Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایف اے ٹی ایف میں ترکی بھارت کا نیا دشمن بن گیا۔  تحریر:- حماد خان

    ایف اے ٹی ایف میں ترکی بھارت کا نیا دشمن بن گیا۔ تحریر:- حماد خان

    Twitter @HammadkhanTweet

    ترکی پاکستان کے دوست کی حیثیت سے بھارت کی آنکھ میں کانٹا تھا. بھارت نے اپنے غیر منصفانہ طریقوں سے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اس آرٹیکل میں ہم دیکھیں گے کہ انڈیا کے دباؤ پر ترکی کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں کیوں رکھا گیا۔

    2018 میں ، جب پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا ، ترکی واحد ملک تھا جس نے اس کی حمایت کی۔ترکی واحد ملک ہے جس نے اقوام متحدہ میں کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔ اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کرنا بھارت کی نظر میں ترکی کے لیے گناہ بن گیا۔

    حالیہ برسوں میں ترکی کے اپنے روایتی مغربی اتحادیوں بشمول امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔

    واشنگٹن نے ترکی کو F-35 طیاروں کی فروخت روک دی جب انقرہ نے روسی سطح سے فضا میں مار کرنے والے S-400 میزائل سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔

    بحیرہ روم میں اپنے سمندری حقوق کے نفاذ کے لیے ترکی کی کوششوں نے یورپی یونین کے رکن ملک یونان کو ناراض کیا ہے۔

    ترکی شام اور لیبیا میں اپنے کچھ مغربی اتحادیوں کے مخالف سمت میں ہے۔ تقریبا 4 4 ملین شامی مہاجرین کی میزبانی کے لیے اپنے طور پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ، ترکی کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے یورپی رہنما باقاعدگی سے نشانہ بناتے ہیں۔ 

    ایف اے ٹی ایف نے ترکی کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کرنے والے ممالک کی فہرست میں درج کرنے کے فیصلے سے پیرس میں قائم تنظیم کی غیر جانبداری کے بارے میں ایک بار پھر سرخ جھنڈا بلند کردیا ہے۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ترکی کو ایف اے ٹی ایف کی نام نہاد گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے ، یہ اقدام ترکی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ان ممالک کو نشانہ بنانے میں منتخب ہو گیا ہے جہاں بینکوں کے پاس فنڈز کے غیر قانونی بہاؤ کو روکنے کے لیے کمزور تعمیل یا کنٹرول ہے۔

    مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل حسن اسلم شاد نے کہا ، "اگر وہ تمام ممالک کے ساتھ اپنے سلوک میں منصفانہ ہوتے تو وہ برطانیہ کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیتے۔”

    لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا ہے اور پہلے سے تصورات ان کے فیصلوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔حال ہی میں لیک ہونے والے پانڈورا پیپرز ، آف شور کمپنیوں کی دستاویزات کا ایک مجموعہ ، ظاہر کرتا ہے کہ کرپٹ سیاستدان اور بیوروکریٹس اپنی دولت چھپانے کے لیے دو تہائی فرمیں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہیں۔

    ایف اے ٹی ایف نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ترکی کو اپنے منی لانڈرنگ کے قوانین کی نگرانی بڑھانے اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروہوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

    انقرہ نے کہا کہ اس کی گرے لسٹ میں شمولیت "غیر منصفانہ” ہے لیکن اس نے اصرار کیا کہ وہ تنظیم کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ "کم سے کم وقت میں غیرضروری فہرست” سے باہر آنے کی کوشش کی جا سکے۔

    ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ نگرانی کے تحت کسی ملک کے رسک پروفائل میں اضافہ کرتا ہے ، جس سے حکومت اور نجی شعبے کو بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں سے فنڈ اکٹھا کرنا مہنگا پڑ جاتا ہے۔

    آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے زیر اہتمام ایف اے ٹی ایف عالمی معیارات مرتب کرتا ہے جو دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف جنگ کو آگے بڑھاتا ہے۔

    یہ سفارشات جسم کے 200 سے زائد ارکان کو غیر قانونی منشیات ، انسانی سمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث مجرموں کے پیسے کے پیچھے جانے میں مدد دیتی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی فنڈنگ ​​روکنے کے لیے بھی کام کرتا ہے۔

    کسی قوم کو فہرست میں شامل کرنے کے لیے تنظیم کو اپنے اراکین کے اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے ، حالانکہ عین مطابق تعداد متعین نہیں ہے۔

    گرے لسٹ میں شامل ہونے کا یہ بھی مطلب ہے کہ گھریلو اور کثیر القومی بینکوں کو تعمیل اور منی لانڈرنگ کے عملے پر زیادہ وسائل خرچ کرنے پڑتے ہیں ، جنہیں دھوکہ دہی اور دہشت گردی کی مالی اعانت کا پتہ لگانے میں زیادہ چوکس رہنا پڑتا ہے۔

    Twitter @HammadkhanTweet 

  • جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    جنوبی پنجاب صوبہ کیوں ضروری ہے تحریر:عبدالوحید

    قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو چار صوبوں میں میں تقسیم کیا گیا صوبہ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور سرحد شامل ہیں اور بعد میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھ دیا گیا ۔ صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب بڑا صوبہ ہے اور صوبہ پنجاب کو پھر دو حصوں میں شامل کیا گیا شمالی پنجاب و جنوبی پنجاب ۔ شمالی پنجاب جسے اپر پنجاب بھی کہا جاتا ہے گزشتہ تیس سے چالیس سالوں میں حکمران طبقہ اپر پنجاب سے منتخب ہوتا رہا ۔ جہنوں نے اپر پنجاب کو خوب نوازا اور جنوبی پنجاب کو اپر پنجاب کی نسبت محروم رکھا گیا کیونکہ وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب اپر پنجاب سے کیا جاتا تھا تو وزیرِ اعلیٰ  نے اپر پنجاب خاص کر اپر پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو خوب نوازا ۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور کے فی کس آدمی پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے زائد لگائے گئے جبکہ جنوبی پنجاب کے فی کس آدمی پر صرف اور صرف بیس سے پچیس ہزار روپے لگائے گئے ۔ جس سے اپر پنجاب ترقی کے لحاظ سے بہت آگئے نکل گیا اور جنوبی پنجاب بہت پیچھے رہ گیا ۔ اس بات کا اندازہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ہونے لگا کہ ہمیں محروم رکھا جارہا ہے جس پر انہوں نے اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھنا شروع کر دیا ۔ منتخب نمائندوں کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا تو انہوں نے سوچا کہ اس مسلے کا صرف ایک ہی حل ہے وہ ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔ اس طرح دو ہزار اٹھارہ کے عام الیکشن میں صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کا ایک گروپ ابھر کر منظر عام پر آیا ۔ جس میں موجودہ اور سابقہ ایم این اے اور ایم پی اے شامل ہوگئے جن کی سربراہی مخدوم خسرو بختیار کررہے تھے ۔اس وقت کے حکمراں جماعت کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب نے اس گروپ سے ملاقات کی ۔ جب خان صاحب نے ان جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا مواقف جانا تو جنوبی پنجاب محاذ کے نمائندگان اور عمران خان صاحب کا ویژن ایک ہی تھا کہ جو علاقے پیچھے رہ گئے ان کو برابری کی سطح پر لانا تھا۔ دو نہیں بلکہ ایک پاکستان کا ویژن تھا ۔ اس گروپ نے پی ٹی آئی شمولیت اختیار کرلی اور الیکشن کے بعد جنوبی پنجاب میں عمران خان صاحب نے بہت بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تقریباً جنوبی پنجاب سے تقریباً کلین سوئپ کیا اس طرح خان صاحب پنجاب اور وفاق میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کی وجہ سے حکومت ممکن ہوئی ۔ اس کے بعد خان صاحب کا جنوبی پنجاب کے لیے سب بڑا قدم یہ تھا کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا ۔جو کہ تمام لوگوں کے لیے سرپرائز تھا کیونکہ خان صاحب نے ایک ایسے علاقے سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا جوکہ کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا ۔ جنوبی پنجاب سے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے سے سے جنوبی پنجاب کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ وزیرِ اعلیٰ نے کافی حد تک جنوبی پنجاب کے مسائل حل کئے جس میں جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ کا قیام ، ایڈیشنل آئی جی اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری کا قیام عمل میں لایا گیا۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنا کر اور 15 محکموں کے سیکرٹریز تعینات کیےگئے۔

     اس کے علاؤہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 37 فیصد حصہ بجٹ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مختص کیا جس سے جنوبی پنجاب کے لوگوں کو احساس ہوا اس دفعہ واقعی ان کے محرومیوں کا ازالہ ہوا ہے لیکن ممکن نہیں کہ ایک دورے حکومت میں تیس چالیس سالوں کے مسائل حل ہوں۔ انشاء اللہ دو ہزار تیئیس کے عام انتخابات سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنے جائے گا اور مزید جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ 

    @Wah33d_B

    IMG_20210903_213041.

  • 27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری!   تحریر: محمد اختر

    27 اکتوبر-یوم سیاہ: مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری! تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام!   27اکتوبر 1947، حالیہ صدی میں انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے،اس دن بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رقم کر دی یہ وہ دن ہے جب بھارت نے سری نگر میں اپنی افواج اتاری تھیں۔ایک طرف بھارتی قابض افواج نے کشمیری آزادی کے جنگجوؤں سے لڑ کر انہیں دریائے جہلم کے دوسری طرف دھکیل دیا اور دوسری طرف اس نے مقامی آبادی پر مظالم کے پہاڑ ڈھا دیے۔اسی دوران، جب مہاراجہ ہری سنگھ جموں گئے تو وہاں مسلمانوں کا ایک وفد انکے پاس شکایت لے کر آیا کہ مقامی سکھ اور ہندو آبادی مسلمانوں پر مظالم ڈھارہی ہے۔ مہاراجہ نے شکایتوں کو دور کرنے کے بجائے مسلم وفد کو ہی قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے، اس حکم کے اجراء سے قبل کشمیر سے ملحق ہندوستان کی سکھ ریاستوں سے بڑی تعداد میں سکھ فوجیوں کو کشمیر بلایا گیا تھا، جنہوں نے خاص طور پر جموں کی مسلم آبادی کا بے رحمانہ قتل عام کیا۔ کشمیری مسلمانوں پر مظالم کے سلسلے میں، 1947 میں پاکستان کے الحاق کے لیے کشمیریوں کی جدوجہد کے دوران، پورے کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شہید ہوئے۔تاہم، یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے، جدید دور میں بھی یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ آج مقبوضہ جموں و کشمیر ظلم کا ایک خوفناک منظر بن گیا ہے، جہاں بھارتی افواج کی 14، 15، 16 بٹالین تعینات ہیں جن کی کل تعداد 9.5 لاکھ سے زائد ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔اس تعداد کا مطلب ہے کہ ہر 10 کشمیریوں کے لیے اوسطا ایک فوجی تعینات ہے۔ قار ئین کرام،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ وادی اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ ہے اور قابض افواج ظلم اور بربریت کی ایسی داستان رقم کر رہی ہیں کہ وادی میں مٹی کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں جس میں  شہیدوں کا خون شامل نہ ہو۔کوئی دریا ایسا نہیں جس میں کشمیری مسلمانوں کا خون نہ بہتا ہو، وادی میں کوئی گھر ایسا نہیں جس میں کوئی مسلمان شہید نہ ہوا ہو اور کوئی شخص ایسا زندہ نہیں جسے قابض افواج نے تشدد کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ ان مظالم کے علاوہ بھارت نے کئی کالے قانون نافذِعمل کئے ہوئے ہیں جس کے ذریعے وہ کشمیریوں کی آزادی جدوجہد کو کچلنا چاہتا ہے، جیساکہ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ، 1958 کے تحت، سیکورٹی فورسز کو مظاہرین کو کچلنے اور تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اپنے اختیار میں کسی بھی طریقے کو استعمال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی، چاہے ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کتنی ہی وسیع ہو۔ یہ قانون 1990 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا تھا، جب کشمیریوں کی مسلح تحریک عروج پر پہنچ چکی تھی اور مرکزی حکومت کے پاس ان کو کچلنے کا کوئی حربہ نہیں تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح ایکٹ کے نفاذ پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ وغیرہ کی جانب سے حسبِ معمول رسمی طور پر شدید تنقید کی گئی، کیونکہ اس نے فوجی افسران کو اپنے مشن کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کی سرگرمیاں کرنے کا براہ راست اختیار دیا تاکہ مرکزی حکومتی احکامات اور حکمت عملی کو عملی جامہ پہنایا جائے اور  وہ ہر قسم کی قانونی کارروائی سے محفوظ رہے۔اس قانون کا انتہائی خطرناک استعمال 23 فروری 1991 کو کیا گیا، جب بھارتی فوج نے کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دو گاؤں کنان اور پوش پورہ میں رات کی تاریکی میں ایک رات کے سرچ آپریشن کے دوران مختلف عمر کی 100 سے زائد خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔قارئین کرام، جب میں کنان اور پوش پورہ کے واقعے کے بارے میں مطالعہ کر رہا تھا تومجھے معلوم ہوا کہ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 150 کے قریب تھی۔اس ضمن میں، ان تنظیموں کے دباؤ کے تحت، دہلی حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کی، لیکن ہمیشہ کی طرح، انہوں نے اس پر آنکھ بند رکھی اور اسے بے بنیاد قرار دیا اور ملوث  فوجیوں کو بری کر دیا تھا۔در حقیقت، پچھلے 74 سالوں سے، بھارتی افواج مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے، لیکن بھارت ہمیشہ راہِ فرار اختیار کرتا رہا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد اس کا جواب یہ رہا ہے کہ یہ صرف ایک من گھڑت کہانی ہے یا پروپیگنڈا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کو بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے اور وہاں کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔بھارت کا یہ رویہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم کی بہت سی داستان ہیں، بھارت کسی مبصر کو  مقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت نہیں دیتا کہ کہیں وہ واقعات سے پردہ نا اٹھا دے اور اس کے جھوٹے دعوں کی کلی کھل نہ جائے۔ لیکن پھر بھی کشمیری نوجوان سماجی رابطہ کی ویب سائٹ کے ذریعے دنیا کو ان حالات اور واقعات سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم، 5 اگست 2019 کے بعد سے، کرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیری صرف کرفیو اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی مانگ یہ بھی ہے کہ ہندوستان غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کرے اور حقِ خود ارادیت کا حق دے تاکہ وہ اپنی مرضی سے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔ قارئین کرام! میری رائے میں، بھارت کی جانب سے کرفیو، لاک ڈاؤن، جبر اور تشدد جیسی حکمت عملی ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیرکے لوگوں کو بھگتنا پڑی ہے۔ میں سمجھتا  ہوں کہ اِس طرح کے اقدامات انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور انہیں اپنے مطالبات اور مشن کو ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں کرفیو لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ واضح رہے، اکتوبر 1947 میں ہندوستانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ٹیلی گرام بھیجا اور کھلے عام اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی اور رائے نہیں۔لیکن، اس کے برعکس وقت گزرنے کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہے کہ، یہ محض ایک کھوکھلا بیان تھا۔ اس کے علاوہ، جب بھارت اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے گیاتو بھارت نے عالمی برادری سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ایک منٹ لگے گا۔ لیکن، ہندوستان کا یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔اب ایک طرف بھارتی فاشسٹ حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے اور دوسری طرف وہ کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑڈھا رہی ہے۔قارئین کرام! اقوامِ عالم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال سے عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔آزادی ِ جدوجہد کے عظیم رہنما سید علی شاہ گیلانی کی وفات کے بعد سے بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں پر مظالم کی ایک نئی لہرکاآغاز کر دیا ہے۔ ہندوستانی قابض افواج انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہی ہیں۔ حال ہی میں، سرچ آپریشن کی آڑ میں، زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ صرف اکتوبر، 2021 کے مہینے میں اب تک درجنوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی قابض افواج نے جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہے۔ قا رئین کرام! یہ بات ہر ایک پرآشنا ہے کہ بھارت افغانستان میں ہزیمت اٹھانے کے بعد منہ چھپانے کے نت نئے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، ہندوتوا نظریے کے تحت بھارتی فاشسٹ حکمران حکومت، ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ”فالس فلیگ آپریشن” کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال سے ہٹائی جا سکے۔ آخر میں، بطور ڈویژنل صدر کشمیر یوتھ الائنس میں اقوامِ عالم سے پُر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے عملی اقدام کرے۔چونکہ، عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حقِ خود ارادیت دینے پر مجبور کرے۔ ورنہ،مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کرنا اور کھوکھلے بیانات خطے میں سب سے بڑی تباہی کا باعث بنیں گے۔ 

    @MAkhter_

  • فیصلہ پارٹ نمبر 2    تحریر سکندر علی 

    فیصلہ پارٹ نمبر 2 تحریر سکندر علی 

    Twitter @cikandarAli

     یا شاید ایسا قسمت کے اتفاقات کا ہی نتیجہ تھا جو بلاشبہ اغلب ہوتے ہیں لیکن پچھلے دو سالوں میں کسی باعث ان کا کاروبار انتہائی غیر معمولی انداز میں چمکا تھا تھا۔ عملے کی تعداد دوگنی ہوئی ، آمدنی پانچ گنا پڑھی اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ترقی کی گئی ہنوز جاری تھا لیکن اس تبدیلی کے بارے میں وہ اپنے دوست کو کچھ نہیں بتا پایا تھا۔ شروع کے سالوں میں، شاید آخری بار اپنے تعزیتی خط میں، اس دوست نے جارج سے اصرار کیا تھا کہ وہ روس ہجرتکرے۔ نیز وہاں جارج کی کاروباری شاخ کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا تھا۔ اس حوالے سے جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ، وہ جارج کی موجودہ کاروباری سرگرمیوں کے موازنے میں بہت کم تھے۔ وہ دوست کو اپنی موجوره کاروباری کامیابی کے بارے میں بتانے سے چپچپاہٹ محسوس کرتا رہاتھا۔ نہ یہ بہتر لگتا تھا کہ اب سارے قصے کو نئے سرے سے بیان کیا جائے۔

    اس لیے جاری اپنے دوست کو خط میں ادھر ادھر کی غیر اہم باتیں لکھتا رہتاتھ جیسی باتیں ایسے کی کی پر سکون اور اردو استاتے ہوئے آدی کے ذہن میں آسکتی تھیں ۔ وہ تو بس یہی چاہتا تھا کہ اتنے بے عرصے میں اس کے دوست نے اپنے زہنی سکون کے لیے اس ملک سے متعلق اپنے ذہن میں جو تصور قائم کر رکھا ہے، وہ برقرار ہے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ جارج نے طویل وقفوں سے لکھے گئے تین بالکل مختلف خطوں میں ایک غیر اہم خص کی ایک میں ہی غیر اہم لڑ کی سے گئی ہو جائے کے واقہ تفصیل کے ساتھ بیان کیاحتی کہ اس کی توقع کے باکس اس کا دوست اس واقعے میں وقتی دی ظاہر کرنے لگا۔ جارج نے یہ بیان کرنے کے بجائے کہ مہینہ بھر پہلے اس کی فراولین فریڈا برینڈن قلڈ سے ، جوا بھی کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی تھی منگنی ہوئی تھی، دوست کو ایسی غیر اہم باتیں بتانے کو تری دی تھی مگیتر سے اپنی گفتگو میں وہ اپنے دوست اور اس کے ساتھ اپنے بھی تعلق کے بارے میں اکثر بات کرتا جو اس خط و کتابت کے دوران پیدا ہوا تھا۔ تو کیا ہماری شادی میں نہیں آئے گا۔ مجھے تمھارے دوستوں کے بارے میں جانے کا ہے۔ اس کی منگیتر نے کہا۔ میں اسے کیا پریشانی میں گرفتارنہیں کرنا چاہتا۔ جارج نے جواب دیا ” مجھے غلط مت سمجھو ۔ شاید وہ آئے گا ایسا لگتا ہے لیکن و محسوس کرے گا جیسے اس کا حق مارا گیا ہو۔ اسے ٹھیس پہنچے گی ۔ شاید وہ مجھ سے حسد کرے اور یقینا مز ید آزرده ہوجائے گا۔ اپنی مایوسی کا سامنا کرنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے سو اکیلا ہی نہیں نکل جائے گا۔ پھر سے اکیلا ہو جائے گا اس کا کیا مطلب ہے؟

    کیا تمھارے خیال میں اسے کسی طرح سے ہماری شادی کی خرنہیں ہو جائے گی ؟

    میں اس بات کو ہونے سے روک تو نہیں سکتا لیکن ایسا ہونا دشوارترین ہے، اس کا طرز زندگی ہی ایا ہے۔

    جارج تمھارے دوست اس قسم کے ہیں تو بہتر تقاته منگنی ہی نہیں 

    اس کام میں تو ہم دونوں شامل ہیں ۔ جو ہو گیا ہے، اسے بدلا نہیں جاسکتا۔ تب اس کے طویں برسوں کے دوران تیز تیز سانس لیتے ہوئے وہ کسی طرح کہ پی : ” بہرحال مجھے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے 

    تب اس نے سوچا اگر وہ اپنے دوست کومنگنی کے واقعے کے بارے میں بتادے اور امکان ہے کہ یوں وہ خود کو کسی اور پریشانی سے بچا سکے گا۔

    میں ایسا ہی ہوں اور اسے مجھے ایسے ہی قبول کرنا ہوگا۔ میں خود کو اس کے موافق بنانے کے لیے بدل نہیں سکتا ۔اس نے اپنے آپ سے کہا۔ اور اصل میں اس نے اپنے طویل خط میں جو وہ اتوار کی صبح لکھتا رہا تھا، اپنے دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں الفاظ میں اطلاع دی تھی: اختتام کے لیے میں نے سب سے بہترین خبر بچا کر رکھی ہے۔ میں نے شہر کے ایک متمول گھرانے کی لڑکی فراولین برینڈن فلڈ سے منگنی کر لی ہے۔ وہ لوگ تمھارے جانے کے کافی عرصہ بعد یہاں آباد ہوئے۔ اس لیے تم ان سے واقف نہیں ہوں۔ اس بارے میں آئندہ بھی تفصیل سے لکھوں گا لیکن آج کے لیے انا بنانا چاہتا ہوں کہ میں بہت خوش ہوں تمہارے اور میرے تعلق میں بس اتنا ہی فرق آیا ہے کہ اب تم مجھے ملو گے تو تمھیں مجھ جیسے عام دوست میں ایک آسودہ دوست ملے گا تم میری منگیتر کے بارے میں مزید بھی جائو گے، دو میں سلام کہہ رہی ہے اور جلد ہی خودبھی تھیں خط لکھے گی، ایک بچی عورت دوست کی طرح، جوایک غیر شادی شدہ شخص کے لیے بہر حال ایک خاص بات ہے۔ مجھے علم ہے بہت سی وجوہات ہیں تمھارے یہاں منانے کیلیکن کیا میری شادی ایک اہم موقع نہیں ہے جس کے لیے تم ان رکاوٹوں کو پس پشت ڈال دو اور لے چل او لیکن خیر جیسا بھی ہو ، وہی کرو جو تھیں، میری خواہش سے قطع نظر اپنے مطابق بہتر گئے اس خط کو ہاتھ میں لیے دیر سے جارج اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف کیے لکھنے کی کرسی پر بیٹا ہوا تھا وہ دیکھ ہی نہ پایا کہ گلی میں سے گزرتے ہوئے کسی واقف کار نے اسے ہاتھ ہلا کر ایک غائب مسکراہٹ کے ساتھ سلام کیا تھا۔

    (جاری ہے۔)

  • غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    غصہ حرام مگر ۔۔۔۔ تحریر:سعد اکرم

    اللہ تعالی ٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے ۔یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اسکے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔

    جامع ترمذی کی ایک حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا  جن لوگوں کو غصہ نہیں آتا اور جو اپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں میرے نزدیک اس نے اپنی زندگی جیت لی وہ جیسے چاہئے اپنی زندگی کو اپنے طور پر گزار سکتا ہے دنیا میں دو لوگ کامیاب زندگی گزارتے ہیں ایک جو صبر کرتے ہیں اور دوسرا جن کے دل میں رحم ہوتا ہے جن میں یہ دونوں صفات نہ پائ جائیں وہ غصے میں نہ تو صبر کر پاتے ہیں اور نہ ہی کسی پہ رحم  اور نتیجتاً جذباتی اور غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کی کیونکہ غصے میں انسان کو ہوش ہی نہیں ہوتا اپنے نفس پر قابو پانا سیکھئے خدا سے ڈریئے  اور اگر آپ کے کہئے ہوئے الفاظ سامنے والے کو برے لگے تو اور اس نے صبر کر لیا تو معاملہ پھر آپ کے اور خدا کے درمیان آ جائے گا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے مجھے جب خود غصہ آتا ہے تو میں قابو نہیں رکھ سکتا لڑائ قطع تعلقی کے ساتھ ساتھ گالم گلوچ پر بھی اتر آتا ہوں میں نے گزشتہ 22 رمضان کو ایک خبر پڑھی اخبار میں پشاور میں ایک شخص نے رمضان میں اپنی 6 سالہ بھتیجی کو صرف اس بات پہ فائرنگ کر کے قتل کر دیا کے وہ سو رہا تھا اور بچی شور کر رہی تھی اس کے آرام میں خلل پڑ رہا ہو گا جس کا اتنا غصہ آیا اس کو کے اس نے پھول جسیی ننھی معصوم کلی کو چار گولیاں تک مار دیں اور اپنے لیے رحمتوں اور مغفرتوں کے مہینے میں ایک فرض کی تکمیل کرتے ہوئے جہنم خرید لی آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا یار مجھے غصہ بہت آتا ہے اپنے غصے پر قابو پانا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ غصہ آگ ہے یہ دماغ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تھوڑی دیر کیلئے چھین لیتا ہے غصے کا آغاز حماقت اور انجام پچھتاوا ہے غصے میں انصاف ہر گز نہیں ہو سکتا اور غصے میں کئے گئے فیصلے کبھی درست ثابت نہیں ہوتے یہ ہنستے بستے گھر اجاڑ کے رکھ دیتا ہے گھر میں کوی بے قاعدگی ہو جائے تو آپکو شدید غصہ آتا ہے اچھا خاصہ گھر پانی پت کا میدان بن جاتا ہے لیکن آپ اگر دفتر میں کوے غلطی کریں تو آپ کو جھاڑ پلائ جائے تو آپ برداشت کر لیتے ہیں اس انتہائ ناپسندیدہ صورتحال میں بھی آپ اپنے غصے پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا سیدھا اور صاف جواب یہی ہے کے غصہ آتا نہیں بلکہ کیا جاتا ہے غصہ آئے یہ کیا جائے دونوں صورتحال میں غصہ اچھی چیز نہیں ہے بزرگوں نے اس سے بچنے کی تلقین کی آدمی کس کس بات کا رونا روئے غصہ تو بہت ساری باتوں پر آتا ہے آج وطن عزیز میں بہت سے مباحث چل رہے ہیں بہت سے سقراط بقراط اور ارسطو اپنے نام نہاد زریں خیالات سے قوم کو نواز رہے ہیں لیکچر پہ لیکچر دئے جا رہے ہیں الکٹرانک میڈیا پہ لمبی لمبی تقریریں کی جاتی ہیں دانشوریاں بکھیری جاتی ہیں پاکستان کی زبوں حالی پر مگر مچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اس کی ترقی کے حوالے سے اپنے سستے جذبات کی تشہیر کی جاتی ہے ان لوگوں کی باتیں سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کے پاکستان اور اس کی مظلوم عوام کے غم میں یہ بے چارے گھلے جا رہے ہیں اور ان کے شب وروز اسی سوچ میں گزرتے ہیں کبھی غور کیجئے کتنے لوگ جن کے پاس وسائل بھی ہیں اقتدار بھی ہے اگر وہ پسماندہ  عوام کی بہتری کیلئے کچھ کرنا چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں چند ماہ پہلے ایک عالمی سروے  سے معلوم ہوا ہر تیسرا شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے  عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی گیلپ گلوگل ایموشنز  رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آیا ہے یوں کہئے پوری قوم اس وبا میں مبتلا ہو چکی ہے نائ حلوائی قصائ نانبائی غرضیکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والا نشے میں اپنے ہوش و حواس کھو چکا ہے کچھ لوگوں نے غصہ آنے کی ایک بڑی وجہ  ظلم اور ناانصافی کو قرار دیا ہے  یقینا  ہمارے  معاشرے میں جھوٹ کا چلن بہت عام ہو چکا ہے یہ ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑے بگاڑ اور بے برکتی کا سبب ہے ظالمانہ مناظر تو ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سکہ تو یہاں خوب چلتا ہے ایک مشہور چینی کہاوت ہے ہم چھوٹے چوروں کو سزا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں ہمارے ہاں بھی یہی دستور ہے قانون کی پکڑ صرف غریب کیلئے ہے بڑے چوروں کو ہماری جیلوں میں وہ سہولتیں میسر ہیں جس کا غریب آدمی اپنے گھر میں بھی نہیں سوچ سکتا کچھ لوگوں کو دوسروں کی بدتمیزی اور غیر ذمہ داری پر بھی غصہ آتا ہے لوگ گلیوں میں گندگی پھینک دیتے ہیں جس طرف نظر اٹھتی ہے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں اگر کوئ روکنے یہ سمجھانے کی کوشش کریے تو تو آگے سے کہا جاتا ہے یار یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے یہ جملہ یقینا بہت زیادہ غصہ دلانے والا ہے ہم اپنے مادر وطن کی تحقیر ہر ہر وقت آمادہ نظر آتے ہیں اپنے پیارے وطن کی ہماری نظروں میں کوی وقعت ہوتی تو ہم ایسی بات کبھی بھی نہ کہتے معاشرتی اخلاقیات کا فقدان ہے بڑی بڑی شاہراوں پر ٹریفک پولیس کی موجودگی میں قانون توڑے جاتے ہیں مک مکا کی وجہ سے قانون کو کھیل سمجھا جاتا ہے قانوں کے رکھوالوں کی مٹھی گرم کرنے کا عام رواج ہے یہ سب وہ مذموم حرکتیں ہیں جنہیں دیکھ کر ہر شریف شہری کا خوں کھول اٹھتا ہے اس سب کچھ کے باوجود یہ بات بڑی خوش آئند ہے جنوبی ایشیا میں بسنے والے ایک ارب اسی کروڑ لوگوں میں سے ہم بائیس کروڑ پاکستانی سب سے ذیادہ خوش اور مطمئن ہیں اس خوشی اور اطمینان کی وجوہاٹ میں سے ایک بہت بڑی وجہ اللہ کی ذات پہ مکمل یقین اور بھروسہ ہے

    @saadakram_   twiter handle 

  • چھاتی کے سرطان سے آگاہی؛ چھاتی کا سرطان کیسے ہوتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہیں ؟  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    چھاتی کا سرطان یہ ہے کہ خواتین میں سب سے عام حملہ آور کینسر اور اس لئے کارسینوما کے بعد خواتین میں کینسر کی موت کی دوسری اہم وضاحت ہے۔چھاتی کا سرطان ایک بیماری ہے جس کے دوران چھاتی کے اندر خلیات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔چھاتی کے سرطان کی مختلف اقسام ہیں۔ کارسینوما کی قسم کا انحصار اس بات پر ہے کہ چھاتی کے اندر کون سے خلیات کینسر بن جاتے ہیں۔چھاتی کا سرطان چھاتی کے مختلف حصوں میں شروع ہوسکتا ہے۔ایک چھاتی تین اہم حصوں سے بنتی ہے: لوبلز، نالیاں اور جانوروں کے ٹشو۔لوبلوہ وہ غدود ہیں جو دودھ پیدا کرتے ہیں۔ نالیاں ٹیوبیں ہیں جو دودھ کو نپل تک لے جاتی ہیں۔جانوروں کے ٹشو (جو ریشے دار اور چربی دار ٹشو پر مشتمل ہوتا ہے) ہر چیز کو ایک ساتھ رکھتا ہے اور گھیر لیتا ہے۔زیادہ تر چھاتی کے سرطان نالیوں یا لوبلز میں شروع ہوتے ہیں۔ چھاتی کا سرطان خون کی شریانوں اور لمف شریانوں کے ذریعے چھاتی کے باہر پھیل سکتا ہے۔جب کارسینوما جسم کے دیگر حصوں میں پھیلتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس میں میٹاسٹائزڈ ہوتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی اقسام: چھاتی کے سرطان کی کئی مختلف اقسام ہیں، بشمول: ڈکٹل کارسینوما: یہ دودھ کی نالیوں کے اندر شروع ہوتا ہے اور یہ عام قسم ہے۔لوبلر کارسینوما: یہ لوبلز میں شروع ہوتا ہے۔ حملہ آور کارسینوما اس وقت ہوتا ہے جب کینسر کے خلیات لوبلز یا نالیوں کے اندر سے فرار ہو جاتے ہیں اور قریبی ٹشو پر حملہ کرتے ہیں۔اس سے کینسر کے جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔یہ کیسے ہوتا ہے؟ بلوغت کے بعد عورت کی چھاتی چربی، جانوروں کے ٹشو اور ہزاروں لوبلز پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ چھوٹے غدود ہیں جو دودھ پلانے کے لئے دودھ پیدا کرتے ہیں۔ چھوٹی ٹیوبیں، یا نالیاں، دودھ کو نپل کی طرف لے جاتی ہیں۔سرطان خلیوں کو بے قابو ہونے کا سبب بنتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے چکر میں معیاری مقام پر نہیں مرتے ہیں۔خلیات کی یہ ضرورت سے زیادہ نشوونما کینسر کا سبب بنتی ہے کیونکہ ٹیومر غذائی اجزاء اور توانائی کا استعمال کرتا ہے اور اس کے ارد گرد کے خلیوں کو محروم کرتا ہے۔چھاتی کا سرطان عام طور پر دودھ کی نالیوں یا دودھ کی فراہمی کرنے والی لوبلز کی اندرونی لائننگ میں شروع ہوتا ہے۔وہاں سے یہ جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔

    چھاتی کے سرطان کی علامات: کارسینوما کی پہلی علامات عام طور پر چھاتی کے اندر گاڑھے ٹشو کے پڑوس یا چھاتی یا بغل کے اندر ایک گٹھلی کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔دیگر علامات میں شامل ہیں: بغلوں یا چھاتی کے اندر درد جو چھاتی کی جلد کے ماہانہ چکر پٹنگ یا لالی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، تقریبا ایک نارنگی کی سطح کی طرح ایک نپل سے خارج ہونے والی چونچوں میں سے ایک کے ارد گرد یا ایک پر دانے، ممکنہ طور پر خون میں ایک ڈوبا ہوا یا الٹا نپل چھاتی کے چھلکے کے سائز یا شکل کے اندر ایک تبدیلی، چھاتی یا نپل پر جلد کی چھلکا لگانا، یا اسکیلنگ کرنا زیادہ تر چھاتی کی گٹھلیاں کینسر زدہ نہیں ہوتی ہیں۔تاہم، خواتین کو معائنہ کے لئے ڈاکٹر سے ملنے جانا چاہئے اگر انہیں چھاتی پر گٹھلی نظر آئے۔اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتا ہے؟ چھاتی کے سرطان کا علاج کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔یہ چھاتی کے سرطان کی قسم اور اس کے پھیلنے کی حد تک پر منحصر ہے۔کارسینوما کے شکار افراد اکثر کافی خاموش علاج حاصل کرتے ہیں۔ سرجری: ایک آپریشن جہاں ڈاکٹروں نے کینسر کے ٹشو کو کاٹ دیا۔کیموتھراپی: کینسر کے خلیوں کو سکڑنے یا مارنے کے لئے خصوصی ادویات کا استعمال۔دوائیں اکثر گولیاں ہیں جو آپ لے رہے ہیں یا آپ کی رگوں میں دی جانے والی دوائیں ہیں، یا کبھی کبھی دونوں۔ہارمونل تھراپی: کینسر کے خلیات کو ان ہارمونز کو حاصل کرنے سے روکتا ہے جو انہیں بڑھنا ہوتا ہے۔حیاتیاتی تھراپی.: کینسر کے خلیوں سے لڑنے یا کینسر کے دیگر علاج سے ضمنی اثرات کو منظم کرنے میں مدد کرنے کے لئے اپنے جسم کے نظام کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔تابکاری تھراپی. کینسر کے خلیوں کو مارنے کے لئے اعلی توانائی کی شعاعوں (ایکسرے کی طرح) کا استعمال کرنا۔علاج کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، بشمول: کینسر کی قسم اور مرحلہ عمر، مجموعی صحت اور فرد کی ترجیحات ہارمونز کے بارے میں شخص کی حساسیت۔کسی فرد کے علاج کی قسم کو متاثر کرنے والے عوامل میں کینسر کا مرحلہ، دیگر طبی حالات اور انفرادی ترجیح شامل ہوں گے۔

    TA: @AhtzazGillani

  • لاکھ آبادی پر محیط مسائل میں جگڑا چولستان حکومت کی توجہ کا منتظر   تحریر: تنویر وگن

    لاکھ آبادی پر محیط مسائل میں جگڑا چولستان حکومت کی توجہ کا منتظر تحریر: تنویر وگن

    موجودہ حکومت نے چولستان میں کوئی بھی خاطر خواہ کام نہیں کیا تعمیر شدہ 450 سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار، پینے کا صاف پانی میسر نہیں

    700 کلومیٹر کی پٹی پر محیط چولستان اونٹ ، بھیڑ، بکری، گائے کے گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے سینکڑوں چکوک میں موجود سکولوں کی بھی بہت بڑی تعداد حکومتی سرپرستی نہ ہونے سے زبوں حالی کا شکار، وفاقی وزیرخزانہ ہاشم جواں بخت سے توجہ کا مطالبہ

    پاکستان کا سب سے بڑا صحرائی علاقہ چولستان جو 700 کلومیٹر کی پٹی اور 3 اضلاع ضلع رحیم یارخان، بہاول پور، بہاول نگر کے علاوہ سندھ کے کچھ علاقوں تک پھیلا ہوا ہے60 لاکھ ایکڑ پر محیط اس علاقے کی انسانی آبادی 3 لاکھ نفوس سے زائد پر مشتمل ہے جبکہ70 لاکھ سے زائد مویشی پاۓ جاتے ہیں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں چولستان میں 450 کلومیٹر سے زائد سڑکیں واٹر سپلائی کے لیے 1100 ٹوبوں کے علاوہ مختلف چکوک میں بجلی اور دیگر سہولیات مہیا کی گئیں مگر موجودہ حکومت نے چولستان میں کوئی بھی خاطر خواہ کام نہیں کیا تعمیر شدہ 450 کلومیٹر سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں 734 دیہاتوں پر مشتمل چولستان ( روہی ) وزیراعظم عمران خان اور پنجاب حکومت کی توجہ کا منتظر ہے چولستان کو ترقی دینے کے لیے 1976ء میں چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی CDA کا قیام عمل میں لایا گیا۔

    اس سے قبل 1959-60 میں لوگوں کو آباد کرنے کے لیے درخواستیں لے کر انہیں رقبے الاٹ کیے گئے سب سے پہلے گرومروفوڈ سکیم کے تحت 2 مربع اراضی ہر شخص کو الاٹ کی گئی 1960ء میں پھر ایک نوٹیفیکیشن کے تحت اس رقبہ کو ساڑھے 112 پکڑ کر دیا گیا چولستان جو 700 کلومیٹر کی پٹی پر محیط ہے یہ سندھ پنجاب بارڈر سے فورٹ عباس بہاول نگر تک پھیلا ہوا ہے اور بیشتر جگہوں سے اس سے انڈیا کی سرحد بھی ملتی ہیں، اونٹ، بھیڑ، بکری، گاۓ کے گوشت اور دودھ کی پیداوار کے حوالے سے چولستان پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے پہلے پہل ہر سال یہاں موجود ٹوبوں کے لیے باقاعدہ ترقیاتی فنڈز مہیا ہوتے تھے اور کچھ ٹوبوں کو کمپیوٹرائز کر کے ان کی بھل صفائی تک کا کام بھی ہوتا تھا

    مگر اب بھی ایسے سینکڑوں ترقیاتی منصوبے کھٹائی کا شکار ہیں جہاں پینے کے صاف پانی کی سپلائی کے لیے بلڈنگز بناکر پائپ لائنیں تک بچھادی گئیں لیکن یہاں اس دور حکومت میں ان کو چالو نہ کیا گیا چونکہ روہی ( چولستان ) کا زیر زمین پانی کڑوا ہے اس لیے یہاں قدرتی ٹوبوں جو کہ بارش کے پانی کی وجہ سے آبادی اور جانوروں کو پینے کا پانی فراہم ہوتا ہے اس میں صفائی اور دیگر کئی معاملات کی وجہ سے ان علاقوں میں یرقان، گردوں کی بیماریوں سمیت دیگر کئی پیچیدہ امراض سر اٹھاتے ہیں اکثر اوقات ان علاقوں میں قحط سالی کا بھی ساں رہتا ہے۔

    ایک دہائی قبل چولستان میں مویشیوں کی افزائش اور انسانوں کی ترقی کے لیے خوراک تک حکومت اور دیگر اداروں کی طرف سے مفت تقسیم کی جاتی تھی مگر اب ایسا سلسلہ نہیں ہے 2014 میں ہونے والی خشک سالی کے باعث کئی انسان اور جانور لقمہ اجل بن گئے تب اس وقت کی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر چولستانی ترقیاتی ادارہ کو بہت بڑی تعداد میں فنڈز مہیا کیے اور علاقوں میں مویشیوں کے ہسپتالوں کے علاوہ موبائل ہسپتالوں کے لیے گاڑیاں تک فراہم کیں ان علاقوں میں سکولوں کی بھی بہت بڑی تعداد تھی جو حکومتی موثر سر پرستی نہ ہونے کے باعث آہستہ آہستہ زبوں حالی کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بعض علاقوں میں پٹہ ملکیت فی یونٹ فیس 700 روپے تھی اب یہ فیس 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے اور 1400 روپے کے عوض ملنے والی زمین اب 16 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے اس پر ستم ظریفی یہ بھی کہ ابھی تک چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ان کے ملازمین کو مستقل نہیں کیا جاسکا

    چولستان کے لیے علیحدہ کمپیوٹرائز ریکارڈ سینٹر اور نادرا سینٹر بھی قائم نہیں کیے گئے اور نہ ہی فلڈ سپلائی کے تحت چولستان کے پانی کو علیحدہ کر کے اس کا سیم نالہ علیحدہ کیا گیا ہے قبل از میں مسلم لیگ ن کے دور میں سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف ہمیشہ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین ہوتے تھے اور وہ خود اپنی نگرانی میں چولستان کی ترقی اور خوشحالی کے علاوہ یہاں نامناسب اور ناموجود سہولیات کو دیکھ کر وقت کے مطابق انہیں فنڈز بھی مہیا کرتے تھے۔ لیکن صحیح بات تو یہ ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد چولستان میں اس طرح سے ترقیاتی کام اور انسانی و جانوروں کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے اب صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم باشم جواں بخت کا تعلق نہ صرف سرائیکی وسیب کے ضلع رحیم یار خان سے ہے بلکہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت ان کا تعلق اس سیاسی گروپ سے بھی ہے

     جنہوں نے جنوبی پنجاب سرائیکی وسیب کے استحصال شدہ علاقوں کی ترقی کا وعدہ کیا تھا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ وہ چولستان کو محض ایک صحرا کے طور پر جانتے ہوۓ اس کو نظر انداز نہ کریں بلکہ چیئرمین چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی مخدوم ہاشم جواں بخت تینوں اضلاع میں اس ریگستانی پٹی کے ان سینکڑوں چکوک کا خصوصی دورہ کریں۔ جہاں پر بہت بڑی آبادی قائم ہے اور وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور جو سڑکیں بن کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، پینے کے صاف پانی کے علاوہ سکولوں اور ہسپتالوں میں ناموجود سہولیات کی فراہمی کو بھی پورا کرلیں۔

    Twitter account @WaganMir

  • ویرات کوہلی آگ بگولہ ہو گئے

    ویرات کوہلی آگ بگولہ ہو گئے

    دبئی: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا میچ پاکستان سے ہارنے کے بعد بھارتی کپتان ویرات کوہلی صحافی کے سوال پر غصہ کر گئے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ویرات کوہلی گزشتہ رات میچ ہارنے کے بعد پریس کانفرنس کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں ویرات کوہلی کو صحافی کے سوال پر گصہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے-


    ویڈیو میں صحافی نے روہت شرما سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ نے آؤٹ آف فارم روہت شرما کو ڈراپ کر کے ایشان کشن کو شامل نہیں کیا اس کی وجہ کیا تھی ؟

    بھارتی شکست پرمقبوضہ کشمیرسمیت بھارت میں خوشیاں ،آتشبازی:بھارت غصہ کرگیا،مسلم…

    صحافی کے طنزیہ سوال پر ویرات کوہلی نے کہا کہ بہت اچھا سوال ہے لیکن چلیں آپ مجھے اس کی وجہ بتادیں۔

    بھارت کی ہار پر اسٹیڈیم میں موجود اکشے کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا

    صحافی نے کہا کہ میں کمنٹ نہیں کر رہا بلکہ سوال پوچھ رہا ہوں۔ جس پر ویرات کوہلی نے کہا کہ روہت شرما کو آپ ایشان کشن سے ملا رہے ہیں جبکہ روہت شرما ہمارے سینئر کھلاڑی ہیں اور ان کی جگہ ایشان کشن کو کیسے شامل کیا جاسکتا تھا جس کے بعد ویرات کوہلی نے غصہ کو ضبط کرتے ہوئے کہا کہ باقابل یقین سوال ہے-

    ویرات کوہلی نے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کوئی تنازعہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ہی بتا دیں تاکہ میں اسی حساب سے پھر آپ کو جواب دوں۔

    ویڈیو: پاکستان کی تاریخی جیت پراسٹیڈیم میں موجود بابراعظم کے والد فرط جزبات سے رو…

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی شاہینوں نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچ میں 10 وکٹوں سے شکست دی تھی بھارت کی جانب سے پاکستان کو جیت کے لیے 152 رنز کا ہدف دیا گیا تھا جسے قومی ٹیم نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 17 اوورز میں ہی مکمل کر لیا۔

    صدر سمیت حکومتی و سیاسی شخصیات کی قومی ٹیم کو مبارکباد

  • مہنگائی عالمی مسئلہ .تحریر : فضیلت  اجالہ

    مہنگائی عالمی مسئلہ .تحریر : فضیلت اجالہ

    عالمی وبا کورونا کے باعث روز بروز بڑھتی ھوئی مہنگائی کی لپیٹ میں پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی شامل ہے۔ جہاں ایک طرف مہنگائی سے پریشان غریب عوام کے لیے اشیائےخوردونوش خریدنا ناممکنات میں شامل ھوتا جا رہا ہے وہیں بغض عمران خان میں مبتلا اپوزیشن عالمی مسلے کو حکومت کی نا اہلی قرار دیتے ہوئے زاتی مفادات کے حصول کی خاطر معصوم عوام کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کر رہی ہے۔ابو بچاو اور کرپشن چھپاوں تحریک کو مہنگائی مخالف جنگ کے لبادے مییں چھپا کر انتشار کو ہوا دی جا رہی ہے۔
    اس بات میں کوئ دو رائے نہیں کہ غریب عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے لیکن ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ پاکستان پیٹرول سمیت بہت سی اشیاء خوردونوش کیلیے دوسرے ممالک پر انحصار کرتا ہے، کورونا کے باعث طلب و رسد کے واضح فرق اور نظام ترسیلات میں رکاوٹوں کے سبب ہر شعبہ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے ،انتہائی ترقی پزیر ممالک جہاں کبھی مہنگائی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا وہا ں بھی مہنگائی نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ۔

    حالیہ مہنگے ہونے والے پیٹرول کی بات کریں تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹرول میں خود کفیل نہیں ہے ،عالمی سطح پر بارہ ماہ کی قلیل مدت میں پیٹرول کی قیمت میں 88.5 روپے اضافہ ہوا جس میں بتدریج اضافے کا امکان ہے جبکہ پاکستان میں اسی عرصے میں صرف 17.55% بڑھوتری ہوئ ہے ۔حکومت پاکستان اس وقت مجموعی قیمت 138 روپے میں سے صرف 14 روپے لیوی اور سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کر رہی ھے جو کہ پاکستان کی 74 سالہ تاریخ می پیٹرول پر کم ترین ٹیکس ہے۔ نون لیگی ترجمان شاہد خاقان عباسی بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ موجودہ حکومت بہت کم ٹیکس لے رہی ہے اور یہ بھی کہ اگر نون لیگ کی حکومت ہوتی تو پیٹرول کی قیمت موجودہ قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی۔
    ۔ جو لوگ عمران خان کے ماضی میں دیے گئے بیان ‘جب پیٹرول کی قیمتوں مین اضافہ ھو تو سمجھ لو حکمران چور ہے ‘ کو لیکر تمسخر اور تنقید کر رہے ہں انہییں یاد دہانی کرواتی جائوں کہ اس وقت پیٹرول کی قیمت اگر 100 روپے تھی تو اسمیں 52 روپے صرف لیوی اور سیلز ٹیکس کے تھے جب کہ پیٹرول کی قیمت صرف 48 روپے تھی۔ یعنی نصف سے بھی زیادہ رقم صرف ٹیکس کی مد میں موصول کی جاتی رہی ہے ۔

    عالمی سطح پر گیس اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 135 % ہے جبکہ پاکستان میں قدرتی ذخائر سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمتوں میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔

    خوردنی تیل کے حوالے سے بھی جھوٹی خبریں چلا کر پراپیگنڈہ کرنے کی بھر پور کوششیں کی گئی جبکہ در حقیقت عالمی منڈی کے خوردنی تیل کے نرخوں میں 48% اضافہ پر پاکستانی حکومت نے صرف 38% اضافہ کیا ۔

    سوشل میڈیا کے کچھ دانشور اس بات کا منجن بیچتے بھی نظر آئے کہ پیٹرول اور تیل تو باہر سے منگواتے ہیں اسلیئے مہنگا ہے تو باقی اشیاء زندگی کیوں مہنگی ہیں ؟ ان دانشوروں سے معصومانہ سوال ہے کہ گندم چاول اور کچھ دیگر اجناس کے علاوہ پاکستان کس چیز کی پیداوار میں خود کفیل ہے؟ پام آئل اور سویابین سے بناسپتی گھی بننے کہ باوجود ہمیں خوردنی تیل باہر سے منگوانا پڑتا ہے کیونکه پام آئل اور سویابین دونوں کی بہترین کاشت کا مرکز سندھ ہے جس پہ نا کسی گزشتہ وفاقی حکومت نے توجہ دینا مناسب سمجھا اور نا ہی مہنگائی پہ بھاشن دیتی بھٹو سرکار نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت کی کہ بھٹوں کو زندہ رکھتے رکھتے سندھ کی عوام بیروزگاری بھوک اور افلاس کا کفن اوڑھے زندگی سے منہ موڑ چکی ہے ۔
    وہ جماعت جو مہنگائی کی آڑ لیکر اپنی کرپشن بچانے کیلئے سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی ہے ان کے دور اقتدار کے گزشتہ دس سالوں میں مسلسل ڈی انڈسٹریلائزیشن ہوتی رہی لیکن نا تو اسحاق ڈار نے نوٹس لیا اور نا ہی نانی چار سو بیس کے دل میں عوام کا درد جاگا ۔

    خشک دودھ، پنیر ،دہی سے لیکر گرم مصالحہ جات اور دالیں تک ہم دوسرے ممالک سے خریدتے ہیں ،گزشتہ دس سالوں میں کسان کی حق تلفی کر کہ ملکی پیداوار کو تباہی کہ دہانے پر پہنچایا گیا ، ملک میں موجود کھاد پیدا کرنے کا واحد ادارہ ایف ایف بی ایل کھاد کی ملکی ضروریات پیدا کرنے سے قاصر ہے جس کی کمی باہر سے او ڈی پی کھاد منگوا کر پوری کی جاتی ہے۔موجودہ حکومت نے کسان کی بحالی کیلئے احسن اقدامات کیئے ،کسان کارڈ کا اجراء کیا اور تمام فصلوں کے ریٹ مقرر کیئے تاکہ کسان خوشحال ہو .اپوزیشن پراپگینڈا کے برعکس حقائق اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت نے پاکستانی عوام کو ہر ممکن حد تک عالمی مہنگای کے اثرات سے بچایا ہے اور مزید کوششیں جاری ہیں ۔حکومتی سطح پر خوردنی تیل کی پیداوار کے لیئے کاشتکاری شروع کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کافی حد تک خوردنی تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہوجائے گا ۔تحریک انصاف حکومت نے ملکی صنعتوں کی بحالی کا کام بھی شروع کیا ہے تاکہ پاکستان صرف باہر سے درآمد کرنے والی قوموں کی صف سے باہر نکل سکے، اس اقدام سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی استحکام ملے گا، حکومت کی موٴثر پالیسیوں کے سبب ترسیلات زر میں اضافہ خوش آئندہ ہے غیرملکی زر مبادلہ کے زخائر بتدریج میں بہتری آرہی ہے ۔ اس کے علاوہ اگلے ماہ کی 15 تاریخ سے ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دی جائے گی،

    حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس مہنگائی ک مقبلہ کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہونگے اور زرائع آمدن کو بڑھانا ہوگا ۔عمران خان کا وژن نسل در نسل سیاست نہیں عوام کی بقا ہے، وہ ووٹ یا اقتدار کے لالچ میں وقتی فیصلے نہیں کرتے بلکہ ایسے فیصلے اور اقدامات کر رہے ہیں جن کے نتائج مثبت اور دیر پا ہونگے، مشکل حالات ہیں لیکن میرے کپتان نے کبھی حالات کے سامنے سر نہیں جھکایا انشاء اللہ وہ پاکستان اور عوام کو مایوس نہیں کریں گے اور اس مشکل وقت کو بھی شکست دیکر پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریں گے ،لیکن وقت لگے گا ۔

    @_Ujala_R

  • جعلی ڈاکٹر اور پاکستان

    جعلی ڈاکٹر اور پاکستان

    وہ میرے پاس چیک اپ کرانے آیا میں نے اسکے دانت دیکھ کر اسکو تمام علاج اور حل بتلائے مجھے لگا کہ وہ پہلے ھی کسی اور سے علاج کروا رہا ھے قطع نظر اسکے میں نے اسکو میں نے پوری ایمانداری سے جو حل ھوسکتا وہ بتلا دیا اس نے ساری تفصیل سننے کے بعد کہا ڈاکٹر صاحب میں کسی اور سے علاج کروا رھا تھا بس تسلی لئے آپکو چیک کروالیا آپکا علاج کافی مہنگا ھے اور لمبا ھے حل تلک پہنچتے پہنچتے دیر ھوجایئگی مجھے یقین ھے کہ آپ جو حل بتا رہے وہ بالکل ٹھیک ھوگا مگر میں جہاں سے علاج کروا رھا اس نے نہایت آسان حل بتلایا ھے وہ میرا دانت نکال کر نیا لگا دیگا اور قیمت بھی آپ سے آدھی سے بھی کم لیگا

    مجھے جستجو ھوئی کہ یہ کون ڈاکٹر ھے میں نے نا چاہتے ھوئے بھی نام پوچھ ھی لیا اس مریض نے ایک جعلی ڈگری والے عطائی ڈاکٹر کا نام بتلایا اور یہ کہتے ھوئے چلا گیا کہ خدانخواستہ اگر وہ ڈاکٹر صاحب ناکام ھوگئے تو پھر آپ سے مشورہ کرنے ضرور آونگا.ناظرین وہ مریض کوی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا یا کوی ان پڑھ شخص نہیں تھا بلکہ ایک پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھنے والے اچھے متوسط طبقے کا چشم و چراغ تھا اور میں اسکی آنکھیں پڑھ چکا تھا وہ یقینا جانتا تھا کہ وہ ایک عطائی ڈاکٹر پاس جارا ھے علاج کرانے جو نا صرف علمی لحاظ سے بلکہ کلینک کی صفائی اوزاروں کی سٹیریلازیشن(sterilisation) کے اعتبار سے بھی ناقابل بھروسہ کم تر اور بیماریوں کی آماجگاہ ھوگا

    مجھے اس مریض کا مجھ پر ایک جعلی ڈاکٹر کو فوقیت دینے کا دکھ نہیں ھورا تھا بلکہ اس بات کی فکر تھی کہ کہیں یہ وہاں سے کوی نئ بیماری ھیپاٹائٹس وغیرہ نا لے آئے ،میں سوچنے پر مجبور ھوگیا کہ ایسی کیا مجبوری ھوی کہ اس نے اور اس جیسے کئ لوگ اپنی فیملیز کو اب ڈینٹل سرجنز کے بجائے جانتے بوجھتے جعلی ڈاکٹرز پاس لے جاتے یقینا اسکی ایک بڑی وجہ مہنگائ خرچوں کا آمدن سے زائد ھونا اور دانتوں کا علاج دوسری بیماریوں کی نسبتا زیادہ مہنگا ھونا ھے پھر میں نے یہ سوال سوشل میڈیا پر لوگوں کے سامنے رکھا میں اندر سے ھل سا گیا جب میں نے تقریبا تمام کمنٹس یہی پڑھے کے ڈاکٹرز مہنگے ھیں ڈاکٹرز لٹیرے ایک معروف سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نسیم کھیڑا عرف منہ کھول پلیز نے تو یہ تک کہ دیا کہ آپ کے چھرے بہت تیز ھوتے یعنی چند روپے بچت کی خاطر عوام اس بات کو بھی پیچھے چھوڑ رہی کہ وہ زندگی بھر کی بیماریاں لے سکتے یہ جعلی ڈاکٹرز انتہائی کم پڑھے لکھے سے مکمل طور پر ان پڑھ ھوتے انکی کل قابلیت کسی ڈاکٹر ساتھ بطور اسٹنٹ کام کرنا انکے تجربے سے اور prescription پر لکھی دوائیاں سیکھنا ھوتا یہ کسی ھسپتال میں بطور ڈسپنسر لگ جاتے ڈاکٹر سرجن کے ھنر سے فائدہ لیتے ان سے کام سیکھتے اور اپنا کلینک ڈال لیتے ایک کو تو میں الیکٹریشن کی دکان تھی نہیں چلی تو ڈینٹسٹ ساتھ کچھ عرصہ کام پر لگا پھر اپنا ذاتی کلینک بنالیا اب اپنے نام ساتھ ڈاکٹر لکھ کر گھوم پھر رھا ھوتا anaesthesia کو anatesia کہنے والا یہ گروہ عوام کی مجبوریاں کا فائدہ اٹھاتا ھیلتھ کمیشن کو ماہانہ بتھا دیتا اور بیماریاں بیچتادوسری طرف کئ ڈاکٹرز نے واقعتا ناجائز فیس لینے علاج کے نام پر کمپنی کی دوائیاں بیچنے کا unethical کاروبار شروع کیا ھوا اس سارے معاملے کو تفصیل سے آئندہ کالمز میں بتاونگا اور اس پلیٹ فارم سے ان شااللہ دونوں طرف سے اچھائی لئے آواز بلند کرینگے