Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں کورونا کے اثرات اور حکومتی اقدامات : تحریر سید محمدمدنی.

    پاکستان میں کورونا کے اثرات اور حکومتی اقدامات : تحریر سید محمدمدنی.

    کورونا ایک ایسی جان لیوا بیماری جس نے دنیا کا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا.

    دنیا اب اس کورونا جیسی موزی مرض سے واقف تو ہو ہی چکی جس نے دنیا کا نظام ہی بدل کر رکھ دیا یہ ایسی بیماری کے جو پھیلنے والی ہے اور ہاتھ ملانے سے تک بھی پھیلتی ہے پاکستان بھی اس کا شکار بنا اور ہماری کمزور معیشت کو مزید تباہ کر گیا اس کے روک تھام اور آگاہی پھیلانے کے لئے ریاست اور حکومت پاکستان نے بہترین حکمت عملی بنائی اور اسے لاگو بھی کروایا عوام پر زور دیا گیا کے وہ اپنی کورونا ویکسین لگوائیں کسی ایک جگہ رش نا ڈالیں گھروں میں رہیں اور آج بھی سخت احتیاط کرنے کا کہا جا رہا ہے.

    شروع شروع میں بہت سے لوگوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا مگر جیسے جیسے اس بیماری نے زور پکڑا تو عوام بھی کچھ سنجیدہ ہوئی.

    پاکستان میں جس وقت کورونا آیا تو سب سے زیادہ مسائل ان غریب دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کے لئے تھے جو روز کے کام کے پیسے لیتے ہیں جب کورونا آیا تو سب کام پر اثر پڑا ایسے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے سب سے پہلے غریب طبقے کا سوچا کے اگر سخت لاک ڈاؤن کی طرف گئے تو ان کا گزر بسر یا گھر کا چولہا کیسے چلے گا اسہی لئے حکومت پاکستان نے ایسی پالیسی اور نظام مرتب کیا کے غریب طبقے جو نقصان نا پہنچے.

    ہمیں اس موزی مرض سے متعلق اپنے پڑوسی بھارت کو ہی دیکھ لینا چاہیے جہاں بہت برا حشر ہؤا حالات خراب ہوئے. لوگ آکسیجن سیلنڈرز کو ترسنے لگے اور بھارت میں شارٹیج ہو گئی آکسیجن سیوسیلنڈرز کی وہ مناظر خاکسار نے میڈیا پر دیکھے اسہی وجہ سے حکومت پاکستان نے اپنی عوام پر زور دیا کے خدارا احتیاط کریں اور لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کروانے کے لئے ریاست اور افواج پاکستان سے بھی مدد لی گئی.

    بھارت میں اتنے برے حالات تھے کے جس کے ہم سب گواہ ہیں اور ہم سب نے دعا کی اس بیماری سے جان چُھڑا.

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان سمیت ریاست نے ہر طرح سے زور ڈالا کے احتیاط کریں ورنہ ہمارے سامنے بھارت کی مثال موجود تھی جہاں ہزاروں افراد آکسیجن کی کمی کے باعث ختم ہوگئے وہاں ہر جگہ انسانی لاشوں کا ڈھیر تھا لوگ آکسیجن کو ترس رہے تھے. وزیراعظم پاک مسلح افواج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی وزارت صحت نے مسلسل دن رات کام کیا اور پھر بین الاقوامی سطح پر مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس سمیت دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان کے کورونا کے خلاف اقدامات کی تعریف کی اور سراہا.

    کورونا کے خلاف اقدامات کا سہرا ریاست پاکستان حکومت پاکستان وزراء تمام ڈاکٹرز ہر کسی کو جاتا ہے اور عوام کو بھی کیونکہ زیادہ تر عوام نے بھی مثبت جواب دیا اور دی گئی ہدایت پر عمل کیا. 

    اس مرض سے روک تھام کے لئے پاکستان کے دوست ممالک نے بہت مدد کی چین نے حق ادا کیا اس سلسلے میں حکومت پر بہت بھاری زمہ داری عائد ہوئی اور یہ ایک سخت امتحان بھی تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے بھی اور ﷲ کا شکر ہے پاکستان پر اتنا گہرا اثر نہیں پڑا.

    حالات اب بھی بلکل ٹھیک نہیں بس احتیاط اور سخت احتیاط.

    حکومت کو تمام اداروں بشمول مسلح افواج سے بھی مدد لینا پڑی کیونکہ عوام پر سختی کی جانی تھی اور یہ بات بلکل درست ہے کے جب تک سختی نہیں ہوگی عوام ٹھیک بھی نہیں ہوتی.

    پاکستان نے کرونا کی روک تھام سے متعلق بہترین اقدامات کئے. اسکول کالجز یونیورسٹیوں میں شیڈول بنائے گئے تعلیمی ادارے کافی عرصے تک بند رہے ان لائن کلاسز جاری رہیں عید, بقرعید کے موقع پر لوگوں کو بارہا تاکید کی گئی کے گھروں میں رہیں اور باہر رش نا ڈالیں یہی وجوہات تھیں کے جس سے کرونا پھیل سکتا تھا.

    عوام پر سختی اسی لئے کی گئی کہ اگر رش ڈلے گا تو کورونا پھیلے گا بڑھے گا اس دوران بہت سے لوگ ایسے بھی دیکھے گئے جنھوں نے بات نہیں مانی اور اس کا شکار ہو کر ﷲ کو پیارے ہو گئے دراصل ہمارے ہاں لوگ کم ہی عمل کرتے اور سنتے ہیں. میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ لاہور کینٹ ایریا میں لوگ دوکانوں پر قطار اور کم از کم پانچ سے چھے قدم کے فاصلے پر عمل نہیں کرتے تھے پوکیس بھی بے بس تھی سمجھا سمجھا کر تھک جاتی تھی جیسے پاک فوج کے سپاہی کی گاڑی روٹین پر چیکنگ کرنے آتی تو سب سوئی کی طرح سیدھے ہو کر عمل کرنا شروع کر دیتے انسان پر جب تک سختی نہیں ہو گی عمل بھی نہیں کرے گا. 

    ﷲ تعالیٰ آئندہ بھی اس مرض سے پاکستان کو محفوظ رکھے آمین.

    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد. 

    Syed Muhammad Madni is a freelance journalist who write columns for Baaghi Tv. Follow him on Twitter @M1Pak.

  • مہنگائی ایک عالمی مسئلہ تحریر: وھاب خان

    مہنگائی ایک عالمی مسئلہ تحریر: وھاب خان

    @Itx_Wahab123

    مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس وقت شدید مہنگائی کے اثرات نظر آ رہے ہیں. اس وقت دنیا میں بھر میں پٹرول اور دوسری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جو کہ رکنے کا نام نہیں لے رہیں. پٹرول کے حوالے سے روسی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک آئندہ دنوں تک پہنچ سکتی ہے. اس بات سے واضح ہے کہ آئندہ دنوں میں جب عالمی منڈیوں میں پٹرول کی قیمت بڑھے گی تو پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمت بڑھ جائے گی. اور اسی کے ساتھ مہنگائی میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا. اسی سلسلے میں وفاقی وزارت خزانہ نے بھی کل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر قیمتوں میں استحکام نہیں آتا تب تک مختلف اشیاء میں اضافہ ہو سکتا ہے. اگر پٹرول کو دیکھا جائے تو پیچھلے ایک سال میں عالمی سطح پر 100٪ سے بھی زائد اس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے. تاہم حکومت پاکستان نے لیوی ٹیکس میں بہت کمی کی ہے لیکن پھر بھی حکومت پٹرول میں اصافہ کرنے پر مجبور ہے. تاہم وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈیوں میں پٹرول کی قیمت کم ہو جائے تو ہم بھی قیمت کم کر دے گے.

    دوسری جانب کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں فوڈ چین بھی بری طرح سے متاثر ہے جس کے باعث مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے. اس کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے. ایک نجی نیوز چینل پر حکومتی راہنما میاں فرخ حبیب نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت عوام کو یوٹیلیٹی اسٹور پر سستی اشیاء فراہم کرے گی، اور اس سال دسمبر تک پنجاب تمام آبادی کو صحت انصاف کارڈ کی سہولت مل جائے گی جس سے کوئی بھی شخص ایک سال میں 10 لاکھ تک کا مفت علاج کروا سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو جس حد تک ہو سکے ہم مہنگائی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    یہاں میں آپ کو بتاتا چلو کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں سب سے زیادہ متاثر میڈل کلاس طبقہ اور فیکس تنخواہیں لینے والے لوگ ہوتے ہیں، جن کا اپنا کاروبار ہے یا جو لوگ مزدوری کرتے ہیں وہ لوگ تو حالات کے مطابق اپنی مزدوری اور چیزوں کے ریٹ بڑھا دیتے ہیں اس لیے یہ ڈائرکٹ خود کو اچانک آنے والی مہنگائی سے بچا لیتے ہیں لیکن جن کی تنخواہیں فیکس ہوتی ہیں ان کے لیے مہنگائی پریشانی کا باعث بنتی ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کے اثرات سے میڈل کلاس کا خیال رکھا جائے.

    اگر پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان نظر آئے تو مقامی طور پر پیدا ہونے والی اور باہر سے درآمد ہونے والی اشیا دونوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اور اس وقت پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی وجہ سے باہر سے درآمد ہونے والی اشیا میں بھی اضافہ ہو رہا ہے. کوکنگ آئل پاکستان میں مکمل طور پر باہر سے درآمد ہو کر آتا ہے جس کی قیمت پیچھلے ادوار میں 500 ڈالر فی ٹن تھی لیکن اب وہی قیمت 1300 ڈالر فی ٹن تک پہنچ چکی ہے اس وجہ سے کوکنگ آئل کی فی کلو قیمت 160 سے بڑھ کر 320 سے 330 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، اگر یہی کوکنگ آئل پاکستان خود بنانے میں خود کفیل ہو جائے تو اس کی قیمتوں میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے اس کے لیے حکومت نے بیچ خرید کر کاشتکاری شروع کی ہے سننے میں آ رہا ہے کہ 2024 تک پاکستان مکمل طور پر کوکنگ آئل مقامی سطح پر بنانے میں خود کفیل ہو جائے گا.

    تاہم ابھی جب تک دنیا بھر میں کرونا کی وجہ سے حالات معمول پر نہیں آتے اور مختلف اشیاء کی قیمتوں میں عالمی سطح پر استحکام دیکھنے میں نہیں آتا تب تک پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ امید ہے کہ یہ حالات جلدی ٹھیک ہو جائے گے۔

    اختتام پزیر۔

  • تاریخِ عالم کے سب سے عظیم ہیرو محمدﷺ   تحریر: نصرت پروین

    تاریخِ عالم کے سب سے عظیم ہیرو محمدﷺ تحریر: نصرت پروین

    تاریخِ عالم کی سب سے عظیم شخصیت کہ جن کے متعلق ربِ کائنات خود ثناء خواں ہیں:
    وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ
    ترجمہ: اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
    وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ
    ترجمہ: اورہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔
    اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ ؕ
    ترجمہ: یقیناً ہم نے آپ کو کوثر دیا ہے۔
    کہیں مزمل تو کہیں مدثر کہہ کر مخاطب کیا:
    یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ
    ترجمہ: اے کپڑے میں لپٹنے والے ۔
    یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ
    ترجمہ: اے کپڑا اوڑھنے والے ۔
    لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا
    ترجمہ: یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالٰی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالٰی کو یاد کرتا ہے ۔
    (سورۃ الأحزاب:33)
    اللہ رب العزت نے انسانیت پر سب سے بڑا احسان یہ کیا کہ جس شخصیت کو ہادی و مرشد بنا کر بھیجا وہ پوری کائنات کے سب سے اعلی ترین ہیرو ہیں۔ تاریخ عالم میں اگر کوئی ایسا ہیرو تلاش کیا جائے جس کی پوری سیرت ہر دور کے انسانوں کے لئے جامعیت، کاملیت اور پورے جمال و جلال کے ساتھ موجود ہو تو ہزار ہا برس کی تاریخ میں ایک ہی ہادی و مرشد ایسے ہیں ان کی مثل نہ تو پہلے کبھی وجود میں آئی اور نہ آئیندہ ایسے کاملیت اور جامعیت کے اوصاف کسی انسان میں ہوں گے۔
    سرمایہ حیات ہے سیرت رسولﷺ کی
    اسرارِ کائنات ہے سیرت رسولﷺکی
    بنجر دلوں کو آپ نے سیراب کر دیا
    اک چشمہ صفات ہے سیرت رسولﷺ کی
    تاریخ کے سب سے بڑے انسان اور سب سے بڑے ہیرو محمدﷺ بحثیت ایک شفیق باپ، مہربان شوہر، عظیم بھائی، بہترین فرمانبردار بیٹے، معزز شہری، قاضی، تاجر، جرنیل، منتظم و مدبر معلم انسانیت، اپنی خانگی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی میں عالمگیریت اور جامعیت کی بہترین مثال ہیں۔ آپﷺ کی ذات ہی میں وہ مکمل رہنمائی موجود ہے جس کا متلاشی ایک انسان اپنے تمام انفرادی اجتماعی معاشرتی مسائل کے حل، تمام تعلقات اور حقوق و فرائض کی ادائیگی کے لئے ہوتا ہے۔ تاریخ کے سب سے عظیم ہیرو محمد ﷺ ہی ایسے کامل ترین مصلح، رہنما اور پیشوا ہیں کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ کیسے آپ نے کچھ ہی عرصے میں گمراہی اور تاریکی میں ڈوبے جاہل انسانوں کی اصلاح کی۔
    وہ بت پرست اور مشرک قوم کیسے خدا پرست اور موحد بن گئی؟
    وہ جو ذلت کی پستی میں گرچکے تھے کیسے سب کی نظروں میں معزز ہوگئے؟
    وہ جو چوری کو معمولی سمجھتے تھے کیسے خود پاسباں بن گئے؟
    وہ جاہل لوگ کیسے مشہور عالم بن گئے؟
    وہ ظالم اور سنگدل قوم کیسے عادل اور رحم دل بن گئی؟
    یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد ہی تھی کہ جس نے یوں انسانیت کی کایا پلٹ کے رکھ دی۔

    الطاف حسین حالی نے کیا خوب کہا!
    اُتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
    اور اِک نُسخہ کیمیا ساتھ لایا
    مسِ خام کو جس نے کُندن بنایا
    کھرَا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
    عرب، جس پر قَرنوں سے تھا جہل چھایا
    پَلٹ دی بس اک آن میں اُس کی کایا
    رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بَلا کا
    اِدھر سے اُدھر پِھر گیا رُخ ہَوا کا
    یہ آپﷺ کی ذات ہی تھی کہ جس پر اللہ کا دین ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے تکمیل کی آخری حد تک پہنچ گیا۔ اب قیامت تک کے لئے نہ کسی اور نبی کی گنجائش رہی نہ کسی اور دین کی۔
    اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
    اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ
    ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
    (سورۃ المائدہ: 3)
    اللہ کے رسولﷺ ہمیشہ نرم برتاؤ کو پسند کرتے۔ آپﷺ سخاوت میں سب سے زیادہ سخی، جرات میں سب سے زیادہ قوی، بولنے میں صادق، لوگوں کی امانتوں کے معاملے میں امین اور زندگی کے ہر معاملے میں باریک بین، دور اندیش، نہایت شفیق ایسی حسین و جمیل شخصیت کے مالک تھے کہ:
    حسنِ یوسف دیکھ کر کٹ گئی تھی انگلیاں
    لاکھوں نے جانیں دی میرے نبیﷺ کے واسطے

    آپﷺ کی فہم و فراست کا عالم یہ تھا کہ کوئی شخص آپﷺ کو دھوکہ نہ دے سکتا تھا۔ آپ کی ذاتِ اقدس کی ایک انگلی اٹھی تو چاند کے دو ٹکرے کر دئیے۔ سراقہ کو بددعا دی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا اور پھر جب دعا دی تو وہی گھوڑا زمین سے واپس نکل آیا۔طائف کی بستی میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے مگر زبانِ مقدس سے بددعا تک نہ نکلی۔ رحمت و شفقت کا عالم یہ تھا کہ زید بن حارثہ آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کے لئے اپنے والد کو چھوڑنے پر راضی ہو گئے۔ پانچ سال کے عبد اللہ بن عباس کا دل چاہتا تھا کہ میں دیکھوں رسول اللہﷺ رات کی نماز کیسے پڑھتے ہیں، کیسے وہ پانچ سال کا بچہ آدھی رات کو اٹھ کر آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کرنے لگا۔ آپ کی رحمت و شفقت بھرےتعلم کے سائے میں حضرت عبد اللہ بن عباس جیسے مفسرِ قرآن تیار ہوئے۔ جرنیل کی حثیت سے ایسے سپہ سالار تیار کئے کہ دنیا انہیں خالد بن ولید کے نام سے جانتی ہے، سچائی کا ایسا درس دیا کہ صدیق اکبر بنا دیا، ایسا عدل سکھایا کہ فاروقِ اعظم بنا دیا، سخاوت کی ایسی تربیت کی کہ سیدنا عثمان بنا دیا، اور مکتبِ شجاعت میں علی شیرِ خدا بنا دیا۔
    آپ ﷺکا چہرہ مبارک لامتناہی تھا۔ اتنا حسین دلکش نورانی چہرہ اور اتنی نرم طبیعت کے مالک کہ ثمامہ جیسے نڈر بہادر جرنیل کو بھی جب آپ نے رہائی دی، جاتے ہوئے اس نے آپﷺ کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک دیکھی تو کہا اپنا بنا کر چھوڑ دیا”۔ آپﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبرو اور خوش خصال تھے۔ آپﷺ کی چشمِ مبارک بڑی اور بھنویں دراز تھیں۔ پیشانی مبارک کشادہ تھی۔ آپﷺ کے دانت روشن تر، آبدار اور کشادہ تھے۔ آپﷺ کبھی قہقہ لگا کر نہ ہنسے تھے۔ آپ ﷺکا کلام بے حد شیریں ہوتا۔ آپﷺ کے بال مبارک نرم تھے۔ آپ ﷺ جب چلتے تو ایسے جھک کر چلتے جیسے اوپر سے اتر رہے ہوں۔
    حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ چمک جاتا اور رخِ انور ایسے لگتا جیسے کہ وہ چاند کا ٹکرا ہے اور ہم آپ کی خوشی پہچان لیتے تھے۔
    (صحیح بخاری: 3556)

    بقول شاعر
    ‏اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
    جیسے میرے سرکار ﷺ ویسا نہیں کوئی
    تم سا تو حسین آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی
    یہ شان لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی
    آج کے انسان کو دیکھیں تو وہ پریشان، بےچین، منتشر، اور مضطرب سی کھوکھلی حالت میں مبتلا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ لیکن سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے محمدﷺ کو آخری رسول، تاریخ کا عظیم ہیرو اور کامل نمونہ بنا کر بھیجا اور انسانوں کو اپنے رسولﷺ کی پیروی کا حکم دیا ہے لیکن غفلت کے مارے انسانوں نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے ہیرو محمد ﷺ کی ویسے پیروی نہ کی جیسے اللہ نے حکم دیا۔ جس کے نتیجے میں شرک، بےحیائی، سنگدلی، خودغرضی، لالچ، خود پسندی، حرص و حوس اور ظلم انسانوں سے چمٹ گئے۔ ان سب امراض کا ایک ہی علاج ہے کہ ہم رسول ﷺ کی شخصیت کو عملی نمونہ بنا کر ایسے اعمال انجام دینے کے لئے کوشش کریں جس کے باعث کل قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت نصیب ہو جائے۔
    جزاکم اللہ خیرا کثیرا
    از قلم نصرت پروین
    @Nusrat_writes

  • یوم شہادت شہید ملت نواب لیاقت علی خان.   تحریر: احسان الحق

    یوم شہادت شہید ملت نواب لیاقت علی خان. تحریر: احسان الحق

    آج سے 70 برس قبل کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان کے اولین وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا. 16 اکتوبر 1951 کو لیاقت علی خان ایک جم غفیر سے خطاب کر رہے تھے جب ان کو دو گولیاں ماری گئیں. آپ شدید زخمی ہو گئے، اکتوبر 1895 میں پیدا ہونے والے نواب لیاقت علی خان اکتوبر میں ہی 1951 کو 56 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے.

    قاتل کو موقع پر ہی پولیس نے مار دیا. حالانکہ قاتل کو آسانی سے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا مگر پولیس اہلکار انسپکٹر محمد شاہ نے پستول سے یکے بعد دیگرے وار کرتے ہوئے قاتل کو موقع پر ہلاک کر دیا. سی آئی ڈی انسپکٹر شیخ محمد ابرار نے گولیاں چلانے والے اہلکار محمد شاہ سے پستول چھین لیا.

    قتل کے تقریباً 9 دن بعد 25 اکتوبر 1951 کو حکومت پاکستان نے تحقیقات کرنے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا. جس کی سربراہی فیڈرل کورٹ کے جج جسٹس محمد منیر کر رہے تھے اور ساتھ پنجاب کے مالیاتی کمشنر اختر حسین تھے. ہم یہی سمجھتے ہیں کہ حکومت نے شہید ملت لیاقت علی خان کے قتل کی انکوائری کرنے، قتل کی سازش رچانے اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لئے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا، مگر ایسا نہیں تھا. تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے کر کہا گیا کہ غلفت کے مرتکب مجرم افسران کا پتہ لگاؤ کہ کس طرح سیکورٹی کے ناقص انتظامات تھے، کس نے یہ انتظامات کئے، سیکورٹی میں کیا کیا نقص تھے، کون کون اور کس طریقے سے غفلت کا مرتکب ہوا وغیرہ وغیرہ. شہادت کے پیچھے چھپے رازوں اور قاتلوں کو ڈھونڈنے کی بجائے ہمارے ادارے اور پولیس والے اپنی اپنی صفائی دینے میں مصروف ہو گئے کہ ہم غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے. اس تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ 17 اگست 1952 کو پیش کی. چونکہ اس کمیشن کا مقصد یہ نہیں تھا کہ قتل کے پیچھے محرکات اور کرداروں کا سراغ لگایا جائے، اس لئے بیگم رعنا لیاقت اور قوم نے یہ رپورٹ مسترد کر دی.

    وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات پاکستان کے انسپکٹر جنرل صاحبزادہ اعتزاز الدین بھی کر رہے تھے. 26 اگست 1952 کو وہ ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی سے پشاور جا رہے تھے، ان کے ہمراہ تحقیقاتی رپورٹ بھی تھیں جس میں اہم شواہد موجود تھے. طیارہ جب کھیوڑہ کے مقام پر پہنچا تو حادثے کا شکار ہو گیا. انسپکٹر جنرل صاحبزادہ اعتزاز کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ اہم شواہد بھی جل کر راکھ ہو گئے.

    دباؤ بڑھنے کی وجہ سے حکومت نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے یورین کی خدمات بھی حاصل کیں، جس نے حکومت سے تحقیقات کرنے کے بدلے 10 ہزار پاؤنڈ اجرت لی. یورین نے 28 نومبر 1954 سے 16 جون 1955 تک لیاقت علی خان قتل کی تفتیش کی. 25 جون 1955 کو یورین نے اپنی تحقیقاتی اور تفتیشی رپورٹ پیش کی جس میں اس نے کہا کہ قاتل کا قتل کرنے والا ذاتی فعل تھا.

    دریں اثناء محکمہ پولیس نے سی آئی ڈی انسپکٹر شیخ ابرار احمد کو قتل کی تفتیش پر لگا دیا. یہ وہی شیخ ابرار ہیں جو جلسہ گاہ میں موجود تھے. انہوں نے پولیس اہلکار سے پستول چھینا تھا جو قاتل سید اکبر کو گولیاں مار رہا تھا. شیخ ابرار نے خود نوشت سوانح "نقوش زندگی” میں اس تفتیش کا ذکر تفصیل سے کیا ہے. شیخ ابرار نے بھی قتل کی وجہ قاتل کا ذاتی فعل قرار دیا.

    وزیراعظم لیاقت علی خان کے قاتل کے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کا نام سید اکبر خان ولد ببرک خان تھا، اکبر نے اپنے بھائی زمرک کے ساتھ ملکر 1944 میں افغان حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کیا. سرکاری فورسز سے شکست کھانے کے بعد دونوں بھائی ادھر ادھر بھٹکتے رہے اور آخر کار دونوں نے خود کو برطانوی فرنٹیر کور کے سامنے پیش کر دیا. دونوں کو ایبٹ آباد میں نظر بند کر دیا گیا اور تنخواہ مقرر کر دی گئی کیوں کہ دونوں بھائی برطانیہ کے لئے اجرت پر کام کرنے لگ گئے. یاد رہے اس وقت ایبٹ آباد برطانوی ہندوستان کا ایبٹ آباد تھا. پاکستان کے مطابق سید اکبر افغانی تھا، وہ افغانستان سے یبٹ آباد آیا، کچھ دن قیام کرنے کے بعد وہ ایبٹ آباد سے راولپنڈی پہنچا.

    وینکٹ رامانی اپنی کتاب "پاکستان میں امریکہ کا کردار” میں لکھتے ہیں کہ امریکی صدر ہنری ٹرومین کو امریکی عوام اور کانگریس سے شدید مذمت اور دباؤ کا سامنا تھا. کیوں کہ کوریا میں امریکیوں کو سخت پریشانی کا سامنا تھا. امریکی عوام سمجھتے تھے کہ کوریا میں امریکی ہلاکتوں کی ذمہ دار ٹرومین حکومت ہے. کوریا جنگ میں پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کے لئے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچی سن نے پاکستان میں امریکی سفیر ایورا وارن کو کچھ انتہائی اہم اور پوشید ہدایات جاری کرتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خان سے ملاقات کرنے کو کہا.

    11 مئی 1951 کو امریکی سفیر نے لیاقت علی خان سے ملاقات کی اور کوریا جنگ میں ٹھوس مدد کرنے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ تعاون نہیں کرتے تو پھر اس کے نتیجے میں اجتماعی سلامتی کا نظام ختم ہو سکتا ہے. پاکستان سیمت تمام نئے یا ترقی پزیر ممالک کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے پیش قدمی یا کسی قسم کی جارحیت کے دفاع کے لئے اقوام متحدہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے. یہ واضح طور پر یا ممکنہ طور پر سفیر کا دھمکی آمیز انداز تھا.

    وزیراعظم لیاقت علی خان ایک زیرک سیاست دان اور محب وطن حکمراں تھے. وہ تمام بات سننے کے بعد فرمانے لگے کہ اگر پاکستان کوریا کی جنگی مہم میں امریکہ کا ساتھ دے تو کیا

    1: امریکہ مسئلہ کشمیر حل کروائے گا؟

    2: نہرو مقبوضہ کشمیر میں انتخابات کروانے کا سوچ رہے ہیں، کیا امریکہ انتخابات رکوا پائے گا؟

    3: افغانی حکومت اور کچھ افغان نواز اور قوم پرست قبائل پختونستان مہم چلائے ہوئے ہیں، کیا امریکہ پختونستان کے شوشہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گا؟

    یہ وہ چیدہ چیدہ شرائط تھیں جو وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکی سفیر ایورا وارن کے سامنے رکھیں. لیاقت علی خان جانتے تھے کہ یہی موقع ہے امریکہ سے شرائط کی صورت میں اپنے مطالبات منوانے کا. امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچی سن لیاقت علی خان سے یہی امید رکھتے تھے، اسی لئے سفیر ایورا وارن کو پیشگی سمجھا دیا تھا کہ اگر پاکستان کی طرف سے ایسی شرائط رکھی جائیں تو صاف صاف انکار کر دینا. توقع کے مطابق لیاقت علی خان نے وہی شرائط رکھ دیں اور ایورا وارن نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ایسا کرنے سے مسائل جنم لیں گے.

    کچھ برس قبل امریکہ کے نیشنل آرکائیو ڈیپارٹمنٹ نے کچھ دستاویزات کو عوام کی پہنچ میں لاتے ہوئے پبلک کیں ان میں سے ایک ایسا ٹیلی گرام بھی ملا جس کی مدد سے لیاقت علی خان کے قتل کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے. 7 ستمبر 1951 امریکی وزیر خارجہ ایچی سن کو ایک مراسلہ روانہ کیا گیا جس کے مطابق اسی شام مطلب 7 ستمبر 1951 کو وزیر خزانہ غلام محمد نے امریکی سفیر سے چائے پر ملاقات کی اور سفیر سے درخواست کی کہ وہ مندرجہ ذیل پیغام امریکی وزیر خارجہ تک پہنچائیں.

    "اگلے ہفتے ظفراللہ امریکہ آ رہے ہیں، مہربانی کرکے آپ ان سے مل لیں اور مجھے امید ہے کہ آپ اپنے گھر پر ملاقات کا وقت نکالیں گے. اور گزارش کی جاتی ہے کہ آپ ظفراللہ کو ٹرومین سے بھی ملوا دیں گے”. خفیہ ٹیلی گرام کے مطابق غلام محمد کہتے ہیں کہ وہ دسمبر میں تین ہفتوں کے لئے امریکہ آنا چاہتے ہیں اور آپ سے تفصیلی بات چیت کرنے کے خواہاں ہیں. سفیر نے اپنے مراسلے میں مزید لکھا کہ غلام محمد نے کہا کہ میں پاکستان اور مسلم دنیا کو کمیونزم کے خلاف لڑنے کے لئے منظم کرنے کا مقصد رکھتا ہوں. میں اور میرے دو رفیق خاص بھارت کے ساتھ جنگ نہیں ہونے دیں گے. ایک ملک کا وزیر خزانہ ایک سفیر سے اس طرح کی باتیں اور امریکی وزیر خارجہ کے لئے اہم ترین پیغام کیوں بھجوا رہا تھا، قوی امکان ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ 27 جولائی 1951 کو عوام کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم لیاقت علی خان نے بھارت کے لئے مکا لہرایا تھا. اس مکے نے بھارت میں تشویش اور پریشانی پیدا کر دی تھی، ہو سکتا ہے حالات معمول پر لانے اور بہتر کرنے کے لئے غلام محمد نے یہ کہا ہو کہ وہ کبھی بھی بھارت کے ساتھ پاکستان کی جنگ نہیں ہونے دیں گے. اس ملاقات اور بیان کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ غلام محمد ان دنوں علیل تھے اور آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہے تھے، ان دنوں یہ خبر تھی کہ وزیراعظم لیاقت علی خان غلام محمد اور گورمانی کو ان کے عہدوں سے ہٹانے والے ہیں. لیاقت علی خان سردار عبدالرب نشتر کو نائب وزیراعظم اور نواب محمد اسماعیل کو پنجاب کا گورنر بنانے والے ہیں.

    امریکی سفیر سے غلام محمد کی ملاقات 7 ستمبر کو ہوئی، اس ملاقات سے 12 دن قبل مطلب 25 اگست 1951 کو لیاقت علی خان امریکی وزیر خارجہ ایچی سن کے نام خط لکھ کر پاکستان کے لئے فوجی اور دفاعی سازوسامان کی درخواست کر چکے تھے. اس اہم خط کو ڈاک کے ذریعے بھیجنا مناسب نہ سمجھا گیا بلکہ اس خط کو سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ کے ہاتھ بھیجنا زیادہ محفوظ اور مناسب سمجھا گیا. جو خط کچھ دنوں میں پہنچ جانا چاہئے تھا مگر وہ خط پہنچا 18 اکتوبر کو. لیاقت علی خان کی شہادت کے دو دن بعد وہ خط امریکی وزیر خارجہ تک پہنچایا گیا. 

    بھوپال سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ "ندیم” نے ایک مضمون لکھا جس کے مطابق برطانیہ اور امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایران مسئلہ پر تعاون کریں. امریکہ نے دباؤ ڈالتے ہوئے پاکستان کو کہا کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو کہیں کہ وہ تیل کے کنوئیں امریکہ کے حوالے کر دے. لیاقت علی خان نے واضح انداز میں ایسا کرنے سے انکار کر دیا. جس کے ردعمل کے طور پر امریکہ نے دھمکی دی وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا. لیاقت علی خان نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت آدھا کشمیر لے لیا ہے اور باقی ماندہ بھی لے لیں گے، آپ اپنا تعاون اپنے پاس رکھیں. اس ساری صورتحال کے بعد امریکہ نے پاکستان میں کسی سہولت کار کی تلاش شروع کر دی. امریکہ کو پاکستان سے کوئی سہولت کار یا ایسا بندہ نہ مل سکا تو اس نے افغانستان سے رابطہ کیا.امریکہ نے پشتون راہنماؤں سے رابطہ کیا جو پاکستان کو توڑنا چاہتے تھے اور پختونستان بنانا چاہتے تھے.

    روزنامہ ندیم کے مطابق امریکہ نے کابل میں اپنے سفارتخانے سے رابطہ کیا. سفارتخانے نے پاکستان مخالف پشتونوں سے رابطہ کیا جو پختونستان بنانا چاہتے تھے. امریکا نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ لیاقت علی خان کو قتل کر دیں تو 1952 تک پختونستان بن جائے گا. مختصر، سید اکبر خان کو لیاقت علی خان کے قتل کے لئے تیار کرکے اس کی تربیت شروع کی دی گئی. افغانستان سے اس کو ایبٹ آباد پہنچایا گیا، وہاں سے وہ راولپنڈی آیا. وہاں اس نے وزیراعظم لیاقت علی خان کو دوران تقریر سینے پر دو گولیاں ماریں جن سے وہ شدید زخمی ہوگئے اور انتقال فرما گئے.  لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جو مخصوص قسم کے کارتوس ملے وہ صرف امریکی فوج کے اعلی اور خفیہ لوگ استعمال کرتے تھے. اس وقت ایسے کارتوسوں کا عام مارکیٹ میں ملنا ناممکن تھا. ندیم کے مضمون کے مطابق جب گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے بیگم رعنا لیاقت کو قتل کی خبر دی اور تعزیت کی تو اس سے 3 سے 4 منٹ پہلے امریکی سفیر وارن بیگم رعنا لیاقت کو قتل کی اطلاع دے چکا تھا. ان تمام عوامل اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ لیاقت علی خان کے قتل کے پیچھے امریکی ہاتھ ہے.

    30 اکتوبر کو روزنامہ ندیم کے اس مضمون کی نقل بھارت نے خفیہ طریقے سے کراچی میں امریکی سفارتخانے کو بھیج دی. سفارت خانے نے اگلے روز یعنی 31 اکتوبر کو امریکی وزارت خارجہ کو یہ کہتے ہوئے مضمون کی نقل ارسال کی کہ وہ دہلی سفارت خانے کو ہدایات دیں کہ اس مضمون کو نظرانداز کر دیا جائے کیوں کہ اس میں متن خودساختہ ہے اور اس اخبار کو اتنی اہمیت نہ دی جائے.

    بیگم رعنا لیاقت علی خان کو خاموش کروانے کے لئے ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیج دیا گیا. ہالینڈ میں انہوں نے اپنے شوہر وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل پر 6 سوال پوچھے.

    16 اکتوبر 1954 کو انہوں نے جاری کردہ ایک بیان میں کچھ سوالات پوچھے جو انھوں نے ہالینڈ کے دارالحکومت ہیگ سے جاری کیا تھا۔

    انھوں نے مندرجہ ذیل چھ سوالات اٹھائے تھے:

    ۱: ایسے موقع پر جب لیاقت علی خان ایک اہم بیان دینے والے تھے اور لیاقت علی خان اپنی مقبولیت اور شہرت کی انتہاء پر تھے، اسی وقت انکو کیوں قتل کردیا گیا؟

    ۲: قاتل کو بے بس ہو چکا تھا، اسکو آسانی سے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا مگر موقع پر کیوں قتل کر دیا گیا؟

    ۳:  قاتل کو ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار کو سزا دینے کی بجائے ترقی کیوں دی گئی؟

    ۴: ملک میں کچھ اہم اور طاقتور لوگ کیوں لیاقت علی خان کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے؟

    ۵: قائداعظمؒ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے ناموں کو بعض اہم معاملات میں کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

    ۶: ان سب سوالوں کے جواب کیوں نہیں دئیے جا رہے؟

    راقم الحروف کا ذاتی خیال ہے کہ اگر امریکی خفیہ دستاویزات اور اردو روزنامہ "ندیم” کے مضمون کو درست مان لیا جائے تو قاتل اور قتل کی سازش رچانے والوں اور پاکستان میں مبینہ طور پر غفلت برتنے والوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے.

    @mian_ihsaan

  • سی پیک سے چین کو کیا ملے گا تحریر اصغر علی                                                    

    سی پیک سے چین کو کیا ملے گا تحریر اصغر علی                                                    

    دنیا میں سوئس کینال راہداری کے بعد پاک چین راہداری یا  سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہے سوئس راہ داری ترکی کے کنٹرول میں ہے جو کہ براعظم ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملاتی ہے مگر ادھر سب سے اہم سوال ایک پیدا ہوتا ہے کہ سی پیک منصوبے پر اربوں ڈالر لگانے والے چین کو کیا ملے گا اس کو سی پیک سے کتنا فائدہ ہوگا سی پیک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کے گوادر بندرگاہ سے شروع ہوتا ہوا چائنا جاتا ہے سی پیک صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ چائنا کی بقا کا بھی مسئلہ ہے چین اپنی اشیاء کی خرید وفروخت اور تیل کی خرید و فروخت کے لیے جو راستہ سی پیک سے پہلے استعمال کرتا ہے وہ راستہ آبنائے ملاقا کا سے ہو کر گزرتا ہے جنوبی چین کے سمندری راستے جہاں فلپائن ویتنام جاپان اپنی ملکیت کا دعوی کرتے ہیں ان تینوں ملکوں کا یہ کہنا ہے اور ماننا ہے کہ جنوبی چین میں جو سمندر لگتا ہے وہ ہماری ملکیت ہے اس میں کچھ حصہ فلپائن کے قبضے میں ہے کچھ ویت نام کے قبضہ میں اور ایک بڑے حصے پر جاپان اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے یہ سمندر جس کو آبنائے ملاکا کے نام سے دنیا جانتی ہے اور اسی آبنائے سے چین کی سب سے بڑی تجارتی سپلائی لائن گزرتی ہے اب یہاں پر ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ تینوں ہی ملک یعنی کے جاپان ویتنام اور فلپائن ان تینوں کے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور امریکا کے ساتھ اتحادی بھی ہے یہی وجہ ہے کہ چین ان تینوں ملکوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے چین کا یہ بھی ماننا ہے کہ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی جنگ کی صورت میں یہ سپلائی لائن بہت آسانی سے بند کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ سپلائی لائن ان تین ملکوں کے ساحل سے ہوکر گزرتی ہے اس کے برعکس اگر ہم دوسری طرف دیکھیں تو سی پیک سے پہلے پاکستان کے پاس بھی اسی طرح کی تجارتی سپلائی کے لیے ایک ہی راستہ موجود تھا جو کہ کراچی میں ہے انہی مشترکہ اہداف کی وجہ سے چین اور پاکستان نے چین-پاکستان راہداری منصوبے  پر کام کرنا شروع کیا جس کا نام  سی پیک رکھا کیا اور اس منصوبے کے ساتھ ہی چین کا سب سے بڑا مسئلہ گرم پانی کا وہ بھی حل ہوگیا یا اب چین بلا خوف و خطرگرم پانی اپنے ملک لے جا سکتا ہے اور استعمال کر سکتا ہے سی پیک میں اتنا زیادہ دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چین اپنے علاقوں کو ایک ساتھ ترقی دینا چاہتا تھا کیونکہ مشرقی چین دنیا بھر کی ہر سہولت سے آراستہ ہے وہی مغربی چین کی بہت ساری ریاستوں میں غربت نے اب بھی ہندوستان کی طرح ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اپنی ریاستوں کو ترقی دینے کے لیے چین سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے کیونکہ یہی وہ منصوبے ہیں جن پر کام کر کے  چین ان علاقوں سے غربت کو ختم کر سکتا ہے کیونکہ جیسے ہی مغربی چین ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا تو چین ترقی یافتہ ملکوں کی دوڑ میں پہلے نمبر پر آ جائے گا یو اس کا دنیا پر حکمرانی کرنے کا خواب اور سپرپاور سٹیٹس حاصل کرنے کا خواب بھی پورا ہو سکتا ہے یہاں پر وہ کہاوت تو آپ نے سنی ہی ہوگی کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے کیوں کہ ہندوستان اس خطے میں پہلے ہی بہت بدامنی پھیلا چکا ہے اور ایک سائیڈ پر وہ چائنا اور دوسری طرف وہ پاکستان کے خلاف زہریلے بیان جاری کرتا رہتا ہے اور اکثر رات کی تاریخی میں چھپ کر وار بھی کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور چین کا یہ منصوبہ سی پیک اور  ون بیلٹ ون روڈ اس کا سب سے بڑا مخالف بھی ہندوستان اور امریکہ ہیں جبکہ چین یہ سب چیزوں کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور اس نے مخالفین کے منہ بند کرنے کے لئے اپنے ساتھ روس اور ترکی جیسے ملکوں کو بھی شامل کرلیا ہے کیوں کہ سی پیک  چین سے شروع ہو کے پاکستان سے ہوتا ہوا گوادر بندرگاہ تک جاتا ہے اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ جو کہ چین کی مغربی ریاستوں سے شروع ہوکر پاکستان ایران اور ترکی سے ہوتا ہوا یورپ تک جاتا ہے ون بیلٹ ون روڈ سے پاکستان اور چائنا باآسانی اپنی مصنوعات کو یورپ کے بازاروں میں فروخت کر سکتے ہیں جہاں پاکستان کو سی پیک سے بہت زیادہ فائدہ ہوگا وہاں پے اس کے کچھ منفی اثرات بھی  ہے جس میں چائنا کا بلا ججھک پاکستان کے اندر انٹر  ہونا ایران اور ترکی تک پاکستان سے روڈ کا جانا کیونکہ کہ ایران سے کافی زیادہ دہشتگرد پاکستان میں آ سکتے ہیں اب آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ یہ دونوں منصوبے پاکستان کو کس طرح اور کتنا فائدہ دیتے ہیں

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his  

     Twitter account @Ali_AJKPTI 

  • چمکتے ستارے.تحریر:ام سلمیٰ

    چمکتے ستارے.تحریر:ام سلمیٰ

    آجکل جس طرح کی حالات میں تیزی چل رہی ہے بھی سے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کر رھے ھیں تاکہ وہ تیز ترین زریعے سے خیر حاصل کر سکیں اور جان سکیں کے اس وقت دنیا میں کیا اہم چل رہا ہے کوئی اہم واقعہ کوئی اہم معلومات جو ہمارے لیے کام بھی ہی سکتی ہے ایسے ہی لوگ جاننا چاہتے ہیں کے آپ کے ارد گرد کس طرح کے معاشرتی مسائلِ چل رہے ہیں اور کونسا اچھا لکھاری ہے جو آپکو فوری معلومات دیتا ہوں اپنے کالم سے اپنے کونٹینٹ سے؟اور ایسے کون سے لکھاری ہیں کو تمام موضوعات پے لکھ رہے ہوں اور ان کی تحریروں میں صحیح طرح مسائل کی عکاسی ہو صحیح تفصیلات بیان کی گئی ہوں بھلے کسی بھی موضوع متعلق لکھا گیا ہو.

    ایسے چند اچھے لکھنے والے لکھاری جن کی تحریر میں اکثر معلومات کے لیے پڑھا کرتی ہوں اور ان کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کے یہ اچھے لکھنے والے ہیں اور اپنے ارد گرد ٹھیک ٹھیک تبدیلیوں کو نوٹ کرتے ہیں۔ تفصیل کی طرف یہ توجہ نہ صرف انہیں لاجواب ایڈیٹر یا لکھاری بناتی ہے جو پڑھنے کے دوران آپکو ان کی تحریروں میں آپکی دلچسپی بڑھتی ہے ، بلکہ یہ ان کی تحریر میں بھی ایک خاص ٹچ ڈالتا ہے۔ تاکہ کوئی وضاحتی تفصیل پیچھے نہ رہ جائے ان میں سے کچھ یہ ہیں ضماد ملک ,حمزہ بن شکیل,حسن ساجد,فضل عباس , امان رحمان , حمزہ احمد صدیقی اِنکی تحریر اچھی ہوتی ہے آپ اِنکی تحریر میں مکمل معلومات پائیں گے.

    ان کی تحریروں میں دن بہ دن بہتری آرہی ہے یے ایسے مصنفین ہیں اپنے کام کو دن با دن بہتر کرتے جا رہے ہیں، چاہے کام کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے ہنر پر توجہ دیتے ہیں اور شدید نظم و ضبط کے ذریعے بہتر لکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔

    ایک مؤثر مصنف پیچیدہ خیالات اور خیالات کو سادہ ، واضح زبان میں نکالنے کے قابل ہوتا ہے جو دوسروں کی طرف سے جلدی اور آسانی سے سمجھا جاتا ہے اور یہ خوبیاں ان میں پائی جاتی ہیں۔ اگی آپ معیار ی تحریر پڑھنا چاہتے ہیں تو ضرور انکو کو پڑھیں آپکو اِنکی تحریر میں پڑھتے ہوئے لطف آئے گا.
    کوئی بھی ایک ہی الفاظ کو بار بار پڑھنا پسند نہیں کرتا ، اس لیے ایک مضبوط ، مضبوط الفاظ کسی بھی اچھے مصنف کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ دلچسپ اور غیر معمولی الفاظ کو ان کی تحریر میں شامل کرنا ، یہ مہارت انہیں قارئین کی دلچسپی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے اور انہیں کسی بھی صورت حال کے لیے بہترین لفظ تک رسائی کے ذریعے زیادہ مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے کی اجازت دیتی ہے اور آپ ان خصوصیات کو اِنکی تحریروں میں پائیں گے. ۔

    بیرونی ترامیم اور تجاویز کے لیے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ سے معاشرتی مسائل کی عکاسی کرنا بھی آجکل ضروری ہے غیر معمولی لکھاریوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ انہیں اپنی تحریر کو بہتر بنانے کے قابل بناتا ہے ، حالانکہ اس دوران ان کی انا کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کھلے ذہن کی وجہ سے وہ اپنا کام دوسروں کی نظروں سے دیکھ سکتے ہیں اور کمزور نکات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

    باشعور قارئین اکثر اچھے مصنف پڑھتے ہیں ، کیونکہ الفاظ کی دنیا میں ڈوبے رہنے سے لکھنے کے نٹ اور بولٹس کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے جیسے نحو ، لہجہ ، فریمنگ ، وغیرہ جتنا کوئی پڑھتا ہے ، اتنا ہی زیادہ سیکھا جاتا ہے۔ آپ جب ان لکھاریوں کی تحریروں کو پڑھیں گے تو آپ کو ان میں مختلف قسم کی جدت نظر آئے گی.

    اگر آپ بھی لکھاری بننا چاہتے ہیں تو اِنکی تحریروں کو پڑھائی اور ان خوبیوں کو اپنانے کی کوشش کریں آپ انکو پڑھ کر ضرور بہت کچھ سیکھیں گے.
    اگر آپ ان کو ابھی تک نہں پڑھ رہے تو ضرور پڑھیں یہاں اِنکی بیان کردہ کچھ خوبیوں سے سیکھ کر آپ اپنی تحریر کو بہتر بنا سکتے ہیں تو آج سے شروع کریں۔ کچھ ہی وقت میں ، آپ کی تحریری مہارتیں فوائد حاصل کریں گی انشاء اللہ.
    Twitter handle
    @aworrior888

  • بابل کے آنگن میں مہکتی چڑیاں تحریر ۔فرزانہ شریف

    بابل کے آنگن میں مہکتی چڑیاں تحریر ۔فرزانہ شریف

    کہتے ہیں جب دو انسانوں کا نکاح ہوتا ہے تو اللہ تعالی ان دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے اٹوٹ محبت ڈال دیتا ہے جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔نکاح کے بولوں میں برکت ہی ایسی ہوتی ہے ۔۔
    نئی شادی شدہ لڑکی کو جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے ظاہر ہے اس کے لیے سسرال کا ماحول ٹوٹل مختلف ہوتا ہے اس کے میکے سے
    اگر تو لڑکی اکلوتے بیٹے کی بیوی بنتی ہے پھر تو اس کو اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی ایڈجسٹ ہونے میں کیونکہ گھر میں صرف ساس سسر اور شوہر کے کام خوشی خوشی انجام دے کر ان کی آنکھوں کا تارا بننا بہت آسان کام ہے لیکن۔بعض لڑکیوں کو بھرا سسرال ملتا ہے جہاں شوہر کے بہین بھائی ماں باپ سب مل کے رہ رہے ہوتے ہیں تو لڑکی کو سب کے مزاج سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ایسے وقت میں دونوں کی برداشت کا امتحان ہوتا ہے کہ خوش اسلوبی سے ایک دوسرے کے نظریات عادات کو سمجھنا ۔عزت دینا ۔عزت لینا دونوں طرف سے اس کا عملی مظاہرہ ہوتب ہی بات بنتی ہے ورنہ شروع دن سے اگر نئی آنے والی دلہن کو پریشر میں رکھ لیا جائے تو پھر نہ صرف وہ ذہنی طور پر کبھی آپ کے قریب نہیں آسکتی بلکہ اسے جب بھی موقع ملتا ہے جب وہ کچھ خودمختار ہوتی ہے اس کے دل میں آپکے ساتھ گزارا ہوا وقت ذہین کے ایک کونے میں کسی فلم کی طرح محفوظ ہوجاتا ہے جو وہ خود بھی کوشش کے باوجود نہیں نکال پاتی تو لڑکی کے دل میں ایک ایسی گانٹھ سی لگ جاتی ہے کہ پھر آپکا خلوص محبت بھی اس کو دکھاوا نظر آتا ہے۔۔تو کوشش یہ کرنی چاہئیے شروع دن سے لڑکی کو یہ احساس دینا چاہئیے کہ آپ اس گھر کی بہو ہو ہم بہت خوشی چاو سے آپکو اپنے بیٹے سے بیاہ کر لائے ہیں یہ آپکا گھر بھی اتنا ہی ہے جتنا یہاں رہنے والے باقی لوگوں کا ہے تو یقین کیجئے یہ چند الفاظ اس لڑکی کے لیے جینے کی وجہ بن جائیں گے پھر پوری ذندگی اس کے دل سے آپکی محبت عزت قدر کم نہیں ہوگی ۔
    اسے بیٹی جیسا پیار دیں کہ اپنی بیٹیاں تو دوسرے گھر چلی جاتی ہیں بہو ہی اصلی بیٹی ہے اگر تو وہ نسلی ہوئی آپکی دی گی عزت محبت خلوص آپکو دگنا کرکے لوٹائے گی
    بقول شاعر کے
    "میں نے ہر حال میں مخلوق کا دل رکھا ہے
    کوئی پاگل بھی بنائے تو میں بن جاتی ہوں…”
    اور اگر خدانخواستہ کم ظرف ہوئی تو ایک سبق کی طرح آپکو کبھی نہیں بھولے گی ۔۔
    لڑکی کو بھی چاہئیے جب اس کی شادی ہوجاتی ہے اگلے گھر کو اپنا گھر سمجھے شوہر کے والدین بھائی بہین سے اتنی ہی عزت پیار سے پیش آئے جیسے اپنے والدین اور بہین بھائیوں کے ساتھ پیش آتی ہے پھر ان شاءاللہ کوئی کم ظرف ہی ہوگا جو اس لڑکی کی قدر عزت نہیں کرے گا۔۔
    شوہر کو چاہئیے لڑکی کے والدین بہین بھائیوں سے اتنی محبت پیار سے پیش آئے جتنی وہ چاہتا ہے اس کی بیوی اس کے ماں باپ بہین بھائیوں کے ساتھ پیش آئے ۔تو کوئی وجہ نہیں دشمن بھی اختلافات ڈالنے آپکے درمیان آنے کی جرآت نہیں کرسکے گا ۔۔ویسے بھی کہتے ہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف غلط فہمی ڈالنے والا شیطان ہوتا ہے اللہ ایسے شیطانوں سے ہر مسلمان کو پناہ دے۔۔
    یورپ کی بات نہیں کرتی یہاں عورت کو اتنی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی ذندگی آسان بنانے کے لیے سب کچھ کرسکتی ہے مرد دو بیویاں نہیں رکھ سکتا اگر رکھے تو اس پر کیس بن جاتا ہے اور جیل کی ہوا کھانی پڑجاتی ہے اس وجہ سے اس معاملے میں عورت کو کوئی ٹینشن نہیں ہوتی کسی بھی قسم کی ۔۔ یہاں کا قانون بہت سخت ہے عورت کی ذندگی بنسبت پاکستان کے بہت آسان ہے ۔۔پاکستان میں لڑکی ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتی ہے مشکل سے مشکل وقت بھی اپنے سسرال میں گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہے بعض اوقات اور مشکل حالات میں بھی شوہر سے علیحدگی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔ اگر قسمت میں اچھا سسرال لکھا ہو تو وہ الگ بات ہے ورنہ سب تو نہیں کچھ لڑکیاں اپنی ساری ذندگی درد تکلیف برداشت کرتے گزار دیتی ہے اپنی ضروری خواہشات کے اصول کے لیے اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ انھیں پورا کرسکے اور شوہر کا دوسری شادی کا ڈر اسے آدھ موا کرکے رکھ دیتا ہےاس سب کے باوجود اپنے والدین بہین بھائیوں کے سامنے اف بھی نہیں کرتی کہ مذید مسائل نہ پیدا ہوجائیں اس کی ذندگی میں ۔۔ایسی لڑکیوں کے لیے میرا مشورہ ہے اپنے ساس سسر کو سب سے پہلے اپنا گرویدہ بنائے اپنے لیے ایک مضبوط ترین قلعہ بنائے آزمودہ بات ہے آپ جب ساس سسر کا دل جیت لیں گی آپکو کوئی بندہ پھر تنگ کرنے کی جرآت نہیں کرسکے گا گھر میں دو مضبوط ووٹ آپکے حامی ہوں گے تو شوہر جتنا مرضی رشتہ داروں کے پریشر کی وجہ سے آپ سے دور ہوا گا پلٹ کر آپکی طرف آجائے گا پھر باقی لوگ بھی آپکی خوبیوں کی تعریفیں کرتے نظر آئیں گے جو چراغ سے بھی آپکو خود میں نظر نہیں آئیں گی ۔۔
    اگر آپکا شوہر مالی طور پر کمزور ہے آپ اس کا ہاتھ بٹانے کے لیے کوئی جاب کرلیں یا پھر گھر میں ایسے کام لینے شروع کردیں جن سے آمدن ہونی شروع ہوجائے اگر آپ پڑھی لکھی ہیں لیکن شوہر نہیں چاہتا آپ باہر جاکر کام کریں تو گھر میں اپنی تعلیم کے حساب سے لوگوں کوٹیوشن دینی شروع کردیں۔اگر آپ تعلیم یافتہ نہیں کوئی ہنر ہے آپکے ہاتھ میں تو اپنے ہاتھ کے ہنر سے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائیں یاد رکھیں مشکل وقت ٹھہرتا نہیں لیکن اپ کا مشکل وقت میں اپنے شوہر کا ساتھ دیا ہوا وہ کبھی نہیں بھولے گا اپ کا ہوکر رہ جائے گا کبھی آپ سے بےوفائی نہیں کرے گا ۔بس اپنی نیک نیتی سے اپنا مشن جاری رکھیں کامیابی اللہ سبحان تعالی دیں گے ان شاءاللہ پانچ وقت کا خود کو عادی بنالیں کوشش کریں با وضو ہوکر بسمہ اللہ پڑھ کر اپنے صاف ستھرے ہاتھوں سے اپنی فیملی کے لیے کھانا بنائیں وہ کھانا نہ صرف مزیداراور برکت والا ہوگا بلکہ وہ کھانا جب آپکی فیملی کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے دلوں میں آپکے لیے محبت پیار پیدا ہوگا اور ایک خاتون خانہ کے لیے یہ پیار محبت کسی اعزاز سے کم نہیں ہوگا ۔۔
    میرے لکھے ہوئے پچھلے آرٹیکل کے حوالے سے دل میں کچھ خلش سی ہے اس کی تصحیح کرنا چاہتی ہوں کہ شادی کے حوالے سے جو میں نے الفاظ لکھے تھے

    "لوگ کیا کہیں گے "کے خوف نے معاشرے میں جہاں اور بہت سی مشکلیں پیدا کی ہوئیں ہیں وہاں دوسری شادی کرنے کو کچھ لوگ جرم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم کردیا تو لوگ باتیں کریں گے ۔میں کہتی ہوں کرنے دیں باتیں جو آپ کے پیارے ہوں گے آپ کے مخلص ہوں گے وہ آپکو دوسری شادی سے کبھی منع نہیں کریں گے بلکہ اس نیک کام میں آپکی مدد کریں گے ایک شرعی رشتہ اپنانے میں آپکی مدد کریں گے۔۔یہ ان لوگوں کے لیے الفاظ لکھے تھے جن کی ایک شادی ٹوٹ گی ہے یا پھر ان کی بیوی فوت ہوگی ہے یا شوہر فوت ہوگیا ہے تو لوگوں کی باتوں کے ڈر سے وہ دوسری شادی کرنے سے ڈرتے ہیں ۔۔جبکہ نکاح کرنا سنت ہے ذندگی ایک انسان پر ختم نہیں ہوجاتی کہ جان کا روگ بناکر اپنی ذندگی ہی تیاگ دی جائے۔اگر اپ کی کسی وجہ سے شادی کامیاب نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذندگی کی خوشیوں کے دروازے خود پر بند کرلو یہ اللہ کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے ذندگی بہت خوبصورت ہے اس کا ایک ایک پل انجوائے کرنے کا ہر انسان کا حق ہے اور انجوائے کرنی بھی چاہئیے کون سا ہم نے روز روز دنیا میں آنا ہے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ذندگی بھرپور انجوائے بھی کرنی۔ چاہئیے۔۔!!!

  • تعلیمی انقلاب یا تعلیمی بحران؟ خودکشی کرنے والے پنجاب بورڈز کے دو سٹوڈنٹس کا معصومانہ سوال تحریر ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    پنجاب میں تعلیمی انقلاب نہیں تعلیمی بحران آنے کو تیار ہے، دو سٹوڈنٹس پنجاب بورڈز کی نااہلی کی وجہ سے ایک بہتر مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے آنکھیں بند کر گئے، ہزاروں اس سوچ میں ہیں کہ اگر بورڈ نے ہاتھ نہ پکڑا تو شائد وہ زندگی سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہوجائیں، اس ساری صورتحال میں بورڈ حکام خاموشی کی نیند سے بیدار ہونے کو تیار نہیں، اگر ہزار کوشش کے بعد بات کا موقع مل بھی جائے تو یہ کہ کر معاملہ ختم کیا جارہا ہے بورڈز کی جانب سے بہترین نتائج دینے کی کوشش کی گئی ہے لیکن چیکر کی جانب سے دئیے گئے مارکس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، اب کون نہیں جانتا کہ ان بورڈز میں چیکر کس طرح 18 روپے فی پیپر کی گیم میں زیادہ سے زیادہ پیسے بنانے کی ریس میں کس طرح اپنے ہاتھوں سے بچوں کے مستقل کو کچلتے ہوئے پیسہ بناتے ہیں اور اس بار تو 5 فیصد اضافی نمبرز کا فارمولہ، صرف تین سائنسی سبجیکٹس اور باقی فارمولہ کی بنیاد پر مارکس کی بے دریغ تقسیم یعنی بہتی گنگا میں بڑے بڑے تعلیمی اداروں کی خوب ڈبکیاں لگوائی گئیں، جس کو دیا گیا چھپڑ پھاڑ کر کہ ایک ہی سکول ایک ہی کلاس کے 30 بچوں کے 1100 میں سے 1100 آگئے لیکن دوسری جانب میٹرک میں 90 فیصد سے زائد نمبرز لینے والوں کو جیسے کہیں کا نہ چھوڑا گیا کوئی 40 فیصد کوئی 42 فیصد پر آگرا، اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ سال تو ضائع ہو ہی گیا لیکن جوا شروع کر دیا گیا یعنی آفر کچھ یوں دی گئی کہ اگر آپ کو بورڈ کی جانب سے دئیے گئے نمبرز پسند نہیں تو آپ ایک حلف نامہ جمع کروائیں اور بورڈ حکام کے نام درخواست دیں جس میں آپ یہ تحریر کریں کہ موجودہ نتائج غیر تسلی بخش ہونے کی وجہ سے میں یہ نتیجہ قبول نہیں کرنا چاہتا اس لیے اسے کینسل کرتے ہوئے مجھے دوبارہ نومبر میں ہونے والی حکومت کی خصوصی مہربانی کی بدولت سپیشل امتحانات میں بیٹھنے کا موقع دیا جائے یہاں تک سب بظاہر ٹھیک ہوتا ہے لیکن معاملہ کچھ یوں ہے کہ اگر آپ نومبر میں بھی بورڈ چیکرز کی نااہلی کا نشانہ بن گئے تو واپسی کا راستہ نہیں ہوگا، ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ کو آئندہ سال امپروومنٹ کا چانس ملے گا لیکن ممکنہ طور پر کتابیں بھی 12 ہونگی اور سلیبس بھی پورا۔۔۔ اب معاملہ یہ ہے کہ میٹرک میں 94 فیصد والوں کو جب 39 فیصد کی خبر ملی تو ان کی جانب سے جینے کی امید چھوڑ دی گئی باقی دوسری جانب ایسے خوش نصیبوں کی تعداد بھی تھوڑی نہیں جن کو میٹرک کے تھوڑے نمبرز کے باوجود انٹر میں ٹاپ پوزیشنز سے نواز دیا گیا، اب صورتحال کچھ یوں بن چکی کہ بظاہر خوش نظر آنے والے ٹاپرز بھی اندر سے پریشان ہیں ان کو لگتا ہے کہ اگر بورڈ کی جانب سے کوئی انکوائری ہو گئی تو خوشیاں واپس جانے کے امکانات ہیں، بورڈ حکام سے امید تھی کہ انٹر کے بعد میٹرک میں وہی کارنامے سرانجام دینے کا عمل دہرایا نہیں جائے گا لیکن میٹرک میں تو ریکارڈز ہی توڑ ڈالے گئے مارکس کی بندر بانٹ بالکل اسی طرز پر ہوئی یعنی ایک مخصوص سوچ کو نواز دیا گیا اور باقیوں کو کوڑیوں سے داموں بیچ دیا گیا، موجودہ صورتحال میں تبدیلی سرکار کے بلندوبانگ دعوے پھیکے پڑتے نظر آتے ہیں تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کرنے کی دعویدار بزدار سرکار اس ساری صورتحال میں بھنگ کے نشے میں چور دکھائی دیتی ہے مریم نواز کے فیصل آباد جلسے پر تبصرے کرنے کے لیے تمام حکومتی وزرا کی فوج تیاری کے ساتھ پریس کانفرنس، ٹاک شوز میں تقاریر جھاڑتی نظر آتی ہے سوشل میڈیا پر ہر دو منٹ بعد ایک نیا فلسفہ متعارف کرواتے ہوئے نیا بیان بھی داغ دیا جاتا ہے لیکن قوم کے مستقبل پر بات کرنے کو بظاہر کوئی تیار نظر نہیں آتا، حکومت کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر سڑکوں پر ہونگے لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وزیراعظم کو مدد کی اپیل کرتے نظر آئیں گے لاکھوں سٹوڈنٹس ایک بار پھر احتجاج، دھرنے اور پولیس کی لاٹھیوں کا نشانہ بنتے نظر آئیں گے اس کے بعد کہیں جاکر پنجاب حکومت شائد کوئی کمیشن کوئی انکوائری کمیٹی بنا دے اور ایک نیا لولی پاپ بچوں کو تھما دیا جائے، کیا ہی اچھا ہو کہ وزیراعظم عمران پنجاب میں اپنے وسیم اکرم یعنی بزدار صاحب کو معاملے کی انکوائری کی ہدایات کریں اور دونوں لاڈلے وزرائے تعلیم مراد راس اور ہمایوں سرفراز کی سربراہی میں ایک ٹیم بنا دی جائے جس میں ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران خصوصا ڈپٹی سیکرٹری بورڈز اور پی بی سی سی کے دیگر عہدیداروں کو حصہ بنا کر ایک انکوائری کر لی جائے جس میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا یہ نہ ہوا تو بورڈز کے ان نتائج کے اثرات دورس ہونگے اور اثرات صرف کم مارکس والے بچوں کی نہیں فل مارکس والے بچوں کی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہونگے اور سب سے بڑھ کر پنجاب بورڈز کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوگی اب فیصلہ حکومت کے ہاتھوں میں ہے

  • ایک بوند زندگی  تحریر : سید وسیم

    twitter / @S_paswal 
     

    وہ شخص سنسان صحرا میں پیاس کی شدت سے نڈھال بیٹھا کسی معجزے کا انتظار کر رہا تھا ۔ گرمیوں کی تیز دھوپ میں صحرا کے میدان میں پانی کی تلاش ۔ یہ تو ایسا ہی تھا کہ کسی مردے کو جگانا ۔ 

    ‏پانی قدرت کی ایک بہترین نعمت ہے جو فقط انسانوں کے لئے نہیں بلکہ جانوروں کے لئے بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے ۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں ۔ کائنات کی تکمیل سے لے کر انسان کی تشکیل تک پانی ایک ایسا عنصر ہے جسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن جب بھی انسان کسی شے کا بے دریغ استعمال کرتا ہے تو قدرت کو یہ چیز پسند نہیں آتی ۔ اب غلط استعمال کی وجہ سے پانی کی قلت کے خطرات منڈلا رہے ہیں ۔ 

    ‏لفظ پانی دراصل سنسکرت سے ماخوذ ہے۔ انگریزی میں’ واٹر’، فارسی میں’ آب’ اور عربی میں’ ماء’ کہاجاتا ہے۔ ایک تحقیق کےمطابق زمین کا 70.9 حصہ پانی سے گھرا ہوا ہے۔ ارسطونے اس کائنات کو آگ ، مٹی ہوا اور پانی کا مجموعہ قراردیا ہے ۔کائنات کی تشکیل میں پانی کا اہم حصہ ہے ۔

    ‏پانی کا مسئلہ نیا نہیں یہ مسئلہ تو شروع سے چلا آ رہا ہے کبھی اسی پانی کے چشمے پھوٹے تو کبھی اس کے کنوؤیں غریبوں میں بانٹ دئیے گئے ۔ اسی طرح یہ مسئلہ پاک و ہند کا بھئ ہے ۔ فقط یہی نہیں یہ مسئلہ تو پوری دنیا کا ہے شاید ۔ کیونکہ دریائے نیل  ترکی مصر اور دیگر ممالک میں مسائل کا سبب ہے ۔ یہ بات بھی ممکن ہے کہ تیسری جنگ عظیم کی وجہ پانی ہو۔ اس کے علاوہ زیر زمین پانی میں کمی زندگی کیلئے ایک خطرہ ہے ۔ پانی کی قلت اوراس سے متعلق اگاہی کیلئے ہر سال 22 مارچ کو منایا جاتا ہے اور اس مہم کا آغاز 1993 میں ہوا۔  22 مارچ یوم آب کہلاتا ہے ۔ اور اس دن پانی کو بچانے اور اس کے تحفظ پہ آگاہی دی جاتی ہے تدریسی اداروں میں سیمینار اور ورک شاپس منعقد کی جاتی ہیں ۔ 

    ‏اسلامی نقطہ نظر سے انسان کی پیدائش کو پانی سے جوڑا گیا ۔ انسان کی تکمیل پانی اور مٹی سے ہوئی ۔ اللہ تعالی نے بیشتر مقامات پہ انسان کی پیدائش کو پانی کے ننھے قطرے سے جوڑا ۔ لیکن یہ پانی وہ نہیں جو ہمارے ادر گرد موجود ہے یہ وہ خاص قطرہ ہے جسے مادہ منویہ کہا جاتا ہے ۔ پھر انسان یہی غور کر لے کہ اس کی پیدائش کس چیز سے ہوئی۔ ایک اُچھلنے والے پانی سے اس کی پیدائش ہوئی جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتاہے۔ ( الطارق 7,8) 

    ‏”پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی سے چلائی” 

    ‏(السجدہ آیت نمبر 8) 

    ‏صرف یہی نہیں قران کریم کی گیا رہ آیات ایسی ہیں جن میں لفظ ماء کو انسان کی پیدائش سے جوڑا گیا ۔ اسکے علاوہ دین میں وضو ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے پانی بہت ضروری ہے مگر کیونکہ ہمارا دین ہمیں ہر معاملے میں میانہ روی کا درس دیتے ہوئے اسراف اور بخل سے بچنے کا حکم دیتا ہے اس لئے وضو کرتے ہوئے بھی پانی کو ضائع کرنے سے منع فرماتے ہوئے میانہ روی کا درس دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہاں زندگی کے تمام پہلو پہ روشنی ڈالی وہی ہر معاملے میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کا درس دیا ۔ اسلامی نقطہ نظر میں پانی کو طاہر یا امطہر کہا گیا اور اسے طہارت اور پاکیزگی سے جوڑا گیا ۔ پانی ایک ایسا عنصر ہے جس سے ہم پاکی حاصل کرتے ہیں ۔ یعنی ایسا پانی جو بے رنگ اور بدبو سے پاک ہو اسے پاک پانی کہا گیا اور اس سے طہارت کو جوڑا گیا ۔ 

    ‏آج ہمارے لئے ایک غوروفکر اور تشویش ناک کام یہ ہے کہ ہم ہر جگہ ہی اسراف کی زندہ مثال بنے بیٹھے ہیں ۔ آج گھر سے لے کر عبادت گاہ تک فیکٹری سے لے کر کارخانے تک ہر جگہ پانی کا ضیاء ہو رہا ہے ۔ پانی کا بے دریغ استعمال ہمیں اور ہماری زندگی کو ایک اور مقام پہ لے جائے گا ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس پہ بہت غوروفکر کی کی ضرورت ہے ۔ پانی کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے بہت سی کتابیں لکھی جا چکی جن میں پانی، ایک خنجر پانی میں، بہاؤ، اور پانی پر نشان وغیرہ شامل ہیں ۔ عالمی سطح پہ ماحولیات سے متعلق بہت کام ہورہا ہے جس میں گرین انیشیٹو اور گرین ڈپلومیسی بھی سر فہرست ہیں ۔ جس میں پانی کی آلودگی سے لے کر پانی کے ضیاء پہ آگاہی فراہم کی جاتی ہے ۔ عالمی سطح پہ ابھی مزید کام ہونے کی ضرورت ہے ابھی اس معاملے میں عالمی اداروں کو ساتھ ملُکر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ تدریس گاہوں میں اس پہ بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں آگاہی پھیلائیں اس سلسلے میں تقاریب مرتب کی جائیں ۔ اور آگاہی مہم کی سب سے زیادہ ضرورت دیہی علاقوں میں ہے کیونکہ وہاں لوگ تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ان چیزوں سے بے خبر ہیں ۔ پانی کا مسئلہ زندگی سے جڑا ہواہے۔ قرآن سے منسلک ہے ۔ حدیثوں میں اس کے متعلق احکامات ہیں ۔ کیوں کہ پانی وہ دھوری ہے جس کے ارد گرد ہماری زندگی کی چکی گھوم رہی ہے۔ تو آئیں ایک بوندہ زندگی کی اگلی نسل کیلئے بھی بچا کر رکھیں اور پانی جیسی نعمت کی قدر کریں ۔

  • چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟   تحریر: حماد خان

    چین کیسے معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا؟ تحریر: حماد خان

    جب چین کو آزادی ملی تو یہ ایشیا کے غریب ترین ملکوں میں سے ایک تھا۔بہت سے یورپی اور مغربی ممالک اس وقت چین کو ایک ملک بھی نہیں سمجھتے تھے. لیکن اب پچھلے ستر سالوں میں چین دولت اور فوج دونوں کے لحاظ سے ایک عالمی سپر پاور بن کر ابھرا ہے. چین اس مختصر وقت میں یہ کیسے کر پایا۔ آئیے اس مضمون میں دیکھیں.

    1987 میں چین کی فی کس جی ڈی پی 155 ڈالر تھی جو 2014 میں بڑھ کر 7590 ڈالر ہو گئی۔

    چینی معیشت پر ایک نظر, 

    چین دنیا کے 80 فیصد ایئر کنڈیشنر ، 70 فیصد موبائل فون ، 60 فیصد جوتے ، 74 فیصد سولر سیل ، 60 فیصد سیمنٹ ، 45 فیصد جہاز اور 50 فیصد سٹیل تیار کرتا ہے۔

    23.25 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ ، چینی معیشت دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر ابھری ہے۔ 2.2 ٹریلین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ ، چینی معیشت امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا نمبر ایک برآمد کنندہ بن گئی. 

    چین اپنی زمین پر 60 فیصد برانڈڈ لگژری سامان تیار کرتا ہے ، اس طرح اس تصور کو مسترد کرتا ہے کہ وہ صرف سستا سامان تیار کرتا ہے۔

    بڑے پیمانے پر پیداوار اور ڈمپنگ۔

    چینی معاشی اصلاحات نے ان کی پیداوار کو اتنے بڑے پیمانے پر بڑھانے میں مدد کی ہے کہ اس کی پیداواری لاگت بہت کم ہو گئی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر پیداوار کا گھر بن گیا ہے۔چینی صنعت کار اپنے وسائل اور توانائی کو جدت میں ضائع نہیں کرتے۔

    اس کے بجائے ، وہ ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی کاپی کرتے ہیں اور اپنی مصنوعات خود بنانا شروع کردیتے ہیں۔

    یہ ان کے اخراجات اور وسائل کو جدت ، R&D ، اور IPR پر بچاتا ہے۔چینی لیبر انتہائی پیداواری ہے. چینی حکومت نے صنعتوں کے ساتھ مل کر لیبر فورس کی مہارت کی ترقی پر کام کیا۔

    اس کے نتیجے میں چینی مزدوروں کی پیداوار ہندوستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

    اس کے برعکس ، ہندوستان میں ، ہنر کی ترقی اتنی مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کی گئی ہے۔ نتیجے کے طور پر ، زیادہ سے زیادہ لیبر فورس یا تو غیر پیداواری یا کم پیداواری ہے۔

    ہندوستانی مزدور ایک گھنٹے میں 10 موبائل بناتا ہے ، جبکہ چینی مزدور ایک گھنٹے میں 50 موبائل بناتا ہے. گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ، چین دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کے لیے پہلی پسند بن گیا ہے۔

    اس کے برعکس ، بھارت نے ابھی مینوفیکچرنگ کلسٹر قائم کرنا شروع کیا ہے جس میں تجربہ کار ہنر مند مزدور پیدا کرنے میں وقت لگے گا ، جبکہ یہ چین کے ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

    سیاسی استحکام مینوفیکچرنگ کی ایک مقبول منزل کے طور پر چین کے ابھرنے کی بنیادی وجہ ہے۔

    چین اپنے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بھارت کے مقابلے میں عالمی شراکت دار کے لیے زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ہندوستان میں ، بیوروکریٹک ریڈ ٹیپزم کی وجہ سے ، کاروبار شروع کرنے کے لیے کلیئرنس حاصل کرنے میں زیادہ وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھارت آنے سے گریزاں ہیں. چین معاشی سپر پاور بننے کے پیچھے سب سے اہم عنصر اس کے تعلیمی نظام کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    چین نے تعلیم کو مزید عالمی اور عملی بنا کر بڑی اصلاحات لائی ہیں۔

    دوسری طرف ، ہندوستانی تعلیمی نظام اب بھی اس کے گرد گھوم رہا ہے جسے برطانوی میراث کہا جاتا ہے۔

    اس کے نتیجے میں ، چین میں ہندوستان کے مقابلے میں شرح خواندگی زیادہ ہے اور وہ ہندوستان کے مقابلے میں ہر سال گریجویٹس کی زیادہ تعداد پیدا کرتا ہے۔

    . صنعتی نیٹ ورک کلسٹرنگ۔

    چین نے مختلف مصنوعات کی تیاری کے لیے صنعتی کلسٹروں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے۔

    انہوں نے سپلائی چین شہروں اور کلسٹروں کو ایک ہی جگہ پر پروڈکٹ تیار کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔

    مثال کے طور پر

    – موبائل فون بنانے کے لیے ، انہوں نے کلسٹر تیار کیے ہیں جہاں موبائل فون کے ہر حصے کو ایک ہی جگہ پر تیار کیا جاتا ہے۔

    بجلی کی لاگت

    چین میں ، بجلی بہت کم قیمت پر چوبیس گھنٹے دستیاب ہے ، جبکہ انڈیا میں صنعتی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے جس سے ان کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے.

    ایک نتیجے کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چینی حکومت کے بہتر انتظام کی وجہ سے ، چینی رہنماؤں کی بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے چین خطے میں معاشی اور فوجی سپر پاور بن گیا۔ پاکستانی رہنماؤں کو اپنے چینی ہم منصبوں سے کچھ سبق لینا چاہیے تاکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں اسی طرح کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے.