Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    "عمران خان بمقابلہ مہنگائی” .تحریر:تحریر زوہیب خٹک

    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ نواز شریف کے دور میں چینی 65 روپے کلو تھی لیکن یہ بھول گئے کہ مشرف دور میں 27 روپے کلو تھی
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ڈالر 130 روپے کا نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف تو ڈالر 60 روپے کا چھوڑ کر گیا تھا
    ہمیں یہ تو یاد ہے کہ ملک پر قرضہ ‏95 ارب ڈالر نواز شریف چھوڑ کر گیا تھا
    لیکن یہ یاد نہیں کہ مشرف 33 ارب ڈالر پر چھوڑ کر گیا تھا

    اگر نواز شریف دور میں ملک ترقی کررہا تھا تو چینی 65 سے کم کر کے جانا چاہئیے تھا
    اگر ملک ترقی کررہا تھا تو ڈالر 60 روپے سے کم کر کہ جاتا۔
    اگر ملک ترقی کر رہا تھا تو قرضہ 33 ارب ڈالر سے کم کر کے جاتا۔

    جیسے آج عمران خان نے ملک کے قرضوں میں کمی لانا شروع کی ہے۔ آپ عمران خان سے لاکھ اختلاف رکھیں لیکن آپ کو ماننا پڑے گا اس سے اچھا آپشن ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اگر آپکی چوائس وہی لوگ ہیں جنکی کارکردگی ہمارے سامنے ہیں جن کے جیسے غدار اور منافق کوئی نہیں تو آپ وراثتی ماحول کے ذہنی غلام ہیں۔

    ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ایسے ایسے سیاستدان ہیں جن کے بال سفید ہوگئے سیاست کرتے جو واقعی قابل بھی ہیں اور ایماندار بھی ہونگے لیکن وہ بلاول اور مریم کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ سیاسی پارٹی ان کے باپ کی ہے اس لیے حکمرانی کا حق بھی انہی کا ہے پھر چاہے سیاست کی الف بے بھی معلوم نا ہو لیکن وراثت میں یہ ملک اور اس پر حکمرانی مل گئی پہلے ان کے آباؤ اجداد ہم پر حکمرانی کرتے رہے اب ان کی اولاد ہم پر حاکم بنیں گے ۔ آخر کیوں ۔؟

    میرا یا آپ کا بچہ کیوں حاکم نہیں بن سکتا آخر یہ بادشاہت ہے یا جمہوریت ۔ اگر جمہوریت ہے تو کیسی جمہوریت جہاں نسل در نسل غلام نسل در نسل حکمران چلے آرہے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنان آخر کیوں نہیں سوچتے کہ یہ دو خاندان پاکستان کی تباہی کا باعث ہیں یہ مہنگائی غربت بے روزگاری اداروں کی بد حالی سب انہیں کی میراث ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں آخر آپ کو کیوں لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس کوئی ایسی جادو کی چھڑی ہے جو چار دہائیوں کی تباہی کو چند سالوں میں ہی ٹھیک کر دے گی یعنی ملک تباہ کرنے میں بھی کم سے کم چالیس سال لگے ہیں راتوں رات تباہ نہیں ہوا اور آپ چاہتے ہیں ٹھیک فوراً کر دیا جائے ۔؟

    ایسا ممکن ہی نہیں ہمیں ٹیکسز مہنگائی غربت کی چکی میں پسنا پڑے گا اب یہ تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی اس کے علاؤہ کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں۔ آئینے کے دو رخ ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے عقل و فہم سے عاری اندھے گونگے بہرے لوگ دیکھنے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ عمران خان نا بھی رہا تو اس کو کون سا فرق پڑے گا وہ تو وزیراعظم بننے سے پہلے بھی شہرت و عزت کہ زندگی وہ گزار چکا ہے بعد میں بھی گزار لے گا فرق پڑے گا مجھے اور آپ کو جو آج ہم عمران خان کو کوس رہے ہیں کل جب پھر سے ہم پر ڈاکو خاندان راج کر رہے ہونگے تو ہم اس وقت کو یاد کر کہ دہایاں دے رہے ہونگے لیکن پھر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔

    خدارا ہوش کے ناخن لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان   صوفیہ صدیقی

    "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان صوفیہ صدیقی

    دس اکتوبر 2021کی صبح, سوا نو بجے کے قریب ایک مخصوص ایس ایم ایس ٹون کے بعد میں نے موبائل اٹھایا۔ ساتھ ہی ایک افسوسناک خبر میری آنکھوں کے سامنے تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم میں نہیں رہے۔
    معذرت کے ساتھ گزشتہ تین چار سالوں میں یہ مذاق اتنی بار سن چکے تھے کہ دکانوں کو ایسے لگا کہ جیسے ایک بار پھر دھوکا دیا جارہا ہے ایس ایم ایس کرنے والے سے سوال بھیجا کیا واقعی؟؟
    جواب ملا! بدقسمتی سے اس بار یہ خبر درست ہے ۔افسوس صد افسوس ہم نے ایک عظیم سائنسدان اور ایک عظیم انسان کو کھو دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کو یقینا پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور رشک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اسلام آباد میں شاہرہ ِ فیصل کو ان کی جنازہ سے قبل و بعد کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند دیکھا۔ بے وقت کی بارش اور گھٹاؤں نے عظیم سائنسدان کو رخصت کیا۔ گویا آسمان بھی رویا اس بے قدری پہ جس کا اس قوم کو سامنا ہے۔

    اے کیو خان کو تمام تر سرکاری اور عسکری اعزازات کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں لاکھوں عام افراد کے علاؤہ سیاسی قائدین، مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمایاں بات یہ تھی کہ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے جنازے میں آنے سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافے ہونے کا احتمال تھا سو وہ شریک نہ ہوئے۔

    ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد

    چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے

    تعزیت کرنے والے انبار اور بہت سے نقطوں پر مشتمل بحث دیکھتے دیکھتے، پاکستان کے بھارت میں تعینات سابق سفیر عبداللہ باسط کی ایک تحریر آنکھوں سے گزری۔ درج تھا ” دفنائیں گے قومی اعزاز کے ساتھ”. ایسے لگا یہ الفاظ ڈاکٹر عبد القدیر کے تھے۔ آج سچ ثابت ہو گئے تھے۔ پھر لگا کہ نہیں پاکستان کے ہر محسن کی آواز ہے جو لٹ پٹ کہ پاکستان آیا اپنا سب کچھ اس کو دیا اور پھر غدار ہوا پھر جاتے جاتے اعزازات سے نواز دیا گیا کیوں کہ زبان بند ہوگئی تھی۔

    خیرسوشل میڈیا پہ تلاش کیا تو ان کے یوٹیوب چینل پہ ایک وڈیو ملی جس میں سابق سفارتکار 25 مئی 2018 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر میں ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومتوں سے نالاں تھے۔ مگر ریاستی پالیسیوں سے باغی نہیں تھے۔ عام لوگوں کی طرح بلا وجہ میں واویلا بھی نہیں مچاتے تھے۔
    عبد الباسط کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ” اب پاکستان سے تو کچھ مقدم نہیں ہے ۔ یہ ریاست ہے تو ہم ہے نہیں ہیں۔ نہیں تو ہم نہیں ہیں” ایک اور جگہ کہا کہ میں قید میں ہوں لیکن سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کرینگے۔

    ان چند جملوں سے ایسے لگتا ہے کہ اے کیو خان کم ظرف نہیں تھے۔ یقینا نہیں تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا۔ لکھا۔ بنایا بتایا۔ اپنی تحریروں سے بہت سے مشکلات کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
    محسن پاکستان کے جانے سے پاکستان ایک ایسے اثاثہ سے محروم ہوا ہے۔ جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔
    قومی سلامتی کا ایک اہم باب رقم کرنے والا اے کیو خان دنیا سے تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوا ۔ اپنا باب بند کرتے کرتے ایک نیا باب کھول گیا ہے ہم کب تک اپنے ہیروز ایسے غداری کے الزامات میں نظر بند رکھیں گے اور پھر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن!!

  • عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امبر صباء

    عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ تحریر : امبر صباء

    Twitter 👇
    @MrsHamdani1
    جب ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے دین اسلام لے کر آئے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت چمک اٹھی اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی و روندی ہوئی عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہو گیا کہ عبادات اور معاملات بلکہ زندگی و موت کے ہر مرحلے اور موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں.
    مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر کیے گئے اور قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر عورتوں کی مختلف حیثیتوں میں ان کے حقوق و فرائض کی وضاحت ملتی ہے عورتوں کو کسبِ معاش کا حق دیا گیا انہیں وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ماں کی اطاعت کے نتیجے میں جنت کی خوشخبری سنائی گئی ماں گھر میں ایک ایسی قوت ہے جو تربیت اور ایثار کے ہتھیار سے اپنی اولاد کو منشاء خداوندی کے مطابق ڈھالتی ہے
    دین اسلام نے واضح طورپر بتا دیا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیقی بنیاد ایک ہی ہے.
    سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ: ” جو نیک کام کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے دنیا میں پاکیزہ زندگی دیں اور ان کے اچھے کاموں کا جو وہ کرتے ہیں اجر دیں گے” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کی حیثیت کے ضمن میں فرمایا ”اس (بیٹی) کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتاؤ کرو” اور بیٹی کی اچھی تربیت اور اس کے ساتھ شفقت کو آگ سے نجات کا ذریعہ قراردیا. اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ”عورت جب بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دین مکمل کرتی ہے.
    دور نو میں پھر سے عورت پر مختلف قسموں کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں آزادی نسواں کے پرفریب نعروں سے عورتوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اور ان عورتوں کو سرعام ننگا کیا جا رہا ہے ہر کوئی عورت ذات کو ہوس کا نشانہ بنا رہا ہے اور آزادی نسواں کے نام پر عورت کو بیٹی، بیوی، بہن اور ماں بننے سے روکا جا رہا ہے عورتوں کو کلیوں و محفلوں کی زینت بنایا جا رہا ہے ان کی عزت و ناموس کو ہر گلی کوچے میں لوٹا جا رہا ہے الغرض عورت کو ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے کیا یہی ہمارا دین ہے؟ عیاش پسند لوگ قرآنی احکامات میں تاویلیں کر رہے ہیں علماء حق کو قدامت پسند کے القابات دیئے جا رہے ہیں
    خدارا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دین اسلام کے احکامات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے،آزادی نسواں کے پرفریب نعروں کی ذد میں آکر ہم کہیں دینی اسلام کے احکامات کو بھول تو نہیں بیٹھے تو آئیے اپنی اصلاح کریں عورتوں کو ان کے حقوق دیں وہ حقوق جو کہ عورتوں کو دین اسلام نے دیئے ہیں آئیے اپنی اصلاح کیجئے اور ایک عزت دار مسلمان ہونے کا ثبوت دیجیے.
    ” سنو عورت کو کھلونا سمجھنے والو
    جس کے نام سے ہےرونق
    وہ ہے عورت
    تو جس کا بیٹا ہے
    وہ ہے عورت
    خدا نے جس کے قدموں تلے رکھی ہے جنت
    وہ ہے عورت
    جو کل تیرا نصیب ہے
    وہ ہے عورت
    جس کا تو باپ بنے گا
    وہ ہے عورت
    جس کا بھائی ہے تو
    وہ ہے عورت
    سنو! عورت کی عزت کرنا ایک عزت دار مرد کی نشانی ہے.

  • سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    اس دنیا میں بسنے والا ہر ذی روح اس دنیا کا باسی ہے ۔
    انسان اس وقت تک معاشرے کا کارآمد شخص نہیں بن سکتا جب تک اس کی سوچ مثبت نہ ہو کیونکہ انسان کی سوچ ہی اس کو مثبت یا منفی بناتی ہے ۔
    آپ کی جیسی سوچ ہوگی ویسے کام ہونگے اور اگر سوچ اچھی ہے تو نتاٸج اچھے نکلیں گے اگر بری ہے تو برے ۔
    اسی چیز کو اللہ پاک نے قرآن میں واضع بھی کیا ہے ۔

    ‏اللّٰہ ﷻ کا ارشاد ہے :

    وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)

    ” اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی“۔

    ایک انسان اپنے لفظوں سے نہیں اپنے عمل سے مثالی بنتا ہے انسان کو پستیوں سے نکال کر بلندیوں پر لے جانے والی شے اُس کا عمل ہے۔

    جب انسان پیدا ہوتا ہے،اس وقت وہ سب جیسا ہوتا ہے لیکن اپنے مقصدِ حیات کا تعین کر لینے اور اس کی تکمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کے بعد وہ مثالی اور کامیاب لوگوں کا ہم سفر بن جاتا ہے۔وہ لوگوں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔اسے منزلوں کے سلام آنے لگتے ہیں۔

    مثبت سوچ تحریکی انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔انسان کو جب سمجھ آ جائے کوئی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا جب تک وہ خود اپنے لیے کچھ نہ کرے۔

    جب انسان میں یقین پیدا ہو جائے میں کر سکتا ہوں اور جب وہ اپنی رائے سے نہیں اپنے عمل سے دنیا کو دکھادے کہ وہ زندگی کے سفر میں جیتا ہے پھر وہ مثال بنتا ہے۔عزم صمیم اور جہدِ مسلسل کی زندہ داستان،جو صدیوں لوگوں کے دلوں کو اپنے حصار میں لیے رہتی ہے۔ 

     ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عملی نمونہ پیش کیا۔اللّٰہ کے ہر حکم پر عمل کر کے دکھایا۔انسانوں سے پیار کر کے انسانیت کے دلوں میں گھر کیا حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ ہمارے لیۓ مشعل راہ ہے ۔
    اس دنیا میں حقیقی مشعل راہ حضور کی ذات اقدس ہے ۔
    آپ کا ہر قول فعل زندگی گزارنے کے رہنما اصولوں پہ مبنی ہے ۔
    حضور کریم کی ذات طیبہ تاقیامت مسلمانوں اور روۓ زمین پہ بسنے والے ہر ذی شعور کیلۓ ایک مثال ہے ۔
    حضور کریم کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ تو زندگی گزارنے عبادات و انصاف اور زندگی کے ہر پہلو کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے ۔

    قائداعظم نے اقبال کے خواب کو عمل اور تعبیر کی چادر میں لپیٹ کر پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک مثالی مملکت بنا دیا ۔
    قاٸداعظم نے ایک ایسے ملک کیلۓ جدوجہد کی جس میں مسلمان اپنی عبادات تسلی سے ادا کر سکیں ۔
    پاکستان کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پہ رکھی گٸ ہے اس وقت برصغیر کے مسلمانوں کی زبان پہ ایک ہی نعرہ تھا الله أكبر ۔

    دو ایسے بھائی جنہیں پرندوں کی طرح اڑنے کا جنون تھا پھر ایک دن انہوں نہ اپنے عمل سے اس جنون کو حقیقت کر دکھایا۔ انہوں نےثابت کر دیا کہ کامیابی اور نام عمل والوں کا مقدر ہے۔
    آج دنیا بھر میں تیز ترین سفر ہواٸ جہازوں پہ ہو رہا ہے ۔

    انسانیت کے علمبردار عبد الستار ایدھی اپنے عمل سے مثال بنے ،لوگوں کا درد محسوس کرنے والے ہمدرد کی زندہ و جاوید مثال۔ جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔
    آپ نے اپنی سوچ عمل اور اللہ پہ کامل یقین کی بنا پہ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بنا دی ایدھی پناہ گاہیں لنگر خانے بنا لیۓ جو پوری آب و تاب سے اب بھی چل رہے ہیں ۔

    ہر انسان عملِ پیہم سے دنیا کے لیے مثال رقم کرسکتا ہے۔ اپنے جنون اور عمل کی روشنی سے دنیا کو منور کر  کے اس کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدل سکتا ہے۔

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    ‎@Gumnam_HBK

  • ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد

    ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد


    ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے لیکن کبھی سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اس کو ایک المیہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ تمباکو نوشی سماجی برائیوں کی جڑ یے اس سے نہ صرف صحت بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکل جاتا یے۔ ہمارے گھروں میں بڑا بھائی یا والد صاحب اگر سگریٹ نوشی کرتے ہوں تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی یا کسی بچے کو دوکان سے سگریٹ خریدنے کے لئے بھیج دیتے ہیں اور اس کو بلکل معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے جبکہ قانونی طور پہ 18 سال سے کم عمر کو سگریٹ فروخت کرنے پہ پابندی ہونے کے باوجود دوکاندار سرعام  بچوں کو سگریٹ فروخت کررہے ہوتے ہیں۔ اکثر کل کو یہی بچے خود اس لعنت کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ نوجوان نسل سگریٹ نوشی کو فیشن یا سٹیس کو کی علامت سمجھا جاتا ہے۔  بدقسمتی سے پاکستان میں بائیس کروڑ کی آبادی میں سے تین کروڑ کے قریب سگریٹ نوش ہیں۔

    سگریٹ نوشی اس حد تک نقصان دہ ہے کہ اگر دن میں روازنہ ایک سگریٹ بھی پیا جائے تو اس سے بھی ہارٹ اٹیک یا فالج کے 50 فیصد چانسز ہے ہیں اگر کوئی روازنہ 20 کے بجائے ایک سگریٹ پیتا ہے تو یہی سمجھتا ہے سٹروک یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ پانچ فیصد رہ جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ خطرہ کم سے کم 50 فیصد تک رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے یہی سمجھتے ہیں ک سگریٹ سے پھیپھڑوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے جب کہ حقیقت میں پھیپھڑوں سے لے کر دل دماغ اور جگر کے لئے تمباکو نوشی یکساں نقصان دہ ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے اس بات پہ یقین نہ کریں کہ ایک دن میں چند سگریٹ یا صرف ایک سگریٹ سے تھوڑا نقصان ہوتا ہے اور کم سگریٹ نوشی طویل مدتی نقصان نہیں پہنچاتی یہ ایک غلط سوچ ہے تحقیق کے مطابق جس طرح بندوق کی ایک گولی سے نقصان ہوسکتا ہے ایسے ہی دن میں روازنہ ایک سگریٹ پینا بھی نقصان دہ یے۔ تمباکو نوشی کم کرنے یا مکمل طور پہ ختم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ مہلک بیماریوں سے  ان کو اور ان کے اردگرد والوں کو محفوظ کیا جاسکے۔ تمباکو نوشی سے دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افراد لقمہ اجل بنتے ہیں اور ان میں سے 20 لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ اٹیک سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ طویل مدت تک تمباکو نوشی زندگی  12 سے 15 سال تک زندگی کو کم کردیتی ہے۔ یہ عام غلط فہمی ہے کہ طویل عرصہ تک سگریٹ نوشی کے بعد اس کو ترک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ جیسے ہی آپ سگریٹ نوشی ترک کرتے ہیں اس سے پھیپھڑوں کی شدید بیماریاں اور کینسر ہونے کے امکانات کم ہوتےجاتے ہیں، تمباکو نوشی کے باعث ہارٹ اٹیک اور فالج کے ساتھ پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر بھی اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 3 کروڑ افراد تمباکو نوش ہیں جن میں اکثر سگریٹ نوش ہیں۔ ملک میں لاکھوں دکانیں ایسی ہیں جہاں سگریٹ آسانی سے دستیاب ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمباکو نوشی کی لت لگنا وہ بیماری ہے جس سے صحت اور دولت دونوں سے ہاتھ دھونے پہ مجبور کردیتی ہے۔ بیشتر تمباکو نوش کوشش کے باوجود بھی اس کو ترک نہیں کرپاتے اور خود کو بیماریوں کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اس عادت سے جان چھڑانے کی کوششیں کی جاتی ہیں مگر آج تک پاکستان سمیت کوئی ایک بھی ترقی پذیر ملک ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس لت کا مکمل طور نہیں تو ساٹھ ستر فیصد خاتمہ کیا ہو۔ پاکستان میں اس وقت مختلف اندازوں کے مطابق ڈھائی کروڑ سے تین کروڑ کے درمیان افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں، بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں جب تین کروڑ افراد تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوں تو صورت حال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی سے اجتناب کریں  سلگانے سے پہلے سوچ لیں بجائے اس کے کہ سوچنے کے قابل نہ رہیں

    tweets ‎@KharnalZ

  • علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اس کا پہلا لفظ "اقرائ” تھا، یعنی "پڑھ”۔ اس بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پڑھنے یعنی علم سیکھنے کے کیا فوائد ہیں، کیوں کہ جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ پڑھ لیا، تو اللہ تعالی نے پورا قرآن شریف آپ کے دل میں اتار دیا۔ اس ایک لفظ اقراءیعنی پڑھنے کے لفظ کی اہمیت افادیت کو اچھی طرح جان سکتے ہیں اور ہم سمجھ سکتے ہیں کہ علم کے بغیر کوئی بھی کام اور عمل بے معنی ہے، یعنی علم ایک ایسی شے ہے، جو ہم سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا اور ہم اس کو جتنا پھیلائیں گے، یہ اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا، مگر افسوس آج ہم علم کی اہمیت و افادیت کو بھول چکے ہیں۔ یہ علم ہی ہے جو ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے اور ہمیں یہ پہچاننے میں مدد دیتا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل ہے۔ آج پاکستان کی عوام بہت سے مسائل سے گزر رہی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم علم سے بہت دور ہو چکے ہیں اور جس کی وجہ سے ہم اپنا اچھا اور برا سوچنے سے قاصر ہیں۔

    دورِ حاضر بلکہ کسی بھی دور میں کوئی بھی تعلیم کی حقیقت اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا، جو معاشرہ تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے، وہ ہر میدان میں پستی اور زوال کا شکار رہتا ہے۔ علم کی افادیت اپنی جگہ ایک کثیر خزانہ سمیٹے ہوئے ہے، ہمیں علم کے بارے میں کئی احادیث اور اقوال ملتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ "علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی آغوش تک” اسی طرح حضرت علی کا فرمان ہے کہ "علم مال سے بہتر ہے، کیوں کہ تمھیں مال کی حفاظت کرنی پڑتی ہے، جب کہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے۔”

    مندرجہ بالا حدیث شریف اور قول سے تو آپ کو علم کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ ہو ہی گیا ہوگا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم علم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کو تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، اس خوف اس کے کہیں وہ علم کی دولت سے آشنا ہوکر ظالم لوگوں سے اعلان بغاوت نہ کر دیں۔

    جب انسان دنیا میں آتا ہے، بڑا ہوتا ہے، ہوش سنبھالتا ہے۔ گھر والے کچھ ہی بڑے ہونے کے بعد اسے سکھا دیتے ہیں کہ اسے کیا بننا ہے، فوجی، ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل وغیرہ۔ پھر وہ اس کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے اور وہ زندگی بھر تعلیم حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے مگر 98 فی صد متوسط طبقے کی تعلیم حاصل کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے اور اس کا خواب کبھی شرمندہ ¿ تعبیر نہیں نہیں ہو پاتا اور وہ ناخواندہ ہی رہ جاتا ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی جزو ہے، دنیا بھر کی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کی وجہ سے دوسری قوموں پر سبقت حاصل کرتی ہیں۔ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کا تصور ہی نہیں کر سکتی، مگر جب پاکستان کی بات ہو تو قیام پاکستان سے لے کر آج تک حکومت نے تعلیم پر خاص توجہ نہ دی اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھا۔

    شاید حکمرانوں کا کردار ایسا رہا ہی نہیں کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھ سکتے کبھی اسمبلیوں میں منتخب کردہ نمائندگان کی جعلی ڈگریاں نکل آتی ہیں، تو کبھی نظام ہی میں تبدیلی لاکر تعلیم کی شرط کو کم کر دیا جاتا ہے۔

    پاکستان کی 70 فی صد آبادی آج تک ناخواندہ ہے۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوش حال وباوقار ملک بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں پورے عزم کے ساتھ اپنے تمام تر وسائل استعمال کرتے ہوئے تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ اس عمل کے لیے پاکستان میں دُہرے تعلیمی نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور کم سے کم عرصے میں ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں ناخواندگی کے خلاف کام کیا جائے ناخواندگی ختم کرنا نا ممکن نہیں، لیکن مشکل ضرور ہے۔ ملک میں صرف ایک فی صد لوگ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں اور پھر یونیورسٹیوں پر نظر ڈالی جائے، تو نجی یونیورسٹیوں میں غریب بچے کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔ یہ پاکستان کے نظام تعلیم سے ایک مذاق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اچھی تعلیم حکمرانوں جاگیرداروں وڈیروں کے لیے دوسرے درجے کا معیار تعلیم ہے اور اس لیے بھی انتظام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بہترین تعلیمی نظام کے لیے کوریا، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں حکومت کو چاہیے کہ دُہرے تعلیمی نظام مکمل طور پر خاتمہ کرے اور پاکستان کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا زیادہ سے زیادہ قیام عمل میں لایا جائے اور وہاں یک ساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے۔

    ٭٭٭

    ٹیوئٹر : ‎@fahadpremier

  • کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    اگر آپ باشعور اور حساس والدین ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کسی کا محتاج نہ ہو ، وہ خود اعتماد ہو، زندگی میں کسی پر بوجھ نہ بنے ، زندگی کے چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کی ہمت کر سکتا ہو ، وہ دوسروں سے گھل مل سکتا ہو ، نہ صرف اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں میں بلکہ روز مرہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل ہو ۔ وہ آپ کیلئے سرمایہ افتخار بن سکے آپ کا فرماں بردار ہو لوگ اس سے ملیں تو اس سے خوش ہوں اس کے پاس دولت، شہرت، طاقت اور آزادی وغیرہ سب کچھ ہو ۔

    یقیناً یہ وہ خواہشات ہیں جو تمام ہی والدین رکھتے ہیں ۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اپنے ساتھ ان کا بھی نام روشن کرے لیکن کیا سب والدین کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے ؟

    عموماً آدمی پچاس سے ساٹھ سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے لیکن چند لوگ ایسے ہیں جن کا نام ان کی موت کے بعد بھی ہزاروں سال تک یاد رکھا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عام لوگوں اور ان لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے ؟ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے دنیا انہیں یاد کرتی ہے ؟ کیوں لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ؟ یہ لوگ ایسا کیا کر گئے کہ دنیا کے مؤثر ترین لوگوں میں شامل ہو گئے یہ مؤثر اور معروف لوگ بھی کبھی نہ کبھی بچے تھے بلکل عام بچوں کی طرح انہوں نے زندگی گزاری تھی لیکن غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کچھ خاص عوامل ان افراد کے پچپن میں ایسے ہیں جو ان کے مستقبل کو دیگر افراد کے مستقبل سے مختلف کرتے ہیں 

    سوال یہ ہے کہ بعض بچے بڑے ہو کر "ہیرو” کیوں بن جاتے ہیں اور کچھ "زیرو” کیوں رہ جاتے ہیں ؟

    ہمارے پاس عموماً دوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے "مقدر” لیکن جب آپ صرف ایک وجہ کو حتمی مان لیتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کبھی بھی حقیقت شناس نہیں ہو پاتے ، یہ ممکن بھی کیسے ہے کہ "سیب” اور "کیلے” پر لیکچر سن کر اس موضوع پر کتاب پڑھ کر آپ سیب اور کیلے کے ذائقے سے آشنا ہو جائیں سیب اور کیلے پر چار پانچ گھنٹے کا لیکچر سنیں ، چار پانچ گھنٹے بحث کرنے اور تین سو صفحات پر مشتمل کتاب پڑھنے سے بہتر ہے کہ آپ سیب اور کیلا چکھ لیں آپ کو حقیقت کا علم خود ہو جائے گا ہر چیز کی وجہ قسمت نہیں ہوتی کچھ معاملات اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں بھی رکھے ہیں قسمت یا مقدر پر الزام لگا کر ہم اپنی زمہ داری سے آنکھیں چرانا چاہتے ہیں لیکن نتیجہ تو صرف حقیقت کا عمل ہی آتا ہے آپ کا یہ طریقہ آپ کو اطمینان سے ایک جگہ بٹھا تو سکتا ہے لیکن آپ کے نتائج کو بدل نہیں سکتا اولاد کی تعلیم و تربیت اور شخصیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے آپ اپنی اولاد کیلئے جتنے بڑے خواب دیکھیں اور نیک خواہشات دل میں رکھیں آپ ان خوابوں کی تعبیر اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک آپ ان کیلئے عملی اور حقیقت پر مبنی تدابیر نہیں کریں گے ۔

    یاد رکھیئے ! دولت مندی نتیجہ ہے ، غربت نتیجہ ہے ، صحت نتیجہ ہے ، بیماری نتیجہ ہے ، نیک نامی نتیجہ ہے ، بدنامی نتیجہ ہے ، کامیابی نتیجہ ہے ، ناکامی نتیجہ ہے  اختیار اور بے اختیاری بھی نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق ایک منظم نظام کے تحت کی ہے جس میں مختلف قوانین کام کر رہے ہیں ایک قانون یہ بتاتا ہے کہ ہر نتیجے کا ایک سبب ہوتا ہے نتیجہ خواہ دولت کی شکل میں ہو یا غربت کی صورت میں ، کامیابی کی شکل میں ہو یا ناکامی کی صورت میں ، غور کریں تو ہر ایک کے پس منظر میں کوئی سبب ، کوئی وجہ ملے گی ۔ اسی طرح آپ کے بچے کا جو مزاج اور مستقبل ہے اس کا سبب اس کی پچپن کی تربیت ہے

    Sabir Hussain

    ‎@SabirHussain43

  • اسلام میں عورت کا مقام  تحریر ذیشان اخوند خٹک

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر ذیشان اخوند خٹک

    ‏اسلام میں عورت کا مقام
    اسلام ایک ایسا عالمگیر مذہب ہے کہ جس نے عالم انسانیت سے ظلم کے اندھیروں اور جہالت کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف کا بول بالا کردیا اور عورت جو کہ اس دور جہالت کے وقت مظلوم طبقہ تھی اور سب سے نیچ طبقہ سمجھتے تھے اور ان کی کوئی عزت نہیں تھی. اسلام نے اسے اتنا اونچا مقام دے دیا کہ جنت ان کے قدموں کے نیچے ہوگئی.
    تاریخ گواہ ہے کہ تمام مذہبوں میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو اعلیٰ مقام دیا اور عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے اسکی کھوئی ہوئی عزت و احترام دوبارہ دلا دی.
    دوسرے مذاہب میں عورت کی ذرا برابر بھی حیثیت نہیں تھی.
    بیٹی پیدا ہونے پر اسے زندہ دفن کیا جاتا تھا اور عورتوں پر وہ وہ مظالم ڈھائے جاتے تھے کہ جسے آج  کوئی سوچ بھی نہیں سکتے.
    اسلام میں عورت کی حیثیت کے حوالے سے بے شمار احادیث موجود ہے. جس میں ایک مندرجہ ذیل ہیں.
    خاتم النبیین حضور اکرم(ص) نے فرمایا کہ جس عورت نے پانچویں وقت کی نماز پڑھی، رمضان شریف کے روزے رکھے، اپنے نفس کو غلط کاموں سے روکا اور اپنے شوہر کی تابعداری کی وہ جنت الفردوس میں جس دروازے سے داخل ہونا چاہے اسے اجازت ہوگی.
    اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دیا اور عورت کو ماں کے روپ میں وہ مقام دیا کہ ان کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی اور ان کے چہرے کو محبت کی نظر سے دیکھنے سے ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے.
    اسلام نے ماں کو باپ سے تین درجہ مقدم رکھا.
    اسلام نے عورت کو اتنی عزت دی کہ قرآن مجید میں دو سورتیں(سورۃ النساء اور سورۃ مریم) کے نام پر نازل کردی.
    حضرت محمد ص نے آخری خطبہ حجتہ الوداع میں بھی عورت کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی.
    ایک موقع پر حضور اکرمؐ نے فرمایا: ‘کی جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ گئی تو قیامت کے دن میں اور وہ شخص اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا۔
    اب عورتوں کو سوچنا ہوگا کہ اسلام نے عورت کو اتنا اونچا مقام دیا مگر بدلہ میں اب عورتیں کیا دی رہی ہے.
    اسلام نے عورتوں پر باریک کپڑوں کو استعمال کرنے پر پابندی لگادی ہے مگر آج ہم اپنے بازاروں پر نظر دوڑائیں تو ہماری آنکھیں شرم سے جھک جائیگی.
    آج جو عورت ایک بار پھر سے ذلالت کی طرف جارہی ہے اور ان پر دنیا تنگ ہورہی ہے ان میں عورتوں کا بھی برابر کا قصور ہے کہ دین سے دور ہوتی جارہی ہے.
    عورت معاشرے کا ستون ہے اور ان کی تربیت سے ہی معاشرے بنتے ہیں اور تباہ بھی ہوتے ہیں.
    عورت کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی. آج جو کچھ عورتیں باہر سڑکوں پر نکل کر عورتوں کو آزادی دلانے کی بات آواز اٹھا رہے ہیں اور اسلام کے قوانین کو زنجیر کہہ رہے ہیں دراصل یہ چاہتے ہیں کہ آزادی کے نام پر فخاشی پھیلے اور پہلے جہالت کی زمانے کی طرح عورتوں کی خرید و فروخت جاری ہوجائے.

    ٹویٹر : ‎@ZeeAkhwand10

  • ثقافت کے چوراہے پر تحریر: محمد تنویر

    ثقافت کے چوراہے پر تحریر: محمد تنویر


    ماه فروری پاکستان میں ادبی گہما گہمی کا مہینہ تھا کراچی اور لاہور ادبی میلے اپنے عمومی طریقے سے منعقد کیے گئے۔ ان دو ادبی تقاریب نے ملک کے ادبی منظر نامے میں شہرت حاصل کر لی ہے ۔ان اعلی پیانے کے میلوں کے درمیان مادری زبانوں کے ادبی میلے کا ایک قابل ذکر آغاز ہوا۔ یہ اپنی قسم کا پہلا میلہ تھا، وفاقی دار لحکومت میں منعقدہ اس میلے میں متفرق افراد نے ملک کے ہر کونے سے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنی زبان و ثقافت سے آراستہ ومزین کیا۔

    مادری زبانوں کے میلے میں ملک بھر کے طول و عرض کی مختلف زبانوں کے مصنفین، شاعروں، گلوکاروں اور شائقین نے شرکت کی۔ ایک سو پچاس سے زائد لکھاریوں نے چوبیس ادبی مزاکروں میں بارہ سے زائد زبانوں میں ہونے والے ادبی کام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مادری زبانوں کا مشاعرہ اور مختلف زبانوں کی شام موسیقی کی شاندار پرفارمنس میلے کے رنگارنگ پروگرام اور دلچسپیاں تھیں۔

    یہ میلہ انڈس کلچرل فورم نامی ایک نئی تنظیم نے پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ، لوک ورثہ اور ادارہ استحکام شرکتی ترقی کے تعاون سے منعقد کیا۔ لوک ورثہ نے میلے کے لیے اپنی پر فضا جگہ فراہم کی جہاں رنگارنگ ثقافتوں اور ثقافتی تنوع کا جشن منایا گیا۔

    میلے کے ادبی سیشن اور پر فارمنس صرف بڑی زبانوں اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، سرائیکی بلوچی، تک محدود نہیں تھے بلکہ ان میں براہوی، پہاڑی، چترالی، بروشسکی، شینا،کشمیری، وخی، توروالی بلتی، گوجری، دری، ہزارگی، ہندکو اور پوٹھوہاری کو بھی خاطر خواہ شمولیت دی گئی تھی۔ متنوع ثقافوں کے اس اجتماع سے ایک سیاسی پیغام بھی واضح ہو کر سامنے آیا کہ طویل عرصے سے اگرچہ بیدخل نہیں کئے گئے تاہم نظر انداز کی گئی ملکی ثقافتیں اور زبانیں ملک کے سیاسی و ثقافتی منظر نامے میں اپنے حقوق اور جائز حصہ مانگ رہی ہیں۔

    میلے کی تقریبات اقوام متحدہ کے مادری زبانوں کے عالمی دن کے ساتھ منعقد کی گئیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کی مادری زبانیں جن کو اکثر ” مقامی زبانوں ” کے نام سے پکار کر ان کی حیثیت کم کی جاتی ہے، اپنے اندر علم و دانش اور تخلیق کے بے بہا اور بے مثل خزانے رکھتی ہیں۔

    اپنے وجود کی سات دہائیوں کے بعد بھی ملک نے تاحال ان زبانوں کو قومی زبانیں تسلیم نہیں کیا ہے، اور اس کی وجہ ایک خود ساختہ حب الوطنی کا راگ الاپنے والے اس عمل کو قومیت کی فریبی نعرے کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے سازشی نظریات پیش کرنے کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے اور یقین مستحکم رکھتے ہیں کہ ایک سے زائد قومی زبانیں قومی کجہتی کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔ حس پر مبنی اس افسانوی بات نے لاکھوں افراد کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے۔

    ترقی یافتہ دنیا، ثقافتی تنوع کا احترام کرتے ہیں اور اس کے وسیع ثبوت پیش کرتے ہیں اور ان کو فروغ دیتے ہیں جو متنوع معاشرے میں مختلف گروہوں کے مختلف افراد کے درمیان جڑت پہنچاتا ہے پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بر عکس، یک ثقافتی اقدار کو فروغ دینا سماجی ہم آہنگی کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے

    مختلف قوموں کی فیڈریشن میں ان سب کو ایک زبان اور ثقافت کے ساتھ زبردستی جوڑ نے سے متحد نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مصنوعی قوم کی ترویج کا تجر بہ 1971 میں تباہ کن نتیجے کی شکل میں سامنے آیا۔ عمومی خیال یہی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پیچ 1948ءاس وقت بوۓ گئے جب نوزائیدہ مملکت میں بنگالی زبان کو قومی زبانوں کے طور پر رائج کرنے کے حق کو مسترد کر دیا گیا۔

    کچھ تنگ نظر سیاسی عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی اس لیے سرکاری حکم ناموں کے ذریعے ایک متحد قوم بھی بنائی جاسکتی ہے ۔ قومیت کو ریاستی امور کے بجاۓ ذاتی معاملے کے طور پر جانچا جانے لگا۔ یہ مفروضہ بنایا گیا کہ قومیں، جن کی شناخت اور ورثہ ہزاریوں میں تشکیل پایا، ایک رات بھر اپنا تشخص پس پشت ڈال کر ایک نئی بنائی گئی شناخت اختیار کر لیں گی۔ کسی بھی سرکاری حکم نامے پر اعتراض یا اس کی تعمیل سے انکار کو غداری اور حب الوطنی کے خلاف قرار دے دیا گیا، یہ سب نا صرف غیر حقیقی تھا بلکہ ناجائز حد تک غیر منصفانہ بھی تھا۔ اسی باعث اس کا بھیانک نتیجہ نکلنا یقینی تھا۔ ۱۹۷۱ میں اس دیوانگی کے انجام نے ہر ایک کو حیران و پریشان کر دیا۔

    حقائق سے انکار ہمارا قومی رویہ ہے جس نے ہمیشہ ہم کو تاریخ سے سکھنے سے محروم رکھا ہے۔ اور ماضی کی غلطیاں دھرانے کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ایک راس جانچ کی شدید اور فوری ضرورت ہے جس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے

    ہمارے سفر کا راستہ اس کے آغاز سے ہی غلط سمت میں اختیار کیا گیا۔ ثقافتی طور پر متنوع اور سیاسی طور پر مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کے لئے اسلام اور اردو کو جڑت کے عناصر کے طور پر استعمال کیا گیا انتظام اور وجوہات سے قطع نظر سندھ اور بنگال کے لئے سکولوں عدالتوں وصول دین اور دیگر سرکاری معاملات میں دھائیوں سے رائج تھیں۔

    بنگال اور سندھ میں زبان کی نقل و حرکت کے نتیجے میں دونوں صوبوں میں قوم پرست تحریکوں کی تقسیم کے نتیجے میں۔ غیر مطلوب حکمرانی شعار اردو نے پاکستانی قوم پرستی کے ٹائل کا نشان لگایا اور اس طرح ملک میں دیگر قوموں کی دوسری زبانوں کے خلاف اسے گھیر لیا۔

    اگر چہار دو مختلف لسانی قومیتوں اور علاقوں کے درمیان رابطے کی زبان کے طور اپنی صلاحیت رکھتی تھی، یہ تنازعے کا مرکز اور پاکستان کے آبادی کی زیادہ تر آبادی پر عائد ثقافتی حاکمیت کی ایک علامت بنادی گئی۔ جب اقتدار کے مراکز نے اردو کو پاکستان کی وسیع آبادی پر ثقافتی یک رنگی کی علامت کے طور پر تھوپا تو اس نے پورے ملک میں اردو کے خلاف ایک غیر ضروری کے جذبے کو ہوادی اور قوم پرستی ایک رد عمل کے طور پر سامنے آئی کہ وہ ریاست میں اپنا حصہ دوبارہ لینے کے لئے ایک نقطہ نظر اپناۓ۔

    دنیا میں متعدد ممالک ہیں جہاں ایک سے زائد زبان کو قومی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے اور ان کی قومی سالمیت کو بھی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ کچھ ایسی مثالیں یہاں بیان کی گئی ہیں۔ عربی اور بربر الجزائر کی قومی زبانیں ہیں فن لینڈ میں دو قومی زبانیں ہیں۔ فینیش اور سویڈش۔ پڑوسی بھارت میں 23 قومی زبانیں ہیں۔ نائجیریا نے تین اکثریتی یا قومی زبانوں کو تسلیم کیا۔ ہوسا، اگبو، اور یوروبا۔ سنگا پور میں چار چار سرکاری زبانیں ہیں۔ انگریزی، چینی، ارٹی اور تامل۔ جنوبی افریقہ میں 11 قومی اور سرکاری زبانیں ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور رومانش سمیت چار قومی زبانیں ہیں۔ ہانگ کانگ میں انگریزی اور چینی سرکاری زبانیں ہیں۔ سری لنکا میں سنہالا اور تمل سرکاری زبانیں ہیں۔ ان ممالک میں سے پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب کوئی بھی ایک سے زیادہ قومی زبانوں کی وجہ سے سیاسی اور قومی سالمیت کو خطرہ محسوس نہیں کرتا۔ ان میں سے کچھ ہم سے کہیں زیادہ مستحکم اور بہتر مر بوط ہیں۔

    تقریباً سات دہائیوں کے بعد ایک زبان کے ساتھ مخاصمت اب بھی موجود ہے اور باقی ماندہ اتحاد کے پارہ پارہ ہونے تک جاری رہے گی۔ دو سال قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے پاکستان کی زبانوں کی حیثیت کے حوالے سے ایک بل کور دکر دیا۔

     پاکستان مسلم لیگ ن کی قانون ساز ماروی میمن نے پیش کیا تھا۔ صرف چند مہینے قبل ہی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ نے ایک قرار داد منظور کی جس میں پاکستان کی 13 زبانوں کو قومی زبانوں کادرجہ دیا گیا ہے۔ اس اجلاس کے کچھ شرکاء نے اس کوشش کو پاکستانی قوم کو باٹنے کی کوشش قرار دیا ان کی تخیل کی پیداوار ہے۔

    ملک کو دہشت گردی اور سیاسی انتشار کا نتیج در پیش ہے ایسے موقع پر زبانوں اور ثقافتوں کی کثرت و امتزاج کے ذریعے ہمدردی اور اتفاق رائے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کی تاریخی شناخت کو تسلیم کر کے ان کے مابین رابطے بہتر بنائے جا سکتے ہیں اور اس سے عوام اور ریاست کے درمیان مستقل پل کا کام لیا جاسکتا ہے۔

    ایک کثیر ثقافتی اور لسانی معاشرے کو ثقافتی طور پر حساس پالیسی کے ماحول کی ضرورت ہے۔ قوم کی تعمیر ایک نامیاتی عمل ہے جو سرکاری اعلامیے کے ذریعے تیز نہیں کیا جاسکتا اور باقی سب زبانوں اور ثقافتوں کے بدلے ایک زبان اور ثقافت کی ترویج میں کرنا ممکن ہے۔ ایک مذہب اور ایک زبان کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر کا غلط نسخہ بالاخر مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے اردو زبان جو اتحاد کا عنصر ہو سکتی تھی کسی طرح نفاق کی وجہ بن گئے تمام زبانوں کو ختم کیے جانے کی کوشش کے مقابلے میں ان کا احترام اور تسلیم کیے جانے کے سیاسی اثرات کہیں بہتر نتائج دیں گے

    سات دہائیوں سے یک قومی یکجہتی پر مبنی مصنوعی عقیدے نے ملک کو انتہاپسندی کی دلدل میں و تھکیل دیا ہے۔ ایک زبان اور ایک قوم کے نعروں نے لوگوں کے درمیان نہ صرف نفاق پیدا کیا ہے بلکہ ہر قسم کی نفرت بھی پروان چڑھی ہے۔ ثقافتوں کے تنوع کا جشن منانا اور ان کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک متبادل بیانیے کے طور پر اپنایا جاسکتا ہے۔

    قدیم زبانوں کے لوک ادب، امن، محبت اور ہم آہنگی کے پیغامات سے بھرپور ہیں۔ انسانیت ان ثقافتوں کی بنیاد ہے، عوامی ثقافتوں کی بحالی اور ترویج ہماری آئینی اور پالیسی سازی کی مشینری کو معاشرے کے ثقافتی تنوع کے ساتھ دوبارہ ہم آہنگ کر کے درست سمت میں سفر کیا جاسکتا ہے۔

    ٹوئٹر اکاؤنٹ ‎@GoBalochistan

  • ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام  کی بحالی ناگزیرہے   تحریر:  خرم جمال شاہد

    ملکی ترقی کے لیئے موثر بلدیاتی نظام کی بحالی ناگزیرہے تحریر: خرم جمال شاہد

    ‎@KhurramAJK
    جمہوریت کی بنیادی تعریف یہ ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے ہو۔ جب کہ موجودہ حالات میں یہ تب ممکن ہو گاجب عوام کوبااختیار کرکے حکومت میں شامل کیا جائے۔ بدقسمتی سے ملک عزیز کی آزادی کو 75سال کا عرصہ گزر گیا لیکن اب تک جمہوریت کچھ بااثر خاندانوں کی سیاست تک محدود ہے۔ اب تک ملک عزیز میں عام آدمی بلخصوص نوجوانوں کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے بجائے رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔ عوام کو اس جمہوریت کا حصہ بنانے کے لیئے صرف ایک ہی حل بچتا ہے وہ ہے بلدیاتی نظام کی بحالی اور اس کی فعالیت۔ بلدیاتی نظام ہر ملک کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد اور جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے۔ فعال اور موثربلدیاتی نظام ملکی ترقی کا ضامن ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر کارکردگی کی وجہ سے، لوکل باڈیز کا ملکی ترقی میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ جب کہ جن ملکوں میں یہ نظام موجود نہیں یا فعال نہیں وہاں مقامی لوگ مختلف مسائل کا شکار ہیں اوروہ ممالک زوال پذیر ہیں۔

    بلدیاتی نظام میں اختیارات اور انتظامی معاملات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوتی ہے جس سے جمہوری اقتدار اعلیٰ کی تعریف کے مطابق مقامی لوگ انتظامی امور اوراشتراکی ترقیاتی اپروچ کا حصہ بنتے ہیں۔ اختیارات، انتظامی امور اور ترقیاتی فنڈز کی نچلی (مقامی) سطح پرمنتقلی کے زریعے عوام کا بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں مقامی انتظامیہ، مقامی مسائل کی محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بہتر حل نکال سکتے ہیں۔ جبکہ محدود وسائل (فنڈز) کو اشتراکی ترقیاتی اپروچ کی بنیاد پر، بہتر طریقے سے علاقائی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ موجودہ دور میں، سالانہ ترقیاتی پلان و ایم ایل اے فنڈ کو سیاسی بنیادوں پر مختص کیا جاتا ہے، جبکہ ان فنڈز کا صرف سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ اکثروبیشتر یہ فنڈز ترقیاتی کاموں میں لگانے کے بجائے ووٹ خریدنے یا سیاسی کارکنان کو نوازنے کے لیئے استعمال ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان فندز کو مقامی لوگوں کے مسائل اور موجود وسائل کے تناظر میں غیر سیاسی بنیادوں پرمختص کیا جا نا ضروری ہے۔ اس کا ایک جامع طریقہ کار ہونا چاہیئے۔ ہر سال علاقائی بلدیاتی باڈی یا کمیٹی کے ارکان عوام کے ساتھ مشاورت کریں اور مسائل کی نشاندہی کریں۔ سب سے اہم اور بنیادی ضرورت یا مسئلہ کے حل کے لیئے تجویز اسمبلی ممبران کے پاس جانی چاہیئے، تاکہ وہ اسی بنیاد پر سالانہ ترقیاتی پلان /ایم ایل اے فنڈ کو مختلف مدات میں مختص کرسکے۔ اس کے علاوہ جب یہ عمل نچلی سطح پر نافذ ہوتا ہے تو یہاں سے عام لوگوں کی بہتر سیاسی تربیت ہوتی ہے اور وہ آگے کی سیاست کا حصہ بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایک یونین کونسل یا ڈسٹرکٹ کونسل کا ممبر جب اچھا تربیت یافتہ ہو تو وہ عملی طور پر مستقبل میں اسمبلی / پارلمینٹ کا حصہ بن کر اپنی صلاحیت ملکی طرقی کے لیئے بروئے کار لاسکتا ہے۔

    موجودہ حالات میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی یا غیر فعالیت کی وجہ سے اسمبلی ممبران ٹوٹی نلکہ، تقرری تبادلے، چھوٹی چھوٹی سکیمیوں اور تھانہ کچہری کی سیاست میں مصروف ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی بنیادی زمہ داری "ملکی امور، قانون سازری و آئینی ترامیم، ترقیاتی بجٹ کا انتظام، پالیسی سازی اور اس کے موثرنفاذ ” کو نبھانے سے قاصر ہیں۔ چونکہ اسمبلی میں کم تعلیم یافتہ ممبران ہونے کی وجہ سے، اسمبلی ممبران بلدیاتی نظام کی افادیت کو نہیں سمجھ سکے ہیں جبکہ ان کے پاس اعلیٰ تعلیم اور قانون سازی کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے وہ پرانی روایتی استحصالی سیاست کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک گلی محلے کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسمبلی ممبران مقامی مسائل کے حل کے لیئے مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لاتی تاکہ ان کے سر سے ٹوٹی نلکہ، تھانہ کچہری، تقرری تبادلہ اور سکمیوں کا بوجھ ختم ہوتا اور وہ بھی دوسرے ممالک کے کے پارلیمنٹ ارکان کی طرح قانون سازی کرتے۔

    بلدیاتی نظام عوام کو حکمرانوں کے احتساب کا نظام مہیا کرتا ہے۔حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔ بلدیاتی نظام میں ایک اہم کام فنڈز کا مناسب اور شفاف طریقے سے استعمال اور اس کی عوامی جوابدہی ہے۔ اس میں مقامی حکومتیں / باڈیز فنڈز کے شفاف خرچ اور آڈٹ کے زریعے جوابدہ ہو سکتے ہیں۔ جبکہ موجودہ حالات میں یہ فنڈز سیاسی کارکنان کو نوازنے کے خرد برد کیئے جاتے ہیں اور بدقسمتی سے ریاستی شعبہ لوکل گورنمنٹ بھی اس کرپشن کا حصہ رہا ہے۔ جب تک بلدیاتی نظام نافذ اور فعال نہیں ہوتا تب تک اس خرد برد کو نہیں روکا جا سکتا۔

    بلدیاتی نظام کیا ہے۔اس کی ابتدا کب ہوئی۔اس نظام کو پھلنے پھولنے کیوں نہیں دیا جا رہا۔اس نظام کے آنے سے عام عوام یا نچلی سطح کے سیاسی کارکن اور خود سیاسی پارٹیوں کو کیا فوائد ہو سکتے ہیں۔یہ سب وہ سوالات ہیں جو ایک عام سیاسی کارکن کے ذہن میں اکثر اٹھتے ہیں لیکن وہ اپنے زاتی مفاد یا سیاسی اکابرین / راہنماؤں کی ناراضگی کی ڈر کی وجہ سے خاموش رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ (کیوں کہ سیاسی راہنماؤں کی نظر میں بلدیاتی نظام ایک ناقابل معافی جرم ہے)۔یہ نظام کئی صدیوں سے دنیا میں رائج ہے۔ ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان اسلامی ممالک میں معروف ہیں وہ 1990کے عشرے میں بلدیاتی انتخابات سے استنبول کے مئیر منتخب ہوئے۔انڈونیشیا میں بلدیاتی اداروں سے تربیت یافتہ جوکوویدو سربراہ مملکت کے منصب تک پہنچے۔ جبکہ بر صغیر میں انگریزدور 1846سے کچھ حد تک لوکل باڈیز نے مختلف شکلوں میں کام کیا۔1947میں پاکستان اور ہندوستان کے علیحدہ ہونے کے بعد پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں یہ نظام موجود تھاا س کو ختم کر کے تمام اختیارات ختم کر دیے گے،ختم کی جانے والی کمیٹیوں کے ممبران اور چیئرمین کو بذریعہ الیکشن عوام منتخب کرتی اور سماجی بہبود کے 37کاموں کو ان کمیٹیوں کے زیر انتظام کر دیا گیا جن میں سماجی بہبود،صحت،پانی،صفائی و دیگر بنادی انفراسٹکچر و غیرہ شامل تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ کمیٹیاں 29اشیاء پر ٹیکس لگانے کا بھی اختیار رکھتی تھیں، یہ سسٹم جب تک ایوب خان رہے چلتا رہا لیکن پہلی عوامی حکومت نے اپنے مفاد کی خاطر اس نظام کو ختم کردیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لگا کر عنان حکومت سنبھالا تو انہوں نے اس نظام کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کر دیا جو اس سمت میں ایک اہم اور مثبت قدم تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد پاکستان میں دوبارہ بننے والی جمہوری حکومتوں نے اس نظا م کا خاتمہ کر دیا۔ اس دوران جمہوری حکومتیں گزری لیکن کوئی بھی حکومت اس نظام کو دوبارہ بحال یا جاری رکھنے میں سنجیدہ نہ ہوئی۔ جنرل(ر) پرویز مشرف نے ملک میں ایمر جنسی نافذ کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس نظام کومذید تبدیلیوں کے ساتھ رائج کیا اب اس نظام میں چیئر مین اور وائس چیئرمین کی جگہ ناظم اور نائب ناظم نے لے لی۔ 2001میں نئے لوکل گورنمنٹ آرڈینس کے تحت لوکل باڈیز کے الیکشن کروائے گیااور تمام اضلاع کو ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر اور ضلع ناظم کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو ضلع ناظم کے سپرد کر دیا گیا۔

    پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی بہت قلیل مدت کے لیئے بلدیاتی نظام رائج رہا ہے لیکن کبھی بھی ان کو باقاعدہ اختیارات کنہیں ملے۔ 1960میں جنرل ایوب اور پھر 1982میں صدر ضیاء الحق کے دور میں یہاں بریگیڈیر حیات خان نے بلدیاتی نظام متعارف کروایا۔ دوبارہ1986اور1991میں یہاں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی الیکشن ہوئے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت ان ادارہ جات کو توڑ دیا اور اس وقت سے لیکر آج تک دوبارہ یہ نظام بحال نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعتیں مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے اور تسلیاں دے کر بلدیاتی نظام کو بحال نہیں کیا۔

    بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر ہونے کے بہت فوائد ہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ یہ ہو گا کہ ہر سال جو ہمارا ترقیاتی بجٹ خرچ نہ ہونے ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، یا ترقیاتی کام صرف فائلوں کی حدتک ہوتے ہیں وہ زمین پر نظر آئیں گے۔ اس نظام کے تحت ہر علاقے کی عوام کو اس علاقے کے لیے مختص شدہ بجٹ کا علم ہو گا اور وہ اس بجٹ کے خرچ کے متعلق معلومات بھی رکھ سکیں گے۔ ممبران اسمبلی کا کام قانون سازی ہے چونکہ قانون سازی اور قومی سطح کی پالیسز بنانا ہوتا ہے لیکن یہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان ممبران کو ٹوٹی،نلکہ اور تبادلہ کی سیاست کرنی پڑتی ہے۔بلدیاتی نظام بحال ہونے کی صورت میں یہ ممبران اسمبلی اپنے اصل کام کی طرف توجہ دے سکیں گے اور اس طرح قومی سطح پر اچھی پالیسز مرتب کر سکیں گے اور خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ اس نظام کی بحالی کی صورت میں ہمیں اچھی اور باکردار قیادت مل سکے گی۔چونکہ بلدیاتی نظام در اصل سیاست کی نرسری ہو تا ہے۔اور اس نظام سے اچھے اورقابل مقامی قیادت میسر آئے گی۔ چونکہ پہلے کوئی بھی ممبر لوکل سطح پر اپنی پالیسیزدے گا اور ان پالیسیز سے اس علاقہ میں کیا ڈویلپمنٹ ہوئی ہے پھر اگر وہ ممبر لوکل باڈیز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے گا تو عوام علاقہ اس کی لوکل سطح کی کارگزاری کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے حق یا مخالفت میں با آسانی فیصلہ کر سکیں گے بلدیاتی نظام کی وجہ عام سیاسی کارکنان کی بھی حکومتی معاملات میں شراکت ہوتی ہے اور وہ کارکنان جو دن رات اپنی سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ان کو ان کی محنت کا ثمر بھی مل جا تا ہے،اور اس نظام کی بدولت سیاسی ورکرز کے متعلق عوام میں اعتماد بڑھے گا بلدیاتی نظام ہونے کی صورت میں عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ ہو گا اور عوام بخوشی اپنے اس حق کا استعمال کریں گے۔

    آزاد کشمیر میں بلدیاتی نظام کو ختم ہوئے پچیس سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔ نام نہاد جمہوری حکمران عوام کو جھوٹے وعدے کرکے اقتدار کی جنگ میں مشغول ہیں۔قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں فوجی حکمرانوں نے بلدیاتی نظام کو بحال کیاا ور بلدیاتی انتخابات کروائے لیکن عوام کے ووٹ سے منتخب ہو نے والے جمہوری حکمران بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی اور صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیئے چھ ماہ سے ایک سال کا وقت دیا اور ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی خواجہ فاروق وزیر بلدیات کررہے ہیں۔ امید ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود پچھلے دور کی طرح اس دفعہ عوام پر زیادتی کے مرتکب نہیں ہونگے بلکہ وہ اس نظام کی بحالی کے زریعے عوام میں اپنا مقام بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سول سوسائٹی، سماجی کارکنان، صحافی اوروکلاء بلدیاتی نظام کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔