Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ائیر موٹر بائیک کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ائیر موٹر بائیک کی کامیاب آزمائشی پرواز

    اڑنے والی کار کے بعد اڑنے والی موٹربائیک کی آزمائشی پرواز کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :یہ تجربہ ٹوکیو میں قائم ڈرونز کا کاروبار کرنے والی کمپنی اے ایل آئی ٹیکنالوجیز نے کیا ،یہ موٹرسائیکل 60 میل فی گھنٹہ(100 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے 40 منٹ تک سفر کر سکتی ہے اور اسے آئندہ سال فروخت کیلئے پیش کیا جائے گا۔

    اڑنے والی اس موٹربائیک کی ابتدائی قیمت 6 لاکھ82 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے اور اس پر ایک فرد بیٹھ سکتا ہے کمپنی فی الحال صرف 200 موٹر سائیکل بنائے گی جو2022 کے پہلے چھ ماہ میں فروخت کیے جائیں گے۔ ایک موٹرسائیکل کا وزن300 کلوگرام ہے۔
    https://www.youtube.com/watch?v=zblqct6bPvQ
    تجرباتی پرواز کے دوران موٹر سائیکل زمین سے کئی فٹ اوپراور تقریباً ڈیڑھ منٹ تک پرواز کرتا رہا اس کے پہیوں کی جگہ ہیلی کاپٹر کی طرز کے اسٹینڈ لگائے گئے ہیں یہ موٹرسائیکل اڑنے والی ان چند گاڑیوں میں سے ہے جو اس وقت مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

    ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    تفریحی سرگرمیوں کے علاوہ یہ موٹر سائیکل سمندر میں حادثات سے لوگوں کو بچانے میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھنے کی خوبی ہے وہیں اس میں ایک خامی یہ ہے کہ پرواز کے وقت شور بہت زیادہ پیدا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ پرواز کا مشاہدہ کرنے والوں کو ایئرپلگ دیئے گئے تھے۔

    اے ایل آئی ٹیکنالوجیز کے مطابق موٹرسائیکل میں ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو پرواز کے دوران اس کا توازن برقرار رکھتی ہے۔

    جولائی 2021 میں کیلیفورنیا میں بھی اڑنے والی اسپیڈر سائیکل کی کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی تھی، جو15ہزار فٹ کی اونچائی تک پہنچ سکتی ہے اور فی الحال اس کی قیمت3 لاکھ 80 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے۔ کمپنی اس سائیکل کو 2023 میں ڈیلیور کرنے کے لیے آرڈر بھی بک کر رہی ہے۔

    جبکہ جولائی میں ہی لوواکیا میں مقیم کمپنی کلین ویژن کی اُڑنے والی گاڑی یا فلائنگ کار کے ایک آزمائشی کامیاب تجربہ کیا تھا نیترا اور براٹیسلاوا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے درمیان ایک گھنٹہ 35 منٹ کی پرواز کامیابی سے مکمل کی تھی –

    اس کےموجد پروفیسر سٹیفن کلین نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کار ایک ہزار کلومیٹر اور 8200 فٹ کی بلندی پر اُڑ سکتی ہے اسے کار کی خصوصیات سے ہوائی جہاز کی خصوصیات حاصل کرنے میں صرف دو منٹ 15 سیکنڈ لگتے ہیں-

    کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

  • فیصل آباد آرٹس کونسل میں یوم سیاہ کے سلسلے میں کشمیریوں کے جدوجہد آزادی پر مشتمل تصویری نمائش

    فیصل آباد آرٹس کونسل میں یوم سیاہ کے سلسلے میں کشمیریوں کے جدوجہد آزادی پر مشتمل تصویری نمائش

    فیصل آباد(عثمان صادق)کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے کشمیریوں کو حق رائے دہی دئیے بغیر علاقائی امن ممکن نہیں۔یہ بات ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے فیصل آباد آرٹس کونسل کے زیراہتمام کشمیر کے حوالے سے یوم سیاہ کے سلسلے میں کشمیریوں کے جدوجہد آزادی پر مشتمل تصویری نمائش کا افتتاح کرنے کے بعد تصاویر دیکھتے ہوئے کہی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز محمد خالد،اسسٹنٹ کمشنر سٹی صاحبزادہ محمد یوسف اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ27۔اکتوبر 1948ء کو کشمیرمیں ہندوستانی فوج کے داخلہ اور قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تصاویری نمائش کا مقصد بھارتی فوج کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو اجاگر کرکے احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی ہر طرح سے حمایت جاری رکھی جائے گی۔نمائش میں رکھی گئی تصاویر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں

  • شاکر ساکوں معاف چا کر! تحریر زکیہ نیر

    ارمان ہے شاکر ایں گَل دا
    ساڈا یار ہوندا اَساں کیوں رُلدے ۔۔۔
    شاکر شجاع آبادی ادب کی دنیا کا ایسا ستارہ جسکے بنا شاید ہی سرائیکی شعر کی منزل تک کوئی پہنچ سکے ہیرے جیسے شعر لکھنے والا سونے جیسے گیتوں کا خالق تخیل اتنا قیمتی کہ شعر شعر انمول آج انہیں ایک موٹر سائیکل پر ایک کپڑے سے بندھا دیکھا یعنی ادب کا امیر آج اتنا غریب ہوا کہ کسی کرائے کی گاڑی تک میں بیٹھنے کو پیسے نہیں جیب خالی اور مرض مہنگا ۔۔۔ایسے میں سرائیکی ادب کی پہچان شاکر کو زمانے کے رحم وکرم پہ رُلتے دیکھا۔۔۔جب سے ویڈیو دیکھی سمجھ نہیں آرہی کہ کس سے گلہ کروں کس کو دہائی دوں کونسا ایسا ادارہ ہے جو فنکاروں کی حالت زار پہ انہیں سہارا دیتا ہے وہ فنکار جو اپنے فن سے لاکھوں دلوں میں گھر کرتے ہیں وہ در بدر کیوں ہیں کہاں شاکر کی عرضی لے کر جاؤں۔
    شاکر شجاع آبادی کا اصل نام  شفیع محمد شجاع آبادی ہے جبکہ تخلص شاکر۔۔۔ان کا تعلق ملتان سے ستر کلو میٹر دور شجاع آباد کے ایک گاؤں راجہ رام سے ہےشاکر 1968 میں پیدا ہوئے 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں نصابی تعلیم نہ ہونے کیوجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے مگر شاعری انہوں نے ریڈیو سن کر سیکھی وہ سرائیکی خطے میں پیدا ہوئے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ سرائیکی عوام کو محرومیوں میں رکھا گیا اور وہ اپنی شاعری کے زریعے انکی محرومیوں کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچائیں گے۔۔انہیں عشق کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے انہوں نے ساری زندگی غربت دیکھی انکے شعروں کو سراہا ضرور گیا جس پر انہیں کئی ایوارڈز بھی دئیے گئے مگر حالات بدلنے کی نہ کوشش کی گئی نہ ہی اس بارے سوچا گیا۔
    ہِک شاکر تھی برباد گئے
    ڈوجھے تبصرے کھا گئے لوکاں دے۔
    انکے دوہڑے کئی سیاستدان اپنے جلسوں میں پڑھتے رہے ایک بار تو مریم نواز صاحبہ نے خود کو انکی مداح بھی کہا دو بار صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا انکی تصانیف میں کلام شاکر،پیلے پتر،پتھر موم،
    لہو دا عرق،شاکر دے ڈوہڑے،شاکر دے قطعے،بلدیاں ہنجوں،پتہ لگ ویندے،شاکر دے گیت،شاکر دیاں غزلاں،منافقاں توں خدا بچاوے،اور شاکر کی اردو غزلیں شامل ہیں۔۔انہی سخی لکھاری بھی کہا جاتا ہے ایک ایسا شاعر جسے کبھی کوئی چاہ نہ رہی لوگ کہتے شاکر کسی وزیر مشیر سے بیٹوں کی نوکری ہی مانگ لو مگر وہ شاکر ہی کیا جو بے نیازی میں سر نہ جھٹک دے  کہتا حاکمو جس حال میں بھی رکھو شاکر شاکر ہی رہے گا اپنی ساری زندگی میں کبھی شاکر شجاع نے کسی کی شان میں قصیدے نہ لکھے نہ ہی کسی کے لیے تعریفی کلمات کہے۔۔
    بے وزنی ہیں تیڈی مرضی ہے بھانویں پا اچ پا بھانویں سِر اچ پا
    یا چَن دی چٹی چاندنی وچ بھانویں رات دے سخت ہنیر اچ پا
    پا کہیں دشمن دی فوتگی تے یا جھُمر دے کیں پھیر اچ پا
    راہ رُلدے شاکر کنگن ہیں بھانویں ہتھ اچ پا بھانویں پیر اچ پا۔
    بدقسمتی سے شاکر شجاع آبادی پہلے فنکار نہیں جو حکومتی بے حسی کے حصار میں ہیں یہاں کئی فنکار جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے پاکستان کا نام روشن کرنے میں اپنے فن کا  نقطہ  نقطہ دان کیا جن کے فن سے لوگ محظوظ ہوتے رہے مگر جب بھی ان جگمگاتے ستاروں پہ برا وقت آیا ریاست نے کمر ہی دکھائی کئی فنکار غربت اور تنگدستی میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے۔۔۔حکومتیں آتی رہیں جاتی رہیں مگران لوگوں کے لیے کوئی ایسا فنڈ نہیں رکھا جاتا کہ جب ان پر بیماری یا کوئی مصیبت کی گھڑی آئے تو یہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں نہ ہی انکی فلاح کے لیے کوئی ادارہ قائم کرنے کا خیال آیا۔۔۔انکا حق بنتا ہے کہ انہیں انکے فن کاصلہ ریاست کی جانب سے دیا جائے بے حسی کی انتہاء ہے شاکر کی حالت زار دیکھ کر سوال تو جنم لیتے ہیں کہ کیا اس مملکت کے تمام مالی وسائل امراء اور حکمرانوں کے لئے ہیں کیا اس بے بس اور غریب شاعر کا اس ملک پر کوئی حق نہیں ہے دعوے تو ہر بار سینہ تان کے کیے جاتے ہیں کہ کلچر فنڈز میں ادب سے تعلق رکھنے والوں کو بھی حق ادا ہونگے  مگر شاکر جیسوں کی سسکتی زندگی دیکھ کر صرف سینہ ہی پیٹا جاسکتا ہے
    بندے ڈیکھ کہ روندیں زندگی کوں
    میکوں ڈیکھ کہ زندگی رو پئی ہے۔
    شاکر شجاع آبادی صاحب ہم شرمندہ ہیں ہمیں چوہتر سال گزرنے کے بعد بھی آپ جیسے انمول فنکاروں کو عزت اور احترام دینا نہ آیا جو اس دھرتی ماں کی آبرو میں جھل مل کرتے ستارے رہے میری حکمرانوں سے ہاتھ جوڑ کر فریاد ہے شاکر اور اس جیسے کئی فنکار لوگ کسمپرسی میں حیاتی بسر کر رہے ہیں اٹھیے اور پہنچیے انکے آس کے جھونپڑوں میں اور دیکھیے جو زیست وہ گزار رہے اسکے حقدار ہیں کیا۔۔۔پھر کل کو جب وہ نہیں رہیں گے تو آپ انکے نام پر سیمینارز منعقد کراؤ گے مشاعرے سجائے جائیں گے  ایوارڈز تقسیم کرو گے اور تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دوگے مگر کیا فائدہ مرنے کے بعد کس نے دیکھا کہ کسی چوراہے پہ اسکے نام کی تختی لگا کر اسے اعزاز بخشا جارہاہے جو کرنا ہے انکی زندگی میں کیجیے تاکہ انہیں بھی فخر ہو کہ جس مملکت کی آبیاری میں انکے فن کے لطیف احساسات بھی شامل ہیں اس ریاست نے بڑھ کر ایسے مالیوں کے گلے لگا لیا ہے۔
    اساں مفت اِچ شاکر رُل گئے ہیں
    جڈاں ویسوں مر ساڈا مُل پوسی۔
    میرا ایک شعر شاکر صاحب کے لیے کہ
    شاکر اساں شرمسار بہوں
    توں ظرفاں آلا ساکوں معاف چاکر
    اساں تیڈی حیاتی رُلدی ڈیکھی
    تُوں قلماں آلا ساکوں معاف چا کر
    توں مر کہ ڈیکھ اساں عزت ڈیسوں
    تُوں صبراں آلا ساکوں معاف چا کر۔

    @NayyarZakia

  • موبائل فونز جن پر یکم نومبر سے واٹس ایپ نہیں چلے گا

    موبائل فونز جن پر یکم نومبر سے واٹس ایپ نہیں چلے گا

    معروف ایپ واٹس ایپ نے یکم نومبر سے مخصوص آپریٹنگ سسٹم کے آئی فونز اور اینڈرائیڈ کے لیے اپنی سپورٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ سب سے زیادہ مقبول انسٹنٹ میسجنگ ایپ میں سے ایک ہے۔ بہت سے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین اپنے دوستوں اور فیملی ممبرز کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن، اگر آپ آپریٹنگ سسٹم کے پرانے ورژن پر چلنے والا اینڈرائیڈ یا آئی او ایس اسمارٹ فون استعمال کررہے ہیں، تو آپ اگلے ماہ سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گےواٹس ایپ نے ان ڈیوائسز کی فہرست شیئر کی ہے جو یکم نومبر 2021 سے واٹس ایپ میسجنگ ایپ کو مزید سپورٹ نہیں کریں گی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یکم نومبر سے واٹس ایپ کی سروسز سے محروم ہونے والوں 53 موبائل فونز میں آئی فون، سیم سانگ، ایل جی، سونی، ذیڈ ٹی اے اور دیگر شامل ہیں واٹس ایپ انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد آئی او ایس 9 اور اینڈرائیڈ 4.04 سے پہلے کے آپریٹننگ سسٹم پر واٹس ایپ نہیں چلے گا۔

    رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے ہدایت کی ہے کہ اگر صارفین واٹس ایپ کی سروسسز اور ڈیٹا سے محروم نہیں ہونا چاہتے تو ورژن اپ ڈیٹ کرلیں اگر آپ کا فون اینڈرائیڈ اپ گریڈ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور آپ نے ایسا نہیں کیا ہے تو یہ الگ مسئلہ ہے۔ اس صورت میں، صرف سیٹنگز مینو پر جائیں اور "فون کے بارے میں چیک کریں کہ کون سا اینڈرائیڈ ورژن چل رہا ہے۔ اگر اپ ڈیٹ کا کوئی آپشن دستیاب ہے تو واٹس ایپ کا استعمال جاری رکھنے کے لیے اسے دبائیں۔

    آئی فون صارفین کے لیے واٹس ایپ صرف iOS 10 یا اس سے اوپر کے ورژن پر کام کرے گا اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز کی فہرست جو واٹس ایپ سپورٹ سے جاری کی گئی ہے اس میں ایپل، سام سنگ، ایل جی، زیڈ ٹی ای، ہواوے، سونی اور الکاٹیل جیسے برانڈز کے اسمارٹ فونز شامل ہیں۔

    واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل موبائل فونز پر یکم نومبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔

    موبائل فونز کی فہرست:

    Apple Phones : iPhone SE, iPhone 6S, and iPhone 6S Plus

    Samsung Phones: Samsung Galaxy Trend Lite, Galaxy Trend II, Galaxy SII, Galaxy S3 mini, Galaxy Xcover 2, Galaxy Core and Galaxy Ace 2

    LG Phones: Lucid 2, LG Optimus F7, LG Optimus F5, Optimus L3 II Dual, Optimus L5, Optimus L5 II, Optimus L5 Dual, Optimus L3 II, Optimus L7, Optimus L7 II Dual, Optimus L7 II, Optimus F6, Enact, Optimus L4 II Dual, Optimus F3, Optimus L4 II, Optimus L2 II, Optimus Nitro HD, 4X HD and Optimus F3Q

    ZTE Phones: ZTE Grand S Flex, ZTE V956, Grand X Quad V987 and ZTE Grand Memo

    Sony Phones: Xperia Miro, Sony Xperia Neo L and Xperia Arc S

    Huawei Phones: Ascend G740, Ascend Mate, Ascend D Quad XL, Ascend D1 Quad XL, Ascend P1 S, and Ascend D2

    Alcatel،Archos 53 Platinum،HTC Desire 500،Caterpillar Cat B15،Wiko Cink Five،Wiko Darknight،Lenovo A820:Other UMi Run
    THL W8،F1،X2،smartphones،

  • لائیو شو میں میزبان کی شعیب اختر سے بدتمیزی پر فنکاروں کی مذمت

    لائیو شو میں میزبان کی شعیب اختر سے بدتمیزی پر فنکاروں کی مذمت

    سرکاری ٹی وی پر میزبان نعمان نیاز نے پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے ساتھ شو میں بدتمیزی کی تھی جس کی جہاں سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سےبھرپور مذمت کی جا رہی ہے وہیں شوبز فنکار بھی بول پڑے ہیں-

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز پی ٹی وی اسپورٹس کے پروگرام میں شعیب اختر نے حارث رؤف کی تعریف کی جو میزبان کو گوارا نہ گزری آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی پر سابق قومی کرکٹر شعیب اختر نے حارث رؤف کی تعریف کی اور اس کا کریڈٹ لاہور قلندرز کے پلیئر ڈولپمنٹ پروگرام کو دیا-

    سرکاری ٹی وی پر جاری ورلڈ کپ کے شو میں بحیثیت ایکسپرٹ پینل میں ویسٹ انڈین لیجنڈ ویو رچرڈز، ڈیوڈ گاور، عاقب جاوید، راشد لطیف ، عمر گل ، اظہر محمد اور سپر اسٹار شعیب اختر شامل تھے۔

    ان تمام اسٹار زکی موجودگی میں شعیب اختر نے حارث رؤف کا ذکر کرتے ہوئے لاہور قلندرز کی تعریف کی اور کہا کہ یہ نوجوان بولر قلندرز کے پلیئر ڈولپمنٹ پروگرام کی پیداوار ہے ۔

    سرکاری ٹی وی کےمیزبان کا لائیو شو میں نامناسب رویہ، شعیب اختر نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا

    سرکاری ٹی وی کے میزبان کو قلندرز کی تعریف شاید پسند نہ آئی اور جواب میں وہ شعیب اختر سے ہی نا شائستہ رویہ اپنا بیٹھے اور انہیں شو سے اٹھ جانے کو کہہ دیا میزبان پہلے تو یہ کہہ کر حارث کی بات کو گول کرنے لگے کہ شاہین آفریدی انڈر 19 سے آیا جبکہ بعد میں ناشائستہ انداز اپناتے ہوئے شعیب اختر کو لائیو ٹی وی شو سے چلے جانے کا کہہ دیا ۔

    تلخی پر شو کے دوران بریک لیا گیا ،بریک کے بعد شعیب اختر شو پر آئے اور لائیو شوکے دوران مستعفی ہونے کا اعلان کرکے شو سے اٹھ کر چلے گئے۔


    میزبان نعمان نیاز کی شعیب اختر کے بدتمیزی پر معروف اداکار عدنان صدیقی کا بیان سامنے آیا ہے عدنان صدیقی نے بدتمیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کرنے پر شعیب اختر کی تعریف کی اور کہا کہ شعیب اختر نے اپنے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کو صبر کے ساتھ برداشت کیا، اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتا، یہ اچھی پرورش کی نشانیاں ہیں۔


    معروف گلوکار علی ظفر نے شعیب اختر کی حمایت میں ٹوئٹر پر لکھا کہ ہمیں اپنے قومی ہیروز اور عام طور پر ایک دوسرے کا احترام کرنا ضرور سیکھنا چاہیے، ہمیں اپنی رائے دینے کا حق بالکل ہے تاہم دوسروں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اس کے لیے الفاظ کا صحیح انتخاب اور ساتھ ہی مہذب انداز میں ان کا اظہار بھی اہم ہے۔ علی ظفر نے لکھا ’شعیب اختر، آپ ایک لیجنڈ ہیں‘۔

    نکاح نامے میں ختم نبوت کا حلف شامل کرنے کی قرداد منظور

    علی ظفر نے لکھا کہ عام طور پر دیکھا جائے تو آج کی دنیا میں باہمی احترام، ہمدردی، عاجزی، ہمدردی اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو تحمل سے سننے کی سنہری اقدار کی جگہ عجلت میں فیصلے، غیر مہذب اظہار، زبان کے نازیبا استعمال اور بے عزتی نے لے لی ہے۔


    اداکار ہمایوں سعید نے ٹوئٹ کیا کہ بحث و مباحثہ ہر ٹی وی شو میں ہوتا ہے لیکن کوئی بھی میزبان کسی مہمان کو شو چھوڑ کر جانے کا حکم نہیں دیتا، یہ کسی بھی مہمان کو مخاطب کرنے کا ٹھیک طریقہ نہیں تھا، نعمان نیاز کو کم از کم شعیب اختر سے معافی مانگنی چاہیے تھی۔

    نیوزی لینڈ کوشکست، ٹوئٹر پر’سیکیورٹی‘کا ٹرینڈ اور مزاحیہ میمز کا طوفان

  • ضلع بھر میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی ظلوم و ستم کیخلاف بلیک ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا

    ضلع بھر میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی ظلوم و ستم کیخلاف بلیک ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا

    ضلع بھر میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی ظلوم و ستم کیخلاف بلیک ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا

    قصور ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی افواج کے مقبوضہ جموں کشمیر پر ناجائز قبضے کی مذمت کیلئے بلیک ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ضلع بھر میں ریلیوں کا اہتمام کیاگیا جس میں ضلعی افسران‘طلباء اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ واک کے شرکاء نے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی فورسز کے مقبوضہ جمو ں وکشمیر پر ناجائز قبضے کے خلاف پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ 27اکتوبر برصغیر کے مسلمانوں کے تاریخی تناظر میں ایک سیاہ دن ہے اس روز بھارتی افواج نے کشمیری بھائیوں کے بنیادی حقوق کیساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا۔ کشمیری عوام 74سال سے اس ظلم و بربریت سے آزادی حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ آج کے دن ہم کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور بھارتی افواج کے ناجائز قبضے کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ریلیوں کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی اور کشمیرکی آزادی کیلئے خصوصی دعا ئیں بھی کی گئیں
    مہر بشارت صدیقی باغی ٹی وی قصور

  • نیوزی لینڈ کوشکست، ٹوئٹر پر’سیکیورٹی‘کا ٹرینڈ اور مزاحیہ میمز کا طوفان

    نیوزی لینڈ کوشکست، ٹوئٹر پر’سیکیورٹی‘کا ٹرینڈ اور مزاحیہ میمز کا طوفان

    پاکستان کی نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار جیت کی خوشی میں شائقین کرکٹ ٹوئٹر پر’سیکیورٹی‘ ٹرینڈ چلا رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر مزاحیہ میمز کا طوفان برپا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ پر طنزومزاح سے بھرپور میمز شیئر کی جا رہی ہیں اور سیکیورٹی کے نام پردورہ پاکستان منسوخ کرنے پر کڑی تنقید بھی کی جارہی ہے۔


    سوشل میڈیا پر وائرل ایک میم میں بابراعظم کیوی کپتان سے پوچھ رہے ہیں کیا اب محفوظ محسوس کر رہے ہیں؟ ایک صارف نے آصف کی تصویر کے ساتھ تبصرہ داغا، یہ تھا اصل سیکیورٹی تھریٹ۔


    ایک صارف نے کیوی کپتان اور شعیب ملک آصف کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ سیکیورٹی فنٹاسٹک تھی-


    وفاقی وزیر فواد چوہدری کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ آسل غصہ ہی ہمیں نیوزی لینڈ پر تھا یہ انڈیا تو راستے میں آگیا-


    نیوزی لینڈ کی حکومت سے سوشل میڈیا پر یہ سوال کررہے ہیں کہ شارجہ میں تو آپ کو سیکیورٹی کا مسئلہ درپیش نہیں تھا ؟ کیونکہ آپ نے سیکیورٹی کا بہانہ بناکر پاکستان کا دورہ ختم کردیا تھا۔


    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ویلڈن پاکستان، سیکیورٹی کا مسئلہ بھی کامیابی سے حل ہوگیا۔


    https://twitter.com/idrikki541/status/1453077212660371456?s=20
    https://twitter.com/vikilogical/status/1453075019559407618?s=20


    پاکستانی سابق فاسٹ بالر شعیب اختر بھی کسی سے پیچھے نہ رہے انہوں نے بھی ٹویٹ کیا کہ میری تمام پاکستانی شائقین سے درخواست ہے کہ وہ خاموش رہیں یادہ لطف اندوز نہ ہوں۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ نیوزی لینڈ سیکیورٹی خدشات کی بناء پر نہیں تو اسٹیڈیم کے اندر بہت زیادہ شور کی وجہ سے میچ کو منسوخ کرنے کا کہہ سکتا ہے۔

  • سرکاری ٹی وی کےمیزبان کا لائیو شو میں نامناسب رویہ، شعیب اختر نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا

    سرکاری ٹی وی کےمیزبان کا لائیو شو میں نامناسب رویہ، شعیب اختر نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا

    پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے سرکاری ٹی وی شو کے اینکر کی جانب سے بدتمیزی کرنے پر لائیو شو میں مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی پر سابق قومی کرکٹر شعیب اختر نے حارث رؤف کی تعریف کی اور اس کا کریڈٹ لاہور قلندرز کے پلیئر ڈولپمنٹ پروگرام کو دیا-

    سرکاری ٹی وی پر جاری ورلڈ کپ کے شو میں بحیثیت ایکسپرٹ پینل میں ویسٹ انڈین لیجنڈ ویو رچرڈز، ڈیوڈ گاور، عاقب جاوید، راشد لطیف ، عمر گل ، اظہر محمد اور سپر اسٹار شعیب اختر شامل تھے۔


    ان تمام اسٹار زکی موجودگی میں شعیب اختر نے حارث رؤف کا ذکر کرتے ہوئے لاہور قلندرز کی تعریف کی اور کہا کہ یہ نوجوان بولر قلندرز کے پلیئر ڈولپمنٹ پروگرام کی پیداوار ہے ۔

    سرکاری ٹی وی کے میزبان کو قلندرز کی تعریف شاید پسند نہ آئی اور جواب میں وہ شعیب اختر سے ہی نا شائستہ رویہ اپنا بیٹھے اور انہیں شو سے اٹھ جانے کو کہہ دیا میزبان پہلے تو یہ کہہ کر حارث کی بات کو گول کرنے لگے کہ شاہین آفریدی انڈر 19 سے آیا جبکہ بعد میں ناشائستہ انداز اپناتے ہوئے شعیب اختر کو لائیو ٹی وی شو سے چلے جانے کا کہہ دیا ۔

    تلخی پر شو کے دوران بریک لیا گیا ،بریک کے بعد شعیب اختر شو پر آئے اور لائیو شوکے دوران مستعفی ہونے کا اعلان کرکے شو سے اٹھ کر چلے گئے۔


    فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے سرکاری ٹی وی شو پر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ٹی وی پر میزبان کا رویہ ناقابل برداشت تھا دنیا بھر کے لیجنڈز کے سامنے یوں شو سے جانے کا کہنا توہین آمیز تھا۔


    ان کا کہنا تھا مجھے سمجھ نہیں آیا کہ قومی ٹی وی پر ایک اسٹار کی یوں توہین مناسب نہیں، بریک پر مجھے اندازہ ہوا کہ غیر ملکیوں کے سامنے کیا امیج جائے گا تلخی کے باوجود بھی معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر میزبان نے اپنے رویے پر معافی نہیں مانگی جس کے بعد شو سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ۔


    سرکاری ٹی وی کے اسپورٹس شو میں شعیب اختر کے ساتھ رویے پرجہاں سابق کرکٹر نے برہمی کا اظہار کیا وہیں سوشل میڈیا صارفین نے غصے کا اظہار کیا ہے –

    بعد ازاں شعیب اختر کی جانب سے جاری ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نعمان نیاز کا رویہ ناقابل برداشت تھا، مجھے لائیو شو میں چلے جانے کو کہہ دیا گیا مجھے سمجھ نہیں آیا کہ ڈاکٹر نعمان نے ایسا کیوں کہا، قومی ٹی وی پر ایک اسٹار کی یوں توہین مناسب نہیں، بریک پر مجھے اندازہ ہوا کہ غیر ملکیوں کے سامنے کیا امیج جائے گا، ڈاکٹر نعمان سے کہا کہ کسی طرح معاملے کو ختم کریں۔

    سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ معاملے کو ختم کرنے کے لیے میں نے کہا کہ ہم مذاق کر رہے تھے، میں نے ڈاکٹر نعمان سے کہا کہ کہ معذرت کر لیں لیکن جب انہوں نے معذرت نہیں کی تو میں نے شو چھوڑ دیا۔شعیب اختر کا کہنا تھا میں نے معاملے کو پروگرام میں سنبھالنے کی کوشش کی مگر ڈاکٹر نعمان نے میری توہین کی، غیر ملکی اسٹارز اور قومی اسٹارز کیا سوچیں گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے، ڈاکٹر نعمان نے معافی نہیں مانگی اس لیے میں نے پروگرام سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا، جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی پر قومی ہیرو شعیب اختر کے ساتھ بد تمیزی کا ویڈیو دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا، شعیب اختر سچا ہیرو ہے اور ہمیشہ رہے گا ، مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ڈاکٹر نعمان نے بین الاقوامی سٹار کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا ۔

    دوسری جانب سرکاری ٹی وی نے پروگرام کے دوران پیش آنے والے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ہے انکوائری کمیٹی کا پہلا اجلاس آج ہو گا جس میں نعمان نیاز اور شعیب اختر کے درمیان پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی ۔ سوشل میڈیا پر نعمان نیاز کی جانب سے شعیب اختر کو براہ راست نشر ہونے والے پروگرام میں چلے جانے کا کہنے پر کافی ہنگامہ برپا ہے اور صارفین سابق فاسٹ باولر کے حق میں آگے آتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں

    کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے صدر عارف علوی نے یوم سیاہ پر اپنے پیغام میں کہا ہےکہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر پر غیرقانونی طور پر قبضہ کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ 7 دہائیوں میں بھارت نے کشمیری عوام کو بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا مگر اس کے باوجود کشمیریوں کا عزم متزلزل نہیں ہوا۔

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔

    دوسری جانب کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور کشمیر یوم سیاہ کے موقع پر پاکستان کی یوتھ پارلیمنٹ کے تعاون سے وزارت خارجہ کی طرف سے "ہاں میں کشمیر ہوں” کے عنوان سے ایک آج گانا جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ہر سال 27 اکتوبر کو کشمیر میں یوم سیاہ منایا جاتا ہے کشمیریوں کےلیے 27 اکتوبر 1947 کا دن کسی ڈروانے خواب سے کم نہ تھا کیونکہ تب پہلی مرتبہ بھارتی فوج نے اپنے قدم جنت نظیر میں رکھے تھے اور اس وقت سے لے کر آج تک مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے یہ دن یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

    یوم سیاہ کشمیر: وزارت خارجہ کی طرف سے تیار کئے گئے گانے کا ٹیزر جاری

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کو باور کروایا جائے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور اس قبضے کا قطعی کوئی اخلاقی، قانونی، آئینی جواز نہیں ہے۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی بھارت کشمیر میں ظلم کرنے سے باز نہیں رہا بلکہ اُس کے ظلم کر نے کےطر یقے بدلتے رہے۔

    ایسا ہی ایک عمل بھارت نے 5 اگست 2019 کے دن آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے کیا جب اُس نے کشمیریوں سے اُن کی شناخت ہی چھیننے کی کوشش کی۔ بھارت نے یہ گھناؤنا عمل کرکے کہ اپنے لیڈر جواہر لال نہرو کے اُس وعدے کو بھی توڑا جو اُس نے اقوام متحدہ اور اپنے ملک میں مختلف مقامات پر کیا تھا۔ اس وعدے میں اُس نے کہا تھا کہ بھارت کشمیر میں رائے شماری کروائے گا رائے شماری تو کبھی نہیں کروائی گئی البتہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کی کوشش ضرور کی گئی۔ بھارتی عمل سے جہاں ان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا تو دوسری طرف کشمیریوں کی آواز کو دنیا بھر میں بھی سنا گیا۔

    تاہم، 5 اگست 2019 کے بعد سے، کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی مانگ یہ بھی ہے کہ ہندوستان غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کرے اور حقِ خود ارادیت کا حق دے تاکہ وہ اپنی مرضی سے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔

    پاکستان ہمیشہ سے ہی کشمیریوں کے حق خودِرادیت کےلیے دنیا میں آواز بلند کرتا آرہا ہے مگر 5 اگست کے بعد سے تو پاکستان نے کوئی ایسا فورم نہیں چھوڑا جہاں کشمیریوں کی آواز دنیا بھر تک نہ پہنچائی ہو۔ وزیر اعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر ایسی سحر انگیز تقریر کی جس میں اُنھوں نے کشمیریوں کے اوپر ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے بیان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے بعد پاکستان نے انٹر پارلیمانی یونین میں بھی کشمیر کا مسئلہ اُٹھایا اور عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کا حق خودِرادیت یقینی بنائیں۔ پاکستان نے دنیا کو باور کروایا کہ کشمیریوں کے ساتھ یہ بدسلوکی ختم کروانے کےلیے بھارت پر زور دینا چاہیے۔

    اب دنیا بھی بھارت کے ظلم سے آگاہ ہوچکی ہے اس لیے تو امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے بیشتر قانون سازوں نے بھی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدامات پر سوالات اُٹھائے اور مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورت حال پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس وقت بھی بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں مشغول ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ظلم میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ نہتے معصوم کشمیریوں پر ایسے مظالم ڈھا رہا ہے کہ جس کو دیکھ کر انسانیت کا سَر بھی شرم سے جھک گیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر:کشمیری مجاہدین کے بھارتی فوج پرتابڑتوڑحملے،تازہ حملے میں‌ بڑا جانی…

    سن 1989 سے لے کر اب تک بھارت کی مسلط فورسز نے کم از کم ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جس میں سے 7 ہزار 130 لوگ وہ تھے جو دوران حراست دم توڑ گئے۔

    بھارت ہر کوشش کر رہا ہے کہ کشمیریوں کی آواز کو دبایا جائے تاکہ باہر کی دنیا کو علم نہ ہو سکے کہ وہ وادی میں کیا ظلم ڈھا رہا ہے۔ جیسے ہی پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا ہے تو دوسری طرف بھارت لائن آف کنٹرول پر جارحیت شروع کر دیتا ہے جس میں وہ نہتے شہر یوں کو نشانہ بنا تا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کےلیے پاکستان کےخلاف جھوٹا پروپیگنڈا بھی کر تا ہے۔

    ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں 27 اکتوبر کو مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے یومِ سیاہ منایا جائے گا۔ اس دن پوری دنیا کو یہی پیغام دیا جائے گا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے کشمیریوں بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسوں، ریلیوں کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کو یہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے ظلم سے بہت اچھی طرح واقف ہے اور وہ جتنا بھی ظلم کر ے وہ کشمیریوں سے اُنکی شناخت نہیں چھین سکتا۔

    پاکستان ہمیشہ سے کشمیر کے پر امن حل کےلیے کوشاں رہا ہے کیونکہ پاکستان کا یہ ماننا ہے کہ جنو بی ایشیاء میں پائیدار امن کے قیام کےلیے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل ہونا بہت ضروری ہے اور پاکستان نیک نیتی کے ساتھ کشمیر کا کیس لڑ کر اس کو اسی کی آزادی دلوا کر رہے گا۔

    ابھی حال ہی میں اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان سعودی عرب انوسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کا معاملہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرے تو ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ ہے کشمیر، اگر یہ مسئلہ حل ہوجائے تو ہمارے درمیان اور کوئی مسئلہ نہیں اس وقت پاکستان کی اکثریتی آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے کل رات پاکستان نے بھارت کو میچ میں بری طرح پچھاڑ دیا تاہم ابھی میچ پر بات کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے-

  • وزیراعلیٰ عثمان بزدارسے فیصل آباد میں تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز،وکلاء ونگ اور یوتھ ونگ کے عہدیداروں کی ملاقات

    وزیراعلیٰ عثمان بزدارسے فیصل آباد میں تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز،وکلاء ونگ اور یوتھ ونگ کے عہدیداروں کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے فیصل آباد میں تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز، گڈ گورننس کمیٹی کے اراکین، وکلاء ونگ اور یوتھ ونگ کے عہدیداروں نے ملاقات کی- وزیر اعلی عثمان بزدار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد تحریک انصاف کا گڑھ ہے -فیصل آباد کی تعمیر و ترقی دل و جان سے عزیز ہے –  فیصل آبادشہر کی تعمیر و ترقی کے لئے اربوں روپے کے اضافی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے -فیصل آباد رنگ روڈ بننے سے شہریو ں کو بے پناہ سہولت ملے گی -فیصل آباد بائی پاس کا پراجیکٹ بھی جلد شروع کریں گے -پارٹی کے عہدیداران کو پوری عزت دیں گے -عہدیداران کے جائز کام ترجیحی بنیادوں پر کئے جائیں گے – وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے عہدیداران کا اجلاس جلد لاہور میں بلایا جائے گا اورآپ سے مستقبل میں بھی مشاورت کا عمل جاری رہے گا-عہدیداران نے وزیر اعلی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فیصل آباد میں اربوں روپے کا ڈویلپمنٹ پیکیج دے کر ہمارے دل جیت لئے ہیں – ڈویلپمنٹ پیکیج سے شہر میں ترقی کا نیاباب شروع ہو گا۔