Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کا دنیا کو دھوکہ، تحریر: نوید شیخ
    جہاں افغانستان سے امریکی انخلاکے بعد طالبان کے امریکا سے پہلے باضابطہ مذاکرات دوحہ میں ہوئے ہیں ۔ تو افغان طالبان کیجانب سے داعش پر ۔۔۔ اور داعیش کی جانب سے افغان طالبان پر حملے جاری ہیں ۔ ۔ اس وقت افغانستان میں تین طرح کی پراکسیز اپنا زور دکھا رہی ہیں۔ ٹی ٹی پی ۔ بی ایل اے ۔ داعیش اس میں سرفہرست ہیں ۔ پہلے اگر امریکہ طالبان مذاکرات کی بات کی جائے تو طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کامطالبہ کیا ہے ۔ جو کہ بالکل جائز مطالبہ ہے ۔ پھر ان کی جانب سے افغانستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ مگر اس وقت امریکہ کی دلچسپی امریکی شہریوں کے افغانستان سے بحفاظت انخلا، اغوا شدہ امریکی شہریوں کی بازیابی اور افغانستان میں انسانی حقوق میں ہے۔

    ۔ آپ امریکی دونمبری چیک کریں کہ اسکو افغانستان میں انسانی حقوق کی بڑی فکر لاحق ہے لیکن دہائیوں سے فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ امریکہ کو کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنے لاڈلوں بھارت اور اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مذمت کرے۔ پھر امریکہ کا یہ نقطہ نظر بھی عجیب ہے کہ جب امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتا تو پھر مذاکرات مذاکرات کا کھیل کیوں کھیل رہا ہے ۔ کھل کر سامنے آئے ۔ طالبان کو اپنا دشمن ڈیکلیئر کرے ۔ تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ یہ افغانستان میں امن نہیں چاہتا خون خرابہ چاہتا ہے ۔ آخر کیوں امریکہ نے دنیا کو ایک نئی مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ کہ طالبان حکومت کو ابھی کوئی قبول نہ کرے ۔ یہ دنیا کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ دیکھا جائے تو امریکہ خود دنیا میں امن کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ پھر ان کی ملی بھگت دیکھیں کہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طالبان حکومت کو امداد دینے کے معاملے پر بظاہرکسی ایک نکتے پر متفق دکھائی نہیں دئیے۔ یہ صرف ایک واردات ہے ۔ دھوکہ دینے کی کوشش ہے ۔ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ افغانی بھوکے مریں ۔ اور طالبان حکومت مستحکم نہ ہونے پائے ۔ پھر امریکہ طالبان مذکرات کے حوالے سے جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ بات چیت میں فریقین نے داعش کو کنٹرول کرنا موجودہ افغان حکومت کے لیے ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے ۔ اس حوالے سے سہیل شاہین نے مذاکرات سے قبل ہی بتا دیا تھا کہ افغانستان میں داعش خراسان کے مسلسل فعال ہونے کے بعد واشنگٹن کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہو گا۔ اور مذاکرات صرف امریکا کی مرضی کے ایجنڈے پر نہیں برابری کی سطح پر ہوں گے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ صرف ایک فریق اپنی ہی مرضی مسلط کرائے۔

    آپ دیکھیں یہ کیسا اتفاق ہے کہ ادھر امریکہ کی ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ wendy sharman پاکستان پہنچتی ہیں اور ادھرافغانستان کے لیے سب سے افسوسناک سانحہ رونما ہوجاتا ہے۔ پھر پاکستان کو کہا جاتا ہے کہ طالبان حکومت کو قبول نہیں کرنا ۔ مجھے تو اس داعش کی کاروائی کے پیچھے ۔۔۔ را ۔۔۔ کا ہاتھ دیکھائی دیتا ہے کیونکہ مسجد میں دھماکوں کا فائدہ بھارت کو ہی ہوا ہے ۔ کیونکہ ایک طرف اس کے بیانیے کو تقویت ملی ہے تو دوسرا امریکہ بہادر نے پاکستان پر افغانستان کو لے کر پھر پریشر بڑھا دیا ہے ۔ دراصل امریکہ سمیت اس کے اتحادی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر افغانستان کی معیشت روس اور چین جیسے مضبوط سہاروں اور پاکستان کی افرادی قوت اور عسکری امداد کے ذریعے بہتر ہونا شروع ہو گئی تو پھر ایران ، پاکستان ، تاجکستان اوراس سے ملحق وسط ایشیائی ریاستیں باہمی تجارت میں شامل ہو جائیں گی جس سے سی پیک کے راستے مزید وسیع ہو جائیں گے۔ چنانچہ امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی تکون افغانستان کے امن کو برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور یہی ان کا مشن ہے۔ پھر اب یہ راز نہیں رہا کہ کیرالہ ، اتر پردیش اور مہاراشٹر سے داعش کے لیے بھرتی ہوتی ہے اور بھارت ہی میں ان کی تربیت کے لیے بنائے گئے مراکز میں انہیں تربیت دینے کے بعد وسط ایشیائی ریاستوں اور دوسرے راستوں سے افغانستان میں داخل کرنے کے لیے انڈین خفیہ ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس کے سابقہ اہلکار پیش پیش ہیں۔ جن کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے داعش کی تخلیق کے متعلق اپنے انٹر ویو میں جو کچھ کہا تھا وہ بھی ریکارڈ پر ہے اور اس عالمی دہشت گرد گروہ کے بارے بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔ حقیقت میں داعش کی تخلیق کے مقاصد اب کسی کے لیے راز نہیں رہے ۔ داعش اور بھارت اب ایک نام بن چکے ہیں۔ مگر امریکہ نے بھارت کو اپنا مستقبل کا اتحادی ڈکلیئر کیا ہوا ہے۔ لیکن یہی داعش کا سر پرست اعلی بھی ہے۔ اگر ایک تخلیق کار ہے تو دوسرا اسے نفری اور اطلاعات فراہم کرتا ہے ۔ ان تینوں ملکوں کی مثلث یعنی امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کے مقاصد بڑے واضح ہیں کہ افغانسان ، پاکستان اورایران کوچین سے دوررکھا جائے۔ دراصل یہ امریکہ اسٹائل ہے کہ جن ممالک میں امریکی اور اتحادی قوتیں یلغار کے ذریعے اپنا تسلط قائم نہیں کر پاتیں ۔ وہاں داعش کا مہلک وائرس پھیلنا شروع ہو جاتا ہے ۔ عراق ، شام اور لیبیا میں جو کھیل کھیلا گیا اب وہ ہی کھیل افغانستان میں کھیلا جا رہا ہے ۔ اس وقت افغانستان کے امن کو سبو تاژ کرنے کی بھیانک سازش رچی جا رہی ہے ۔ جس کے بعد ممکن ہے پورا مغرب یہ چلانا شروع کر دے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو روکا نہیں جا رہا۔ ان پر پابندیاں لگاؤ ۔ ان کا سب کچھ بند کر دو ۔

    ۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہے کہ جس دہشت گرد گروہ نے اپنی شناخت ۔۔۔ دولت اسلامیہ ۔۔۔ کے نام سے بنائی ہے اُس کو نہ تو بھارت میں آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلم کشی دکھائی دیتی ہے۔ نہ ہی گائے کے قریب سے گزرنے والے مسلمانوں کی انتہا پسند ہندوئوں کے ہجوم کے ہاتھوں المناک شہادت نظر آتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلمان مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں کون لوٹ رہا ہے؟ یہ بھی اسکو نظر نہیں آتا ۔ نہ ہی کبھی اسرائیل کے غزہ اور فلسطین میں جبر کے مناظر ان کے ضمیر کو جھنجوڑتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ داعش کا ہر حملہ اور اس کے بنائے گئے لشکر وں کا ظلم ایسے مسلمانوں ہی پر ہوتا ہے جو امریکہ کی غلامی سے دور بھاگتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گرد گروہ کو پناہ گاہیں کون دے رہا ہے؟ فنڈنگ کون کررہا ہے ۔ مدد کون فراہم کر رہا ہے ؟ اس کا بڑا آسان سا جواب ہے کہ آپ دیکھیں کہ ۔ داعش کس کے مقاصد پورے کر رہی ہے؟ یہ اسی طرح ہے کہ جیسے کسی سے بھی پوچھا جائے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف کس کا مشن پورا کر رہی ہے۔ پھر اس بارے میں سابق افغان صدر حامد کرزئی کا دعویٰ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کہا تھا کہ افغانستان میں داعشی جنگجوئوں کو امریکی افواج سپورٹ کررہی ہے۔ داعش سے نمٹنا صرف افغان طالبان کی ذمہ داری نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک ۔۔۔ پاکستان، ایران، چائنا، وسطی ایشیائی ریاستیں اور روس ۔۔۔ کے لئے اس ناسور کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ مستقبل قریب میں یہ پورے خطے کوایک نئے عذاب سے دوچار کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر آپکو یاد ہو تو دو ہزار سترہ میں سندھ میں لال شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی داعش ہی نے قبول کی تھی جس میں نوے کے قریب زائرین شہید ہوئے تھے۔ حال ہی میں بلوچستان کے ضلع مچھ، مستونگ میں حملوں کے پیچھے بھی داعش کا ہاتھ تھا۔ اسی طرح خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بھی یہ تنظیم اپنی موجودگی کا ثبوت دیتی رہی ہے۔

    دوسال قبل اس تنظیم نے افغانستان کی طرز پر پاکستان میں ’’دولت اسلامیہ ولایۃ ‘‘ کے نام سے اپنا فرنچائز کھولا تھا ۔ افغانستان میں پچھلے چند سالوں کے دوران جتنے بھی حملے ہوئے۔ اس کی ذمہ داری اعلانیہ طور پر اس تنظیم نے قبول کی ہے۔ تو اس کا قلع قمع کرنا صرف طالبان حکومت ہی نہیں خطے کے تمام ممالک کے لیے ضروری ہے ۔ ۔ آخر میں بس یہ بتا دوں کہ آپ امریکہ طالبان کے خلاف تمام پابندیوں کو ایک طرف رکھیں اور یہ دیکھیں کہ امریکہ ان لوگوں پر پابندیاں کیوں عائد نہیں لگاتا جو افغانستان کو لوٹ کر بھاگے ہیں اور امریکہ میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔۔ تازہ خبر ہے کہ افغانستان کے سابق وزیر دفاع عبدالرحیم وردک کے بیٹے داؤد وردک نے los angles میں 20.9 ملین ڈالر کی ایک عالیشان حویلی خرید لی ہے۔ داؤد وردک miami beach کے مہنگے ترین resort میں 5.2 ملین ڈالر کے ایک یونٹ کے مالک بھی ہیں۔ امریکہ کی اس خرید و فروخت پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ کیا پابندیاں صرف طالبان کے لیے ہی ہیں۔

  • سائنسدانوں نے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا لیا

    سائنسدانوں نے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا لیا

    مریخ کا ماحول کیسا ہو گا معلوم کرنے کے لئے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا کر وہاں رہنے اور کام کرنے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس مقصد کے لیے اسرائیل کے صحرائی علاقے نگیف میں مریخ سیارے کا متوقع ماحول تیار کیا گیا ہے۔یہ تجربہ امریکا، برطانیہ، جرمنی، آسٹریا اور اسرائیل کے ماہرین مل کر کر رہے ہیں اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر روور گاڑی بھی تیار کی گئی ہے جو ہر طرح کی سطح پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرے والی گاڑی بالکل ویسی ہی بنائی گئی ہے جیسی اس سے قبل مریخ مشن پر بھیجی گئی تھی 2035 کے مریخ مشن میں انسانوں کے ہمراہ تھری ڈی پرنٹر بھی بھیجا جائے گا جبکہ ایک تجربہ گاہ کو اسپیس سینٹر کی صورت میں تیار کیا گیا ہے-

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائنسدانوں کا دعویٰ

    تیار کئے ئے مذکورہ اسپیس سینٹر کے ماحول میں 6 ماہرین جن میں 5 مرد اور 1 خاتون اہلکار خلائی سوٹ پہنے 4 ہفتے گزاریں گے اور مختلف سائنسی تجربات کئے جائیں گے یہ تجربہ آسٹرین اسپیس فورم کے تحت کیا جا رہا ہے-

    رپورٹ کے مطابق مریخ کی سطح پر اب تک کوئی انسان لینڈ نہیں کر سکا تاہم ایسی امید کی جا رہی ہے کہ 2035 تک پہلا انسانی مشن مریخ کی سطح پر اتر کر تجربات کا آغاز کرے گا۔

    آسٹرین سائنس فورم کے مطابق خلابازوں اور خلائی انجنیئرز کی ایک ٹیم آسٹریا میں کنٹرول روم سے حالات پر مکمل نظر رکھے گی 6 خلابازوں کی آئسولیشن 31 اکتوبر کو ختم ہو گی۔

    4 ہفتے کے دوران یہ خلاباز تازہ خوراک استعمال کر پائیں گے نا ہی عام زندگی میں حاصل سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے تجربہ گاہ سے باہر آنے کی صورت میں خلائی سوٹ پہننا بھی لازم ہو گا صرف جسمانی ہی نہیں دماغی اور جذباتی صحت پر بھی اکیلے پن اور مشکل ترین حالات کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    اس سے قبل سا ئنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائسندانوں کا کہنا تھا کہ اب وہ نظام شمسی سے آگے ہیسیان کی دنیا میں پہنچ چکے ہیں جن میں زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں جن کا پتہ دو سے تین سال کے اندر لگایا جا سکتا ہے۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہرین فلکیات نے امکان کا اظہار کیا ہے کہ زمین سے دو گنا بڑا ’منی نیچیون‘ نامی سیارہ رہائش کے قابل ہو سکتا ہے ہائسیان نامی خلائی نظام میں ایسے سیارے موجود ہیں جن میں سمندر ہیں اور ان کے اندرونی حصوں میں ہائیڈروجن بھی موجود ہے جو انسانی زندگی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ہائسن ہمارے نظامی شمسی سے دور ایک ایسا نظام ہے جہاں دنیا کے موافق سیارے موجود ہیں ان میں پتھریلی چٹانے اور وسیع میدان ہے سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سیارے انسانی رہائش کے قابل ہیں یہ سیارے توانائی حاصل کرنے کے لیےسورج جیسے بڑے ستاروں کے گرد گھومتے ہیں۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی، تحریر: محمد شعیب

    اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی، تحریر: محمد شعیب

    بہت سے لوگوں کو ایک غلط فہمی ہے کہ امریکہ نے چونکہ تیسری دنیا کے ممالک کی امداد میں کمی کردی ہے لہذا امریکہ نے از خود سپر پاور ہونے سے دستبرداری کر لی ہے۔ حالانکہ اصل صورتحال مختلف ہے امریکہ نے روس کا خطرہ کم ہونے پر امداد بند کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی عسکری بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ امریکہ آج بھی دنیا کا بڑا پلیئر ہے۔ یہ سچ ہے کہ امریکہ کو اب سمندروں پر اجارہ داری بر قرار رکھنے کے مسائل در پیش ہیں۔

    اب امریکہ نے خاص حکمت عملی کے تحت جنوبی ایشیا، سنٹرل ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے اپنی توجہ ہٹا کر بحیرہ ہند ، انڈین پیسفک اور ساوتھ چائنہ سی پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ۔ اس وقت امریکہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ چین ہے ۔ آج کا امریکہ چین کی ابھرتی طاقت اور دنیا میں پھیلتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان نظر آتا ہے۔ چین کے خلاف چار ملکوں کی سوچ اور انڈرسٹینڈنگ چند سال سے واضح ہے۔ ان چار ممالک میں امریکہ کے علاوہ جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ پھر ابھی دو روز قبل کی خبر ہے جس میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے چین کو 21ویں صدی میں امریکا کے لیے سب سے بڑا جغرافیائی و سیاسی خطرہ قرار دیتے ہوئے چین سے متعلق معاملات دیکھنے کے لیے اعلیٰ سطح کا خصوصی چائنا مشن سینٹر قائم کردیا ہے۔ ڈائریکٹر سی آئی اے ولیم برنز نے کہا ہے کہ چائنا مشن سینٹر کا مقصد چین کی جانب سے درپیش عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ آسان الفاظ میں امریکہ نے چین کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں اب تک سات اقدامات اٹھائے ہیں ۔
    New China Monitor Centre in CIA
    Five Eyes Partnership
    Pacific Deterrence Initiative
    Quad
    Integrated Defence
    AUKUS
    Tech Grouping

    اب یہ تمام معاہدے اور گروپنگ ایسی ہے ۔ جس کے بعد یہ تواتر کے ساتھ خبریں چل رہی ہیں کہ تیسری عالمی جنگ کسی وقت بھی چھڑ سکتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسے دھیمے لہجے میں سرد جنگ کہا جاتا تھا مگر اب اسے تیسری عالمی جنگ کہا جا رہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ صرف چند برسوں میں ہی چین ترقی کی عالمی دوڑ اور عالمی سپر پاور کا درجہ لینے کے کھیل میں بہت آگے نکل گیا ہے ۔ اس کی معیشت تمام اندازوں سے زیادہ ترقی کر رہی ہے۔ اس کو کرونا سے لے کر کوئی بھی اتحاد اور ٹریڈ وار روک نہیں پا رہی ہے ۔ جو ذہن میں رکھنے کی چیز ہے وہ یہ ہے کہ آج جس سرد جنگ کا آغاز ہوتا نظر آ رہا ہے اس کی نوعیت جیواکنامک ہے۔ ٹیکنالوجی اس دوڑ کا اہم ستون ہے کہ موجودہ دور میں جو قوم ٹیکنالوجی میں آگے ہوگی وہی تیز اقتصادی ترقی کرسکے گی۔ ٹیکنالوجی کی جنگ کی ایک مثال چین کی (Huawei) کمپنی ہے جو ٹیکنالوجی میں خاصی آگے ہے۔ پھر امریکہ سمجھتا ہے جنوبی ایشیا کے معاملات کو سنبھالنے کیلئے اس کا نیا اتحادی انڈیا کافی ہے جس نے 2020 سے لیکر اب تک چین سے کئی بار مار کھائی ہے۔ ابھی حال ہی میں بھارتی میڈیا نے ارونا چل پردیش میں چینی فوجیوں کو زیر حراست رکھنے کے دعوے کئے تھے جس پر چین نے بھارتی فوجی قیدیوں کی تصاویر جاری کر کے ان کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ پھر ایک ہفتے پہلے چینی فوج بڑے آرام سے اتراکھنڈ میں پانچ کلومیٹر تک اندر آئی ۔ پل تباہ کیا۔ اور واپس چلی گئی ۔ کسی بھارتی سورما میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ چینی فوج کا سامنا کرے ۔ دراصل چین بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس نے کواڈ گروپ میں شامل ہو کر اچھا نہیں کیا اور اسی لیے مستقبل میں حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ بھارت نے اس میں شامل ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اس خطے میں مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ان کا بغل بچہ بن کر رہے گا ۔ اس بات کا چین بھارت کو مسلسل سبق سیکھا رہا ہے ۔

    آپ دیکھیں ففتھ جنریشن وار ہو ، بیانیہ کی جنگ ہو ، پراپیگنڈہ ہو ، سرحدوں پر معاملات ہو ، عالمی پلیٹ فارمز پر ایجنڈہ ہو ۔ چین پر محاذ پر اپنے مخالفین کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے ۔ امریکہ کی بد قسمتی یہ ہے کہ جنوبی ایشیا ء میں بھارت کے علاوہ اس کا عزت سے نام لینا والا کوئی ملک بچا نہیں ہے ۔ روس چین، سنٹرل ایشیاء کے ممالک ، پاکستان ، ایران ، ترکی سب امریکہ کے جارحانہ رویے سے نالاں ہیں۔ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے کیلے کوئی تیار نہیں ہے۔ امریکہ بھی عالمی سطح پر بڑے منصوبے لانچ کرنے کیلئے بے تاب ہے۔ پر اس کی دال نہیں گل رہی ہے ۔ اسی وجہ سے امریکہ میں چین کے لیے ایک سخت مخالفانہ ماحول ہے۔ لیکن اس کے باوجود ابھی تک چین نے اپنی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے ۔ الٹا امریکہ کے لیے پیغام دیا جا رہا ہے کہ چین کی جو پالیسیاں ہیں۔ وہ اپنی جگہ درست ہیں اور امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ان پالیسیوں کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑے گا۔ ۔ ساتھ ہی چین کا لب ولہجہ سخت ہو رہا ہے۔ سفارتی سطح پر چین کے ۔۔۔ وولف واریئرز ۔۔۔ جارحانہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔ جس میں وہ مصلحت آمیز رویے کے بجائے تصادم کا لہجہ اختیار کر رہے ہیں۔ ابھی کل ہی تمام تر پریشر اور مغربی میڈیا کے پراپیگنڈہ کے باوجود چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا دیا ہے کہ تائیوان کو دوبارہ چین کا حصہ بنانے کا عمل ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ ہم یہ عمل پرامن طریقے سے کریں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ چین کے لوگ علیحدگی کے خلاف جدوجہد کی ایک عظیم داستان رکھتے ہیں۔ کسی کو بھی چینی عوام کے مضبوط عزم ، پختہ ارادے ،قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مضبوط صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے ۔ پر یہاں پر امریکی دوغلا کردار دیکھائی دیتا ہے ایک جانب اس نے تائیوان کو آگے لگا کر اب چین کے سامنے مرنے کے لیے اکیلے چھوڑدیا ہے ۔ یہ ہی ڈر بھارت اور جاپان کو بھی ہے کہ امریکہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیتا ہے ۔ سوال یہ ہے کیا جاپان ، آسٹریلیا اور انڈیا اپنے کندھے آسانی سے امریکہ کو پیش کردیں گے۔ انڈین لیڈرشپ خوب جانتی ہے کہ امریکہ انہیں چین سے لڑا کر ایک طرف ہو جائے گا اور نتائج انڈیا بھگتے گا۔ ۔ پھر انڈین یہ بھی سوچتے ہیں کہ آخر ایٹمی آبدوزیں آسٹریلیا کوکیوں مل رہی ہیں۔ اس پر بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ جب چاروں ممالک میں چین مخالف ایجنڈا پر اتفاق کسی حد تک موجود تھا تو پھر تین ممالک (امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا) کا نیا گروپ کیوں بنایا گیا؟

    انڈیا کی سابق سیکرٹری خارجہnirpama rao نے اس نئے اتحاد کو چار رکنی اتحاد کی پیٹھ میں سٹریٹیجک چُھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس لیے جو حالات دیکھائی دے رہے ہیں ۔ انڈیا امریکہ کی خاطر چین سے نہیں لڑے گا بلکہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلے گا۔ امریکہ سے وہ پہلے ہی کافی فائدے اٹھا چکا ہے۔ ۔ اسی لیے اس دفعہ سرد جنگ میں وہ تیزی نظر نہیں آئی جو گزشتہ صدی کی کولڈوار میں تھی۔ اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلی سرد جنگ میں یورپی ممالک پوری یکسوئی سے امریکہ کے ساتھ تھے۔ وہ نیٹو میں بھی شامل ہوئے جبکہ اکیسویں صدی کی کولڈوار کے ساتھی بشمول انڈیا اور جاپان دل و جان سے امریکہ کے ساتھ نہیں لگتے۔ ان کے چین کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات ہیں ۔ پھر صدر شی بھی دنیا کے سٹیج پر چین کا جارحانہ امیج دکھانے کے حامی رہے ہیں۔ صدر بننے کے بعد سے انہوں ان اقدامات پر زور دیا ہے کہ چین زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرے اور اپنے اندر فائٹنگ سپرٹ پیدا کرے۔ ہانگ کانگ ، تائیوان ، لداخ اس کی مثالیں ہیں ۔ چین کی اس پالیسی سے اس چیز کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنی سفارتی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی ضروری نہیں سمجھتا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہانگ کانگ اور تائیوان پر کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس طرح وہ ہمالیہ سے لے کر ساوتھ چائنہ سی تک پائے جانے والے علاقائی تنازعات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس وقت چین خاموشی سے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی طاقت اور برتری کا خوف لوگوں کے ذہنوں سے چھو منتر ہو رہا ہے ۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اکسیویں صدی مشرق کی صدی ہو گی۔ دنیامیں برتری اور خدمت کا تاج مشرقی قومیں پہنیں گی۔

  • دیوسائی ،غذر ، کشمیر، گلگت بلتستان میں موسم سرما کی پہلی برف باری

    دیوسائی ،غذر ، کشمیر، گلگت بلتستان میں موسم سرما کی پہلی برف باری

    دنیا کے دوسرے بلند ترین میدان دیوسائی میں موسم سرما کی پہلی برف باری ہوئی پہاڑوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دنیا کی چھت کہلائے جانے والے بلند ترین مقام دیوسائی، ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں پر برف کی سفید موتی بکھر گئے، بلند میدان دیوسائی میں برفباری کے بعد ٹورسٹ پولیس نے سیاحوں کے لئے گائیڈ لائن جاری کر دی-

    برف باری سے دیوسائی کی رونقیں بڑھ گئیں، قدرتی نظارے اور بھی حسین ہوگئےسیاحتی مقام دیوسائی میں برفباری کے باعث 4 انچ برف جم گئی، برفباری کے بعد دیوسائی روڈ کو آمدورفت کے لئے عارضی طور پر بند کردیا گیا۔ برف باری کے باعث سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    ڈی پی سی تقریب حلف برداری،ملک کی نامور شخصیات کی شرکت

    دیوسائی کے علاوہ استور، غذر اور کشمیر کے پہاڑوں پر بھی برف باری ہوئی ہے۔

    گزشتہ روز گلگت بلتستان کے ضلع دیا مر کے بالائی علاقوں میں موسم سرما کی ہونے والی پہلی برفباری کے باعث نیشنل ہائی وے بند ہو گیا ہے جب کہ سیاح اور مسافر پھنس کر رہ گئے۔

    دیا مر کے سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پہ ہونے والی برفباری کے باعث ناران نیشنل ہائی وے بھی ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا جس کی وجہ سے سیاحوں اور مسافروں کی بڑی تعداد پھنس کر رہ گئی۔

    پاکستان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 1 فیصد

    اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر دیا مر نے کہا تھا کہ مسافر بابو سر ناران نیشنل ہائی وے پہ سفر کرنے سے اجتناب برتیں۔ اس ضمن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کی وجہ سے لینڈ سلایڈنگ کا خطرہ ہے۔

    ڈپٹی کمشنر دیا مر نے کہا تھا کہ ضلعی انتظامیہ بابوسر ٹاپ پر پھنسے ہوئے مسافروں اور سیاحوں کو قریبی ہوٹلوں میں منتقل کررہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسافروں اور سیاحوں کی برف میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے شاہراہ بابوسر کو عارضی طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے لہذا مسافر اور سیاح متبادل شاہراہ کا استعمال کریں۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

  • پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس متاثر، بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟

    پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس متاثر، بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟

    پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ اسپیڈ مکمل بحال نہ ہوسکی صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ایشیا اور یورپ میں ڈبل اے ای ون کیبل میں 18گھنٹے بعدبھی فالٹ دورنہ کیاجاسکا ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی فراہمی دوسرے روز بھی متاثر ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے قریب انٹرنیٹ کیبل خراب ہونے سے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہے، ڈیٹا ٹریفک کو کم صلاحیت والی کیبلز میں منتقل کیا جانے لگا۔

    پی ٹی سی ایل حکام کا کہنا ہے کہ فالٹ دور کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں،یو اے ای میں ہمارے پارٹنرزفالٹ دورکررہے ہیں۔

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

    ترجمان پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کے مطابق فالٹ والی کیبلز کی نشاندہی کرلی گئی ہے، جلد فالٹ دور کردیا جائے گا۔

    تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ انٹرنیٹ سروسز کب تک بحال ہوں گی۔ اتھارٹی کے مطابق زیر آب کیبلز میں خرابی کو دور کرنے کے لیے کام جاری ہے تاہم اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کیلئے بری خبرہے کہ، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام استعمال کرنے والوں کو کئی روز مسائل کا سامنا ہو گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز 25 ہزارکلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک کمی آ گئی تھی۔

    موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے خاتون کے کپڑوں کو آگ لگ گئی،حالت تشویشناک

    ٹیلی کام ذرائع کے مطابق 40 ٹیرا بائیٹ کا اہم ترین کیبل فجیرا کے قریب خراب ہوگیا جس کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ اسپیڈ سست ہے۔

    اس ضمن میں ذرائع کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک کی دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 ٹیرابائیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں دوروز سے انٹر نیٹ کی اسپیڈ کم ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    خود کو وزیراعظم ہاؤس کا سکیشن آفیسر ظاہر کرکے لوگوں کو لوٹنے والا جعلساز گرفتار

  • تدفین پر بھی یو ٹرن تحریر: ذکیہ نّیر

    فیصل مسجد کے احاطے میں قبر کھودنے کے مناظر سبھی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دیکھے وہ آخری آرام گاہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تیار کی جارہی تھی قبر کھود دی گئی اینٹیں بھی رکھ لی گئیں مگر نمازِ جنازہ کے فوراً بعد انہیں اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں دفنا دیا گیا ایسی کیا جلدی تھی یا پھر کون سا ایسا خوف تھا کہ تدفین قومی ہیرو کی وصیت کے مطابق نہ کی جاسکی جو کارنامہ ڈاکٹر صاحب نے اس مملکت کے لیے سر انجام دیا انکا تو جنازہ بھی اس شایان شان نہ تھا۔وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے رسماً ڈاکٹر صاحب کی وفات پر "صرف”افسوس کا اظہار ہی کیا جبکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تدفین مرحوم کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد میں ہوگی مگر اس معاملے پر وزیراعظم کا یو ٹرن تب قوم نے دیکھا جب نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو ایمبولینس کے ذریعے ایچ ایٹ پہنچا دفنا دیاگیا۔ زندہ دل اور احسان مند قوم کی ایک بڑی تعداد نے جنازے کو کندھا دیا نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی ک فیصل مسجد کو جانے والی سڑک بلاک ہوگئی شہریوں نے "ڈاکٹر قدیر زندہ باد”کے نعرے لگائے سرخ گلاب بھی نچھاور کیے کچھ لوگ بین کرتے بھی دکھائی دئیے ہر آنکھ اشکبار تھی ہر سر جھکا ہوا تھا ہر نظر چھپتی پھر رہی تھی کہ جو سلوک انکی زندگی میں روا رکھا گیا اس پر شرم ہی محسوس کی جاسکتی تھی خیر پاکستانیوں کی محبت نے ثابت کیا کہ وہ عام آدمی کے ہیرو تھے اور رہیں گے ۔
    امید تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے کی پہلی صف میں وزیراعظم،صدر پاکستان ،چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ ، گورنر اور قومی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے جنکی وہاں موجودگی پوری دنیا کو بتائے گی کہ قومی ہیرو کو خراجِ عقیدت اور احترام کیسے دیا جاتا ہے مگر دکھ ہوا یہ دیکھ کر کہ ایک ہی شہر میں ہوتے ہوئے وزیراعظم صاحب تک نہ پہنچ سکے جبکہ اسی وقت وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے، برائے نام گارڈ آف آنرز کے بعد پاکستانی پرچم ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کو تھما کر ساری رسمیں ادا کر دی گئیں۔۔۔ یہ سب مناظر اتنے حیرت انگیز تھے کہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ہم واقعی بدلے ہوئے پاکستان میں  ہیں نہیں ہم تو آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں مشرف دور میں تھے جب اپنے ہی سائنسدان پر الزامات لگا کر انہیں نظر بند کر دیا گیا آذادی سلب کر لی گئی مرتبہ مقام سب چھین لیا گیا گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا جسکے کہنے پر کیا گیا ہم نے تو نمازِ جنازہ میں ہی ثابت کر دیا کہ آج بھی ہم انہی کے غلام ہیں خود مختاری کے دعوے تو رائیگاں ٹھہرے جن میں اتنا بھی دم نہیں کہ جیتے جی نہ سہی مرنے کے بعد وفادار پر سے غدار کا لیبل اتارنے کی جرات کر سکیں۔۔۔پھر مشرف کیوں گناہ گار انکے بعد کتنی حکومتیں آئیں گئیں جس نے ڈاکٹر صاحب کی عزت و رتبہ بحال کیا؟؟؟کس نے انہیں وہ مقام دیا جس کے وہ حقدار تھے ہم تو اس قدر "باندی” کردار کے عادی ہوچکے کہ ہم نے مرے ہوئے قدیر خان کو بھی مار دیا ۔۔ 

    مجھے یاد ہے جب ان پر ایٹمی راز ادھر ادھر کرنے کے سنگین الزامات لگا کر انہیں پانچ سال پابند سلاسل کیا گیا تھا بعد میں عدالتی احکامات جاری ہوئے کہ انکی قید ختم کی جائے مگر انہیں نظر بند ہی رکھا گیا جب جوہری ٹیکنالوجی کو لیبیا شمالی کوریا اور ایران منتقل کرنے جیسے الزامات لگائے گئے تو ان سے زبردستی سرکاری چینلز پر اعتراف بھی کرایا گیا تو وہ ایک ہی بات کہتے تھے کہ سچ بہت جلد سامنے لاؤں گا کس کے کہنے پر ان کے سر سارے الزام دھرے گئے اور اسکے پیچھے وجوہات اور مفادات کیا ہیں مگر پھر وہ خاموش ہوگئے بعد میں ایک ہی بات کہا کرتے تھے "وطن اگر ایک آدمی کے بیان سے بچ جائے تو یہ بہتر ہے” لفظ لفظ میں ریاست سے وفاداری کی خوشبو مہکتی ہے مِٹی کے لیے ایسی قربانیاں عام لوگ نہیں دیا کرتے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وقار اپنی آزادی اپنے نام کو ریاست ہر قربان تو کر دیتے ہیں مگر اسکی سالمیت کو کسی طور خطرے میں نہیں دھکیلتے تبھی28 مئی کو پوری دنیا نے ایک ایسے ملک کو ایٹمی قوت بنتے دیکھا جو آزادی کو چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں گنوایا جاتا تھا جسکی معیشیت کا دارومدار بیرونی قرضوں اور امداد پر تھا مگر عبدالقدیر نے پاکستان کو قوت دی آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی جرات دی ڈاکٹر صاحب سے جب بھی بات ہوتی ہے پاکستان سے شروع ہوتی اور پاکستان ہر ہی ختم ہوتی جبکہ اس محب الوطن پاکستانی کے ساتھ ڈگڈگی پہ ناچنے والوں نے جو سلوک کیا شاید وہ تاریخ میں کالے حروف سے لکھا جائے گا۔
    وہ حقدار تھے کہ وفات پر قومی سطح پر سوگ کا اعلان کیا جاتا تعطیل دی جاتی تین دن پرچم سرنگوں رہتا انکی وصیت پر لفظ بہ لفظ عمل ہوتا انکے جسد خاکی کو ریاست کے اعلیٰ عہدیدار خود لحد میں اتارتے،قبر پر پاکستانی پرچم لہرایا جاتا اعلان کیا جاتا کہ بچوں کی نصابی کتابوں میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خدمات کو بطور مضمون شامل کیا جائے گا موجودہ حکومت جو کہتی پھرتی ہے کہ وہ کسی "اور” کے حکم کے تابع نہیں یہ وقت تھا ثابت کرنے کا کہ یہ بات لفاظی تک محدود نہیں واقعی اب پاکستان خودمختاری کی جانب قدم رکھ چکا ہے جہاں ترجیحات وہی ہونگی جو ملک کی آبرو کو دوام بخشیں جو ہمارا ہیرو ہے وہ ہیرو ہی ہے چاہے لاکھ دنیا اسے وِلن گردانتی پھرے۔۔۔اے کاش ہم حقیقتاً آذاد ہوسکیں۔۔ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں ہوسکے تو ہم احسان فراموشوں کو معاف فرمائیے گا۔

    NayyarZakia@

  • بھارتی فوج کی جارحیت جاری ،مزید 3 کشمیری شہید

    بھارتی فوج کی جارحیت جاری ،مزید 3 کشمیری شہید

    سری نگر: بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید 3 نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    باغی ٹی وی :کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیروادی میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے اور آج ایک بار پھر قابض فوج کی بربریت کے نتیجے میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے جس کے بعد گزشتہ 2 روز کے دوران شہید نوجوانوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

    بھارتی فوج نے ضلع شوپیاں میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے مزید 3 نوجوانوں کو شہید کردیا، آپریشن کے دوران قابض فوج نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور گھروں میں گھس گئے جب کہ علاقے میں آپریشن اب بھی جاری ہے۔

    شمالی وزیرستان:پاک فوج کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ی باندی پورہ اور اننت ناگ میں سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے دو نوجوانوں کو شہید کردیا تھا اس طرح دس دنوں میں شہید ہونے والے نوجوانوں تعداد 8 ہوگئی۔

    دوسری جانب قبوضہ کشمیر میں ساتھیوں کی بازیابی کے لیے گئی بھارتی فوج کی ٹیم پر مسلح افراد نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    مقبوضہ کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں قابض بھارتی فوج نے اپنے ساتھیوں کی بازیابی کے لیے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرکے سرچ آپریشن کیا اور گھر گھر تلاشی لی۔

    مقبوضہ کشمیر: سرچ آپریشن کے دوران افسر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک

    اس دوران مسلح افراد نے قابض بھارتی فوج کی ٹیم پر حملہ کردیا غیر متوقع اور اچانک کئے گئے اس حملے سے بھارتی فوجی بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔

    حملے میں بھارتی فوج کے 5 اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تا ہم دوران علاج پانچوں اہلکاروں نے دم توڑ دیا۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد آبائی گاؤں روانہ کردیا گیا۔

    اشرف غنی لاکھوں ڈالرز کے ساتھ فرار ہوئے، ثبوت دے سکتا ہوں سابق چیف سیکورٹی گارڈ کا دعویٰ

  • انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

    اسلام آباد: انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک آنے والی کمی آگئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک آنے والی کمی کی بنیادی وجہ 25 ہزارکلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی کا آنا ہے۔

    ٹیلی کام کے ذمہ دار ذرائع سے بتایا ہے کہ 40 ٹیرا بائیٹ کا اہم ترین کیبل فجیرا کے قریب خراب ہوگیا جس کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ اسپیڈ سست ہو گئی ہے۔

    اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک کی دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 ٹیرابائیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں-

  • مقبوضہ کشمیر: سرچ آپریشن کے دوران افسر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک

    مقبوضہ کشمیر: سرچ آپریشن کے دوران افسر سمیت 5 بھارتی فوجی ہلاک

    سری نگر: مقبوضہ وادی کشمیر میں ایک حملے کے باعث ایک افسر سمیت پانچ بھارتی فوجی ہلاک ہ ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ وادی چنار کے ضلع پونچھ میں سرچ آپریشن کے دوران پیش آیا ہے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ حسب معمول سرن کوٹ کے علاقے میں گھر گھر تلاشی لے رہی تھی اس دوران پورے علاقے کا محاصرہ تھا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج پر ہونے والے حملے میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت 5 فوجی اہلکار ہلاک ہو ئے ہیں۔

    علاقے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج پر کیے جانے والے حملے میں ایک اہلکار زخمی بھی ہوا ہے بھارتی فوج نے تاحال علاقے کا محاصرہ کررکھا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیویندر آنند کا کہنا ہے کہ علاقے میں فوج اور پولیس کی مزید کمک بھیجی گئی ہے جب کہ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں 1400 سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت غیر قانونی اور جھوٹے الزامات پر مبنی غیر انسانی اقدامات سے دنیا کو گمراہ نہیں کرسکتا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں 1400 سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہے، بھارت غیر قانونی اور جھوٹے الزامات پر مبنی غیر انسانی اقدامات سے دنیا کو گمراہ کرسکتا ہے اور نہ ہی دینا کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جھوٹے بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں اب تک کے سب سے بڑے کریک ڈاؤن میں جھوٹے الزامات کے تحت گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتا ہے، بھارتی قابض افواج کی جانب سے صوابدیدی گرفتاریاں اور حراست بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرنے کی بدترین مثالیں ہیں، ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں حالیہ اضافہ، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور مقبوضہ کشمیر میں صوابدیدی گرفتاریاں بین الاقوامی برادری کے لیے چیلنج کا باعث ہیں۔

    عاصم افتخار نے کہا تھا کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے ناقابل تردید شواہد پر مبنی ایک جامع ڈوزیئر عالمی برادری کو پیش کیا تھا، بھارت کو یہ حقیقت تسلیم کر لینا چاہیے کہ کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا کوئی بھی حربہ انھیں حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کی تحریک کو دبا نہیں سکتا ہے۔

  • امریکی بحریہ کا انجینئیر جوہری معلومات فروخت کرنے پر اہلیہ سمیت گرفتار

    امریکی بحریہ کا انجینئیر جوہری معلومات فروخت کرنے پر اہلیہ سمیت گرفتار

    ورجینیا: امریکی بحریہ کے انجینیئر کو جوہری معلومات فروخت کرنے پر اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں جوہری آبدوزوں سے متعلق اہم اور خفیہ معلومات چوری کرکے بھاری داموں فروخت کرنے والے نیوکلیئر انجینیئر کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے جرم عائد کردی گئی۔

    امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ریاست ورجینیا میں کارروائی کرتے ہوئے جوہری معلومات کی غیر قانونی فروخت اور جاسوسی کے الزام میں امریکی بحریہ کے نیوکلیئر انجینیئر 42 سالہ جوناتھن  ٹوبے اور اہلیہ 45 سالہ ڈیانا کو ہفتے کے روز گرفتار کیا تھا تاہم اب فرد جرم بھی عائد کردی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ میں بطور نیوکلیئر انجینئر فرائض انجام دینے والے جوناتھن اپنی اہلیہ کے ہمراہ جوہری آبدوزوں سے متعلق معلومات کو بھاری داموں میں فروخت کرنے کی اطلاع پر ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کے لیے ایف بی آئی ایجنٹ کو خریدار کے روپ میں بھیجا گیا تھا۔

    امریکی وزارت انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے ایف بی آئی کے انڈر کور ایجنٹ کو غیرملکی حکومت کا اہلکار سمجھ کر جوہری آبدوزوں کی جاسوسی کرکے اہم اور خفیہ معلومات ایک لاکھ ڈالر میں فروخت کیں جوڑے پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے اور انہیں منگل کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    تاہم وزارت انصاف کے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ ملزم جوڑا ایف بی آئی اے کے انڈر کور ایجنٹ کو کس ملک کا اہلکار سمجھ کر جوہری معلومات فروخت کرتے رہے۔

    ادھر” دی گارجئین” نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک امریکی نیوی نیوکلیئر انجینئر پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ فوجی رازوں تک رسائی رکھتا ہے ، اس پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ امریکی ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کے ڈیزائن کے بارے میں معلومات کسی ایسے شخص کو منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جسے وہ غیر ملکی حکومت کا نمائندہ سمجھتا تھا-لیکن جو ایف بی آئی کا خفیہ ایجنٹ نکلا۔

    جاسوسی سے متعلق الزامات کی تفصیل سے متعلق ایک مجرمانہ شکایت میں ، امریکی محکمہ انصاف (ڈی او جے) نے کہا کہ جوناتھن ٹوبے نے تقریبا ایک سال تک ایک ایسے رابطے کو معلومات فروخت کیں جن کے خیال میں وہ غیر ملکی طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں اس ملک کا نام نہیں تھا۔

    ڈی او جے کے مطابق ، 42 سالہ ٹوبے کو ہفتہ کے روز مغربی ورجینیا میں اپنی 45 سالہ بیوی ڈیانا ٹوبے کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا ، جب اس نے ریاست میں پہلے سے ترتیب دی گئی "ڈیڈ ڈراپ” پر ہٹنے والا میموری کارڈ رکھا تھا۔ ٹوبے اناپولیس ، میری لینڈ سے ہیں۔

    یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ٹوبے کے پاس کوئی وکیل ہے جو ان کی طرف سے بات کر سکتا ہے۔ بحریہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم اپریل 2020 میں شروع ہوئی جب جوناتھن ٹوبے نے بحریہ کے دستاویزات کا ایک پیکیج ایک غیر ملکی حکومت کو بھیجا اور کہا کہ وہ آپریشن کے دستور ، کارکردگی کی رپورٹ اور دیگر حساس معلومات فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس نے اس ڈیل کو آگے بڑھانے کے لیے ہدایات بھی فراہم کیں ، جس میں کہا گیا تھا: "میں آپ کی زبان میں اس ناقص ترجمے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ براہ کرم یہ خط اپنی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کو بھیجیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ معلومات آپ کی قوم کے لیے بہت اہم ہوں گی۔ یہ دھوکہ نہیں ہے۔

    پچھلے دسمبر میں بیرونی ملک میں ایف بی آئی کے دفتر نے پیکیج حاصل کیا ، جس میں پٹسبرگ کا واپسی پتہ تھا اس کی وجہ سے ایک مہینے طویل خفیہ آپریشن ہوا جس میں ایک ایجنٹ نے غیر ملکی حکومت کے نمائندے کے طور پر پیش کرتے ہوئے ٹوبے کی پیش کردہ معلومات کے لیے ہزاروں ڈالر کرپٹو کرنسی کی ادائیگی کی پیشکش کی۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ جون میں خفیہ ایجنٹ نے 10 ہزار ڈالر کرپٹوکرنسی میں بھیجے تھے ، اسے نیک نیتی اور اعتماد کی علامت قرار دیا۔

    اگلے ہفتے ، ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے دیکھا کہ ٹوبے مغربی ورجینیا میں ایک متفقہ مقام پر تبادلے کے لیے پہنچے ، ڈیانا ٹوبے ڈیڈ ڈراپ آپریشن کے دوران اپنے شوہر کی تلاش میں نظر آئیں۔

    شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی نے پلاسٹک میں لپٹا ہوا ایک نیلے رنگ کا ایس ڈی کارڈ برآمد کیا اور مونگ پھلی کے مکھن کے سینڈوچ پر روٹی کے دو ٹکڑوں کے درمیان رکھا۔

    محکمہ انصاف نے کہا کہ ایف بی آئی نے ٹوبے کو 20 ہزار ڈالر کی ادائیگی کی اور ایس ڈی کارڈ کا مواد بحریہ کے موضوع کے ماہر کو فراہم کیا ، جس نے طے کیا کہ ریکارڈ میں ورجینیا کلاس آبدوز ری ایکٹرز کے ڈیزائن عناصر اور کارکردگی کی خصوصیات شامل ہیں۔

    شکایت کے مطابق وہ آبدوزیں جدید اور ایٹمی طاقت سے چلنے والی ’کروز میزائل فاسٹ اٹیک آبدوزیں‘ ہیں۔

    ایس ڈی کارڈ میں ایک ٹائپ شدہ پیغام بھی شامل تھا جس میں کہا گیا تھا ، "مجھے امید ہے کہ آپ کے ماہرین فراہم کردہ نمونے سے بہت خوش ہوں گے اور میں اپنے اعتماد کو بڑھانے کے لیے چھوٹے تبادلے کی اہمیت کو سمجھتا ہوں۔”

    ایف بی آئی نے اگلے کئی مہینوں میں اسی طرح کا ڈیڈ ڈراپ ایکسچینج کیا ، بشمول اگست میں ورجینیا میں جس میں ٹوبے کو 70،000 ڈالر ادا کیے گئے تھے اور ایک چیونگم پیکج میں ایس ڈی کارڈ چھپایا گیا تھا۔

    شکایت میں ایٹمی توانائی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے ، جو ایٹمی ہتھیاروں یا جوہری مواد سے متعلق معلومات کے انکشاف کو محدود کرتا ہے۔

    توقع کی جاتی ہے کہ ٹوبے منگل کے روز مغربی ورجینیا کے مارٹن برگ میں اپنی ابتدائی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ جوناتھن ٹوبے نے 2012 سے امریکی حکومت کے لیے کام کیا ہے ، جو ایک انتہائی خفیہ سیکیورٹی کلیئرنس رکھتا ہے اور بحری ایٹمی پروپیلن میں مہارت رکھتا ہے۔ انہیں پٹسبرگ کے علاقے میں ایک لیبارٹری بھی تفویض کی گئی ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے لیے جوہری توانائی پر کام کرتا ہے۔