Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی

    قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی

    حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ اے امام علی

    قبر میں انسان کی پہلی رات کیسے گزرتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ  انسان کی سب سے مشکل رات قبر کی پہلی رات ہوتی ہے ۔

    جب دوسرے انسان اس کے دوست عزیزواقارب رشتے دار اسے دفنا کے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو وہ انسان روتا رہتا ہے ہر ایک دوست کے پاس آتا ہے اور اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے کہ مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ لیکن افسوس اس کی آواز کوئی نہیں سنتا ۔

    حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں اپنی موت کو یاد کیا کرو ۔

    قبر ہر دن اپنے مُردوں سے اعلان کرتی ہے کہ میں غربت اور تنہائی کا گھر ہوں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں مٹی کا ڈھیر ہوں۔ 

    جب مؤمن کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا کہ کر خوشخبری دیتی ہے کہ میری پشت پر چلنے والوں میں سے تو بڑا محبوب تھا آج میں تیری ہو گئی اور تو میرے پاس آ گیا آج میرا احسان دیکھ ۔

    یہ کہہ کر قبر کشادہ ہو جاتی ہے اور جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے اس کو تازی ہوا آتی ہے 

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ ایک قبر پر بیٹھ گئے اور فرمایا :

    کہ یہ قبر ہر روز با آواز بلند کہتی ہے کہ آدم کی اولاد تو کیوں مجھے بھول گیا، کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ میں تنہائی کا گھر غربت کا گھر وحشت کا گھر اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ۔

    مگر اللہ جس کے لئے کشادگی کا حکم فرمائے گا اس کے لیے کشادہ ہو جاؤں گی ۔

    اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قبر تو یا تو جنت کا چمن ہے یا تو پھر آگ کا ایک تندور ہے ۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے اے ابن آدم تو ہلاک ہو تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا۔

     کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں تجھے کس چیز نے مجھ سے بہکا کر نڈر کر دیا اور تو میری پشت پر بہت اکڑ کر چلتا تھا ۔

    اگر وہ مردہ نیک ہوگا تو جواب دینے والے اسے جواب دیں گے ،کہ اے قبر تو دیکھ تو سہی اس کے اعمال کیسے ہیں یہ اچھائی اختیار کرتا تھا اور برائی سے دور رہتا تھا یہ سن کر قبر کہتی ہے بے شک یہ نیک تھا اب میں اس کے لئے سرسبز ہو جاتی ہوں۔

      مُردے کا جسم اس وقت منور ہو جاتا ہے اور اس کی روح اللہ تعالی کی طرف بھیج دی جاتی ہے ۔

    حضرت عبداللہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    کے مردہ قبر میں پیشتا ہے اور ان لوگوں کے گھروں کی آواز بھی سنتا ہے جو اس کے ساتھ جنازے میں گئے ہوں مردے سے اس کی قبر کہتی ہے کہ ابن آدم تیری ہلاکت ہو ۔

    تو نے میری تنگی بدبو اور کیڑے مکوڑوں کا خوف نہیں کیا اس لئے تو نے ان چیزوں سے بچنے کے لیے تیاری نہ کی بد اعمال مردے سے قبر کہتی ہے ،

    کہ تو نے میری تاریکی، میری وحشت، میری تنہائی اور تنگی، میرا غم تجھے یاد نہیں رہا۔

     اس کے بعد قبر اس کو جکڑ لیتی ہے  اور  فرشتے اسکو  ہتھوڑوں سے ایسے مارتے ہیں کے اس کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر ہوجاتی ہیں   پھر دوزخ کی کھڑکی اس پر کھول دی جاتی ہے اور وہ مردہ حشر تک اس عذاب میں مبتلا رہتا ہے ۔

    مرنے کے بعد ہر مردے کو صبح اور شام  اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے ، فرشتے جنتی کو جنت دکھا کر خوشخبری دیتے ہیں، اور دوزخی کو دوزخ دکھا کر اس کی حسرت اڑاتے ہیں ۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو  مسلمان اس دنیا سے جا چکے ہیں ان کی بخشش فرمائے آمین ۔

  • 6نومبر 1947: مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کا قتل عام!   تحریر: محمد اختر

    6نومبر 1947: مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کا قتل عام! تحریر: محمد اختر

    قارئینِ کرام!6  نومبر 1947 مقبوضہ جموں و کشمیرکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ یوں کہا جائے کہ یہ دن دورِ  جدید کی تاریخ میں مسلم نسل کشی کا بھی ایک سیاہ باب ہے تو قطعَ غلط نا ہوگا، اِس دن دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کو اُس وقت شہید کیا گیا جب وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔اس کے علاوہ ریاست جموں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے 6 نومبر 1947 کا دن ایک علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ان شہداء کی یاد میں آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ان قربانیوں نے پوری دنیا کو بتایا کہ بھارت کے غیر قانونی قبضے اور مقبوضہ جموں و کشمیرکے لوگوں پر ظلم و جبر کے باوجودکشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور یہ قربانیاں اس امر کو بھی اجاگر کرتی ہیں کہ کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔قارئین، اگر تاریخ کے سیاہ اوراق کو پرکھا اور سمجھا جائے تو یہ بات باآسانی آیاں ہوتی ہے کہ مسلم نسل کشی کی منصوبہ بندیقیامِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ پہلے ہی دن شروع کر دی گئی تھی۔ چونکہ، 19 جولائی کو مسلم کانفرنس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔ جس کے دردِ عمل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے جشن منایااور بے حد خوشی کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں، کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ اس ہی جذبہ اور محبت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندو اور ڈوگرہ حکومت ہل گئی اور انہوں نے مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ اس ضمن میں ادھم پور، ریاسی، کھٹیا، رامسو، رام نگر، یانی ہور کوٹلی، قصبوں میں مسلمانوں کا خون بہایا۔ انتہا پسند ہندوؤں اور سکھوں نے ہزاروں دیہاتیوں کو دھوکے سے گھروں سے باہر نکال کر گولیاں برسانا شروع کر دی۔قارئین کرام! یہاں یہ بات واضح رہے کہ راشٹریہ سویم سیاک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکنوں نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی اور اس کو انجام دینے میں اہم کردار ادا کیا جو سلسہ تاحال ایک منظم سازش کے تحت جاری ہے۔اس کے علاوہ اسی دوران  ہزاروں معصوم بچیوں اور خواتین کو اغوا کیا گیا۔ حیران کن پہلو یہ ہے کہ قتل عام اتنا منظم تھا کہ جب نومبر کے ابتدائی دنوں میں جموں میں یہ قتل عام ہوا تو سری نگر میں کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔ دراصل یہ سب کانگریس حکومت کے کہنے پر ہوا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 74 سالوں سے ہندوتوا نظریے کے تحت کشمیریوں کو ایک جامع حکمت عملی کے ذریعے نسل کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ واضح رہے، آج بھی بھارتی قابض افواج نت نئے طریقہ کاراپنائے ہوے،  آبادیاتی تبدیلی، جبری گمشدگیاں، حراستی قتل و دیگر حربوں کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک ِ آزادی کو کچلنے کی کوشش پر عمل پیرا ہے۔ قارئین کرام، یاد رکھیں! مسئلہ کشمیر کا حل اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کے دو اہم فریق پاکستان، بھارت مل کر باوقار حل تلاش کریں۔ اس ضمن میں ریاستِ پاکستان بارہا اقوامِ عالم کو واضح کر چُکا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں  کے مطابق حل طلب چاہتا ہے جبکہ اس کے بر عکس بھارت مسئلہ کشمیر کو دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔خیال رہے،بھارت کے پہلے وزیراعظم نے عالمی برادری اور خود کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے گا۔ لیکن، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا موقف بدلتا گیا اور وعدہ اب تک پورا نہہو سکا۔ اقوامِ عالم کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہے جب دو جوہری مسلح ممالک کے درمیان یہ دیرینہ تنازعہ حل ہو جائے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں عالمی برادری کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کا ذمہ دار صرف اور صرف بھارت ہے، جوغیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر قابض ہے اور رائے شماری کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھاگ رہا ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ وادی پر بھارت کے جارحانہ قبضے اور اس کے جارحانہ رویے کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی ہندوتوا فاشست سرکا ر نے بھی معاملات کو اس سمت میں لے جانے کے انتظامات کر لیے ہیں اور آئے روز بھارتی افواج کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے جیسا کہ گزشتہ کل مزید پانچ ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اگرچہ، مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اگر یہ مسئلہ جوہری طاقت کے استعمال کی طرف جاتا ہے تو اِس کے عالمی امن پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچنے کی کوشش کرے۔

  • مودی سرکار نے ہالی ووڈ پر راج کرنیوالے خانز کو نشانہ بنا لیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    مودی سرکار نے ہالی ووڈ پر راج کرنیوالے خانز کو نشانہ بنا لیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    اپنے کالے کرتوت اور ناکامیاں چھپانے کے لیے مودی سرکار ہمیشہ سے مسلمانوں کو نشانے پر رکھتی آئی ہے۔ اور اس بار بی جے پی کے نشانے پر بالی ووڈ پر راج کرنے والے خانز اور ان کی فیملیز ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا جب آریان خان کا کیس شروع ہوا تھا تو میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے یہ کیس صرف مودی سرکار کی مسلمانوں کے خلاف جو نفرت ہے اس کی تسکین کے لئے بنایا گیا ہے اوریاد کریں میں نے آپ کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ شاہ رخ خان کے بعد اب باقی خانز اور ان کے بچوں کی بھی باری آنے والی ہے۔ اور صرف پاکستان میں ہی یہ ڈسکس نہیں ہو رہا تھا بلکہ خود انڈینز بھی یہی کہہ رہے تھےجس کی ایک مثال بھارتی اداکار اور فلمی ناقد کمال راشد خان یعنی کے آر کے کی ٹوئیٹس بھی ہیں جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اپنا اگلا شکار بالی وڈ کے دو مزید خانز کو بنانے والی ہے۔ ان کی اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کے مزید 2 خان بی جے پی کی ہٹ لسٹ میں ہیں۔ اور وہ ستارے بی جے پی کا اگلا ہدف ہوسکتے ہیں جن پر پہلے ہی کچھ کیسز ہیں۔

    کمال راشد خان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ آریان خان کی گرفتاری کے بعد شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات کے بچے ملک چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے بچوں کا ماننا ہے کہ اگر آریان خان کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اور اب یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اس بار ٹرول ہونے والی اور کوئی نہیں سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان ہیں۔ اور ان کو ایک بالکل نئے طریقے سے سازش کرکے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ کیا سازش ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو بتاوں گا ۔آپ کو معلوم ہی ہے کہ 90 کی دہائی سے اب تک بالی وڈ انڈسٹری پر خانز ہی راج کرتے آئے ہیں۔ کئی دوسرے فنکار بھی آئے اور گئے لیکن کوئی بھی وہ جگہ نہیں بنا سکا جو مقام خانز کو حاصل رہا ہے۔ اور خانز کی وجہ سے بالی وڈ کی فلمیں انڈیا سے نکل کر ساری دنیا میں پروموٹ ہونا شروع ہوئیں۔ جس کی وجہ سے بالی وڈ کا بزنس اتنا بڑھ گیا کہ پوری دنیا کو چکرا کر رکھ دیا۔لیکن انڈیا کو اتنی شہرت اور پیسہ کما کر دینے کے باوجود بھی مودی جیسے جنونی انسان کی نظر میں یہ خانز اپنی اہمیت نہ بنا سکے۔ ماضی میں جیسے سلمان خان پر کیسز بنتے رہے اس کو جیل کی سختیاں بھی برداشت کرنا پڑیں اور ابھی بھی کوئی نہ کوئی کیس اس پر چل ہی رہا ہے اس کی جان نہیں چھوڑی جا رہی کسی نہ کسی بات پر اس کے خلاف کوئی نہ کوئی Contrversyچلتی ہی رہتی ہے۔پھر عامرخان کو ہم نے دیکھا کہ جب ان کی فلمیں چین اور ترکی میں سپر ہٹ جا رہی تھیں تو انڈیا میں ان پر الزامات لگائے جا رہے تھے کہ یہ انڈیا کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اسی وجہ سے دشمن ممالک میں ان کی فلمیں اتنی زیادہ ہٹ ہو رہی ہیں۔ عامر خان کی شہرت ان کو بری لگ رہی تھی لیکن وہ پیسہ جو ان کی وجہ سے انڈیا آ رہا تھا وہ برا نہیں لگ رہا تھا اور یہ نفرت اس حد بڑھ گئی تھی کہ ان کی بیوی نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے انھیں اپنے بچوں کی حفاظت کا خدشہ ہے۔

    اور شاہ رخ خان جو کبھی کسی سکینڈل میں نہیں رہے کبھی کسی Controversyکا حصہ نہیں بنے ان کا کیرئیر ہمیشہ سے ہی بہت صاف ستھرا رہا ہے۔ لیکن جب مودی سرکaر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو انھوں نے ان کے بیٹے پر حملہ کر دیا اور جب وہ اس کے خلاف بھی منشیات کا کوئی ثبوت لانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو اب این آئی اے کو ٹاسک دے دیا کہ کسی طرح آریان اور شاہ رخ دونوں کو کسی نئے شکنجے میں پھنسایا جائے شاہ رخ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اور یہ معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا کہ سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کو انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر ہی بری طرح سے ٹرول کیا جا رہا ہے۔ویسے تو شاہ رخ کی طرح سیف علی خان کا بھی کیرئیر بھی ہمیشہ Controversiesسے دور ہی رہا ہے۔ لیکن کیونکہ اب ان دونوں خانز کے بچے بڑے ہو چکے ہیں تو دراصل بالی وڈ میں ہندوتوا سوچ رکھنے والے لوگوں کو یہ ڈر پڑ گیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ان خانز کے بعد ان کے بچے بالی وڈ پر اپنا راج قائم کر لیں اور پچھلے کئی سالوں سے انڈیا میں کیونکہ حکومت بھی بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت کی ہے تو ان خانز کو دبانے اور ان کو پریشان کرنے کے لئے اس سے زیادہ سنہری موقع اور کون سا ہو سکتا تھا۔اس لئے اب خانز کے بچوں کے خلاف سازشیں ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ چند ہفتے پہلے سارہ علی خان کو اس لئے ٹرول کیا جاتا رہا کہ اس نے امیت شاہ کو سالگرہ کی کبارکباد دی تھی اس نے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ سے ٹوئیٹ کی تھی کہ Warmest birthday wishes and regards to the Hon’ble Union Home Minister Amit Shah ji۔۔جسے یہ رنگ دیا گیا کہ شاید اس نے این سی بی سے خود کو بچانے کے لئے اور امیت شاہ کی خوشامد کرنے کے لئے یہ ٹوئیٹ کی ہے۔ کیونکہ سوشانت سنگھ کی موت کے بعد سے ہی پورا بالی وڈ این سی بی کے ریڈار پر آیا ہوا ہے۔ان بالی وڈ سٹارز اور ان کی فیملیز کی کیونکہ آپس میں دوستیاں ہوتی ہیں تو مختلف کیسز میں این سی بی کا جب دل چاہتا ہے کسی نہ کسی سٹار کو اور اس کے دوستوں کو پکڑ کر انویسٹی گیشن میں شامل کر لیتی ہے اور جو ان کو مال کھلا دے تو اس کی جان چھٹ جاتی ہے ورنہ وہ این سی بی کے چکر ہی لگاتا رہتا ہے لیکن مسلمان سٹارز کے لئے تو مشکل یہ ہے کہ ان سے بھتہ بھی بہت زیادہ مانگا جاتا ہے اور بی جے پی کی نظر میں نمبر بنانے کے لئے ان کو لمبے عرصے تک ذلیل بھی کیا جاتا ہے۔

    خیر ابھی سارہ علی خان کی وہ ٹوئیٹ لوگوں کو بھولی بھی نہیں تھی اب اس نے جھانوی کپور جو کہ ماضی کی معروف اداکارہ سری دیوی کی بیٹی ہیں اس کے ساتھ کیدرناتھ مندر جانے کی خبر اور مندر میں بنائی گئیں مختلف تصویریں اپنے انسٹاگرام پر شئیر کیں تو سارہ علی خان پر پھر مختلف طرح کے طنز اور تانے شروع ہو گئے کہ کیا تم مسلمان ہو۔۔۔مسلمان ہوکر ایسا کام کرنے پر شرم آنی چاہیے استغفراللہ۔۔ڈرو خدا کو خوف کرو۔۔۔اور اس کو مندر جانے پر خوب ٹرول کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے جو سازش ہو رہی ہے اب میں آپ کو وہ سمجھاتا ہوں اور سازش یہ ہے کہ سارہ علی خان پر زیادہ تر ان سوشل میڈیا اکاونٹس سے حملہ کیا جا رہا ہے جو کہ مسلمانوں کے نام سے بنائے گئے ہیں اور سارہ کے مذہب کو ہی اس میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ میں آپ کوبتاوں کہ یہ سارے اکاونٹس بی جے پی اور آر ایس ایس کے اپنے سوشل میڈیا ونگز سے چلائے جا رہے ہیں۔اور اس کے پیچھے اصل مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ کیونکہ آریان کے کیس میں سب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ شاہ رخ خان کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ سب برداشت کرنا پڑا ہے خود بالی وڈ کے ہندو لوگ اپنی ٹوئیٹس میں یہ بات کہہ چکی ہیں تو مودی سرکار کو محسوس ہوا کہ ان کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اس لئے اب مسلمانوں کے نام سے بنائے گئے اکاونٹس سے اس طرح کے گندے ریمارکس دئیے جا رہے ہیں تاکہ پوری دنیا کے سامنے یہ دکھایا جائے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی بلکہ یہاں پر تو مسلمان خود بہت زیادہ مشتعل اور انتہا پسند ہیں اور وہ اپنے ساتھی مسلمانوں پر ہندووں کے ساتھ دوستی کی وجہ سے خود تنقید کرتے ہیں۔اس طرح یہ مسلمانوں کو بھی بدنام کرنے کے اپنے پراپیگنڈے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی خانز کے بچوں کو ڈرانے اور دھمکانے میں بھی تاکہ وہ یہ سب حالات دیکھ کر انڈیا چھوڑ کر باہر چلے جائیں اور ان کے بالی وڈ میں سٹار بن کر آنے کے چانسز بھی ختم ہو جائیں

  • خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،تحریر: م ۔م ۔مغلؔ

    خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،تحریر: م ۔م ۔مغلؔ

    خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،
    جناب عمران احمد خان نیازی

    اگر آپ قدیم دور کے بادشاہ ہوتے یا پھر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تو میں جان کی امان چاہ کر کچھ عرض کرتا… مگر مجھے امید ہے ساری زندگی تنقید کی تحریک چلانے والا اپنے ہی عوام کی بے لاگ باتیں ضرور سنے گا… اعلامیے اور بیانیے کے مطابق آپ ہمارے ووٹوں سے ہمارے لیے اقتدار میں آئے تھے… آپ اپنی شاہانہ و خانگی زندگی تج کر قریباً دو دہائیاں عوام الناس کے لیے متحرک رہے… ہر طرح کے مسائد و نامسائد حالات سے گزر کر آپ نے بمشکل تمام یہ منصبِ اعلیٰ پایا ہے… اس پچیس سالہ سفر میں آپ اکیلے نکلے ضرور تھے مگر اکیلے رہے نہیں… تب آپ کا حوالہ چراغ تھا… روشنی کی طلب میں لوگ جوق در جوق آپ کے ساتھ آتے گئے… خالص نظریات کی بنیاد پر لوگ آپ پر اعتبار کرنے لگے کہ سیاسی سماجی معاشی نا انصافی کے جوہڑ میں تیس تیس سال سے اقتدار سے چمٹی ہوئی جونکیں ملک و ملت کا خون چوس رہیں ہیں ان جونکوں سے نجات آپ دلا سکتے ہیں…

    پستی میں گھرے ہوئے عوام نے آپ کو ہر طرح سے طاقت بخشی وہ شوکت خانم ہسپتال کا معاملہ ہو یا سیاسی تحرک کا… آپ نے اسلامی شعائر اور معائیر کو اپنی گفتگو کی زینت بنانا شروع کیا تو سیاست سے غیر متعلق قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ کی گردان کرنے والے بھی آپ کی جانب لپکے آپ کو طاقت فراہم کی… پھر آپ کے بیانیے کو فروغ اور ابلاغی سطح پر رائج کرنے کے لیے ہزاروں کارکنوں اور لاکھوں رضاکاروں نے اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا وقت اور سکون خرچ کرکے محاذ مکمل گرم رکھا…

    جلسے ہوں یا دھرنے یہ سب آپ کے لیے لڑ بھڑ جاتے تھے… اس لیے کہ یہ سب عامۃ الناس گزشتہ ادوار کے رہبر و رہزن کے ستائے ہوئے تھے… عوام اس غلیظ مسلط شدہ سیاسی نظام اور مقتدر پارٹیوں سے نجات چاہتے تھے… آپ نے اسے سونامی کا نام دیا کہ سب خس و خاشاک کی طرح اڑا کر رکھ دیں گے… پھر تبدیلی کا خواب دکھایا کہ تعبیر امید کی سحر کی طرح روشن ہے… بعد ازاں آپ نے سات ملکوں کی معاشی و سماجی معیارات پر عوام کو ترغیب دلائی… بالآخر یہ تحریک ‘ ریاستِ مدینہ ‘ کے نعرے پر منتج ہوئی اور آپ اقتدار کے تخت پر براجمان ہوئے… عامۃ الناس نے دن گننے شروع کر دیے کہ اب ان کے حق میں فیصلے ہوں گے اب ان کی زندگیوں میں بہتری آنا شروع ہوگی… ہوا وہی کہ بیٹی بیاہنے کے بعد بسانی بھی پڑتی ہے… اب آپ کے اقتدار کا چوتھا سال جاری ہے…

    جناب وزیرِ اعظم…
    آپ کی محنتِ شاقہ ہو یا آپ کی طلسماتی شخصیت اس کا احاطہ کرنا محض ایک خط میں ناممکن ہے… کتاب ہی درکار ہوگی اس عرصہ کے خد و خال اور اتار چڑھاؤ بیان کرنے میں… قصہ مختصر یہ کہ اقتدار کے حصول کے بعد آپ انہی عوام سے الگ ایک محدود گنبدِ بے در میں مقید ہوگئے… جہاں آپ کے ساتھ کھڑے رہنے والے عوام کی آہیں سسکیاں آوازیں نہیں پہنچ سکتی ہیں… آپ کو منظر دکھانے والی آنکھیں اور پکار سنانے والے کان بھی عامۃ الناس سے نہیں بلکہ مخصوص اشرافیائی اور اشرافیائی سوچ کے پروردہ ہیں… ریاستِ مدینہ کی بنیاد جن خطوط پر استوار ہے ان میں لنگر خانے نہیں ہیں بلکہ مواخات مساوات عدل اور انصاف ہے… لنگر خانے خانقاہی سلسلہ ہے جو مقتدر حلقے نہیں تھے بلکہ عام لوگوں میں رہتے تھے… مدینہ کی ریاست کا کام ایسا مربوط مضبوط انتظامی ڈھانچہ ہے کہ جس میں لنگر خانے کی نوبت ہی نہ آئے…

    آپ نے کہا فرات کے کنارے کتا بھی مرجاتا تو حاکمِ وقت جواب دہ ہوتا تھا… سیدنا عمرؓ یعنی وقت کے خلیفہ سے کُرتے کی بابت سوال ہوتا تھا… آپ یہ سب باتیں عوام کے دماغوں میں راسخ کرنے کے بعد تخت پر تشریف فرما ہوئے تھے… مگر معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ آپ کے گرد افسر و نوکر شاہی ہو یا بہی خواہی کا مسلط طبقہ انہوں نے عام آدمی سے سوال کا حق بھی چھین لیا ہے… آپ عالمی مُحلوں کے جھگڑے نمٹانے میں اپنی شناخت تو بناتے چلے گئے مگر اپنے ہی ملک کے باسیوں کے مسائل کی طرف سے آپ کی توجہ معدوم ہوتی چلی گئی… اقتدار کے حصول کے بعد اپنی حکومت کی ہر کوتاہی کمزوری اور خرابی کو گزشتہ حکومتوں کے سر منڈھ کر چار سال آپ کی حکومت کو بھی ہونے کو ہیں… کبھی اٹھارہویں ترمیم کی یاجوج ماجوج کی فصیل کے پیچھے چھپنا تو کبھی دو تہائی اکثریت نہ ہونے کا رونا رونا… کبھی بیوروکریسی کی اکڑیں تو کبھی میڈیا کے جھوٹ کا واویلا… کبھی کچھ تو کبھی کچھ…

    کورونا کی تو خیر دوسری سالگرہ ہے اقتدار سوا سال مزید پہلے کا ہے… حالانکہ سارے دعوے دلیلیں پوری تحریک اور الیکشن کمپین میں مشروط نہیں تھے کہ اٹھارہویں ترمیم ہوئی تو یہ وعدے کارآمد نہ ہوں گے… دو تہائی اکثریت نہ ہوئی تو قانون سازی نہ کروں گا… فلاں قانون اور فلاں عالمی تناظر اور فلاں معائدے… عنانِ حکومت سنبھالنے کے بعد آپ کے تقرر کردہ تمام ترجمان آپ کے تئیس سالہ بیانیے کو غلط ثابت کرنے پر مصر ہیں… ہر بار نئے بے تکے دلائل اور اس اگلی بار مزید نئے… یوں اعتبار کے دھاگے کچے ہوتے جارہے ہیں… سارا ملبہ مافیا مافیا کہہ کر پچھلوں پر ڈال دینا آسان راستہ ہے… مہنگائی عالمی مسئلہ ہے مانتے ہیں ہم… مگر بد انتظامی نا اہلی تو داخلی معاملہ ہے اور اس میں آپ اور آپ کے متعین کردہ وزیر مشیر مکمل ناکام ہیں… عالمی تغیرات و تبدل سے مہنگائی اگر سات فیصد بڑھی ہے تو بد انتظامی بلکہ بے انتظامی کی وجہ سے ایک سو سات فیصد بڑھی ہے… آپ کے پونے دو کروڑ ووٹرز اب روبوٹ بننے سے تو رہے کہ مزید چارج کیا اور کام چل گیا۔۔۔ سوال کرنا سکھایا ہے تو جواب دینا آپ اور آپ کی حکومت پر فرض ہے… سوال کا گلا گھونٹنے سے وہی فکری نسلیں پروان چڑھیں گی جن کے خلاف آپ نے دو دہائیاں سدھار کی کوشش میں گزار دیں ہیں… آپ کا کہنا تھا کہ اوپر اگر کپتان ٹھیک ہو تو پوری ٹیم کو ٹھیک کر دیتا ہے… آپ کی تو ٹیم ہی ٹھیک نہیں ہوئی ملکی انتظامی انصرامی حالات تو کجا…

    جناب وزیرِ اعظم پاکستان
    آپ کے بقول دو لاکھ میں ماہانہ میں آپ کا گزارا نہیں ہوتا تو سوچیئے کہ ملک کی تین چوتھائی سے زائد آبادی کی تخواہ بجٹ میں کم از کم بیس ہزار رکھی گئی ہے (ہر چند وہ بھی ملتی نہیں ہے) جو آپ کے دو لاکھ سے بیس گنا کم ہے… ریاستِ مدینہ میں خلیفہ اول ابوبکر صدیقؓ کی تنخواہ طے ہونے کا واقعہ آپ نے سن ہی رکھا ہوگا… اس میں تو کوئی آئین اور قانون آڑے نہیں آتا… اپنی تنخواہ عام مزدور کی اجرت کے برابر کر لیجیے شاید آپ کو حقائق کا علم ہو کہ ملک کی اکثریت کس حال میں ہے… آقائے دوجہاں کی مثالیں دیتے ہوئے خندق کا ذکر بھی آپ نے ہی کیا تھا… عام اصحاب کے پیٹ پر اگر ایک پتھر تھا تو سرکار ﷺ کے شکمِ اطہر پر دو پتھر بندھے تھے… ریاستِ مدینہ کے اصول کے تحت آپ اور آپ کی کابینہ بھی اس سنتِ نبوی ﷺ سے ابتدا کیجیے… یاد رکھیں دلائل (فیکٹس اینڈ فیگرز) پیٹ نہیں بھرتے ہیں… کیا آپ نہیں جانتے کہ عسرت کفر کے قریب لے جاتی ہے… کیا آپ نے نہیں کہا تھا کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں… خان صاحب وجہ کچھ بھی ہو… لوٹا ہوا پیسہ آپ واپس نہیں لاسکے… انتظامی امور میں آپ ہاتھ کھڑے کردیتے ہیں کہ وفاق صرف اسلام آباد ہے اور باقی اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملات…

    ہم مہنگائی بد انتظامی پر بات کریں تو آپ کے گرد جال بننے والا اشرافیہ حصار اور اس جال پر بیٹھے بد دیانت فکری منافق شکاری مکڑے فرماتے ہیں کہ ایک کما کر گھر پورا نہیں ہوتا تو چار کماؤ… ٹماٹر نہ کھاؤ پیٹرول نہ خرچ کرو… بجلی نہ خرچ کرو… انہی انقلاباتی تحاریک کا ذکر پر جو آپ کیا کرتے تھے جب بل جلا دو اور ٹیکس نہ دو کے نعرے لگائے گئے تھے… وہ سب کچھ آپ اور آپ کے مصاحبین کیسے بھول جاتے ہیں… خیر قصہ کوتاہ مدعا بتصریفِ وقت… تحریکِ انصاف سے ہمارا پہلا انصاف کا مطالبہ ہے کہ ہم آپ کے ووٹرز ہیں اس سے بڑھ کر ہم پاکستان کے عوام ہیں ہم سے بلا تفریق جبراً نچوڑے ہوئے ٹیکس پر وزیروں مشیروں مصاحبوں کی مظفر موج کی عیاشیاں ختم کی جائیں ان کو ملنے والی تمام مراعات واپس لی جائیں ان کے فون پیٹرول گاڑی یوٹیلٹی بلز سکیورٹی سب واپس لی جائے… ان کو اس حال میں لایا جائے جس میں یہ الیکشن کی مہم میں تھے… ہم سے نچوڑے ہوئے ٹیکس پر ان کے کام کیا ہیں ماسوائے ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھنے پریس کانفرنسیں کرنے اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے نتھنوں میں پھونکیں مارنے کے…

    وزیرِ اعظم صاحب ہمارا غم و غصہ ان سطور میں سما نہیں سکتا… سلسلے بہت دراز ہیں لاکھوں دلیلیں اور جواز آپ کی حکومت کی نااہلی کے خلاف ہیں ہمارے گلے دبانے اور ہمیں آنکھیں دکھانے سے ہماری آوازیں کم نہیں ہوں گی… یہ خط بھی آپ کے دعووں کا امتحان کے کہ وقت کے خلیفہ سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے اور سائل کی طرف سے جواب طلبی کی راہ میں کوئی مصاحب یا وظیفہ خوار نہیں آئے گا… عمران خان صاحب جھوٹ اور چاپلوسی کے شہتیر دیوار اور چھت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں حکومت کے حق میں صرف وہی بول رہے جن کے کالے دھن کے سامنے یہ مہنگائی بد انتظامی بد سلوکی رائی کے برابر ہے یا پھر امید کے کشکول سنبھالے پھرتے ہیں… مرسڈیز میں سفر کرنے والا جب چنگچی میں سفر کرنے والے پر فیصلے دے گا اور اس کا تمسخر اڑائے گا تو معاشرہ اشتعال کی حدوں سے نکل کر انارکی کی طرف چلا جاتا ہے… موجودہ حکومت اسی اصول کے تحت گزشتہ حکومت کے بعد اقتدار میں آئی تھی…

    وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی

    ہمارے پاس لکھنے کو اتنے دلائل حکومت کی کمزوری نااہلی اور اشرفیائی عیاشی کی بنیاد پر ہیں کہ دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں ہماری اس تھوڑی سی ہی عرضی سے اندازہ کر لیجیے… عام عوام (اشرافیہ بالا دست طبقہ ہرگز ہرگز نہیں) کے مسائل کو سمجھیں… اونٹ کے منھ میں زیرہ دینے سے کچھ حاصل نہیں نہ ہی تھپکیاں دینے سے گرد بیٹھتی ہے… قربانیاں اب آپ دیں… حکمران قربانیاں دیں … عوام لاغر اور مردار ہونے کے قریب ہے اسے ذبح نہ کریں… حکومتی اللے تللے ختم کیے جائیں اور عام (ستاسی فیصد) غریب کی سطح پر آئیں… یہ کیا کہ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں… وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے جناب… تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے انصاف کی اینٹ رکھیں تاکہ عوام کو معلوم ہو اور یقین ہو کہ مہنگائی عالمی وجہ سے ہی ہے… ہم نے آپ کی حکومت کی طرح راستے میں پروٹوکول اور سکیورٹی کے نام پر دیوار نہیں حائل رکھی ہم معاشرے میں مثبت رویوں کے قائل ہیں سو مکالمہ کی سطح پر آپ کی حکومت کا کوئی بھی نمائندہ ہم سے بات کر سکتا ہے…

    والسلام
    از: ملکِ خدا داد پاکستان کا ایک باسی
    مملکتِ پاکستان کے عوام کا اور حکومت کا خیر خواہ

    م ۔م ۔مغلؔ
    Twitter @Mughazzal

  • اب صارفین اسمارٹ فون کے بغیر بھی واٹس ایپ استعمال کرسکیں گے

    اب صارفین اسمارٹ فون کے بغیر بھی واٹس ایپ استعمال کرسکیں گے

    واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں، جنہیں کمپنی نت نئے فیچرز کی سہولت فراہم کرتی رہتی ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ برس واٹس ایپ کو پرائیویسی پالیسی کی وجہ سے دنیا بھر میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد کروڑوں صارفین نے متبادل کے طور پر ٹیلی گرام، بپ، سگنلز پر اکاؤنٹ بنائے۔ صارفین کی تنقید اور دباؤ کے بعد واٹس ایپ نے اس پالیسی کو واپس لیا اور پھر صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نت نئے فیچرز متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کیا۔

    موبائل فونز جن پر یکم نومبر سے واٹس ایپ نہیں چلے گا

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے لئے اب ایک ایسا حیران کن فیچر دیا ہے جس کے بعد آپ اسمارٹ فون کے بغیر بھی آپ واٹس ایپ استعمال کرسکتے ہیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے رواں سال ملٹی ڈیوائس نامی فیچر متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے صارفین اپنا واٹس ایپ بیک وقت چار ڈیوائسز ویب، موبائل، ٹیب اور کمپیوٹر پر چلا سکتا ہےآپ اس سہولت کی مدد سے ہی اسمارٹ فون کے بغیر واٹس ایپ استعمال کرسکتے ہیں، جس کے لیے آپ کو صرف ایک بار موبائل اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت ہوگی۔

    اس کے لئے واٹس ایپ صارف سیٹنگز میں جاکر جب لنک ٹو ڈیوائس پر کلک کرے گا تو اُس کے سامنے اکاؤنٹ جوڑنے کا آپشن آئے گا، جس پر کلک کرنے کے بعد کم از کم ایک بار بار کوڈ اسکین کرنا ضروری ہے۔

    فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا

    اس کو صارف اپنی مرضی سے لاگ آؤٹ کرے گا، ایسی صورت میں اختیار ہوگا کہ وہ تمام ڈیوائسز یا مرضی کی ڈیوائس سے اکاؤنٹ کا تعلق ختم کردے۔ دوبارہ لاگ ان کرنے کے لیے بار کوڈ استعمال کرنا ہوگا۔

    ابھی یہ سہولت فی الوقت صرف واٹس ایپ بیٹا ورژن صارفین ہی استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ لنک ڈیوائس فیچر ابھی آزمائشی مراحل میں ہے، جس کی سہولت مخصوص صارفین کو ہی دستیاب ہے۔

    فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کا استعمال، والدین کی اجازت ضروری

  • بغیر میک اپ دیکھ کا شوہر کا بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ

    بغیر میک اپ دیکھ کا شوہر کا بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ

    مصر:شوہر نے اپنی بیوی کو میک اپ کے بغیر دیکھ کر اسے طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : "گلف نیوز”کے مطابق دونوں کی ملاقات فیس بک پر ہوئی، مقامی میڈیا کے مطابق، ایک مصری شخص نے شادی کے صرف ایک ماہ بعد اپنی بیوی کو بغیر میک اپ کے دیکھنے پر فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    اس شخص نے عدالت کو بتایا کہ اسے تشویش شادی کے بعد پہلی صبح ہوئی جب اس نے اپنی بیوی کو پہلی باربغیر میک اپ کے دیکھا اس شخص کاکہنا تھا کہ میں شادی کے بعد پہلی صبح حیران رہ گیا کیونکہ میری بیوی ویسی نہیں لگی جس سے میں شادی سے پہلے ملا تھا۔

    کراچی: درندگی کی انتہا، ایک ہی خاندان کی3 لڑکیاں جنسی زیادتی کا شکار

    اس نے مزید کہا کہ مجھےمیری بیوی نے دھوکا دیا ہے کیونکہ وہ شادی سے پہلے میک اپ کرتی تھی لیکن شادی کے بعد میں نے اس کا اصلی چہرہ بغیر میک اپ کے دیکھا ، وہ بدصورت نظر آتی ہے۔

    شوہر نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کی غیر دلکش شکل کو برداشت کرنے کی کوشش کی لیکن شادی کے ایک ماہ بعد تنگ آکر اس نے طلاق کے لیے درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    شخص نے بتایا کہ فیس بک پر خاتون ہمیشہ اپنی پرکشش تصاویر پوسٹ کرتی تھی ،چند بار اس کے ساتھ باہر جانے کے بعد بھی اس شخص نے اسے پرکشش پایا اور اس خاتون سے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا تاہم شادی کے ایک مہینے تک بیوی کو بغیر میک کے دیکھ ، دیکھ کروہ تنگ آگیا اور طلاق کیلئے عدالت میں درخواست دائر کردی۔

    کراچی: واش روم میں کیمروں کا مقصد کیا تھا؟ اسکول انتظامیہ کا موقف سامنے آ گیا

  • نعمان نیاز سے تلخ کلامی، شعیب اختر نے کس کے مشورے پر شو چھوڑا؟

    نعمان نیاز سے تلخ کلامی، شعیب اختر نے کس کے مشورے پر شو چھوڑا؟

    سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے انکشاف کیا ہے کہ سرکاری ٹی وی کے میزبان نعمان نیاز سے تلخ کلامی کے بعد ان کی بہن نے شو سے چلے جانے کا مشورہ دیا تھا ۔

    باغی ٹی وی :نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ شو کے دوران مجھے میری بہن کا میسج آیا کہ اپنی عزت مزید مت گراو، تم ڈاکٹر نعمان کو معاف کیے جارہے ہو مگر وہ معافی نہیں مانگ رہے، اس لیے شو سے اٹھ کر چلے جاؤ-

    سرکاری ٹی وی کےمیزبان کا لائیو شو میں نامناسب رویہ، شعیب اختر نے مستعفیٰ ہونے کا…

    ڈاکٹر نعمان نیاز کی جانب سے معذرت کرنے پر شعیب اختر نے کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر نعمان سے اسی رات معافی مانگی تھی اب انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اب ڈاکٹر نعمان کو مجھ سے نہیں بلکہ پی ٹی وی اور پوری قوم سے معافی مانگنی ہے میں یہ قصہ اس دن وہاں ختم کر کے آ گیا تھا مجھے معافی اس رات کو چاہئے تھی، اب اس کا کوئی فائدہ نہیں، ان کے اس رویے سے سرکاری چینل کے تشخص کو نقصان پہنچا ہے۔

    لائیو شو میں میزبان کی شعیب اختر سے بدتمیزی پر فنکاروں کی مذمت

    شعیب اختر نے کہا کہ میں اس رات بڑا کچھ کر سکتا تھا، لیکن میں نے نہیں کیا اور سارا معاملہ قدرت پر چھوڑ دیا مجھے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا ہے، بندوں کو نہیں اور میں اپنی عوام کا بے حد شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اتنا پیار دیا

    انہوں نے کہا کہ میں اپنی والدہ جو بہت بوڑھی ہو چکی ہیں، ان کی وجہ سے لڑائی جھگڑوں سے دور رہتا ہوں ڈاکٹر نعمان اب جو مرضی کہیں مجھے اس معاملے پر اب کچھ نہیں کہنا۔

    شعیب اختر بھارت کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی دعائیں کرنے لگے

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی صورتحال پر شعیب اختر نے کہا کہ پوری قوم چاہتی ہے کہ بھارت سے فائنل ہو تاکہ ہم دوبارہ پھینٹی لگائیں، اگر نیوزی لینڈ، افغانستان سے ہارا تو بہت شدید ردعمل آئے گا۔

    انہوں نے کہا کہ شاہد آفریدی مجھ سے بڑے سپر سٹار ہیں ،میں ہر بندے کو اپنے سے بڑا سمجھتا ہوں اس لیے زندگی آسان ہوجاتی ہے انہوں نے کہا کہ لوگ میرا موازنہ سلمان خان سے کرتے ہیں مگر سلمان خان مجھ سے بہت اچھا انسان ہے۔

  • لڑکے بھی اسکرٹ پہن کر آئیں، اسپین میں اسکول انتظامیہ کا انوکھا حکم

    لڑکے بھی اسکرٹ پہن کر آئیں، اسپین میں اسکول انتظامیہ کا انوکھا حکم

    اسپین میں اسکول انتظامیہ نے لڑکوں کو بھی لڑکیوں کی طرح اسکرٹ پہن کر آنے کا حکم دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسپین میں اسکول انتظامیہ نے لڑکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لڑکیوں کی طرح اسکرٹ پہن کر کلاس میں آئیں سکول انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی ہدایت کا بنیادی مقصد اس پیغام کو عام کرنا ہے کہ لباس کی کوئی صنف نہیں ہوتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایڈںبرگ کے کیسل ویو پرائمری اسکول نے طلبا و طالبات دونوں کو کلاس میں اسکرٹ پہن کر آنے کو کہا ہے جس کے بعد تمام طلبا نے "ویئر اے اسکرٹ ٹو” اسکول تحریک میں شرکت کی یہ "کلاتھ ہیو نو جینڈر” تحریک کا حصہ ہے یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب 15 سال کے طالب علم مائیکل گومز کو کلاس میں اسکرٹ پہننے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا تھا یہ تحریک سب سے پہلے ہسپانوی شہر بلباؤ میں شروع ہوئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق کیسل ویو اسکول کے طلبا و طالبات کے ساتھ اساتذہ بھی اسکرٹ پہنے ہوئے دکھائی دیئے اسکول کی خاتون ٹیچرکا کہنا ہے کہ اسکول دقیانوسی خیالات کے خلاف آگے بڑھ رہا ہے ہم نے ویئر اے اسکرٹ ٹو اسکول ڈے کا اہتمام کیا مگر کسی کو اسکرٹ پہننے کے لئے مجبور نہیں کیا۔

    اسکول انتظامیہ کے اس اقدام کی کچھ والدین نے تعریف کی تو کچھ نے اس پر اعتراض بھی ظاہر کیا، کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کا تعلیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بچوں سے پڑھائی کرائیں، انہیں اس سب میں ملوث نہ کریں۔

  • افغانستان نے نیوزی لینڈ کو نہ ہرایا تو کیا ہو گا؟ جد یجا کا صحافی کے سوال پر دلچسپ جواب

    افغانستان نے نیوزی لینڈ کو نہ ہرایا تو کیا ہو گا؟ جد یجا کا صحافی کے سوال پر دلچسپ جواب

    بھارتی آل راؤنڈر رویندرا جدیجا کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان نے سپر 12 مرحلے کے دوران نیوزی لینڈ کو شکست نہ دی تو انڈین ٹیم کی گھر واپسی ہوجائے گی۔

    باغی ٹی وی :مسلسل دو شاندار فتوحات کے باوجود، افغانستان کے خلاف 66 رنز کی جیت اور اس کے بعد سکاٹ لینڈ کے خلاف آٹھ وکٹوں سے جیت، بھارت کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف افغانستان کی صرف ایک جیت ہی ان کے امکانات کو کافی حد تک بڑھا دے گی-


    اگر مکمل طور پر نہیں، تو متحدہ عرب امارات میں T20 ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے کے گروپ 2 میں اپنے پہلے دونوں کھیل ہار چکے ہیں سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ اگر افغانستان نیوزی لینڈ کو ہراتا ہے تو ٹیم انڈیا کے سیمی فائنل میں جانے کے امکانات روشن ہیں لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرپاتے تو پھر کیا ہوگا؟ اس سوال پر رویندرا جدیجا نے ہنستے ہوئے کہا "تو پھر بیگ پیک کرکے گھر جائیں گے اور کیا۔”

    بھارت چار میچوں میں چار پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، پاکستان کے پیچھے، جو پہلے ہی لگاتار چار جیت کے ساتھ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے، اس کے بعد نیوزی لینڈ کا نمبر ہے، جس نے جمعہ کو نمیبیا کو شکست دے کر چار میچوں میں تیسری جیت حاصل کی۔

    خیال رہے کہ سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں رویندرا جدیجا نے مخالف ٹیم کے تین بلے بازوں کو آؤٹ کرکے انڈیا کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا انہیں اس کارکردگی پر میچ کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے نوازا گیا۔

    اسکاٹ لینڈ کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 8 وکٹوں سے شکست دیکربھارت پاکستان اورافغآنستان سے بھی آگے نکل گیا ہے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے میں بھارت نے اسکاٹ لینڈ کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 8 وکٹوں سے شکست دیکر گروپ 2 میں اپنا رن ریٹ ، پاکستان ،افغانستان اور نیوزی لینڈ سے بہتر کرلیا۔

    بھارت کوگروپ 2 میں پاکستان، افغانستان اور نیوزی لینڈ سے اپنا نیٹ رن ریٹ بہتر کرنے کیلئے 86 رنز کا ہدف 7.1اوور میں مکمل کرنا تھا جو اس نے با آسانی7 ویں اوور میں مکمل کرلیا۔

    اسکاٹ لینڈ کو8 وکٹوں سے شکست دیکربھارت پاکستان اورافغآنستان سے بھی آگے نکل گیا

    دبئی میں کھیلے گئے میچ میں بھارت کے کپتان ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر اسکاٹ لینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے دی ۔

    اسکاٹ لینڈ کی اننگز:
    اسکاٹ لینڈ کی بیٹنگ لائن بھارتی بولرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور کوئی بھی بیٹسمین کریز پر جم کر نہ کھیل سکا۔اسکاٹ لینڈ کی پوری ٹیم 18ویں اوور میں 85 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی،جارج مونسے 24 اور مائیکل لیسک 21 رنز بناکر نمایاں رہے۔بھارت کی جانب سے محمد شامی اور رویندرا جڈیجا نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ بمراہ نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    بھارت کی اننگز:
    بھارت نے 86 رنز کا ہدف2 وکٹوں کے نقصان پر ساتویں اوور میں مکمل کرلیا جس کے بعد بھارت کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی اُمیدیں برقرار ہیں۔بھارت کی جانب سے کے ایل راہول 50 اور رہت شرما 30 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے میں 6 ، 6 ٹیموں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ ہر گروپ میں شامل ٹیمیں پانچ میچز کھیلیں گی اور 2 ٹاپ ٹیمیں سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گی۔

    گروپ 1 کی ٹاپ ٹیم گروپ 2 کی دوسرے نمبر والی جبکہ گروپ 1 کی دوسرے نمبر والی ٹیم گروپ 2 کی ٹاپ ٹیم سے سیمی فائنل کھیلے گی۔بھارت نے اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف 5 نومبر کو کھیلنا ہے۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی مینزٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 12 مرحلے کے دلچسپ مقابلے متحدہ عرب امارات میں جاری ہیں۔

    نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد نمیبیا سیمی فائنل کی ریس سے باہر ہوگیا۔

  • ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی،تحریر:نوید شیخ

    ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی،تحریر:نوید شیخ

    حکومت نے رات کے آخری پہر مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں ستائی ہوئی پاکستانی عوام پر ’پٹرول بم‘ایسا مارا ہے جیسے کبھی1965 میں بھارت نے پاکستان پر شب خون مارا تھا ۔ آٹھ روپے اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔۔ ابھی دو روز پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوام کے لیے ’ ریلیف پیکج‘
    بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تکلیف پیکج کا اعلان کیا تھا ۔۔ عندیہ تو عمران خان نے پہلے ہی دے دیا تھا مگر اس بار تو پندرہ تاریخ کا بھی انتظار نہیں کیا گیا ۔ شاید اس ماہ کی پندرہ کو پھر اس حکومت کا عوام کو ٹیکہ لگانے کا پلان ہے ۔ ۔ یہ اس حکومت نے عوام پر ایک ماہ میں تیسرامہنگائی بم گرایا ہے ۔ ان کے اس فیصلے سے سفید پوش طبقہ کتنا متاثر ہوگا اور اب جو مہنگائی کا ایک نیا ریلا آئے گا ۔ اُس کا انکو اندازہ ہی نہیں ۔ یہ بس بدمست ہاتھی کی طرح جنگل تباہ کیئے جارہے ہیں اور کوئی انکو روکنے والا نہیں۔ تاہم ایسے حالات میں بھی وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ حکومت پہلے ہی پٹرولیم ٹیکس 31 روپے سے کم کر کے پانچ روپے تک لا چکی۔ اب بھی اگر قیمت کم رکھنی ہو تو پھر قرضہ لینا پڑے گا جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔ ہائے دیکھا کتنی عوام دوست حکومت ہے ۔

    ۔ عمران خان جو ہالینڈ کے وزیراعظم اور یورپ کی مثالیں دیا کرتے تھے خود تو کپتان ایک دن بھی سائیکل پر دفتر نہیں گئے ، مگر عوام کو سائیکل پر لے آئے ہیں ۔ یہ ہے وہ تبدیلی ۔۔۔ ۔ حکومتی ترجمان اور عمران خان خطہ کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے- پر کل بھارت میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول پانچ روپیہ اور ڈیزل دس روپیہ فی لیٹر ڈیوٹی گھٹا کے سستا کر دیا جبکہ ہماری تبدیلی سرکار نے عوام کو مزید کچلنے کے لئے پٹرول اور ڈیزل مذید مہنگا کیا۔۔ اصل فرق تو ان موٹر سائیکل سواروں کوپڑتا ہے جن کونہ فری پٹرول ملتاہے اور نہ ہی بدلوانے کیلئے کوئی پرزہ۔ یہی حال ان عام شہریوں کا ہے جنھوں نے اپنی محنت کی کمائی سے گاڑی خریدی ہوئی تو ہے پر اب وہ ان کے لئے وبال جان بنی ہوئی ہے۔۔ میری بات نوٹ کر لیں انھوں نے پیڑول کیا ، ڈالر ، چینی ۔۔۔ ہر چیز کی ڈبل سنچری کروانی ہے ۔ انھوں نے غریب کو جینے کا کوئی حق نہیں دینا ۔ یہ غریب مکاؤ مہم پر نکلے ہوئے ہیں ۔ ۔ حکومت نالائقی، نااہلی اور کرپشن کی ہر حد پار کر چکی ہے ۔ آپ دیکھیں کل ایک بار پھر پنجاب حکومت نے پولیس میں تیس سے زائد تبادلے کر دیئے ہیں ۔ کیا یہ کوئی گورننس ہے ۔ ایسے نظام چلائے جاتے ہیں جیسے یہ چلا رہے ہیں ۔ قوم تو تمام امیدیں چھوڑ چکی ہے اب تو وہ یہ بھی نہیں پوچھتی کہ اچھے دن کب آئیں گے۔ ہاں البتہ ہر کوئی یہ ضرور پوچھتا ہے کہ اس تبدیلی سے کب جان چھوٹے گی ۔

    ۔ پھر حکومت کے چینی کی قیمت میں کمی کے سب وعدے الٹے ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ اس معاملے میں حکومت اور مافیا دونوں ملے ہوئے ہیں ۔ حکومت چینی جان بوجھ کر امپورٹ نہیں کررہی ۔ تو چینی مافیا والے کرشنگ سیزن سے پہلے دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ یہ گزشتہ حکومتوں کو ڈاکو کہا کرتے تھے ۔ مگر یہ تو خود سب سے بڑے ڈکیت ثابت ہورہے ہیں ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں شوگرمل مالکان کو265 ارب روپے کااضافی منافع پہنچایاگیا ہے ۔ صرف اس سال کے 10 ماہ میں 67ارب روپے کااضافی منافع دیا گیا ۔ اب سمجھ آئی کہ یہ مافیاز کیوں نہیں پکڑے جاتے ۔ کیونکہ سب کچھ تو حکومت خود کروارہی ہے ۔ مافیاز ان کے اندر موجود ہیں ۔ اس لیے تو نیب کے ہاتھ پاوں باندھے گئے ہیں کہ وہ صرف اپوزیشن کو ہی پکڑ ان کی طرف نظر نہ اٹھا سکے ۔ ۔ آپ دیکھیں پنجاب کے سابق معاون خصوصی خوراک جمشید اقبال چیمہ نےتین ہفتے قبل گنے کی بمپرفصل کی خوشخبری دی تھی اورکہاتھاکہ نومبرسے چینی80 روپے کلوملے گی۔ حالات یہ ہے کہ اب 150 میں بھی نہیں مل رہی ہے ۔ ۔ پھر حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز پر کوکنگ آئل کی قیمت میں 65 روپے فی کلو جبکہ گھی 53
    روپے فی کلو اضافہ کیا ہے۔ عوام یاد رکھے یہ وہ اشیاء ہیں جن پر وزیراعظم نے دو دن پہلے ریلیف کا اعلان کیا تھا۔ میری نظر میں تو چینی سبسڈی کی طرح ریلیف پیکج بھی مافیا کھا جائے گا۔ کیونکہ یہ سبسڈی احساس پروگرام کے تحت ملنی ہے ۔ نہ کوئی رجسڑ ہوگا نہ کسی کو ملے گی ۔ پھر اس پیکج کے تحت اندازً ایک خاندان کو ماہانہ ایک ہزار روپے کا ریلیف ملنا ہے۔ یہ کسر تو حکومت پیڑول کی قیمت بڑھا کر پوری کردی ہے ۔ یعنی کان ایک سائیڈ سے نہیں تو دوسری سائیڈ سے پکڑ لو ۔

    ۔ اور پھر سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان دو کروڑ افراد کا ملک ہے جن کے لئے وزیر اعظم نے ریلیف پیکج کا اعلان کیاہے؟ کیا باقی کے بیس کروڑ افراد کو کسی ریلیف کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ملک میں چالیس فیصد آبادی یعنی آٹھ کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مگر وزیر اعظم کو صرف دو کروڑ نظر آئے اور اس ریلیف کا آغاز بھی کہیں دسمبر کے وسط میں جا کرہوگا۔ ۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ پنتالیس فیصدگرا ہے تو میری اور آپ کی جیب میں پڑا ایک سو روپے کا نوٹ پچپن روپے کا رہ گیا ہے۔ ۔ دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شے کی ٹرانسپورٹیشن لاگت میں تیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کے خشک جنگل کو آگ لگ گئی۔۔ جنرل سیلز ٹیکس کے اطلاق نے اس ملک میں عام آدمی کاجینا محال کردیا ہے، اس ایک ٹیکس میں گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس رہا ہے، یعنی وہ لوگ بھی ٹیکس ادا کرنے کو مجبور ہیں جنھیں حکومتی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ ۔ عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں اور مہنگائی خطے کے دیگرممالک سے کم ہے۔ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں مہنگائی خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ تین سال کے دوران میں فی کس آمدنی بھی ریکارڈ 13.51 فیصد تک گر گئی جبکہ ملک میں غربت بھی بڑھ گئی ہے۔

    ۔ ان سے پہلے دور حکومت بہتر تھے ۔ اور یہ میں نہیں اعداد وشمار بتارہے ہیں ۔ ۔ پاکستان میں 2018ء میں فی کس آمدنی 1480 ڈالر تھی، 2020ء میں پاکستان میں فی کس آمدنی 1280 ڈالر رہی۔ ایک اور اہم فیکٹر کی مدد سے مہنگائی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح 10.74 فیصد ہے۔ یہ شرح خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں مہنگائی کی شرح 6.62 فیصد ہے، بنگلہ دیش میں مہنگائی کی شرح 5.69فیصد ہے، سری لنکا میں مہنگائی کی شرح 6.15 فیصد ہے، چین میں مہنگائی کی شرح صرف 2.4 فیصد ہے۔ پاکستان میں فی کس آمدنی تین برسوں میں خطے کے ممالک میں سب سے زیادہ یعنی 13.51 فیصد گر گئی، ان تین سالوں میں ہم آگےجانے کی بجائے پیچھے گئے ہیں ۔ ۔ عمران خان قوم کو ایف بی آر کی
    37فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی نوید سنا کر ایف بی آر افسروں کو شاباس کے سرٹیفکیٹ اور بونس تو دے رہے ہیں۔ پر سچ یہ ہے کہ یہ سب براہِ راست ٹیکسز ہیں جو بجلی،گیس کے بلوں اور پٹرول سے براہِ راست اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔۔ پتہ نہیں عوام نے ان کو ووٹ دے کر کیا غلطی کر دی ہے کہ یہ صرف عوام کو ہی تن رہے ہیں ۔ حالات یہ ہیں کہ یہ عوام کی چیخیں بھی نہیں سننا چاہتے ۔ ایک ایک خاندان کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 10لاکھ تک ہسپتالوں سے ریلیف دینے کا جنازہ نکل چکا ہے، کوئی ہسپتال ہیلتھ کارڈ پر ریلیف دینے کے لئے تیار نہیں،50
    لاکھ گھروں کے لئے قرضے دینے کا منصوبہ بھی منگوا کر دیکھ لیں۔ ایک کروڑ نوکریاں بھی توجہ کی منتظر ہیں، دیگر ممالک کی مہنگی مصنوعات کے ساتھ دیگر ممالک کی سہولیات اور سروسز کا بھی جائزہ کروا لیا جائے۔ اس وقت وزیراعظم یوٹیلٹی سٹور پر ریلیف ختم کر چکے ہیں۔ اور پٹرول سے دو سو ارب دو ماہ میں عوام سے وصول کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت جو بجلیاں عوام پر گرا رہی ہیں ۔ اس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ نااھل حکومت کی رخصتی کا وقت قریب ھے۔ اس حکومت کی تمام توجیہات اور صفیائیں جھوٹ کا پلندہ ہیں ۔

    ۔ اپوزیشن بھی پتہ نہیں کہاں دھنیا پی کر سوئی ہوئی ہے ۔ اپنے مفادات کے لیے تو یہ لانگ مارچ ، دھرنا پتہ نہیں کیا ۔۔۔ کیا کرلیتے ہیں ۔ اب جب عوام کی روز ہی بینڈ بجائی جارہی ہے تو یہ بس بیانات اور ٹویٹس پر گزارا کر رہے ہیں ۔ حالانکہ جیسے اس حکومت نے گزشتہ ایک ماہ کے اندر پاکستانی عوام پر مہنگائی بم گرائے ہیں اب تک تو اپوزیشن کو پہیہ جام ہڑتال سے لے کر حکومت کے بائیکاٹ کی مہم شروع کروا دینی چاہیئے تھی ۔ ڈریں اس وقت سے جب عوام خود بغیر کسی لیڈر کے خود سٹرکوں پر ہوگی اور اس کا ہاتھ اس حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے گربیانوں تک بھی پہنچ جائے گا ۔ جس طرح حکومت اپنی کاروائیاں ڈال رہی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ ایسا عنقریب ہو جائے گا ۔ بس ایک چنگاری لگنے کی دیر ہے ۔