Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اعتماد کا انویسمنٹ اور بدگمانی کا وائرس تحریر:حمزہ بن شکیل

    ہم لوگوں کو بدگمانی سے بچنے کی نصحت تو کرتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ معاشرے میں بدگمانی کی وبا پھیلانے والے عناصر کون سے ہیں ؟

    معاملہ یہ ہے کہ ہر انسان میں اعتماد کرنے کی صلاحیت ایک خاص مقدار میں خالق کائنات نے ودیعت کی ہے ۔ اعتماد ہمارا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے ، جب کسی پر ہم اپنے اعتماد کا سرمایہ انویسٹ کرتے ہیں تو ہم امید کرتے ہیں کہ وہ سامنے والا ہمارے اعتماد کا بدلہ اپنے حسن کردار سے دے گا، سامنے والا جب اپنے حسن کردار سے ہمارے اعتماد کو وقار بخشتا ہے، ہمارے بھروسے پر کھرا اترتا ہے تو ہمارا اعتماد کا سرمایہ بڑھتا ہے، لوگوں پر بھروسہ کرنے کا ظرف وسیع ہوتا ہے۔

    لیکن اگر جس پر بھروسہ کیا وہ بدکردار نکل گیا، تو اعتماد کرنے کی ہماری قوت کمزور پڑ جاتی ہے، دھوکہ کھایا ہوا شخص کسی پر بھروسہ کرنے کے قابل نہیں رہ جاتا ہے، ایسے شخص کو حسن ظن کی تلقین تو کی جاسکتی ہے لیکن جس شخص کو زندگی کے تجربے نے صرف دھوکے باز لوگ دیے ہوں محض تلقین اس کے اندر اعتماد کرنے کا ظرف پیدا نہیں کرسکتی۔

    لہذا بدگمانی پھیلانے میں سب سے مؤثر کردار ان دھوکے باز لوگوں کا ہے جو لوگوں کا اعتماد توڑتے ہیں۔ اپنی زبانوں سے لوگوں کا بھروسہ جیتتے ہیں اور اپنے کردار سے ان کو دغا دے جاتے ہیں، ایک دھوکے باز انسان اپنی زندگی میں اپنے غلیظ کردار سے سیکڑوں لوگوں کو بدگمانی کے جراثیم سے متاثر کردیتا ہے۔
    اس لیے غدار صرف اس شخص کا مجرم نہیں ہوتا جس کا سرمایہ اعتماد اس نے لوٹ لیا ہے اور اس کو اب کسی پر اعتماد کے لائق نہیں چھوڑا، وہ معاشرے کے ان تمام نیک کردار لوگوں کا بھی مجرم ہوتا ہے جو قابل اعتماد تھے لیکن اس غدار کی پھیلائی بدگمانی نے معاشرے سے ان نیک کردار لوگوں کا اعتبار بھی ختم کردیا ہے۔ اس طرح یہ نفاق صفت دھوکے باز پوری قوم کے مجرم ہوتے ہیں۔ اور انکا جرم بدگمانی سے بھی بڑا ہے۔

    زبان اور کردار میں فرق منافقت ہے ، حدیث میں بتایا گیا ہے کہ منافق کی علامت ہے کہ وعدہ کرکے وعدہ خلافی کرتا ہے،بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور امانت دی جائے تو خیانت کرتا ہے۔
    ذرا غور کریں! جس معاشرے میں منافقین کی کثرت ہو اس معاشرے میں کسی کو ہر کسی سے حسن ظن کی تلقین کرنا کوئی سمجھداری کی بات ہے؟ بلکہ ہر کسی پر اندھا اعتماد بے وقوفی ہے۔

    اک عمر ہم کسی پہ بھروسا کیے رہے
    پھر عمر بھر کسی پہ بھروسا نہیں کیا

  • عشرہ شانِ رحمت اللعالمین ﷺ کے سلسلے میں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ میں محفل میلاد کا انعقاد

    عشرہ شانِ رحمت اللعالمین ﷺ کے سلسلے میں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ میں محفل میلاد کا انعقاد

    عشرہ شانِ رحمت اللعالمین ﷺ تقریبات کے سلسلے میں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے زیر اہتمام محفل میلاد کا انعقاد ہوا۔محفل میلاد میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کاشف رضا اعوان، جی ایم آپریشن کرنل (ر) عماد اقبال گل،سینئر منیجر آپریشن محمد اعجاز بندیشہ اور دیگر افسران سمیت تمام ملازمین نے بھرپور شرکت کی۔محفل میلاد مصطفی ﷺ میں سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں ہدیہ نعت و سیرت طیبہ کے موضوع پر علماء و مشائخ حضرات نے تقاریر بھی کیں۔محفل میلاد کے آغاز پر تلاوت قرآن مجید قاری شہادت علی جبکہ نعت خواں میں مہران علی قادری،محمد طلحہ،پیر سید راشد حسین گیلانی،نقابت اشفاق زائر قادری اور خصوصی خطاب و دعائیہ کلمات قاری اظہر نے ادا کئے۔سی ای او ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کرنا بہت بڑا اعزاز اور انعام ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان تو انسان فرشتے بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور تا ابد بھیجتے رہیں گے۔اس موقع پر ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی اور امن وسلامتی کی دعا بھی کی گئی۔

  • غسل کے احکام ومسائل تحریر حسینہ کھوسہ

    غسل کے احکام ومسائل تحریر حسینہ کھوسہ

    غسل کا مطلب ہوتا ہے انسان کا اپنے پورے بدن پر ایک مخصوص طریقہ سے پانی بہانا۔ غسل کو واجب کرنے والی چیزیں چھ ہیں: 

    (۱) کسی مرد یا عورت کا احتلام ہو جانا مین می کا

    قوت کے ساتھ شرم گاہ سے باہر آنا۔

     (۲) میاں بیوی کا ہم بستری کرنا۔

     (۳) کسی کافر کا اسلام

    لے آنا۔ 

    (۴) کسی مسلمان کا مر جانا۔ واضح رہے کہ راہ خدا میں شہید ہونے والے کے علاوہ ہر

    میت کونسل دینا واجب ہے۔ 

    (۵) عورت کا حیض (ماہواری) کے خون سے پاک ہونا۔ (6)عورت کا نفاس (بچہ جننے کے بعد نکلنے والا فاضل خون) کے خون سے پاک ہونا۔

    غسل کرنے کے دو طریقہ ہیں : پسندیدہ ومحبوب طریقہ اور بقدر ضرورت جائز طریقہ۔

    پہلے طریقہ غنسل کرنے سے غسل کامل و مکمل اور شریعت کی نگاہ میں محبوب ہوتا ہے جبکہ دوسرے

    طریقہ سے غسل کرنے میں غسل کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ ویسے دونوں طر لیے جائز ہیں۔

    پہلے طریقہ یعنی کامل و مکمل کرنے کا انداز یہ ہے

    غسل کی نیت دل میں کی جائے اور بسم الله پڑھا جائے۔

     دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا جائے اور شرمگاہ کو دھویا جائے۔

     پھر پورا وضو کیا جائے جس طرح سے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے۔

     پھر تین بار سر پر پانی ڈالا جائے تا کہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے۔

    = پر پورے بدن پر پانی ڈالا جائے۔ پانی ڈالنے میں جسم کے دائیں حصہ پر پہلے ڈالا

    جائے اس کے بعد بائیں حصہ پر پانی ڈالا جائے جسم کو ہاتھوں سے رگڑا جائے تا کہ کوئی جگہ

    سوکھی نہ رہ جائے۔ اس مرحلہ میں صابون ، شیمپو وغیرہ کا استعمال کرنا بھی جائز ہے۔

    غسل کا دوسرا بقدر ضرورت طریقہ یہ ہے کہ ایک ساتھ ہی پورے بدن پر پانی ڈال لیا

    جائے۔ واضح رہے کہ اس طریقہ میں منہ اور ناک میں پانی ڈال کر انہیں صاف کرنا ضروری ہے۔

    پہلے طریقہ میں وضو کرنے میں یہ دونوں چیز میں آ جاتی ہیں۔

    ویسے تو انسان غسل کسی بھی وقت کرسکتا ہے۔ تاہم غسل جن موقعوں پر کرنا شریت

    کی نگاہ میں مستحب ہے وہ یہ ہیں:

    عید کی نماز کے لیے۔ اس میں عید الفطر اورعیدالانی دونوں شامل ہیں۔

    جمعہ کی نماز کے لیے۔

    = حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھنے سے پہلے۔

    = وہ عورت جسے کی بیماری کی وجہ سے خون آرہا ہو

    ، اس کے لیے شرعا پسندیدہ ہے کہ وہ

    ہرنماز سے پہلے غسل کرے۔ اگرچہ واجب نہیں۔ بلکہ ہر نماز سے پہلے صرف وضواجب ہے۔

    یہاں ذہن میں رہنا چاہیے کہ ان موقعوں پرنہانا محض مستحب ہے، فرض نہیں۔ لیکن اگر

    کوئی ان مواقع پر نہاتا نہیں ہے تو وہ کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا۔

    خواتین کے لیے غسل کے چند اہم مسائل درج ذیل ہیں:

    1) عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کے ہر حصہ کو جانچ لے کہ وہاں پانی پہنچا

    کہ نہیں۔ 

    اس میں بالوں کی جڑوں کو حلق کے نیچے، بغلوں میں، ناف کے نیچے گھنٹوں کے

    موڑنے کی جگہوں کو بطور خاص دیکھ لینا چاہیے۔ اگر کوئی انگوٹی یا گھڑی پہن رکھی ہے تو نہاتے

    ہوئے انہیں گھما اور ہلا لینا چاہیے تاکہ پانی ان کے نیچے تک پہنچ جائے ۔

    ۲) عورتوں کو غسل میں دو چیزوں کا خاص طور سے اہتمام کرنا چاہیے: ایک تو یہ کہ غسل مکمل کیا جائے یعنی جسم کی کھال کا کوئی حصہ ایا باقی نہ رہنے پائے جس تک پانی نہ پہنچا ہو۔

    دوسری بات یہ کہ بلاوجہ پانی کا اسراف نہ کیا جائے۔ شریعت میں جس بات ک تعلیم دیتا ہے وہ یہ

    ہے کہ غسل مکمل کیا جائے لیکن اس میں کم سے کم پانی استعمال کیا جائے۔ اللہ کے رسول کے

    بارے میں حدیث گزر چکی ہے کہ آپ کا وضو ایک مد میں اور غسل ایک صاع کے برابر پانی

    میں ہوجاتا تھا۔ یہ مد اور صاع دو پیمانے ہیں جن سے عربوں میں سیال اشیا کوناپا جاتا تھا۔ موجودہ

    زمانے کی اصطلاح میں مد آدھی کلو کے برابر ہوتا ہے اور ایک صاع دوکلو کے برابر ہوتا ہے۔

    ۳) ناپاک عورت کے لیے اسی حالت میں سونا جائز ہے، تاہم افضل یہ ہے کہ سونے

    سے پہلے وضو کر لیا جائے۔

    4)اگر عورت کے بال گھنے ہیں یا چٹیا میں گندھے ہوئے ہیں تو اس کے لیے ضروری

    نہیں ہے کہ انہیں کھول کر ہی نہائے ۔ جو چیز ضروری ہے وہ یہ کہ پانی کو بالوں کی جڑوں تک پہنچایا

    جائے۔ اس میں بہتر ہے کہ پوری چٹیا کوایک بارفواره یائونٹی کے نیچے رکھ کر بھگولیا جائے اور پھر سر 

    پرہی اسے نچوڑ دیا جائے تا کہ سارے بالوں میں پانی پہنچ جائے

  • عملی زندگی میں کامیابی کے لیے صرف نمبرات کافی نہیں! تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    نمبرات کی دوڑ ہمیں جس طرف لے جا رہی ہے وہاں سامنے اندھا کنواں ہے اور سسٹم اس قابل نہیں کہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لا سکے۔ اور یہ چیز آنے والی عملی زندگی میں طلباء کو محسوس ہوگی جب انکو عملی طور پر کام کرنا ہوگا مگر وہ اپنی صلاحیت کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں پھنس جائیں گے۔ اور اسکے نتائج نظر آنا شروع بھی ہوگئے ہیں کیوں کہ حالیہ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں بہت سے نمبروں کے سلطان ڈھیر ہوگئے کیوں کہ انکے پاس ایک محدود حد تک رٹہ تھا جو صرف نمبر لا سکا مگر عملی طور پر وہ کچھ بھی نہ سیکھ سکے اور جب ٹیسٹ میں تصوراتی بنا پر سوال کیے گئے تو جواب دینے سے قاصر رہے، اور یہی چیز پھر آگے چل کے اُنکو عملی زندگی میں مشکل میں ڈال دیتی ہے اور پھر طلباء ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ بطور یونیورسٹی اسٹوڈنٹ میں اس چیز کو محسوس کر رہا ہوں  کیوں کہ نمبر میرے بھی اپنے وقت میں بہت اچھے تھے میں بھی بہت خوش تھا اور ہر طرف نمبروں کا ہی چرچا تھا اور یہی چیز اب بھی ہے نمبر ہم پر نفسیاتی طور پر اس قدر حاوی ہیں کہ ہم انہی کی خاطر دوڑ میں لگے ہیں اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں کیوں والدین ، اساتذہ اور رشتے دار یہ بچوں کی ذہن سازی ہی ایسی کر رہے ہیں کہ وہ پھر سب چیزیں بھول کر صرف اچھا اسکور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس اسکور میں رٹہ ہوتا ہے جو صرف مخصوص وقت تک رہتا ہے۔ میں خود سائنس کا طالب علم ہوں اور ابھی یونیورسٹی سطح پر ہوں اور با خوبی سمجھ چکا ہوں کہ میں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے پایا تو خیر کچھ نہیں مگر اب کوشش میں لگے ہیں کہ کچھ حاصل ہو جائے۔ میری عزیز طلباء سے یہی گزارش ہے کہ بس کوشش کریں کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کریں اپنے تصوارت اور مشاہدات کو وسیع کرتے جائیں اگر ابھی سے آپ ایسا کریں گے تو جب آگے جائیں گے تو خود کو جلد کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں اور جب آپ یونیورسٹی میں آئیں گے تو آپکو آسانی ہوگی۔ آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور لوگ ڈیجیٹل زون کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پیسہ بھی اسی طریقے سے کمانے کی کوشش میں ہیں۔ اب تو حکومتی سطح پر بھی ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جہاں انٹرنیٹ کے ذریعے آنلائن پیسے کمانے کی طرف رجحان کو بڑھایا جا سکے۔ یونیورسٹی سطح پر پہنچ کر کم سے کم ایک طالب علم کو یہ احساس ضرور ہونا ضروری ہے کہ وہ اب عملی زندگی میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے وقت میں اس نے بہت سے زمہ داریاں اٹھانی ہیں اور ایسے ایک طالب علم کو اپنی سکلز کو کو بڑھانے کے بہت ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ خود کو مالی طور پر خود کفیل بھی بناتا جائے۔ کیوں کہ یونیورسٹی سے آپکی عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ اور یہاں آپکو صرف گائیڈ کیا جائے گا آپ پر اسکول اور کالج کی طرح سختی نہیں ہوتی یہاں وہی چل سکتا ہے جس کو سیکھنے کا شوق ہوگا۔ وہ طالب علم جو یونیورسٹی کی سطح پر خود کو تیار کرنا شروع کر دیتا ہے اور حالت کے تقاضے سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو ترتیب دیتا ہے وہ جب اپنی تعلیم سے فراغت حاصل کرتا ہے تو پھر معاشرہ اسے خوش آمدید کہتا ہے اس کے پاس حالت سے نپٹنے کی سکت زیادہ ہوتی ہے ، اور دوسری اہم چیز اُسکے تصورات اور مشاہدات اس قدر وسیع ہو چُکے ہوتے ہیں کہ موجودہ صورت حال کے مطابق تمام مسائل کے حل نکال کر لے آتا ہے۔ اسلئے بطور یونیورسٹی طالب علم میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر آپ سے یہ سب کہہ رہا ہوں اس پر غور لازمی کیجئے گا میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جب آپ یونیورسٹی میں جائیں گے تو آپ ان سب چیزوں کو ہوتا دیکھیں گے۔ اسلیے میں اسے اپنا فرض سمجھتا تھا کہ آپ کو ایک اچھا مشورہ دوں اور آپکو اپنے مستقبل کے حوالے سے کچھ آگاہی بھی ہو جائے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آپکی دعاؤں کا طالب

    TA: @AhtzazGillani

  • پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :    عزیز الرحمن 

    پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :  عزیز الرحمن 

    ‏پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنا دوسرا قومی رابطہ جاری کیا ، کے پی میںایسی زمین کی تزئین کو دیکھنے کے لیے ، آپ کو کے پی ٹاپ نوشہرہ نظام پور وادی کے پی کے پاکستان کی پہاڑیوں پر جانا ہوگا۔ یہ ٹور آپ کا ایڈونچر ٹور ہوگا۔ اس جگہ کو نظام پور کہا جاتا ہے اور وہاں جانے کے لیے آپ کو شمال کی طرف شمال میں ایک پہاڑ پر چڑھنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں جو 10 بلین درخت شروع کرنے والے ارب درختوں کو مکمل کرنے کے بعد موسمیاتی تبدیلی کی طرف ٹھوس عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان میزبانی کر رہا ہے۔ عمران خان نے اس منصوبے کا آغاز ہمارے زمین کی تزئین ہمارے ماحول اور مناظر کو بدلنے کے وژن کے ساتھ کیا تھا۔

    میرے وزیر اعظم عمران خان کے خیال میں پاکستان میں درخت زیادہ تر ممالک سے کم ہیں۔ پاکستان میں فی شخص صرف 5 درخت ہیں جبکہ باقی دنیا میں اوسطا2 فی شخص 422 درخت ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ حکومت اس سال ملک بھر میں 10 ارب درخت لگائے گی۔ آسٹریلیا 3266 ، امریکہ 699 ، چین 130 ، برطانیہ حکومت 47 ، میرا ملک صرف 5 درخت فی شخص۔

    اگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹا نہیں گیا تو یہ عالمی پر غذائی تحفظ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو پودے لگانے اور بچانے کے لیے قدرتی فنڈ قائم کرنا چاہیے۔ پاکستان کو درخت لگانے چاہئیں اور ہریالی کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ ملک کو 10 ارب درختوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ہم صاف اور سرسبز پاکستان چاہتے ہیں۔ کلین اینڈ گرین پاکستان (سی جی پی) مائی پی ایم عمران خان کی پانچ سالہ مہم اس مہم کے تحت حکومت نے عملدرآمد کرنا ہے۔ اگر آپ ایک درخت لگاتے ہیں تو آپ ایک زندگی ، پاکستان اور اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کے لیے پودے لگاتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے ادارے نے حکومت کے ارب درختوں کے منصوبے کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ یہاں پرندوں کی آواز چاہتے ہیں تو پنجرہ نہ خریدیں۔ ایک لمحہ ایک دن بدل سکتا ہے ایک دن زندگی بدل سکتا ہے اور ایک زندگی دنیا بدل سکتی ہے۔ درخت لگانے کا بہترین وقت بیس سال پہلے ہے ، ایک درخت فطرت کے ساتھ ہمارا سب سے گہرا مواد ہے ، درخت کو زمین کے پھیپھڑے کہا گیا ہے۔ تو آئیے ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں ان میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں اور پاکستان کو سرسبز بنائیں۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ، گلوبل وارمنگ ایک حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت ابلتے پانی کی طرح بڑھ رہا ہے۔ انسانی حقوق سے گہرا تعلق لاکھوں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ تو کچھ جگہ یہ کافی عرصے سے خشک ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان بھر میں بیماریوں کے پھیلنے میں معاون ہے۔ اگر ہم جلد ہی موسمیاتی تبدیلیوں کو سست نہ کریں تو مزید مہلک وبائیں آئیں گی۔ آب و ہوا کی تبدیلی اب کوئی مسئلہ نہیں ہے جو یہاں ہو رہا ہے یہ اب ہو رہا ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی جنگ کے لیے زیادہ تر نوجوانوں کی تعداد نبرد آزما ہے۔

    ‎@Aziz_khattak1

  • بچوں کی مشین تحریر :ذیشان اخوند خٹک

    بچوں کی مشین

    آپ نے بچوں کی مشین کا نام دیکھ کر ضرور سوچا ہوگا کہ انگریزوں نے کوئی روبوٹ یا مشین ایجاد کیا ہوگا جو کہ بچے کو تیار کریگا مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے کہ یہ مشین ہم لوگوں نے ہی ایجاد کی ہے اور یہ مشین کسی لوہے سے نہیں بنائی ہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان سے بنائی ہے اور اس بدنصیب جیتی جاگتی کو معاشرہ میں عورت کے نام سے پکارا جاتا ہے.

    پاکستان میں اس ظلم کی شرح شہروں کے مقابلے میں گاوں میں بہت زیادہ ہے. اس ظلم کے خلاف معروف ڈرامہ نگار نور الہدی شاہ نے 2017 میں سمی کے نام پر ایک ڈرامہ لکھا جو کہ ہم ٹی وی پر نشر ہوگیا. وہ ڈرامہ تو دراصل ونی مطلب دیت میں لڑکی دینے کے مکروہ عمل کے خلاف تھا مگر انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈرامہ سیریل میں بچوں کی مشین کی مسئلہ بھی اجاگر کیا.
    پاکستان دنیا میں عورتوں کے بدترین حالت میں نویں نمبر پر ہے.

    آج سے چودہ سو سال پہلے عرب میں یہ رواج شروع ہوگیا تھا کہ زندہ بیٹیوں کو دفنا دیتے تھے مگر آج کل تو یہ عمل ان سے بھی بدتر ہورہا ہے کیونکہ مرد کی غلطی بھی عورت کے جھولی میں ڈال دیتی ہے اور اسے پھر ساری زندگی طعنے دیتے رہتے ہیں اور وہ بیچاری روزمرہ کے طعنوں کی وجہ سے روزانہ زندہ اور مرتی ہے.

    آج کل ایک بیٹا پیدا کرنے کیلئے مرد اور ان کے سسرال اس بیچاری کو بچوں کی مشین بنادیتے ہیں اور اس زیادہ بچے پیدا ہونے کی وجہ سے عورت کے جسم میں خون ناپید ہوجاتا ہے. جس سے ان کی زندگی کمزوری کی وجہ سے زندہ لاش بن جاتی ہے اور ہر بیماری ان کے جسم میں پیدا ہوجاتی ہے اور پھر ان بیچاری عورت کو ہر وقت بیمار رہنے کی طعنے بھی سننے پڑتے ہیں.

    ہم تو بس نام کے مسلمان ہے اور اس موقعہ پر ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے کہ وہ کس کو بیٹیوں سے نوازتا ہے اور کسی کو بیٹوں سے اور کسی کو بے اولاد کر دیتا ہے. پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ بانجھ عورت تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت اسحاق علیہ السلام جیسے بیٹے سے نوازا.

    عورت معاشرہ کا ایک حصہ ہے اور انہیں وہ مقام اور عزت دے جو انہیں اسلام نے عطا کردیا ہے. بیٹے کے نام پر عورت کی تذلیل نہ کرے کیونکہ اولاد باپ کے نصیب سے پیدا ہوتے ہیں. بیٹی پیدا ہونے میں ماں کا کوئی قصور نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک تقسیم ہے. بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہوتی ہیں. جو شخص اپنے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کرتا ہے اسے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی.

    بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہے۔
    گھر جو خدا کو پسند ہوتا ہے وہاں ہوتی ہے

    ٹویٹر ہینڈل
    @ZeeAkhwand10

  • پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان  تحریر اصغر علی                                        

    پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان تحریر اصغر علی                                        

               

    یہ بات 28 جولائی 1914 کی ہے جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو اس ٹائم یہی گمان کیا جا رہا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہے اور اس کے بعد کوئی بھی اس طرح کی بڑی جنگ نہیں ہو سکتی اور کئی لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دنیا کی آخری جنگ ہے لیکن سب کے اندازے غلط نکلے کیونکہ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد انیس سو انتالیس میں جنگ عظیم دوئم شروع ہوگی پہلی جنگ عظیم آسٹریا اور ہنگری نے اس وقت شروع کی کہ جب ان کے ایک بہت ہی قریبی لیڈر کو مارا گیا اس کے بعد اسی جنگ کے دوران دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی ایک طرف دنیا کی سپر پاور سے اور دوسری طرف دنیا کے باقی ممالک ان میں سپر پاور برطانیہ روس اور فرانس ایک ساتھ تھے اور ان کے ساتھ کچھ اور ملک بھی تھے جنگ شروع ہونے کے کچھ عرصے کے بعدامریکہ جاپان اور اٹلی بھی اس اتحاد کے ساتھ شامل ہوگئے تھے  ان کے مد مقابل تھے سینٹرل پاور جن میں آسٹریا-ہنگری  سلطنت عثمانیہ جرمنی اور چھوٹے کافی ملک تھے پہلی جنگ عظیم سے پہلے یورپ ہتھیاروں کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکا تھا جس میں مشین گن ٹائم بام ٹینک اور جدید قسم کا اس وقت کے مطابق اسلحہ یورپ میں تیار ہونے لگا تھا برطانیہ اور جرمنی یورپ میں خوب ترقی کر رہے تھے اور دونوں نے اپنے ان ہتھیاروں کو اپنی اپنی سلطنتوں کو بڑھانے میں بھی کافی استعمال کیا تھا ان دنوں میں یورپ میں طاقت کا توازن باربار بگڑا تھا اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ملکوں نے آپس میں اتحاد بنانا شروع کر دیئے تھے ان ملکوں نے آپس میں فوجی اتحاد کے علاوہ خفیہ معاہدے بھی کرنا شروع کر دیے تھے ان اتحادوں میں دو اتحاد قابل ذکر ہیں triple alliance 1882 یہ جنگی اتحاد آسٹریا-ہنگری جرمنی اور اٹلی کے درمیان طے پایا اس اتحاد کا نعرہ یہ تھا کہ اگر کوئی بھی دنیا کا ملک ان تینوں میں سے کسی بھی ملک پر حملہ کرتا ہے تو یہ تینوں مل کر اس کا مقابلہ کریں گے اور ایک دوسرے کا مشکل وقت میں دفاع کریں گے جس میں بہت سارے فوجی معاہدے بھی سائن کیے ہوئے تھے جس میں ایک دوسرے کے بارڈرپر اپنی فوج ایک دوسرے کی سرحد کے اوپر سے اپنے جہاز گزارنا اور اس طرح کی بہت سارے معاہدے تھے اس اتحاد کے بعد انیس سو سات میں ایک اور بڑا جنگ اتحاد قائم ہوا جو کہ فرانس روس اور برطانیہ کے درمیان تھا اٹلی نے لڑائی کے دوران ان اپنا اپنا معاہدہ چھوڑ کر برطانیہ فرانس اور روس کے ساتھ ساتھ معاہدہ کر لیا تھا اٹلی کا اپنا اتحاد  سے الگ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اٹلی کے کچھ علاقے پر آسٹریا-ہنگری نے قبضہ کر رکھا تھا جتنے بھی طاقتور ممالک تھے وہ افریقہ اور ایشیا میں اپنی اپنی کالونی کو بنانے میں لگے ہوئے تھے کالونیاں بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ان جگہوں پر ان ملکوں کا قبضہ تھا اور یہ وہ دور تھا کہ جب ورلڈ وار شروع ہوئی انیسویں صدی کی شروعات میں سب سے کامیاب برطانیہ تھا کیونکہ برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند آسٹریلیا اور 25 فیصد دنیا پر اپنا قبضہ جما لیا ہوا تھا اور یہ وہی وقت تھا جس کا ذکر بہت ساری کتابوں میں بہت سارے آرٹیکلز میں اور بہت ساری موویز میں دیکھنے کو یا سننے کو یا پڑھنے کو ملتا ہے کہ سلطنت برطانیہ اپنے عروج پر تھی اور اس کے عروج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا یہی وجہ تھی کہ برطانیہ کے پاس بہت سارے ذریعے اور بہت زیادہ طاقت تھی کیونکہ پوری دنیا پر برطانیہ کا راج چلتا تھا پہلی جنگ عظیم میں 13 لاکھ لوگ برصغیر پاک و ہند سے صرف برطانیہ کے لیے لڑے تھے کیونکہ اس وقت برصغیر پاک وہند برطانیہ کی ایک کالونی تھا انیسویں صدی کی شروعات میں یورپ میں نیشنل ازم اپنے عروج پر تھی اس وقت یہ تصور عام تھا کہ دنیا کا سب سے کامیاب ملک وہ ہے جس نے سب سے زیادہ جنگ لڑی اور جیتی ہے یہی وجہ یا یہی وہ تصور تھا جس کی وجہ سے اس دور میں جنگیں بہت زیادہ ہوا کرتی تھی یہی وہ وجہ تھی کہ آسٹریا-ہنگری کے بادشاہ جو کہ بوسنیا میں گئے اور وہاں پر ان کو قتل کر دیا گیا ان کو قتل کرنے والا گلیلیو تھا یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کو اکیلا گیلیلیو نہیں بلکہ اور بھی بہت سارے لوگوں نے مل کر قتل کیا تھا جس کی وجہ سے آسٹریا ہنگری نے میں نے صرف یہ سے ہتھیار ڈالنے کو اور آسٹریا-ہنگری کا حصہ بننے کو کہا مگر سربیا نے اس کی یہ بات نہیں مانی اور اس نے روس سے مدد لینا چاہیے چاہیے رؤف جو کہ پہلے ہی تیار بیٹھا تھا تھا اس نے اپنی بھرپور مدد دینے کا اعلان کیا اور اس کے بعد آسٹریا-ہنگری نے جرمنی سے مدد مانگی جرمنی اور آسٹریا-ہنگری کا 1882 میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق ایک دوسرے کا مشکل وقت میں ساتھ دینا شامل تھا اس کے بعد جرمنی نے آسٹریا-ہنگری کے ساتھ مل کر سربیہ پر حملہ کردیا جس کے فورا بعد بعد روس نے جرمنی پر حملہ کر دیا یا روس کے حملہ کرنے کے بعد فرانس جو کہ روس کا اتحادی تھا اس نے بھی جرمنی پر حملہ کر دیا یوں یہ جنگ جو کہ آسٹریا-ہنگری اور سربیا کے درمیان کی تھی وہ جنگ اب آسٹریا-ہنگری سربیہ جرمنی روس اور فراس  تک پہنچ چکی تھی اس کے بعد جرمنی جس پر دونوں اطراف سے حملہ ہو چکا تھا اس نے ایک سائیڈ پے میں روس اور دوسری سائیڈ پر فرانس کے ساتھ جنگ میں بری طرح الجھنے کی وجہ سے مغرب والی سائیڈ میں روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی کیونکہ روس کی فوج بہت طاقتور اور تعداد میں بہت زیادہ تھی اس لیے لیے جرمنی نے روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی اور مشرق والی سائیڈ سے اس نے بیلجئیم کے راستے فرانس پر حملہ کرنا چاہا اس لیے جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تاکہ وہ بلجئیم کے راستے فرانس کی فوج پر پر اس کی پچھلی سائیڈ سے حملہ آور ہو کر اس کو تہس نہس کر دے اس کے بعد جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کر دیا بیلجیم پر حملہ ہونے کے ساتھ  کا ہیں بیلجیئم کا فوجی اتحادی برطانیہ بھی جنگ میں کود پڑا برطانیہ نے نے جرمنی پر حملہ کر دیا یوں اب جرمنی تین اطراف سے بری طرح جنگ میں گر چکا تھا اور اب اب پہلی جنگ عظیم برطانیہ سمیت دنیا کے  7  ممالک میں پھیل چکی تھی زبر دست فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دوسرے کی جانب سے دیکھنے کو مل رہا تھا کیونکہ برطانیہ اور روس اس وقت سپرپاور تھے اور فرانس بھی ان کا اتحادی ہونے کے ناطے اس جنگ میں کود پڑا تھا اس طرح 1907 میں بننے والا اتحاد فرانس روس اور برطانیہ یہ تینوں ہی سپرپاور اور اس جنگ عظیم میں شامل ہو چکے تھے جس کا مطلب صاف تھا کہ یورپ میں شدید تباہی آنے والی ہے اس کے بعد کیا ہوا کس طرح سلطنت عثمانیہ  آٹومن امپائر اس جنگ کا نہ چاہتے ہوئے بھی حصہ بن گئی آرٹیکل جاری ہے 

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @Ali_AJKPTI 

    Twitter id : https://twitter.com/Ali_AJKPTI

  • ٹویٹر گردی….

    ٹویٹر گردی….

    ٹویٹر ….کیا ہے، کیسے استعمال کرتے ہیں…اس میں کیا کیا ہوتا…ایک ایپ کے طور پر تو ٹویٹر کے بارے جانتا تھا لیکن کبھی استعمال کی طرف نہیں گیا، ایک سال قبل ایک اکاؤنٹ بنایا کچھ ٹویٹس کیں اور پھر بھول گیا، باون فالورز تک وہ اکاؤنٹ نو ماہ چلتا رہا، پاکستان میں جب ٹویٹر ویری فکیشن کھلی تو پھر …دوستوں کی ایک طویل قطار….جو تحریر پر تحریر بھیجتے رہے …پھر ٹویٹر کے بارے جاننا شروع کیا..ایک استاد مل گیا…جو مجھ سے عمر میں کمسن..لیکن ٹویٹر گردی کا میرا استاد….شکریہ استاد جی…..خیر..تحریریں آتی رہیں.شائع ہوتی رہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں

    باغی ٹی وی نے ہمیشہ لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی، ٹویٹر کی ویریفکیشن تو پاکستان میں شاید جون میں رواں برس کھلی، اس سے قبل بھی باغی پر بلاگز شائع ہو رہے تھے اور پروفائل بھی بن رہی تھی تا ہم ٹویٹر ویرفکیشن اوپن ہونے کے بعد ٹویٹر گردی کرنیوالوں نے بلیوٹک کے جنون میں بغیر کچھ پڑھے، سوچے سمجھے لکھی تحریریں بھیجنا شروع کر دیں جن میں سے اکثر کی ردی کی ٹوکری کی نذر ہو گئیں تا ہم جن کی تحریریں شائع ہوئیں ان میں سے کچھ ابتدا میں پروفائلز بنائیں گئیں بعد میں ادارے کی پالیسی بدلی اور پروفائل بنانے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا، کچھ لوگوں کے ٹویٹر اکاؤنٹس بغیر پروفائل کے بھی ویریفائڈ ہوئے ،کچھ کے پروفائل کے ساتھ، باغی پر پروفائل بنانے کا سلسلہ بند ہوا لیکن تحریریں سب کی شائع ہوتی رہیں اور مسلسل ہو رہی ہیں البتہ شناختی کارڈ کی کاپی ساتھ منگوا لی گئی ہے اسکے بغیر اب اشاعت ممکن نہیں ہے.

    کاپی پیسٹ تحریریں شائع نہ کرنے اور پروفائل نہ بنانے کی وجہ سے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی گئی، جن لوگوں نے ہمیں گالیاں دیں انکی تحریریں ابھی بھی باغی ٹی وی پر موجود ہیں ،کسی کی تحریر کو ڈیلیٹ نہیں کیا گیا،ہماری پالیسی اوپن، اور سب کے لئے ایک ہے،کوئی ایک تحریر لکھے یا سو..پروفائل کسی کی بھی نہیں بنے گی، جو بنی ہوئی ہیں وہ بھی اب آہستہ آہستہ ختم ہوں گی، دو پرفائل ختم کر دی گئی ہیں، مزید بھی ہوں گی،ہم چاہتے تو سب سے پیسے لے کر پروفائل بنا دیتے جس کی آفرز بھی متعدد بار ہوئی لیکن پھر اپنی پالیسی پر عمل نہ کر سکتے، اسلئے رشوت، لالچ سب ٹھکرا کر ہم اپنی پالیسی پر آزادانہ عمل پیرا ہیں،اور رہیں گے،ہماری گردن میں سریا نہیں بلکہ عاجزی ہے کہ لوگوں کو بغیر دیکھے، بغیر جانے تحریریں شائع کرتے رہے اور کر بھی رہے ہیں، ہمیں نہیں معلوم تھا کہ لکھنے والا کون ہے کہاں سے ہے، اب سب کا پتہ چل رہا،

    اگر کوئی یہ کہتا کہ سفارش چلتی ہے تو جن کی تحریریں شائع ہو رہیں یا پروفائل بنی وہ جانتے ہیں، پالیسی بن گئی تو پھر کسی قسم کی کوئی سفارش نہیں،البتہ….اب آنیوالے دنوں میں پالیسی ذرا مزید سخت ہونیوالی ہے….کیونکہ جہاں دوست ہوں وہاں دشمن بھی ہوتے ہیں اور اگر دشمن بھی اپنی ہی صف سے ہوں تٕو….پھر پالیسیوں کو نرم کرنے کی بجائے مزید سخت کرنا پڑتا ہے….

    ابھی جو مرحلہ شروع ہوا،ٹویٹر نے ویری فکیشن واپس لینا شروع کر دی اور اسکے ساتھ ٹویٹر اکاؤنٹ بھی سسپیڈ ہو رہے، اس پر طرح طرح کی باتیں سامنے آ رہیں، کچھ لوگ یہ کہہ رہے کہ ہم نے کروایا.صبح سے اب تک کم از کم چھ سے سات لوگ اس بات کا کریڈٹ لے چکے کہ ہم نے اکاؤنٹ بند کروایا….چلیں جی سب کو مبارک ہو…اگر کوئی کریڈٹ لینے سے رہ گیا تو وہ بھی سامنے آ جائے ….تا کہ پتہ چلے…..شاید سابق امریکی صدرٹرمپ کا اکاؤنٹ بھی انہوں نے ہی بند کروایا تھا، شاید فرانس میں جس اخبار نے گستاخانہ خاکے شائع کئے تھے اسکا اکاؤنٹ بھی انہوں نے خواب میں بند کروا دیا تھا، کشمیریوں پر مظالم کرنیوالی بھارت سرکار کے اکاؤنٹ بھی انہوں نے خواب میں بند کروا دیئے، فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والی اسرائیلی سرکار کے بھی سب ٹویٹر اکاؤنٹ انکی ںظر میں خواب میں بند ہو گئے….کوئی بھی باقی نہیں رہ گیا…بس جو رہ گئے وہ صرف یہی ہیں باقی سب کے بند ہو گئے..

    کچھ لوگ یہ بھی پروپیگنڈہ کر رہے کہ شاید باغی والوں نے یہ خود کروایا تو اس میں مجھے کسی قسم کی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں، اورنہ ہی دوں گا..بس اتنا کہوں گا کہ….اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے….جو…….

    @MumtaazAwan

  • "بن روئے نین” تحریر: فرزانہ شریف

    "بن روئے نین” تحریر: فرزانہ شریف

    "لوگ کیا کہیں گے "کے خوف نے معاشرے میں جہاں اور بہت سی مشکلیں پیدا کی ہوئیں ہیں وہاں دوسری شادی کرنے کو کچھ لوگ جرم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم کردیا تو لوگ باتیں کریں گے ۔میں کہتی ہوں کرنے دیں باتیں جو آپ کے پیارے ہوں گے آپ کے مخلص ہوں گے وہ آپکو دوسری شادی سے کبھی منع نہیں کریں گے بلکہ اس نیک کام میں آپکی مدد کریں گے ایک شرعی رشتہ اپنانے میں آپکی مدد کریں گے اکثر مرد دیکھے جن کی بیویاں اللہ کو پیاری ہوگئیں اور اولاد نے کوشش ہی نہیں کی ان کو دوسری شادی کی طرف راغب کرنے کی یوں ان کی ذندگی کے قیمتی سال ضائع کردیے صرف اپنی جھوٹی آنا کی تسکین کے لیے اور اگر کچھ نے شادی کرنے کی کوشش بھی کی تو اولاد راہ میں آگی کہ لوگ کیا کہیں گے اس اولاد کو یہ احساس نہیں کہ آپ اپنے بیوی بچوں ۔یا خاوند بچوں کے ساتھ خوشحال ذندگی گزار رہے ہو تو کیا آپکے والد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی عمر کا بقیہ حصہ اپنی لائف پارٹنر کےساتھ گزار سکے ۔ایسی اولادیں بھی دیکھی ہیں جھنوں نے اپنے والد کی تنہائی کو دیکھتے ہوئے ان سے میچ کرتی سوٹ ایبل عورت سے اپنے والد کا نکاح پڑھوادیا اور ایسی خود غرض اولاد بھی دیکھی جن کو ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہمارے والد کو لائف پارٹنر کی ضرورت ہے وہ اکیلا کیسے پوری ذندگی گزار سکتا ہے اسے جذباتی سہارا صرف اپنی لائف پارٹنر سے مل سکتا ہے اگر آپ اپنے والد کی خوشی سے خود شادی کروگے تو اللہ کے بندو آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا کمی کسی صورت نہیں ہوگی ۔خود سوچیں اولاد کتنی دیر پاس بیٹھ سکتی ہے 5گھنٹے 6گھنٹے جبکہ آپکے والد صاحب کو 24گھنٹے کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے جیسے آپکو اپنے لائف پارٹنر کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔!!

    اسی طرح اکثر عورتوں کو دیکھا مرد وفات پاجاتے ہیں تو عورت اپنی ساری جوانی اس مرد کے نام گزار دیتی ہے اور بڑھاپے میں بہین بھائیوں کی محتاج ہو کر رہ جاتی ہے میرا مشورہ ان کو یہ ہے کہ اگر آپ کو بچوں کی مجبوری نہ ہوتو کسی صورت یہ گھاٹے کا سودا نہ کرو کسی صاحب حثیت انسان سے شادی کرنے میں دیر نہ کرو جو آپکے بچوں کو بھی سپورٹ کرسکے اور آپکو بھی جذباتی سہارا مل جائے لوگ باتیں بناتے ہیں بنانے دیں لوگوں کی پرواہ کرنی چھوڑ دیں آپ ان کے سامنے سونے کے بھی بن کر آجاو وہ پھر بھی کہیں گے ضرور دال میں کچھ کالا ہے ذندگی اللہ کی دی ہوئی بہت پیاری نعمت ہے اسے دوسروں کے ڈر سے ضائع نہ کریں اپنی ذندگی خود جیئں دوسروں کو اپنی ذندگی جینے نہ دیں ۔۔!!!

    اسی طرح اگر مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میری بہنوں سے گزارش ہوگی کہ پہلے پوری کوشش کریں اپنے شوہر کی سب امیدوں پر پورا اترنے کی اس کی خاطرخدمت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اسے بھرپور اپنی محبت دیں اس کے ساتھ سچی وفادار بن کر رہیں پھر بھی اگر وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے بجائے اس کے کہ وہ غلط راستہ چنے ۔جو گناہ کبیرہ کی طرف لیکر جایے ۔اسے خوشی سے دوسری شادی کی اجازت دے دیں۔ یہ اجازت اسے اللہ نے دی ہوئی ہے شائد اس کی فطرت دیکھ کر ہی کہ بعض اوقات مرد ایک بیوی سے مطمئن نہیں ہوتا اس کی تمنا ہوتی ہے دوسری عورت کی تو اسے بالکل منع نہ کریں مرد پر فرض ہے کہ اگر وہ دوسری شادی کرتا ہے تو پہلی کے تمام حقوق حسن طریقے سے پورے کرے ایک لمحہ کی بھی ہیرا پھیری پہلی کے ساتھ نہ کرے دونوں کو برابر کے حقوق دے ویسے بھی ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تعداد ذیادہ ہے اور مردوں کی کم ۔اکثر بہنوں کے بالوں میں سفیدی اتر آتی ہے لیکن ان کے لیے کوئی مناسب رشتہ نہیں آتا ایسی عورتوں سے شادی کرنا بہت ثواب کا کام ہے ۔اور خاص طور پر بیوا طلاق یافتہ عورت سے شادی کرنا مرد کی اعلی ظرفی کی دلیل ہے ۔۔!!!
    پاکستان میں اپنی ایک جاننے والی کی بات بتاتی ہوں لڑکی کی عمر بمشکل 22 سال تھی اس کے دو بچے تھے اس کا شوہر بجلی کے محکمے میں تھا کرنٹ لگنے سے اچانک فوت ہوگیا پھر ہوا کیا لڑکی کے سسرال والوں نے کہا کہ ہم بچوں کی بہت اچھے طریقے سے پروش کریں گے اور بہو کو جتنے پیسوں کی ضرورت ہوا کرے گی ہم دیں گے لیکن ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ گھر چھوڑ کر جائے مطلب نیا گھر بسائے یوں اس لڑکی نے بنا شوہر کے اپنی پوری ذندگی قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا کیا صرف پیسے ہر مسئلے کا حل ہوتے ہیں ؟ابھی وہ اس بات پر مطمئن ہے کہ بچوں کی پروش اچھے طریقے سے ہوجائے گی کیا وہ پوری ذندگی ان بچوں کے سہارے گزار دے گی کیا اسے ذندگی میں لائف پارٹنر کی ضرورت نہیں ہوگی؟ضرور ہوگی اس کے سسرال والوں کو چاہئیے اس کا نکاح اپنی فیملی میں ہی کردیں جہاں بچوں کوبھی سہارا مل جائے اور ماں کوبھی ۔لیکن ہمارے معاشرے میں ایک ہی روگ۔کیا کہیں گے لوگ۔۔۔!!!

    @Farzana_Blogger

  • اسلامی جمعیت طلبہ کا چارسدہ کالج میں سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کا مطالبہ

    چارسدہ ( ) اسلامی جمعیت طلبہ نے چارسدہ کالج میں سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس ضمن میں اسلامی جمعیت طلبہ علاقہ کالجز کے ناظم محمد اشفاق نے اپنے ایک اخباری بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چارسدہ کالج میں گیارہویں اور بی ایس کلاسز میں فی الفور سیکنڈ شفٹ شروع کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ چارسدہ کالج میں بی ایس کے کل 600 سیٹس ہے جس کیلئے امسال 5 ہزار کے قریب آن لائن اپلائی ہوئی ہیں، جبکہ اسی طرح انٹرمیڈیٹ کے بھی 200 سیٹوں کیلئے ہزاروں کی تعداد میں طلباء نے اپلائی کیا ہے۔ جبکہ کالج میں طلباء کے لئے محدود سٹیں ہونے کے وجہ زیادہ تر طلباء داخلے سے رہ جاتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے ادوار میں سابق پرنسپل پروفیسر عبدالجبار نے کالج میں سیکنڈ شفٹ کے ساتھ ساتھ کالج میں طلباء کے لئے محتص انٹرمیڈیٹ و بی ایس سیٹوں میں اضافہ کیا تھا لیکن موجودہ پرنسپل نے آتے ہی وہ اضافہ ختم کیا جس سے طلباء بہت متاثر ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ محکمہ اعلی تعلیم نے صوبے کے 6 کالجز میں سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں چارسدہ سے کوئی بھی کالج شامل نہیں ہے، جبکہ چارسدہ کی کل آبادی 16 لاکھ کی قریب ہے۔ جبکہ امسال 17 ہزار طلباء نے چارسدہ کے محتلف سرکاری ونجی سکولوں سے میٹرک کے امتحانات دئیے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چارسدہ کالج چونکہ چارسدہ کی واحد بڑا اور پوسٹ گریجویٹ کالج ہے جس میں چارسدہ کے مضافات سے متوسط طبقے کے طلباء و طالبات داخلہ لینے کے متلاشی ہوتے ہیں جبکہ سیٹوں میں کمی کے باعث زیادہ تر طلباء کو داخلے نہیں ملتے جس کے وجہ سے وہ آگے اعلی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے اور مزید تعلیم حاصل کرنا چھوڑتے ہیں۔