Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔
    علی پور سے محبوب بلوچ کی ڈائری
    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور جو کہ ضلعی مقام سے لگ بھگ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، پنجاب کے پانچ دریاؤں کے حسین ملن کی غمازی کرتا یہ خطہ ایک سو چھبیس مواضعات پر مشتمل ہے، جس کا مجموعی طور پر کل رقبہ تین لاکھ چوالیس ہزار چار سو تیرہ ایکڑ ہے، جبکہ سال 2025 میں آبادی دس لاکھ کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل ہے۔ 17ویں صدی میں علی نواب لودھی، جس کو یہ خطہ مغلیہ سلطنت کی طرف سے جاگیر کی صورت میں ملا تھا، اس نے چار دروازوں پر مشتمل یہ قلعہ بند شہر تعمیر کرایا تھا اور اسی کے نام کی نسبت سے یہ شہر علی پور کے نام سے منسوب ہے۔ علی پور قدیم دور میں ریاست سیت پور کا حصہ رہا، جو کہ علی پور شہر سے دریائے چناب کے جنوب مغربی حصے پر قریباً بیس کلومیٹر کی مسافت پر آباد ہے، جس کا شمار انسانی تاریخ کی قدیم ترین آبادیوں میں ہوتا ہے۔

    قلعہ لاہور کے میوزیم میں نصب شدہ مغلیہ سلطنت کی حاکمیت میں موجود شہروں کے ناموں کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوبی پنجاب کے تین شہر نمایاں نظر آتے ہیں: ملتان، اوچ شریف اور سیت پور۔ محمد بن قاسم نے جب سندھ فتح کیا تو ملتان سے قبل اس کی فوجوں نے سیت پور میں پڑاؤ ڈالا اور اس کو فتح کیا، جس کا تذکرہ قاسم فرشتہ کی معروف تاریخی کتاب ’’تاریخِ فرشتہ‘‘ میں بھی ملتا ہے۔ تاہم دریائے سندھ اور چناب میں آنے والی سیلابی لہروں نے جب سیت پور کو بار بار شدید نقصان پہنچایا تو علی پور کی جانب مقامی آبادی منتقل ہونے لگی، جس کے بعد 1837ء میں علی پور کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ اس شہر کا پہلا چیئرمین ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتا تھا۔ انگریز دورِ حکومت میں 1862ء میں تحصیل صدر مقام سیت پور سے علی پور منتقل کر کے علی پور کو تحصیل ہیڈکوارٹر بنا دیا گیا۔

    علی پور شہر کے مشرق میں نو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی پنجاب کا آخری ہیڈ ورکس پنجند بیراج واقع ہے، جو کہ معروف تفریحی مقام اور جنوبی پنجاب کی زرعی معیشت میں اہم کردار کا حامل ہے، جبکہ علی پور شہر کے مغرب میں بیس کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا عظیم دریا سندھ واقع ہے۔ تین اطراف سے دریاؤں میں گھری ہوئی یہ تحصیل انتہائی زرخیز زرعی رقبے پر مشتمل ہے، تاہم حکومتی عدم توجہی کے باعث اس خطے سے ملکی معیشت کو جو فائدہ پہنچنا چاہیے تھا وہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اس وقت علی پور شہرجو کہ میونسپل کمیٹی کے چوبیس وارڈز پر مشتمل ہے کی آبادی کم و بیش ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ شہر کے قرب و جوار میں قائم ہونے والے جدید رہائشی منصوبوں نے اس شہر کا نقشہ بدل دیا ہے۔ کئی اقامتی نجی تعلیمی اداروں میں ملک بھر سے بچے اس شہر کا رخ کر کے اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے طالب علموں کی تعداد زیادہ ہے۔

    یہ زرخیز خطہ اپنے سفید انار کی پیداوار کے حوالے سے بھی اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ میٹھے رس دار سفید انار شاید ہی دنیا کے کسی اور خطے میں کاشت ہوتے ہوں، تاہم عدم توجہی کی وجہ سے سفید انار کے باغات کو کچھ عرصہ قبل لگنے والی بیماریوں نے مالکان کو مجبور کر دیا کہ وہ ان باغات کو ختم کر دیں۔ کئی ہزار ایکڑ پر مشتمل باغات اجڑ گئے، مگر اس شاندار نعمت کو بچانے کے لیے ابھی تک کسی سطح پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا سکا۔ تحصیل علی پور میں پیدا ہونے والی کپاس کی فصل بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ایک وقت تھا جب نیویارک کی کاٹن مارکیٹ میں علی پور کی کاٹن اپنے معیاری ہونے کے حوالے سے اپنا الگ مقام رکھتی تھی اور پاکستانی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتی تھی۔ تاہم تحصیل علی پور میں زراعت بیسڈ صنعتوں کے قیام، جن میں ٹیکسٹائل ملز، مختلف جوسز کی فیکٹریاں اور پھلوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا کاشتکار دیگر فصلوں کی جانب راغب ہونے پر مجبور کر دیا گیا، جس میں گنے کی کاشت بھی شامل ہے۔

    اگر ہم 2025ء کے علی پور شہر کی بات کریں تو یہ وہ بدقسمت خطہ ہے جو ترقی کی شاہراہ پر اپنے کئی ہم عصر شہروں سے پیچھے رہ گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے، آئے روز شہریوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے نت نئے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اس کے نتائج تحصیل علی پور کے حوالے سے ابھی تک ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کے مترادف ہیں۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک پر عائد نہیں ہوتی۔ گزشتہ سال صوبہ پنجاب کے سالانہ بجٹ 2024/25 میں علی پور۔ مظفرگڑھ۔ ہیڈ پنجند۔ ترنڈہ محمد پناہ سابقہ شاہراہ مغربی پاکستان روڈ کے لیے اسمبلی فلور پر صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے نوید سنائی تھی کہ چونتیس ارب روپے سے یہ سڑک بحالی کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، مگر مالی سال تمام کا تمام گزر چکا، اس روڈ پر ایک اینٹ بھی نہیں لگی۔ اس روڈ پر قومی اسمبلی کے کم و بیش چھ اور صوبائی اسمبلی کے بارہ سے تیرہ حلقے آتے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ دو درجن کے لگ بھگ اراکینِ اسمبلی میں سے کسی ایک نے بھی اسمبلی یا دیگر کسی فورم پر اس حوالے سے آواز بلند کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس سڑک کو ’’قاتل روڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اس سڑک سے مقامی لوگ اپنے کسی پیارے کی لاش یا زخمی حالت میں نہ اٹھاتے ہوں۔ یہ سڑک تین صوبوں کی ٹریفک کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ تحصیل علی پور کے لیے یہ سڑک دوسرے علاقوں سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔

    اس تحصیل میں ریلوے یا فضائی سروس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ خطے کو یہ اعزاز بھی اس جدید دور میں حاصل ہے کہ صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ دریائی پتن اسی تحصیل میں واقع ہیں۔ یہاں پر دریائے سندھ پر پل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے دریائی پتنوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور کے ساٹھ سے زیادہ مواضعات دریائے سندھ کے پار ضلع راجن پور کی سرحد کے ساتھ ساتھ کبیر گوپانگ سے بیٹ عیسیٰ تک کم و بیش سو کلومیٹر شمال سے جنوب تک جاتی پٹی کی صورت میں موجود ہیں۔ ہزاروں لوگ دریائے سندھ پر موجود پتنوں، جن میں موچی والہ، گبر ارائیں، کندائی، سرکی اور دریائے چناب پر شہر سلطان، کندرالہ، مڈوالہ، بیٹ نوروالہ شامل ہیں، سے روزانہ آتے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دریائے سندھ پر پختہ پل تعمیر کیا جائے، جس کے لیے گبر ارائیں یا کندائی تحصیل علی پور کے مقامات اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف تحصیل علی پور کی معیشت میں انقلاب برپا ہوگا بلکہ بہاول، ملتان سے ضلع راجن پور اور بلوچستان جانے والے مسافروں کو بھی وقت کی بچت اور سفری اخراجات میں کمی کا فائدہ پہنچے گا۔ امید ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اس جانب ضرور اپنی توجہ مبذول کریں گی۔

    تحصیل علی پور کے عوامی مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ضلعی صدر مقام سے ایک سو کلومیٹر کا فاصلہ بھی ہے۔ علی پور تحصیل کا جنوب میں واقع آخری موضع بیٹ عیسیٰ ہے۔ آپ حیران ہوں گے وہ ضلعی صدر مقام سے پونے دو سو کلومیٹر دور بنتا ہے۔ آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اس علاقے کے رہائشیوں کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور سے 1993ء میں جتوئی کو الگ کر کے تحصیل بنا دیا گیا۔ گزشتہ سال مظفرگڑھ شہر سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود کوٹ ادو کو بھی ضلع بنا دیا گیا ہے لیکن پونے دو سو سال قدیم تحصیل جو کہ اپنے وسائل اور آبادی کے لحاظ سے مکمل طور پر ایک الگ ضلع بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ علی پور کو ضلع ، اس کے ساتھ جتوئی کو منسلک کر کے بنایا جانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ یہی اس خطے کے ہر ایک باسی کی تمنا ہے۔ یہ ضلع قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی کی چار سے زائد نشستوں پر مشتمل ہوگا۔ ضلعی دفاتر کے لیے بھی علی پور شہر میں سرکاری عمارات موجود ہیں۔ ماہِ جون میں نیو جوڈیشل کمپلیکس علی پور میں عدالتیں منتقل ہو رہی ہیں، جبکہ پرانا جوڈیشل کمپلیکس بھی صرف پندرہ سال پرانا ہے، جو کہ ضلعی دفاتر کی ضروریات کے لیے آئندہ سو سال کے لیے بھی کافی ہے۔

  • حنا سرور ، سچ کی راہ پر چلنے والی ایک جری آواز.تحریر:نور ملک

    حنا سرور ، سچ کی راہ پر چلنے والی ایک جری آواز.تحریر:نور ملک

    آج کے دورِ انتشار میں، جب حق بولنا جرم اور سچ لکھنا گناہ سمجھا جانے لگا ہے، ایسے میں کچھ لوگ ہیں جو ہر مخالفت، ہر طعن و تشنیع کے باوجود قلم کو خاموش نہیں ہونے دیتے۔ انہی سچائی کے علمبرداروں میں ایک نمایاں نام ہے حنا سرور کا ، جو نہ صرف ایک معروف لکھاری بلکہ ایک جری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی ہیں۔حنا سرور نے ہمیشہ اپنی تحریروں اور خیالات کے ذریعے حق و سچ کا ساتھ دیا۔ وہ موضوعات جن پر اکثر لوگ لب کشائی سے ڈرتے ہیں، حنا سرور نے نہ صرف ان پر بات کی بلکہ دلائل کے ساتھ اپنے مؤقف کو اجاگر کیا۔ یہی ان کی سچائی اور بےباکی ہے جو بعض حلقوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔

    تنقید، الزامات اور کردار کشی ، یہ سب وہ حربے ہیں جو ہمیشہ ان لوگوں کے خلاف استعمال کیے گئے جو سچ بولنے سے نہیں گھبراتے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب مخالفین کے پاس دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو وہ الزام تراشی پر اتر آتے ہیں۔ حنا سرور پر کی جانے والی تنقید دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی آواز اثر رکھتی ہے، ان کا قلم سچ لکھتا ہے، اور ان کے الفاظ لوگوں کے دلوں تک پہنچتے ہیں۔سوشل میڈیا پر جو لوگ محض گالم گلوچ کے ذریعے اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے اندر کی تربیت اور کمزور دلائل کا ثبوت دیتے ہیں۔ حنا سرور کے خلاف استعمال ہونے والی ایسی زبان اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کے ناقدین کے پاس نہ دلیل ہے، نہ اخلاق،حنا سرور کا قلم صرف ایک شخصی آواز نہیں، بلکہ پاکستان کے مفاد، استحکام اور خودمختاری کا ترجمان ہے،انہوں نے ہمیشہ ملکی مفادات کو مقدم رکھا، چاہے بات قومی سلامتی کی ہو یا معاشرتی اصلاح کی، ان کی تحریروں میں ایک درد بھی ہے اور ایک عزم بھی، درد اس وطن کے حالات کا، اور عزم اس کے بہتر مستقبل کا ،حنا سرور کا نظریہ ہمیشہ سے استحکامِ پاکستان کے گرد گھومتا ہے،وہ کسی سیاسی جماعت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے لیے لکھتی ہیں،ان کے مضامین میں حب الوطنی کی خوشبو، فکری گہرائی، اور سماجی آگاہی کی جھلک نمایاں ہے۔انہوں نے ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ اختلافِ رائے ضرور کرو، مگر ملکی مفاد پر سمجھوتہ مت کرو،حنا سرور کی تحریریں نوجوان نسل کو شعور دیتی ہیں کہ سوشل میڈیا صرف شور مچانے کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ فکر پھیلانے کا ذریعہ بھی ہے،وہ لوگوں کو بتاتی ہیں کہ محبِ وطن ہونا صرف نعرے لگانے سے نہیں بلکہ اپنے عمل اور کردار سے ثابت کرنا ہوتا ہے

    آج جب دشمن عناصر اپنے ایجنڈے کے تحت پاکستان کے نظریاتی اور سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں، ایسے میں حنا سرور جیسے لوگ امید کی کرن ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قلم اگر سچ لکھے، تو وہ سب سے بڑی مزاحمت بن جاتا ہے۔ ان کے قلم سے نکلا ہر لفظ پاکستان کی سلامتی، وقار اور فکری آزادی کے لیے ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جو ان کے مخالفین کو برداشت نہیں۔

  • چار سال میں چوتھا وزیراعظم ،تحریر: علی ابن ِسلامت

    چار سال میں چوتھا وزیراعظم ،تحریر: علی ابن ِسلامت

    پاکستان کی تاریخ میں دو بار تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانےکی کوشش کی گئی ، یکم نومبر 1989 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد 12 ووٹوں سے ناکام ہوئی، اگست 2006 میں شوکت عزیز کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ناکام رہی، نواز شریف کے بعد عمران خان دوسرے وزیر اعظم تھے جنہوں نے رضا کارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لیا تھا،تیسری بار آخر کار عمران خان کے خلاف 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرار داد میں ووٹ دے کر 9 اپریل 2022 کی رات فارغ کر دیا، یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانےوالے پہلے وزیر اعظم بن گئے

    تحریک عدم اعتماد کا اصول یہ ہوتا ہے کہ آئین کے مطابق اگر صدر مملکت کو لگے کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد کھو چکا ہے تو وہ اجلاس طلب کر کے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہتا ہے، ہم اس بات یہ ناواقف ہوتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد سے جمہوریت کو سیاسی عدم استحکام ، حکومتی کاموں میں رکاوٹ اور آئینی بحران جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس بات سے آج پاکستانی قوم خوب واقف ہو چکی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد ایک ایسا آئینی بحران پیدا ہوا جس سے نکلنے کیلئے آج کی مقتدرہ اور سیاسی مشینری کو امریکہ اور دوسرے ممالک جیسی طاقتوں کی ضرورت پڑ رہی ہے ، اب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد کیلئے متحرک ایک نئے تجربے کی اُڑان میں مصروف ہے، یعنی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں سیاسی انتشار جاری ہے، پاکستان مسلم لیگ نواز کے مقرر کردہ وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد پیش کی جائے گی، جس پر وفاق میں اتحادی حکومت ن لیگ کو ئی اعتراض نہیں، یہاں سوال یہ ہے کہ تجربہ کار نواز لیگ کشمیر میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ کشمیر میں جمہوریت کا نعرہ ذاتی مفادات تک محدود ہو چکا ہے،سال 2021 میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تھی ،اس کے بعد آج 2 نومبر 2025 تک تین وزیر اعظم آ چکے ہیں جبکہ چوتھے وزیر اعظم کو لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں،پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور کشمیر کی ذاتی جماعت کشمیر کی تباہی کی ذمہ دار ہیں لیکن کوئی بھی یہ بات ماننے سے انکاری ہے، 1975 سے لیکر اب تک تمام سیاسی جماعتیں کشمیر میں حکومت کر چکی ہیں

    آج صدر زرداری صاحب نے گلگت بلتستان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے، پہلے پیپلز پارٹی چار بار آزاد کشمیر میں حکومت کر چکی،وزیراعظم راجہ ممتاز حسین راؤ 1990، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 1996، سردار محمد یعقوب خان2009، چوہدری عبدالمجید 2011 سے 2016 تک اقتدار میں رہے، یہ سب پیپلز پارٹی کے تھے، آج کشمیر میں الیکشن میں صرف 8 ماہ ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ اگر چار بار اقتدار میں رِہ کر پیپلز پارٹی کشمیر کی آزادی میں ناکام رہی تو ان 8 ماہ میں تحریک عدم اعتماد سے کشمیر کو آزادی دلا سکتے ہیں؟ سب کا جواب ہو گا نہیں، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ آٹھ ماہ کا اقتدار میں بھی ہماری سیاسی جماعتیں چھوڑنا نہیں چاہتی ہیں ، در اصل ہماری جماعتیں جمہوریت، عوام اور آئین کیلئے نہیں بلکہ اقتدار، وسائل اور مفاد کیلئے ذاتی سودے کرتی ہیں جس کا عوام چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ڈائرکٹلی اور اِن ڈائریکٹلی عوام اداروں اور جمہوریت کو ہوتا ہے
    قطع تعلق اس کہ کشمیری عوام ہی ان کے خاتمے کیلئے کچھ کرے مگر نہیں ، جب کسی غیر سیاسی طاقت کی سپورٹ حاصل ہو کشمیر میں تاریخی احتجاج ضرور ہوتے ہیں ، اور پھر جب سیاسی طاقتیں آئین کی بالا دستی کیلئے قانون نافذ کرتی ہیں تو ان کو نان سٹیٹ ایکٹرز کا نام دے کر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، 2006 کے بعد بننے والی اسمبلی میں بھی 5 سال کے دوران 4 وزیراعظم آئے تھے اس لیے میں کہتا ہوں کہ سازشوں کے الزام لگانے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ محلاتی سازشوں میں آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا کوئی ثانی نہیں ، یہ ایسی سر زمین ہے جہاں 1975 سے لیکر آج تک ہر وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے خفیہ میٹنگز ہمیشہ جاری رہتی ہیں ، لہذا آج بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے

    آزاد کشمیر میں چار سال کے دوران چوتھا وزیراعظم ، سوال پھر وہی کہ ضرورت کیا ہے، اگر یہ دلیل ہے کہ اگلا وزیر اعظم سب بدل دے گا تو یہ سب پہلے کیوں نہیں ہوا؟ یہ عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے، 2021 میں مینڈیٹ تو تحریک انصاف کو ملا تھا لیکن 11 اپریل 2023 کو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے نااہل کردیا تھا، جبکہ اس سے پہلے 4 اپریل 2022 کو سردار قیوم نیازی کو اپنی پارٹی پی ٹی آئی ہی نے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا تھا، چوہدری انورالحق نے 21 اپریل 2023 کو آزاد جموں اور کشمیر کے پندرھویں وزیراعظم کا حلف اٹھا یا تھا، اب اگر پیپلز پارٹی ضمیر کے سودے کرنے میں کامیاب ہو گئی اور کشمیریوں نے اس کام کیلئے خوش آمدید کہا تو چار سال میں چوتھا وزیر اعظم آئے گا، آخر کار آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو قُل کائنات کا مالک حشر میں ضرور پوچھے گا کہ ضمیروں کے سودے کر کے انسانی حقوق کے دعوؤں کے باوجود حلف کی خلاف ورزی کیوں کی؟

    رہنما صدر پیپلز پارٹی آزادکشمیر آج کے دن تک چوہدری یاسین ہیں،موصوف کا حلقہ آزاد کشمیر کا سب سے پسماندہ حلقہ ہے ایک بھی سڑک درست حالت میں نہیں جنگلات پر قبضے اور خود مافیا کا سرغنہ ہے، پیپلز پارٹی آزا د کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کا حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 تھا،الیکشن 2021 میں ایل اے 10 کوٹلی 3 میں دو بڑی سیاسی شخصیات سابق وزیر سردارفاروق سکندر خان مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر اور پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر چودھری محمد یاسین ایک دوسرے کے مد مقابل تھے ۔ یاد رہے سردار فاروق سکندر الیکشن 2016 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر 26 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور وزیر بنے تھے، کوٹلی ضلع کشمیر کا ایک اہم ضلع ہے لیکن یہاں سہولیات عوام کو نہیں دی جاتی ہیں اور سیاحت کو بھی محدود کر دیا گیا ہے، سردار فاروق سکندر سابق وزیر اعظم اور سابق صدر سردار سکندر حیات کے بیٹے ہیں

    آزاد کشمیر میں 23 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور مسلم کانفرنس میں جھگڑے کے بعد احتجاج ہوا تھا جس میں فورسز کا نقصان بھی ہوا تھا۔ اس کے بعد ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ جس کا ایک نقطہ یہ تھا کہ کابینہ کا حجم 20 وزراء اور مشیران تک محدود ہو گا جبکہ سیکرٹریز کی تعداد بھی بیس سے زائد نہیں ہو گی مگر آج طاقتوروں نے سوچ لیا ہے کہ بیس وزراء اور مشیر تو کیا ہم تختہ ہی الٹ دیتے ہیں لہذا وہ سب کچھ انہوں نے کر دکھایا، اب سوال یہ کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ وہی ہو گا جو آج وفاق اور صوبوں میں ہو رہا ہے، یعنی سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، آئین کی خلاف ورزی اور طاقت کا زور۔افتخار نسیم کی ایک غزل کا شعر ہے کہ۔۔
    ہر طرف عام ہے بدنام سیاست کا چلن
    صبر سے کام لو جذبات پہ قابو رکھو
    اور میں کشمیری قوم سے کہوں گا کہ ۔۔
    زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے
    آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • غیرقانونی افغان، عمل، شناخت اور شفافیت

    غیرقانونی افغان، عمل، شناخت اور شفافیت

    غیرقانونی افغان، عمل، شناخت اور شفافیت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پنجاب حکومت نے امن و امان کی بحالی کے لیے ایک جامع اور سخت پالیسی کا اعلان کیا ہے، جس کا آغاز وزیراعلی مریم نواز کے مسلسل ساتویں غیر معمولی اجلاس سے ہوا۔ اس اجلاس میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ کا سخت ترین نفاذ یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیاصرف پانچ وقت کی اذان اور جمعہ کے خطبے کی اجازت، باقی تمام استعمال ممنوع۔ سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرون پولیسنگ اور ایڈوانس ٹیکنالوجی سے نگرانی ہوگی تاکہ نفرت انگیزی، اشتعال اور صوتی آلودگی فوری روکی جائے۔ پنجاب میں کسی کاروبار، کسی جماعت یا کسی فرد کو کسی بھی کام کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی،اسی اجلاس میں 65 ہزار سے زائد ائمہ کرام کے وظائف، مساجد کی تزئین و بحالی، اطراف کے راستوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کا بھی فیصلہ ہوا۔ فتنہ پرستوں اور انتہا پسندوں کے سوا کسی مذہبی جماعت پر پابندی نہیں ہوگی، لیکن مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کے لیے قانون کی رسی تنگ کر دی جائے گی۔ یہ اقدامات صوتی آلودگی کم کریں گے، سماجی ہم آہنگی بڑھائیں گے اور انتہا پسندی کی جڑیں کمزور کریں گی۔اور اس کے ساتھ ہی پنجاب حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی سہولت کاری یا معاونت پر کڑی سزا کا اعلان کیا ہے

    لیکن یہ تمام تر خوبصورت اعلانات ایک بڑے، گہرے اور سنگین مسئلے کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں اور وہ ہے غیر قانونی افغانیوں کی پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی موجودگی۔ یہ کوئی مقامی یا صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سلامتی کا بحران ہے جو پنجاب سے لے کر اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، کراچی اور خاص طور پر ڈیرہ غازیخان تک پھیل چکا ہے۔ ڈیرہ غازیخان جو چاروں صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کا سنگم اور پاکستان کا جغرافیائی مرکز ہے، اس وقت افغانیوں کا سب سے بڑا، منظم اور محفوظ اڈہ بن چکا ہے۔ یہاں پشتونوں کی آڑ میں ہزاروں افغانی چھپے ہوئے ہیں، جن کی سرپرستی گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیاں، مخصوص پشتون ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹ ایجنٹس اور مقامی سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کر رہے ہیں۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ ماضی میں یہی گروہ افغانوں کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کے غیر قانونی دھندے میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔ آج بھی لنڈا بازاروں، چائے خانوں، بس اڈوں، ٹرک اڈوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں افغانیوں کی اکثریت ہے۔ وہ خود کو موسی خیل،لورالائی، کوئٹہ، وزیرستان یا پشاور کا بتاتے ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی تصدیق شدہ دستاویز نہیں ،نہ NADRA کارڈ، نہ ویزا، نہ رہائشی اجازت، نہ UNHCR کارڈ۔ وہ پاکستانی لباس پہنتے ہیں، پشتو بولتے ہیں لیکن پاکستانی شہری نہیں ہیں۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ، اسلحہ کی تجارت اور جعلی دستاویزات کی صنعت سے منسلک ہیں۔

    حکومت اعلان تو کرتی ہے کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی سہولت کاری پر کڑی سزا ہوگی، لیکن عملی میدان مکمل طور پر خالی ہے۔ ہیلپ لائن 15 کا نام لیا جاتا ہے لیکن کوئی ٹول فری نمبر، انونیمس رپورٹنگ ایپ، ویب پورٹل یا محفوظ وسل بلوئر سسٹم اب تک متعارف نہیں کیا گیا۔دوسری طرف عوام کیوں رپورٹ کریں؟ جب وہ جانتے ہیں کہ تھانے کے SHO ماہانہ بنیاد پر افغانیوں کے "سرکردہ افراد” سے بھاری "منتھلی” وصول کرتے ہیں؟ جب پولیس خود ان کی سرپرستی کر رہی ہو، تو کون معلومات دے گا؟ اور ان کی کون سنے گا؟ڈیرہ غازیخان میں یہ کرپشن سب سے زیادہ ہے یہاں سرحدی راستوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور ہوٹل انڈسٹری کی وجہ سے افغانیوں کو کھلی چھوٹ ملتی ہے۔پشتون ہوٹل مالکان (نہیں معلوم کہ وہ پاکستانی ہیں یاافغانی)افغانیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں حتی کہ پولیس سے ڈیل کرا کر انہیں مکانات بھی دلوائے ہوئے ہیں ۔

    2 نومبر 2025 تک اقوامِ متحدہ کے اداروں IOM اور UNHCR کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے افغان مہاجرین کی کل تعداد 1,611,635 ہےلیکن ابھی بھی لاکھوں افغانی بغیر کسی قانونی دستاویز کے موجود ہیں ہیں،جنہیں کرپٹ عناصر نے تحفظ دیا ہوا ہے۔ یہ افغانی نہ صرف معاشی وسائل پر بوجھ ہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بھی ہیں۔ ڈیرہ غازیخان میں تو صورتحال یہ ہے کہ گلیوں اور محلوں میں متعددگھر افغانیوں کے قبضے میں ہیں اور اس کے علاوہ مین بازاروں میں افغانیوں کے کاروبار ہیں بلکہ ذرائع کے مطابق کوہ سلیمان کے ارد گرد تونسہ شریف میں وہوا کے علاقوں اور شادن لنڈ کے قریب کے علاقوں میں افغانوں کی بستیاں قائم ہیں جنہیں مقامی سرداروں کی آشیرباد حاصل ہے اور مقامی پولیس بھی جانتی ہےلیکن کارروائی کیلئے انہیں دکھائی نہیں دیتے ۔

    ڈیرہ غازیخان کو وفاقی اور صوبائی حکومت کا فوکل پوائنٹ بننا چاہیے۔ یہ شہر صرف ایک ضلع نہیں بلکہ پاکستان کا دل ہے۔ یہاں سے گزرنے والی قومی شاہراہ، ریلوے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پورے ملک کو جوڑتے ہیں۔ اگر یہاں افغانیوں کوکنٹرول نہ کیا گیا تو پھر پورا پاکستان غیر محفوظ ہو جائے گا۔ یہاں ایک جامع، شفاف، سخت اور مثال بننے والا آپریشن چلایا جائے جو نہ صرف افغانیوں بلکہ ان کے ہمدردوں، جعلی کارڈ بنانے والوں، ٹرانسپورٹ مالکان، ہوٹل مالکان اوررشوت لیکرقومی پالیسی سے انحراف کرنے والے پولیس افسران کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں .

    افغانیوں کے خلاف موثر آپریشن کے لیے فوری انونیمس رپورٹنگ ایپ متعارف کی جائے، NADRA اورFacial Recognition کو مربوط کیا جائے، پولیس کرپشن پر سخت اندرونی آڈٹ ہو اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے انعام، تحفظ اور شفافیت یقینی بنائی جائے،ڈیرہ غازیخان جیسے حساس مقامات پر عملی آپریشن قومی سلامتی کی ضرورت ہے ،اعلانات سے افغانی نہیں نکلتے، زمینی کارروائی سے نکلتے ہیں۔ یہاں کامیابی ہوئی تو اسلام آباد سے کراچی تک دہرائی جا سکتی ہے، ناکامی ہوئی تو پورا ملک غیر محفوظ ہو جائے گا۔ یہ اعلانات کا نہیں، عمل کا وقت ہے۔ ڈیرہ غازیخان اس جنگ کا فرنٹ لائن ہے ،یہاں جیت پورے پاکستان کی جیت ہے۔ حکومت کو اب مثال بننے والا آپریشن کرنا چاہیے جو قومی سلامتی اور عوامی اعتماد کو بحال کرے۔

  • امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ ،ایشیا میں طاقت کے توازن کی نئی بساط،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ ،ایشیا میں طاقت کے توازن کی نئی بساط،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ اور بھارت کا دفاعی معاہدہ اس معاہدے کا مقصد بھارت کو چین کے خلاف ایک علاقائی توازن قوت کے طو رپر مستحکم کرنا ہے۔ واشنگٹن کے لئے بھارت ایک ڈیمو کریٹک پارٹنر اور ایشیا میں ایک انسدار چین محور کا حصہ ہے ۔ چونکہ پاکستان چین اسٹریٹیجک اتحادی ہے(سی پی ای سی ) اور دفاعی تعاون کی بنیاد پر لہذا پر لہذا یہ معاہدہ پاکستان کو بالواسطہ طور پر ہدف بناتا ہے۔ پاکستان کو چین کے ساتھ دفاعی اور تیکنیکی شراکت کو تیز کرنا ہوگا پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانا مشکل ہوگا امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے اور چین سے قربت برقرار رکھنا ایک نازک توازن بن جائے گا ۔ ایسے دفاعی معاہدے اکثر اندرونی سیاست میں ایک جذباتی قوم پرستانہ ردعمل پیدا کرتے ہیں اپوزیشن اور میڈیا اسے خطرے کی گھنٹی کے طور پر پیش کریں گے کہ بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی حکومت کو تازہ ترین حالات کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اپوزیشن جماعتیں اور مذہبی جماعتیں امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کو لے کر ناکام خارجہ پالیسی کے طور پر استعمال کریں گی ۔ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کرنے کے لئے سفارتی مہم شروع کرنی پڑ سکتی ہے ۔ پاکستان کو اب احساس خطرہ کی بجائے احساس توازن سے کام لینا ہوگا۔ یہ وقت ردعمل دینے کا نہیں بلکہ ایک واضح دیر پا دفاعی اور سفارتی پالیسی اپنانے کا ہے ۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور پاکستان کو اپنے فیصلے جذبات سے نہیں حکمت اور حقیقت کی بنیاد پر کرنے ہوں گے ۔ یہ معاہدہ صرف اس لئے نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کا ہے ۔ سی پیک اور امریکی تعلقات کا توازن یہی پاکستان کا اصل امتحان ہے ۔ بین الاقوامی اتحاد نئی شکلیں لے رہے ہیں یہ معاہدہ ہمارے لئے خطرہ نہیں دانشمندی سے سفارتی راستہ اپنانا ہوگا۔ سوال یہ نہیں امریکہ بھارت کا معاہدہ کیا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ پاکستان اب اس نئے عالمی منظرنامے میں اپنا مقام کہاں بناتا ہے ؟ ملکی سیاسی و مذہبی جماعتیں اقتدار کی جنگ سے باہرنکل کر وطن عزیز کے مسائل پر توجہ دیں ملکی مفاد کو مقدم رکھیں۔

  • سوشل میڈیا، دوستی اور عورت کا وقار ،تحریر:نور فاطمہ

    سوشل میڈیا، دوستی اور عورت کا وقار ،تحریر:نور فاطمہ

    جدید دور میں سوشل میڈیا ایک ایسا جہان بن چکا ہے جہاں چند لمحوں میں ہزاروں میلوں کا فاصلہ مٹ جاتا ہے۔ ایک کلک سے دوستی، گفتگو، تصویریں، احساسات اور خواب ، سب کچھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسی آسانی میں ایک خطرہ بھی چھپا ہے، وہ خطرہ جو ہمارے معاشرے کی معصوم، کم عمر لڑکیوں کو شکار بنا رہا ہے، اور ان کی عزت و وقار کو نگل جاتا ہے۔آج کی پاکستانی لڑکی، چاہے وہ کسی اسکول کی طالبہ ہو یا کسی چھوٹے شہر کی رہائشی، اپنے موبائل فون کے ذریعے دنیا سے جڑنے کی خواہش رکھتی ہے۔ مگر اکثر یہ جڑاؤ “اعتماد کے جال” میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نام نہاد دوست، جعلی پروفائلز، اور دل فریب گفتگو کے پیچھے چھپی بھیڑیائی فطرت، یہی وہ اندھیرا ہے جو روشنی کے پردے میں چھپ کر عزتیں نوچتا ہے۔

    ابتدا اکثر بے ضرر باتوں سے ہوتی ہے “تم بہت خوبصورت لگتی ہو”، “میں تمہیں عزت دیتا ہوں”، “تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو” ، اور یہی بھروسہ ایک دن تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ کئی لڑکیاں نہ صرف جذباتی بلکہ جسمانی استحصال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کچھ کیسز منظر عام پر آتے ہیں، مگر بیشتر کہانیاں خوف، شرمندگی اور سماجی دباؤ کے باعث ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ قصوروار کون ہے؟کیا وہ لڑکیاں جو اعتماد کر بیٹھتی ہیں؟ یا وہ درندے جو محبت کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں؟ دراصل قصور پورے نظام کا ہے ، وہ نظام جو لڑکیوں کو سکھاتا تو ہے کہ “چپ رہنا بہتر ہے”، مگر یہ نہیں سکھاتا کہ “خود کا تحفظ کیسے کیا جائے”۔

    ہمیں اپنی بچیوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا کی دنیا “اصلی دنیا” نہیں ہوتی۔کسی نامعلوم شخص سے دوستی ہمیشہ خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔اپنی ذاتی تصاویر، ویڈیوز یا معلومات کبھی کسی پر بھروسہ کر کے شیئر نہ کریں۔اگر کوئی شخص دباؤ ڈالے یا بلیک میل کرے تو فوراً والدین، استاد یا قانون سے مدد لیں، خاموشی ظالم کو طاقت دیتی ہے۔خواتین کے لیے سب سے بڑا ہتھیار ان کی آگاہی ہے۔یہ تحریر کسی کو ڈرانے کے لیے نہیں، بلکہ جگانے کے لیے ہے۔ عورت کی عزت صرف اس کے وجود میں نہیں، بلکہ اس کے شعور میں ہے۔ اگر ہم نے اپنی بچیوں کو تعلیم اور ڈیجیٹل شعور دے دیا، تو سوشل میڈیا بھی ان کا دشمن نہیں، بلکہ ایک مضبوط ساتھی بن سکتا ہے۔یاد رکھیں، عزت کی حفاظت صرف گھر کی چار دیواری میں نہیں، بلکہ دل و دماغ کے اندر ہونی چاہیے۔سوشل میڈیا پر ہر “دوست” دوست نہیں ہوتا، اور ہر “لائک” محبت نہیں۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اعتماد، آگاہی اور تحفظ کے ہتھیار سے لیس کریں ،تاکہ وہ دوستی کے فریب میں نہیں، شعور کے نور میں زندگی گزار سکیں۔

  • کم عمری کی شادی کے نقصانات

    کم عمری کی شادی کے نقصانات

    پاکستان میں شادی بیاہ کے سماجی و قانونی ڈھانچے میں، دوسری شادی (تعددِ ازواج) اور کم عمری کی شادی ایسے اہم معاملات ہیں جو نہ صرف خاندانوں کی ساخت بلکہ خاص طور پر خواتین کے بنیادی حقوق اور ان کی زندگی کے امکانات کو گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ یہ دونوں رجحانات روایت، مذہب اور قانون کی ایک پیچیدہ آمیزش میں جکڑے ہوئے ہیں، اور حقوقِ نسواں کے تناظر میں شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔

    کم عمری کی شادی، جسے بعض علاقوں میں ’بچپن کی شادی‘ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے کئی دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ایک تشویشناک حقیقت ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں لڑکیوں کی شادی 18 سال کی قانونی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ سندھ جیسے صوبوں نے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے، اور وفاقی سطح پر بھی اس کے خلاف سخت قوانین اور سزائیں موجود ہیں، مگر یہ رواج اپنی جڑیں گہری رکھتا ہے۔ چھوٹی عمر میں شادی کا سب سے پہلا وار تعلیم پر ہوتا ہے۔ کم عمری میں رشتہ ازدواج میں بندھنے والی بچیاں اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتیں، جس سے ان کی صلاحیتوں کا غیر ارتقائی اختتام ہو جاتا ہے۔ نوعمری میں حمل اور زچگی کے دوران پیچیدگیاں لڑکیوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں ایک بڑا حصہ کم عمر ماؤں کا ہوتا ہے۔ نابالغ لڑکی، جو جذباتی اور ذہنی طور پر ازدواجی ذمہ داریوں کے لیے تیار نہیں ہوتی، اکثر گھریلو تشدد، زبردستی اور جذباتی استحصال کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ شادی اس کا بچپن، بے فکری اور خود مختاری چھین لیتی ہے۔ چونکہ یہ شادیاں اکثر والدین یا خاندان کے فیصلے پر ہوتی ہیں، لڑکی سے اس کے زندگی کے سب سے اہم فیصلے یعنی شریک حیات کے انتخاب کا حق سلب کر لیا جاتا ہے۔

    اسلام میں تعددِ ازواج کی مشروط اجازت ہے، لیکن پاکستان میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت مرد کو دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے تحریری اجازت اور یونین کونسل سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس قانون کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور مردوں کے صوابدیدی اختیار پر قدغن لگانا تھا۔ اگرچہ قانون میں پہلی بیوی کی اجازت لازمی ہے، لیکن کئی واقعات میں مرد حضرات یونین کونسل سے رجوع کیے بغیر یا پہلی بیوی پر دباؤ ڈال کر دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں پہلی بیوی اور اس کے بچوں کے حقوقِ کفالت، مساوات اور جذباتی استحکام شدید خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ دوسری بیوی کو لانے سے اکثر پہلی بیوی اور بچوں کو مالی اور جذباتی طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تعددِ ازواج میں تمام بیویوں کے ساتھ مکمل اور برابر کا سلوک، جو کہ مذہبی حکم بھی ہے، عملی طور پر ایک نازک توازن بن جاتا ہے جسے برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔قانون موجود ہونے کے باوجود، دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس کی کمزور عملداری اور کم آگاہی کی وجہ سے خواتین اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہوتیں اور انہیں استعمال کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔

    یہ دونوں سماجی و قانونی چیلنجز خواتین کی حیثیت اور ان کے وقار کے خلاف ہیں۔ حقوقِ نسواں کی حقیقی پاسداری کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں ، کم عمری کی شادی اور غیر قانونی تعددِ ازواج کے خلاف قوانین کو پورے ملک میں بلا امتیاز مذہب و علاقے سختی سے نافذ کیا جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ وہ شعور اور معاشی خودمختاری حاصل کر سکیں اور اپنے شادی کے فیصلے خود کر سکیں۔ مذہبی رہنماؤں، اساتذہ اور میڈیا کے ذریعے ان سماجی برائیوں کے خلاف مہم چلائی جائے اور اسلام میں خواتین کو دیے گئے حقوقِ مساوات و عدل کی صحیح تفہیم کو فروغ دیا جائے۔تمام صوبوں میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر کو 18 سال پر لانا اور اس کی خلاف ورزی پر سزاؤں کو سخت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پاکستان میں خواتین کی مکمل خودمختاری کا سفر تب تک ادھورا رہے گا جب تک کم عمری کی شادی اور تعددِ ازواج جیسے مسائل پر تحقیقاتی، تنقیدی اور اصلاحی نظر نہیں ڈالی جاتی۔ خواتین کو صرف خاندان کی زینت نہیں، بلکہ ایک آزاد، باشعور اور بااختیار شہری تسلیم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں بلکہ ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل میں اپنا پورا کردار ادا کر سکیں۔

  • لاشوں کے سہارے ڈرٹی گیم نہ کھیلیں ،تحریر:ملک سلمان

    لاشوں کے سہارے ڈرٹی گیم نہ کھیلیں ،تحریر:ملک سلمان

    عدیل اکبر کی تدفین کے وقت عدیل کا بھائی شرجیل میرے ساتھ کھڑا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر سی پی او گوجرانوالہ ایاز سلیم اور تیسرے پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی۔ عدیل کی موت کی خبر سے لیکر جنازے تک سارے تجزیہ کار چھٹی نہ دینے کی وجہ بتا کر علی ناصر رضوی کو ملزم ڈکلئیر کرچکے تھے۔ سینکڑوں سوشل میڈیا پوسٹوں میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے مرحوم عدیل اکبر کے ساتھ تحقیر آمیز رویے اور چھٹی نہ دینے کو ٹاپ سٹوری ڈسکس کیا جارہا تھا۔ سوشل میڈیا پوسٹوں کا اثر تھا کہ تدفین کے موقع پر میں نے علی ناصر رضوی کو عدیل کے ملزم کے طور پر دیکھااور سلام تک نہ لیا۔ بعد از تدفین جب علی ناصر رضوی شرجیل کو گلے لگا کر روتے ہوئے بار بار کہہ رہا تھا کہ وہ عدیل کے اس طرح جانے سے شدید دکھ کی کیفیت میں ہے اور اس غم کو ایسے ہی محسوس کر رہا ہے جیسے اس کا اپنا بیٹا چلا گیا۔ میں نے بہت غور سے علی رضوی کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیا کہ ان الفاظ میں نوجوان آفیسر عدیل کو کھونے کا دکھ ہے یا علی ناصر رضوی نے عدیل کے ساتھ کوئی بدتمیزی یا چھٹی نہ دیکر جو زیادتی کی ہے اس کا پچھتاوا ہے۔ علی رضوی کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات بتارہے تھے کہ اسے واقعی عدیل کے اس طرح دنیا سے رخصت ہوجانے کا شدید دکھ ہے۔

    یہ وہی علی ناصر رضوی ہے جس کے بارے گزشتہ ماہ مرحوم عدیل اکبر کوہسار مارکیٹ میں کھانے کی ٹیبل پر تعریف کر رہے تھے کہ رضوی صاحب اسے نہ صرف بلوچستان سے اسلام آباد لائے بلکہ شولڈر پرموشن کے ساتھ دیگر ایس پی ایز کے برابر پوسٹنگ دے کر اعتماد کا اظہار کیا۔ ممکن ہے کہ علی ناصر رضوی نے ڈیوٹی پر زیروٹالرینس پالیسی اپنائی ہو لیکن ابھی تک کہیں بھی ان کی بدنیتی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ بلوچستان سے اسلام آباد تبادلہ کرواکر مین سٹریم میں آنے کا موقع فراہم کیا۔جہاں تک علی ناصر رضوی کے تلخ رویے کا کہا جارہا ہے تو میری معلومات کے مطابق جب سے عدیل اکبر اسلام آباد آیا ہے اس دوران کم و بیش 20دن کیلئے علی رضوی بیرون ملک تھے اس لیے مختصر پوسٹنگ میں اختلافات کی باتیں ماورائے عقل ہیں۔

    سوشل میڈیا کے”دانشوڑوں“ کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد نے عدیل اکبر کو ترقی سے محروم کرنے کی دھمکی دی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیوروکریسی کی معمولی سمجھ بوجھ والے کو بھی معلوم ہے کہ علی ناصر رضوی تو اس بورڈ کیلئے عدیل کی اے سی آر لکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ جہاں تک علی ناصر رضوی کے سخت رویے کا تعلق ہے اسلام اباد پولیس میں پوسٹڈ پی ایس پی افسران سے لے کر ڈی ایس پی اور انسپیکٹر تک کے بہت سارے افسران سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ علی ناصر رضوی کے رویے بارے پوچھا تو سب کی طرف سے ملتا جلتا جواب ملا کے وہ اپنے افسران اور ماتحت عملے کا بہت خیال کرتے ہیں زیادہ سے زیادہ اس طرح ڈانٹتے ہیں کہ ”جے میں تہاڈے تو وڈی عمر دا ہو کے نہیں تھکدا تے تہانوں جوانی وچ ای تھکن اے۔ ”

    عدیل اس سے قبل بلوچستان میں جھوٹے الزامات، جھوٹی انکوائیریاں اور سب سے بڑھ کر ترقی سے محرومی جیسے بہت بڑے بڑے غم برداشت کرچکا تھا۔ایمانداری، اصول پرستی، وردی کی عزت اور حلف کی پاسداری کی قیمت کرپٹ سنئیر کی طرف سے رپورٹ خراب کرنے اور ترقی سے محرومی برداشت کی لیکن اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا۔ مرحوم عدیل اکبر پر
    بلوچستان میں زیارت کی پوسٹنگ کے دوران لگائے کی الزامات کو ڈی آئی جی عبدالغفار قیصرانی نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدیل اکبر کو کلئیر کردیا تھا۔ عبدلغفار قیصرانی کی ایمانداری اور اصول پرستی کا زمانہ معترف ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بھی انکا فیصلہ من و عن تسلیم کیا تھا۔

    گذشتہ تین دنوں میں، میں نے درجنوں پی ایس پی افسران سے ملاقاتیں اور ٹیلیفونک رابطے کیے تو مجھے اس بات کا اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ یہاں پی ایس پی افسران اچھی پوسٹنگ کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، ہر کوئی ”کی پوسٹ” پر جانے کیلئے بیتاب ہے اور اس مقصد میں کامیابی کیلئے اس سیٹ پر موجود ساتھی افسر کو نیچا دکھانے اور گرا کر اپنی باری لینا چاہتا ہے۔

    سیٹ کے حصول کیلئے اپنے ساتھی افسران پر ہر طرح کے الزامات لگانے اور کیچڑ اچھالنے میں باؤلے ہوئے پڑے ہیں۔عدیل اکبر اگر علی ناصر رضوی سے اس قدر تنگ ہوتا تواس کے پاس کہیں اور پوسٹنگ کروانے سمیت بہت سارے آپشنز تھے لیکن مبینہ خود سوزی کے محرکات کا تعلق شائد ترقی سے محرومی سمیت دیگر معاملات سے تھا کیونکہ عدیل اکبر کی کئی سال سے مسلسل غمگین شاعری اور انکے ذہنی معالج کی رائے کے مطابق عدیل اکبر لمبے عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکارتھے،ماہر نفسیات کے مطابق خودسوزی سے ایک دن قبل عدیل اکبرکے الفاظ تھے کہ انہیں شدید سٹریس ہے اور اس سٹریس کا تعلق پوسٹنگ یا ڈیوٹی سے نہیں کسی انجانے خوف سے ہے۔خبروں میں آنے کیلئے درجنوں افراد دوست بن کر من گھڑت کہانیاں سنا رہے ہیں۔ بہت سارے نوجوان افسران بھی سنی سنائی باتوں پر بنا ثبوت بے بنیاد الزامات پر مبنی جذباتی پوسٹیں لگا رہے ہیں۔
    نوجوان افسران سمیت تمام سوشل میڈیا ”دانشوڑوں ” سے گزارش ہے کہ سستی شہرت کے لیے ڈرٹی گیم کا حصہ نہ بنیں۔ آئی جی اسلام آباد کی کمانڈ کے خواہش مند پی ایس پی افسران کی خوشنودی کے لیے علی ناصر رضوی کو بلاوجہ ملزم بنا کر پیش نہ کیا جائے۔سائبر کرائم ایجنسی کو چاہئے کہ سستی شہرت اور ویوز کیلئے بنا ثبوت "پولیس کمانڈر” کی کردار کشی کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم عدیل کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے ورثاء کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

  • خواتین افسران میں کرپشن کا رجحان،تحریر:ملک سلمان

    خواتین افسران میں کرپشن کا رجحان،تحریر:ملک سلمان

    خواتین افسران میں مالی کرپشن کا ریٹ اور رجحان مرد افسران سے کہیں زیادہ ہے۔ خواتین افسران کی معزز شہریوں کے ساتھ بدتمیزی اور تحقیر آمیز رویہ تو عمومی ہے جبکہ اپنے ماتحت افسران اور سٹاف کے ساتھ بھی انتہائی ہتک آمیز سلوک کی ان گنت مثالیں اور داستانیں ہیں۔خواتین افسران کے بارے عمومی رائے ہے کہ یہ مسائل کا حل کرنے کے بجائے "ٹربل میکرز” کا رول ادا کرتی ہیں ۔خواتین افسران کی بڑی تعداد کمائی والی سیٹوں پر منشی بن کر پیسے اکٹھی کرتی ہیں اور آگے تک پہنچاتی بھی ہیں۔خواتین افسران کی اکثریت آج بھی سرکاری نوکری کو عزت اور رزق حلال کا زریعہ بنائے ہوئے ہیں۔

    خواتین افسران میں سے کم از 30سے 35فیصد کرپشن کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ بڑے خواب اور وقت سے پہلے سب کچھ پالینے کی خواہشات کی تکمیل کیلئے 3سے4فیصد کی بہت محدود تعداد بیوروکریٹک پارٹی گروپ جوائن کرچکی ہیں۔
    بہت سی جگہوں پر دیکھا گیا کہ خواتین افسران اگر اے سی، اے ڈی سی آر یا ڈی سی ہیں تو انکا ہیڈ کلرک ”سیٹ“ چلا رہا ہوتا ہے۔ایک خاتون افسر نے اپنے بیج میٹ سے جلدی کام کرنے کے پیسے مانگ لیے اور ساتھ احسان بھی جتلایا کہ یہ کام اتنے کا تھا تمہیں ڈسکاؤنٹ دے رہی ہوں۔ اسی طرح ایک اتھارٹی کی سربراہ خاتون افسر نے ایک کام کے چالیس لاکھ مانگے تو متعلقہ سپیشل سیکرٹری تک شکایت پہنچی تو انہوں نے فون پر بہت ججھکتے ہوئے بات کی میڈم شائد آپ کے بیحاف پر کسی نے فلاں بندے سے پیسے مانگے ہیں تو مذکورہ خاتون نے جھٹ سے جواب دیا کہ سر آپ سے اوپر افسر تک بھی جاتے ہیں آپ”چل“ کریں۔بہت سی خواتین افسران کے کاروباری شوہر اپنی بیویوں کے سرکاری دفاتر میں کرسی رکھے کے بیٹھے ہوتے ہیں۔

    دبنگ افسر:
    ان کے بارے مشہور کردیا جاتا ہے کہ بہت دبنگ افسر ہے کسی کی بات نہیں سنتی، ایسی افسران اپنے افسر کیڈر پر بھی اعتبار نہیں کرتی کہ حصہ مانگ لے گا ان کا سارا لین دین مخصوص چھوٹا ملازم کرتا ہے۔ ایسی خواتین افسران نے مالی کرپشن جی بھر کر کرنی ہوتی ہے حتیٰ کہ جوکام مرد افسر سے تعلق واسطے یا ڈسکاؤنٹ کے ساتھ کروایا جاسکتا ہے وہی کام خاتون افسر "فکس ریٹ“پر کرتی ہیں۔ ایسے افسران کسی اتھارٹی یا محکمے میں گئیں تو اسکی کھال تک اتار کر بیچنے کی حد تک جاتی ہیں جبکہ تحصیل اور ضلعی سربراہ کی طور پر بڑے کاروباری مراکز اور ہاؤسنگ سوسائیٹیز سے لیکر گھریلو زمین کے تنازع کو بھی کمائی کا زریعہ بنا لیتی ہیں۔

    گرل فرینڈ کلچر:
    خوش آئند بات یہ ہے کہ خواتین افسران میں سے بامشکل 3سے4فیصد خواتین نے اس راستے کو اپنایا ہے۔لیکن خطرناک بات یہ ہے پارٹی گروپ والی افسران کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی سپیڈ باقیوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر تشویش والی بات یہ ہے کہ ایسی خواتین افسران اہم سیٹوں پر آنے کیلئے ناصرف خود پارٹی گروپ جوائن کرتی ہیں بلکہ دیگر خواتین افسران کو گروپ جوائن کروانے کیلئے بھی آفرز کرتی ہیں، بڑے افسران کی پارٹی میں "پارٹی آؤٹ فٹ” زیب تن کیے مرکز نگاہ ہوتی ہیں اور جام بنانے اور پلانے کا ہنر آزماتی ہیں اور اہم افسران کی گرل فرینڈ بن جاتی ہیں۔ تگڑی سیاسی شخصیت اور بڑے افسر کی گرل فرینڈ بنی افسران اپنے محکمے کی چودھرانی بن جاتی ہے اور جونئیرز کو ذاتی ملازم کی طرح اور سنئیرز کو فار گرانٹڈ لیتی ہیں، اسی طرح بڑے افسر تک رشوت اور گھپلوں کی رقم کا حصہ پہنچانے والی خواتین افسران بھی دھرلے سے ایڈیشنل چارج بھی اپنے پاس رکھتی ہیں۔

    فرسٹ جنریشن افسر خواتین میں سے اکثریت خود کو ماورائی مخلوق، جبکہ ماتحت عملے اور معزز شہریوں سے بدتمیزی اور کرپشن کی کمائی کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ فرسٹ جنریشن افسر خواتین میں سے جو میرٹ پر کام کرتی ہیں اور کسی بھی پارٹی یا کنسپٹ کلئیر کرپٹ گروپ سے تعلق نہیں رکھتیں انہیں کھڈے لائن ٹائپ پوسٹنگ ہی دی جاتی ہے۔جب سنئیر افسران کو ”فیس سیونگ“ کیلئے کوئی ایماندار افسر چاہئے ہو تو ایسی خواتین کی اچھی پوسٹنگ کی صورت لاٹری لگ جاتی ہے۔
    ایک خاتون آفیسر نے اپنے غم کا اظہار اس شعر کے ساتھ کیا کہ
    اب تو گھرا کے کہتے ہیں مرجائیں گے
    مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

    دنیا جہاں سے الگ ہوکر دن رات محنت کرکے مقابلے کا امتحان پاس کیا، سی ایس ایس کر کے بھی کبھی اچھی پوسٹنگ اس نہیں مل سکی کہ نہ تو وہ افسران کی ساقی و نائکہ بن سکتی ہے اور نہ ہی منشی بن کر رشوت بازاری اور سرکاری فنڈز میں گھپلے کرسکتی ہے۔ یہ ساری باتیں وہی ہیں جو بیوروکریسی کے افسران کی زبان زدعام ہیں جبکہ جو باتیں جن القابات اور طریقوں سے خواتین افسران دوسری خواتین کے بارے بتاتی ہیں وہ لکھنے سے قاصر ہوں۔

    بیوروکریٹک یا آفیسر بیک گراؤنڈ کی حامل خواتین کی اکثریت کو اپنے مضبوط بیک گراؤنڈ کی وجہ سے کسی بھی کرپٹ گروپ کا حصہ بنے بغیر ہی پوسٹنگ مل جاتی ہے۔ سرکاری بیک گراؤنڈ کی حامل خواتین افسران میں زیادہ تر تمیزدار اور رکھ رکھاؤ والی ہوتی ہیں جبکہ چند اسی بیک گراؤنڈ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے”غندہ ازم“ کو اپنا استحقاق سمجھتی ہیں۔ مرد افسران کی بدتمیزی کا جہاں اختتام ہوتا ہے ان تگڑے بیک گراؤنڈ والی خواتین کی جہالت اور بدتمیزی کا نقطہ آغاز، ایسی باس خواتین کے رویے سے مرد و زن کوئی بھی محفوظ نہیں، چند ماہ قبل ایسی ہی بدتمیز باس کی وجہ سے ایک آفیسر ہارٹ اٹیک کرواکر ”پی آئی سی“ پہنچ گئے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین افسران کیلئے مستقل بنیادوں پر کپیسٹی بلڈنگ، پبلک ریلیشنز اور نفسیاتی امور کی ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے۔ خواتین افسران کو چاہئے کہ اس مشرقی معاشرے میں خواتین کو جس قدر احترام دیاجاتا ہے اس کا تھوڑا سا مان بھی رکھ لیں نا کہ ہر برائی کا دفاع ”خاتون کارڈ“ کی مظلومیت سے کریں۔

  • پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان اس وقت نہایت نازک جغرافیائی اور سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔ کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی اور سرحدی جھڑپوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مجروح کیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو داخلی استحکام اور سیاسی ہم اہنگی کی اشد ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے اندرونی سیاسی منظر نامہ کسی اور سمت میں جا رہا ہے۔ ایسے موقع پر جب قومی سلامتی اور خطے کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے ملکی سیاسی جماعتوں کی تمام توجہ کشمیر میں حکومت کی تبدیلی یا اقتدار کے کھیل پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ پارلیمانی چالوں اور سیاسی جوڑ توڑ کے اس دور میں یہ احساس کم ہی نظر آتا ہے کہ ملک بیرونی دباؤ اور اندرونی کمزوریوں کے درمیان پھنس چکا ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں معمولی سیاسی غلطی بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ سیاسی قیادتوں کو اس موقع پر صبر و تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دینا ہی اصل قیادت کی پہچان ہوتی ہے۔

    اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں باہمی اختلافات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر ملک کی مجموعی سلامتی، معیشت اور سفارتی محاذ پر یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ دنیا بھر میں جب بھی ریاستیں داخلی خلفشار میں الجھتی ہیں تو بیرونی قوتیں اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادتیں قومی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں سفارتی سطح پر مضبوط موقف اختیار کریں اور عوام کو یہ اعتماد دلائیں کہ ملک کی بقاء اور استحکام سب سے مقدم ہے۔ اقتدار کی سیاست ہمیشہ کے لیے نہیں مگر قومی مفاد ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اگر سیاسی قوتوں نے حالات کی سنگینی کو نہ سمجھا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھیے تقسیم اندرونی ہو تو دشمن کو کسی بڑی محنت کی ضرورت نہیں رہتی اس وقت پاکستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر ملک کے اندرونی سیاسی ماحول کا عدم استحکام نہ صرف قومی یکجہتی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ دشمن قوتوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔ سیاسی چال بازیوں اور اقتدار کی جنگ کو کچھ عرصے کے لیے موخر کرکے قومی سلامتی اور استحکام پر توجہ دی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں بحران کے وقت متحد رہتی ہیں تو ہر مشکل پر قابو پا لیتی ہیں۔