قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی برائے چائینہ پاک اکنامک کوریڈورکے چیئرمین شیر علی ارباب کی قیادت میں کمیٹی کے دیگر ارکان قومی اسمبلی نے فیصل انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (فیڈمک)اور علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی فیصل آباد کا دورہ کیا۔پارلیمانی کمیٹی کے ارکان علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں لگنے والے ملکی وغیرملکی صنعتی یونٹس میں گئے اورتعمیراتی کاموں کا بھی جائزہ لیا۔سی ای او فیڈمک رانا یوسف،سابق صدر چیمبر آف کامرس ضیا علمدار بھی موجود تھے۔اس موقع پر سی پیک پارلیمانی کمیٹی قومی اسمبلی کے ارکان کو فیڈمک میں بریفنگ دی گئی۔کمیٹی اراکین نے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں تعمیراتی کاموں پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو ترقیاتی کاموں کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین نیشنل اسمبلی پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک نے کہا کہ اکنامک زون کے معاملات بڑی اہمیت کے حامل ہیں جنہیں فوری حل کئے جایا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں کوتیزی سے آگے بڑھانا ترجیح ہے۔سی پیک خطے کی معاشی ترقی کے لئے گیم چینجر ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں بجلی کی جلد فراہمی کے لئے فیڈرز بڑھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں صنعتی ترقی کا سفر عروج پر ہے اور ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کو وسیع مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔پارلیمانی کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کے ترقیاتی کاموں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سی ای او نے بتایا کہ انڈسٹری نہ لگانے پر 22 پلاٹس خالی کرائے گئے ہیں اور آئندہ میٹنگ میں مزید پلاٹس کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے گی جبکہ منسوخ پلاٹس کی فہرست پارلیمانی کمیٹی کو بھی بھجوائی جائے گی۔ڈائریکٹر فیڈمک نے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایم تھری انڈسٹریل سٹی کے امور فاسٹ ٹریک پر چلائیں گے۔
Category: بلاگ
-

شرم کیجئے ناکہ دفاع کیجئے ازقلم :غنی محمود قصوری
شرم کیجئے ناکہ دفاع کیجئے
ازقلم غنی محمود قصوری
گزشتہ دنوں سے قوم منہگائی اور خاص کر پیٹرول کی قیمتوں پر شدید پریشان ہے جو کہ بلحاظ آمدن جائز بھی ہے
کیونکہ پاکستان ایک غریب ملک ہے مگر اس کے حکمرانوں کی عیاشاں بھی سب کے سامنے ہیں، وزراء کی فوج ظفر فوج اور پروٹوکول سب کے سامنے ہےاس مہنگائی پر جہاں ساری قوم پریشان ہے اور غریب دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو رہا یے وہیں چند بے ضمیر لوگ بجائے خاموشی اور عوام سے دو بول ہمدردی کے بولنے کی بجائے الٹا حکومت کا دفاع کر رہے ہیں اور یوں باور کرا رہے ہیں کہ پاکستانی قوم ایک سخت ناشکری قوم ہے اور ملک میں کوئی مہنگائی نہیں
تاریخ گواہ ہے کہ اگر اسقدر حالات کسی اور ملک کے خراب ہوتے تو خانہ جنگی یقینی تھی یقین نہیں تو آپ شام،لیبیا،عراق کو ہی دیکھ لیجئے
ہر کسی کو پتہ ہے کہ مہنگائی حد سے بڑھ چکی ہے اور بارہا سرکاری طور پر بھی اس کا اعتراف کیا جا چکا ہے
مگر اس کے باوجود یہ جھوٹے لوگ دن رات گورنمنٹ کا دفاع اور عوام کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہیں ان جھوٹے لوگوں کے متعلق فرمان ہےاِنَّمَا یَفۡتَرِی الۡکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ
جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا یہی لوگ جھوٹے ہیں
(سورۃ النحل: 105)کوئی بھی حالات ہو جھوٹ کا سہارا اللہ کے ناپسندیدہ لوگ ہی لیتے ہیں اگر یہ لوگ ملک کے ہمدرد ہوتے تو سابقہ ادوار کی مہنگائی پر واویلا نا مچاتے
بات آگے بڑھانے سے پہلے راقم حلفاً اقرار کرتا ہے کہ اس کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی بھی تعلق نہیں اور میں ایک کالم نگار ہوں میرا کام حق سچ لکھنا ہے اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی مرتے دم تک حق سچ لکھنے،بولنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین
ان حکومتی حمایتی جھوٹے مکار لوگوں نے ایک بات بہت مشہور کر رکھی ہے کہ دنیا میں سب سے سستا پیٹرول پاکستان میں بکتا ہے جو کہ قطعاً غلط بات ہے
یہ لوگ پیٹرول کی قیمت بتاتے ہیں مگر مزدور کی آمدن کا موازنہ دیگر ممالک سے نہیں کرتے
اس وقت پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 138 روپیہ اور مزدور کی زیادہ سے زیادہ مزدوری 900 روپیہ روزانہ ہے جبکہ اگر فیکٹریوں و دکانوں پر کام کرنے والوں کی مزدوری دیکھی جائے تو وہ 500 سے 600 روپیہ ہے
پیٹرول تو ایک طرف اس وقت دیگر ضروریات زندگی بھی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں
پیٹرول کا توازن دیگر ممالک سے کرنے والوں کیلئے ہم ان کی خدمت میں دنیا کے تین بڑے ممالک میں مزدور کی آمدن اور پیٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کرتے ہیںامریکہ میں مزدور کی روزانہ آمدن پاکستانی روپیوں میں 10000 اور پیٹرول کی قیمت پاکستانی 165 روپیہ ہے
برطانیہ میں مزدور کی مزدوری روزانہ 12000 اور پیٹرول کی قیمت پاکستانی روپیوں میں 205 روپیہ جبکہ چائنہ میں مزدور کی پاکستانی روپیوں میں آمدن 2000 اور پیٹرول کی قیمت پاکستانی روپیوں میں 205 روپیہ ہے
اب کوئی ان جھوٹے کذاب لوگوں سے پوچھے کہ کس بنیاد پر تم جھوٹے دعوے کرتے ہو کیا مر کر اللہ کے ہاں پیش نہیں ہونا ؟
کیا روزانہ کی آمدن اور پیٹرول کی قیمت کسی صورت بھی موازنہ کر پاتی ہے دیگر ممالک سے؟
کیا ہماری بھی آمدن دیگر ممالک کی طرح زیادہ ہے؟
کیا پاکستان کے لوگ دیگر ممالک کی نسبت زیادہ پیٹرول استعمال کرتے ہیں؟
کیا دیگر ممالک میں پیٹرول عالمی منڈی کے حساب سے فروخت نہیں ہوتا ؟
کیا تمہارا قبر میں حساب اعمال کی بجائے حکمران پر ہو گا ؟
کیا ساری عوام مہنگائی سے چیخ نہیں رہی ماسوائے چند لاکھ بے ضیمر اور بلیک مارکیٹنگ افراد کے علاوہ ؟
کیا ملک میں امن امان کی صورتحال بھگڑی نہیں اور اس ساری صورتحال کے پیش نظر لوگوں میں چوری ڈاکے اور خودکشیوں کا رجحان بڑھا نہیں ؟
پیٹرول کے علاوہ اب تک اس گورنمنٹ نے لوگوں کی چیخیں ٹیکس لے لے کر جس طرح نکلوائی ہیں وہ بھی آپ کی نظر کرتے ہیں
ایک معروف ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں ملکی قرضوں میں اضافے کی صورت حال کو دیکھا جائے تو 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ورثے میں 6127 ارب روپے کا اندرونی اور بیرونی قرضہ ملا جس میں 2013 تک پی پی پی نے 133 فیصد یعنی 8165 ارب روپے کا اضافہ کیا اور یہ 14292 ارب روپے تک پہنچ گیاپاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے 5 سالہ دور میں قرضوں کے حجم کو 74.60 فیصد یعنی 10661 بڑھایا اور ملک کا اندرونی اور بیرونی قرضہ 24953 ارب روپے تک پہنچ گیا جو ملکی جی ڈی پی کا 72.5 فیصد تھا
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی قرضوں میں کمی لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن 3 سالوں میں قرضوں میں 60 فیصد یعنی 14907 ارب روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور جون 2021 میں پاکستان کا اندرونی اور بیرونی قرضہ 39859 ارب روپے پر پہنچ چکا ہے جو مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا 83.5 فیصد ہے جبکہ پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور میں پٹرول 72 روپے اور اور ڈیزل 83 روپے ریکارڈ مہنگا کیا گیا جبکہ 37 ماہ میں صرف ٹیکسز کی مد میں 500 ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکلوائے گئے ہیں
جولائی 2021 سے 16 اکتوبر 2021 تک حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 30 روپے سے زائدکا اضافہ کر کے عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور ساری دنیا جانتی ہے موجودہ گورنمنٹ نے اپنے پروٹوکول ،تنخواہوں و اخراجات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے جبکہ اس وقت کے نیک ترین مانے جانے والے عمران خان نیازی نے لوگوں سے جو بھی وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا گیا
بلکہ خان صاحب جس بھی چیز بارے نوٹس لیتے ہیں وہ چیز لوگوں کی پہنچ سے دور ہی ہوتی چلی گئی ہے اور بلیک مارکیٹنگ افراد کو کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں جس کا جب جی چاہتا ہے مارکیٹ سے چیز غائب کرکے منہ مانگے داموں فروخت کرتا ہے
حیرت کی بات ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے ایسے جھوٹے لوگ دفاع کرتے کہتے ہیں کہ جی اسے ابھی ٹائم دیجئے وقت لگے گا
کیا اس نے پہلے وقت نہیں مانگا پھر وقت اور پھر وقت ؟کیا کرتا رہا یہ بندہ اتنی دیر ساسیت میں رہ کر ؟
کیا اسے 22 سال تک سیاست میں رہ کر معلوم نا تھا بطور اپوزیشن کیا قرضوں کے بغیر ملک نہیں چلتے اور کرپٹ و پرانی سیاسی جماعتوں کے ریجیکٹڈ بندے کام نا کام کرتے ہیں نا کرنے دیتے ہیں؟سب پتہ تھا اسے بس مرنے سے پہلے وزیراعظم پاکستان بننے کا خواب پورا کرنا لازم تھا خان صاحب پر جو انہوں نے جھوٹے وعدے کرکے عوامی ہمدردی حاصل کرکے کر لیا ہے
ایسے وعدہ خلاف بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل 34)
اور وعدہ پورا کرو، یاد رکھو عہد کی باز پرس ہوگی
یقیناً روز قیامت کی باز پرس بڑی سخت ہوگی اور اس وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ہیں کوئی درجہ چہارم کے ملازم نہیں ساری دنیا جانتی ہے سائیکل پر دفتر جانے کا وعدہ ،ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ ،بنی گالہ میں سرکاری رہائش کرنے کا وعدہ ،پارلیمنٹ ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا وعدہ ،پیٹرول و دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتیں نیچے لانے کا وعدہ نیز وعدے ہی وعدے کئے عوام سے اپنے جیتنے کیلئے تاہم پورا ایک بھی نا کیا البتہ اپنی تنخواہ، مراعات ،پروٹوکول،سرکاری اخراجات و کابینہ بڑھا لی کیونکہ یہ پیسہ قوم کا ہے انہیں کیا
ان حکومتی دفاعی اور صرف عوام کو بے صبرہ ثابت کرنے والوں کے نام صیحیح بخاری کی ایک حدیث پیش خدمت ہے تاکہ یہ لوگ دفاع کی بجائے شرم محسوس کر سکیں
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ أَتَيْنَا مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ نَعُودُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
ایک صحابی فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا اور اس نے ان کے معاملہ میں خیانت کی اور اسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے
صحیح بخاری ۔کتاب الاحکام ,حدیث نمبر 7151تو کھوکھلے نعرے لگانے والوں شرم کرو ناکہ دفاع کرو
قبر میں حکمران نہیں بلکہ اعمال کام آئینگے تم نے اپنا حساب خود دینا ہوگا
جھوٹ بھول کر اپنے اعمال ضائع نا کرو- -

ویسٹ انڈیز ویمنز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری
ویسٹ انڈیز ویمنز کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گی جس کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق ویسٹ انڈیز کی خواتین نومبر میں تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کے لیے پاکستان آئیں گی پی سی بی کے یوٹیوب چینل کے ذریعے دنیا بھر میں لائیو سٹریم کیا جائے گا۔
ویسٹ انڈیز اور پاکستان کی ویمنز ٹیموں کے درمیان 3 ون ڈے 8، 11 اور 14 نومبر کو کراچی میں ہوں گے۔پی سی بی کا کہنا ہے کہ سیریز کیلئے ویسٹ انڈیز کی ٹیم یکم نومبر کو کراچی پہنچے گی جس کے بعد دونوں ٹیمیں 21 نومبر سے 5 دسمبر تک ہونے والے آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر کے لیے زمبابوے جائیں گی۔
پری سیریز کیمپ 23 اکتوبر سے 5 نومبر تک حنیف محمد ہائی پرفارمنس سنٹر میں ہوگا۔
جنوری فروری میں جنوبی افریقہ اور جون جولائی میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے کے بعد 2021 میں پاکستانی خواتین کی یہ تیسری دو طرفہ سیریز ہوگی۔ اسٹافائن ٹیلر کا ویسٹ انڈیز یکم نومبر کو کراچی پہنچے گا جو کہ ایک باہمی دورے کے لیے ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز ویمنز ٹیم کا پاکستان آنا خوش آئند ہے یہ پاکستان میں خواتین کی کرکٹ کے فروغ ، تشہیر اور ترقی کے لیے ایک بہترین سیریز ہوگی ، اس کے علاوہ دونوں فریقوں کو ورلڈ کپ کوالیفائر کی تیاری کا بہترین موقع بھی فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین ٹیم کے بعد ویسٹ انڈیز کی مینز ٹیم بھی پاکستان آئے گی جو دسمبر میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹونٹی میچوں کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی۔
دوسری جانب ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائرز اور ویسٹ انڈیز سے سیریز کیلئے پاکستان ویمنز ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے 18 رکنی پاکستان ویمنز ٹیم کی قیادت جویریہ خان کریں گی۔

پاکستان ویمن ٹیم میں جویریہ خان کے علاوہ ایمن انور، عالیہ ریاض، انعم امین، عائشہ ظفر، ڈیانا بیگ ،فاطمہ ثنا، ارم جاوید، کائنات امتیاز، ماہم طارق، منیبہ علی، نشرہ سندھو، ندا ڈار اور عمیمہ سہیل شامل ہیں۔اس کے علاوہ رامین شمیم، سعدیہ اقبال، سدرا امین اور سدرا نواز کو بھی پاکستان ویمنز اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
معاون عملہ: فزا عابد (ٹیم منیجر) ، ڈیوڈ ہیمپ (ہیڈ کوچ) ، ارشد خان (اسسٹنٹ کوچ) ، کامران حسین (اسسٹنٹ کوچ) ، صبور احمد (طاقت اور کنڈیشن کوچ) ، زبیر احمد (تجزیہ کار) ، ڈاکٹر رفعت اصغر گل (ہیڈ فزیوتھیراپسٹ) اور رابعہ صدیق (فزیوتھیراپسٹ)-
سیریز کے لیے قومی خواتین ٹیم کا کیمپ 23 اکتوبر سے شروع ہوگا اور 5 نومبر تک حنیف محمد ہائی پرفارمنس سنٹر ، کراچی میں جاری رہے گا۔ کیمپ کے اختتام پر ٹیم ہوٹل شفٹ ہو گی۔
واضح رہے کہ ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائرز 21 نومبر سے زمبابوے میں ہوں گے۔
-

گوگل کی ویب براؤزر کروم استعمال کرنیوالوں کو وارننگ
دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنے ویب براؤزر گوگل کروم کو استعمال کرنے والے 2 ارب سے زائد صارفین کو وارننگ گاری کر دی-
باغی ٹی وی : امریکی جریدے فوربز کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کروم پرخطرناک ہیکرز حملہ کر سکتے ہیں جس سے صارفین کی قیمتی معلومات لیک ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق گوگل نے چند روز قبل ہی بتایا تھا کہ براوزر کروم پر انتہائی سنجیدہ نوعیت کی سیکیورٹی خامیاں سامنے آئی ہیں آج گوگل نے اپنے بلاگ میں ایک مرتبہ پھر انکشاف کیا ہے کہ کروم میں مزید سیکورٹی خامیاں اور پیچیدگیوں کو پتہ چلا ہے۔
دو ہفتوں سے بھی کم عرصہ قبل چار سنگین خطرات کی تصدیق کے بعد ، گوگل نے ایک نیا بلاگ پوسٹ شائع کیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کروم میں مزید پانچ ‘ہائی’ ریٹیڈ کمزوریاں پائی گئی ہیں اور ساتھ ہی 11 دیگر خامیاں بھی پائی گئی ہیں ان خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ہیکرز صارفین کی انتہائی قیمتی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
اس لیے گوگل نے کروم صارفین کو منتبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد کروم کا جدید ترین ورژن اپڈیٹ کریں۔
-

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی کے نام کا اعلان کر دیا
سابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم اب انہوں نے اس کمپنی کے نام کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی خبرساں ادارے میل آن لائن کے مطابق ڈونلڈٹرمپ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے جا رہے ہیں اس کا نام ’ٹروتھ سوشل‘ (Truth Social)ہو گا ڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ نئی سوشل میڈیا کمپنی اس شعبے میں ٹوئٹر اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر دے گی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو 60 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان
رپورٹ کے مطابق ٹروتھ سوشل کا آغاز ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ(ٹی ایم ٹی جی)کے پلیٹ فارم سے کیا جا رہا ہے کمپنی کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ان کا مشن بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے جو اپنی اجارہ داری کا فائدہ اٹھا کر امریکہ میں مخالف آوازوں کو دبا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئی سوشل ایپلی کیشن شروع کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایسی دنیامیں رہ رہے ہیں جہاں طالبان کے بڑی تعداد میں ٹوئٹر اکاﺅنٹ موجود ہیں لیکن آپ کے پسندیدہ امریکی صدر کو خاموش رکھا گیا ہے۔
فیٹف کا تین روزہ اجلاس کا اعلامیہ جاری، پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ برقرار
ڈونلڈٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ جلد ہی میں ٹروتھ سوشل پر اپنا پہلا سچ شیئر کروں گا۔ ٹی ایم ٹی جی کی بنیاد اس مشن کے ساتھ رکھی گئی ہے کہ سب کی آواز کو جگہ دی جائے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کمپنی کے ذریعے میں بڑی ٹیک کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکوں گا۔
دوسری طرف تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ نئی سوشل میڈیا کمپنی قائم کرکے دراصل 2024ءمیں ہونے والے امریکی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں-
مہنگائی کے خلاف پی ڈی ایم کل ملک بھر میں احتجاج کرے گی
-

70 سالہ خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش
بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچ میں 70 سالہ خاتون کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔
باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیون بینرباری نامی خاتون نے ویٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) کے طریقہ کار سے بذریعہ آپریشن بچے کو جنم دیا۔

خاتون کے ڈاکٹر نریش بھانوشالی نے بتایا کہ جب خاتون پہلی بار ہمارے پاس آئی تھیں تو ہم نے انہیں بتایا کہ اتنی بڑی عمر میں بچے کی پیدائش ناممکن ہے لیکن انہوں نے زور دیا کہ انہیں بچہ چاہیے اس عمر میں بغیر کسی پیچیدگی کے بچے کی پیدائش کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی عمر کی وجہ سے اس کیس کو ہینڈل کرنے میں کافی سوچ بچار کی لیکن بعد میں یہ کیس لے لیا ، دونوں میاں بیوی کو بچے کی بہت خواہش تھی اور دونوں کافی عرصے سے بچے کے انتظار میں تھے۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ بچہ بالکل صحت مند و تندرست ہے جبکہ اس کی ماں جیون بینرباری کی صحت بھی ٹھیک ہے۔ -

بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ
بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ
جہاں آج ایک بار پھر شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی ضمانت خارج کر دی گئی تو جہنم واصل ہونے والے بھارتی فوجیوں کی بیویاں دوہائیاں دے رہی ہیں کہ "جے او کشمیر منگدے آں تے دے دو”
۔ اریان کو ضمانت کیوں نہیں دی جا رہی ہے ۔ شاہ رخ کے حوالے سے بات کی جائے تو ضمانت منسوخی کے بعد اب آریان خان کے وکیل نے ممبئی کی ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پر جو دیکھائی دے رہا ہے کہ یہ جس مرضی کورٹ میں چلے جائیں ان کو ریلیف نہیں ملنا ۔ کیونکہ اس حوالے سے ایک درخواست بھارتی سپریم کورٹ میں بھی گئی ہوئی ہے ۔ وہاں بھی کوئی خاص امید نہیں ہے کہ ان کی سنوائی ہو ۔ پر میں بتاوں شاہ رخ خان کو ریلیف مل سکتا ہے اور یہ ریلیف کوئی عدالت نہیں مودی دے سکتا ہے ۔ اور اس کے لیے شاید اب شاہ رخ کو نام بھی بدلنا پڑے گا اور مذہب بھی بدلنا ہوگا ساتھ آر ایس ایس اور بی جے پی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرنا پڑے گی ، گنگا اشنان بھی کرنا ہوگا اور سنگھیوں کے ساتھ کنبھ کے میلے میں جا کر پوجا پاٹ بھی کرنا پڑے گی وہ بھی بیوی بچوں سمیت ۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا کہ بھارت میں انصاف صرف بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہندوؤں کو ہی مل سکتا ہے ۔ ویسے شاہ رخ خان کی بیوی گوری خان ایسا اقدامات کر رہی ہیں کہ جس سے ہندوتوا کے پجاریوں کو ٹھنڈا کیا جاسکے جیسے انھوں نے اپنے گھر کے ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ اُن کے بیٹے آریان خان کو ضمانت نہ ملنے تک گھر میں کسی قسم کا کوئی میٹھا نہ بنایا جائے۔ گوری خان نے خود بھی 7 اکتوبر کو نَوراتری کے تہوار کے آغاز کے بعد سے کچھ بھی میٹھا کھانا چھوڑ دیا ہے۔
۔ پر میرا مشورہ ہے ان کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ۔ معاملہ شاہ رخ خان کے نام کا ہے اس کے مذہب کا ہے ۔ جو مودی اور ہندوتوا کے پجاریوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ آپ دیکھیں ابھی بھی وہ ہی دونمبر قسم کی کہانیاں بھارتی میڈیا بتا رہا ہے جس کا نہ تو کوئی ثبوت ہے نہ ہی شہادت ہے ۔ آج بھی بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ کے مطابق این سی بی حکام کا کہنا ہے کہ آریان خان جب امریکا اور دبئی میں تھے تو اس دوران بھی وہ منشیات کا استعمال کیا کرتے تھے۔ پتہ نہیں یہ اریان کو خود اپنے ہاتھوں سے چرس کے سگریٹ بنا بنا کر دیتے تھے یا پھر یہ خود منشیات اریان خان کو سپلائی کرتے تھے ۔ کیونکہ اتنے وثوق سے تو پھر میڈیا نہیں اریان خان سپلائر یا ساتھی ہی بتا سکتا ہے ۔ پھر بھارتی ایجنسی نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے آریان اور ان کی نئی فلم میں آنے والی ساتھی اداکارہ کی واٹس ایپ چیٹ بھی لیک کی گئی ہے۔ جس کے مطابق یہ دونوں منشیات سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں ۔ ابھی اس کا فرانزک ہونا باقی ہے ۔ مگر بھارتی میڈیا نے اس کو لے کر شاہ رخ خان کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ چیٹ ٹھیک بھی ہو تو جو کچھ بھی کیا اریان نے کیا شاہ رخ خان کہاں سے بیچ میں آگیا ۔
اس کے علاوہ این سی بی کی جانب سے آریان خان کی منشیات فروخت کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کی آڈیو بھی عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آریان کے وکیل اس پر کیا موقف دیتے ہیں کہ واقعی جس سے اریان خان کی بات ہو رہی تھی وہ کوئی ڈرگ ڈیلر تھا کہ نہیں یا یہ کس ریفرنس میں تھی ۔ سوال بنیادی پھر وہ ہی ہے کہ جس مقدار میں منشیات پکڑی گئی ہیں اس میں کسی کو بھی بھارتی قانون کے مطابق اتنے دن جیل میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ اول تو گرفتاری ہی ممکن نہیں ۔ پھر آپ دیکھیں کہ اریان کے پاس سے کچھ برآمد نہیں ہوا پھر شک کی بنیاد پر اس کو مسلسل کیسے جیل میں رکھ سکتے ہیں اور ایک کے بعد ایک ضمانت جو کینسل کی جارہی ہے ۔ اس میں اب کسی کو شک نہیں رہ گیا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ کارفرما ہے ۔ کیونکہ اریان تو ایک بہانہ ہے اصل نشانہ شاہ رخ خان ہے ۔ اور یہ خفیہ ہاتھ مودی کا ہی ہے ۔ اس لیے مجھے تو لگتا ہے یا تو اب شاہ رخ خان باقاعدہ ہندو مذہب اختیار کرے گا یا پھر بھارت سے بھاگے گا ۔ ۔ دراصل مودی نے بھارت کو بری طرح پھنسا دیا ہے ۔ اندر سے بھی اور باہر سے بھی ۔
۔ اس وقت بھارت کے لیے المیہ یہ ہے کہ اس وقت وہ تین محاذوں پر پھنس چکا ہے ۔ اور یہ تینوں محاذ گرم ہوچکے ہیں ۔ ایک تو چین کے ساتھ لداخ کے محاذ پر ، ایک پاکستان کے ساتھ اور ایک مقبوضہ کشمیر کے اندر ۔۔۔ کشمیرمیں صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ کسی غیر کشمیری کو نہیں چھوڑا جا رہا ہے ۔ بھارتی فوجی روز جہنم واصل ہورہے ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف کو کشمیر کا ہنگامہ دورہ کرنا پڑ گیا ہے ۔ کشمیر کی آزادی کے لیے اب بھارت کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں اس کی واضح مثال اس بھارتی فوجی کی بیوی کا بیان ہے جو میں نے آپکو سنا ہے ۔ اس وقت مودی نے کشمیر کے چپے چے پر آپریشن میں معاونت کے نام پر خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین تعینات کردیے ہیں ۔ ضلع پونچھ اور راجوڑی میں قابض بھارتی فورسز کا آپریشن مسلسل دس دنوں سے جاری ہے۔ بھارتی فوج ، پولیس ، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، این آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو سمیت دیگرپیراملٹری فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین سب وہاں موجود ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف منوج نروانے بذات خود وہاں پہنچے ہیں ۔ پر مجاہدین تو دور کی بات ان کا کوئی سراغ تک نہیں مل رہا ہے ۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ شروع دن سے کشمیریوں نے کسی بھی کالے قانون کو ماننے سے انکار کیا ہوا ہے ۔ اب دیکھا جائے تو افغانستان کے حالات کا ان پر بہت اثر ہوا ہے اور اب انھوں نے دہشت گرد بھارتی فورسز کے خلاف ویسی ہی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے جو طالبان نے مسلسل بیس سال تک امریکہ اور اسکے حواریوں کے خلاف کی ہے ۔ کرنی بھی چاہیئے کیونکہ کبھی انہیں کشمیر سے بے دخل کرنے کے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں تو کبھی کشمیریوں کو دوبارہ سے وادی کا شہری ثابت کرنے کے لئے کاغذات اکٹھے کرنے کا حکم دیا جاتاہے۔ اس وقت مودی سرکار نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل دے کر کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا خوفناک منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ یقینی طور پر اس پر کشمیریوں کو اشتعال تو آنا ہی تھا اس کا درعمل اب دیکھائی بھی دینا شروع ہوگیا ہے۔ اپنی طاقت کے مطابق وہ جتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں پہنچا رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے ۔ کشمیر میں ایک نئی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے ۔ کئی سیکٹرز میں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے یہاں تک وہ پندرہ سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل کرچکے ہیں ۔ پھر کشمیری نوجوانوں نے غیر مقامی ہندووں کے خلاف کارروائی سے ایک پیغام دے دیا کہ کشمیریوں کواقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ روک دیا جائے۔ ورنہ نتائج کا ذمہ دار خود مودی ہوگا ۔ مودی درعمل کے طور پر وہ ہی پرانے حربے استعمال کر رہا ہے ۔ کہ اس نے پورے بھارت کی مشینری کو وادی میں جھونک کر طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آواز کو دبانے کا کھیل شروع کر دیا ہے ۔ گزشتہ دس دنوں میں 1500سے زائد کشمیری جوانوں کو گرفتار جبکہ دس سے زائد کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اب یہ طاقت کے زور پر انسانی ، مذہبی اور سیاسی حقوق پامال کر رہی ہے ۔ پر ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں اور حربوں سے نہ تو پہلے کشمیریوں کے جذبہ شوق شہادت ، جذبہ ایمانی اور آزادی کی خواہش کو دبایا جا سکا ہے نہ اب یہ کیا جاسکے گا ۔
۔ الٹا بھارتی فوج شدید ٹینشن کا شکار ہے کہ اب موجود بگڑتے حالات کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں بھی ان کو ایک اچھی خاصی تعداد میں فوجی وہاں پر رکھنے پڑیں گے ۔ جبکہ دوسری جانب لداخ اور ارونا چل پردیش میں چین ان کی خوب پٹائی کر رہا ہے ۔ پھر مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی خود کشیوں کا نہ تھمنے والاسلسلہ لگاتار جاری ہے۔7
اکتوبر کو ایک اہلکار نے ذہنی تناؤ کے باعث پھندے سے لگ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ 16اکتوبر کو ضلع کپواڑہ میں ایک اوراہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ۔ اس سے ایک روز قبل کپوارڑہ میں ہی ایک فوجی اہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر خودکشی کرلی تھی اس طرح ایک ہفتے کے دوران خود کشی کرنے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کی تعداد چار ہوگئی ہے ۔ ۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر تین دن میں ایک فوجی خود کشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہا ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران گیارہ سو سے زائد جوانوں نے خود اپنی جان لے لی۔ لیکن اس ہفتے خودکشی کرنے والے قابض بھارتی اہلکاروں کی تعدادمیں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کا ذمہ دار کشمیر میں موجودہ حالات کو کہا جا رہا ہے ۔ پر ایسا لگتا ہے کہ مودی کو بھارتی فوجیوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اس کے سر پر بس اگلا الیکشن سوار ہے ۔ ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کرنے والے قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ حالانکہ فوجی قیادت ان خودکشیوں کو روکنے اور فوجیوں کو ذہنی دبا ئوسے نکالنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ لیکن مرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پھر ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہر سال سینکڑوں فوجی اہلکار جنگ کے بغیر ہی مارے جاتے ہیں اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی دستوں کے حوصلے پست ہوتے جارہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود کشمیر میں ناکامی سب سے بڑا سبب ہے۔ ۔ کشمیری مجاہدین اور بھارت کی شمالی ریاستوں میں لڑائی کی باعث بھارتی فوج کا مورال گرچکا ہے۔ ۔ جو حالات بن رہے ہیں مجھے تو لگ رہا ہے کہ جیسے افغانستان میں تبدیلی آئی ہے ایسے جلد مقبوضہ کشمیر میں بھی آئے گی اور انشااللہ ان کو بھی جلد آزادی نصیب ہو گی -

کورونا ویکسین لگوانے سے انکار، معروف کھلاڑی مشکل میں پھنس گئے
کورونا ویکسین نہ لگوانے پر معروف ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ کی آسٹریلین اوپن میں شرکت کھٹائی میں پڑ گئی-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے ایمیگریشن کے وزیر نے کہا کہ کسی ایسے شخص کو آسٹریلیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائےگی جس کی ویکسینیشن نہیں ہوئی ہوگی نوواک جوکووچ نے بھی اگر ویکسی نیشن نہ کرائی تو اسے بھی آسٹریلین اوپن میں شرکت کرنے نہیں دیا جائےگا ۔
آسٹریلین وزیر کا کہنا تھا کہ جو کھلاڑی بھی آسٹریلین اوپن میں شرکت کا خواہش مند ہوا اس کیلئے کورونا ویکسین کی دو خوراکیں لینا لازمی ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف کھلاڑیوں کیلئے نہیں بلکہ جو بھی آسٹریلیا کا سفر کرنا چاہتا ہے اس کیلئے کورنا ویکسین کی دو خوراکیں لینا ضروری ہوگا میرا مطلب ہے کہ آسٹریلیا کو ہر آنے والے کو ڈبل ویکسین لگانے کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے کہا وائرس اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ آپ کا ٹینس کے بڑے کھلاڑی ہیں یا ایک عام شہری ہیں یا آپ نے کتنے گرینڈ سلم جیتے ہیں۔ اپنے آپ کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ کو ویکسین لگانے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب سربیائی کھلاڑی نے ویکسی نیٹڈ ہونے یا نہ ہونے کو ذاتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنا سٹیٹس شیئر نہیں کرسکتا یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔
واضح رہے کہ لندن کے دریائے ٹیمز کے کنارے نئے سال کے موقع پر آتش بازی کا مظاہر دوسرے سال بھی منسوخ کر دیا گیا گزشتہ سال کورونا کی بگڑتی صورتحال اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے نیو ائیر پر ہونے والی آتش بازی منسوخ کی گئی تھی لیکن اس بار کورونا کی صورتحال بہتر ہونے اور لاک ڈاون ختم ہونے کے باوجود ایونٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان نژاد میئر لندن صادق خان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کورونا وبا کی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے دریائے ٹیمز کے کنارے اس سال آتش بازی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا تاہم نئے سال پر لندن میں دیگر تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
میئر لندن کےترجمان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال وبائی امراض کی وجہ سے نیو ائیر کا شو قدرے مختلف انداز میں ہوا اور اس سال کئی دلچسپ نئے آپشنز کو نئے سال کی تقریبات کا حصہ بنایا جائے گا "ہمیشہ کی طرح لندن نئے سال کا شاندار انداز میں استقبال کرے گا” ٹریفالگر اسکوائر میں اب بھی جشن ہوگا ، تفصیلات کا اعلان مقررہ وقت میں کیا جائے گا۔
-

چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ
چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ
پرانی دشمنی کی آڑ میں گینگ متحرک لیکن پولیس بے بس اور مفلوج۔۔۔
کیا امن و امان کے لئے ہمیں ایک بار پھر فوجی آپریشن کی ضرورت ہے؟صوبہ سندھ اور پنجاب بارڈر پر واقع صادق آباد ضلع رحیم یار خان معاشی اعتبار سے جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں سب سے زیادہ مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس مضبوطی کی وجہ سے یہ علاقہ ہمیشہ کسی نہ کسی گینگ کے نشانے پر بھی رہتا ہے۔ کبھی یہاں آئے روز لوگوں کو اغواء کر لیا جاتا ہے تو کبھی دن دیہاڑے بسوں اور ویگنوں کو روک کر لوٹ لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑکیوں کے ذریعے لڑکوں کو پھنسا کر اغوا کرنے کے بعد کروڑوں روپے تاوان ڈیمانڈ کیا جاتا رہا ہے۔
کبھی ان تمام کاموں کے لئے یہاں چھوٹو گینگ بہت مشہور ہوا کرتا تھا جس کے خلاف ہماری پولیس نے کئی آپریشنز بھی کئے تھے لیکن ہر بار پولیس کی ناکامی کے بعد جب حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے تو آخرایک فوجی آپریشن کرکے اس چھوٹو گینگ سے نجات حاصل کی گئی۔
لیکن حالیہ مشکل یہ ہے کہ اب وہاں چھوٹو گینگ سے بھی بڑا ایک اندھڑ گینگ سامنے آ چکا ہے۔ جس نے چند دن پہلے پولیس چوکی کے قریب واقع ایک پٹرول پمپ پر باپ اور چار بیٹوں سمیت نو افراد کو قتل کیا ہے۔ قتل کے بعد اعترافی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی اور ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ابھی مزید نو قتل اور بھی ہونے ہیں۔ لیکن اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود نہ تو ابھی تک وہ پکڑے گئے ہیں نہ ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ہے۔ اور نہ ہی کوئی امید نظر آ رہی ہے کہ غریب عوام کو اس سفاک گینگ سے کسی طرح نجات مل سکے۔
اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ تمام معاملہ ہوا کیا؟ کیسے پولیس کی غفلت اور سالوں پرانی دشمنی نے نو عدد جانوں کو نگل لیا؟
دراصل مرنے والے غلام نبی اندھڑ اور اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کا تعلق ایک ہی برادری اور قبیلے سے ہے۔
اور ان کے درمیان 1995 میں دشمنی کی بنیاد پڑی جب جانو اندھڑ کے خاندان کی ایک خاتون پر کاروکاری کا الزام لگایا گیا تھا جس میں غلام نبی اندھڑ کے خاندان کے ایک فرد کو قصوروار ٹھہرا کرجانو اندھڑ کے خاندان والوں نے اس شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن بعد میں یہ معاملہ جرگوں اور مفاہمت سے حل ہو گیا تھا۔
اس کے بعد ایک واقعہ 2016 میں ہوا جب جولائی کے مہینے میں پولیس نے اندھڑ گینگ کے سات ڈاکوؤں کو ایک مبینہ آپریشن کے بعد کشمور میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ اور اس کے بعد رحیم یار خان پولیس ان کی لاشوں کو چوک ماہی میں لے آئی تھی۔ وہاں ان ڈاکووں کی لاشوں کو سرعام سڑک پر رکھا گیا تھا۔ وہاں جمع ہونے والی عوام نے اس کارروائی پر پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے۔پولیس نے جن سات ڈاکوؤں کو مارا تھا ان میں اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کے پانچ بھائی ایک بھتیجا اور ایک دوست بھی شامل تھا۔ ان میں ہی خانو اندھڑ بھی تھا جو اس وقت گینگ کا سرغنہ تھا۔
پولیس کی اس تمام کاروائی کے پیچھے جانو اندھڑ کو شک تھا کہ اس میں غلام نبی اندھڑاور اس کے خاندان والوں کا ہاتھ تھا اور انہوں نے پچھلے واقع کا بدلہ لینے کے لئے مخبری کرکے یہ تمام آپریشن کروایا تھا۔ کیونکہ اسی پٹرول پمپ پراس آپریشن کا جشن بھی منایا گیا تھا۔
لیکن غلام نبی اور ان کے خاندان کے افراد اس کی تردید کرتے تھے۔ انھوں نے کئی جرگوں اور مصالحتی کوششوں کے ذریعے جانو اندھڑ کو کئی بار یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ اُن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے پولیس کو ایسی کوئی مخبری کی تھی۔ بلکہ ان کے خاندان نے کئی مواقع پر جانو اندھڑ اور اس کے گینگ کو کئی لاکھ روپے بھی ادا کیے تھے۔ یہاں تک کہ اندھڑ گینگ کے لوگ باقاعدگی سے ان سے بھتہ بھی وصول کرتے رہتے تھے۔ کئی مرتبہ ان کو ایک دوسرے کی شادیوں میں شریک ہوتے اور میل ملاقاتیں کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
لیکن آخر پانچ سال گزرنے کے بعد اب اس نے اپنے بھائیوں اور بھتیجے کا بدلہ لینے کے لئے دن دیہاڑے یہ تمام قتل کئے۔
اس تمام واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے کہ کیسے پانچ موٹرسائیکلوں پر تقریبا ایک درجن لوگ دوپہر کے وقت صادق آباد کے اس پیٹرول سٹیشن پر آئے ان سب نے کندھوں پر بندوقیں لٹکائیں ہوئیں تھیں۔
جن کو دیکھ کر پیٹرول پمپ کے دفتر میں بیٹھے چند لوگوں نے چھپنے کی کوشش کی جبکہ باقی افراد یہ جاننے کے لیے باہر نکل آئے کہ معلوم کیا جا سکے آخر معاملہ کیا ہے۔
بندوقیں اٹھائے یہ لوگ پٹرول پمپ پر بنے دفتر میں داخل ہوئے وہاں کچھ دیر دونوں طرف کے لوگوں میں کچھ بات چیت ہوئی ایک شخص نے ان ڈاکووں میں سے ایک کے پاؤں بھی پکڑے اور ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔ لیکن چند لمحوں بعد ڈاکووں نے فائرنگ شروع کر دی اور دفتر میں موجود تمام کے تمام لوگوں کو قتل کردیا ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔ اس کے بعد وہاں سے نکل پٹرول پمپ کے ساتھ ہی موجود دو دکانوں کے باہر بھی رک کر ڈاکووں نے خوف و ہراس پھیلانے کے لئے فائرنگ کی اور اس کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے۔
اس پورے واقع میں نو افراد قتل ہوئے جن میں پانچ افراد کا تعلق ایک ہی گھر سے تھا یعنی ایک باپ غلام نبی اندھڑ اور اس کے چار بیٹے۔ اس کے علاوہ غلام نبی کا پانچواں بیٹا بھی اس واقعے میں زخمی ہوا ہے۔ غلام بنی اس پیٹرول پمپ کا مالک تھا جہاں یہ تمام حادثہ ہوا۔
اس تمام واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے اور وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی ہیں۔
لیکن پولیس چوکی قریب ہونے کے باوجود پولیس ان ڈاکوؤں کو روکنے یا واردات کے فوری بعد گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔
بلکہ دو دن بعد واقعے کی رپورٹ مجاہد امیر نامی ایک شخص کی مدعیت میں تھانہ کوٹ سبزل میں درج کی گئی۔ مجاہد کا بھائی بھی مرنے والوں میں شامل تھا۔ لیکن ان ڈاکووں کی دہشت کا یہ عالم ہے کہ مجاہد امیر مقدمہ میں مدعی بننے سے ہی دستبردار ہو گیا۔ اور ایک بیان حلفی جمع کروایا کہ ہم نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ میں اس مقدمے میں بالکل بھی مدعی نہیں بننا چاہتا۔ اگر باقی مقتولین کے ورثا مدعی بننا چاہیں تو بے شک بن جائیں۔لیکن اس وقت اس پورے علاقے میں کوئی ان ڈاکووں کے خلاف بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ جو بھی ڈاکوؤں کے خلاف بات کرتا ہے وہ اس سے رابطہ کرکے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کہ وہ خالی دھمکیاں نہیں دیتے عمل بھی کر دیتے ہیں۔
مطلب وہاں کے لوگ تو ان ڈاکووں کو بہت اچھی طرح سے سمجھتے ہیں لیکن اگر کوئی ان کو نہیں جانتا تو وہ ہماری پولیس ہے۔ کیونکہ اندھڑ گینگ کے سربراہ جانو اندھڑ کو حال ہی میں خود پولیس نے کچے کے علاقے سے نکال کر آبادی میں لا کر بٹھایا تھا۔ اور جب وہاں کے مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ یہ ڈاکو شہری علاقوں میں آکر بیٹھے ہوئے ہیں اور پولیس ان کے خلاف کاروائی نہیں کر رہی تو پولیس نے بڑے آرام سے یہ موقف اختیار کر لیا تھا کہ۔۔ اگریہ کسی کو تنگ تو نہیں کر رہے تو آپ کو کیا مسئلہ ہے۔
اس کے علاوہ کچھ اعلی افسران کچے کے علاقے میں بھی ان کے پاس گئے تھے اور جانو اندھڑ کو جرائم کی دنیا چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان سے مذاکرات کئے گئے کہ اگر وہ خود بھی جرائم کو چھوڑ دیں اور دوسرے ڈاکوؤں کو بھی ایسا کرنے پر قائل کریں تو ان کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جا سکتے ہیں۔
جس کے بعد ان ڈاکووں اور پولیس میں نہ جانے کیا طے پایا کہ جانو اندھڑ تقریبا ایک ماہ پہلے اپنے چند ساتھیوں سمیت چوک ماہی کے علاقے میں آکر اپنے قلعہ نما ڈیرے میں رہنے لگ گیا۔ جس کی کئی کئی فٹ چوڑی کچی دیواریں ہیں تا کہ ان میں سے بندوق کی گولی آر پار نہ ہو سکے۔
اس گینگ کے پاس بھاری اسلحہ اور جدید ہتھیار بھی موجود ہیں جن میں مشین گنیں، راکٹ لانچر، گرینیڈ، رائفلیں اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔
اور حال ہی میں اس گینگ نے اپنے ڈیرے سے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ لیکن پولیس نہ تو اس وقت کر چکی اور نہ ہی اب کچھ ہونے کی امید ہے۔
جس ڈھٹائی کا مظاہرہ یہ گینگ سوشل میڈیا پر اپنے جاری کئے گئے بیانات میں کر رہے ہیں اس کے بعد صاف نظر آتا ہے ان کو پولیس کا کوئی ڈر خوف نہیں ہے یہ اس چھوٹو گینگ سے بھی کہیں زیادہ بڑا اور خطرناک ہو چکا ہے جس کے آگے ہماری پولیس کئی بار بے بس ہو چکی تھی اور پھر فوج کے ذریعے آپریشن کرکے اس کا خاتمہ کرنا پڑا تھا۔ اس لئے اب جو حالات بن چکے ہیں لگتا یہ ہے کہ اب ایک بار پھر ویسے ہی ایک آپریشن کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جائے اور عوام کو سکون کا سانس مل سکے۔ -

ترقی یافتہ دنیا اور جان لیوا وبائی امراض تحریر ۔ناصر بٹ
@mnasirbuttt
دنیا میں ہر صدی میں ایک بڑی بیماری حملہ آور ہوتی ہی رہی، کبھی بلیک ڈیتھ، کبھی ہسپانوی زکام اور کبھی ایڈز، وبا کا آغاز ہوا تو کئی کئی سال لگ گئے اس کا علاج ڈھونڈنے میں، علاج ملا تو مریضوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے میں وقت لگ گیا یعنی ہر وبا ہزاروں نہی لاکھوں زندگیوں کو نگل چکی، اب موجودہ حالات کو دیکھ لیں تو ڈینگی جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا، ذرا سی موسم نے کروٹ جو بدلی تو آگئی مچھروں کی فوج اور ہوگئی حملہ آور، پولیو جو بظاہر دنیا بھر کی طرح پاکستان اور افغانستان سے بھی کم تو ہوتا نظر آتا ہے لیکن اس کے قطرے پلانے میں بھی جتن کرنا اپنے آپ میں ایک جنگ لڑنے جیسا ہی ہے، کورونا وائرس کی بات کریں تو پہلے ایک پھر دو پھر تین اور اب چار یعنی نام تو نہ بدلا لیکن لہروں کے نمبر بدلتے گئے اور ہر نئی ویو پہلی ویو سے زیادہ خطرناک ہی رہی، لیکن ابھی دنیا میں کاروباری، تعلیمی اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر اپنے معمول پر آئی نہیں تھیں کہ برطانیہ میں عالمی وبا کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا کے نئے ویرئنٹ ’ڈیلٹا پلس’ کے کیسز میں پھیلاؤ رپورٹ ہونے لگا، خبر آئی اور حکام کو دوڑیں لگ گئیں، برطانوی وزارت صحت کہتی ہے کہ کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرئنٹ کی نئی تبدیلی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جو ملک میں وبا کے بڑھتے کیسز کی وجہ بن رہا ہے، اب معاملات کچھ یوں بن چکے کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا، جسے بی 1617.2 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گزشتہ برس برطانیہ میں سامنے آئی تھی تاہم حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے 6 فیصد کیسز جینیاتی طور پر وائرس کی نئی قسم کے ہیں اے وائے.4.2، جسے کچھ افراد ’ڈیلٹا پلس ’ بھی کہہ رہے ہیں، ایسی میوٹیشنز پر مشتمل ہے جو وائرس کو زندہ رہنے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے اب یہ پتا لگانے کے لیے ٹیسٹس کیے جارہے ہیں کہ ڈیلٹا وائرس کی اس نئی قسم سے کتنا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے یا موجودہ ویکسین سے محفوظ رہنے کا امکان نہیں ہے، اسے ابھی تک تشویش کا باعث بننے والی قسم یا زیر تفتیش ویرئنٹ نہیں سمجھا گیا لیکن اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے وائے.4.2 ہے کیا؟ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہزاروں مختلف اقسام یا ویرئنٹس موجود ہیں، وائرس ہر وقت بدلتے رہتے ہیں لہذا ان کی نئی اقسام سامنے آنا کوئی حیران کن بات نہیں لیکن ڈیلٹا کی اصل قسم کو مئی 2021 میں برطانیہ میں باعثِ تشویش قرار دیا گیا تھا جب یہ الفا ویرئنٹ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی سب سے بڑی قسم بن گئی تھی لیکن جولائی 2021 میں ماہرین نے اے وائے.4.2 کی نشاندہی کی تھی، اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ ڈیلٹا کی یہ قسم تب سے آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، اس میں کچھ نئی تبدیلیاں شامل ہیں جو اسپائک پروٹین کو متاثر کرتی ہیں جسے وائرس ہمارے خلیوں میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے، ابھی تک اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملا کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ وائرس زیادہ متعدی ہے لیکن یہ ماہرین ابھی اس پر تحقیق کررہے ہیں
عالمی وبا کے آغاز سے کورونا وائرس کی دیگر اقسام میں وائے 145 ایچ اور اے 222وی میوٹیشنز پائی گئی ہیں ۔ سائنسدان مسلسل نئی جینیاتی تبدیلیوں کی جانچ کر رہے ہیں جن سے کورونا وائرس گزر رہا ہے کچھ اقسام پریشان کن ہیں لیکن بہت سی غیر اہم ہیں تاہم مشکل کام ان لوگوں کو ڈھونڈنا ، پتا لگانا اور ان کا انتظام کرنا ہے جو اہم ہو سکتے ہیں اس مرحلے پر ، ماہرین کو نہیں لگتا کہ اے وائے.4.2 کو پکڑا جاسکے گا لہذا ہوسکتا ہے کہ اسے واچ لسٹ سے نکال دیا جائے، یونیورسٹی کالج لندن کے جینیٹکس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر فرانکوئس بلوکس نے کہا کہ ’یہ ممکنہ طور پر کچھ زیادہ متعدی قسم ہے انہوں نے کہا کہ ’الفا اور ڈیلٹا اقسام کے ساتھ جو کچھ ہم نے دیکھا اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے ، جو کہ 50 سے 60 فیصد زیادہ متعدی تھیں، فی الحال اس پر تحقیق جاری ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ 10 فیصد زیادہ متعدی ہو پروفیسر فرانکوئس نے کہا کہ اچھا ہے کہ ہم آگاہ ہیں، یہ بہت اچھا ہے کہ ہمارے پاس مشکوک چیزوں کو دیکھنے کے لیےایسی سہولیات اور انفراسٹرکچر موجود ہے انہوں نے کہا کہ ’اس مرحلے پر میں کہوں گا انتظار کریں اور دیکھو ، گھبرائیں نہیں، یہ تھوڑا زیادہ متعدی ہوسکتا ہے لیکن یہ اتنا تباہ کن نہیں ہے جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا تھا۔ اب اس ساری صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ کہیں ایک بار پھر سے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہی اس شدید صورتحال کی وجہ سے بحرانی کیفیت پیدا نہ ہوجائے جس کا بہترین حل یہ ہوگا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے دوڑ لگائی جائے اس بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کی، کوشش کی جائے کہ اپنے شہریوں کو پہلے سے ہی آگاہی دے دی جائے تاکہ بیماری کے ممکنہ حملے کی صورت میں احتیاطی تدابیر کو اپنایا جاسکے
