Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فیصلہ پارٹ نمبر 4 تحریر سکندر علی

    نہیں ابوجان، میں کسی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں اور ہم اس کی ہدایات پرمل کریں گے۔ ہم یہ کمرہ ہی بدل لیں گے۔ آپ

    سامنے کے کمرے میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔ میں یہاں آجاؤں گا۔ آپ کو اس تبدیلی کا معمولی ساہی احساس ہوگا ۔ ہر چیز آپ

    کے ساتھ ہی وہاں منتقل ہو جائے گی لیکن یہ سب کچھ بعد میں ہوگا، پہلے تو میں آپ کو کچھ دیر کے لیے بستر میں لٹا دیتا

    ہوں۔ مجھے یقین ہے آپ کو مل آرام کی ضرورت ہے۔ میں کپڑے اتارنے میں آپ کی مددکروں گا۔ آپ دیکھئے گا کہ

    میں ایسا کروں گا۔ اگر آپ فورا ہی سامنے کے کمرے میں منتقل ہونا چاہیں تو آپ فی الحال میرے بستر میں جا کر لیٹسکتے ہیں ۔ یہی سب سے بہتر رہے گا۔

    جارج اپنے باپ کے قریب کھڑا تھا جس کا الجھے ہوئے سفید بالوں والا سر اس کی چھاتی سے جالگا تھا۔

    جارج اس کے باپ نے بغیر ہلے مدھم آواز میں کہا۔

    جارج فورا ہی اپنے باپ کے ساتھ نیچے جھک گیا۔ اس نے اپنے باپ کے تھکے ہوئے چہرے پر پھیلی ہوئی پتلیاں

    دیکھیں جو آنکھوں کے کناروں سے اسی پر جمی ہوئی تھیں ۔

    سینٹ پیٹرز برگ میں تمھارا کوئی دوست نہیں ہے۔ تم ہمیشہ سے ایسے ہی فریبی ہو اور مجھ سے فریب کرنے سے باز

    نہیں آتے۔ وہاں تمھارا کوئی دوست ہوئی کیسے سکتا ہے؟ مجھے یقین نہیں آتا ۔

    ابو جان ز را یاد کرنے کی کوشش کئے جاری اپنے باپ کو آرام کری سے بلند کرتے ہوئے بولا اور جونہی وہ

    نقاہت سے سیدھا کھڑا ہو تو اس کا شب خوابی کا لباس اتارایا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد اس بات کو تین سال ہو جائیں گے

    جب میرا دوست آخری مرتبہ یہاں آیا تھا۔ مجھے یاد ہے آپ کو خاص طور پر وہ پیش نہیں تھا۔ کم ازکم دو بار میں نے آپ کو اس

    سے ملنے سے رد کے حالاں کہ تب وہ میرے ہی کمرے میں بیٹا ہوا تھا۔ میں اس سے آپ کی نفرت کو اچھی طرح سے مجھ سکتا

    ہوں ۔ میرا دوست بھی بہت عجیب ہے لیکن پھر بعد میں آپ کی ایک سے گاڑھی چھنے گی۔ مجھے یہ سوچ کر فخر محسوس ہوتا کہ

    آپ نے اسے سنا، ہاں میں سر ہلایا اور اس سے سوال پر تھے۔ دماغ پر زور دیں تو ضرور آپ کو یاد آ جائے گا۔

    وہ میں روی انقلاب کے بارے میں بہت کی غیر معمولی کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ مثال کے طور پر جب وہ کیو کے

    دورے پر تھا اور ایک نادی جلوس سے اس کی ٹڈ بھیڑ ہوئی تھی اور اس نے ایک پادری کو بالکونی میں دیکھا تھا جس نے اپنے

    ہاتھ میں خون میں لتھڑی ہوئی صلیب کا زخم بنایا تھا اور ہاتھ بلند کے ہجوم سے درخواست کر رہا تھا ۔ آپ نے اس واقعہ کا خود

    کبھی ایک سے زائد بار ذکر کیا۔

    اس اثنا میں جاری اپنے باپ کو پھر سے وہاں بٹھانے اور احتیاط سے اس کا سوتی پاجامہ اتارنے میں کامیاب ہو گیا

    جو اس نے اپنے لینن کے بنے ہوئے زیر جامہ اور جرابوں کے اوپر پہنا ہوا تھا ۔ زیر جامہ کی غلاظت کو دیکھ کر اس نے اپنے

    آپ کو ملامت کی کہ وہ اپنے باپ کو نظر انداز کیے ہوئے تھا۔ بی واقعتا اس کی زمہ داری تھی کہ وہ خیال رکھے کہ اس کے باپ

    نے زیر جامہ بدلا تھایا نہیں ۔ اس نے ابھی تک واضح انداز میں اپنی منگیتر سے بھی اس بارے میں بات نہیں کی تھی کہ وہ

    مستقبل میں اپنے باپ سے تعلق کیا انتظامات کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ انھوں نے اپنے طور پر فرض کرلیا تھا کہ شادی کے

    بعد اس کا باپ یونہی اس پرانے اپارٹمنٹ میں رہتا ہے لیکن اب اس نے فورآنی یہ پکا ارادہ کیا کہ وہ باپ کو نئے گھر میں

    اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ذرا سوچئے تو صاف معلوم ہوتا کہ جو د کھ ر کھ وہ اپنے باپ کی کرنا چاہتا تھا، اس کے لیے دیر ہو چکی تھی۔

    وہ اپنے باپ کو بازوں میں اٹھا کر بستر تک لے گیا لیکن چند قدم ہی بستر کی طرف بڑھا ہوگا کہ دیکھ کر اس کا

    پاپ اس کے سینے میں بندھی کھڑی کی زنجیر سے کھیل رہاتھا

    ، اسے دہشت کا احساس ہوا۔ وہ اپنے باپ کو بستر پر انہیں لٹا سکا 

    کیوں کہ زنجیر پر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی لیکن جوہی وہ بستر پرلیٹا، باپ نے زنجیر چھوڑ دیا۔ اس نے خود کھیل میں

    اچھی طرح ڈھانپ لیا بلکہ اسے اپنی عادت کے بکس کافی اوپر اپنے کندسوں تک لیا۔ وہ جاری کو نامهربان نظروں سے

    دیکھ رہا تھا۔

    آپ کو میرا دوست یاد آنے لگا ہوگا یا نہیں؟’ جارج نے حوصلاف انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

    کیامیں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ۔ اس کے باپ نے پوچھا جیسے وہ انداز نہیں لگا پارہا تھا کہ اس کے پیری

    طور پر بلا سے ڈھکے ہوئے تھے یانہیں ۔

    کیا آپ بستر میں آرام محسوس کررہے ہیں؟ جارج بولا اور باپ کے گرد بستر کو ہموار کر دیا۔

    کیا میں اچھی طرح سے ڈھک گیا ہوں ؟ اس کے باپ نے ایک بار پھر پوچھا اور لگتا تھا جیسے اسے جواب سنے

    میں دی تھی۔

    جارج ہے۔

  • ٹی ٹوئنٹی کی نئی رینکنگ: بابر اعظم نمبر ون بلے باز بن گئے

    ٹی ٹوئنٹی کی نئی رینکنگ: بابر اعظم نمبر ون بلے باز بن گئے

    آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ رینکنگ کے مطابق بابر اعظم 834 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کے کپتان بابر اعظم آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ رینکنگ میں پہلے نمبر پر پہنچ گئے ہیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سپر 12 مرحلے کے چوتھے میچ میں نمیبیا کے خلاف ففٹی کے بعد بابر اعظم تر قی پا کر دوسری سے پہلی پوزیشن پر آ گئے۔

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ رینکنگ میں انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان کا دوسرا نمبر ہے، ان کے ریٹنگ پوائنٹس کی تعداد 798 ہےجبکہ آسٹریلیا کے ایرون فنچ 733 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہیں-


    محمد رضوان چوتھی پوزیشن پر ہیں ان کے پوائنٹس کی تعداد 731 ہے اور ویرات کوہلی پانچویں پوزیشن پر ہیں ورلڈ کپ ایونٹ کے ٹاپ اسکورر جوز بٹلر 8 درجے بہتری کے بعد نویں نمبر پر آگئے ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان بھی آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ٹیمز رینکنگ میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے، بھارت اور نیوزی لینڈ کے بعد دبئی اسٹیڈیم میں افغانستان کے خلاف 5 وکٹوں سے کامیابی کی بدولت پاکستان نے عالمی رینکنگ میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کرنا ان کے لیے حوصلہ افزاء عمل ہے تاہم انہیں زیادہ خوشی پاکستان کرکٹ ٹیم کی درجہ بندی میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے اور ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے پر ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے اور ہماری اسکواڈ میں شامل ہر کھلاڑی ٹیم کی فتوحات میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہا ہے، ہم اس ایونٹ میں جیت کا تسلسل برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ٹاپ ٹین بالرز میں کوئی پاکستان شامل نہیں ۔ شاہین شاہ آفریدی حارث رؤف 20ویں پوزیشن پر براجمان ہیں ۔آئی سی سی کی نئی رینکنگ کے مطابق بالرز میں وانندو ہسارنگا نے تبریز شمسی سے پہلی پوزیشن چھین لی ہے۔

  • میک ان پاکستان پالیسی کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے،معروف کمپنی کا پاکستان میں موبائل تیار کرنے کا فیصلہ

    میک ان پاکستان پالیسی کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے،معروف کمپنی کا پاکستان میں موبائل تیار کرنے کا فیصلہ

    موبائل فون بنانے والی شیاؤمی ائیرلنک نے پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ میک ان پاکستان پالیسی کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے۔


    انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ فون بنانے والی دنیا کی دوسری بڑی کمپنی شیاؤمی ائیرلنک کمیونی کیشن کے اشتراک سے پاکستان میں اپنے موبائل فون بنائے گی۔

    رزاق داؤد نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ ابتدائی طور پر اڑھائی سے تین ملین موبائل فون سالانہ پاکستان میں تیار کیے جائیں گے، پیداواری سہولت قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور میں دی جائے گی جو کہ جنوری 2022 میں فنکشنل ہوجائے گا، جس سے 3 ہزار افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

  • بیٹی کے ریپ کی دھمکیاں،راہول گاندھی کوہلی کی حمایت میں سامنے آگئے

    بیٹی کے ریپ کی دھمکیاں،راہول گاندھی کوہلی کی حمایت میں سامنے آگئے

    انتہا پسند بھارتیوں کی جانب سے تنقید پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کی حمایت میں سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : ہندو انتہا پسندوں نے پاکستان کے خلاف شکست کا ذمہ دار بھارتی بولر محمد شامی کو قرار دیا تھا اور ساتھ ہی انہیں ‘غدار’ قرار دیا۔ بعد ازاں بھارتی کرکٹ بورڈ اور بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے محمد شامی کی حمایت میں ٹوئٹس کیں تھیں-

    محمدشامی کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے والوں کو کوہلی نے جواب دیتے ہوئے کہا "میرے لیے کسی کے مذہب کی وجہ سے اس پر حملہ کرنا سب سے شرمناک چیز ہے جو انسان کرسکتا ہے. اپنی رائے کو آواز دینا سب کا حق ہے.لیکن ذاتی طور پر میں نے کبھی کسی سے مذہبی بنیاد پر امتیاز کرنے کا سوچا بھی نہیں. یہ ہر انسان کےلئے انتہائی مقدس اور ذاتی چیز ہے اور اُسے وہیں رہنا چاہیئے لوگ اپنا غصہ نکالتے ہیں کیوں کہ انہیں سمجھ نہیں ہے کہ ہم افرادی طور پر کیا کرتے ہیں اور میدان میں کتنی کوشش کرتے ہیں-

    بھارتی انتہا پسندی میں پاگل ہو گئے،ویرات کوہلی کی 9 ماہ کی بیٹی کو ریپ کی دھمکیاں

    تاہم کپتان ویرات کوہلی کی جانب سے مسلمان فاسٹ بولر محمد شامی کے حق میں بیان دینے پر متعصب بھارتی باشندے تمیز کھوبیٹھے اور سوشل میڈیا پر اپنے اسٹار کرکٹر کو دھمکیاں دینا شروع کردیں دھمکی @Criccrazyygirl کے ٹوئٹر ہینڈل سے دی گئی جو بعد میں ڈیلیٹ کردیا گیا ر ویرات کوہلی کی 10 ماہ کی بیٹی وامیکا کوہلی کو ریپ کی دھمکیاں دی گئیں جبکہ کوہلی کے خلاف ٹرینڈ بھی بنایا گیا۔


    ویرات کوہلی کی 10 ماہ کی بیٹی وامیکا کو ریپ کی دھمکیاں ملنے پر راہول گاندھی نے ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے بھارتی کپتان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ڈیئر ویرات، دھمکیاں دینے والوں میں نفرت بھری ہوئی ہے کیونکہ کوئی انہیں محبت دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ ان لوگوں کو معاف کردو اور ٹیم کی حفاظت کرو۔

    راہول گاندھی کی اس ٹوئٹ کے بعد ٹوئٹر پر ’Dear Virat‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جس میں صارفین کی بڑی تعداد نے کانگریس رہنما کے بیان کا خیرمقدم کیا اور ویرات انوشکا کے لیے ٹوئٹس کیں۔

  • سافٹ وئیر میں خرابی: ٹیسلا کی2017 میں بیچی گئی 12 ہزارگاڑیوں کی واپسی

    سافٹ وئیر میں خرابی: ٹیسلا کی2017 میں بیچی گئی 12 ہزارگاڑیوں کی واپسی

    ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے 2017 میں بیچی گئی اپنی 12 ہزار گاڑیاں واپس منگوا لی ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ٹیسلا کمپنی کے مواصلاتی نظام میں خرابی کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جس کے بعد کمپنی نے گاڑیاں واپس منگوا لی ہیں ایمرجنسی بریکس کے اچانک حرکت میں آنے کی شکایات موصول ہونے کے بعد ہی ٹیسلا نے انسٹال شدہ ایف ایس ڈی 10.3 سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہٹا دی تھی، اور متاثرہ گاڑیوں میں 10.3.1 ورژن انسٹال کیا تھا۔

    نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق مواصلاتی نظام میں خرابی کے باعث گاڑی ٹکرانے کی غلط وارننگ اور ایمرجنسی بریک لگ سکتی ہے، جو خطرنات ثابت ہوتی ہےایف ایس ڈی سسٹم خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت فراہم کرتا ہے جس کے تحت گاڑی چلانے کے کچھ فنکشنز خود بخود متحرک ہو جاتے ہیں۔

    حفاظتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیسلا کے ساتھ رابطے میں رہے گی تاکہ کوئی بھی حفاظتی مسئلہ کو تسلیم کرتے ہوئے اسے صیح کیا جا سکے۔


    ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے بھی ٹویٹ کی تھی کہ ایف ایس ڈی 10.3 میں کچھ مسائل پیدا ہونے کے بعد وقتی طور پر 10.2 میں واپس منتقل کیا جا رہا ہے29 اکتوبر کو ٹیسلا نے کہا تھا کہ 99.8 فیصد گاڑیوں میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیا گیا تھا جس کے بعد کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

  • صاف چلی شفاف چلی ، کا نعرہ دفن .تحریر:نوید شیخ

    صاف چلی شفاف چلی ، کا نعرہ دفن .تحریر:نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ وفاقی کابینہ کے جتنے مرضی اجلاس ہو جائیں ، عمران خان جتنے مرضی دعوے کر لیں ۔ وزیر خزانہ جتنی مرضی خوشخبریاں سنا دیں ۔ جتنی مرضی بیرونی امداد مل جائے ۔ خطے میں ہم جتنے مرضی اہم پلیئر بن جائیں ۔ مگر عوامی مشکلات تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔ معذرت کے ساتھ سخت الفاظ کا چناؤ کر رہا ہوں پر پی ٹی آئی کی حکومت عوام کے لیے موت کا فرشتہ ثابت ہورہی ہے ۔ اس وقت نہ کسی کو کوئی آسرا ہو رہا ہے نہ ہی کسی کو کوئی سکون مل رہا ہے ۔ ڈینگی سے چلڈرن ہسپتال میں آج آٹھ ماہ کا بچہ موسی جان کی بازی ہار گیا ہے ۔ ڈینگی شتر بے مہار پھیلاتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ مگر حکومت ، اندھوں ، گونگوں اور بہروں کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ پھر دن دیہاڑے نو بینکوں پر سائبر حملے ہوتے ہیں ، رقم نکوالنے اور ڈیٹا چوری ہونی کی خبریں سامنے آتی ہیں ۔ مگر اسٹیٹ بینک میں نہ مانوں کی رٹ شروع کر دیتا ہے ۔ مشیر خزانہ شوکت ترین جہاں عوام کو ایک بار پھر بجلی اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کرتے ہیں ۔ تو عمران خان دلاسے دیتے دیکھائی دیتے ہیں کہ جلد مہنگائی سے متعلق ایک ریلیف پیکج کا اعلان ہوگا ۔ فی الحال عوام کے لیے خرشخبری یہ ہے کہ چینی اور ایل پی جی کی قیمت پھر بڑھ گئی ہے ۔ پناہ گاہیں اور لنگر خانوں کے ڈرامے کا ایک بار پھر ڈراپ سین ہونے والا ہے ۔ موسم بدل چکا ہے ۔ پھر بھی سرد موسم میں پناہ گاہوں کی دیواروں کے ساتھ لوگ آپکو سوتے دیکھائی دیں گے ۔

    ۔ آج بھی اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ایسے مزدور طبقے کی کمی نہیں ہے جو پارکوں،فٹ پاتھوں،گرین بلیٹس اور پلوں کے نیچے زندگی گزار دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے کہ ایک کمرے کا کرایہ ان کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ یہ کوئی بھکاری نہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دیہاتوں اور چھوٹے شہروں سے بڑوں شہروں میں دیہاڑی لگانے آتے ہیں ۔ اصل مہنگائی کا شکار یہ لوگ ہوئے ہیں جو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے گھر والوں سے دور رہ کر گزاراکرنے پر مجبور ہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ ملک کی معاشی صورت حال ایسی نہیں کہ معاملات پلک جھپکتے ہی ٹھیک ہوجائیں لیکن حکومتوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کریں اور عوام کو آسانیاں فراہم کریں۔ احساس پروگرام اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ مگر رزلٹ صفر بٹا صفر ہے ۔ ۔ پھر ایک اور اس حکومت کا فلیگ شپ پروگرام تھا ۔ کہ ملک میں بلین ٹری سونامی برپا کیا جائے گا ۔ آج لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس دیکھیں تو حقیقت معلوم ہوجائے ۔ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوچکا ہے ۔ کبھی یہ پہلا نمبر دہلی کا ہوا کرتا تھا ۔ یہ درخت کہاں لگے ہیں آپ بھی ڈھونڈیں میں بھی ڈھونڈتا ہوں ۔ آپ دیکھیں عمران خان کو ایک کمزور اور بے اثر اپوزیشن سے واسطہ پڑا تھا جو کسی بھی طرح عمران خان حکومت کیلئے کوئی خطرہ یا چیلنج نہیں ہے۔ پھر بھی عوام کے وہ معاشی مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھے ہیں۔ مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ اس حکومت کا اندھیر نگری چوپٹ راج دکھیں کہ ترجمان اور وزیر یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ تمام معاشی اشاریئے مثبت ہیں۔ یہ عوام میں بغیر سیکورٹی کے جا کر دیکھائیں تو تمام اشاریے تتر بتر ہوجائیں ۔ ان وزیروں اور بڑے افسروں کے لئے مہنگائی صرف میڈیا میں ہے جس پر یہ ایک نظر ڈال کر یہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کی تمام شاہ خرچیاں تو عوام برداشت کرتی ہے ۔ ان کو اپنی جیب سے پیڑول ڈلوانہ پڑے یا خرچہ کرنا پڑے تو لگے پتہ ۔۔۔۔

    ۔ ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ مہنگائی میں ماہانہ اضافہ 9.19فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اب ہر ماہ نو سے دس فیصد مہنگائی ہو اور حکومت کو عوام کی چینخیں سنائی نہ دیں ۔ تو پھر اس حکومت کو اندھا ، گونگا اور بہرہ ہی کہا جائے گا ۔ ۔ اس حکومت میں ٹیکسوں کی اتنی بھرمار ہے کہ اب صرف ہوا ، دھوپ اور بارش پر ہی ٹیکس باقی رہ گیا ہے۔ ویسے حکومت کی معاشی ٹیم کے بس میں ہو تو وہ ان نعمتوں پر بھی ٹیکس لگا دے۔ ۔ برطانیہ کے معتبر جریدے اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق 42 ملکوں میں پاکستان چوتھا مہنگا ترین ملک ہے۔ اس وقت پاکستان میں بندہ مزدور و ملازم ہی نہیں، بندہ صنعتکار اور بندہ تاجر کے اوقات بھی بہت تلخ ہیں۔ ۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے معاشی ماہرین کو حقیقی مسائل کا کوئی ادراک ہی نہیں۔ ہمارے موجودہ گورنر سٹیٹ بینک اور دیگر آئی ایم ایف کے ملازم ہیں۔ وہ اس سے پہلے کئی ممالک کی معیشتوں کو بے حال کر چکے ہیں۔۔ میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وزیراعظم عوام کے حال سے بالکل بے خبر ہیں۔ غربت کا حال تو اُس سے پوچھیں کہ جس کے دودھ پیتے بچے کے لیے دودھ میسر نہیں۔ صرف تین روز پہلے بچوں کے دودھ کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ وہی بچے ہیں جنہیں کم خوراک ملنے کی کئی برس سے خان صاحب شکایت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اب اُن کے دور میں بچوں کو کم از کم خوراک بھی نہیں مل رہی۔۔ کہتے ہیں جنازے میں رو نہیں سکتے تو رونے والوں جیسا منہ ہی بنا لو۔ان سے تو اتنا بھی نہیں ہوا۔

    ۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے اس سے نمٹ نہیں سکتے تو عوام سے یک جہتی کے لئے دکھاوے کے لئے ہی سہی لینڈ کروزر اور مرسڈیز سے چھوٹی گاڑی پر آجاؤ۔ سرکاری ادارے گواہی دے رہے ہیں کہ ملک میں اس قدر مہنگائی پہلے کبھی نہ تھی۔ معیشت کو سمجھنے والے کہہ رہے ہیں یہ کم ہے مہنگائی اور بڑھے گی حال یہ ہے کہ غربت افلاس سے پریشان لوگ اپنے بچوں کو زہر دے کرخودکشیاں کر رہے ہیں اور کپتان تو کیا ان کی بی، سی، ڈی ٹیم کے بارھویں ،تیرھویں اور چودھویں کھلاڑی دو دو کروڑ کی سرکار ی گاڑیوں میں فراٹے بھر رہے ہیں ۔ کپتان کم ازکم عوام کے ساتھ رو نہیں سکتا لیکن ان کا دکھ سمجھ کر رونے والوں جیسی صورت ہی بنا لے ۔۔ اس حکومت نے اتنا مایوس کر دیا ہے کہ اب تو میری خواہش کہ کوئی اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرے کہ اقتدار پاتے ہی حکمران اپنے وعدے یکسر بھول کیوں جاتا ہے۔ اس کی نفسیات بالکل بدل کیوں جاتی ہے۔ پھر حکومت خود اپنے ہاتھوں سے نیب آرڈینس میں تیسری ترمیم کے ذریعے خود کو اور اپنی حکومت کو این آر او دے دیتی ہے ۔ ایسے احتساب کا گلہ پی ٹی آئی نے خود گھونٹ دیا ہے ۔ ساتھ ہی ایک اور آرڈینس سے پارلیمنٹ کے کردار پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے ۔ اس آرڈینس کے چیدہ چیدہ مندراجات یہ ہیں کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں نیب کے چیئرمین کو سپریم کورٹ کے جج کی طرز پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کو دے دیا گیا ہے۔ یوں صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹا سکیں گے۔۔ نئی ترامیم کے تحت مضاربہ کیسز بھی واپس نیب کے حوالے کردیے گئے اور ان کیسز کو 6اکتوبر سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کردیا گیا۔ ۔ حالیہ ترامیم کے تحت منی لانڈرنگ ریفرنسز اور مضاربہ اسکینڈل کیسز بحال ہوگئے جس سے آصف زرداری، شاہد خاقان، مریم نواز، شہباز شریف کو کوئی ریلیف نہیں مل سکے گا اور پہلے سے قائم تمام منی لانڈرنگ کیسز پہلے کی طرح چلتے رہیں گے۔۔ اب اس ترمیم کے بعد یہ تو واضح ہے کہ اپوزیشن کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ۔ مگر جو درجنوں وزیروں اور پی ٹی آئی اراکین کے نام پینڈوار پیپرز میں آئے تھے ۔ ان سب کی موجیں ہیں ۔ کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کی حکومت ہے ۔ ۔ یوں صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ بھی اب دفن ہی سمجھیں ۔

    ۔ اپنی پیدائش سے اب تک ایک ہی ڈبہ فلم دیکھتا آرہا ہوں ۔ پہلے بھی اسے فلاپ فلم کہتا تھا اور اب بھی اسی پر قائم ہوں ۔ اس ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے انوکھانہیں ہے۔ ۔ یہ عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ ان کے اقتدار کی کشتی اپنے ہی بوجھ سے ڈوبتی جارہی ہے اور یہ ہائبرڈ نظام اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جس کا آغازبلوچستان میں جام کمال کی حکومت کی ”باعزت رخصتی“
    سے شروع ہو چکا ہے۔ جہاں تک وفاق اور پنجاب کامعاملہ ہے تو بات صرف اس ایک نکتے پر رکی ہوئی ہے کہ اپوزیشن عبوری تبدیلی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ویسے تو بات absolutely not
    سے why not تک پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھتے ہیں حالات کااونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

  • پاکستانی ٹیم نمیبیا کے ڈریسنگ روم پہنچ گئی،ٹیم کی کارکردگی اور محنت کو سراہا

    پاکستانی ٹیم نمیبیا کے ڈریسنگ روم پہنچ گئی،ٹیم کی کارکردگی اور محنت کو سراہا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان نے نمیبیا کو باآسانی 45 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کر لی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان نے نمیبیا کو گزشتہ روا شکست دے کر سیمی فائنل میں رسائی حاصل کر لی اور نمیبیا کو ایونٹ سے باہر کر دیا جیت کے بعد پاکستانی ٹیم نے خوشی تو منائی لیکن نمیبیا کے کھلاڑیوں کو بھی نہ بھولے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے پوری ٹیم ان کے ڈیسنگ روم پہنچ گئی جس کی ویڈیو پی سی بی نے اپنے سوشل میڈیا پر شئیر کی-


    پاکستانی کھلاڑیوں نے نمیبیا کو ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی اور محنت کو سراہا اور ایک اچھے ماحول میں تمام کھلاڑیوں نے ایک ساتھ وقت گزارا، جس میں جہاں محمد حفیظ ان کے کھلاڑی کو خاص ٹیپس بھی دیتے نظر آئے، وہیں ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔
    https://twitter.com/newspaperwallah/status/1455620131128692737?s=20
    پاکستانی ٹیم کے اس عمل نے انڑنیٹ پر صارفین کے دل جیت لیے، پاکستانی سمیت غیر ملکی صارفین کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بار ٹورنامنٹ میں میچ تو جیت ہی رہی ہے ساتھ ہی مسلسل دل بھی جیت رہی ہے۔


    https://twitter.com/Sarusa98379086/status/1455620528711012353?s=20
    یاد رہے گزشتہ روز نمیبیا کی ٹیم پاکستان کی جانب سے دیا گیا 190 رنز ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز بنا سکی پاکستان کے بولرز اوس کے باوجود اچھی بولنگ کا مظاہرہ کیا قومی ٹیم کی جانب سے حسن، شاداب، عماد اور حارث نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

  • فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا

    فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا

    رازداری ختم ہونے کے خدشات کے پیش نظر فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے پرائیویسی شکایات کے سبب اپنا چہرے کی شناخت کا سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پہلے سے موجود کروڑوں افراد کی معلومات بھی ڈیلیٹ کر دی جائیں گی۔

    فیس بک نے کہا کہ اس کی تمام مصنوعات میں استعمال ہونے والی چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کو "آنے والے ہفتوں میں” ہٹا دیا جائے گا غیرملکی میڈیا کے مطابق فیس بک کی جانب سے انتہائی اقدام حساس دستاویزات لیک ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔

    یہ نظام تصویر میں موجود لوگوں کی شناخت کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ اس ٹول کو اپ لوڈ کی گئی تصاویر میں لوگوں کو ٹیگ کرنے میں مدد کرنے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا اس ٹول کو استعمال کرنے والے صارفین کے چہرے کے معلومات بھی فیس کے پاس جمع ہوتی تھیں۔

    فیس بک کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کو حذف کر دیا جائے گا اس اقدام سےایک ارب سے زیادہ لوگوں کے چہرے کی شناخت کے انفرادی ٹیمپلیٹس کو حذف کیا جائے گا یہ فیصلہ ہماری مصنوعات میں چہرے کی شناخت کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے لیا گیا ہے اس ٹول کو ہٹانا ٹیکنالوجی کی تاریخ میں چہرے کی شناخت کے استعمال میں سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک کی نمائندگی کرے گا۔

    فیس بک نے کہا کہ یہ فیصلہ’’مجموعی طور پر اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات” کی وجہ سے کیا ہے، تاہم کمپنی کے اندر چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی پر کام جاری رہے گا-

    واضح رہے کہ بند کیے گئے فیچر سے صارفین کی تصاویر میں نظر آنے والے افراد کی شناخت خود بخود ممکن تھی۔

  • انڈیا کا برا وقت،تحریر: عفیفہ راؤ

    انڈیا کا برا وقت،تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک طرف الیکشنز کی تیاری تو دوسری طرف انڈیا کا برا وقت چل رہا ہے لیکن اس بار بھی مودی سرکار کے پاس ایک ہی حل ہے کہ اپنی عوام میں جنگی جنون کو ابھارا جائے مذہب کی بنیاد پر پہلے ہی تقسیم شدہ عوام کے سمندر کو اور تقسیم کیا جائے۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں ویسے ویسے بھارت میں کشمیر، پاکستان اور طالبان کے حوالے سے سیاست گرم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے ہر روز کوئی نہ کوئی متنازعہ بیان ضرور سامنے آتا ہے جو جلتی پر آگ کا کام کر سکے۔

    اب آدتیہ ناتھ یوگی کو تو آپ جانتے ہی ہیں ان کو تو عام حالات میں چین نہیں آتا تو ایسی صورتحال میں جب باقی سب سیاستدان بھی خوب ایکٹیو ہوئے ہوئے ہیں تو وہ کہاں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اتر پردیش میں الیکشنز کی وجہ سے بی جے پی نے ایک کمپئین شروع کی ہوئی ہے۔ اور آج اسی سلسے میں ایک جلسہ بھی منعقد کیا گیا جس میں یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے سیاسی مخالفیں پر تو گولہ باری کی ہی لیکن آپ کو پتہ ہے کہ انڈیا میں کوئی الیکشن ہو اور پاکستان کو اس میں نہ گھسیٹا جائے ایسا ہو نہیں سکتا تو آج کے اپنے بیان میں پاکستان کے حوالے سے ان کو کہنا تھا کہ طالبان کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان پریشانی محسوس کر رہے ہیں لیکن طالبان کو یہ بات معلوم ہے کہ اگر انہوں نے بھارت کی جانب قدم بڑھایا تو ان کے لیے فضائی حملہ تیار ہے۔ آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کافی طاقتور ہو چکا ہے اور کوئی بھی ملک بھارت کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات بھی نہیں کر سکتا ہے۔
    سب سے پہلے تو ان کا یہ بیان پڑھ کر مجھے کافی ہنسی بھی آئی کیونکہ جتنی مزاحیہ بات انھوں نے کی ہے اس پر انسان ہنس ہی سکتا ہے۔ یعنی وہ انڈیا جس کو طالبان کی حکومت آنے پر یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے لوگوں کو وہاں سے کیسے نکالے بلکہ ابھی تک بھی انڈیا کو کوئی راستہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ طالبان کے ساتھ اپنے رابطے کیسے بڑھائیں۔ وہ طالبان جن کی حکومت آنے پر پورے انڈین میڈیا پر سوگ منایا جا رہا تھا کہ ہماری سرکار کی بیس سالوں کی انویسٹمنٹ ڈوب گئی آج اس کی حکمران جماعت کے لوگ یہ بات کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان جس کے کردار کو طالبان حکومت بننے اور امریکہ کے افغانستان سے پر امن طریقے سے نکلنے پر پوری دنیا نے سراہا یہ ہمارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں۔

    اور یہ فضائی حملوں کی دھمکیاں بھی اب پرانی ہو چکی ہیں یاد کریں کہ چین سے ایل اے سی پر آپ کو کیسی مار پڑی تھی پاکستان میں جب آپ نے گھسنے کی کوشش کی تو ابھی نندن کو کیسی چائے پلائی تھی ویسے بھی پاکستان نیوی کے ہاتھوں بھی جتنی بار آپ ذلیل ہو چکے ہیں تو اس کے بعد اس طرح کے بیانات پر کوئی ان کو کیا کہہ سکتا ہے۔ لیکن حد تو یہ ہے کہ بی جے پی اپنے جنگی جنون اور ہندوتوا سوچ کی وجہ سے بیانات دیتے ہوئے اتنا آگے نکل جاتی ہے کہ اسے سیدھی بات بھی الٹی نظر آتی ہے۔ اسی جلسے میں یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی کہ انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کا موازنہ بھارتی رہنما سردار پٹیل سے کیا، جو ایک شرمناک بات ہے اور طالبانی ذہنیت کی عکاس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ طالبانی ذہنیت ہے، جو تقسیم پر یقین رکھتی ہے۔ سردار پٹیل نے تو ملک کو متحد کیا تھا۔ فی الحال وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک متحد اور اعلی ترین بھارت کے حصول کے لیے کام جاری ہے۔ حالانکہ اکھیلیش یادو نے موازنہ کرنے کی تو بات ہی نہیں کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ سردار پٹیل، گاندھی جی، جواہر لعل نہرو اور محمد علی جناح جیسی شخصیات نے ایک ہی ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی اور بیرسٹر بنے تھے۔ انہوں نے بھارت کی آزادی کے لیے جد وجہد کی اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔اب اس بیان میں آپ دیکھ لیں کہ انھوں نے تو ان شخصیات کو کوئی موازنہ کیا ہی نہیں اور جو کہا وہ حقیقت ہے کہ انھوں نے ایک ہی ادارے سے تعلیم حاصل کی تھی۔دراصل جس بات سے آدتیہ ناتھ کو تکلیف ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ اکھیلیش یادو نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس کے نظریات پر پابندی بھی عائد کی تھی۔ آج اسی نظریے کے لوگ جو متحدہ کرنے کا دعوی کر رہے ہیں ملک کو مذہب اور ذات پات کے نام تر تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

    دراصل قائد اعظم تک کو جو اپنے بیانات اور سیاست میں گھسیٹا جا رہا ہے اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ یوپی کی یو گی حکومت کو اس بار سخت ترین حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے ریاست میں بے روزگاری، مہنگائی اور کورونا کی وبا کے سبب ہونے والی اموات ایسے بڑے موضوعات ہیں جس کی وجہ سے حکومت پر بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے اور اسی لیے وہ اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر کے اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے کیونکہ ایسی صورت میں ان کے پاس مذہبی کارڈ کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ اسی لیے اس مرتبہ بی جے پی اتر پردیش کے انتخابات میں طالبان کا بھی خوب ذکر کررہی ہے۔ تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ حکومت ہندوؤں کے مفادات کا خیال رکھتی ہے اور اس نے مسلمانوں کو قابو میں کر رکھا ہے۔ کیونکہ حکومت جانتی ہے کہ اس طرح کے تاثر سے اسے سیاسی فائدہ ہو گا، ورنہ الیکشن سے پہلے آپ خود سوچیں کہ اس طرح کے اعلانات کا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے؟لیکن اس نفرت میں بے جے پی اتنا آگے بڑھ چکی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ تک بھی کہہ دیا کہ طالبان کی حمایت کا مطلب بھارت کی مخالفت ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے یو پی میں بعض افراد کے خلاف بغاوت کا کیس بھی درج کیا تھا۔ اور بھارت کے ضلع سہارنپور کا قصبہ دیوبند جو اپنے تاریخی مدرسے دارالعلوم دیوبند اور فقہ اکیڈمی کے لیے عالمی سطح پر مشہور و معروف ہے۔ اس علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور نسبتا پرامن علاقہ ہے جہاں شاذ و نادر ہی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے وہاں ایک اینٹی ٹیررازم اسکواڈ کے لیے تربیتی مرکز کھولنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

    اس یوگی حکومت کی اصلیت تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس نے تبدیلی مذہب کے نام پر کئی سرکردہ مذہبی مسلم اسکالر کو گرفتار بھی کر رکھا ہے جبکہ حال ہی میں ریاست کے کئی مقامات پر گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی کا بھی اعلان کیا تھا۔تو ایک طرف تو بی جے پی کو یہ گھناونا چہرہ ہے کہ کیسے الیکشنز کے لئے لوگوں میں نفرت کو ابھارا جا رہا ہے۔ دوسری طرف انڈیا میں ایک نفرت انڈین کرکٹ ٹیم کی بری کارکردگی کی وجہ سے بھی پھیلی ہوئی ہے پاکستان سے ہار جب برداشت نہیں ہوئی تو کچھ لوگوں نے انڈیا کے فاسٹ بولر محمد شامی کو اس شکست کا ذمہ دار قرار دینا شروع کر دیا اور اس پر جان بوجھ کر رنز دینے کا الزام لگایا اور اسے غدار اور ملک دشمن کا ٹائٹل دے دیا۔ اور جب ایک ہفتے بعد انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے محمد شامی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے اور ٹرولنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرنے والوں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ سامنے آ کر کچھ بول سکیں۔ گزشتہ کچھ برسوں میں محمد شامی نے ہمیں کئی میچ جتوائے ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں جب بھی بولنگ کی بات کی جاتی ہے تو بمراہ کے ساتھ شامی ہمارے اہم ترین بولر رہے ہیں کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا بدترین انسانی عمل ہے۔تو اس بیان کے بعد محمد شامی کے ساتھ ساتھ کوہلی خود بھی سوشل میڈیا صارفین کے غصے اور تنقید کی زد میں آ گئے۔شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کے ساتھ مسلم دشمنی میں جو سلوک کیا گیا کچھ بھی ثابت نہ ہونے کے باوجود اس کی ضمانت کی درخواست بار بار مسترد کی جاتی رہی اس کو تقریبا ایک ماہ تک جیل میں رکھا گیا کہ اب وہ باہر آ کر بھی شدید ڈپریشن میں ہے اور نہ وہ کچھ کھا سک رہا ہے نہ سو پا رہا ہے۔ ڈاکٹرز کی ایک پوری ٹیم ہائر کی گئی ہے تاکہ کسی طرح اس کو اس کنڈیشن سے باہر نکالا جا سکے۔تو ان حالیہ واقعات سے دیکھ لیں جس حکومت کی اتنی جنونی سوچ ہو اور وہ لوگوں میں نفرت پھیلا رہی ہو جہاں اتنے بڑے بڑے نام محفوظ نہ ہوں تو سوچین کہ وہاں ایک عام مسلمان کس ٹرامہ سے گزرتا ہو گا۔

  • غریب عوام،  عمران خان سے پریشان .تحریر : بسمہ ملک

    غریب عوام، عمران خان سے پریشان .تحریر : بسمہ ملک

    22 کروڑ عوام کا ملک کون چلا سکتا ہے

    جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو کنٹینر پر بل جلایا کرتے تھے اور اب ہر دل عزیز عمران خان عوام کے دل جلا رہے ہیں وزیراعظم کہتے ہیں 22 کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے ہر جگہ مصیبت ہے خان صاحب ویسے آپ پر انکشاف کون سا ہوا 22 کروڑ عوام کا، مصیبت کا، یا ملک چلانے کا 23 سال پہلے جب آپ نے جدوجہد کا آغاز کیا تھا تب آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آبادی کا تناسب بڑھ رہا ہے ہر جگہ مصیبت ہے جب آپ پچھلی حکومتوں پر تنقید کرتے تھے سابق وزیراعظم عمران خان سے استعفے مانگتے تھے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے مطالبے کرتے تھے اس وقت آپ نہیں جانتے تھے کہ 22 کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے

    عمران خان جب آپ نے کنٹینر پر چڑھ کر بل جلایا تھا سول نافرمانی کا نعرہ لگایا تھا بغیر قرضہ لیے ملک کو چلانے کی باتیں کرتے تھے IMF کے پاس جانے سے بہتر خودکشی سمجھتے تھے ڈولر نیچے روپیہ اوپر کرنے کے دعوے کرتے تھے مہنگے ڈیزل، پٹرول کو حکمرانوں کی اوپر کی کمائی کہتے تھے قیمتیں عالمی منڈی کے برابر رکھنے کی باتیں کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے سستی بجلی، مہنگائی میں کمی گھر دینے اور نوکریاں بانٹنے کی باتیں کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے جب آپ ریاست مدینہ اور خلائی ریاست کے خواب دیکھایا کرتے تھے تب آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ 22 کروڑ ہی تو ہیں جو آپ کی باتوں پر لبیک کہہ رہے ہیں عمران خان صاحب اگر مسئلہ آبادی ہے تو یہ بھی بتا دے آبادی کم کیسے کرے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کر تو رہے ہیں کوئی بےروزگار وزیراعظم ہاؤس کے سامنے خودکشی کرلیتا ہے کوئی باپ 5 بچوں کو نہر میں پھینک دیتا ہے کہی باپ بیٹیاں قتل کررہا ہے سلیکٹڈ صاحب جس چین کی ترقی کی مثالیں آپ دیتے ہیں ویسا نظام لانے کی آپ باتیں کرتے ہیں وہاں کی آبادی تقریبا 1.5 ارب ہے امریکہ سپر پاور ، عالمی طاقت ترقی یافتہ ملک جس کی آپ مثالیں دیتے ہیں امریکہ کی آبادی 32 کروڑ سے زیادہ ہے یعنی مسئلہ آبادی کا نہیں لیڈر شپ کا ہے پالیسی بیکنگ کا ہے پالیسی میکرز کا ہے آبادی کو مسئلہ بنا کر بری کارکردگی پر پردہ نہ ڈالے جو 22 کروڑ مصیبتوں سے چھٹکارے کے لیے آپ کو لائے لیکن کیا بنا ڈبل قرضے لیے گئے ڈبل مہنگائی کر دی گئی یہ ملا ہے عوام کو تحریک انصاف والوں کو ووٹ ڈالنے کا نتیجہ اور اگر آج بھی ان سے پوچھا جائے تو ان کی نظروں میں حکومت بہت اچھی چل رہی ہے عوام خوش ہے ارے عمران خان صاحب کچھ تو خدا کا خوف کریں

    عمران خان صاحب اب تو آپ کے دیرینہ دوست، اراکین اسمبلی کو توڑنے والے، جہاز میں سب کو بھر بھر کر لانے والے جہانگیر ترین بھی بول پڑے ہیں، جہانگیر ترین کا کہناتھا کہ حکومت کو فوری طور پر مہنگائی ختم کر نی چاہیئے ورنہ حالات خراب ہو جائینگے۔ سرائیکی صوبے کی آواز اٹھانے سے ترقیاتی کام شروع ہوئے ہیں صوبہ بننے کے بعد یہاں مزید کام شروع ہونگے میرے خلاف حکومت بنتے ہی سازشیں شروع ہو گئی تھی اگر مجھے نااہل نہ کیا جاتا تو نہ صرف صوبہ بن جاتا بلکہ اپر پنجاب سے زیادہ ترقی ہو تی چینی کا کاروبار شروع سے ہی کرتا ہوں مجھ پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ، خان صاحب اب اپنے دوست کی ہی کم از کم مان لیں اور عوام کو ریلیف دے دیں، اور اگر عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو گھر جائیں، وعدے پورے کرنا آپ کے بس کی بات نہیں، لارے لگائے رکھیں اور یوٹرن لیتے رہیں، اب یوٹرن نہیں بلکہ ڈبلیو ٹرن لیں

    @BismaMalik890