Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مادہ ہتھنیاں بغیر دانتوں کے کیوں پیدا ہو رہی ہیں حالیہ تحقیق میں انسانیت سوز انکشافات

    مادہ ہتھنیاں بغیر دانتوں کے کیوں پیدا ہو رہی ہیں حالیہ تحقیق میں انسانیت سوز انکشافات

    نیویارک: افریقی ہاتھیوں کی مادائیں اپنے خوبصورت دانتوں پر شکاریوں کے دباؤ کے تحت اب بغیر دانت کے پیدا ہورہی ہیں جس کے کئی شواہد ملے ہیں اور ان میں جینیاتی تبدیلی اور ارتقا کے مشاہدات بھی شامل ہیں حال ہی میں موزمبیق میں تحقیق کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق 1977 میں اس خطے میں شدید خانہ جنگی شروع ہوئی جو 1992 تک جاری رہی دونوں اطراف کے دھڑوں نے جنگ کے دوران ہاتھی دانت کےلئے بے زبان جانوروں کو مارنا شروع کردیا ہاتھی جیسے حساس جانور نے اس دباؤ کو محسوس کیا اور بہت ہی جلد ان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوئیں کہ مادہ ہتھنیوں کے دانت غائب ہونے لگے ہیں گورونگوسا نیشنل پارک میں موجود ہاتھی اس کا ہدف بنے۔

    اس کے سب سے پہلے عکسی ثبوت تصاویر اور ویڈیو سے سامنے آئے جنہیں پرنسٹن یونیورسٹی شین کیمپبیل اسٹیٹن اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا اور بتایا کہ اب 19 سے 15 فیصد مادہ ہاتھی بغیر دانتوں کے پیدا ہورہی ہیں۔

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    شماریاتی تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ تبدیلی جینیاتی انتخابی دباؤ کے بغیر ممکن نہیں ہوتی لیکن یہ آثار بھی ملے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بغیر دانت والی ہتھنیوں کی پیدائش بھی کم ہوئی ہے جبکہ جنگ کے دوران ان کی شرح زائد تھی یہ بھی معلوم ہوا کہ 1972 سے 2000 کے درمیان بغیر دانت کی ماداؤں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

    قیمتی ہاتھی دانت کے لیے افریقی ہاتھیوں کا شکار دیگر مقامات پر بھی جاری ہے مثلاً سری لنکا میں نرہاتھیوں کی صرف پانچ فیصد تعداد ہی اپنے دانتوں کے ساتھ موجود ہے حیرت انگیز طور پر تمام افریقی نر ہاتھیوں نے شدید شکار کے باوجود اپنے دانت برقرار رکھے اور اس کی وجہ جینیاتی ہے۔

    ماہرین اب تک جینیاتی تحقیق کررہے ہیں کہ آخر ماداؤں کے دانت کیوں غائب ہورہے ہیں لیکن ابتدائی تحقیق بتاتی ہے کہ غالباً اے ایم اے ایل ایکس نامی جین میں اس کی وجہ ہے جو ایکس کروموسم میں پایا جاتا ہے یہ جین دانتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    ماہرین کا خیال ہے کہ اس جین کی تبدیلی دیگر اہم جین پر بھی اثراندازہوتی ہے۔ ماداؤں کے پاس ایکس کروموسوم کی دو نقول ہوتی ہیں اور اگر ان میں سے ایک نقل نہیں بدلتی تو اس میں موجود جین اپنا درست کام کرتا رہتا ہے لیکن مرد یا نر کے پاس اس کی ایک ہی کاپی ہوتی ہے اور اگر وہ بھی بگڑ جائے تو کئی بیماریوں بلکہ جان لیوا امراض کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

    ہاتھی دانت صرف دکھانے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہ ہاتھیوں کے بہت کام آتے ہیں ہاتھی کے دانت اس کا بہت قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اگرچہ بے زبان ہاتھی کےدانت تو اسمگلر لے جاتے ہیں لیکن ان کی بقیہ زندگی بہت مشکل بلکہ پرخطربھی ہوجاتی ہے۔

    مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

  • انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گےعمران خان کا قومی  ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گےعمران خان کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    وزیراعظم عمران خان نے پاک بھارت میچ پر کہا ہے کہ انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان نے کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے کہا کہ ٹیم میں ٹیلنٹ موجود ہے بھارت کےخلاف کامیاب ہوگی دعا ہے قومی ٹیم بھارت کو شکست دے۔

    اس سے قبل قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا کہ میرے کیریئر کے دنوں میں پاکستان کے پاس بھارت سے بڑے کھلاڑی ہوا کرتے تھے، اب بھارت کے پاس شاندار کھلاڑی ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    شعیب اختر نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان سے بہتر ہے لیکن پاکستانی کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جارحانہ طرز کی کرکٹ کھیلیں گے ورلڈکپ کے میچوں میں بھارت نے پاکستان سے بہتر پریشرہینڈل کیا ہے، پاکستان، بھارت ناصرف ابھی کا بلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل بھی کھیلیں گی۔

    شعیب اختر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت سے زیادہ نیوزی لینڈ پر غصہ ہے۔

    ادھر قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے پاکستان ٹیم کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنےکی پیشگوئی کی کہا کہ پاکستان ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے زبردست کمبینیشن بنا ہوا ہے، پوری قوم کی طرح میں بھی بہت پرامید ہوں کہ پورے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم اچھا پرفارم کرے گی، ہماری ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جو اکیلے میچ جتوا سکتے ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    دوسری جانب آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاک بھارت ٹاکرے کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کردیا گیا ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے نام بتائے۔

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدر علی، شعیب ملک، محمد آصف، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور حارث روؤف شامل ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حتمی پلینگ الیون کا اعلان کل میچ سے قبل کیا جائے گا ضرورت پڑ نے پر سرفراز کو کھلائیں گے۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

    پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

  • پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

    پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کردیا گیا۔

    باغی ٹی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے بھارت کے خلاف ٹیم کا اعلان کیا 12 رکنی ٹیم کا اعلان قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں سے میچ سے قبل 11 کھلاڑی منتخب کیے جائیں گے۔

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں مندرجہ ذیل کھلاڑی شامل ہیں:

    محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدر علی، شعیب ملک، آصف علی، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    اس سے قبل بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے بڑے ٹاکرے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی پریکٹس کی ویڈیو جاری کر دی ہے ویڈیو میں بابر اعظم کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ جب بھی ہوٹل سے نکل کر آتے ہیں تو گول سیٹ کر کے آتے ہیں کہ کس طرح کی ٹریننگ کرنی ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    انہوں نے بتایا کہ میں ٹریننگ کا پلان رات کو بناتا ہوں اور ٹریننگ میں کوشش ہوتی ہے جو کمزوریاں ہیں ان پر کام کیا جائے، کوشش ہوتی ہے جو میرا مضبوط ایریا ہے اس پر مزید کام کیا جائے پریکٹس میں 100 فیصد دینے کی کوشش ہوتی ہے کیونکہ پریکٹس میں 100 فیصد ہو گا تو میچ میں بھی ایسا ہی ہو گا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نمیبیا، آئرلینڈ کو ہراکر سپر 12 میں داخل ہوگیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ ایسا ایونٹ ہوتا ہے جس میں سب ٹیمیں تیار ہو کر آتی ہیں، ہم بھی ورلڈ کپ میں مکمل تیار ہو کر جا رہے ہیں، ہماری کوشش یہی ہے کہ گراونڈ میں 100 فیصد دیں۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا    سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا ہے کہ میرے کیریئر کے دنوں میں پاکستان کے پاس بھارت سے بڑے کھلاڑی ہوا کرتے تھے، اب بھارت کے پاس شاندار کھلاڑی ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔

    باغی ٹی وی : شعیب اختر نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان سے بہتر ہے لیکن پاکستانی کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جارحانہ طرز کی کرکٹ کھیلیں گے ورلڈکپ کے میچوں میں بھارت نے پاکستان سے بہتر پریشرہینڈل کیا ہے، پاکستان، بھارت ناصرف ابھی کا بلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل بھی کھیلیں گی۔

    شعیب اختر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت سے زیادہ نیوزی لینڈ پر غصہ ہے۔

    ادھر قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے پاکستان ٹیم کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنےکی پیشگوئی کی کہا کہ پاکستان ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے زبردست کمبینیشن بنا ہوا ہے، پوری قوم کی طرح میں بھی بہت پرامید ہوں کہ پورے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم اچھا پرفارم کرے گی، ہماری ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جو اکیلے میچ جتوا سکتے ہیں۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    محمد یوسف کے مطابق کرکٹ میں یہ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کونسی ٹیم کہاں تک آگے جائے گی لیکن میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان ٹیم میں اتنا پوٹینشل ہے کہ فائنل تک رسائی حاصل کرے گی جبکہ فائنل میں ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن ہمیں پاکستان ٹیم سے امید ہے کہ یہ فائنل بھی جیتے گی کیونکہ پاکستان کے دونوں اوپنرز کافی عرصے سے بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں، مڈل آرڈر اچھا ہے، سینئر اور جونیئر کا اچھا کمبینیشن بھی بنا ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عماد وسیم اور شاداب خان دونوں اسپنرز اچھے ہیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی، حسن علی اور حارث روف فاسٹ بولنگ کے شعبے میں شاندار ہیں۔

    محمد یوسف حسن علی کے بہت بڑے فین ہیں کہا کہ حسن علی سے میں ہمیشہ امیدیں لگا کر رکھتا ہوں کیونکہ وہ بہت خطرناک کھلاڑی ہیں، حسن علی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں بہت شاندار ہیں، وہ کلین ہٹنگ کرتے ہیں، وہ بھی آل راؤنڈر ہیں، حسن علی ٹیم میں ایک کریکٹر ہیں اور ایسے کھلاڑی ہیں جو ٹیم کو اٹھا کر رکھتے ہیں۔

    دوسری جانب بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے بڑے ٹاکرے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی پریکٹس کی ویڈیو جاری کر دی ہے ویڈیو میں بابر اعظم کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ جب بھی ہوٹل سے نکل کر آتے ہیں تو گول سیٹ کر کے آتے ہیں کہ کس طرح کی ٹریننگ کرنی ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نمیبیا، آئرلینڈ کو ہراکر سپر 12 میں داخل ہوگیا

    انہوں نے بتایا کہ میں ٹریننگ کا پلان رات کو بناتا ہوں اور ٹریننگ میں کوشش ہوتی ہے جو کمزوریاں ہیں ان پر کام کیا جائے، کوشش ہوتی ہے جو میرا مضبوط ایریا ہے اس پر مزید کام کیا جائے پریکٹس میں 100 فیصد دینے کی کوشش ہوتی ہے کیونکہ پریکٹس میں 100 فیصد ہو گا تو میچ میں بھی ایسا ہی ہو گا۔


    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ ایسا ایونٹ ہوتا ہے جس میں سب ٹیمیں تیار ہو کر آتی ہیں، ہم بھی ورلڈ کپ میں مکمل تیار ہو کر جا رہے ہیں، ہماری کوشش یہی ہے کہ گراونڈ میں 100 فیصد دیں۔

    واضح رہے کہ ہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    پاکستانی ٹیم اب تک ٹی ٹوئنٹی کے عالمی مقابلوں میں 34 میچ کھیل چکی ہے ان میں سے 19 جیتے اور 14 میں شکست ہوئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان نے اب تک 6 ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلے ہیں جن میں 2009 میں ہونے والے دوسرے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کپتان یونس خان کی قیادت میں کامیابی حاصل کی 2007 میں پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم رنرز اپ رہی، بھارت نے ٹائٹل جیتاتھا۔

    پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شعیب ملک نے ٹیم کی قیادت کی 2009 میں یونس خان اور2010 اور 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شاہد آفریدی نے ٹیم کی قیادت کی جبکہ 2012 اور 2014 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپس میں قیادت محمد حفیظ نے کی –

    اگر کھلاڑیوں کی پرفارمنس کی بات کی جائے تو شاہد آفریدی سب سے زیادہ 5 بار صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں شعیب ملک بیٹسمین کے ساتھ بہترین فیلڈر بھی، سب سے زیادہ 12 کیچز لیے سب سے زیادہ 39 وکٹیں بھی شاہد آفریدی نے ہی حاصل کیں اور سب سے زیادہ 21 چھکے لگا رکھے ہیں-

    پاکستان جیت سکتا ہے:ساروگنگولی:-بھارتی ٹیم فیورٹ، ٹی 20 میں کچھ بھی ہوسکتا…

    شعیب ملک سب سے کامیاب بیٹسمین ہیں، انہوں نے 27 اننگز میں 546 رنز بنا رکھے ہیں کامران اکمل نے سب سے زیادہ 50 چوکے اور شاہد آفریدی نے پاکستان کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی پہلی اور واحد سنچری احمد شہزاد نے بنا رکھی ہے جبکہ سب سے بڑی 111 رنز کی انفرادی اننگز بھی ان کے نام ہے۔

    ایک میچ میں سب سے زیادہ 5 چھکے عمران نذیر نے لگائے عمر گل نے ایک اننگز میں سب سے زیادہ 5 وکٹیں حاصل کیں ایک ورلڈ ٹی ٹوینٹی میں سب سے زیادہ 223 رن سلمان بٹ بنائے پاکستان کا کسی ایک میچ میں کم ترین مجموعہ 82 رن ویسٹ انڈیز کے خلاف ہے جب کہ سب سے زیادہ 201 رنز بنگلہ دیش کے خلاف بنائے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نمیبیا، آئرلینڈ کو ہراکر سپر 12 میں داخل ہوگیا

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم نے 24اکتوبر کو پاک بھارت بڑے ٹاکرے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے سینئر کھلاڑی کئی سال بھارت کے خلاف کھیلتے رہے ہیں، بھارتی ٹیم فیورٹ ہے لیکن ٹی 20 میں کچھ بھی ہوسکتا ہے جبکہ امارات کے کنڈیشن سے ہم واقف ہیں جو ہمیں سوٹ کرتا ہے۔

  • پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں 24 اکتوبر بروز اتوار کو میدان میں اتریں گی-

    باغی ٹی وی : پاک بھارت کرکٹ میچ کی مقبولیت کی ہر طرف چرچے ہیں اور ہر کوئی دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ دیکھنے کے بے چین ہے اور بے صبری سے ان گھڑیوں کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ یہ میچ صرف ٹی وی پر 30کروڑ مقامات پر دیکھا جائے گا۔

    رپورٹس کے مطابق 5 کروڑ شائقین مقابلہ ڈیجٹلی دیکھیں گے جبکہ ریڈیو کی کمنٹری اور سینما گھروں میں بھی میچ دکھایا جائے گا۔

    پاکستان جیت سکتا ہے:ساروگنگولی:-بھارتی ٹیم فیورٹ، ٹی 20 میں کچھ بھی ہوسکتا…

    پاک بھارت ٹاکرے پر ٹی وی اشتہار کروڑوں روپے فی منٹ ہوگئے ہیں بھارت میں اسٹاراسپورٹس پر دس سیکنڈز کا اشتہار پاکستانی روپوں میں 60لاکھ روپے کا ہوگا یعنی ایک منٹ کے ریٹ 3 کروڑ60 روپے ہوں گے۔

    اگر دو امیدوار شراکت سے ٹائم سلاٹ بک کرنا چاہتے ہیں تو قیمت 60 سے 70 کروڑروپے جبکہ ایسوسی ایٹ اسپانسر شپ کی قیمت تقریبا 30 سے 40 کروڑ روپے فی منٹ ہے۔

    واضح رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ2021 کے دوران29 دن میں 45 میچز ہوں گے اورفائنل میچ 14 نومبر کو دبئی میں ہوگا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نمیبیا، آئرلینڈ کو ہراکر سپر 12 میں داخل ہوگیا

    واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ سارو گنگولی نے پیشن گوئی کی تھی کہ پاکستان جیت سکتا ہے سارو گنگولی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بطور کھلاڑی کبھی پاک بھارت میچ کا پریشر نہیں لیا ایک وقت تھا کہ پاکستان ٹیم حاوی رہتی تھی لیکن آج کل بھارتی ٹیم اچھی فارم میں ہے ۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ ساروگنگولی نے کہا کہ ورلڈ کپ میں بھارت کا ریکارڈ پاکستان کے خلاف اچھا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ہر وقت بھارت ہی بڑے ایونٹس جیتےپاکستان بھارت میچز میں سب سے زیادہ دباؤ ٹکٹوں کی مانگ کا ہوتا ہے۔

    دوسری طرف غیر ملکی خبر ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو میں قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ایک ہفتہ پہلے تک مجھے ٹیم سے متعلق کچھ خدشات تھے،لیکن حالیہ تبدیلیوں کے بعد ہماری ٹیم بہترین کمبی نیشن بن گئی ہے۔

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم نے 24اکتوبر کو پاک بھارت بڑے ٹاکرے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے سینئر کھلاڑی کئی سال بھارت کے خلاف کھیلتے رہے ہیں، بھارتی ٹیم فیورٹ ہے لیکن ٹی 20 میں کچھ بھی ہوسکتا ہے جبکہ امارات کے کنڈیشن سے ہم واقف ہیں جو ہمیں سوٹ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

  • کشف الاسرار تحریر کاشف علی

    1400 سو سال پہلے آج ہی کے دن یعنی 12 ربیع الاول کو12 ربیع الاول سن 11 ھجری سوموار کا دن اور زوال سے پہلے کا وقت ہے۔ سورج کی زرد کرنیں زمین سے ٹکرا رہی ہیں ۔نبی کریم رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کیساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔ پانی کا پیالہ پاس رکھا ہوا ہے۔ اس میں ہاتھ ڈالتے اور چہرہ انور پر پھرا لیتے ہیں۔ روئے اقدس کبھی سرخ اور کبھی زرد پڑ جاتا ہے۔ زبان مبارک آہستہ آہستہ حرکت میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور موت تکلیف کیساتھ ہے۔ یہ الفاظ ورد زبان ہیں۔حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنھما ایک تازہ مسواک لیے سامنے آتے ہیں۔آپ کی نظر مسواک پر جم جاتی ہے۔ ادھر اماں عائشہؓ سمجھ جاتی ہیں کہ آپﷺ مسواک فرمانا چاہتے ہیں۔ ام المؤمنین نے مسواک اپنے دانتوں میں نرم کرکے پیش کی اور آپﷺ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک استعمال کی اور ہھاتھ اونچا فرمایا گویا کہ کہیں تشریف لے جا رہے ہیں اور زبان اقدس سے فرمایا۔ بل الرفیق الاعلی۔اب کوئی اور نہیں صرف اسی کی رفاقت منظور ہے۔ بل الرفیق الاعلی ، بل الرفیق الاعلی۔ تیسری آواز پر ہاتھ نیچے کو لٹک آئے ،آنکھ کی پتلی اوپر کو اٹھ گئیاور روح مبارک عالم قدس کو ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گئی۔اللھم صل علی محمد و علٰی آل محمد و بارک وسلم۔ عمر مبارک قمری حساب سے63 سال4 دن ہے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس غم ہائے بیکراں اور حادثہ دلفگار (دل کو چیر دینے والا حادثہ) کی خبر فوراً مدینہ میں پھیل گئی تب عمرؓ کھڑے ہوے تلوار نکالی اور کہا جس نے کہا رسول اللہؐ فوت ہوگئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا یہ عالم جذبات تھا عمرؓ شدت جذبات سے تقریر کر رہے تبھی ابوبکرؓ آئے نبیؐ کا دیدار کیا چہرہ اقدس سے کپڑا اٹھا کر پیشانی مبارک پر بوسہ دیا پھر چادر واپس ڈال دی اور روتے ہوئے فرمایا، حضورﷺ پر میرے ماں باپ قربان آپﷺ کی زندگی بھی پاک تھی اور آپﷺ کی موت بھی پاک ہے، واللہ اب آپﷺ پردوموتیں وارد نہیں ہوں گی، اللہ نے جو موت لکھ رکھی تھی۔ آج آپﷺ نے اسکا ذائقہ چکھ لیا ہے اور اب اسکے بعد ابد تک موت آپﷺ کا دامن نہیں چھو سکے گی۔. اور باہر تشریف کائے اور عمرؓ جوش میں تقریر کر رہے تھے کہ خبردار نبیؐ فوت نہیں ہوے بلکہ حضرت موسیٰؑ کی طرح 40 دن کے لیے گئے ہیں وغیرہ اس دوران ابو بکرؓ نے عمرؓ سے فرمایا عمر رکو میری بات سنو مگر عمرؓ جوش سے تقریر کر رہے تھے تب ابوبکر ؓ نے لوگوں اپنی طرف بلایا لوگ عمرؓ کو چھوڑ کر ابوبکرؓ کی طرف آئے حمد و ثناء کے بعد فرمایا جو جو محمدؐ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے( ان محمد قد مات )تحقیق بے شک محمدؐ وفات پاچکے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ حی القیوم ہے اور یہ آیات پڑھیں
    وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ
    ترجمہ:

    اور محمد (خدا نہیں ہیں) صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا

    یہ آیت سن کر صحابہ کو لگا کہ جیسے یہ آیت آج ہی اتری ہے تب یہی12 ربیع الاول کا دن تھا عمرؓ فرماتے ہیں کہ ابوبکرؓ سے یہ آیت سن کر میرے پاؤں ٹوٹ گئے اور کھڑے رہنے کی قوت باقی نہیں رہی تھی، میں زمین پر گر پڑا اور مجھ کو یقین ہوگیا کہ واقعی محمدؐ رحلت فرما گئے ہیں۔صحابہ کلیجہ تھام تھام کر رو رہے کچھ سمجھ نہیں جو بیٹھے تھے شدت غم سے کھڑا نا ہوا جارہاتھاکئی صحابہ حیران وسرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے۔ کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا، جو کھڑا تھا اس کو بیٹھ جانے کا یارانہ ہوا۔ مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی . مدینہ فضا سوگوار تھی صحابہ زارو زار آنسو بہا رہے دنیا سے بہت بڑی رحمت رخصت ہو چکی تھی انکے محبوبؐ ان سے جدا ہو چکے شدت غم سے کلیجے پھٹے جارہے تھے یقینًا 12 ربیع الاول کا دن تھا آنکھوں سے آنسووں کی لڑیاں ذباں سے درود سلام یقینًا یہ صدمہ اولاد اور مال و جان سے بڑھ کر تھا کیوں کہ وہ حقیقی طور نبیؐ سے اپنی مال و جان اولاد سے بڑھ کر محبت رکھتے تھے بھلا کسی کا ایسا رحیم نبی اور ایساکریم سردار ہوسکتا ہے
    فضاء اداس اور ملول ہے دنیا کی تاریخ کا سب بہترین اور رحمت بھرا دور اختتام پذیر ہو رہا تھا آج کا سورج افسردہ تھا 12 ربیع الاول مدینے کی یہ شام غمگین اور افسردہ تھی آنسووں سے فضاء نمناک تھی اگرچہ انسانوں اور فرشتوں کے جھنڈ کے جھنڈ آرہے تھے مگر اتنے رش کے باوجود مدینہ ویران ویران لگ رہاتھا جس کے سبب اس عالم پر اک خصوصی رحمت تھی آہ! کہ آج اسی وجود سرمدی سے ہماری دنیا خالی ہے۔
    اس سوگوار اور نمناک فضاء میں اک دلدوز غم سے بھری آنسووں سے لبریز صدا بلند ہوتی تھی ۔آہ! وہ کون ہے جو جبرائیل امیں کو اس حادثۂ غم کی اطلاع کر دے۔الٰہی! فاطمہؓ کی روح کو محمدؐ کی روح کے پاس پہنچا دے۔ الٰہی! مجھے دیدار رسول کی مسرت عطا فرما دے۔
    حضرت فاطمہؓ کی آنکھ سے آنسو نا رکتے تھے آج فاطمہؓ کے بابا ان سے بچھڑ گئے تھے کیا فاطمہؓ کے بابا جیسا کوئی بابا ہوسکتا ہے وہ جو پتھر کھا کر دعا کرے وہ جو دو جہانوں کے لیے رحمت تھا آج کا12 ربیع الاول کا دن تھا فاطمہؓ کا پیارا بابا ان سے جدا ہوگیا تھا
    حضرت عائشہؓ اور تمام ازواج مطہرات شدت غم سے نڈھال ہیں بھلا ایسا محبوب وعظیم شوہر دنیا میں جس کی مثال نہیں آج عائشہؓ کے سر کے تاج رخصت ہوچکے ہیں سرکار دو عالمؐ رحمةللعالمین رخصت ہوے
    بلالؓ ہائے بلالؓ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ گئے ان کے آقاؓ ان سے بچھڑ گئے ہیں بلالؓ شدت غم سے نڈھال ہیں صدمہ اسقدر زیادہ ہے کہ بلالؓ نے اس کے بعد ازان نہیں کہی اور گلیوں میں لوگوں سے کہتے تھے لوگو تم نے رسول اللہؐ کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو حتیٰ کہ مدینہ چھوڑ دیاکافی عرصہ بعد واپس آئے تو سیدنا حسنین کریمین سے سفارش کروائی گئی جب آپ نے آزان دی جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ کے کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔

    علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

    اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
    نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
    12 ربیع الاول کے دن اس ذمین کا سب بہترین وقت اختتام پذیر کیونکہ نبیؐ نے فرمایا
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب میں بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر جو ان سے نزدیک ہیں، پھر جو ان سے نزدیک ہیں پھر جو ان سے نزدیک ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ٹھیک سے نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ کے بعد دو کا ذکر فرمایا یا تین کا ذکر فرمایا۔ پھر ان کے بعد وہ لوگ پیدا ہوں گے جو گواہی کے مطالبہ کے بغیر گواہی دیں گے، خائن ہوں گے اور امانتداری نہ کریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے اور ان میں موٹاپا پھیل جائے گا۔

  • دو رنگا تاریخی شہر۔۔ تحریر ملک صداقت فرحان

    اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں بیک وقت چار چار موسم موجود ہوتے ہیں۔۔۔ جہاں ہر قسم کی سبزی ہر قسم کا پھل اور ہر قسم کی جڑی بوٹی اگتی ہے۔۔۔ جہاں دنیا کے ذہین ترین لوگ پائے جاتے ہیں۔۔۔ جہاں دنیا کے خوبصورت ترین اور دلکش سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ وطن پاکستان جہاں اللہ کی عطا کردہ تمام تعمتوں سے مالامال ہے وہیں وطن عزیز پاکستان کے چند علاقے ایسے ہیں جو اللہ کے بندوں کی لالچ، بغض اور حسد کی بھینڑ چڑگئے ہیں ان علاقوں میں بدصورتی راج کرتی ہے۔۔۔ ان بدنصیب علاقوں میں سے ایک علاقہ لاہور ہے۔

    لاہور وہ علاقہ ہے جو موجودہ دور میں پنجاب کی سیاست کا مرکز ہے اور ماضی میں برصغیر کی قدیم تاریخ کا اہم حصہ رہا ہے لاہور میں تاریخ کے کچھ ان مٹ نقوش ابھی بھی موجود ہیں جو لاہور کے تاریخی ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں مثال کے طور پر بادشاہی مسجد، شیش محل، شاہی قلع، شالیمار باغ اور مقبرہ جہانگیر وغیرہ یہ الگ بات ہے کہ ان کی دیکھ بھال اور حفاظت نہ ہونے کے برابر ہے خیر۔۔۔

    لاہور پچھلے کئ سالوں سے مختلف سیاستدانوں کی آپسی رنجش اور سیاست کی وجہ سے پس رہا ہے۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے تک لاہور کافی خوبصورت اور صاف ستھرا تھا لیکن آج کل لاہور کسی مچھلی بازار کا منظر پیش کررہا ہے لاہور میں کئی کئی گھنٹے سڑکیں بلاک رہتی ہیں (شہری بہت پریشان ہیں آئے روز سڑکیں بلاک کی وجہ سے کہیں نہ کہیں لڑائی جھگڑا ہوتا ہے شہری اپنی اپنی منزلوں پر وقت پر نہیں پہنچ پاتے)، گٹروں کا گندا پانی سڑکوں پر جمع رہتا ہے (جس کی وجہ سے ہر آنے جانے والوں کے کپڑے پلیت ہوتے ہیں اور انہیں بو الگ سونگھنی پڑتی ہے)، اکثر گاڑیاں گردو غبار اڑاتے اور دھواں چھوڑتے ہوئے گزرتی ہیں، (جس کی وجہ سے جلد کی بیماریاں نزلہ ذکام کھانسی ہوتی ہے)، پورے لاہور میں پینے کا پانی ناقابل استعمال حد تک گندا ہوچکا ہے جوکہ کئی بیماریوں کی وجہ بن رہا ہے۔

    جب الیکشن قریب آتے ہیں تو سوئے ہوئے امیدوار جو پچھلی بار عوام کے ووٹوں سے ایم این اے یا ایم پی اے منتخب ہوئے ہوتے ہیں تو قرسیوں کے مزے لوٹ کر دوبارہ ووٹ مانگنے آ کھڑے ہوتے ہیں جھوٹے لارے لگا کر عوام کو بے وقوف بناکر ووٹ لے کر منتخب ہوکر پھر اگلے پانچ سالوں کے لیے غائب ہو جاتے ہیں عوام ہر بار کی طر خجل کی خجل ہوتی رہتی ہے۔ قصور عوام کا ہے جو ہر بار ایک ہی جگہ سے ٹھڈا کھاتی مگر گزرتی پھر بھی ادھر سے ہی ہے۔۔۔

    لاہور کو شریف برادران نے سیاست میں آکر ایک نئی شکل دے دی۔۔۔ شریف برادران نے سیاست میں آکر جگہ جگہ میٹرو اور اورنج لائن میٹرو ٹرین کے فلائی اوورز، سڑکیں اور انڈر گراؤنڈ پاسز بنا دیے باقی لاہور ویسے کا ویسے ٹوٹا پھوٹا پڑا ہے اگر نواز حکومت نئے فلائی اوورز، سڑکیں اور انڈر پاسز بنانے کی بجائے لاہور پر توجہ دیتی، لاہور کے تمام مسائل ختم کرتی اور لاہور کو آلودگی سے پاک کرتی تو آج لاہور بہترین اور خوبصورت شہر کا حسین منظر پیش کر رہا ہوتا۔

    میری حکومت وقت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ لاہور پر توجہ دے لاہور کو صاف ستھرا کرے لاہور کے سیورج کا نظام ٹھیک کرے سڑکیں ٹھیک کرے فلٹریشن پلانٹس لگاکر پانی کو قابل استعمال بنائے، بڑی گاڑیوں کا داخل شہر میں ممنوع قرار دے اور ٹریفک کا ٹریفک کی روانگی کا مناسب انتظام کرے یعنی لاہور کی تمام خامیوں کو دور کرے تاکہ آئندہ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں کی فہرست میں اسلام آباد کے بعد لاہور کا نام آئے۔

  • پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    حصہ دوم:
    بنگلہ دیش کی اس حیران کن ترقی کی دو اہم وجوہات نظر آتی ہیں، تعلیم اور
    خواتین۔ 1980ء کی دہائی میں تعلیم کی شرح بہت کم تھی۔خاص طور پر  خواتین میں
    تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور نہ ہی ملکی ترقی میں ان کا کوئی کردار
    تھا۔ لیکن حکومت اور سماجیتنظیموں نے تعلیم کے فروغ کے لیے کام شروع کیا ۔ سب
    سے زیادہ زور خواتین کی تعلیم پر دیا گیا۔

    بنگلہ دیش نے تعلیم نسواں کوعام کیا اور انہیں بااختیار بنایا تو یہی خواتین
    بنگلہ دیشی معیشت کا ستون بن گئیں۔ اگر پاکستان بھی اپنیخواتین کو بااختیار
    بنانا چاہتا ہے تو اسے بنگلہ دیش کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا بنگلہ دیش کی مثال
    کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیم (بالخصوصلڑکیوں کی تعلیم) کو فروغ دینے کے لیے
    اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم اور
    ملکیترقی میں خواتین کی شمولیت مہمیز کا کام کرتی ہے۔

    فی کس آمدنی اور سالانہ شرح ترقی میں وہ ہمیں پہلے ہی بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
    بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات41 ارب ڈالر جبکہپاکستان کی 25 ارب ڈالر سے کم ہیں،
     اور بنگلہ دیش کی درامدات 43 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی درامدات 56 ارب ڈالر ہو
     چکی ہیں۔بنگلہ دیش پر کل غیر ملکی قرضہ اس وقت 35 ارب ڈالر کے قریب جبکہ
    پاکستان میں 87 ارب ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش میں بے روزگاریکی شرح %4 جبکہ پاکستان
    میں بے روزگاری %6 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش کی %33 آبادی صنعتوں سے منسلک ہو چکی
    ہے اور  پاکستان کی صرف %20 صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اعتبار سے بھی
     ہم بنگلہ دیش سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ عالمیبینک کے مطابق ان کی شرح خواندگی
     74 فیصد جبکہ ہماری 59 فیصد ہے۔

    معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی حکمت عملیوں میں سے ایک اس کے تعلیمی
     نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری کے حصول کا
    ذریعہ نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جس کو صنعتی نظام کے ساتھ
    منسلک کیا جا سکے اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہو۔

    بنگلہ دیش کی حکومت انگریزی زبان کی تعلیم، اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ
    دینے اور آسٹریلیا ، فرانس ، امریکہ ، جاپان اور جرمنیجیسے ممالک کے ساتھ
    تبادلے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت بیک وقت بنگلہ دیش میں غیر ملکی طلباء اور
    محققین کی تعداد بڑھانے کیکوشش میں مصروف عمل ہے۔

    مرکزی حکومت نے معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا ، جس کا
    بنیادی مقصد جدید صنعت اور سرمایہ کاری کیصلاحیت کو مضبوط بنانا ہے جس نے
    صنعتوں کو پیداوار کے حجم کو بڑھانے کی ترغیب دی۔ ریاست نے سبسڈی کے ذریعے کسی
    بھی نقصان کو پورا کیا۔ انڈسٹری نرم بجٹ کی پابندی کے تحت چلائی گئیں ۔ ریاست
    نے اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا۔ کمپنیوں کوپیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے
    مختلف قسم کی مفت گرانٹ دی گئی ، جنہیں کیپٹل اسٹاک میں اضافے کے طور پر محسوس
    کیا گیا۔

    کپاس درآمد کرنے کے باوجود بنگلہ دیش چین کے بعد جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے
    بڑا گارمنٹس کا برآمد کار بن چکا ہے، جبکہ کپاسکے معاملے میں خود کفیل ہونے کے
     باوجود ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    بنگلہ دیش میں  گارمنٹس کی تقریباً 5 ہزار صنعتیں ہیں۔ یہ شعبہ لاکھوں کی تعداد
     میں عوام کو روزگار مہیا کرتا ہے، جن میں سے 80 فیصدخواتین ہوتی ہیں۔

    بنگلہ دیش کی صنعتی ترقی نے اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں بہت مدد کی۔
    لیکن ہمارے ہاں نئی صنعتیں قائم ہونے کی بجائےپرانی قائم کی گئی صنعتیں بھی ختم
     ہو رہی ہیں۔

    بنگلہ دیش کی کامیابی تمام دنیا کے لیے مثال ہے۔ جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد
     کو خط غربت سے نکالنے میں صرف پندرہ ساللگے۔ دنیا اس کامیابی پر حیران ہے۔
    مختصر یہ کہ بنگلہ دیش نے اپنے سب سے کم استعمال شدہ اثاثوں یعنی اپنے غریب
    طبقے میںسرمایہ کاری کی ہے۔ ان میں تعلیم عام کی، صنعتوں کی طرف راغب کیا۔ اس
    دوران حکومت کی توجہ کا تمام تر مرکز پسماندہ اورسب سے کم پیداواری شعبوں پر
    رہا کیونکہ وہیں سے سب سے اچھے نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ وہ لوگ محنتی اور
    سختیاں برداشتکرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لیے آگے بڑھنے کی خواہش میں مشکل سے
    مشکل کام کر گزرتے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ یہیلوگ ملک کا اصل سرمایہ ہوتے
    ہیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • سخن اور پوچھ کا تماشا تحریر: محمد عتیق گورائیہ

     

    ؎میں بھلا کب تھا سخن گوئی پہ مائل غالبؔ

    شعر نے کی یہ تمنا کے بنے فن میرا

    حضرت غالب کا تو کیا ہی کہنا۔ مذکورہ شعر میں لفظ سخن پر کچھ دیکھا، سنا اور پڑھا ہے جسے آج قارئین کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔فارسی زبان سے اردو زبان میں یہ لفظ آیا ہے اور اس سے مراد نطق، گفتار، قول،معاملہ اور اعتراض و شک ہے۔اگر اس کے مترادفات کی بات کروں تو سنسکرت سے بات، فارسی سے گرفت اور عربی سے کلام کو دیکھا جاسکتا ہے۔سخن کو اگر انگریزی میں دیکھیں تو اس کا مترادف Sayبنتا ہے۔اب اگر اسی Sayکو لے کر چلوں تو یہ لفظ قدیمی جرمن کے لفظ "ساخن” سے نکلا ہے۔ آج کل کہنا کو جرمنی زبان کے لفظ ساگن میں دیکھا جاسکتا ہے۔مجھے انگریزی زبان کا لفظ Saga(لمبی کہانی) اسی ساگن سے ماخوذ لگتاہے۔ قدیمی انگریزی زبان کے لفظ secganکو جرمنی زبان سے لیا گیا ہے جسے saggjanکہتے ہیں اور اس کا مطلب”کہنا”ہی ہے۔یہی بعدمیں seyenہوا اور پھر شکل بدل کر Sayہوگیا۔مفروضے کے مطابق ہندیورپی زبانوں سے قبل کے ایک لفظ Sekwسے اسے لیا گیا ہے جس کے تعلقات جرمنی کے مغربی زبانوں سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اب اگر فارسی و اردو کے سخن کو سامنے رکھ کر قدیمی جرمن زبان کے ساخن پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کچھ نہ کچھ انسانوں کی طرح ان زبانوں میں بھی مشترکہ رہا ہے جو اپنی شکلیں تبدیل کرتے کرتے ترقی یافتہ تو ہوچکی ہیں لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ اصل لیے بیٹھی ہیں۔ ضمناََ عرض کردوں کہ لفظ بات کی اصل "واتترا” ہے جس سے بات نکلا اور پھر اس قدر استعمال ہوا کہ اردو زبان کا ہی لفظ بن گیا اس پر بات کسی اور دن کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔سخن کے مرکبات دیکھیں تو سخن سرائی،سخن سنج،سخن سناشی،سخن آرائی،سخن آفرین، سخن پروراور سخن طراز وغیرہ کی ایک لمبی فہرست ہے۔اظہر فراغ کا شعر ہے

    ؎اس سے ہم پوچھ تھوڑی سکتے ہیں

    اس کی مرضی جہاں رکھے جس کو

    اس شعر میں لفظ پوچھ کا استعمال تو ہمارے ہاں عام سی بات ہے۔اس پر کبھی غور کرنا گوارا ہی نہیں کیا کہ کون پوچھتا پھرے جہاں بھر سے۔یہ لفظ سنسکرت کے لفظ پرچھاسے بنا ہے۔ رگ وید میں یہ لفظ پرچھتی (وہ پوچھتا ہے)کی شکل میں استعمال ہوا ہے جہاں اس کا ایک اور روپ پرشتابھی ہے۔ ماہرین لغت کہتے ہیں کہ ان لفظوں میں بنیادی لفظ پرچ (Prach) ہے۔ سنسکرت کا یہ لفظ فارسی، پشتو اور روسی زبانوں کے قریب ہے۔ روسی زبان میں پوچھنا Pros ہے جو کہ روسی لفظ Prositبمعنی پوچھنا میں ظاہر ہوتا ہے۔پشتو میں یہی لفظ Pos(پوس)ہے جہاں پر”ر” گرا کر کام چلایا گیا ہے اور پھر اسی سے لفظ تاپوس بن جاتا ہے۔فارسی میں پرسیدن میں یہ شکل مجھے نظرآتی ہے۔ جب ہم روسی Vopros، پشتو تاپوس اور ہندی پرشن کو دیکھتے ہیں تو اردو والا پوچھنا ان کا خونی رشتے دار لگتا ہے۔ میری مونئرولمیزکی لغت کے مطابق پوچھنے اور دریافت کرنے جیسے لفظوں میں مادہPrachضرور آتا ہے۔جرمنی زبان کے Fragen(فراگے) کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ یہ لفظ پہلے Vrage (وراگے)تھا جو Frahen (فراہن) سے بنا تھا۔ اس کا مادہ Prk(پرک) بتایا جاتا ہے جو پرچ کے مشابہہ لگتا ہے۔آگے ایک لمبی فہرست ہے جو کہ انگریزی زبان میں اسی مادے سے الفاظ کو مختلف شکلوں اور معنوں میں ڈھال لیتی ہے۔پشتو زبان کی طرح لاطینی زبان میں بھی "پوس” ملتا ہے جو کہ انگریزی زبان کے لفظ Postulateمیں نظر آتا ہے جوکہ لاطینی Procereسے بنا ہے۔یہ لفظوں کا سمندر تو مزید گہرا ہوتا جارہا ہے اور ہم ابھی اتنے ماہر نہیں ہوے ہیں کہ لمبی تیراکی کرسکیں۔راغب دہلوی کہتے ہیں کہ

    ؎قطروں سے سمندرکا بنانا نہیں مشکل

    قطرے میں سمندرکوسمونے کی ادا سیکھ