Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان صا حب ہم سے بھول ہوئی  تحریر:اختر علی

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صا حب ہم سے بھول ہوئی تحریر:اختر علی

    جذبات سے موجزن اور احساس سے لبریز حقائق پر مبنی  کہانیاں تو سبھی نے ہی پڑھی اور سنی ہوں گی لیکن کبھی کبھار ان کو پڑھتے ہوئے موجوں کی روانی کی طرح جذبات یوں  امڈتے ہیں کہ ان کے رستے میں آنے والے بند بھی ریت کی دیوار ثابت ھوتے ہیں۔ رفتہ رفتہ چھلکتے ہوئے آنسو دل کو چیر کر جگر کو پارہ  پارہ کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ قارئین محترم! ایسی ہی کچھ  تذبذب کی حالت سے  چند دن پہلے مجھے گزرنا پڑا  جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا ایک انٹرویو  سنا۔ آپ کے اس فقرہ نے تو رلا دیا ”مجھے اس قوم کے لیے کام کر کے پچھتاوا ہوا۔’ ‘  ایسی ہی بہت سی دلخراش  باتیں ڈاکٹر صاحب  کی ز بان سے سنی  تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔

       ڈاکٹر صاحب عالم اسلام  کے وہ  نڈر،  بیباک اور محب وطن  فرد ہیں جن کی شبانہ رو ز  محنت کے نتیجہ میں پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔جنھوں نے دن دیکھا نہ  رات دیکھی,  مال دیکھا نہ صحت دیکھی، صرف اس مشن کی خاطر کام کرتے رہے کہ انڈ یا کے مقابلہ میں پاکستان کا دفاع  نا قابل تسخیر ہو جائے۔ شائد اگر ان کی مخلصانہ  کاوش نہ ہوتی تو آج ہماری حالت عراق، افغانستان، کشمیر، برما،فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک جیسی ہوتی۔ یہ بات ضرور ہے ک امریکہ کو  اس کا قرض چکانہ ہو گا، مسلم امہ ایک دن ضرور بیدار ہو گی،کوئی صلاح الدین ایوبی بھی آئے گا۔(انشااللہ)  لیکن بات ڈاکٹر صاحب کی چل رہی ہے کہ انھوں نے گھمبیر صورتحال میں پاکستان کا مستقبل محفوظ کیا، آج ہم عالیشان محلات میں رہ رہے ہیں، اعلی پائے کی گاڑیوں میں امریکی اور روسی ڈرون طیاروں کے خوف کے بغیر سفر کرتے ہیں تو ان تمام کا سہرا ڈاکٹر صاحب کے سر سجتا  ہے۔

    لیکن! لیکن جب میں آج ڈاکٹر صاحب کی حالت زار دیکھتا  ہوں تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے، اعضاء شل ہو جاتے ہیں۔ وہ عظیم لیڈر جس پر  گل  نچھاور کرتے کرتے پھولوں کا فقدان ہو جانا چاہیے  تھا  لیکن بدقسمتی سے اس کے لئے فٹ پاتھ اور قیدو بند کی صعوبتیں  ہی بچی ہیں۔ کیا محض ” محسن پاکستان” کا لقب دے دینا ہی کافی تھا،  چلیں غیروں کی بات تو ہم نہیں کرتے انھوں نے نہ ہی آپ کو نوبل پرائز دینا تھا نہ دیا، جو اپنے ہیں انھوں نے کیا دیا؟؟؟ کیا ہم نے شہدائے پاکستان کے خون سے  یہ وفا کی ہے کہ جتنا کوئی  بڑا چور، ڈاکو،  لٹیرا اور رہزن ہواسے اتنی ہی زیادہ عزت دی جائے اور مخلص محبان وطن کو پابند

     سلاسل کر دیا۔ ارے! جس شخص نے اکیس کروڑ افراد کی حفاظت کی تو ہم سب اس ایک فرد کی حفاظت نہ کر سکے اور انہیں نظر بند کر دیا،چلیں یہ بھی بات مان لی کہ حکومتی  صفوں میں چھپے بھیڑیوں  نے یہ سب کروایا لیکن بحثیت قوم ہم نے آپ کے لیے کیا کیا؟ ان کی سیاسی جماعت کی بھی سپورٹ نہ کر سکے۔جس شخص کے لیے اگر جان کا  نذرانہ بھی پیش کرنا پڑتا تو گھاٹے کا سودا نہ تھا، اس کے لیے ہم ووٹ کی پرچی بھی نہ دے سکے۔ شائد میرا لہجہ تلخ ہو رہا ہے لیکن ہم نے جو کھرے اور کھوٹے کا معیار سٹ کیا ہے وہ ٹھیک نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم پستیوں کی طرف دھکیلے چلے جا رہے ہیں اور دنیا پر ہمارا دبدبہ ختم ہو رہا ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کہ باوجود بھی ہم دبک رہے ہیں۔ آج ایٹمی طاقت کا حصول بھی کسی اور جماعت کے  لیڈر سے منسوب کیا جا رہا ہے حالانکہ  ڈاکٹر صاحب کی ٹیم نے 1984 میں ہی پروگرام کو حتمی شکل دے دی تھی۔ اس سے کہیں بعد1998  میں باقاعدہ ایٹمی دھماکے کئے اور پوری د نیا کے  مسلمانوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔آج اسی پروگرام کے روح رواں  کے ساتھ اتنی زیادتی  آخر کیوں؟

    میں جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کی باتیں سنتا یوں دل خون کے آنسو روتا ہے، آخر کیا محرکات تھے  جنھوں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا؟  ان محرکات کو  ‘on air’  کرنا مڈیا کی  ذمہ داری ہے۔  میاں محمد بخش نے اسی تناظر کو الفاظ کا روپ دیا تھا

                                                                اصلاں نال جے نیکی کرئیے  نسلاں بعد  نہیں  بھلدے

      بے اصلاں نال  جے نیکی کرئیے پٹھیاں چالاں چلدے

    اللہ رب العزت ڈاکٹر صاحب کو  عمر خضر عطا فرمائے، لیکن ایک دن خالق حقیقی سے بھی  تو ملنا ہے، میں دعوے سے کہتا ہوں آپ کا جناز ہ  ‘تاریخی جنازہ’  ہو گا، آپ پر ستم کر نے والے  بھی  پہلی صف میں نظر آئیں گے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جو افراد  ہماری زندگیوں کے ضامن ہیں کیا  ہم نے  ان سے  وفا بھی ان کے جنازہ  پہ جا کر ہی کرنی ہے؟  کیا ہمارا جنازہ پڑھنا ان کے ساتھ کی جانے وا لی  زیادتیوں کا ازالہ کر دے گا؟  اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں آج عملی محاذ پر آپ کے حق میں آواز بلند کرنا ہو گی۔ تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کریں کہ اگر وہ نگران وزیر اعظم کے لیے ڈاکٹر صاحب کا نام پیش کرتے ہیں تو ہم ان کی سپورٹ کریں گے  ورنہ ہمارے صبر کا پیما نہ  لبریز ہو چکا  اب ہمارے رستے  جدا ہیں۔ اگر ہم نے ڈاکٹر صاحب سے وفا کی ہوتی تو آج ہمیں بجلی کے بحران سے پالا نہ پڑتا۔ اگر آپ کو مناسب منصب پر فائز کیا جاتا تو آج لوگ اپنی اولادوں کو گلوکار بنا نے کی بجائے  ٹیکنا لوجی کے رستے میں ڈال کر سائنسدان بناتے۔ ہمیں  ٹیکنا لوجی کا انحصار دوسرے ممالک سے نہ کرنا پڑتا۔ ڈاکٹر صاحب  ہم نے آپ کو حقیقی معنوں میں لیڈر نہ مان کر سنگھین غلطی کی۔  ڈاکٹر صا حب ہم سے بھول ہوئی!  ڈاکٹر صا حب ہم سے بھول ہوئی!

  • گلاس،قلم اور کیمرہ  تحریر: ثمرہ اشفاق

    گلاس،قلم اور کیمرہ تحریر: ثمرہ اشفاق

    @S_Mughal_

    اب تعویز  گھول کر  پیئے جائیں یا سرجریاں کروا  کر فوٹو بنائے جائیں،اب گالیاں الزامات لگائیں جائیں یا بستروں پر کیمرے نصب کئے جائیں،اب جج خریدے جائیں یا قلم۔۔۔۔۔

    نواز شریف کی سیاست دفن ہو چکی ہے،اس پر مٹی ڈالی جا چکی ہے فاتحہ پڑھیں جا چکی ہے۔

    روح پرواز کر جائے تو واپسی نہیں ہوتی،ایسے ہی ہوا ہے نواز شریف کی سیاست کے ساتھ،۔

    خصوصاً پنجاب کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کا شیرازہ بکھر چکا ہے بظاہر رہنما یہ کہتے پھریں کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں ایسا بلکل نہیں ہے،

    اس وقت ن لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک مریم گروہ جبکہ دوسرا شہباز شریف گروپ۔۔

    نواز شریف کی نا اہلی کے بعد جس طرح مریم نواز نے سیاست میں گند اور زہر بھرا وہ تاریخ میں سیاہ الفاظ سے لکھا جائے گا۔

    مسلم لیگ ن نے ہمیشہ خواتین پر کیچڑ اچھال کر سیاسی مخالفین کو بلیک میل کرنے اور ہار ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے  

    بے نظیر بھٹو کی ننگی تصویریں پھینکنے کا معاملہ ہو یا عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان کے خلاف الزامات۔۔۔

    اس آگ میں مزید تیزی آ گئی ہے۔جب سے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد مریم نواز نے باقاعدہ سیاست میں قدم رکھا تو سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

    مریم نواز نے با قاعدہ پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی ویڈیو دکھا کر کہا کہ ان کے پاس اور بہت ویڈیوز ہیں اور وہ وقت آنے پر منظر عام پر لائیں گی،جس کا مطلب کھلم کھلا بلیک میلنگ۔

    یعنی اپنی آمدن کے ذرائع بتانے کے بجائے انہوں نے دھمکی دی کہ ہم سے کچھ نہ پوچھو ورنہ معاشرے میں بدنام کر کہ چھوڑیں گی۔

    دوسری طرف شہباز شریف مریم کے بیانیے سے اختلاف رکھتے ہیں اور اداروں کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کرتے ہیں۔یعنی پھوٹ واضع پڑ چکی ہے،دراڑ آ چکی ہے،باہمی اعتماد ختم ہو چکا ہے۔

    اگر شہباز شریف نیشنل ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں تو مریم انکاری ہیں اور اگر مریم چیف آف آرمی سٹاف کی ایکٹینشن کو گناہ کہتی ہے تو حمزہ شہباز اگلے ہی دن اس کی تردید کرتا ہے۔

    شہباز شریف راستہ نکالنے کی کوشش میں ہیں جب کہ مریم اپنے والد کی ڈوبتی سیاست کو بچانے میں سرگرم۔

    مسلم لیگ ن کا ورکر اس وقت دو با نیوں میں پھنس چکا ہے ایک بیانیہ مفاہمت ا ور دوسرا مزاحمت۔

    مریم نواز اداروں پر پریشر ڈال کر خود کو اور خاندان کو احتساب سے بچانا چاہتی ہیں جب کہ وہ اس میں مکمل ناکام ہیں،کیوں کہ فوج مخالف بیانیہ پٹ کر رہ چکا ہے جس کی مثال گلگت بلتستان اور کشمیر کےا نتخابات ہیں۔

    مریم نواز اپنا ہر پتہ کھیل چکی ہیں جب کہ فوج اس بار سیاست میں مداخلت سے مکمل انکاری ہے۔

    بیک ڈور رابطوں سے لے کر اداروں کے سربراہان کے نام لیکر لزامات، نواز شریف اور بیٹی ہر حربہ کر کہ دیکھ چکے ہیں۔

    ان سب ناکامیوں کے بعد مریم نواز نے اب وزیراعظم کی اہلیہ پر انتہائی سنگین اور غلط الزامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مریم نواز محظ ایک نوٹنکی کے کچھ بھی نہیں۔

    ان کی نہ کوئی قابلیت ہے اور نہ کوئی سیاسی قد کاٹھ۔

    مریم کے الزامات کے بیانیے نے مسلم لیگ ن کو خاطر خواہ نقصان پہنچایاہے۔

    الغرض سیاست میں بہت گند پھیل چکا ہے،خود پر لگے الزامات کا جواب دینے کے بجائے مخالفین کی ذاتی زندگیوں کو لے کر من گھڑت الزامات لگائے جاتے ہیں۔

    مریم نواز کے اس جادو ٹونے کے الزامات کے بعد صحافیوں کا ایک جانبدار ٹولہ بھی میدان میں آیا ہے اور الزام تراشی میں مصروف عمل ہے۔

    کیا صحافیوں کو اپنے پیشے کے حساب سی یہ زیب دیتا ہے؟ اور کیا مریم نواز کو بطور سیاستدان ایسے الفاظ زیب دیتے ہیں؟

    نواز شریف کی سیاست کو اگر کسی نے دفن کیا ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کی اپنی صاحبزادی ہیں۔جن کی سیاست الزام سے شروع ہو کر الزام پر ختم،جن کا اپنا کوئی سیاسی کیریئر نہیں یے۔جو اپنے باپ کی ایک موٹر وے گن گن کر عوام کو پھر ورغلا رہی ہیں۔جن کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے آ جاتے اور ان کو معلوم تک نہیں ہوتا۔۔

    خدارا اب بس کرو اور اپنی دولت کا حساب دو!

    عدالتیں حساب دینے کے لئے ہیں فوٹو سیشن کے لئے نہیں،

    اگر گلاس تھام کر ، رنگ برنگی تنگ کپڑوں سے ہی عوامی لیڈر بنا جا سکتا تو ملک اس وقت اداکاروں کے ہا تھ میں ہوتا۔ اب قلم خرید کر،نہ کیمرے نصب کر کہ،نہ گلاس پکڑ کر فوٹو شوٹ سے عوام میں مقبولیتنہیں ملے گی۔پاکستانی اب باشعور ہیں۔

  • چھاتی کے سرطان سے آگاہی۔ پنک ربن تحریر شائستہ سرور آرائیں

    بریسٹ کینسر جیسے اردو زبان میں چھاتی کا سرطان کہا جاتا ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً چالیس ہزار خواتین چھاتی کے سرطان کی وجہ سے جان کی بازی ہار دیتی ہیں وجہ آگاہی نہ ہونا خصوصاً ہماری دیہات کی خواتین تو اس بیماری کے نام سے بھی نا واقف ہیں علاج تو پھر دور کی بات ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہ ذہنی پسماندگی کہہ لیں عورت چاہے پڑھی لکھی ہو یا انپڑھ  اپنے جسم کے پوشیدہ گوشوں میں درد کوئی تکلیف محسوس کریں گی تو خود سے دوائیاں کھا لیں گی مگر  بے پردگی جھجک شرم میں ڈاکٹر کے پاس نہیں جائیں گی چاہے موت بھی سامنے ہو ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہو جائیں گی مگر مجال ہے لبوں سے اپنی اذیت بیان کریں اور چھاتی کا سرطان بھی جسم کے حساس حصّے کا کینسر ہے اس پر ہمارے معاشرے میں  بات کرنا بہت ہی مشکل چیلنج ہے۔ ہمارے ملک میں کئ علاقوں میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے بھی خواتین مرد ڈاکٹرز کے پاس جانے کی ہمت ہی نہیں کر پاتی ہیں اور ایسے میں وقت ہاتھ سے نکل جاتا۔
    اکثر آپ نے اپنے اردگرد دیکھا ہو گا عورت بیمار ہے جی فلاں نے جادو کر دیا پیر سائیں کے پاس دم کروایا ہے وغیرہ وغیرہ باتیں سننے کو ملتی ہیں اور اس چکر میں بیماری کا بر وقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے عورت ایک زندہ لاش بن جاتی ہے۔ چھاتی کے سرطان جیسی بیماری میں چھاتی میں گلٹی محسوس ہوتی ہے درد اتنا نہیں ہوتا اور ایسے میں ان دم کرنے والوں کی چاندنی ہو جاتی ہے اور مریضہ گھر کے کام کاج با آسانی کر رہی ہوتی ہے تو اسے لگتا ہاں جی میں ٹھیک ہوں ایسے کرتے بیماری کی ایک سٹیج کراس ہو جاتی ہے یعنی کے لا علمی یہی وجہ ہے کہ پہلی سٹیج پر تشخیص چار فیصد سے بھی کم ہے۔
    اس وقت پاکستان میں ہر نو میں سے ایک خاتون کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ لاحق ہے یہلے ہم یہ سنتے تھے کہ یہ مرض بڑی عمر کی خواتین میں پایا جاتا ہے لیکن اب کم عمر بچیاں بھی اس بیماری میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ اس موذی بیماری سے متعلق  شعور اجاگر کرنے کے لئے عالمی دنیا سمیت پاکستان میں اکتوبر کے مہینے کو بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے طور پر منایا جاتا یے۔ مختلف پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ڈاکٹرز ٹاک شوز کے ذریعے اس بیماری سے متعلق آگاہی دے رہے ہوتے ہیں۔
    اس مہینے آپ کسی کو فون کریں آپ کو چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا پیغام  سنائی دے رہا ہو گا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اب لوگ اس بیماری پر بات کرتے ہیں انہیں شعور آیا ہے جس تیزی سے یہ بیماری پھیل رہی ہے اس طرح کے پروگرام  بس اکتوبر کے مہینے تک محدود نہیں رکھنے چائیے بلکہ ہر ماہ  دیہی علاقوں میں خاص کر ایسے پروگرامز منعقد کرانے چائیں تاکہ خواتین باشعور ہونے کے ساتھ خود اعتماد بھی ہو سکیں۔
    اب  بات کر لیتے ہیں چھاتی کے سرطان کی علامات پر سب سے پہلے عورت کو یہ پتا ہونا ضروری ہے کہ چھاتی دکھتی کیسی ہے تاکہ اگر کسی قسم کی تبدیلی ہو تو وہ بر وقت جان سکے اپنا جسمانی معائنے کے ساتھ وہ میمو گرام اور کلینیکل بریسٹ ایگزام کروا سکے یہ ہی وہ ٹیسٹ ہیں جس کی وجہ سے کینسر کی تشخیص ممکن ہوتی ہے۔ علامات پر ہم نظر ڈالیں تو چھاتی میں درد محسوس ہونا جلد کا سرخ کھردرا ہونا چھاتی کے مختلف  حصوں یا پوری چھاتی پر سوجن جلن کا ہونا دھبے پڑ جانا بغل یا چھاتی پر گلٹی کا ہونا نپل میں تبدیلی سرخ ہونا  سخت ہونا سائز اور ان کی ساخت میں تبدیلی کا ہونا چھاتی  سے دودھ کے علاوہ خون یا کسی اور مادے کا اخراج یا پیپ کا نکلنا۔ اس کے علاؤہ جینیاتی وجوہات، خاندانی ہسٹری ماہواری میں بے قاعدگی،بچوں میں وقفے کی دوائیوں کا استعمال الکوحل کا زیادہ استعمال موٹاپا وغیرہ  اگر ان میں سے لگے یہ علامات آپ کو ہیں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں خود سے ڈاکٹر نہ بنیں یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ چھاتی کا سرطان ہی ہو گلٹی کی کئ اور بھی وجوہات ہوتی ہیں اس لیے وقت ضائع کئے بغیر اپنے معالج سے رابطہ کریں۔
    خواتین کو چاہیے کہ تیسں سال کی عمر میں پہنچ کر پانچ سال میں ایک مرتبہ اپنا میمو گرافی لازمی کروائیں اگر چالیس سال میں ہیں تو ہر دو سال کے بعد اپنا معائنہ کروائیں کیوں کہ چھاتی کے سرطان کا خطرہ اوسط چالیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے اور پچاس سال کی عمر میں پہنچ کر ہر سال میمو گرافی کروانی چاہیے۔ چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے لئے میمو گرافی کے علاؤہ تھری ڈی میموگرافی بریسٹ الٹراساونڈ ایم آرآئی ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں انکے فوائد بھی ہوتے ہیں رسک بھی اس لئے خواتین ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ٹیسٹ کروائیں۔
    ڈاکٹروں کے مطابق چھاتی کے سرطان کو چار سٹیج میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی سٹیج میں سرطان چھاتی تک محدود رہتا دوسری سٹیج میں بغل تک تیسری میں گردن تک اور چوتھی سٹیج میں پھیپھڑوں، جگر،ہڈیوں اور جسم کے دوسرے دور دراز حصوں تک پہنچ جاتا۔ ہمارے یہاں دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے شہر کی بات کریں یا کسی بڑے شہر کی پڑھے لکھے لوگ بھی اکثر ڈاکثر کے پاس جانے میں دیر کر دیتے ہیں اگر مریض پہلی یا دوسری سٹیج پر ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو اس سٹیج میں مرض قابل علاج ہوتا ہے مریض ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرے تو وہ مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے۔سٹیج تیسری اور چوتھی میں مریض کا مکمل علاج بہت مشکل ہوتا ہے جتنا مرضی اچھا علاج کروا لے پیچیدگیوں کا سامنا درپیش رہتا ہے۔ مریض کو کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے اس کا انحصار کینسر کی سٹیج اور اس کی قسم پر منحصر ہوتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اس چیز کو سمجھیں کہ چھاتی کے سرطان کا اگر بروقت علاج کیا جائے تو یہ بیماری قابل علاج ہے۔
    خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنا طرز زندگی بدلیں گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر ورزش کریں روانہ کچھ دیر چہل قدمی کریں متوازن غذا کا استعمال کریں میں نے کوشش کی بہت سادہ الفاظ میں اس بیماری سے متعلق آگاہی فراہم کروں الفاظ کا چناؤ ایسا کروں کہ ہر کوئی میری بات با آسانی سمجھ سکے۔
    اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں ان سے بات کرتے رہیں انہیں وقت دیں اللّٰہ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے آمین ثم آمین۔۔!!
    از قلم : شائستہ سرور آرائیں
    @Shasii_Arain

  • قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی برائے چائینہ پاک اکنامک کوریڈور کے وفد کا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی فیصل آباد اور فیڈمک کا دورہ

    قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی برائے چائینہ پاک اکنامک کوریڈور کے وفد کا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی فیصل آباد اور فیڈمک کا دورہ

    قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی برائے چائینہ پاک اکنامک کوریڈورکے چیئرمین شیر علی ارباب کی قیادت میں کمیٹی کے دیگر ارکان قومی اسمبلی نے فیصل انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (فیڈمک)اور علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی فیصل آباد کا دورہ کیا۔پارلیمانی کمیٹی کے ارکان علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں لگنے والے ملکی وغیرملکی صنعتی یونٹس میں گئے اورتعمیراتی کاموں کا بھی جائزہ لیا۔سی ای او فیڈمک رانا یوسف،سابق صدر چیمبر آف کامرس ضیا علمدار بھی موجود تھے۔اس موقع پر سی پیک پارلیمانی کمیٹی قومی اسمبلی کے ارکان کو فیڈمک میں بریفنگ دی گئی۔کمیٹی اراکین نے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں تعمیراتی کاموں پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو ترقیاتی کاموں کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین نیشنل اسمبلی پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک نے کہا کہ اکنامک زون کے معاملات بڑی اہمیت کے حامل ہیں جنہیں فوری حل کئے جایا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں کوتیزی سے آگے بڑھانا ترجیح ہے۔سی پیک خطے کی معاشی ترقی کے لئے گیم چینجر ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں بجلی کی جلد فراہمی کے لئے فیڈرز بڑھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں صنعتی ترقی کا سفر عروج پر ہے اور ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کو وسیع مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔پارلیمانی کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کے ترقیاتی کاموں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سی ای او نے بتایا کہ انڈسٹری نہ لگانے پر 22 پلاٹس خالی کرائے گئے ہیں اور آئندہ میٹنگ میں مزید پلاٹس کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے گی جبکہ منسوخ پلاٹس کی فہرست پارلیمانی کمیٹی کو بھی بھجوائی جائے گی۔ڈائریکٹر فیڈمک نے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایم تھری انڈسٹریل سٹی کے امور فاسٹ ٹریک پر چلائیں گے۔

  • شرم کیجئے ناکہ دفاع کیجئے        ازقلم :غنی محمود قصوری

    شرم کیجئے ناکہ دفاع کیجئے ازقلم :غنی محمود قصوری

    شرم کیجئے ناکہ دفاع کیجئے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    گزشتہ دنوں سے قوم منہگائی اور خاص کر پیٹرول کی قیمتوں پر شدید پریشان ہے جو کہ بلحاظ آمدن جائز بھی ہے
    کیونکہ پاکستان ایک غریب ملک ہے مگر اس کے حکمرانوں کی عیاشاں بھی سب کے سامنے ہیں، وزراء کی فوج ظفر فوج اور پروٹوکول سب کے سامنے ہے

    اس مہنگائی پر جہاں ساری قوم پریشان ہے اور غریب دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو رہا یے وہیں چند بے ضمیر لوگ بجائے خاموشی اور عوام سے دو بول ہمدردی کے بولنے کی بجائے الٹا حکومت کا دفاع کر رہے ہیں اور یوں باور کرا رہے ہیں کہ پاکستانی قوم ایک سخت ناشکری قوم ہے اور ملک میں کوئی مہنگائی نہیں

    تاریخ گواہ ہے کہ اگر اسقدر حالات کسی اور ملک کے خراب ہوتے تو خانہ جنگی یقینی تھی یقین نہیں تو آپ شام،لیبیا،عراق کو ہی دیکھ لیجئے

    ہر کسی کو پتہ ہے کہ مہنگائی حد سے بڑھ چکی ہے اور بارہا سرکاری طور پر بھی اس کا اعتراف کیا جا چکا ہے
    مگر اس کے باوجود یہ جھوٹے لوگ دن رات گورنمنٹ کا دفاع اور عوام کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہیں ان جھوٹے لوگوں کے متعلق فرمان ہے

    اِنَّمَا یَفۡتَرِی الۡکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ
    جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا یہی لوگ جھوٹے ہیں
    (سورۃ النحل: 105)

    کوئی بھی حالات ہو جھوٹ کا سہارا اللہ کے ناپسندیدہ لوگ ہی لیتے ہیں اگر یہ لوگ ملک کے ہمدرد ہوتے تو سابقہ ادوار کی مہنگائی پر واویلا نا مچاتے

    بات آگے بڑھانے سے پہلے راقم حلفاً اقرار کرتا ہے کہ اس کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی بھی تعلق نہیں اور میں ایک کالم نگار ہوں میرا کام حق سچ لکھنا ہے اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی مرتے دم تک حق سچ لکھنے،بولنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

    ان حکومتی حمایتی جھوٹے مکار لوگوں نے ایک بات بہت مشہور کر رکھی ہے کہ دنیا میں سب سے سستا پیٹرول پاکستان میں بکتا ہے جو کہ قطعاً غلط بات ہے
    یہ لوگ پیٹرول کی قیمت بتاتے ہیں مگر مزدور کی آمدن کا موازنہ دیگر ممالک سے نہیں کرتے
    اس وقت پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 138 روپیہ اور مزدور کی زیادہ سے زیادہ مزدوری 900 روپیہ روزانہ ہے جبکہ اگر فیکٹریوں و دکانوں پر کام کرنے والوں کی مزدوری دیکھی جائے تو وہ 500 سے 600 روپیہ ہے
    پیٹرول تو ایک طرف اس وقت دیگر ضروریات زندگی بھی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں
    پیٹرول کا توازن دیگر ممالک سے کرنے والوں کیلئے ہم ان کی خدمت میں دنیا کے تین بڑے ممالک میں مزدور کی آمدن اور پیٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کرتے ہیں

    امریکہ میں مزدور کی روزانہ آمدن پاکستانی روپیوں میں 10000 اور پیٹرول کی قیمت پاکستانی 165 روپیہ ہے
    برطانیہ میں مزدور کی مزدوری روزانہ 12000 اور پیٹرول کی قیمت پاکستانی روپیوں میں 205 روپیہ جبکہ چائنہ میں مزدور کی پاکستانی روپیوں میں آمدن 2000 اور پیٹرول کی قیمت پاکستانی روپیوں میں 205 روپیہ ہے
    اب کوئی ان جھوٹے کذاب لوگوں سے پوچھے کہ کس بنیاد پر تم جھوٹے دعوے کرتے ہو کیا مر کر اللہ کے ہاں پیش نہیں ہونا ؟
    کیا روزانہ کی آمدن اور پیٹرول کی قیمت کسی صورت بھی موازنہ کر پاتی ہے دیگر ممالک سے؟
    کیا ہماری بھی آمدن دیگر ممالک کی طرح زیادہ ہے؟
    کیا پاکستان کے لوگ دیگر ممالک کی نسبت زیادہ پیٹرول استعمال کرتے ہیں؟
    کیا دیگر ممالک میں پیٹرول عالمی منڈی کے حساب سے فروخت نہیں ہوتا ؟
    کیا تمہارا قبر میں حساب اعمال کی بجائے حکمران پر ہو گا ؟
    کیا ساری عوام مہنگائی سے چیخ نہیں رہی ماسوائے چند لاکھ بے ضیمر اور بلیک مارکیٹنگ افراد کے علاوہ ؟
    کیا ملک میں امن امان کی صورتحال بھگڑی نہیں اور اس ساری صورتحال کے پیش نظر لوگوں میں چوری ڈاکے اور خودکشیوں کا رجحان بڑھا نہیں ؟
    پیٹرول کے علاوہ اب تک اس گورنمنٹ نے لوگوں کی چیخیں ٹیکس لے لے کر جس طرح نکلوائی ہیں وہ بھی آپ کی نظر کرتے ہیں
    ایک معروف ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں ملکی قرضوں میں اضافے کی صورت حال کو دیکھا جائے تو 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ورثے میں 6127 ارب روپے کا اندرونی اور بیرونی قرضہ ملا جس میں 2013 تک پی پی پی نے 133 فیصد یعنی 8165 ارب روپے کا اضافہ کیا اور یہ 14292 ارب روپے تک پہنچ گیا

    پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے 5 سالہ دور میں قرضوں کے حجم کو 74.60 فیصد یعنی 10661 بڑھایا اور ملک کا اندرونی اور بیرونی قرضہ 24953 ارب روپے تک پہنچ گیا جو ملکی جی ڈی پی کا 72.5 فیصد تھا

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی قرضوں میں کمی لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن 3 سالوں میں قرضوں میں 60 فیصد یعنی 14907 ارب روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور جون 2021 میں پاکستان کا اندرونی اور بیرونی قرضہ 39859 ارب روپے پر پہنچ چکا ہے جو مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا 83.5 فیصد ہے جبکہ پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور میں پٹرول 72 روپے اور اور ڈیزل 83 روپے ریکارڈ مہنگا کیا گیا جبکہ 37 ماہ میں صرف ٹیکسز کی مد میں 500 ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکلوائے گئے ہیں
    جولائی 2021 سے 16 اکتوبر 2021 تک حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 30 روپے سے زائدکا اضافہ کر کے عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور ساری دنیا جانتی ہے موجودہ گورنمنٹ نے اپنے پروٹوکول ،تنخواہوں و اخراجات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے جبکہ اس وقت کے نیک ترین مانے جانے والے عمران خان نیازی نے لوگوں سے جو بھی وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا گیا
    بلکہ خان صاحب جس بھی چیز بارے نوٹس لیتے ہیں وہ چیز لوگوں کی پہنچ سے دور ہی ہوتی چلی گئی ہے اور بلیک مارکیٹنگ افراد کو کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں جس کا جب جی چاہتا ہے مارکیٹ سے چیز غائب کرکے منہ مانگے داموں فروخت کرتا ہے
    حیرت کی بات ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے ایسے جھوٹے لوگ دفاع کرتے کہتے ہیں کہ جی اسے ابھی ٹائم دیجئے وقت لگے گا
    کیا اس نے پہلے وقت نہیں مانگا پھر وقت اور پھر وقت ؟

    کیا کرتا رہا یہ بندہ اتنی دیر ساسیت میں رہ کر ؟
    کیا اسے 22 سال تک سیاست میں رہ کر معلوم نا تھا بطور اپوزیشن کیا قرضوں کے بغیر ملک نہیں چلتے اور کرپٹ و پرانی سیاسی جماعتوں کے ریجیکٹڈ بندے کام نا کام کرتے ہیں نا کرنے دیتے ہیں؟

    سب پتہ تھا اسے بس مرنے سے پہلے وزیراعظم پاکستان بننے کا خواب پورا کرنا لازم تھا خان صاحب پر جو انہوں نے جھوٹے وعدے کرکے عوامی ہمدردی حاصل کرکے کر لیا ہے

    ایسے وعدہ خلاف بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں

    وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل 34)

    اور وعدہ پورا کرو، یاد رکھو عہد کی باز پرس ہوگی

    یقیناً روز قیامت کی باز پرس بڑی سخت ہوگی اور اس وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ہیں کوئی درجہ چہارم کے ملازم نہیں ساری دنیا جانتی ہے سائیکل پر دفتر جانے کا وعدہ ،ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ ،بنی گالہ میں سرکاری رہائش کرنے کا وعدہ ،پارلیمنٹ ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا وعدہ ،پیٹرول و دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتیں نیچے لانے کا وعدہ نیز وعدے ہی وعدے کئے عوام سے اپنے جیتنے کیلئے تاہم پورا ایک بھی نا کیا البتہ اپنی تنخواہ، مراعات ،پروٹوکول،سرکاری اخراجات و کابینہ بڑھا لی کیونکہ یہ پیسہ قوم کا ہے انہیں کیا

    ان حکومتی دفاعی اور صرف عوام کو بے صبرہ ثابت کرنے والوں کے نام صیحیح بخاری کی ایک حدیث پیش خدمت ہے تاکہ یہ لوگ دفاع کی بجائے شرم محسوس کر سکیں

    عَنِ الْحَسَنِ قَالَ أَتَيْنَا مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ نَعُودُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ

    ایک صحابی فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا اور اس نے ان کے معاملہ میں خیانت کی اور اسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے
    صحیح بخاری ۔کتاب الاحکام ,حدیث نمبر 7151

    تو کھوکھلے نعرے لگانے والوں شرم کرو ناکہ دفاع کرو
    قبر میں حکمران نہیں بلکہ اعمال کام آئینگے تم نے اپنا حساب خود دینا ہوگا
    جھوٹ بھول کر اپنے اعمال ضائع نا کرو-

  • ویسٹ انڈیز ویمنز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

    ویسٹ انڈیز ویمنز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

    ویسٹ انڈیز ویمنز کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گی جس کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق ویسٹ انڈیز کی خواتین نومبر میں تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کے لیے پاکستان آئیں گی پی سی بی کے یوٹیوب چینل کے ذریعے دنیا بھر میں لائیو سٹریم کیا جائے گا۔

    ویسٹ انڈیز اور پاکستان کی ویمنز ٹیموں کے درمیان 3 ون ڈے 8، 11 اور 14 نومبر کو کراچی میں ہوں گے۔پی سی بی کا کہنا ہے کہ سیریز کیلئے ویسٹ انڈیز کی ٹیم یکم نومبر کو کراچی پہنچے گی جس کے بعد دونوں ٹیمیں 21 نومبر سے 5 دسمبر تک ہونے والے آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر کے لیے زمبابوے جائیں گی۔

    پری سیریز کیمپ 23 اکتوبر سے 5 نومبر تک حنیف محمد ہائی پرفارمنس سنٹر میں ہوگا۔

    جنوری فروری میں جنوبی افریقہ اور جون جولائی میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے کے بعد 2021 میں پاکستانی خواتین کی یہ تیسری دو طرفہ سیریز ہوگی۔ اسٹافائن ٹیلر کا ویسٹ انڈیز یکم نومبر کو کراچی پہنچے گا جو کہ ایک باہمی دورے کے لیے ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز ویمنز ٹیم کا پاکستان آنا خوش آئند ہے یہ پاکستان میں خواتین کی کرکٹ کے فروغ ، تشہیر اور ترقی کے لیے ایک بہترین سیریز ہوگی ، اس کے علاوہ دونوں فریقوں کو ورلڈ کپ کوالیفائر کی تیاری کا بہترین موقع بھی فراہم کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین ٹیم کے بعد ویسٹ انڈیز کی مینز ٹیم بھی پاکستان آئے گی جو دسمبر میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹونٹی میچوں کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی۔

    دوسری جانب ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائرز اور ویسٹ انڈیز سے سیریز کیلئے پاکستان ویمنز ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے 18 رکنی پاکستان ویمنز ٹیم کی قیادت جویریہ خان کریں گی۔

    پاکستان ویمن ٹیم میں جویریہ خان کے علاوہ ایمن انور، عالیہ ریاض، انعم امین، عائشہ ظفر، ڈیانا بیگ ،فاطمہ ثنا، ارم جاوید، کائنات امتیاز، ماہم طارق، منیبہ علی، نشرہ سندھو، ندا ڈار اور عمیمہ سہیل شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ رامین شمیم، سعدیہ اقبال، سدرا امین اور سدرا نواز کو بھی پاکستان ویمنز اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

    معاون عملہ: فزا عابد (ٹیم منیجر) ، ڈیوڈ ہیمپ (ہیڈ کوچ) ، ارشد خان (اسسٹنٹ کوچ) ، کامران حسین (اسسٹنٹ کوچ) ، صبور احمد (طاقت اور کنڈیشن کوچ) ، زبیر احمد (تجزیہ کار) ، ڈاکٹر رفعت اصغر گل (ہیڈ فزیوتھیراپسٹ) اور رابعہ صدیق (فزیوتھیراپسٹ)-

    سیریز کے لیے قومی خواتین ٹیم کا کیمپ 23 اکتوبر سے شروع ہوگا اور 5 نومبر تک حنیف محمد ہائی پرفارمنس سنٹر ، کراچی میں جاری رہے گا۔ کیمپ کے اختتام پر ٹیم ہوٹل شفٹ ہو گی۔

    واضح رہے کہ ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائرز 21 نومبر سے زمبابوے میں ہوں گے۔

  • گوگل کی ویب براؤزر کروم استعمال کرنیوالوں کو وارننگ

    گوگل کی ویب براؤزر کروم استعمال کرنیوالوں کو وارننگ

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنے ویب براؤزر گوگل کروم کو استعمال کرنے والے 2 ارب سے زائد صارفین کو وارننگ گاری کر دی-

    باغی ٹی وی : امریکی جریدے فوربز کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کروم پرخطرناک ہیکرز حملہ کر سکتے ہیں جس سے صارفین کی قیمتی معلومات لیک ہونے کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق گوگل نے چند روز قبل ہی بتایا تھا کہ براوزر کروم پر انتہائی سنجیدہ نوعیت کی سیکیورٹی خامیاں سامنے آئی ہیں آج گوگل نے اپنے بلاگ میں ایک مرتبہ پھر انکشاف کیا ہے کہ کروم میں مزید سیکورٹی خامیاں اور پیچیدگیوں کو پتہ چلا ہے۔

    دو ہفتوں سے بھی کم عرصہ قبل چار سنگین خطرات کی تصدیق کے بعد ، گوگل نے ایک نیا بلاگ پوسٹ شائع کیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کروم میں مزید پانچ ‘ہائی’ ریٹیڈ کمزوریاں پائی گئی ہیں اور ساتھ ہی 11 دیگر خامیاں بھی پائی گئی ہیں ان خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ہیکرز صارفین کی انتہائی قیمتی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

    اس لیے گوگل نے کروم صارفین کو منتبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد کروم کا جدید ترین ورژن اپڈیٹ کریں۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی کے نام کا اعلان کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی کے نام کا اعلان کر دیا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم اب انہوں نے اس کمپنی کے نام کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبرساں ادارے میل آن لائن کے مطابق ڈونلڈٹرمپ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے جا رہے ہیں اس کا نام ’ٹروتھ سوشل‘ (Truth Social)ہو گا ڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ نئی سوشل میڈیا کمپنی اس شعبے میں ٹوئٹر اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر دے گی۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو 60 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق ٹروتھ سوشل کا آغاز ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ(ٹی ایم ٹی جی)کے پلیٹ فارم سے کیا جا رہا ہے کمپنی کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ان کا مشن بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے جو اپنی اجارہ داری کا فائدہ اٹھا کر امریکہ میں مخالف آوازوں کو دبا رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئی سوشل ایپلی کیشن شروع کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایسی دنیامیں رہ رہے ہیں جہاں طالبان کے بڑی تعداد میں ٹوئٹر اکاﺅنٹ موجود ہیں لیکن آپ کے پسندیدہ امریکی صدر کو خاموش رکھا گیا ہے۔

    فیٹف کا تین روزہ اجلاس کا اعلامیہ جاری، پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ برقرار

    ڈونلڈٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ جلد ہی میں ٹروتھ سوشل پر اپنا پہلا سچ شیئر کروں گا۔ ٹی ایم ٹی جی کی بنیاد اس مشن کے ساتھ رکھی گئی ہے کہ سب کی آواز کو جگہ دی جائے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کمپنی کے ذریعے میں بڑی ٹیک کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکوں گا۔

    دوسری طرف تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ نئی سوشل میڈیا کمپنی قائم کرکے دراصل 2024ءمیں ہونے والے امریکی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں-

    مہنگائی کے خلاف پی ڈی ایم کل ملک بھر میں احتجاج کرے گی

  • 70 سالہ خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش

    70 سالہ خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش

    بھارتی ریاست گجرات کے ضلع کچ میں 70 سالہ خاتون کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیون بینرباری نامی خاتون نے ویٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) کے طریقہ کار سے بذریعہ آپریشن بچے کو جنم دیا۔

    خاتون کے ڈاکٹر نریش بھانوشالی نے بتایا کہ جب خاتون پہلی بار ہمارے پاس آئی تھیں تو ہم نے انہیں بتایا کہ اتنی بڑی عمر میں بچے کی پیدائش ناممکن ہے لیکن انہوں نے زور دیا کہ انہیں بچہ چاہیے اس عمر میں بغیر کسی پیچیدگی کے بچے کی پیدائش کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

    ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی عمر کی وجہ سے اس کیس کو ہینڈل کرنے میں کافی سوچ بچار کی لیکن بعد میں یہ کیس لے لیا ، دونوں میاں بیوی کو بچے کی بہت خواہش تھی اور دونوں کافی عرصے سے بچے کے انتظار میں تھے۔

    ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ بچہ بالکل صحت مند و تندرست ہے جبکہ اس کی ماں جیون بینرباری کی صحت بھی ٹھیک ہے۔

  • بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی دوہائیاں ،تحریر: نوید شیخ

    جہاں آج ایک بار پھر شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی ضمانت خارج کر دی گئی تو جہنم واصل ہونے والے بھارتی فوجیوں کی بیویاں دوہائیاں دے رہی ہیں کہ "جے او کشمیر منگدے آں تے دے دو”

    ۔ اریان کو ضمانت کیوں نہیں دی جا رہی ہے ۔ شاہ رخ کے حوالے سے بات کی جائے تو ضمانت منسوخی کے بعد اب آریان خان کے وکیل نے ممبئی کی ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پر جو دیکھائی دے رہا ہے کہ یہ جس مرضی کورٹ میں چلے جائیں ان کو ریلیف نہیں ملنا ۔ کیونکہ اس حوالے سے ایک درخواست بھارتی سپریم کورٹ میں بھی گئی ہوئی ہے ۔ وہاں بھی کوئی خاص امید نہیں ہے کہ ان کی سنوائی ہو ۔ پر میں بتاوں شاہ رخ خان کو ریلیف مل سکتا ہے اور یہ ریلیف کوئی عدالت نہیں مودی دے سکتا ہے ۔ اور اس کے لیے شاید اب شاہ رخ کو نام بھی بدلنا پڑے گا اور مذہب بھی بدلنا ہوگا ساتھ آر ایس ایس اور بی جے پی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرنا پڑے گی ، گنگا اشنان بھی کرنا ہوگا اور سنگھیوں کے ساتھ کنبھ کے میلے میں جا کر پوجا پاٹ بھی کرنا پڑے گی وہ بھی بیوی بچوں سمیت ۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا کہ بھارت میں انصاف صرف بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہندوؤں کو ہی مل سکتا ہے ۔ ویسے شاہ رخ خان کی بیوی گوری خان ایسا اقدامات کر رہی ہیں کہ جس سے ہندوتوا کے پجاریوں کو ٹھنڈا کیا جاسکے جیسے انھوں نے اپنے گھر کے ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ اُن کے بیٹے آریان خان کو ضمانت نہ ملنے تک گھر میں کسی قسم کا کوئی میٹھا نہ بنایا جائے۔ گوری خان نے خود بھی 7 اکتوبر کو نَوراتری کے تہوار کے آغاز کے بعد سے کچھ بھی میٹھا کھانا چھوڑ دیا ہے۔

    ۔ پر میرا مشورہ ہے ان کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ۔ معاملہ شاہ رخ خان کے نام کا ہے اس کے مذہب کا ہے ۔ جو مودی اور ہندوتوا کے پجاریوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ آپ دیکھیں ابھی بھی وہ ہی دونمبر قسم کی کہانیاں بھارتی میڈیا بتا رہا ہے جس کا نہ تو کوئی ثبوت ہے نہ ہی شہادت ہے ۔ آج بھی بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ کے مطابق این سی بی حکام کا کہنا ہے کہ آریان خان جب امریکا اور دبئی میں تھے تو اس دوران بھی وہ منشیات کا استعمال کیا کرتے تھے۔ پتہ نہیں یہ اریان کو خود اپنے ہاتھوں سے چرس کے سگریٹ بنا بنا کر دیتے تھے یا پھر یہ خود منشیات اریان خان کو سپلائی کرتے تھے ۔ کیونکہ اتنے وثوق سے تو پھر میڈیا نہیں اریان خان سپلائر یا ساتھی ہی بتا سکتا ہے ۔ پھر بھارتی ایجنسی نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی جانب سے آریان اور ان کی نئی فلم میں آنے والی ساتھی اداکارہ کی واٹس ایپ چیٹ بھی لیک کی گئی ہے۔ جس کے مطابق یہ دونوں منشیات سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں ۔ ابھی اس کا فرانزک ہونا باقی ہے ۔ مگر بھارتی میڈیا نے اس کو لے کر شاہ رخ خان کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ چیٹ ٹھیک بھی ہو تو جو کچھ بھی کیا اریان نے کیا شاہ رخ خان کہاں سے بیچ میں آگیا ۔

    اس کے علاوہ این سی بی کی جانب سے آریان خان کی منشیات فروخت کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کی آڈیو بھی عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آریان کے وکیل اس پر کیا موقف دیتے ہیں کہ واقعی جس سے اریان خان کی بات ہو رہی تھی وہ کوئی ڈرگ ڈیلر تھا کہ نہیں یا یہ کس ریفرنس میں تھی ۔ سوال بنیادی پھر وہ ہی ہے کہ جس مقدار میں منشیات پکڑی گئی ہیں اس میں کسی کو بھی بھارتی قانون کے مطابق اتنے دن جیل میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ اول تو گرفتاری ہی ممکن نہیں ۔ پھر آپ دیکھیں کہ اریان کے پاس سے کچھ برآمد نہیں ہوا پھر شک کی بنیاد پر اس کو مسلسل کیسے جیل میں رکھ سکتے ہیں اور ایک کے بعد ایک ضمانت جو کینسل کی جارہی ہے ۔ اس میں اب کسی کو شک نہیں رہ گیا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ کارفرما ہے ۔ کیونکہ اریان تو ایک بہانہ ہے اصل نشانہ شاہ رخ خان ہے ۔ اور یہ خفیہ ہاتھ مودی کا ہی ہے ۔ اس لیے مجھے تو لگتا ہے یا تو اب شاہ رخ خان باقاعدہ ہندو مذہب اختیار کرے گا یا پھر بھارت سے بھاگے گا ۔ ۔ دراصل مودی نے بھارت کو بری طرح پھنسا دیا ہے ۔ اندر سے بھی اور باہر سے بھی ۔

    ۔ اس وقت بھارت کے لیے المیہ یہ ہے کہ اس وقت وہ تین محاذوں پر پھنس چکا ہے ۔ اور یہ تینوں محاذ گرم ہوچکے ہیں ۔ ایک تو چین کے ساتھ لداخ کے محاذ پر ، ایک پاکستان کے ساتھ اور ایک مقبوضہ کشمیر کے اندر ۔۔۔ کشمیرمیں صورتحال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ کسی غیر کشمیری کو نہیں چھوڑا جا رہا ہے ۔ بھارتی فوجی روز جہنم واصل ہورہے ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف کو کشمیر کا ہنگامہ دورہ کرنا پڑ گیا ہے ۔ کشمیر کی آزادی کے لیے اب بھارت کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں اس کی واضح مثال اس بھارتی فوجی کی بیوی کا بیان ہے جو میں نے آپکو سنا ہے ۔ اس وقت مودی نے کشمیر کے چپے چے پر آپریشن میں معاونت کے نام پر خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین تعینات کردیے ہیں ۔ ضلع پونچھ اور راجوڑی میں قابض بھارتی فورسز کا آپریشن مسلسل دس دنوں سے جاری ہے۔ بھارتی فوج ، پولیس ، سینٹرل ریزرو پولیس فورس، این آئی اے اور انٹیلی جنس بیورو سمیت دیگرپیراملٹری فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے ماہرین سب وہاں موجود ہیں ۔ یہاں تک بھارتی آرمی چیف منوج نروانے بذات خود وہاں پہنچے ہیں ۔ پر مجاہدین تو دور کی بات ان کا کوئی سراغ تک نہیں مل رہا ہے ۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ شروع دن سے کشمیریوں نے کسی بھی کالے قانون کو ماننے سے انکار کیا ہوا ہے ۔ اب دیکھا جائے تو افغانستان کے حالات کا ان پر بہت اثر ہوا ہے اور اب انھوں نے دہشت گرد بھارتی فورسز کے خلاف ویسی ہی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے جو طالبان نے مسلسل بیس سال تک امریکہ اور اسکے حواریوں کے خلاف کی ہے ۔ کرنی بھی چاہیئے کیونکہ کبھی انہیں کشمیر سے بے دخل کرنے کے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں تو کبھی کشمیریوں کو دوبارہ سے وادی کا شہری ثابت کرنے کے لئے کاغذات اکٹھے کرنے کا حکم دیا جاتاہے۔ اس وقت مودی سرکار نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل دے کر کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا خوفناک منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ یقینی طور پر اس پر کشمیریوں کو اشتعال تو آنا ہی تھا اس کا درعمل اب دیکھائی بھی دینا شروع ہوگیا ہے۔ اپنی طاقت کے مطابق وہ جتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں پہنچا رہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے ۔ کشمیر میں ایک نئی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے ۔ کئی سیکٹرز میں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے یہاں تک وہ پندرہ سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل کرچکے ہیں ۔ پھر کشمیری نوجوانوں نے غیر مقامی ہندووں کے خلاف کارروائی سے ایک پیغام دے دیا کہ کشمیریوں کواقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ روک دیا جائے۔ ورنہ نتائج کا ذمہ دار خود مودی ہوگا ۔ مودی درعمل کے طور پر وہ ہی پرانے حربے استعمال کر رہا ہے ۔ کہ اس نے پورے بھارت کی مشینری کو وادی میں جھونک کر طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آواز کو دبانے کا کھیل شروع کر دیا ہے ۔ گزشتہ دس دنوں میں 1500سے زائد کشمیری جوانوں کو گرفتار جبکہ دس سے زائد کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اب یہ طاقت کے زور پر انسانی ، مذہبی اور سیاسی حقوق پامال کر رہی ہے ۔ پر ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں اور حربوں سے نہ تو پہلے کشمیریوں کے جذبہ شوق شہادت ، جذبہ ایمانی اور آزادی کی خواہش کو دبایا جا سکا ہے نہ اب یہ کیا جاسکے گا ۔

    ۔ الٹا بھارتی فوج شدید ٹینشن کا شکار ہے کہ اب موجود بگڑتے حالات کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں بھی ان کو ایک اچھی خاصی تعداد میں فوجی وہاں پر رکھنے پڑیں گے ۔ جبکہ دوسری جانب لداخ اور ارونا چل پردیش میں چین ان کی خوب پٹائی کر رہا ہے ۔ پھر مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی خود کشیوں کا نہ تھمنے والاسلسلہ لگاتار جاری ہے۔7
    اکتوبر کو ایک اہلکار نے ذہنی تناؤ کے باعث پھندے سے لگ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ 16اکتوبر کو ضلع کپواڑہ میں ایک اوراہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ۔ اس سے ایک روز قبل کپوارڑہ میں ہی ایک فوجی اہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر خودکشی کرلی تھی اس طرح ایک ہفتے کے دوران خود کشی کرنے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کی تعداد چار ہوگئی ہے ۔ ۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر تین دن میں ایک فوجی خود کشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہا ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران گیارہ سو سے زائد جوانوں نے خود اپنی جان لے لی۔ لیکن اس ہفتے خودکشی کرنے والے قابض بھارتی اہلکاروں کی تعدادمیں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کا ذمہ دار کشمیر میں موجودہ حالات کو کہا جا رہا ہے ۔ پر ایسا لگتا ہے کہ مودی کو بھارتی فوجیوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اس کے سر پر بس اگلا الیکشن سوار ہے ۔ ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کرنے والے قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ حالانکہ فوجی قیادت ان خودکشیوں کو روکنے اور فوجیوں کو ذہنی دبا ئوسے نکالنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ لیکن مرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پھر ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہر سال سینکڑوں فوجی اہلکار جنگ کے بغیر ہی مارے جاتے ہیں اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی دستوں کے حوصلے پست ہوتے جارہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود کشمیر میں ناکامی سب سے بڑا سبب ہے۔ ۔ کشمیری مجاہدین اور بھارت کی شمالی ریاستوں میں لڑائی کی باعث بھارتی فوج کا مورال گرچکا ہے۔ ۔ جو حالات بن رہے ہیں مجھے تو لگ رہا ہے کہ جیسے افغانستان میں تبدیلی آئی ہے ایسے جلد مقبوضہ کشمیر میں بھی آئے گی اور انشااللہ ان کو بھی جلد آزادی نصیب ہو گی