Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    تاریخ کچھ ناموں کو صرف صفحات پر نہیں لکھتی،وہ انہیں قوم کے شعور میں نقش کر دیتی ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر انہی ناموں میں سے ایک ہیں،وہ نام جو خاموشی میں گونجتا ہے،اور وقار میں بولتا ہے،وہ سپہ سالار جن کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں،بلکہ ذمہ داری کا نور جھلکتا ہے۔جن کی نگاہ میں وقتی شہرت نہیں،بلکہ صدیوں پر محیط ریاستی بقا کا خواب ہے۔ جنرل سید عاصم منیر ،ایک ایسا نام جو خاموشی، ضبط اور ریاستی ذمہ داری کے بھاری مفہوم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان کی قیادت میں وردی صرف طاقت کی علامت نہیں رہی، بلکہ قانون، آئین اور قومی وقار کی پاسدار بن کر ابھری ہے،معرکۂ حق ان کے عہد میں ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے،حق کے بیانیے کا دفاع، ریاست کی رِٹ کی بحالی، اور اس اصول کا اعادہ کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہ معرکہ بندوق کی گھن گرج سے زیادہ عزم کی خاموش گونج میں سنائی دیتا ہے۔

    بھارت کے ساتھ معاملات میں، جذباتیت کے بجائے وقار اور مضبوط مؤقف ان کی شناخت رہا۔ اشتعال کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ دلیل، تیاری اور دفاعی صلاحیت کے واضح پیغام نے یہ باور کرایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر کمزور نہیں۔ یہی وہ “منہ توڑ جواب” ہے جو زبان سے نہیں، ریاستی سنجیدگی سے دیا جاتا ہے۔بھارت نےپہلگام ڈرامے کے بعد آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا تو پاکستان نے معرکہ حق میں وہ جواب دیا کہ بھارت ابھی تک عالمی دنیا میں رسوا ہو رہا ہے،اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی کامیابیوں کی گونج ،فتح کے نغمے امریکی صدر ٹرمپ بھی ایک دو نہیں کئی بار گا چکے ہیں،جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دنیا کو یہ سبق دیا کہاصل جواب نعرے نہیں ہوتے،اصل جواب تیاری، تدبر اور ناقابلِ تسخیر دفاع ہوتا ہے۔دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرامن کی بات کرناصرف طاقتور ہی جانتا ہے،اور یہ ہنر انہیں خوب آتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حکمتِ عملی فولاد کی مانند مضبوط اور نیت آئین کی طرح شفاف رہی،یہی وجہ ہے کہ خاک و خون میں لتھڑی سرزمین دوبارہ امن کی خوشبو سے مہکنے لگی۔یہ کامیابیاں خاموش ہیں،مگر ان کی گونج ہر محفوظ گھر میں سنائی دیتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل،چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کا کردار تسلسل اور ادارہ جاتی مضبوطی کا مظہر ہے۔ انٹیلی جنس کی بہتری، سرحدی نظم و نسق، اور ریاستی اداروں کے باہمی ربط نے اس ناسور کے خلاف نمایاں کامیابیاں ممکن بنائیں۔عالمی سطح پر، پاکستان کی آواز ان کے عہد میں متوازن اور باوقار انداز میں سنی گئی۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور عسکری و سفارتی حلقوں سے ملاقاتوں میں پاکستان کے مؤقف کو نہ صرف سنا گیا بلکہ سمجھا بھی گیا چاہے وہ علاقائی سلامتی ہو، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون ہو یا عالمی استحکام کی گفتگو،امریکی صدر سے ملاقاتیں ہوں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ،تمام کامیابیوں کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے

    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کا خلاصہ ایک جملے میں کیا جا سکتا ہے،طاقت میں تحمل، مؤقف میں وضاحت، اور عمل میں آئینی شعور،یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی سپہ سالار کو تاریخ میں جگہ دلاتے ہیں اور قوم کو اعتماد عطا کرتے ہیں۔جنرل سید عاصم منیر صرف ایک فوجی سربراہ نہیں وہ ایک نظریہ ہیں،ریاست ماں ہوتی ہے،
    اور ماں کی حفاظت عبادت،ان کی قیادت میں وردی خوف کی علامت نہیں،تحفظ کی علامت بنی،طاقت دھمکی نہیں،تحمل بن گئی اور یہی وجہ ہے کہ جب تاریخ پاکستان کے مشکل ادوار کو لکھے گی تو ایک باب خاموش وقار،
    ناقابلِ شکست عزم اور جنرل سید عاصم منیر کے نام ہوگا۔جنرل سید عاصم منیر وہ سپہ سالارجو نہ نعرہ بیچتا ہے،نہ شہرت مانگتا ہے،بس ریاست کا بوجھاپنے کندھوں پر اٹھا کرخاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اور قوم ان کے پیچھے
    سر اٹھا کر کھڑی ہے۔کیونکہ جب وردی میں ایسا عزم ہو،تو پرچم خود بخود بلند ہو جاتا ہے۔

  • دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر:  عنبرین فاطمہ

    دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر: عنبرین فاطمہ

    زیرِ اہتمام تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس، بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری ، دو روزہ تربیتی نشست کے سلسلے میں پہلی نشست بعنوان رموز و اوقاف مورخہ 25 دسمبر، 2025 بروز جمعرات شب 8 بجے بذریعہ صوتی پیغام منعقد ہوئی۔

    علم و ادب سے لبریز اس تربیتی کارگاہ کی میزبانی و تربیت کی ذمہ داری محترمہ سدرہ تنولی نے انجام دی۔ نشست کا باضابطہ آغاز مادام سدرہ تنولی کے پرخلوص سلام اور تعارف سے ہوا۔ آپ کا تعلق خیبر پختونخوا کے خوبصورت شہر مانسہرہ سے ہے۔ ادبی دنیا میں آپ کا سفر متنوع قابل قدر ہے۔ آپ نہ صرف کہانی نویس، افسانہ نگار، کالم نگار اور تبصرہ نگار ہیں، بلکہ "لوحِ ادب اکادمی” کے نام سے ایک ادبی ادارہ بھی کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ملکی اور بین الاقوامی سطح کے مختلف علمی و ادبی اداروں سے منسلک ہیں۔

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام نشست کا آغاز محترمہ سدرہ تنولی نے رموزِ اوقاف کے تعارف و اہمیت بتاتے ہوۓ کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے بول چال میں آواز کا زیر و بم اور توقف جذبات کا اظہار کرتے ہیں، ویسے ہی تحریر میں رموزِ اوقاف معانی کی وضاحت اور ربط پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں(Punctuation )کہتے ہیں۔ محترمہ سدرہ تنولی صاحبہ نے موضوع کو نہایت سلیقے سے بیان کیا، جس سے سامعین کو رموزِ اوقاف کی اہمیت کا بخوبی ادراک ہوا۔ انہوں نے نہ صرف ان علامات کی وضاحت کی بلکہ ان کے عملی استعمال پر بھی مفصل گفتگو کی۔

    انہوں نے بتایا کہ ” سکتہ” (،) کا استعمال جملے میں چھوٹے مرکبات یا الفاظ کے درمیان وقفے کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ "ختمہ” (۔) جملے کے اختتام پر استعمال ہوتا ہے تاکہ مفہوم مکمل طور پر واضح ہو جائے۔ "سوالیہ نشان” (؟) سوالات پر مبنی جملوں میں استعمال ہوتا ہے، جو قاری کو جملے کی نوعیت سے آگاہ کرتا ہے۔علامتِ استجابیہ (!) جسے ندائیہ یا استجابیہ بھی کہا جاتا ہے، جذبات جیسے خوشی، غم، حیرت یا تعجب کے اظہار کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    "علامتِ تفصیل” (:)کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ علامت کسی بات کی وضاحت یا اس کی تفصیل پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور قاری کو ذہنی طور پر تیار کرتی ہے کہ آگے کچھ وضاحتی نکات آئیں گے۔

    "واوین” (” ") کے بارے میں بتایا کہ یہ اقتباس یا کسی خاص جملے کو نمایاں کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ "قوسین” ([ ]) ضمنی بات یا وضاحتی مواد کے اضافے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے بڑی بصیرت سے واضح کیا کہ اگر رموزِ اوقاف کو ان کے مقررہ اصول و ضوابط کے مطابق استعمال نہ کیا جائے، تو نہ صرف جملے کا حسن متاثر ہوتا ہے بلکہ مفہوم میں بھی ابہام اور غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

    نشست کے اختتام پر شرکاء نے محترمہ سدرہ تنولی سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے نہایت دلنشین، مدلل اور مؤثر انداز میں دیے۔

    یہ علمی نشست تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ تربیتی کارگاہ کا پہلا دن تھا،جو اختتام پذیر ہوا۔

    بطورِ طالب علم و نو آموز لکھاری، میرے لیے یہ نشست بے حد معلوماتی اور فائدہ مند ثابت ہوئی۔ رموزِ اوقاف کے استعمال کی اہمیت اور باریکیوں کو جان کر مجھے یقین ہو گیا کہ تحریر کی تاثیر انہی چھوٹی چھوٹی علامتوں سے وابستہ ہے۔ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس اسی طرح کی تعلیمی، ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے تاکہ ہماری زبان، ثقافت اور فکری ورثے کو مزید تقویت حاصل ہو۔

  • قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قوموں کی ترقی محض قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع یا آبادی کی کثرت سے مشروط نہیں ہوتی بلکہ اصل قوت انسانی سرمایہ ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی افرادی قوت کو تعلیم، مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کیا، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے نکلے۔ چین، جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنے عوام کو ہنرمند بنا کر عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔چین کی معاشی ترقی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہاں کی قیادت نے یہ ادراک کر لیا کہ اگر آبادی کو بوجھ بننے سے بچانا ہے تو اسے زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہوگا۔ تعلیم کو محض ڈگری تک محدود رکھنے کی بجائے فنی تربیت کو قومی ترجیح بنایا گیا۔ کرپشن کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے گئے، بدعنوانی کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا اور نتیجتاً عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک بن چکا ہے اور عالمی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔اسی طرح جاپان کی ترقی بھی کسی معجزے کا نتیجہ نہیں بلکہ علم و ہنر کے امتزاج کا ثمر ہے۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جاپانی ماہرین نے صدیوں قبل چین سے فنی مہارتیں سیکھیں اور بعد ازاں مغربی ٹیکنالوجی کو اپنے ہنر سے ہم آہنگ کیا۔ یہی حکمتِ عملی جاپان کو جدید صنعتی ریاست بنانے کا سبب بنی۔بدقسمتی سے پاکستان، جسے اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع جیسی بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے، آج بھی معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ ہماری تعلیمی پالیسیاں زیادہ تر نظریاتی اور کتابی حد تک محدود ہیں، جن کا عملی زندگی سے براہِ راست تعلق کمزور ہے۔ نتیجتاً ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے روزگار کی تلاش میں در بدر پھرتے ہیں، جبکہ مارکیٹ کو درحقیقت ہنرمند افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حکومت اتنی ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جتنے گریجویٹس تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کا واحد راستہ ووکیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ہے، جو نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں عملی کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ہنر سیکھنے کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں فنی تعلیم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔


    تاہم اس گھپ اندھیرے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو شکوہ نہیں کرتے بلکہ عمل سے چراغ جلاتے ہیں۔چند روز قبل صحافیوں کے ایک وفد کو ایک ایسے آفاقی وژن کے حامل شخص کے منصوبے دیکھنے کا موقع ملا۔وفد کی قیادت صحافیوں کی ایک تنظیم(ساک)کے جنرل سیکیرٹری ضمیر آفاقی نے کی اورلیفٹیننٹ کمانڈر راشد محمود (ر)پاکستان نیوی بھی ہمارے ساتھ تھے جو کہ سوشل میڈیا انٹلیکچوئل انفلوئنسر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تنظیم (کاسب) کے پلیٹ فارم سے ملت کے مقدر کے ستارے بھی تراش رہے ہیں کیونکہ ان کا پختہ یقین ہے کہ ہنر مند ہاتھو ں سے مقدر بدلا جا سکتا ہے درحقیقت ایسے ہی ہنر مند ہاتھوں کی جستجو اور قدر افزائی کے لیے دانشوروں کا یہ قافلہ نکلا تھا تاکہ قوم کے اصل اثاثوں کو سامنے لایا جا سکے۔

    پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد بیرونِ ملک آرام دہ زندگی اختیار کرنے کے بجائے اپنے وطن کے پسماندہ طبقات کی خدمت کو مقصدِ حیات بنایا۔ شیخوپورہ کے نواحی علاقے مہموں والی میں دو سرکاری اسکولوں کو اڈاپٹ کر کے انہوں نے جو سفر شروع کیا، وہ آج ایک قومی ماڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان اسکولوں میں نہ صرف تعلیمی معیار نمایاں طور پر بہتر ہوا بلکہ ان کے ساتھ قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز نے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے قابل بنا دیا۔

    شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے شروع ہونے والا یہ سفرمعاون فاؤنڈیشن کے زیر انتظام آج ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔ یہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے، بلکہ زندگی جینے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ یہاں بچیاں صرف تعلیم حاصل نہیں کرتیں بلکہ خودمختار بننے کی تیاری کرتی ہیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات تقریباًاسی فیصد تک نجی شعبے میں باعزت روزگارحاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مزید برآں“اخوت”کے تعاون سے بلاسود قرضوں کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان اپنا روزگار خود شروع کر سکیں۔وفاقی و صوبائی تعلیمی محکموں، نجی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے اشتراک سے چلنے والے یہ منصوبے اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اگر نیت درست ہو تو پسماندگی کو شکست دی جا سکتی ہے۔یہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز دراصل ان نوجوانوں کے لیے نئی زندگی کا دروازہ ہیں جو حالات کے ہاتھوں تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ سلائی مشین سے کمپیوٹر لیب تک، کلاس روم سے ورکشاپ تک ہر جگہ ایک ہی پیغام ہے کہ ہنر عزت دیتا ہے، خودداری سکھاتا ہے۔


    یہ ادارے خاص طور پر ان بچوں اور بچیوں کے لیے امید کا سہارا ہیں جو غربت، گھریلو ذمہ داریوں یا وسائل کی کمی کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کوجزو لازم بنایا گیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت اس نیٹ ورک کے تحت ملک بھر میں تقریباً تین سوسے زائد تعلیمی و ووکیشنل ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نجی شعبے میں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ان اداروں کی ایک نمایاں خصوصیت طالبات کی بڑی تعداد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ماحول محفوظ اور شفاف ہو تو والدین اپنی بچیوں کو تعلیم اور ہنر حاصل کرنے سے نہیں روکتے۔ مزید برآں، بلاسود قرضوں اور نجی و سرکاری اداروں کے تعاون نے اس ماڈل کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو اگر معاشی خودمختاری اور سماجی استحکام درکار ہے تو اسے تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔

    ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے منصوبے اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ درست سمت، مخلص قیادت اور عملی اقدامات سے قومی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ان اداروں سے نکلنے والے نوجوان جب اپنے خاندان کا سہارا بنتے ہیں تو اصل ترقی کی تصویر سامنے آتی ہے۔بلاشبہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے تعلیمی و تربیتی منصوبے پاکستان کے لیے روشنی کے مینارہیں جو حکمرانوں کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ پیشہ ورانہ تربیت سے ہی قومی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔یہ منصوبے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قوموں کا مستقبل تقریروں، سوالوں اور موازنوں میں نہیں بلکہ ہنر مند ہاتھوں، باعمل ذہنوں اور مخلص قیادت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ اگر نیت درست ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔شاید یہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنی ایک دن پورے معاشرے کو منور کرے گی۔اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان چین یا جاپان بن سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب اپنی صلاحیتوں پر یقین کر کے ہنر مند پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔کیونکہ قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں۔

    رقیہ غزل
    رقیہ غزل
  • مریم نواز کا مُکا اور عمران خان کا زہر،تحریر : علی ابن ِسلامت

    مریم نواز کا مُکا اور عمران خان کا زہر،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ظاہر ہے کہ زبان کی کوئی ہڈی نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔یہ کہاوت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری زبان ایک طاقتور ہتھیار ہے اور اسے غلط استعمال کرکے ہم کسی کو بہت تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔سیاست میں اس وقت تکلیف نہیں بلکہ مخالفین سیاسی قتل کی سازشوں میں مصروف ہیں، آج 26 دسمبر 2025 ہے جب سہیل آفریدی کی لاہور آمد اور دن ہے ، ایک جانب تحریک انصاف کی سٹریٹ موومنٹ کی تیاری تو دوسری جانب مذاکرات کی خواہش اپنی قیادت کو بھی پریشان کیے ہوئے ہیں۔۔ اطلاعات کے مطابق رات کو لاہور سے پولیس نے پی ٹی آئی کے 600 سے زائد سرگرم کارکنان کو حراست میں لیا ،پولیس نے سٹی کینٹ صدر اور ماڈل ٹاون ڈویژن سے متعدد افراد کو حراست میں لیا، وجہ یہ کہ تحریک انصاف کی ریلی تھی، ۔ آخر سہیل آفریدی کے پنجاب یا لاہور آنے پر پابندی کیوں ، رکاوٹیں کیوں ہیں؟ مستقبل میں یہ معاملہ بہت آگے تک جائے گا۔

    مریم نواز نے 2019 میں ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک یہ اعتراف کر رہے تھے کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا مگر دباؤ میں فیصلہ سنایا گیا، اس ویڈیو کو جاری کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ نواز شریف کا کیس سیاسی بنیادوں پر تھا، حالانکہ اس کی صداقت پر بہت سوال اٹھائے گئے تھے اور جج نے بعد میں اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا، تب مریم نواز نے سب سے بڑی اور اہم پریس کانفرنس کر کے مکا لہرا کر دعوہ کیا تھا کہ اور بھی بہت ساری وڈیوز موجود ہیں اگر کسی نے ہوشیاری کی کوشش کی تو بہت ساری چیزیں سامنے لاؤں گی، اسی طرح مریم نواز پر نیب دفتر پر حملے کا الزام بھی تھا۔نواز شریف پر گوجرانوالہ جلسہ میں آرمی کے خلاف تنقید کا تذکرہ بھی قابل ذکر ہے۔

    یہ سب چیزیں شاید ملکی سیاست یا کسی بھی پارٹی کے سیاسی سٹرکچر کیلئے فائدہ مند نہیں تھیں، پھر ایک معاملہ عسکری اداروں پر سیاسی الزامات کا بھی تھا، ملک میں تین سیاسی جماعتیں سب سے زیادہ وقت مختلف ادوار میں مختلف صوبوں میں رہی، سب ہی ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آئے اور انہی کو بدنام کیا، کبھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو کبھی انصاف کی دعویدار سیاسی جماعت نے ٹویٹر ٹرینڈز چلائے، معاملہ کہیں کا بھی سیاسی لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ سے جوڑ دیا، پہلے آرمی کو اپنی ذاتی مفاد کیلئے سیاست میں شامل کیا، سب سیاسی جماعتوں نے مداخلت کی اجازت دی پھر ملکی مفاد تک جانا پڑا تو سیاسی لوگ ذاتی دشمنی میں اداروں کو روندتے چلے گئے۔

    مریم نواز نے اداروں کو دھمکیاں دیں کہ مجھے انصاف چاہیے، پھر انہی نے حکومت میں آ کر قانون میں بھی تبدیلیاں کیں،شہباز شریف کی پہلی حکومت ، پی ڈی ایم دور میں چھبیسویں آئینی ترمیم تو پھر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم، کیا ہوا کیسے ہوا ؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں، عمران خان جنرل باجوہ کی وہ تعریفیں کی کہ لگنے لگا تھا کہ جنرل باجوہ ہی دنیا میں عقل ودانش کے مالک ہیں، پھر وہ وقت بھی آیا کہ جنرل باجوہ جو عمران خان کی نظر میں سب سے بڑا محب وطن تھا کپتان نے اس کو میر جعفر اور میر صادق کی صفوں میں کھڑا کر دیا، آخر وہ زہر جو سوشل میڈیا کے ذریعے سے جینزی یا سوشل میڈیا تک پہنچا وہ ہر طالب علم اور عمران خان کے شیدائی کے ذہن میں زہر بن کر پھیل چکا ہے۔اگر عمران خان کہے کہ مجھے باجوہ کا آئیڈیا نہیں تھا تو نوجوان نسل جو آج باشعور بنی ہوئی ہیں ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ عمران خان جب اقتدار میں آیا تو 26 سال سیاسی تجربہ کا دعوی کرتا تھا، اہم سوال یہ ہے کہ اگر آج نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ اداروں کی مداخلت ہے تو عمران خان جو سیاست میں رِہ چکا تھا، مشرف کے خلاف تحریک چلا چکا تھا، جیل جا چکا تھا، اس کو علم کیوں نہیں تھا، اگر اسکو 26 سال میں پتہ نہیں چلا تھا تو پھر خود جس میں شعور کی کمی تھی وہ کیا شعور دے سکتا تھا، عمران خان کا ساتھ دینے والے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی اصلیت کا ہمیں علم نہیں تھا تو پھر وہ کتنے باخبر ہو سکتے ہیں؟

    آج پی ٹی آئی ورکر کو لیگی کارکن قبول نہیں، پی ٹی آئی ، پیپلز پارٹی اور لیگی قیادت ذاتی محفلوں میں بہترین تعلقات رکھتے ہیں وہ زندگی کو لطف اندوز بناتے ہیں مگر عوام کو بیوہ قوف بنایا جاتا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ عمران خان نے جو زہر مقتدر حلقوں کے خلاف عوام تک پہنچایا وہ ایسے سرایت کر چکا ہے کہ اب اس کو توڑ نظر نہیں ا ٓ رہا، ظاہر ہے کہ اس کو خود آج پی ٹی آئی اور عمران خان بھی افورڈ نہیں کر سکتے ، سیاست میں تشدد ا ٓ چکا ہے، وہ زہر جو سب سیاستدانوں نے تقسیم کیا آج اس زہر کا اثر تمام کی جان لے چکا ہے، نظام کو بوسیدہ کرتے کرتے نظام دین نے سب سیاسی جماعتوں کی جمہوری سوچ کا خاتمہ کر دیا ہے، اپنی سیاست کے لیے ملکی معیشت کو تباہ کیا، عمران خان نے وہ وہ زبان استعمال کی کہ آج زبان بندی ہو چکی ہے،عمران خان جانتے تھے کہ کبھی کبھی، سخت الفاظ کسی جسمانی چوٹ سے زیادہ تکلیف پہنچا سکتے ہیں، لیکن مزاہمت سے ہیرو بننے سے قاصر رہے، جھوٹ کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا، کبھی امریکی سازش تو کبھی سائفر کا لہرانا، کبھی جنرل باجوہ پر ایکسٹینشن کا الزام تو کبھی امریکی غلامی نا منظور کا دعوی، قطع نظر کہ باجوہ ایکسٹینشن چاہتا ہو گا، لیکن غلامی خود بھی کرتے رہے ، امریکہ سے امیدیں لگائیں، ٹرینڈز چلائے گئے، اس جھوٹی سیاست نے ملک پر گہڑا اثر ڈالا، ن لیگ میں بھی ذاتی انا اچھے سیاستدان کھا گئی، لہذا جھوٹ بولنے سے ہم نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اپنی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ ہماری زبان ایک قیمتی تحفہ ہے اور اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ جو زہر عمران خان نے پھیلایا تھا آج اس کی زد میں خود بھی آ چکے ہیں، جو مزاہمت کو سیاست کا اصل چہرہ سمجھ بیٹھے ہیں وہ ملک کو پیچھے لے جا چکے ہیں لیکن آج بھی یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی، سب سیاسی جماعتیں اگر اپنے گریبان میں نظر جھکائیں تو شاید سیاست سے تشدد کا خاتمہ ممکن ہو جائے ، جو زہر پی ٹی آئی سوشل میڈیا اور چند ڈالر خور یوٹیوبرز نے دوسروں کی جان لینے کیلئے پھیلایا تھا آج وہ ان کو سانسیں بھی بند کر چکا ہے، کہتے ہیں کہ پاپولیرٹی انسان کو پاگل کر دیتی ہے ، کون پاپولیرٹی کے چکر میں پاگل ہوا یہ سب جانتے ہیں۔اب سیاسی ورکرز جان لیں کہ ماضی میں نہ عمران خان کا پھیلایا ہوا زہر کام آیا اور نہ مریم نواز کا لہرایا ہوا مُکا کام آیا۔لہذا ملک میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کو دیکھتے ہوئے مذاہمت نہیں بلکہ مفاہمت کو اپنا شعار بنا لینا چاہیے کیونکہ اب سب لالچی سیاست دان جمہوری روایات، عقل و فہم، فکری سوچ، اخلاقیات، اور نوجوانوں کا مستقبل کھا گئے ہیں ۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان انتہائی اہم،تجزیہ:شہزادقریشی

    متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان انتہائی اہم،تجزیہ:شہزادقریشی

    متحدہ عرب امارات کے صدر کا پاکستان کا دورہ محض رسمی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کا حامل ہوگا، اور اس کے اثرات قلیل المدت کے ساتھ ساتھ طویل المدت بھی نظر آ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات جذبات، تاریخ اور مفادات تینوں کی بنیاد پر استوار ہیں۔ خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانی، ترسیلاتِ زر، دفاعی تعاون اور سرمایہ کاری یہ سب اس رشتے کو غیر معمولی وزن دیتے ہیں۔ امکان یہی ہے کہ اس دورے میں سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر، بندرگاہوں اور زراعت جیسے شعبے زیرِ بحث آئیں گے۔ پاکستان اس وقت معاشی استحکام کی جس جدوجہد سے گزر رہا ہے، اس میں یو اے ای کی براہِ راست سرمایہ کاری اور مالی تعاون نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی اعتماد کی بحالی یہ دورہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا نہیں۔ یو اے ای جیسے مضبوط اور مستحکم ملک کا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا خطے میں پاکستان کے سیاسی وزن کو تقویت دے گا۔

    علاقائی اور عالمی تناظر مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، توانائی کی سیاست اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں ان سب میں پاکستان اور یو اے ای کا قریبی مشاورت میں آنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ دفاعی و سلامتی تعاون اگرچہ یہ پہلو زیادہ نمایاں نہیں کیا جاتا، مگر پسِ پردہ دفاعی تعاون، تربیت اور سلامتی کے امور بھی اس دورے کے ایجنڈے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اگر اس دورے کو محض بیانات اور تصویروں تک محدود نہ رکھا گیا، بلکہ ٹھوس معاہدات اور عملی پیش رفت سامنے آئی، تو یہ پاکستان کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اصل کامیابی کا پیمانہ یہی ہوگا کہ دورے کے بعد عوام کو معاشی بہتری اور ریاست کو سفارتی مضبوطی کی صورت میں کیا حاصل ہوتا ہے۔یہ دورہ امکانات سے بھرپور ہے اب یہ پاکستانی پالیسی سازوں کی سنجیدگی اور عملدرآمد پر منحصر ہے کہ ان امکانات کو حقیقت میں کیسے بدلا جاتا ہے۔

  • بے زبانوں کا جرم کیا ہے،تحریر:ملک سلمان

    بے زبانوں کا جرم کیا ہے،تحریر:ملک سلمان

    معصوم، بے زبان و بے گھر کتوں کو مارنے کی باتیں سن کر دل شدید دکھی ہے۔ پورے پاکستان میں کتا کاٹنے کے واقعات کی تعداد محض تین سے چار ہے۔ معصوم کتوں کو مورود الزام ٹھہرانے سے پہلے سوچیے کہ ہم نے ان بے زبانوں کو سوائے نفرت کے دیا ہی کیا ہے؟

    ُگاؤں سے لیکر شہر تک ہر جگہ ان کو دیکھتے ہی دھتکار کر بھگا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ بلاوجہ پتھر مار کر یا چھڑی کے ساتھ پیٹا جاتا ہے کہ بھاگو یہاں سے، جب آپ بے زبانوں کو بلاوجہ پتھر مارو گے تو جواب میں خیر کی امید کیونکر رکھنی۔آپ نے کسی بے گھر کتے یا بلی کو آخری دفعہ روٹی کا ٹکڑا کب دیا، کبھی پرندوں کیلئے گھر کی چھت یا باغیچے میں دانہ یا پانی رکھا؟ کل سے نہیں آج سے ہی تجربہ کرکے دیکھ لیجئے گھر کے باہر گھومتے کسی کتے یا بلی کو روٹی یا گوشت کا ایک ٹکڑا دیجئے وہ فوری طور پر آپ کو پلکیں جھپک کر یا دم ہلا کر شکریہ ادا کرے گا جبکہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کہ رزق کی فراہمی کیلئے اللہ کا شکر ادا کرتا نظر آئے گا۔

    یورپین ممالک کی اکثریت جبکہ بہت سارے اسلامی ممالک میں بھی جنگلات، سڑک کنارے اور فٹ پاتھ پر لکڑی کے چھوٹے چھوٹے باکس رکھے ہوتے ہیں کہ کتے اور بلیاں موسمی شدت سے بچ سکیں جبکہ "فوڈ شئیرنگ ود اینمل” تو عام رویہ ہے۔بچپن میں ہم بہن بھائیوں نے صبح ناشتے میں امی سے دو روٹیاں لینی ایک خود کھانی جبکہ ایک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے پرندوں کوڈال دینے۔امی نے گھر کی چھت پر مٹی کے کونڈوں میں گندم، باجرہ اور پانی بھر کر رکھ دینا کہ پرندے کھائیں گے۔بچن میں ایک دفعہ سکول جاتے ہوئے راستے میں دیکھا کہ ایک کتا گندگی کے ڈھیر سے کھانے کیلئے کچھ تلاش کر رہا تھا میں نے لنچ بکس والا کھانا اسے دے دیا،کھانا کھا کر اس نے جس طرح سے آسمان کی طرف دیکھا وہ منظر دیدنی تھا کہ یہ ایک روٹی کیلئے بھی فوری اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے۔

    تب سے آج تک عادت ہے کہ میں ڈبل روٹی اور بسکٹ ساتھ رکھ لیتا ہوں جہاں بھی کتا بلی یا جانور بھوکا لگے اسے کھلا دیتا ہوں۔ پریمیئم، سگنیچر اور infinte کارڈ پر مختلف بیکری شاپ پر 50فیصد تک ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے، اپنی استطاعت کے مطابق ڈسکاؤنٹڈ اشیاء لے کر ان بےزبان جانوروں میں تقسیم کر کے جو دلی تسکین ملتی ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

    انسانیت صرف انسانوں کے ساتھ اچھے سلوک کا نام نہیں بلکہ اصل انسانیت یہی ہے کہ آپ اپنے ارد گرد تمام جانداروں کاخیال رکھیں خاص طور پر بے زبان پرندوں اور جانوروں کا، انہیں بھی بھوک لگتی ہے، انہیں ناصرف کھانا دیجئے بلکہ سردی کی شدت اور گرمی کی حدت سے بچانے کیلئے بھی جتنا ہوسکے ضرور کوشش کریں۔ بے زبان جانوروں پر پتھر برسانے، تشدد کرنے اور انکو زہر دیکر مارنے کی بجائے انہیں روٹی یا گوشت کا ایک ٹکڑا دے دیں۔ جس کتے کو آپ نے کبھی ایک ٹکڑا روٹی بھی دی ہوگی وہ کبھی پلٹ کر آپکو نہیں کاٹے گا۔ ان بے زبان اور معصوم جانور کو نفرت اور زخم نہیں محبت اور پیٹ بھرنے کیلئے کھانا دیجئے۔ فریش کھانا نہیں دے سکتے تو کم از کم مہمانوں کا بچا ہوا کھانا ہی ڈال دیا کریں۔

    یہ جانور نہ صرف معصوم اور پیارے ہیں بلکہ اس زمین کیلئے ضروری بھی ہیں انہیں ختم کرکے ماحولیاتی آلودگی کو مزید سنگین اور خطرناک حد تک نہ لیکر جائیں۔حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔ یورپ میں کتے گھر کے فرد بھی ہیں اور معاشرے کا کارآمد کردار بھی جہاں یہ سکیورٹی سے لیکر بچوں کوانسانی شکل والے حیوانوں سے بچا کر باحفاظت سکول ڈراپ کرنے تک کا کام کرتے ہیں۔حضرت عمر کا کہنا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک پیاس سے مرگیا تو اللہ کو حساب دینا ہوگا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک بہت گنہگار خاتون کو اللہ نے اس بات پر معاف کر دیا کہ اس نے اپنے موزے کی مدد سے کنویں سے پانی نکال کر پیاسے کتے کو دیا ۔

    بے زبان و بے گھر جانوروں کے تحفظ کے لیے ڈی آئی جی اپریشن لاہور فیصل کامران انتہائی قابل تعریف و تقلید کردار ادا کر رہے ہیں ۔ لاہور پولیس کے زیر انتظام پولیس اینیمل ریسکیو سینٹر میں زخمی کتے اور بلیوں کے لیے بہترین علاج معالجہ اور کھانےکی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ہم اپنے پالتو کتوں ہسکی، جرمن شیفرڈ اور گولڈن ریٹریور پر ماہانہ پچاس ہزار سے دولاکھ تک خرچ لیتے ہیں لیکن گلیوں بازاروں میں گھومنے والے ان بے گھروں کوایک وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے۔وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں خاص طور پر انتہائی درد دل رکھنے والی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ میڈم خدارا ان بے زبان و بے گھر مخلوق کا سہارا بنیں، ان کیلئے ووڈن ہوم، ویکسینیشن، ویٹنری ہسپتال، اینیمل ریسکیو سینٹر اور معیاری خوارک کی فراہمی کا انتظام کرکے پنجاب کو بین الاقوامی سطح پر مثبت تشخص کے ساتھ متعارف کروائیے۔

  • ریاست کی بقا کی اصل قیمت، پاک فوج کی قربانیاں اور شہداء کا قرض،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ریاست کی بقا کی اصل قیمت، پاک فوج کی قربانیاں اور شہداء کا قرض،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں آئین بننے اور ٹوٹنے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود ریاست، عوام نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کبھی آئین معطل ہوا، کبھی توڑا گیا اور کبھی آئین کو محض ایک تقریری کتاب بنا کر الماریوں میں بند کر دیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ آئین کتنی بار بنا اصل سوال یہ ہے کہ آئین پر کب اور کس نے عمل کیا؟ جمہوریت کے نام پر جلسے ہوئے نعروں کی گونج رہی مگر جمہوریت کے ثمرات کبھی گلی، محلے، کھیت اور کارخانے تک نہ پہنچ سکے۔ ووٹ مانگا گیا، اقتدار ملا مگر عام آدمی کے مسائل ہر دور میں پس منظر میں دھکیل دئیے گے۔ ریاست ہو گی ماں جیسے نعرے لگائے گے۔ قانون کی حکمرانی محض تقاریر اور قراردادوں تک محدود رہی، قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ثابت ہوا۔ توانائی کے بحران دہائیوں تک قومی و مباحث کا حصہ رہے مگر بجلی اور گیس کے بحران کا مستقل حل کسی حکومت کی ترجیح نہ بن سکا، وقتی اقدامات سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور الزام تراشی کے سوا عوام کو کچھ نہ ملا، ہر آنے والا حکمران ماضی کو کوستا رہا، اور مستقبل کو وعدوں کے رحم و کرم پر چھوڑتا رہا۔ سچ یہ ہے کہ وطن عزیز میں اقتدار کی سیاست زیادہ تر عوامی خدمت نہیں بلکہ ذاتی و گروہی مفادات کی جنگ رہی ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی کو نعرہ ضرور بنایا گیا مگر اسے قومی عہد کبھی بھی بنایا نہ جا سکا عام آدمی آج بھی اسی سوال کیساتھ کھڑا ہے کیا یہ خوبصورت وسائل سے مالا مال ملک کبھی اسکے لیے بھی بنے گا؟ قصہ مختصر آئین، جمہوریت، قانون یہ سب الفاظ پاکستان میں بہت استعمال ہوئے مگر کم برتے گے۔ پاکستان میں آئین محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد تھا مگر افسوس کہ یہ عہد ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہا۔

    جمہوریت کے نعرے یہاں سب سے زیادہ لگے مگر جمہوریت سب سے زیادہ مظلوم رہی پارلیمان کے تقدس کے قصیدے پڑھے گے مگر عام آدمی کو کچھ نہ ملا۔ جمہوریت اگر عوام کی فلاح کا نام ہے تو پھر یہ کیسی جمہوریت ہے جس کے ثمرات صرف ایوانوں تک محدود رہے؟ قانون کی حکمرانی کے نعرے لگاتے رہے مگر قانون کمزور کے لیے زنجیر اور صاحب اقتدار کے لیے سہارا بن گیا۔ توانائی بحران دہائیوں تک قومی المیہ بنا رہا مگر کسی حکومت نے اسے قومی، ہنگامی حالت سمجھنے کی زحمت نہ کی، بجلی اور گیس کے بحران کو وقتی نعروں سبسٹڈیوں اور بیانات سے ٹالا جاتا رہا یہ بحران نہیں طرزِ حکمرانی کی نااہلی کا مسلسل ثبوت تھا۔ سیاست خدمت نہیں اقتدار کی کشمکش رہی ملک کی تعمیر و ترقی کو قومی فریضہ نہیں بلکہ انتخابی نعرہ بنا دیا گیا۔ ناکامیوں، آئینی انحرافات اور سیاسی مفادات کی جنگ کے تمام تر حقائق کے باوجود ایک سچ ایسا ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔

    پاکستان اگر آج بطور ریاست قائم ہے اگر اسکے شہر، گاؤں اور سرحدیں دشمن کی یلغار سے محفوظ ہیں تو اسکے پیچھے وہ خون ہے جو پاک فوج کے جوانوں نے اس مٹی کے لیے بہایا یہ کوئی جذباتی دعوی نہیں یہ زمینی حقیقت ہے۔ ملک کے ہر حصے میں، ہر ضلعے، ہر قصبے کے قبرستان گواہ ہیں کہ اس دھرتی کی حفاظت صرف بیانات سے نہیں لاشوں، قبروں اور پرچم میں لپٹی میتیوں سے ہوئی ہے۔ جوانوں نے نہ حکومت دیکھی، نہ اقتدار، نہ مفاد انھوں نے صرف وردی دیکھی حلف دیکھا اور وطن کی مٹی کو اپنی جان سے زیادہ عزیز جانا، انکی قربانیوں کی بدولت آج سیاست دان سیاست کر رہے ہیں۔ ادارے تنقید برداشت کر رہے ہیں اور عوام بھی سوال اٹھانے کے قابل ہے۔ آج ہم اگر قلم اٹھا سکتے ہیں، اختلاف کر سکتے ہیں، سوال پوچھ سکتے ہیں تو یہ آزادی ہمیں انہی قبروں سے ملتی ہے جن پر سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے۔ یہ بھی تاریخ کا کڑوا سچ ہے کہ ریاستی غلطیوں کی قیمت اکثر وردی نے ادا کی ہے جب پالیسی ناکام ہوئی تو بندوق تھامنے والا جوان آگے تھا، جب دشمن نے وار کیا تو سینہ تان کر کھڑا ہونے والا سپاہی تھا۔ شہادت اپنی جگہ مگر وطن کی حفاظت کا آخری مورچہ ہمیشہ پاک فوج ہی بنی۔ یہ ملک کسی تقریر سے نہیں، کسی نعرے سے نہیں بلکہ شہداء کے خون سے کھڑا ہے۔ اگر آج پاکستان محفوظ ہے تو یہ کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک دور کا کارنامہ نہیں بلکہ ان ماؤں کی قربانی ہے جہنوں نے بیٹے دئیے، ان بیویوں کی خاموشی ہے جہنوں نے سہاگ قربان کیا۔ اور ان بچوں کی آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے وہ خواب ہیں جو وطن پر نثار ہو گے۔ یہ قرض شاید کبھی ادا نہ ہو سکے مگر یاد رکھنا، ماننا اور سرجھکانا کم از کم ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔

  • قائدِ اعظمؒ۔ ایک عزم، ایک قیادت، ایک انقلاب،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    قائدِ اعظمؒ۔ ایک عزم، ایک قیادت، ایک انقلاب،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    لیڈر لوگوں کو شعور دیتے ہیں۔ نئی نسل کو انقلاب کے لیے تیار کرتے ہیں۔ وہ تاریخ کے اوراق میں نئی داستانیں رقم کرتے ہیں۔ اور دلوں میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔ انہیں کسی نام نہاد طاقت کی آشیرباد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسی ہی ایک متاثر کن شخصیت، دور اندیش لیڈر، مدبر سیاست دان اور فہم و فراست سے آراستہ قانون دان ہمارے محسن، ہمارے قائد، محمد علیؒ جناح ہیں۔

    برصغیر پاک و ہند کی تاریخ گواہ ہے۔ کہ مسلمانوں نے آٹھ سو سال سے زائد عرصہ یہاں حکمرانی کی تھی۔ پھر یہاں نوآبادیاتی نظام قائم ہوا۔ اور انگریزوں کے دور سو سالہ دورِ حکومت کا آغاز ہو گیا۔ چونکہ مسلمان اپنے وطن پہ اس بیرونی تسلط کے خلاف مزاحمت کا موجب رہے تھے۔ اس لئیے اس دو سو سالہ نو آبادیاتی تسلط میں ایک طرف انگریزوں کے زیرِ عتاب ر ہے۔ تو دوسری طرف ہندوؤں کے متعصبانہ رویہ کا بھی شکار رہے۔ مسلمانوں کے اس محکومی کے دور میں ایک چراغ روشن ہوا۔ جن کا نام محمد علیؒ جناح تھا۔ جو آگے چل کے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے نجات دہندہ و رہبر ثابت ہوئے۔
    قائدِ اعظم محمد علیؒ جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز 1982ء میں کیا۔ اور 1893ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد قانون کی اعلی تعلیم کے حصول کے لئیے لندن روانہ ہو گئے۔ آپ بچپن سے ہی منفرد اور تعمیری سوچ کے حامل تھے ۔ معروف مصنف اور سوانح نگار ہیکٹر بولیتھو نے 1954ء میں قائدِ اعظمؒ کی سوانحِ حیات Jinnah: Creator” of Pakistan” میں ایک واقعہ لکھتے ہیں۔ کہ ‘ قائدِاعظمؒ نے کھارادر میں اپنے محلے کے بچوں کو کنچے کھیلتے دیکھا تو ان سے کہا کہ وہ کنچے نہ کھیلیں، اس سے ان کے ہاتھ اور کپڑے گندے ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے انہوں نے ان بچوں کو کرکٹ کھیلنے کا مشورہ دیا اور کرکٹ سکھائی بھی۔ پھر جب قائدِاعظمؒ برطانیہ جانے لگے تو انہوں نے اپنی کرکٹ کِٹ انہی بچوں کے حوالے کردی۔

    قائدِ اعظمؒ ایک سچے مسلمان اور محبِ رسول اللہﷺ تھے ۔ آپ نے لندن کی "لنکنز اِن” یونی ورسٹی میں اس لئیے داخلہ لینے کو ترجیح دی ۔ کہ اس کے صدر دروازے کے اوپر دنیا کو قوانین سے متاثر کرنے والے عظیم رہنماؤں میں سب سے اوپر جناب رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا نامؐ مبارک درج تھا۔ آپ نے 19 سال کی عمر میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ اور 1896ء میں وطن واپس آ گئے ۔ قائدؒ نے وطن واپسی پہ لندن میں اپنے ساتھی وکلاء سے کہا۔ "میں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہندوستان واپس جا رہا ہوں”۔

    وطن واپسی پہ قائدِ اعظمؒ نے برصغیر کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔ آپ نے مسلمانوں کے حقوق کے لئیے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا ۔ اور 1906ء میں نیشنل کانگریس میں شمولیت اخیتار کی۔ آپ کو ہندو، مسلم اتحاد کا سفیر کا خطاب دیا گیا۔ مگر کانگریس کا عملی طور پہ حصہ بننے کے بعد قائدِ اعظمؒ پہ ہندو متعصبانہ اور مفاد پرست رویہ جات نے آشکارا کر دیا ۔ کہ اس کا مسلمانوں کی بہتری سے کوئی واسطہ نہیں ۔ 1913ء میں آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اخیتار کی ۔ اور مسلمانوں کے حقوق اور انکی جُداگانہ حیثیت کی بقاء کے لئیے سیاسی و آئینی جہدوجہد کا باقائدہ آغاز کر دیا ۔ جو آپ نے تادمِ مرگ جاری رکھا۔

    برصغیر کے ہندو سیاست دانوں اور قائد اعظمؒ کی سوچ و فکر کے زاویوں میں بے حد فرق تھا۔ ایک دفعہ گاندھی نے ان سے کہا:۔”آپ نے مسلمانوں پر مسمریزم کر دیا ہے”۔ جناحؒ نے برجستہ جواب دیا:۔” جی اور آپ نے ہندؤوں پر ہپناٹزم ”۔

    قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے اپنی دور اندیش سوچ اور فہم و فراست کے سبب یہ جان لیا تھا۔ کہ مسلمانوں کی بہتری و بقاء صرف الگ وطن کے حصول میں ہے۔ آپ نے اپنی اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں اور مدبرانہ حکمت ء عملی سے مسلمانوں میں حیران کن عزم، اتحاد اور انقلابی سوچ و افکار پھونک دیئے تھے۔ مسلمانوں کی بہترین دانشورانہ انداز میں رہبری پہ قائد کو قائدِ اعظمؒ کا خطاب پہلی بار 1938ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پٹنہ میں اجلاس میں مولانا مظہر الدین کی طرف سے ملا ۔ جو پورے برصغیر میں پھیل گیا۔ سن 1941ء میں ایک مرتبہ قائدِ اعظمؒ مدراس میں مسلم لیگ کا جلسہ کر کے واپس جارہے تھے۔ کہ راستے میں ایک قصبہ سے گذر ہوا۔ جہاں مسلمانوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ سب پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے تھے۔ اسی ہجوم میں پھٹی پرانی نیکر پہنے ایک آٹھ سال کا بچہ بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا،اسے دیکھ کر قائدِ اعظمؒ نے اپنی گاڑی روکنے کو کہا اور لڑکے کو پاس بلا کر پوچھا ”تم پاکستان کا مطلب سمجھتے ہو؟“لڑکا گھبرا گیا۔قائدؒ نے اس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے پیار سے پھر وہی سوال پوچھا۔ لڑکا بولا ۔ ”پاکستان کا بہتر مطلب آپ جانتے ہیں،ہم تو بس اتنا جانتے ہیں جہاں مسلمانوں کی حکومت وہ پاکستان اور جہاں ہندووں کی حکومت وہ ہندوستان۔“قائدِ اعظمؒ نے اپنے ساتھ آئے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”مدراس کا چھوٹا سا لڑکا پاکستان کا مطلب سمجھتا ہے۔۔ لیکن گاندھی جی نہیں سمجھ سکتے۔“یہ بات صحافی نے نوٹ کرلی۔ اور اگلے روز تمام اخبارات میں یہ خبر شائع ہو گئی۔

    امریکی مورخ و مصنف سٹینلے وولپرٹ 1984ء میں شائع ہونے والے اپنی مشہور کتاب "Jinnah of Pakistan” میں لکھتے ہیں ۔
    “تاریخ کا رخ بدلنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں، دنیا کا نقشہ بدلنے والے اس سے بھی کم، اور ایک نئی قوم کی بنیاد رکھنے والے تو نہ ہونے کے برابر۔ محمد علیؒ جناح نے یہ تینوں کام انجام دیئے۔”

    بابائےؒ قوم نے ناصرف برصغیر کے مسلمانوں کو ایک متحد قوم میں ڈھالا، بلکہ اس قوم کی آنے والی نسلوں کے لئیے اپنے غیر متزلزل عزم اور مسلسل جدو جہد وجہد سے ایک آزاد وطن پاکستان بھی حاصل کیا۔ پاسبانِؒ ملت نے 1947ء میں دستور ساز اسمبلی میں خطبہِ صدارت میں ایک واضح لائحہء عمل دیتے ہوئے فرمایا؛” اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں ۔ تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی ہو گی۔ ”

    زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں۔ 25 دسمبر، یومِ قائد کے موقع پر، قوم محسنِ ملت قائداعظم محمد علیؒ جناح کو سلام پیش کرتی ہے۔
    ؂
    ملت کا پاسباں ہے محمد علیؒ جناح
    ملت ہے جسم، جان ہے محمد علیؒ جناح

  • جب تلاش اسکرین سے نکل کر ثقافت بن جائے

    جب تلاش اسکرین سے نکل کر ثقافت بن جائے

    کبھی وقت تھا کہ سوال ذہن میں آتا تو انگلیاں گوگل کی طرف بڑھتی تھیں، اب سوال ابھرتا ہے اور انگلی خود بخود ٹک ٹاک کی اسکرین پر پھسل جاتی ہے،اب سوال صرف یہ نہیں کہ کیا جاننا ہے، سوال یہ ہے کہ کیسے جاننا ہے اور اسی سوال کے جواب میں پاکستانی صارف نے ایک نئے ڈیجیٹل ہم سفر کا انتخاب کیا ہے،ٹک ٹاک،2025 میں ٹک ٹاک پاکستان کا یہ دعویٰ کہ وہ ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے، پاکستانی ڈیجیٹل مزاج کی ایک گہری تصویر ہے۔

    لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ٹک ٹاک پاکستان کی جانب سے صحافیوں کے لیے منعقد ہونے والا “سرچ آن ٹک ٹاک” ایونٹ ایک ڈیجیٹل مکالمہ تھا،اس موقع پر ٹک ٹاک کے ہیڈ آف کمیونیکیشن ساؤتھ ایشیا عماد اور جنوبی ایشیا کے لیے کنٹینٹ آپریشنز کے سربراہ عمائس نوید نے اس بدلتی ہوئی حقیقت پر روشنی ڈالی کہ ٹک ٹاک علم، خبر، رہنمائی اور روزمرہ فیصلوں کا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔اسی تقریب میں ٹک ٹاک نے پاکستان میں 2025 کے دوران سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے موضوعات اور رجحانات جاری کی جو پاکستانی معاشرے کی اجتماعی سوچ، دلچسپیوں اور ترجیحات کا آئینہ ہیں۔

    پاکستانی ٹک ٹاکر کا مزاج محض اسکرول کرنے کا نہیں،وہ ویڈیو دیکھتا نہیں بلکہ ویڈیو میں داخل ہو جاتا ہے۔جب وہ “التت قلعہ، ہنزہ” سرچ کرتا ہے تو صرف تاریخ نہیں چاہتا، وہ پتھروں میں بسی خاموشی، پہاڑوں کی ابدی وقار اور شمالی ہوا کی ٹھنڈک کو محسوس کرنا چاہتا ہے۔اسلام آباد، لاہور، کراچی اور دریائے چناب،یہ مقامات نہیں، شناخت کے استعارے ہیں۔یہ سرچز اس بات کا اعلان ہیں کہ پاکستانی صارف اب اپنے وطن کو نئے زاویے سے دیکھ رہا ہے، اور ٹک ٹاک اس نظر کا عدسہ بن چکا ہے۔

    پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں، جذبات کی زبان ہے،بابر اعظم کی سنچری ہو یا پاکستان بمقابلہ بھارت اور جنوبی افریقہ کے مقابلے ،ٹک ٹاک سرچ بتاتی ہے کہ قوم اب بھی ایک گیند پر خوش اور ایک وکٹ پر خاموش ہو جاتی ہے۔ٹک ٹاک نے کرکٹ کو اسکرین کے کونے میں بند اسکور بورڈ سے نکال کر عوامی مکالمہ بنا دیا ہے جہاں ہر شخص مبصر ہے، ناقد ہے،سیلاب جیسے سانحات ہوں یا وائرل نام جیسے “نادیہ میری سونی سوہنی”یہ سرچز بتاتی ہیں کہ پاکستانی صارف خبر کو تنہائی میں نہیں دیکھنا چاہتا،وہ خبر کے ساتھ وابستگی چاہتا ہے، تبصرہ چاہتا ہے، ردِعمل چاہتا ہے۔ٹک ٹاک یہاں لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ ایک اجتماعی تجربہ فراہم کرتا ہے جہاں دکھ بھی بانٹا جاتا ہے اور امید بھی۔

    2025 کی رپورٹ کا سب سے روشن پہلو علم اور خودی کی تلاش ہے،#StudyTok میں 60 فیصد اور #FitnessTok میں 66 فیصد اضافہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستانی نوجوان اب خود کو بہتر بنانا چاہتا ہے،مصنوعی ذہانت ، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، پروڈکٹ ریویوز اور مہندی ڈیزائنز،یہ سب اس نئی نسل کے سوالات ہیں، جن کے جواب وہ مختصر، سادہ اور بصری انداز میں چاہتی ہے۔

    2025 کی سرچ رپورٹ: ایک نظر میں

    مقامات،اسلام آباد، التت قلعہ ہنزہ، دریائے چناب، لاہور، کراچی

    خبریں و لمحات:بابر اعظم کی سنچری، پاک بمقابلہ جنوبی افریقہ، پاک بمقابلہ بھارت، نادیہ میری سونی سوہنی، سیلاب

    ٹی وی شوز:ترک ڈرامے، تماشا، میری بہوئیں، میں منٹو نہیں ہوں، ہم ایوارڈز 2025

    کھانے:لاوا برگر، بریانی، آلو، دبئی چاکلیٹ، ماچا ڈرنک

    نمایاں رجحانات،پروڈکٹ ریویوز، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، مہندی ڈیزائنز، بلیوں کی مزاحیہ ویڈیوز، AI

    2025 میں ٹک ٹاک پاکستان محض ایک ایپ نہیں رہا،یہ عہدِ حاضر کا ثقافتی جریدہ بن چکا ہے،یہاں ہر سرچ ایک سوال نہیں،ہر ویڈیو ایک جواب نہیں،بلکہ دونوں کے درمیان پاکستانی زندگی کی مکمل کہانی ہے،اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان تلاش بھی ٹک ٹاک پر کرتا ہے۔

  • پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور کیوں؟تحریر:  تابندہ طارق عکس

    پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور کیوں؟تحریر: تابندہ طارق عکس

    پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور اس لیے ہیں کہ”اس کی اولین وجہ غربت بھی ہے،شعور کی کمی بھی،ہر پاکستانی ہنرمند،لاتعداد صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔”لیکن اس کے باوجود اپنے ملک کی ترقی و بقاء کے لیے کچھ کرنے کی چاہ ہونے کے بجائے، دوسرے ملک رہائش پذیر ہونا اولین ترجیحات میں شامل کر لیتا ہے۔ہر پاکستانی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فوراً دوسرے ملک جا کر اپنے ہنر کے جوہر دکھانا چاہتے ہیں۔”مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بھی اعلی تعلیم یافتہ تھے۔لیکن انھوں نے قلم کے ذریعے کروڑوں دل میں روشنی کے دیپ جلائے،آزادی کی شمع،قید سوچوں کے محور کو نئی امنگوں میں ابھارا تھا۔”اپنی شاعری سے مسلمانوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کر سکتے ہیں۔”تو کیا آج کی نوجوان نسل اپنے ہنر سے اپنے ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے کچھ کرنےکی ہمت کیوں نہیں کرتےہیں۔اپنے ہنر کا استعمال اپنے ملک کی ترقی، کی بجائے دوسرے ملک جانے کو درجی دینا ضروری سمجھتے ہیں۔”اور اس کا الزام بھی ملک کے حکمرانوں کو دیتے ہیں۔”اگر حکمران کچھ نہیں کر رہے،تو مطلب عوام دوسرے ملک بھاگ جائے۔یہ تو کوئی مشکلات کا حل نہیں ہے۔

    ہمارے ملک میں ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان موجود ہیں۔لیکن کہتے ہیں ملک میں بیروزگاری عام ہے۔ملک میں روزگار کے مواقع فراہم نہیں کئے جا رہے۔”اس لیے لاکھوں روپے کا قرض اٹھا کر دوسرے ملک روزگار کی تلاش و معاش کے لیے اپنے پیاروں سے دور جانے کو تو تیار ہو جاتے ہیں۔لیکن وہی لاکھوں روپے پاکستان میں لگانے کو تیار نہیں،حالانکہ وہی پیسے پہاں لگا کر نہ صرف اپنے لیے کاروبار کی صنعت لگا کر اپنے ساتھ ساتھ بہت سے اور بے روزگاروں کو بھی روزگار فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔”پاکستان میں زیادہ تر غریب طبقہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ نہ تو ان کے پاس اچھی تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت ہوتی ہے، اور نہ ہی بنا تعلیم کے انھیں نوکریاں کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔اس لیے وہ پاکستان کو چھوڑ کر دوسرے ملک ہجرت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کئی پاکستانی بیرون ممالک ویزہ لے کر چلے جاتے ہیں اور کئی بیچارے مجبور ہو کر تو غیر قانونی راستے اختیار کر لیتے ہیں۔”جس کی وجہ سے بہت بار کئی پاکستانیوں کو اپنی مال اور جان دونوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔کئی ماؤں کے لخت جگر موت کی لپیٹ میں گہری نیند کی آغوش میں سو جاتے ہیں۔”جن میں سے کچھ کی تو لاشیں بھی روپوش ہو جاتی ہیں،اور کچھ والدین ہی اپنے پیاروں کا آخری دیدار نصیب ہوتاہے۔”جو پاکستانی غیر قانونی طریقے سے خیر و عافیت سے دوسرے ملک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ان میں سے بھی کچھ وہاں کی ایمبیسی کے ہاتھ لگ جانے پر ساری زندگی تاریک قید خانوں میں گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔جو روزگار تلاش و معاش میں تھوڑے بہت کامیاب ہو جاتے ہیں،تو وہ ساری زندگی چھپ چھپ کر اور ڈر ڈر کر کے ہر لمحہ گزارتے رہتے ہیں۔ہر لمحہ پکڑے جانے کی تلوار ان کے سر پر لٹکتی رہتی ہے،اور گھر والے پرسکون ہو جاتے ہیں،کہ ان کے لخت جگر ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے دوسرے ملک پیسے کما رہا ہے،لیکن وہ اس بات سے بالکل بھی واقف نہیں ہوتے ،کہ ان کا لخت جگر وہاں کن مشکلات کا سامنا کر کے،اپنی زندگی داؤ پر لگا کر، ان کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی زندگی کو کن خطرات میں ڈال رہا ہے۔

    "پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے کو آسان سمجھتے ہیں،جبکہ اپنے ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں افسران کی غلامی کرنے س،انھیں فخر محسوس ہوتا ہے۔حالانکہ ہمارے ملک میں جتنی زیادہ قابلیت موجود ہے اتنی قابلیت کسی بھی ملک کے نوجوان نسل میں موجود نہیں ہے۔ہمارے ملک کے ہنر سے دوسرے ممالک کے حکمران اور عوام مستفیض ہو رہے ہیں۔لیکن وہی ہنرمندی،صلاحیت،قابلیت اور ذہانت کا مظاہرہ پاکستانی دوسرے ممالک میں اپنی جیب سے اخراجات کر کے انھیں تو ترقی یافتہ بنانے میں دن رات مشقت کر رہے ہیں۔”اپنا سکون،اپنی آزادی،اپنے پیاروں سے دور رہنا اور کتنی ہی مشکلات اس بیرون ملک کی ہجرت میں وہ برداشت کرنا گوارا کر لیتے ہیں۔پر اپنے ملک میں بہتری کی ایک لوع جلانا انھیں مشکل لگتا ہے۔

    ہمارے حکمران عوام کی معاشی بحران بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اور عوام ان کی ہاں میں ہاں ملانے میں،خامشی سے سب قبول کر رہی ہے۔اگر حکمرانوں کے ناجائز ٹیکس لینے پر عوام یک آواز ہو کر نہ دینے کا احتجاج کر دے تو کوئی حکمران ناجائز طریقے سے عوام کو لوٹنے کی کوشش نہیں کر سکتا ہے۔اور انہی معاشی مسائل نے پاکستانیوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔لیکن یہاں صرف حکمران ہی ذمہ دار نہیں ہیں،بلکہ عوام بھی برابر کی شریک ہے،ہر آنے والے دنوں میں ٹیکسوں کی لاگت میں اضافے ہو رہے ہیں۔لیکن عوام ٹیکس ادا کرنے کو تیار ہیں،آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔جب ملک میں پہلی بار ٹیکس نافذ کیا گیا،اگر تب عوام اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی تو آج یقیناً عوام کے ساتھ اتنی نا انصافی نہ برتی جاتیں،ان ٹیکسوں سے ملک کی بھلائی اور بہتری کے لیے کچھ کرنے کے بجائے، حکمران اپنی تجوریاں بھرنے میں گامزن ہیں۔
    "حالات حاضرہ میں ان حکمرانوں کے خلاف کوئی کارروائی ہو ایسا عوام چاہتی ہی نہیں،بلکہ حکمرانوں کے ہر ناجائز طریقے کار پر مجبور اور زبان جیسی نعمت ہوتے ہوئےبھی،گونگے بن کر ہر اشارے پر عمل درآمد ہو جانے کو تیار رہتے ہیں۔”کیا ایسے ہی حالات کے لیے مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنے الفاظ کو قلم بند کیا تھا،اقبال کا خواب روشن پاکستان کا تھا۔جس کے لیے ہمارے قائد نے ہماری افواج اور بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں پیش کی تھیں۔