Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ترکی میں کھدائی کے دوران 11ہزار سال پرانے انسانی اجسام اور سروں کے نقش ونگار ملے ہیں جن میں سے بعض تھری ڈی مجمسے ہیں۔

    با غی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق سے اس دور کے انسانوں کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کھدائی کی جگہ سے 250 سے زائد پتھروں پر نقش و نگاری کے نمونے ملے ہیں۔پتھروں پر جانوروں کے اجسام کی نقوش بنائے گئے ہیں ساتھ ہی انسانی مجسمے بھی ملے ہیں۔

    یہ دریافت ترکی کے جنوب مشرقی صوبے کے علاقےکرہانٹائپ میں کی گئی ہے اس علاقے کو ‘ٹا ٹیپیلر’ کا نام بھی دیا جاتا ہے، جس کا مطلب پتھر کی پہاڑی ہے ، جو 124 میل (200 کلومیٹر) کے رقبے پر محیط ہے۔

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    یہ علاقہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ والی جگہ گوبکلی ٹیپے کےساتھ ہے گوبکلی ٹیپے 10 ویں صدی قبل مسیح سے متعلق میگالیتھک ڈھانچے کا گھر ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین مندر ہے۔

    اس جگہ پر کھدائی کا کام سب سے پہلے 2019 میں شروع ہوا اور اس کے نتیجے میں 75 فٹ قطر والی عمارت کی دریافت بھی ہوئی عمارت میں ایک بڑا بیڈروک بھی تراشا گیا ہے اور اس کی گہرائی 18 فٹ تک ہے ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کی مدد سے بنایا گیا تھا۔

    کھدائی کے سربراہ پروفیسر نیکمی کرول نے بتایا ہے کہ ملنے والی نوادرات قدیم گوبکلی ٹیپے سائٹ سے دریافت ہونے والی چیزوں سے ملتی جلتی ہیں جو اسٹون ہینج سے 6000 سال قبل تاریخی لوگوں نے تعمیر کی تھیں۔

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    کرول نے کہا کہ ان میں انسانوں کے سروں سمیت کئی تھری ڈی مجسمے اور انسانی نقش ہیں ایک خاص طور پر متاثر کن مجسمے میں ایک انسان کو دکھایا گیا ہے کہ وہ تیندوے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا رہا ہے جبکہ حملہ آور پوزیشن میں جانوروں کی نقش و نگار بھی پائی گئی ہیں-

    ماہرین کے مطابق مجسموں اور پتھروں پر موجود نقش و نگار سے پتہ چلتا ہے اس دور میں انسان کی فنکارانہ صلاحیتیں مضبوط تھیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    اس سے قبل سعودی عرب میں اونٹوں اور گھوڑوں کے چٹانوں پر کندہ تقریباً 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت ہوئے تھے منبت کاری کے 21 نمونے دریافت کیے گئے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ان کی سنگ تراشی کوئی زیادہ پرانی نہیں ان نقش و نگار کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں کافی پرانے ہیں۔

    ابتدائی طورپر 2018 میں اردن میں بطرا میں دریافت شدہ آرٹ ورک سے مماثلت کی بناپریہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ یہ قریباً 2000 سال پرانے ہوسکتے ہیں لیکن سعودی اور یورپی اداروں کی نئی تحقیق میں مختلف طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سنگ تراشی کے آلات کے نشانات (ٹول مارکس) اور کٹاؤ کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ایکسرے ٹیکنالوجی کا تجزیہ بھی شامل ہےاس سے پتا چلتا ہے کہ منبت کاری کے یہ آثار قریباً 7000 سے 8000 سال پرانے ہیں۔

  • حسام اور شمایلہ میں علیحدگی کی وجہ ۔۔  تحریر: حنا سرور

    حسام اور شمایلہ میں علیحدگی کی وجہ ۔۔ تحریر: حنا سرور

    نکاح کو ختم کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، حدیث شریف میں ہے: ”أَبْغَضُ الْحَلَالِ الی اللّٰہِ الطَّلَاقُ“ (ابوداؤد بحوالہ مشکوٰة ص:۲۹۳): جائز کاموں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: لاَ خَلَقَ اللّٰہُ شَیْئاً عَلٰی وَجہِ الأرْضِ أبْغَضَ الیہ مِنَ الطَّلاَقِ (دارقطنی بحوالہ مشکوٰة ص:۸۴) کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ نے طلاق سے زیادہ ناپسندچیز کو پیدا نہیں فرمایا۔ طلاق ایسا غیرمعمولی اقدام ہے کہ جب کوئی آدمی، اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا عرش ہل جاتا ہے۔ (عمدة القاری۳۰/۴۵) ایک روایت میں ہے کہ جو عورت کسی سخت تکلیف کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی بحوالہ مشکوٰة ص:۲۸۳)
    کثرتِ طلاق کی وجہ سے برائیوں کا فروغ ہوتا ہے، جن کو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
    حضرت سیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جس عورت نے بغیر کسی شرعی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‘
    رحمت ِ عالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:بے شک طلاق کا مطالبہ کرنے والیاں منافق ہیں اور کوئی عورت ایسی نہیں جو اپنے شوہر سے بغیر کسی شرعی عذر کے طلاق کا مطالبہ کرے پھر جنت کی ہوا پائے۔ یافرمایا: جنت کی خوشبو پائے۔
    کچھ دن پہلے ایک یوٹیوب جوڑے نے اپنی طلاق کا اعلان کیا ۔۔۔لیکن اس پر اکثریت نے مرد کو برا کہا اور اکثر نے عورت کو ۔۔مطلب مردوں نے مرد کی حمایت کی عورتوں نے عورت کی ۔۔لیکن بحیثت ایک لڑکی ہونے کے ناطے میری اس بارے یہ سوچ ہے ۔
    حسام اور شمایلہ نے پسند سے شادی کی تھی ۔
    شادی کے کچھ عرصے بعد حسام نے شمائلہ کو یوٹیوب چینل بنا کر دیا جس پر شمایلہ اپنے وی لاگ بناتی ۔۔
    پہلے نقاب میں پھر حجاب میں اور پھر وہ بھی اتار دیا ۔۔
    کیا ہے کہ شہرت چیز ہی ایسی ہے ۔۔
    آگے کی کہانی شہرت کی بلندیوں کو چھوتی ہووی شمایلہ کو حسام کی وہی داڑھی وہی اسلام پسندی ناقابل برداشت ہونے لگی وہ حسام کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔ اور عدالت چلی گئ طلاق ہو گئ بات ختم ۔۔
    لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک حسام نے شمایلہ کو چینل بنا کر دیا غلط کیا.
    میری سوچ میں شمایلہ ہی غلط نکلی ۔۔آج کل ہر بندہ چاہتا ہے کہ وہ اچھی آمدن کما سکے اپنا رہن سہن اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کر سکے اور حسام نے بھی یہی چاہا ہوگا کہ ملکر کمائیں گے ۔۔میاں بیوی ویسے بھی تو کماتے ہیں کام کرتے ہیں پھر یوٹیوب ہو تو بہترین ہے اور پھر ایک شوہر کا بیوی پر اس حد تک یقین کرنا یہی تو محبت ہوتی ہے لیکن بیوی محبت کا جواب سرکشی سے دے تو غلط شوہر کیسے ہوا؟ ۔ پاکستان میں یوٹیوب ایک خاص طریقہ ہے یہاں قسمت گر مہربان ہو تو آپ راتوں رات سٹار ہو اور لاکھوں کما سکتے ہیں ۔۔میں کچھ گرلز کے ایسے چینل بھی دیکھے ہیں جن کے لاکھوں سبسکرائب ہے لیکن صرف وائز ری ایکشن پر آج تک ان کی کسی نے شکل نہیں دیکھی ۔۔وہ بھی تو مشہور ہے وہ بھی تو کما رہی ہے ۔۔لیکن کچھ دوپٹہ میں بھی اچھا خاصہ چینل چلا رہی ہے ۔۔عزت سے اخلاق سے وہ ڈیلی ویلاگر ہے کڑوروں ان کے فین ہے۔اور کچھ دوپٹہ نہ بھی لین لیکن اپنے والدین کی سپورٹ سے فیملی وی لاگ کرتی ہے وہ بھی مشہور ہے ۔لیکن
    شمائلہ کو عزت راس نہی آئ شہرت راس نہیں آئ تو حسام کو گنہگار ٹھہرانا قطعی غلط ہے ۔۔۔اسے کہتے ہیں اپنے پاوں پر آپ کلہاڑی مارنا ۔
    آج کل ایک شعر پڑھ رہی ہوں ہر جگہ کہ شوہر کے پاس پیسہ آجاے تو گھر سنوارتا ہے بیوی پاس پیسہ آجاے تو گھر توڑتی ہے ۔۔یہ بھی بالکل غلط بات ہے ۔۔ہزاروں عورتیں بیوہ یتیم بچیاں اکیلی اپنے خاندانوں کی کفالت کرتی نظر آتی ہے عزت کے ساتھ اپنے بچوں اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ پال رہی ہے ۔آج کل آپکو عورتیں ٹیکسی چلاتی بھی نظر آئے گی ۔۔دس سال کی بچی باپ کے بازوو نہ ہونے کے کارن رکشہ پہ باپ کے ساتھ باپ کا سہارہ بنتے نظر آئے گی ۔۔پھر ہر پیسہ کمانے والی عورت کو آپ شمایلہ جیسیوں سے کیسے ملا سکتے ہیں ۔۔
    میں ایک لڑکی ہوں ۔میرے پاس ایک نہیں دو فون ہے ۔۔میرے پاس ٹیب ہے ۔میں چوبیس گھنٹے نیٹ پہ ہوں بارہ گھنٹے ہوں مجھے کوی روک ٹوک نہیں الحمدللہ میری فیملی میرے اکاونٹ میں ایڈ ہے ۔کبھی فیملی کو بلاک کر کہ اکاوٹ نہیں بناے ۔جب میں خود ٹھیک رستے پر ہوں تو مجھے کس چیز کا ڈر؟ ۔میرے فون پر کس کی کال آرہی میرا فون میرے بھائ میرے بابا پاس پڑا کوی نہی اٹھاتے ۔۔کیونکہ ان کو یقین ہے ۔۔
    اور میرا یہ ماننا ہے ایک عورت اتنی آزاد ہو اس کے باوجود وہ سرکشی پر اتر آئے تو لعنت ہے ایسی عورت پر تھو ایسی شہرت پر ۔۔۔

  • دوہرا تعلیمی نظام اور حکومتی ذمہ داریاں از قلم جام محمد ماجد

    دوہرا تعلیمی نظام اور حکومتی ذمہ داریاں از قلم جام محمد ماجد

    دوہرا تعلیمی نظام یہ ایک ایسا لفظ ہے جو ہر عام و خواص سے لے کر حکومتی اور تعلیمی حلقوں میں ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے آخر کیوں آج تک اس سوال کا حقیقی اور معیاری حل تلاش کیوں نہیں کیا جا سکا کیوں کے سوال تو بہت ہیں اور ہر کوئی کرتا ہے لیکن اس کا جواب اور حل کوئی نہیں بتاتا دراصل قومی تعلیمی نظام کی پستی اور گراوٹ کا زمہ دار دوہرا تعلیمی نظام ہے اور تعلیمی نظام میں خرابی اور دوہرا پن کی وجہ ملک میں طبقاتی تقسیم ہے اور اس تقسیم کی بنیادی وجہ ملک پے عشروں سے مسلط لوگ تھے جن کی وجہ سے مڈل کلاس میں احساس محرومی پایا جاتا ہے کیوں کے ہر جگہ کی طرح تعلیمی اداروں میں اور اس نظام میں برسوں سے ایسے طاقتور لوگ ہیں…
    پتا نہیں وہ کونسے ارباب اختیار تھے جن کی وجہ سے دوہرا تعلیمی نظام رائج ہوا تھا دوہرے معیار تعلیم کی وجہ سے طلبہ کی صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں اور حال یہ ہے کے اسی طبقاتی سوچ کی وجہ سے ہماری قوم میں ڈگری یافتہ افراد کی بھیڑ تو ہے لیکن اس بھیڑ میں تعلیم یافتہ لوگ مشکل سے ملتے ہیں
    اس نظام تعلیم اور طبقاتی فرق کی وجہ سے میرے خیال میں چار طرح کی درجہ بندی ہے جن میں مدرسوں کے بچے سرکاری سکولوں کے طلبہ نام نہاد مہنگے پرائیویٹ سکول اور آخر میں آتے ہیں انتہائی مہنگی فیسوو والے انگریزی میڈیم سکول جن میں امرا کے بچے پڑھتے ہیں اس سوچ اور فرق کی وجہ سے ہم آج تک انگریزوں کے ذہنی غلام ہیں کیوں کے ہم ذہنی غلام لوگوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کے یہاں سے سے زیادہ عزت اسے ملے گی جو انگریزی بول سکتا ہو چاہے اس کو کوئی بنیادی معلومات نہ بھی ہوں لیکن ہماری قوم کی اسی سوچ کی وجہ سے ہی ہمارا حال یہ ہے کے ہمارے تعلیمی ادارے ڈگری یافتہ لوگ تو تیار کر رہے ہیں لیکن ڈاکٹر سائنسدان اور انجینیر نہیں تیار کر رہے اس کی وجہ یہ ہے کے طلبہ اپنی صلاحیت اور قابلیتوں کو پہچان ہی نہیں رہے جس سے ان کو مستقبل میں کسی بھی شعبے کا انتخاب کرتے ہوے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے فلاحی ریاستوں کی سب سے اہم ذمہ دار یوں میں تعلیم سب سے اہم ذمہ داری ہوتی ہے کیوں کے قوموں کے عروج اور زوال کا تعلیم اور اس قوم کے پڑھے لکھے لوگوں سے وابستہ ہے ایسے میں یہ ایک خوش آئند بات ہے کے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کے لئے اپنے منشور میں جو یکساں نظام تعلیم کا جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دیا ہے اور یہ عمران خان حکومت کا ملک پر بڑا احسان اور کامیابی ہے کے انہوں نے ملک میں یکساں نظام تعلیم کو رائج کر دیا جس سے امیر اور غریب کا طبقاتی فرق اور جو احساس محرومی پائی جاتی تھی کے امیر اور غریب کے بچوں کا الگ الگ نصاب اور نظام تھا وہ ختم ہو گیا بلاشبہ تحریک انصاف کی حکومت مبارک باد کی مستحق ہے.
    اللّه پاک سے دعا ہے اس امید کے ساتھ ہماری قوم کے بچے تعلیمی میدان میں اپنے اسلاف کے کارناموں کی طرح کامیابی حاصل کریں اور ملک و قوم کے لئے خدمات سر انجام دیں
    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ.
    اللّه ہمارا حامی و ناصر ہو پاکستان زندہ باد
    کالم نگار سیاسی و سماجی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں
    ٹویٹر ہینڈل
    @Majidjampti

  • اورینج ٹرین پاکستانی معیشت پر نیا بوجھ تحریر: محمد نواز

    اورینج ٹرین پاکستانی معیشت پر نیا بوجھ تحریر: محمد نواز

    کہتے ہیں کہ پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم اور انکے بھائی یعنی میاں برادران نےشہر لاہور کو ایک کامیاب ، منفرد ، منافع بخش اور سہولیات سے بھرپور منصوبہ اورینج ٹرین تقریباً 62 کڑوڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کر کے دیا 

    یہ ٹرین لاہور شہر کے درمیان چلے گئ جو ڈیرا گجراں سے چلتے ہوئے لاہور شہر کا چکر کاٹتی ہوئی علی ٹاون تک جائے گی اور پھر وہاں سے واپس ڈیرا گجراں تک اس سلسلے کے لیے میاں برادران اور انکی ٹیم نون لیگ نے چائنا سے 27 ٹرینیں خریدی ہیں 

    یہ ٹرینیں سالانہ تقریباً دو ارب روپے یا اس سے زیادہ کی بھی بجلی استمال کریں گئ اور پنجاب حکومت 4 لاکھ ڈالر یومیہ اس پر سبسڈی دے گی اس کے علاوہ اس منصوبے کے لیے جو قرض لیا گیا ہے اس پر سالانہ 6 ارب 25 کڑوڑ روپے صرف سود ہی ادا کرنا ہو گا بے شک چاہے ٹرین چلے یا نہ چلے نون لیگ نے لاہور اور پنجاب حکومت کو یہ ایسا تحفہ دیا ہے کہ آنے والی نسلیں بھی اس احسان کو یاد رکھیں گئ 

    کتنی نسلوں تک یہ قرض اتارنے کا سلسلہ چلتا رہے گا فلحال کوئی نہیں بتا سکتا مجھے سمجھ نہیں آئے میاں برادران اور اس منصوبے کو بنانے والی پور نون لیگ ٹیم کی جو اس کو بنانے کے لیے رضامند ہوئے وہ کیا جینیس دماغ ہونگے یا میاں برادران کی لیاقت کے آگے وہ لاجواب ہو گے ہونگے کیا یہ سب ملکی حالات سے بے خبر تھے کہ ملک قرض کے بوجھ میں پہلے سے ہی دبا ہوا ہے مزید قرضہ لینے کا حامل نہیں ہو سکتا 

    ان سب عالٰی قیادت اور اسکی عالٰی پارٹی کو معلوم نہیں تھا کہ پاکستان جتنی بجلی بناتا ہے وہ ملکی صنعتی چھوڑ گھریلو ضروریات پوری نہیں کر سکتا اوپر سے اس سفید ہاتھی کو بجلی کیسے دی جائے گی کیا ہم اتنی بجلی پیدا کرتے ہیں کہ بجلی کی زیادہ پیداوار ہونے کی وجہ بجلی دوسرے ممالک کو بھیچ کر خرچے پورے کر رہے ہیں اور ملک میں بجلی مفت ہے 

    کا۔ کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھتا کہ تم خو د تو دوسرے ممالک سے بجلی خریدنے کے معاہدے کر رہے ہو اور جن ریٹس پر کر رہے ہو کیا ٹرین کی بجلی کا خرچ لنڈن سے ببلو ڈبلو بھیجیں گے انہوں نے کیا پیسے بھیجنے ہیں اس ساری پارٹی نے کِک بیکس اور کمیشنز لے کر ٹی ٹی ماسٹر بن کر ہنڈی یا جعلی اکاؤنٹس میں پیدے ڈال کر رفع چکر ہو گے قوم پہلا قرض تو اتار نہیں سک رہی اوپر سے قوم کو نیا چونا لگا دیا گیا اس سفید ہاتھی کا قرض اور چڑھا دیا گیا تاکہ جو دم باقی ہے وہ بھی نکل جائے

    میاں برادران اور تمام ٹیم نے قوم کو خوب بےوقوف بن کر اندھے کنوے میں دکھل کر خود موجیں کر رہے ہیں انکو کوئی پروا نہیں کہ انہوں نے قوم کے ساتھ کیا کیا ہے پوچھو تو کہتے ہیں ایسے منصوبے نقصان میں ہی چلائے جاتے ہیں اور مثال ترقیافتہ ممالک کی دیں گے ان کھوتے دماغوں کو کون سمجھائے کہ انکو اگر کسی جگہ خسارہ ہوتا ہے تو وہ دوسری جگہ سے اتنا منافع کما لیتے ہیں کہ وہ خسارے پر بھی چلائیں تو ان کو فرق نہیں پڑتا فرق تو ہم جیسے غریب ملک اور اسکی عوام کو پڑتا ہے جو پہلے سے ہی قرض دار ہے اور جس کا ہر ادارہ خسارے میں ہے 

    اس ٹرین کو چلانے سے پہلے سو دن میں پنجاب حکومت کو 14 کڑوڑ کا خسارہ ہوا تھا اس ٹرین کو چلائیں تو نقصان نہ چلائیں تو نقصان میاں برادران وہ حال کر کے گے ہیں کہ عوام کی چیخیں مریخ تک جا رہی ہیں اس قرض کے سود کو اتارنے کے لیے ہر چیز پر ٹیکس لگ گیا ہے ہر چیز مہنگی ہو گئ ہے عوام حکومت کو کوستی ہے مگر کوئی ان لوٹیروں کو پکڑ کر ان سے لوٹا ہوا پیسہ نہیں مانگتا اور نہ ہی ان کو کوئی عبرت ناک سزا دی جاتی ہے

    موجودا حکومت اس مصیبت اس سفید ہاتھی کو پالنے کے لیے دن رات کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح اس خسارے سے جان چھڑائی جائے یا اس نقصان کو کم سے کم کیا جائے اس کے لیے جتنی بجلی درکار ہے اسکے انتظام کے لیے ہائڈرو پلانٹس کے منصوبے لگائے جا رہے ہیں اس کے علاوہ بہت کم سے کم ریٹ پر چائنہ سے بجلی کا معاہدہ کرنےکی کوشش ہو رہی ہے  تاکہ خسارے کے گرافک کو کدی طرح نیچے لایا جائے 

    اس ٹرین کو چلانا مجبوری بن گی ہے اگر نہیں چلائی گئیں تو کھڑے کھڑے خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے اس کے ساتھ سود اور قرض بھی کھڑا ہے اسے ادا کرنے کے لیے حکومت ہاتھ پاؤں مار رہی ہے مگر نون لیگ کی حکومت کے اس اقدام سے یہ تو صاف ظاہر ہو گیا کہ انکو ملک سے زیادہ اپنے کمیشن سے پیار ہے انہیں اس چیز کی کوئی فکر نہیں تھی کہ جہاں پہلے ہی بھوک افلاس ننگا ناچ رہی ہے وہاں ایسے منصوبے ملکی معیشت تو تباہ کرتے ہی کرتے ہیں مگر عوام کو کو غربت کی لکیر سے بھی کہیں نیچے لے جاتے ہیں 

    ﷲ سبحان تعالٰی ہمیں اس طرح کے لالچ زدہ قیادت سے بچائے اور اپنے حفظ و آمان میں رکھے دُعا کریں ہمارے پیارے پاکستان کے لیے ﷲ خیرو برکت عطا فرمائے اور حکومت کو درست راستے پر ڈال دے تاکہ ہم ان مشکلات سے نکل سکیں پاکستان کا ﷲ حامیوناصر ہو 

    ‏@CH__210

  • خواجہ سرا اور ہمارا معاشرہ تحریر:وسیم اکرم

    خواجہ سرا اور ہمارا معاشرہ تحریر:وسیم اکرم

    ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کو صرف ناچ گانے کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن اس کے برعکس پاکستانی قانون میں متجنس افراد ایکٹ 2018 کی شمولیت کوئی چھوٹی کامیابی نہیں۔ یہ قانون جنوبی ایشیاء میں متجنس افراد کیلئے اٹھائے جانے والے ترقی پسند ترین قانون میں سے ایک ہے کیوں کہ یہ قانون جنسی شناخت کی بنیاد اور  تمہاری منشاء کے مطابق شناخت کو قبول کرنے اور اس سے متعلق اظہار کی آزادی دیتا ہے۔۔۔

    یہ قانون بلاشبہ خواجہ سرا اکٹوسٹوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکیلوں، مذہبی رہنماؤں اور پارلیمنٹ کے اراکین کی محنتوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے متجنس افراد کی عزت اور وقار کیلئے اکٹھے ہوکر جدوجہد کی اور متجنس افراد کی اس حیثیت کو بحال کرنے کی کوشش کی جو ان سے اس ظالم معاشرے نے چھین لی تھی۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب پوری مسلم دنیا میں متجنس افراد بھی عام شہریوں کی طرح معاشرے کا ایک اہم حصہ تھے انہیں جنوبی ایشیاء میں خواجہ سراء اور ہیجڑا جبکہ ملائشیا اور انڈونیشیا میں "مت نئیا” کہا جاتا تھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خواجہ سرا روایتی ثقافتی تقریبات میں اہم کردار تھے۔ شادی اور جنم دن کی تقریبات سے لے کر صوفی اور ہندو مذہب کی رسومات تک نہ صرف خواجہ سراؤں کو قبول کیا جاتا تھا بلکہ یہ اپنے معاشرے کا ایک حصہ تھے اور انہیں نہ تو چھپایا جاتا تھا اور نہ ہی آبادی سے دور کیا جاتا تھا۔ لیکن انیسویں صدی نے اس سامراج کو ختم کرنے کی کوشش کی اور خواجہ سراؤں کو قابل احترام معاشرے سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔۔۔

    پہلے کبھی جنس کی بنیاد پر اس قسم کی تقسیم کو قانونی حیثیت نہیں دی گئی تھی لیکن اب اس دنیا میں جنوبی ایشیاء کے خواجہ سرا ایک واضح خطرہ قرار دیئے گئے۔ ہندوستانی تاریخ اور معاشرے میں ان کے مقام اور احترام کو کافی نقصان پہنچایا گیا اور سامراج کی نظر میں ان کا رہن سہن فحش بنا دیا گیا جہاں تک کہ خواجہ سرا شادی بیاہ کی تقریبات میں جنوبی ایشیاء کا سفر طے کرتے تھے اس کو بھی ان کے خلاف جرم بنا دیا گیا۔ 1871 کے قانون کرائم ایکٹ کے دوسرے حصے کے مطابق جنسی اعتبار سے مختلف گروہ یونک قرار دیئے گئے۔ اس قانون کے مطابق خواجہ سرا پیدائشی طور پر ہی مجرم ہوتے ہیں اس لیئے ان کی عوامی مقامات پر جانے کی بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ سامراج سمجھتا تھا کہ ان کے یہ قانون صدیوں سے قائم ثقافت اور خواجہ سراؤں کی حیثیت کو ختم کر دیں گے لیکن ابھی تک پاکستان میں جنسی طور پر متنوم معاشرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سامراج کا یہ منصوبہ ناکام رہا اور اب پوری دنیا میں متجنس افراد سامراج کے ہاتھوں ختم ہونے والا مقام واپس حاصل کر رہے ہیں جس میں سب سے بنیادی چیز برابر شہری کا حق ہے۔۔۔

    ترکی میں اب متجنس افراد الیکشن میں بھی حصہ لے رہے ہیں اور ان کی اس آئینی آزادی کو اعلی عدالتوں نے بھی برقرار رکھا ہے۔ انڈونیشیا میں ایک متجنس عورت نے ایک سیٹ بھی جیتی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران میں جنسی سرجری پر خصوصی رعایت دی گئی ہے جب کہ پاکستانی قانون بغیر کسی جسمانی یا ذہنی معائنے کے آپ کی مرضی کی شناخت قبول کرتا ہے لیکن ابھی مزید بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے ابھی بہت سے مسائل باقی ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔۔۔

    2018 کا متجنس افراد ایکٹ اور 2021 میں بنائے گئے اس کے رولز تفصیل سے تمام شعبوں میں متجنس افراد کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے کی ضمانت دیتے ہیں جیسا کہ تعلیم، صحت، جائیداد اور روزگار کی فراہمی وغیرہ۔ بدقسمتی سے اس طرح کے امتیازی سلوک روکنے کیلئے یہ ایکٹ مناسب طریقہ کار واضح نہیں کرتا اور دوسرا مسئلہ یہ کہ تعلیم اور صحت صوبائی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے اس لیئے اس ایکٹ پر عمل کیلئے صوبائی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں کوئی واضح امتیاز مخالف قانون موجود نہیں جس کے تحت لوگ سول یا فوج داری مقدمات کر سکیں۔ اسی وجہ سے متجنس کمیونٹی میں بہت تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ تاریخی اور موجودہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ متجنس افراد کو ریاستی اور غیر ریاستی افراد سے شدید خطرات لاحق ہیں خاص طور پر پولیس سے کیونکہ متجنس افراد ایکٹ کے مطابق خواجہ سرا کا بھیک مانگنا جرم ہے اور اب پولیس والوں کے پاس بھیک کو روکنے کیلئے خواجہ سراؤں کو تنگ کرنے کا بہانہ موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی بھیک کو جرم قرار دے چکا ہے اور اب اس کو خواجہ سراؤں کے ساتھ جوڑنا سراسر غیر ضروری اور امتیازی سلوک ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ متجنس افراد کو بااختیار بنایا جائے جس کیلئے موجودہ حفاظتی قوانین کو صوبائی سطح پر بھی اپنا کر ان پر عمل کروانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ امتیازی سلوک کو جرم قرار دے کر اس پر سزا مقرر کرنا صرف متجنس افراد ہی نہیں بلکہ ملک میں موجود مذہبی اور نسلی اقلیتوں کیلئے بھی فائدہ مند ہوگا۔۔۔

    سو سالا سامراجی دور نے متجنس افراد کے خلاف جو منفی سوچ پیدا کی ہے قانونی طور پر اس کو ختم کیا جائے۔۔۔ قانون کو کسی صورت ان تعصبات کو فروغ دینے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے بلکہ متجنس افراد کی ثقافتی سرگرمیوں کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں بھیک اور آوارہ گردی جیسے قوانین کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ بلاشبہ پاکستانی قوانین متجنس افراد کو قبول کرنے کے حوالے سے ترقی پسند ترین قانون ہے لیکن پاکستانی ریاست کو متجنس افراد کیلئے محفوظ جگہ بنانے کیلئے ابھی بھی بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔۔۔

    @PatrioticWsi

  • حکومت و ریاست میں بنیادی فرق۔تحریر ثمینہ اخلاق

    حکومت و ریاست میں بنیادی فرق۔تحریر ثمینہ اخلاق

    دنیا میں جتنے بھی ممالک ہیں ان سب میں ایک فرق نمایاں ھوتا ھے اور وہ ھے حکومت اور ریاست کا فرق لیکن اس فرق کا بہت کم لوگوں کو پتہ ھے اور یہ ہماری بد قسمتی ھے کہ پاکستان میں بھی 90 فیصد لوگ اس فرق سے نابلد ھیں۔

    آئیے آج ھم حکومت و ریاست کے چند بنیادی نکات اور ان کے درمیان پائے جانے والے فرق پر بات کرتے ھیں۔

    کہا جاتا ھے کہ ریاست ھو گی ماں کے جیسی لیکن کبھی یہ نھیں سنا گیا کہ حکومت ھو گی ماں کے جیسی جبکہ اس فقرے کا حکومت و ریاست دونوں سے کلیدی تعلق ھے۔

    پاکستان میں حکومت اور ریاست دو الگ الگ پہلو ھیں حکومت کا عمل دخل ریاستی امور کو چلانا ھے۔ یوں سمجھ لیں کہ ریاست زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ھے جسے وھاں کے رھنے والے اپنی بقاء کیلئے مقدم رکھتے ھیں۔ جبکہ حکومت ایک ایسے مربوط نظام کا نام ھے جو اس زمین کے ٹکڑے پر نافظ کیا جاتا ھے۔ اسکو یوں سمجھ لیں کہ ریاست کی مثال ایک مسجد جسے وھاں کے رھنے والے اپنے پئے مقدس سمجھتے ھیں اور حکومت وھاں پر موجود متولی کی حیثیت رکھتی ھے یعنی وھاں کے رھائشی مسجد کا نظم و نسق چلانے کیلئے ایک متولی رکھتے ھیں جس کا کام مسجد کے امور کی دیکھ بھال کرنا ھے اب اگر متولی اس مسجد کی دیکھ بھال بہترین انداز میں کر رھا ھے تو اس مسجد میں آنے والے تمام افراد بھی خوش ھوں گے اور اگر متولی وسائل کے باوجود اس مسجد کے امور ٹھیک طرح سے سر انجام نھیں دے رھا تو صاف ظاھر ھے وھاں موجود افراد اس متولی سے مطمین نھیں۔

    بالکل اسی طرح کسی بھی ریاست میں حکومت ایک متولی جیسی ھے جسے میں نے آپ نے ھم سب نے یا ھم میں سے اکثریت نے ملکر نامزد کیا یا منتخب کیا تا کہ زمین کے اس ٹکڑے جسے اب ھم بطور ریاست دیکھتے کہتے اور سمجھتے ھیں اسکے امور بہتر انداز میں دیکھے جا سکیں۔

    یہاں ایک اور چیز کی بھی وضاحت ھونی چاھئے کہ ریاست میں موجود ھر فرد چاھے وہ ریاستی نظم و نسق چلانے والی حکومت سے خوش ھے یا نھیں لیکن اس پر لازم ھے کہ وہ ریاست سے اپنی وفاداری مقدم رکھے اس پر کوئی چنداں پابندی نھیں کہ وہ ریاستی امور چلانے والی حکومت سے بھی وفادار ھو لیکن اس کا ریاست سے وفادار ھونا لازم و ملزوم ھے کیونکہ اگر ریاستی امور ٹھیک نھیں چل رھے تو قصوروار ریاست نھیں بلکہ ریاستی امور چلانے والی حکومت ھے قصور وار میں اور آپ یا وہ اکثریت ھے جس نے ریاستی امور چلانے کا اختیار حکومت کی صورت میں کسی کے ھاتھ سونپا ھے۔

    لیکن یہ پاکستان کا المیہ ھے کہ یہاں ریاست سے وفاداری اب شاذ و نادر ھی رھی ھے جبکہ حکومتی و اپوزیشن سے وفاداری بڑھ چکی ھے جبکہ ھم سب بہت اچھی طرح جانتے ھیں کہ ریاست ھو گی تو ھی یہ حکومتیں ھوں گی جب خدانخواستہ ریاست ھی نہ رھی تو حکومت و اپوزیشن کا کی مقصد باقی رھے گا یا میری اور آپ کی یا ھم میں سے اکثریت کیلئے کیو وجہ باقی رہ جائے گی۔

    اسی طرح ریاست کے اندر چلنے والے تمام ادارے ایک محلے کی مسجد سے لیکر افواج تک سب ادارے ذاتی نھیں بلکہ ریاستی ھوتے ھیں اور یہ ریاست کی نمائندگی کرتے ھیں۔ جب آپ اور میں یا ھم میں سے اکثریت اس محلے کی مسجد سے لیکر افواج کے ادارے تک کو گالیاں دیں، برا بھلا کہیں اور یہ بھی جانتے ھوئے کہ ان کا حکومتی یا اپوزیشن کے بیانئے یا حکومت کے سیاسی داؤ پیچ سے کوئی تعلق نھیں تو یاد رکھیں کہ آپ ریاست کے وفادار نھیں ھیں کیونکہ آپ نے حکومتی و اپوزیشن کو ریاست پر نہ صرف مقدم ٹھہرایا بلکہ ریاست کو پس پشت ڈال کر چند سیاسی حکومتی و اپوزیشن کے افراد کو تقویت دی جس کا نقصان بہرحال ریاست کو ھی پہنچے گا۔

    لفظ پاکستان صرف ایک لفظ نھیں بلکہ لاکھوں قربانیوں کی لازوال داستان ھے۔ ایک ایسی داستان کہ جس کا ھر ورک اور ھر ورک کا ھر حرف خون میں ڈوبا ھے۔ ایک ایسا خون کہ جس نے میرے لئے آپ کیلئے ھم سب کیلئے جسموں میں رھنے سے زیادہ اس زمیں پر بہنے کو ترجیح دی۔

    جی ھاں آج یہی زمیں وہ مسجد ھے کہ جس کو بنانے کیلئے ھمارے آباء و اجداد نے اپنا خون بہایا ھے۔ آج یہ ھمارا فرض ھے کہ ھم اپنے بزرگوں کی دی ھوئی امانت یعنی اس مسجد کہ جس کا نام پاکستان ھے اپنی جان سے بھی زیادہ اسکی حفاظت کریں کیونکہ یہی وہ مقدم ریاست ھے کہ جسکی بنیادوں میں ھمارے آباء و اجداد کا خون شامل ھے۔

    تحریر ثمینہ اخلاق

    @SmPTI31

  • پاکستان کی سفارتی محاذ پر کوششیں تحریر : سید محمد مدنی

    پاکستان کی سفارتی محاذ پر کوششیں تحریر : سید محمد مدنی

    یہ کافی عرصے بعد دیکھنے میں آیا کہ پاکستان اپنی سفارت کاری میں کامیاب ہو رہا ہے ہر روز بین الاقوامی سطح پر تعریف ہو رہی ہے ابھی کچھ ہی دن پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا چھیئترواں اجلاس ہؤا جس میں برطانوی وزیر اعظم نے دنیا میں درخت ماحولیاتی تبدیلی پر بھی بات کی اور اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا پودے لگانے کے ویژن کو سراہا اور تعریف کی اور اس پر عمل کرنے کے لئے مثال قرار دیا.

    ہمارے ایک پڑوسی ملک کی کوشش رہی کے پاکستان کو اکیلا کیا جائے مگر ریاست پاکستان نے ایک مضبوط مؤقف اور بہترین دلائل اور حکمت عملی اپنائے رکھی.

    وزیراعظم امن بات چیت اور صلح کے حامی ہیں اور انھوں نے ان سب کے لئے جتنا ہو سکا کوششیں کی بھی کوئی.

    ایک امریکی صحافی نے وزیراعظم کی افغانستان سے امریکی ڈپلومیٹس کے بحفاظت انخلاء پر تعریفی کلمات کہے جس پر وزیر اعظم نے قرآن کی ایک آیت کا جواب دیتے ہوئے خط کا جواب دیا اور لکھا کے ہم امن اور انسانیت کے حامی ہیں.

    وزیراعظم کے یہ اقدامات پاکستان کی سفارتکاری کو افق پر لے آئے ہیں. مسئلہ کشمیر پر دنیا کے بیشتر ممالک بھارت سے جواب طلب کر رہے ہیں.

    پاکستان کو اقوام متحدہ رپریزینٹ کرنے والی ٹیم میں ایک محترمہ جو نابینا ہیں جس طریقے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا ہے اس سہرہ پاکستان کی ٹیم اور انھی کو جاتا ہے اس سے پہلے ہم نے دیکھا کے اقوام متحدہ میں مضبوط سفارت کاری کی کمی تھی.

    پاکستان نے یورپی ممالک کو خاص کر فیٹف معاملے پر یہ باور کرایا کہ پاکستان کا دہشت گردی کا اڈہ ہونے کا الزام غلط ہے انتہائی جھوٹ پر مبنی ہے یہ سارا کام ہمارے ایک پڑوسی کا ہی ہے جس کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ڈس انفو لیب ہے جو ایکسپوز ہؤا اس کا مقصد جھوٹا پروپیگنڈا کرنا تھا یورپی ممالک سمیت پوری دنیا کو پاکستان کے بارے غلط معلومات فراہم کرنا تھا اس کے توڑ کے لئے پاکستان نے بہترین کام کیا اور دنیا کے ممالک سے بات چیت کی اور دنیا کو حقیقت بتائی.

    وسطی ایشیائی ممالک کے دورے پر جس طرح پاکستان کی بات سنی گئی تعریف ہوئی اسے دنیا نے دیکھا پہلے پاکستان کی بات نہیں سنی جاتی تھی مگر اب جو تبدیلی آئی ہے اس سے فرق پڑ چکا ہے اور یہ فرق اسی وقت پڑتا ہے جب آپ کے پاس ایک مضبوط نڈر لیڈر شپ موجود ہو آپ وزیراعظم عمران خان کے سفارتی محاز پر کئے جانے والے اقدامات پر نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ کس طرح سے ریاست نے مفاد میں حکمت عملی اپنائی آپ اگر اس پر اختلاف کرتے بھی ہیں تو زرا بتائیں کہ کون سی ناکامی ہے پیڈ شدہ میڈیا یا وہ عناصر جو غلط خبریں دے کر پاکستان کے مؤقف کو غلط ثابت کرنے پر تُلے ہیں وہ پاکستان کے ہمدرد نہیں بلکہ دشمن ہیں.

    پاکستان کی سفارت کاری نے آؤٹ کلاس پلے کیا ہے اور اب سفارت کاری پر بہترین جنگ لڑ رہی ہے ﷲ تعالیٰ ایسے ہی مزید کامیابیاں دے آمین.

    Twitter Id @M1Pak

  • مہنگائی کے مارے لوگ برکتوں کے متلاشی کیوں؟ تحریر ہما عظیم


    کہنے والے کہتے ہیں پہلا  دور اچھا تھا بہت سستا بھی تھا بتانے والے بتاتے ہیں سستے میں ہم بہت کچھ لایا کرتے تھے کہ آج اتنے میں اتنا لاتے ہیں پہلے اتنے میں اتنا سارا لاتے تھے

    چلیں ‘پہلے میں،’ چلتے ہیں پہلے ہم اتنے میں اتنا سارا لے آتے تھے کیونکہ تنخواہ جتنی تھی اس حساب سے بجٹ چلتا تھا

    اور  جب ہم چایے پیتے تھے قہوہ رکھا جاتا تھا پھر دودھ ڈالا جاتا خالص اتنے سارے قہوے میں تھوڑا سا خالص دودھ اس زائقے کی چائے نہیں ملے گی آپ کو اب کہیں

    شور اٹھا مہمان آئے ہیں ساتھ ہی سالن کا دیگچہ میں لمبے شوربے والا آلو گوشت چڑھا دیا گیا ۔

     مہمان خوش عزت دی گئی گوشت پکا کر کھلا یا گیا۔میٹھے میں جلیبیاں یا لڈو واہ جی واہ عزت بڑھا دی گئی

    اب واپس آئیں۔۔چائے چڑھائیں قہوے والی چائے ہم میں سے اکثر نہیں پیتے اب دودھ پتی بنانی ہے دودھ خالص نہیں ہے نرا کمیکل ہے لیکن ہم نے ڈبے کا دودھ لینا ہے سستا مہنگا بھی نہیں دیکھنا۔۔ناک دیکھنی ہے کٹ نہ جائے

    کھانے میں بریانی قورمہ روٹی نان ۔۔میٹھے میں کیا بنانا ہے کسٹرڈ  ٹرائفل کھیر آئس کریم ۔۔بوتل چٹی بھی ہو تو کالی بھی ہو نا جی۔۔۔ مہمان کی پسند ۔۔۔

    پھر مہمان خوش ہو نگے ۔۔کہاں جی۔۔کھانے میں سواد نہیں تھا کہاں سے بنوایا خود بنایا ابھی تک پکانا نہیں آیا گئی بھینس پانی میں

    جتنی زیادہ مہنگائی اتنے زیادہ ۔۔ ضرورت خرچے

    پھر واپس چلیں گلی محلے میں گھومتے ہیں  سرشام سب بچے لڑکی، لڑکے کی تمیز کیے بغیر گلی، محلوں میں نکل آتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    عزتیں سب کی سانجھی تھیں ۔۔۔۔۔۔ 

    خواتین ایک دوسرے کے گھر جا کر سویٹر اور کڑھائی کے ڈیزائن کاپی کیا کرتی تھیں۔ اور سردیوں میں جس گھر کے صحن میں دھوپ لگتی تھی بزرگ خواتین وہیں ڈیرا جما لیتی تھیں۔ 

    پلیٹ میں گھر کا تازہ بنا ہوا سالن ایک دوسرے کے گھر بھیجا جاتا تھا۔ اس سے ایک تو محبت بڑھتی تھی اور دوسرے اس رواج کی وجہ سے کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا۔ سفید پوشوں کا بھی بھرم رہ جاتا تھا۔۔۔۔۔

    ہر محلے میں ایک بیٹھک مختص تھی۔ پورے محلے کے مرد حضرات شام کو ضرور وہاں بیٹھتے تھے۔

    جہاں بزرگ اپنی زندگیوں کے قصے سناتے تھے وہیں سب سے پورے دن کی روداد بھی سنتے تھے۔اس طرح سب ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ 

    یہ وہ دور تھا جب خط لکھ کر ہفتوں یا مہینوں بعد خیریت پتہ چلتی تھی۔ مگر لوگوں کے دل ایک دوسرے کے قریب تھے۔۔۔۔۔۔۔

    آج رابطے حد سے زیادہ ہیں اور دل اتنے ہی دور۔۔۔۔۔۔۔

    کسی کو خبر نہیں ہمسائے میں کون رہتا ہے اور نہ ہی کوئی گلی میں جا کر کھیل سکتا ہے۔۔۔۔۔

    کیبل ڈراموں سے خواتین کو فرصت نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے گھر جائیں اور نہ ہی کسی کے گھر کچھ پکا کر بھیجا جاتا ہے۔۔۔۔۔ نجانے قریب واقع گھروں میں کتنے لوگ بھوکے پیٹ سوتے ہوں گے۔

    آج ہمیں معلوم نہیں پڑوس میں کون رہتا ہے۔۔

    یہاں تک رشتہ داروں میں بھی ہم صرف ان لوگوں سے ملنا پسند کرتے ہیں جو ہماری اچھی سیوا کر سکے کسی غریب  رشتہ دار سے ہم اس لئیے بھی نہیں ملتے ایک تو اسکی زیادہ کھلانے پلانے کی ہمت نہیں دوسرے وہ اپنی کسی ضرورت کا ہی زکر نہ کر بیٹھے۔۔

    لین دین کا یہ عالم ہے کہ ہم امیروں کے گھر دینے کے لئیے اچھے سے اچھا اور مہنگے سے مہنگا دیتے ہیں حالانکہ ان کو اس کی ضرورت نہیں۔۔پھر بھی تنقید سے نہیں بچ پاتے۔۔غریب کو دینا پڑے تو ڈھونڈ کے سستی شے لائی جاتی ہے حلانکہ وہ حقدار ہے۔۔پہلے دور میں برکتیں یوں بھی تھیں کہ ماڑوں کو اٹھایا جاتا تھا۔۔ان کے گھر کی خیر خبر رکھی جاتی تھی۔۔اب یہ رواج ناپید ہو چکا ہے

    پھر ہم روتے ہیں۔۔گزارہ نہیں ہوتا۔۔۔برکت نہیں۔۔

    کمائی سے زیادہ خرچہ ہے۔

    پہلے چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں ڈال کے بڑی بڑی ضرورتیں پوری کر لی جاتی تھیں۔۔

    کاش وہ دور واپس لا پائیں۔۔

    کم کمائی کی برکتیں 

    محبتیں

    رفاقتیں

    لوٹ آئیں

    ‎@DimpleGirl_PTi

  • منافقت آخر کیوں ؟”  تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    منافقت آخر کیوں ؟” تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 


    ایک ایسا موضع جس پر شائد بات کرنے یا یہ تحریر لکھنے پر مجھ بھی تنقید ہو لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کی منافقت اور دوہرا معیار دیکھ کر میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس پر بات کرنی چاہیے 

    سب سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور آئین پاکستان میں یہ واضع لکھا ہے کہ ہم ایسا کوئ قانون نہیں بنائیں گے جو شریعت کے خلاف ہو ،اسی لئے ہمارے ملک میں قانون شریعت کے عین مطابق ہیں ،دوسری بات زنا بالجبر ہو یا زنا بالرضا یا زنا کی کوئ بھی قسم ہو قانون وشریعت کی مطابق ہر طرح اس کی سزا بنتی ہے ہاں سزا میں تھوڑی بہت کمی بیشی ضرور ہے لیکن بہرحال سزا بنتی ضرور ہے ،تیسری بات یہ بھی اسلامی تعلیمات سے ہی ہم نے سیکھا ہے کہ کسی کا راز فاش نہیں کرنا چاہیے یا جتنا ہوسکے کسی کے راز پر پردہ رکھیں اس کی بھی کئ مثالیں اسلامی تعلیمات میں ہمیں ملتی ہیں 

    اب آجاتے ہیں اصل معاملہ پر ہمارے معاشرے میں کئ انسان نما وحشی درندے موجود ہیں جن کے چھوٹی بچیوں ،بچوں ،خواتین ،لڑکیوں ،لڑکوں اور یہاں تک جانوروں سے بھی ذیادتی کرنے کے کئ واقعات رونما ہوتے ہیں اور پوری قوم ایسے بد بخت لوگوں کو سخت سے سخت سزا دینی پر مکمل طور پر متفق نظر آتی ہے کوئ ایسی گھٹیا حرکت کرنے والوں کی حمایت کرتا نظر نہیں آئے گا 

    لاہور مینار پاکستان کا واقعہ ہو،اسلام آباد موٹروے کا واقعہ ہو ،کسی مدرسے میں بچے/بچی سے ذیادتی کا واقعہ ہو ،مفتی عبدالعزیز کی بچے سے ذیادتی کی ویڈیو کا واقعہ ہو ہم سب نے پوری قوم سمیت تمام مکاتب فکر اور ہر پیشہ سے وابستہ لوگوں نے کھل کر ان واقعات کی مذمت کے ساتھ سخت سزا کا بھی مطالبہ کیا اور یہ مطالبہ کرنا بھی چاہیے ایسے درندوں سے اس وطن کو پاک کرنا ہم سب پر فرض بنتا ہے 

    لیکن کچھ روز پہلے سابق گورنر سندہ،نواز شریف کے ترجمان زبیر عمر  کی کچھ ویڈیوز وائرل ہوئ جب تک ویڈیو نہیں آئ تب تک اس راز پر پردہ تھا لیکن ویڈیوز آگئ سب نے دیکھ لی تو اب اس میں پردے والی کوئ بات رہ نہیں جاتی تو اس ویڈیوز آنے کے بعد امید تھی پوری قوم تمام مکاتب فکر کے لوگ یک زبان ہوکر اس کی نا صرف مذمت کرے گی بلکہ اس کے لئے بھی سخت سزا کا مطالبہ کرے گی ،لیکن یہاں تو عجیب ہی دیکھنے کو ملا جسے دیکھو وہ بجائے زبیر عمر کے اس واقعے پر بات کرنے والوں کو برا بھلا کہتے نظر آئے ،راز رہنے دو ،نجی زندگی ہے ،ایسی باتوں میں سیاست نا کریں ،میڈیا کوئ ذکر تک نا کرے سب لوگ ایسے خاموش دکھائ دیئے جیسے ذیادتی زبیر عمر کے ساتھ ہوئ ہو 

    چند لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر بلیک میلنگ کا عنصر موجود ہو تو احتساب کریں ورنہ وہ اس کی نجی زندگی کا معاملہ ہے اس لئے بات نا کریں ،سوچیں یہی ویڈیو اگر pti کے کسی بندے ،کسی مدرسے کے مولوی،مزدور یا اسی گورنر ہاوس کے کسی گارڈ،چوکیدار وغیرہ کی ہوتی تو کیا یہ لوگ تب بھی اس طرح خاموش رہتے؟جو غلط کام غریب بندہ کرے تو پھانسی اور امیر پیسہ والا بندہ کرے تو پھانسی تو دور اس موضوع پر بات کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھا جائے 

    میرے خیال میں ہمیں ایسی منافقت ختم کرنی چاہیے ،قانون سزا و جزا ،عزت غیرت امیر غریب ،گورنر مولوی سب کے لئے ایک ہونی چاہیے 

    اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم فرمائیں آمین 

    ‎@MajeedMahar4

  • دوسرا ادھورا خط تحریر محمّد اسحاق بیگ ۔

    دوسرا ادھورا خط تحریر محمّد اسحاق بیگ ۔

    ‏28-01-95)
    بچپن کی محبت کو دل سے نہ جدا کرنا

    جب یاد میری آے ملنے کی دعا کرنا 

    ڈںیر نعیم!

    صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے 

    یونہی زندگی تمام ہوتی ہے۔

    جب چلنے پھرنے کے قابل ہوۓ تو اس وقت دل میں کوئی خواہش نہ ہوئی تھی سواۓ اس کے کہ کوئی ہمیں اُٹھا کر چلے، کوئی گود میں بٹھائے، کوئی سینے سے لگائے،کوئی ٹافی کھلاۓ تو کوئی دوسری قسم کی مٹھائیاں۔اُس وقت ہماری  تمام تر خواہشات بس اسی حد تک محدود تھی۔آہستہ آہستہ بڑے ہوتے گئے اسکول و مسجد جانے لگے۔ پڑھائی سب سے مصیبت زدہ چیز بن کر سامنے آئی۔کبھی قرآن کا پڑھنا کبھی اسکول کی پڑھائی اوپر سے گھر آ کر ابو کی علیحدہ ٹٹیوشن۔ان سب چیزوں سے اتنا ڈرتا تھا کہ اکثر گھر سے میں باہر رہتا تھا۔کبھی ایک چھت پر،اور کبھی دوسری چھت پر،کبھی ایک درخت کے نیچے سے اوپر پتھر برسا رہے ہوتے تھے تو کبھی دوسرے درخت کے نیچے سے،کبھی ایک گندے نالے میں سیومینگ سے لطف اندوز ہوتے تو کبھی دوسرے گڑ لائن  کے نالے میں اُسوقت کی خواہشات بس اس حد تک محدود ہوتی تھی کہ کوئی پڑھائی شڑھائ کے متعلق کچھ نہ کچھ پوچھے۔مگر پھر بھی پ پٹتے تھے یہ مسلہ اب تک حل نہ ہو سکا۔نیوی جوائن کی تھی کہ پڑھائی سے جان چھٹ جاۓ مگر پتہ چلا کہ صرف اور صرف پڑھائی ہے۔

    "بارش سے پجتے تھے،پر نالے کے نیچے رات آئی”

    جو کہ میرے لئے وہاں جان بنی ہوئی ہے۔اگر بچپن میں کچھ پڑھا ہوتا تو آج اتنی مصیبت  نہ ہوتی اسی لیے دوست یہی وقت ہے کہ کچھ کریں ورنہ کل بڑھاپے میں جب پچھتاوا  ہوگا تو یہی کہیں گے کہ کاش جوانی میں ایسا کر لیا ہوتا۔اس لیے جو کرنا ہے آج کر لو۔خوب مطالعہ  کرو،خوب پڑھو فضول انسانوں اور قصے کہانیوں سے کچھ نہیں بنے گا۔کیونکہ میں نے دیکھ لیا ہے کہ پڑھائی کے بغیر کوئی  چارہ نہیں اس لیے میں نے بھی پڑھنا شروع کر دیا ہے۔

    کارساز میں میری افسری  اچھی جارہی ہے طیب عدل، احمد حفیظ  ،آصف عزیز ،عزیز لعال اور اس قسم کے بہت سارے دوست یہاں ہیلپر   ہیں ہر طرف سے سلیوٹ پڑتے ہیں رعب ودبدباھے کبھی کبھار کارساز کے پارک وغیرہ کی طرف بھی چلا جاتا ہوں خوب یاد کرتا ہوں اپنے بچپن کے دنوں کو کھیلنا کودنا اور لڑنا ،جھگڑنا ،بھاگنا، نہانا ،بارشوں میں وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

    اچھا جی خط میں کبھی کوئی کام کی بات بھی لکھ لیا کرو بس فضول باتیں لکھی ہیں تم نے ۔

    ہوئی آنکھ نم اور یہ دل بھر آیا 

    آج وہ ساتھی کوئی بھولا یاد آگیا 

    (30-01-95) 

    اس وقت کلاس میں انسٹرکٹر  پڑھا رہا تھا اور مجھے نیند آگئی تھی اوپر کا یہ شعر میں نے نیند میں لکھا ہے اپنی اتنی پیاری لکھائی میں لکھا۔ اچھا جی ۔توصیف سے ملاقات ہوئی تھی تمہارے خط کی اس نے بھی تعریف کی ۔یار نعیم  یہ غم نم چھوڑو ،خوشی دیکھا کرو ،مت اتنا سوچو اپنے آپ کو شاعر نہ بناؤ ،دیوانہ نہ بناؤ،  اپنے آپ کو اپنا  اور اپنے ماں باپ کا بناؤ۔تمہارے گھر والوں کو تمہاری بے حد ضرورت ہے۔باقی اور کوئی خاص بات تو ہے نہیں کہ لکھوں تمہاری طرح ادھر ادھر کی جھڑ جھڑ لکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے اور نہ ہی اب میرا موڈ کرتا ہے اس قسم کی باتیں کرنے کو.یہ فلسفیانہ باتیں کرنے کو اب جی بھی نہیں چاہتا اور نہ ہی اب کی جاتیں ہیں۔

    اچھا جی اب آتے  ہیں  ادھر ادھر  کی باتوں پر  میری بہن ۔۔۔۔۔کی شادی میرے فرسٹ کزن سے ہو گئی ہے اور میری منگنی اگلے سال ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔کی بھی بات تقریبا  ہوگئی ہے۔اب تم سناؤ تمہارا کیا بنا اور شادی کا کیا ہوا؟ اس کی شادی وغیرہ  کب کر رہے ہو   اللہ خیر خیریت سے کرے آمین۔

    آنٹی کیسی ہیں اللہ انہیں بھی صحت مند رکھے آمین ۔

    (25-04-95)

    ڈیر نعیم  یہی وہ خط ہے جو میں نے تمہیں تین چار مہینے پہلے لکھنا شروع کیا تھا لیکن اب جا کر بھیج رہا ہوں کیوں کہ جب اسے میں نے بھیجنا چاہتا تھا تو تب تم ادھر ہوتے تھے۔بہرحال اب فرصت ملی ہے تو پھر لکھنے بیٹھ گیا ہو کراچی میں ویسے تو ہمیں  کچھ کام نہیں ہوتا لیکن پھر بھی بڑے مصروف مصروف سے لگتے  ہیں۔کیوں کہ دوپہر کو بھی سوتے ہیں اور رات کو بھی اور کلاس روم میں بھی۔اس لیے ٹائم نہیں ہوتا ہمارے پاس کچھ نہ کرنے کو۔

    اچھا جی نئی تازہ بات یہ ہے کہ شاید ہم میں میرے علاوہ گھر والے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے  پشاور شفٹ ہو جائیں کیونکہ ابو ہوگئے ہیں ریٹائر  اس لیے ان کا ارادہ اپنی زمین وغیرہ کی دیکھ بھال کا ہے تو دیکھو کے ابھی کیا پروگرام بناتے ہیں زاہد بنگلہ دیش سے سری لنکا گیا اور اب تیس اپریل کے بعد ھی پاکستان آئے گا انشاءاللہ۔خالد  خیریت سے ہے فون  وغیرہ تو آتے رہتے ہیں۔اور کوئی نئی تازہ بات نہیں ہے کہ تحریر کرو خوش رہا کرو۔شم نا کیا  کرو نماز پڑھا کرو اور اللہ کا شکر کیا کرو پاک صاف فریش رہا کرو سوچ بچار نہ کیا کرو صبح صبح چیل قدمی کیا کرو اور کوشش کیا کرو کہ رات کو ٹائم سویا کرو۔

    اوکے اب اجازت ہے 

    وسلام تمہارا دوست 

    محمّد اسحاق بیگ ۔

    توڑ دے ہر اک آس کی ڈوری, آنسوؤں میں کیا رکھا ہے۔

    عشق محبت باتیں ہیں بس، باتوں میں کیا رکھا ہے۔

    قسمت میں جو لکھا ہے، وہ آخر ہو کر رہنا ہے۔

    چند لکیریں الجھی سی،اور ہاتھوں میں کیا رکھا ہے۔

    ‎@Ishaqbaig___