Baaghi TV

Category: بلاگ

  • الفاظ تحریر: علیزہ شاہ

    ہم الفاظ کی دنیا میں رہتے ہیں۔ الفاظ بے مقصد نہیں ہوتے ان میں تو ایک پوری زندگی اور روح ہوتی ہیں۔ الفاظ وہ ہیں جو ہمیں ہمت دیں یا ہمیں توڑ ڈالیں۔ الفاظ وہ ہیں جنہیں استعمال کر کے ہم کسی کے دل میں اپنے لئے محبت پیدا کر سکتے ہیں یا کسی کو اپنے خلاف کر سکتے ہیں۔ الفاظ وہ ہیں جس سے ہم کسی کے زخموں پر مرہم بھی لگا سکتے ہیں یا کسی کے زخموں کو ناسور بنا سکتے ہیں۔ الفاظ میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔
    الفاظ تو وہ ہیں جس کی بنیاد پر اللہ تبارک و تعالی نے انسانوں کو تمام مخلوقات سے ممتاز بنایا ہے۔ الفاظ کی طاقت سے ہی تو یہ دنیا قائم ہے۔ اللہ تبارک و تعالی کے الفاظ سے قرآن بنا، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے حدیث بنے، بزرگانِ دین کے الفاظ ملفوظات بنے، داناؤں کے الفاظ اقوال بنے۔ الفاظ ہی تو انسان کی خوبصورتی ہے۔ یہ الفاظ جتنی خوبصورتی سے ادا ہونگے انسان اتنا ہی خوبصورت اور نکھرتا رہے گا۔
    ہم بچپن سے ہی الفاظ سنتے اور سیکھتے ہیں۔ جس سے ہمارا کردار اور شخصیت بنتی ہے۔ یہی الفاظ ہی انسان کو اچھے یا برے بناتے ہیں، پسندیدہ اور نا پسندیدہ بناتے ہیں۔ الفاظ سے انسان کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔ ہم کسی انسان کے الفاظ سے ہی یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس گروہ، کس ثقافت یا کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔
    لاکھوں الفاظ رسالوں میں، کتابوں میں، اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں جس سے ایک معاشرے کا پتہ چلتا ہے۔ جس سے ایک معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی سوچ اور انکے خیالات کا پتہ چلتا ہے کیونکہ الفاظ ہی ہماری سوچ اور شخصیت کے ترجمان ہوتے ہیں۔
    الفاظ سے ہی ہمارے اچھے یا تلخ یادگار بنتے ہیں۔ لیکن آج کل اچھے الفاظ ناپید ہو چکے ہیں۔ برے اور تلخ الفاط عام ہو چکے ہیں۔ جس سے ہمارے معاشرے پر ہمارے موجودہ نسل پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ اور ہماری آنے والے نسلوں کے لئے ایک تلخ ماضی بن رہا ہے۔ ہم اپنا مقصدِ حیات بھول چکے ہیں۔ انہیں الفاظ کی وجہ سے ہم اپنے عزیز و اقارب کو خود سے دور کرتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے منفی خیالات کی دنیا میں اتنے گم ہو چکے ہیں کہ اپنے الفاظ کی ادائیگی سے ہم لوگوں کو جتنی تکلیف دے رہے ہیں اس کو دیکھ ہی نہیں پا رہے۔
    آج کل ہر دوسرا بندہ پریشان اور زندگی سے مایوس نظر آتا ہے۔ اگر ہم اپنے الفاظ کو خوبصورتی سے استعمال کریں تو اس سے ہم کسی مایوس اور شکست خردہ انسان کو نئی زندگی کے نئے راستے اور خوشحالی کے راستے دکھا سکتے ہیں۔ اگر ہم کسی کو اچھا مشورہ یا اچھی بات نہیں کہہ سکتے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم برا بھی نہ کہے اور بس چپ رہے۔ کیونکہ ہمارے برے الفاظ کی وجہ سے ایک مایوس انسان مزید مایوس اور پریشان ہو سکتا ہے۔
    برائے مہربانی اچھی باتیں کہے، اچھی باتیں پھیلائیں۔ منفی خیالات اور منفی رویوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے الفاظ اور دل میں نرمی پیدا کریں اور معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    شکریہ

  • شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر  تحریر :ساجد علی

    شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر تحریر :ساجد علی

    شہید بے نظیر بھٹو کسی بھی اسلامی ملک کی پہلی ہیڈ آف اسٹیٹ ہیں ان کی کہانی شہید ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہوتی ہے شہید الفقار علی بھٹو جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں یہ پاکستان کے پہلے الیكٹڈ وزیراعظم ہیں بھٹو صاحب ایک زبردست سیاست دان تھے 

    جب بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو اس وقت بھٹو صاحب کے بیٹے مرتضی بھٹو ضیاء حکومت کے خلاف ایک تحریک بھی چلا رہے تھے 

    اس تحریک کا نام تھا "الذوالفقار”

    مرتضی بھٹو سیاست میں بہت مشہور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ان کی بہن بے نظیر بھٹو کو ضیاء حکومت نے نظر بند کر رکھا تھا جس کی وجہ سے سیاست میں وہ بھی بہت مشہور ہو رہی تھی آخر کار 1984 میں جب بے نظیر کو رہائی ملی تو ملک سے باہر باہر چلی گئیں اپنے والد کی طرح بے نظیر دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں گریجویٹ کر چکی تھی جس میں "ہاؤورڈ اور آکسفورڈ” یونیورسٹیز شامل ہیں ۔

    پاکستان سے باہر رہ کر بھی بے نظیر کافی مشہور ہو چکی تھی 

    1986 میں جب بے نظیر وطن واپس آئیں تو لاہور میں ان کا زبردست استقبال کیا گیا جس کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہے 

    اور استقبال کے بعد واضح ہو گیا کہ پاکستان کی اگلی وزیر اعظم بے نظیر ہی ہوگی اور بالکل ایسا ہی ہوا 1988 میں جب ضیاء الحق کا طیارہ تباہ ہوا تو اس کے بعد ہونے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ۔

    پاکستان دنیا کے پہلے ممالک میں سے ہے جنہوں نے ایک فیمیل ہیڈ آف اسٹیٹ سلیکٹ کی ہے جبکہ امریکا آج تک ایسا نہیں کر سکا 

    الیکشن سے پہلے بے نظیر کو مشورہ دیا گیا کہ آپ شادی کر لیں 

    ایک نوجوان لڑکی کی بجائے ایک شادی شدہ عورت زیادہ بردبار ذہین اور عوام سے جڑی ہوئی لگے گی اور بے نظیر اس مشورے کو مان گئی ۔

    اور بے نظیر نے فیصلہ کیا کہ وہ ارینج میرج کریں گے جس کے بعد ان کی والدہ نے اس کی شادی حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے کروائیں اور یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی جس میں دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔

     بے نظیر بھٹو وزیراعظم تو بن گئی لیکن پنجاب میں ان کی حکومت نہیں آئی اور بیوروکیسی کی بھی پیپلزپارٹی کو کوئی خاص سپورٹ نہیں تھی کیونکہ ضیاء دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کی پاکیات کو چن چن کر ختم کیا گیا تھا ۔

    اس لیے بے نظیر بھٹو کا پہلا دور تو حالات سنبھالتے سنبھالتے ہی نکل گیا کیونکے پنجاب کے وزیر اعلی نواز شریف نے بے نظیر کی ناک میں دم کر رکھا تھا اور جب سارے ہیں آپ کے پیچھے پڑ جائے تو حکومت کیا چلے گی اور بینظیر بھٹو کی حکومت تقریبا 20 ماہ کے بعد ختم ہوگئی 

    اور اسی طرح 1993 میں بینظیر بھٹو ایک بار پھر الیکشن جیت گئی اور اس بار وہ بہت میچور ہو گئی تھی اور اس بار وہ حالات سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھی اسی دور میں بے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ۔ 

    آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ بے نظیر کے تین سالہ حکومت کے بعد بے نظیر کے اپنے ہی لگائے ہوئے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت توڑ دی 

    اور اگلی بار الیکشن میں شکست ہونے پر بے نظیر بھٹو صاحبہ ملک سے باہر چلی گئی ۔

    1999 میں مشرف نے ملک پر مارشل لاء لگا دیا تو 2000 میں نواز شریف بھی ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔

    اور مشرف سکون سے حکومت کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہی بنائی ہوئی مسلم لیگ ق سے تنگ آنے لگے  

    اور 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر نے ملک میں واپسی قدم رکھا اور بے نظیر کا بھرپور استقبال کیا گیا لیکن استقبال کے ساتھ ساتھ ایک بم دھماکا بھی ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے 

    اور شہدائے کارساز کے دھماکے کے بعد بھی ان کا حوصلہ بہت بلند تھا اور اس دھماکے سے صرف دو ماہ بعد 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر کا لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ تھا اور یہ وہی جگہ تھی جہاں پر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک افغان شہری نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اسی مقام پر محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ جب جلسہ ختم کرکے واپس جا رہی تھی تو اپنے کارکنوں کو داد دینے کے لیے وہ اپنی گاڑی سے باہر نکل کر کارکنوں کو ہاتھ ہلا کر داد دینے لگی اس کے بعد ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور پھر بم دھماکا ہوا اس طرح کچھ ظالموں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کر دیا ۔ 

    ہم سب کو وہ دن یاد ہے وہ وقت یاد ہے جب ان کو شہید کیا گیا خاص طور پر وہ لوگ جو بے نظیر صاحبہ کے ساتھ جلسے میں تھے پیپلز پارٹی کے تمام کارکن سڑکوں پر نکل آئے تھے اور حالات تمام خراب ہونے لگے تھے مگر پیپلز پارٹی کے لیڈر نے بات بگڑنے نہیں دی اور اپنےکارکنوں کو حوصلہ دیا 

    یہ بات تو سچ ہے بے نظیر ایک مضبوط لیڈر تھیں ان کو بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی اور ان کو کئی بار جیل کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی وہ ڈٹی رہی اور اپنے ملک کے لیے لڑتی رہی ایک باہمت اور ثابت قدم خاتون تھیں 

    دعا ہے اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

        

  • عزت نفس تحریر ۔محمد نسیم

    عزت نفس تحریر ۔محمد نسیم

    قارئین عزت نفس دُنیا کی سب سے مہنگی چیز ہوتی ہے یہ عزت نفس انسان کی پہچان ہوتی ہے اور یہ ہی کسی شخص کی زندگی کا نچوڑ بھی  ہوتی ہے
    عزت نفس انسان کی ہو یا ملکوں کی یہ ہی قوموں کا وقار ہوتی ہے اور یہ ایسا گراں قدر ہیرا ہے جو ایک بار کھو جائے تو پھر نایاب ہی میسر آتا ہے
    پچھلے دنوں ایسے ہی واقعات ملک پاکستان میں رونما ہوئے اُن میں سے ایک پر آج لکھنے کا موقع ملا آپ کی نظر سے بھی شاید وہ واقع گزرا ہو یا آپ نے بھی اس پر آواز اُٹھائی ہو وہ واقعہ ہمارے قومی ہیرو جو کہ ایک کرکٹر ہیں شعیب اختر کے ساتھ پیش آیا قومی ٹی وی چینل پر لائیو بیٹھ کر ایک ہوسٹ انٹرنیشنل تجزیہ نگار اور سابقہ کرکٹرز کے سامنے آپے سے باہر ہوگیا اور قومی ہیرو شعیب اختر کی عزت نفس اور دُنیا میں انکی شہرت و حثیت کا خیال کئیے بغیر انکو لائیو شو سے جانے کا کہہ دیا قومی ہیرو شعیب اختر نے قومی وقار کا خیال رکھتے ہوئے بات کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ہوسٹ کو معذرت کرنے کا کہا لیکن یہ میزبان شاید صحافت کی تعلیم لئیے بغیر ہوسٹ بنے تھے لہذا ڈھٹائی سے اپنی کم ظرفی پر قائم رہے اور بالاخر  شعیب اختر کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ اپنی عزت نفس بھریائی کے لئیے انتہائی قدم اُٹھائیں
    قصہ مختصر شعیب اختر نے لائیو شو سے استعفٰی دے کر جانے کا فیصلہ کیا اور اس بے حس میزبان کو مزید برداشت نا کیا شعیب اختر کا قصور کیا تھا اس نے حارث رؤف کی تعریف کے ساتھ ساتھ لاہور قلندر کے ڈویلپمنٹ پروگرام کی تعریف کردی تھی
    کیا یہ ملک دشمن تھے ؟
    چینل قومی ،حارث رؤف قومی لاہور قلندر قومی
    پھر میزبان کو کیوں ناگوار گزرا کیا قومی میزبان ایسی حرکت کرسکتا ہے ؟
    میزبان وہ جو مہمان کی ناگوار بات یا اختلاف کو اس لئیے برداشت کرے کہ یہ شخص میرا مہمان ہے اسکی عزت میری عزت ہے
    قارئیں اس کے برعکس شعیب اختر  ایسا قوم کا ہیرو ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت جہاں لاتعداد چینلز شعیب اختر کو مدعو کرتے ہیں شعیب اختر نے کبھی بھی پاکستان کے عزت نفس پر سمجھوتہ نہیں کیا وہ جس سپیڈ سے باؤلنگ کرتے ہیں اس سے ڈبل سپیڈ میں وہاں میزبان اور وہاں کی جنتا کو تگنی کا ناچ نچاتے ہیں وہاں شعیب اختر پاکستانی پرچم پر کبھی آنچ نہیں آنے دیتا وہاں شعیب اختر نہیں وہاں کے میزبان پروگرام چھوڑ کر بھاگتے ہیں کیونکہ شعیب اختر کے باؤنس وہ برداشت نہیں کرپاتے اور بھاگنے میں ہی عافیت جانتے ہیں
    حالیہ ورلڈ کپ T20کے دوران پاکستان پلئرز کی کارکردگی کا بھارتی چینلز پر خوب چرچا ہورہا ہے مگر وہاں کسی بھی میزبان نے کسی مہمان کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالا کہ تم نے پاکستانی پلئرز کی تعریف کیوں کی تمھیں اس پروگرام سے نکل جانا چاہئیے
    خیر قارئین اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر جب معاملہ نکلا تو واقعہ کی ویڈیو وائرل ہوگئی اور صارفین میں غم وغصہ کی لہر دیکھنے کو ملی اس غم و غصے کو دیکھتے ہوئے قومی ٹی وی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی نوٹس لیا اور قومی ہیرو کے ساتھ ہونے والے واقعےطکی مذمت کی اور قومی ہیرو کے ساتھ کھڑے ہوگئے
    اور ٹی وی انتظامیہ نے میزبان کو آف ائیر کردیا
    یہاں واضح رہے کہ اس واقعہ کے بعد تمام نجی ٹی وی چینلز نے قومی ہیرو شعیب اختر کی حمایت کرتے ہوئے تمام ذمہ داری ہوسٹ پر ڈال دی
    ظاہر ہے میزبان اور مہمان میں اکثر اختلاف رائے ہوجاتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میزبان مہمان کو پروگرام سے نکل جانے کا کہہ دے
    الغرض پورےملک کے تمام میزبانوں ،مہمانوں تمام سُپر سٹارز،قومی ہیروز،کرکٹرز،سیاستدانوں ،گلوکاروں ،ایکٹرز نے قومی ہیرو سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ایسے میزبان پر قومی چینل پر تاحیات پابندی لگائی جائے
    آخر پر قومی ہیرو کے ساتھ آنے والے اس واقعہ پر قوم کی جانب سے معذرت کا طلبگار  آپ ہمارے ہیرو ہیں

  • بالا خانے کی ڈومنی ،از۔ م۔م۔مغلؔ

    بالا خانے کی ڈومنی ،از۔ م۔م۔مغلؔ

    بالا خانے کی ڈومنی ،از۔ م۔م۔مغلؔ

    تقسیم ابھی نہیں ہوئی تھی… ٹین کے کنستروں کی کھڑکھڑاہٹ اور موتیے کی خوشبو اولین حیض سے اٹھنے والی بُو سے یُدھ میں مصروف تھی… طبلے کی تھاپ اور سارنگی کی سنگت میں بستر کی سلٹوں میں گم ہوتا چرمُرایا ہوا گجرا اور تکیہ پر پھیلا کجلا ایک نئے کمہلائے ہوئے وجود کے ہمکنے کا منتظر تھا…

    تقسیم کے بعد کوٹھے اور بالاخانوں کی تقسیم سے طبلے اور سارنگی کے وارثوں میں بدلے کی آگ نے جنم لیا… بالاخانے کے شودر لمس سے کسبِ لذت جاری رہا اسی دوران جنمے اس منحنی وجود نے جوبن پایا تو عنفوانِ شباب کی دہلیز پر پہلے رقص میں قسم کھائی کہ اجڑے بالاخانوں کو گھنگھروں کی لڑیوں میں پرو کر یکجا کر دکھائے گی تاکہ کسی طور طوائف الملوکی کی نشاۃ الثانیہ ہو سکے…

    شودروں اور پانڈوؤں کی ریڑھ کی ہڈی کے تیسرے مہرے سے وجود پانے والی برہمن سپتری تاحال بدلے کی آگ میں جل رہی ہے… آوازے لگانے والوں دلالوں طبلچیوں سازندوں نے ماحول بنا رکھا ہے… برہمن سپتری نے کوٹھوں کے مکینوں اور کوٹھیوں کے پترکاروں میں اپنا اثر رسوخ ایسا بنا لیا ہے کہ وہ تاحال بوڑھی نائکہ کی بجائے ناکتخدا کہلاتی اور کسی نوخیز ہرن کی طرح قلانچیں بھرتی پھرتی ہے…

    کوٹھے اجڑ جانے کے بعد روزگارِ روز و شب کا مرحلہ درپیش آیا تو ننھی کلی کے باپ نے اجڑے بالاخانوں کے مضافات میں لوہا کوٹنے کا کام شروع کیا اور مردِ آہن کہلایا… یوں زندگی کا پہیہ چلتا رہا کسی فلم کے پردے پر چلنے والی متحرک تصاویر کی طرح کم سنی کب جوانی کی دہلیز پر گمراہ ہونے پہنچ گئی اس بات سے بے خبر لوہا کوٹنے والا شودر اب لوہے کو پگھلانے والوں کی مِل میں برہمن کے منصب کو پہنچ چکا تھا…

    مشقت کے ان لمحوں میں بے قاعدہ حیض سے مانگ بھری کی گود بھرائی بھی کسی ایسے ثانیے میں ہوئی جب ٹین کباڑ کی ہلکورے کھاتی سواری… بالا خانوں کی مسہریوں کو کوسنے دینے میں مصروف تھی… وقت کروٹیں لیتا رہا کوٹھوں کے مکین اب کوٹھیاں تج کر محلات میں سازشی نسلیں پیدا کرنے میں مصروف ہوگئے… ماضی کی طرف جھانکھیں تو قدیم بالاخانوں میں نوابوں اور سستے تماش بینوں کو دادِ عیش دیتے لمحوں میں بٹوے پوٹلیاں اور کرتے کی جیبیں محفوظ تصور کی جاتی تھیں…

    مگر اس برہمن سپتری کو وہ ملکہ حاصل ہے کہ جنبشِ انگشت سے بالاخانوں کی تہذیب ہی بدل ڈالی… اب یہ جب چاہتی ہے نوابین معالجین معاونین مداخلین مصاحبین فولادین معادلین اور تماش بین قماش بینوں کے پوشیدہ لمحات کو اپنے تلذذ کی خاطر محفوظ کرتی پھرتی ہے… شنید ہے کہ لذت کے مناظر کے ذخیرہ کے سامنے عمروعیار کی زنبیل بھی دست بستہ ایک جانب ہو رہتی ہے…

    لوہا پگھلانے والوں اور لوہا ڈھالنے والوں کی مخبریاں کرتے کرتے ایک دن بوڑھے لوہا کوٹنے والا اپنے ہی مالکوں کو غچہ دے کر فرار ہو چکا تھا… سنا ہے عادت سر کے ساتھ جاتی ہے… ادھر برہمن سپتری بدلے کی آگ میں تپ کر کندن ہوچلی تھی اور لوہا کوٹنے والے تازہ تازہ برہمن کو راستے سے ہٹا کر طاقت کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کو پر تولنے لگی… بوڑھا لوہا کوٹنے والا اپنی سپتری کے خوابوں کے سامنے ہار مان گیا اور خون تھوکنے کا بہانہ کر کے پرانے تماش بینوں اور نوابین کی سر زمین کو رخصت ہوگیا…

    بالاخانوں کے قدیم اساطیری حوالوں پر اعتبار کیا جائے تو یہ برہمن سپتری ڈومنی کہلانے میں حق بہ جانب ہے… بالاخانوں کی سسکیاں جمع کرتی ڈومنی کے منھ کو تو جیسے خون لگ چکا تھا… دلالوں کنیزوں کی فوجِ مظفر موج جمع کرنے میں کتنی ہی بیسوائیں اور نرتکیاں اس کے قریب آنے لگیں… کچھ جمع جوڑ رودالیاں بھی کورس میں بین کرنے کی مشقوں میں مبتلا ہوگئیں…

    جہاں کچھ پترکاروں نے اسے بے پناہ طاقت کے حصول میں اپنی خدمات پیش کیں وہیں کچھ پترکاراؤں نے اپنے تھرکتے جسم بھی طوائف الملوکی کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے پیش کیے… یوں ڈومنی کو طاقت کا نشہ مسرور کرنے لگا کہ جب چاہے ملکی راز افشا کرے یا ملک کے اعلیٰ اداروں پر بول و براز کرتی پھرے… اسے یقین تھا کہ سارے ہی پنڈت جوگی داشتائیں اور کنیزیں اس کے فکری بول و براز کو متبرک جان کر چومتے چاٹتے نوش کرتے پھریں گے…

    رقص و سرور سے عیش کشید کرتے کرتے وقت گزرتا چلا گیا دن ہفتوں مہینوں اور برسوں میں سمٹتے گئے… تلبیس کاروں نے تلذذ کے ذخیرہ کو حواس پر طاری کرتے ہوئے ہمیشہ اس شودر برہمن ڈومنی کے سر پر ہاتھ رکھا… یوں مزید شہ پا کر اب یہ ڈومنی ملک کی نظریاتی جغرافیائی سرحدیں اپنے گھنگھروں سے پامال کرتی پھرتی ہے…

    سنتے ہیں… کوئی گرج دار آواز گونجے گی… اس برہمن سپتری ڈومنی اور اس کے ہمنوا طبلچیوں دلالوں پھیری بازوں گجرا فروشوں عصمت خروشوں کے حلقوم… خود ان ہی کی مکروہ ترین آوازوں کے قبرستان بنادیے جائیں گے… گھنگھرو ٹوٹ جائیں گے…

    @Mughazzal

  • خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    بھارت کی مصیبتوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کی سب سےبڑی وجہ مودی ہے ۔ بی جے پی کے کرتوں ہیں ۔ ان کے اقلیتوں کے خلاف اقدامات ہیں ۔ سکھوں اور خالصتان پر میں نے بہت سے وی لاگز کیے ہیں مگر آج وہ دن آ گیا ہے کہ اب سکھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مزید بھارت کے ساتھ نہیں رہا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں سکھوں کے علیحدہ وطن خالصتان کے قیام کیلئے لندن میں ریفرنڈم پر ووٹنگ ہوئی۔ مزے کی بات ہے کہ یہ ووٹنگ سرکاری عمارت کوئن ایلزبتھ دوئم میں ہوئی ۔ سرکاری عمارت کوئین ایلزبیتھ 2پر خالصتان کے جھنڈے بھی لگائے گئے ۔ اب لندن کے بعد برطانیہ کے دیگرشہروں میں بھی ووٹنگ ہوگی ۔

    سکھ رہنماؤں کا کہنا ہےکہ بھارتی دباؤ کے باوجود برطانوی حکومت نے ریفرنڈم کی اجازت دی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ سکھ رہنما پرم جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کی نگرانی غیر جانبدار کمیشن کر رہا ہے جبکہ سکھ رہنما پتوت سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت نے ریفرنڈم سے روکنے کیلئے مجھ پر جعلی مقدمات بنوائے۔ پھر سردار اوتار سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پنجاب پر قبضہ کر رکھا ہے اب سکھ اب اپنا آزاد وطن خالصتان بنا کر دم لیں گے۔۔ 50 ہزار سے زائد سکھوں نے اس ریفرنڈم میں حصہ لیا ہے ۔ یاد رکھیں یہ صرف لندن میں ہوئے ہیں ۔ برطانیہ کے باقی شہروں میں ابھی یہ ہونے ہیں ۔ تو ایک شہر کے حوالے سے اچھی خاصی تعداد ہے ۔ جس کے بعد اجیت ڈول اور مودی دونوں کے لیے یقیناً ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ آپ دیکھیں سکھوں کی آزادی کے سلسلے میں کینیڈا کی حکومت نرم رویہ رکھتی ہے۔ کینیڈا میں حالیہ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں جہاں justin treudu کو کامیابی نصیب ہوئی وہاں اس دفعہ سکھوں کی کافی تعداد کینیڈا کی قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی ہے۔ justin treudu کو اپنی حکومت بنانے کے لیے سکھوں سے مدد بھی لینا پڑی۔۔ ویسے justin treudu تو پہلے ہی سکھوں کے حق میں ہیں جس سے بھارتی حکومت ان سے سخت ناراض ہے مگر وہ بھارت کی پرواہ نہیں کرتے۔

    ۔ بھارت کے بعد برطانیہ ، کینڈا اور امریکہ میں سکھوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے اور یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جب آپریشن بلیو سٹار ہوا تھا تو یہ سکھ بھارت کو خیر آباد کہہ کر ان ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے ۔ پر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنی خالصتان تحریک کو مضبوط بھی کرتے آئے ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام بھی کرتے رہے ہیں ۔ چند روز پہلے خالصتان تحریک نے اپنا نقشہ بھی جاری کیا تھا ۔ اس کی بھی بھارت کو کافی مرچیں لگی تھیں ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں ۔۔ را ۔۔۔ کی سب سے بڑی موجودگی کینیڈا میں ہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بھارت کی سکھوں والی سٹیٹس نہ صرف پورے بھارت کے لئے غلہ پیدا کرتی ہیں بلکہ بھارتی فوج کیلئے سپاہیوں کی بھرتی کا سب سے بڑا مرکز بھی یہی اسٹیٹس ہیں۔۔ ان سٹیٹس کے ستر فیصد سے زائد نوجوان فوج کو جوائن کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس وقت سکھ انڈین آرمی کا پندرہ فیصد ہیں جبکہ مودی کا گجرات انڈین آرمی کو صرف دو فیصد جوان ہی دے پاتا ہے۔ یوں بھارت کی معیشت اور دفاع دونوں میں سکھ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ۔۔۔ را ۔۔۔ کو خالصتان کے حوالے سے بہت زیادہ سرگرم رہنا پڑتا ہے۔ پھر سینتیس برس پہلے آج کے دن بھارت بھر میں سکھوں کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی ہوئی تھی ۔ 31 اکتوبر 1984 کو انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ کے ہاتھوں قتل ہو گئیں۔ اس قتل کے فوراً بعد دہلی میں سکھ قوم کے خلاف جنونی ہندوؤں نے ایک قیامت برپا کر دی اور صرف تین دن کے اندر چھ ہزار سے زیادہ سکھ خواتین اور بچوں کو زندہ جلا دیا۔ اس وقت کے مرکزی وزراء جگدیش ، ایچ کے ایل بھگت اور سجن کمار سمیت بہت سے حکومتی رہنماؤں نے بذاتِ خود سکھوں کی نسل کشی کے عمل میں حصہ لیا اور پورے بھارت میں سکھوں کی جان و مال اس قدر غیر محفوظ ہو گئیں کہ ’’خشونت سنگھ‘‘ اور جنرل ’’جگجیت سنگھ اروڑا‘‘ کی سطح کے سکھوں کو بھی اپنی جان بچانے کیلئے غیر ملکی سفارت خانے میں پناہ لینی پڑی مگر بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ان ہزاروں سکھ خواتین اور بچوں کے قتلِ عام کو جائز ٹھہراتے یہاں تک کہا کہ جب کسی بڑے درخت کو کاٹ کر گرایا جاتا ہے تو اس کی دھمک سے ارد گرد کی زمین میں کچھ تو ارتعاش پیدا ہوتا ہی ہے اور درخت کی زد میں آنے والی گھاس پھوس ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں نے اس بھارتی بربریت کو فراموش نہیں کیا اور امریکہ میں قائم سکھ حقوق کی تنظیم ’’Sikhs For Justice‘‘ نے 31 اکتوبر 2013 کو مسز گاندھی کے قتل کی برسی کے موقع پر دس لاکھ سکھوں کے دستخطوں پر مبنی رٹ پٹیشن اقوامِ متحدہ کے ادارے UNHRC میں داخل کرائی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے ہاتھوں ہونے والے سکھوں کے قتلِ عام کو عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی ڈکلیئر کیا جائے۔

    ۔ دیکھا جائے تو سکھ کسانوں کے خلاف جو مودی نے محاذ گرم کیا ہوا ہے وہ بھی اس بات کی کڑی ہے کہ مودی چاہتا ہے کہ کسی طرح سکھوں کو کمزور کیا جائے ۔ تاکہ یہ خالصتان کا نام نہ لیں سکیں ۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے یہ تو ہو کر رہنا ہے ۔ کیونکہ جو ظلم اندرا گاندھی اور اسکے بعد آنے والوں نے سکھوں پر روا رکھا ہے ۔ اس کا کفراہ تو ادا کرنا ہی پڑے گا ۔۔ پھر جو پاکستان نے کرکٹ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کو پچھاڑا ہے اس کے بعد بھارت میں اس ہار کا بدلہ کشمیریوں اور باقی مسلمانوں سے تو لیا جا رہا ہے۔ ۔ پر بھارت کے لیے اصل درد سر سکھ بھی بنے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ پاکستان کی اس فتح پر اس دفعہ بھارتی سکھوں نے بھی شاندار جشن منایا ہے۔ سکھ اب کھلے عام پاکستان کی تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ دراصل بھارتی حکومت کی سکھ کش پالیسیوں سے بیزار ہیں۔ سکھ کسان اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے ایک سال سے مسلسل دلی کے اردگرد مظاہرے کر رہے ہیں مگر مودی حکومت ان کے مطالبات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ مظاہرہ کرنے والے کئی سکھوں کو قتل کردیا گیا ہے۔۔ بی جے پی کے ایک رہنما کے بیٹے نے جان بوجھ کر کئی مظاہرین کو اپنی گاڑی سے کچل دیا تھا اس واقعے کو اب ایک ماہ ہو رہا ہے مگر اب تک قاتل کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ سکھ دراصل آزادی کے بعد سے ہی بھارت کے خلاف چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ ان کے ساتھ نا انصافی اور حق تلفی کا ہونا ہے۔ آزادی سے قبل گاندھی اور نہرو نے واضح طور پر ان کے لیے خالصتان کے نام سے ایک آزاد اور خود مختار ملک قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر بعد میں وہ اس سے مکرگئے اور اب خالصتان کا نام لینا بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم سکھ اپنے آزاد وطن کے لیے ماضی میں بھی کوشش کرتے رہے ہیں اور آج بھی وہ اس سلسلے میں سرگرم ہیں۔

    ۔ آزاد خالصتان کا نعرہ بلند کرنے پر ہی بھنڈرا والا اور اس کے ساتھیوں کو امرت سر کے گولڈن ٹیمپل میں ٹینکوں سے حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا اور گولڈن ٹیمپل کے تقدس کو نقصان پہنچایا تھا۔ سکھ اس قتل عام کو نہیں بھولے ہیں۔ اب سکھوں نے بھارتی پنجاب ، ہماچل پردیش اور ہریانہ پر مشتمل اپنے آزاد وطن خالصتان کو قائم کرنے کے لیے پھر سے جدوجہد شروع کردی ہے۔ خالصتان کی تحریک اڑتیس سال سے جاری ہے۔ اور اب اس نے وہ رفتار پکڑ لی ہے جس کے بعد کامیابی ان کا مقدر ٹھہرے گی ۔ میں ایک بات جانتا ہوں کہ اگر خالصتان واقعی وجود میں آگیا تو کشمیر کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ اس لیے پاکستان کو بطور ریاست سکھوں کی اخلاقی ، قانونی اور ہر طرح کی مدد کرنی چاہیئے ۔ اور اس سلسلے میں کسی بھی پریشر کا سامنا نہیں کرنا چاہیئے یہ وہ وقت جب پاکستان کو کشمیر کی طرح خالصتان پر بھی واضح موقف لینے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ سکھ ہمارے بھائی ہیں ۔ ہماری زبان بولتے ہیں ۔ ان کا کلچر اور ہمارا کلچر سب سے زیادہ قریب ہے ۔ یہاں تک ہمارے دریا اور ندیاں بھی ایک ہیں ۔

  • کھیلوں کے میدان سفارتی تعلقات میں بہتری کا ذریعہ تحریر: ناصر بٹ

    اور یوں پاکستان کی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں فتوحات کا نہ رکنے والا سلسلہ کل رات بھی قائم رہا جب ہمسایہ برادر اسلامی ملک کی ٹیم کو ایک بار پھر ناقابل شکست پاکستانی ٹیم نے آخری دو اوورز میں سنسنی خیز میچ کے بعد شکست دے دی، اکثر ماضی میں یہ دیکھا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے میچ میں شائقین کے جذبات کو اس طرح پیش کیا گیا کہ یہ دو حریف ممالک کا میچ ہے اور شائقین ایک دوسرے کو دشمن کی نظر سے دیکھتے ہوئے بس ہر صورت گرانے کے خواہشمند ہیں، ہاں یہ سچ ہے افغانستان میں اس سے پہلے امریکی نواز حکومت کے ادوار میں جب بھی پاکستان افغانستان کا میچ ہوا، دونوں اطراف خصوصا افغانستان کے شائقین کی نظر میں ایک خاص نفرت کا عنصر دیکھا گیا جس کی بڑی وجہ بھارتی پراپیگنڈہ کے ذریعے ان کے دل میں پاکستان کے لیے پیدا کی گئی عداوتوں کا پہاڑ تھا لیکن جیسے ہی کابل میں افغان طالبان سرکار کا قیام عمل میں آیا دل پگھلے اور افغان عوام نے بھی دیکھا کہ افغانستان میں قیام امن میں پاکستان نے کس قدر تعمیری کردار ادا کیا اور بالآخر افغانستان جنگ زدہ حالات سے نکل کر ایک مستحکم اسلامی ملک بننے کی منزل پر چل نکلا، کل کے میچ میں افغان شہریوں کے جذبات الگ ہی تھے دونوں ممالک کے شائقین گھل مل کر بیٹھے میچ سے محظوظ ہوتے رہے، شائد ڈیورنڈ لائن کو مٹا کر بیٹھے تھے جیسے ایک ہی مذہب اور تقریبا یکساں کلچر والے دو مختلف حصوں میں رہنے والے دو بھائیوں کے مابین ایک لمحے کے لیے تمام فاصلے مٹ گئے ہوں، غور طلب بات یہ بھی رہی کہ افغان طالبان حکام کی جانب سے میچ سے پہلے دوران اور بعد میں بھی میچ کو دونوں ممالک کے مابین دوستی کے تناظر میں ہی پیش کیا گیا جبکہ پاکستانی سرکار اس ساری صورتحال میں دو قدم آگے ہی رہی، وزیراعظم نے میچ کے فوری بعد افغانستان ٹیم کی بہترین کارکردگی پر ان کو مبارک باد دی اور بطور کرکٹر ان کی جانب سے بہترین کرکٹ کھیلنے پر ان کو سراہا بھی اور مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی ہوا، یعنی یہ شاید گزشتہ تین میچز میں واحد میچ تھا جس میں پاکستانی شائقین کو بھی پاکستان کے جیتنے کی خواہش تو تھی لیکن افغانستان کی جیت بھی ان کی خوشی میں اضافے کا ہی باعث بنتی، کرکٹ سمیت دنیا بھر کے کھیل ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا اہم ترین ذریعہ بن چکے، بات چاہے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ میچ کی کریں یا پاکستان بھارت کی سیریز کی، دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے اور برف پگھلانے میں کھیل بہترین سفارتی آلہ بن چکے، پاک بھارت میچ کے دوران دونوں ممالک کے سوشل میڈیا صارفین بحث و مباحثے کی حد تک تو ایک دوسرے کے ساتھ مصروف عمل دکھائی دئیے لیکن بھارت کی بات کی جائے پاکستان یا افغانستان کی ٹیمز کی، تینوں ٹیمز کے کپتانوں سمیت کھلاڑیوں نے انتہائی ذمہ داری اور فراخی کا ثبوت دیا، ویرات کوہلی نے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کیا اور میچ ہارنے کے باوجود محمد رضوان کو بہترین کارکردگی پر مبارکباد دی جبکہ سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی اس سے بھی دو قدم آگے بڑھے اور پویلین سے سٹیڈیم میں پہنچ کر پاکستانی ٹیم کو سراہا یہ ہی کل رات افغانستان کی ٹیم کی جانب سے دیکھا گیا جب سابق کپتان راشد خان میچ ہارنے کے باوجود بڑے دل کے ساتھ سٹیڈیم میں آصف علی کی دھوادھار بیٹنگ کو سراہتے نظر آئے، بس اب ضرورت ہے تو ممالک کے سربراہان کو سوچنے کی کہ وہ کس طرح دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرتے ہوئے بطور سفارتی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں تاکہ شہریوں کے مابین بڑھتے فاصلے بھی کم ہوں اور دو طرفہ تعلقات میں بھی بہتری آئے

  • یو ٹیوب نے 17 سالہ نوجوان کو مجرم بنا دیا

    یو ٹیوب نے 17 سالہ نوجوان کو مجرم بنا دیا

    نئی دہلی: بھارت میں 17 سالہ نوجوان نے یوٹیوب کی مدد سے جرائم کرنا سیکھا اور لاکھوں روپے لوٹ لئے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ نوجوان نے یوٹیوب کی مدد سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا اور واردات کے لیے یوٹیوب کا سہارا لینے لگا۔

    نوجوان اے ٹی ایم سے رقم نکالنے والوں کی مدد کے بہانے ان کا کارڈ حاصل کرتا تھا اور ان کے اکاؤنٹس سے رقم نکال لیتا۔ یہ نوجوان اے ٹی ایم کے باہر رک کر ضعیف افراد کو اے ٹی ایم سے رقم نکالنے میں مدد کرتے ہوئے پن نمبر معلوم کرلیتا اور بڑی چالاکی سے انہیں ڈپلیکیٹ کارڈ دے دیتا جبکہ اصل کارڈ خود رکھ لیتا تھا۔

    نوجوان نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے مختلف حصوں میں اے ٹی ایم کارڈ فراڈ کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے سے زائد رقم حاصل کی جس کے بعد اس نے طیاروں میں سفر کرنا اور فائیو اسٹار ہوٹلز میں قیام کرنا شروع کر دیا تھا گزشتہ ماہ چتور سے تعلق رکھنے والی ایک بزرگ خاتون نے اے ٹی ایم سے رقم نکالے جانے کی شکایت درج کروائی تھی پولیس نے ضعیف خاتون کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے شناخت کر کے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    قبل ازیں ہنی مون پر گئے نوجوان نے مہنگا موبائل فون خریدنے کیلئے بیوی کو فروخت کر دیا تھا واقعہ بھارت میں پیش آیا جہاں مہنگے موبائل فون کے چکر میں نوجوان نے اپنی بیوی فروخت کر دی انڈیا نیوز کے مطابق اوڈیشہ کے 17 سالہ نوجوان کی ایک ماہ قبل شادی ہوئی تھی نوجوان کی بیوی کی عمر 26 برس تھی، شادی کے بعد نوجوان اپنی بیوی کو ہنی مون کے لئے دوسرے شہر لے کر گیا جہاں اس نے اپنی بیوی کو ایک لاکھ اسی ہزار میں فروخت کر دیا، نوجوان نے جس شخص کو بیوی فروخت کی اسکا تعلق راجھستان سے بتایا جا رہا ہے اور اسکی عمر 55 برس ہے، نوجوان نے بیوی بیچنے کے بعد پیسے لئے ایک موبائل فون خریدا اور باقی رقم کھانے پینے و دیگر سرگرمیوں میں خرچ کر دی-

    جب بیوی کو بیچنے کے بعد وہ گھر واپس آیا تو اس کے خاندان والوں نے بیوی کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ وہ کسی اور کے ساتھ چلی گئی ہے اور میں نے اسے چھوڑ دیا، نوجوان کے گھر والوں نے یقین کرتے ہوئے اسکی بیوی کے اغوا کا مقدمہ درج کروا دیا، پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے بعد کاروائی کی اور ملزم کو گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ اس نے اس عورت کو خریدا ہے،اور وہ عورت اپنی مرضی سے بھاگ کر نہیں گئی بلکہ اس کو اس کے شوہر نے فروخت کر دیا ہے ، اس دوران ملزم نے پولیس کے ساتھ مذاحمت بھی کی اور کہا کہ ہم نے خاتون کو خریدا ہے پیسے دیئے ہیں، تا ہم پولیس نے خاتون کو برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کیا بعد ازاں اس کے شوہر کو بھی گرفتار کر لیا،بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا ہے، عدالت کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ سنائے گی-

  • نیوزی لینڈ کے خلاف بھارتی بیٹنگ، کوہلی سمیت 5 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے

    نیوزی لینڈ کے خلاف بھارتی بیٹنگ، کوہلی سمیت 5 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے

    ٹی20 ورلڈ کپ 2021 میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھارتی بیٹنگ ، کپتان کوہلی سمیت پانچ کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔

    باغی ٹی وی : دبئی میں کھیلے جا رہے میچ میں نیوزی لینڈ نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا بھارت کو پہلا نقصان اننگز کے دوسرے اوور میں ہوا جب ایشن کشن 4 کے انفرادی اسکور پر بولٹ کا شکار بنے۔

    نیوزی لینڈ کا بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا

    اس موقع پر روہت شرما و کے ایل راہول نے 24 رنز کی شراکت داری بنائی جو زیادہ لمبی نہ ہو سکی کے ایل راہول 18 رنز جب کہ روہت شرما 14 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی بھی بڑی باری کھیلنے میں ناکام رہے اور 9 رنز بنا کر چلتے بنے۔

    واضح رہے کہ ٹاس کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے کہا کہ ہم بھی ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرتے، انہوں نے بتایا کہ ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ویلیمسن نے کہا کہ بھارت کو بڑا ہدف دینے کی کوشش کریں گے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:افغانستان نے نمیبیا کو شکست دے دی

    لپ سیمی فائنل میں جانے کیلئے آج کے میچ میں جیت ضروری ہے نیوزی لینڈ کا ریکارڈ ہے کہ وہ 2016 سے بھارت سے کوئی ٹی ٹوئنٹی نہیں ہارا دونوں ٹیموں کو پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا انڈیا اور نیوزی لینڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ میں دو بار 2007 اور 2016 میں آمنے سامنے آئیں، دونوں مرتبہ نیوزی لینڈ نے بھارت کو شکست کا مزہ چکھایا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: افغانستان کا نمیبیا کو جیت کیلئے 161 رنز کا ہدف:مگرفتح افغانستان…

  • لڑکیوں کا سوشل میڈیا تحریر: ماریہ ملک

    لڑکیوں کا سوشل میڈیا تحریر: ماریہ ملک

    دور حاضر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر متحرک ہے۔ جہاں سوشل میڈیا کے مثبت اثرات ہیں وہیں پر ایک تعداد اپنی منفی سوچ اور عوامل سے سوشل میڈیا سے منسلک لوگوں کے لئے تکلیف اور منفیت کا بھی باعث ہے۔
    ذاتی حیثیت میں کوئی بھی چیز بُری نہی ہوتی جبتک اُس میں منفی عوامل کی آمیزش نہ کر دی جائے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ایک مضبوط اور وسیع پلیٹفارم مہیا کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کُچھ منفی سوچ کے حامل لوگوں کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی برائی کے اثرات سے بچ نہ پایا۔
    سوشل میڈیا پر مرد و زن اپنی صلاحیات کو بروئےکار لانے میں یکساں طور پر متحرک اور اپنی قابلیت کی نکھار میں مصروفِ عمل ہیں۔
    لیکن ایک بڑی تعداد اُن خواتین کی بھی ہے جو سوشل میڈیا پر موجود اوباش نوجوانوں کے منفی عوامل کی شکار نظر آتی ہیں اور بعظ اوقات انہی ہراسانی کیوجہ سے کنارہ کشی پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ دنیا کے بائیس مختلف ممالک کی لڑکیوں پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر بدسلوکی یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹفارمز میں سے فیس بُک پر سب سے سے زیادہ خواتین کو بدسلوکی کاسامنا نوٹ کیا گیا ہے۔

    ایک عالمی سروے کے مطابق آن لائن بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے لڑکیاں سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنےپر مجبور ہورہی ہیں۔ اس سروے میں شامل 58 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کے مطابق انہیں کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکیوں پر حملے سب سے زیادہ فیس بک پر ہوتے ہیں، اس کے بعد انسٹاگرام، واہٹس ایپ اور سنیپ چیٹ کا نمبر ہے۔
    پلان انٹرنیشنل نامی تنظیم کی جانب سے کیے گئے سروے میں 22 ممالک میں 15 سے 22 برس کی عمر کی 14000 لڑکیوں سے بات کی گئی۔ اس میں امریکا، برازیل، یورپین ممالک اور بھارت کی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔  ادارے کے مطابق ان لڑکیوں سے تفصیلی گفتگو کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بدسلوکی کا یہ سلسلہ ہر آنے والے وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی بدولت نوجوان اور ٹیلینٹڈ لڑکیوں کی بڑی تعداد خود یا اپنی فیملی کی وجہ سے سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور ہوئیں

    فیس بُک
     سوشل میڈیا پر خواتین پر بد سلوکی اور ہراسانی ایک عام بات تصور کی جاتی ہے۔ فیس بک پر یہ حملے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔  39 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں فیس بک پر بدسلوکی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق انسٹا گرام پر 23 فیصد، واہٹس ایپ پر 14 فیصد، اسنیپ چیٹ پر 10 فیصد، ٹوئٹر پر 9فیصد اور ٹک ٹاک پر6 فیصد لڑکیوں کو  ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کا رجحان پایا گیا ہے۔ جو بتدریج بڑھ رہا ہے

    کوئی سوشل میڈیا محفوظ ہے؟
    سروے سے اندازہ ہوا کہ بدسلوکی یا ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ہر پانچ میں سے ایک لڑکی نے سوشل میڈیا کا استعمال یا تو بند کردیا یا اسے بہت حد محدود کردیا۔ سوشل میڈیا پر بدسلوکی کے بعد ہر دس میں سے ایک لڑکی کے اپنی رائے کے اظہار کے طریقہ میں بھی تبدیلی آئی۔
    سروے میں شامل 22 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ یا ان کی سہیلیوں نے ہراسانی کے خوف کی وجہ سے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
    سروے میں شامل 59 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرحملے کا سب سے عمومی طریقہ توہین آمیز، غیر مہذب اور نازیبا الفاظ اور گالی گلوچ کا استعمال تھا۔  41 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ ارداتاً شرمندہ کرنے کے اقدامات سے متاثر ہو کر کنارہ کش ہوئیں، حتیٰ کہ باڈی شیمنگ‘ اور جنسی تشدد کے خطرات کے خوف نے اُنہیں مجبور کر دیا۔ اسی طرح 39 فیصد نسلی اقلیتوں پر حملے، نسلی بدسلوکی کی شکار ہوئیں۔

    خود اعتمادی کو زوال
    پلان انٹرنیشنل کی سی ای او اینی بریگیٹ البریکسٹن کا کہنا تھا کہ ”اس طرح کے حملے جسمانی نہیں ہوتے لیکن وہ لڑکیوں کی اظہار رائے کی آزادی اور سوشل ایکٹیویٹی کے لیے خطرہ ہوتے ہیں اور ان کے اعتماد محدود کردیتے ہیں۔

    اینی بریگیٹ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو آن لائن تشدد کا خود ہی مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    فیس بک اور انسٹا گرام انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ بدسلوکی سے متعلق رپورٹوں کی نگرانی کرتے ہیں اور دھمکی آمیز مواد کا پتہ لگانے کے لیے آرٹیفیشل یا فہمی انٹلی جینس کا استعمال کرتے ہوئے کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
    ٹوئٹر کا بھی کہنا ہے کہ وہ ایسی تکنیک کا استعمال کرتا ہے جو توہین آمیز مواد کی نشاندہی کرسکے اور اسے روک سکے۔
    سوشل میڈیا مینجمنٹ کے اِن اقدامات کے باوجود مذکورہ بالا سروے  سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے والی تکنیک اب تک اُس طرح سے موثر نہیں رہی۔
    چنانچہ مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اِس اخلاقی اور قانونی جُرم کی روک تھام کی جا سکے۔
    اس کے ساتھ ساتھ والدین کو اپنی بیٹیوں کے اعتماد اور ہمت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ معاشرے میں خود اعتمادی کے ساتھ ہر آنے والے چیلنج کے ساتھ کامیابی سے نمٹ سکیں۔ شکریہ

  • سہگل حویلی سے لال حویلی تحریر: عزیزالرحمن

    سہگل حویلی سے لال حویلی تحریر: عزیزالرحمن

    راولپنڈی میں سہگل حویلی کی مرکزی عمارت، جو اب لال حویلی کے نام سے مشہور ہے، شہر کے بالکل وسط میں بوہڑ بازار میں ایک سو سال سے زائد زیادہ عرصے سے کھڑی ہے۔راولپنڈی شہر میں اس سے قبل ایسی کوئی عمارت نہ تھی۔ اس عمارت پر لکڑی، پیتل، چاندی اور دیگر دھاتوں کا استعمال کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت اس عمارت میں ایک کیمیائی لکڑی کا استعمال کیا گیا اور شہر میں یہ عمارت اپنی مثال آپ تھی۔ عمارت دو حصوں پر مشتمل تھی جس کا ایک حصہ مردوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جبکہ مرکزی اپارٹمنٹ اور پیچھے سے ایک حصہ خواتین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حویلی میں سہگل اور بدھاں بائی کے کمروں کو اعلیٰ پودوں اور پھولوں سے مزین کیا گیا تھا جو بوہڑ بازار میں کھلے بازاروں سے منسلک تھے۔ بدھاں بائی نے لال حویلی میں منتقل ہونے کے بعد رقص چھوڑ دیا تھا۔ راج سہگل نے حویلی کے اندر بدھاں بائی کے لیے ایک مسجد بھی تعمیر کرائی تھی جبکہ اپنی عبادت کے لیے ایک مندر تعمیر کرایا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ حویلی ایک مہاجر کشمیری خاندان کو الاٹ کی گئی ۔

    بدھاں بائی کی اس داستان نے سہگل حویلی کو جنوں والی حویلی بنا دیا۔ سو برس بیت چکے لیکن محبت کی ادھوری داستان مر کر بھی زندہ ہے، بدھاں بائی کی یادیں پرچھائیاں بن کر آج بھی لال حویلی کے در و دیوار میں رقصاں ہیں۔

    انمول پیار کی لازوال کہانی ایک صدی کا قصہ ہے، کہا جاتا ہے کہ اس حویلی کو شاہ راج سہگل نے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک جواں سال مسلم رقاصہ بدھاں بائی کے لیے تعمیر کیا تھا۔ مشہور ہے کہ سہگل جو جہلم کے ایک امیر کبیر ہندو خاندان سے تعلق رکھتا تھا سیالکوٹ کی اس رقاصہ سے ایک شادی کی تقریب میں ملاقات ہوئی۔ بدھاں کے گھنگھروں کی گھن سہگل کے دل پر ایسی اثر انداز ہوئی کہ پہلی ہی نظر میں سہگل بدھاں بائی کو دل دے بیٹھا اور اس کو شادی پر آمادہ کر لیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ان دونوں کی شادی ہو گئی اور سہگل باندھ بائی کو سیالکوٹ سے راولپنڈی لے آیا اور اس کے لیے ایک حویلی تعمیر کروائی اور اپنا پیار امر کر ڈالا۔

    1947ء میں برصغیر تقسیم ہوا تو محبت بھی تقسیم ہو گئی، راج سہگل کو ہندوستان جانا پڑا لیکن بدھاں بائی یہیں رہ گئیں۔ پوری محبت کی اس آدھی کہانی میں پر اسرار موڑ اس وقت آیا جب بدھاں بائی اپنے بھائی کی موت کے بعد اچانک حویلی چھوڑ کر کسی گمنام وادی میں کھو گئیں۔ بدھاں کے بعد سہگل حویلی پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لئے اور اس حویلی کو جنوں کی حویلی کہا جانے لگا۔ وقت گزرا اور پھر اس حویلی کو نئی شناخت اس وقت ملی،جب 1985ء میں شیخ رشید نے سہگل حویلی کو خرید کر لال حویلی کا نام دے دیا، اب یہ حویلی محبت کی خوشبو کی بجائے سیاست کے دھوئیں کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔

    کبھی یہ حویلی محبت کے علامت ہوا کرتی تھی جو آج کل عوامی مسلم لیگ کا پبلک سیکرٹریٹ ہے اور پارٹی کے سربراہ و وفاقی وزیر برائے داخلہ شیخ رشید احمد کی ملکیت بتائی جاتی ہے اور سیاسی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ 1985ء کے بعد شیخ رشید احمد نے اس کو سیاست کا گڑھ بنایا اس لال حویلی نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی میزبانی کی جن میں موجودہ اور سابقہ وزیراعظم شامل ہیں ۔ اسکے علاوہ 90 کی دہائی میں جب الیکشن ہو رہے تھے تو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بی بی سی نے انٹرویو کیا اور راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے بارے میں سوال کیا اسکے بعد صحافی نے بے نظیر بھٹو شہید صاحبہ کو مشورہ دیا کہ” آپ راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کو ٹکٹ لال حویلی کو دے دیں ۔”وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اب لال حویلی کو فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے ۔