Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی،تحریر:نوید شیخ

    ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی،تحریر:نوید شیخ

    حکومت نے رات کے آخری پہر مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں ستائی ہوئی پاکستانی عوام پر ’پٹرول بم‘ایسا مارا ہے جیسے کبھی1965 میں بھارت نے پاکستان پر شب خون مارا تھا ۔ آٹھ روپے اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔۔ ابھی دو روز پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوام کے لیے ’ ریلیف پیکج‘
    بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تکلیف پیکج کا اعلان کیا تھا ۔۔ عندیہ تو عمران خان نے پہلے ہی دے دیا تھا مگر اس بار تو پندرہ تاریخ کا بھی انتظار نہیں کیا گیا ۔ شاید اس ماہ کی پندرہ کو پھر اس حکومت کا عوام کو ٹیکہ لگانے کا پلان ہے ۔ ۔ یہ اس حکومت نے عوام پر ایک ماہ میں تیسرامہنگائی بم گرایا ہے ۔ ان کے اس فیصلے سے سفید پوش طبقہ کتنا متاثر ہوگا اور اب جو مہنگائی کا ایک نیا ریلا آئے گا ۔ اُس کا انکو اندازہ ہی نہیں ۔ یہ بس بدمست ہاتھی کی طرح جنگل تباہ کیئے جارہے ہیں اور کوئی انکو روکنے والا نہیں۔ تاہم ایسے حالات میں بھی وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ حکومت پہلے ہی پٹرولیم ٹیکس 31 روپے سے کم کر کے پانچ روپے تک لا چکی۔ اب بھی اگر قیمت کم رکھنی ہو تو پھر قرضہ لینا پڑے گا جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔ ہائے دیکھا کتنی عوام دوست حکومت ہے ۔

    ۔ عمران خان جو ہالینڈ کے وزیراعظم اور یورپ کی مثالیں دیا کرتے تھے خود تو کپتان ایک دن بھی سائیکل پر دفتر نہیں گئے ، مگر عوام کو سائیکل پر لے آئے ہیں ۔ یہ ہے وہ تبدیلی ۔۔۔ ۔ حکومتی ترجمان اور عمران خان خطہ کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے- پر کل بھارت میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول پانچ روپیہ اور ڈیزل دس روپیہ فی لیٹر ڈیوٹی گھٹا کے سستا کر دیا جبکہ ہماری تبدیلی سرکار نے عوام کو مزید کچلنے کے لئے پٹرول اور ڈیزل مذید مہنگا کیا۔۔ اصل فرق تو ان موٹر سائیکل سواروں کوپڑتا ہے جن کونہ فری پٹرول ملتاہے اور نہ ہی بدلوانے کیلئے کوئی پرزہ۔ یہی حال ان عام شہریوں کا ہے جنھوں نے اپنی محنت کی کمائی سے گاڑی خریدی ہوئی تو ہے پر اب وہ ان کے لئے وبال جان بنی ہوئی ہے۔۔ میری بات نوٹ کر لیں انھوں نے پیڑول کیا ، ڈالر ، چینی ۔۔۔ ہر چیز کی ڈبل سنچری کروانی ہے ۔ انھوں نے غریب کو جینے کا کوئی حق نہیں دینا ۔ یہ غریب مکاؤ مہم پر نکلے ہوئے ہیں ۔ ۔ حکومت نالائقی، نااہلی اور کرپشن کی ہر حد پار کر چکی ہے ۔ آپ دیکھیں کل ایک بار پھر پنجاب حکومت نے پولیس میں تیس سے زائد تبادلے کر دیئے ہیں ۔ کیا یہ کوئی گورننس ہے ۔ ایسے نظام چلائے جاتے ہیں جیسے یہ چلا رہے ہیں ۔ قوم تو تمام امیدیں چھوڑ چکی ہے اب تو وہ یہ بھی نہیں پوچھتی کہ اچھے دن کب آئیں گے۔ ہاں البتہ ہر کوئی یہ ضرور پوچھتا ہے کہ اس تبدیلی سے کب جان چھوٹے گی ۔

    ۔ پھر حکومت کے چینی کی قیمت میں کمی کے سب وعدے الٹے ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ اس معاملے میں حکومت اور مافیا دونوں ملے ہوئے ہیں ۔ حکومت چینی جان بوجھ کر امپورٹ نہیں کررہی ۔ تو چینی مافیا والے کرشنگ سیزن سے پہلے دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ یہ گزشتہ حکومتوں کو ڈاکو کہا کرتے تھے ۔ مگر یہ تو خود سب سے بڑے ڈکیت ثابت ہورہے ہیں ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں شوگرمل مالکان کو265 ارب روپے کااضافی منافع پہنچایاگیا ہے ۔ صرف اس سال کے 10 ماہ میں 67ارب روپے کااضافی منافع دیا گیا ۔ اب سمجھ آئی کہ یہ مافیاز کیوں نہیں پکڑے جاتے ۔ کیونکہ سب کچھ تو حکومت خود کروارہی ہے ۔ مافیاز ان کے اندر موجود ہیں ۔ اس لیے تو نیب کے ہاتھ پاوں باندھے گئے ہیں کہ وہ صرف اپوزیشن کو ہی پکڑ ان کی طرف نظر نہ اٹھا سکے ۔ ۔ آپ دیکھیں پنجاب کے سابق معاون خصوصی خوراک جمشید اقبال چیمہ نےتین ہفتے قبل گنے کی بمپرفصل کی خوشخبری دی تھی اورکہاتھاکہ نومبرسے چینی80 روپے کلوملے گی۔ حالات یہ ہے کہ اب 150 میں بھی نہیں مل رہی ہے ۔ ۔ پھر حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز پر کوکنگ آئل کی قیمت میں 65 روپے فی کلو جبکہ گھی 53
    روپے فی کلو اضافہ کیا ہے۔ عوام یاد رکھے یہ وہ اشیاء ہیں جن پر وزیراعظم نے دو دن پہلے ریلیف کا اعلان کیا تھا۔ میری نظر میں تو چینی سبسڈی کی طرح ریلیف پیکج بھی مافیا کھا جائے گا۔ کیونکہ یہ سبسڈی احساس پروگرام کے تحت ملنی ہے ۔ نہ کوئی رجسڑ ہوگا نہ کسی کو ملے گی ۔ پھر اس پیکج کے تحت اندازً ایک خاندان کو ماہانہ ایک ہزار روپے کا ریلیف ملنا ہے۔ یہ کسر تو حکومت پیڑول کی قیمت بڑھا کر پوری کردی ہے ۔ یعنی کان ایک سائیڈ سے نہیں تو دوسری سائیڈ سے پکڑ لو ۔

    ۔ اور پھر سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان دو کروڑ افراد کا ملک ہے جن کے لئے وزیر اعظم نے ریلیف پیکج کا اعلان کیاہے؟ کیا باقی کے بیس کروڑ افراد کو کسی ریلیف کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ملک میں چالیس فیصد آبادی یعنی آٹھ کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مگر وزیر اعظم کو صرف دو کروڑ نظر آئے اور اس ریلیف کا آغاز بھی کہیں دسمبر کے وسط میں جا کرہوگا۔ ۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ پنتالیس فیصدگرا ہے تو میری اور آپ کی جیب میں پڑا ایک سو روپے کا نوٹ پچپن روپے کا رہ گیا ہے۔ ۔ دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شے کی ٹرانسپورٹیشن لاگت میں تیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کے خشک جنگل کو آگ لگ گئی۔۔ جنرل سیلز ٹیکس کے اطلاق نے اس ملک میں عام آدمی کاجینا محال کردیا ہے، اس ایک ٹیکس میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس رہا ہے، یعنی وہ لوگ بھی ٹیکس ادا کرنے کو مجبور ہیں جنھیں حکومتی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ ۔ عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں اور مہنگائی خطے کے دیگرممالک سے کم ہے۔ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں مہنگائی خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ تین سال کے دوران میں فی کس آمدنی بھی ریکارڈ 13.51 فیصد تک گر گئی جبکہ ملک میں غربت بھی بڑھ گئی ہے۔

    ۔ ان سے پہلے دور حکومت بہتر تھے ۔ اور یہ میں نہیں اعداد وشمار بتارہے ہیں ۔ ۔ پاکستان میں 2018ء میں فی کس آمدنی 1480 ڈالر تھی، 2020ء میں پاکستان میں فی کس آمدنی 1280 ڈالر رہی۔ ایک اور اہم فیکٹر کی مدد سے مہنگائی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح 10.74 فیصد ہے۔ یہ شرح خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں مہنگائی کی شرح 6.62 فیصد ہے، بنگلہ دیش میں مہنگائی کی شرح 5.69فیصد ہے، سری لنکا میں مہنگائی کی شرح 6.15 فیصد ہے، چین میں مہنگائی کی شرح صرف 2.4 فیصد ہے۔ پاکستان میں فی کس آمدنی تین برسوں میں خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ یعنی 13.51 فیصد گر گئی، ان تین سالوں میں ہم آگےجانے کی بجائے پیچھے گئے ہیں ۔ ۔ عمران خان قوم کو ایف بی آر کی
    37فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی نوید سنا کر ایف بی آر افسروں کو شاباس کے سرٹیفکیٹ اور بونس تو دے رہے ہیں۔ پر سچ یہ ہے کہ یہ سب براہِ راست ٹیکسز ہیں جو بجلی،گیس کے بلوں اور پٹرول سے براہِ راست اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔۔ پتہ نہیں عوام نے ان کو ووٹ دے کر کیا غلطی کر دی ہے کہ یہ صرف عوام کو ہی تن رہے ہیں ۔ حالات یہ ہیں کہ یہ عوام کی چیخیں بھی نہیں سننا چاہتے ۔ ایک ایک خاندان کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 10لاکھ تک ہسپتالوں سے ریلیف دینے کا جنازہ نکل چکا ہے، کوئی ہسپتال ہیلتھ کارڈ پر ریلیف دینے کے لئے تیار نہیں،50
    لاکھ گھروں کے لئے قرضے دینے کا منصوبہ بھی منگوا کر دیکھ لیں۔ ایک کروڑ نوکریاں بھی توجہ کی منتظر ہیں، دیگر ممالک کی مہنگی مصنوعات کے ساتھ دیگر ممالک کی سہولیات اور سروسز کا بھی جائزہ کروا لیا جائے۔ اس وقت وزیراعظم یوٹیلٹی سٹور پر ریلیف ختم کر چکے ہیں۔ اور پٹرول سے دو سو ارب دو ماہ میں عوام سے وصول کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت جو بجلیاں عوام پر گرا رہی ہیں ۔ اس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ نااھل حکومت کی رخصتی کا وقت قریب ھے۔ اس حکومت کی تمام توجیہات اور صفیائیں جھوٹ کا پلندہ ہیں ۔

    ۔ اپوزیشن بھی پتہ نہیں کہاں دھنیا پی کر سوئی ہوئی ہے ۔ اپنے مفادات کے لیے تو یہ لانگ مارچ ، دھرنا پتہ نہیں کیا ۔۔۔ کیا کرلیتے ہیں ۔ اب جب عوام کی روز ہی بینڈ بجائی جارہی ہے تو یہ بس بیانات اور ٹویٹس پر گزارا کر رہے ہیں ۔ حالانکہ جیسے اس حکومت نے گزشتہ ایک ماہ کے اندر پاکستانی عوام پر مہنگائی بم گرائے ہیں اب تک تو اپوزیشن کو پہیہ جام ہڑتال سے لے کر حکومت کے بائیکاٹ کی مہم شروع کروا دینی چاہیئے تھی ۔ ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی اور اس کا ہاتھ اس حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے گربیانوں تک بھی پہنچ جائے گا ۔ جس طرح حکومت اپنی کاروائیاں ڈال رہی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ ایسا عنقریب ہو جائے گا ۔ بس ایک چنگاری لگنے کی دیر ہے ۔

  • انسانی خواہشات اور زندگی تحریر: ابوبکر ہشام 

    انسانی خواہشات اور زندگی تحریر: ابوبکر ہشام 

    ہر انسان کے اندر خواہشات کا جنم لینا ایک فطری عمل ہے -اور اس حقیقت سے کوئی انکار بھی نہیں کر سکتا کہ بنی نوع انسان کی خواہشات اُس کے ہوش سنبھالنے سے لے کر قبر میں اترنے تک جاری رہتی ہیں – 

    دنیا کی رونقیں اور رنگینیاں دیکھنے کے بعد انسان کا اپنے اندر خواہشات کا سمندر لئے پھرنا اک عام سی بات ہے – اُس کی خواہشات عمر کے ہر حصے میں مختلف ہوتی ہیں ۔ وہ اپنا بچپن اس چاہ میں گزارتا ہے کہ وہ جلد بڑا ہو گا اور اپنے بڑھے بھائیوں کی طرح وہ سب کچھ کرے گا جو وہ کرتے ہیں ۔ اسی بات کا انتظار کرتے کرتے وہ وہ اپنی جوانی میں پہنچ جاتا ہے اور عمر اس حصے میں پہنچنے کے بعد اس کی تمناؤں کا جال پھیلتا ہی چلے جاتا ہے –

    وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس اچھا گھر ہو  ، گاڑی ہو ، عزت ہو ، شہرت ہو ، رعب و دبدبہ ہو اور وہ سب کچھ جس کی وہ آرزو کرے ۔ 

    وہ نا چاہ کر بھی ان خواہشات کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے – اور انکی طلب میں وہ اپنی زندگی گزار دیتا ہے – لیکن اس کی خواہشات نہ تو کم ہوتی ہیں اور نہ کہ ختم – یہ بات انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ایک چیز کو حاصل کرنے کے بعد دوسری کی تمنا رکھنے لگتا ہے – وہ چاہتا ہے کہ اگر اس نے اپنے کاروبار سے سو کڑوڑ کما لیا ہے تو وہ اب مزید سو کڑوڑ کیسے کمائے – غرض یہ کہ انسان کی خواہشات اور زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حوس اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی – 

    اس ساری کشمکش کے دوران انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے ایک دن مرنا بھی ہے – اِس کاسب کچھ ادھر دنیا میں اس کے ساتھ دفن ہو جانا ہے -اس دنیا کی محبت اور رنگینی اُسے اس قدر اپنے اندر جکڑ لیتی ہے کہ اسے یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اگر میں ہی نہ رہا تو میری یہ سب دنیاوی تگ و دو کس کام کی ؟ 

    اس مختصر زندگی میں جس کے اگلے لمحے کا کسی کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ اس نے زندہ بھی رہنا ہے یا نہیں وہ ایسے منصوبے بناتا ہے کہ جیسے اسے مرنا ہی نہ ہو ۔ لیکن حقیقت اس کے باکل برعکس ہے – اللہ قرآن کریم میں اشاد فرماتے ہیں : 

    ‏كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

    ‏ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے

    ‏آل عمران 3-185″

    انسان کااپنی خوہشات کے آگے بے بس ہونے کی ایک بڑی وجہ اللہ کے دئیے ہوۓ پر صبر و شکر ادا کرنے کی بجائے لالچ و ہوس میں مزید کی طلب رکھنا ہے – 

    انسان کی زندگی تو ختم ہو جاتی ہے لیکن اسکی خواہشیں مرنے تک اُس کے ساتھ رہتی ہیں – انسان کی خواہشات اور لالچ و حوس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : 

    اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہو تو وہ تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی – اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو (دل سے ) سچی توبہ کرتا ہے ۔ 

    (صحیح بخاری ۶۴۳۶)

    بعض اوقات خواہشات انسان کے اندر اس قدر بے چینی اور اضطراب کی سی کیفیت پیدا کر دیتی ہیں کہ وہ ان کی آرزو میں ہر جائز اور ناجائز ذریعہ بھی استعمال کر لیتا ہے – اس کی سوچ ، اُس کے خیالات ہر وقت صرف اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ وہ کسی طرح ان کو پورا کرے لیکن انسان کی یہ خواہشات اُس کا پیچھا مرنے تک نہیں چھوڑتی اور شاید ان سے نجات اور انسان کے دل کو سکون موت کے بعد ہی ملتا ہے ۔ بقول غالب 

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے 

    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکل

  • ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

    ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

    ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق ویسٹ انڈیز دسمبر میں پاکستان کا دورہ کرے گی پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ویسٹ انڈیز کے دورہ پاکستان کی تصدیق کی گئی اور شیڈول جاری کیا گیا جس کے مطابق ویسٹ انڈیزکرکٹ ٹیم 3 ٹی 20 اور3 ون ڈے میچزکھیلے گی۔


    پی سی بی کے مطابق یہ تمام میچز 13 سے 22 دسمبر تک نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلے جائیں گے جبکہ اپریل 2018 کے بعد یہ ویسٹ انڈیز کا پہلا دورہ پاکستان ہوگا۔

    مہمان ٹیم تین ٹی 20انٹرنیشنل میچز کھیلنے 2018 میں پاکستان آئی تھی ،ویسٹ انڈیز نے آخری مرتبہ 2006 میں پاکستان کی سرزمین پر کوئی ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کھیلی تھی۔

    ’ویل پلیڈ انڈیا‘ یا ’ویل پیڈ انڈیا‘:بھارتی جیت کوافغان ٹیم کا احسان قراردیا جانے لگا

    بابراعظم ایک بار پھر ٹی ٹوئنٹی کے بادشاہ بن گئے

    محمد رضوان کرس گیل کا ریکارڈ توڑنے کے قریب

    ویسٹ انڈیز ویمنز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

  • خواہشِ زیست، محمد نعیم شہزاد

    خواہشِ زیست، محمد نعیم شہزاد

    خواہشِ زیست (غزل)
    محمد نعیم شہزاد

    ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
    میرے مہرباں دیکھ کیا چاہتا ہوں

    مشقت، ریاضت جو برسوں سے کاٹی
    الٰہی! صبر کا مزہ چاہتا ہوں

    تھکایا بہت ہے زمانے نے مجھ کو
    میں شورش سے تیری پناہ چاہتا ہوں

    بھری بزم میں حال دل کہہ سنایا
    دو عالم میں بس میں تجھے چاہتا ہوں

    مریض عشق ہوں اے ساقی سنو تو
    میں زخمی جگر کی دوا چاہتا ہوں

    ہجر کا نہ ہو شائبہ کوئی جس میں
    مری جاں میں ایسا نبھا چاہتا ہوں

    طرحی مشاعرہ کیا ہے؟

    یہ ایک شعری اصطلاح ہے جس سے مراد گرانا، دور کرنا، بنیاد ڈالنا، طرح دینا (ٹالنا) اور اصطلاحاً ’’گفتگو میں مدد دینا‘‘ ہے۔
    طرح، مصرعۂ طرح اور طرحی نشست سب مشاعرے کی روایت سے متعلق اصطلاحیں ہیں۔ کسی محفلِ مشاعرہ میں شعرا کو خاص زمین میں شعر گوئی کے لیے پابند کیا جاتا ہے۔ اسے طرح، مصرعۂ طرح یا طرحی مصرعہ کہتے ہیں۔ گویا اس مشاعرے میں شعرا اپنی آزادی سے زمین (ردیف، قافیہ، بحر) کا انتخاب نہیں کرسکتے۔ وہ پہلے سے دیے گئے مصرعے کے نظامِ ردیف و قافیہ بحر کے مطابق غزلیں لکھیں گے۔ مثلاً یہ کہ
    دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
    غالبؔ کا مصرعہ، طرح کے طور پر دیا جائے، تو شعرا پر یہ پابندی ہوگی کہ وہ ’’ہُوا‘‘ کو قافیہ اور ’’کیا ہے‘‘ کو ردیف بنا کر شعر گوئی کریں اور اسی مصرعے کی بحر کو بنیاد بنائیں۔ مشاعرہ، جس میں مصرعہ طرح دیا جائے، اسے طرحی مشاعرہ یا طرحی نشست کہتے ہیں۔
    (پروفیسر انور جمال کی تصنیف ’’ادبی اصطلاحات‘‘ مطبوعہ ’’نیشنل بُک فاؤنڈیشن‘‘، صفحہ نمبر 127 سے انتخاب)

    @UstaadGe

  • بھارتی کرکٹ ٹیم کا کوچ تبدیل نیا کپتان کون ہوگا؟

    بھارتی کرکٹ ٹیم کا کوچ تبدیل نیا کپتان کون ہوگا؟

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راہول ڈریوڈ کو بھارتی ٹیم کے کوچ کی ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے وہ روی شاستری کی جگہ لیں گے جو ٹی 20 ورلڈ کپ 2021 کے اختتام پر اپنے عہدے سے دستبردار ہونے والے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق راہول ڈریوڈ ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد اپنا عہدہ سنبھالیں گے ان کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کے لیے رضا مندی کا اظہار بھی کر دیا گیا ہے راہول ڈریوڈ کو دو سال کا کانٹریکٹ دیا جائے گا۔

    واقعی:بھارت اور افغانستان کا میچ فکسڈ ہے؟ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر سورو گنگولی نے راہول ڈریوڈ کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ’راہول کا کیریئر شاندار رہا ہے اور وہ عظیم کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان کے دور میں بھارتی کرکٹ نئی بلندیوں پر جائے گی۔‘

    48 سالہ ڈریوڈ اپنے کلاسیک انداز اور مضبوط دفاع کی وجہ سے ’دیوار‘ (The Wall) یا ’قابل انحصار‘ (Mr. Dependable) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ اس ماہ کے آخر میں نیوزی لینڈ کے خلاف شروع ہونے والی ہوم سیریز سے چارج سنبھالیں گے۔


    2012 میں ریٹائر ہونے سے پہلے ڈریوڈ نے 164 ٹیسٹ میچز میں 13 ہزار 288 رنز بنائے۔ وہ بھارتی لیجنڈ سچن ٹنڈولکر کے بعد دوسرے اور عالمی درجہ بندی میں مجموعی طور پر چوتھے نمبر پر تھے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق راہول ڈریوڈ نے آتے ہی جس کھلاڑی کا بھارت کی کپتانی کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے وہ روہیت شرما ہیں راہول ڈریوڈ بھارتی ٹیم کے نائب کپتان روہیت شرما کو آئی پی ایل میں کپتان کے فرائض انجام دینے پر ایک بہترین کپتان تصور کرتے ہیں 34 سالہ روہیت شرما نے 10 ون ڈے اور 19 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں بھارت کی قیادت سنبھالی، ون ڈے میں آٹھ جبکہ ٹی 20 میں 15 میچوں میں کامیابی حاصل کی۔

    یاد رہے ویرات کوہلی ورلڈ کپ ٹی 20 سے پہلے ہی بھارت کی کپتانی چھوڑ چکے ہیں۔

    راہول ڈریوڈ اس وقت جنوبی شہر بینگلور میں انڈین کرکٹ اکیڈمی میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں انہوں نے اس وقت قومی کرکٹ ٹیم میں موجود کئی نوجوان کھلاڑیوں کی کوچنگ بھی کی ہے انہوں نے اپنی تقرری کو ’ایک عزاز‘ قرار دیا ہے۔

    انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی، انڈر 19 اور بھارت کی اے ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ قریب سے کام کرنے کے بعد میں جانتا ہوں کہ ان میں ہر روز بہتری لانے کا جذبہ اور خواہش ہے۔

    بی سی سی آئی کے اعزازی سکریٹری جے شاہ نے کہا کہ اگلے دو سالوں میں دو ورلڈ کپ ہونے والے ہیں، یہ ضروری ہے کہ (عہدےکی) منتقلی ہموار ہو اور سابق بھارتی کپتان اس کام کے لیے موزوں انسان ہیں مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ ان کی قیادت میں بھارتی ٹیم تمام فارمیٹس میں غلبہ حاصل کرے گی۔

    ’ویل پلیڈ انڈیا‘ یا ’ویل پیڈ انڈیا‘:بھارتی جیت کوافغان ٹیم کا احسان قراردیا جانے لگا

  • شعیب اختر بھارت کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی دعائیں کرنے لگے

    شعیب اختر بھارت کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی دعائیں کرنے لگے

    سابق کرکٹر شعیب اختر نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈ یو پیغام میں انہوں نے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ فائنل کھیلے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بھارت کے لیے یہ ہے کہ دل چھوٹا نہ کریں مایوسی ہوئی ہے اور بہت سے چیزیں مایوس کن تھیں اور ان کے مایوس بھرے بیانات سامنے آئے لیکن ابھی ٹورنامنٹ باقی ہے۔

    انہوں نے بھارتی ٹیم کو کہا ہے کہ ہم ابھی ٹورنامنٹ میں آپ سے دوبارہ ملنا چاہ رہے ہیں کیونکہ ہم نے آپ کو فائنل میں پھینٹی لگانی ہے اسی لیے ہم دعائیں کر رہے ہیں کہ آپ کوالیفائی کریں۔

    سابق فاسٹ باؤلر نے کہا کہ بھارت کے لیے ٹورنامنٹ میں ابھی وسیع موقع ہے بھارت کے آخرہ دو آسان میچز ابھی باقی ہیں ۔ بھارت کو چاہیے کہ ایک میچ میں دو ڈھائِی سو اسکور کرےدعا ہے سو پر دوسری ٹیم کو آؤٹ کر کے رن ریٹ اچھا کرے اور سیمی فائنل میں آ جائے۔

    واقعی:بھارت اور افغانستان کا میچ فکسڈ ہے؟ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    افغانستان اور بھارت سے متعلق میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے افغانستان کے خلاف زبردست پرفارمنس دکھائی۔ ان سے مزید ایسی پرفارمنس کی امید ہے۔

    بھارتی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں پہلے میچ سے ایسی پرفارمنس دکھانی چاہیے تھی لیکن بھارت کی ٹیم پہلے میچ سے مری ہوئی تھی۔ پاکستان نے ان پر حملہ کر دیا اور پوری ٹیم بکھر کر رہ گئی جس جارحانہ انداز سے وہ افغانستان کے خلاف کرے اگر شروع سے ایسے کھیلتے تو آج وہ بہتر پوائنٹس پر ہوتے-

    انہوں نے کہا ہے کہ سب کچھ نیوزی لینڈ پر منحصر ہے اگر نیوزی لینڈ ایک بھی میچ اور جیت جاتی ہے تو بھارت کے لیے کوالیفائی کرنا مشکل ہو جائے گا اگر نیوزی لینڈ ہارتی ہے تو بھارت کا چانس بن سکتا ہے بطور پاکستانی ہم تو چاہتے ہیں کہ بھارت آگے آئے اور ہمارے ساتھ کھیلے اور بھارتی ٹیم کو ایک اور “موقع “دیا جائے۔

    ’ویل پلیڈ انڈیا‘ یا ’ویل پیڈ انڈیا‘:بھارتی جیت کوافغان ٹیم کا احسان قراردیا جانے لگا

  • امریکا نے پیگاسس اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی کو بلیک لسٹ کر دیا

    امریکا نے پیگاسس اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی کو بلیک لسٹ کر دیا

    امریکا نے دنیا بھر کے کارکنوں، صحافیوں، کارپوریٹ ایگزیکٹوز اور سیاستدانوں کے فون کی جاسوسی کے لیے پیگاسس اسپائی ویئر بنانے والی اسرائیلی کمپنی کو بلیک لسٹ کی فہرست میں ڈال دیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبررساں ادارے ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق اسپائی ویئربنانے والی کمپنی این ایس او ان دنوں منتازع خبروں کی زد میں ہے یو ایس کامرس ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ پیگاسس اسپائی ویئر سے غیر ملکی حکومتوں کو بین البراعظم جبر کرنے کے قابل بنایا ہے، یہ عمل آمرانہ حکومتوں کا طرز عمل ہے جو اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے اپنی خود مختار سرحدوں سے باہر مخالفین، صحافیوں اور کارکنوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

    ریاستہائے متحدہ نے بدھ کے روز اسرائیلی سپائی ویئر کمپنی NSO گروپ کو اپنی "اینٹی لسٹ” میں شامل کیا، ایک وفاقی بلیک لسٹ جس میں کمپنی کو امریکی ٹیکنالوجیز حاصل کرنے سے منع کیا گیا تھا، اس بات کا تعین کرنے کے بعد کہ اس کے فون ہیکنگ ٹولز کو غیر ملکی حکومتوں نے حکومت کو "بد نیتی سے نشانہ بنانے” کے لیے استعمال کیا تھا۔ دنیا بھر کے حکام، کارکنان، صحافی، ماہرین تعلیم اور سفارت خانے کے کارکنان کے فون کی جاسوسی کرنے کے لئے-

    یہ اقدام عالمی پیگاسس پروجیکٹ کنسورشیم، جس میں واشنگٹن پوسٹ اور دنیا بھر کی 16 دیگر خبر رساں تنظیمیں شامل ہیں، کی تحقیقات میں جولائی میں نمایاں ہونے والی کمپنی کے خلاف ایک اہم پابندی ہے۔ کنسورشیم نے درجنوں مضامین شائع کیے جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح NSO کے صارفین نے اس کے طاقتور اسپائی ویئر پیگاسس کا غلط استعمال کیا۔

    اس اقدام سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تناؤ بھی بڑھ سکتا ہے، جہاں NSO ایک قیمتی تکنیکی پاور ہاؤس ہے۔ NSO کے سافٹ ویئر کی برآمدات کو اسرائیل کی وزارت دفاع کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، جس کے لیے ان کی منظوری لازمی ہوتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی ہتھیاروں کی فروخت ہوتی ہے۔

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    اس معاملے سے واقف اسرائیل کے ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل اور دیگر ملوث ممالک کو صرف ایک گھنٹے کا نوٹس دیا گیا تھا کہ واشنگٹن میں ریگولیٹری رکاوٹوں کی وجہ سے کمپنیوں کو فہرست میں لایا جائے گا۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نوٹ کیا کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کے خلاف یا روس اور سنگاپور کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا، جو دیگر ممالک ملوث ہیں۔

    کامرس ڈیپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی بائیڈن انتظامیہ کی "امریکی خارجہ پالیسی کے مرکز میں انسانی حقوق کو رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے، بشمول جبر کے لیے استعمال ہونے والے ڈیجیٹل ٹولز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنا۔”

    انہوں نے کہا کہ "ہم اسرائیل کی حکومت کے ساتھ مزید بات چیت کے منتظر ہیں کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کمپنیوں کی مصنوعات کو انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں اور دیگر افراد کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے جنہیں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔”

    اس کے جواب میں اسرائیلی کمپنی این ایس او نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ٹیکنالوجیز دہشت گردی اور جرائم کو روک کر امریکی قومی سلامتی کے مفادات اور پالیسیوں کی حمایت کرتی ہیں ہم امریکی فیصلے کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ہماری مصنوعات کا غلط استعمال کرنے والی سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ متعدد رابطے ختم ہو گئے ہیں-

    کمپنی نے مسلسل پیگاسس پروجیکٹ کے نتائج کی تردید کی ہے، جس میں پتا چلا ہے کہ 40 سے زائد ممالک میں NSO کے درجنوں قانون نافذ کرنے والے، ملٹری اور انٹیلی جنس صارفین پیگاسس کے ساتھ معمول کی بنیاد پر صحافیوں، سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بناتے ہیں، جو ہیک کر سکتے ہیں۔ سیل فونز میں NSO نے ماضی میں کچھ صارفین کے ساتھ مسائل کا اعتراف کیا ہے۔

    پیگاسس سے جاسوسی پاکستان سالمیت پرحملہ ہے، قانونی چارہ جوئی کرینگے، مشیر داخلہ کا اعلان

    واشنگٹن نے اسرائیلی کمپنی ’کینڈیئریو‘ کے ساتھ سنگاپور میں قائم کمپیوٹر سیکیورٹی انیشیٹو کنسلٹنسی اور روسی فرم ’پازیٹیو ٹیکنالوجیز‘کو بھی نشانہ بنایا جن پر ہیکنگ ٹولز کی اسمگلنگ کا الزام تھا۔

    ایک بیان میں پازیٹیوٹیکنالوجیز نے کہا کہ فہرست سازی کا ’ہمارے کاروبار پر بہت کم یا کوئی اثر نہیں پڑے گا‘ اور یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔

    انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ ’ہم خلوص دل سے یقین رکھتے ہیں کہ جغرافیائی سیاست کو معاشرے کی تکنیکی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے اور ہم عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جو ہم سب سے بہتر کرتے ہیں وہ کرتے رہیں گے‘۔

    خیال رہے کہ ہیکنگ سافٹ ویئر کے ابتدائی ورژن کی تشخیص 2016 میں ہوئی اور یہ اپنے اہداف کو پھنسانے کے لیے انہیں ایسے ٹیکسٹ میسجز بھیجتے ہیں جس سے وہ میسج پر کلک کرنے پر مجبور ہو جائیں اس اسپائی ویئر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے وصول کنندہ کو اسپائی میسجز میں موجود لنک پر کلک کرنا ہو گا لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی کامیابی سے انسٹالیشن کے امکانات کم ہو گئے کیونکہ اب فون کے صارفین مشکوک لنکس پر کلک کرنے کے حوالے سے بہت محتاط ہو گئے ہیں۔

    سافٹ وئیر میں خرابی: ٹیسلا کی2017 میں بیچی گئی 12 ہزارگاڑیوں کی واپسی

  • ظاہر جعفر کے ڈرامے، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظاہر جعفر کے ڈرامے، تحریر: عفیفہ راؤ

    رندے ظاہر جعفر نے آج عدالت میں کافی تماشا کیا اور جتنی عدالت اور جج صاحب کی توہین آج اس نے عدالت میں کھڑے ہو کر کی ہے اس کی آج سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ویسے تو جب پولیس درندے ظاہر جعفر کو گرفتار کرنے اس کے گھر پہنچی تھی تب سے لیکر۔۔ اس کے بعد جب بھی اس کو عدالت میں پیش کیا جاتا رہا تب بھی وہ ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی ڈرامہ کرتا ہے۔
    یاد کریں پہلے اس نے پولیس کے سامنے موقع واردات پر نور کی لاش کو کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ گڑیا ہے۔ اور اس طرح کی ایکٹنگ کر رہا تھا جیسے وہ کوئی ذہنی مریض ہے۔ پھر عدالت میں بھی پہلے یہ صرف انگریزی بول کر ڈرامہ کرتا تھا پھر چند دن جیل کی ہوا کھا کر اس کو اردو بھی آ گئی تھی۔ بار بار اجازت کے بغیر یہ عدالت میں بولنے کی بھی کوشش کرتا تھا۔ جب اس حرکت پر ایک دو بار اسے عدالت سے باہر نکالا گیا تو اس نے عدالت میں اور راستے میں آتے جاتے بڑبڑانا شروع کر دیا تھا۔۔ اور تو اور ایک بار تو جج صاحب کو اس نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ مجھے بتائیں کہ مزید کتنے دن لگیں گے فیصلہ ہونے میں۔۔۔ پھر کبھی یہ عدالت کے سامنے ایمبسی والوں کی بات کر کے اپنے فارن نیشنل ہونے کا رعب جمانے کی کوشش کرتا تھا۔ اور تو اور یہ بھی فرمائش کی گئی تھی کہ معافی دے دیں یا پھانسی دے دیں میں جیل میں نہیں رہ سکتا۔۔ قیدیوں کے ساتھ بھی اس کی لڑائیاں ہو چکی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہر وہ عجیب حرکت جیل اور عدالت میں کی ہے جو آج سے پہلے تو سننے میں کبھی نہیں آئیں۔

    لیکن آج کی سماعت میں تو اس نے پچھلی تمام حدیں ہی پار کر دیں۔آج جب کیس کی عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو تین سرکاری گواہان کو گواہی دینے کے لیے عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔ایک سرکاری گواہ عامر شہزاد جو کہ ایک نقشہ نویس ہے جب اس نے جائے وقوعہ کی تفصیلات بتانا شروع کیں تو ظاہر جعفر نے اچانک ہی بغیر کسی اجازت کے بولنا شروع کر دیا۔ اور جب جج صاحب نے اسے خاموش رہ کر کارروائی کا حصہ بننے کا کہا تو اس نے اونچی آواز میں کہا کہ یہ میری کورٹ ہے اور میں نے بات کرنی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ آج عدالت میں یہ کسی حمزہ نامی شخص کا نام بھی لیتا رہا کہ میں نے حمزہ کو عدالت میں بلانا ہے۔ خیر آگے چل کر جب درندے کی سائیڈ کے گواہوں کے بیانات قلمنبد کروانے کا وقت آئے گا تو ہو سکتا ہے کہ پتہ چل ہی جائے کہ یہ حمزہ کون ہے اور اس کا اس کیس سے کیا تعلق ہے۔ اس دوران جج صاحب نے درندے ظاہر جعفر کے وکیل اکرم قریشی سے پوچھا کہ کیا ظاہر جعفر کی آج کی کارروائی میں ضرورت ہے جس پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی ضرورت نہیں ہے۔

    اس کے بعد عدالت نے نائب کورٹ کے ذریعے جب درندے ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت سے باہر لے جانے کا کہا تو عصمت آدم جی کے وکیل اسد جمال نے درندے کے کان میں کچھ کہا جس کے بعد ظاہر جعفر خاموش ہو کر کھڑا ہو گیا اور کمرہ عدالت کے دروازے کے ساتھ لگ کر عدالتی کارروائی کو سنتا رہا۔کچھ دیر تو ظاہر جعفر نے عدالتی کارروائی کو خاموشی سے سنا لیکن اس کے بعد آج پھر اس کو اپنی انگریزی یاد آ گئی اور وہ انگریزی میں بولنا شروع ہو گیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنے نااہل افراد نہیں دیکھے جتنے اس کمرے میں موجود ہیں۔ اور بار بار یہی دہراتا رہا کہ یہ میرا کورٹ ہے مجھے اور میری فیملی کو بتایا جائے کہ کیا ٹرائل چل رہا ہے۔ میں اور میری فیملی انتظار کر رہے ہیں کہ آخر آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے پھر اسے بولنے سے روکا جس کے کچھ دیر بعد ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں لگے پردے کو پہلے تو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر اونچی آواز میں بولا کہ پردے کے پیچھے کیا ہے؟جج عطا ربانی جو کافی دیر سے درندے کی ان تمام فضول حرکتوں کو برداشت کر رہے تھے آخر ان کا صبر جواب دے گیا اور انھوں نے ریمارکس دیے کہ ملزم یہاں پر خبر بنانے کے چکروں میں ہے اور ڈرامے بازی کر رہا ہے۔ ظاہری سی بات ہے وہ ایک قابل اور تجربہ کار جج ہیں روزانہ اتنے ملزمان کو دیکھتے ہیں ان سے زیادہ کون پہچان سکتا ہے کہ یہ درندہ اب ڈرامہ کرکے دراصل کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    جس کے بعد پھر بھی برداشت اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے عطا ربانی صاحب نے سکیورٹی پر مامور پولیس انسپکٹر کو حکم دیا کہ ملزم کو آرام سے کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں۔
    لیکن جب پولیس انسپکٹر مصطفی کیانی نے ظاہر جعفر کو ہاتھ سے پکڑ کر کمرہ عدالت سے باہر لے کر جانے کی کوشش کی توآج درندے نے عدالت میں ہی اپنی درندگی دکھانی شروع کر دی۔ پولیس انسپکٹر سے جھگڑا شروع کر دیا یہاں تک کہ پولیس افسر کا گریبان بھی پکڑ لیا اور درندے کی اس حرکت کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ یہ قانونا جرم ہے کہ آپ کسی سرکاری اہلکار کو آن ڈیوٹی یونیفارم میں اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالیں اگر اس نقطے کو اٹھایا جائے تو اس پر بھی اس درندے کی سزا بنتی ہے لیکن خیر ایسی چھوٹی موٹی سزا کا کوئی فائدہ نہیں اس کی اصل سزا تو یہی ہو گی کہ پوری قوم اس کو پھانسی کے تختے پر لٹکا ہو دیکھے۔خیر پولیس سے ظاہر جعفر کی لڑائی پر عدالت میں افراتفری مچ گئی دوسرے پولیس والے اپنے ساتھی کی مدد کرنے آگئے لیکن ظاہر جعفر اتناvoilentہوا ہوا تھا کہ وہ تین چار پولیس والوں سے تو قابو ہی نہیں ہو رہا تھا اس لئے وہاں مزید نفری بلانا پڑی اور اسے نہ صرف زبردستی کمرہ عدالت سے باہر نکالنا پڑا بلکہ باہر نکل کر بھی جب وہ قابو نہیں آ رہا تھا تو پولیس والوں کو اسے دونوں ٹانگوں اور دونوں بازوں سے پکڑ کربخشی خانے لے جانا پڑا۔لیکن اب میں آپ کو اندر کی بات بتاتا ہوں کہ پاکستان پینل کورٹ سیکشن 84کے مطابق اگر کوئی شخص پاگل ہے، نشہ کرتا ہے یا اگر اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے تو وہ جو Offenseکر رہا ہے وہ Considerنہیں کیا جاتا کیونکہ وہ ہوش و حواس میں نہیں ہوتا اور اسے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اور یہ بات درندہ اور اس کی فیملی بہت اچھے سے جانتے ہیں اس لئے وہ شروع دن سے ہی عجیب و غریب حرکتیں کر رہا ہے۔ اور عدالت کے سامنے بھی ڈرامہ کرنے کا یہی مقصد ہے کہ جب اس کے وکیل اپنے دلائل دیں تو اس سے پہلے ہی سب کے مائنڈ میں ہو کہ یہ درندہ تو پہلے بھی عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہا ہے اس لئے شاید واقعی یہ ایک ذہنی مریض ہے اس طرح اس کو جیل سے رہائی بھی دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔ اور صرف درندے کی حرکتیں ہی نہیں بلکہ اس کے ملازموں نے بھی جو 161کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے ہیں ان میں بھی ایسی ہی باتیں کی گئیں ہیں کہ نور نے جب چھلانگ لگائی اور ظاہر اس کو پکڑنے اس کے پیچھے آیا تو ظاہر کی حالت ٹھیک نہیں تھی یہ بات ملازموں کے اپنے بیانات میں کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ جب درندے نے نور کو قتل کیا تو اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ اسی لئے جعفر فیملی جو اپنے بیٹے کے لئے وکیل نہیں کر رہے تھے انھوں نے اپنے ملازموں کو اتنے مہنگے مہنگے وکیل کرکے دئیے ہیں تاکہ ان کی Loyalityتبدیل نہ ہو جائے اور وہ ان کے بیٹے کے خلاف کوئی ایسا بیان نہ دے دیں جو اس کے خلاف استعمال ہو سکے۔

    اس مقدمے میں ابھی تک بارہ گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں آج کی سماعت میں تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے تھے لیکن اس تمام بد تمیزی کی وجہ سے سماعت کو مختصر کرنا پڑا صرف نقشہ نویس عامر شہزاد کا ہی بیان ریکارڈ ہوا اور اس پر جراح کی گئی لیکن یہ جراح بھی ابھی نا مکمل ہے کیونکہ ذاکر جعفر کے وکیل بشارت اللہ جو کہ رضوان عباسی کی جگہ آئے ہیں وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے اس لئے اب وہ عامر شہزاد سے اگلے سماعت پر جراح کریں گے جو کہ دس نومبر کو ہو گی۔ امید ہے کہ اگلی دو سماعتوں میں اگر کوئی بد نظمی نہ ہوئی تو تمام سرکاری گواہوں کے بیانات قلمبند ہو جائیں گے جس کے بعد دوسری پارٹی اپنے دفاع میں گواہ پیش کرے گی۔ایک اور اہم پوائنٹ اس تمام کاروائی میں یہ بھی ہے کہ عدالتی کاروائی میں دخل اندازی کا مقصد کیس کو لٹکانا بھی ہے تاکہ ٹرائل جلد پورا نہ ہو سکے۔ عام لوگ اور صحافی سب اس کیس کو فالو کرنا چھوڑ دیں اور پھر درندے کی فیملی اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے اپنے بیٹے کو ذہنی مریض ثابت کرتے ہوئے رہا کروا لیں۔ لیکن ایسا ہو گا نہیں نہ تو ہم اس کیس کو بھولیں گے نہ ہی لوگوں کو بھولنے دیں گے اور انشا اللہ اس درندے کا ایسا عبرتناک انجام ہوگا کہ اس خاندان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔

  • کرسی ایک نشہ، تحریر: نوید شیخ

    کرسی ایک نشہ، تحریر: نوید شیخ

    وزیر اعظم نے مہنگائی میں پسی عوام کو ۔۔۔ ریلیف پیکج ۔۔۔ کے جھانسا دے کر ۔۔۔ تکلیف پیکج ۔۔۔ کا اعلان کر دیا ہے ۔۔ عمران خان کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ کررہے ہیں ، کریں گے ،
    ہوجائے گا ۔ میری نظر میں ان کو تو دلاسہ بھی نہیں دینا آتا ۔۔ روتے یہ ہیں کہ میڈیا وہ مثبت رپورٹنگ کرے جو یہ چاہتے ہیں اور پی ٹی وی بن جائے ۔ خان صاحب باہر جائیں اور دیکھیں عوام بلبلا رہے ہیں ۔ عوام خودکشیوں پر مجبور ہیں ۔ عوام مر رہے ہیں ۔ عوام کو نہ علاج میسر ہے نہ دوائی ۔ عوام کے گھروں پر بھوک وافلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔۔ ریلیف کیا دینا کپتان نے عوام پر یہ کہہ کر بجلی گرا دی ہے کہ گیس کا بحران آنے والا ہے اور پیڑول تو مزید مہنگا کیا جائے گا ۔ پر ان کے وزیر ، مشیر اور سوشل میڈیا ٹیمیں کپتان کی تقریر کو یوں سرخی پاوڈر لگا کرپیش کررہی ہیں جیسے عمران خان سے بڑا مسیحا اس قوم کو کوئی شاید ملا ہی نہیں ۔ حالانکہ میں نے کل کے وی لاگ بھی کہا تھا اور آج بھی کہوں کہ عمران خان اس قوم کے لیےموت کا فرشتہ بن چکے ہیں ۔

    ۔ آج حکومت اتنا شور مچا رہی ہے کہ انٹرنیشل مارکیٹ میں پیڑول کی قیمت 84فی بیرل تک پہنچ گئی ہم کیا کریں تو جناب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں یہ ہی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے اوپر تک گئی تھی ۔ لیکن پیڑول اتنا مہنگا نہیں ہوا ۔ اب آپ کہیں گے تب ڈالر سستا تھا تو یہ بھی بتا دیں کس نے روپے کی قدر گرائی ہے ۔ امریکہ اور یورپ کی مثالیں دیتی ان کو شرم نہیں آتی کہ وہاں پر فی کس آمدنی کیا ہے یہاں کیا ہے ۔ وہاں سوشل سیکورٹی کا نظام کیسا ہے اور یہاں کا کیسا ۔ وہاں کا ہیلتھ کا نظام کیسا ہے اور یہاں کا کیسا ہے ۔ اوپر سے آپ یہ کہہ کر دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی ہے عوام برداشت کرے اور حکومت کی مجبوریوں کو سمجھے ۔ نمک پاشی کرتے ہیں ۔ ان لیکچروں سے عوام کا کچھ نہیں بننا وہ رزلٹ مانگتے ہیں ۔ عوام کے چولہے ٹھنڈے ہوچکے ہیں ۔ آنکھیں کھولیں ۔ اب تو ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے ۔ کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ۔ دنیا کے کسی وزیراعظم کی تقریر دکھا دیں ۔ جس نے اتنی ڈھٹائی کے ساتھ ٹی وی پر آکر مہنگائی کا دفاع اور مزید مہنگائی کا اعلان کیا ہو ۔ تین سال بعد بھی ان کو مزید ٹائم چاہیئے ۔ بس دکھ سہنے کے لیے عوام تیار رہیں اور ان کے وزیروں اور مشیروں کی گالم گلوچ بھی سنیں ۔ پھر بھی ان کو اچھا کہیں ۔ نصیب اس عوام کی پھوٹے ہیں ۔ جو ایسی حکومت ملی ہے ۔ پناہ گاہوں ، لنگر خانوں اور احساس پروگرام اچھی بات ہے میں اس پر تنقید نہیں کروں گا ۔ پر کیا حکومتوں کا یہ کام ہوتا ہے۔ حکومتیں تو روزگار کے مواقع مہیا کرتی ہیں ۔ ایسے اقدامات کرتی ہیں کہ لوگوں کی قوت خرید بڑھے ۔ ان کی ماہانہ آمدنی بڑھے ۔ عمران خان نے کہا ہے کہ دو بڑے خاندانوں سے درخواست ہے کہ تیس سال کا چوری کیا پیسہ واپس کریں اشیاء کی قیمتیں آدھی کر دوں گا ۔ بڑی اچھی بات ہے ۔ ہونا چاہیئے ۔ پر سوال یہ ہے کہ کپتان نے اپنے اردگرد مافیاز کا کیا ۔۔۔ کیا ۔۔۔ کون کون سا مافیا گنواوں ۔ دوائی مافیا ، آٹا مافیا ، بجلی مافیا ، چینی مافیا ۔۔۔ آج کی سن لیں چینی 130روپے کلو کراس کر چکی ہے ۔

    عمران خان کی پارٹی کے جن لوگوں کے نام پینڈورا پیپرز میں آئے ان کے خلاف انھوں نے کیا کاروائی کی ۔ دوسروں کا بھی احتساب کریں مگر اپنے اردگرد بھی نظر دوڑائیں ۔۔ پھر لوٹی دولت تو کپتان نے پیٹ کاٹ کر نکالنی تھی ۔ پر برادشیٹ ہو ۔ شہباز شریف کو باہر سے صادق وامین ہونے کے سرٹیفیکٹ ملنا ہو ۔ اس حکومت کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ ۔ اچھا ہوتا یہ بات کرنے سے پہلے یہ بتاتے کہ کتنی لوٹی رقم یہ باہر سے پاکستان واپس لائے ہیں ۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ ہم پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ویلفیئر پروگرام عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔ اس کام کے لیے سب سے زیادہ مبارکباد احساس پروگرام کی ٹیم کو دینا چاہتا ہوں جنہوں نے تین سال میں ڈیٹا اکٹھا کیا ۔۔ یہ خوش فمہی بجی سمجھ سے باہر ہے کہ یہ خود اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہتے ہیں خود ہی اپنی اور اپنی ٹیم کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ابھی عمران خان نے صرف 120 ارب روپے کا پیکج دیا۔ باقی سب وعدہ کیا ہے کہ دیں گے اور دو دن سے اس کا اتنا شور مچایا جا رہا تھا کہ پتہ حکومت کون سا تیر مارنے والی ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ یہ تین کروڑ خاندانوں کے لیے ہے ۔ ۔ دوسری جانب اس حکومت کے وزیر ، مشیر، ایم این ایز ، ایم پی اپیز ۔۔۔ وفاق ، پنجاب اور کے پی کے تینوں کے ملالیں تو سالانہ ان کے خرچے 120ارب سے زائد ہی ہوں گے ۔ یہ 120ارب کا پیکج دے کر عمران خان نے وہ کام کیا ہے جس کو
    حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا کہتے ہیں ۔ دراصل عمران خان مہنگائی ریلیف پیکج عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک اور شرمناک کوشش ہے ۔ حقیقت میں پی ٹی آئی نے اقتدار میں آکر مہنگائی کی سونامی لانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔ آپ دیکھیں وزیر اعظم عمران خان نے تاریخ کے سب سے بڑے پیکج میں صنعتکاروں سے اپیل کردی کہ اپنے منافع میں مزدوروں کو حصہ بنائیں ۔ یعنی حکومت نے سیدھا سا جواب دے دیا ہے کہ عوام حکومت سے نہیں سیٹھوں سے ریلیف مانگے ۔

    ۔ عمران خان فرما رہے تھے کہ جب ہمیں پاکستان ملا تب پاکستان کا خسارہ سب سے زیادہ تھا، قرضے بھی سب سے زیادہ تھے اور سود بھی ان قرضوں پر سب سے زیادہ دینا پڑا۔ تو جناب جب مشرف نے ملک سنبھالا تھا تو تب بھی حالات ٹھیک نہیں تھے ۔ پر انھوں نے کرکے دیکھایا ۔ اور یہ اتنا ہی بڑا ایشو تھا تو پہلے اپنی تقریروں میں قوم کو بتانا تھا کہ کس حالت میں پاکستان ملے گا تو یہ قوم کی تقدیر بدل سکیں گے ۔ سب کچھ پچھلی حکومتوں پر ڈالنا بڑا آسان ہے ۔ عمران خان کو ان تین سالوں کا حساب دینا چاہیئے کہ انھوں نے ان تین سالوں میں کیا ۔۔۔ کیا ہے ۔ مجھے تو نہیں دیکھائی دیتا کہ ایک دن بھی ان تین سالوں میں عوام نے سکھ کا سانس لیا ہو۔ پھر آج یہ بھی کہا کہ دوست ملک کی سپورٹ پر ان کے شکر گزار ہیں کیونکہ ان کی مدد سے روپیہ کو سنبھالنے میں مدد ملا۔ سعودی عرب، یو اے ای اور چین نے مشکل وقت میں مدد کی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ نواز شریف اور زردای دور کے ان بیانات اُٹھا کر دیکھ لیں اس وقت یہ کیا کہا کرتے تھے ۔ کہ مر جاوں گا قرضہ نہیں لوں گا کشکول نہیں اٹھاوں گا ۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا اب تو آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننے کو یہ حکومت تیار ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ جیسے یہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے لیٹی ہوئی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔

    ۔ حقیقت میں چیزیں ان سے مینج نہیں ہورہی ہیں ۔ نہ ان کو گورننس کا پتہ ہے ۔ نہ معیشت کا ۔ نہ سیکورٹی کا ۔ بس جو زور چلتا ہے وہ میڈیا پر ۔۔۔ کہ اس کو تن کر رکھو ۔ یہ سچ نہ دیکھا پائے ۔ یہ سچ نہ بتا پائے ۔ ان کو لگتا ہے کہ میڈیا پر سب اچھا اچھا دیکھا کر عوامی غم وغصہ کو دبا لیں گے ۔ بھول ہے انکی ۔۔۔ پھر بلاول بھٹو نے عمران خان کے خطاب پر درعمل دیتے ہوئے چوٹ لگائی ہے کہ کراچی پیکج، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کی طرح عمران خان نے آج بھی جو اعلانات کیے وہ عوام کے لیے لالی پاپ ہے ۔ میرے خیال سے وقت گزر چکا ہے ۔ اب لارے لپے نہیں چلنے۔ حکومت اب مزید کرونا ، عالمی کساد بازاری کے پیچھے نہیں چھپ سکتی ۔ مہنگائی سے پسے ہوئے عوام بھپرے ہوئے ہیں ۔ عمران خان کو چاہیے کہ اپنے وزراء کو کہیں کہ حلقوں میں جا کر عوام کا سامنا کریں ۔ پر کڑوا سچ یہ ہے کہ یہ کرسی ایک نشہ ہے جس کے پیچھے انسان ذلیل ہونا بھی برداشت کر لیتا ہے مگر کرسی نہیں چھوڑ سکتا ۔

  • تعلیمی نظام‏ اور ہم: تحرير فیصل رفیع 

    تعلیمی نظام‏ اور ہم: تحرير فیصل رفیع 

    جیسی خطرناک بیماری نے دنیا بھر میں تعلیمی نظام کو بہت حد تک متاثر کیا ہے اگر دیکھا جائے تو دنیا کے تمام شعبہ جات کو اس وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اس موزی بیماری کی روک تھام کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں  تاکہ طلبہ کی تعلیم پر کوئی حرج نہ آئے۔

    اگر کرونا وائرس سے پہلے تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تب ہم اپنے لئے تعلیم صرف کتابوں کی حد تک محدود رکھتے تھے۔ ہم روزانہ اپنی یونیورسٹی کالج یا سکول جاتے تھے اور ہمیں جو کتابوں سے رٹا رٹایا سلیبس دیا جاتا تھا ہم وہ یاد کرتے تھے اور اسی کو سمجھتے تھے کہ یہی آئندہ پیپرز  میں بھی آۓ گا۔ اسی امید کے ساتھ ہم لوگ کسی چیز کو انٹرنیٹ کے ذریعے دریافت کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ ہمیں پڑھنے کے لئے تمام مواد کتابوں سے بھی دیا جاتا تھا۔

    بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام اس طرح کا ہے کہ کتابوں کا رزلٹ آتا ہے اکثر طلبہ اگر رٹا رٹایا سلیبس نہ لکھیں تو ان کو کم نمبر دیے جاتے ہیں۔

    اگر ہم بات کریں کہ اس کو ‏covid-19 کی وجہ سے ہماری کلاسیں آن لائن پڑھائی جا رہی ہیں تو کیا ہم اس کو مثبت انداز میں استعمال کر رہے ہیں؟

    میرے مشاہدے کے مطابق میرے دوست، احباب میں جو کسی نہ کسی تعلیمی ادارے کا حصہ ہیں انہوں نے اپنے پورے سمسٹر میں اپنی پڑھائی کا آغاز پیپر سے دو دن پہلے شروع کیا کیونکہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ ہمارے پیپر کا دورانیہ8 گھنٹے ہو گا اور اتنے زیادہ وقت میں ایک بہترین قسم کا پرچہ لکھا جا سکتا ہے اگر ہم انٹرنیٹ اور کتابوں کا اچھے سے استعمال کریں۔

    بہت سے طلبہ ایسے ہیں جو کہ گروپ کی شکل میں اپنے تمام تمام پیپرز حل کرتے ہیں اور جو آپس میں میل جول نہیں کر سکتے وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے آسانی سے اپنے پرچے باہمی مشاورت کے ساتھ حل کر لیتے ہیں۔

    بظاہر اس تمام صورتحال میں اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے  ہیں کیونکہ کہ اس ٹیکنالوجی کا اور اس صورتحال کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

    جہاں پر اتنی زیادہ تنقید کی گئی ہے وہاں پر ہمیں مثبت پہلوؤں کو بھی سامنے لانا ہوگا کمالیہ میں ایک انٹر کی طالبات جو کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتی ہے اس نے تعلیمی میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے ہے طالبہ نے 1100/1100 نمبر حاصل کر کے آج تک کے تمام تعلیمی ریکارڈ توڑ دیے ہیں. پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں 

     ہے یہ ہم سب اچھے سے جانتے ہیں لیکن ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ہر چیز کا مثبت استعمال کریں۔

    جب ہمارے ہاتھوں میں ڈگری موجود ہوں گی لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوگا تو وہ نہ صرف ہمارے شرمندگی کا باعث ہوگا بلکہ ہمارے والدین کے لیے بھی ہو گا جنہوں نے ہمیں اتنی محنت کے ساتھ اتنی بھاری فیسیں جمع کروا کر ہماری پڑھائی کو مکمل کیا۔

    جب آئندہ مستقبل میں ہم سے ایسے سوال پوچھا جائے گا تو ہم اس کا جواب دینے کے لائق نہیں ہوں گے۔

    اگر ہم ہم تاریخ کو پڑھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تلوار سے زیادہ طاقت قلم میں ہے لیکن اگر ہمارے آج کے نوجوان میں علم کو حاصل ہی نہیں کیا تو ہم کیسے ایک روشن مستقبل کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔

    تاریخ اسلام میں علم کے حوالے سے اگر کسی کو فوقیت حاصل ہے تو وہ صرف اور صرف ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کی ذات کو مکمل ضابطہ حیات بنا کر بھیجا گیا ہے۔

    ہماری اسلامی تاریخ کو دیکھا جائے تو حضرت علی کرم اللہ کی ذات علم کے حوالے سے بہترین نمونہ ثابت ہوتی ہے بے شک انہوں نے اپنے تمام دشمنوں کو اپنے علم سے اور تلوار سے شکست دی۔ جب مشرکین مختلف سوالات اسلام کو بنیاد بنا کر لے آتے تھے تب حضرت علی علیہ السلام ان کو اپنے علم سے حیران کردیتے تھے اور اسی علم کی بدولت بہت سے کافر مسلمان ہونے پر مجبور ہو گئے۔

    زیادہ دور نہیں ہم صرف اپنے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال جنھیں شاعر مشرق کا خطاب دیا گیا ان کی زندگی کے پہلو کو دیکھیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف  علم ہی وہ واحد چیز ہے جنہوں نے اایک نئے ملک کا کام شرمندہ تعبیر کیا اگر یہ لوگ اپنے علم اور جدوجہد سے ہم لوگوں کو قائل نہیں کرتے تو ہم کبھی بھی اس آزاد ملک میں سانس نہیں لے پا رہے ہوتے۔

    یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہماری تعلیمی معیار اور سوچ کو بدلنا ہوگا ہمیں صرف رٹا رٹایا اور یاد کرنے کی بجائے ان کی چیزوں کی گہرائی پر توجہ دینی ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اس کو کیوں پڑھ رہے ہیں؟ اس کا کیا مقصد ہے؟ اس سے ہماری ذات کو کیا کیا فرق پڑ سکتا ہے؟

    جب تک ہم ان تمام سوالات کو اپنے دماغ میں نہیں لائیں گے ہماری پڑھائی بے مقصد ہو گی۔

    تعلیمی نظام کیسا بھی ہو، بے شک ہم جا کر پڑھائی کریں یا پھر آن لائن تعلیم حاصل کریں جب تک ہم تعلیم کے اصل مقصد کو نہیں سمجھیں گے ہم ترقی حاصل نہیں کر پائیں گے۔