Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت، افغان جنگل سے پاکستانی چٹان تک

    بھارت، افغان جنگل سے پاکستانی چٹان تک

    بھارت، افغان جنگل سے پاکستانی چٹان تک
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    تاریخ انسانی گواہ ہے کہ قومیں اپنی عسکری طاقت پر فخر کرتی ہیں، مگر جب یہ طاقت حقیقت کی کسوٹی پر پرکھی جاتی ہے تو بہت سے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ بھارت جو خود کو علاقائی طاقت اور عالمی سطح پر ابھرتا ہوا سپر پاور کہلوانے کا شوقین ہے، حالیہ مہینوں میں ایسی ہی ایک شرمناک صورتحال سے دوچار ہوا ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ بھارتی فضائیہ کے کئی اڑتے ہوئے جنگی طیارے گر کر تباہ ہوچکے ہیں (بھارتی جنگی جہازوں کو عام طور اڑتے ہوئے تابوت کہا جاتا ہے) جن میں جیگوار، ٹرینر جیٹس اور دیگر شامل تھے۔ یہ واقعات محض اتفاق نہیں بلکہ بھارتی عسکری نظام کی گہری کمزوریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

    تاریخی طور پر دیکھا جائے تو بھارت کی فضائیہ کو ایسی ناکامیوں کا سامنا پہلے بھی ہوا ہے۔ 1962 کی چین کے ساتھ جنگ میں بھارتی فضائیہ نے اپنی ناکامی کا مظاہرہ کرچکی ہے ،جب اس کے طیارے چینی حملوں کے سامنے بے بس ثابت ہوگئے تھے۔ اسی طرح 1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھی بھارتی فضائیہ کو پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھانا پڑا، جہاں ایم ایم عالم جیسے پاکستانی پائلٹس نے بھارتی غرور خاک میں ملایا ،بھارتی جیٹس کو گرا کر تاریخ رقم کردی۔ حالیہ 2025 کی مختصر جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول پاکستانی شاہینوں نے آٹھ بھارتی طیارے تباہ کئے جن میں رفال ،مگ ودیگر شامل تھے، اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں۔ یہ ناکامیاں نہ صرف بھارتی عسکری طاقت کے دعوؤں کو بے نقاب کرتی ہیں بلکہ ان کی ٹریننگ، مینٹیننس اور ٹیکنالوجی کی خامیوں کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔

    اس عسکری ناکامی کے بعد بھارتی قیادت، خاص طور پر وزیر اعظم نریندرامودی ایک شدید ذہنی دباؤ اور انتقامی ذہنیت کا شکار نظر آیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ ناکامی کے بعد قائدین اکثر جذباتی فیصلے کرتے ہیں جو مزید تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ 1971 کی جنگ کے بعد جب بھارت نے پاکستان کو تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کی، تو اس کی قیادت نے فتح کا نشہ چڑھایا، مگر اس سے پہلے 1962 میں چین کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد نہرو کی حکومت شدید پریشانی میں مبتلا ہوئی تھی۔

    آج کی صورتحال میں بالاکوٹ حملے کی ناکامی کے بعد سے بھارتی قیادت کی ذہنی حالت اسی طرح کی ہے۔ 2019 کے بالاکوٹ واقعے میں بھارتی جیٹس کو پاکستانی فضائیہ نے ناکام بنا دیا اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ شکست اب تک بھارتی قیادت کے ذہنوں میں تازہ ہے، جو انہیں انتقامی کارروائیوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مگر یہ ذہنی دباؤ انہیں منطقی فیصلوں سے دور کر رہا ہے اور نتیجتاً بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت پاکستان کے خلاف براہ راست جنگ لڑ سکتا ہے؟ جس کا جواب واضح ہے کہ نہیں کیونکہ بھارت کی کمزور معیشت، داخلی تقسیم، عالمی رسوائی کا خوف اور سرمایہ کاروں کی مخالفت اسے ایسی مہم جوئی سے روکتی ہے۔ تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو بھارت کی معیشت ہمیشہ سے ہی اس کی عسکری مہم جوئیوں کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ 1999 کی کارگل جنگ میں، جب بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تھی تو بھارتی معیشت پر شدید دباؤ پڑا، اور عالمی دباؤ نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

    آج 2025 میں بھارت کی جی ڈی پی گروتھ کم ہو رہی ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور داخلی سطح پر مذہبی اور علاقائی تقسیم عروج پر ہے۔ کشمیر، آسام،تری پورہ ،ناگالینڈ اور پنجاب میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ چکی ہیں جو 1947 کی تقسیم کے بعد سے چلی آ رہی ہیں۔ عالمی سطح پر بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کا سامنا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں درج ہے۔ سرمایہ کار خاص طور پر امریکی اور یورپی کمپنیاں، جنگ کی صورت میں بھارت سے نکل جائیں گی، جیسا کہ 2020 کی چین کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد دیکھا گیا۔ یہ سب عوامل مل کر بھارت کو براہ راست جنگ سے روکتے ہیں کیونکہ ایسی جنگ نہ صرف معاشی تباہی لائے گی بلکہ اس کی داخلی استحکام کو بھی ختم کر دے گی۔

    تو براہ راست جنگ نہ لڑ سکنے کی صورت میں بھارت نے متبادل راستہ اختیار کیا جو ہے افغان اور ایرانی سرزمین کا استعمال۔ بھارت نے افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کو مالی امداد دے کر پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا جبکہ ایران کی سرحدوں سے بھی جاسوسی اور سبورسیو ایکٹیویٹیز کو ہوا دی جارہی ہے۔ یہ حکمت عملی نئی نہیں بلکہ تاریخی طور پر بھارت نے پراکسی وارز کا سہارا لیا ہے۔

    1971 کی جنگ میں بھارت نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کو تربیت اور اسلحہ دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کیا جو بالآخر پاکستان کی تقسیم کا باعث بنی۔ اسی طرح 2001 کے بعد افغانستان میں، بھارت نے شمالی اتحاد اور دیگر گروہوں کو سپورٹ کیا جو پاکستان کی سرحدوں پر دہشت گردی کا ذریعہ بنے۔ حالیہ برسوں میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را (RAW) نے افغان سرزمین سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ ایران کے چابہار اور سرباز علاقوں سے بھی سرگرمیاں چل رہی ہیں۔

    2016 میں پاکستان میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، اس کی ایک زندہ مثال ہے، جہاں ایک حاضر سروس بھارتی نیول افسر کو ایرانی سرزمین سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے جاسوسی اور دہشت گردی کے واضح ثبوتوں سمیت سمیت پکڑا گیا ،جس نے خود بھی اعتراف کیا کہ وہ دہشت گردی کا نیٹ ورک چلارہاتھا، پاکستانی حکام کے مطابق کلبھوشن یادیو ایران کے سرحدی علاقے سرباز سے پاکستان میں داخل ہوا، جہاں وہ بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورک چلاتا رہا.

    افغان گروہوں کی مالی بنیاد ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتی ہے۔ یہ گروہ بنیادی طور پر منشیات، اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت پر قائم ہیں۔ افغانستان کی افیون کی پیداوار دنیا کا تقریباً 90 فیصد ہے، جو 1980 کی دہائی میں سوویت جنگ کے دور سے چلی آ رہی ہے۔ اس زمانے میں مجاہدین کی مالی معاونت کے لیے افیون کی تجارت کو ایک ذریعہ بنایا گیا تھا اور آج بھی طالبان سمیت مختلف گروہ اسی معیشت پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سو ملین ڈالر کے عوض یہ گروہ دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت، جو کئی ملین ڈالر تک جاتی ہے، انہی گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہ انتہائی خطرناک کھیل ہے کیونکہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ پراکسی گروہ اکثر اپنے آقاؤں کے خلاف بھی پلٹ جاتے ہیں۔

    بھارت کے لیے یہ ایک بڑا خطرہ ہے۔ جو دہشت گرد آج پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، کل زیادہ رقم کے بدلے بھارت پر پلٹ سکتے ہیں۔ کرائے کے قاتل بے وفا ہوتے ہیں۔ امریکہ کی مثال سامنے ہے، جس نے 1980 کی دہائی میں مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا، مگر بعد میں یہ گروہ القاعدہ بن کر امریکہ کے خلاف ہو گئے۔ اسی طرح بھارت کی سپورٹ والے گروہ، جیسے ٹی ٹی پی یا بی ایل اے، اگر چین یا ایران سے زیادہ رقم ملی تو بھارت کی طرف مڑ سکتے ہیں۔ یہ بھارت کی اپنی سلامتی کے لیے ایک ٹائم بم ہے۔

    اس سب کے باوجود پاکستان کی عسکری دفاعی لائن انتہائی مضبوط ہے۔ پاکستان کی فوج ہر محاذ پر چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ تاریخی طور پر، 1948 کی کشمیر جنگ سے لے کر 1965 اور 1971 تک، پاکستان کی فوج نے محدود وسائل کے باوجود دشمن کو روکا ہے۔ آج لائن آف کنٹرول ،مشرقی اور مغربی سرحدوں پر پاک فوج کی موجودگی بھارت اور اس کی پراکسیز کو کسی بھی مہم جوئی سے روکتی ہے۔

    دوسری طرف افغانستان کی صورتحال بگڑ چکی ہے کیونکہ یہ ایک "جنگل” بن چکا ہے جہاں دہشت گرد گروہ پیسے کے بل پر بدلتے ہیں۔ 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد غیر مستحکم حالات نے یہ صورتحال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔ اس غیر یقینی ماحول میں بھارت کی پراکسی حکمت عملی مزید خطرناک ہو گئی ہے کیونکہ یہ گروہ کسی بھی وقت رخ بدل سکتے ہیں اور خطے کو مزید آگ میں دھکیل سکتے ہیں۔

    آخر میں ہم یہ بتاتے چلیں کہ پاکستان ہر طوفان اور مشکلات کے بعد مضبوط ہو کر نکلتا آیاہے۔ 1947 کی تقسیم سے لے کر آج تک، پاکستان نے ہر چیلنج کا سامنا کیا اور ابھرا۔ یہ ملک نہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے زندہ ہے بلکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بھی ہے جوترقی کی منازل طے کررہا ہے کیونکہ اس کی بنیاد ایمان، قربانی اور اتحاد پر ہے۔ پاکستان کی فوج، عوام اور قیادت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مشکلات انہیں توڑ نہیں سکتیں بلکہ مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    پاکستان کی سرزمین ایک چٹان ہے، جو ہر حملے کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت کی پراکسی جنگیں، عالمی دباؤ اور داخلی مسائل اسے کبھی بھی پاکستان کے خلاف براہ راست کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وقت گواہ ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی، عسکری اور نظریاتی طاقت کے بل پر ہمیشہ سرخرو رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔انشاءاللہ
    پاک فوج زندہ باد،پاکستان پائندہ باد

  • پاکستانی سیاست میں فکری زوال،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاست میں فکری زوال،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سابق وزیراعظم کی بیگم کو لے کر اکانومسٹ میں جادو ٹونے کی جو کہانی شائع ہوئی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی سابق وزیراعظم کی بیگم کے بارے میں جادو ٹونے کی کہانیاں میڈیا پر آتی رہیں۔ لیکن موجودہ سٹوری کا الزام ایک ایسی شخصیت پر لگایا جا رہا ہے جو اس طرح کی چیزوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔ پرویز رشید کو میں سالوں سے جانتا ہوں پرویز رشید آج بھی پاکستان کے ان چند سیاست دانوں میں شامل ہوتے ہیں جو دلیل، گفتگو، اصول اور برداشت کے قائل ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ آزمائشیں دیکھیں، جیل کی صحبتیں برداشت کیں مگر راستہ وہی رکھا جو آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں سے جڑا ہوا تھا۔ پرویز رشید کی سیاست اس بات کی علامت ہے کہ طاقت کے بغیر بھی باوقار سیاست کی جا سکتی ہے۔ وہ سیاست کو صرف کھیل نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری بھی سمجھتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ پی ٹی آئی اور کچھ صحافی اس شخص پر الزام لگا کر اپنی ذہنی پستی کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان میں سیاست کے معیار کو بلند کرنا ہے تو پرویز رشید جیسے رہنماؤں کی طرز فکر کو سمجھنا اور اپنانا ضروری ہے۔ سیاسی زندگی میں اختلافات اور تنازعات ناگزیر ہوتے ہیں مگر ان کا طریقہ سیاست ہمیشہ غیر جارحانہ، شائستہ اور مدلل رہا۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو کبھی ذاتی حملوں کا نشانہ نہیں بنایا ان کی گفتگو ہمیشہ سیاسی، فکری اور مذہبی رہی۔ پاکستان جیسے معاشرے میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا آسان نہیں مگر پرویز رشید نے ہمیشہ کھل کر اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کیا ان کا بیانیہ ہمیشہ یہ رہا کہ ریاست کی ذمہ داری شہریوں کا مذہبی درجہ طے کرنا نہیں بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ یہی سوچ انہیں ایک روشن خیال، متعدل مزاج اور آئینی سیاست کے رہنما کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔

    پرویز رشید کو مسلم لیگ ن کے اندر ایک باوقار ساتھی کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ وہ نواز شریف کے قریب ترین رفقاء میں شمار ہوتے ہیں لیکن ان کی قربت محض سیاسی نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی کی بنیاد پر مضبوط ہے۔ وہ ایک فکری سیاستدان ہیں کتاب اور دلیل کو سیاست کی طاقت پر فوقیت دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان پر کسی بھی مالی بدعنوانی یا کرپشن کا کبھی کوئی الزام نہ لگا نہ ثابت ہوا۔ وہ صاف ستھری سیاست کے نمائندہ رہنماؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ ملکی سیاست میں فکری بلوغت، جمہوری مزاحمت اور شائستگی کے نمائندہ چہرے سمجھے جاتے ہیں پرویز رشید نہ جادو ٹونے کی اس بےہودہ رسموں کو تسلیم کرتے ہیں۔

    اسلام نے جادو ٹونہ، فال گیری، نجومیوں سے پیشگوئیاں کروانے اور ماوراتی غیر شرعی طریقوں پر بھروسہ کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ قران مجید میں جادو کو گمراہ کن عمل قرار دیا گیا ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص واقعی ایسی چیزوں پر یقین رکھتا ہے یا ان کا سہارا لیتا ہے یہ نہ صرف دین سے متصادم ہے بلکہ توحید کے عقیدے کے خلاف بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ امریکہ نے ترقی سائنس، تحقیق، تعلیم اور نظم و ضبط سے کی۔ یورپ نے ترقی صنعتی انقلاب، سیاست کے استحکام، اداروں کی مضبوطی اور معاشی نظم پر کی۔ چین، جاپان، کوریا، سنگاپور جیسے ممالک نے ٹیکنالوجی اور محنت کے ذریعے مقام پایا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک چاہے وہ سپرپاور ہو یا ترقی پذیر جادو ٹونے کے سہارے نہیں چلا قومیں صرف علم، محنت، قانون، انصاف اور مضبوط اداروں سے بنتی ہیں۔ ملکی سیاسی اور سماجی گفتگو کو اس سطح پر لایا جا رہا ہے کہ ملک کی قیادت کو جادو ٹونے کے زاویے سے دیکھا جائے یہ ایک غیر سنجیدہ اور غیر دانشدانہ انداز ہے۔ یہ قوم کی فکری سوچ کو نقصان پہنچاتی ہے ترقی کے مسائل، معیشت تعلیم، قانون، گورننس پیچھے رہ جاتے ہیں اور موضوع بحث جادو ٹونہ رہ جاتا ہے۔ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹتی ہے لوگ دلیل کو چھوڑ کر افواہوں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ وطن عزیز کی اصل ضرورت مضبوط اداروں، سائنسی سوچ، تعلیم کی بہتری، انصاف کے نظام، سیاسی بلوغت، میڈیا میں ذمہ دارانہ گفتگو نہ کہ ایسی بحثوں کی جو قوم کی فکری پستی کو ظاہر کریں۔ اسلامی معاشرہ ہو یا جدید ریاست جادو ٹونہ کی بحثیں نہ دینی طور پر فائدہ مند ہیں نہ قومی سطح پر۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان دعوؤں کو ہوش سے دیکھیں بلا تحقیق الزامات کو زبان نہ دیں اور بحث کو ایسے موضوعات کی طرف لے جائیں جو قوم کی ترقی کا سبب ہوں۔

  • عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی   اصل  مسئلہ انصاف ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی اصل مسئلہ انصاف ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہنگامہ ہے کیوں برپا۔ آئین اور آئینی عدالت کو لے کر ایک ہنگامہ بنا ہے۔اگردیکھا جائے تو آئین دو اور دو جمع چار کی طرح آسان سوال ہے جبکہ آئین میں سب کچھ درج ہے آئینی حدیں موجود ہیں۔ دنیا میں آئینی عدالتوں کا کوئی ایک عالمی نظام، سسٹم یا مشترکہ ڈھانچہ موجود نہیں دنیا کے ہر ملک نے اپنی ضروریات ، سیاسی تاریخ اور آئینی ڈھانچے کے مطابق الگ الگ ماڈل اختیار کیا ہوا ہے ۔ دنیا میں دوبڑے ماڈل رائج ہیں جن کے مطابق آئینی عدالتی نظام چلتے ہیں ۔ خصوصی عدالتوں کا ماڈل اس ماڈل میں ایک الگ آئینی عدالت ہوتی ہے جو صرف آئین کی تشریح ،آئینی تنازعات اور قوانین کی آئینی حیثیت کاجائزہ لیتی ہے ۔ آئینی عدالت سپریم کورٹ سے علیحدہ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کا بنیادی طور پر آئینی جائزہ لیتی ہے ،آئینی شکایات کو سنتی ہے ۔ حکومتی اداروں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرتی ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں یہ ماڈل موجود ہیں ۔ جرمنی، اٹلی، اسپین ، آسٹریا ، ترکیہ ، جنوبی افریقہ ، مصر، کئی یورپی ممالک اور لاطینی امریکی ممالک میں یہ ماڈل موجود ہیں۔ا مریکن سپریم کورٹ ماڈل اس نظام میں آئینی معاملات کی نگرانی ، سپریم کورٹ ہی کرتی ہے کوئی الگ آئینی عدالت نہیں ،امریکن سپریم کورٹ ماڈل بھارت ، کینیڈا ، آسٹریلیا اور پاکستان میں موجود تھا۔

    پاکستان نے بھی آئینی تنازعات کے حل کے لئے آئینی عدالت بناد دی۔ ہر ملک کے آئینی مسائل اور عدالتی ڈھانچے مختلف ہوتے ہیں نہ کوئی عالمی کنٹرولنگ باڈی ہے ۔ نہ کوئی بین الاقوامی آئینی کورٹ ۔ نہ ہی کوئی مشترکہ قوانین۔ دنیا کے کئی ممالک میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ ہی آئینی معاملات کو دیکھتی ہے جبکہ یورپی ممالک کے کئی ممالک میں الگ آئینی عدالتیں موجود ہیں۔ رہا سوال عدالتوں کا ، عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی اصل مسئلہ انصاف کا ہے ۔ دنیا کے بنائے ہوئے عدالتی نظام اپنی جگہ ا ہم ہیں مگر سب سے بڑی حقیقت یہ ہے انسان نے ایک دن اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ وہاں نہ سفارش نہ جھوٹ، نہ دنیاوی طاقت ۔ وہاں صرف سچ اور عدل قبول ہو گا۔ وہ لوگ جو انصاف تقسیم کرنے کی ذمہ داری رکھتے ہیں اپنے حلف اور اپنے ضمیر کی پاسداری کریں۔ عدالت کا منصب کوئی دنیاوی اعزاز نہیں بلکہ ایک امانت ہے اور امانت میں خیانت سب سے بڑا ظلم ہے۔ اگر کوئی جج ، ا فسر، یا اختیار رکھنے والا شخص اپنے فیصلوں سے سچائی سے ہٹ جائے وہ انسانوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے بلکہ خود اپنے انجام کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے ۔ دنیا کی عدالتیں وقتی ہیں ان کے فیصلے محدود ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی عدالت ابدی ہے وہاں پورا حساب لیا جائے گا۔انصاف صرف کتابوں کا لفظ نہیں یہ دلوں کی گہرائی میںاُتر کر انسانیت کو روشنی دیتا ہے اور وہ معاشرہ ہی ترقی پا سکتا ہے جہاں انصاف زندہ ہو اور ہر شخص اپنے اختیار کو ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرے۔ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یاد رکھیے و لوگ زمینی عدالتوں میں انصاف سے روگردانی کرتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ وہ انسانوں کے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حق کو مجروح کرتے ہیں۔

  • بطور قوم یکجہتی، دیانت اور فکری تسلسل اصل طاقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بطور قوم یکجہتی، دیانت اور فکری تسلسل اصل طاقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوموں کے عروج و زوال کا تعلق صرف معیشیت سیاست یا دفاعی طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ ان کے اجتماعی رویوں اور سوچ کے تسلسل سے ہوتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے فیصلوں، موقف اور ترجیحات میں یک رنگی اختیار کرتی ہے تو دنیا اسے ایک سنجیدہ معتبر اور باوقار قوم کے طور پر پہچانتی ہے۔ لیکن جب یہی قوم حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات، رائے اور رویے بدلنے لگے تو اس کا تاثر متزلزل ہو جاتا ہے اور بدقسمتی سے آج ہمیں اپنے معاشرے میں دکھائی دیتی ہے۔ ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو جب پاک بھارت جنگ ہوئی اس وقت پوری قوم نے اپنی فوج اور عسکری قیادت پر فخر کیا۔ پوری قوم نے آرمی چیف کو ہیرو قرار دیا فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا اور ان کی قیادت کو قومی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ مگر وقت گزر گیا اور حالات بدلنے پر وہی قوم اسی شخصیت کے بارے میں مختلف آراء اختیار کرنے لگی۔ سوال یہ نہیں کہ اختلاف کیوں کیا جا رہا ہے اختلاف رائے تو ہر جمہوری معاشرے کی خوبصورتی ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے موقف میں اصولی تسلسل برقرار رکھتے ہیں؟ کیا ہم حالات کے مطابق رائے بدلتے ہیں یا اصول کے مطابق؟ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے رویے وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اصولی بنیادوں پر استوار ہوں۔ یہ تضاد یا دورنگی رویہ ہمیں دنیا کے سامنے کمزور ظاہر کرتا ہے دنیا یہ دیکھتی ہے کہ پاکستانی قوم کبھی اپنے ہی فیصلوں پر فخر کرتی ہے اور پھر انہی فیصلوں پر نقطہ چینی شروع کر دیتی ہے۔ یہی رویہ قومی اداروں کے احترام اور اجتماعی اعتبار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اقبال نے اسی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا
    یک رنگ ہو جا اے میرے دل کے درد کی دعا
    دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
    یہ شعر محض تصوف یا اخلاقیات کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ قومی تعمیر کی بنیاد بھی ہے جب تک ہم اپنی سوچ اپنی زبان اور اپنے فیصلوں میں استقامت پیدا نہیں کریں گے تب تک ہماری اجتماعی ساکھ مضبوط نہیں ہو سکتی قوموں کی پختگی کا پیمانہ ان کی یکجہتی دیانت فکر اور تسلسل رائے میں ہوتا ہے نہ کہ وقتی تعریفوں اور موسمی تنقیدوں میں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آراء کو وقتی جذبات سے ازاد کریں اصولوں کے تابع بنائیں اور بطور قوم ایک رنگ اختیار کریں کیونکہ قوموں کا معیار دو رنگی نہیں بلکہ یک رنگ میں پوشیدہ ہے۔

  • اب نہیں تو کب؟

    اب نہیں تو کب؟

    اب نہیں تو کب؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں خودکش دھماکہ اور جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں واقع کیڈٹ کالج پر خوارج کا وحشیانہ حملہ، یہ دو الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی سازش کا حصہ ہیں جو ہمارے ملک کی سلامتی کو چیلنج کر رہے ہیں۔کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آور تمام خوارج کو جہنم واصل کردیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج پر حملہ آور ایک خودکش کے علاوہ چار خوارج کامیاب آپریشن کرکے جہنم واصل کیے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس وقت کالج کی بلڈنگ کو بارودی سرنگوں کے خطرے کی وجہ سے کلیئر کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کامیاب آپریشن کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی بھی طالب علم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ سکیورٹی فورسز نے کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرلیا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان خوارج کی کالج میں موجودگی اور کیڈٹس کی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر آپریشن نہایت احتیاط اور حکمت عملی سے کیا گیا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان فتنہ الخوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ سے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سے کالج کا مرکزی گیٹ گرگیا اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے اور حملہ آور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے تھے، خوارج ایک عمارت میں چھپے تھے جو کیڈٹس کی رہائش سے بہت دور تھی۔

    علاوہ ازیں سکیورٹی فورسز نے 8 اور 9 نومبر کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیاں کیں جن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 20 دہشت گرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں آٹھ بھارتی سپانسرڈ خوارج مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل میں دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سپانسرڈ مزید 12 خوارج مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز کا علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی ممکنہ بھارت کے حمایت یافتہ خارجیوں کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے۔

    کل ہی کا دن یعنی 11 نومبر، جب اسلام آباد کی سیشن کورٹ کے باہر ایک خودکش دھماکہ ہوا تو 12 معصوم شہری شہید ہوگئے اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ صرف ایک دہشت گردی کی کارروائی نہیں تھا بلکہ ریاست پاکستان کے اداروں پر براہ راست حملہ تھا جو دہشت گردوں کی طرف سے جاری اس جنگ کا تسلسل ہے جس کا آغاز افغان سرحد پار سے ہو رہا ہے۔ یہ حملے جو ایک دوسرے کے فوراً بعد ہوئے، پاکستان کی معاشی و انتظامی مسائل اور سرحدی علاقوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منصوبہ بندی کیے گئے تھے۔

    اب سوال یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کہاں سے آ رہے ہیں؟ جس کاجواب واضح ہے کہ افغانستان۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر افغان دہشت گرد گروہوں کی جڑیں کابل کی موجودہ حکومت کی سرپرستی اور پناہ میں مضبوط ہو رہی ہیں۔ پاکستانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ یہ حملے افغان سرزمین سے منصوبہ بندی کیے جاتے ہیں اور کابل کی طالبان حکومت ان دہشت گردوں کو نہ صرف پناہ دیتی ہے بلکہ انہیں ہتھیار اور تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ وانا کے حملے میں بھی، جہاں خوارج نے کیڈٹس کو نشانہ بنایا، ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور افغان سرحد پار سے داخل ہوئے تھے اور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے تھے۔ اسلام آباد کے دھماکے میں استعمال ہونے والا گاڑی بم بھی اسی طرح کی سازش کا حصہ ہے جو سرحد پار سے کنٹرول ہو رہا تھا۔ یہ کوئی اتفاقی واقعات نہیں بلکہ یہ ایک منظم مہم ہے جو پاکستان کو کمزور کرنے اور اسے اپنے گھٹنوں پر لانے کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔ دھماکے کی شدت سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگنے سے شدید نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق دھماکہ سی این جی سلنڈر پھٹنے سے ہوا لیکن بھارتی گودی میڈیا نے پولیس مؤقف کے برعکس ملبہ پاکستان پر ڈالتے ہوئے دھماکے میں پاکستانی کو ملوث قرار دے دیا۔ بھارت کی حکومت اور ذرائع ابلاغ مسلسل جھوٹ بول کر اپنے عوام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے جھوٹ کا پول کئی بار کھل چکا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت براہ راست ملوث ہے جس کا اعتراف بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوول بھی کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان بھی کئی بار بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت مہیا کر چکا ہے۔ خطے اور دنیا کے امن کی حفاظت کے لیے یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری اور عالمی ادارے بھارت کی دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

    لیکن مسئلہ صرف سرحد پار کے افغان دہشت گردوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین، جو برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں، ان حملوں کی اخلاقی اور عملی مددگار بن چکے ہیں۔ 1979 کی سوویت حملے کے بعد سے لے کر اب تک، پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دی، انہیں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ مگر بدقسمتی سے، ان میں سے بہت سے عناصر نے ہماری مہمان نوازی کا بدلہ دہشت گردی اور غداری سے دیا ہے۔ آج پاکستان میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ لاکھوں افغان مہاجرین موجود ہیں اور ان میں سے کئی ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ہمدرد یا فعال ارکان ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف دہشت گردوں کو خفیہ جگہیں فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کی مالی مدد، انٹیلی جنس اور حتیٰ کہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور یہ غیر ملکی جو ہماری سرزمین پر بیٹھ کر ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

    اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے جب کسی بھی افغان کو رجسٹر کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، کیونکہ یہ ہمارے کھلے اور ننگے دشمن ہیں جن پر ذرہ برابر اعتبار نہیں کیا جا سکتا،دہشت گرد کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہوتے اور یہ وہی خونخوار درندے ہیں جو ہمارے بچوں کے جنازوں پر ناچتے ہیں! یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان کے دل کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں افغان دہشت گردوں کے مکروہ نیٹ ورکس پھیلے ہوئے ہیں بلکہ انہی افغان بستیوں کے گھروں میں بم بنتے ہیں، انہی کی دکانوں پر ہتھیار چھپتے ہیں اور انہی کی مساجد سے جہاد کے فتوے نکلتے ہیں جو بعد میں اسلام آباد کی کچہریوں اور وانا کیڈٹ کالج پر گرتے ہیں! سرحدی علاقوں میں تو افغان مہاجرین کے کیمپ کھلے عام دہشت گردوں کی یونیورسٹیاں بن چکے ہیں جہاں بم بنانے کی ٹریننگ ہوتی ہے، خودکش جیکٹیں تیار کی جاتی ہیں اور نوجوانوں کو موت کا سوداگر بنایا جاتا ہے۔

    اور سب سے بڑا المیہ یہ کہ ان خونخواروں کے مددگار اور ہمدرد ہمارے اپنے ہی پاکستانی ہیں،یہ وہ غدار ہیں جو جھوٹی ہمدردی کا لبادہ اوڑھے انہیں چھپاتے ہیں، ان کی مالی امداد کرتے ہیں، ان کیلئے جاسوسی کرتے ہیں بلکہ وہ جو مذہبی، قبائلی یا سیاسی بنیادوں پر "افغان بھائی” کا راگ الاپتے ہیں، دراصل پاکستان کے دل میں خنجر گھونپ رہے ہیں! یہ غدار جانتے ہیں کہ یہ افغان دہشت گرد ہمارے بچوں کو کاٹ رہے ہیں، ہمارے فوجی جوانوں کو شہید کر رہے ہیں، ہمارے مدرسوں اور عدالتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،مگر اپنے ذاتی مفادات، کرپٹ سیاست یا غلط فکری جنون کی وجہ سے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ یہ ہمدرد نہیں بلکہ پاکستان کے کھلے دشمن ہیں اور ان کا انجام بھی وہی ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کا ہوتا ہے!

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اس مہلک خطرے کا سامنا کرے اور بھرپور طاقت سے جواب دے۔ افغانی دہشت گردوں کے خلاف ایکشن تو ناگزیر اور فوری ہے، مگر یہ صرف سرحد پار بمباری تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان میں مقیم تمام افغانوں خواہ وہ رجسٹرڈ ہو یا غیر رجسٹرڈ سب کے خلاف فوری اور بے رحم کارروائی کی جائے۔ تمام افغان مہاجرین کو فوراً ملک بدر کیا جائے کیونکہ یہ غیر ملکی ہیں اور اب ہر حال میں سخت ایکشن لیتے ہوئے انہیں پاکستان سے بے دخل کرنا قومی سلامتی کا اولین تقاضا ہے۔ یہ کھلے دشمن ہیں اور اب رجسٹریشن جیسی کوئی رسمی کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، لہٰذا انہیں ایک ہی نظر سے دیکھا جائے۔
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 2023 میں شروع ہونے والی مہاجرین کی واپسی کی مہم نے ہزاروں افغانوں کو واپس بھیجا، مگر اب یہ عمل تیز تر، منظم اور بے مثال شدت سے جاری رکھنا ہوگا۔ تمام سرحدی چوکیوں پر افغانوں کی سخت ترین چیکنگ ہو، ان کے کیمپوں میں اپریشن کیا جائے ان کی مسلسل تلاشیاں لی جائیں اور کسی بھی مشتبہ عنصر کو فوری گرفتار یا ملک بدر کیا جائے۔ کوئی رعایت، کوئی ہمدردی، کوئی تاخیر،اب برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ان افغان خونخواروں کے ہمدردوں اور پناہ دہندگان کے خلاف بغیر کسی رعایت یا رحم کے قانون کا سب سے بھاری ڈنڈہ اٹھنا چاہیے، جو پاکستانی بھی ان دہشت گردوں کو چھپاتا ہے، انہیں پیسے دیتا ہے، یا ان کی حمایت کرتا ہے، وہ پاکستان کا غدار ہے اور دہشت گردی روک تھام ایکٹ کے تحت فوری مقدمات درج ہوں،کوئی سیاسی دباؤ، کوئی سفارش، کوئی معافی قبول نہ کی جائے!
    ان غدار سہولت کاروں کو سزائے موت تک پہنچایا جائے اور جو بھی ان کے ہمدرد ہیں، انہیں کھلے عام پاکستان کا دشمن ڈکلیئر کیا جائے۔ یہ "افغان بھائی” کا جھوٹا نعرہ لگانے والے دراصل پاکستان کے دل میں چھپا ناسور ہیں جو ہمارے بچوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں!
    انٹیلی جنس ایجنسیاں فوراً متحرک ہوں، ہر گھر، ہر دکان، ہر مسجد کی تلاشی لی جائے اور عوام کو کھل کر بتایا جائے کہ غداری کی سزا صرف موت ہے،کوئی دوسرا آپشن نہیں!

    کیا ہم مزید خون بہنے دیں گے؟ کیا اسلام آباد کی کچہریوں، وانا کیڈٹ کالج اور ہمارے بچوں کے سکولوں کو مزید دہشت گردوں کی قربان گاہ بننے دیں گے؟جس کا جواب ہے ہرگز نہیں!
    اب عمل کا وقت ہے،اب یا کبھی نہیں! ہم اپنے بیگناہ شہریوں، بہادر سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور معصوم بچوں کے مزید جنازے نہیں اٹھائیں گے۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ، بغیر کسی رعایت کےحکومت، فوج اور عوام ایک آواز بن کر اس دہشت گرد نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں،کابل کو واضح اور آخری پیغام دیں کہ اگر تم نے دہشت گردوں کو پناہ دینا جاری رکھا تو پاکستان کا جواب تباہ کن ہوگا،سرجیکل سٹرائیکس، سرحدی بندش، یا سفارتی تنہائی جو بھی ضروری ہو!.اس کے علاوہ پاکستان میں ہر افغان عنصر، ہر ہمدرد، ہر سہولت کار کو ختم کریں،کوئی چھوٹا، کوئی بڑا، کوئی رجسٹرڈ، کوئی غیر رجسٹرڈ نہیں بچنا چاہئے،یہ ایکشن اب نہیں تو پھر کب؟ ہر گھنٹہ، ہر دن کا انتظار ہمارے خون سے لکھا جائے گا۔
    پاکستان زندہ باد!
    پاک سرزمین کی حفاظت،ہم سب کی ذمہ داری ہے

  • ُپیرا (PERA) گالی کیوں بنتی جارہی ہے؟تحریر:ملک سلمان

    ُپیرا (PERA) گالی کیوں بنتی جارہی ہے؟تحریر:ملک سلمان

    سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی، وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔
    لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔ سابق دور حکومت میں اینٹی کرپشن کو آنٹی کرپشن کہا جا تا تھا بالکل اسی طرح آج کل PERA یعنی اینٹی انکروچمنٹ فورس آنٹی انکروچمنٹ فورس بنتی جارہی ہے۔ انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے چند پولیس افسران ملنے آئے تو کہنے لگے کہ جن اہلکاروں کو پولیس یونیفارم میں ریڑی والے بھی مفت پھل نہیں دیتے تھے جب سے انہوں نے PERA یونیفارم پہنی ہے ان سے قسم لے لو کہ انہوں نے اس دن سے گھر کا راشن، پھل اور سبزیاں تک خریدی ہوں سب کچھ مفت باری پر چل رہاہے۔

    چند دن قبل گارڈن ٹاؤن لاہور میں عجیب منظر دیکھنے کو ملا، پھل خریدنے کیلئے گاڑی روکی تو دکاندار روتے ہوئے بولا جی سر میں نے اظہار ہمدردی پوچھا کہ خیریت رو کیوں رہے ہو کہنے لگا کہ ہر ہفتے PERA , ایل ڈی اے اور ایم سی ایل والے آجاتے ہیں، آج صبح PERA والے پیسے لیکر گئے ہیں تھوڑی دیر پہلے PERA کی ایک اور گاڑی والے آئے تو انکو کہا کہ صاحب جی صبح آپکی ٹیم سے ملاقات ہوگئی تھی تو وہ گالیاں دینے لگے کہ ہم تو ابھی آئے ہیں، ہماری خدمت کرو نہیں تو سارا کچھ گاڑی میں رکھو اور سٹیشن چلو۔۔۔۔۔۔نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دکاندار بتانے سے بھی قاصر تھا کہ پہلے کونسی گاڑی ”بھتہ“ لے کر جا چکی۔پیرا PERA کی گاڑیوں پر نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دوسری تحصیل سے بھتہ خوری کی جاسکتی ہے یا پھر ہوسکتا ہے کہ طریقہ واردات ہوکہ پہلے ایک گاڑی جائے پھر دوسری بھی چلی جائے۔

    اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا گیا ہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہے۔ بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں میں ڈالہ گردی اور غندہ ازم کرتی پھر رہی ہے۔
    ایک دوست نے لاہور کی اہم ترین تحصیل کے ایس ڈی ای او پیرا کا وائس نوٹ سنایا جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ آپ کی بار بار شکایات سے تنگ آکر میں نے انکروچمنٹ کی ٹیم بھیج کر آپ کو ابلائج کیا ورنہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ گلیوں میں تجاوزات دیکھیں، جوابی وائس نوٹ میں مذکورہ ایس ڈی ای او کو غیرت دلائی کہ بھائی تم نے ٹیم بھیج کر جو ابلائج کیا ہے بتا دو کہ کیا تمہاری ٹیم نے ایک پتھر بھی ہٹایا؟
    ایس ڈی ای او ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ اس نے ابلائج کیا کیونکہ رہائشوں علاقوں میں کونسا کسی نے پیسے دینے ہیں یا اسے ”پروٹیکشن منی“ مل جائے گی جو وہ تجاوزات ہٹائے جبکہ بازار میں تو ہر چکر پر مال ہی مال اکٹھا کیا جاتا ہے۔
    مجھے حیرانگی ہوئی کہ نئے افسران اس قدر ذہنی مریض اور بے حیا ہوچکے ہیں کہ جس کام کیلئے انہیں پوسٹنگ دی گئی اس لیگل کام کو کرنا احسان جتلانا اور ابلائجمنٹ سمجھتے ہیں جبکہ حرام اکٹھا کرنا استحقاق۔

    حاکمیت اور بدمعاشی والی اسی غلیظ سوچ کے ساتھ سرکاری افسران اغوا برائے تاوان جیسی وارداتیں ڈال رہے ہیں۔
    مجھے امید ہے یہ بچہ عنقریت رہائشی ایریاز والے معزز شہریوں کو کہے گا آپ سے بھتہ نہ لیکر آپ کو ابلائج کر رہا ہوں کیونکہ ہر کاروباری سے تو لیتے ہی ہیں ایسے میں رہائشیوں سے نہ لینا یقینی طور پر ابلائجمنٹ ہی ہے ، مذکورہ نوجوان افسر کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ تمہاری تحصیل میں سرکاری دفاتر تک کے دائیں بائیں بھی دس دس فٹ کی تجاوزات ہیں۔
    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم ڈپٹی کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ تجاوزات کی صورت انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر ”وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔لاء انفورسمنٹ ایجنسیز، اینٹی کرپشن اور سی سی ڈی کو چاہئے کہ سرکاری بھتہ خوری اور بنا نمبر پلیٹ سرکاری ڈالہ گردی کو بھی لگام ڈالیں۔چیف سیکرٹری کو چاہئے کہ تجاوزات کی سرپرستی کرنے والے افسران کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ جیل بھیجا جائے۔

  • تاریخ  سوڈان،تحریر:  غنی محمود قصوری

    تاریخ سوڈان،تحریر: غنی محمود قصوری

    سوڈان 90 فیصد مسلم اکثریتی آبادی والا ملک ہیں جو 1 جنوری 1956 کو مصر اور برطانیہ کی مشترکہ حکمرانی سے آزاد ہوا جسے آزادی سے قبل Anglo Egyptian Sudan کہا جاتا تھا

    آزادی کے بعد پہلا جمہوری دور 1956 سے 1958 تک چلا جس میں بھوک و افلاس اور خانہ جنگی نے جنم لیا تو فوجی سربراہ جنرل عبود نے 1958 کو اقتدار سنبھالا تاہم وہی معاشی بحران اور خانہ جنگی کا ماحول قائم رہا ،عوام نے احتجاج کیا تو 1964 میں جنرل عبود نے استعفی دے دیا،اس کے بعد 1964 سے 1969 تک بار بار جمہوری حکومتیں بدلے جانے والا مختصر جمہوری دور آیا مگر وہ بھی ناکام رہا جس میں عوام کو خوشحالی نا مل سکی تو بلاآخر جنرل جعفر نمیری نے 1969 سے 1985 تک اقتدار سنبھالے رکھا تاہم پھر بھی عوام کی قسمت نا بدلی تو عوامی احتجاج پر 1985 میں صادق المہدی کو بذریعہ جمہوریت منتخب کیا گیا تاہم وہی چکی کے دو پاٹ والی بات،1985 میں عوامی احتجاج پر فوجی سربراہ جنرل عمیر البشیر نے اقتدار سنبھالا مگر حالات نا بدلے اور بالاخر 2019 کے عوامی احتجاج پر انہیں معزول ہونا پڑا

    30 جون 1989 میں فوجی بغاوت کے ذریعے اس وقت کے سوڈانی وزیراعظم صادق المہدی کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالنے والے جنرل عمر البشیر نے لگ بھگ 30 سال حکومت کی جو کہ سب سے لمبا دور حکومت تھا مگر عوام کی قسمت پھر بھی نا بدل سکی،سوڈان میں حالیہ خانہ جنگی عمر البشیر کی 30 سالہ آمریت کے خاتمے پر شروع ہوئی تھی، حکومت کے خاتمے کے بعد فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز نے مل کر عبوری حکومت سنبھالی تاکہ ملک کو جمہوریت کی طرف لے جایا جائے لیکن جلد ہی طاقت کی رسہ کشی شروع ہو گئی اور اس بات پر تنازعہ ہو گیا کہ طاقت فوج کے زیرِ اثر حکومت کے پاس رہے گی یا پھر آر ایس ایف کے پاس رہے گی

    دونوں فریقوں میں RSF کے مکمل طور پر فوج میں ضم ہونے کے معاملے پر اختلاف بڑھا،اور فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور آر ایس ایف کمانڈر محمد حمدان دقلو عرف حمیدتی کے آپس میں تعلقات خراب ہو گئے تو دارالحکومت خرطوم میں دونوں طرف سے جھڑپیں شروع ہو گئیں جو بہت جلد مکمل جنگ میں بدل گئیں اور خون کی ہولی کاایک بار پھر سے آغاز ہو گیا جو تاحال جاری ہے،یہ خانہ جنگی اب پورے سوڈان میں پھیل گئی ہے مملکت کے بڑے بڑے شہر دارفور، خرطوم، اور نیل تک خون ہی خون پھیل گیا جس کے باعث
    لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، اس خانہ جنگی سے صحت و خوراک کا نظام تباہ ہو گیا جو پہلے ہی قلیل تھا

    واضع رہے کہ موجودہ تنازعہ دو بڑی فوجی طاقتوں کے درمیان ہے جن میںSudanese Armed Forces
    یعنی SAF اور Rapid Support Forcesیعنی RSF شامل ہیں، یہ دونوں اپنی طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ کے لئے لڑ رہے ہیں جس میں عوام ماری جا رہی ہے ،وہ عوام کہ جس مفلوک الحال نے مملکت کے قیام سے ابتک سکھ کا سانس لیا ہی نہیں تھا اور نا پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا، اب پھر سے خوراک کی قلت، تباہ حال نظام صحت، بڑے پیمانے پر بے گھری، اور بیماریوں کا پھیلاؤ ہر طرف راج کر چکا ہے،کچھ علاقوں میں بھوک انسانی زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ بن گئی ہے،بہت سے ہسپتال بند یا ناقابل استعمال ہو چکے ہیں کیونکہ ادویات کی ترسیل نا ہونے کے برابر ہے،شمالی دارفور، اور الفاشر کی صورتحال خاص طور پر خطرناک ترین ہے کیونکہ وہاں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری ہوئی ہے، یہ خانہ جنگی صرف اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ انسانی نسل کشی ،انسانی حقوق کی پامالی، مہاجرین کی بے بسی اور خوراک و ادویات کی قلت سے مرتی انسانیت کی تذلیل کا عملی مظاہرہ بھی ہے

    بھوک اور غذائی قلت تقریباً نصف ملک یعنی 25 ملین لوگ کے سروں پر سوار ہے،ایک ملین کے قریب لوگ انتہائی خطرناک زندگیاں گزار رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس نا تو کھانے کو کچھ ہے نا رہنے کو کیمپ ہیں یعنی کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار مذید 9 ملین لوگ غذائی و ادویائی قلت کا شکار ہونے کے قریب تر ہیں،اس حالیہ خانہ جنگی میں ابتک تقریباً 150000 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے،پورے ملک میں نا تو مناسب طریقے سے انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے اور نا ہی دیگر ضروریات زندگی
    واضع رہے کہ زیادہ تر لوگ گولیوں کی بجائے بھوک اور علاج نا ہونے سے مرے ہیں،آنے والے دن مذید سنگینی کو واضع کرتے ہیں

  • دہشت گردی کے خلاف قومی عزم،خلا کہاں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی کے خلاف قومی عزم،خلا کہاں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز ایک بار پھر لہو میں نہا گیا ۔ اسلام آباد کی عدالت کے باہر ہونے والا خودکش دھماکہ جس میں درجن سے زائد قیمتی جانیں اور زخمی ہونے والوں شہریوں اور جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں کالج پر دہشت گردوں کا حملہ اس تلخ حقیقت کی تصدیق ہے کہ دہشت گردی کا جن ابھی پوری طرح بوتل میں بند نہیں ہو سکا۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں کبھی آپریشن راہ نجا ت، ضرب عضب اور ردالفساد کے نعرے گونجتے تھے۔جہاں قوم نے قربانیاں دیں ،پاک فوج جملہ اداروں پولیس نے قربانیاں دیں اور جہاں یہ اُمید بندھی تھی کہ اب امن مستقل ٹھکانہ بنے گا۔ مگر حالیہ حملے یہ بتا رہے ہیں کہ دہشت گردی کی جڑیں صرف پہاڑوں یا سرحدی علاقوں میں نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے میں کہیں نہ کہیںدوبارہ پنپ رہی ہیں۔ اسلام آباد جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں خودکش دھماکہ ایک علامتی پیغام ہے۔دوسری جانب وانا میں کیڈٹ کالج پر حملہ اس بات کا عندیہ ہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک دوبارہ منظم ہو رہے ہیں ۔یہ صورت حال اس سوال کو جنم دیتی ہے آخر ریاست کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی میں کہاں خلاء باقی ہے ؟ کیا سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کے خلاف قومی یکجہتی کو کمزور کردیا ہے ؟ بلاشبہ ان حملوں کی جڑیں بھارت اور افغانستان کی سرزمین پر موجود گروپوں سے جڑی ہیں۔ اگرسرحد پار عناصر سرگرم ہیں تودیکھنا ہوگا اندرون ملک ان کے سہولت کار کون ہیں؟ دہشت گردی کو روکنے کے لیے سرحدوں پر ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی ، اور معلوماتی اشتراک ناگزیر ہے ۔ پسماندہ علاقوں میں روزگار، تعلیم اور انصاف کی فراہمی انتہا پسندی کا سب سے موثر توڑ ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی جنگ اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب سیاستدان آپس میں برسرپیکار ہوں۔ شدت پسندی کے خلاف فکری اور دینی سطح پر بیانیہ تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے۔ وطن عزیز نے دہشت گردی کے حوالے سے بہت قربانیاں دی ہیں۔ فوجی جوانوں سے لے کر معصوم بچوں تک ہر طبقہ نشانہ بنا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوم نے ہر بار اٹھ کھڑا ہونا سیکھا ہے۔ آج بھی اگر سیاسی ،عسکری اور سماجی قوتیں ایک صف میں کھڑی ہو جائیں تو دہشت گردی کے خلاف اس اندھیرے کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں قوم اپنی سوچ بدلنے پر آمادہ ہو تو کوئی اندھیرا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔

  • میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان

    میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،اپووا ایک تنظیم ہی نہیں ایک ادارہ ہے جس سے ہزاروں لوگ بلاواسطہ یا براہ راست جڑے ہوئے ہیں اور مستفید ہو رہے ہیں،اپووا اپنے احباب اور جڑے لوگوں کی عزت اور عزت نفس کا محافظ ہے اور الحمدللہ دن رات محنت لگن خلوص سے جانب منزل رواں دواں ہے اور اپنی صلاحیتوں اور نت نئے پروگرامز متعارف کروانے پہ اپنی مثال آپ ہے
    آزمائشوں اور تجربات سے گزر کر مذید پختہ ہوتا جا رہا ہے
    ایم ایم علی نے جو پودا لگایا تھا اج وہ پوری قدوقامت کے ساتھ کھڑا پھل دے رہا ہے
    کئی پھل گر کر پرندے کھا گئے کئی خشک ہو گئے مگر پودا اپنی جگہ پر قائم ہے
    ہمیشہ کی طرح نو نومبر کو بھی یوم اقبال پہ اپووا نے ایک منفرد اور بابرکت تقریب کا انعقاد کیا جس میں اپووا کے خیر خواہ اوربے لوث چاہنے والوں کا جم غفیر تھا لاکھوں کے نقد انعامات اور بکس تقسیم کی گئیں
    تمام ممبران نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
    میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ایم ایم علی اور اس ساری محفل کے روح رواں جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب حافظ زاہد صاحب اور سفیان فاروقی اور محترمہ پروفیسر سمیرا صاحبہ ماریہ خان،لاریب، حفضہ خالد ایمن سعید اور دیگر تمام معزز خواتین و حضرات کا جنہوں نے اس مقدس محفل میں حصہ لیا،اور شکر گزار ہوں ان تمام معزز مہمانان گرامی قدر کا جو شامل ہوئے،
    انشاءاللہ تعالیٰ اپووا اسی طرح کے شاندار پروگرام کر کے اپنی شناخت کو خوب سے خوب تر کی طرف لیجانے کی ڈگر پہ چلتا رہیگا انشاء اللّه
    اور مجھے فخر ہے کہ میں اپووا کا ایک کارکن ہوں،ایک بار پھر ایم ایم علی،جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب اور تمام اپووا کے محبت کرنے والوں خیر خواہوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد
    اور اگر کسی کا نام بھول گیا ہوں تو معذرت خواہ
    ہمارا نعرہ ہے کہ
    اپووا تھا
    اپووا ہے
    اپووا رہے گا
    انشاءاللہ تعالیٰ

  • اپووا کی تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت،  تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا کی تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت، تحریر:طارق نوید سندھو

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیراہتمام ایک نہایت بامعنی اور روح پرور تقریب، “عطائے ارمغانِ عقیدت”لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ دلوں کی کیفیات، عشقِ رسول ﷺ کے رنگ اور قلم کی لطافتوں کا حسین امتزاج تھی۔یہ محفل اُن خوش نصیب اہلِ قلم کے نام تھی جنہوں نے اپووا کے تحت منعقدہ مراسلاتی مہم میں سرورِ کائنات ﷺ کے حضور خطوط تحریر کیے۔ ان خطوط میں کسی نے ندامت کے آنسو لفظوں میں سموئے، کسی نے عقیدت کے پھول نذر کیے، تو کسی نے اپنی زندگی کے مدعا کو آقائے دو جہاں ﷺ کے حضور بیان کیا۔ ہر خط اپنے اندر ایک داستانِ عشق، ایک نغمۂ محبت اور ایک پیامِ وفا سمیٹے ہوئے تھا۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا جس نے فضا کو معطر کردیا۔حافظ محمد زاہد نے تلاوت کی جبکہ حفصہ خالد نے نعت رسول مقبول پڑھی، اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے شرکا کو خوش آمدید کہاسینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان بھی محفل پرنور کی زینت بنے، ان کی گفتگو میں ادب کے فروغ اور عشقِ رسول ﷺ کی ترویج کا جوش نمایاں تھا۔تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی اور شریکِ محفل، مجھے بھی عزت و احترام سے نوازا گیا۔ اپووا کی پوری ٹیم کی محبت اور خلوص نے دل کو ممنون کر دیا۔ اس موقع پر جناب ایم ایم علی، ناصر بشیر و دیگر نے بھی خطاب کیا،

    اختتامی لمحات میں اُن تمام لکھنے والوں کو یادگاری اسناد اور ارمغانِ عقیدت سے نوازا گیا جنہوں نے اپنے خطوط کے ذریعے عشق و عقیدت کا حق ادا کیا۔ ان تحریروں میں وہ کیف و جذب تھا جو لفظوں سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے۔یہ تقریب دراصل ایک عہدِ نو کی بشارت تھی کہ جب لفظ عشق کے تابع ہوں اور قلم محبت کے رنگ میں تر ہو، تو ادب عبادت بن جاتا ہے۔ اپووا کی یہ کاوش یقیناً ادبی تاریخ میں محبتِ رسول ﷺ کے فروغ کی ایک روشن مثال بن کر یاد رکھی جائے گی۔

    جب قلم محبت کے چراغ جلائے،
    اور دل عقیدت کی روشنی میں بھیگ جائے،
    تو الفاظ محض حروف نہیں رہتے، وہ دعائیں بن جاتے ہیں۔
    “تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت” دراصل انہی دعاؤں کا سنگم تھی
    جہاں محبتِ رسول ﷺ نے ہر دل کو منور کیا،
    اور ہر قلم نے اپنی سیاہی کو نعت کی خوشبو سے معطر کر دیا۔