Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت میں‌ مسلمان دشمنی کا کامیاب کاروبار، تحریر: محمد شعیب

    بھارت میں‌ مسلمان دشمنی کا کامیاب کاروبار، تحریر: محمد شعیب

    بھارت میں‌ مسلمان دشمنی کا کامیاب کاروبار، تحریر: محمد شعیب

    آجکل بھارت میں صرف ایک ہی کام اور کاروبار کامیاب ہے ۔ ۔ مسلمان دشمنی کا ۔ قتل وغارت کا اور نفرت کا ۔۔۔

    ۔ شاہ رخ خان کے ساتھ تو جو مودی نے کرنا تھا کر چکا ہے ۔ پر اس وقت بھارت میں ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ شاہ رخ خان کے بیٹے کے بعد اب عامر خان اور سلمان خان بی جے پی کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ ۔ بی جے پی کا اگلا ہدف اب یہ دونوں ہیں جن پر پہلے ہی کچھ کیسز چل رہے ہیں۔ ان تینوں خانوں کا قلع قمع کرنے کے بعد بالی وڈ پر بھی ۔۔۔ شدھ ۔۔۔ ہندوازم کی چھاپ لگ جائے گی ۔ یعنی بالی وڈ پر صرف کپور ، کمار ، دیوگن ، روشن اور سنگھ نام ہی سننے کو ملیں گے ۔ ۔ اس لیے بالی وڈ پر کئی دہائیوں سے راج کرنے والے تینوں خانز سلمان خان، عامر خان اور شاہ رخ خان کا کریئر ٹھپ کرنا بہت ضروری ہے ۔ ۔ اس وقت مودی کا ایجنڈہ نمبرون بھی یہ ہی ہے ۔ کیونکہ اگلے جنرل الیکشن میں اس نے یہ ہی منجن پیچنا ہے کہ میں نے صرف باتیں نہیں کیں بلکہ حقیقی کوشش بھی کی کہ بھارت کی ہر جگہ کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے پاک کیا جائے ۔ اور بھارت کو ہندو ریاست بنایا جائے ۔ ۔ اس حوالے سے ویسے بالی وڈ کے نامور اداکار نواز الدین صدیقی کہہ چکے ہیں کہ بالی ووڈ میں نسل پرستی کا مسئلہ اقربا پروری کے مسئلے سے زیادہ بڑا ہے۔ ۔ میں آپکو بتاوں اس وقت باقاعدہ ایک کمپین کے ذریعے بالی وڈ میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کو ابھارا جا رہا ہے ۔ اور یہ تعصب صرف اداکاروں کے خلاف نہیں ۔ بلکہ سنگرز ، ٹیکنیشنز اور دیگر معاملوں میں بھی ہے ۔ آپ مسلمان ہیں تو بالی وڈ میں اب آپ کے لیے کام نہیں ہے ۔

    ۔ نصیر الدین شاہ ، جاوید اختر ، شبانہ اعظمی ، عمران ہاشمی جیسے سٹار بڑے کھل کر اس پر بات بھی کر چکے ہیں اور اگر آپکو یاد ہو ان لوگوں نے بہت سے مسائل کا سامنا صرف اس لیے کیا کہ یہ مسلمان تھے ۔ حالانکہ آپ اور میں سب جانتے ہیں کہ یہ دین پر کتنا عمل کرتے ہیں ۔ یہ صرف نام کے مسلمان ہیں مگر ان کو اچھی جگہ پر گھر کوئی نہیں بیچتا کیونکہ یہ مسلمان ہیں ۔ شبانہ اعظمی اور عمران ہاشمی والا کیس اس کی سب سے بڑی مثال ہے ۔ سیف علی خان کو تو صرف اس لیے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کانام کیوں تیمور رکھا ۔ پھر شبانہ اعظمی تو ہمیشہ سے ہندوتوا ذہنیت کے نشانے پر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ جو سرکار کے خلاف بولتا ہے اسے غدار وطن قرار دے دیا جاتا ہے۔ ان کی اس ٹویٹ پر مودی ٹولے نے زبردست ہنگامہ برپا کیا تھا ۔خود سوچیں جو سلوک شاہ رخ خان اور انکے بیٹے کے ساتھ کیا جا رہا ہے کیا کسی ہندو سپرسٹار جیسے امیتابھ بچن ، اجے دیوگن ، اکشے کمار وغیرہ کے بچوں کے ساتھ کیا جاسکتا ہے ۔ کیا ان کے بچوں کو بھی بغیر کسی ثبوت کے اتنے دن جیل میں رکھا جا سکتا ہے ۔ حالانکہ شاہ رخ خان practicing muslim نہیں ۔ پر اس کے مذہب کے خانے میں جو مسلمان لکھا جاتا ہے اس نے اس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔ جو سلوک شاہ خان کے بیٹے سے روا رکھا جا رہا ہے اس کے بعد یہ کہنا بہت آسان ہے کہ آریان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ وجہ اس کی صاف ہے ۔ جو شخص کبھی بالی وڈ کا کنگ کہلایا جاتا تھا آج کل اس کی حالت ایک بھکاری جیسی ہوچکی ہے ۔ نہ اس کی کہیں کوئی سنوائی ہو رہی ہے ۔ نہ کوئی اسکو دلاسہ دے رہا ہے ۔ الٹا اس کے خلاف نفرت پیدا کی جارہی ہے ۔ اس کو بھارت اور بالی وڈ پر ایک بدنما دھبا قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس کو دہشت گرد ، سمگلر پتہ نہیں کیا کیا بنایا جا رہا ہے ۔

    ۔ آج آریان خان کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر خصوصی بیرک میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں اپنے والدین شاہ رخ خان اور گوری خان سے بھی ملاقات نہیں کرنے دی جارہی ہے۔۔ جبکہ چودہ اکتوبر کو انہیں جیل کے قرنطینہ سیل سے نکال کر عام وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا۔ ۔ ناز و نخرے میں پلے بڑھے سٹار کڈ آریان خان جیل میں اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں ۔ جیل انکے لیے کسی جہنم سے کم نہیں ہے ۔ دوسری جانب بھارتی ایجنسی نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ رخ خان کے بیٹے کی گرفتاری کے باعث ایک بڑے آپریشن میں کامیابی ملی ہے ۔ حالانکہ یہ تھکی ہوئی ایجنسی ابھی تک ایک بھی ایسا ثبوت یہ عدالت میں پیش نہیں کرسکی جس سے آریان خان کو مزید جیل میں رکھا جاسکے ۔ پر وہ کہتے ہیں نا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔۔۔ وہ والا معاملہ اس وقت بھارت میں چل رہا ہے ۔ ۔ پھر این سی بی والے یہ بھی کہتے ہیں کہ آریان کی گرفتاری پر ہونے والی تنقید ملک سے منشیات کا صفایا کرنے کے مقصد میں ہمیں کامیاب کرنے اور مضبوط بنانے میں مدد فراہم کررہی ہے۔ اور مذکورہ آپریشن مکمل ہونے پر ہم نے ایک کروڑ کی منشیات برآمد کی ہے۔ یہاں ان سے سوال بنتا ہے کہ ایڈانی جو مودی کا یار غار ہے ۔ اسکی تو 20 ہزار کروڑ کی خالص کوکین پکڑی گئی تھی ۔ وہاں انھوں نے آنکھیں بند کیں ہوئی ہیں یا وہاں ہاتھ ڈالتے ہوئے ان کے پیر کانپتے ہیں ۔ کیونکہ مودی اس ایڈانی کا جہاز ہی اپنی الیکشن کمپین کے دوران استعمال کرتا ہے ۔ پر بی جے پی کا پیٹ ننگا اس کے پیٹی بھائی ہی کر رہے ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ بی جے پی اور شیو سینا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ یعنی دونوں انتہا پسند جماعتیں ہیں ۔ مگر کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے بدمقابل ہیں تو اس کیس میں شیو سینا مودی کے خلاف کھڑی ہے ۔

    ۔ اب تو ایک قدم مزید آگے بڑھ کر شیو سینا کے رہنما کشور تیواری نے سپریم کورٹ میں درخواست پیش کرتے ہوئے آریان خان اور دیگر ملزمان کے بنیادی حقوق کا حوالہ پیش کردیا ہے ۔ اور بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملہ میں گرفتار آریان خان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ پھر منشیات کے معاملہ میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے کردار کی بھی تفتیش ہونی چاہئے۔ درخواست میں اس کیس کی عدالت کے ذریعے تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ آریان خان نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے ایک افسر کے انتقام کا شکار ہے۔ ان کے مطابق یہ دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے کہ کوئی شخص جیل کے اندر کئی دن تک ثبوتوں کے کے بغیر رہتا ہے۔

    ۔ پر آپ دیکھ لیجئے گا بھارتی سپریم کورٹ سے بھی شاہ رخ خان کو کوئی انصاف نہیں ملنا ۔ وجہ اسکی یہ ہے ۔ کہ اس ہی سپریم کورٹ نے بابری مسجد اور دیگر معاملوں پر جو فیصلے دیے وہ مسلم اقلیت کے خلاف اور ہندو اکثریت کے حق میں تھے ۔ بھارت میں انصاف مودی اور بی جے پی کے گھر کی لونڈی بن چکا ہے ۔ بھارتی عدالتیں انصاف کرنے سے پہلے کسی بھی ملزم یا مجرم کا مذہب دیکھتی ہیں ۔ اگر تو وہ ہندو ہو تو انصاف مل جاتا ہے اور اگر خدانخواستہ مسلمان ہو تو پھر جیل یا گولی یا پھر کوئی آپ کے ہاتھ پاوں توڑ دے گا ۔ مگر پھر بھی آپکی کوئی سنوائی نہیں ہوگی ۔ اس وقت صرف یوپی میں جیلوں میں قیدیوں میں سے کم از کم 27فیصد مسلمان ہیں۔ مقبوضہ کشمیر جس کو کئی سالوں سے دنیا کی سب سے بری جیل بنادیا گیا ہے۔ CAAکا قانون جس طرح مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔ پھر آئے دن جو مسلمان بستیوں پر آئے دن ہندو بلوائیوں کے حملے کیے جاتے ہیں ۔ وہ بھی آپکے سامنے ہے ۔سوال یہ ہے کہ بھارت میں جرم صرف مسلمان کرتے ہیں جو جیلیں کچھا کچھ ان سے ہی بھری پڑی ہیں ۔ سچ یہ ہے کہ بھارت میں اس وقت ایک فاشسٹ پارٹی کی حکومت ہے جو مسلمانوں کی نفرت میں اندھی ہوچکی ہے ۔ اب یہ مسلمان چاہے بھارت کے اندر رہتے ہوں یا پھر پاکستان ، افغانستان یا بنگلہ دیش میں رہتے ہوں ۔ بھارت ان سب کو دشمن کی نظر سے یہ دیکھتا ہے ۔ ۔ صرف سیاست اور معیشت ہی نہیں ۔ بھارت کی مسلمانوں کے خلاف نفرت کھیل اور شوبز میں بھی دیکھائی دیتی ہے ۔ آپ دیکھ لیں پاکستانی کھلاڑیوں کو یہ آئی پی ایل نہیں کھیلنے دیتے ۔ پاکستانی شوبز اسٹارز پر انھوں نے بالی وڈ کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں ۔ ابھی آج کی سن لیں کہ اس نفرت کا عالم یہ ہے کہ ورلڈ کپ میں بھارتی رہنماؤں نے پاک بھارت میچ کی منسوخی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ۔ بھارتی یونین منسٹر گری راج سنگھ نے کہا ہے کہ پاک بھارت میچ کے انعقاد پر دوبارہ غور کیا جائے کیونکہ دونوں ‏ممالک کے تعلقات اچھے نہیں ہیں اور جب تک تعلقات بہتر نہیں ہوتے میچ کے انعقاد پر غور کرنا چاہیے پاک بھارت بارڈرز پر صورت حال کچھ زیادہ اچھی نہیں اور کافی عرصے سے دونوں جانب تناؤ پایا ‏جاتا ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزیر پرگت سنگھ نے بھی پاک بھارت میچ منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ‏کے تعلقات خراب ہونے کا سبب بننے والے کسی بھی عمل سے گریز کرنا چاہیے۔ ۔ بہار کے ڈپٹی سی ایم تارکیشور پرساد نے بھی میچ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تو دیکھ لیں یہ آگ و خون کا کھیل بھارت میں کس حد تک پہنچ چکا ہے ۔ رہی بات شاہ رخ خان ، سلمان خان اور عامر خان کی تو مجھے دیکھائی دے رہا ہے کہ جلد بھارت کے اندر ان کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا ۔ کیونکہ کسی ہندو راشٹر میں مسلمان سپرسٹار نہیں ہوسکتا چاہے وہ نام کا ہی مسلمان ہو ۔

  • رسول ﷺ سے محبت تحریر : محمد عدنان شاہد

    اگر حب رسول ﷺ کی بات کی جائے تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ رسول اکرم کی محبت دین اسلام کی اصل بنیاد میں ہے۔ ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اللہ کو معبود ماننے کے بعد نبی کو اس کا رسول بھی مانتا ہے درحقیقت نبی اکرم اس سے آپ سے محبت شرط جس نے میری محبت کا دعوی کیا اسے چاہئے کہ وہ آپ ﷺ کی پیروی کرے” اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی اکرم نے ارشادفر مایا، ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین ، اس کی اولا داور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں”( صحیح بخاری)

    حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں آپ ﷺ کے لئے محبت تمام قریبی رشتوں سے زیادہ ہو۔ اس سے مراد وہ جذباتی محبت نہیں جو انسان کو اپنی بیوی یا اولاد سے ہوتی ہے کیونکہ جذبات اللہ تعالی کے بناۓ ہوۓ ہیں ، اس سے ہٹ کر یہاں اختیاری محبت ہے۔ یہ سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے ہونی چاہئے ۔ اس محبت کا معیار قرآن وحدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے سامنے کوئی ایسا موڑ آ جائے جہاں اس کو یہ فیصلہ کرنا ہو کہ بیوی بچوں کی محبت میں میں کام کر دوں یا نبی ﷺ کا حکم مانوں کیونکہ آپ ﷺ نے اس کو کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اگر انسان اس جگہ اس چیز کو اختیار کر لے جو نبی ﷺ سے محبت رکھتا ہے۔اور جس کے آپ کی محبت نہیں وہ عذاب الہی کو دعوت دیتا ہے۔ ” نبی کا تعلق مومنوں کے ساتھ اس ۔ ہے جتنا ان لوگوں کا اپنے آپ سے ہے”. (الاحزاب)

    حب رسول کا اصل تقاضا ہے "اتباع رسول . ” اللہ پاک قرآن پاک میں ارشادفرماتے ہیں: "اے نبی!(اہل ایمان سے کہہ دیجئے کہ اگرتم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میرا اتباع کرو(می عمران آیت 31)

    اتباع کا مفہوم ہے ” محبت کے جذبے سے سرشار ہوکر پیروی کرنا” اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ نہ صرف حضرت محمد ﷺ کے قول پرعمل کیا جائے بلکہ ان کے فعل کی بھی پیروی کی جاۓ۔ حب رسول ﷺ کا اصل تقاضا ہی یہ ہے کہ ہماری زندگیاں احکام نبی ﷺ کے تابع ہو جائیں۔ہماری زندگی نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھل جاۓ ۔ ہماری زندگیاں اس راستے کی طرف چل
    پڑیں جس کے لئے نبی اکرم ﷺ مبعوث ہوۓ۔ جس کے لئے صحابہ کرام نے مصائب و مظالم برداشت
    کئے ۔اسے ملک نصر اللہ عزیز مرحوم نے ایک بڑے سادے انداز میں بیان کیا ہے
    مری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    (الحشر )

    میں اس لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تقاضا امر بمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
    اللّه پاک ہم سب کو سچا عاشق رسول ﷺ بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے بتاے ہوے اصولوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    اے ہمارے رب! ہم کو اپنے رسول ﷺ کی محبت نصیب فرما جو آپ کو پسند ہو۔(آمین

    @RealPahore

  • یوم ولادت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیاں اور مرجھائے چہرے تحریر:ناصر بٹ

    یوم ولادت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیاں اور مرجھائے چہرے تحریر:ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    تاریخ میں پہلی دفعہ حکومتی سطح پر بارہ ربی الاول کو مذہبی جوش و جذبے اور انتہائی عقیدت کے ساتھ منایا جارہا ہے، ملک بھر کی صوبائی حکومتیں یکطرف لیکن دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ جہاں وزیراعظم عمران خان براہ راست مانیٹرنگ کی کرسی پر براجمان ہیں شہر اقتدار کو کل شام سے ہی دلہن کی مانند سجانے کی تیاری کا آغاز کر دیا گیا دو محافل سماع کا بھی اہتمام کروایا گیا جبکہ گھروں کو سجانے کے حوالے سے مقابلوں کا بھی اعلان بھی کیا گیا جس میں سب سے خوبصورت گھر سجانے والے کو عمرے کے ٹکٹ سے نوازا جائے گا، ملک بھر میں گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر بارہ ربیع الاول کے جلوس اور گھروں و مساجد میں خصوصی محافل کا اہتمام جاری ہے لیکن ایک طرف نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کی خوشی میں ہر چہرہ جیسے دھمک اٹھا ہو لیکن دوسری جانب سے پرمسرت موقع پر کچھ چہرے سکوں کی تلاش میں پنجاب بورڈز کی ویب سائٹس کو کھنگالتے نظر آتے ہیں کہ کہیں کسی لنک پر پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کوئی حکم کوئی پروانہ یا کوئی ہدایات نامہ ہی مل جائے اور واضع گائیڈ لائنز کے بعد سپیشل یا امپروومنٹ امتحانات کی تیاری کا آغاز کیا جاسکے لیکن مجال ہے کہ حکومتی سطح پر قوم کے مستقبل یعنی سٹوڈنٹس کے دلوں میں بڑھتی بے چینی کا غم محسوس کیا جاسکے اور دو لب ہلا کر کچھ فرما ہی دیا جائے، رزلٹ کے بعد پیدا ہونے والی اس گھمبیر صورتحال میں حکومت کی طرف سے سٹوڈنٹس کے مسائل سننے اور معاملات سلجھانے کے لیے بنائے گئے صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں صاحب بیرون ملک ہیں خیر سچ تو یہ ہے کہ جب وہ ملک میں بھی تھے تو ان سے رابطہ کرنا ایسا ہی تھا جیسا جبرائیل سے رابطہ کرنا یعنی ناممکن ہی سمجھیں، اب صورتحال کچھ یوں بن چکی ہے حکومت کے دو الفاظ کے منتظر ان لاکھوں بچوں کو گھروں میں بنے مزیدار پکوان بھی بے ذائقہ لگ رہے اور پرنور محافل میں بھی ان کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہی سمجھیں، بطور صحافی میرا ایمان ہے کہ لوگوں کو جاننے کا حق بروقت میسر آنا چاہیے کیونکہ معلومات کی رسائی کا عمل کسی صورت نہیں رکنا چاہیے جوں ہی یہ عمل مستند حلقوں کی جانب سے رکا فیک نیوز کی ابھرتی مارکیٹ میں بیٹھے جعلی دکاندار اپنی من گھڑت خبروں کی دکان فی الفور سجا لیتے ہیں جس سے بھولے بھالے سوشل میڈیا صارفین خود تو نشانہ تو بنتے ہی ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ دوستوں کے ساتھ بھی شئیرنگ کا عمل شروع کر دیتے ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر جانے انجانے میں تمام صارفین بھی اس فیک نیوز منڈی کے دکانداروں میں شامل ہوکر گمراہ کن جھوٹ کی فروخت میں ملوث ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اب تک 3 جانیں تو چلی گئی چوتھی ایک اور طالبہ نے کل گوجرانوالہ میں اپنی جان لینے کی کوشش کی، کاش کہ حکومت ان تین کو بھی سمجھا پاتی کاش کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان کے خدشات کو دور کر پاتا، کاش کے وزارت تعلیم ان کے سوالات کے جواب دے پاتی تو آج وہ ہم میں ہوتے، آج وہ بھی شائد امپروومنٹ یا سپیشل امتحانات کی تیاری میں مشغول ہوتے لیکن حکومتی خاموشی نے تین جانیں خاموش کر دیں، اس مبارک دن میں جہاں ایک طرف نبی آخر زمان صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کا اظہار جلوسوں اور محافل کی صورت میں کیا جارہا وہاں ہم نے ان کی تعلیمات کو بھی اپنی زندگی کا شعار بنانا ہے تاکہ فیک نیوز پھیلانے اور معصوم زندگیوں سے کھیلنے کا مکروہ دھندہ بند ہوسکے اور حکومتی وزرا و افسران اپنے آپ کو شہریوں کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہوئے ان کے تمام مسائل کو بروقت نہ صرف سنیں بلکہ ان کے حل کے لیے تدارک بھی کریں کیونکہ کوئی انگریز دانشور کہہ گیا کہ "انصاف میں تاخیر ناانصافی ہی کی ایک شکل کے مانند ہے”

  • پاکستان میں صدر کتنا طاقتور ہے   تحریر اصغر علی   

    پاکستان میں صدر کتنا طاقتور ہے تحریر اصغر علی   

      

    اس بات کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کبھی پاکستان میں صدر کا عہدہ  اتنا طاقتور ہوتا کہ وہ منتخب حکومت کو با آسانی کر بھیج سکتا تھا ایسا پاکستان کی تاریخ میں پانچ مرتبہ ہو چکا ہے کہ کسی صدر نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے منتخب حکومت کو گھر بھیجا ہو ان میں دو دفعہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو صدر نے منتخب قومی اسمبلی توڑ کر گھر بھیجا تھا لیکن اب یہ صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے یہاں پر یہ بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ آج کل کے پاکستانی صدور کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں صدر کا عہدہ اب برائے نام رہ گیا ہے اس آرٹیکل میں جانتے ہیں کہ کیا واقعی یہ عہدہ برائے نام رہ گیا ہے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے صدر کو یہ اختیار دیا تھا وہ منتخب اسمبلی کو تحلیل اس صورت میں کر سکتا ہے  کہ  جب یہ صورتحال پیدا ہو جائے کہ ملک کی حکومت آئین کے مطابق چلانا ناممکن ہوجائے اور اسے عوامی مینڈیٹ کی ضرورت پڑ جائے لیکن اس کے بعد پہلے تیروی ترمیم آئی جس میں صدر کے اختیارات کو کم کر دیا گیا اور اس کے بعد پاکستان کے موجودہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کی گئی جس میں اس کو بالکل ختم کر دیا گیا اس کے ختم ہونے کے بعد صدر  اسمبلی ایک ہی صورت میں توڑ سکتا ہے اگر اس کو وزیراعظم ایسا کرنے کو کہے اور باضابطہ طور پر نوٹس تحریر کرکے بھیجے اسمبلیوں کے تحلیل ہونے یا کسی بہران کی صورت میں صدر وہ اقدام کر سکتا ہے جو عام طور پر منتخب وزیراعظم کرتا ہے اس کے علاوہ نومنتخب کابینہ اور وزیر اعظم سے حلف لینا بھی صدر کی ذمہ داری ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں میں صدر ملک کا سردار فادر آف دی نیشن اور اتحاد کی علامت ہوتا ہے صدر ملکی فوج کا کمانڈر اینڈ چیف بھی ہوتا ہے لیکن ملک کی فوج کے سربراہ نامزد کرنے کا اختیار جو کہ تیرہویں اور اٹھارویں ترمیم سے پہلے صدر کے پاس ہوتا تھا آپ وہ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پاس چلا گیا ہے آج صدر پاکستان کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ پارلیمنٹ سے آنے والا کوئی بھی بل ل صدر پاکستان کے دستخط کے بنا منظور نہیں ہو سکتا ہے صدر پاکستان چاہے تو اس بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں بھیج سکتا ہے اور اس کو کوئی بھی چیلنج نہیں کر سکتا حتیٰ کہ ملک کا وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو  ملک کے اندر غیر ملکی مہمانوں کی میزبانی اور ملک کے باہر پاکستان کی نمائندگی بھی صدر ہی کرتا ہے صدر کے پاس یہ بھی اختیار ہوتا ہے  کہ وہ کسی بھی مجرم کی سزا کسی بھی ٹائم معاف کر سکتا ہے اور ان کی سزاؤں میں کمی بھی کر سکتا ہے صدر وفاقی کی تمام یونیورسٹیوں کا چانسلر بھی ہوتا ہے اس کے علاوہ صوبائی یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے  صوبے کے گورنر کے پاس ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیز کے تمام منتظمین وائس چانسلر کہلاتے ہیں آج کل  پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال  ہے کہ صدارتی نظام  پارلیمانی نظام سے بہتر ہے صدارتی نظام میں تمام اختیارات صدر کے پاس ہوتے ہیں  مگر حقیقت میں پاکستان وہ ملک ہے جس نے صدارتی نظام کو بھی آزمایا جا چکا ہے ان میں میں سرفہرست فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان جنرل محمد یحییٰ خان ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل محمد ضیا الحق شامل ہیں جو کہ اس نظام کو آزما چکے ہیں صدارتی نظام ناکام ہونے کے بعد  آئین میں اٹھارویں ترمیم کے تحت پارلیمانی نظام لایا گیا آج بھی پاکستان میں پارلیمانی نظام ہی رائج ہے اس نظام میں تمام اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @Ali_AJKPTI 

    Twitter id : https://twitter.com/Ali_AJKPTI

  • جن و انسان !  تحریر سکندر علی

    جن و انسان ! تحریر سکندر علی

     

    کائنات کی تخلیق سے قبل اللہ تعالی کا عرش العظيم پانی پر تھا

    مگر یہ پانی کہاں پر تھا اور عرش معظم کہاں پر واقع تما ! یہ سوال اس لئے ذہن 

    میں ابھرتا ہے کہ

    جب زمین و آسمان اور تمام سیاراتی نظام وجود میں تھا ہی نہیں تو اس پانی کا وجود

    کہاں تھا، یہ علم غیب ہے، اس کا علم صرف وحدہ لاشریک کو ہے جو اپنی ذات میں

    کائنات کا خالق ہے اور وهو على كل شي عليم» بھی ہے لیکن انسانی ذہن

    کا تجسس حس بیداری کے ساتھ مصروف عمل رہ کر جواب طلب کرتا ہے۔ (اس

    سلسلے میں خاموشی بہتر ہے مزید گفتگو سے پر ہیز کرنا بہتر ہے )۔

    کائنات کی تخلیق کے بعد تین متحرک مخلوقات، ملائکہ ، اجنتا اور انسان کی

    حمایت کی گئی جن میں ملائکہ ( نوری مخلوق) کو

    صرف اللہ سبحانہ کے تعلیم قدرت کو چلانے کے لئے اس کی اطاعت اور اس کے

    حکم سے مخلوقات کی خدمت کے ساتھ ساتھ اس خالق اعظم کی حمد و ثناء اور

    عبادات کرنے کیلئے مخصوس کیا جن کا قیام (یا موجودگی) آسانوں و زمین کے

    اوپر اور درمیان میں کیا گیا تا کہ

    اللہ خالق کائنات و مالک کائنات اور ملاقات کے درمیان رابطه و امور کو انجام

    دے سکیں اور زمین پر خلق اللہ کی کارکردگی اور اعمال میں حکم اللہ سے مددمعاونت کر کے نظم و ضبط قائم رکھ سکیں لیکن

    ہر دو مخلوقات جن وانس اپنے وجودوں کے ساتھ زمین پر بسائی گئیں یا پیدا 

    کی گئیں تا کہ

    زندگی کی رونق کے ساتھ زینت دنیا بن سکیں اور وجود زمین کی وجہ بن سکیں ۔ان

    میں مخلوق جن کو نظر نہ آنے والی مخلوق قرار دے کر آگ سے نہیں بلکہ ان

    کے سب سے بلند شعلے کی لو سے پیدا کیا، جہاں سے دخان (دھواں ) پیدا ہوتا

    ہے اس لئے

    جنات دھواں بن کر انسان میں داخل ہوجاتے ہیں اور نظروں سے پوشیدہ رہتے

    میں

    اس بات کی شہادت میں کہ

    جنات دھواں بن کر کہیں بھی داخل ہو سکتے ہیں میراعینی تجر بہ موجود ہے۔ میرے

    تایا مرحوم اپنے وقت کے زبردست عامل تھے وہ انسانوں پر آئے ہوئے جنات و

    جادو اتارا کرتے تھے (صرف خلق اللہ کی خدمت کیلئے کئی مرتبہ انہوں نے

    ایسے مواقع پر مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر عملی طور پر یہ کام انجام دیئے اور پھر ان

    بات کو لوگوں میں بند کر کے مجھے دکھایا جو دھوئیں کی شکل میں ہوتے تھے ۔ یہ

    وشوں کبھی سفید رنگ کا ہوتا تھا بھی نلکے بھورے رنگ کا اور بھی (بلکہ اکثر)

    گرتے بال کالے رنگ کا جو بل کھاتا ہوا بول میں جا کر گھومتا رہتا تھا پھر وہ ان

    بالوں کو زمین میں فن کر دیا کرتے تھے یہ عینی شهادتی تجر به قرآن و الفرقان کی

    آلات کی تصدیق کرتا ہے۔

    جنات انسانی نظروں سے نظر نہ آنے والی مخلوق حقیقت میں موجود ہے۔ نظرنہآنے کے باوجود وہ مجسم صداقت ہیں اور دنیا میں انسانوں کی طرح پھیلے ہوئے

    ہیں یہ ہر وقت اور ہر جگہ موجود رہتے ہیں مگر

    اپنی نظر نہ آنے والی کیفیات سے نظر نہ آنے سے قاصر رہتے ہیں صرف صاحب

    بصیرت انسان انہیں دیکھ سکتے ہیں یا پھر یہ خود جب چاہیں اپنی رضا سے ظاہر ہو

    سکتے ہیں ۔

    اس سلسلے میں اگر یہ عاجز اپنے دادا حافظ سید حامد علی اور نانا حافظ ولی محمد کا تذکرہ

    بطور خاص شہادت یا گواہی کے لئے پیش کرے تو نا مناسب نہیں ہوگا اس بات

    کی تصدیق میری والدہ اور دوسرے بزرگ حضرات کرتے رہے ہیں ۔ عرض ہے

    کہ میرے دادا اور نانا جو اپنے وقت کے پائے کے عالم اور دین دار تھے جب

    فجر کی نماز کی امامت کیا کرتے تھے تو ان کے شاگردوں اور دوسرے نمازیوں کی

    تعداد کم ہوتی تھی مگر آمین ( سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد) کی آواز بہت زیادہ

    افراد کی ہوتی تھی۔ جب شاگردو حضرات نے ان دونوں بزرگوں یا استادوں

    سے دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ آپ سب کے ساتھ مسلمان جنات بھی

    باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ ان کی آوازیں ہوتی ہیں، میرے دادا حافظ

    سید حامد علی اور نانا حافظ ولی محمد نے اپنے پیچھے بہت سے قابل شاگرد چھوڑے

    جن میں مشہور وقت اور حکمت کی دنیا کے شہرت پائے انسانوں اور جنوں کے کیم

    فیض جناب حکیم اجمل خان اور ان کے شاگرد کیم محمد احمد شامل تھے۔

    میرے قارئین ، آپ سب کے شوق مطالعہ اور میری کتابوں سے محبت میں ہی

    میری تحریروں کی وقعت اور اہمیت کے ساتھ میری عظمت ہے اس مقام پر اپنے

    دونوں جد کی بزرگوں سے متعلق دو باتیں فردا فردا عرض کرنا چاہتا ہوں جو اپنی

    جگہ پر بہت توقیر کی حامل ہیں ۔اول بات میرے دارا حافظ سید علی کی ہے جن کی دینی خدمات کے علاوه

    سماجی خدمات کے اعتراف میں اس وقت کی انگریز حکومت نے ان کیلئے دو اعزازت

    مخصوص کئے جن کیلئے برطانیہ کےبادشاہ جارج پنجم(George Fifth) نے

    ہندوستان آ کر دلی (Dolh1) میں یہ دونوں تمنات میرے دادا کو دئے۔

    یہ دونوں اہمیت کے حامل تمغات میں دئے جانے کے بعد سے میرے دادا

    پھر میرے والد سید محمد (مرحوم) کے بعد میری والدہ اور اب میرے پاس

    محفوظ ہیں ۔ ان دنوں تمغات کو تقریبا ستاسی (۸۷) سال ہو چکے ہیں اب یہ

    .

    میرے پرکھوں کی وراثت کا سرمایہ ہیں جو میری آنے والی نسلوں تک خاندنی وراثت

    میں رہیں گے۔ اس کتاب کے آخری صفحہ پر اس کا کسی بطور نشان پیش ہے۔)

    دوسری اہم بات میرے نانا حافظ ولی محمد کی ہے جنہوں نے اپنے مرنے

    سے قبل اپنے سب شاگردوں سے کہا کہ میرے مرنے کے بعد مجھے قبرستان کے

    اندر نہیں بلکہ قبرستان کے دروازے پر دن کرنا اور میری قبر کو ہموار کر دینا جہاں

    سے قبرستان آنے جانے والے گزرتے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہاں سے کوئی ایسا بزرگ

    ولی گزرے ہے اللہ کی رفاقت حاصل ہو اس کے قدموں کے طفیل میری بخشش

    ہو جائے چنانچہ ان کے اطاعت گزار اور عقیدت مند شاگردوں نے ایسا ہی کیا اور

    آج بھی وہ اسی جگہ ( دہلی میں دئی دروازہ کے قبرستان کے دروازے کے پاس)

    نہیں یاد رہے کہ دلی دروازہ کا قبرستان، فیروز شاہ کوٹلہ کے قریب ہے

  • خود میں تبدیلی کیسے لائیں؟  تحریر محمد جمشید اشرف

    خود میں تبدیلی کیسے لائیں؟ تحریر محمد جمشید اشرف

    ہر انسان میں کوئی نہ کوئی برائی  بلکہ بہت سی برائیاں ہوتی ہیں کیونکہ کہ ریسرچ یہ کہتی ہے کہ کوئی بھی انسان مکمل نہ تو پوزیٹو ہوتا ہے اور نہ ہی نیگیٹو ہوتا ہے  اور اللّٰہ پاک یہ چیز انسان پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ پوزیٹویٹی کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے یا پھر  نیگیٹویٹی کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے 

    کیونکہ اللّٰہ پاک نے قرآن مجید میں جگہ جگہ پہ یہ ارشاد فرمایا کہ "انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے 

    *سوچ*

    جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ سوچ کا بہت بڑا کردار ہے 

    انسان کی زندگی میں”جو چیزیں سوچ میں نہیں بن سکتی وہ حقیقت  میں بھی نہیں  بن سکتی’بہت سے لوگوں کی خواہش ہوگی کہ ہم ایک اچھے انسان بن جائیں اور بہت سے لوگوں کی یہ خواہش ہوگی کہ اچھے عہدے پر فائز ہو جائیں-تو اس بارے میں ایک فلسفہ ہے کہ، جو آپ بننا چاہتے ہیں اس کریکٹر کو خود پہ طاری کر لیں’وہ سوچ جو ہمارے اندر بار بار چلتی رہتی ہے وہ اپنی انرجی پیدا کر دیتی ہے ہمارا دین بھی یہی سکھاتا ہے کہ جب کوئی غلط سوچ آئے تو 

    *لا حو لا ولا قوتہ الاباللہ*؛  فوراً پڑھ لو 

    اس لیے اچھی سوچ کو خوش آمدید کہنا چاہیے اور غلط سوچ کو اللّٰہ حافظ کہنا چاہیے 

    سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر اچھائی پیدا کرنی ہو گی اگر ہمارے اندر اچھائی نہیں ہوگی تو ہم دوسروں میں  مثبت جذبات منتقل نہیں کر سکتے اس بات کو ہمارے دین نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ”تب تک کوئی نصیحت کسی دوسرے شخص پر عمل نہیں کرتی جب تک کہ نصیحت کرنے والا شخص خود اس پر عمل نہ کرتا ہو ”اس کے لیے ایک مشہور زمانہ محاورہ بھی بولا جاتا ہے”’اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت””

    خود کو اخلاقی طور پر سنوارنے میں اتنا وقت صرف کریں کہ دوسروں پر تنقید کرنے کی فرصت ہی نہ ملے””

    وقت گہرے سمندر میں گرا ہوا ایک موتی ہے جس کا دوبارہ ملنا ناممکن ہے اس لیے زمانے سے شکوہ نہ کرو بلکہ خود کو بدلو کیونکہ پاوں کو گندگی سے بچانے کا طریقہ جوتا پہننا ہے نہ کہ پورے شہر میں قلین بچھانا” ایک بہت ہی خوبصورت بات یاد آئی کہ ایک  بزرگ سے کسی شخص نے پوچھا کہ عبادت کرنے کے لیے بہترین دن کونسا ہے تو اس بزرگ نے فرمایا کہ موت سے ایک دن پہلے کا-اس نے حیرت سے پوچھا کہ موت کا وقت تو معلوم نہیں تو اس بزرگ نے فرمایا تو پھر  زندگی کے ہر دن کو آخری سمجھو”تو اس سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ ہر دن ہمیں ایسے گزارنا چاہیے جیسے یہ آخری ہے ہر دن کو اچھائی کے ساتھ گزارنا چاہتے خود کو بدلیں گے تو اور لوگوں کو بدل سکے گے

    اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود کو کیسے بدلیں تو اس کے لیے اپنے اندر مثبت تبدیلیاں لائیں”اللّٰہ تعالٰی کی رحمت کی  پہلی نشانی یہ ہے کہ انسان کو اپنے عیب نظر آنے شروع ہو جائے”صحیح اور غلط میں تمیز کرنی ا جائے آپ جس کے اندر بھی کوئی اچھی عادت دیکھیں تو اس کو اپنائیں آپ کی بری عادت آپ سے خود بخود دور ہوتی چلی جائیں گی دوسروں سے مسکرا کر بات کریں اس سے آپ کے اندر کی اچھائی دوسرے شخص تک پہنچتی ہے جنہیں آپ کا وقت چاہیے ہوتا ہے تو اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر انہیں وقت دیا کریں خاص طور پر والدین جنہیں  آپ سے  کچھ نہیں چاہیے ہوتا سوائے وقت کے’ اپنے آپ کو ایسا بنائے جیسا آپ پاکستان  کو دیکھنا چاہتے ہیں ہر بات کا اچھا پہلو نکالیں  اس کو اچھے طریقے سے دیکھے  میں یہ نہیں کہتا کہ کسی چیز کا غلط پہلو ہو اور آپ اسے بلکل بھی نہ دیکھیں غلط پہلو کو بھی ضرور دیکھیں مگر ٪80 اچھے پہلو کو دیکھیں اور ٪20 غلط پہلو کو دیکھیں تاکہ آگر کوئی مشکل آنی ہے اس کے لیے بھی آپ پہلے سے تیار ہوں لیکن اپنی زیادہ تر توجہ اچھائی پر رکھیں۔ اپنے آپ کو آپ بدل دیں گے تو آپ کی قسمت خود بخود بدل جائے گی اور آپ کی قسمت کے ساتھ پاکستان کی قسمت بھی جڑی ہوئی ہے اچھا سوچے اور اچھا کرئیے

    @Mjamshaid070 ٹوئٹر 

  • قرآن مجید اور ہم لوگ تحریر:بابر شہزاد

    ‏دنیا کی کوئی ایسی ایک کتاب بتا دیں سوائے قرآن مجید کے کہ جس کے پڑھنے والے کو اس کی زبان نہ آتی ہو لیکن پھر بھی وہ اسے پڑھتا جائے؟ 

    جواب ملے گا ایک بھی ایسی کتاب نہیں ہے اور اگر کوئی ہے بھی تو اس کتاب کا قاری ایک دو صفحے پڑھنے کے بعد چھوڑ دے گا کہ اسے سمجھ نہیں آ رہی ہو گی.

    ‏یا اگر کتاب کی عبارت مشکل ہو تو بھی پڑھنے والا بوریت محسوس کر کے یا سمجھ نہ آنے کی وجہ سے پڑھنا چھوڑ دے گا لیکن ہمیں نیکیوں کے چکر میں ڈال کر ایسے گمراہ کیا گیا کہ ہم بغیر سمجھ کے قرآن کو پڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

    بھائی قرآن کو نیکیاں کمانے کے لیے تھوڑا ہی اتارا گیا ہے!!!

    ‏نیکیاں کمانے کے لیے تو اللہ پاک نے اور بہت سی عبادات رکھی ہیں جیسے کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، درود شریف پڑھنا، دوسروں سے اچھا سلوک، صلہ رحمی، ماں باپ سے پیار، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت حتیٰ کہ رستے سے پتھر ہٹا دینا بھی عبادت ہے تو  قرآن کو بغیر سمجھ کے پڑھنے سے زیادہ نیکیاں ‏مل جانی ہیں کیا؟؟؟

    قرآن کو ہدایت کے لیے اتارا گیا ہے اور ہدایت صرف اسی صورت ملے گی جب اسکو سمجھ کر پڑھا جائے گا۔ یقین کریں اس کتاب نور کو ثواب کے لیے بالکل بھی نہیں نازل فرمایا گیا بلکہ ہدایت اور راہنمائی کے لیے اتارا گیا کہ ہم اس سے سبق سیکھ سکیں لیکن ہم نے اس کتاب کو ‏خالصتاً ثواب حاصل کرنے لیے وقف کر دیا ہے جو کہ اس کے کے نزول کے مقصد کو فوت کر رہا ہے۔

    بیشک کتاب ہدایت کو پڑھنے سے ثواب ملتا ہے لیکن اس کا مقصد ثواب کمانا بلکل بھی نہیں تھا۔

    اور ستم ظریفی اور بدقسمتی کچھ یوں ہے کہ ہمارے علما نے آج تک اس نازک پہلو کے اوپر کبھی روشنی ہی نہیں ‏ڈالی کہ عام لوگوں کو اس کتاب کا حقیقی مقصد سمجھایا جا سکے۔

    بدقسمتی سے حکومتی سطح پر بھی اس مسئلے کا کوئی تدارک نہیں کیا گیا کہ چاہیے تو یوں تھا کہ جیسے اردو اور انگریزی زبان ہمارے نصاب کا حصہ ہیں بلکل اسی طرح عربی زبان بھی ہمارے درسی نصاب میں شامل ہونی چاہیے کہ ہر ایک طالب علم ‏عربی بولنا نہ سہی کم سے کم لکھی ہوئی عربی کو پڑھ کر سمجھ سکے۔

    میری حکومت وقت سے اپیل ہے اس مسئلے کی جانب غور کیا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس کتاب نور سے نیکیوں کے ساتھ ساتھ ہدایت بھی حاصل کریں۔

    شکریہ اور اگر کوئی لفظ تحریر میں کڑوا لگے تو میں معافی کا طلبگار ہوں 🙏

    Twitter handle: @babarshahzad32 

  • خود کو بدلیں اپنی سوچ کو بدلیں تحریر عبدالوحید

    خود کو بدلیں اپنی سوچ کو بدلیں تحریر عبدالوحید

    ہمارا نظام کیوں نہیں بدل رہا ہے ہمارے ملکی حالات کیوں نہیں بدل رہے حکومت نے آتے ہی نظام کو بدلنے کا کہا لیکن تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے ملکی حالات کیوں نہیں بدل رہے ۔ اگرچہ وزیرِ اعظم نے ملک کا چارج سنبھالتے ہی اعلان کیا اس نظام کو بدلو گا پھر بھی حالات جوں کے توں ہیں ۔ 

    ایک منٹ کے لیے ہمیں ملکی حالات کو بالاتر رکھ کر خود اپنے گریبان میں جھانکیں کیا ہم نے ان تین سالوں میں اپنے اندر کوئی تبدیلی لے کر آئے ۔ اگر ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں ناکہ ہمارے حکمران ۔ ذخیرہ اندوزی ، سفارش ، رشوت خوری ہم خود کریں اور ہم حکمرانوں سے نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہوں ۔ ایسا کسی بھی ملک یا معاشرے میں ممکن نہیں ۔ 

    آپ سب کو اچھی طرح یاد ہے جب کووڈ انیس آیا تھا تو ہرطرف ماسکوں کی مانگ میں اضافہ ہوگیا تھا پھر دیکھتے دیکھتے ماسک کی شارٹیج پیدا ہوگی کیونکہ سب ماسک لوگوں نے ذخیرہ کرلیے۔ اب اس چیز کا ذمہ دار کون ہے ۔ اسی طرح آپ چینی کی مثال لے سکتے ہیں ۔ یہ سب چیزیں ہم خود کریں اور تبدیلی کی توقع رکھیں دوسروں پر جوکہ ناممکن ہے ۔ میرے خیال میں اس چیز کا واحد حل یہ جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ان کو سخت سے سخت سزائیں ہونی چاہیے کیونکہ اس ذخیرہ اندوزی سے ناصرف ملک پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوام بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے جس سے کسی بھی حکومت کی مقبولیت میں کمی ہو جاتی ہے اور اس چیز کا فائیدہ اپوزیشن والے بھرپور طریقے سے اٹھاتے ہیں اور عوام کو مزید گمراہ کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں یا حکومت کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ جس پر مقدمات ہوتے ہیں وہ لوگ ہمیشہ ان چیزوں کی ہی تلاش میں رہتے ہیں ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نا جانے دیا جائے جس سے ہمارے مشکلات میں کمی ہوجائے۔اس لیے اس بات کا ہم سب پر بھی فرض بنتا ہے کہ جو شخص ناجائز و غیر مناسب طریقے سے ذخیرہ اندوزی میں لگا ہوا اس کے خلاف آواز بلند کریں یا چپکے سے حکومت تک اطلاع کو کردیں تاکہ حکومت ایسے لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لے اور اس پر چیز پر قانون سازی بھی لازمی ہے اس لیے ہمیں چاہیے ہم سب سے پہلے خود کو بدلیں اپنی سوچ بدلیں ۔ جب اس چیز کا شعور ہر انسان میں آجائے گا کہ ملک بدلنے کے لیے ضروری ہے ہم خود کو بدلیں اس دن سے ناصرف ہمارے بلکہ ملکی حالات بھی بدلانا شروع ہو جائینگے ۔ 

    آؤ آج اس بات کا عہد کریں کہ ہمارے راستے میں جو روکاوٹیں ہیں ان کو دور کریں ان روکاوٹیوں کو کچل ڈالیں جو ہمارے نظام کو بدلنے سے روک رہے ہیں جس دن ہم اپنے اندر اس چیز کا احساس پیدا کریں اس دن سے ناصرف ہمارے بلکہ ملکی حالات بھی بدلنا شروع ہوجائیں گے ۔ 

    ایک حکمران جتنی مرضی کوشش کرے ، جتنا مرضی زور لگائے پھر بھی اس نظام کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک پوری قوم اس کا ساتھ نہیں دیتی ۔ ایک لیڈر آپ کو ایک سوچ تو دے سکتا ہے لیکن آپ کی مدد کے بغیر آپ کو ایک بدلا ہوا نظام نہیں دے سکے گا ۔ اس لیے ضروری ہے اس نظام کو بدلنے کے لیے پوری قوم کو اس حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ہم جلد از جلد ناصرف اپنے حالات بلکہ ملکی حالات کو بھی بدل دیں۔ اور ہمارا ملک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو۔

    @Wah33d_B

  • پاکستان کا محافظ تحریر: دانیال بن اعظم

    ٹوئیٹر اکائونٹ: @DaniyalBinAzam

    یوں تو وطن مادرِ وطن کے لئے جان قربان کرنے والے گمنام محافظوں کی تعداد کثیر ہے ان میں سے ایک کیپٹن عبدالقدیر شہید ہیں جو کہ بلوچستان کے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے بچپن ہی سے وطن کی مٹی کی محبت میں سرشار 300 ایکڑ قابلِ کاشت اراضی کے مالک بھی تھے۔

    ایک بار کا واقعہ ہے گھر میں دعوت کے دوران کیپٹن عبدالقدیر نے گھر والوں اور رشتے داروں سے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو رشتے داروں نے تنزیہ کہا کہ جب روپیہ پیسہ گھر میں موجود ہے تو چند ہزار کی نوکری اور غلامی کی کیا ضرورت پیش آئی تو یہ سن کر کیپٹن عبدالقدیر کا خون جوش مارنے لگا اور انہوں نے غصے میں چیخ کر کہا کہ

    "فوجی تو وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے بنتے ہیں اور میں پاکستان پر اپنا تن، من، دھن سب قربان کردنگا”

    اسی جذبے کے ساتھ آپ نے پاک فوج کا کمیشن حاصل کرکے سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی ہوگئے مقابلے کا امتحان پاس اور ترقی حاصل کرکے آپ کیپٹن بننے آپ کے اسی جذبے کو دیکھ کر خفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلیجنس میں شامل کرلیا جاتا ہے۔

    کلبھوشن سدھیر جادھو جو کہ بھارتی نیوی کا کمانڈر تھا پاک بحریہ کے متعلق معلومات کے حصول کے لیے دو بار کراچی آیا تھا اسے بھارتی انٹیلیجنس راء میں شامل کر ایران چابہار کے راستے پاکستان بھیج دیا گیا۔

    کلبھوشن جادھو کا کام بلوچستان بلخصوص کوئٹہ، تربت، مکران کے ساحلی علاقے اور کراچی میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا۔ اس کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) گوادر سے چین تک معاشی اور دیگر منصوبوں کو نقصان پہنچانا، راہداری کو غیر مستحکم بنانا، بلوچستان اور کراچی کے عسکریت پسندوں کو ہوا دے کر امن تباہ کرنا اور پاکستانیوں کے دلوں میں دہشت اور خوف و ہراس پیدا کرنا تھا۔

    راء کے اسی نیٹورک کو تلاش کرنے کے لیے کیپٹن عبدالقدیر کو بلوچستان بھیج دیا جاتا ہے عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے والا یہ شخص 3 سال تک بلوچستان کے شہر شہر کوڑا کرکٹ اٹھا کر، پھٹے کپڑے پہن فقیر بن کر، سردیوں کی راتوں میں کندہ بدبودار کمبل اوڑھ کر بل آخر مٹی کے محافظ نے راء کے نیٹورک کو تلاش کرلیا جس کا تعلق نوازش شریف کی رمضان شگر ملز سے بھی تھا۔

    اس بار جب کلبھوشن جادھو (3-مارچ-2016) کو جب ایران سے پاکستان آیا تو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے پاکستانی حکام نے ایک گھنٹے کے اندر حراست میں لے لیا۔

    کیپٹن عبدالقدیر کے کارنامے لکھنے کے لئے کتابیں کم پڑھ جائیں (2-جون-2018) کو کیپٹن عبدالقدیر خفیہ ڈیوٹی سے اپنے گھر اپنی بیمار بیٹی کو دیکھنے جارہے تھے تو لکران کے علاقے میں حادثے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا۔

    "مفاہمت نا سکھا جبر ناروا سے مجھے

    میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے”

    اللّٰہ پاک وطنِ عزیز پاکستان کی حفاظت کرنے والے تمام گمنام محافظوں کی حفاظت فرمائے آمین یا ربّ العالمین

  • یکسان نظام تعلیم تحریر: نعمان سرور

    یکسان نظام تعلیم تحریر: نعمان سرور

    پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کا جو وعدہ
    کیا تھا حالیہ دنوں میں پورا کر دکھایا۔ ہم نے دیکھا جب سے یکساں نصاب کی
    بات ہوئی ساتھ ہی اس پر بہت زیادہ تنقید بھی کی گئی آخر ایسا کیوں ہے۔۔؟؟

    ایک قوم اور ایک نصاب وقت کی ضرورت ہے وہ قومیں  کبھی ترقی کر رہی نہیں
    سکتیں جو طبقاتی نظام میں الجھی رہتی ہیں جہاں غریب کے بچے کی تعلیم کا
    نظام الگ اور امیر کے بجے کا الگ اصل خرابی کی جڑ یہی ہمارا نظام تعلیم
    ہے جو کہ تین حصوں میں بٹ کر رہ گیا ہے۔

     پہلا پرائیویٹ اسکول بہترین انگریزی تعلیم دینے کے ساتھ منہ مانگی فیسیں
    لیتے ہیں  بے تحاشہ اخراجات جو کہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے ہیں بلکہ
    یوں کہہ لیں ان کے لئے ہے جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔
    دوئم سرکاری اسکول جہاں ہمارا مڈل کلاس طبقہ تعلیم کے زیور سے آراستہ
    ہوتا اور سوئم  ہمارے مدارس جہاں غریب ترین طبقے کے بچے زیر تعلیم ہیں۔

    سرکاری اسکولوں کی بات کریں تو یہاں اخراجات زیادہ نہیں پر سہولیات کا
    فقدان ہے۔استادوں کی حاضری بھی نہ ہونے کے برابر،بوسیدہ عمارتیں اسٹاف کی
    بات کریں وہ بھی آٹے میں نمک کے برابر۔ دیہاتی اور شہری سرکاری اسکولوں
    کا حال کیا لکھوں ہمارے ہی گاؤں کی مثال لے لیں دیہات سے اٹھ کر جب بچے
    شہر میں مزید تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں تو نصاب کی وجہ سے بہت سی مشکلات
    کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بچے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں احساس
    کمتری کا شکار ہوتے ہیں اکثر تو تعلیم کو ہی خیر باد کر دیتے ہیں۔

    افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بچے انگریزی کی طرف تو راغب ہو جاتے
    ہیں مگر اپنی قومی زبان پڑھنے سے کتراتے ہیں پانچویں جماعت کے بچوں سے
    اردو کی کتاب پڑھوا لیں وہ پڑھ ہی نہیں سکیں گے یہ ہی حال ڈگری یافتہ
    نوجوانوں کا ہے ایک معیاری درخواست بھی اردو میں نہیں لکھ سکتے ہیں۔
    تعلیم کا حصول ہمارے بچوں کے نزدیک ڈگری اور بس اچھی نوکری کی حد تک رہ
    گیا ہے۔

     یکساں نصاب نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے بنیادی تعلیم حاصل کرنے میں بہت
    پیچھے رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے میرٹ پر یونیورسٹی میں داخلہ اسکالرشپ سے
    لے کر اچھی نوکری حاصل کرنے میں انہیں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا
    ہے۔اور جب الیکشن کا وقت آتا ہے تو ہمارے سیاستدانوں کو نوجوان طبقے کے
    حقوق کا خیال آتا ہے کوٹہ سسٹم متعارف کروا دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ کم
    تعلیمی قابلیت کے حامل افراد قابلیت کے حامل افراد کے برابر آ کر کھڑے
    ہوتے ہیں اور بڑے عہدوں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جن سے اداروں
    کا توازن بگڑتا ہے اور ان کی تباہی ہوتی ہے۔

     ہمارے یہاں  تعلیم جب سے کاروبار  بنی ہے تب سے تعلیم  کا معیار  گر گیا
    ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب  نے ایک تقریب میں کہا کہ،” میری
    شروع ہی سے یہ سوچ تھی کہ پاکستان میں یکساں تعلیمی نظام ہو میں جب اس پر
    بات کرتا تھا لوگ مجھے کہتے یہ تو ناممکن ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا اسکی وجہ
    اقتدار میں بیٹھے لوگ جنھوں نے فیصلے کرنے تھے انکے بچے اعلئ تعلیمی
    اداروں میں انگریزی میڈیم میں پڑھتے تھے آگے انکے لئے نوکریوں کے انبار
    تھے انکا کہنا تھا کہ آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں وہاں ایک
    کریکولم ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں تین الگ الگ قسم کے کریکولم  جس کی
    وجہ سے سب کے  سوچنے کا انداز مختلف ان کا کلچر مختلف یعنی کے ہمارے ملک
    کے اندر ہی تین مختلف قسم کی قومیں بن رہی تھیں میرا یہ ویژن تھا جب بھی
    مجھے موقع ملا میں ملک میں ایک کریکولم لے کر آؤں گا تاکہ ہم ایک قوم
    بنیں ایک سوچ بنیں مجھے اندازہ تھا یہ کام بہت مشکل ہے کیوں کہ جب الیٹ
    کلاس ایک سسٹم  سے فائدہ اٹھاتی ہے تو پھر وہ کبھی اسکو تبدیل نہیں ہونے
    دے سکتی اور یہ تبدیلی ہمارا پہلا قدم ہے”۔

    ہماری قوم تبدیلی کی تو خواہشمند ہے مگر خود تبدیل ہونے کو تیار نہیں
    وزیراعظم عمران خان صاحب نے جس بھی شعبے میں اصلاحات لانے کی کوشش کی
    لوگوں نے اسے تسلیم کرنے سے ہی انکار کیا ہے وزیراعظم عمران خان صاحب نے
    تعلیم کے نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کی تو انگریزی میڈیم والوں نے
    رونا دھونا ڈال دیا اس موقع کا فائدہ اٹھانے میں ہمارے لبرل بریگیئڈ کہاں
    پیچھے رہنے تھے یہ لنڈے کے لبرل ہمیشہ ہر مثبت اور انقلابی قدم کی نہایت
    ڈھٹائی سے  مخالفت کرتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان کو ترقی کرتا
    نہیں دیکھ سکتے۔ یہ ہی حال سندھ حکومت کا ہے اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے
    حکومت کے ہاتھ بندھے ہوۓ ہیں۔

    اس وقت صوبہ سندھ کے علاؤہ حکومت نے  ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج
    کر دیا ہے پہلے مرحلے پر پرائمری تک یکساں نصاب تعلیم ہوگا ، اس کے بعد
    اگلے مراحل طے ہوں گے۔ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں اب ایک
    جیسی نصابی کتب پڑھائی جائیں گی۔ یہ ایک انتہائی اہم اقدام ہے بس اب
    عملدرآمد کے ساتھ  اس کے سامنے رکاوٹیں ڈالنے والوں سے بہتر انداز میں
    نمٹنے کی ضرورت ہے انشاء اللہ اس اقدام سے نظام تعلیم میں

     بہتری کے ساتھ تمام بچوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملیں گے۔

    اب دو نہیں ایک پاکستان

    شکریہ وزیراعظم عمران خان صاحب۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    @Nomysahir