Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹویٹر اکاؤنٹ کی تصدیق کیسے کروائیں، تحریر:ام سلمیٰ

    ٹویٹر اکاؤنٹ کی تصدیق کیسے کروائیں، تحریر:ام سلمیٰ

    اگر آپ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں اور بہت ہی فعل رہتے ہیں تو یقیناً آپ نے سنا ہوگا ایک بار پھر ٹوئٹر نے ایک اور وقفے کے بعد اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کا عمل دوبارہ کھول دیا۔
    اس خبر سے بہت سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیوں بہت سے لوگ جو بہت زیادہ فعل رہتے ہیں سوشل میڈیا پے خاص طور پر ٹوئٹر پر انکے لیے یہ خبر بہت بڑی خوش خبری تھی.اب سب سے پہلے جاننا یہ ہے کے ٹوئٹر جن کٹیگری میں تصدیق کے لیے آپ کی درخواست قبول کر سکتا ہے کیا آپ اس میں فٹ ہوتے ہیں؟

    کیوں کے اگر آپ ان کٹیگریز میں پورے نہں اُتر رہے تو یہ خبر آپ کے لیے نہں اور اگر آپ درج ذیل کٹیگری میں پورے اُتر رہے ہیں تو آپ کو اسکا پورا طریقے کار جاننے کی ضرورت ہے.سب سے پہلے آپ ٹوئٹر کی تصدیق کے عمل کی کٹیگری دیکھیں.

    ٹویٹر نے اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کے عمل کو دوبارہ شروع کیا ہے ، کمپنی نے اپنے ٹویٹر تصدیق شدہ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا ، جہاں وہ سسٹم کی حیثیت کے بارے میں اپ ڈیٹس شائع کرتی ہے اب نئے سرے سے تصدیق شدہ پروگرام شروع کرنے کے بعد سے ، ٹوئٹر نے چند اور کٹیگریز کو شامل کیا ہے اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر کچھ مسائل بھی ائے ٹوئٹر کو جس کی وجہ سے اسے ایک سے زیادہ بار تصدیقیں بند کرنا پڑی ہیں۔ ان وقفوں کا اعلان 2 سے 3 بار کیا گیا تاکہ اس تصدیق کے عمل کو مزید شفاف کیا جائے.اور ٹوئٹر کی کمپنی نے کہا کہ اسے درخواست اور جائزہ لینے کے عمل دونوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

    ٹویٹر برسوں سے اکاؤنٹ کی تصدیق کے عمل کی شفاف کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ ہر کوئی مطلوبہ بلیو بیج چاہتا تھا جو پہلے عوامی شخصیات اور اعلی عوامی مفادات کے دوسرے اکاؤنٹس کو دیا گیا تھا جنہوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ وہی ہیں جو وہ کہتے ہیں کہ وہ ہیں – جیسے سرکاری افسر ، صحافی ، مشہور شخص ، برانڈ یا کاروبار ، یا کوئی اور قابل ذکر نام۔

    لیکن جب کہ اصل نظام کا مقصد صرف اکاؤنٹ کی صداقت کو بتانا تھا ، بہت سے لوگوں نے ٹویٹر کی توثیق کرنے والے بیج ہولڈرز کو کسی نہ کسی درجے کی اعلی حیثیت کے طور پر دیکھا۔ یہ مسئلہ اس وقت سر پر آیا جب 2017 میں ٹویٹر نے دریافت کیا کہ جیسن کیلر سے تعلق رکھنے والے اکاؤنٹ کی تصدیق کی گئی ہے ، اس شخص نے جس نے ورجینیا کے شارلٹس ویل میں سفید فام بالادست ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ، ٹویٹر نے سرکاری طور پر تصدیق روک دی ، لیکن کچھ لوگوں کی خاموشی سے تصدیق جاری رکھی جن میں عوامی عہدے کے لیے امیدوار ، منتخب عوامی عہدیدار ، صحافی اور دیگر شامل ہیں۔

    آخر کار ، کمپنی نے مئی 2021 میں سسٹم کو دوبارہ شروع کیا ، یہ کہتے ہوئے کہ اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے تاکہ اس کو مزید شفاف بنایا جائے اور اب اس کے لیے ایک الگ ٹیم ہوگی جو اس پورے عمل کو دیکھے گی۔ اس کے لیے نئے قوانین بھی جاری کیے جن میں واضح طور پر لکھا گیا کہ کون تصدیق کی درخواست کر سکتا ہے اور کون نہیں۔ لیکن تصدیق کی مانگ اتنی زیادہ تھی کہ ٹوئٹر کو اس کے لانچ ہونے کے صرف 8 دن بعد تصدیق کو عارضی طور پر روکنا پڑا تاکہ ٹیم درخواستوں کی تعداد کو پکڑ سکے۔

    اِس تصدیق کے عمل میں آپ کے لیے آسان کٹیگری ہوسکتی ہے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی اور فری لانس کی کیٹیگری بھی آپ اس کی تفصیلات چیک کریں اگر آپ فری لانس کوئی کام کر رہے ہیں جیسے بلاگر ہیں آپ میک اپ کے فیشن کے اور اگر آپ لکھتے ہیں فری لانس تو آپ کے لیے آسانی ہے کے آپ اس کیٹیگری میں تصدیق کے عمل کے لیے کوشش کر سکتے ہیں اگر آپ لکھاری ہیں اور کسی ادارے کے ساتھ جُڑے ہیں تو آپ آسانی سے تصدیق کے عمل کے کے درخواست دے سکتے ہیں اور اگر آپ نئے لکھاری ہیں اور ابھی سیکھنے کے مرا حل میں ہیں تو آپ کو پاکستان میں کچھ ویب سائٹ مدد کر سکتی ہیں آپ کے تحریروں کو شائع کرنے میں اس وقت کچھ ویب سائٹ جو کے میں یہاں آپکو آپکی تحریر جو شائع کرنے میں مدد کر سکتی ہیں ان میں سرے فہرست باغی ٹی وی ہے اور اسی طرح اردو گلوبلی اور ایشیا نیوز اور بھی کئی اس طرح کی ویبسائٹ نے لکھاریوں کی مدد کر رہی ہیں لکھنے کے عمل کو صرف اپنے کے تصدیق کے عمل میں استعمال کے علاوہ بھی اگر آپ شروع کرتے ہیں تو آپ معاشرے کی اصلاح کے لیے لکھ سکتے ہیں اور دوسرا یہ کے ایک سبب ہوسکتا ہے کسی مسئلہ کو اجاگر کرنے کےلئے سوشل میڈیا پے تفصیل کے ساتھ تو آپ اپنے شوق کو مکمل کرنے کے لئے تصدیق کے عمل میں شامل ہونے کے لئے بھی اس کو شروع کر سکتے ہیں.اُمید کرتی ہوں کافی اچھی معلومات میں نے آپ سے شیئر کی ہیں آپ کے لیے انتہائی فائدے مند ہوسکتی ہیں اگر آپ اپنا اکائونٹ ٹوئٹر سے تصدیق کروانا چاہتے ہیں.
    تحریر
    ام سلمیٰ
    @aworrior888

  • خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے۔
    معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ لباس کی وجہ سے ہوتا ہے تو برقعہ پہننے والی خواتین اور چھوٹی بچیوں کا کیا قصور ہے۔
    یہاں تک کہ جانوروں تک کو نہیں بخشتے
    اگر آپ کہتے ہیں کہ گھر سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہوا تو کتنے کیسز ہیں جن میں گھر میں گھس کر ریپ کردیا گیا۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ اس لیے کیونکہ یہاں اپنی جنسی فرسٹریشن نکالنے کے مواقع میسر نہیں ہیں، یہاں قحبہ خانے نہیں ہیں تو عرض ہے کہ جن ملکوں میں قحبہ خانوں کی کثرت ہے اور اویلیبلٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے تو وہاں ریپ کیسز کی شرح اس قدر زیادہ کیوں ہے۔
    امریکہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ریپ کیسز ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ ریپ کیسز ہیں، زنا باالرضا پر وہاں کوئی پکڑ یا قدغن نہیں ہے۔ 18 سال سے زائد عمر کا لڑکا یا لڑکی جیسے چاہے تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔ اس پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
    مزید اگر یہ بھی دیکھنا ہے کہ امریکہ میں ایک عورت کتنی محفوظ ہے تو یوٹیوب پر ویڈیوز موجود ہیں کہ نیویارک شہر میں کسی خاتون کو کس طرح چھیڑ ا جاتا ہے۔ a woman is cat called more than hundred times in a day, while she was walking through NYC.
    لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ دنیا کے ساتھ موازنہ کرکے کہنا کہ ہمارے ہاں تو یہ مسئلہ اس قدر نہیں ہے۔ یہ سراسر چشم پوشی ہے۔ ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ رپورٹ کم ہوتا ہے۔ اکثریت ایسا کوئی بھی واقع رپورٹ ہی نہیں کرواتی۔ اس لیے دنیا کے حقائق دینے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ نا م نہاد تقدیس مشرق کے حدی خوان بنے پھریں جو اب بہت خال ہی کہیں اپنا وجود رکھتی ہے۔
    لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اگر یہ سب کچھ کے باوجود بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں تو کیسے محفوظ ہوں گی۔
    لیکن اس کو سمجھنے سے پہلے ہم یہ جان لیں کہ پوری دنیا میں مرد خواتین کو اس بری نظر سے ہی کیوں دیکھتے ہیں تو معاملہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ صرف چست یا تنگ کپڑے پہننا ایک فیکٹر ہوسکتا ہے مگر یہ وجہ نہیں ہے۔
    وجوہات بہت ساری ہیں جو مل کر اس قدر دماغ کو خراب کردیتی ہیں کہ محرم رشتوں تک کا احترام بھی انسان بھول جاتا ہے۔
    سب سے پہلے اور سب سے بڑی وجہ میڈیا انڈسٹری ہے۔ میڈیا سے مراد فلم اور فیشن اور میڈیا کے تمام شعبے ہیں ۔ آپ اپنی میڈیا انڈسٹری کو دیکھیں ، کیا یہاں عورت کو بیچا نہیں گیا، اور پھر یکمشت نہیں بیچا گیا ، بلکہ اب تو ناز الگ بکے اور انداز الگ، جسم بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے بیچا گیا۔
    میں دنیا کی بات نہیں کرتا ، ہمارے اپنے ملک کو دیکھ لیں، چہرہ ایسا کہ ہر کوئی دیکھتا رہ جائے،
    نظر اٹھے اور مڑ نا پائے،
    آپ جہاں نظریں وہاں۔۔۔۔
    تو یہ ساری ٹیگ لائن جو دن رات ہمیں ٹی وی اشتہارات کی صورت دکھائی گئی تھیں کیا ان کا مقصد عورت کی عزت کرنا سھنا تھا یا حوا کی اس بیٹی کو ایک پراڈکٹ بنا کر بیچنا تھا۔
    پھر فلم انڈسٹری دیکھ لیں، دنیا بھر میں آڈلٹ سینز کے بغیر فلم نہیں بنتی، نیٹ فلکس کی شرائط میں شامل ہے کہ فلم میں ایسے سینز ہونا ضروری ہیں۔ سنسر بورڈ جیسے ڈھکوسلے تو صرف ہمارے ہوں ہیں۔ ڈھکوسلے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان سے جو کچھ پاس ہوجاتا وہ سب بھی جنسی جذبات کو بھڑکانے کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔
    اب ہر طرف میڈیا میں ، بل بورڈز پر عورت کی بھرمار، یہاں تک کہ مردانہ ریزر بھی عورت ہی بیچے، یہ سب دیکھ کر جنسی فرسٹریشن اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔
    پھر یہاں ایک دوسری وجہ کا آغاز کرتا ہوں ۔
    کتنے لوگ ہیں جو شادیاں دیر سے کرتے ہیں۔ ضرورت انہیں بہت پہلے ہوتی ہے۔ بجا کہ شادی صرف اسی ایک ضرورت کا نام نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک ضرورت ہے۔ جب جائز طریقے سے یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی تو پھر ایک انسان کب تک صبر کرسکتا ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو پارسائی کا یہ بوجھ سہتے ذہنی مریض ہوجاتے ہیں۔ اور رہ گیا ہمارا مذہبی طبقہ تو معذرت کے ساتھ یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔مجے پتہ ہے کہ یہ جملہ بول کر میں بہت سی توپوں کا رخ اپنی طرف کررہا ہوں مگر حقیقت ایسی ہی ہے۔ ماسوائے چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر یہی بھیڑ چال ہے۔
    اس سب کے بعد دماغ تو سن ہوجاتا ہے کہ پھر حل کیا ہے۔
    سن لیں جس طرح وجہ ایک نہیں ہے اسی طرح حل بھی ایک نہیں ہے۔ بلکہ ایک جامع لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ میرے جیسا بندہ چند گزارشات تو کر سکتا ہے مگر اس معاملے کو ہنگامی بنیاوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ارباب اختیار و ارباب حل و عقد کو ایک مربوط لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ جلد شادیوں کو رواج دیں۔ اور آگہی ضرور ہونی چاہیے۔ ہمارے قوانین جو ابھی تک برطانیہ نے بنائے تھے ، وہی چل رہے ہیں ۔ یہ قوانین رعایا کے لیے تھے۔ ان قوانین کو ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔ قصہ مختصر حل بھی بہت ہوسکتے ہیں، بس اس کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں محفوظ رہ سکیں۔ ورنہ خوف کی فضا میں دم گھٹ جاتے ہیں۔ اور معاشرے مردہ ہوجاتے ہیں۔
    حنظلہ عماد
    @hanzla_ammad

  • حنا کی شہزادی تحریر  اویس گیلانی

    حنا کی شہزادی تحریر اویس گیلانی

    اچھے برانڈڈ کپڑے پہننا اور اپنے چاہنے والوں سے اپنی تعریف لینا ایک فطری عمل ہے۔ آج کی اس ماڈرن فیشن کی دنیا میں اچھے لباس زیب تن کیے ہوئے ہمیں بہت سے چمکتے چہرے میڈیا، اخبارات، فیشن شو میں روز نظر آتے ہیں اور انکے مداح انکی جھلک دیکھنے اور انکے سٹائل کو کاپی کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

    مگر اس بنائو سنگھار کا عوامی نمائندے اور ایک حاکم سے کیا لینا دینا؟ دنیا میں کئ لیڈر آئے اور گئے مگر کیا دنیا کسی لیڈر، وقت کے حاکم کو محض اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ سٹائل کی دنیا کا بے تاج بادشاہ یا شہزادی تھی۔

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو کیا دنیا آج اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ اچھے برانڈڈ سوٹ پہنتے تھے؟ ہرگز نہیں دنیا آج انہیں انکی سیاسی سوچ اور مسلمان قوم کے لیے ایک الگ ملک کی بنیاد پر انکی قربانیوں کی وجہ سے ہی یاد کرتی ہے۔ اب انہی کے ہی مدمقابل بھارت کے بانی لیڈر مہاتما گاندھی جی کو کیا دنیا انکے سٹائل کی وجہ سے یاد کرتی ہے؟ حالنکہ وہ تو قمیض بھی نہیں پہنتے تھے صرف دھوتی پہنتے تھے۔ مگر دنیا آج بھی انکی سیاسی سوچ اور ملک کے لیے خدمات کی وجہ سے انہیں یاد رکھتی ہے۔  بھارتی وزیراعظم کے حالیہ امریکہ دورے پر امریکی صدر بائیڈن نے بھی مودی کو گاندھی جی کی عدم تشدد فلسفہ پر لیچر دیا۔

    حال ہی میں جرمنی کی چانسلر انجلیا مرکل نے 16 سال اقتدار کے بعد پاور کو خیر بعد کہا۔ مگر اپنے اس طویل اقتدار میں رہنے کے باوجود انہوں نے اپنےکسی رشتے دار کو کسی بڑے عہدوں پر نہیں لگایا نا اپنے لیے مال و دولت سمیٹی۔ ان سے ایک بار پوچھا گیا کہ وہ برسوں سے وہی کپڑے کیوں استعمال کرتی رہتی ہے تو جواب دیا کہ "میں یہاں جرمنی کے لوگوں کی خدمت کے لیے ہوں اور کسی فیشن شو میں شرکت کے لیے نہیں” یہاں تک کہ انکا کہنا تھا کہ میرے گھر میں کوئ نوکر، نوکرانی نہیں۔ میں اور میرے شوہر ملکر گھر کے کام کرتے ہیں۔

    کیا بینظیر بھٹو اپنے برانڈڈ  سٹائلش سوٹ، برانڈڈ پرس، برانڈڈ جوتے پہننے کی وجہ سے وزیراعظم بنی اور طویل عرصے تک پاکستانی سیاست میں اپنی مقام بحال کیے رکھا؟ کیا آج عمران خان اپنے سٹائلش سوٹ یا بنائو سنگھار کی وجی سے وزیراعظم بنے؟ کیا دنیا آج انکی تقاریر محض اس لیے سنتی ہے کہ وہ اچھا لباس زیب تن کیے ہوتےہیں؟

    اگر ایسا نہیں ہے تو کوئ ہماری حنا بٹ صاحبہ کو بھی تو سمجھائے جو لمز سے پڑھ کر بھی شائد زہنی پسماندگی کا شکار ہو گئ ہیں یا اپنی ریزرو سیٹ کو بچانے کے لیے اپنی لیڈر کی روز روز سٹائلش سوٹ کے ساتھ "شہزادی” "شہزادی” کہتی تصاویر لگاتی نہیں تھکتیں۔ چلیں ایک لمحے کے لیے انکی لیڈر کو شہزادی مان بھی لیا جائے تو کیا وہ اس ملک کی وزیراعظم بن جائیں گی؟  انہیں چاہیے کہ وہ عوام کو مریم نواز کی سیاسی مصروفیات، اپنی پارٹی میں انکا رول اور مستقبل کے لاہے عمل پر انکی سوچ بتائیں نا کہ شہزادی، شہزادی کا راگ آلاپ کر اپنا اور اپنی لیڈر کا مزاق بنوائیں۔ 

                            
    Twitter: @GillaniAwais

  • عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا، شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد

    عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا، شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد

    فیصل آباد(عثمان صادق)ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد نے کہا ہے کہ عوامی شکایات پر کان نہ دھرنے والے افسران کو جوابدہ ہونا پڑے گا لہذا وہ اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے شہریوں کو ہرممکن محکمانہ ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے یہ بات اوپن ڈور پالیسی کے تحت اپنے آفس کے باہر کھلی کچہری کے دوران لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے کہی۔مختلف محکموں کے ضلعی افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا کہ ان کی شکایات کے حل کے لئے محکمانہ کارکردگی کی کڑی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور انہیں ہر ممکن ریلیف فراہم کریں گے۔انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ کھلی کچہری میں پیش کی جانے والی شکایات کے حل میں گہری دلچسپی لیں اوردرخواست گزاروں کو اطمینان بخش ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی محکموں کے افسران سے کہا کہ وہ اپنے دفاتر میں موجود رہ کر شہریوں کی شکایات کا ازالہ کریں۔ڈپٹی کمشنر نے درخواست دہندگان کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لئے متعلقہ محکموں کو متحرک کیا گیا ہے اور شکایت کا ازالہ نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • ارفع کریم،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں پر نصب کریں گئے۔ عاصمہ اعجاز چیمہ

    ارفع کریم،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں پر نصب کریں گئے۔ عاصمہ اعجاز چیمہ

    فیصل آباد(عثمان صادق) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے وفد نے ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی عاصمہ اعجاز چیمہ سے پی ایچ اے کے مرکزی دفتر میں ملاقات کی اور شہر کی سر سبز و شادابی و خوبصورتی کے حوالے سے مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔چیمبر آف کامرس کے وفد کی طرف سے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے جاری کاموں کوسراہا اور مستقبل میں ادارے کی معاونت کی یقین دہانی کرائی گئی۔ڈی جی نے وفد کو شہر کی خوبصورتی کے حوالے سے بنائے گئے ماسٹر پلان کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ارفع کریم رندھاوا،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں اور چوراہوں پر نصب کرانے کا پلان ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈسٹریل اور کاروباری شخصیات کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناطے چیمبر کو شہر کی تعمیر اور ترقی کے حوالے سیآئندہ بھی بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ شہر کو کلین اینڈ گرین بنایا جا سکے۔

  • بولی لگائیں اور نمبر حاصل کریں تحریر ذیشان احمد

    جس قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس قوم کا تعلیمی معیار گرا دو تو اس قوم کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا.

    آج کل خیبر پختون خواہ کے مختلف تعلیمی بورڈز کے نتائج آرہے ہیں جس میں زیادہ پیسہ کمانے کی ریس لگی ہوئی ہیں. بورڈز میں چیئرمین سے لیکر کلاس فور تک سب کے انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہیں.

    امتحانات پر ان استادوں کی ڈیوٹی لگتی ہے جو چیئرمین بورڈ کے انگلیوں پر ناچتا ہوں اور سکول انتظامیہ کی مرضی سے ان کے سکول پر امتحانی عملہ تعینات ہوتا ہے.
    بورڈ کے اعلی آفسران کیساتھ ساتھ انکے کلرکس اور ڈرائیوروں کی بھی آؤبھگت کی جاتی ہیں۔
    جو استاد کسی نجی سکولز اینڈ کالجز کے امتحانی ہالز پر ڈیوٹی سرانجام دیتا ھے۔
    تو وہ چیئرمین  کنٹرولر امتحانات اور نجی سکولز اینڈ کالجز کے مالکان کے پہلے سے مرتب طریقہ کار کے مطابق ڈیوٹی کرنے  کا پابند ہوتا ہے۔
    ان استادوں میں تین خصوصیات کا ہونا لازمی ہونا چاہیئے
    نمبر 1۔ آندھا
    نمبر 2۔ بہرا
    نمبر 3. گونگھا
    لازمی بننا چاہیئے ورنہ اس پر کئی قسم کے دباؤ کا آندیشہ ہوتا ھے
    بعض اوقات اس پر لڑکوں اور لڑکیوں سے چھیڑ خانی کے الزامات لگ سکتے ہیں
    جس پر چیئرمین بورڈ اس استاد پر پورے پانچ سالہ پابندی بھی عائد کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کوئی ایماندار استاد اس سسٹم میں نہیں آسکتا.

    نجی سکولزاور کالجز آپنی پسند کا عملہ تعینات کرنے کی پوری قیمت ادا کرتے ہیں۔
      امتحانات شروع ہونے سے کچھ ہفتے قبل فری امتحانی ہالوں کے عوض طلبہ سے بھاری رقوم کے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔ جس کے بدلے طلباء امتحانی عملے کے سامنے نقل کرتے ہیں.

    امتحانات شروع ہوتے ہی تعلیمی بورڈز کے ملازمین کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں. چیئرمین بورڈ، سیکرٹری، کنٹرولر اور دیگر بڑے عہدوں والے کو گفٹ مطلب رشوت میں گاڑیاں، سونا اور نقد رقم ملتی ہیں.
    امتحانی عملہ برانڈڈ کپڑوں اور مرغ پر اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں.

    ہمارے تعلیمی نظام کا ایسا برا حال ہوا جو سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کیونکہ مردان بورڈ کو ایک لڑکی نے 1100 کے ساتھ ٹاپ کیا تو کیا یہ تو نیوٹن سے بھی زیادہ تیز ذہن کی مالک تھی جس سے دوران امتحان ایک غلطی بھی نہ ہوسکی. اس میں لڑکی کی غلطی نہیں ہے بلکہ سسٹم کی غلطی ہے کیونکہ ہمارا سسٹم اتنا تباہ ہوگیا ہے کہ ہر سال 95 فیصد سے زائد نمبروں والے طلبہ کثیر تعداد میں فارغ ہورہے ہیں مگر ہمارا ملک تباہی کی طرف جارہا ہے تو سوال بنتا ہے کہ یہ آخر ذہین طلباء جاتے کہاں ہے اور ہمارے ملک میں سائنسدان کیوں نہیں بنتے؟

    ہرسال رزلٹ سرکاری سکولز اینڈ کالجز کی بجائے نجی سکولز اور کالجز کے پوزیشن ھولڈر کے نام کیاجاتاہے۔
    تعلیمی بورڈ سرکاری سکولز اینڈ کالجز طلبہ کو آٹا میں نمک کے برابر بھی پوزیش نہیں دیتے
    اور انکو کم ظرفی کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ کچھ ذہین طلباء اسی وجہ سے تباہ ہوجاتے ہیں کہ وہ غربت کی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ نہیں لے سکتے اور مجبوراً سرکاری سکولوں میں داخلہ لیتے ہیں اور سرکاری سکولوں کے حالات تو سب کے سامنے ہے اور یوں ایک ذہین ستارہ اجھل ہوجاتا ہے.

    صرف ڈگری حصول روزگار کا زریعہ نہیں ھوتا بلکہ بہترین معاشرے کی تشکیل کا آئینہ دار بھی ہوتی ھے۔
    جس قوم کا تعلیمی معیار گر جاتا ھے اس قوم کو دوبارہ کھڑا ھونے کیلئے ایک صدی درکار ہوتی ھے۔
    حکومت کو چاہیے کہ وہ ان نمبروں کی ریس کو ختم کریں اور ہر قسم کے داخلوں اور نوکریوں کیلئے اپنا ٹیسٹ لے.

  • شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ (1937ء تا 2021ء) تحریر: احسان الحق

    27 ستمبر کو استاد العلماء، محدث العصر، شیخ الحدیث، حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے انتقال کی دلخراش اور افسوسناک خبر سنی. آپ کی وفات کا سن کر گہرا دلی صدمہ پہنچا. آپ ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جن سے مجھے ملنے کی دلی حسرت تھی اور آپ کے انتقال کے ساتھ یہ حسرت، حسرت ہی رہ گئی. آپ سے ملنے سے پہلے آپ خالق حقیقی سے جا ملے.

    انا للہ واناالیہ راجعون.

    شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ 1937ء میں رشیداں والی میں پیدا ہوئے. تقریباً 1850ء میں مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کو 1763 سے 1947 تک قائم رہنے والی ریاست پٹیالہ کی طرف سے کچھ رقبہ ملا. آپ عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اس رقبے پر مسجد اور اپنا گھر بنایا، جہاں آپ کے سارے لڑکے آباد ہوئے. اس علاقے میں یہ اولین آبادکاری میں سے ایک تھی. مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اپنے نام کی مناسبت سے اس جگہ کا نام "عزیز آباد” رکھا. بعد میں کسی وجہ سے اس جگہ کا نام رشیداں والی پڑ گیا اور آج بھی سرکاری کوائف میں اس جگہ نام رشیداں والی ہے. بھارتی پنجاب میں پٹیالہ کے اسی عزیز آباد یا رشیداں والی میں آپ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ پیدا ہوئے. مولانا اثری رحمہ اللہ کی پیدائش سے 87 برس قبل یہ گاؤں آباد ہوا، 1937 میں عزیزآباد کی آبادی دو سو گھرانوں تک پہنچ چکی تھی.

    مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے خاندان میں اسلام قبول کرنے والے پہلے آدمی کا نام طیب تھا. مولانا کا شجرہ نسب کچھ اس طرح سے ہے.

    محمد رفیق بن قائم دین بن علی شیر بن فریدو بن طیب.

    آپ کے والد صاحب نے آپکا نام محمد رفیق رکھا. زمانہ طالب علمی میں آپ نے محمد رفیق کے ساتھ اثری کا اضافہ خود کیا. مولانا رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے دادا مرحوم اسی گاؤں "رشیداں والی” میں ہجرت کرکے آئے اور یہیں آباد ہو گئے. 

    شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے والد محترم پرچون کی دوکان چلاتے تھے. آپ تین بھائی تھے اور آپ سب سے چھوٹے تھے. سب سے بڑے بھائی رحمت اللہ تھے جو ساتویں جماعت تک پڑھے پھر گھریلوں مسائل کی وجہ سے آگے نہ پڑھ سکے اور ان کی شادی بھی کر دی گئی، یہی بڑے بھائی والد صاحب کے ساتھ دوکان پر بھی بیٹھا کرتے تھے. درمیانے بھائی کا نام سلیم تھا.

    برصغیر کی تقسیم کے وقت عزیز آباد میں محض ایک گھر کے علاوہ باقی ساری آبادی مسلمان تھی. تقسیم کے وقت عزیز آباد بھارت کے حصے میں آ گیا اور بھارتی فوج نے زبردستی مسلمانوں سے یہ علاقہ خالی کرواتے ہوئے ساری مسلمان آبادی کو پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا. تقسیم برصغیر اور ہجرت کے وقت مولانا رحمہ اللہ علیہ کی عمر محض دس سال سے گیارہ سال کے درمیان تھی. آپ اپنے والد محترم اور بھائیوں سمیت خاندان کے ساتھ گنڈا سنگھ بارڈر سے پاکستان میں داخل ہو گئے اور بذریعہ ریل گاڑی لودھراں پہنچے. آپ کے خاندان کو ڈیرہ غازی خان جانے کو کہا گیا. آپ کا خاندان لودھراں سے ملتان آیا اور یہیں رک گیا، کیوں کہ کسی نے بتایا تھا کہ ڈیرہ غازی خان پہاڑی اور بنجر علاقہ ہے. اسی لئے آپ کے والد صاحب نے ڈیرہ غازی خان نہ جانے کا فیصلہ فرمایا. ملتان میں ایک ماہ قیام کے بعد آپ کے والد صاحب کو پتہ چلا کہ جلال پور میں رشیداں والی کے کچھ خاندان آباد ہو چکے ہیں. آپ کے والد صاحب نے جلال پور جانے کا پروگرام بنایا، محض یہ دیکھنے کے لئے کہ جلال پور میں رشیداں والی کے لوگ آباد ہیں یا نہیں. جلال پور جا کر معلوم ہوا کہ واقعی رشیداں والی کے کافی لوگ رہائش پذیر ہیں. آپ کے والد صاحب قائم دین نے جلال پور میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ فرمایا.

    مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کی تبلیغ اور تعلیم سے پورا رشیداں والی اہل حدیث تھا. دارالحدیث رحمانیہ رشیداں والی سے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا اور جب آپ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو 29واں اور 30واں پاراں پڑھ رہے تھے یا پڑھ چکے تھے. ابتدائی ایک ماہ آپ دیوبندی مدرسہ میں مولانا نور محمد صاحب سے پڑھتے رہے. بعد میں معلوم کرنے پر آپ کو اہل حدیث مدرسے کا پتہ چلا تو آپ وہاں چلے گئے. آپ نے مولانا حافظ خوشی محمد صاحب سے قرآن مجید مکمل کیا.

    لودھراں کے قریب براتی والا کے نام سے ایک جگہ ہے۔ وہاں جلالپور مدرسہ کے فارغ التحصیل مولانا عبدالرحمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے. انہوں نے پرائیویٹ سکول بنایا تھا. انکی ترغیب سے محلے اور خاندان کے تقریباً پندرہ لڑکے ان کے پاس چلے گئے. ان لڑکوں میں مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ بھی تھے. یہ ان دنوں کی بات ہے جب کشمیر محاذ کھل چکا تھا اور طلبا کو جہاد کی تربیت دی جاتی تھی. آپ نے مولانا عبدالرحمن سے پرائمری تک سکول کی تعلیم، خوشخطی، فارسی کی ابتدائی تعلیم اور جہاد کی تربیت لی. یاد رہے کہ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ خوش خط تھے. اس لیے شیخ محترم محدث جلال پوری سلطان محمود رحمہ اللہ علیہ اثری صاحب سے فتاویٰ جات لکھوایا کرتے تھے. مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ علیہ بھی اثری صاحب سے وقتاً فوقتاً مضامین لکھواتے رہتے تھے.

    ایک بار مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ علیہ کے سامنے اثری صاحب کا ذکر ہوا تو بھٹی رحمہ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ "وہی محمد رفیق جس کی لکھائی بہت اچھی ہے؟”

    مولانا عبیداللہ صاحب رحمہ اللہ علیہ اور مولانا ادریس صاحب رحمہ اللہ علیہ دار الحدیث رحمانیہ رشیداں والی کے فضلاء تھے جن کی محنت سے رشیداں والی گاؤں کے لوگوں نے مسلک اہل حدیث قبول کیا. مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے والد صاحب ان دونوں سے بہت متاثر تھے. اسی وجہ سے آپ کے والد محترم نے خواہش کا اظہار کیا کہ کیوں نہ میری اولاد میں سے بھی کوئی عالم اسلام پیدا ہو چنانچہ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کو اپنے بھائی کے ساتھ جلال پور مدرسہ میں داخل کروا دیا گیا.

    1956 میں آپ فارغ التحصیل ہوئے اور 1954 سے 1956 کی چھٹیوں میں لاہور جا کر جامعہ تقویتہ الاسلام میں مولانا محمد شریف رحمہ اللہ علیہ سے منطق اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کرتے رہے. مولانا محمد عبداللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ علیہ آپ کے کلاس فیلو ہیں.

    مولانا شریف سے مراد مولانا شریف اللہ خان سواتی ہیں. شریف اللہ خان سواتی رحمہ اللہ علیہ جامعہ سلفیہ میں پڑھاتے تھے اور چھٹی کے دنوں میں مولانا داؤد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر تقویۃ الاسلام میں شمس بازغۃ، سلم العلوم، ھدایۃ الحکمۃ اور منطق و فلسفہ کی دیگر کتب پڑھاتے تھے. مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ نے مذکورہ بالا کتب کی تعلیم مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری رحمۃ اللہ علیہ سے مکمل کی تھی مگر مولانا شریف اللہ خان صاحب سے دوبارہ پڑھیں.

    ایک بار لیبیا سے شیخ عمر صاحب ملتان میں حافظ عبدالمنعم صاحب کے پاس آئے. شیخ صاحب نے کہا کہ مجھے ان پندرہ روایات کی تخریج مطلوب ہے، مجھے کسی عالم کے بارے میں بتاؤ جو یہ کام کرسکے. حافظ عبدالمنعم نے شیخ عمر کو شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیا. اثری رحمہ اللہ علیہ نے ان کا کام کردیا اور باتوں باتوں میں کہا کہ مؤطا پر زیادہ کام مغربی علماء نے کیا ہے جو لیبیا اور مراکش وغیرہ میں آباد ہیں. اثری رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ "میں نے بھی مؤطا پر کام کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ مجھے کسی مغربی عالم سے سند حاصل ہو.” شیخ نے اثری رحمہ اللہ علیہ کی بات ذہن میں رکھی اور تیونس کے شیخ محمد شاذلی صاحب سے بات کی. شیخ شاذلی نے اثری صاحب کو خط لکھا کہ آپ نے مغربی عالم سے سند کی خواہش کی ہے، میں آپ کو سند دیتا ہوں اور السبت الصغیر کے نام سے آٹھ صفحات میں اپنی سند بھیج دی جو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ تک المسلسل بالاولویۃ ہے. یہ سند پاکستان میں صرف مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے پاس ہی ہے.

    ایک بار آپ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ اپنے اساتذہ کا ذکر فرما رہے تھے اور بتایا کہ حافظ غلام نبی صاحب، حافظ نور محمد صاحب، حافظ خوشی محمد صاحب، مولانا عبدالرحمان صاحب، مولانا شریف اللہ سواتی صاحب اور مولانا سلطان محمود محدث جلالپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہم. مولانا عبدالحمید صاحب، مولانا عبدالقادر بہاولپوری صاحب، مولانا عبدالرحیم عارف صاحب، مولانا محمد قاسم شاہ صاحب، مولانا عبدالقادر مہند صاحب، مولانا عبداللہ مظفر گڑھی صاحب اور  مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمۃ اللہ علیھم میرے اساتذہ میں شامل ہیں.

    اولاد میں مولانا رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ کے سات بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں. آپ کے پوتے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن مجید اور حدیث کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں. مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے نصف درجن نواسے اور پوتے حافظ ہیں. آپ کی باوفا اور باشعار بیوی کا انتقال آپکی حیاتی میں ہو گیا تھا. مولانا محمد رفیق اثری صاحب کی تصانیف کی تعداد 2 درجن سے بھی زیادہ ہے، اس کے علاوہ آپ کافی عربی کتب کا اردو میں ترجمہ بھی کر چکے ہیں. موطا اور مشکوٰۃ کے حواشی لکھے، اسی طرح الفیۃ الحدیث کے حواشی ہیں. مولانا رحمہ اللہ علیہ نے کئی تراجم بھی کیے ہیں. ایک عرب عالِم الشيخ عبدالله بن عبيد کی کتاب هداية الناسك کا مناسک الحج کے نام سے ترجمہ کیا. رؤیت ھلال کے بارے ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے. اسی طرح شرح خطبہ حجۃ الوداع اور بھی کئی چھوٹے بڑے رسالوں کا اردو ترجمہ کر چکے ہیں. مختلف رسائل کی تعدا بہت زیادہ ہے جن آپکا اردو ترجمہ کر چکے ہیں. قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ علیہ کی شیعہ کے بارے ایک  السیف المسلول نامی کتاب ہے، یہ کتاب صرف ایک بار ہی دہلی سے چھپی تھی. اس کتاب کی اصل مطبوع نہیں ملی جس کی وجہ سے کافی غلطیاں تھیں، مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ نے ان تمام غلطیوں کو درست کرتے ہوئے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا.

    غالباً 1947 کے اواخر یا 1948 کی شروعات میں مولانا محمد رفیق اثری رحمہ اللہ علیہ نے دارالحدیث محمدیہ جلال پور میں داخلہ لیا. 1956 میں فارغ التحصیل ہوئے اور محدث جلالپوری سلطان محمود رحمہ اللہ علیہ کے حکم پر 1956 سے ہی ادارے میں تدریسی فرائض سرانجام دینا شروع کیے. 2021 میں آخری سانس لینے تک آپ اسی ادارے کے ساتھ منسلک رہے. 1948 سے 1956 تک شعبہ تعلیم کے 8 سے 9 سال اور 1956 سے 2021 تک شعبہ تدریس کے تقریباً 65 سال، علالت اور آخری سانس لینے تک 84 سالہ زندگی کے مجموعی طور پر تقریباً 73 سال دارالحدیث محمدیہ جلال پور کو دئیے.

    آپ طویل عرصے سے علیل تھے. آخری چند روز آپ کی علالت میں شدت آ گئی اور آپ سول ہسپتال میں ڈاکٹروں کی زیرنگرانی انتہائی نگہداشت میں تھے. جہاں آپ نے 27 ستمبر کو اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور خالق حقیقی سے جا ملے.

    اللہ سبحانہ وتعالیٰ مولانا اثری رحمہ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائیں، اگلے تمام معاملات اور مراحل آسان ترین فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائیں.

    آمین، ثم آمین.

     سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا اله الا انت استغفرک و اتوب الیک.

    @mian_ihsaan

  • پردے کا طریقہ  تحریر:صابر حسین۔

    پردے کا طریقہ  تحریر:صابر حسین۔

    گھر کے اندر والے نا محرم مردوں سے پردے کا طریقہ بیان فرمایا ہے 

    ہاں اتنی گنجائش ہے کہ جو نا محرم گھر کے اندر رہتے ہیں جن سے ہر وقت پردہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ہر وقت ان کی آمدورفت رہتی ہے اور وہ اکثر گھر میں کام کاج بھی کرتے رہتے ہیں ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ بھابھی کو چاہیئے کہ وہ کوئی بڑا اور موٹا دوپٹہ اس طرح اوڑھے کہ اس میں پیشانی سے اوپر کے اور سر کے سارے بال چھپ جائیں اور دوپٹہ اس طرح باندھے جس طرح نماز میں باندھا جاتا ہے اور اس میں دونوں بازوں بھی چھپ جائیں اور وہ اپنی پنڈلیوں کو بھی شلوار وغیرہ میں چھپائے پنڈلیوں کا ذکر اس لیئے کیا کہ آج کل انہیں کھلا رکھنے کا رواج چل رہا ہے جو سراسر نا جائز ہے صرف چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں اور دونوں پیر کھلے رہیں اس حالت میں ان کے سامنے آنا جانا رکھے اور گھر کے کاموں کو انجام دے تو اس حالت میں گنجائش ہے اور اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ چہرے پر گھونگھٹ میں اس سے بات چیت کر سکتی ہے اور اسے کسی بات کا جواب بھی دے سکتی ہے شریف اور حیادار عورت کیلئے چہرے پر گھونگھٹ ڈال کر کام کاج کرنا کوئی مشکل نہیں ہے بشرطیکہ آخرت کی فکر ضرور ہو خوفِ خدا ہو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر لگتا ہو لیکن سر کھلا رکھنا یا سر کے اوپر اتنا باریک دوپٹہ اوڑھنا کہ اس میں سے سر کے بال نظر آ رہے ہیں یا برائے نام دوپٹہ استعمال کرنا یا دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا ہے سر پر نہیں رکھا ، بازو بھی کھلے ہوئے ہیں کہنیاں بھی کھلی ہوئی ہیں ، کلائیاں بھی کھلی ہوئی ہیں اور ان کلائیوں میں زیورات بھی پہنے ہوئے ہیں اور آج کل تو پنڈلیاں کھولنے کا منحوس رواج بھی چل پڑا ہے لہذا گھر کے جو نا محرم مرد ہیں ان کے سامنے اعضاء کو کھولنا جائز نہیں اور گھر کے باہر کھولنا تو کسی صورت جائز نہیں ہے لیکن آج مسلمان خواتین کا جو حال گھر کے اندر ہے اس سے زیادہ برا حال گھر کے باہر ہے باہر نکلتے وقت برقعے اور پردے کا کوئی نام ہی نہیں ہے اور جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ بھی اتنے باریک ہیں یا اتنے چُست ہیں کہ جسم کا ہر حصہ نمایاں ہو رہا ہے 

    لہذا خواتین یہ بات سن لیں کہ نامحرم مردوں کے سامنے ننگے سر آنے والوں کا عذاب سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بیان فرما رہے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کو جہنم کے اندر سر کے بل لٹکتے ہوئے دیکھا ہے اور ان کا دماغ ہانڈی کی طرح پک رہا تھا ۔ اللہ کی پناہ

     عورت گھر سے سخت مجبوری میں نکلے اور جب گھر سے باہر نکلے تو سادہ اور باپردہ لباس میں نکلے ، جب گھر سے باہر نکلے تو خاوند کی اجازت سے نکلے ، آج کے زمانے میں بازار میں آپ کو صرف دس پندرہ فیصد مرد نظر آئیں گے باقی نوے فیصد عورتیں نظر آئیں گی ۔ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان زور سے آواز دیتا ہے وہ دیکھو عورت جا رہی ہے سب مرد حضرات اس کی متوجہ ہوتے ہوئے عورت کی طرف دیکھتے ہیں دوستو عورت کہتے ہی با پردہ چیز کو ہیں لہذا گھروں میں اسلامی نظام لائیں اور اپنا اہل و عیال محفوظ رکھیں ۔

    مرد حضرات کو بھی چاہیے کہ اپنے نگاہیں نیچی رکھیں اور کبھی بھی شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں توبہ استغفار کا کثرت سے ورد زباں پر جاری رکھیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے آمین

    Sabir Hussain

    @SabirHussain43

  • سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 2)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    جیسے جیسے ڈالر کی اڑان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کا حجم بھی ویسے ویسے بڑھتا جا رہا ہے ۔ جس کو کم کرنے کیلئے حکمران مزید قرضے لینے پہ مجبور ہیں ۔ اور ماہر معشیات کے مطابق پاکستان کی معشیت اب اس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اب قرضوں کی ادائیگی بھی مزید قرض لے کر ہوگی۔ اور ان قرضوں سے اب ایکسپورٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا ۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند برسوں میں قرضے کی قسطیں ہمارے مجموعی بجٹ سے بھی بڑہ جائیں گی ۔ صرف یہی نہیں مصیبت برائے مصیبت ان قرضوں کے ساتھ بڑھنے والا سود بھی ہے ۔

    مارچ 2019ء میں ہمارے بیرونی قرضے تقریباً 105 ارب ڈالر تک تھے جس میں 11.3 ارب ڈالر پیرس کلب، 27 ارب ڈالر دوست ممالک اور دیگر ڈونرز، 5.7 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو اور سکوک بانڈز شامل ہیں۔ ہمارا آدھا سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46 ہزار روپے، 2013ء میں 61 ہزار روپے اور آج 1 لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ معیشت کا احیا تو کجا‘ الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام، کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کرکے قرضوں کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں

    اگر ہم سود کو ہی نہ چھوڑیں گے تو ہم براہ راست اللہ سے جنگ کرنے میں شامل ہیں ۔ عالمگیر سودی نظام کی جڑیں ہمارے اندر تک پیوست ہوگئی ہیں ۔ ہم اس سودی نظام کی گرفت سے آزاد نہ ہو گے تو اللہ کی مدد بھی ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگی ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے شعیب ابی طالب میں رہ کر اقتصادی مقا طعے کا سامنا کیا ۔ اور چند سالوں بعد جنگ احزاب میں دشمنانِ اسلام کی متحدہ قوت کو پسپا کر دیا۔ تو یہ کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کہ ہم اس نظام کو کم از کم پاکستان سے ختم نہیں کر سکتے۔

    پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک زرعی ملک بھی ۔ اول تو اسے سیاسی طور پہ تنہا رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا بھی ہے عین ممکن ہے تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہمارا قرض اتارنے میں ہماری مدد ضرور کریں گے اگر وہ ممالک مغربی افواج پہ اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہماری مدد کیوں نہیں کریں گے ۔ دوسری بات پاکستان میں قیادت کا بحران اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ ہم غیر ملکی طاقتوں کی جکڑ میں ہیں ۔ اور عالمی طاقتوں نے اپنے ایجینٹ اور کرائے کے لیڈر ہم پہ مسلط کر رکھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 73 سال کے اس طویل عرصے میں کوئی ایسا رہنما پیدا نہ ہو سکا ۔ جو حقیقی معنوں میں لیڈر کہلانے کے لائق ہو ۔ پاکستان کی تنہائی عوامی مزاحمت کی رہنمائی کرنے والی حقیقی قیادت کو ابھارے گی

    دوسری بات جب بھی کسی شخص کو یا کسی ریاست کو تنہا کیا جاتا ہے تو وہ اپنے وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنا لوہا ضرور منواتے ہیں ۔ دنیا میں وہ تمام ممالک جنہیں دیفالٹ قرار دے کر انہیں سیاسی طور پہ تنہا کیا گیا وہ اپنے قدموں پہ کھڑے ہوگئے ۔اس کی ایک زندہ مثال چین ہے جو پاکستان کے بعد وجود میں آیا ۔ لیکن آج اسکی معشیت سے لے کر سیاسی حالت سب ہی قابل رشک ہیں ۔ ایران عراق لیبیا اور سوڈان کو تنہا کیا گیا لیکن وہ سب ایک مضبوط بن کر ابھرے ۔

    ….continue

  • سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم تحریر ثمینہ اخلاق

    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ 

    ‏حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تمام کمالات کا مجموعہ ہے۔انسانوں میں سے کوئی بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو، اُس کی زندگی کے لیے نمونہ اور اس کے کردار واعمال کی درستی واصلاح کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں مکمل رہنمائی موجود ہے

    آپ ﷺ ۱۲ ربیع الاول کو دنیا میں تشریف لائے۔ اللّٰہ کے فضل سے ربیع الاول کا مہینہ پھر سے ہمیں نصیب ہوا ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں جانے اور اس مہینے کی مناسبت سے میلاد النبی کا اہتمام کرے اور درودپاک کا ورد کریں۔ 

    ایک مسلمان کی حیثیت سے سیرتُ النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مطالعہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرتِ مبارکہ ہی ایک ایسی سیرت ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے کے متعلق رہنمائی ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرت میں آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں بہت کچھ ملتا ہے جیسے خُلقِ عظیم، صبر وتحمل،اخلاص وتقویٰ،عدل واحسان،حُسنِ معاشرت،اندازِگفتگو اور گھریلو زندگی۔ 

    ہماری خوش نصیبی ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا کوئی پہلو بھی ہماری پہنچ سے دور نہیں ہے۔ ہمیں حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق حسنہ کی روشنی میں زندگی گزارنی چاہیئے۔ہم رسول ﷺ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں صبر کی خوبیاں اپنائیں اور ہر قسم کی جسمانی ومالی آزمائشوں پر صبر کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور زندگی کے ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ ہم مکمل اخلاص وتقویٰ کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کریں اور نبی ﷺ کے بتائے ہوئے راستے کو اپنائیں۔یہی راہِ نجات ہے۔ 

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عدل و احسان کی بڑی فضیلت بیان کئ ہے۔ آپﷺ سب سے زیادہ عدل اور احسان فرمانے والے تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ عدل اور احسان کرنے والے سے محبت کرتا ہے۔

      ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں عدل و احسان سے کام لینا چاہیے، تا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ ہم سے خوش ہو جائیں اور ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔

        غرض یہ کہ رسول ﷺ نے تمام زندگی اپنے ہاتھ اور زبان مبارک سے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ آپ ﷺ نے معاشرے کے تمام افراد کو حسن معاشرت کی ترغیب دلائی اور اس کا طریقہ بھی سکھایا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ترجمہ (جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔)

           ہمیں چاہیے کہ اسوہ رسول اپنا کر ہم اپنے معاشرے میں اخوت،محبت اور رواداری کو پروان چڑھائیں۔

              رسول ﷺ کے خلق عظیم کا ایک نہایت اہم پہلو آپ ﷺ کا شیریں بیان اور حکیمانہ اندازِ گفتگو ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قیامت تک آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کو اسوہ حسنہ بنایا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی گفتگو سے منع فرمایا جس سے لوگوں کی دل آزاری ہو اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے شخص کو آپ ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اسوہ رسول ﷺ کی روشنی میں ہمیشہ اچھی بات کریں۔ بامقصد اور مفید گفتگو کریں۔فصول اور برے کلمات سے بچیں تا کہ ہماری گفتگو کے ذریعے آپس میں میل جول بڑھے اور معاشرے میں خوشگوار تعلقات فروغ پائیں۔

              رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی ساری اُمت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ غمی، خوشی،تنگدستی،خوشحالی،غرض تمام حالتوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے زندگی کے ہر میدانوں میں قابلِ عمل ہے۔آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو اللہ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ اقرار دیا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم کی سیرتِ طیبہ پر عمل کریں تا کہ دنیا و آخرت میں فلاح پا سکیں

     تحریر: ثمینہ اخلاق

     @SmPTI31