Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سفید پوشی, خود داری اور یہ مجبوریاں ..تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سفید پوشی, خود داری اور یہ مجبوریاں ..تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    خود داری بہترین انسانی صفت ہے اور آج تک خوددار انسان کبھی ناکام نہیں ہوا.
    ہر انسان خود دار رہنا پسند کرتا ہے اور اپنی خودداری پہ کبھی سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتا. مگر بعض اوقات اُسے ایسی مجبوریاں جکڑ لیتی ہیں جو اسکی خودداری کو جھکنے پر مجبور کردیتیں ہیں.
    آپ نے کبھی ایسے مجبور باپ کو دیکھا ہوگا جو اپنی اولاد کے لئے دن رات محنت کرتا ہے اسے طرح طرح کی مصیبتیں جھیلنی پڑتیں ہیں اور کئی لوگوں کی ڈانٹ اور گالیاں بھی سننی پڑتی ہیں. اسکے باوجود وہ اپنی محنت سے کام کرتا ہے کیونکہ اس نے اپنا گھر چلانا ہوتا ہے. اپنے بچے پالنے ہوتے ہیں.
    ایک ریڑھی والے کو جب 1500 کا چالان تھما دیا جاتا ہے تو اسکی حالت کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو خود مزدور ہو,
    مگر جیسے تیسے کرکے اس نے چالان بھی بھرنا ہوتا ہے چاہے اسکے لئے اسے خود بھوکا سونا پڑ جائے…
    باپ جو اپنے بچوں کے لئے کسی ہیرو سے کم نہیں ہوتا وہ اپنے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھنے کے لئے اپنا آپ بھول جاتا ہے. اس کے لئے اپنی صحت اپنی ہمت معنی نہیں رکھتی وہ اپنے آپ کو کمزور کرتا ہے تاکہ اُسکی اولاد کسی قابل بن سکے.
    وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے دکھ اپنے چہرے سے ظاہر نہ دے کیونکہ وہ اپنی اولاد کو ہر وہ خوشی دینا چاہتا ہے جو اسکے اختیار میں ہوتی.
    اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اسکو اپنی خود داری کو دفن کرنا پڑتا جاتا ہے. اسے کئی طرح کے طعنے سننے پڑتے ہیں مگر اُسے سب برداشت کرنا پڑتا ہے.

    اللہ کا قانون ہے کسی کو آسائشیں دے کے آزماتا ہے تو کسی کو ان آسائشوں سے محروم رکھ کے آزماتا ہے.
    اچھا اور برا وقت ہر کسی پہ آتا ہے اچھے وقت میں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور بُرے وقت میں صبر. اور صبر اور شکر دونوں اللہ کو بہت پسند ہے.
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اندھیرے میں اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے مطلب کے بُرے وقت میں کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا.. مگر بُرا وقت اچھے برے اور اپنے پرائے کی تمیز ضرور کرا دیتا ہے.
    بُرے وقت میں اگر ہم کسی کو کچھ دے نہیں سکتے مگر تسلی کے دو بول تو دے سکتے ہیں اسکے ساتھ کھڑے رہ کر اسے حوصلہ تو دے سکتے ہیں.
    آج اس دور میں غمِ روزگار نے سب کو پریشان کر رکھا ہے. ایک طرح سے اپنے رشتے داروں سے بھی دور کردیا ہے. اور یہ انکی مجبوری بھی ہے
    انسان جب کسی کو کسی تکلیف میں دیکھتا ہے تو کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ اسکی تکلیف دور کرسکے.
    میں جب کسی کو سڑک پہ ٹھیلہ لگائے دھوپ میں کھڑا ٹھنڈا شربت پی لو… کی آوازیں لگاتے دیکھتی ہوں یا کوئی اپنے کندھے پہ کسی کا سامان لادے اسکے پیچھے چلتا ہوا دیکھتی ہوں تو سوچنے پہ مجبور ہوجاتی ہوں کہ مالک انکی آزمائش واقعی کٹھن ہے.
    میرا جانا راولپنڈی کے ایک مشہور اسپتال ہوا
    وہاں میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو لگ بھگ 70 سال کے تھے.
    بہت تکلیف میں تھے پر انکے ساتھ کوئی نہیں تھا.
    مجھ سے رہا نہیں گیا میں اُن کے پاس چلی گئی, پوچھا بابا جی کیا ہوا ہے آپکو..
    تو کانپتے ہاتھ سے اشارہ کِیا کہ سینے میں درد ہے.
    میں ڈاکٹر کو بُلا کے لائی, ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد کچھ ٹیسٹ لکھے اور نرس کو انجکشن لگانے کی ہدایت کرکے چلا گیا
    دل میں طرح طرح سوال تھے کہ انکے ساتھ کوئی کیوں نہیں, یہ کون ہیں کہاں کے ہیں وغیرہ
    میں اسی سوچ میں تھی کہ اُن بزرگ نے مجھے آواز دی
    بیٹی آپکے بیٹے کو کیا ہوا ہے ؟
    میں نے انھیں بتایا کہ اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو چیک کروانے آئی ہوں. اب رپورٹس کا انتظار کررہی ہوں..
    میں نے پوچھا : بابا جی آپ کہاں سے آئے ہیں؟
    تو بولے میں چکوال سے ہوں.
    آپ کے ساتھ کوئی نہیں ہے ؟؟ میں نے پھر سوال کیا.
    تو اُنکی آنکھوں میں آ نسو آ گئے, بولے میرے ساتھ بس میرا اللہ ہے.
    جوان بیٹا ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگیا اب اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں, انکے لئے میں یہاں آیا ہوں مزدوری کرنے..
    میں نے پوچھا بابا جی کیا کام کرتے ہیں ؟
    تو بولے ریڑھے پہ سامان لاد کے لے جاتا ہوں اور ایک پھیرے کا 30 روپے مل جاتے ہیں, کبھی کبھی طبیعت خراب ہوتی ہے تو لوگوں کی گالیاں بھی سنتا ہوں کیونکہ انکو کام چاہیے ہوتا ہے.
    جیسے جیسے وہ بتا رہے تھے میرے لئے کسی دکھ سے کم نہ تھا کہ وہ اس حالت میں, اس عمر میں مزدوری کررہے کیونکہ انکا سہارا کوئی نہیں اور اب بھی وہ کسی کا سہارا بنے ہوئے ہیں
    میں نے بابا جی کو تسلی دی کہ اللہ پاک آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور کچھ مدد کرنی چاہی پر بابا جی نے میرا ہاتھ روک دیا کہ میری بیٹی ہوتی تو آج وہ تمھاری عمر کی ہوتی اور باپ بیٹیوں سے پیسے نہیں لیتے.
    میں نے جب اصرار کیا تو کہنے لگے پتر مینوں شرمندہ نہ کر.
    کتنی خودداری تھی انکی آواز میں کہ میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کردیا.
    بابا جی کی آنکھوں میں آنسو تھے پھر آنکھیں بند کردی
    اور دھیمی آواز میں کہنے لگے اللہ تمھیں اپنے بچے کی خوشیاں نصیب کرے. بچوں کو اللہ ماں باپ کے لئے زندہ رکھے. اللہ تمھارے بچے کو زندگی دے..
    پتا نہیں کیوں میری آنکھیں بھیگنے لگیں
    میں دل سے دعا کررہی تھی کہ اے اللہ مجھے اتنی طاقت دے کہ میں لوگوں کی زندگی سے انکی تکلیفیں دور کرسکوں کسی کی آنکھوں میں آنسو آ نے نہ دوں اور نہ کبھی کسی کی آنکھ میں آنسو آنے کی وجہ بن سکوں.
    آمین

    @Rehna_7

  • بھارت سے میچ جیتنے کی خوشی ، گوجرانوالہ کے لوگوں کاجشن ، پولیس کے بھی ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے

    بھارت سے میچ جیتنے کی خوشی ، گوجرانوالہ کے لوگوں کاجشن ، پولیس کے بھی ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے

    بھارت کے خلاف تاریخی فتح پر گوجرانوالہ کی عوام جشن منانے باہر نکل آئی

    گوجرانوالہ: ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے میں پاکستان اور بھارت کا پہلے پہلے میچ میں ٹاکرا ، پاک بھارت میچ میں پاکستان نے بھارت کو دھول چٹا دی ۔

    ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں پاکستان نے کی تاریخی فتح کی خوشی میں رات گئے گوجرانوالہ کے نوجوانوں کی کثیر تعداد فتح کا جشن منانے جی ٹی روڈ پر نکل آئی، گوجرانوالہ کے مشہور مقام شیرانوالہ باغ میں نوجوانوں کے ایک بڑے ہجوم نے جشن منایا ، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے اور پٹاخے بھی چلائے گئے ۔ اس موقع پر پولیس کی ایک وین گزر رہی تھی نوجوانوں کا جذبہ دیکھ کر پولیس اہلکاروں سے بھی رہا نہ گیا اور انہوں نے بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کی اس تاریخی فتح کا جشن منانے کے لیے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیا جسے نوجوانوں نے خوب سراہا ۔

    گزشتہ رات پاکستان نے بھارت کے خلاف ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا پنا پہلا میچ کھیلتے ہوئے 10 وکٹوں سے بھارت کو شکست دے کر بھارتیوں کا غرور خاک میں ملا دیا اس تاریخ ساز فتح پر جہاں پوری قوم نے فتح کا جشن منایا وہاں گوجرانوالہ کے لوگوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔

  • 23 سالہ نوجوان اریان خان  کی زندگی برباد ،ذمہ دارکون. تحریر: نوید شیخ

    23 سالہ نوجوان اریان خان کی زندگی برباد ،ذمہ دارکون. تحریر: نوید شیخ

    جیسا کہ میں نے اپنی بتایا تھا کہ صرف شاہ رخ خان ہی نہیں بالی وڈ کے باقی تینوں خانز کے خلاف بھی اب کاروائیاں ہوگی تو آج اس سلسلے میں باقاعدہ پہلی اسٹوری منظر عام پر آگئی ہے ۔۔ پھر اس وقت شاہ خان کے گھر پر ایک سوگ کا سماں ہے ۔ دایولی سمیت تمام اس طرح کا ایونٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں ۔ ساتھ ہی کل شاہ رخ اپنے بیٹے اریان خان سے کیا بات چیت ہوئی اسکی بھی مکمل تفصیل سامنے آچکی ہے ۔ پھر شاہ رخ خان کے ساتھ دوستی کا دم بھرنے والی کاجول کی منافقت بھی پکڑی گئی ہے ۔ سب سے پہلے اگر بات کی جائے کہ بالی وڈ سے خانز کا کیسے قلع قمع کیا جائے تو اس سلسلے میں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما نے بالی وڈ کے سپرسٹار عامر خان کے ایک اشتہار پر سخت اعتراض کردیا ہے۔ اور ان کے خلاف باقاعدہ ایک کمپین لانچ کردی گئی ہے ۔ ۔ دراصل یہ ایک اشتہار ہے جس میں عامر خان ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر لوگوں سے پٹاخے نہ پھوڑنے کی گزارش کر رہے ہیں ۔ اس اشتہار کو ٹائر بنانے والی ایک بھارتی کمپنی (Ceat) نے جاری کیا ہے۔ بھارت میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیاں ایک بڑا مسئلہ اور دیوالی کے موقع پر پٹاخے پھوڑنے سے خاص طور پر شہروں میں فضائی آلودگی میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے۔ کمپنی نے آلودگی کی روک تھام کے لیے اپنے اشتہار میں عامر خان کو استعمال کیا ہے۔۔ عامر خان اس اشتہار میں لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ گلی کوچوں اور راستوں میں پٹاخے داغنے سے گریز کریں ۔ ۔ اس پر بی جے پی نے الزام لگا دیا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہندوؤں کے خلاف اقدام کیا گیاہے ۔ اور جان بوجھ کر ہندوؤں میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔۔ اب عامر خان اور اس ٹائر بنانے والی کمپنی کے خلاف بھارت میں ایک طوفان برپا ہے ۔ عامر خان کوتو ہندو دشمن ، بھارت دشمن ، غدار پتہ نہیں کیا کیا کہا جا رہا ہے ۔ گودی میڈیا اور ٹویٹر پر ہندوتوا برئیگیڈ بھی اس سلسلے میں پیش پیش ہے ۔ ۔ بی جے پی نے تو کمپنی کے مالک کو خط بھی ٹھوک دیا ہے اور خوب دھمکیاں بھی لگائی ہیں ۔ ۔ خط میں لکھا ہے کہ ہندو مخالف اداکاروں کا ایک گروپ ہمیشہ ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور وہ کبھی اپنی برادری کے غلط کاموں کو بے نقاب کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ پھر بی جے پی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز یا بعض دیگر مسلم تہواروں کے موقع پر نماز کے نام پر مسلمان سڑکوں کو بلاک کرنا بند کر دیں۔۔ ہر روز مساجد کے میناروں پر رکھے۔ لاؤڈ اسپیکر سے اس وقت بہت زور زور کی آواز نکلتی ہے جب اذان دی جاتی ہے اور یہ آواز جائز حد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

    جمعے کے دن تو یہ اور بھی طویل ہوتی ہے۔ اس سے آرام کے متمنّی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد، مختلف اداروں میں کام کرنے والے لوگ اور کلاس میں پڑھانے والے اساتذہ کو بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے۔ درحقیقت، متاثرین کی یہ فہرست بہت طویل ہے اور یہاں صرف چند کا ذکر کیا گیا ہے۔۔ یوں اشتہار کی آڑ میں بی جے پی نے اپنے سیاست چمکانے شروع کر دی ہے اور اس اشتہار کو ہندو مسلم فساد میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے ۔۔ یہ عامر خان کے ساتھ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے ۔ اس سے پہلے بھی ایسے اکثر واقعات ہوچکے ہیں ۔ یوں اگر یاد ہو تو اسی سال جب عامر خان نے ترکی کا دورہ کیا تھا اور ترکی کی خاتون اول سے ملاقات کی تھی تو اس وقت بھی بھارتی میڈیا نے ان کی تصاویر کو بنیاد کر انو غدار کہنا شروع کر دیا تھا ۔ جبکہ بی جے پی کے لیڈروں نے عامر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ کیونکہ طیب ارداگان نے کشمیر کے معاملے پر بھارت کا اس کا اصل چہرہ دیکھا یا تھا ۔ ۔ چند روز قبل ہی کی بات ہے ایک اور بی جے پی رہنما نے دیوالی سے متعلق کپڑا بنانے والی ایک کمپنی ۔۔۔ فیب انڈیا ۔۔۔ کے اس اشتہار پر اعتراض کیا تھا جس میں دیوالی کے جشن کے موقع پر نئے کلیکشن کے لیے اردو الفاظ استعمال کیا گيا تھا۔ ۔ حالانکہ کمپنی نے اس بات کی وضاحت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ کمپنی کا اشتہار محبت اور روشنی کے تہوار کے استقبال کے لیے ہے اور اس کا نیا کلیکشن بھارتی ثقافت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ہندو گروپوں نے کمپنی کے بائیکاٹ کی مہم چلا دی جس کے بعد کمپنی نے اشتہار ہٹا دیا۔۔ بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیمیں اکثر یہ کہتی ہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور یہ ان کی تہذیب و ثقافت کی عکاس ہے لہذا اسے ہندوؤں کی رسومات اور ان کی تہذیب کو بیان کرنے کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہیے۔ تاہم ایک طبقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ لفظ ہندو خود اصل میں عربی اور فارسی سے ماخوذ ہے اور اردو لفظ ہے تو کیا ہندو اس لفظ کو ترک کر سکتے ہیں؟

    ۔ اریان خان کیس کی بات کی جائے تو بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ خان اور ان کی فیملی نے آریان کے جیل میں ہونے کے باعث اس برس دیوالی اور سالگرہ نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان کے گھر میں نہ تو کوئی تقریب ہوگی نہ ہی پارٹی ۔ یعنی شاہ رخ خان کا گھر اب مکمل سوگ میں ڈوب چکا ہے ۔ آریان کی رہائی میں تاخیر ’منت‘ کے رہائشیوں کیلئے اب ایک عذاب کی صورت اختیار کرگئی ہے۔۔ دوسری جانب گزشتہ روز جب پہلی بار بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے منشیات کیس میں گرفتار بیٹے آریان خان سے ملاقات کی۔ تو جیل میں ہونے والی اس 18 منٹ کی ملاقات میں بات چیت کا آغاز آریان نے معافی مانگ کر کیا جس پر شاہ رخ نے جواب دیا کہ مجھے تم پر بھروسہ ہے۔ جیل کے محافظوں کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ وہ کھانا صحیح سے کھا رہے ہیں کہ نہیں؟ اس پر آریان نے جواب دیا کہ انہیں جیل کا کھانا پسند نہیں آ رہا۔ اس پر شاہ رخ خان نے جیل حکام سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے بیٹے کے لیے گھر کا کھانا بھجوا سکتے ہیں۔ جواب میں افسران نے کہا کہ انہیں اس کے لیے عدالت سے اجازت لینی پڑے گی اور اگر کورٹ اجازت دیتی ہے تو انہیں گھر کا کھانا مہیا کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے کی ہمت اور حوصلہ بڑھانے کے لیے کچھ مزید باتیں کیں۔ ۔ پھر شاہ رخ کی جیل کے باہر گاڑی تک جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔ ویڈیو میں انہیں مداحوں کے سامنے عاجزی سے ملتے۔ بار بار ہاتھ جوڑ تے اور ہاتھ ملاتے بھی دیکھا گیا۔ پر اس دوران شاہ رخ خان نے جیل کے باہر موجود میڈیا نمائندوں کے سوالات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔ میری نظر میں یہ بہت اچھا کیا ہے شاہ رخ خان نے کہ میڈیا کو زیادہ گھاس نہیں ڈالی کیوںکہ بھارتی میڈیا نے رپورٹ ہی کچھ اور کرنا تھا اور جو ان کو ایجنڈا مودی کی جانب سے ملاہوا ہے انھوں نے اس کو ہی پروان چڑھانا تھا اور پھر ارناب گوسوامی جیسوں نے ٹی وی پر بیٹھ کر خوب چینخنا اور چلانا تھا ۔ تو یہ تو بہت اچھا کیا ہے انھوں نے کہ بھارتی میڈیا کو منہ ہی نہیں لگایا ۔ ورنہ وہ جواب جو بھی دیتے مطلب اس کا الٹا ہی نکالاجانا تھا ۔ ۔ میں آپکو بتاوں مصیبت میں ہی پتہ چلتا ہے کہ کون آپکا دوست ہے اور کون دشمن ۔۔۔ یقیناً شاہ رخ خان اور ان کی فیملی کو بھی اس کا پتہ چل گیا ہو گا ۔ کیونکہ بہت سے ان کے قریبی اپنی زبانوں کو تالے لگائے بیٹھے ہیں ۔

    ۔ آپ دیکھیں آج اداکارہ کاجول نے اپنی فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گےکے 26 سال مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی پوسٹ شیئر کی۔ جس میں وہ اپنی محبت یعنی شاہ رخ خان سے مل جاتی ہیں۔ جو آخری سین ہے اس فلم کا ٹرین والا ۔۔۔ ۔ پر دیکھیں ان کو یہ فلم تو یاد ہے ۔ پر اس وقت جو شاہ رخ خان اور انکی فیملی ساتھ ہورہا ہے وہ دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ کیسی دونمبری ہے ۔۔ اُن کی اس پوسٹ پر شاہ رخ خان کے مداحوں نے اُن کی خوب بجائی بھی ہے اور کلاس بھی لی ہے ۔ کہ اس وقت آریان خان جیل میں ہیں اور کاجول اپنے دوست شاہ رخ خان کو سپورٹ کرنے کے بجائے یہاں اپنی فلم کا جشن منارہی ہیں۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ شاہ رخ کو دوست کہنے کی دعوایدار کاجل نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں کہ ان کے دوست شاہ رخ خان کس مشکل وقت سے گُزر رہے ہیں۔ اُن کے بیٹے کو ضمانت نہیں مل رہی ہے اور یہ خوشیاں منا رہی ہیں ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں قتل سے بڑا جُرم منشیات کا استعمال کرنا ہے۔ آئے روز آپ دیکھتے ہوں گے دن دیہاڑے سڑکوں پر اقلیتوں کو پورے پورے جہتے جان سے مار دیتے ہیں مگر نہ کوئی گرفتاری ہوتی ہے نہ کوئی ہمدردی کے دو لفظ بولتا ہے ۔

    ۔ اس وقت 23 سالہ نوجوان اریان خان کی زندگی برباد کی جارہی ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ بھارتی ادارے کس طرح قانون کی پاسداری کرتی ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی کی کئی مشہور شخصیات کے بچے معصوم لوگوں کا قتل کرنے کے باوجود بھی بچ گئے ہیں۔دور کیا جانا اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جو گجرات کا قصائی ہونے ہر فخر کرتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ پر پتہ نہیں کتنے معصوم لوگوں کا قتل ہے ۔ مگر کسی کی ہمت نہیں کہ وہ انگلی بھی اٹھائے ۔۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ بھارت میں مبینہ طور پر نوجوان لڑکیوں، عورتوں اور بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اُن کے مجرم آزاد گھومتے ہیں۔ ۔ لعنت ہے بی جے پی پر ، مودی پر ، آر ایس ایس پر اور طاقت کے اس ناجائز استعمال اور نا انصافی پر۔

  • ٹی ایل پی احتجاج، فائدہ کس کو ہوا؟ تحریر: نوید شیخ

    ٹی ایل پی احتجاج، فائدہ کس کو ہوا؟ تحریر: نوید شیخ

    ٹی ایل پی احتجاج، فائدہ کس کو ہوا؟ تحریر: نوید شیخ

    سوال اس وقت یہ ہے کہ ٹی ایل پی والا معاملہ جو ہے اس کو جان بوجھ کر اتنا خراب کیوں کیا گیا ہے ۔ اس کا فائدہ کس کو ہوا ہے ؟

    ۔ میری نظر میں اس کا تمام فائدہ حکومت کو ہوا ہے اور سارا معاملہ حکومت نے جان بوجھ کر خراب کیا ہے اور آگے یہ مزید خراب کریں گے ۔

    1۔ مہنگائی حکومت سے کنڑول نہیں ہو رہی ۔
    2. بیڈ گورننس
    3. ڈینگی
    4. ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا معاملہ
    5.مہنگا پیڑول
    6. آئی ایم ایف سے معاہدہ ناکام، پھر آئی ایم ایف کا مطالبہ کہ پیٹرول 30 روپے مزید مہنگا کرو ۔
    7۔ فارن پالیسی فیل ، پاکستان اس وقت دنیا میں تنہا ہے ۔
    8. پھر تین دن تک عاصمہ شیرازی کے کالم کو ہوا بنا دیا گیا ۔ حالانکہ ایسا تبرہ روز ہر دوسرے کالم میں حکومت پر ہوتا ہے ۔ اور ہو بھی کیوں نہ جب حرکتیں ہی ایسی ہیں تو شور تو مچے گا ۔
    9. پی ڈی ایم کا مہنگائی پراحتجاجی کال کو دیکھیں
    10. اکانامی ان سے سنبھل نہیں رہی ۔
    11. ایف اے ٹی ایف پر ان کو پھر سبکی ہوچکی ہے کہ میڈیا مالکان پر پریشر ڈالتے رہے ہیں کہ اس کو ہماری جیت بنا کر پیش کرو کہ ہم ابھی بھی گرے لسٹ میں ہیں بلیک میں نہیں گئے ۔

    ۔ دیکھا جائے تو حکومت پر عوام کا پریشر تھا
    ۔ حکومت پر اپوزیشن کا پریشر تھا
    ۔ حکومت پر عسکری اداروں کا پریشر تھا
    ۔ حکومت پر میڈیا کا پریشر تھا

    ۔ تو ان سب پریشرز کو ختم کرنے کے لیے کوئی بڑا شو کرنا تھا اور حکومت نے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جان بوجھ کر ٹی ایل پی والا معاملہ مس ہینڈل کیا ۔

    ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ دیکھیں ٹی ایل پی نے پندرہ روزہ پر امن احتجاج کیا ایک شیشہ نہیں ٹوٹا ۔ اس کے بعد دو دن کے الٹی میٹم بھی گزر گیا ۔ اور جب پرامن لانگ مارچ شروع ہوا ۔ تو ایک جانب ایم اے او کالج کے پاس پنجاب پولیس خوب شیلنگ کررہی تھی تو عثمان بزدار ٹویٹ کر رہے تھے کہ میں مذاکرات کے لیے کمیٹی بنا دی ہے ۔ تو ٹی ایل پی کو ہینڈل کرنا چاہتے تو پہلے دن ہی کر لیتے ۔ پھر آپ دیکھیں آج الصبح ٹی ایل پی کے پر امن کارکنوں پر شیلنگ ، آنسو گیس اور گولیاں ماری جا رہی تھیں ۔ یہ جان بوجھ کر ان کو متشدد کرنے کی کوشش تھی ۔

    ۔ پر ٹی ایل پی کی قیادت نہ اپنے کارکنوں کو پولیس پر جوابی کاروائی سے روک کر یہ منصوبہ ناکام بنا دیا ۔ ۔ اس تشدد اور ظلم کے بعد ٹی ایل پی کے وہ کارکن بھی باہر آگئے جو گھروں میں تھے بلکہ بہت سی جگہوں پر عورتیں اور بچے بھی باہر نکل آئے ۔ ۔ یوں حکومت نے خود ان کو افرادی مدد بھی پہنچائی ۔ اور اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ یک دم پولیس بھی ہر جگہ سے غائب ہوگئی۔ کنٹینر اور جو خندقین انھوں نے کھودیں ۔ وہ بھی غائب ہوگئیں اور آئی جی پنجاب کی بھڑک بھی ٹھنڈی ہوگئی کہ میں ٹی ایل پی کو کسی صورت لاہور سے باہر نہیں جانے دوں گا ۔ ۔ تو یہ سب پلان کا حصہ ہے ۔ آپ دیکھیں کہ ٹی ایل پی والے ایک آدھ دن میں اسلام آباد پہنچ جائیں گے ۔ اور سب اس پر ہی لگے رہیں گے ۔ صرف ٹویٹر پر تین دن سے ٹاپ ٹرینڈ ٹی ایل پی کا ہے ۔ سوشل میڈیا اور ہر جگہ ان کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہیں ۔

    ۔ پھر آج عمران خان پھر ایک نئی کمیٹی بنا دیتے ہیں۔ شیخ رشید کو بھی ہنگامی طور پر دبئی سے بلا کر لاہور پہنچا دیتے ہیں ۔ پر اس دوران دس سے زائد لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں چاہے وہ پولیس کے ہوں یا ٹی ایل پی کے ۔ ہیں تو پاکستان کے شہری ۔۔۔ ۔ اس وقت بھی سینکڑوں زخمی ہیں ۔ اور جو اذیت دو دنوں سے لاہور اور اسے ملحقہ شہریوں نے اٹھائی ہے ۔ جو حکومت نے جگہ جگہ موبائل سروس بند کرکے اور کنٹینر لگا لگا کر جو عوام کا جینا حرام کیا اور جو کاروبار کا نقصان ہوا ہے ۔ میری نظر میں اس کی ذمہ دار حکومت وقت ہے ۔ جس کے پاس ہر مسئلے کا حل صرف ایک ہے کہ اس سے بڑا مسئلہ کھڑا کر دو ۔ اور لوگوں کی ان کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دو۔

  • پاکستان کے آل راؤنڈر مضبوط ہیں        سنیل گواسکر

    پاکستان کے آل راؤنڈر مضبوط ہیں سنیل گواسکر

    بھارتی کپتان سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ جس ٹیم میں آل راؤنڈر ہوں وہ ٹیم مضبوط ہے –

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پروگرام ’پاک انڈیا ٹاکرے ‘میں گفتگو کرتے ہوئے سابق بھارتی کپتان سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ جس ٹیم میں آل راؤنڈر ہوں وہ ٹیم مضبوط ہے سنیل گواسکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آل راؤنڈر مضبوط ہیں۔

    بھارت کے سابق اسپینر ہربھجن سنگھ نے کہا کہ بھارتی فائنل الیون میں ایک بولر کم ہے جبکہ اس موقع پر پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق نے کہا کہ پاک بھارت ہر میچ ڈو اینڈ ڈائی ہوتا ہے، آج فائنل سے پہلے فائنل والا میچ ہے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ اسپینر مشتاق احمد نے کہا کہ جیت کےلیے اسمارٹ کرکٹ کھیلنا ہو گی۔

    اس سے قبل بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ پاکستان مضبوط ٹیم ہے اور کئی پاکستانی کھلاڑی کسی بھی وقت میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں کوہلی کا کہنا تھا کہ انڈیا ماضی کے ریکارڈ کی وجہ سے پاکستان کوکمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کرے گا ، انہیں پاکستان کو شکست دینے کے لیے اپنا بہترین کھیل پیش کرنا ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک پلان کے مطابق میدان میں اترنا پڑتا ہے، ہمیں بس اس دن اچھا کھیلنا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس میچ کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے لیکن ہمیں صرف کرکٹ پر توجہ دینی ہے ہم نے کبھی اس بارے میں بات نہیں کی کہ ہمارا پاکستان کے خلاف کیا ریکارڈ رہا ہے، ہم ماضی کے ریکارڈ کو نہیں دیکھتے کیونکہ اس سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔

    پاک بھارت ٹاکرا: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج دبئی کے میدان میں ہو گا

    واضح رہے کہ آج پاکستان اور بھارت کے درمیان دبئی کے میدان میں ہوگا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام7 بجے شروع ہوگا بابراعظم پاکستان کےکپتان، کوہلی بھارت کی کمان سنبھالیں گے۔

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدرعلی، شعیب ملک، محمد آصف، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف شامل ہیں۔ حتمی پلیئنگ الیون کا اعلان میچ سے قبل کیا جائے گا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا "سوشل ٹروتھ” لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کا "سوشل ٹروتھ” لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سوشل میڈیا نیٹ ورک لانے کا اعلان کیا جو لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا۔

    باغی ٹی وی :ڈونلڈ ٹرمپ نومبر 2016 سے جنوری 2021 تک امریکا کے 45 ویں صدر رہے تاہم ان کی صدارت کے بعد ان کی نفرت انگیز اور غلط معلومات کی پوسٹس کی وجہ سے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب نے ان کے اکاؤنٹس بند کردیے تھے۔

    ٹوئٹر نے 9 جنوری 2021 کو ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بند کرکے ان پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی جب کہ فیس بک نے 7 جنوری 2021 کو ان کے اکاؤنٹس بند کردیئے تھے جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” سوشل ٹروتھ” متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جو لانچ ہونے سے پہلے ہی ہیک ہو گیا ہے-

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے ’ٹروتھ سوشل‘ کو ہیک کرکے اس پر ’سوئر‘ کی تصویر شیئر کرنے کے بعد ڈونلڈ جے ٹرمپ بھی لکھا اخبار کے مطابق نا معلوم ہیکرز کی جانب سے یہ اقدام نفرت کے خلاف آن لائن جنگ کا حصہ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی کے نام کا اعلان کر دیا

    ہیکرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا نیٹ ورک کی ویب سائٹس کے متعدد اکاؤنٹس کو بھی ہیک کیا، جس میں سابق نائب صدر مائیک پینس بھی شامل ہیں۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اکتوبر کا نیا سوشل میڈیا نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا ڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ نئی سوشل میڈیا کمپنی اس شعبے میں ٹوئٹر اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر دے گی۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئی سوشل ایپلی کیشن شروع کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایسی دنیامیں رہ رہے ہیں جہاں طالبان کے بڑی تعداد میں ٹوئٹر اکاﺅنٹ موجود ہیں لیکن آپ کے پسندیدہ امریکی صدر کو خاموش رکھا گیا ہےمجھے خوشی ہے کہ جلد ہی میں ٹروتھ سوشل پر اپنا پہلا سچ شیئر کروں گا۔ ٹی ایم ٹی جی کی بنیاد اس مشن کے ساتھ رکھی گئی ہے کہ سب کی آواز کو جگہ دی جائے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کمپنی کے ذریعے میں بڑی ٹیک کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکوں گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے مطابق ’ٹروتھ سوشل‘ کا آزمائشی ورژن نومبر کے اختتام تک امریکی صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا جب کہ اسے مکمل طور پر 2022 کی پہلی سہ ماہی میں متعارف کرایا جائے گا۔

    دوسری طرف تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ نئی سوشل میڈیا کمپنی قائم کرکے دراصل 2024ءمیں ہونے والے امریکی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں-

  • پاک بھارت ٹاکرا: ماہر فلکیات کی کھلاڑیوں کی پرفارمنس سے متعلق اہم پیش گوئی

    پاک بھارت ٹاکرا: ماہر فلکیات کی کھلاڑیوں کی پرفارمنس سے متعلق اہم پیش گوئی

    ماہر فلکیات نے بھارت کا پلڑا بھاری ہونے کی پیشگوئی کی ہے –

    باغی ٹی وی : پاک بھارت ٹاکرے میں کون سا کھلاڑی سب سے اچھا پرفارم کرے گا ماہر فلکیات نے ستاروں کی چال دیکھ کر پیش گوئی کر دی پاک بھارت ٹاکرے سے قبل ۔ستاروں کا حال بتانے والے ماہر فلکیات نے کھلاڑیوں کی پرفارمنس سے متعلق اہم پیش گوئی کر دی ہے۔

    ستاروں کا حال بتانے والوں کے مطابق بابر اعظم، فخر زمان اور شاہین آفریدی میچ ونر کھلاڑی ہو سکتے ہیں ماہر فلکیات نے بھارتی کپتان ویرات کوہلی اور جسپریت بمراہ کو پاکستان کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    ماہر فلکیات اے ایس چوہدری کی نظر میں پاکستان کی جانب سے کپتان بابر اعظم، فخر زمان اور شاہین شاہ آفریدی بہترین پرفارم کریں گے۔

    ستاروں کا حال بتانے والوں نے بھارت کا پلڑا بھاری ہونے کی پیشگوئی کی ہے تاہم کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے جیت اسی کی ہو گی جو اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے اچھی کرکٹ کھیلے گا۔

    پاک بھارت ٹاکرا: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج دبئی کے میدان میں ہو گا

    واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2021 میں دونوں ٹیمیں آج آمنے سامنے ہوں گی بابراعظم پاکستان کےکپتان جبکہ کوہلی بھارت کی کمان سنبھالیں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام7 بجے شروع ہوگا ملک بھر میں پاک بھارت میچ کیلئے اسکرینیں لگائیں جائیں گی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی ایف نائن پارک میں بڑی اسکرین پر میچ دکھایا جائے گا۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق شائقین کرکٹ فری انٹری کے ساتھ پاک بھارت میچ بڑی اسکرین پر دیکھ سکیں گے اس کے علاوہ کراچی اور لاہور سمیت ملک بھر میں مختلف مقامات پر بڑی اسکرینوں پر پاک بھارت میچ دکھایا جائے گا۔

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدرعلی، شعیب ملک، محمد آصف، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف شامل ہیں پلیئنگ الیون کا اعلان میچ سے قبل کیا جائے گا۔ کپتان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑ نے پر سرفراز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

    انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گےعمران خان کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    پاک بھارت میچ کے حوالے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا تھاکہ ہم نے ریلیکس رہنا ہے، دباؤ نہیں لینا، خود پر اعتماد ہے سو فیصد کھیل پیش کریں گے پہلے دو میچز بہت اہم ہیں لیکن ہمیں اعتماد ہے کہ ہم اچھا کھیلیں گے، پاک بھارت ہمیشہ ایک بڑا میچ ہوتا ہے اعصاب پر قابو پانا ہوتا ہےہرٹیم کی اپنی قوت ہوتی ہے اور ہماری بولنگ ہمیشہ اچھی رہی ہے، ہمارے بولرزاچھے اور تجربہ کار ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان سمیت ہر ٹیم کے خلاف ہماری تیاری مکمل ہے ہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہم نے کبھی ریکارڈ کے بارے میں نہیں سوچا، ہم ماضی کے ریکارڈ کو نہیں دیکھتے کیونکہ اس سے توجہ ٹورنامنٹ سے ہٹ جاتی ہے پاکستانی ٹیم سے متعلق سوال پر ویرات کوہلی کا کہنا تھا میرے حساب سے پاکستانی ٹیم مضبوط ہے اور مضبوط رہی ہے۔

    پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

    وزیراعظم عمران خان نے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ میں گرین شرٹس کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا تھاکہ ان شاء اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گے پاکستان ٹیم میں ٹیلنٹ موجود ہے اور ٹیم بھارت کے خلاف کامیاب ہو گی دعا ہے قومی ٹیم بھارت کو شکست دے-

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

  • پاک بھارت ٹاکرا: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج دبئی کے میدان میں ہو گا

    پاک بھارت ٹاکرا: دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج دبئی کے میدان میں ہو گا

    دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ آج پاکستان اور بھارت کے درمیان دبئی کے میدان میں ہوگا دبئی کرکٹ اسٹیڈیم دنیا بھر کے شائقین کرکٹ کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

    باغی ٹی وی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2021 میں دونوں ٹیمیں آج آمنے سامنے ہوں گی بابراعظم پاکستان کےکپتان جبکہ کوہلی بھارت کی کمان سنبھالیں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام7 بجے شروع ہوگا ملک بھر میں پاک بھارت میچ کیلئے اسکرینیں لگائیں جائیں گی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی ایف نائن پارک میں بڑی اسکرین پر میچ دکھایا جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق شائقین کرکٹ فری انٹری کے ساتھ پاک بھارت میچ بڑی اسکرین پر دیکھ سکیں گے اس کے علاوہ کراچی اور لاہور سمیت ملک بھر میں مختلف مقامات پر بڑی اسکرینوں پر پاک بھارت میچ دکھایا جائے گا۔

    انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گےعمران خان کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدرعلی، شعیب ملک، محمد آصف، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف شامل ہیں پلیئنگ الیون کا اعلان میچ سے قبل کیا جائے گا۔ کپتان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑ نے پر سرفراز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

    پاک بھارت میچ کے حوالے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا تھاکہ ہم نے ریلیکس رہنا ہے، دباؤ نہیں لینا، خود پر اعتماد ہے سو فیصد کھیل پیش کریں گے پہلے دو میچز بہت اہم ہیں لیکن ہمیں اعتماد ہے کہ ہم اچھا کھیلیں گے، پاک بھارت ہمیشہ ایک بڑا میچ ہوتا ہے اعصاب پر قابو پانا ہوتا ہےہرٹیم کی اپنی قوت ہوتی ہے اور ہماری بولنگ ہمیشہ اچھی رہی ہے، ہمارے بولرزاچھے اور تجربہ کار ہیں۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان سمیت ہر ٹیم کے خلاف ہماری تیاری مکمل ہے ہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہم نے کبھی ریکارڈ کے بارے میں نہیں سوچا، ہم ماضی کے ریکارڈ کو نہیں دیکھتے کیونکہ اس سے توجہ ٹورنامنٹ سے ہٹ جاتی ہے پاکستانی ٹیم سے متعلق سوال پر ویرات کوہلی کا کہنا تھا میرے حساب سے پاکستانی ٹیم مضبوط ہے اور مضبوط رہی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ میں گرین شرٹس کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا تھاکہ ان شاء اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گے پاکستان ٹیم میں ٹیلنٹ موجود ہے اور ٹیم بھارت کے خلاف کامیاب ہو گی دعا ہے قومی ٹیم بھارت کو شکست دے-

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا کہ میرے کیریئر کے دنوں میں پاکستان کے پاس بھارت سے بڑے کھلاڑی ہوا کرتے تھے، اب بھارت کے پاس شاندار کھلاڑی ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔

    شعیب اختر نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان سے بہتر ہے لیکن پاکستانی کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جارحانہ طرز کی کرکٹ کھیلیں گے ورلڈکپ کے میچوں میں بھارت نے پاکستان سے بہتر پریشرہینڈل کیا ہے، پاکستان، بھارت ناصرف ابھی کا بلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل بھی کھیلیں گی۔

    شعیب اختر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت سے زیادہ نیوزی لینڈ پر غصہ ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    ادھر قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے پاکستان ٹیم کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنےکی پیشگوئی کی کہا کہ پاکستان ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے زبردست کمبینیشن بنا ہوا ہے، پوری قوم کی طرح میں بھی بہت پرامید ہوں کہ پورے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم اچھا پرفارم کرے گی، ہماری ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جو اکیلے میچ جتوا سکتے ہیں۔

    پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

  • عالمی ترقی،برصغیرکا ذہنی اخلاقی زوال کا باعث تحریر : عظیم بٹ

    تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کراہ ارض پر جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی جدت نے انسانوں کو قریب لانے کا بیڑا اٹھایا تو قریبا پچھلے دو ہزار سالوں میں انسانی رویوں میں بے تحاشہ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔یہ تبدیلیاں اکثریت میں مثبت تھیں جن میں انسان کو دوسرے انسان کے لئے سہولیات پیدا کرنے کا اداراک ہوا۔انسان کے احساس اور حقوق نامی جذبات کی بنیاد پڑی۔ہم نے دیکھا کہ جیسے کوئی معاشرہ ترقی کرتا گیاوہاں لوگوں کے مابین اخلاقیات کی سطح میں اضافہ ہوا۔

    اگر ہم دنیا پر پچھلے کئی ہزار سالوں سے اپنا اثر رکھنے والی طاقتوں کا بغور مشاہدہ کریں تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ امریکہ اور یورپ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار قرار دئیے گئے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے انسانی حقوق کو اپنی بنیادی ضروریات کی طرح اپنے رسم و رواج میں شامل کیا حالانکہ اس کے برعکس وہاں ٹیکنالوجی نے بھی دنیا میں ایک انڈسٹریل انقلاب کی بنیاد رکھی جس سے ان کے رہن سہن میں تبدیلی اور دنیا پر اثر انداز ہونے کے معاملات آگے بڑھے مگر ان کی انسانی حقوق کی روش نے ان کے اس طاقت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور دنیا ان کے ساتھ جڑنے لگی۔

    جہاں دنیا نئے رسم و رواج کو اپنا کر اپنے وحشی پن اور جنگ و جدل کے معاملات کو مدفون کرنے میں مصروف رہی وہاں برصغیر میں احساس کمتری کے بڑھتے رجحان نے ان کو اخلاقی پستی کی طرف ایسا دھکیلا کہ اب تک اس کے بدبو دار سحر سے یہ خطہ نہیں نکل پا رہا۔برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل قریبا 3سو سال پہلے ہندو ، مسلم،عیسائی،پارسی سمیت کئی مذاہب کا مجموعہ اس خطے میں ایک خوبصورت باغیچے کی سی صورت پیش کرتا تھا اور اس وقت یہ تمام قومیں اور افراد مل کر خود پر مسلاط مختلف ظالموں سے جان چھڑوانے کے لئے اتفاق میں برکت کو ترجیح دیتے تھے ۔برصغیر میں ظلم کا معیار کسی مذہب سے جڑا نا تھا بلکہ سادہ سا کلیا یہ تھا کہ جو ظالم ہے وہ ظالم ہے ۔مذاہب انسان کے اعتقاد کا معاملہ ہے جو کہ نجی ہےاس پر مشتمل معاشرہ اور یکجا قوم برصغیر میں قیام پذیر تھی۔

    ایسٹ انڈیا کمپنی کے بر صغیر میں آنے کے بعد سے برطانوی راج کے عروج پر ہونے تک برصغیر کی روایت یہی تھی کہ ظالم انگریز ہے نا کہ عیسائی اور برصغیر کے عیسائی افراد ہندو،مسلم،پارسی،جین،بنگال افراد مل کر اس کو یہاں سے نکالنے اور آزادی کی بات کرتے رہے۔جب وقت کا پہیہ گھوما اور مشترکہ محنت سے عوام میں ایک آگ پیدا ہوئی اور انگریز کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آیا تو اس نے اپنی دوسری شاطرانہ چال کو برصغیر پر یوں پھینکا کہ باغیچہ بکھر کر کلیاں اور کلیاں بکھر کر کانٹوں کا منظر پیش کرنا شروع ہوئیں جو آج تک قائم ہے۔

    انگریز نے اپنی ٹیکنالوجی جس کو اس نے اپنے قابل دماغ سے دنیا میں متعرف کروایا تھا اسی دماغ سے اس نے برصغیر میں اپنا پرانا طریقہ واردات "ڈیوائڈ اینڈ رول” کا استعمال کیا اور نفرت کا بیج جو کہ کئی سالوں سے یہاں نا بویا جا سکا تھا وہ کاشت کیا اس کی بنیادی مثال یہ بھی ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ سنہ 1800 سے قبل یعنی تقریبا ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے قبل برصغیر میں کوئی ہندو ، مسلم ، عیسائی تنازعہ اس سطح کا ہو کہ سب کا ساتھ رہنا کسی دوسرے کے لئے مشکلات کا سبب بنے۔

    انگریز یہاں سے جانا تو پڑ رہا تھا مگر وہ برصغیر کو ایک ایسی کشمکس میں دھکیل کر جانا چاہتا تھا جس سے انگریز کے بھاگنے کا داغ بھی دھل جائے اور برصغیر کی عوام اگلے کئی سو سالوں تک اسی کشکش میں مبتلا رہے کہ آیا اصل دشمن انگریز تھا یا ہندواور مسلمانوں کے مابین اعتقاد کا اختلاف۔ابھی حال ہی میں افغانستان سے انخلاء کے وقت امریکہ نے بھی برطانیہ جیسی چال کھیلنے کی کوشش تو کی مگر آج کے جدت بھرے دور میں جہاں میڈیا موجود ہو اور معلومات کی منتقلی کا عمل چند سیکنڈ پر کھڑا ہو یہ ممکن نا ہو سکا کہ پنجشیر میں احمد شاہ مسعود اور طالبان کے مابین لڑائی کروا کہ افغانستان کو خانہ جنگی کا شکار کیا جائے۔

    برصغیر کی عوام انگریز کے گولی بارود والی ہتھیار سے تو کامیاب ہو گئی مگر اس طریقہ واردات کے نرگے میں جو آئی تو آج تک نکل نا سکی۔اس وقت پھر مذاہب کا پہیہ گھوما اور سیاست اور حکومت کا معیار اب برصغیر میں مذاہب کے نام پر چلنے لگا۔اس وقت برصغیر میں ہندو مسلمان کے مابین دو قومی نظریہ ایک حالات کی ضرورت بن چکا تھا جس میں مسلمانوں کا اپنے لئے علیحدہ ملک کا مطالبہ سامنے آیا اور پھر اس کے لئے قابل قدر خدمات دیکھنے میں آئیں ۔البتہ ہندوستان کے بانی مہاتما گاندگی اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح صاحب انگریز کو برصغیر سے بھانے میں تو کامیاب رہےمگر اپنے درمیان ایسی خلش تھی کہ اپنی تقسیم کا فیصلہ اس دشمن سے کروانے کو راضی ہو گئے جس کوکئی سالوں کی جدوجہد کے بعد اپنی سرزمین سے بھگا رہے تھے۔

    حالات کا پہیہ جس طرف کو گھوما برصغیرکے افراد نے دونوں جانب ہندوستان اور پاکستان نے اس سے مزاحمت کا کبھی سوچا ہی نہیں اور یہ نفرت کا بیج 70 سال میں اب اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ غالبا گمان ہوتا ہے کہ اس نفرت سے باہر نا نکلنا ہی ہماری بقاء ہے۔ہندوستان نے تو اس پہیہ کو اس رفتار سے گھمایا ہے کہ وہاں انہوں نے مسلمانوں سے نفرت تو ایک طرف اپنے ہی اعتقاد والے چھوٹی ذات کے لوگوں جن کو وہ دلت کہہ کر دھتکارتے ہیں ان کو بھی نا بخشا،ہمالیہ،تامل ناڈو،آسام،اور پھر سکھ حضرات تک کو نا پخشا بلکہ ہندوتوا کا نظریہ کی چکی کو ایسا گھمایاکے لاشیں اورخون بھی ان کی انسانیت کی روح کو دوبارہ زندہ نا کر سکا۔

    وہیں پاکستان 70 سالوں اس سوچ سے باہر نہیں نکل پا رہا کہ ہمارا پڑوسی ایک دشمن ہے ظالم ہے اور ہمارے بقاء کا مخالف ہے حالانکہ یہ بات کسی حد تک بھارت نے بارڈر پر کھڑے جوانوں سمیت پاکستان کی سلامتی پر کئی بار حملے کر کے ثابت بھی کیا ہے کہ بھارت میں خاص کر اب گزشتہ 10 سالوں میں جس رجحان کا اضافہ ہوا ہے وہ خالصتا ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر ہندوتوا کے نظریے کا پرچار ہے چاہے اس کے لئے پورا خطہ جنگ اور خون میں کیوں نا بہہ جائے اگر یوں کہا جائے تو غلط نہیں کہ بھارت اب مہاتما گاندھی کے نظریہ امن بھائی چارہ عدم تشدد کا ملک نہیں بلکہ آر ایس آیس، شیو سینا، ناتھو رام گوڈسے کے نظریے کا ملک ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ وہیں پاکستان سے متعلق بھی اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ 70 کی دہائی سے قبل کا پاکستان اور اب کا پاکستان مکمل طور پر ایک دوسرے کے متضاد ہیں نا صرف مذہبی جنونیت بلکہ ہر طرح کے شعبے اور سوچ کا یہاں متشدد پن پایا جاتا ہے اس میں وہ روشن خیال افراد بھی شامل ہیں جو خود کو عدم تشدد کا نام لے کر منظر عام پر آتے ہیں مگر ذہنی اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں کسی کے مخالف نظریات و عقائد کا پاس نہیں رکھتے۔

    اس حوالے سے شاعر کا شعر اس تناظر میں مکمل درست عکس بندی کرتا ہے کہ

    دیکھتا کیا ہے میر منہ کی طرف

    قائد اعظم کا پاکستان دیکھ

    سنہ 71 کے بعد پاکستان کےحالات اور سوچ میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ بنگلہ دیش کا علیحدہ ہونا بھی تھا جس نے پاکستان میں اپنی بقاء کے لئے اس حادثے کے مقابلے مزید مضبوط ہونے کے نام پر اوپر بیان کئے پہیہ کو تیزی سے گھمایا اور اب تک گھما رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک سائنٹسٹ ڈاکٹر ہودبائی نے صحافی نجم الحسن باجوہ کو انٹرویو دیتے ہوئے دو قومی نظریے کے سوال پر ایک عقلی دلیل داگی تھی کہ دو قومی نظریہ تو سنہ 71 میں خراب تب ہو گیا جب تیسری قوم بنگلہ نے ہم سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ان کی یہ دلیل کتنی درست ہے کون مانتا ہے کون نہیں یہ پڑھنے والوں کی اپنی سوچ پر مبنی ہے مگر تاریخ نے یہ ثابت کیا کہ جہاں دنیا نے ترقی کی منازل طےکئیں اور دنیا اور نئے رسم و رواج اور اصولوں پر چلی برصغیر مکمل طور پر عدم برداشت اور اخلاقی پستی کا شکار ہوا ہے اب اس کی وجہ برصغیر کے لوگوں کی کم عقلی کہیں یا بیرون ممالک کی سازش یہ سوچ آپ کے اطمئان قلب پر منحصر ہے۔ بلکل ایسے ہی جیسے غالب کہتے ہیں کہ ‘دل پہلانے کو یہ خیال اچھا ہے غالب’

    Find out more Opinion on Twitter 

    @_azeembutt 

  • ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان   تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    ایک نہ تھمنے والا مہنگائی کا طوفان تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    جہاں پاکستانی عوام کو دوسرے مسائل درپیش ہیں وہی پر ایک بہت بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جو کسی بھی عام شہری اور مزدوری کرنے والے شخص کے نزدیک کسی ہارٹ اٹیک سے کم نہیں ہے۔ موجودہ حکومت سے جب مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں تو بظاہر ہمیں ان سے صرف ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ کورونا وائرس کی خوفناک لہر کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی نے اپنے ڈیرے لگائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بری طرح متاثر ہوا ہے اور لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوگئے ہیں لیکن حکومت ان تمام معاملات کے ساتھ ان ممالک کا تذکرہ بالکل نہیں کرنا چاہتی جنہوں نے اس مشکل دور میں بھی اپنی معیشت کو مستحکم کیا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کی کرنسی پاکستان سے ڈبل ہوگئی ہے اور انہوں نے کورونا وائرس کی خوفناک لہر میں اپنی معیشت کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیا لیکن جب ہم موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہیں تو ہمیں یہ جواب سننے کو ملتا ہے کہ چونکہ بنگلہ دیش نے آج تک کوئی جنگ نہیں لڑی جس کی وجہ سے اسکی معیشت پاکستان سے بہتر ہے لیکن کیا وہ اس موقع پر افغانستان کے حالات پر کچھ کہنا پسند کریں گے کہ انہوں نے ضروریات اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں چالیس فیصد تک کمی کرنے کے احکامات کیوں جاری کیے ہیں؟ کیا افغانستان نے بھی کبھی جنگ نہیں لڑی؟ کیا افغانستان روز اوّل سے جنگی محاذ کا شکار رہا ہے یا نہیں؟ یہ عجیب منطق ہمیں حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کے کارکنان سے سننے کو ملتی ہے۔ بظاہر موجودہ حکمران جماعت اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی کارکردگی کو عوام کے سامنے بہتر بناتی انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اپنی ناکام پالیسیوں کا ملبہ اپوزیشن کی کرپشن کی نظر کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بظاہر ہمیں وہ اس میں بھی کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔

    یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ حکمران جماعت اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے بعد رعایا کے سامنے اپنی بہترین پالیسیوں کو رکھ کر انکے دلوں میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے یا اپنے سیاسی مخالفین کو کرپشن، غداری جیسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اپنے دل میں لگی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔ اس حکومت نے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے انتقام کا نشانہ بنانے کو بہتر سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قوم مہنگائی کی چکی میں پستی چلی جا رہی ہے۔ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے عوض لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، لوگ دو وقت کی روٹی کھانے کو ترس رہے ہیں، مہنگائی نے برا حال کیا ہوا ہے، لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی بجائے بیروزگار کیا جا رہا ہے، لوگوں کو پچاس لاکھ گھر دینے کی بجائے پہلے سے تعمیر شدہ گھروں کو غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مسمار کیا جا رہا ہے۔ 

    بظاہر یہ حکومت عوام کے چہروں پر مسکراہٹیں نہیں بلکہ پریشانیوں کو جنم دینے کے لیے لائی گئی ہے۔ گزشتہ چند روز قبل ایک سنئیر جج نے ریٹائرڈ ہونا تھا انہوں نے اپنے آخری فیصلے میں سوئی سدرن گیس کے تیس ہزار ملازمین کو ایک جھٹکے میں نکال باہر کیا، ان ملازمین میں کوئی ریٹائرمنٹ کے عین قریب تھا اور کسی نے ساری زندگی اپنے اس محکمے کے نام کرنی تھی لیکن ذرا سی ناانصافی کی وجہ سے تیس ہزار ملازمین اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کی وجہ سے بہت سے ملازمین خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    اس حکومت کو آٹا، چینی، گھی، ادویات کی قیمتوں میں کمی لازمی لانا ہوگی ورنہ اس حکومت کا خاتمہ پیپلزپارٹی کی نسبت قدرے زیادہ برا ہوگا اور شاید آپ کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف ایک یونین کونسل کی جماعت نہ بن پائے۔ عوام نے آپ کو تبدیلی اور سہولیات فراہم کرنے کی وجہ سے ووٹ دیا تھا لیکن آپ نے سہولیات فراہم کرنے کی بجائے پہلے سے سہولیات جو میسر تھی انکو بھی ختم کر دیا۔ اس حکومت کو اپنے کیے گئے فیصلوں پر سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ورنہ رعایا جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تو دنیا کی کوئی طاقت رعایا کی آواز کو دبا نہیں سکتی۔