Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت بابر اعظم کریں گے جب کہ شاداب خان ان کے نائب ہوں گے۔ اس کے علاوہ آصف علی ، فخر زمان، حیدر علی، حارث رؤف، حسن علی اور افتخار احمد کو بھی سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

    عماد وسیم، خوش دل شاہ، محمد نواز ، محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر، سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی، شاہ نواز دھانی اور عثمان قادر بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔


    سینئر کھلاڑی شعیب ملک کو بھی بنگلہ دیش کے خلاف سکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے تاہم ان کی فٹنس اور پرفارمنس دیکھ کر یوں ہی لگتا ہے کہ وہ مزید بھی کھیلیں گے۔

    دوسری جانب کرکٹر محمد حفیظ نے خود ہی معذرت کرلی تھی جس کے باعث انہیں سکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

  • پہلا ون ڈے: ویسٹ انڈیزویمن ٹیم نے پاکستان ویمن ٹیم کو 45 رنز سے شکست دے دی

    پہلا ون ڈے: ویسٹ انڈیزویمن ٹیم نے پاکستان ویمن ٹیم کو 45 رنز سے شکست دے دی

    ویسٹ انڈیز کی ویمن کرکٹ ٹیم نے پاکستان کی ویمن ٹیم کو پہلے ون ڈے میچ میں 45 رنز سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کراچی میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈین ویمن ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 253 رنز بنائے جس کے جواب میں گرین شرٹس نو وکٹوں کے نقصان پر صرف 208 رنز ہی بنا پائیں۔

    ویسٹ انڈیز ویمن کرکٹ ٹیم نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اوپنر آنے والی ڈینڈرا ڈاٹن نے 132 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ آل راؤنڈر ہیلی میتھیوز نے 57 رنز بنائے، انہوں نے تین وکٹیں بھی لیں۔

    پاکستان کی طرف سے انعم امین نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹس لیں اس کے علاوہ فاطمہ ثنا نے دو اور نشرح سندھو نے ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔

    پاکستان کی طرف سے عالیہ جاوید 46 اور ارم جاوید 40 رنز سکور کرکے نمایاں رہیں اس کے علاوہ اوپننگ بیٹر منیبہ علی نے 28، کائنات امتیاز نے 24 اور سدرہ نواز نے 23 رنز بنائے-

    ویسٹ انڈیز کی طرف سے ہیلی میتھیوز سب سے کامیاب باؤلر رہیں جنہوں نے 10 اوورز میں 31 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اس کے علاوہ شکیرا سلمان نے دو، انیسہ محمد اور کیانا جوزف نے ایک ایک بیٹر کو پویلین کی راہ دکھائی۔

  • ورلڈ کپ سے باہر ہونے پرانڈین ہیڈ کوچ روی شاستری کا انوکھا جواز

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے پرانڈین ہیڈ کوچ روی شاستری کا انوکھا جواز

    دبئی: انڈین کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ روی شاستری کا کہنا ہے کہ مسلسل کھیلنے کی وجہ سے انڈین ٹیم ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انڈین چینل سٹار سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے روی شاستری نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے انڈین ٹیم بائیو سکیور ببل میں ہے، پورا سٹاف اور ٹیم ذہنی طور پر تھکاوٹ کا شکار ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آئی پی ایل کے درمیان زیادہ لمبا وقفہ ہونا چاہیے تھا تاکہ کھلاڑیوں کو آرام کا موقع مل سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل اور ورلڈ کپ میں وقفہ کوئی بہانہ نہیں ہے، ہماری ٹیم ہارنے سے خوفزدہ نہیں ہے، جیت کی کوشش میں آپ یقیناً ہارتے بھی ہیں زند گی میں یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے کیا کامیابیاں حاصل کیں بلکہ کبھی یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ نے کن خامیوں پر قابو پایا۔

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

    اپنی کوچنگ کے حوالےسے روی شاستری کا کہنا تھا کہ ان کا یہ تجربہ شاندار رہا، جب انہوں نے کوچنگ کیلئے حامی بھری تو اپنے ذہن میں کہا کہ وہ فرق پیدا کریں گے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فرق ڈالا ہے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ٹیم انڈیا نے جو کچھ حاصل کیا ، جس طرح انہوں نے تمام فارمیٹس میں پوری دنیا میں پرفارمنس دکھائی ہے ، یقیناً یہ سب اسے دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین ٹیم بنا دے گا۔

    خیال رہے کہ بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں آج اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیل رہی ہے لیکن اس میچ میں فتح یا شکست سے قطع نظر بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور اس میچ کے بعد روی شاستری کی بطور ہیڈ کوچ چھٹی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کپتان ویرات کوہلی بھی ٹیم کی قیادت سے فارغ ہو جائیں گے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں شکست خوردہ بھارتی ٹیم کی مرمت کے لیے”گندے انڈے…

    پاکستان نے بھارت کو پہلے میچ میں 10 وکٹوں سے شکست دی اور پھر اگلے میچ میں نیوزی لینڈ نے بھی بھارتی ٹیم کو 8 وکٹوں سے مات دے کر ایونٹ کے اگلے مرحلے تک رسائی انتہائی مشکل بنا دی تھی بھارت کو اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے افغانستان کی مدد درکار تھی لیکن نیوزی لینڈ نے افغان ٹیم کو شکست دے کر سیمی فائنل میں خود جگہ بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کے ارمانوں پر بھی پانی پھیر دیا بھارت کے ورلڈ کپ سے اخراج پر عوام اور سابق کرکٹرز کے غم و غصے کے ساتھ ساتھ شدید تنقید کا بھی سامنا ہے۔

  • امریکی دوغلا پن سامنے آنے لگا، تحریر: عفیفہ راؤ

    امریکی دوغلا پن سامنے آنے لگا، تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک طرف امریکہ تشویش میں مبتلا ہے اور چین کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھا رہا ہے اور دوسری جانب سعودی عرب سے کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈیل کی جا رہی ہے یہ ہے امریکہ کا وہ دوغلا پن جو اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ہو یہ رہا ہے کہ پینٹاگون نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق چین بہت زیادہ تیزی سے جوہری ہتھیاروں پر کام کر رہا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو 2027تک چین کے پاس700Delivery able neuclear war heads
    ہو سکتے ہیں اور2030تک یہ تعداد ایک ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پینٹاگون کے مقابلے میں چین کے پاس ڈھائی گنا زیادہ جوہری ہتھیار تیار ہو جائیں گے۔دراصل امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس کے سامنے ایک سالانہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں چینی فوجی پیش رفت کے حوالے سے صاف بتایا گیا کہ چین کسی ایک سمت میں نہیں بلکہ اپنے زمینی، سمندری اور فضائی تمام ایٹمی ترسیل کے پلیٹ فارمز کی تعداد میں سرمایہ کاری اور توسیع کر رہا ہے اور اپنی ایٹمی طاقت کی اس توسیع کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ چند ہفتوں پہلے کئی امریکی ریسرچرز مغربی چین میں نئے جوہری میزائل سائلوس کی سیٹیلائٹ تصاویر پہلے ہی شائع کر چکے ہیں۔

    اور اس تمام پیش رفت کی وجہ سے امریکی دفاعی اہلکار چین کو مستقبل کے حوالے سے ایک تشویش ناک ملک قرار دے رہے ہیں اور اس کے ارادوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
    اس طرح کی باتیں اس لئے بھی کی جا رہی ہیں کیونکہ چین نے اپنے سرکاری منصوبے کے مطابق 2049تک پیپلز لبریشن آرمی کو عالمی معیار کی افواج میں تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ اور اگر چین اپنے جوہری ہتھیاروں پر اسی طرح تیزی سے کام کرتا رہا تو وہ یہ مقصد بہت پہلے یعنی2027 تک ہی حاصل کرلے گا جس کے بعد چین بہت آرام سے انڈو پیسیفک خطے میں امریکی فوج کا بھی مقابلہ کرسکے گا اور تائیوان کی قیادت کو بھی مجبور کر لے گا کہ وہ بیجنگ کی شرائط پر مذاکرات کی میز پرآجائیں اور انڈیا کو توبہت پہلے ہی چین اس کی اوقات دکھا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس وقت چین کے جوہری ہتھیاروں پر سوالات اٹھانا شروع کر دئیے ہیں۔چین کے مقابلے میں امریکہ کی ہار کے حوالے سے تو پہلے ہی باتیں ہونا شروع ہو چکی ہیں جس کا اعتراف خود امریکی عہدیداران بھی کر رہے ہیں اس کی ایک حالیہ مثال امریکی محکمہ دفاع کے سابق چیف سافٹ ویئر افسر نکولس شیلان کا استعفی بھی ہے جو انہوں نے یہ کہتے ہوئے دیا کہ Artificial Intellignceپر مشتمل ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا چین سے ہار چکا ہے اور آنے والے 15 سے 20 برسوں تک امریکا کی جیت کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔

    دراصل سپ پاور بننے کی دوڑ میں چین نے امریکہ کو اسی لئے اب پیچھے چھوڑ دیا ہے کہ وہArtificial Intellignceمیں بہت زیادہ جدت اور ترقی کر چکا ہے۔ چین اس وقت مشین لرننگ، سائبر صلاحیتوں اور ٹیکنالوجیکل ٹرانسفارمیشن میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔نکولس نے اپنے ایک انٹرویومیں صاف کہا کہ چین کے سامنے امریکی ٹیکنالوجی اب ایسی ہی ہے جیسے کے جی کلاس میں پڑھتا ایک بچہ۔جس کی ایک وجہ انہون نے یہ بھی بتائی کہ گوگل جیسی کمپنی امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ کام کرنے سے انکاری ہے جبکہ دوسری طرف چین میں دیکھیں تو ہر چائنیز کمپنی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے اور بھاری سرمایہ کاری بھی کی جا رہی ہے، چین نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس میں بے پناہ سرمایہ لگایا ہے۔ حالانکہ امریکا چین کے مقابلے میں اپنے دفاع پر تین گنا زیادہ خرچ کرتا ہے لیکن اس کا فائدہ اس لیے نہیں ہو رہا کیونکہ امریکا غلط شعبہ جات پر سرمایہ لگا رہا ہے۔ اپنے استعفے میں نکولس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ براہ مہربانی کسی ایسے میجر یا کرنل کو ٹیکنالوجی کے شعبے کا سربراہ لگانے یا ایک سے چار ملین صارفین کے ڈیٹا کا کلاؤڈ حوالے مت کریں جسے اس کام کا تجربہ ہی نہ ہو، کروڑوں ڈالر مالیت کا طیارہ بنانے کے بعد اسے اڑانے کے لیے بھی تو ایسے شخص کا انتخاب کیا جاتا ہے جسے سینکڑوں گھنٹے پرواز کا تجربہ ہو۔ تو آخر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے آئی ٹی کا تجربہ ہی نہ ہو اسے ٹیکنالوجی کے شعبے کا سربراہ بنا دیا جائے؟ ایسے شخص کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کرنا کیا ہے اور کس چیز کو ترجیح دینا ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے اصل کام سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔یعنی ایک طرف امریکہ کی پریشانی اور ہار ہے جو کہ اب نظر آنا شروع ہو چکی ہے خود امریکی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لیکن دوسری طرف امریکہ کا دوغلاپن دیکھیں کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈیل کر لی ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کو تقریبا 65 کروڑ امریکی ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے ایک سودے کو منظوری دے دی گئی ہے اور اس سودے کے تحت امریکا سعودی عرب کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے 280 جدید میزائل فراہم کرے گا۔ یہ جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کسی خلیجی ملک سے اب تک ہتھیاروں کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے یہ کہتے ہوئے اس سودے کی منظوری بھی دے دی ہے کہ گزشتہ ایک سال میں سعودی عرب کے خلاف سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اس لئے اس سودے کے زریعے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں ریاض کی مدد کی جا سکے گی۔ یہ فروخت امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کی قومی سلامتی کو ایک دوست ملک کی سکیورٹی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی، جو مشرق وسطی میں سیاسی اور اقتصادی پیش رفت کے لیے ایک اہم قوت ہے۔یعنی چین اپنے ہتھیاروں پر کام کرے تو نا جائز ہے لیکن اپنے دوست سعودیہ عرب کی مدد اور ایران کی مخالفت کے لئے امریکہ خود جو بھی کرے وہ سب جائز ہے۔یہاں تک کہ بعض امریکی حلقوں میں بھی سعودی عرب کے ساتھ میزائیلوں کے اس سودے پر اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔ لیکن امریکی وزارت خارجہ یہ کہہ کر اپنا دفاع کررہے ہیں کہ یہ ہتھیار زمینی حملے کے لیے نہیں ہیں اور میزائل صرف فضائی دفاع کے لیے ہیں۔ اور امریکی انتظامیہ نے یمن میں جنگ بندی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کی قیادت کرنے کا جو عہد کیا ہے یہ سودا اس سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ تاکہ سعودی عرب کے پاس ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے فضائی حملوں سے اپنے دفاع کے ذرائع موجود ہوں۔ماضی میں ہم نے دیکھا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کو ہر طرح کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی لیکن جوبائیڈن نے اپنی الیکشن کمپئین میں بھی اور صدر بن جانے کے بعد بھی اس پالیسی پر نظر ثانی کا اعلان کیا تھا۔ کیونکہ انھیں سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے حوالے سے ہمیشہ ہی کافی تشویش رہی ہے۔ اور ابھی کچھ دن پہلے تک بھی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ یمن میں سعودی عرب کے حملوں کی حمایت بند کرنے کے ساتھ ہی اسے ہتھیاروں کی فروخت پر بھی روک لگا دے گی۔ کیونکہ 2015 سے جب سعودی عرب نے اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کی تھیں اور حوثیوں کے ٹھکانوں کومیزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا تھا تب سے لیکر اب تک تقریبا چھ برس سے جاری اس جنگ میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے یمن اس وقت دنیا کے بد ترین انسانی بحران سے دو چار ہے۔

    لیکن نہیں کیونکہ یمن کے مقابلے میں دوسری طرف امریکہ کا دیرینہ دوست سعودیہ عرب ہے تو اس کے لئے سب جائز ہے اس کو ہتھیار دینے سے یہومن رائٹس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ لیکن یہ صرف ایک وجہ ہے اس ڈیل کی لیکن اس کے علاوہ بھی ایک اور وجہ ہے جس کے لئے امریکہ یہ ڈیل کرنے جا رہا ہے اور وہ ہے امریکہ کی کرونا کی وجہ سے گرتی ہوئی معیشت۔۔۔ دراصل اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لئے امریکی حکومت نے امریکی ریاستMassachusettsکی ہتھیار بنانے والی کمپنیRaytheonجو کہ ایڈوانس قسم کے اے آئی ایم 120 سی/7 سی- 8 درمیانی رینج کے میزائل بناتی ہے جو فضا سے فضا میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں پینٹاگون کی طرف سے اس کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا جا رہا ہے تاکہ امریکہ میں کروڑوں ڈالرز کی انویسٹمنٹ آئے اور اس کی معیشت کو سہارا ملے اور دوستی بھی نبھائی جا سکے ویسے بھی جب سے امریکہ کا افغانستان سے انخلاء ہوا ہے تو امریکہ کی یہ ہتھیار بنانے والی انڈسٹری کا کاروبار کافی متاثر ہوا تھا اس لئے اپنی دفاعی انڈسٹری کو دوبارہ اٹھانے کے لئے جو بائیڈن انتظامیہ کے لئے بہت ضروری تھا کہ اس طرح کا کوئی بڑا معاہدہ کیا جائے جو ان کی معیشت کو بھی سہارا دے اور ساتھ کے ساتھ دوستی نبھائی گئی۔

  • ڈیلیور کریں یا گھر جائیں، تحریر: نوید شیخ

    ڈیلیور کریں یا گھر جائیں، تحریر: نوید شیخ

    ایک جانب پیٹرول ، چینی اور بجلی کے بعد آٹا بحران سر اٹھا رہا ہے تو دوسری جانب موجودہ حالات کو عنیمت جانتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے کمر کس لی ہے ۔ اب پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ خوب احتجاج کیا جائے ۔ بلکہ دسمبر میں لانگ مارچ بھی پلان کیا جا رہا ہے ۔ رہی بات حکومت کی تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا قابل اور ذہین شخص ہی نہیں ہے جو موجود حالات میں پی ٹی آئی کی کشتی کو پار لگا دے ۔ الٹا ایسے بیانات اور اقدامات مزید کیے جار ہے ہیں کہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہو ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک نہایت ہی بھونڈا اور مضحکہ خیز قسم کا پرپیگنڈہ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پتہ نہیں کس افلاطون کا یہ آئیڈیا ہے ۔ پر یہ بری طرح پٹ گیا ہے ۔ کہ اورسیز پاکستانیوں سے مہنگائی پر صبر کرنے کےبھاشن دلوائے جائیں ۔ اس پر لوگ حکومت کو مزید لعن طعن کر رہے ہیں بلکہ اس پر بھی حکومت کے خلاف میمز کا طوفان شروع ہوچکا ہے ہونا بھی چاہیے ۔ کیونکہ اورسیز پاکستانیوں نے تو پاؤنڈزیا ڈالر میں کما کر روپوں میں خرچ کرنے کا مزہ دیکھا ہوا ہے مگر وہ روپوں میں کما کر ڈالر کی قیمتوں سے اشیاء خریدنے کا دکھ نہیں جانتے۔ پھر عمران خان پانچ سال کا حوالہ تو ایسے دے رہے ہیں جیسے ابھی ان کے اقتدار کی مدت پانچ سال باقی ہے ۔ حالانکہ وہ ساڑھے تین سال گزار چکے ہیں اور بمشکل ڈیڑھ سال باقی ہے۔ اب ان کا یہ فرمانا پانچ سال بعد دیکھیں گے غربت کم ہوئی یا زیادہ عوام کو مزید اشتعال دلانے کے مترادف ہے۔ ان کو یاد نہیں ہوگا میں پر یاد کروادیتا ہوں کہ ساڑھے تین برسوں میں وہ کبھی سال اور کبھی چھ ماہ بعد تو کبھی تین ماہ بعد اچھے دنوں کی نوید سناتے رہے ہیں۔ یہاں تک عطااللہ عیسا خیلوی نے بھی اچھے دن آئیں گے ۔۔۔ پر گانا بنا دیا تھا ۔۔۔ اب پتہ نہیں اب وہ ان برے دنوں پر بھی کوئی بناتے ہیں یا نہیں ۔ کیونکہ اچھے دن تو نہیں آئے بلکہ الٹا برے دنوں میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ وزیر اعظم در اصل پاکستانی عوام کو تکلیف اور آئی ایم ایف کو ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ آپ دیکھیں بجٹ کے بعد صرف تین مہینوں میں پیٹرول ڈیزل بجلی گیس، ایل این جی ، دوائیوں ، اشیائے خورد نوش اور مختلف ٹیکس کے مد میں تقریبا 475ارب روپے عوام کے جیب سے نکلوائے ہیں ۔ پھر2018 میں جی ڈی پی 5.8تھی اور اگلہ ٹارگٹ تھا کہ آئندہ چند سالوں میں 7.8تک لیجایا جائے گا ۔ پر عمران خان جن کے پاس پتہ نہیں کتنے تجربہ کار لوگوں کی ٹیم تھی انھوں نے 5.8 سے جی ڈی پی کو نیچے گرا کر 3.7 تک کردیا ۔ پھر 2018 میں ایکسپورٹ 28 بلین ڈالر تھی اور ٹارگٹ تھا
    40 بلین ڈالر تک لے جانا کا ۔ پر عمران خان نے ان ایکسپورٹس کو 28 بلین ڈالرز سے نیچے لا کر 25 بلین ڈالرز تک لے گرا دیا ۔ یہ ہے اس حکومت کی جادوگری ۔۔

    ۔ پھر حکومت کا مشیر خزانہ بتاتا ہے کہ اگر سمندر پار پاکستانیوں نے 29 ارب نہ بھیجا ہوتا تو معیشت ختم تھی ؟ اس سے واضح ہوگیا کہ اس حکومت کا انحصار بیرونی قرضے، بیرونی امداد اور بیرونی وسائل پہ ہے اسکے پلے کچھ بھی نہیں۔ نہ ان کے پاس پلان ہے نہ ہی یہ ملک کواندسٹرلائزیشن کے طرف ڈالنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ الٹا انھوں نے تو پرانے چلتے کاروبار بند کروادیئے ہیں ۔ تو یہ ہے وہ کارکردگی ۔ جس پر عمران خان اور ان کی پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ اگلا الیکشن بھی جیتیں گے ۔ اور عوام ان کے گلے میں ہار بھی ڈالیں گے ۔ معذرت کے ساتھ تبدیلی کا جنون اب صرف ان لوگوں میں زندہ ہے جن کا جیب خرچ ابھی تک والدین دیتے ہیں یا وہ پاکستانی جو چھٹیاں گزارنے یا کسی فوتگی یا پھر کسی شادی پر ہی پاکستان آتے ہیں ۔ یہ بھی بہت تھوڑی تعداد ہے اور یہ بھی اگر چند ماہ گرمیوں میں پاکستان آگئے تو حکومت کو گالیاں ہی نہیں پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہے گے ۔ اس لیے پی ٹی آئ والوں سے بحث کرکے اپنا وقت ضائع نہ کریں یہ صرف آپ کے سامنے ڈٹے ہوتے ہیں۔ اکیلے میں یہ بھی خود کو کوستے ہی ہیں ۔ پھر دیکھا جائے تو اس حکومت نے مہنگائی ختم کرنے کی ساری امیدیں ہی ختم کر دی ہیں وزیر اعظم نے عملاً ہاتھ نہیں کھڑے کئے ۔ ان کی باتوں سے یہی لگتا ہے وہ ہار مان گئے ہیں۔ کیونکہ آج پھرعمران خان نے وہ گھسا پیٹا بیان دیا ہے کہ کورونا سے عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پاکستان مہنگائی کے اعتبار سے دیگر ملکوں کے مقابلے میں اب بھی بہتر ہے۔ پھر انہوں نے چینی کی قیمتوں کے حوالے سے اٹک میں جو گفتگو کی وہ ایک بے بس حکمران کی تقریر تھی۔ جو ہار مان چکا ہو جو صرف یہ بتا رہا ہے میں نے یہ معلوم کیا، وہ معلوم کیا، جس سے دیکھائی دیا کہ چینی مافیا کے آگے انھوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں ۔ اب اگر حکومت ایک مافیا کے سامنے بے بسی کا اظہار کرے گی تو باقی مافیاز خودبخود اپنے دانت تیز کر لیں گے۔

    ۔ پھر منصوبہ بندی کا یہ عالم ہےکہ پی ٹی آئی کے کرتا دھرتاوں کو یہ نہیں معلوم کہ ملک میں ایل این جی کب اور کتنی امپورٹ کرنی ہے۔ یوں حکومت جلد عوام پرگیس اور بجلی کی کمی کا بحران بھی نازل کرنے والی ہے۔ یہ مذاق نہیں ہے کہ جن چیزوں مثلا آٹا،چینی ،کاٹن میں پاکستان خود کفیل تھا خان صاحب کی حکومت اربوں ڈالر ان اشیا کی درآمد پر خرچ کررہی ہے۔ حالات یہی رہے تو ملک میں غریب نام کا کوئی شخص زندہ نہیں ملے گا۔ اس وقت تو یہ لگ رہا ہے حکومت عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے۔ آج ہر شخص یہ دہائی دے رہا ہے صرف بازاروں ہی میں نہیں سرکاری دفاتر میں بھی لوٹ مچی ہوئی ہے۔ بیورو کریسی جتنی بے لگام اور بے خوف آج ہے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ سرکاری افسر عوام کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہے ہم بہت تھوڑے دنوں کے لئے تعینات ہوتے ہیں، جتنی لوٹ مچا سکتے ہیں مچا لیں اس کے بعد ٹرانسفر تو ہونا ہی ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف بھی ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے ۔ ان کو امید ہوچلی ہے کہ قبل ازوقت الیکشن ہوسکتے ہیں اور پھر اگلی باری ان کو بھی مل سکتی ہے ۔ یا کم ازکم نئی حکومت میں حصہ تو مل ہی جائے گا ۔ آج اگرپی ٹی آئی کی فلم کوپیچھے گھما کردیکھا جائے تومعلوم ہوگاکہ کس کس طرح عوام کو بے وقوف بنایا گیا تھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈ ر جو جو کچھ کیا تھا۔ آج قدرت وہی کچھ انہیں دکھا رہی ہے۔ ۔ دھاندلی دھاندلی کا شور یہ مچاتے تھے اب پتہ چلا ہے کہ حکومت میں آکر پی ٹی آئی خود دھاندلی میں ملوث ہوگئی ہے ڈسکہ الیکشن کے حوالے سے جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس کے بعد تو اپوزیشن کا یہ مطالبہ ٹھیک ہے کہ عمران خان بھی استعفی دیں اور قانون کا سامنا کریں۔ کیونکہ یہ ہی پوائنٹ لے کر تو عمران خان نے کئی بار اسلام آباد پرچڑھائی کی تھی ۔ اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس پر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کے سرمائے کی طرح لوگوں کے ووٹ اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار بھی لوٹنے اور چھننے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ڈسکہ رپورٹ آگئی ہے اور ووٹ چوری ثابت ہوچکی ہے۔ عمران نیازی بتائیں اب کس چیز کا انتظار ہے۔ اب کارروائی کی جائے۔ نواز شریف کی طرح وزیراعظم ہو کر قانون کا سامنا کرنے اور پیشیاں بھگتنے کے لئے بڑا دل گردہ چاہئے، اگر عمران نیازی طاقتور ہیں تو خود کو قانون کے نیچے لائیں۔
    ہم انتخابی اصلاحات، الیکڑانک ووٹنگ مشین اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان، عوام اور آئین کے خلاف سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر عوام کو غلام بنانے کا موجودہ حکومت کا سیاہ منصوبہ ناکام بنائیں گے۔

    ۔ یہ بیان سن کر ایسا نہیں لگتا کہ ماضی اپنے آپ کو دھرا رہا ہے ۔ عمران خان جو ماضی میں کہا کرتے تھے اب اپوزیشن بھی وہ ہی کہہ رہی ہے وہ ہی زبان استعمال کررہی ہے ۔۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈل بھی سامنے آئیں گے ۔ یہ چاہے جتنا مرضی زور لگا لیں اور نیب سے اپنے اوپر فائلیں بند کروالیں ۔ جب ان کے پاس حکومت کی طاقت نہیں ہوگی تو بند فائلیں بھی کھول جائیں گی ۔ تب پتہ چلے گا کہ اس دور میں مافیاز کیوں اتنے پھلے پھولے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ عمران خان صاحب کی باتوں اور دعووں سے تنگ آچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت یا تو ڈیلیور کرے یا پھر جگہ خالی کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی حالت اس گرتی ہوئی دیوار کی مانند ہے جسے ایک دھکا کافی ہے۔ کیونکہ عوام میں حکومت کی حمایت کم نہیں بلکہ ختم ہوگئی ہے۔

  • علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    فیصل آباد(عثمان صادق)ضلعی مسجد کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا محمد یوسف انور،صاحبزادہ فیض رسول رضوی،مفتی محمد ضیاء مدنی،سیدجعفر نقوی،صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کے علاوہ دیگر علماء کرام،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو فضل ربی چیمہ،اسسٹنٹ کمشنر سٹی صاحبزادہ محمد یوسف بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے معاشرتی امن اورمذہبی رواداری کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے ان کی شاندارخدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے خوشی اوراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد ضلع میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام آپس میں متحد ومتفق ہیں تاہم اس نوعیت کے اجلاس خیروبرکت اورباہمی رابطے کے استحکام کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری،پیارومحبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں اور خصوصی طور پر جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کورونا ویکسین لگوانے کی ترغیب دیں تاکہ اس وباء سے محفوظ رہا جاسکے۔انہوں نے علماء کرام کی طرف سے نشاندہی کئے گئے بعض مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مسجد کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔اس موقع پر علماء کرام نے امن وامان کے قیام اور رواداری کے فروغ کے لئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔آخرمیں ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی،امن وسلامتی،اتحاد ویکجہتی اورخیروبرکت کی دعا کی گئی۔

  • ریٹائرمنٹ سے متعلق خبروں پر کرس گیل کا بیان سامنے آ گیا

    ریٹائرمنٹ سے متعلق خبروں پر کرس گیل کا بیان سامنے آ گیا

    ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل نے اپنی ریٹائرمنٹ کے سے متعلق معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ایک غیر معمولی کیریئر تھا ، میں نے ابھی تک ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر آئی سی سی کے ساتھ لائیو چیٹ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل نے اپنی ریٹائرمنٹ کے سے متعلق کہا ہے کہ میں نے ابھی تک ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن اگر وہ مجھے میرے ہوم کراوڈ ’ جمیکا‘ میں میچ دیتے ہیں تو پھر میں یہ کہہ سکتا ہوں ’آپ کا بہت بہت شکریہ دوستو‘۔

    کرس گیل کا کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ، اگر نہیں تو پھر میں اس کا اعلان طویل عرصہ سے کروں گا ، پھر میں بیک اینڈ پر براوو کو جوائن کروں گا اور ہر کسی کا شکریہ ادا کروں گا ، لیکن میں ابھی یہ کچھ کہہ نہیں سکتا ۔جو کچھ ہوااسے ایک طرف رکھ کر میں آج مزہ کر رہا تھا ، میں سٹینڈ میں موجود اپنے فینز کے ساتھ بات چیت کررہا تھا اور محظوظ ہو رہا تھا ، مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ یہ میرا آخری ورلڈ کپ ہے ، میں ایک اور ورلڈ کپ کھیلنا چاہتاہوں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کی اجازت ملے گی ۔

    کرس گیل کی ریٹائرمنٹ پر شاہد آفریدی کا خراج تحسین

    ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرنا میرے لیے باعث اعزاز ہے ، میں اپنے ملک کیلئے بہت جذباتی ہوں ، جب ہم میچ ہارتے ہیں تو مجھے بہت تکلیف پہنچتی ہے ، میرے لیے میرے فینز بہت اہم ہیں کیونکہ میں ایک تفریح کار ہوں جب مجھے ان کو محظوظ کرنے کا موقع نہیں ملتا تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے ، آپ کو ممکنہ طور پر وہ جذبات بظاہر مجھ میں نظر نہیں آئیں گے میں انہیں ظاہر بھی نہیں کرتا ، لیکن اندر سے مجھے بہت دکھ پہنچتا ہے ، خصوصی طور پر ورلڈ کپ میں ۔

    کرس گیل نے بتایا کہ بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ ورلڈ کپ کے پہلے میچ والے دن سے میرے والد کی طبیعت کافی خراب ہے اس لیے مجھے آج رات ہی جمیکا کیلئے واپس نکلنا ہو گا ، دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں ۔

    کرس گیل نے اپنے والد کی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھی بیٹنگ کر رہے ہیں ، ان کی عمر 91 برس ہے ، لیکن تھوڑی بہت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے ، مجھے واپس گھر جانا ہو گا ۔

    ٹی 20 ورلڈکپ کے اہم میچ سے قبل بھارت کے معروف کرکٹ کوچ چل بسے :بھارت پریشان

  • کرس گیل کی ریٹائرمنٹ پر شاہد آفریدی کا خراج تحسین

    کرس گیل کی ریٹائرمنٹ پر شاہد آفریدی کا خراج تحسین

    ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل اور آل راؤنڈر ڈیوائن براؤ نے آسٹریلیا کے خلاف اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل کر کرکٹ کے میدانوں کو الوداع کہہ دیا ہے –

    باغی ٹی وی : جہاں دنیائے کرکٹ کے معروف بلے باز کرس گیل کو دنیا بھر سے ان کے مداح انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں وہیں سابق پاکستانی کپتان پاکستانی سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی باز کرس گیل کو ریٹائرمنٹ پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔


    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئےشاہد آفریدی نے ویسٹ انڈیز کے سٹار بلے باز کرس گیل کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرڈ ہونے پر خراج تحسین پیش کیا۔

    شاہد آفریدی نے کرس گیل کو شاندار کریئر پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے پوری دنیا میں نئی نسل کے کھلاڑیوں کو بہت متاثر کیا علاوہ ازیں اپنی ٹوئٹ میں شاہد آفریدی نے کرس گیل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔


    واضح رہے کرس گیل اور ڈیوائن براؤ نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آخری میچ میں آسٹریلیا کےخلاف کھیلا۔

  • قومی ہیرو کے ساتھ رویہ کیسا !  تحریر :  احسن ننکانوی

    قوم حیران ہے کہ نعمان نیاز نے قومی ہیرو شعیب اختر کے ساتھ کیا کردیا، اور میں حیران ہوں کہ قومی ہیرو کی بات کرنے والے لوگ حقیقت سے اتنے لاعلم کیوں ہیں؟ پاکستان میں قومی ہیرو اسے سمجھاتا جاتاہے جو اقتدار کی کرسی پر براجمان ہواورغلاموں کی توہین کرکے اپنی رعونت کی تسکین کرتاہو۔میں پی۔ٹی۔وی نہیں دیکھتا، اس لیے مجھے علم نہیں تھا کہ نعمان نیاز کیا چیز ہے۔ شعیب اختر سے مگر ہر وہ شخص واقف ہے جو کرکٹ کی معمولی سی شد بد رکھتا ہے کیونکہ پوری دنیا میں اس کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں جسے سومیل یا ایک سو اکسٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سےگیند بازی کرنے کا منفرد ترین اعزاز حاصل ہے ۔ وہ اس فن کا ”اکلوتا” فنکار ہے اور اس کی شناخت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ نعمان نیاز کو اتنا منفرد مقام حاصل کرنے کے لیے شاید سات جنم بھی کافی نہ ہوں۔ مجھے لکھنا نہیں چاہیے مگر لکھنا پڑ رہا ہے شعیب اختر کے ساتھ نعمان نیاز کا نام لکھتے ہوئے نہ جانے کیوں”چہ پدی چہ پدی کا شوربہ” والی کہاوت یاد آرہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دونوں کے درمیان ہونے والے افسوس ناک واقعہ کی گونج سنائی دی تو میں نے بھی ”گیم آن ہے” نامی پروگرام کا کلپ دیکھا۔ مجھے شدید حیرانی ہے کہ شعیب اختر میں اتنی قوت برداشت کہاں سے آگئی؟ اس کا رویہ مگر قوت برداشت نہیں، انتہا درجے کی اعلیٰ ظرفی کا مظہر تھا۔ نعمان نیاز کی فرعونیت اور کمینگی کا واحد جواب ایک زوردار تھپڑ ہونا چاہیے تھا جو اس کی اصل اوقات یاد دلا دیتا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ہم آج تک ایک قوم کی صورت متحد نہیں ہوسکے۔ ہم ایک منتشر گروہ ہیں اور قومی غیرت کے تقاضے نبھانے کے عادی بن ہی نہیں سکے۔ جو شخص قومی ہیرو کی توہین کرتا ہے، وہ پوری قوم کی توہین کرتا ہے کیونکہ ہیرو دراصل قوم کی تاریخ، ثقافت اور غیرت کی نمائندگی کرتا ہے۔قوم بہت دور کی بات ہے، ہم اپنے ساتھیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے سے بھی کتراتے ہیں۔ اس پروگرام میں شعیب اختر کے ساتھ پاکستان کے دوسرے کرکٹرز بھی موجود تھے، انھوں نے کس دل گردے سے نعمان اعجاز کی فرعونیت برداشت کی؟ کس معاوضے نے انھیں شعیب اختر کا ساتھ دینے سے روکا۔ شعیب اختر نے معذرت چاہتے ہوئے پروگرام چھوڑ کر اٹھنے اور استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو نعمان نیاز نے ایک ثانیے کے لیے بھی توجہ دینا گوارا نہیں کیا اور انتہائی بے نیازانہ انداز میں اپنا سکرپٹ جاری رکھا۔ اس کے نزدیک شعیب کا اٹھ جانا کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا تھا۔ میں گمان کر بیٹھا تھا کہ یہ کلپ دیکھ کر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز سرکاری ٹی۔وی کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکے ہوں گے۔ ایسے اقدامات کے لیے مگر قومیت کا عنصر ضروری ہے، اور بدقسمتی سے پاکستان میں اس عنصر کا فقدان ہے۔ ہم اگر قوم ہوتے تو اس سانحے کے فوراً بعد نعمان نیاز کو اپنا بستر گول کرنا پڑتا۔اُسے مگر علم ہے کہ پاکستان کے اصل ہیرو اہل اقتدار ہیں، اور وہ ان کی نمائندگی کررہا ہے۔ اس کی پشت پر یقیناً کوئی طاقتور شخصیت ہوگی، لہٰذا قومی ہیرو کی بات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سنا ہے کہ قومی حکومت نے انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔ کس چیز کی انکوائری؟ کیا پی۔ٹی۔وی انتظامیہ اندھی اور بہری ہے؟ جو کچھ ہوا آن ایئر ہوا، سب نے دیکھا، سب نے سنا، کمیٹی کس چیز کی تحقیق کرے گی۔ کیا نعمان نیاز کی زبان سے الفاظ اس کے ہمزاد نے ادا کیے تھے؟ یا یہ اس کی بدروح کی کارستانی تھی؟ اس نے شعیب اختر کے جس بیانیے پر اتنے مذموم رویے کا اظہار کیا، وہ کیا اس پروگرام کا حصہ نہیں ہے، اسے سننے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے۔ کچھ بزرجمہر پی۔ٹی۔وی اور شعیب اختر کے اختلافات کی بات کررہے ہیں، کچھ پردے کے پیچھے ہونے والی گفتگو کا رشتہ اس واقعے سے جوڑ رہے ہیں، معتبر صرف وہ ہے جو آن لائن نشر ہوا، اور سب نے دیکھا۔کسی ایک کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے پروگرام کی ریکارڈنگ کافی سے زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں صرف ایک سوال کافی ہے۔ کیا کسی ٹی وی اینکر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مہمان کو اختلاف رائے یا اندازِ گفتگو کی بنیاد پر پروگرام چھوڑنے کا حکم دے دے؟ انکوائری کے مثبت بتیجے کی توقع رکھنے والے مگر احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ قومی ہیرو صرف عوام کے دل میں رہتے ہیں، اور اہل اقتدار عوام کے دلوں کو کانچ کا کھلونا سمجھتے ہیں، جب تک چاہا ل بہلایا، جب چاہا تب توڑ دیا۔ ارباب اقتدار اگر شعیب اختر کی تذلیل کو انکوائری کی بھینٹ چڑھا کر پی جاتے ہیں تو شعب اختر کی حیثیت متاثر نہیں ہوگی، پی۔ٹی۔وی اور وزارت اطلاعات کا قد کاٹھ ضرور سکڑ جائے گا جسے دیکھنے کے لیے پہلے ہی خوردبین کی ضرورت محسوس ہوتی ہے..
     

  • فیصلہ پارٹ نمبر 5 تحریر سکندر علی 

    پریشان نہ ہوں ۔ آپ اچھی طرح سے ڈھک گئے ہیں ۔

    نہیں جارج کی بات کاٹتے ہوئے اس کا باپ چیخ کر بولا۔ اس نے پوری قوت سے بل پر سے کمبل پرے پھینکے کہ وہ وہ فورا ہی 

    پرے جاگرے۔ پھر وہ بستر پرتن کر کھڑا ہوگیا۔ صرف ایک ہاتھ سہارے کے لیے معمولی سا چھت کو چھورہا تھا۔

    تم مجھے ڈھک دینا چاہتے ہو۔ میں جانتا ہوں میرے چھوٹے بچے لیکن میں آسانی سے ڈھک دیئے جانے والا

    نہیں ہوں۔ اگر یہ میرے جسم کی قوت کی آخری لہر ہے تو بھی نبی نہیں سنبھالنے کے لیے کافی ہے۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ

    ہی ہے۔ ہاں، میں تمھارے دوست کو جانتا ہوں۔ وہ میرا بیٹا ہوتا تو پسند بیرا بیٹا ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام برسوں میں تم

    مجھ سے دھوکہ کرتے رہے اور اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں مجھے اس کا دکھ نہیں ہے؟ تم خود کو اپنے دفتر

    میں بند کر لیتے تھے کہ چیف صاحب مصروف ہیں، انہیں پریشان نہ کیا جائے ۔ صرف اس لیے کہ تم روس میں جھوٹ کے

    پلندے کو لکھ کر یہ کولیکن خوش قسمتی سے کوئی کسی باپ کو نہیں سکھا سکتا کہ وہ کیسے اپنے بیٹے کے اندر جائے اور اب جب

    کہ تمھارا خیال ہے کہم اسے مات دے چکے ہو اور اتنا بیوگرا چکے ہو کہ اس پر سوار ہو سکو اور اس پر بیٹھ جاؤ اور وہ ذراسی چوں

    چراں بھی نہیں کرے گا تو اب میرا چالاک بیٹا فیصلہ کرتا ہے کہ شادی کر لینی چاہیے۔

    جارج اپنے باپ کے اس خوف زدہ کرنے والے روپ کو مبہوت ہو کر دیکھنے لگا۔ سینٹ پیٹرز برگ میں اس کے دوست نے، جسے اس کا باپ اچانک اتنے اچھے طریقے سے جانتا تھا، اس کے حواس کو یوں اپنی گرفت میں لیا کہ پہلے کبھی

    ایسانہیں ہوا تھا۔ وہ اسے روس کی وسعت میں کم دکھائی دیا۔ وہ اسے ایک خالی، لئے پٹے گودام کے دروازے پرکھڑادکھائی

    دیا۔ اپنے شوکیسوں کے ملبے ، اپنے مال کی شکستہ باقیات گیس کے ٹوٹے پھوٹے بریکٹوں کے درمیان و سیدھا کھڑا دکھائی

    دیا۔ اسے کیوں اتنی دور جانا پڑ گیا۔

    میری طرف دیکھو اس کا باپ پکارا اور جارج تقریبا ایک دم سے چونکتے ہوئے بستر کی طرف بڑھا تا کہ اس

    معاملے سے نمٹ سکے لیکن پھر آدھے راستے ہی میں ٹھٹھر کا ۔

    کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوگا۔ اس کا باپ گنگناتے ہوئے بولا کیوں کہ اس نے اپنا سکرت

    اوپراٹھایا ہوگا اس طرح اس فاحشہ نے ۔ اور اس کی منگیتر ینقل اتارنے کے لیے اس نے ان میں آتی اور افعال کے

    جی کے زمانے کا اس کی ران کا زخم دکھائی دینے لگا ” کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوا ہوں اور نہیں ، اور تم نے

    اس سے عشق بگھارا، اور اس سے کسی رکاوٹ کے بغیر بے تکلف ہونے کے لیے تم نے اپنی ماں کی یاد کو پامال کیا، اپنے

    دوست کو دھو کر دیا اور اپنے باپ کو یوں بستر میں لا چا که دوترکت کرنے کے قائل تیار ہے میں وہ حرکت کر سکتا ہے کیا میں

    کرسکتا اور وہ بغیر کسی سہارے کے کھڑا ہو گیا اور اپنی جان میں ہوا میں پلانے لگا۔ شدت جذبات سے اس کے چہر سے کہا

    سر کردیا تھا۔

    جارج ایک کونے میں سکڑ کر کھڑا ہو گیا اپنے باپ سے کن حد تک فاصلے پر۔ بہت عرصہ پہلے اس نے کا ارادہ کیا تھا

    کہ ہر معاملے پر گہری نظر رکھے گا تا کہ اگر کوئی اس پر پیچھے سے یا کسی اور طرت سے بالواسط حملہ کر ے، اس پر بھی تو دان

    کے لیے تیار ہو۔ اب اسے پھر سے اتنے عرصے سے پھولا ہوا فیصلہ یاد آیا اور اسے وہ پھر سے کھول دیا جیسے کوئی سوئی کے

    ناکے میں دھاگہ ڈالنے کی کوشش کرے۔

    لیکن تم اپنے دوست کو دھوکہ نہیں دے سکے۔ اس کے باپ نے چیخ کرکہا، اپنی شہادت کی انگلی کے اشارے سے

    اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے میں یہاں اس موقع پر اس کا نمائندہ ہوں ۔

    تم مسخرے جارج خودکوچنے سے روک نہیں سکا لیکن فورأی بی احساس ہونے پر کہ اس سے کیسی تھی سرزد ہوئی ، اس

    کی آنکھیں باہر بل پڑیں اور اس نے زبان دانتوں تلے دبلی لیکن اب دیر ہو چکی تھی ۔ تکلیف سے اس کے گھٹنے جواب دے گئے۔

    ہاں بے شک میں یہاں مسخره کین ہی کر رہا ہوں ۔ مسخرہ پن ۔ ایک عمدو لفظ ۔ ایک بوڑھے ریڈ وے کی تشفی کے لیے

    اور بچا ہی کیا ہے۔ مجھے بتا اور جواب دیتے ہوئے یہ مت بھولنا کہ تم ابھی تک میرے اکلوتے بیٹے ہو ۔ میرے لیے بھائی

    کیا ہے، میرے پچھلے کمرے میں، بے ایمان نوکروں کے ہاتھوں تنگ، اپنی ہڈیوں کے گودے تک بوڑھا؟ اور میرا بیا ساری دنیا میں خوشی سے دندناتا پھرتا تھا، کاروباری معاملات نمٹاتا ہوا جنھیں میں نے ہی اس کے لیے تیار کیا ہوتا ہے۔

    فاتحانہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا اور اپنے باپ کے سامنے سے ایک معزز کاروباری انسان کی طرح بھنچے ہوئے ہونٹوں

    والے چہرے کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ کیا تم سوچتے ہو کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے، مجھے، جس سے تم پیدا ہوئے ۔

    اب آگے جھکے گا’ جارج نے سوچا کہیں پر خود کو گرانہ لے، اور ٹوٹ پھوٹ جائے ۔ یہ الفاظ اس کے دماغ

    میں سے سرسراتے ہوئے گزرے۔

    اس کا باپ آگے جھکا لیکن گرانہیں ۔ جب چارج قریب نہیں آیا جیسا کہ اسے توقع تھی تو اس نے پھر سے خودکو سیدھا

    وہیں شہر و جہاں ہو۔ مجھے تمھاری ضرورت نہیں ہے تمھیں غلط بھی ہے کہ تم میں اتنی طاقت ہے کہ یہاں تک آسکو

    اور یہ کیتم اپنی مرضی سے خود کو وہاں روکے ہوئے ہو کسی بھول میں مست رہنا۔ مجھ میں اب بھی تم سے زیادہ ہی طاقت

    ہے۔ صرف خود پر بھروسہ کرتا تو شاید گر چکا ہوتا لیکن تمھاری ماں نے اپنی طاقت میں سے تاحصہ حصہ مجھے دیا کہ میں نے

    تمھارے دوست کے ساتھ شان دا تعلق قائم کیا اور تمھارے سارے گا یک بھی میری جیب میں ہیں ۔

    اس کی قمیض میں جیبیں بھی ہیں ۔ جارج نے خود سے کہا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس بات سے وہ اسے دنیا بھر کے

    لیے ایک مشکل آدی کے طور پر پیش کر دے گا۔ یہ خیال بس لیے بھر کے لیے اس کے ذہن میں آیا اس لیے کہ وہ مستقل طور پر

    ہر بات بھولتا جارہا تھا۔

    ذرا اپنی منگیتر کو بانہوں میں لے کر میرے سامنے سے گزر کر تو دیکھو، میں اسے تمھارے پہلو سے اچک لوں گا۔تم مجھ ہی نہیں پا گئے کہ کیسے؟

    ( جاری ہے )