Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات ! تحریر: علی مجاہد

    ہوا یہ کہ 12 ربیع الاول کا جو جلوس تھا وہ جیسے ہی اختتام پذیر ہوا تو لاہور میں ملتان روڈ جہاں پہ خادم حسین رضوی کی مزار بھی ہے اور وہاں پہ مسجد بھی ہے تو وہاں پر تحریک لبیک کے جو کارکنان ہیں انہوں نے اس جلوس ایک دھرنے میں تبدیل کر دیا اور یہ کہا گیا کہ تین دن آپ کے پاس ہیں اور ان تین دنوں میں حکومت کے سامنے دو مطالبات رکھے گئے کہ ان دونوں مطالبات پر کام کرنا پڑے گا اگر آپ یہ مطالبات مان لیتے ہیں تو بالکل ٹھیک ہے ورنہ ہم آپ کے خلاف احتجاج کریں گے معاملہ خراب اس وقت ہوا تھا جب نومبر 2020 میں ناموس رسالت کے اوپر بہت زیادہ احتجاج ہوئے اور بہت کچھ ہوا اور بعد میں ایک معاہدہ ہوا اس معاہدے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری ہیں انہوں نے بھی دستخط کیے اور شیخ رشید نے بھی دستخط کیے اس میں بڑی سیدھی سادی بات تھی کہ ہم جناب جو فرانس کا سفیر ہے پاکستان سے اسکو نکال دیں گے اور اسکو لیکر قومی اسمبلی میں قرارداد بھی آئی لیکن سفیر کو نکالنے کی بات وہاں پر نہیں ہوئی لیکن حکومت نے اس وقت کمٹمنٹ ضرور کر دی کہ ہم نکال دیں گہ لیکن پھر صورتحال خراب اس وقت ہوئی جب اپریل میں سعد رضوی جب وہ کہیں سے واپس آرہے تھے تو انکو گرفتار کر لیا اور پھر کافی عرصے سے انکو جیل میں رکھا ہوا ہے اور پھر لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ آتی ہے لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ کے بعد بھی انکو رہائی نہیں ہو رہی، دو بنیادی مطالبات ہیں جو سامنے رکھے گئے اس میں پہلا کہ سعد رضوی کی رہائی ہر صورت میں تحریک لبیک کے کارکنان چاھتے ھیں اور دوسرا فرانسی سفیر کو اس وقت ملک سے نکالا جائے، 

    اب آتے ہیں اگلے مرحلے کی طرف کہ اس معاملے اپڈیٹ کیا ہے مذاکرات ہوئے ہیں نہیں ہوئے ہیں حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ بات چیت کی ہے انسے رابطہ کیا ہا نہیں کیا؟

    تو میں آپکو بتا دیتا ہو جب سے یہ اعلان ہوا ایسا نہیں ہے کہ تحریک لبیک کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ملتان روڈ پر اور نارے لگا رہے ہیں اور انکی کوئی بات نہیں سن رہا اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ اب زاعری بات ہے اس میں حکومتی سفیر یا حکومتی وزیر تو نہیں تھے اس میں سیکیورٹی ایجنسیز کہ لوگ تھے انہوں نے تحریک لبیک کے لوگوں کے ساتھ بات کی لیکن اس وقت تک جو نئی خبر ہے ان دونوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا جس کے بعد اب تحریک لبیک نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جا رہے ہیں اسلام آباد کی جانب تو انہوں نے ان مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کردی ہے اور یہ مذاکرات ہونے کی پہلے تحریک لبیک نے تصدیق کی جس کہ بعد ابھی بھی تصدیق کردی ہے کہ انکے جو مذاکرات ہیں حکومت کے ساتھ وہ ناکام ہو گئے اس کے بعد اب تحریک لبیک کے کارکنان لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے ہیں لیکن لاہور شہر کے اندر اور پورے پنجاب میں تحریک لبیک کے خلاف پولیس جو ہے وہ کریک ڈاؤن کر رہے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں انکے لوگ گرفتار کیے جا رہے ہیں داخلی اور خارجی راستے بند کیے جا رہے ہیں دو دن سے ٹریفک کا ماحول انٹرنیٹ سروس درہم برہم ہے لیکن اس دوران سب سے بڑی جو خبر ہے وہ ہے شیخ رشید صاحب کا بیرون ملک جانا شیخ رشید جناب دبئی کے لیے روانہ ہو گئے دو تین دن کا انکا وزٹ ہے اطلاعات کے مطابق وہ انڈیا پاکستان کا میچ دیکھنے گئے ہیں پاکستان کے حالات معمول پر نہیں اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ اس بات پر کہ میچ ضروری ہے یا اس وقت آج لاہور شہر میں اپوزیشن جماعتوں کی ریلیز الگ سے ہیں اور مزعبی جماعت کا احتجاج اپنی طرف ہے اور پاکستان کا انٹیریئر منسٹر جو ہے وہ میچ دیکھنے جا رہا ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )

  • فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    فوری انصاف کی عدالتیں بنی نوع انسان کی استعماری قوتوں سے اصلی آزادی کی علمبردارہیں تحریر انوار الحق۔

    1945کے بعد بیشتراقوام عالم پرسے برطانوی سامراج کے بتدریج خاتمے اور انخلاء کے بعد جن چیزوں کا غلام اقوام میں تسلسل ازحد یقینی بنایا گیا ان میں سرفہرست سامراجی نظام انصاف ہے۔ یعنی جو نظام فاتح اقوام نے مفتوحہ اقوام پر اپنا جبرواستبداد برقراررکھنے کے لئے پوری قوت سے نافذالعمل کیا تھاوہی نظام آج تک غلام اقوام جو کہ بظاہر اب آزاد ہو چکی ہیں پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذالعمل ہے۔اس پورے عرض گذاری سے شروع ہونیوالے اور متوفی پر ختم ہونیوالے نظام پر سرسری نظر دوڑانے پر ہی معلوم ہوجاتاہے کہ یہ نظام حصول انصاف کے لئیے ہے ہی نہیں بلکہ ترویج ظلم کے لیئے ہے۔ قول مشہور ہے کہ پاکستان میں حصول انصاف کے لیے آپ کے پاس قارون کا خزانہ اور عمر خضر ہونی چاہئے ۔ یعنی نہ قارون کا خزانہ ہو ، نہ عمر خضر ہو اور نہ انصاف ہو۔پاکستان میں فوجی حکمران آئے ، سول حکمران آئے بڑے بڑے بیوروکریٹ آئے جن کی کتابیں مشہور ہوئیں ہر طرح کے طاقتور لوگ آئے اور ان سب نے اپنی اپنی بھانت بھانت کی پالیسیاں چلائیں، قانون بنائے اور بے شمار خرافات کیں لیکن ان سب نے 74سالوں میں جو ایک مشترکہ چیز یقینی بنائی رکھی وہ یہ تھی کہ کسی طرح اس ملک کا نظام عدل ٹھیک نہ ہو۔حکمران طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جس دن اس ملک میں فوری انصاف ملنا شروع ہوگیا ان کی بدمعاشیوں اور عیاشیوں کو بھی نکیل ڈل جائیگی۔ تو لہذا اب مختلف نظریات کی دعویدار انگنت پارٹیاں اور جھنڈے ، بولیاں ایک سیل بے کراں ہے لیکن کہیں کوئی عملی طور پر فوری انصاف کیلئے کام کرتا نظر نہیں آتا نہ آئیگا۔ اس ملک میں سب طرح کے قانون و آرڈیننس بن کر نافذ ہو سکتے ہیں لیکن 14دن کے اندراندر فیصلہ کرنے کے بنے ہوئے قانون پر عملدرآمد کوئی مائی کا لعل نہیں کروائیگا اور نہ کوئی اس پر بات کریگا ۔اور ایسا نہ کرنیکے صورت میں کوئی اس پر بات نہیں کریگا نہ سروس کٹے گی نہ مراعات۔ سب کو معلوم ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے ذمرے میں آتی ہے لیکن انصاف میں تاخیر جاری ہے۔ اصل ظلم یہ ہے جس کیخلاف کچھ لوگ بولتے ضرور ہیں لیکن ان کی آواز نقارخانے میں طوطی جتنی بھی نہیںاور مزے کی بات یہ ہے کہ انصاف ،انصاف کی دھائی دینے والے بھی دوسروں کیلیے انصاف جبکہ اپنے لیے ہر قسم کی معافی کے طلبگار ہیں۔
    امریکہ یورپ اور اسکے حواری افغانستان میں اپنی بدترین شکست کا بدلہ اب طالبان کے نظام انصاف پر انگلیاں اٹھا اٹھا کر لے رہے ہیں حالانکہ وہی اسلامی قوانین سعودی عرب میں نافذہیں لیکن ادھر تیل اور ڈالر کے اشتراک سے حاصل ہونیوالی دولت کے انبار نظر آتے ہیں اور طالبان بے چارے غریب ہیں اس لیے ان میں نظام میں خرابیاں نظر آتی ہیںجوکہ منافقت ہے۔ امریکہ کو بے گناہوں پر ڈرون حملے کرتے ہوئے کوئی انسانی حقوق یادنہیں آتے اور نہ ہی خواتین کے چادر اور چاردیواری کے حق کی پامالی نظر آتی ہے لیکن طالبان اگرکسی مستند چور کے ہاتھ کاٹ دیں یا بچوں سے بدفعلی کرکے ان کو جان سے مارنے والے درندوں کو چوک چوراہے پر لٹکا دیں تو ان نام نہاد انسانی حقوق والوںکے پیٹ میں مروزاٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ادھر پاکستان کو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئے ہوئے 74سال بیت گئے بلکہ بتا دیے گئے لیکن آجتک اس میں اسلامی قوانین کا بعینہ نفاذ نہیں ہونے دیا گیا۔ کہتے ہیں کوئی قانون یہاں اسلامی قوانین سے متصادم نہیں بنا نہ بن سکتا ہے ۔ تو پوچھنایہ کہ اسلامی ماخذ قانون Islamic Jurisprudenceسے لاکھوں کروڑوں مقدمات کے التوا کا جواز بھی نکال کر دکھا دو۔ یہی ایک بات کہ اس ملک میں بندہ مر جاتا ہے نسلیںبرباد ہوجاتی ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا اس نظام کو غیراسلامی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے ملک کی اشرافیہ اس نظام ناانصاف سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہیں۔ لوئر کورٹس، سیشن کورٹس، ہائی کورٹس، سپریم کورٹس، اسلامی کورٹس سے ایک اپر کلاس کے ظلم کے نظام کو دوام بخشنے کے ادارے ہیںجو بدمعاشیہ کو تحفظ فراہم کرتے ہیںاور غریب کی نسلیں اجاڑ دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو سولیوں پر ہونا چاہئے تھا وہی لوگ کرسیوں پر براجمان ہیں۔

  • زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    زندگی کا مقصد کیا ہے؟ تحریر : محمد عدنان شاہد

    دنیا کی ہر چیز کسی نہ کسی مقصد کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی بھی چیز بے مقصد اور بے معنی پیدا نہیں فرمائی ہر چیز کا کوئی نہ کوئی خاص مقصد ہے اور قدرت ان سے انہیں مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ زمین کی نپلوں سے لے کر آسمان کی صورت تک کسی نہ کسی مقصد کے ساتھ منسلک ہیں۔ تخلیق کائنات کے مقصد کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ اللہ تعالی نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں بنایا۔ پھر مختلف مقاصد کو نوع بہ نوع چیزوں کا پابند کردیا کہ اس طرح وہ مقاصد پھیلتے چلے گئے جیسا کہ اللہ تعالی نے مقصد اس کائنات کو خود فرمایا کہ:

    میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا جب میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو میں نے کائنات کی تخلیق کر دی ” ( الحدیث)

    اس سے یہ بات پتا چل گئی کہ تخلیق کائنات کا سب سے بڑا اہم اور اصل مقصد اللہ تعالی کی ذات و صفات کی معرفت اور اس پر کامل ایمان رکھنا ہے۔ اور جب اللہ تعالی کا عرفان حاصل ہو جائے تو یہ مقصد پورا ہو گیا کہ آپ کائنات کی وہ شے اپنے وجود میں کامل ہو گی۔ پھر مخلوقات میں جو درجات ہیں ان میں بھی مقصد نمایاں ہے۔ پہلے اس امر پر غور کریں کہ اللہ تعالی نے مخلوق میں زی حس کو تین طرح پر پیدا فرمایا۔

    1)ایک وہ جن کو عقل دیا اور نفس سے محفوظ رکھا۔ جیسے فرشتے
    2) ایک وہ جن کو نفس دیا اور عقل سے بے بہرہ کیا۔ جیسے حیوانات
    3) ایک وہ جن کو عقل بھی دیں اور نفس بھی دیا۔ جیسے جن و انس

    ان میں ہر ایک کا مقصد جداگانہ ہے۔ فرشتوں کو بے نفس بنا کر انہیں صرف اپنی عبادت پر مامور فرما دیا اور دیگر ضروریات سے محفوظ کر دیا۔ اور تمام بشری تقاضے ان سے الگ کر دیئے۔ جانوروں کو پیدا کیا تو انہیں عقل سے خالی کرکے صرف نفس کا خوگر بنایا اب ان پر کوئی شرعی احکام یا امرونہی کا حکم نافذ نہیں۔ مگر ان سوجن کو یہی خصلت بھی دیں اور فرشتوں کا شعور بھی دیا۔ اس لئے اس کے ڈھاٹے ملکوتی خصائل سے ملتے ہیں۔ اور دوسری طرف بہمانا صفات سے۔ اس کو اس منزل پر کھڑا کیا جو انتہائی زیادہ آزمائشی ہے۔ انہیں تکلیف شرعی بھی دی اور لذت نفس بھی عطا کیا۔ اب جن و انس دونوں خصلتوں کے حامل ٹھہرے۔ اگر ملکوتی صفات غالب آجائیں تو اس وقت انسان فرشتوں کا ہم نشیں ہیں اور اگر بہمانہ خصائل غالب آجائیں تو اس وقت وہ جانور ہے۔

    رب کریم نے جن و انس کی مقصدیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    ” ہم نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا” ( زاریات، آیت 54)

    معلوم ہوا کہ مقصد انسان صرف عبادت الہی ہے۔ اسی کو مذکورہ بالا حدیث قدسی میں اپنی ذات کی معرفت سے تعبیر فرمایا۔ اب یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد حیات بڑا مبارک عظیم اور اہم ہے۔ اب چونکہ یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا مقصد بہت اہم اور مبارک ہے تو اس لیے ہر انسان کو چاہیئے کہ وہ دنیاوی کاموں سے برتر سب سے پہلے اللہ کی معرفت اور عبادت کو سب سے پہلے رکھے۔ اس کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور بنیادی مقصد اللہ کی عبادت ہونی چاہیے۔ کیونکہ باقی دنیاوی کام تو سب چلتے رہتے ہیں۔ اگر انسان اللہ کا قرب پا گیا تو سمجھو وہ مقصد حیات پا گیا۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    @RealPahore

  • بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ  تحریر:- فروا نذیر

    بین الاقوامی سیاسی منظر نامہ تحریر:- فروا نذیر

    Twitter : @FarwaSpeaks_
    آج کل نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر ایک تازہ بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مغربی دنیا افغانستان میں امریکی شکست کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش میں ہے۔ امریکہ اپنی تاریخ کی سب سے طویل اور مہنگی ترین جنگ ہار چکا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ نے اس جنگ میں 20 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ کا سرمایہ خرچ کیا۔ افغانستان میں رہتے ہوئے امریکہ معاشی حوالے سے چین کا مقروض ہوتا رہا۔
    چین ناچاہتے ہوئے بھی امریکہ کو قرض دیتا رہا کیونکہ امریکہ چین کے پڑوس میں بیٹھا تھا اور کسی بھی وقت پراکسی وار چین پر مسلط کر سکتا تھا۔ جنگ سے بچنے کے لئے چین کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا۔
    افغان جنگ میں پوری مغربی دنیا کی سرمایہ کاری تھی۔ اب سرمائے کے ڈوب جانے کے بعد مغرب بدمست ہاتھی کی طرح ہنکار رہا ہے۔ ان کی نظروں میں اس شکست کا بس ایک جواز ہے اور وہ ہے "One word, PAKISTAN” ۔ پاکستان اس وقت مغربی دنیا کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔
    اس وقت حالات واضح طور پر نئے بلاک کی طرف جا رہے ہیں۔ جو کہ چین اور روس کی سرکردگی میں ہو گا۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے سرمائے کا کثیر حصہ چند ہاتھوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ہتھیلیوں میں آ چکا ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ دنیا کا سسٹم تبدیلی کی طرف آئے۔ جمود کو موت ہے اور تغیر میں بقا ہے۔ لہٰذا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا اشتراکیت کی طرف آ جائے۔ اگر دنیا کا نظام اشتراکیت کی طرف آیا تو اس میدان میں لیڈ روس اور چین کی طر رہے ہیں۔ امریکی capitalism آخری سانسیں لے رہا ہے۔
    امریکہ کے پاس جنگ کے لئے اور کوئی میدان بھی نہیں بچا۔ سیانے کہہ گئے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی جنگ میں میدانِ جنگ غریب ممالک ہی بنتے ہیں۔ ایسے ہی افغانستان بھی ایک میدانِ جنگ تھا۔ پاکستان کی مضبوط دفاعی حکمتِ عملی اور راولپنڈی میں بیٹھے دنیا کے تیز ترین دماغوں کی وجہ سے پاکستان اب تک بچا ہوا ہے ورنہ شاید اب تک ہم بھی افغانستان، عراق یا شام کی طرح شام کے اندھیرے میں ڈوب چکے ہوتے۔
    اگر نیا بلاک بنتا ہے تو اسے لیڈ چین اور روس کریں گے اور ساؤتھ ایشیا میں پاکستان اس کا سرکردہ رکن ہو گا۔ کیونکہ انڈیا اپنی وفاداریاں امریکہ کے ساتھ جوڑ چکا ہے۔ طاقت کا توازن بھی ایشیا میں ہی رہے گا اور مغرب کے پاس سوائے انتظار کے اور کچھ نہیں بچے گا۔
    جہاں تک پاکستان پر پابندیوں کی بات ہے تو یہ مغرب کی سب سے بڑی بے وقوفی ہو گی۔ یہ بل اور قراداد والا سارا ڈراپ سین امریکہ صرف اور صرف اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لئے کر رہا ہے۔  دنیا کو خاموش کرانے کے بعد یہ سب باتیں ہوا ہو جائیں گی۔ امریکہ افغانستان میں شکست کھانے کے بعد پہلے ہی ایشیاء میں اپنی پوزیشن کمزور کر چکا ہے۔ کیونکہ ایشیا میں پہلے صرف چین کی امریکہ کے مدِ مقابل تھا لیکن اب چین کے ساتھ ساتھ روس، ایران اور ترکی بھی امریکی چودھراہٹ کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور پاکستان میں بھی پہلی بار گورننس ذاتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں عمل میں آ رہی ہے۔ جو کہ امریکہ کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔
    امریکہ اب پاکستان کو مزید ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پاکستان خطے میں اپنا کافی اثر و رسوخ بنا چکا ہے۔
    امریکہ میں بھی اب جنگی جنون باقی نہیں رہا۔ امریکہ کی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔ امریکہ اب جنگ کی بجائے چین کی طرح معاشی میدان میں قدم جمانے کی پلاننگ میں ہے۔ آنے والا وقت اسی کا ہو گا جس کی جیب بھاری ہو گی۔ اسی حوالے سے امریکہ نے چینی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابلے میں اپنا نیا پراجیکٹ لانچ کیا ہے۔ امریکہ نے سمندروں پر قبضہ کر رکھا تھا لیکن چین نے زمینی سفر کو ترجیح دے کر پورے خطے میں تجارتی روٹس کا جال بچھا دیا جو کہ امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد چین کے پاس مشرقِ وسطیٰ تک پہنچنے جا زمینی راستہ بھی آ چکا ہے جس کی حفاظت کے لئے چین افغان طالبان سے پہلے ہی مذاکرات کر چکا ہے۔
    دنیا کی سیاست کا نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے۔
    اب ہم نے دیکھنا یہ ہے دنیا کا معاشی نظام کس کروٹ بیٹھتا ہے
    سرمایہ دارانہ یا اشتراکیت؟
    یہ وقت ہی بتائے گا۔

  • لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    لاہور سے اسلام آباد مارچ، حکومت و مذہبی جماعت کے بڑوں کو لیے عام شہری کا مشورہ تحریر: ناصر بٹ۔

    @mnasirbuttt

    اور ایک بار موبائل فون سروس بند ہونے سے دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہوگیا، گھر سے نکلنا دشوار اور سوشل میڈیا پر رائے دینا محال ہوگیا، ایک بار پھر کالعدم تحریک لبیک کی جانب سے شہر اقتدار پر یلغار کا اعلان اور حکومت کی جانب سے سیکورٹی انتظامات کی آڑ میں موبائل فون سروس، شاہراہیں اور تقریبا عام شہری کی آنکھیں بند کرنے کا آغاز کر دیا گیا، شہر لاہور میں پولیس کی جانب سے فلیگ مارچ اور جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد پر وفاقی و پنجاب پولیس کا مشترکہ دھرنے سے پہلے استقبالی دھرنا بھی جاری ہے، جگہ جگہ کنٹینٹرز لگا کر راستے بند کرنے کے باوجود ڈنڈے ہاتھوں میں پکڑے نفری منتظر ہے لاہور سے جمعہ کے بعد اسلام آباد کے لیے نکلنے والے مہمانوں کی، پولیس والے اس لانگ مارچ کے انتظار میں دو دن ڈیوٹی پر رہیں گے یا چار دن معلوم نہیں لیکن ان چند روز میں ملحقہ علاقوں میں رہنے والوں کی زندگی ضرور اجیرن رہے گی، ایک سوال جو ملک بھر کے عوام خصوصا اس صورتحال میں متاثر ہونے والے شہری من میں لیے گھومتے ہیں لیکن پوچھنے کی سکت نہیں کہ آخر حکومت کی جانب گزشتہ دھرنے کو ختم کروانے کے لیے بطور ضمانت قومی اسمبلی میں بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی اب تک معاملات کا حل کیوں نہیں نکال سکی، کیوں تحریک لبیک کی لیڈر شپ کو اعتماد میں لیکر مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی، اگر دیگر قومی مسائل کو حل کرنے میں غیر سنجیدگی کی طرح ادھر بھی سستی دکھا ہی دی گئی تو لاہور میں جاری حالیہ دھرنے کا ہی رخ کر لیا جاتا، کاش لاہور میں ہی ان سے مذاکرات کر لیے جائیں تاکہ مذہبی جماعت کے کارکنان و پولیس کو آمنے سامنے آنے کا موقع ہی نہ ملتا، گزشتہ روز شیخ رشید نے سفارتی تعلقات کے اعتبار سے اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا مسئلے کا حل نہیں ایسا کرنے کی صورت میں یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہونے کا خدشہ رہے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے پی ڈی ایم راولپنڈی احتجاج کی آڑ میں مذہبی گروپ کو بھی سنا دیا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا، پہلی بات تو یقینا درست ہے کہ سفارتی دنیا میں اس طرح کسی بھی گروہ کے پریشر میں آکر سفیر جو کہ اپنے ملک کا نمائندہ سمجھا جاتا یے اس کو ملک بدر کرنا بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ کی متعلقہ ملک کے ساتھ طلاق ہوگئی اور آپ نے تین بار لب کشائی کرکے کام تقریبا ختم ہی کر دیا جبکہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ طلاق بھی کیوں دی جائے جب بیوی فرانس جیسی امیر و ترقی یافتہ بیوی ہو ہاں ایتھوپیا کے ساتھ معاملات اس نہج تک پہنچنے تو شاید ریاست مدینہ کے خلیفہ ایسا کچھ سوچ بھی لیتے، دوسری بات کچھ ایسی ہی ہے کہ "کہنا بیٹی کو سنانا بہو کو” وزیر داخلہ نے پنڈی میں احتجاج کرنے والی ن لیگ کو قانون کی حرکت کے بارے میں سنایا تو ضرور لیکن پیغام لاہور والوں کو بھی سنا دیا کہ فیض آباد آنا آسان نہیں اور اگر پہنچ بھی گئے تو مہمان نوازی کا شرف پنجاب و وفاقی پولیس کی مشترکہ میزبانی کو حاصل ہوگا جس میں آنسو گیس، لاٹھی چارج، گرفتاریوں سمیت دیگر اشیاء بھی بطور مینو پیش کی جاسکیں گی، اس ساری صورتحال میں نقصان قوم کا ہوگا جو اپنے معمولات زندگی سے جو کورونا کے عذاب سے بمشکل باہر نکل کر بحالی کی طرف ابھی چلے ہی تھے سے ایک بار پھر ہاتھ دھو بیٹھیں گے دوسرا کسی بھی قسم کی ممکنہ جھڑپ کی صورت میں زخمی پولیس اہلکار ہو یا تحریک کا کوئی کارکن نقصان ریاست کا ہی ہوگا نقصان پوری قوم کا ہی ہوگا، ریاست مدینہ والوں سے دست بدستہ درخواست تو یہ ہی ہے کہ کالعدم تنظیم کے ایکٹو علماء کو بجائے گرفتار کرنے یا مار دھاڑ کرنے کے ان سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی جائے، ان کو سنا جائے اور ان کو بین الاقوامی و قومی مجبوریوں کے حوالے سے آگاہ کیا جائے، ان کو سفارتی دنیا کی بھی ایک سیر کروائی جائے اور مطالبات کی منظوری کی صورت میں ہونے والے ریاستی نقصان کا تخمینہ بھی بتایا جائے لیکن لیکن لیکن ساتھ ہی ساتھ مستقبل میں ہونے والی اس طرح کی کسی بھی قسم کی گستاخی و توہین کی صورت میں سخت ترین قانون سازی بھی کی جائے اور ڈرافٹنگ کے دوران علماء کے ایک وفد کو بھی اپنی تجاویز کو قانونی نقاط میں شامل کرنے کی دعوت دی جائے تاکہ ایمان بھی سلامت رہے اور بروز قیامت نبی الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی جواب دہی ہوسکے کہ آپ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو صرف جماعتی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر دبایا گیا اس کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر اس کے خلاف کاروائی بھی کی گئی کیونکہ آپ سے محبت ہی ایمان کی نشانی ہے اور آپ کی حرمت پر بولنا ہی زندگی کا حقیقی مقصد لیکن آقا دو جہاں کے پیروکاروں کا یوں سڑکوں پر ایک دوسرے کو آمنے سامنے ہوگا لاٹھی چارج مار دھاڑ اور باقی سب پرتشدد کاروائیاں، یہ نہ ہی اسلام سکھاتا ہے نہ ہی اس سب سے دین کی خدمت میں کوئی حصہ ڈالا جاسکتا ہے

  • آپ کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں تحریر:- ساجد علی

    آپ کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں تحریر:- ساجد علی

    آپ کے اندر ایک خوبی ہے تو آپ کامیاب ہو سکتے ہیں وہ خوبی یہ ہے کہ آپ اپنی  منزل کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں ڈٹے رہیں آپ کبھی ناکام نہیں ہوں گے کامیابی 5 چیزوں کا مجموعہ ہے .

    1-پیسہ 

    2-صحت 

    3-علم 

    4-سوچ 

    5-عادات 

    آپ کو یہ پانچ چیزیں برابر رکھنی ہے اگر ان میں سے ایک چیز بھی بہتر نہ ہوئی تو بندہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا اور کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا یہ پانچ چیزیں کامیابی کی قیمت ہیں  جب تک آپ کامیابی کی قیمت ادا نہیں کریں گے تو آپ کامیابی نہیں ہوں گے.

    سب سے پہلے ہمیں اپنا روّیہ ٹھیک کرنا ہے  رویہ وہ  ہوتا ہے جو ہمارے اندر اور ہمیں ہی نظر آتا ہے اور برتاؤ وہ ہوتا ہے جو ہمارے اندر دوسروں کو نظر آتا ہے اور ہماری کامیابی میں 99 فیصد رول ھمارے روّیے کا ہوتا ہے اگر آپ کا روّیہ برا ہے تو ساری دنیا کے فلاسفر آپ کو کامیاب کرنا چاہیں تو آپ نہیں ہو سکتے اور اگر آپ کا رویہ اچھا ہے تو ساری دنیا کےفلاسفر مل کر ناکام کرنا چاہیں تو آپ کبھی ناکام نہیں ہو سکتے اگر کسی بندے نے بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے تو اس کے اچھے رویے کی وجہ سے ۔

    چاہے ہم باہر سے جتنے پریشان ہوں لیکن اندر کا روّیہ اچھا رکھنا چاہیے جس  انسان کے دماغ کو  گندی سوچ ملی ہو گی وہ بندہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا 

    انسان اپنے دماغ کے اندر جیسے سوچے گا وہی اس کے ساتھ ہوگا اگر ہمارے دماغ میں ناکامی تیار کی ہوئی ہے تو ویسے ہی ہوگا ہمارے ساتھ باہر سے بندہ جیسا بھی ہو اندر ٹھیک ہونا چاہیے اب بندہ باہر سے کہے کہ میں  کامیاب ہو جاؤں گا لیکن اندر میں یہ سوچے کہ بہت مشکل ہے میں نہیں ہوسکتا کامیاب تو وہ بندہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا ۔

    بندے کی نیت یہ ہو کہ میں نے اگلے بندے کو لیڈر بن کے دکھانا ہے اپنے دماغ میں جیسا محسوس کرو گے ویسا ہی ہو گا  سب کچھ ہمارے اپنے کنٹرول میں ہے جیسا اندر سوچیں گے ویسا باہر بھی ہوگا اپنا بیج اچھا بوئیں تو سب کچھ اچھا ہی ہوگا ۔

    دنیا میں 80 فیصد لوگ دنیا کا 20 فیصد کماتے ہیں 

    اور دنیا کے 20 فیصد لوگ پوری دنیا کماتے ہیں 

    اگر آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ آپ غلط طریقے سے کام کرکے کامیاب ہو جائیں گے تو ایسا کبھی نہیں ہوگا یہ مومن کا عقیدہ نہیں ہے سب کچھ عقیدے کی وجہ سے ملتا ہے بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا عقیدہ ہو کہ صحیح  کام کریں گے تو کامیابی ملے گی اس کی دنیا بھی بن جائیں گی آخرت بھی بن جائے گی ۔

    کامیابی کا بیج ایک سوچ ہے کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی سوچ کو بڑا کرو فیصلہ کرنے سے کامیابی نہیں ملتی بلکہ فیصلہ کرکے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے سے کامیابی ملتی ہے برا وقت دیکھنے کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے کامیاب بندہ اپنے ایک منٹ میں 60 سیکنڈ گزرنے کی قیمت بھی وصول کرتا ہے جیسے زمین ایک سیکنڈ میں 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے اور سورج ایک سیکنڈ میں 274 کلومیٹر طے کرتا ہے اسی طرح ایک کامیاب آدمی ایک سیکنڈ کی قیمت بھی وصول کرتا ہے ۔

    اگر ہم وقتی فائدہ سوچیں گے تو کامیاب نہیں ہو سکتے اچھے کپڑے پہننا تبدیلی نہیں ہے بلکہ اپنی سوچ اچھی کرنا اور اپنا رویہ اچھا کرنا تبدیلی ہے ۔

    ہماری ناکامی کی سب سے بڑی  وجہ :-

    1 حسد 

    2 نااتفاقی 

    3 تکبر

     4 بے ادبی 

    5 سُستی 

     6 صبروتحمل /غصہ

    7 برداشت 

    اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں یہ چیزیں اپنے اندر سے نکالنی پڑیں گی ورنہ ہم کبھی کامیاب نہیں ہوگی 

     انسان ہمیشہ نام سے نہیں کام سے پہچانا جاتا ہے 

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے کام سے دل لگائیں انشاءاللہ ایک دن کامیاب بن کر دکھائیں گے 

  • کرپٹو کرنسی اور معیشت تحریر محمّد عثمان

    کرپٹو کرنسی اور معیشت تحریر محمّد عثمان

    کرپٹو کرنسی ہمیشہ سے ہی لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنی رہی ہے ۔ اور بٹ کوائن کے بارے میں ایلون مسک کے ٹویٹس کے بعد  تو دنیا بھر کے لوگوں کی دلچسپی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور ساتھ ساتھ بٹ کوائن کی قیمت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔

    بٹ کوائن جو کبھی صرف ٹیکنالوجی سیکھنے والوں کے لیے ایک چیز تھی اب غیر تکنیکی لوگوں کے لیے بھی عام علم ہے۔ کرپٹو کرنسی یا ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں دنیا کے کئی ممالک کا نقطہ نظر بدل گیا ہے۔ 

    جب کرپٹو کرنسی کی پہلی کوائن بٹ کوائن متعارف کروائی گئی تھی تو لوگ مشکل سے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو سمجھتے تھے۔ لیکن اب، ہر عام شخص کرپٹو کرنسی کے بارے میں جانتا ہے- 

    ٹیکنالوجی کی کی دوڑ میں پاکستان دنیا سے بہت پیچھے پایا جاتا ہے دل کے حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن وقار زقا وہ واحد شخص تھا جس نے پاکستانی عوام کو کرپٹو کرنسی کے بارے میں بتایا اور سکھایا  پاکستان میں بغیر کسی وجہ کے کرپٹو کرنسی پر پابندی کے خلاف اکیلا لڑا اور اس وقت پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو لے کر پاکستانی عوام میں کافی دلچسپی اور روشن مستقبل کی امید پائی جاتی ہے کہ کرپٹو کرنسی ان کی تقدیر بدل دے گی مگر اب بھی ایسے جاہل لوگ موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی سے پاکستان کی معیشت تباہ ہو جائے گی-

    اب تو یہ کہاوت بھی پُرانی لگتی کہ دنیا چاند پر پہنچھ گئی ہے لیکن ہم لوگ ہیں کہ ٹیکنالوجی پر پابندی لگا رہے ہماری حکومت میں بیٹھے لوگوں کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ چیز انہیں ہرگز نہیں بھاتی جو ان کی عقل سے بہت وسیع ہو جسے یہ لوگ سمجھنے سے قاصر ہوں-

    جہاں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کا تھنک ٹینک کریپٹو کرنسی کو لے کر کافی پُر امید ہے کہ کرپٹو کرنسی سے معیشت میں مثبت تبدیلی آئےگی اور ہماری حکومت کرپٹو کرنسی پر پابندی کی طرف جارہی ہے-

    بھارت 2012 سے اپنی ڈیجیٹل کرپٹوکرنسی پر کام کر رہا ہے جن میں Zebpay, Coindelta, BTCXIndia, Laxmicoin, OM, CoinDCX شامل ہیں-

    جن میں سے بیشتر کرپٹو کوائن بھارت میں لاؤنچ بھی ہو چکی ہیں اور پاکستانی حکومت ابھی تک اسی کشمکش میں ہے کہ  پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی TENUP کا کیا کیا جائے؟ ایک طرف حکومتی زرائع سے کرپٹو کرنسی پر پاکستان میں پابندی لگانے کی خبریں آرہی ہیں اور دوسری طرف TENUP کی لاؤنچنگ کی بات  ہو رہی ہے اور لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے کرپٹو کرنسی مائن کرنے پر بھی پابندی لگائے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    خدارا کچھ تو چھوڑ دیں اس بےروزگار عوام کے لیے

    مہنگائی پر تو اس حکومت پر قابو پایا نہیں جا رہا ۔ روزگار فراہم کرنے کی زمینداری حکومت کی ہوتی ہے یہ بات بھول کر بس مہنگائی کیے جارہی ہے بس یہی ایک کام پوری ایمانداری سے کر رہی ہے ۔ 

    پاکستان کی پریشان حال عوام پر رحم کیجئے عمران خان صاحب اگر آپ اس عوام کو روزگار دے نہیں سکتے تو چھینے بھی مت کرپٹو کرنسی نارمل investment سے نارمل income کا بہترین زریعہ ہے ۔ مانا شروعات میں جب لوگ پاکستانی روپیہ بیچ کر ڈالر خریدے گے اس وقت پاکستانی روپے کی قدر میں کمی آئےگی لیکن مستقبل میں روپے کی قدر بڑھ جائے گی جس وقت لوگ ڈالر بیچ کر روپیہ خریدے گے 

    مارکیٹ کا اصول ہے کہ اپنی کوئی چیز دے کر آپ دوسرے سے کوئی چیز لی جاتی ہے-

    جس سے اس چیز کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے اور وہ چیز مہنگی ہوجاتی ہے 

    خریدی جانے والی چیز ہمیشہ valueable ہوتی ہے

    خرید کے بدلے دی جانے والی چیز devalue ہو جاتی ہے. 

    کرپٹو کرنسی روپے کی قدر میں بے پناہ اضافہ لائے گی

    صرف آپ نے تھوڑا سا انتظار کرنا ہے اس وقت کا جب لوگ ڈالر کو روپے میں ایکسچینج کرینگے

    اور وہ وقت جلدی آئے گا جب لوگ ڈالر کو روپے میں ایکسچینج کرنے کے باد کسی دکان سے چینی لینے جائے گے پاکستانی دکاندار ڈالر نہیں پاکستانی روپیہ لیتے ہیں۔

     

    Twitter @UsmanKbol

    Email @Usmankbol3@gmail.com

  • اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟   تحریر: زاہد کبدانی

    اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کیوں ضروری ہے؟ تحریر: زاہد کبدانی

    ذہنی صحت صحت مند ، متوازن زندگی گزارنے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔

     ( نیشنل الائنس آف مینٹل بیماری ) کے مطابق ، ہر پانچ میں سے ایک ذہنی صحت کے مسائل کا تجربہ کرتا ہے جو کہ سالانہ 40 ملین سے زائد بالغوں میں ترجمہ کرتا ہے۔

    ہماری ذہنی صحت ہماری نفسیاتی ، جذباتی اور سماجی بہبود کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہم ہر روز کیسا محسوس کرتے ہیں ، سوچتے ہیں اور برتاؤ کرتے ہیں۔ ہماری ذہنی صحت ہمارے فیصلہ سازی کے عمل میں بھی کردار ادا کرتی ہے ، ہم کس طرح تناؤ کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہم اپنی زندگی میں دوسروں سے کیسے تعلق رکھتے ہیں۔

    جذباتی صحت کیوں ضروری ہے؟

    جذباتی اور ذہنی صحت اہم ہے کیونکہ یہ آپ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور آپ کے خیالات ، طرز عمل اور جذبات کو متاثر کرتا ہے۔ جذباتی طور پر صحت مند ہونا کام ، اسکول یا دیکھ بھال جیسی سرگرمیوں میں پیداوری اور تاثیر کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ آپ کے رشتوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، اور آپ کو اپنی زندگی میں تبدیلیوں کو اپنانے اور مشکلات سے نمٹنے کی اجازت دیتا ہے۔

    آپ اپنی جذباتی صحت کو روزانہ کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟

    ایسے اقدامات ہیں جو آپ اپنی ذہنی صحت کو روزانہ بہتر بنانے کے لیے اٹھا سکتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے ورزش کرنا ، متوازن اور صحت مند کھانا کھانا ، اپنی زندگی میں دوسرے لوگوں کے لیے کھولنا ، جب آپ کو ضرورت ہو تو وقفہ لینا ، کسی ایسی چیز کو یاد رکھنا جس کے لیے آپ شکر گزار ہوں اور اچھی نیند لینا آپ کی جذباتی صحت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ .

    مدد کے لیے پہنچنے کا اچھا وقت کب ہے؟

    ذہنی صحت سے متعلق مسائل مختلف لوگوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی مجموعی خوشی اور رشتوں میں تبدیلیاں دیکھنا شروع کردیتے ہیں تو ، ہمیشہ آپ کی مدد حاصل کرنے کے طریقے موجود ہیں۔ یہاں کچھ طریقے ہیں جن سے آپ مدد حاصل کر سکتے ہیں:

    دوسرے افراد ، دوستوں اور کنبہ کے ساتھ رابطہ قائم کریں – اپنی زندگی کے دوسرے لوگوں تک پہنچنا اور ان سے رابطہ کرنا جذباتی مدد فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    ذہنی صحت کے بارے میں مزید جانیں – جذباتی صحت کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بہت سے وسائل ہیں جن کی طرف آپ رجوع کر سکتے ہیں۔ کچھ مثالوں میں سائیکالوجی ٹوڈے ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ ، اور بے چینی اور ڈپریشن ایسوسی ایشن آف امریکہ شامل ہیں۔

    ذہنی صحت کا جائزہ لیں – ایک تشخیص اس بات کا تعین کرنے میں مدد کر سکتی ہے کہ تناؤ ، اضطراب یا ڈپریشن آپ کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر آن ڈیمانڈ ایک مفت اور نجی آن لائن ذہنی صحت کی تشخیص پیش کرتا ہے جسے آپ کسی بھی وقت لے سکتے ہیں۔

    کسی پیشہ ور سے بات کریں – اگر آپ محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں کہ آپ کی جذباتی صحت آپ پر اثرانداز ہونے لگی ہے تو ، اضافی مدد کے لیے پہنچنے کا وقت آسکتا ہے۔ ڈاکٹر آن ڈیمانڈ کے ساتھ ، آپ ایک ماہر نفسیات یا ماہر نفسیات کو دیکھ سکتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

    آخر میں ، آپ ہمارے بلاگ پر اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنے کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں۔ اپنی جذباتی تندرستی کے لیے صحت مندانہ انداز اپنانے کے طریقے دریافت کریں، نیز ڈپریشن جیسے مسائل کو سمجھیں اور یہ مردوں اور عورتوں کو مختلف طریقے سے کیسے متاثر کر سکتے ہیں۔ 

    @Z_Kubdani

  • سلطنت عباسیہ کی شروعات تحریر:رضوان

    سلطنت عباسیہ کی شروعات تحریر:رضوان

    اموی خلافت حضرت  محمد مستعفی ٰٰ   کی وفات کے بعد قائم ہونے والے چار بڑے عرب خلافتوں میں سے دوسرا تھا۔  یہ خلافت مکہ سے تعلق رکھنے والے اموی خاندان پر مرکوز تھی۔  اموی خاندان پہلے تیسرے خلیفہ ، عثمان بن عفان (ر. 644–656) کے تحت اقتدار میں آیا تھا ، لیکن اموی حکومت کی بنیاد معاویہ ابن ابی سفیان نے رکھی ، جو طویل عرصے سے شام کے گورنر تھے ، پہلے مسلمان کے خاتمے کے بعد  661 عیسوی میں خانہ جنگی  شام اس کے بعد امیہ کا اہم طاقت کا مرکز رہا اور دمشق ان کا دارالحکومت تھا۔

     بنی امیہ کے دور میں خلافت کا علاقہ تیزی سے بڑھتا گیا۔  اسلامی خلافت تاریخ کی سب سے بڑی وحدانی ریاستوں میں سے ایک بن گئی ، اور ان چند ریاستوں میں سے ایک ہے جنہوں نے تین براعظموں (افریقہ ، یورپ اور ایشیا) پر براہ راست حکمرانی کی ہے۔  امویوں نے مسلم دنیا میں قفقاز ، ٹرانسوکسیانا ، سندھ ، مغرب ، اور جزیرہ نما ایبیرین (الاندلس) کو شامل کیا۔  اپنی سب سے بڑی حد تک ، اموی خلافت نے 5.79 ملین مربع میل کا احاطہ کیا اور اس میں 62 ملین افراد (دنیا کی آبادی کا 29)) شامل تھے ، جس سے یہ دنیا کی آبادی کے علاقے اور تناسب دونوں میں تاریخ کی پانچویں بڑی سلطنت بن گئی۔  اگرچہ اموی خلافت نے تمام صحارا پر حکومت نہیں کی ، خانہ بدوش قبائل نے خلیفہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔  تاہم ، اگرچہ ان وسیع و عریض علاقوں نے خلیفہ کی بالادستی کو تسلیم کر لیا ہے ، لیکن اصل طاقت مقامی سلطانوں اور امیروں کے ہاتھ میں تھی۔

    عباسی خلافت (750–1258) کے تحت ، جو 750 میں امویوں (661–750) کے بعد کامیاب ہوا ، اسلامی سیاسی اور ثقافتی زندگی کا مرکزی نقطہ شام سے عراق کی طرف مشرق کی طرف منتقل ہوا ، جہاں 762 میں بغداد ، امن کا سرکلر سٹی  (مدینت السلام) ،شہر اسلام کے نام سے نئی اباری قائم ہوئی اور   نئے دارالحکومت کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔  عباسیوں نے بعد میں بغداد کے شمال میں ایک اور شہر بھی قائم کیا ، جسے سمرا کہا جاتا ہے (اس جملہ کا مخفف جو اسے دیکھتا ہے وہ خوش ہوتا ہے) ، جس نے دارالحکومت کو ایک مختصر مدت (836-92) کے لیے تبدیل کر دیا۔  عباسی حکومت کی پہلی تین صدیوں کا سنہری دور تھا جس میں بغداد اور سامرا اسلامی دنیا کے ثقافتی اور تجارتی دارالحکومت کے طور پر کام کرتے تھے۔  اس عرصے کے دوران ، ایک مخصوص انداز سامنے آیا اور نئی تکنیک تیار کی گئی جو پورے مسلم دائرے میں پھیل گئی اور اسلامی فن اور فن تعمیر کو بہت متاثر کیا۔

    چونکہ دارالحکومت کا مقرر کردہ انداز پوری مسلم دنیا میں استعمال ہوتا تھا ، اس لیے بغداد اور سامرا نئے فنکارانہ اور تعمیراتی رجحان سے وابستہ ہو گئے۔  چونکہ آج عباسی بغداد سے عملی طور پر کچھ نہیں بچا ہے ، سامرا کا مقام عباسی دور کے فن اور فن تعمیر کو سمجھنے کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔  سمارا میں ، سطحوں کو تراشنے کا ایک نیا طریقہ ، نام نہاد بیولڈ اسٹائل ، نیز خلاصہ جیومیٹرک یا چھدم سبزی شکلوں کی تکرار ، جسے بعد میں مغرب میں "عربی” کے نام سے جانا جاتا تھا ، دیوار کی سجاوٹ کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے تھے  لکڑی ، دھات کا کام اور مٹی کے برتن جیسے دوسرے ذرائع ابلاغ میں مقبول ہو گیا۔  مٹی کے برتنوں میں ، سمرہ نے سجاوٹ میں رنگ کے وسیع استعمال کا مشاہدہ کیا اور ممکنہ طور پر ، سفید چمک پر چمک پینٹنگ کی تکنیک کا تعارف۔  قیمتی دھات ، چمکدار پینٹنگ ، اس وقت کی سب سے قابل ذکر تکنیکی کامیابی کی یاد دلانے والے اس کے چمکدار اثر کے لیے سراہا گیا جو کہ اگلی صدیوں میں عراق سے مصر ، شام ، ایران اور اسپین تک پھیلا اور بالآخر سیرامک ​​سجاوٹ کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا  مغربی دنیا.  فن تعمیر کے لحاظ سے ، جوس الخاقانی کے محل کے ساتھ (تقریبا. 836 سے آگے) ، سمترا میں المتوکل (848–52) اور ابو دولف (859–61) کی مسجدیں اس انداز کو ترتیب دینے میں اہم تھیں  مصر یا وسطی ایشیا تک کے علاقوں میں تقلید ، جہاں اسے ضرورت اور ذائقہ کے مطابق ڈھال لیا گیا۔

     دسویں صدی میں عباسی سیاسی اتحاد کمزور پڑ گیا اور مصر ، ایران اور دیگر علاقوں میں آزاد یا نیم خودمختار مقامی خاندان قائم ہوئے۔  945 اور 1055 میں بائیڈز (932–1062) اور سلجوق (1040–1194) کے بغداد پر قبضے کے بعد ، عباسی خلفاء نے آرتھوڈوکس سنی اسلام کے سربراہ کی حیثیت سے اخلاقی اور روحانی اثر و رسوخ سے کچھ زیادہ ہی برقرار رکھا۔  خلیفہ الناصر (1180–1225) اور المستنصیر (1226–42) کے تحت عباسی دائرے نے ایک مختصر احیاء کا مشاہدہ کیا ، جب بغداد ایک بار پھر اسلامی دنیا میں کتاب کے فنون کا سب سے بڑا مرکز بن گیا اور  مستنصریہ مدرسہ (1228–33) ، سنی قانون کے چار اصولوں کے لیے پہلا کالج بنایا گیا۔  تاہم ، فنکارانہ قوت کا یہ پھٹ 1258 میں منگولوں کی الخانید شاخ کے ذریعہ بغداد کی بوری کے ساتھ عارضی طور پر رک گیا۔  عباسی خلافت کا خاتمہ اس طرح عالمگیر عرب مسلم سلطنت کا خاتمہ تھا۔الاندلس میں اموی خلافت کا احیاء (جو جدید اسپین بن جائے گا) کو قرطبہ کی خلافت کہا جاتا تھا ، جو 1031 تک جاری رہی۔ اس دور کو تجارت اور ثقافت کی توسیع کی خاصیت تھی ، اور اس نے شاہکاروں کی تعمیر کو دیکھا۔ اندلس کا فن تعمیر

     دسویں صدی کے دوران خلافت میں خوشحالی آئی۔ عبد الرحمن III نے الاندلس کو متحد کیا اور شمال کی عیسائی بادشاہتوں کو طاقت اور سفارت کاری کے ذریعے کنٹرول میں لایا۔ عبدالرحمن نے فاطمیوں کو مراکش اور الاندلس میں خلافت کی سرزمین پر جانے سے روک دیا۔ خوشحالی کے اس دور کو شمالی افریقہ میں بربر قبائل ، شمال سے عیسائی بادشاہوں ، اور فرانس ، جرمنی اور قسطنطنیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات بڑھانے سے نشان زد کیا گیا۔

     قرطبہ الاندلس کا ثقافتی اور فکری مرکز تھا۔ مساجد ، جیسے عظیم مسجد ، بہت سے خلفاء کی توجہ کا مرکز تھیں۔ خلیفہ کا محل ، مدینہ ازہرہ ، شہر کے مضافات میں تھا ، اور اس کے بہت سے کمرے مشرق کی دولت سے بھرے ہوئے تھے۔ الکام II کی لائبریری دنیا کی سب سے بڑی لائبریریوں میں سے ایک تھی ، جس کی کم از کم 400،000 جلدیں تھیں ، اور قرطبہ کے پاس قدیم یونانی تحریروں کا عربی ، لاطینی اور عبرانی میں ترجمہ تھا۔ اموی خلافت کے دور میں یہودیوں اور عربوں کے درمیان تعلقات خوشگوار تھے۔ یہودی پتھر سازوں نے عظیم مسجد کے کالم بنانے میں مدد کی۔ الاندلس مشرقی ثقافتی اثرات کے تابع تھا۔ موسیقار ثریاب کو بغداد سے آئبیرین جزیرہ نما میں بالوں اور کپڑوں کے سٹائل ، ٹوتھ پیسٹ اور ڈیوڈورینٹ لانے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ سائنس ، تاریخ ، جغرافیہ ، فلسفہ اور زبان میں ترقی اموی خلافت کے دوران بھی ہوئی۔

    1/1

    TWITTER

    @RizwanANA97

  • وہ باتیں بھی کریں تو تصویر بنا دیتے ہیں  تحریر: یاسرشہزادتنولی

    جان عالم کو دیکھ کر صحرائی پھول یاد آجاتا ہے۔ وہ حبس زدہ موسم میں اپنی شاعری سے وجود کومعطر کر دیتے ہیں ، جون ایلیا کے قبیلے سے ہیں اس لئے باتوں کو مصروں اور مصروں کو اشعار میں ڈھال لیتے ہیں۔ میرے مرشد (مرحوم) فضل اکبر کمال واقعی کمال کے انسان تھے ، کسی کو ڈانتے بھی تو نظم کا گماں ہوتا۔جان عالم بکھرے بالوں سے اپنی خواب دیدہ آنکھیں عیاں کرکے دیکھیں تو غزل کاساسماں ہو جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صنف نازک سرے سے ہی ان کی آنکھوں میں جھانکتی ہی نہیں۔ وگرنا دونوں میں سے کوئی تو عشق کے جنگل میں کھو جائے گا۔ معصوم لفظوں سے اتنی زبردست فکری اشعار کہتے ہیں کہ پڑھنے سننے والا ، آگاہی کی تلوار میان سے نکال کر سماج کے خلاف لڑنے کیلئے اٹھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ 

    سارے دریا بھی پی گیا لیکن  پیاس بجھتی نہیں سمندر کی 

    اس شعر سے ہی خیال اور قلبی واردات عیاں معلوم ہوتی اور بھی نجانے کیا کیا پوشیدہ ہے۔ سہیل احمد تہذیب کے گلدستہ کاوہ پھول ہیں جنہیں جس جانب سے بھی دیکھا جائے خوش نمائی کا احساس بہار بن کے چارسو پھیل جاتا ہے۔ غالباً ان کی روح بہت پہلے لکھنؤ کے رومی دوازے پر بہت سا وقت چلا کاٹ کر آئی ہے۔ تبھی تہذیب ان کے عادات واطوار سے چھلکتی ہیں۔ جیسے پہاڑی دوشیزہ کے شانوں پرسنہرے بال بکھرے ہوں۔ میں جب ان سے مخاطب ہوتا ہوں۔ تو یہی احساس ہوتا ہے کہ جیسے میں کتابوں کے مندر میں لفظوں کی دیوی کے سامنے موجود ہوں۔ عشق کی ناکامی سے شہزادہ گلفام بندہ بنے نابنے شاعر ضرور بن جاتا ہے تاج الدین تاج کو کبھی عشق کا مرض لاحق نہیں ہوا۔ لیکن ان کے اشعار میں عشق ، محبت ، حجر و فراق کی داستانیں بیوہ عورت کو بھی محو حیرت میں ڈال لیتی ہیں۔ مرحوم فراز سے میں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ آپ نے ک تنے عشق کیئے۔ فرازؔ نے سگریٹ کا گہرا کش لگاتے ہوئے مسکرا کے کہا میں ہفتوں ہفتوں عشق کرتا ہوں۔ کل ہی کی بات ہے ایک ڈاکٹر میرے مصروں کی اسیری سے مجھ سے بغل گیر ہو گئی تھیں۔ تاج الدین تاج  یہاں مشاہدات و تجربات، منفرد خیالات کے رنگ استعاروں کی قوس و قزح میں ڈھل کر دلوں کے آسمان پر تادیر اپنے ثمرات چھوڑ جاتے ہیں ، کبھی کبھی مجھے گماں گزرتا ہے کہ مرحوم شکیب جلالی نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا ہو۔ تبعی استعارے ان کے مصروں میں اتنے سلیقے سے پروئے ہوتے ہیں۔ جیسے دوشیزہ کے دل کی ڈائری میں یادوں کے پھول ہوں۔ تازہ خیالی اور جدت ان کے سامنے آداب بجا لاتی ہیں ۔

    وہم تھا وسوسے تھے اور سائیوں کا ہجوم  خوف دستک دے رہا تھا بارشوں کی رات میں 

    فکری خیال میں ڈوبے کسی خوش گماں کو دیکھوں تو محمد حنیف کاتصورجگمگا نے لگتا ہے۔ الفاظ آگاہی کی صورت میں مجسم بن کر دونوں ذانوں ان کے سامنے ہاتھ جوڑ ے رہتے ہیں، عشق ومحبت میں ناقدری سے پریشان لوگ جب سماج کے پھن پھیلائے حسین سانپوں سے ڈسے جائیں تو ان کے ذہن میں شاعر کی جو تصویر آتی ہے وہ حنیف صاحب جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ حنیف صاحب جز وقتی شوہر باپ اور استاد ہیں۔ہاں شاعر وہ کل وقتی ہیں۔ ا س لئے نہارمنہ قعطہ، سہ پہر نظم اور رات کو غزل ناکہیں تو نیند کی دیوی شانوں پر ہاتھ رکھنا ہی بھول جاتی ہے ۔ سادگی اور معصومیت سے خود پر اتنا ظلم کیا ہے کہ شاعروں کے شاعر بن گئے ۔ تنقید نگار خود پسندی کی عینک اتار لیں تو انہیں تسلیم کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ ان کا ایک منفرد اور زندہ رہنے والا شعر 

    نجانے کونسا آسیب ہے فضائوں میں  حواس باختہ پھرتی ہیں تتلیاں کتنی 

    نا میں ماضی کا قصیدہ گوہوں ، ناہی ماضی قریب کا مدعا سرا، ناشرائط پرجواب غزل لکھو، اچھا واہ واہ سننے کیلئے اچھا بولو۔ اگر ایسا ہے تو آپ جناب یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے۔ (یہ جز وقتی تشنہ لب نامکمل خاکے سائیبان فائونڈیشن کے چیئر مین اور کوہسار اکیڈمی کے ایم ڈی صاحبزادہ جوادکے دولت کدہ میں منعقدہ ادبی تقریب کے دوران فی البدی پڑھا گیا۔)

    https://twitter.com/YST_007?s=09