ذاتی جان پہچان رکھنے والے افسر کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ عام آدمی انتظارگاہ میں بیٹھا رہتا ہے۔ جب دوپہر کا وقت آتا ہے تو عام شہری کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ صاحب میٹنگ میں ہیں بعد میں آئیے۔ یوں ایک دن نہیں بلکہ کئی دن گزر جاتے ہیں، مگر انصاف کی دہلیز تک رسائی نہیں ہو پاتی۔ یہ رویہ صرف ایک فرد کی بےعزتی نہیں بلکہ حکومت کی مجموعی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ عوام وزیراعلیٰ کو روزانہ نہیں دیکھتے، وہ حکومت کو اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور اپنے ڈویژن کے کمشنر کے ذریعے پہچانتے ہیں۔ اگر یہی افسر عوام سے دور رہیں تو گڈ گورننس کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ مریم نواز نے سیاسی میدان میں متحرک کردار ادا کرتے ہوئے عوامی سطح پر جو مقبولیت حاصل کی ہے، وہ ضلعی سطح پر افسر شاہی کے رویے کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو یہ نہ صرف انتظامی ناکامی ہو گی بلکہ سیاسی نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ضلعی افسران کو محض فائلوں کی نہیں بلکہ عوام کی خدمت کی ذمہ داری بھی یاد دلائے۔ وقت کی پابندی، کھلے دروازے اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہی وہ اقدامات ہیں جن سے گڈ گورننس محض نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن سکتی ہے۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ عوام کے لیے کی جانے والی تمام اصلاحات، بند دروازوں کے پیچھے دم توڑتی رہیں گی۔

  • عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان  کہاں کھڑا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان کہاں کھڑا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظر نامے سے گزر رہی ہے۔ یک قطبی عالمی نظام دم توڑ رہا ہے اور اسکی جگہ کثیر قطبی دنیا جنم لے رہی ہے، جہاں طاقت کا توازن امریکہ، چین، روس اور علاقائی بلاکس کے درمیان تقسیم ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی، عسکری اور فکری سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی رقابت نے عالمی سیاست کو نئی سمت دے دی ہے۔ یوکرائن جنگ نے روس اور مغرب کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا جبکہ مشرق وسطی ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ عالمی معیشت مہنگائی، سست روی اور عدم یقین کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ دباؤ میں ہیں۔ ایسے نازک عالمی ماحول میں اور عالمی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ جغرافیائی طور پر آج بھی خطے میں پاکستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے، چین کیساتھ قریبی تعلقات اور سی پیک جیسے منصوبے پاکستان کے لیے مواقعے فراہم کرتے ہیں۔ تاہم مغربی دنیا اور عالمی مالیاتی اداروں سے روابط کی ضرورت بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

    پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ بدلتی عالمی سیاست میں جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ اور متوازن خارجہ پالیسی اپنائے، داخلی اتحاد، سیاسی استحکام اور معاشی اصلاحات کے بغیر عالمی سطح پر موثر کردار ممکن نہیں۔ دنیا کمزور معیشتوں کی بات کم اور مضبوط ریاستوں کی بات زیادہ سنتی ہے۔ بلاشبہ پاک فوج اور جملہ اداروں نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے۔ پاکستان کی سیاسی قیادتیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد کو ترجیح دیں تو پاکستان بدلتی دنیا میں اپنے لیے وقار مقام حاصل کر سکتا ہے، بصورت دیگر عالمی تبدیلیاں ہمارے دروازے پر دستک دیتی رہیں گی اور ہم محض حالات کا شکوہ کرتے رہ جائیں گے۔

  • گوجرخان، اجڑے پارکس کا نوحہ،  کون ہے ذمہ دار؟تحریر:قمرشہزاد مغل

    گوجرخان، اجڑے پارکس کا نوحہ، کون ہے ذمہ دار؟تحریر:قمرشہزاد مغل

    "برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
    ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا”

    غازیوں شہیدوں کی دھرتی تحصیل گوجرخان جس نے نامور شخصیات کو جنم دیا اس دھرتی کے ماتھے کے جھومر اور خوبصورت گلدستے میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیف آف آرمی سٹاف، چیف جسٹس آف پاکستان، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر کئی اہم عہدوں کے نام شامل ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس یہاں کے باسی اور خطے کا مستقبل معصوم پھول جیسے بچے سرکاری جدید سہولیات سے آراستہ پارک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت 2010 میں اس وقت کے وزیر اعلٰی میاں شہباز شریف کے حکم پر محکمہ جنگلات کے وسیع رقبے چالیس کنال پر بننے والا شریف فاریسٹ پارک گزشتہ پندرہ سالوں میں پروان تو نہ چڑھ سکا بلکہ مقامی سرکردہ سیاسی نمائندگان اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کے باعث ایک بھیانک داستان ضرور بن گیا، جبکہ اس کے علاوہ بعدازاں جی ٹی روڈ اور سروس روڈز کے درمیان بننے والے متعدد سمال پارک جو کبھی خوبصورت اور آباد ہونے کے ساتھ خوشی اور تفریح کا سماں ہوا کرتے تھے اب حکومتی اداروں، پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی، ضلعی و مقامی انتظامیہ، محکمہ جنگلات سمیت تمام حکومتی نمائندگان کی عدم توجہی اور بےحسی اور وسائل کے غلط استعمال اور ان پر توجہ نہ دینے کے سبب زبوں حالی کا شکار اور کھنڈرات بن چکے ہیں جو تفریحی کے بجائے ویرانی کے مناظر کا نوحہ بیان کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے لگے جھولے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جڑی بوٹیوں کی بہتات سے شریف فاریسٹ پارک جنگل کا سماں پیش کرتا ہے، گند اور کچرے سے اٹے واش رومز متعلقہ اداروں کے منہ چڑاتے ہیں، یہ سب وسائل کی کمی، بدانتظامی معاشرتی ترقی میں رکاوٹ سمیت سیاسی رہنماؤں، اداروں کی غفلت سے یہ عظیم جگہیں کھنڈر بن کر ویران ہو چکی ہیں، جو عوامی بے بسی کی عکاسی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس سے مقامی باسیوں کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    یہی پارکس لوگوں کو جوڑنے، سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے بجائے تنہائی، بے بسی کا احساس دلانے سمیت والدین کی پریشانی کا موجب بھی ہیں کہ بچے کہاں کھیلیں، پارک فنکشنل نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔ شہر کے اندر بنے سمال پارکس جن پر لاکھوں کروڑوں لگائے گے مگر انتظامیہ، پی ایچ اے، دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنے، ٹوٹے جھولوں، بنچوں کی مرمت نہ ہونے، صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ناقابل استعمال ہوکر مقامی انتظامی افسران کی کرپشن کی داستانیں سنا رہے ہیں انتظامیہ پارکوں کی مناسب دیکھ بھال میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے شہر کے پارکوں میں ویرانیوں کے ڈیرے ہیں جسکے باعث نشئیوں اور آوارہ نوجوان نے انکو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔ جس کے سبب شہر کے اندر ان منی پارکس میں خواتین نے بھی جانا بند کر دیا ہے تمام پارکس تفریح کی بجائے مسائل کی جگہ اور خطرناک بچھوؤں ،سانپوں اور حشرات کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی نے بھی شریف فاریسٹ پارک جو انتظامی عدم توجہی کا شکار ہو کر تباہ حالی کے مناظر پیش کر رہا ہے، جس میں بنیادی سہولیات کا فقدان اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری میں کوتاہی کی نشاندہی کے ساتھ انکی ذمہ داریاں باور کروائی گئیں۔ جس پر ہائر اتھارٹی متعلقہ حکام سمیت ضلعی و مقامی انتظامی افسران کو ہدایات جاری ہوئیں مگر بعدازاں ان پر عملدرآمد نہ ہونا بھی معنی خیز ہے، آخر ایسی کونسی وجوہات یا پس پردہ طاقتیں ہیں جو سرکاری وسیع رقبے پر اجڑے پارک کو فعال نہیں ہونے دے رہیں؟ آخر کس کو فائدہ پہنچانے کی خاطر سمال پارکس پر توجہ مرکوز نہیں کی جا رہی؟ کس کی ایما، کس کے کہنے اور کسے نوازنے کی خاطر متواسط طبقے کے افراد اور بچوں سے پارکس جیسی سہولت کو چھین کر سرکاری چالیس کنال لبِ جی ٹی روڈ رقبے کو ویران اور کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے؟ جبکہ اس کے برعکس مقامی سیاسی رہنماؤں کا اس اہم بنیادی مسلے پر چشم پوشی اختیار کرنا اور اسے مسلسل پس پشت ڈالنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے اور لمحہ فکریہ بھی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو جس طرح وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز پنجاب کے عوام کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں اور خاص کر بچوں کی تفریحی مقامات کی بحالی اور تزئین و آرائش پر انکی توجہ مرکوز ہے اگر ہمارے مقامی رہنما انکو تحصیل گوجرخان کے باسیوں بلخصوص بچوں کی اہم ضرورت کی جانب توجہ مبذول کروائیں تو یقینا جس طرح انھوں نے پنجاب کے دیگر حصوں میں پارکس کی بحالی اور جدید سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی ہے تو وہ اہلیان گوجرخان کو دئیے گے دیگر جدید اور وقت کی اہم ضرورت پروجیکٹس کیساتھ شریف فاریسٹ پارک کو جدید سہولیات کیساتھ آراستہ کرنے کا بہت بڑا تحفہ دینے سے گریز نہیں کریں گی۔ میری وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ تحصیل گوجرخان کے باسیوں، بچوں کے کرب کو مدنظر رکھتے ہوئے شریف فاریسٹ پارک جسے مسلم لیگ ن نے ماضی میں بنوایا تھا اسے فنکشنل کروائیں بچوں کے لیے جدید جھولے، بیٹھنے کے لیے بنچز، خواتین و حضرات و بزرگوں کے لیے آرام دہ واکنگ ٹریکس بنوا کر تحصیل گوجرخان کے باسیوں کیساتھ اپنی بے پناہ اور انکو بیش قیمتی تحفہ عنایت فرمائیں۔ مزید برآں پارکوں کی دیکھ بھال اور وہاں موجود سامان اور ملازمین کو چیک کرنے کے لئے عوامی کمیٹیاں بنوائی جائیں جو نہ صرف نگرانی کے فرائض انجام دیں بلکہ اُس سامان کی حفاظت بھی کریں کیونکہ پارکوں کے نام پر مرمت اور دیگر سامان کی خریداری تو کی جاتی ہے لیکن یہ حقیقت سامنے نہیں آتی کہ وہ سامان آخر کہاں چلا جاتا ہے۔ اور تمام پارکس کے لیے سالانہ بنیادوں پر فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ پارکس فعال رہیں۔ جس سے بچے، بزرگ، اور خواتین و حضرات تفریحی جیسی بنیادی سہولیات سے لطف اندوز ہوتے رہیں کیونکہ مہنگائی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے متواسط طبقہ اپنے بچوں کو تفریحی کے لیے راولپنڈی یا مقامی نجی پارکس میں نہیں لے جا سکتا ہے۔ بقول شاعر کے (امیدِ بہار)
    "گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے”

  • آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار:  اقصیٰ جبار

    آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار: اقصیٰ جبار

    خوابوں کے چراغ،
    جو کبھی لفظوں میں جلتے تھے،
    اب اندھیروں میں گم ہیں۔
    فطرت کے راز،
    فلسفے کی گہرائی،
    داستانوں کے جہان
    سب ایک دھند میں کھو چکے ہیں۔

    کتاب، جو تھی روشنی کی مشعل،
    اب خاموش ہے،
    ایک بھولی ہوئی یاد کی طرح۔
    صفحات پر پھیلا سکون کا پیام،
    اب شور کی گونج میں دب چکا ہے۔

    آنکھیں اسکرین کی روشنی میں گم،
    فکر کے قافلے راستہ بھول گئے ہیں۔
    نہ سوال باقی، نہ جواب کا شوق،
    صرف ایک خالی پن،
    ایک بے سمت دوڑ۔

    کیا ہم لوٹیں گے اُس دریا کی جانب،
    جہاں حرف بہتے تھے؟
    جہاں سوچ کی خوشبو
    ذہنوں کو مہکاتی تھی؟
    یا یہ فاصلہ
    اک نہ ختم ہونے والا فسانہ بن جائے گا؟

    کتاب اب بھی پکارتی ہے
    خاموشی میں، تنہائی میں،
    اپنے حرفوں کے چراغوں سے

    اقصیٰ جبار