Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کولڈ فلو وائرس کیا ہے اور یہ پاکستان میں ہر موسم سرما میں کیوں بڑھتا ہے۔؟  تحریر:- حماد خان

    کولڈ فلو وائرس کیا ہے اور یہ پاکستان میں ہر موسم سرما میں کیوں بڑھتا ہے۔؟ تحریر:- حماد خان

    Twitter @HammadkhanTweet 

    پاکستان میں موسم سرما شروع ہو رہا ہے اور سردیوں کے موسم کے ساتھ ملک میں موسم کی تبدیلی کی وجہ سے سب سے عام بیماری کولڈ فلو میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے 

    کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ اس انفلوئنزا وائرس سے واقف نہیں ہیں ، اس لیے میڈیسن کے طالب علم کے طور پر میں نے اس بیماری ، اس کی وجہ اور اس کے علاج پر ایک مکمل مضمون لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ۔

    انفلوئنزا ایک وائرل انفیکشن ہے جو آپ کے سانس کے نظام – آپ کی ناک ، گلے اور پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے۔ انفلوئنزا کو عام طور پر فلو کہا جاتا ہے ، لیکن یہ پیٹ کے "فلو” وائرس جیسا نہیں ہے جو اسہال اور قے کا سبب بنتا ہے۔انفلوئنزا وائرس بوندوں میں ہوا کے ذریعے سفر کر سکتا ہے جب انفیکشن والا کوئی کھانسی ، چھینک یا بات کرتا ہے۔ آپ بوندوں کو براہ راست سانس لے سکتے ہیں ، یا آپ کسی چیز سے جراثیم اٹھا سکتے ہیں – جیسے ٹیلی فون یا کمپیوٹر کی بورڈ – اور پھر انہیں اپنی آنکھوں ، ناک یا منہ میں منتقل کرسکتے ہیں۔

    وائرس سے متاثرہ افراد علامات ظاہر ہونے سے تقریبا ایک دن پہلے شروع ہونے کے تقریبا پانچ دن بعد تک متعدی ہوتے ہیں۔ کمزور مدافعتی نظام والے بچے اور لوگ تھوڑی دیر تک متعدی ہو سکتے ہیں۔

    انفلوئنزا وائرس مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں ، نئے تناؤ باقاعدگی سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو ماضی میں انفلوئنزا ہو چکا ہے تو ، آپ کے جسم نے پہلے ہی وائرس کے اس مخصوص تناؤ سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز بنا لی ہیں۔ اگر مستقبل میں انفلوئنزا وائرس ان سے ملتے جلتے ہیں جن کا آپ پہلے سامنا کر چکے ہیں ، یا تو بیماری لگانے سے یا ویکسین لگانے سے ، وہ اینٹی باڈیز انفیکشن کو روک سکتی ہیں یا اس کی شدت کو کم کر سکتی ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ اینٹی باڈی کی سطح کم ہو سکتی ہے۔

    نیز ، انفلوئنزا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز جن کا آپ نے ماضی میں سامنا کیا ہے وہ آپ کو نئے انفلوئنزا تناؤ سے محفوظ نہیں رکھ سکتے جو کہ آپ کے پہلے سے بہت مختلف وائرس ہوسکتے ہیں۔

    زیادہ تر لوگوں کے لیے فلو خود ہی حل ہو جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات ، انفلوئنزا اور اس کی پیچیدگیاں مہلک ہوسکتی ہیں۔

    سب سے پہلے ، نزلہ ، چھینک اور گلے کی سوزش کے ساتھ فلو عام سردی کی طرح لگتا ہے۔ لیکن نزلہ عام طور پر آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے ، جبکہ فلو اچانک آتا ہے۔ اور اگرچہ سردی ایک پریشانی ہوسکتی ہے ، آپ عام طور پر فلو کے ساتھ بہت زیادہ خراب محسوس کرتے ہیں۔

    فلو یا اس کی پیچیدگیوں کے خطرے کو بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں:

    عمر۔ سیزنل انفلوئنزا 6 ماہ سے 5 سال کے بچوں اور 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔

    رہنے یا کام کرنے کے حالات۔ وہ لوگ جو بہت سے دوسرے باشندوں ، جیسے نرسنگ ہومز یا فوجی بیرکوں کے ساتھ سہولیات میں رہتے ہیں یا کام کرتے ہیں ، ان میں فلو ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ جو لوگ ہسپتال میں رہ رہے ہیں ان کو بھی زیادہ خطرہ ہے۔

    کمزور مدافعتی نظام۔ کینسر کے علاج ، اینٹی ریجیکشن ادویات ، سٹیرائڈز کا طویل مدتی استعمال ، اعضاء کی پیوند کاری ، بلڈ کینسر یا ایچ آئی وی/ایڈز مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتے ہیں۔ یہ فلو کو پکڑنا آسان بنا سکتا ہے اور پیچیدگیوں کے بڑھنے کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

    دائمی بیماریاں۔ دائمی حالات ، بشمول پھیپھڑوں کے امراض جیسے دمہ ، ذیابیطس ، دل کی بیماری ، اعصابی نظام کی بیماریاں ، میٹابولک عوارض ، ہوا کے راستے کی خرابی ، اور گردے ، جگر یا خون کی بیماری ، انفلوئنزا پیچیدگیوں کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

    نسلی:-. مقامی پنجابی لوگوں میں انفلوئنزا کی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    19 سال سے کم عمر میں اسپرین کا استعمال۔ جو لوگ 19 سال سے کم عمر ہیں اور طویل مدتی اسپرین تھراپی حاصل کر رہے ہیں ان کو انفلوئنزا سے متاثر ہونے پر رائی سنڈروم ہونے کا خطرہ ہے۔

    حمل حاملہ خواتین میں انفلوئنزا کی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے ، خاص طور پر دوسری اور تیسری سہ ماہی میں۔ خواتین کو اپنے بچوں کی پیدائش کے بعد دو ہفتوں تک انفلوئنزا سے متعلقہ پیچیدگیاں پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

    موٹاپا 40 یا اس سے زیادہ کے باڈی ماس انڈیکس (BMI) والے افراد میں فلو کی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 

    فلو کی عام علامات اور علامات میں شامل ہیں:

    بخار

    پٹھوں میں درد۔

    ٹھنڈ اور پسینہ۔

    سر درد

    خشک ، مسلسل کھانسی۔

    سانس میں کمی

    تھکاوٹ اور کمزوری۔

    ناک بہنا یا بھری ہوئی۔

    گلے کی سوزش

    آنکھ کا درد۔

    الٹی اور اسہال ، لیکن یہ بالغوں کے مقابلے میں بچوں میں زیادہ عام ہے۔

    زیادہ تر لوگ جنہیں فلو ہوتا ہے وہ گھر میں اپنا علاج کروا سکتے ہیں اور اکثر ڈاکٹر کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

    اگر آپ کو فلو کی علامات ہیں اور پیچیدگیوں کا خطرہ ہے تو فورا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اینٹی وائرل ادویات لینے سے آپ کی بیماری کی لمبائی کم ہو سکتی ہے اور زیادہ سنگین مسائل کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    اگر آپ کو فلو کی ہنگامی علامات اور علامات ہیں تو فورا طبی امداد حاصل کریں۔ بڑوں کے لیے ، ہنگامی علامات اور علامات میں شامل ہو سکتے ہیں:

    سانس لینے میں دشواری یا سانس کی قلت۔

    سینے کا درد

    جاری چکر آنا۔

    دورے۔

    موجودہ طبی حالات کی خرابی۔

    شدید کمزوری یا پٹھوں میں درد۔

    بچوں میں ہنگامی اور خطرناک علامات شامل ہو سکتی ہیں:

    سانس لینے میں دشواری۔

    نیلے ہونٹ۔

    سینے کا درد

    پانی کی کمی

    پٹھوں میں شدید درد۔

    دورے۔

    موجودہ صحت کے حالات خراب ہونا.

    Twitter @HammadkhanTweet 

  • کون بنے گا چمپیئن تحریر غلام مرتضی

    کون بنے گا چمپیئن تحریر غلام مرتضی

    ساتواں t20عالمی کپ عمان اور متحدہ عرب امارات میں برقی قمقموں کی روشنی میں جاری ہے ۔اس بار 16 ٹیمز کو 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور 45 میچز کھیلے جائیں گے ۔ٹورنامنٹ کا فائنل 14 نومبر کو کھیلا جائے گا ۔
    اس شارٹ فارمیٹ کو انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ نے 2003 میں متعارف کروایا ۔   کھیل کے اس مختصر دورانیئے کو خوب پذیرائی ملی ۔کھلاڑیوں سمیت تماشائی بھی خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔کالی آندھی اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی

    پاکستان  24 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت کے ساتھ کھیل کر اپنی مہم کا آغاز کرے گا۔ گزشتہ  کئی سالوں سے  پاک بھارت  سیریز تعطل کا شکار ہے ۔شائقین  کو پاک بھارت میچچ دیکھنے کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے ۔جوں جوں وقت قریب آرہا ہے  میچ دیکھنے کو جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے ۔سرحد کے آر پار سمیت پوری دنیا میں  کرکٹ کے شوقین  پاک بھارت ٹاکرے کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں ۔اگر دونوں ٹیمز کے کپتانوں کا موازنہ کیا جائے تو کوہلی کا تجربہ بطور کپتان بابر اعظم سے کہیں زیادہ ہے ۔
      کوہلی نے 45 میچز میں کپتانی کے فرائض سرانجام دیئے ۔27 جیتے جبکہ 15 میں شکست ہوئی اس کے برعکس بابر اعظم نے 28 میچز میں کپتانی کی 15 میں سرخرو ہوئے 8میں شکست ہوئی،  دونوں ٹیمیں پہلے  2007 کے پہلے ایڈیشن میں  پنجا آزما ہوئیں وہ میچ ٹائی ہوا تھا بعد میں  بال آوٹ پر پاکستان کو شکست ملی ۔پھر اسی عالمی کپ کے فائنل میں ایک بار پھر آمنا سامنا ہوا دلچسپ مقابلے کے بعد شکست پاکستان کے حصہ میں آئی ۔بابر اعظم  نے ابو ظہبی میں بطور کھلاڑی 11میچز میں حصہ لیا اور تمام میچز میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی، ٹیم انڈیا کا ابوظہبی میں  اپنا پہلا میچ کھیلے گی۔عالمی کپ میں پاکستان اور بھارت پانچ بار آمنا سامنا ہوا  اور پانچوں بار جیت انڈیا کے حصہ میں آئی، دونوں ٹیمیز میں تگڑے بلے باز اور آل راونڈر موجود ہیں  جو اکیلے میچ جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، روہت شرما، کوہلی، کے ایل راہل، تجربہ کار بلے باز ہیں   ۔رشی پانت،  ثریا کمار یادو ،لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔دو تجربہ کار  ال راونڈر  راویندر جدیجہ اور ہارڈک پانڈیہ بھی شامل ہیں ۔تیز گیند بازی   میں جسپریت بمرہ ،بھانشور کمار، اور محمد شامی پر مشتمل ہے اسپن گیند بازی روی چندرن اشون اور جدیجہ کے ہاتھ ہاتھ میں ہوگی ۔ اس کے برعکس محمد حفیظ اور شعیب ملک سنیئر اور تجربہ کار کھلاڑی ہیں  ۔ان  دونوں کھلاڑیوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔  پاکستان کی بیٹنگ لائن بابر اعظم، محمد رضوان، حیدر علی، فخر  زمان   تجربہ کار شعیب ملک  اور پروفیسر حفیظ لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔آصف علی بھی   جارحانہ انداز سے بیٹنگ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔پاکستان کے تیز گیند بازی میں  شاہین آفریدی، حسن علی، حارث راوف، محمد حسنین، حریف ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں، اسپن گیندبازی شاداب،محمد نواز  ،عماد وسیم اور محمد حفیظ    کے ہاتھ میں ہوگی  ۔کس میں ہے کتنا دم کس کا بلا چلے گا،کس کی گھومتی گیندیں  بلے بازوں کو گھما کے رکھ دیں گی،یہ آنے والا وقت بتائے گا

      2009 میں انگلینڈ میں کھیلے جانے والا  دوسرا t20عالمی کپ پاکستان کے نام رہا ۔فائنل میں سری لنکا کو 8وکٹ سے شکست دی تھی۔فائنل میں شاہد آفریدی 40گیندوں پر 54 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی ۔شعیب ملک کے ساتھ ملکر تیسری وکٹ پر 74رنز کی  ناقابل شکست شراکت داری قائم کی تھی ۔  اس ایڈیشن کے کامیاب گیند باز عمر گل تھے ۔عمر گل  13 وکٹ  لیکر سرفہرست رہے ۔عمر گل نے اوول کے میدان میں  3اوور میں صرف 6رنز کے عوض  کیویز کے 5بلے بازوں کی بتی گل کی تھی    ۔ 2007 کے پہلے ایڈیشن میں بھی عمر گل نے  13 شکار کیے تھے ۔

    ریکارڈز 

    مہیلا جے وردھنا  سب سے زیادہ عالمی کپ میں رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں 1016 اسکور بنائے ہیں
    کریس گیل دوسرے نمبر پر انکے رنز کی تعداد 920 ہے۔کوہلی 777 رنز کے ساتھ چوتھے نمبر  پر  ہیں

    کریس گیل،واحد کھلاڑی ہیں  جس نے  t20عالمی کپ میں  2 سیکڑے بنا رکھے ہیں

    سب سے زیادہ چھکے لگانے کا اعزاز بھی کریس گیل کے پاس ہے 26 میچز میں 60 چھکے لگا چکے ہیں دوسرے نمبر پر   پوراج سنگھ ہے نے33 چھکے اور  بوم،بوم افرید 21 چھکوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں
    تیز ترین  100 رنز بنانے کا اعزاز بھی کریس گیل کے پاس ہے  2016 میں 48گیندوں پر100 بنائے تھے ۔اس ایونٹ میں یوراج سنگھ  12 گیندوں پر 50 رنز بنا چکے ہیں  جو کہ ایک ریکارڈ ہے

    انفرادی طور پر کریس گیل ایک اننگز میں 11چھکے لگا چکے ہیں

    اس ایونٹ میں آفریدی 34 میچ کھیل کر 39 وکٹس لیکر سرفہرست ہیں
    دوسرے نمبر  پر ملنگا 31 میچز میں  38 وکٹس
    سعید اجمل 23میچز میں 36 وکٹس اپنے نام کرچکے ہیں

    صفر پر آوٹ

    بوم بوم آفریدی  34میچز میں سب  سے زیادہ 5بار آوٹ ہوئے
    دوسرے نمبر پر دلشان  بھی 5بار آوٹ ہوئے
    تیسرے نمبر پر اکمل برادران ہیں جو بالترتیب 3،3بار آوٹ ہوئے

    ٹاپ اسکورر 

    کوہلی 2014 کے ایڈیشن میں  سب سے زیادہ 319 رنز بنائے تھے جو کہ ایک ریکارڈ ہے
    کوہلی کو سب سے زیادہ 9 بار 50 رنز بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے

    کالی آندھی کو  2بار T20 عالمی کپ جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے
    انڈیا، پاکستان، انگلینڈ، سری لنکا  نے ایک ایک بار چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل ہے 

    فیورٹ

    عالمی کپ شروع ہوتے ہی کرکٹ پنڈت قیاس آرائیاں  شروع کردیتے ہیں  کونسی چار ٹیمیں  سیمی فائنل کھلیں گی ۔  انگلینڈ، انڈیا، پاکستان، کالی آندھی کو  سیمی فائنل کھیلنے  کی پیش گوئی کر رہے ہیں ۔جنوبی افریقہ، کیویز اور لنکن ٹائیگرز کو بھی  نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔

    ‎@__GHulamMurtaza 

  • کیا ہم تیار ہیں; تحریر فرازرؤف 

    انسان کی تاریخ جنگوں اور لڑائیوں سے بھری پڑی ہے کبھی یہ جنگ علاقہ پر قبضہ کرنے کے لئے کی گی اور کبھی مزہب کے نام پر، فوجیں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتیں جو فوج تعداد میں زیادہ ہوتی وہ جیت جایا کرتی تھی۔

    پھر جنگوں میں جدید ہتھیار اہم ہو گئے اور ٹیکنالوجی سب پہ حاوی ہونے لگی۔ ہتھیاروں کی دوڑ کے بعد معیشت زیادہ اہم ہوئی۔ یہ سب اصطلاح کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر، سیکنڈ جنریشن وارفیئر ، تھرڈ جنریشن وار فیئر تھے۔ فورتھ جنریشن وار فیئر میں دہشت گردی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مختلف ممالک میں دہشت گرد تنظیمیںپیدا ہوئیں یا کی گئیں اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ کچھ جگہوں پر کمزور معیشت کمزور عسکری قوت ہونے کے بعد بھی کامیابی نہ ملتی تھی اس میں قومی یکجہتی حائل ہو جاتی تھی، یکجہتی کو ختم کرنے کے لیے ففتھ جنریشن وار فیئر کی اصطلاح نکالی گئی جس سے ملکوں میں افراتفری پھیلائی جاتی اور انہیں مذہبی ثقافتی بنیادوں پر لڑایا جاتا اور ان کی قومی یکجہتی کو ختم کیا جاتا۔

    ففتھ جنریشن وار ایک خاص قسم کی جنگ ہے ، جسے آج کل کی جنگوں کا طریقہ کار بھی کہتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کو کھلی جنگ میں سیاسی طور پر بہت مزاحمت اور سفارتی سطح پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جسکی مثالیں عراق اور افغانستان ہیں جہاں انہوں نے کھلی جنگیں کیں مگر ففتھ جنریشن وار میں کسی بھی ملک کو معاشی طورپر تباہ کرنا ،سفارتی سطح پر تنہا کرنا ،سیاسی طور پر دنیا میں بدنام کرنا ،دوسروں کی نظر میں گرانا ،میڈیا اور کسی حد تک ملٹری ، انٹیلی جنس آپریشن شامل ہیں پھر فالس فلیگ آپریشنز کیے جاتے ہیں جن میں کوئی چھوٹی موٹی کارروائی کر کے دوسروں کے نام لگا دی جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے سلسلے میں ہورہا ہے ۔پاکستان میں واردات ہندوستان کرتاہے اور نام افغانستان کا لگا دیاجاتاہے

    یہ ایسی خطرناک سٹریٹجی ہے جو  آپ کو چاروں طرف سے جکڑ لیتی ہے، اس کو ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے، اس کے اندر میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا بہت اہم کردارا دا کرتاہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کچھ عرصہ پہلے واضح انداز میں کہا تھا کہ ہائبرڈ وار فیئر کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو مکمل طور پر تیار رہنا چاہئے اور ففتھ جنریشن وار جو بھارت کے ساتھ دیگر ممالک پاکستان پر لانچ کیے ہوئے ہیں۔ بھارت اپنے مذموم عزائم اور خطرناک منصوبوں کے ذریعے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دھشت گردی کرنے کے ساتھ ساتھ لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے جبکہ سی پیک کو محور و مرکز بنا کر اب اس کا اگلا ٹارگٹ گلگت بلتستان ہے اس وقت ہمیں ناصرف بے حد محتاط رہنا ہوگا بلکہ پاکستان کے باشعور عوام کو ارد گرد کے ماحول پر نگاہ رکھتے ہوئے اپنے ملی و قومی بیداری کے کردار کو بھرپور طور پرانجام دینا ہوگا۔

    دشمن تو ہمیشہ باہر سے وار کرتا رہے گا لیکن اندر سے وار کرنے کے لیے دشمن کو اندر سے مدد چاہیے ہوتی ہے بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ عناصر موجود ہیں جو لسانی اور مذہبی بنیادوں پر اندر سے لوگوں کو تقسیم کرنے میں لگے ہیں ہر روز ایک نیا فتنہ پیدا کیا جاتا ہے اور اس فتنے کے ختم ہونے کے بعد پھر ایک نیا فتنہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اس فتنے کو پھیلانے میں پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    آج میں فخر سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک میں موجود دفاعی ادارے اس پروپیگنڈا وار جسے  ففتھ جنریشن وار بھی کہا جاتا ہے کا مکمل ادراک رکھتے ہیں جس کی وضاحت آئی ایس پی آر کے سابقہ ڈی جی آصف غفور اپنی پریس کانفرنسیز میں کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ہم پر غیر اعلانیہ ففتھ جنریشن وار کا حملہ کیا جا چکا ہے جس کا پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مکمل ادراک ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں ففتھ جنریشن وار کو مضبوط انداز میں لڑا اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان نے اس جنگ میں بہتر انداز میں بھارت سے سبقت حاصل کی۔

    دشمن کے ارادوں کو جانے بغیر آپ اس سے سبقت حاصل نہیں کر سکتے، ہم نے دشمن کے عزائم کو جان کر ان سے بہتر تدبیر کی اسی لئے آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہاں ہم تیار تھے اور تیار ہیں۔ ہم اپنے بیرونی دشمنوں کو پہچانتے ہیں اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنے اندرونی اختلافات اور خلفشار ختم کر دیں تاکہ ہم ایک قوم بن کر دشمن کے لیے ایک سیسہ پھلائی دیوار ثابت ہوں۔

    "پاکستان زندہ باد”

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • مادہ ہتھنیاں بغیر دانتوں کے کیوں پیدا ہو رہی ہیں حالیہ تحقیق میں انسانیت سوز انکشافات

    مادہ ہتھنیاں بغیر دانتوں کے کیوں پیدا ہو رہی ہیں حالیہ تحقیق میں انسانیت سوز انکشافات

    نیویارک: افریقی ہاتھیوں کی مادائیں اپنے خوبصورت دانتوں پر شکاریوں کے دباؤ کے تحت اب بغیر دانت کے پیدا ہورہی ہیں جس کے کئی شواہد ملے ہیں اور ان میں جینیاتی تبدیلی اور ارتقا کے مشاہدات بھی شامل ہیں حال ہی میں موزمبیق میں تحقیق کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق 1977 میں اس خطے میں شدید خانہ جنگی شروع ہوئی جو 1992 تک جاری رہی دونوں اطراف کے دھڑوں نے جنگ کے دوران ہاتھی دانت کےلئے بے زبان جانوروں کو مارنا شروع کردیا ہاتھی جیسے حساس جانور نے اس دباؤ کو محسوس کیا اور بہت ہی جلد ان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوئیں کہ مادہ ہتھنیوں کے دانت غائب ہونے لگے ہیں گورونگوسا نیشنل پارک میں موجود ہاتھی اس کا ہدف بنے۔

    اس کے سب سے پہلے عکسی ثبوت تصاویر اور ویڈیو سے سامنے آئے جنہیں پرنسٹن یونیورسٹی شین کیمپبیل اسٹیٹن اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا اور بتایا کہ اب 19 سے 15 فیصد مادہ ہاتھی بغیر دانتوں کے پیدا ہورہی ہیں۔

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    شماریاتی تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ تبدیلی جینیاتی انتخابی دباؤ کے بغیر ممکن نہیں ہوتی لیکن یہ آثار بھی ملے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بغیر دانت والی ہتھنیوں کی پیدائش بھی کم ہوئی ہے جبکہ جنگ کے دوران ان کی شرح زائد تھی یہ بھی معلوم ہوا کہ 1972 سے 2000 کے درمیان بغیر دانت کی ماداؤں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

    قیمتی ہاتھی دانت کے لیے افریقی ہاتھیوں کا شکار دیگر مقامات پر بھی جاری ہے مثلاً سری لنکا میں نرہاتھیوں کی صرف پانچ فیصد تعداد ہی اپنے دانتوں کے ساتھ موجود ہے حیرت انگیز طور پر تمام افریقی نر ہاتھیوں نے شدید شکار کے باوجود اپنے دانت برقرار رکھے اور اس کی وجہ جینیاتی ہے۔

    ماہرین اب تک جینیاتی تحقیق کررہے ہیں کہ آخر ماداؤں کے دانت کیوں غائب ہورہے ہیں لیکن ابتدائی تحقیق بتاتی ہے کہ غالباً اے ایم اے ایل ایکس نامی جین میں اس کی وجہ ہے جو ایکس کروموسم میں پایا جاتا ہے یہ جین دانتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    ماہرین کا خیال ہے کہ اس جین کی تبدیلی دیگر اہم جین پر بھی اثراندازہوتی ہے۔ ماداؤں کے پاس ایکس کروموسوم کی دو نقول ہوتی ہیں اور اگر ان میں سے ایک نقل نہیں بدلتی تو اس میں موجود جین اپنا درست کام کرتا رہتا ہے لیکن مرد یا نر کے پاس اس کی ایک ہی کاپی ہوتی ہے اور اگر وہ بھی بگڑ جائے تو کئی بیماریوں بلکہ جان لیوا امراض کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

    ہاتھی دانت صرف دکھانے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہ ہاتھیوں کے بہت کام آتے ہیں ہاتھی کے دانت اس کا بہت قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اگرچہ بے زبان ہاتھی کےدانت تو اسمگلر لے جاتے ہیں لیکن ان کی بقیہ زندگی بہت مشکل بلکہ پرخطربھی ہوجاتی ہے۔

    مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

  • انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گےعمران خان کا قومی  ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گےعمران خان کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    وزیراعظم عمران خان نے پاک بھارت میچ پر کہا ہے کہ انشا اللہ بھارت سے ضرور جیتیں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان نے کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے کہا کہ ٹیم میں ٹیلنٹ موجود ہے بھارت کےخلاف کامیاب ہوگی دعا ہے قومی ٹیم بھارت کو شکست دے۔

    اس سے قبل قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا کہ میرے کیریئر کے دنوں میں پاکستان کے پاس بھارت سے بڑے کھلاڑی ہوا کرتے تھے، اب بھارت کے پاس شاندار کھلاڑی ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    شعیب اختر نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان سے بہتر ہے لیکن پاکستانی کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جارحانہ طرز کی کرکٹ کھیلیں گے ورلڈکپ کے میچوں میں بھارت نے پاکستان سے بہتر پریشرہینڈل کیا ہے، پاکستان، بھارت ناصرف ابھی کا بلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل بھی کھیلیں گی۔

    شعیب اختر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت سے زیادہ نیوزی لینڈ پر غصہ ہے۔

    ادھر قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے پاکستان ٹیم کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنےکی پیشگوئی کی کہا کہ پاکستان ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے زبردست کمبینیشن بنا ہوا ہے، پوری قوم کی طرح میں بھی بہت پرامید ہوں کہ پورے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم اچھا پرفارم کرے گی، ہماری ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جو اکیلے میچ جتوا سکتے ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    دوسری جانب آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاک بھارت ٹاکرے کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کردیا گیا ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے نام بتائے۔

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدر علی، شعیب ملک، محمد آصف، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور حارث روؤف شامل ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حتمی پلینگ الیون کا اعلان کل میچ سے قبل کیا جائے گا ضرورت پڑ نے پر سرفراز کو کھلائیں گے۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

    پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

  • پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

    پاک بھارت ٹاکرا: کون سے کھلاڑی میدان میں اتریں گے بابر اعظم نے اعلان کر دیا

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کردیا گیا۔

    باغی ٹی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے بھارت کے خلاف ٹیم کا اعلان کیا 12 رکنی ٹیم کا اعلان قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں سے میچ سے قبل 11 کھلاڑی منتخب کیے جائیں گے۔

    قومی ٹیم میں بھارت کے خلاف جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں مندرجہ ذیل کھلاڑی شامل ہیں:

    محمد رضوان، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، حیدر علی، شعیب ملک، آصف علی، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    اس سے قبل بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے بڑے ٹاکرے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی پریکٹس کی ویڈیو جاری کر دی ہے ویڈیو میں بابر اعظم کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ جب بھی ہوٹل سے نکل کر آتے ہیں تو گول سیٹ کر کے آتے ہیں کہ کس طرح کی ٹریننگ کرنی ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    انہوں نے بتایا کہ میں ٹریننگ کا پلان رات کو بناتا ہوں اور ٹریننگ میں کوشش ہوتی ہے جو کمزوریاں ہیں ان پر کام کیا جائے، کوشش ہوتی ہے جو میرا مضبوط ایریا ہے اس پر مزید کام کیا جائے پریکٹس میں 100 فیصد دینے کی کوشش ہوتی ہے کیونکہ پریکٹس میں 100 فیصد ہو گا تو میچ میں بھی ایسا ہی ہو گا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نمیبیا، آئرلینڈ کو ہراکر سپر 12 میں داخل ہوگیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ ایسا ایونٹ ہوتا ہے جس میں سب ٹیمیں تیار ہو کر آتی ہیں، ہم بھی ورلڈ کپ میں مکمل تیار ہو کر جا رہے ہیں، ہماری کوشش یہی ہے کہ گراونڈ میں 100 فیصد دیں۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا    سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: فائنل میچ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہو گا سابق قومی کرکٹرز کی پیشگوئی

    قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا ہے کہ میرے کیریئر کے دنوں میں پاکستان کے پاس بھارت سے بڑے کھلاڑی ہوا کرتے تھے، اب بھارت کے پاس شاندار کھلاڑی ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔

    باغی ٹی وی : شعیب اختر نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان سے بہتر ہے لیکن پاکستانی کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جارحانہ طرز کی کرکٹ کھیلیں گے ورلڈکپ کے میچوں میں بھارت نے پاکستان سے بہتر پریشرہینڈل کیا ہے، پاکستان، بھارت ناصرف ابھی کا بلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل بھی کھیلیں گی۔

    شعیب اختر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت سے زیادہ نیوزی لینڈ پر غصہ ہے۔

    ادھر قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے پاکستان ٹیم کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنےکی پیشگوئی کی کہا کہ پاکستان ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے زبردست کمبینیشن بنا ہوا ہے، پوری قوم کی طرح میں بھی بہت پرامید ہوں کہ پورے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم اچھا پرفارم کرے گی، ہماری ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جو اکیلے میچ جتوا سکتے ہیں۔

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    محمد یوسف کے مطابق کرکٹ میں یہ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کونسی ٹیم کہاں تک آگے جائے گی لیکن میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان ٹیم میں اتنا پوٹینشل ہے کہ فائنل تک رسائی حاصل کرے گی جبکہ فائنل میں ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن ہمیں پاکستان ٹیم سے امید ہے کہ یہ فائنل بھی جیتے گی کیونکہ پاکستان کے دونوں اوپنرز کافی عرصے سے بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں، مڈل آرڈر اچھا ہے، سینئر اور جونیئر کا اچھا کمبینیشن بھی بنا ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عماد وسیم اور شاداب خان دونوں اسپنرز اچھے ہیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی، حسن علی اور حارث روف فاسٹ بولنگ کے شعبے میں شاندار ہیں۔

    محمد یوسف حسن علی کے بہت بڑے فین ہیں کہا کہ حسن علی سے میں ہمیشہ امیدیں لگا کر رکھتا ہوں کیونکہ وہ بہت خطرناک کھلاڑی ہیں، حسن علی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں بہت شاندار ہیں، وہ کلین ہٹنگ کرتے ہیں، وہ بھی آل راؤنڈر ہیں، حسن علی ٹیم میں ایک کریکٹر ہیں اور ایسے کھلاڑی ہیں جو ٹیم کو اٹھا کر رکھتے ہیں۔

    دوسری جانب بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے بڑے ٹاکرے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی پریکٹس کی ویڈیو جاری کر دی ہے ویڈیو میں بابر اعظم کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ جب بھی ہوٹل سے نکل کر آتے ہیں تو گول سیٹ کر کے آتے ہیں کہ کس طرح کی ٹریننگ کرنی ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نمیبیا، آئرلینڈ کو ہراکر سپر 12 میں داخل ہوگیا

    انہوں نے بتایا کہ میں ٹریننگ کا پلان رات کو بناتا ہوں اور ٹریننگ میں کوشش ہوتی ہے جو کمزوریاں ہیں ان پر کام کیا جائے، کوشش ہوتی ہے جو میرا مضبوط ایریا ہے اس پر مزید کام کیا جائے پریکٹس میں 100 فیصد دینے کی کوشش ہوتی ہے کیونکہ پریکٹس میں 100 فیصد ہو گا تو میچ میں بھی ایسا ہی ہو گا۔


    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ ایسا ایونٹ ہوتا ہے جس میں سب ٹیمیں تیار ہو کر آتی ہیں، ہم بھی ورلڈ کپ میں مکمل تیار ہو کر جا رہے ہیں، ہماری کوشش یہی ہے کہ گراونڈ میں 100 فیصد دیں۔

    واضح رہے کہ ہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان

    پاکستانی ٹیم اب تک ٹی ٹوئنٹی کے عالمی مقابلوں میں 34 میچ کھیل چکی ہے ان میں سے 19 جیتے اور 14 میں شکست ہوئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان نے اب تک 6 ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلے ہیں جن میں 2009 میں ہونے والے دوسرے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کپتان یونس خان کی قیادت میں کامیابی حاصل کی 2007 میں پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم رنرز اپ رہی، بھارت نے ٹائٹل جیتاتھا۔

    پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شعیب ملک نے ٹیم کی قیادت کی 2009 میں یونس خان اور2010 اور 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شاہد آفریدی نے ٹیم کی قیادت کی جبکہ 2012 اور 2014 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپس میں قیادت محمد حفیظ نے کی –

    اگر کھلاڑیوں کی پرفارمنس کی بات کی جائے تو شاہد آفریدی سب سے زیادہ 5 بار صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں شعیب ملک بیٹسمین کے ساتھ بہترین فیلڈر بھی، سب سے زیادہ 12 کیچز لیے سب سے زیادہ 39 وکٹیں بھی شاہد آفریدی نے ہی حاصل کیں اور سب سے زیادہ 21 چھکے لگا رکھے ہیں-

    پاکستان جیت سکتا ہے:ساروگنگولی:-بھارتی ٹیم فیورٹ، ٹی 20 میں کچھ بھی ہوسکتا…

    شعیب ملک سب سے کامیاب بیٹسمین ہیں، انہوں نے 27 اننگز میں 546 رنز بنا رکھے ہیں کامران اکمل نے سب سے زیادہ 50 چوکے اور شاہد آفریدی نے پاکستان کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی پہلی اور واحد سنچری احمد شہزاد نے بنا رکھی ہے جبکہ سب سے بڑی 111 رنز کی انفرادی اننگز بھی ان کے نام ہے۔

    ایک میچ میں سب سے زیادہ 5 چھکے عمران نذیر نے لگائے عمر گل نے ایک اننگز میں سب سے زیادہ 5 وکٹیں حاصل کیں ایک ورلڈ ٹی ٹوینٹی میں سب سے زیادہ 223 رن سلمان بٹ بنائے پاکستان کا کسی ایک میچ میں کم ترین مجموعہ 82 رن ویسٹ انڈیز کے خلاف ہے جب کہ سب سے زیادہ 201 رنز بنگلہ دیش کے خلاف بنائے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نمیبیا، آئرلینڈ کو ہراکر سپر 12 میں داخل ہوگیا

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم نے 24اکتوبر کو پاک بھارت بڑے ٹاکرے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے سینئر کھلاڑی کئی سال بھارت کے خلاف کھیلتے رہے ہیں، بھارتی ٹیم فیورٹ ہے لیکن ٹی 20 میں کچھ بھی ہوسکتا ہے جبکہ امارات کے کنڈیشن سے ہم واقف ہیں جو ہمیں سوٹ کرتا ہے۔

  • پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ: اشتہاروں فی منٹ قیمت کروڑوں روپے ہو گئی

    پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں 24 اکتوبر بروز اتوار کو میدان میں اتریں گی-

    باغی ٹی وی : پاک بھارت کرکٹ میچ کی مقبولیت کی ہر طرف چرچے ہیں اور ہر کوئی دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ دیکھنے کے بے چین ہے اور بے صبری سے ان گھڑیوں کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ یہ میچ صرف ٹی وی پر 30کروڑ مقامات پر دیکھا جائے گا۔

    رپورٹس کے مطابق 5 کروڑ شائقین مقابلہ ڈیجٹلی دیکھیں گے جبکہ ریڈیو کی کمنٹری اور سینما گھروں میں بھی میچ دکھایا جائے گا۔

    پاکستان جیت سکتا ہے:ساروگنگولی:-بھارتی ٹیم فیورٹ، ٹی 20 میں کچھ بھی ہوسکتا…

    پاک بھارت ٹاکرے پر ٹی وی اشتہار کروڑوں روپے فی منٹ ہوگئے ہیں بھارت میں اسٹاراسپورٹس پر دس سیکنڈز کا اشتہار پاکستانی روپوں میں 60لاکھ روپے کا ہوگا یعنی ایک منٹ کے ریٹ 3 کروڑ60 روپے ہوں گے۔

    اگر دو امیدوار شراکت سے ٹائم سلاٹ بک کرنا چاہتے ہیں تو قیمت 60 سے 70 کروڑروپے جبکہ ایسوسی ایٹ اسپانسر شپ کی قیمت تقریبا 30 سے 40 کروڑ روپے فی منٹ ہے۔

    واضح رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ2021 کے دوران29 دن میں 45 میچز ہوں گے اورفائنل میچ 14 نومبر کو دبئی میں ہوگا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: نمیبیا، آئرلینڈ کو ہراکر سپر 12 میں داخل ہوگیا

    واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ سارو گنگولی نے پیشن گوئی کی تھی کہ پاکستان جیت سکتا ہے سارو گنگولی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بطور کھلاڑی کبھی پاک بھارت میچ کا پریشر نہیں لیا ایک وقت تھا کہ پاکستان ٹیم حاوی رہتی تھی لیکن آج کل بھارتی ٹیم اچھی فارم میں ہے ۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ ساروگنگولی نے کہا کہ ورلڈ کپ میں بھارت کا ریکارڈ پاکستان کے خلاف اچھا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ہر وقت بھارت ہی بڑے ایونٹس جیتےپاکستان بھارت میچز میں سب سے زیادہ دباؤ ٹکٹوں کی مانگ کا ہوتا ہے۔

    دوسری طرف غیر ملکی خبر ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو میں قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ایک ہفتہ پہلے تک مجھے ٹیم سے متعلق کچھ خدشات تھے،لیکن حالیہ تبدیلیوں کے بعد ہماری ٹیم بہترین کمبی نیشن بن گئی ہے۔

    کپتان قومی کرکٹ ٹیم نے 24اکتوبر کو پاک بھارت بڑے ٹاکرے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے سینئر کھلاڑی کئی سال بھارت کے خلاف کھیلتے رہے ہیں، بھارتی ٹیم فیورٹ ہے لیکن ٹی 20 میں کچھ بھی ہوسکتا ہے جبکہ امارات کے کنڈیشن سے ہم واقف ہیں جو ہمیں سوٹ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ساتواں ایڈیشن متحدہ عرب امارات اور عمان میں جاری ہے جہاں ایونٹ کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا 24 اکتوبر بروز اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔

  • کشف الاسرار تحریر کاشف علی

    1400 سو سال پہلے آج ہی کے دن یعنی 12 ربیع الاول کو12 ربیع الاول سن 11 ھجری سوموار کا دن اور زوال سے پہلے کا وقت ہے۔ سورج کی زرد کرنیں زمین سے ٹکرا رہی ہیں ۔نبی کریم رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کیساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔ پانی کا پیالہ پاس رکھا ہوا ہے۔ اس میں ہاتھ ڈالتے اور چہرہ انور پر پھرا لیتے ہیں۔ روئے اقدس کبھی سرخ اور کبھی زرد پڑ جاتا ہے۔ زبان مبارک آہستہ آہستہ حرکت میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور موت تکلیف کیساتھ ہے۔ یہ الفاظ ورد زبان ہیں۔حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنھما ایک تازہ مسواک لیے سامنے آتے ہیں۔آپ کی نظر مسواک پر جم جاتی ہے۔ ادھر اماں عائشہؓ سمجھ جاتی ہیں کہ آپﷺ مسواک فرمانا چاہتے ہیں۔ ام المؤمنین نے مسواک اپنے دانتوں میں نرم کرکے پیش کی اور آپﷺ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک استعمال کی اور ہھاتھ اونچا فرمایا گویا کہ کہیں تشریف لے جا رہے ہیں اور زبان اقدس سے فرمایا۔ بل الرفیق الاعلی۔اب کوئی اور نہیں صرف اسی کی رفاقت منظور ہے۔ بل الرفیق الاعلی ، بل الرفیق الاعلی۔ تیسری آواز پر ہاتھ نیچے کو لٹک آئے ،آنکھ کی پتلی اوپر کو اٹھ گئیاور روح مبارک عالم قدس کو ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گئی۔اللھم صل علی محمد و علٰی آل محمد و بارک وسلم۔ عمر مبارک قمری حساب سے63 سال4 دن ہے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس غم ہائے بیکراں اور حادثہ دلفگار (دل کو چیر دینے والا حادثہ) کی خبر فوراً مدینہ میں پھیل گئی تب عمرؓ کھڑے ہوے تلوار نکالی اور کہا جس نے کہا رسول اللہؐ فوت ہوگئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا یہ عالم جذبات تھا عمرؓ شدت جذبات سے تقریر کر رہے تبھی ابوبکرؓ آئے نبیؐ کا دیدار کیا چہرہ اقدس سے کپڑا اٹھا کر پیشانی مبارک پر بوسہ دیا پھر چادر واپس ڈال دی اور روتے ہوئے فرمایا، حضورﷺ پر میرے ماں باپ قربان آپﷺ کی زندگی بھی پاک تھی اور آپﷺ کی موت بھی پاک ہے، واللہ اب آپﷺ پردوموتیں وارد نہیں ہوں گی، اللہ نے جو موت لکھ رکھی تھی۔ آج آپﷺ نے اسکا ذائقہ چکھ لیا ہے اور اب اسکے بعد ابد تک موت آپﷺ کا دامن نہیں چھو سکے گی۔. اور باہر تشریف کائے اور عمرؓ جوش میں تقریر کر رہے تھے کہ خبردار نبیؐ فوت نہیں ہوے بلکہ حضرت موسیٰؑ کی طرح 40 دن کے لیے گئے ہیں وغیرہ اس دوران ابو بکرؓ نے عمرؓ سے فرمایا عمر رکو میری بات سنو مگر عمرؓ جوش سے تقریر کر رہے تھے تب ابوبکر ؓ نے لوگوں اپنی طرف بلایا لوگ عمرؓ کو چھوڑ کر ابوبکرؓ کی طرف آئے حمد و ثناء کے بعد فرمایا جو جو محمدؐ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے( ان محمد قد مات )تحقیق بے شک محمدؐ وفات پاچکے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ حی القیوم ہے اور یہ آیات پڑھیں
    وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ
    ترجمہ:

    اور محمد (خدا نہیں ہیں) صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا

    یہ آیت سن کر صحابہ کو لگا کہ جیسے یہ آیت آج ہی اتری ہے تب یہی12 ربیع الاول کا دن تھا عمرؓ فرماتے ہیں کہ ابوبکرؓ سے یہ آیت سن کر میرے پاؤں ٹوٹ گئے اور کھڑے رہنے کی قوت باقی نہیں رہی تھی، میں زمین پر گر پڑا اور مجھ کو یقین ہوگیا کہ واقعی محمدؐ رحلت فرما گئے ہیں۔صحابہ کلیجہ تھام تھام کر رو رہے کچھ سمجھ نہیں جو بیٹھے تھے شدت غم سے کھڑا نا ہوا جارہاتھاکئی صحابہ حیران وسرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے۔ کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا، جو کھڑا تھا اس کو بیٹھ جانے کا یارانہ ہوا۔ مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی . مدینہ فضا سوگوار تھی صحابہ زارو زار آنسو بہا رہے دنیا سے بہت بڑی رحمت رخصت ہو چکی تھی انکے محبوبؐ ان سے جدا ہو چکے شدت غم سے کلیجے پھٹے جارہے تھے یقینًا 12 ربیع الاول کا دن تھا آنکھوں سے آنسووں کی لڑیاں ذباں سے درود سلام یقینًا یہ صدمہ اولاد اور مال و جان سے بڑھ کر تھا کیوں کہ وہ حقیقی طور نبیؐ سے اپنی مال و جان اولاد سے بڑھ کر محبت رکھتے تھے بھلا کسی کا ایسا رحیم نبی اور ایساکریم سردار ہوسکتا ہے
    فضاء اداس اور ملول ہے دنیا کی تاریخ کا سب بہترین اور رحمت بھرا دور اختتام پذیر ہو رہا تھا آج کا سورج افسردہ تھا 12 ربیع الاول مدینے کی یہ شام غمگین اور افسردہ تھی آنسووں سے فضاء نمناک تھی اگرچہ انسانوں اور فرشتوں کے جھنڈ کے جھنڈ آرہے تھے مگر اتنے رش کے باوجود مدینہ ویران ویران لگ رہاتھا جس کے سبب اس عالم پر اک خصوصی رحمت تھی آہ! کہ آج اسی وجود سرمدی سے ہماری دنیا خالی ہے۔
    اس سوگوار اور نمناک فضاء میں اک دلدوز غم سے بھری آنسووں سے لبریز صدا بلند ہوتی تھی ۔آہ! وہ کون ہے جو جبرائیل امیں کو اس حادثۂ غم کی اطلاع کر دے۔الٰہی! فاطمہؓ کی روح کو محمدؐ کی روح کے پاس پہنچا دے۔ الٰہی! مجھے دیدار رسول کی مسرت عطا فرما دے۔
    حضرت فاطمہؓ کی آنکھ سے آنسو نا رکتے تھے آج فاطمہؓ کے بابا ان سے بچھڑ گئے تھے کیا فاطمہؓ کے بابا جیسا کوئی بابا ہوسکتا ہے وہ جو پتھر کھا کر دعا کرے وہ جو دو جہانوں کے لیے رحمت تھا آج کا12 ربیع الاول کا دن تھا فاطمہؓ کا پیارا بابا ان سے جدا ہوگیا تھا
    حضرت عائشہؓ اور تمام ازواج مطہرات شدت غم سے نڈھال ہیں بھلا ایسا محبوب وعظیم شوہر دنیا میں جس کی مثال نہیں آج عائشہؓ کے سر کے تاج رخصت ہوچکے ہیں سرکار دو عالمؐ رحمةللعالمین رخصت ہوے
    بلالؓ ہائے بلالؓ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ گئے ان کے آقاؓ ان سے بچھڑ گئے ہیں بلالؓ شدت غم سے نڈھال ہیں صدمہ اسقدر زیادہ ہے کہ بلالؓ نے اس کے بعد ازان نہیں کہی اور گلیوں میں لوگوں سے کہتے تھے لوگو تم نے رسول اللہؐ کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو حتیٰ کہ مدینہ چھوڑ دیاکافی عرصہ بعد واپس آئے تو سیدنا حسنین کریمین سے سفارش کروائی گئی جب آپ نے آزان دی جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ کے کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔

    علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

    اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
    نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
    12 ربیع الاول کے دن اس ذمین کا سب بہترین وقت اختتام پذیر کیونکہ نبیؐ نے فرمایا
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب میں بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر جو ان سے نزدیک ہیں، پھر جو ان سے نزدیک ہیں پھر جو ان سے نزدیک ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ٹھیک سے نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ کے بعد دو کا ذکر فرمایا یا تین کا ذکر فرمایا۔ پھر ان کے بعد وہ لوگ پیدا ہوں گے جو گواہی کے مطالبہ کے بغیر گواہی دیں گے، خائن ہوں گے اور امانتداری نہ کریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے اور ان میں موٹاپا پھیل جائے گا۔