Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کورونا ویکسین لگوانے سے انکار، معروف کھلاڑی مشکل میں پھنس گئے

    کورونا ویکسین لگوانے سے انکار، معروف کھلاڑی مشکل میں پھنس گئے

    کورونا ویکسین نہ لگوانے پر معروف ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ کی آسٹریلین اوپن میں شرکت کھٹائی میں پڑ گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے ایمیگریشن کے وزیر نے کہا کہ کسی ایسے شخص کو آسٹریلیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائےگی جس کی ویکسینیشن نہیں ہوئی ہوگی نوواک جوکووچ نے بھی اگر ویکسی نیشن نہ کرائی تو اسے بھی آسٹریلین اوپن میں شرکت کرنے نہیں دیا جائےگا ۔

    آسٹریلین وزیر کا کہنا تھا کہ جو کھلاڑی بھی آسٹریلین اوپن میں شرکت کا خواہش مند ہوا اس کیلئے کورونا ویکسین کی دو خوراکیں لینا لازمی ہوگا ۔

    انہوں نے کہا کہ یہ صرف کھلاڑیوں کیلئے نہیں بلکہ جو بھی آسٹریلیا کا سفر کرنا چاہتا ہے اس کیلئے کورنا ویکسین کی دو خوراکیں لینا ضروری ہوگا میرا مطلب ہے کہ آسٹریلیا کو ہر آنے والے کو ڈبل ویکسین لگانے کی ضرورت ہوگی۔

    انہوں نے کہا وائرس اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ آپ کا ٹینس کے بڑے کھلاڑی ہیں یا ایک عام شہری ہیں یا آپ نے کتنے گرینڈ سلم جیتے ہیں۔ اپنے آپ کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ کو ویکسین لگانے کی ضرورت ہے۔

    دوسری جانب سربیائی کھلاڑی نے ویکسی نیٹڈ ہونے یا نہ ہونے کو ذاتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنا سٹیٹس شیئر نہیں کرسکتا یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔

    واضح رہے کہ لندن کے دریائے ٹیمز کے کنارے نئے سال کے موقع پر آتش بازی کا مظاہر دوسرے سال بھی منسوخ کر دیا گیا گزشتہ سال کورونا کی بگڑتی صورتحال اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے نیو ائیر پر ہونے والی آتش بازی منسوخ کی گئی تھی لیکن اس بار کورونا کی صورتحال بہتر ہونے اور لاک ڈاون ختم ہونے کے باوجود ایونٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان نژاد میئر لندن صادق خان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کورونا وبا کی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے دریائے ٹیمز کے کنارے اس سال آتش بازی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا تاہم نئے سال پر لندن میں دیگر تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

    میئر لندن کےترجمان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال وبائی امراض کی وجہ سے نیو ائیر کا شو قدرے مختلف انداز میں ہوا اور اس سال کئی دلچسپ نئے آپشنز کو نئے سال کی تقریبات کا حصہ بنایا جائے گا "ہمیشہ کی طرح لندن نئے سال کا شاندار انداز میں استقبال کرے گا” ٹریفالگر اسکوائر میں اب بھی جشن ہوگا ، تفصیلات کا اعلان مقررہ وقت میں کیا جائے گا۔

  • چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ

    چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ

    چھوٹو گینگ اور لاڈی گینگ کے بعد اب اندھڑ گینگ
    پرانی دشمنی کی آڑ میں گینگ متحرک لیکن پولیس بے بس اور مفلوج۔۔۔
    کیا امن و امان کے لئے ہمیں ایک بار پھر فوجی آپریشن کی ضرورت ہے؟

    صوبہ سندھ اور پنجاب بارڈر پر واقع صادق آباد ضلع رحیم یار خان معاشی اعتبار سے جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں سب سے زیادہ مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس مضبوطی کی وجہ سے یہ علاقہ ہمیشہ کسی نہ کسی گینگ کے نشانے پر بھی رہتا ہے۔ کبھی یہاں آئے روز لوگوں کو اغواء کر لیا جاتا ہے تو کبھی دن دیہاڑے بسوں اور ویگنوں کو روک کر لوٹ لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑکیوں کے ذریعے لڑکوں کو پھنسا کر اغوا کرنے کے بعد کروڑوں روپے تاوان ڈیمانڈ کیا جاتا رہا ہے۔
    کبھی ان تمام کاموں کے لئے یہاں چھوٹو گینگ بہت مشہور ہوا کرتا تھا جس کے خلاف ہماری پولیس نے کئی آپریشنز بھی کئے تھے لیکن ہر بار پولیس کی ناکامی کے بعد جب حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے تو آخرایک فوجی آپریشن کرکے اس چھوٹو گینگ سے نجات حاصل کی گئی۔
    لیکن حالیہ مشکل یہ ہے کہ اب وہاں چھوٹو گینگ سے بھی بڑا ایک اندھڑ گینگ سامنے آ چکا ہے۔ جس نے چند دن پہلے پولیس چوکی کے قریب واقع ایک پٹرول پمپ پر باپ اور چار بیٹوں سمیت نو افراد کو قتل کیا ہے۔ قتل کے بعد اعترافی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی اور ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ابھی مزید نو قتل اور بھی ہونے ہیں۔ لیکن اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود نہ تو ابھی تک وہ پکڑے گئے ہیں نہ ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ہے۔ اور نہ ہی کوئی امید نظر آ رہی ہے کہ غریب عوام کو اس سفاک گینگ سے کسی طرح نجات مل سکے۔
    اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ تمام معاملہ ہوا کیا؟ کیسے پولیس کی غفلت اور سالوں پرانی دشمنی نے نو عدد جانوں کو نگل لیا؟
    دراصل مرنے والے غلام نبی اندھڑ اور اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کا تعلق ایک ہی برادری اور قبیلے سے ہے۔
    اور ان کے درمیان 1995 میں دشمنی کی بنیاد پڑی جب جانو اندھڑ کے خاندان کی ایک خاتون پر کاروکاری کا الزام لگایا گیا تھا جس میں غلام نبی اندھڑ کے خاندان کے ایک فرد کو قصوروار ٹھہرا کرجانو اندھڑ کے خاندان والوں نے اس شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن بعد میں یہ معاملہ جرگوں اور مفاہمت سے حل ہو گیا تھا۔
    اس کے بعد ایک واقعہ 2016 میں ہوا جب جولائی کے مہینے میں پولیس نے اندھڑ گینگ کے سات ڈاکوؤں کو ایک مبینہ آپریشن کے بعد کشمور میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ اور اس کے بعد رحیم یار خان پولیس ان کی لاشوں کو چوک ماہی میں لے آئی تھی۔ وہاں ان ڈاکووں کی لاشوں کو سرعام سڑک پر رکھا گیا تھا۔ وہاں جمع ہونے والی عوام نے اس کارروائی پر پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے۔

    پولیس نے جن سات ڈاکوؤں کو مارا تھا ان میں اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کے پانچ بھائی ایک بھتیجا اور ایک دوست بھی شامل تھا۔ ان میں ہی خانو اندھڑ بھی تھا جو اس وقت گینگ کا سرغنہ تھا۔
    پولیس کی اس تمام کاروائی کے پیچھے جانو اندھڑ کو شک تھا کہ اس میں غلام نبی اندھڑاور اس کے خاندان والوں کا ہاتھ تھا اور انہوں نے پچھلے واقع کا بدلہ لینے کے لئے مخبری کرکے یہ تمام آپریشن کروایا تھا۔ کیونکہ اسی پٹرول پمپ پراس آپریشن کا جشن بھی منایا گیا تھا۔
    لیکن غلام نبی اور ان کے خاندان کے افراد اس کی تردید کرتے تھے۔ انھوں نے کئی جرگوں اور مصالحتی کوششوں کے ذریعے جانو اندھڑ کو کئی بار یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ اُن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے پولیس کو ایسی کوئی مخبری کی تھی۔ بلکہ ان کے خاندان نے کئی مواقع پر جانو اندھڑ اور اس کے گینگ کو کئی لاکھ روپے بھی ادا کیے تھے۔ یہاں تک کہ اندھڑ گینگ کے لوگ باقاعدگی سے ان سے بھتہ بھی وصول کرتے رہتے تھے۔ کئی مرتبہ ان کو ایک دوسرے کی شادیوں میں شریک ہوتے اور میل ملاقاتیں کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
    لیکن آخر پانچ سال گزرنے کے بعد اب اس نے اپنے بھائیوں اور بھتیجے کا بدلہ لینے کے لئے دن دیہاڑے یہ تمام قتل کئے۔
    اس تمام واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے کہ کیسے پانچ موٹرسائیکلوں پر تقریبا ایک درجن لوگ دوپہر کے وقت صادق آباد کے اس پیٹرول سٹیشن پر آئے ان سب نے کندھوں پر بندوقیں لٹکائیں ہوئیں تھیں۔
    جن کو دیکھ کر پیٹرول پمپ کے دفتر میں بیٹھے چند لوگوں نے چھپنے کی کوشش کی جبکہ باقی افراد یہ جاننے کے لیے باہر نکل آئے کہ معلوم کیا جا سکے آخر معاملہ کیا ہے۔
    بندوقیں اٹھائے یہ لوگ پٹرول پمپ پر بنے دفتر میں داخل ہوئے وہاں کچھ دیر دونوں طرف کے لوگوں میں کچھ بات چیت ہوئی ایک شخص نے ان ڈاکووں میں سے ایک کے پاؤں بھی پکڑے اور ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔ لیکن چند لمحوں بعد ڈاکووں نے فائرنگ شروع کر دی اور دفتر میں موجود تمام کے تمام لوگوں کو قتل کردیا ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔ اس کے بعد وہاں سے نکل پٹرول پمپ کے ساتھ ہی موجود دو دکانوں کے باہر بھی رک کر ڈاکووں نے خوف و ہراس پھیلانے کے لئے فائرنگ کی اور اس کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے۔
    اس پورے واقع میں نو افراد قتل ہوئے جن میں پانچ افراد کا تعلق ایک ہی گھر سے تھا یعنی ایک باپ غلام نبی اندھڑ اور اس کے چار بیٹے۔ اس کے علاوہ غلام نبی کا پانچواں بیٹا بھی اس واقعے میں زخمی ہوا ہے۔ غلام بنی اس پیٹرول پمپ کا مالک تھا جہاں یہ تمام حادثہ ہوا۔
    اس تمام واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے اور وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی ہیں۔
    لیکن پولیس چوکی قریب ہونے کے باوجود پولیس ان ڈاکوؤں کو روکنے یا واردات کے فوری بعد گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔
    بلکہ دو دن بعد واقعے کی رپورٹ مجاہد امیر نامی ایک شخص کی مدعیت میں تھانہ کوٹ سبزل میں درج کی گئی۔ مجاہد کا بھائی بھی مرنے والوں میں شامل تھا۔ لیکن ان ڈاکووں کی دہشت کا یہ عالم ہے کہ مجاہد امیر مقدمہ میں مدعی بننے سے ہی دستبردار ہو گیا۔ اور ایک بیان حلفی جمع کروایا کہ ہم نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ میں اس مقدمے میں بالکل بھی مدعی نہیں بننا چاہتا۔ اگر باقی مقتولین کے ورثا مدعی بننا چاہیں تو بے شک بن جائیں۔

    لیکن اس وقت اس پورے علاقے میں کوئی ان ڈاکووں کے خلاف بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ جو بھی ڈاکوؤں کے خلاف بات کرتا ہے وہ اس سے رابطہ کرکے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کہ وہ خالی دھمکیاں نہیں دیتے عمل بھی کر دیتے ہیں۔
    مطلب وہاں کے لوگ تو ان ڈاکووں کو بہت اچھی طرح سے سمجھتے ہیں لیکن اگر کوئی ان کو نہیں جانتا تو وہ ہماری پولیس ہے۔ کیونکہ اندھڑ گینگ کے سربراہ جانو اندھڑ کو حال ہی میں خود پولیس نے کچے کے علاقے سے نکال کر آبادی میں لا کر بٹھایا تھا۔ اور جب وہاں کے مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ یہ ڈاکو شہری علاقوں میں آکر بیٹھے ہوئے ہیں اور پولیس ان کے خلاف کاروائی نہیں کر رہی تو پولیس نے بڑے آرام سے یہ موقف اختیار کر لیا تھا کہ۔۔ اگریہ کسی کو تنگ تو نہیں کر رہے تو آپ کو کیا مسئلہ ہے۔
    اس کے علاوہ کچھ اعلی افسران کچے کے علاقے میں بھی ان کے پاس گئے تھے اور جانو اندھڑ کو جرائم کی دنیا چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان سے مذاکرات کئے گئے کہ اگر وہ خود بھی جرائم کو چھوڑ دیں اور دوسرے ڈاکوؤں کو بھی ایسا کرنے پر قائل کریں تو ان کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جا سکتے ہیں۔
    جس کے بعد ان ڈاکووں اور پولیس میں نہ جانے کیا طے پایا کہ جانو اندھڑ تقریبا ایک ماہ پہلے اپنے چند ساتھیوں سمیت چوک ماہی کے علاقے میں آکر اپنے قلعہ نما ڈیرے میں رہنے لگ گیا۔ جس کی کئی کئی فٹ چوڑی کچی دیواریں ہیں تا کہ ان میں سے بندوق کی گولی آر پار نہ ہو سکے۔
    اس گینگ کے پاس بھاری اسلحہ اور جدید ہتھیار بھی موجود ہیں جن میں مشین گنیں، راکٹ لانچر، گرینیڈ، رائفلیں اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔
    اور حال ہی میں اس گینگ نے اپنے ڈیرے سے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ لیکن پولیس نہ تو اس وقت کر چکی اور نہ ہی اب کچھ ہونے کی امید ہے۔
    جس ڈھٹائی کا مظاہرہ یہ گینگ سوشل میڈیا پر اپنے جاری کئے گئے بیانات میں کر رہے ہیں اس کے بعد صاف نظر آتا ہے ان کو پولیس کا کوئی ڈر خوف نہیں ہے یہ اس چھوٹو گینگ سے بھی کہیں زیادہ بڑا اور خطرناک ہو چکا ہے جس کے آگے ہماری پولیس کئی بار بے بس ہو چکی تھی اور پھر فوج کے ذریعے آپریشن کرکے اس کا خاتمہ کرنا پڑا تھا۔ اس لئے اب جو حالات بن چکے ہیں لگتا یہ ہے کہ اب ایک بار پھر ویسے ہی ایک آپریشن کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جائے اور عوام کو سکون کا سانس مل سکے۔

  • ترقی یافتہ دنیا اور جان لیوا وبائی امراض تحریر  ۔ناصر بٹ

    ترقی یافتہ دنیا اور جان لیوا وبائی امراض تحریر ۔ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    دنیا میں ہر صدی میں ایک بڑی بیماری حملہ آور ہوتی ہی رہی، کبھی بلیک ڈیتھ، کبھی ہسپانوی زکام اور کبھی ایڈز، وبا کا آغاز ہوا تو کئی کئی سال لگ گئے اس کا علاج ڈھونڈنے میں، علاج ملا تو مریضوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے میں وقت لگ گیا یعنی ہر وبا ہزاروں نہی لاکھوں زندگیوں کو نگل چکی، اب موجودہ حالات کو دیکھ لیں تو ڈینگی جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا، ذرا سی موسم نے کروٹ جو بدلی تو آگئی مچھروں کی فوج اور ہوگئی حملہ آور، پولیو جو بظاہر دنیا بھر کی طرح پاکستان اور افغانستان سے بھی کم تو ہوتا نظر آتا ہے لیکن اس کے قطرے پلانے میں بھی جتن کرنا اپنے آپ میں ایک جنگ لڑنے جیسا ہی ہے، کورونا وائرس کی بات کریں تو پہلے ایک پھر دو پھر تین اور اب چار یعنی نام تو نہ بدلا لیکن لہروں کے نمبر بدلتے گئے اور ہر نئی ویو پہلی ویو سے زیادہ خطرناک ہی رہی، لیکن ابھی دنیا میں کاروباری، تعلیمی اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر اپنے معمول پر آئی نہیں تھیں کہ برطانیہ میں عالمی وبا کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا کے نئے ویرئنٹ ’ڈیلٹا پلس’ کے کیسز میں پھیلاؤ رپورٹ ہونے لگا، خبر آئی اور حکام کو دوڑیں لگ گئیں، برطانوی وزارت صحت کہتی ہے کہ کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرئنٹ کی نئی تبدیلی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جو ملک میں وبا کے بڑھتے کیسز کی وجہ بن رہا ہے، اب معاملات کچھ یوں بن چکے کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا، جسے بی 1617.2 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گزشتہ برس برطانیہ میں سامنے آئی تھی تاہم حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے 6 فیصد کیسز جینیاتی طور پر وائرس کی نئی قسم کے ہیں اے وائے.4.2، جسے کچھ افراد ’ڈیلٹا پلس ’ بھی کہہ رہے ہیں، ایسی میوٹیشنز پر مشتمل ہے جو وائرس کو زندہ رہنے کے مواقع فراہم کرسکتا ہے اب یہ پتا لگانے کے لیے ٹیسٹس کیے جارہے ہیں کہ ڈیلٹا وائرس کی اس نئی قسم سے کتنا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے یا موجودہ ویکسین سے محفوظ رہنے کا امکان نہیں ہے، اسے ابھی تک تشویش کا باعث بننے والی قسم یا زیر تفتیش ویرئنٹ نہیں سمجھا گیا لیکن اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے وائے.4.2 ہے کیا؟ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہزاروں مختلف اقسام یا ویرئنٹس موجود ہیں، وائرس ہر وقت بدلتے رہتے ہیں لہذا ان کی نئی اقسام سامنے آنا کوئی حیران کن بات نہیں لیکن ڈیلٹا کی اصل قسم کو مئی 2021 میں برطانیہ میں باعثِ تشویش قرار دیا گیا تھا جب یہ الفا ویرئنٹ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا بھر میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی سب سے بڑی قسم بن گئی تھی لیکن جولائی 2021 میں ماہرین نے اے وائے.4.2 کی نشاندہی کی تھی، اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ ڈیلٹا کی یہ قسم تب سے آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، اس میں کچھ نئی تبدیلیاں شامل ہیں جو اسپائک پروٹین کو متاثر کرتی ہیں جسے وائرس ہمارے خلیوں میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے، ابھی تک اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملا کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ وائرس زیادہ متعدی ہے لیکن یہ ماہرین ابھی اس پر تحقیق کررہے ہیں
    عالمی وبا کے آغاز سے کورونا وائرس کی دیگر اقسام میں وائے 145 ایچ اور اے 222وی میوٹیشنز پائی گئی ہیں ۔ سائنسدان مسلسل نئی جینیاتی تبدیلیوں کی جانچ کر رہے ہیں جن سے کورونا وائرس گزر رہا ہے کچھ اقسام پریشان کن ہیں لیکن بہت سی غیر اہم ہیں تاہم مشکل کام ان لوگوں کو ڈھونڈنا ، پتا لگانا اور ان کا انتظام کرنا ہے جو اہم ہو سکتے ہیں اس مرحلے پر ، ماہرین کو نہیں لگتا کہ اے وائے.4.2 کو پکڑا جاسکے گا لہذا ہوسکتا ہے کہ اسے واچ لسٹ سے نکال دیا جائے، یونیورسٹی کالج لندن کے جینیٹکس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر فرانکوئس بلوکس نے کہا کہ ’یہ ممکنہ طور پر کچھ زیادہ متعدی قسم ہے انہوں نے کہا کہ ’الفا اور ڈیلٹا اقسام کے ساتھ جو کچھ ہم نے دیکھا اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے ، جو کہ 50 سے 60 فیصد زیادہ متعدی تھیں، فی الحال اس پر تحقیق جاری ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ 10 فیصد زیادہ متعدی ہو پروفیسر فرانکوئس نے کہا کہ اچھا ہے کہ ہم آگاہ ہیں، یہ بہت اچھا ہے کہ ہمارے پاس مشکوک چیزوں کو دیکھنے کے لیےایسی سہولیات اور انفراسٹرکچر موجود ہے انہوں نے کہا کہ ’اس مرحلے پر میں کہوں گا انتظار کریں اور دیکھو ، گھبرائیں نہیں، یہ تھوڑا زیادہ متعدی ہوسکتا ہے لیکن یہ اتنا تباہ کن نہیں ہے جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا تھا۔ اب اس ساری صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ کہیں ایک بار پھر سے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ہی اس شدید صورتحال کی وجہ سے بحرانی کیفیت پیدا نہ ہوجائے جس کا بہترین حل یہ ہوگا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے دوڑ لگائی جائے اس بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کی، کوشش کی جائے کہ اپنے شہریوں کو پہلے سے ہی آگاہی دے دی جائے تاکہ بیماری کے ممکنہ حملے کی صورت میں احتیاطی تدابیر کو اپنایا جاسکے

  • بین الاقوامی منظر نامہ کیا کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے .؟ تحریر : نواب فیصل رحمن اعوان

    بین الاقوامی منظر نامہ کیا کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے .؟ تحریر : نواب فیصل رحمن اعوان

    اس وقت دنیا میں افراتفری کا ماحول ہے حالات دنیا بھر میں انتہاٸ کشیدہ ہیں ۔
    اشیاۓ خوردونوش سے لے کر پیٹرول تک تمام چیزوں کی خودساختہ شارٹیج کی جا رہی ہے ۔
    دنیا بھر کے اسٹورز خالی ہو رہے ہیں کسی کو بھی کوٸ چیز لینے کیلۓ ایڈوانس بکنگ کرانا پڑ رہی ہے ۔
    امریکہ کی معیشت اس وقت بلکل گرنے کے قریب ہے ذراٸع کے مطابق امریکہ کو اپنے ہی ملازمین ، فوج اور انٹیلیجنس اداروں کو دینے کیلۓ تنخواہ ہی نہیں ہے ۔
    چین میں اس وقت شدید بجلی کا بحران ہے جس سے چاٸنہ بھی متاثر ہو رہا ہے ۔
    بارڈرز پہ چین لداخ میں آگے پیش قدمی کرنے کیلۓ بھاری آرٹلری اور میزاٸل سسٹم لداخ میں نصب کر چکا ہے ۔
    حالیہ چین کے ہاٸپرسونک میزاٸل سسٹم کے کامیاب تجربے کے بعد دنیا ورطہ حیرت میں ہے کہ چاٸنہ نے آواز کی سپیڈ سے بھی پانچ گنا زیادہ سپیڈ سے نیوکلٸیر وار ہیڈ لے جانے والا ہاٸپرسونک میزاٸل بنا لیا ہے جس کو کسی بھی ریڈار سے ٹریس نہیں کیا جا سکتا اور امریکہ کے پاس اس کو روکنے کیلۓ کوٸ ریڈار موجود نہیں ہے ۔
    بھارت نے لداخ میں سات ہزار فوجی بارڈر پہ بلا لیۓ ہیں بھاری تعداد میں گولہ و بارود ٹینک اور ڈرون طیارے لداخ میں پہنچ چکے ہیں ۔
    کشمیر میں اس وقت فریڈم فاٸٹرز کی جانب سے بھارتی بزدل فوج کو سخت ردعمل کا سامنا ہے کٸ بھارتی فریڈم فاٸٹرز کے حملے میں مردار ہو چکے ہیں ۔
    فریڈم فاٸٹرز نے بھارت کو گھنے جنگلات میں الجھا کے رکھ دیا ہے کٸ بھارتی فوجی فریڈم فاٸٹرز کی جانب سے یرغمال بنا لیۓ گۓ ہیں ۔
    دنیا میں اس وقت پیٹرول کا بحران شروع ہو چکا ہے عالمی منڈی میں اس وقت پیٹرول 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے جس کے دسمبر میں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکانات ہیں ۔
    ڈالر اس وقت اوپر جا رہا ہے پاکستان میں ڈالر اس وقت 174 روپے تک پہنچ چکا ہے ۔
    پاکستان میں پیٹرول کے بحران کو وجہ عناد بنا کے کچھ شرپسند عناصر ملکی اداروں پہ تنقید کر رہے ہیں جنکو عالمی سطح پہ ہونے والے پیٹرول کے اس بحران کے بارے علم بھی ہے ۔
    پاکستان و دنیا بھر میں اس وقت اشیاۓ خوردونوش کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہوچکا ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو بہت حد تک متاثر کیا ہے ۔
    آہستہ آہستہ دنیا کا نظام لپیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے نیو ورلڈ آرڈر قاٸم کرنے کیلۓ یہ سب بحران لاۓ جا رہے ہیں ۔
    دنیا بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں پاکستان بھی ان موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے ۔
    اس وقت پیٹرول سے لیکر اشیاۓ خوردونوش کی قیمتوں کو متوازن رکھنے کی ہر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ۔
    اسوقت دنیا کے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں افراتفری ہے کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے ۔
    پاکستان کو اس وقت اندرونی و بیرونی معاملات پہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔
    بیوروکریسی کو الرٹ جاری کرنے کا وقت آ چکا ہے تاکہ مارکیٹ میں اشیاۓ خوردونوش کی قیمتوں کو متوازن رکھنے کیلۓ فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔
    پاکستان کو چاہیۓ کہ وہ آٸندہ چار پانچ سال تک کسی بھی اشیاۓ خوردونوش کو امپورٹ نہ کرے کیونکہ دنیا میں ایک بحران جنم لینے والا ہے ۔
    پاکستان کو جنگی بنیادوں پہ بیوروکریسی اور پراٸس کنٹرول منیجمنٹ اتھارٹیز کو ایکٹو کرنےکی ضرورت ہے جو ناجاٸز ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایکشن لیں تاکہ اشیا کی خودساختہ شارٹیج کو روکا جا سکے اقر قیمتوں کو متوازن کرتے ہوۓ عام آدمی کی زندگی پہ پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے

    @NawabFebi

  • تفاوت مادر هنود با مادر مسلمان تحریر:محمد عبداللہ گِل 

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ھے۔تاریخ گواہ ھے کہ جس نے دین اسلام کی عظمت کو پا لیا پھر وہ اس پر قربان ہونے کو تیار ہو گیا۔اسلام کی سربلندی اور دفاع کے لیے رب تعالی نے فریضہ جہاد کو اتارا۔اور ہجرت کے بعد جب کفار مکہ نے مدینہ میں اپنی شکست کو دعوت دی تو رب تعالی کے حکم پر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے میدان کو سجھا دیا۔پھر اللہ نے ملائکه کو نازل فرمایا اور جس انداز سے اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کو فرمایا اس کی نظیر نہیں ملتی۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 313 کے لشکر کو لیکر میدان کو سجایا میرے رب نے ہزار کے لشکر پر فتح دی۔

    اگر میں تاریخ کو پڑھو تو مجھے یہ نظر آتا ھے کہ جب سندھ میں مسلمان خاتون نے صدا کو لگایا تو سترہ سالہ نوجوان علم جہاد کو بلند کر کے سندھ میں آیا پھر سندھ کر فتح کر آگے ملتان کے علاقے تک گیا۔اسی طرح اگر میں حال ہی کی بات کروں تو کشمیر کو دیکھتا ہوں۔ایک طرف 8 لاکھ ہند کی فوج ھے ان کے پاس جدید اسلحہ بھی ھے،طیارے بھی ھے امریکی ڈروں بھی ھے لیکن مد مقابل کشمیری بطل حریت جوان کھڑا ھے۔کل تلک بوڑھا علی گیلانی رحمہ اللہ للکار رہا تھا آج مسرت عالم بٹ للکار رہا ھے۔ایک کشمیری جوان میدان میں شہید ہوتا ھے تو ماں دوسرے کو پیش کرتی ھے اور اس کی خواہش ہوتی ھے کہ میرا خاندان ہی جہاد کے میدان میں شہید ہو جائے۔

    قارئین کرام! اس سارے سیاق کا مقصد ایک ویڈیو کی طرف اور معرکے طرف توجہ کو مرکوز کروانا ھے۔کچھ دن قبل پونچھ کے علاقے میں مجاہدین حریت اور قابض بھارتی فوج کے درمیان میدان جہاد سجا۔اللہ کے شیروں نے ایسی مار لگائی قابض بھارتی فوج کو اور اللہ کی نصرت کے ساتھ اب تک وہاں مجاہدین کا رعب و دبدبہ قائم ھے۔اس میں مجاہدین اسلام نے محمود عزنوی کے روحانی فرذند ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہو کئی ایک ہندو فوجیوں کو شکست سے دوچار کیا۔جس کے بعد جب میڈیا ان میں سے ایک مردار کی اہلیہ سے بات چیت کر رہا تھا تو اس واصل جہنم ہونے والے فوجی کی بیوی پر مجاہدین کا رعب تھا اور وہ کہہ رہی تھی کہ یہ علاقہ مجاہدین کے حوالے کر دو روز ہمارے جوان مرتے ہیں۔

    واللہ اس بیان کو سننے کے بعد مجھے کشمیر کی وہ ماں یاد آئی جس نے سب سے پہلے اپنے ایک بیٹے کو کشمیر کے آزادی پر قربان کیا پھر کچھ دیر بعد اپنے دوسرے بیٹے ابو دجانہ کو میدان میں بھیجا اور وہ بھی کفار کو شکست سے دوچار کرتا کرتا اللہ کے باغوں کا مہمان بن گیا تو اس ماں کو سلام ھے کہ اس نے اللہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرے سینکڑوں بیٹے ہوتے میں کشمیر کی آزادی پر قربان کر دیتی۔

    پھر مجھے اقبال کا شعر یاد آیا 

    "شہادت ھے مطلوب و مقصود مومن 

    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی” 

    یہ ہی وہ فرق تھا جب غزوہ بدر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاذ و معوذ رضی اللہ عنہم کی والدہ نے اپنے دونوں بیٹوں کو نصیحت کی کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان جنگ میں قتال کرو۔اور پھر انھوں نے جس انداز سے ابو جہل کا سر کاٹا سبحان اللہ۔

    اللہ تبارک و تعالی نے مسلمانوں کو یہ قوت ایمانی دی ہے کہ مائیں خود اپنے بچوں کو جہاد کا درس دیتی ھے اور جہاد پر آمادہ کرتی ھے۔

    یہ ہی قوت ایمانی ھے جس کی وجہ سے آج پاک فوج دنیا کی نمبر ون فوج ھے اور ہماری ایجنسی آئی ایس آئی دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں میں سے ایک ھے۔کیونکہ ہمارے جوان جان دینے سے نہیں گھبراتے کیونکہ ان کو پتہ ھے کہ جب ہمیں لڑتے لڑتے موت آئی تو شہادت کی موت آنی ھے اور اللہ کا وعدہ ھے جنت کا۔

    اللہ کا انعام ھے کہ "شہید کو مردہ مت کہو”

    ہمارے مجاہدین کشمیر اور پاکستان فوج کے مجاہدین کو پتہ ھے ہم نے مر کر بھی زندہ ہو جانا ھے۔اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری مائیں بیٹوں کو قربان کرتی ہیں۔

    واللہ دوسری طرف ہمارا مد مقابل انڈیا ھے جس کو تو کشمیری سنگباز ہی کافی ھے۔اسی طرح بارڈر پر جانے سے ہندو فوجی ڈرتا ھے ماں بچہ بھیجنے سے گھبراتے ھے۔اس کی وجہ ایک ہی ھے جس کا اعلان رب تعالی نے کر دیا 

    وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

    "فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل کو مٹنا ہی تھا”

    سبحان اللہ آج اس آیت کی تفسیر کو پونچھ کے میدان میں کشمیری مجاہدین نے ایک بار دوبارہ تازہ کر دیا ھے۔

    اسی طرح ہنود گھبراتا رہے گا اور اسلام چھا جائے گا اور بے شک اسلام ہی دین برحق ھے۔

    کشمیر کو بھی ان شاءاللہ ایک دین آزادی مل کر رہے گی۔

    @Gill_Pak12

  • آئیں بلوچستان کی بلند ترین چوٹی "لوئی سر نائیکن” کی سیر کریں۔ تحریر: حمیداللہ شاہین  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    آئیں بلوچستان کی بلند ترین چوٹی "لوئی سر نائیکن” کی سیر کریں۔ تحریر: حمیداللہ شاہین  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    کسی بھی علاقے کی خوبصورتی کا اندازہ ان میں واقع پہاڑوں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے بلوچستان جوکہ خوبصورتی کی سرزمین ہے جو سانس لینے والی آبشاروں، شاندار گہری وادیوں اور سرسبز پھیلے ہوئے پھلوں کے درختوں سے بھی مشہور ہے۔

     جنوبی بلوچستان میں واقع پہاڑی سلسلوں کا ایک وسیع علاقہ ہے، جس میں وسطی براہوی رینج ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔  مشرقی ترین کیرتھر رینج کو مغرب میں پب رینج کی پشت پناہی حاصل ہے۔  جنوبی بلوچستان کی دیگر اہم حدیں سنٹرل مکران رینج اور مکران کوسٹ رینج ہیں، جن کا جنوب کی طرف کھڑا چہرہ ساحلی میدان کو باقی سطح مرتفع سے تقسیم کرتا ہے۔  مکران کوسٹل ٹریک زیادہ تر سطحی مٹی کے فلیٹوں پر مشتمل ہے جس کے چاروں طرف ریت کے پتھر ہیں۔  خشک میدان کی تنہائی کو گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبے نے توڑ دیا ہے جو روڈ ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام کے ذریعے کراچی سے منسلک ہے۔

     بلوچستان کا وسیع ٹیبل لینڈ مختلف قسم کی جسمانی خصوصیات پر مشتمل ہے۔  شمال مشرق میں ژوب اور لورالائی قصبوں پر مرکوز ایک بیسن ایک ٹریلیس پیٹرنڈ لوب بناتا ہے جو پہاڑی سلسلوں سے چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے۔  مشرق اور جنوب مشرق میں سلیمان رینج ہے جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے قریب وسطی براہوی رینج میں شامل ہوتی ہے۔  بلوچستان کے شمال اور شمال مغرب میں توبہ کاکڑی رینج ہے۔ جو دور مغرب میں خواجہ امران رینج بن جاتی ہے

     پہاڑی علاقہ راس کوہ رینج کی شکل میں جنوب مغرب کی طرف کم شدید ہو جاتا ہے۔  چھوٹا کوئٹہ بیسن چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔  ایسا لگتا ہے کہ پورا علاقہ اونچی حدود کا نوڈ بنا ہوا ہے۔  راس کوہ رینج کے مغرب میں شمال مغربی بلوچستان کا عمومی لینڈفارم پہاڑوں سے منقسم نشیبی سطحوں کا ایک سلسلہ ہے۔  شمال میں چاغی پہاڑیوں کی سرحد حقیقی ریگستان کا علاقہ ہے جو اندرونی نکاسی پر مشتمل ہے۔

     بلوچستان میں 2900 سے زیادہ چوٹیاں ہیں اور ان پہاڑوں میں کل 104 معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔  لوئی سر نائیکان کوئٹہ کے مشرق میں زرغون پہاڑوں میں صوبے کی بلند ترین چوٹی ہے۔

     لوئی سر نائیکان بلوچستان کی بلند ترین چوٹی ہے اور اس کی اونچائی 3578 میٹر ہے جو 11738 فٹ تک بنتی ہے۔  زرغون پہاڑ جہاں لوئے سر نائیکان واقع ہے ، تین ہزار یا چار ہزار پرانے جونیپر درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔  پہاڑ پر چڑھنا بہت مشکل ہے   شمسی تابکاری اور موسم کی خراب صورتحال چڑھائی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔  کچھ قبریں ایسی ہیں جنہیں ٹریک پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن لوگوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ان میں کون دفن ہیں۔

     تمام سمتوں میں جونیپر درختوں اور چوٹیوں کی ایک بڑی تعداد کی وجہ سے انسان الجھن میں پڑ جاتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔  لوگ ہمیشہ اپنا راستہ بھول جاتے ہیں اور بعض اوقات ان چوٹیوں اور درختوں میں کھو جاتے ہیں۔  اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زرغون پہاڑ کے قریبی لوگوں نے لوئی سر نائیکن پر چڑھنے میں ایک شخص کی مدد کے لیے مختلف سمتوں میں کئی نشانات بنائے ہیں۔  اس چوٹی پر ایک بڑا پتھر ہے جو کسی شخص کے چہرے کی عکاسی کرتا ہے۔

     لوئی سر نائیکن اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے اور کوہ پیما اور سیاح ملک کے تمام حصوں سے اس کا دورہ کرتے ہیں۔  پنجاب کے فیصل آباد کے ایک مسافر احمد نے بتایا کہ یہ چوٹی بلوچستان کے لوگوں کے لیے قدرت کے خوبصورت تحفوں میں سے ایک ہے۔

     اگر آپ بلوچستان کی خوبصورتی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس چوٹی پر آئیں اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ قدرت نے اس علاقے کو نہ صرف قدرتی وسائل سے نوازا ہے بلکہ اس نے صوبے میں اس طرح کے خوبصورت سیاحتی مقامات بنائے ہیں۔

    ہم حکومت بلوچستان سے بھی تعاون کی اپیل کررہے ہیں کہ صوبہ میں سیاحتی مقامات کا خاص خیال رکھا جائے اور یہ اگاہی پھیلائی جائے کہ بلوچستان ہر ایک کے لئے محفوظ ہے، تاکہ زیادہ سے زیاد لوگ بلوچستان کا رخ کرے اور یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔

    @iHUSB

  • فیصلہ کرنے کی صلاحیت :: تحریر محمّد اسحاق بیگ 

    فیصلہ کرنے کی صلاحیت :: تحریر محمّد اسحاق بیگ 

    کیا میں اتنا برا ہوں ۔ ” یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب میں اپنے بارے میں،  اپنے آپ کو کہتا ہوں ؟ ”

     "میں ایک کمزورانسان  ہوں۔ میں کبھی بھی کہیں نہیں جا سکتا۔”

     "میں بہت بیوقوف ہوں۔ مجھے اس وقت اس محفل  میں شامل ہونا چاہیے تھا۔”

     "میں فٹ نہیں ہوں۔ میرے پاس ان افراد کے ساتھ کوئی جگہ نہیں ہے۔”

     "میں کبھی بھی کافی نہیں ہوں گا۔ میں اسے کبھی بھی مناسب طریقے سے نہیں کروں گا۔”

     "میں ہر وقت حقیقی طور پر نقصان پہنچا رہا ہوں۔ میں کبھی ٹھیک نہیں ہوں گا۔”

     "کوئی بھی مجھے پسند نہیں کر سکتا۔ میں پیارا نہیں ہوں۔”

     … ، وغیرہ ، وغیرہ

     کیا یہ سچ ہے کہ آپ اپنے فیصلوں کو ذہن میں رکھتے ہیں؟  کیا یہ سچ ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ آپ کتنی بار اپنے آپ کو خوفناک ، غلط ، یا کسی  کمی کا فیصلہاپنے بارے میں کرتے ہیں؟  کیا یہ سچ ہے کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ آپ اپنے فیصلوں کی وجہ سے اپنے احساسات کو کیسے ختم کرتے ہیں؟

     افراد کے ساتھ اپنی  رہنمائی کے کام میں ، میں یہ جانتا ہوں کہ خود فیصلہ کرنا ،  خوف ، غصہ ، بے چینی اور بدحالی کی ایک اہم وجہ ہے۔  تاہم بہت سارے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ مشکل احساسات  ان کے اپنے جذبات ، ان کے اپنے فیصلوں کے اثرات ہیں۔  زیادہ تر نہیں ، جب میں ایک بے چین انسان  سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس اچھی وجہ سے بے چینی محسوس کر رہے ہیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ان کے ساتھ ہونے والی کسی چیز کا براہ راست نتیجہ ہے۔  وہ ایک اصول کے طور پر قبول کرتے ہیں کہ ایک موقع یا فرد ان کے تناؤ کا سبب بنتا ہے۔  تاہم جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ کیا تصور کر رہے ہیں جو ان کی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں تو وہ مجھے خود فیصلہ کرنے دیتے ہیں ، مثال کے طور پر ، "مجھے یہ حق کبھی نہیں ملے گا” یا وہ مجھ پر اپنا فیصلہ تھونپ رہے ہیں اور بتا رہے ہیں  خود ، ” میری بیوی  پرواہ نہیں کرتی ،” یا "میری بیوی  میرے ساتھ بے چین ہو رہی ہے۔”  جب وہ خود فیصلہ کرتے ہیں یا فیصلہ کرتے ہیں کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کر رہا ہوں تو وہ بے چین ہو جاتے ہیں۔  واقعی کچھ نہیں ہو رہا ہے جو ان کے اپنے خیالات کے علاوہ ان کے تناؤ کا سبب بن رہا ہے۔

     ان کے سامنے لانا کہ وہ اپنے نفس کے فیصلے سے تناؤ کا باعث بن رہے ہیں واقعی فیصلے کو نہیں روکتے ہیں۔  یہ اس بنیاد پر ہے کہ خود فیصلہ اکثر درست ہوتا ہے۔  فکسشن ایک جاری طرز عمل ہے جس سے عذاب سے محفوظ رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔  محض اذیت کیا ہے جس کے خلاف فیصلے کی توقع کی جاتی ہے؟

     زیادہ تر لوگوں  میں ، خود فیصلہ کرنے کی خواہش برخاستگی اور مایوسی سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔  دھوکہ یہ ہے کہ ، "یہ فرض کرتے ہوئے کہ میں خود فیصلہ کرتا ہوں ، دوسرے مجھ پر فیصلہ نہیں دیں گے اور مجھے مسترد کردیں گے۔ میں پہلے اپنے آپ پر فیصلہ دے کر دوسروں کے فیصلے سے محفوظ رہ سکتا ہوں ،” یا پھر دوبارہ "اس صورت میں جب میں خود فیصلہ کرتا ہوں ،  میں اپنے آپ کو چیزوں کو صحیح کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کر سکتا ہوں۔ پھر ، اس وقت ، مجھے سیکورٹی کا احساس ہو گا اور دوسروں کی طرف سے اس کی قدر اور تعریف کی جائے گی۔ ”

     کسی بھی صورت میں ، اسی طرح اسکول میں جہاں تک تجزیہ کے مقابلے میں تسلی کے ساتھ بہتر ہے ، اسی طرح ہم بھی بڑے ہو گئے ہیں۔  تجزیہ کار  عام طور پر گھبرائے گا اور ہمیں متحرک کرے گا۔  ہمیں حوصلہ دینے کے بجائے ، یہ کثرت سے کشیدگی کو بڑھا دیتا ہے کہ ہم منجمد ہو جاتے ہیں اور اپنے لیے مناسب اقدام کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔  زیادہ خود فیصلہ سرگرمی کی عدم موجودگی کے بعد ہوتا ہے ، جس سے زیادہ گھبراہٹ اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ہم ایسے حالات کا سبب بنیں جہاں ہم مکمل طور پر پھنسے ہوئے اور ناامید ہو جائیں۔

     اس سے باہر نکلنا خوف ، بے چینی ، غم و غصہ یا اداسی کے احساسات کو ذہن میں رکھنا ہے اور اس کے بعد اپنے آپ سے پوچھیں ، "میں نے اپنے آپ کو کیا بتایا جو اس ذہنی تناؤ  کو بنا رہا ہے؟”  ایک بار جب آپ خود فیصلہ کرنے کے بارے میں ذہن نشین ہوجائیں گے ، تب آپ اپنے آپ سے پوچھ سکیں گے ، "کیا مجھے یقین ہے کہ جو میں خود کہہ رہا ہوں وہ درست ہے؟”  اگر آپ کو 100٪ یقین نہیں ہے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے ، تو آپ اپنے اعلی ، سمجھدار خود یا بصیرت کی گہرائی سے پوچھ سکتے ہیں ، "حقیقت کیا ہے؟”  اگر آپ حقیقت کے بارے میں جاننے کے لیے واقعی بے چین  ہیں تو ، حقیقت آپ کے دماغ میں بس جائے گی ، اور یہ اس سے بہت مختلف ہوگا جو آپ خود بتا رہے ہیں۔

     مثال کے طور پر ، "میں ایک برا انسان  ہوں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں نے یہ کہا ہوتا؟”  بن جاتا ہے "ہم بطور مجموعی طور پر گڑبڑ کرتے ہیں۔ غلطیوں کا ارتکاب کرنا ٹھیک ہے – انسان ہونے کے لیے یہ ضروری ہے۔ غلطی کا ارتکاب اس بات کا مطلب نہیں ہے کہ آپ برے  ہیں۔”  جب ہم حقیقت کے سامنے کھلتے ہیں تو ہم اپنے آپ کو مخاطب کرنے کا ایک طرح کا اور دیکھ بھال کرنے والا طریقہ ڈھونڈیں گے ، ایک ایسا طریقہ جس کی وجہ سے ہم بے چین ، غصے یا حوصلہ شکنی کے بجائے پیارے اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

     نشے کا تعین کرنا مسلسل مشکل ہے ، اور خود فیصلہ پر انحصار کوئی خاص معاملہ نہیں ہے۔  لہذا اپنے ساتھ مہربانی کریں ، اور اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے اپنے آپ پر فیصلہ نہ کریں!  اس کے لیے کچھ سرمایہ کاری اور عزم کی ضرورت ہوگی تاکہ آپ اپنے فیصلوں کو ذہن میں رکھیں اور یہ جان سکیں کہ اپنی دیکھ بھال کیسے کی جائے ، تاہم نتیجہ کام کے قابل ہے!

     میں آپ سب کا بہت۔ مشکور ہوں کے آپ مجھ خشک ذہنی مریض کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں کبھی کبھی مجھے بھی یہی لگتا ہے کے میں ایک پاگل انسان ہوں ۔

     ہاہاہا ۔

     پتا نہیں آپ میرے بارے میں کیا راۓ رکھتے ہیں خیر یہ ایک الگ داستان ہے اس پر پھر کبھی کچھ لکھوں گا ۔

     امید ہے آج کا آرٹیکل بھی آپ کو پسند اے گا ۔

     آپ سب کی دعاؤں کا طلب گار 

     

    @Ishaqbaih___

  • رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  تحریر: خوشنود

    رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم  تحریر: خوشنود

           جب سے یہ کائنات ظہور میں آئی ہے اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی، اپنے بندوں کی اصلاح اور انہیں سیدھی راہ پر چلانے کے لئے مختلف ادوار میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو بھیجا۔ نبوت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر آکے ختم ہوا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللّٰہ عزوجل کے تمام انبیاء مرسلین رحمت تھے مگر رحمت للعالمین نہیں تھے۔ اُنکی نبوت اپنی قوم، اپنے دور اور اپنے زمانے تک محدود تھی جبکہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و شفقت ہر عہد، ہر زمانے، ہر قوم اور تمام جہانوں کے لئے ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔ جہاں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا تعارف رب العالمین کروایا ہے وہاں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت للعالمین کے لقب سے نوازا۔یہ لقب اور شرف ایسا ہے جو کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

    "اور (اے پیغمبر) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”

    اس آیتِ کریمہ پر توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف عرب کے لئے رحمت بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صرف اُمتِ مسلمہ کے لئے رحمت نہیں، تمام نبیوں، رسولوں اور فرشتوں کے لئے بھی رحمت ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تمام چرند پرند، حیوانات و نباتات کے لئے بھی سراپا رحمت بن کر آئے۔ غرض عالم میں جتنی چیزیں ہیں سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سب کے لئے رحمت ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ جو تمام عالموں کا مالک و مختار ہے اُس نے اِن عالموں کے لئے رحمت کا اہتمام اپنے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں کر دیا۔ 

    چھٹی صدی عیسوی کا زمانہ جو بعثت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل کا زمانہ ہے اُس زمانے میں نہ صرف سر زمین عرب بلکہ پوری دنیا جہالت و گمراہی کا شکار تھی۔ پورا معاشرہ پستیوں کی گہری دلدل میں ڈوبا ہوا تھا۔ ذات پات کا ایسا خوفناک نظام رائج تھا کہ انسانیت پناہ مانگتی تھی۔

    حیوان تو حیوان آپس میں انسانوں کے ساتھ بھی جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ انسان انسان کا دشمن اور بھائی بھائی کے لہو کا پیاسا تھا۔ یتیموں کا مال ہڑپ کر لیا جاتا تھا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ کفر و شرک، ظلم و بربریت، قتل و غارت، چوری، ڈاکہ زنی، شراب نوشی نیز ہر قسم کا گناہ عام تھا۔ ان سب حالات اور گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دور کرنے کے لئے عرب کی سر زمین سے وہ آفتابِ ہدایت طلوع ہو جسکی چکا چوند کر دینے والی روشنی نے جہالت کی تمام تاریکیوں کو ختم کر دیا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی۔ جس معاشرے میں غلام اور عورت کی کوئی عزت نہیں تھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس معاشرے میں غلاموں کو بھی عزت دلوائی عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی ہر روپ میں بلند مقام بخشا۔ اللّٰہ تعالیٰ کے تمام احکامات کی صرف تبلیغ نہیں کی بلکہ اپنی زندگی میں عملی طور پہ کر کے بھی دکھایا۔ وہ معاشرہ جو اپنے افعال و اعمال اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے حیوانوں سے بھی بدتر تھا آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہو کر فرشتوں سے بھی افضل گردانا گیا۔ الغرض تاریخِ انسانی میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے جسکی کوئی مثال نہیں۔ 

    وہ دانائے سبل ختمُ الرسل مولائے کُل جس نے 

    غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا 

    نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول، وہی آخر

    وہی قرآں،وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طہٰ

    آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم محسنِ انسانیت ہیں، انسان کامل ہیں اور ہر لحاظ سے قابلِ تقلید ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی قیامت تک کے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ بطور مسلمان ہمیں ہر وقت اللّٰہ کریم کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمتی بنایا۔ جو شخص دنیا میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے گا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و پیروی کرے گا اُسے دونوں جہانوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت سے حصہ ملے گا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں تا کہ ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔

    @_Khushnood_

  • ہمیں آگے جانا ہے یا پیچھے تحریر: سید شاہ میر علی

    آپ نے اکثر سنا ہوگا پاکستان دنیا سے 10 15 سال پیچھے چل رہا ہے مطلب دنیا جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ہوتی جارہی لیکن ہم دنیا سےپیچھے ہیں. مجھے اس بات کا دکھ نہیں کہ پاکستان پیچھے ہےبلکہ خوشی ہےپاکستان ابھی بےحیائی میں دنیا سے پیچھے ہے. ہمارےملک میں اب بھی ‏اسلامی تہذیب موجود ہے. چند دن پہلے خیبر پختونخواہ حکومت نے خواتین طالبہ کے لیےبرقہ اور پردہ لازمی قرار دیا تو ہمارےلبرلز اور موم بتی مافیا جاگ اٹھے اور اس فیصلہ کی خوب تنقید کی. جی ہاں، یہ وہ ہی لبرل مافیا ہے جو ابھی کشمیر میں انسانیت کےقتل پر سو رہی تھی. لیکن ایک اسلامی تہذیب کے ‏نفاز پر یہ لوگ ایسے جاگ گئے جیسے حکومت نے دہشتگردی کی اجازت دے دی ہو یا پھر اور کوئی بہت بڑی غلطی کردی ہو. اور ان لبرلز کی تنقید کے سامنے ہماری حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور پھر وہ فیصلہ واپس لے لیا. یہ انتہائی شرمناک شکست تھی حکومت کی. کیا لبرلز اس حکومت سےزیادہ طاقتور ہیں. پاکستان ‏ایک اسلامی ریاست ہے. پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہونا چاہیے. لیکن ہم مغربی روایت کی طرف زیادہ متوجہ ہیں. عمران خان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کی سب نے حمایت کی اور جیسے ہی مدینہ والے اصول نافذ ہوئے تو سب کو تکلیف شروع ہوگئی. اسلام میں ‏عورت کو پردہ کا حکم ہے. لیکن یہ فیمنیسٹ اس کے خلاف ہیں. بقول ان کے عورت کیسے بھی کپڑے پہنے مرد ان کو گھورتے ہیں. یہ قطعاً غلط ہے. ایسا بلکل نہیں ہاں چند کچھ انسانی شکل کے درندے ہیں جو ایسی گھٹیا حرکات کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہے. اگر عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے تو کوئی نہیں ‏گھورتا انہیں بلکہ عورتوں کے باپردہ ہونے پر مرد بھی اپنی آنکھوں کا پردہ کرتے ہیں. اب اگر عورتیں چھوٹےچھوٹےکپڑوں میں گھروں سے نکلیں تو تقریباً ہر شخص اسےگھورے گا، ہمیں اگر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا ہےتو پھر ہمیں مدینہ والے اصول بھی لاگو کرنے ہونگے. اور یہ کام ہمیں خود کرنا ‏ہے. اور اس کے لیے ہمیں آگے نہیں پیچھے جانا ہوگا. اگر ہم دنیا کی طرح آگے گئے تو پھر آگے صرف فحاشی اور بے حیائی ہے. ہمیں اب ہمیں واپس پیچھے جانے کی ضرورت ہے. پردہ عورت کی کمزوری نہیں بلکہ ایک پروٹیکشن ہوتی ہے. اگر آپ تحقیق کریں تو آپکو ایسی خواتین انجینیرز ڈاکٹرز اور سائنٹسٹ بھی ‏‏ملیں گی جنہوں نے باپردہ ہوکر اپنے خواب پورے کرے. اب وقت ہے ان لبرل مافیا اور موم بتی مافیا کو چپ کرنے کا جو پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنا چاہتے ہیں اور مغربی روایت نافذ کرنا چاہتے ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر بنا اب پاکستان میں اسلامی ریاست بنانا ہوگا. بس اب بہت ہوا.

    Twitter: @Shah_Meer_Ali

  • حصول رزق میں حلال اور حرام کی تمیز  تحریر : فہد شکور

    حصول رزق میں حلال اور حرام کی تمیز تحریر : فہد شکور

    بےعملی بے روزگاری اور گداگری کو سخت نا پسند کیا گیا ہے اور اس پر سخت وعید سنائی گئی ہے

    حدیث مبارکہ میں ہے کہ

    ” حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ تم سے کسی شخص کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور رزق مہ تلاش نہ کرے اور کہتا رہے کہ اللّٰہ مجھے رزق عطا فرما”

    ہمیں حصول رزق کیلئے جدوجہد بھی کرنی چاہیے کیونکہ ہم جانتے ہیں آسمان سونا چاندی نہیں برساتا جو ہم گھر بیٹھے رہے اور کہیں کہ ہمارے پاس رزق نہیں ہے

    خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے

    "کہ جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو اپنے رزق کی تلاش سے غافل ہو کر سوتے نہ رہو”  (کنزالعمال)

    اسلام نے ساری زمین کو انسان کیلئے میدان عمل قرار دیا یے اور انسان کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے معاش کے حصول کیلئے زیادہ سے زیادہ جدوجہد کرے۔ اسلام نے انسان کو مختلف طریقوں سے محنت اور معاشی جدوجہد جے حصول کئیلے اکسایا ہے۔ اسلامی معاشیات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام انسانوں کو معاشی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کو ترقی دی جائے ۔ تمام انسانوں کو معاشی جدوجہد کے مساوی مواقع فراہم کئے جائے کیونکہ فقروفاقہ انسان کو کفر کی طرف لے جاتا ہے۔

    اسلام حصول رزق کیلئے اس بات کی شرط عائد کرتا ہے کہ آمدنی جائز ذرائع سے حاصل ہو اور ہر وہ نفع جو جو غلط طریقہ یعنی حرام ذرائع سے حاصل ہو دوزخ کی آگ قرار دیتا ہے

    ارشاد باری تعالیٰ ہے

    "اے لوگوں جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے حلال اور پاک چیزیں کھاؤ”  (بقرہ 168)

    حرام سے کمائی ہوئی روزی کے متعلق ارشاد نبوی ہے

    "حرام روزی سے پرورش پایا ہوا گوشت اسکا زیادہ مستحق ہے کہ آگ میں ڈالا جائے”

    الجامع الترمذی 614

    حصولِ رزق میں سے ایک ذریعہ سود ہے جو معاشی ظلم کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسلام نے سود کو اور سکی ہر شکل کو حرام قرار دیا ہے پھر چاہے یہ مفرد یا مرکب یا ذاتی قرضوں پر لیا جائے ۔ تجارتی اور پیداواری قرضوں پر حرام ہے۔ اسکو لینے والے کو خدا اور اسکے رسول کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے

    ارشادِ ہے

    "اے ایمان والو !سود کے کئی کئی حصے بڑھا چڑھا کر نہ کھاؤ اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ”

    (آل عمران 130)

    اسلام ںے تجارت کو حلال اور جائز قرار دیا ہے تجارت میں امانت اور دیانت کو ہمیشہ واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے

    "امانت دار تاجروں کا حشر قیامت کے دن صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا”

    اسلام تجارت میں بددیانتی، دھوکا اور وعدہ خلافی کو رد کرتا ہے اس طرح ناپ طول کو درست رکھنا تجارت کا اہم حصہ ہے۔ اسلام ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر لعنت بھیجی گئی ہے۔

    اسلام دولت کے ارتکاز کو پسند نہیں کرتا اور یہ چاہتا کہ جائز طریقہ سے دولت کی تقسیمِ زیادہ ست زیادہ اور منصفانہ ہو اور پورے معاشرے میں دولت گردش کرے

    سودی نظام اور حرام ذرائع سے حاصل کردہ رزق سے ںچنے کیلئے ضروری ہے کہ

    حرام طریقے سے کمانے والے رزق کی شدید مخالفت کی جائے۔ حرام ذرائع روزگار پر پابندی عائد کی جائے۔ جہاں کہیں رزق میں شک ہو اسے ترک کیا جائے ۔ حرام کی کمائی کرنے والے کی کوئی بھی چیز قبول نہ کی جائے ۔اگر ہم ‏‎‎اللّٰہ تعالیٰ کے نظام معیشت پر غور کریں تو سودی نظام ختم ہو سکتا ہے۔ ارشاد ہے۔ صاحب حیثیت لوگ مال کو جمع نا کریں؟ گردش میں رکھیں؟اگر مال گردش میں رہیے گا تو روزگار پیدا ہو گا؟ زراعت اور صنعت ترقی کرے گا؟ کہیں نا کہیں تو پیسہ خرچ ہو گا گردش کے لئے؟ حلال رزق کے زیادہ سے زیادہ او بہتر مواقع فراہم کئے جائے۔ حلال طریقے سے رزق کے راستے آسان کئے جائے تاکہ لوگ حرام کی بجائے حلال طریقے سے رزق حاصل کریں

    اور سود اور حرام کا خاتمہ ہو سکے۔

    جزاک اللّہ

    @Malik_Fahad333