Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا تحریر:۔ نعیم الزمان

    کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان اور بھارت یا انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے کرکٹ میچز کو بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ نہ صرف دیکھتے ہیں۔ بلکے بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں کہ کب ان ٹیموں کے درمیان سیریز یا کسی بھی ایونٹس کے  میچز ہوں گے۔ خاص کر پاک بھارت کرکٹ میچ کا دونوں ہی ملکوں کی عوام کو بڑی بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات کافی کشیدہ رہتے ہیں۔ جس کے باعث دونوں ممالک کے مابین کرکٹ سیریز کافی عرصہ سے نہیں ہو پا رہی۔ اس وجہ سے بھی دونوں اطراف کی عوام کو بڑی بے چینی سے ورلڈ کپ یا کسی بھی آئی سی سی ایونٹس کا انتظار رہتا ہے جہاں دو روایتی حریف آپس میں مد مقابل ہوں۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں چند دن باقی ہیں پاکستان کا پہلا مقابلہ24 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت سےہونا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ شائقین کرکٹ میں بےقراری بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی ٹیم کو خوب ڈیفنڈ کرتا نظر آ رہا ہے۔ جب بھی ٹی وی توڑنے اور پٹاخے پھوڑنے کی بازگشت شروع ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ پاکستان اور انڈیا کے میچ سے قبل مزاحیہ میمز اور تشہیری مہمات کا آغاز ہو گیا ہے۔ کچھ میڈیا چینلز اس موقع کا  بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میچوں پر اشتہار بھی بنا چکے ہیں۔ جس میں سب سے سرفہرست ہے "موقع موقع” جو انڈین چینلز پر ہر آئی سی سی کے ایونٹس میں پاک بھارت کرکٹ میچ سے قبل چلایا جاتا ہے۔ ہر بار ایک نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ جسے انڈیا میں بڑی پذیرائی ملتی ہے۔اور پاکستانی عوام کا ردعمل کافی غصے والا ہوتا ہے۔ مگر کبھی کبھار یہی اشتہار انڈیا کے لیے شرمندگی کا باعث بھی بنے ہیں ۔ جیسے دسمبر 2012 میں انڈین چینلز پر ایک اشتہار نشر کیا جاتا تھا جس میں کہا جاتا تھا "پاکستان ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز کھیلنے آرہا ہے” تو اس اشتہار میں چند بھارتی کھلاڑی یہ کہتے ہوئے دیکھائی دیتے تھے "کہ آنے دو” ۔ جب اس سیریز کا آغاز ہوا تو انڈیا کو منہ کی کھانی پڑی اپنی ہی سر زمین پر اپنے کراؤڈ کے سامنے ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز میں پاکستان سے شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ پاکستانی باؤلرز نے  انڈیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کی ایک نہ چلنے دی۔ اور پاکستانی بیٹسمینوں نے بھی خوب جم کر انڈین باؤلرز کی دھولائی کی۔ 

     اس میں کو شک نہیں کہ آئی سی سی کے ایونٹس میں بھارت کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ مگر چمپیئن ٹرافی 2017 میں بھی یہی صورتحال تھی پہلے میچ میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اس کی بعد پاکستانی ٹیم نے بقیہ میچز میں  اچھا کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اور فائنل میں ایک بار پھر مقابلہ آیا روایتی حریف بھارت کے ساتھ۔ مگر اس بار بھارت کو تاریخ ساز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے یہ ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔ ٹیم کا وطن واپسی پر کراچی ائیرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بڑی تعداد میں شائقین کرکٹ اپنی ٹیم کا استقبال کرنے موجود تھے۔ کراچی ائیرپورٹ پر ہاتھ میں ٹرافی تھامے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے موقع موقع گا کر پاکستانی شائقین کے دل بھی جیت لیے تھے۔ مقابلے سے پہلے ہی لفظی مقابلے شروع ہو جاتےہیں جو کافی انٹرسٹڈ ہوتے ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی پاکستانی ٹیم کافی پر اعتماد لگ رہی ہے۔ مگر اس سے پہلے تو ورلڈکپ کی تاریخ میں پاکستان کو شکست کا سامنا رہا ہے۔ انشاء اللہ اس بار امید کر سکتے ہیں کہ پاکستان روایت کو توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا ۔ 

     یو اے ای کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے کافی سازگار رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان یو اے ای میں  بہت ساری اپنی ہوم سیریز کھیل چکا ہے۔  جس سے  کنڈیشنز  کی واقفیت پاکستان کے لیے پلس پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ تو اس بار بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ دل اور ٹی وی سرحد کے کس پار ٹوٹیں گے۔ اکثر اوقات پاکستان اور انڈیا کے میچز کے بعد سڑکوں اور چوکوں پر سرحد کی ایک طرف جیتنے والی ٹیم کے فینز جشن منا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ہارنے والی ٹیم کے شائقین ٹی وی توڑ کر غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ میری طرح ہر پاکستانی اس بار ٹیم پر کافی امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر پاکستانی کی یہی دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ خاص کر انڈیا سے۔ ۔ ۔

    Follow on Twitter@786Rajanaeem

  • انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    حصہ دوم:

    بلاگنگ بھی آن لائن پیسے کمانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔  ورڈپریس یا بلاگر کی
    مدد سے ایک ویب سائیٹ یا بلاگ بنائیں، اس پرعمدہ اور مفید مواد شائع کریں، پھر
    Monetization کے ذریعہ جیسا کہ گوگل ایڈسینس، پیسے کمانے کا آغاز کریں۔ اس کے
    لیےضروری ہے کہ آپ کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہو۔

    یوٹیوب اس وقت گوگل کے بعد سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائیٹ ہے اور
    یوٹیوب پر ایک لمحے میں سالوں کے برابرویڈیوز دیکھی اور اپلوڈ کی جارہی ہیں۔ آپ
     YouTube پر جائیں اور اپنا چینل بنا لیں۔ اور جب آپ کا چینل مونیٹایز ہونا
    شروعہوجائے تو ایڈسینس کے ذریعے پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں
     یوٹیوب چینل موجود ہیں۔ اگر آپ کیمرے کےسامنے آنے سے گھبراتے ہیں تو آپ
    ٹیوٹوریل ویڈیو بھی بنا سکتے ہیں۔

    اگر آپ کوئی کاروبار کر رہے ہیں تو آپ ایک عدد ویب سائٹ بنا کر آن لائن کاروبار
     کا بھی آغاز کر سکتے ہیں۔ آپ جو چیزیں دکان پربیچ رہے ہیں ان کو آن لائن بھی
    بیچ سکتے ہیں۔ shopify پر آپ اپنا آن لائن سٹور کھول سکتے ہیں۔

    اگر آپ کے پاس آن لائن کاروبار میں بیچنے کے لیے سرمایہ محدود ہے تو آپ ڈراپ
    شپنگ بھی کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ اپنی ویبسائٹ پر دوسری سائٹس سے لے کر تصویریں
     لگاتے ہیں اور آرڈر ملنے پر اسی ویب سائٹ سے وہ پراڈکٹ لے لیتے ہیں۔ ڈراپشپنگ
    کے لیے علی بابا سب سے مشہور سائٹ ہے۔

    آپ ایک ایسی ویب سائٹ بھی بنا سکتے ہیں۔ جس پر مختلف کورسز بیچے جاسکتے ہیں۔ اس
     وقت یوٹیوب اور ورڈپریس پر بہت سےلوگ آن لائن کورسز کروا کر خوب پیسے کما رہے
    ہیں۔

    ہماری نوجوان نسل سارا دن سوشل میڈیا پر اپنا وقت برباد کرتی رہتی ہے۔ اگر وہ
    اپنے وقت کو ضائع کرنے کی بجائے اچھے طریقےسے استعمال کریں تو سوشل میڈیا کے
    ذریعے بھی پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ فیس بک پر اپنا پیج بنا کر اس پر بہترین
    مواد شائع کریں۔جب آپ کے فالوورز کی تعداد بڑھ جائے گی تو آپ کو اشتہارات بھی
    ملنا شروع ہو جائیں گے۔

    فیس بک پر بہت سے ایسے فری لانسنگ گروپ ہیں جہاں مختلف لوگ وقتا فوقتا مختلف
    جابز کے لیے پوسٹ لگاتے رہتے ہیں۔آپ گرافک ڈیزائنر ہیں یا ٹائپنگ کے ماہر یا
    لکھنا جانتے ہیں، اپنی مہارت کے مطابق پوسٹ پر اپلائی کر کے پیسے کما سکتے ہیں۔

    ٹویٹر کے ذریعے بھی آپ اپنے کاروبار کی تشہیر کر سکتے ہیں۔ صارفین کو نئی
    پراڈکٹس اور آفر سےمتعلق ٹویٹ کر کے اپنے کاروبار کووسعت دے سکتے ہیں۔

    اسکے علاوہ آن لائن فارم بھرنا، ویڈیو ایڈیٹنگ، سکرپٹ رائٹنگ،  White board
    animation ، ایڈ پوسٹنگ،  ڈیٹا انٹری غرض آن لائنپیسے کمانے کے بیش بہا طریقے
    ہیں۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی کام میں مہارت نہیں رکھتے تو پریشانی کی کوئی
    بات نہیں۔انٹرنیٹ پر بہت سے لوگ مفت یا معمولی رقم کے عوض یہ تمام کورسز کروا
    رہے ہیں۔ آپ آج سے ہی اپنی دلچسپی کا کوئی بھی ہنرسیکھنے کا آغاز کریں۔ ایسے
    بہت سے پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں سے لاکھوں افراد سیکھ کر نہ صرف برسر روزگار
    ہو گئے ہیں بلکہ اپنیذاتی کمپنیاں بنا کر دوسرے لوگوں کو بھی روزگار فراہم کر
    رہے ہیں۔

    ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی کام کا آغاز کرنے سے پہلے اس میں
    مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ آپ وقتیطور پر کچھ کام حاصل کرنے میں تو کامیاب
     ہو جائیں گے، لیکن طویل مدت تک آپ بغیر مہارت کے پیسے نہیں کما سکیں گے۔
    انٹرنیٹ پر پیسے کمانا بھی کہیں نوکری کرنے کی طرح ہے۔ جس طرح نوکری میں ابتدا
    میں آپ کو کم معاوضے کے عوض کام کرنا پڑتاہے لیکن اگر آپ کے اندر صلاحیت ہو تو
    آپ پر ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر بھی ابتدا میں
    کامحاصل کرنے اور خود کو منوانے کے لیے بہت تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ ایک وقت تھا
    کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعےپیسے کمانے کا لالچ دے کر لوگ
    دوسروں سے پیسے بٹورتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ  جیسے دوسرے کاموں میں دھوکے کا
    امکان ہوتاہے اسی طرح یہاں  بھی مختلف قسم کے دھوکے باز موجود ہیں۔ لیکن وقت
    اور تجربے سے انسان سیکھ جاتا ہے کہ ایسے دھوکےبازوں اور فراڈ لوگوں سے کیسے
    بچا جا سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ فری لانسنگ کی دنیا میں پاکستان پانچویں
     نمبر پر ہے۔ہماری نوجوان نسل تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اب ہماری ذمہ
    داری ہے کہ اس کے ذریعے نہ صرف پیسے کمائیں بلکہبہترین کارکردگی دکھا کر دنیا
    بھر میں پاکستان کا نام بھی روشن کریں۔

    ختم شد

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political

    Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے، تحریر:نوید شیخ

    شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے، تحریر:نوید شیخ

    شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے

    اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ شاہ رخ خان بی جے پی کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور مسلمان ہونے کی سزابھگت رہے ہیں؟

    ۔ کیونکہ جس طرح ان کے بیٹے آریان خان کی ضمانتیں کی درخواستیں بار بار مسترد کی جا چکی ہیں ۔ اس سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ پھر جو ان کے بیٹے کو لے کر شاہ رخ خان کی
    character assisnation کی جارہی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ جو شاہ رخ خان کے نام کو بھارت میں گالی بنایا جا رہا ہے وہ بھی پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ آگے چل کر میں آپکو تفصیل سے بتاؤں گا کہ کیسے بھارتی حکومت ، ادارے اور میڈیا جھوٹی خبروں کو شاہ رخ خان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔ اور ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے ۔ ۔ حقیقت میں اس کیس نے نئے الزامات کو جنم دیا ہے کہ بھارتی حکومت ملک کے سب سے بڑے مسلمان اداکار کے بیٹے کو صرف ان کے مذہب کی وجہ سے ہراساں کر رہی ہے۔ ۔ یاد رکھیں جب آپ کی ایک نہ چلے ۔
    ۔ جب آپ کا روپیہ پیسہ ، اثر رسوخ اور تعلقات بھی کام نہ آرہے ہوں اور سب سے بڑھ کر جب آپکو انصاف نہ ملنے کی امید ہو ۔ تو پھر لوگ دعاوں کے ذریعے منتوں مرادوں کی تکمیل کی جانب راغب ہوتے ہیں اب ایسا ہی شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان نے بیٹے آریان خان کی رہائی کے لیے منّت مان لی ہے۔۔ اسوقت شاہ رخ خان اور ان کی پوری فیملی آریان خان کی گرفتار ہونے کی وجہ سے بہت تکلیف دہ اور مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ ساتھ ہی جو سلوک اس وقت بھارت میں ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے شاہ رخ خان اور فیملی شدید مایوس ہیں ۔

    ۔ جہاں شاہ رخ خان بیٹے کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تو گوری خان بیٹے کی رہائی کے لیے مسلسل دعائیں کر رہی ہیں۔۔ اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ آریان خان کو جیل میں قیدی نمبر مل گیا ہے ۔ اب انہیں قیدی نمبر 956 کے نام سے پکارا جائے گا۔ مجھے تو یہ بھی ایک سازش اور پلان کا حصہ دیکھائی دیتا ہے کہ اریان کو اب اس نمبر 956کے ذریعے پکارا جائے اور یاد رکھا جائے ۔ ۔ جیل کے اندرونی ذرائع کے مطابق آریان خان جیل کا عام کھانا کھارہے ہیں لیکن اسے پسند نہیں کررہے ساتھ ہی انہیں باہرکا کھانا کھانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔۔ اس کے علاوہ جیل انتظامیہ کو آریان کی فیملی کی جانب سے ساڑھے چار ہزار روپے کا منی آرڈر موصول ہوا ہے جس پر 11 اکتوبر کی تاریخ درج ہے۔ یہ پیسے آریان کے کینٹین کے اخراجات کے لیے ہیں۔ جیل قوانین کے مطابق ایک قیدی کے لیے ایک ماہ میں صرف ساڑھے چار ہزار روپے کے منی آرڈر کی ہی اجازت ہے۔۔ دیکھا جائے تو آریان خان کی جیل میں زندگی انتہائی کربناک ہے کیونکہ شہزادوں کی طرح اپنے گھر میں رہنے والے آریان خان کو باتھ روم کے استعمال میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ۔ کیونکہ ممبئی کی سینٹرل جیل میں وہی پانی دستیاب ہے جو باتھ روم کے نلکوں میں آتا ہے۔ جیل کی دیواریں انتہائی گندی ہیں جن میں سے ہر وقت بو آتی رہتی ہے۔ جیل کے باتھ روم کے لاک بھی نہیں ہیں جب کہ باتھ روم کے باہر بھی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں جس کے باعث اپنی باری آنے پر ہی کوئی بھی ملزم اندر جاتا ہے۔۔ جیل میں چوہوں اور چھوٹے موٹے کیڑوں کی بھرمار ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس کو تنگ کرنے کے لیے بھی رات کو ایسے چیزوں کو چھوڑا جاتا ہے اور ان آوازوں کا استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ مسلسل ایک ڈر کی کیفیت میں رہے ۔ اس وجہ سے جیل اریان خان کے لیے ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے ۔ ۔ اس کیس میں اب تک 18 مرد اوردو خواتین سمیت بیس افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ تمام گرفتار ملزمان کو دیگر قیدیوں سے الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے۔ پر آپ بھارتی میڈیا کی دونمبری چیک کریں آپ نے ابھی تک ان 18 میں صرف اریان خان کے باپ شاہ رخ خان کا نام ہی سنا ہوگا باقی کس کا کون باپ ہے ۔ خاندان کیا کرتا ہے ۔ اس بارے بھارتی میڈیا مکمل خاموش ہے ۔ کیونکہ ان کا ایجنڈہ صرف اور صرف شاہ رخ خان کو ٹارگٹ کرنا ہے ۔ پھر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے متضاد اور مضحکہ خیز خبریں پھیلائی جارہی ہیں ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ شاہ رخ خان اور اسکے بیٹے کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں عدالت میں تو ثابت نہیں ہوسکتیں ۔ مگر اس موقع پر ایسی من پسند خبریں چلوا کر نارکوٹکس کنٹرول بیورو شاہ رخ خان کے امیج کو وہ نقصان پہنچا رہے ہیں جس کا ازالہ شاید کبھی نہ ہوسکے ۔

    ۔ سب سے پہلے تو متواتر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے یہ خبر چلوائی جا رہی ہے کہ آریان خان نشے کا باقاعدہ عادی ہے۔ بالکل کہا جا رہا ہے کہ وہ سرٹیفائیڈ نشی ہے ۔ میڈیا پر بھونڈے قسم کے گانے لگا کر اس پر مختلف رپورٹس کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر بیچا جا رہا ہے ۔۔ پھر دوسرا پراپیگنڈہ یہ کیا جا رہا ہے کہ آریان خان منشیات کی غیرقانونی اسمگلنگ میں ملوث ہیں یہاں تک اس کے اس کا لنک دؤاد ابراہیم تک سے جوڑا جا رہا ہے ۔ اور اس کو انوسٹی گیٹیو اسٹوریز کا نام دیا جا رہا ہے ۔ ۔ بغیر ثبوت کے آریان کی واٹس ایپ چیٹ کا بھی خوب ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ اس میں زیادہ مقدار میں منشیات کا انکشاف ہوا تھا جو کہ صرف ایک شخص کے استعمال کے لیے نہیں ہوسکتی۔ پھر بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آریان کی جانب سے این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر واکھنڈے سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ایسا انسان بن کر دکھائیں گے کہ ایک دن آپ مجھ پر فخر کریں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ آریان نے دوران معاشی اور سماجی طور پر کمزور افراد کی مدد کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے اور وہ غلط راستے پر اب کبھی نہیں جائیں گے۔ یوں اس طرح کا بیان اریان خان سے منسوب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جیسے اریان خان نے اعتراف جرم کر لیا ہو کہ وہ نشہ بھی کرتے تھے ۔ خریدتے بھی تھے ۔ بیچتے بھی تھے ۔ پر یہ منجن بھارتی میڈیا پر عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے بیچا جا رہا ہے ۔ جب کہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے این سی بی کی پاس نہ تو ثبوت ہیں نہ کوئی گواہ ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں اریان کو حراست میں رکھنے کے لیے بھی این سی بی کی پاس کوئی ٹھوس توجیح نہیں ۔ پر کیونکہ اس وقت بھارت میں ہندو راج ہے تو کسی بھی مسلمان کو جیل میں ڈالنے کے لیے نہ تو کسی قانون کی ضرورت ہے نہ ہی کسی ثبوت کی ۔

    ۔ اب ان سب اور تمام کہانیوں کے پیچھے کسی کو شک ہے کہ این سی بی ، بی جے پی اور آرایس ایس کا ہاتھ کارفرما نہیں تو پھر یا تو وہ اندھا ہے یا پھر ہندوتوا کا پجاری ۔ ان کا اصل مشن یہ ہے کہ کسی طرح شاہ رخ خان سے وہ درجہ واپس لیا جائے کہ وہ اب بھارت کا مزید سپرسٹار نہ رہے ۔ اس کو اتنا گندہ کیا جائے کہ اس کا نام ایک گالی بن جائے ۔ اس تمام کھیل میں جہاں بھارتی حکومت اور ادارے ملوث ہیں ۔ مودی کا گودی میڈیا بھی اس ایجنڈے پر لگا ہوا ہے ۔ جو ہر طرح کا گند اور جھوٹ شاہ رخ اور اریان خان پر تھوپ رہا ہے ۔

    ۔ دراصل بھارت میں ہر برائی کی جڑ مودی ہے ۔ اور جب سے یہ وزیر اعظم بنا ہے ۔ کوئی امیر مسلمان ہو ، اثر رسوخ والا مسلمان ہو ، مشہور مسلمان ہو یا پھر کوئی عام غریب مسلمان ہو ۔ مودی کے شر سے محفوظ نہیں ۔ بھارت کو مسلمانوں کے لیے جہنم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ مودی جو کچھ کر رہا ہے اس میں بنیادی کردار آرایس ایس کی ٹریننگ کا ہی ہے کہ مودی نے بطور وزیراعلیٰ ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا اور نہ کبھی انکے قتل پر پشیمان ہوا اور نہ ہی کبھی مذمت کی۔الٹا مودی تو فخر کرتا ہے کہ اس کو butcher of gujaratکہا جاتا ہے ۔۔ مودی کا وزیراعظم بننے کے بعد بھی رویہ ویسا ہی ہے جو گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر تھا جو اسکے انتہا پسند ہونے کی واضح دلیل ہے۔ بھارتی ریاستی ادارے بالخصوص انصاف کا نظام بی جے پی حکومت میں عملی طور پر مفلوج ہے۔ کیونکہ ایک جانب جہاں اڈانی مودی حکومت کی برکت سے ہیروئن سمگلنگ کے کیس میں بھی بچ جاتا ہے ۔ تو شاہ رخ خان کا بیٹا کوئی جرم کیے بغیر بھی جیل میں گل سٹر رہا ہے ۔ آپ دیکھیں بھارت میں انتہاپسند ہندؤ روزانہ کسی نہ کسی مسلمان کو سٹرکوں پر گھیر کر نشان عبرت بنا رہے ہوتے ہیں ۔ پر آج تک نہ تو ان میں سے کوئی پکڑا گیا ہے نہ اسکو سزا ملی ہے ۔ الٹا آپ بھارتی جیلوں میں جا کر دیکھیں تو مسلمانوں سے یہ بھری پڑیں ہیں ۔ جنونی ہندو اس وقت مسلمانوں کے خون کے پیسے ہیں ۔ آسام والا معاملے میں دیکھ لیں ۔ اب تو مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کی آنکھیں بھی کھول گئی ہیں اور انھوں نے پورے مشرق وسطی میں بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے لیے مہم شروع کردی ہے۔

    ۔ کویت اسمبلی کے ارکین بھارتی حکام اور انتہا پسند گروہوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف مظالم کی مذمت کر رہے ہیں ۔ تو عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد الخیلی نے کہا ہے کہ بھارت میں انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بھارتی حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ بین الاقوامی برادری اس جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔۔ تو یہ ہے آج کا shinning indiaجہاں ہندو راج ہے ۔ ۔ جہاں کسی مسلمان ، سکھ ، مسیحی کا نہ مال محفوظ ہے نہ ہی جان ۔۔۔

  • "بارہ ربیع الاول اور دل گناہگار کی آرزوئیں” محمد عبداللہ

    "بارہ ربیع الاول اور دل گناہگار کی آرزوئیں” محمد عبداللہ

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں مبعوث ہونا ہمارے اوپر اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے جس کا تذکرہ اللہ نے قران مجید میں بھی ان الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے لقد من اللہ علی المومنین "لقد من الله على المؤمنين إذ بعث فيهم رسولا من أنفسهم يتلو عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة” اس بات پر جتنا بھی خوش ہوا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن اس خوشی کے منانے میں آپے سے باہر نہ ہوا جائے.
    جبکہ ہجری کیلنڈر کے مطابق آج کے دن نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخصت ہوجانا مدینہ میں قیامت ڈھا گیا تھا. ایک تابعی بیان کرتے ہیںمیں مدینہ پہنچا تو ہر طرف آہوں اور سسکیوں کا سماں تھا۔ میں نے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ لوگ کہنے لگے : ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رخصت ہو گئے ہیں!“
    ہمیں بھی اسی بات کا غم کہ اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ دیدار ہوا نہ آپ کی آواز سن سکے، نہ آپ کے گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر دین سیکھ سکے.نہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سالاری میں کفر پر چڑھائی کرسکے، نہ کسی سفر میں آپ کے ہمرکاب ہوپائے.
    مسجد نبوی کے کچے صحن پر اپنے محبوب پیغمبر کے ہمراہ رب العالمین کے سامنے سربسجود نہ ہوسکے. بدر و احد میں حنین و احزاب میں، مکہ و تبوک میں آپ کے جانثار بن کر آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے نہ لڑ سکے، اپنی جان آپ پر نہ وار سکے. ابوبکر و عمر اور عثمان علی رضی اللہ عنھم اجمعین کے ساتھی نہ بن سکے.
    لیکن ان تمام غموں کو جو بات دور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حوض کوثر پر آپ کے ہاتھوں سے جام پیئیں گے. روز محشر آپ کے جھنڈے تلے جنت میں جائیں گے. جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملاقاتیں ہونگی.
    جنت میں آپ کے سامنے دوزانو بیٹھ کر آپ سے ہجرت کے واقعات سنیں گے. بدر میں اللہ کی مدد کے احوال سنیں گے، احد میں آپ کی استقامت کی داستان سنیں گے. آپ سے آپ کی دعوتی زندگی کے انداز سنیں گے. آپ کا مسکرانا دیکھیں گے. آپ کی شفقت و محبت سے فیضیاب ہونگے. ان شاءاللہ
    لیکن ان سعادتوں کو حاصل کرنے کے لیے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنانا پڑے گا سجود و قیام کی کثرت سے جنت میں آپ کا ساتھ حاصل کرنا پڑے گا. بلکہ بقول شاعر
    گر جنت میں جانے کا ارادہ ہو تمامی کا
    گلے میں پہن لو کرتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا
    محمد عبداللہ

  • دیکھنا کہیں دل مردہ نہ ہو جائے”تحریر: انیس الرحمن باغی

    دیکھنا کہیں دل مردہ نہ ہو جائے”تحریر: انیس الرحمن باغی

    ماہ ربیع الاوّل کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف در و دیوار برقی قمقموں سے سجائے جا رہے ہیں۔۔۔

    مبارکبادیں دی جارہی ہیں۔۔۔

    اک نئی عید کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔۔۔

    عشق رسول کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں۔۔۔

    منبر و محراب سے سیرت النبیؐ بیان ہو رہی ہے۔۔۔

    گویا منظر کچھ بدلا بدلا سا ہے،

    لیکن بات کچھ اس طرح ہے کہ خوشی بجا کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اے بنی انسان تم پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہم نے تم کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیے۔۔۔

    محبت کے سب دعوے بجا۔۔۔

    سیرت میں زلف و رخسار مبارک کی باتیں بجا۔۔۔

    لیکن کیا سال میں کچھ دن یوں محبت کے خالی خولی اور ڈھونگ دعوئوں سے محبت کا حق ادا ہو جائیگا؟؟؟

    کیا گھروں پر چراغاں کرنے سے مردہ دل میں بھی کوئی ایمان کی حرارت جاگے گی؟؟؟

    کیا صرف صورت رسولؐ بیان کر کے سیرتِ رسولؐ کا حق ادا ہو جائیگا۔۔۔۔؟؟؟

    نہیں کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔!!!!

    کسی بھی صورت میں نہیں۔۔۔۔!!!

    کیونکہ۔۔۔

    کیا فائدہ اس چراغاں کا کہ دلِ مردہ میں حبِ نبی صلی الله عليه وسلم کی لو نہ جل سکے؟؟؟

    کیا فائدہ اس محبت کا جو زبان سے تو بیان ہو لیکن حلق سے نیچے نہ اترے ہمارے جسم و جاں اس عشق میں رنگے نہ جا سکیں؟؟؟

    کیا فائدہ اس سیرت النبیؐ کے بیان کرنے کا کہ جس میں نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی زلف کا ذکر ہو رخسار کا تو ذکر کر کے عوام سے داد وصول تو کروا لی جائے واہ واہ کے ڈونگرے برسا لیے جائیں لیکن نبی مکرمؐ کی سیرت سے حسن اخلاق اور دیگر اقوام کے ساتھ سلوک کو بیان نہ کیا جائے۔۔۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کو بیان نہ کیا جائے۔۔۔
    ان کے رحمتِ عالمؐ ہونے کے خصائص بیان نہ کیے جائیں۔۔۔

    ہاں سب کچھ بجا تم عشق و محبت میں سب کچھ کرو لیکن خدارا اس محبت کو در ودیوار اور ممبر و محراب، زبان و کلام، بیان و انداز سے نکال کر ذرا اس دل میں بھی جگہ دو پھر دیکھو کہ کیسے یہ محبت اپنا رنگ چڑھاتی ہے؟؟؟

    دیکھنا کہیں گھروں کو روشن کرتے رہو اور دلِ مردہ اسی طرح بجھا رہ جائے تو پھر یہ دعوے کسی کام کے نہیں رہیں گے ہمیں تو اس شعر کی عملی تفسیر بننا پڑیگا تب جا کر بات بنے گی۔۔۔

    مصور کھینچ وہ نقشہ جس میں یہ صفائی ہو
    ادھر ہو فرمانِ محمدؐ ادھر گردن جھکائی ہو

  • فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز; تحریر فرازرؤف

    فیک نیوز پوری دنیا کا ایک مسئلہ ہے جسے کاؤنٹر کرنے کے لئے ہر ملک میں کوڈ آف کنڈکٹ بنایا گیا ہے، ایسے عناصر جو جعلی خبریں چلاتے ہیں انہیں سخت سے سخت سزا اور جرمانے کیے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ سازشیں ایسی ہوتی ہیں جس میں فیک نیوز پھیلانے والے عناصر یا تو جعلی اکاؤنٹ کا سہارا لیتے ہیں یا پھر بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کرتے ہیں۔

     دنیا میں کچھ ایسے ملک بھی ہیں جو مس انفارمیشن پھیلا کر دوسرے ملکوں کو ڈی سٹیبلائزر کرتے ہیں۔ جس کی حالیہ مثال بھارت کا وہ نیٹ ورک تھا جو فیک ناموں سے بیرونی ملک بیٹھ کر ملک اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے تاکہ مغربی ممالک پاکستان پر پابندیاں لگا سکیں۔

    یورپی یونین میں فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن پر کام کرنے والے ایک تحقیقی ادارے ‘ای یو ڈس انفو لیب’ کی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر سال قوام متحدہ کا انسانی حقوق سے متعلق اجلاس میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور انسانی حقوق سے متعلق جھوٹی من گھڑت ڈس انفارمیشن پھیلائی جاتی ہے۔

    یورپی یونین کے اس تحقیقاتی ادارے کے مطابق ڈس انفارمیشن پھیلانے والے ان اداروں کے تانے بانے بھارت سے جا ملتے ہیں۔ یہ تحقیقات اتنی وسیع ہیں کہ اس میں غیر سرکاری تنظیمیں اور این جی اوز، بڑے پیمانے پر فیک نیوز پھیلانے والی ویب سائٹس اور ان سے جڑی شخصیات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔ 

    اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنا اور بھارت کا نیریٹیو کو بڑھاوا دینا تھا۔ اس نیٹ ورک کی سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ یہ ڈس انفارمیشن اتنے بڑے پیمانے پر پھیلا دیتے تھے کے بظاہر ایسا لگے گا جیسے جو موقف پیش کیا جا رہا ہے اس کو ایک بہت بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہے۔ اس مقصد کے لیے این جی اوز کا استعمال کیا گیا جن کا کام انسانوں کی خدمت نہیں بلک پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینا اور خطرناک پراپیگنڈے کو مغربی ممالک میں پذیرائی دینا تھا۔

    اس نیٹ ورک کا سب سے اہم مقصد کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا اور یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو جو تجارتی مراعات "جی ایس ٹی پلس” کی صورت میں دی جا رہی ہیں ان کو روکنا تھا۔

    پاکستان نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کے وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا کر سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی پر سخت نوٹس لے۔

    اسی طرح کا پراپوگنڈا اندرونی سطح پر بھی کیا جاتا ہے کچھ ایسے صحافی جن کا کام دن رات جھوٹی خبریں پھیلا کر ملک کے امیج کو بین الاقوامی سطح پر خراب کرنا ہے۔ اگر ایسے صحافیوں کو انہی کی پھیلائی ہوئی جھوٹی خبروں پر محاسبہ کیا جائے تو یہ آزاد صحافت کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ 

    عمران خان کی حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے فیک نیوز پر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا دن رات ایسی جھوٹی من گھڑت کہانیاں چھاپی گی جن کا سرے سے کوئی وجود نہیں تھا۔ ایسے ایسے صحافی جو ٹی وی پر بیٹھ کر پاکستان کی معیشت پر تبصرے کرتے دیکھا گیا جن کا معیشت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، کیا ہم اسے محض صحافتی بد دیانتی کہیں یا ملک دشمنی؟

    لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں صاف دامن صحافی بھی موجود ہیں جن کے قلم کی روشنی سے صحافت کا مان زندہ ہے۔ اور ایسے صحافیوں کو حکومت اور عوام کی طرف سے سہرایا بھی جاتا ہے۔ 

    ضرورت کی چیز کی ہے کہ اب ہمیں بھی پاکستان میں ایک ایسا صحافتی رول آف بزنس بنانا ہوگا جس سے جھوٹی خبریں پھیلانے اور ملکی اداروں کے خلاف زہر اگلنے والے ایسے عناصر جو بیرونی ایجنڈوں کے ساتھ کام کرتے ہیں انہیں سخت قانون سازی سے قانون کی گرفت میں لایا جا سکے، اب یہ نہیں ہو سکتا کہ آزاد صحافت کے نعروں کے پیچھے چھپ کر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔

    تمام صحافتی ادارے آیا وہ پرنٹ میڈیا سے ہے یا ڈیجیٹل میڈیا سے انہیں مل بیٹھ کر حکومت کے ساتھ مخلصانہ لائے عمل ترتیب دینا ہوگا جس سے آنے والی نسلیں صحافت کے اس مقدس فریضے کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • تصویریں تحریر۔محمد نسیم

    فیس بک پر کسی کی کیمرے سے کھنچی گئ تصویریں دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ادوارِ ماضی کے وہ لمحات یاد آگئے جب کیمرے کی ایجاد ہماری زندگی میں آئی. آج کی نسل جو اینڈرئڈ موبائل سے مستفید ہورہی ہے اور اس کے استعمال میں اتنی ماہر ہے کہ وقتِ مشکل ہم بڑوں کو بھی اس کی رہنمائی کی ضرورت پڑ جاتی ہے شائد اس دلچسپ تجربے سے ناآشنا ہے
    ہمارے معاشرے میں کیمرا عمومی طور پر 80 کی دہائی میں وارد ہوا اس سے پہلے یہ کام فوٹو سٹوڈیو تک محدود
    تھا
    اس کیمرے کا استعمال جب فوٹو گرافر سے عام شہری تک آیا تو دلچسپ واقعات رونما ہوتے تھے مثلاً کیمرے کو چلانے کے لئے کسی پڑھے لکھے فرد کی خدمات حاصل کی جاتیں جو اندھوں میں کانا راجہ ہوتا کیمرے میں فلم ڈلوانا بھی ایک احتیاط طلب کام تھا فوٹو گرافر تاکید کرتا تھا کہ فلم کو رشنی نہ لگنے پائے ورنہ تصویرں ضائع ہوجائیں گی. تصویرکشی کے بھی انوکھے واقعات ہوتے خاص طور پر خواتین اس کے لئے پہلے سےخاص زرق برق لباس اور بناؤسنگھار کا اہتمام کرتیں اور یہ مفروضہ بھی عام تھا کہ میلے کچیلے کپڑوں میں تصویر صاف آتی ہے فوٹو سیشن کے وقت انوکھے پوز بنائے جاتے 36 تصویروں کی فلم کا کیمرے سے دھیان لگایا جاتا کے کتنی تصویریں باقی رہ گئی ہیں یہ فوٹو سیشن مختلف مراحل میں مکمل ہوتا. ساتھ میں فوٹو گرافر کی تاکید ہوتی کہ زیادہ دیر کیمرے میں فلم رہنے سے فلم ضائع ہوجائے گی چناںچہ اس خوف کے باعث تصویریں اتروانے کاکام جلد از جلد کم و بیش ایک ہفتے سے بھی پہلے مکمل کرلیا جاتا
    تصویریں صاف کروانے کے لئے ایک مرتبہ پھر فوٹو گرافر سے رجوع کیاجاتا اور فی کس تصویر دلھوائی کا ریٹ طے ہوتا فوٹو گرافر ایک نیم تاریک کمرے میں جا کر کیمرے سے فلم نکال کر کیمرا واپس کرتا اور تصویروں کی دھلوائی کا رسید کی صورت میں وقت دیتااور اس مقررہ وقت کا بڑی بیتابی سے انتظار ہوتا اپنے آپ کو رنگیں تصویر میں دیکھنےکا ہرکسی کو شوق ہوتا
    تصویروں کی دھلوئی پر فوٹو گرفر البم فری میں دیتا جس کی خوشی الگ ہوتی 36 کی فلم میں چند تصویریں لازم ضائع بھی ہوتیں اپنی تصویروں کو دیکھنے کا بھی عجب تجربہ ہوتا تصویروں کو دیکھنےپر مختلف لطیفے دیکھنے کو ملتے مثلاً تصویر بنوانے والے نے خوبصورت پوز بنایا ہے لیکن فلش لائٹ کے باعث آنکھیں بند بعض اوقات اناڑی کیمرامین کسی کی تصویر لیتے وقت اس کے پاؤں یا فرش کو ہی فوکس کرگیا گروپ فوٹو کی صورت میں میلوں دور سے تصویر لی جاتی جس کو بائو سکوپ کے بغیر دیکھنا ممکن نہ ہوتا
    وہ خواتین و حضرات جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے کے وہ بہت حسین وجمیل ہیں اپنی تصویریں دیکھنے کے بعد سخت مایوسی کا شکار ہوتے ایک ایک تصویر کو بار بار دیکھا جاتا اور اس پر تبصرہ کیا جاتابعض تصاویر کو سیدھے اینگل سے دیکھنے کے کئے دیکھنے والے کو اپنی گردن کا اینگل الٹا کرنا پڑتاغرض آج کی انڈرئیڈ یوزرجنریشن اس پرلطف تجر بے کو کیا جانے

    @Naseem_Khera

  • انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    حصہ اول:

    گھر سے باہر ہوں یا خاندان کی کسی محفل میں ہر کوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے
    پریشان نظر آتا ہے۔ ٹیلیویژن دیکھو تو بجلی، گیس،اشیائے خورد و نوش اور پٹرول
    کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں سن سن کر پریشانی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ ایسے
    میں یہ باتسمجھ سے باہر ہے کہ محدود آمدنی میں کس طرح گزارا کیا جائے؟ خاص طور
    پر اعلی تعلیم کے خواہش مند طلبا کے لیے اپنی تعلیم کےاخراجات برداشت کرنا نا
    ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ان تمام مسائل کا کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا ہو گا۔
    جس طرح پڑھتے ہوئے اپنےسوالات کا جواب حاصل کرنا ہو،  یا سفر کے دوران راستہ
    معلوم کرنا ہو، اپنوں سے رابطہ کرنا ہو یا دنیا بھر کی معلومات حاصل کرنیہو،
    ایک بٹن دبا کر انٹرنیٹ کے ذریعے ان تمام مسائل کا حل نکل آتا ہے۔ اسی طرح
    مہنگائی اور بیروزگاری کا حل بھی انٹرنیٹمیں موجود ہے۔

    اگرچہ اولین طور پر انٹرنیٹ عسکری مقاصد کے لیے ایجاد کیا گیا، اور پھر سائنس
    دانوں کے مابین رابطے کے لیے اس کا استعمالوسیع پیمانے پر شروع ہو گیا۔ تین
    دہائی قبل جب اس کا استعمال عام ہونا شروع ہوا تو زیادہ تر لوگ اس کو معلومات
    حاصل کرنےاور دنیا بھر میں رابطہ قائم کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس وقت
    کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا کو عالمی گاؤں میںتبدیل کرنے والی یہ
    ٹیکنالوجی ایک عالمی منڈی بھی بن جائے گی۔ اور دنیا بھر کے لاکھوں کروڑوں لوگوں
     کا ایسا ذریعہ آمدن بنجائے گا جس سے لوگ ہر روز لاکھوں ڈالر کما سکیں گے۔ یہ
    مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے انٹرنیٹ نے دنیا کو عالمی گاؤںبنا کر نہ
    صرف لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک مارکیٹ بنا
    دیا ہے۔ آپ نے پالتو بلی خریدنی ہو یااپنی گاڑی بیچنی ہو انٹرنیٹ کے ذریعے یہ
    تمام کام ممکن ہیں۔ آپ اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر دنیا کی کسی بھی بڑی کمپنی میں
     ملازمت کرکے پیسے کما سکتے ہیں۔

    اگر انٹرنیٹ کو مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس پر پیسے کمانے کے اتنے
    طریقے ہیں جن کا شمار کرنا مشکل ہے۔ موجودہدور میں بھی اگر کوئی بے روزگاری کا
    رونا روتے نظر آتا ہے تو اس کی وجہ  کم علمی یا ذاتی کوتاہی ہو سکتی ہے۔ ورنہ
    انٹرنیٹ پر پیسےکمانے کے ان گنت طریقے اور مواقع موجود ہیں۔  کرونا کے بعد پوری
     دنیا میں جس قدر بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہےایسے میں ضروری ہے کہ
     مختلف طریقوں سے اپنی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔ چنانچہ انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے
     کمانا ایک بہترین طریقہہے جس میں آپ بغیر سرمائے یا بہت محدود سرمائے سے نہ
    صرف اپنی  آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ اگر آپ کے اندر جستجو اورمستقل
    مزاجی ہے تو آپ لاکھوں روپے ماہانہ بھی کما سکتے ہیں۔

    اگر آپ اچھے لکھاری ہیں، گرافک ڈیزائنر ہیں یا ویب ڈویلپمنٹ جانتے ہیں، سرچ
    انجن آپٹیمائزیشن یا سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا کام کرسکتے ہیں یا ویڈیو ایڈیٹنگ
    میں مہارت رکھتے ہیں تو فری لانسنگ بہترین ذریعہ معاش ہے۔ اس وقت پوری دنیا
    بشمول پاکستان میں بےشمار افراد فری لانسنگ کے ذریعے کمائی کر رہے ہیں۔

    فری لانسنگ کے آغاز میں آپ مختلف فری لانسنگ ویب سائٹس جیسے  فری لانسر،
    فائیور، پی پی ایچ ،اپ ورک وغیرہ  پر اپنا اکاؤنٹبنائیں۔ ان ویب سائیٹس پرمختلف
     اقسام کے پراجیکٹ شائع ہوتے رہتے ہیں، ان پر اپلائی کریں جب کام مل جائے تو
    خوب محنتاور دلجمعی سے کام کریں۔ آپ پر آہستہ آہستہ ترقی کے دروازے کھلنا شروع
    ہو جائیں گے۔

    اگر آپ کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے یا پھر آپ کے پاس کاروبار کرنے کے لیے
    ابتدائی سرمایہ موجود ہے اور ساتھ ہی ساتھمارکیٹنگ سے بھی دلچسپی ہے تو ایفی لی
     ایٹ مارکیٹنگ ایک بہترین آن لائن کاروبار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کاروباری ماڈل
    میں آپنےدوسروں کی  Physical یا Digital پراڈکسٹس بکوانے میں ان کی مدد کرنا
    ہوتی ہے۔ ہر پراڈکٹ جو آپ کے توسط سے بِکتی ہے اسپر آپ کو کمیشن دیا جاتا ہے۔
     Physical پراڈکٹس کے لیے Amazon بہترین ہے،  ڈیجیٹل پراڈکٹس کے لیے آپ اپنی
    ویب سائیٹکے موضوع کو مدِنظر رکھتے ہوئے ای بک، کورس، سروس کچھ بھی بیچ سکتے
    ہیں۔اس وقت پاکستان میں بے شمار افراد اس بزنسماڈل کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔

    جاری ہے ۔۔۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • میلاد النبی ﷺ اور ہماری خوشیاں   تحریر: ظفر ڈار

    میلاد النبی ﷺ اور ہماری خوشیاں  تحریر: ظفر ڈار

    جب دنیا کفر و ضلالت کے عمیق اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، معاشرتی پستی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی، خانہ کعبہ میں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی، بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور لوگ معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو جاتے تھے۔ الغرض ساری دنیا اخلاقی طور پر بے حالی کا شکار ہو چکی تھی۔ ایسے میں رحمت خداوندی جوش میں آئی اور ربیع الاول کے مہینے میں اس آفتاب کا ظہور ہوا جس نے دنیائے عرب تو کیا عالم آب و گل کو اپنی کرنوں سے منور کر دیا۔ خانہ کعبہ میں پڑے بت منہ کے بل گر پڑے، نوشیروان کے محل کے کنگرے سجدہ ریز ہو گئے اور کلیساؤں میں خوف کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ آمنہ بی بی کے گلشن میں بہار آ گئی اور حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کا اس دنیا میں آنا اللہ تعالٰی کا انسانیت پر سب سے بڑا احسان ہے۔ آپ کو نہ صرف اس دنیا بلکہ پوری کائنات اور سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔

    آپ کی ولادت باسعادت کے ساتھ ہی لوگوں نے معجزات دیکھنے شروع کر دیے اور عیسائی اور یہودی عالموں نے پیشن گوئی کر دی کہ نبی آخرالزماں تشریف لا چکے ہیں۔ آپ خود یتیم پیدا ہوئے لیکن دنیا بھر کے یتیموں کے لیے سایہ رحمت بنے۔ 25 برس کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی جو عمر میں آپ سے بڑی تھیں۔ 40 برس کی عمر میں جب نبوت کے اعلان کا حکم ہوا تو لوگ آپ کی شرافت اور ایمانداری کے گن گاتے تھے اور صادق و امین کے نام سے جانتے تھے۔

    اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو عرب قبائل کے سرداروں اور امراء نے شدید مخالفت کی اور صرف چند لوگ ہی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اسی شدید مخالفت کے باعث آپ ﷺ کو تکلیف پہنچانے اور جان سے مارنے کی کئی کوششیں ہوئیں جنہیں قدرت الہیہ نے ناکام کیا اور بالآخر آپ ﷺ کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ہوا۔

    مدینہ شریف میں آپ نے پہلے مسجد قبا اور بعد ازاں مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔ آپ ﷺ بہترین اخلاق کے مالک ہیں اور آپ کی حیات ظاہری کا ہر پہلو بے مثال ہے۔ آپ شوہر ہیں تو ایسے کہ بیوی کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بھی بٹاتے اور ازواج کے ساتھ حسن سلوک میں لا ثانی۔ آپ باپ ہیں تو اولاد کے ساتھ محبت کو نیا رخ دینے والے، صاحبزادی تشریف لاتیں تو کھڑے ہو کر استقبال کرتے اور اپنی چادر بچھا کے بٹھاتے۔ دوست ہیں تو ایسے کہ سب صحابی آپ کی خاطر اپنے اور اپنے ماں باپ کو فدا کرنے پر تیار رہتے۔ مہمان نواز ایسے کہ گھر میں جو دستیاب ہوتا، مہمان کے آگے رکھ دیتے۔ اللہ کی رضا میں راضی ہیں تو اس طرح کہ ساری کائنات کے مالک ہیں لیکن کچے گھر میں رہتے ہیں، نہ پہننے کا عالیشان لباس اور نہ کھانے کو پر تعیش کھانے۔ جو کی روٹی ، کھجور، شہد اور دودھ پر گزارا کرنے والے۔۔۔

    غریبوں،  یتیموں اور مساکین کی داد رسی میں کوئی مقابل نہیں۔ الغرض چونکہ آپ انسانیت کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے اس لئے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو ہمارے لئے مثال بنا دیا کہ ہم اسوہ حسنہ پر عمل کر کے کامیاب ہو جائیں۔

    آپ ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لئے عملی نمونہ ہے۔ راہ حق میں لوگوں سے پتھر کھائے، جسم اطہر لہو لہان ہو گیا، جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی آپ حکم دیں تو طائف کے پہاڑوں کو آپس میں ٹکرا کر تباہ کر دیں لیکن آپ نے بدعا بھی نہیں دی اور فرمایا میرے رب نے مجھے رحمت بنا کے بھیجا۔

    قیامت کے دن شفاعت کے والی ہیں لیکن اتنے عبادت گزار کہ اصحاب بھی وہاں تک نہ پہنچ سکیں، اور خوف خدا کا یہ عالم کہ تیز ہوا چلے تو بھی اللہ کے حضور سجدے میں گر جائیں اور رحم طلب کریں۔

    گفتگو ایسی کہ ایک ایک لفظ واضح اور صاف تاکہ ہر کسی کو سمجھ میں آ جائے، عفو و درگزر کا یہ عالم کہ جس نے چچا کا کلیجہ چبا لیا تھا اس کو بھی معاف کر دیا۔

    گویا انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں ہمارے لئے راہنمائی نہ فرمائی ہو۔

    اللہ رب العزت کے اتنے محبوب کہ اللہ اور اس کے فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں اور وہ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میری نبی پر درود وسلام بھیجو۔ کہیں رب فرماتا ہے کہ میرے محبوب کی اطاعت کرو، میرے حبیب کے سامنے اونچی آواز میں گفتگو بھی نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

    ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اللہ کے پیارے محبوب ﷺ کے امتی ہیں جن کی شفاعت کے انبیاء بھی سوالی ہیں۔ ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے تابع کرتے لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان تعلیمات کو یکسر بھلا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم سے اقوام عالم کی حاکمیت چھن گئی اور دنیا بھر میں رسوائی ہمارا مقدر بن گئی۔

    ربیع الاول کے اس مہینے میں ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ان تمام اعمال و افعال سے بچنے کی ضرورت ہے جو اسوہ حسنہ کے منافی ہیں۔ ولادت کا جشن منائیں، خوشیاں منائیں لیکن ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے سنت نبوی کا تقدس پامال ہوتا ہو۔

    تحریر: ظفر ڈار 

    ظفریات

    @Zafar Dar 

  • پاکستان کے وہ عالمی ریکارڈز جو آج تک کوئی نہ توڑ سکا تحریر: فہد احمد خان

    ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس

    کسی بھی حادثے میں ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سب سے پہلے پہنچتی ہے، گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اس فاؤنڈیشن کو دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس قرار دیا ہے۔ اور یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔

    ایدھی ایمبولینس سروس ابتدائی طور پر ایک سیکنڈ ہینڈ ہل مین پک اپ ٹرک کو شامل کرکے شروع کی گئی تھی اور اسے پہلی ایمبولینس کے طور پر بحال کیا گیا تھا، اس طرح "غریب مریض ایمبولینس” کی تشکیل کی گئی تھی۔ اب ساٹھ سال بعد، ایدھی ایمبولینس دنیا میں ایمبولینسوں کے سب سے بڑے بیڑے کے مرحلے پر پہنچ گئی ہے، اس طرح یہ سروس ہمارے ملک پاکستان میں 1800 گاڑیوں جیسی ایمبولینسوں کی ایک بڑی تعداد فراہم کر رہی ہے۔

    ایدھی ایئر ایمبولینس سروس کے پاس 2 ہوائی جہاز اور 1 ہیلی کاپٹر ہیں جو قدرتی آفات کے دوران امداد اور مدد فراہم کرتے ہیں ، کسی بھی متوقع قدرتی تباہی کے دوران ، پھنسے ہوئے یا زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کرنے کے لیے ہوائی جہاز کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی

    سوات کی ملالہ یوسف زئی کو دنیا میں سب سے کم عمری میں نوبیل انعام ملا، 2014 میں جب انھیں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تو ان کی عمر صرف سترہ برس تھی، طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی ملالہ دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    ملالہ یوسف زئی کی تعریف ان ایوارڈز سے نہیں ہوتی جو انہوں نے جیتے تھے اور نہ ہی بندوق کی گولی سے وہ بچ گئی تھی۔ اس نے یکساں تعلیم کے کام کی زندگی کے لیے اپنی بے لوث عقیدت اور امن ، مساوات اور تعلیم کے لیے لڑنے کے لیے اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے میں اپنے فراخدلانہ اقدامات کے ذریعے ہیرو کا خطاب حاصل کیا ہے۔

    ملالہ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ چاہے رکاوٹیں کوئی بھی ہوں، چاہے وہ معاشی ہوں، ثقافتی ہوں یا سماجی۔ ہر ایک کو انسانی تعلیم کے طور پر معیاری تعلیم کا حق حاصل ہے۔

    جہانگیر خان

    اسکواش کی تاریخ جہانگیر خان کے بغیر ادھوری ہے۔ اس پاکستانی سپر اسٹار کو یہ عالمی اعزاز حاصل ہے کہ وہ چیمپئن شپ مسلسل آٹھ چیزیں پانچ سال تک اسکواش کے میدانوں میں ناقابل شکست رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے 555 میچ جیتے اور یہ اعزاز اب تک پاکستان اور جہانگیر خان سے کوئی نئی چھین سکا۔

    جہانگیر خان- سکواش کا بادشاہ اسکواش ایک تیز رفتار ریکٹ کھیل سمجھا جاتا ہے۔ 18 ویں صدی میں انگلینڈ میں ایجاد ہوا ، یہ تیزی سے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ جہانگیر خان وہ شخصیت ہیں جنہیں پوری دنیا میں کنگ آف اسکواش یعنی اسکواش کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔

    نصرت فتح علی خان

    دنیائے قوالی میں نصرت فتح علی خاں کو تاریخ کا سب سے بڑا اقوال مانا جاتا ہے۔ جنہوں نے قوالی کے 125 البم ریکارڈ کرائے جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے اُن کا یہ عالمی ریکارڈ اب تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

    ان کے اثرات کی وجہ سے انہیں 2017 میں برمنگھم میں بی بی سی میوزک ڈے بلیو تختی سے نوازا گیا… وہ بین الاقوامی سامعین کے لیے قوالی موسیقی کو متعارف کرانے کا وسیع پیمانے پر کریڈٹ ہے ، اور اسے ‘مشرق کا ایلوس’ بھی کہا جاتا ہے۔

    عرفہ کریم رنھاوا

     پاکستان کی عرفہ کریم رندھاوا نے صرف 9 سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا اعزاز حاصل کیا۔ اتنی کم عمری میں آج تک دنیا بھر میں کوئی شخص یہ ریکارڈ نہیں بنا سکا افسوس کہ انسانیت کا یہ ذہین سرمایہ لمبی عمر نہ پا سکا 2012 میں جب وہ صرف 17 سال کی تھی موت کی وادی میں جا کر سوگئی۔ یہ جان کر دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو غمزدہ کردیا۔ 

    عرفہ نے پاکستان کے عام شہریوں کے لیے صحت، تعلیم، اور ایک علیحدہ آئی ٹی شہر جیسے بہت بڑے خواب دیکھے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے فاطمہ جناح گولڈ میڈل حاصل کیا اور انہیں صدر پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 

    شعیب اختر

    راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کو کون نہیں جانتا۔ انھیں کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین گیند پھینکنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے ورلڈ کپ 2003 میں انگلینڈ کے خلاف 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکی اور یہ ریکارڈ بھی آج تک کوئی نہیں توڑ سکا۔

    ٹیوئٹر: @fahadpremier