Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "تحفظِ ختمِ نبوت”  تحریر:صائمہ ستار

    "تحفظِ ختمِ نبوت”  تحریر:صائمہ ستار

    "خود میرے نبی نہ یہ بات بتا دی لا نبی بعدی

    سنے لے ہر زمانہ یہ نوائے ہادی لا نبی بعدی”

    عقیدہ ختمِ نبوت ہر امتی کو جان سے بھی پیارا ہے. یہ اسلام کا ایسا لازم رکن ہے جسکے بغیر مسلمان کا ایمان کبھی مکمل نہیں ہو سکتا.یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر تمام مسالک اور فرقے متفق ہیں کہ سیدنا محمدﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والا یقینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج ہے. اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے”محمد ﷺتمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والے ہیں ” اس آیت سے  علم ہوا کہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلیے بند ہوگیا ہے اور یہ وہ اعزاز ہے جو کسی نبی یا رسول کو عطا نہیں ہوا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”(لا نبی بعدی)”  میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے. "قادیانی مرزا کافر کی نبوت پر جتنے دلائل پیش کرتے ہیں وہ سب نہ تو قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی احادیث سے بلکہ یہ سب تو ان کی من گھڑت باتیں ہیں. تحفظِ ختمِ نبوت پر زندگی فدا کر دینا زندگی کا بہترین استعمال ہے. اس کام کی فضیلت اسقدر ہے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ جو شخص اس بات کاخواہش مند ہو کہ وہ سیدنا محمدﷺ کی ذاتی خدمت کرنا چاہے وہ ختمِ نبوت کے تحفظ کا کام کرے. 

    فتنہِ قادیانیت پہلی بار سیدنا ابو بکر صدیق کہ دورِ خلافت میں اٹھا. 1200 صحابہ اکرام نے جنگِ یمامہ میں اپنی جانیں قربان کر کہ فتنہِ قادیانیت کو مکمل طور پر مٹا ڈالا. آنے والے وقتوں میں اسطرح کے مرتد سر اٹھاتے رہے لیکن ہر دور میں اس فتنہ کی سرکوبی کرنے والا مردِ مجاہد میدان میں موجود رہا. قیامِ پاکستان کے بعد نئی سلطنت کو درپیش مسائل میں ایک فتنہِ قادیانیت سے نمٹنا بھی تھا. اسوقت تک پاکستان کے آئین کے مطابق قادیانی کافر نہیں تھے. وقت کے ساتھ ساتھ یہ فتنہ اپنی جڑیں وسیع کر رہا تھا جسے کاٹنا بہت ضروری ہو گیا تھا.اسی نازک صورتحال میں سپہ سالارِ تحریکِ ختمِ نبوت,فاتح قادیانیت علامہ شاہ احمد نورانی اٹھے. آپ نے زندگی کی آخری سانس تک ختمِ نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کی. محراب و منبر سے لے کر سینٹ کے ایوانوں تک ہر میدان میں یہ مردِ مجاہد قادیانیت کی موت بن کر  سامنے آیا. آپ نے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی تحریک کا آغاز کیا. اس میں آپکے رفیقِ کار عبدالستار خان نیازی کی خدمات بھی قابلِ قدر ہیں.اس تحریک کے دوران دی جانے والی قربانیاں آبِ زرسے لکھنے کے لائق ہیں. پاکستان کا پہلا مارشل لاء اسی دوران نافذ ہوا جسے ختمِ نبوت کے محافظوں پر ہی آزمایا گیا. اور 10 ہزار کے قریب  نہتے بچے,بزرگ اور نوجوان محظ ختمِ نبوت کی پہریداری کے جرم میں شہید ہوئے.لاہور کی تاریخ کا یہ لہو رنگ دور تھا. سیکرٹری دفاع سکندر مرزا نے یہ فرعونی آرڈر جاری کر رکھا تھا کہ:”مجھے یہ نہ بتایا جائے کہ کوئی ہنگامہ ختم کر دیا گیا ہے، بلکہ مجھے یہ بتایا جائے کہ وہاں کتنی لاشیں گرائی گئی ہیں؟مجاہدین کا عزم اس قدر بلند تھا کہ بے انتہا ظلم و تشدد,گرفتاریاں اور گولیاں بھی اس جذبے کو سرد کرنے میں ناکام تھیں. ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا. اور ہزاروں بے گناہوں کو شاہی قلعہ اور جیلوں میں ٹھونس کر بے رحم پولیس کیرحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا.کرفیو کے باوجود جلوس نکلتے رہے,ڈنڈے گولیاں برستی رہیں.

    شہر میں شہدائے ختم نبوت کے پاک جسموں کے ڈھیر لگ گئے تھے جنہیں ٹرکوں میں لاد کر، چھانگا مانگا کے جنگل میں اجتماعی قبر کھود کر ڈالا جاتا اور پھر تیل چھڑک کر آگ لگا دی جاتی تھی، تاکہ شہیدانِ عشقِ رسالت  کا نام و نشاں مٹ جائے لیکن وہ بد بخت یہ نہیں جانتے تھے کہ تحفظِ ختم نبوت کے لیے آنے والی موت تو ابدی زندگی ہے. 

    . اس تحریک کے 3 مطالبات درج ذیل تھے.

    1۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔2۔قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے فارغ کیا جائے۔ 3۔قادیانی وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ خان کو بر طرف کیا جائے۔

    اگر چہ وقتی طور پر تحفظِ ختمِ نبوت کی تحریک کو ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے دبا دیا گیا لیکن آنے والے وقتوں میں شہداء کا مبارک خون اور قربانیاں رنگ لائیں. اور تمام مطالبات ایک ایک کر کہ پورے ہو گئے.سر ظفر اللہ قادیانی رسوا ہوا.اور اقتدار کو ترستا مرا. قادیانی غیرمسلم قرار پائے.یوں یہ تحریک اپنے مقصد میں کامیاب ہوئ.قادیانی اپنی اس ہار کو بھولے نہیں اور آج بھی وہ دوبارہ یہ خواب دیکھتے ہیں کہ کسی دن وہ اس وطن میں انکو کافر قرار دینے والا قانون ختم کروانے میں کامیب ہو جائیں گے. لیکن سیدنا محمدﷺ کا جب تک آخری جانثار بھی زندہ ہم اس وطن میں یہ ممکن نہیں ہونے دیں گے انشاء اللہ. ہمارا فرض ہے کہ آنے والی نسلوں کو ختم نبوت کی اہمیت, فتنہ قادیانیت اور اسکی سرکوبی کے لیے دی جانے والی لازاول قربانیوں سے آگاہ کریں. بطوایک امتی اللہ تعالیٰ ہم سب کو زندگی کی آخری سانس تک عقیدہِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت کا وفادار رکھے اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق دے. آمین.

    "فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود 

    ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام”

    ‎@just_S32

  • تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ تحریر: خوشنود

    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ تحریر: خوشنود


    آج کا مسلمان مختلف قوموں، قبیلوں، خاندانوں، فرقوں، حسب نسب میں بٹ چکا ہے۔ اسلام، اسلام کی تعلیمات تو آج کے مسلمان میں بس رسمی سی رہ گئی ہیں۔ خود کے مسلمان ہونے پہ فخر تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو کھوکھلا سا ایمان، نہ ہونے کے برابر دینی تعلیمات کی پیروی۔ بس "نام نہاد مسلمان”۔ اکثریت کے لئے تو اسلام، مسلمان ہونا بس ایک رمضان کے مہینے تک محدود ہوگیا ہوا وہ بھی بس ایک چُٹکی کے برابر۔

    ” اسلام” نام تو ایک مذہب کا ہے لیکن آج کے مسلمان نے اصولِ دین و عقائدِ دین میں اختلافات پہ اپنی مختلف فرقوں، مسلکوں میں تقسیم کر لی ہے۔

    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: 

    "تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا، تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو”

    لیکن آج کا مسلمان تو اسلام میں اپنے اپنے عقیدے کو لیکر اپنے سگے بھائی سے اختلافات رکھے ہوئے اُسے بھی پہچاننے سے عاری ہے۔ 

    اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فرض احکامات ہیں انکو پورا کرتے نہیں اور دیگر اصول و عقائد کی بحث میں کوئی سُنی بن گیا، کوئی سلفی، کوئی دیو بند اور کوئی شیعہ۔ مختلف مسالک و فرقے تو بن گئے لیکن عملی طور پر ایک مکمل مسلمان ہونا نہ رہا۔ 

    مذہب کی آڑ میں ایسے ایسے بیانات دیتے ہیں کہ نا جانے ایمان بھی قائم رہتا ہو گا کہ نہیں۔کلمہ طیبہ ک اقرار کرتے ہیں لیکن جس اللہ اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ ایمان کی زبان سے گواہی دیتے ہیں اُنہی کے نام پہ آپسی اختلافات میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں اپنا اپنا عقیدہ لیکر ایک دوسرے کو گالی گلوچ، توہمات، کافر تک کہہ دیتے ہیں، اسلام و ایمان کے ٹھیکیدار بنے ہوئے دوسروں کے دائرہ اسلام، دائرہ ایمان سے ہی خارج کر دیتے ہیں۔

    آج کا مسلمان تو بس دنیاوی زندگی، دنیاوی آسائشوں کو لیکر بس اِسی دنیا کی زندگی میں غرق ہو کے رہ گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دولت و شہرت کے چکروں میں سبھی قرآنی تعلیمات، دینی احکامات کو بھلائے بیٹھا ہے۔ کوئی بھی مسلمان جس بھی فِیلڈ میں ہے اپنی اپنی فِیلڈ میں آگے سے آگے بڑھنے، دوسروں سے سبقت لے جانے کے لئے رشوت، جھوٹ، زیادتی، دھوکا، ظلم و ستم، نا انصافی نیز ہر قسم کا غلط، نا جائز حربہ استعمال کر رہا ہے۔ حق تلفی عام ہے۔ ایک دوسرے سے برتری لے جانے کے لئے دوسروں کے لئے اپنے دلوں میں بُغض، حسد، کینہ، نفرتیں پالے ہوئے ہے۔ دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کے لئے کوئی بھی گھناؤنا قدم اٹھا لیتا ہے۔ آج کا مسلمان یہ بھولے بیٹھا ہے کہ کل کو روزِ محشر اللہ کے سامنے اپنے ہر ہر عمل کے لئے جوابدہ ہونا ہے۔ 

    اسلام تو امن کا دین ہے، آسانیوں کا پیغام دیتا ہے۔ آج کا مسلمان جو سب کچھ کر رہا ہے یہ تو اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں۔ جو سب کچھ آج اسلامی معاشرے میں ہو رہا ہے اور اپنے اپنے عقیدوں کو لیکر مسلمان جو مختلف فرقوں میں بٹ چکے ہیں یہ تو اسلام نہیں ہے۔

    آج کے مسلمانوں کے لئے پیغام ہے پہلے اپنے مسلمان ہونے کے فرائض تو پورے کر لیں کلمہ طیبہ کا بس زبان سے اقرار نہیں، اپنے ہر عمل سے بھی اللہ اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کی مضبوطی دکھائیں۔اسلام میں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد مقرر کئے گئے ہیں اُنکو پورا کریں۔ یہ”دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔” 

    اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہو گی، فانی کے لئے دائمی کو تباہ و برباد نہیں کریں۔ اگلی ہمیشہ کی رہنے والی زندگی میں آسائشوں اور آسانیوں کے لئے یہ ختم ہو جانے والی زندگی کو ایک سچے مسلمان ہوتے ہوئے مکمل دائرہ اسلام میں داخل ہو کر اسلامی تعلیمات و احکامِ الہی کے مطابق گزاریں۔ 

    آخر میں اقبال کے شعر سے آج کے مسلمان سے سوال ہے۔۔۔۔

    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو 

    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟؟؟

  • ‏سوشل میڈیا: یہ ادھوری اور مصنوعی دنیا  تحریر جواد خان یوسفزئی

    ‏سوشل میڈیا: یہ ادھوری اور مصنوعی دنیا تحریر جواد خان یوسفزئی

     

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@

    سوشل میڈیا اور خاص کر فیس بوک کی دنیا وسیع بھی ہے اور محدود بھی۔ وسیع یوں کہ ہر آدمی کو اس کے مزاج اور ضرورت کے مطابق مواد مل جاتا ہے۔ محدود یوں کہ جب اس مصنوعی دنیا میں چند لمحے جی کر حقیقی دنیا میں قدم رکھتے ہو تو احساس ہوتا ہے

    خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا 

    یہ مصنوعی دنیا ہے اور آنکھوں کو خیرہ کرتی اس دنیا سے جتنا دور رہیں، اتنا ہی اچھا ہے۔ حقیقت کے پرندے کا شکار، اس دنیا سے دور کھلی فضاؤں میں ہی ممکن ہے۔ یہ حقیقت اپنے بارے میں بھی ہو سکتی ہے، دوسروں کے باب میں بھی اور سب سے بڑھ کر اس دنیا کے تلخ حقائق بھی ہوسکتے ہیں۔ 

    میرے خیال میں سوشل میڈیا کا یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے کہ یہ انسان کو حقیقی دنیا کے بجائے مصنوعی دنیا میں لا کھڑا کرتا ہے۔ جو لوگ اپنا لائف کرئیر بنا چکے ہیں، ان کے لیے تو کسی حد تک ٹھیک ہے۔ مگر طالب علم اور خاص کر وہ لوگ جو یونیورسٹیوں سے نکل چکے ہیں اور غم روزگار اور غم دوراں کے دوراہے پر کھڑے ہیں، ان کے لیے یہ زہر قاتل سے بڑھ کر کوئی شے ہے۔ جب گھر سے ملنے والی جیب خرچ کا اے ٹی ایم کارڈ، جہانگیر ترین کی صورت اختیار کر گیا ہو، خود اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کے بجائے خان صاحب کی طرح فلسفہ جھاڑ رہے ہو اور عملی طور پر کچھ کرنے کے بجائے فیس بوکی دانشور بن بیٹھے ہو، تو یقین کریں آپ کا خون بالکل جائز ہے۔

    سوشل میڈیا کے فوائد بھی ہیں۔ ان سے کس کو انکار۔ اور نہ ان کی طویل فہرست پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں سب واقف ہیں۔ مگر مجھے وقت کے ساتھ احساس ہو چلا ہے کہ اس کے نقصانات فوائد سے کئ گنا زیادہ ہیں۔ سب سے بڑا نقصان تو اس کی مصنوعات ہی ہے۔ یہ سراب ہے۔ نظروں کا فریب ہے۔  ایک دن سر پہ تاج سجاتا ہے۔ دوسرے دن رسوا سر بازار کر دیتا ہے۔ "چائے والے” کی خوب صورت آنکھیں سوشل میڈیا کی برکت سے اس کو چند دن آسمانوں کی سیر کراتی ہیں۔ جب اس کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی شے ہے، پھر زمین پر پٹخ دیتا ہے۔ کہ بھائی جتنا نچانا تھا نچا لیا۔ اب جاؤ اور اپنی چائے بیچو۔ "پاری ہو رہی ہے” والی حسینہ کے لیے بھی یہ چند دن کی رونقیں ساتھ لاتا ہے۔ جب لڑکی تفاخر کا سر بلند کرتی ہے تو پھر ہما کب کا اڑ چکا ہوتا ہے۔ قندیل بلوچ کو چند روز نچایا اور پھر زیر زمین پہنچا دیا۔ صندل خٹک اپنی ساری شوخیوں، چال ڈھال کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہے۔ حریم شاہ کو ہر ماہ کوئی نئ واردات کرنی پڑتی ہے کیوں کہ سوشل میڈیا چند دن ہی کسی کی میزبانی کرتا ہے۔

    سوشل میڈیا ہم دانشوراں کے ساتھ ان مذکورہ ناموں سے بھی بڑھ کر المیے کر جاتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ فیس بوک پر لکھنے سے پیسے نہیں ملتے اور آپ لائف کرئیر کے طور پر اس کو اپنا نہیں سکتے۔ دوسری طرف فیس بوک آپ کو اس رنگ روپ میں پیش کرے گا جیسے کائینات میں آپ ہی آپ ہیں اور آپ کی ایک چال سے قیامت بپا ہو سکتی ہے۔ آپ محنت مزدوری اور کام کے بغیر روز آتے ہیں اور تھوڑا بہت پڑھ کر اس کو لوگوں کی نظر کرتے ہیں تو تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اور آپ کو پر لگ جاتے ہیں۔ جب آپ "واہ واہ” اور کیا خوب لکھا\بولا سے پھولے نہیں سما رہے ہوتے اور کہتے ہیں کہ اسی سے گلشن کا کاروبار چلے گا، اچانک نیٹ پیج ختم ہوجاتا ہے، اپنا پیٹ خالی پاتے ہیں اور نکوڑی جیب کو اس سے بھی زیادہ کنگال۔ تب احساس ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر پہلے اس سوشل میڈیا نے جو سر پہ تاج سجایا تھا، اب گدا بنا کر بیٹھا دیا ہے۔ کہاں گئے وہ داد و تحسین کے برستے ڈونگرے؟ کہاں گئ وہ دانش وری کی چمکتی دکان؟

     کچھ علاج اے چارہ گراں اس پیکج، پیٹ اور جیب کا ہے بھی کہ نہیں؟ 

    سو کیون نہ کوئی کام کیا جائے؟ محنت کی جائے۔ اپنا کرئیر بنایا جائے۔ چار پیسے کمائے جائیں۔ جہاں ٹیلنٹ ہے، اس کو بروئے کار لا کر اپنا مستقبل سنوارا جائے۔ سوشل میڈیا کو سنجیدہ لیے بغیر صرف دل لگی اور سیر سپاٹے کے واسطے اختیار کیا جائے۔ اور الٹے پاؤں نکلا جائے۔ جتنی جلد یہ حقیقت سمجھ آگئ، اتنا ہی بھلا ہے۔ 

     اس کے علاؤہ چلتے چلتے عرض کرتا چلوں کہ جو لوگ سوشل میڈیا پر دیر و حرم کے جھگڑے مٹانے آتے ہیں، سمجھو کہ جان کے دھوکہ کھاتے ہیں۔ دھوکہ دیتے ہیں۔ بھائی یہ ایسے مسائل ہیں جو لاکھوں کتابوں، مناظروں، بحثوں اور فتووں سے حل نہ ہوئے۔ آپ کی فیس بوک پوسٹ اور کمنٹ سے خاک حل ہوں گے۔ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ اپنی رائے کو، کسی پر ٹھونسے بغیر، آرام اور شائستگی سے کہہ کر پتلی گلی سے نکل جاؤ اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھو۔ سیدھے جا کر اپنا کام کرو، کام نہیں تو کوئی کتاب پڑھو، کچھ لکھنے بیٹھ جاؤ۔ اگر ایسا موڈ نہیں تو لمبی والک پہ نکل جاؤ۔ چائے کے ڈھابے کا رخ کرو۔ کسی ہم خیال دوست کو کال کرو اور گپ شپ لگاؤ۔ اگر کچھ بھی نہیں تو لمبی تان کر سو جاؤ۔ یقین کرو یہ سارے کام فیس بوک کو سنجیدہ لینے، اس پر دانشوری بگھارنے، لوگوں سے الجھنے اور بحث و تکرار میں حصہ لینے سے کہیں بہتر ہیں۔

  • خلیفہ اول یار غار حضرت صدیق اکبر

    خلیفہ اول یار غار حضرت صدیق اکبر

    ‏خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق یار غار بھی کہلاتے ہیں اور اول میں سے اسلام قبول کرنے والے اصحابِ کرام میں شامل ہیں اور آپ نے سب سے پہلے نبوت کا دعویٰ کرنے والے عبہلہ بن کعب معروف باسود العسنی ملعون  کو 511 میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّہ تعالیٰ عنہ نے قتل کیا جو پہلا نبوت کا دعویٰ کرنے والے تھا دوسری بھی آپ رضی اللّہ تعالیٰ عنہ نے جس کا نام مسیلہ بن کبیر حبیب الکذاب تھا اسی سال یعنی 511 عیسوی میں کفر کا سر کچلا 
     ابوبکر الصدیق ، خدا کے رسول کے جانشین ، خدا ان پر سلامتی اور برکت نازل کرے ، ان کا نام عبداللہ ابن ابی قحافہ عثمان ابن عامر ابن عمرو ابن کعب ابن سعد ابن تیم ابن مرہ ابن کعب ابن ہے لوئے ابن غالب القرشی التمیمی ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں۔
    النوی نے اپنی تہذیب میں اور جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ ابوبکر الصدیق عبداللہ کا نام صحیح اور معروف ہے ، اور کہا گیا کہ اس کا نام عتیق ہے۔ ابن الزبیر ، اللیث ابن سعد اور ایک گروہ ، اور کہا گیا کہ اس کے نسب میں کچھ غلط نہیں ہے۔
    مصعب بن زبیر اور دیگر نے کہا:امت متفقہ طور پر اسے الصدیق کہنے پر راضی ہوگئی کیونکہ اس نے اللہ کے رسول believe پر ایمان لانے میں جلدی کی ، خدا اسے سلامت رکھے اور اسے سچا ہونا چاہیے۔ اسلام میں ، بشمول شب سفر کی رات کی کہانی ، اس کی ثابت قدمی اور اس میں کافروں کو اس کا جواب ، اور خدا کے رسول کے ساتھ اس کی ہجرت ، خدا اسے سلامت رکھے اور اسے سلامتی دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں اور بچوں اور ان کے ساتھیوں کو غار اور باقی راستے میں چھوڑ دیا ، پھر بدر کے دن اور حدیبیہ کے دن ان کے الفاظ جب دوسروں کو مکہ میں داخل ہونے میں تاخیر کا شبہ تھا اور پھر جب وہ رو رہے تھے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ ایک بندہ جسے خدا نے دنیا اور آخرت کے درمیان منتخب کیا ، تو اس نے آخرت کا انتخاب کیا اور پھر اس کے استحکام کے دن خدا کے رسول نبی کی وفات کے دن ، خدا کی دعائیں اور سلامتی ہو ، لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں آباد کیا ، پھر وہ مسلمانوں کے فائدے کے لیے بیعت کے مسئلے میں اٹھا ، پھر اسامہ بن زید کی فوج کو شام بھیجنے میں اس کی دلچسپی اور ثابت قدمی اس میں اس کا عزم ، پھر اس کا ارتداد کے لوگوں سے لڑنے کا عروج اور صحابہ کے ساتھ اس کی بحث جب تک کہ وہ ثبوت کے ساتھ حج نہ کریں اور خدا نے ان کے سینے کو اس بات کے لیے سمجھایا جو اس نے اسے سچ سے سمجھایا ، جو کہ ارتداد کے لوگوں سے لڑ رہا ہے ، پھر اس نے لیوینٹس کو اس پر فتح حاصل کرنے اور انہیں سامان مہیا کرنے کے لیے تیار کیا ، پھر اس نے ایک اہم کام کے ساتھ اس پر مہر لگا دیاس کی بہترین خوبیاں اور اس کی سب سے اعلیٰ خوبی مسلمانوں پر اس کی جانشینی ہے ، عمر رضی اللہ عنہ اس سے راضی ہیں ، اس کی تشریح اور اس کی مرضی ، اور خدا نے اسے قوم کے سپرد کیا ہے ، لہذا خدا غالب اور اس کے بعد ان میں بہترین خلافت آئی اور عمر کے سامنے پیش ہوئے ، جو ان کے نیک اعمال میں سے ایک ہے اور ان کا ایک عمل اسلام کا پیش خیمہ ہے اور دین کی مضبوطی اور خدا کے اس وعدے پر یقین ہے کہ وہ اسے سب پر ظاہر کرے گا ایک دوست کی بے شمار خوبیاں ، راضی اور فضیلتیں ہیں۔ یہ ایک نووی کے الفاظ ہیں۔
    اور میں کہتا ہوں: میں صدیق کے ترجمے کو کچھ ہندسوں میں آسان بنانا چاہتا تھا ، اس میں اس کے ایک بڑے جملے کا ذکر کرنا جو میں نے اس کی حالت سے کیا تھا ، اور اسے ابواب میں ترتیب دیا تھا۔
    اس کے نام اور عنوان میں ایک باب۔
    اس کا حوالہ دیا گیا۔ ابن کثیر نے کہا: وہ اس بات پر متفق تھے کہ اس کا نام عبداللہ ابن عثمان تھا ، سوائے اس کے کہ ابن سعد نے ابن سیرین کے اختیار پر بیان کیا کہ اس کا نام عتیق ہے ، اور صحیح اس کا لقب ہے۔ حنبل ، ابن ما میں اور دیگر ، اور ابو نعیم الفضل ابن ذکین نے کہا: وہ اپنی بھلائی کے لیے ہے ، اور کہا گیا: اس کا نسب ، یعنی اس کی پاکیزگی ، اگر اس کے نسب میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ ابوبکر کا نام اس نے کہا: عبداللہ۔ اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں عتیق۔ اس نے کہا کہ ابو قحافہ کے تین بچے تھے جن کا نام اس نے عتیق ، معطیق اور معطیق رکھا۔ ابن مندہ اور ابن عساکر نے موسیٰ بن طلحہ سے روایت کی کہ کہا: میں نے ابو طلحہ سے کہا ، اس نے ابو طلحہ سے کہا: ابوبکر کا نام عتیق کیوں رکھا گیا؟ اس نے کہا: اس کی ماں اپنے بیٹے کے لیے نہیں رہ رہی تھی ، اور جب اس نے اسے جنم دیا تو اس نے گھر کو سلام کیا ، پھر اس نے کہا ، "اے خدا ، یہ موت سے پاک ہے ، اس لیے اس نے مجھے یہ دیا۔” الطبرانی نے ابن عباس کی روایت پر بیان کیا ، جنہوں نے کہا:اسے اپنے اچھے چہرے کی وجہ سے عتیق کہا جاتا تھا ، اور ابن عساکر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، اللہ نے اس سے راضی ہو ، جس نے ابوبکر کا نام بتایا ، جسے اس کے خاندان نے اس کا نام عبداللہ رکھا ، لیکن عتیق نے اسے پیچھے چھوڑ دیا اور ایک تلفظ میں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اسے سلامت رکھیں ، اسے عتیق کہتے ہیں ، اس کے بارے میں خدا نے کہا ، خدا کی قسم ، میں ایک دن اپنے گھر میں ہوں اور خدا کے رسول ، خدا اسے برکت دے اور عطا کرے اسے سلامتی ، اور اس کے ساتھی صحن میں ہیں اور میرے اور ان کے درمیان پردہ ہے ، جب ابوبکر آتے ہیں۔ اسے ابوبکر کی طرف دیکھنے دو۔ "اور اس کا نام جو اس نے اپنے خاندان کے نام عبداللہ رکھا تھا ، اس لیے عتیق نام اس پر غالب آیا ، اور الترمذی اور الحکیم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، خدا اس سے راضی ہو ، کہ ابوبکر خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوا اور کہا: اے ابوبکر ، تم خدا کی آگ سے آزاد ہو گئے ہو ، ابوبکر کا نام عبداللہ تھا ، لہذا خدا کے رسول ، خدا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برکت دی اور اسے سلامتی دی ، اس سے کہا ، "تم خدا کی آگ سے آزاد ہو۔” اسے عتیق کہا جاتا تھا۔اے ابوبکر تم جہنم کی آگ سے پاک یعنی جنتی ہو   ۔اس دن سے اسے عتیق کہا جاتا تھا۔ البزار اور الطبرانی نے عبداللہ بن الزبیر کے اختیار پر راوی کا ایک اچھا سلسلہ نکالا جس نے کہا: ابوبکر کا نام عبداللہ تھا ، تو خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سلامتی کی ، اس سے کہا ، تم جنتی ہو  ،” اس لیے اسے عتیق کہا گیا۔اے ابوبکر تم جہنم سے پاک  ہو۔اس دن سے اسے عتیق کہا جاتا تھا۔ البزار اور الطبرانی نے عبداللہ بن الزبیر کے اختیار پر راوی کا ایک اچھا سلسلہ نکالا جس نے کہا: ابوبکر کا نام عبداللہ تھا ، تو خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سلامتی کی ، اس سے کہا ، "تم خدا کی آگ سے آزاد ہو ،” اس لیے اسے عتیق کہا گیا۔
    جہاں تک الصدیق کا تعلق ہے ، یہ کہا جاتا تھا کہ اسلام سے پہلے کے زمانے میں انہیں ان کی ایمانداری کی وجہ سے پکارا جاتا تھا۔ خدا کی دعائیں اور سلامتی اس پر ، جو وہ اسے بتا رہا تھا۔ ابن اسحاق نے الحسن البصری اور قتادہ کے اختیار پر کہا۔ خدا اس سے راضی ہو۔ اس نے کہا مشرک ابوبکر کے پاس آئے اور کہا۔ کیا آپ کا کوئی دوست ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آج رات اپنے ساتھ بیت المقدس لے جایا گیا؟ انہوں نے کہا ، "ہاں۔” اس نے کہا ، "اس نے ایمان لے لیا ہے۔ میں اس پر اس سے زیادہ یقین کرتا ہوں ، صبح آسمان کی خبروں کے ساتھ اور اس کی روح میں۔ اسی لیے الصدیق کو اس کی زنجیر کہا جاتا ہے۔ اچھا ہے ، اور یہ انس اور ابوہریرہ کی حدیث سے آیا ہے ، جسے ابن عساکر اور ام ہانی نے بیان کیا ہے۔ اسے الطبرانی نے روایت کیا ہے۔
    سعید بن منصور نے اپنی سنن میں کہا: ابو معشر نے ہمیں ابوہریرہ کے آزاد کردہ غلام ابوہریرہ کے اختیار پر بتایا ، اس نے کہا ، "جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واپس آئے اس کے ساتھ میری پرواز کی رات ، وہ ذی طوا میں تھا ، اس نے کہا ، اے جبرائیل ، میری قوم مجھ پر یقین نہیں کرتی۔ ابو وہب ابوہریرہ کے اختیار پر
    الحاکم نے المستدرک میں النزال بن صبرا کے اختیار پر بیان کیا ، انہوں نے کہا: ہم نے علی سے کہا ، مومنوں کے کمانڈر ، ہمیں ابوبکر کی اتھارٹی پر بتائیں۔
    الدراقطنی اور الحاکم نے ابو یحییٰ کے حوالے سے بیان کیا ، جنہوں نے کہا: میں شمار نہیں کرتا کہ میں نے علی کو منبر پر کہتے ہوئے کتنا سنا: خدا نے ابوبکر کا نام اپنے نبی کی زبان پر رکھا ، ایک دوست۔
    الطبرانی نے اسے حکیم بن سعد کے حوالے سے ایک عمدہ ، مستند سلسلہ بیان کے ساتھ شامل کیا جس نے کہا: میں نے علی کو یہ کہتے ہوئے اور قسم کھاتے ہوئے سنا کہ خدا نے ابوبکر کا نام جنت سے صدیق نازل کیا۔
    اور ابی بکر کی والدہ جو اپنے والد کے چچا کی بیٹی تھی ، اس کا نام سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن کعب تھا اور اسے ام الخیر کہا جاتا تھا۔ الزہری نے کہا کہ اسے ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
    اس کی پیدائش اور پیدائش کے بارے میں ایک باب
    وہ نبی کی پیدائش کے دو سال اور مہینے بعد پیدا ہوا ، خدا اسے سلامت رکھے اور اسے سلامتی دے ، کیونکہ اس کی وفات اس وقت ہوئی جب وہ تریسٹھ سال کا تھا۔
    ابن کثیر نے کہا: جو کچھ خلیفہ بن الخیات نے یزید بن العاصم کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کہا: کیا میں بوڑھا ہوں ، یا آپ ہیں؟ اس نے کہا ، "تم بڑے ہو اور میں تم سے بڑا ہوں ، کیونکہ وہ بہت غریب مرسل ہے ، اور اس کے برعکس مشہور ہے ، لیکن یہ عباس کے اختیار میں سچ تھا۔”
    اس کی اصل مکہ میں تھی ، جہاں سے وہ صرف تجارت کے لیے نکلا تھا ، اور اس کے پاس اپنے لوگوں کے درمیان بہت زیادہ پیسہ تھا ، مکمل شرافت ، احسان اور ان کے ساتھ احسان ، جیسا کہ ابن الدغنا نے کہا: آپ رشتہ داری کو جوڑتے ہیں۔ ، حدیث پر یقین کریں ، غریب کمائیں ، سب برداشت کریں ، ہمیشہ کی آفات میں مدد کریں ، اور مہمان کو قبول کریں۔
    النووی نے کہا: وہ قبل از اسلام دور میں قریش کے سرداروں میں سے تھے ، اور جو لوگ ان سے مشورہ کرتے تھے ، ان سے محبت کرتے تھے اور ان کی خصوصیات کو جانتے تھے ، جب اسلام آیا تو اس نے اسے ہر چیز پر ترجیح دی اور اس میں داخل ہو گیا۔ زبیر بن بکر اور ابن عساکر نے معرف بن خاربود کے حوالے سے نکالا ، جنہوں نے کہا: ابوبکر الصدیق ، اللہ اس سے راضی ہوں ، قریش کے گیارہ کو بلایا گیا۔ انہیں اسلام سے پہلے کے دور کا اعزاز حاصل تھا۔ اسلام ، لہٰذا اس کے پاس خون کے پیسے اور جرمانے کا معاملہ تھا ، کیونکہ قریش کے پاس کوئی بادشاہ نہیں تھا کہ وہ اسے تمام معاملات واپس کر دے۔بلکہ ہر قبیلے میں اس کے سردار کے لیے ایک عام حکم تھا۔ بنو ہاشم میں پانی دینا اور سرپرستی دی گئی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں کھاتا یا پیتا ہے سوائے ان کے کھانے پینے کے ، اور یہ بنو عبد الدار الحجابہ ، بریگیڈ اور سیمینار میں تھا ، یعنی کوئی بھی ان کی اجازت کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہوتا۔ ، اور اگر قریش نے جنگ کا جھنڈا تھام لیا تو بنو عبد الار نے ان کے لیے تھام لیا۔
    نوٹ عظمت صحابہ کرام رکھتے وقت کوئی الفاظ کی انجانے میں غلطی کوتاہی ہوتو  اللّہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ 
    Twitter ‎@RizwanANA97

  • کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں – تحریر: یاسر اقبال خان

    کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں – تحریر: یاسر اقبال خان

    جھوٹ کا مطلب کے کسی کو دھوکہ دینا ہے۔ جھوٹ بولنے کو دنیا کے تمام مذاہب میں برا سمجھا جاتا ہے اور ہمارے مذہب اسلام میں جھوٹ کو گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ کسی کو دھوکہ دے کر اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا کے ہر معاشرے اور مذہب میں جھوٹ کو ایک اخلاقی جرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ جھوٹ بول کر لوگ اپنی کوئی کمزوری چھپاتے ہیں یا سزا سے بچنے کیلئے جھوٹ بولتے ہیں یا کسی کے ساتھ کوئی وعدہ توڑنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جھوٹ بولنا جب کسی معاشرے میں عام ہوجاتا ہے تو اس معاشرے پر دنیا کا کوئی فرد و قوم بھروسہ نہیں رکھتا اور نہ کوئی جھوٹ بولنے والوں سے دوستی رکھنا پسند کرتا ہے۔ جو بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اسکی اپنی شخصیت اور کردار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کسی بھی محفل میں جھوٹ بولنے والے کو دھوکے باز سے یاد کیا جاتا ہے۔

    دنیا کے تمام مذاہب میں جھوٹ بولنے کو برا سمجھا جاتا ہے جھوٹ بولنے والے انسان کو رفتہ رفتہ کسی بھی دوسرے شخص کے جذبات واحساسات کی کوئی پرواہ نہیں رہتی، جھوٹ بولنے والے اس انسان کا دماغ ہر وقت کسی کو بھی بڑی آسانی کے ساتھ بڑے سے بڑے دھوکا دینے کے لئے تیار رہتا ہے اور جھوٹ اس کے لئے ایک معمولی سی بات ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ اس شخص پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی میں سوائے اپنے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اسکے قریبی رشتہ دار مثلاً اس کی بیوی، شوہر، بچے، ماں، باپ ، بہن ، بھائی، دوست پڑوسی کی بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ ایسے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے بھی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم  کے دور میں ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بولنے لگا کہ میں اسلام لانا چاہتا ہوں لیکن مجھ میں بہت سی برائیاں ہیں جنہیں میں چھوڑ نہیں سکتا اگر رسول ﷺ مجھے ان میں سے کوئی ایک برائی چھوڑنے کا کہے تو وہ میں چھوڑ دوں گا رسول ﷺ نے اس شخص کو فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو جس پر اُس بندے نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کر لیا جھوٹ چھوڑنے کے سبب اُس کی تمام برائیاں چُھٹ گئیں۔ اِس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جھوٹ بولنا کتنی بڑی برائی ہے اگر ہم اس کو ترک کرے تو بہت سی برائیوں سے بندہ بچ سکتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے سچ بولنے سے متعلق ایک ارشاد فرمایا ہے: ”سچ بولنے کی عادت بناؤ کیونکہ سچائی نیکی کی راہ دکھاتی ہے اورنیکی جنت میں لے جاتی ہے”۔

    (صحیح مسلم:۱۳؍۱۶حدیث: ۴۷۲۱)

    قرآن میں اللّه پاک نے فرمایا ہے کہ جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللّه پاک قرآن میں فرماتے ہیں:

    "اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو۔”   [9-التوبة:119]

    اسی طرح قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمانِ الٰہی ہے: 

    ”آج وہ دن ہے کہ سچ بولنے والوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔”  (المائدۃ: ۱۱۹)

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ایک آیت میں جھوٹ بولنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: 

    ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتے جو اسراف کرنے والے ہیں اور جھوٹے ہیں۔” (المؤمن :۲۸)

    جھوٹ ایک برا عیب اور سب سے بڑا گناہ ہے بہت سے برے اور غیر پسندیدہ کاموں کا سرچشمہ ہے۔ سچائی ایسی صفت ہے جس کی اہمیت ہر مذہب اور ہر دور میں یکساں طورپر تسلیم کی گئی ہے، اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی۔ جھوٹ کا بازار کتنا ہی گرم ہو لیکن ہمیں کوئی ذاتی فائدے کیلئے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہئے اور سچ بول کر ہم دنیا و آخرت دونوں میں عزت اور کامیابی پا سکتے ہیں۔ 

    کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں

    نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں

    سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر

    یہی ہے موقع اظہار، آؤ سچ بولیں

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • دورہ امریکا،مودی سرکار کی ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    دورہ امریکا،مودی سرکار کی ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    انڈیا جو ہمیشہ ہی ڈبل گیم کرنے میں ماسٹر رہا ہے وہ اب مشکل میں پھنس چکا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح اب کی بار بھی انڈیا ایک طرف کواڈ گروپ کی طرف قدم بڑھانا چاہتا تھا اور دوسری جانب شنگھائی Cooperation organizationمیں بھی چین اور روس کے ساتھ اشتراک کی باتیں کر رہا تھا۔ ایک وقت پر لگتا تھا کہ شاید ایسا ممکن بھی ہو جائے گا لیکن اب نریندر مودی کے حالیہ دورے کے بعد ایسا ہونا کسی صورت ممکن نظر نہیں آتا۔انڈیا نے نریندر مودی کے دورہ امریکہ سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کیونکہ اس دورے میں نریندر مودی کی پہلی بار صدر جو بائیڈن سے آمنے سامنے ملاقات ہونی تھی کواڈ گروپ کا بھی پہلاIn-personاجلاس ہونا تھا۔ لیکن مودی سرکار کی ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ جو کچھ سوچا جا رہا تھا اس دورے کے دوران بالکل بھی ویسا نہیں ہوا۔ اور یہ مودی سرکار کی اپنی نیت کا پھل ہے کیونکہ جس طرح سے وہ تمام جانب ڈبل گیم کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت حالات بدل چکے ہیں آپ دو کشتیوں کے سوار نہیں ہو سکتے۔ اگر جان بچانی ہے تو کسی ایک کشتی کا ہی انتخاب کرنا پڑے گا۔

    سب سے پہلے تو جب مودی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے لئے وائٹ ہاوس پہنچا تو وہاں اس کو کسی نے گھاس نہ ڈالی۔ امریکی صدر جوباِہڈن نے مودی کا استقبال کرنا بھی گوارہ نہ کیا اور وہ خود ہی دروازے سے اندر چلے گئے۔ پھر وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران نریندر مودی کو صدر جو بائیڈن نے گاندھی کے فلسفے پربھی لیکچردیدیا۔ مقبوضہ کشمیراورآسام میں مسلمانوں کو کچلنے والے نریندرمود ی کو امریکی صدر نے عمدہ انداز سے طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی کا پیغام عدم تشدد، احترام اور برداشت کا پیغام تھا۔ لیکن صدر بائیڈن نے یہ بھی کہا دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ مطلب اس نئے باب میں مودی سرکار کو کافی محتاط ہونا پڑے گا۔اس کے بعد مودی کی ملاقات نائب امریکی صدر کمیلا ہیرس سے ہوئی اس معاملے میں بھی ان کو اپنی عوام کے سامنے خاصی شرمندگی اٹھانا پڑی بھارتی میڈیا نے بھی خوب تنقید کی اور وجہ یہ بنی کہ مودی کے ٹوئیٹر اکاونٹ سے ملاقات کے حوالے سے نو ٹوئیٹس کی گئیں لیکن کمیلا ہیرس نے کوئی ایک ٹوئیٹ بھی نہیں کی۔اس کے بعد پریس ٹاک بھی بجائے یہ کہ مودی کے ہم منصب صدر جو بائیڈن کرتے ایسا بھی نہیں ہوا بلکہ کملاہیرس نے مودی کے ساتھ میڈیا کے سامنے بات چیت کی اور اس موقع پر نہایت ذہانت اور مہارت سے کیمروں کے سامنے انہوں نے اعتراف کیا کہ دنیا کو جمہوریت کی برکتوں سے آگاہ کرنے سے پہلے امریکہ اور بھارت کے حکمرانوں کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ اپنے اقدامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں کہ ان کے اپنے معاشروں میں جمہوری اقدار کس حد تک مستحکم ہیں۔

    ویسے تو جس طرح مودی سرکار انڈیا کو صرف ہندو دیش بنانے پر بضد ہے۔ مسلمانوں اور ہندومذہب ہی کی نچلی ذاتوں کو انڈیا کی نام نہاد جمہوریت میں برابر کا شہری تسلیم نہیں کیا جارہا۔ ایسے قوانین بنائے گئے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ہندوشہریوں کو دستاویزات کے پلندوں سے ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ واقعتا بھارت کے قدیم اور پیدائشی شہری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں قید ہوئے 80لاکھ انسانوں کی داستان الگ ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جو باتیں کمیلا ہیرس نے مودی سرکار کو میڈیا کے سامنے سنائیں ایسی باتیں عام طور پر بند کمروں میں کیمروں سے چھپ کرکی جاتیں ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب سامنے والا آپ کا مہمان ہو۔ ہاں اگر مودی کے ہم منصب صدر جو بائیڈن اس طرح کی بات کرتے تو الگ بات تھی۔
    ساتھ ہی امریکہ کے دورے کے دوران مودی کا سارا زور افغانستان کی حالیہ صورت حال ،کورونا ویکسین اور کواڈ سمٹ پر رہا۔ کچھ لوگوں کے خیال میں تو ایسا لگتا تھا کہ شاید نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت صرف بھارت کی تیار کردہ ویکسین کی مشہوری کیلئے کی تھی۔ لیکن مودی سرکار کی دال بالکل نہ گل سکی۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت سبھی ترقی یافتہ ممالک نے واضح کر دیا کہ امریکہ اور برطانیہ آنے والے سبھی شہریوں کو ویکسین دوبارہ کرانی پڑے گی کیوں کہ بھارتی ویکسین قابل بھروسہ نہیں ہے۔
    پھر مودی نے افغانستان کا بھی خاص طور پر ذکر کیا۔ کیونکہ ظاہری بات ہے کہ انڈیا نے اتنے سال تک افغانستان میں سرمایہ کاری کی جو اب ضائع ہو چکی ہے جس بات کی ان کو بہت تکلیف بھی ہے لیکن افغانستان کی بات کرتے ہوئی وہ بھول گئے کہ دوحہ مذاکرات کے دوران امریکہ ،روس، چین اور پاکستان نے بھارت کو اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ اسے بھی ایک فریق کی حیثیت دی جاتی۔

    اس کے علاوہ ایک اور اہم ایجنڈا کواڈ سمٹ کا تھا ۔اس معاملے میں بھی بھارتی وزیراعظم امریکہ کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوئے خود بھارتی میڈیا کی رائے میں بھارت کی جانب سے اس دورے سے پہلے اور اس دورے کے دوران چین کے خلاف جتنا زہر اگلا گیا اس کے بعد اب آنے والے دنوں میں بھارت کو چین کے ہاتھوں بھی مزید ٹھکائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے 2020میں ہوا تھا۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی کو اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ چین کا نام لیکر اس پر تنقید کر سکیں Mari timeتنازعات کا ذکر کرکے indirectly
    چین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ چین South china seaکی اصلاح استعمال کرتا ہے لیکن مودی نے Indo Pacificکا لفظ استعمال کیا جس پرچین نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ خود بھارت کے سنجیدہ حلقوں کے مطابق Quad Summitکے حوالے سے بھارت نے غیر ضروری پھرتیوں کا مظاہرہ کیا جبکہ دہلی کو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ امریکہ آسٹریلیا اور جاپان کی سرحدیں تو بھارت سے نہیں ملتیں لیکن بھارت کی طویل سرحد چین سے ملتی ہے لہذا اگر چین کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا تو اس کا خمیازہ صرف بھارت کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
    کواڈ گروپ میٹنگ پر ویسے ہی چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کہہ چکے ہیں کہ جھوٹ اور الزامات کی بنیاد پر سفارتکاری بالکل بھی تعمیری نہیں۔ معاشی زبردستی کی جائے پیدائش اور صدر دفتر واشنگٹن میں ہے۔ پہلی بات چین دھمکیاں نہیں دیتا اور نہ ہی تجارتی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ چین اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا۔ تیسری بات یہ کہ چین مختلف ممالک میں کمپنیوں کو بلاوجہ دباتا نہیں ہے۔ کسی بھی صورت میں معاشی زبردستی کا الزام چین پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔

    اس سب کے بعد آپ خود اندازہ لگا لیں کہ کیسے یہ دورہ سفارت کاری کی ایک ناکام ترین مثال ثابت ہوا اور قسمت کی مار دیکھیں کہ مودی سرکار کے سوشل میڈیا سیل کی جانب سے جو فیک تصویر شئیر کی گئی اس کی وجہ سے پورے انڈیا کو شرمندگی اٹھانا پڑی۔ دراصل مودی سرکار کو یہ فیک تصویر بنانے اور اسے وائرل کرنے کی ضرورت بھی اسی لئے پڑی کہ مودی نے اپنی عوام کے سامنے اس دورے کے حوالے سے خوب بڑکیں ماری ہوئیں تھیں لیکن ان کا یہ دورہ بری طرح ناکام ہوا۔ تو اپنی عزت اور بھرم قائم کرنے کے لئے اس تصویر کا سہارا لیا گیا اور وہ بھی الٹا ہی ان کے گلے پر گیا۔اب کیونکہ مودی صاحب خود دیکھ آئے ہیں کہ امریکی حکومت ان سے بالکل خوش نہیں ہے اور وہ انکی محبت میں چین کی برائیاں کرکے اس کے ساتھ بھی بگاڑ چکے ہیں۔ تو اب وہ خود کو ایک نئی لڑائی کے لئے تیار کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے مودی سرکار نے لداخ اور مقبوضہ کشمیرمیں ایک نیا پراجیکٹ شروع کر دیا ہے۔بھارتی حکومت اب مقبوضہ کشمیر میں واقع ہمالیہ کے پہاڑوں میں سرنگ تعمیر کرکے اور مختلف پل بنا کر مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو آپس میں ملانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس منصوبے کو سٹریٹجک سرنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اور اس پراجیکٹ پر سینکڑوں افراد کام پر لگائے جا رہے ہیں تاکہ اگلے انتخابات سے پہلے یہ منصوبہ مکمل کیا جا سکے۔آپ سب جانتے ہیں کہ لداخ کی سرحدیں پاکستان اور چین کیساتھ ملتی ہیں جو تقریبا 6 مہینے برف میں ڈھکا رہتا ہے جس کی وجہ سے یہاں آمدورفت اور اشیاء کی سپلائی کیلئے ہوائی سفر پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ کشمیر کو ویسے ہی پاکستان اپنی شہ رگ مانتا ہے۔ گزشتہ سال لداخ میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں Actual line of controlکہلائے جانے والے علاقے میں لاکھوں چینی اور بھارتی فوجی تقریبا 16 ماہ تک آمنے سامنے رہے تھے جس میں بھارت اور چین کے بہت سے فوجی مارے بھی گئے تھے۔ بھارت کو اپنا بہت سا علاقہ چھوڑنا پڑا تھا۔

    اب یہ سرنگ تعمیر کرکے بھارتی حکومت اپنی فوج لداخ کے علاقے تک آسان رسائی دینا چاہتی ہے تاکہ ان کو لاجسٹک سہولیات بھی بہتر طور پر فراہم کی جائیں۔ لیکن اس طرح کے منصوبوں پر کام کرنے سے پہلے انڈیا کویہ جان لینا چاہیے کہ امریکہ تو اب نہ جانے انڈیا سے خوش ہو گا یا نہیں کیونکہ امریکہ ویسے ہی کواڈ گروپ کے بعد آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ نیا دفاعی معاہدہ کرکے خود ہی کواڈ کی اہمیت کو کم کر چکا ہے لیکن اب چین کے ساتھ انڈیا کے تعلقات جو پہلے ہی خراب تھے اب ان میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا اور وہ مزید مشکل میں پھنس جائے گا۔

  • آزادی کا اسلامی تصور،تحریر: ارم شہزادی

    آزادی کا اسلامی تصور،تحریر: ارم شہزادی

    اس سے پہلے میں آزادی کا مغربی تصور بیان کرچکی ہوں آج اس بلاگ میں لفظ آزادی کا اسلامی تصور پیش کرونگی۔ آزادی کا جو تصور زد، عام ہے وہ آصل میں آزادی ہے ہی نہیں وہ تو "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” والا معاملہ ہے اور اس سے معاشرے میں تباہی تو آسکتی ہے لیکن آمن اور سکون نہیں۔معاشرے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ پورے معاشرے کو رہن سہن کے آصول بتائے جائیں ان اصولوں پر عملدرآمد کروایا جائے اور ناماننے والوں کے لیے قوانین بنائے جائیں عدالتوں کو بنایا جائے پورا ایک سسٹم ہو ہے جس کی وجہ سے صرف آمیر یا پیسے والا نہیں بلکہ غریب کو بھی جینے کا اتنا ہی حق ہو اور اپنی بات کو دوسروں پہنچانے کے مواقع بھی اتنے ہی ملیں جتنے کہ آمیر کو۔اسلام میں آزادی کے عام طور پر چار پہلو ہیں
    1آزادی مطلق
    2آزادی اقوام
    3شہری آزادی
    4سیاسی آزادی
    انسان اگر ارادہ کرے کسی کام کا اور ارادے کے مطابق وہ جو چاہے کرے اسے کوئی روک ٹوک نا کرسکے، اس کی مرضی کے خلاف کچھ نا، ہو تو اسے آزادی مطلق کہتے ہیں لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ آزادی انسان کو حاصل ہی نہیں ہے آزادی کی یہ قسم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔اور اسکا حق بھی صرف اللہ کو حاصل ہے وہ کائنات کی ہر چیز، پر، حاوی ہے کیونکہ پوری کائنات اسکی تخلیق ہے۔اس کا فیصلہ حتمی ہے اور اس کی تنقید بے قید، ہے۔
    قران مجید میں فرمایا گیا ہے
    ان الله یحکم مایرید
    ترجمہ: بیشک اللہ جو چاہتا ہے اور جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسکا حکم نافذ کردیتا ہے۔
    سورہ آل عمران میں ہے
    کہو کہ اختیارات سارے اللہ کے ہاتھ میں ہیں

    مطلب یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہی اس پر حاکم ہے۔انسان اللہ کی اطاعت کرے انسان کو ایسی کوئی آزادی حاصل نہیں ہے جس، میں وہ جو چاہے کرتا پھرے آزادی محص( فطری آزادی)
    آزادی کو مروجہ وجوہ کی بنا پر فطری حق تسلیم کیا جاتا ہے
    یہ کہ آزادی کا جذبہ ہر ایک انسان کا فطری خاصہ ہے۔
    یہ کہ اگر آزادی حاصل نہ ہو تو کوئی انسان اپنے حالات کی درستگی واصلاح ہرگز نہیں کرسکتا’یعنی وہ کسی چیز کا جوابدہ نہیں ہوسکتا’جب تک کہ آزاد نہ ہو بلکہ آزادی کے بغیر وہ انسان ہی نہیں کہلایا جا سکتا
    قدیم زمانہ میں غلامی کا رواج تھا اور یونان کے بہت بڑے فلاسفر ارسطو کا کہنا ہے کہ” بعض آدمی فطری طور پر اپنے حالات میں حسب منشاتصرفات کرنے پر قادر نہیں ہے ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ غلام رہیں اور ان کے آقا ان کے مصالح کے کفیل ہوں”
    جبکہ اسلام طریقہ غلامی کو ناپسند کرتا ہے اور اور آقا اور غلام کے درمیان بھی مساوات کا درس دیتا ہے۔
    قومی آزادی
    اسکا مفہوم اپنی ریاست کو کسی دوسری ریاست کے ظلم سے بچانا ہے اپنی ریاست کے لیے جان اور مال کی قربانی دینا۔ اپنی ریاست کی حفاظت کے لیے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا۔
    شہری آزادی
    کسی ریاست میں رہتے ہوئے کون کونسی آزادیِ چاہیئے ہوتی ہے یا حاصل ہوتی ہے ان میں آزادی اظہار رائے، آزادی اجتماع وتقریر، معاشی آزادی، مزہبی آزادی، حق ملکیت کی آزادی، جان کے تحفظ کی آزادی، قانونی آزادی۔آزادی اظہار رائے میں ہر انسان آذاد ہے وہ کسی بات یا موضوع کے بارے میں صحیح یا غلط رائے رکھے اگرچہ اس کے پاس دلائل موجود ہوں، اسی طرح تحریر و تقریر میں آزاد ہے اگرچہ کسی کی توہین اور ہتک آمیز القابات شامل نا ہوں نفرت پر نا ابھارا جائے آزادی کی آڑ میں امن کو نقصان نا پہنچایا جائے۔ موجودہ دور چونکہ جدید دور ہے اس، میں اظہار رائے کے اور بھی طریقے ہیں جس میں خاص طور پر پرنٹ میڈیا الیکٹرونک میڈیا اور اب سوشل میڈیا ہے اپنے خیالات کے اظہار کا بہترین زریعہ ہیں لیکن پاکستان چونکہ اسلام کے نام پے معرض وجود میں آیا ہے اس لیے اسلام کے خلاف بات نہیں ہوسکتی ہے۔اور نا ہی اشاعت ہوسکتی ہے۔رزق کمانے کی آزادی سب کو بشرطیکہ کہ کسی اور رزق چھینا نا جائے کسی اور کے رزق کو غلط طریقے سے ہتھیایا نا جا سکے۔حلال کمایا جائے اور ملکی قوانین کے مطابق عشر زکوٰۃ اور ٹیکس ادا کیا جائے ۔مذہبی آزادی میں اپنے عقیدے کے مطابق رہنے کا مکمل اختیار دیا جائے جب تک کہ وہ اپنا عقیدہ مسلط نا کرے۔ تمام مذاہب کو اپنے مذہب کی ترویج کا بھی حق حاصل ہے البتہ قادیانی ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ مرتد ہیں اسلامی قوانین کے مطابق۔آزاد ملکیت میں زمین جائداد خریدنے اور فروخت کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن ناجائز طریقے سے کسی مظلوم کی جائداد پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی ایسا کرےگا تو قانون کے مطابق سزا کا حق دار ہوگاجان کی آزادی یعنی ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ آزادانہ طور پر زندگی بسر کرے اور اپنی زندگی بچانے کے لیے ہر قسم کا دفاع کرسکے۔ سیاسی آزادی میں ہر فرد کو اپنی ریاست کے سیاسی معاملات میں حصہ لینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ سیاست میں سیاسی جماعتوں کے منشور کے مطابق تحریر وتقریر ہوتی ہیں لیکن کہیں بھی ریاست کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو سپورٹ نہیں کیا جاتا ہے۔ آزادی کی ان تمام اقسام میں بھی مدر پدر آزادی کہیں نہیں ہے ہرآزادی کے ساتھ کچھ حدود جڑی ہیں جن سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست دان ہوں میڈیا ہاؤسز ہوں یا پھر بیوروکریسی سبھی اپنی آزادی کے تحفظ کے نام پے ملکی وقار کو داؤ پے لگا رہے ہیں جو کہ ایک مہذہب معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 23 سے زیادہ اقسام کے پرندے، مچھلیاں اور دوسرے جنگلی جانوروں کی نسلیں اب دنیا سے غائب چکی ہیں تاہم ان میں ایک یا دو کا دوبارہ ظہور ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :ہدہد کا شمار خوبصورت پرندوں میں کیا جاتا ہے۔ خوشنما رنگوں اور لمبی چونچ والا یہ پرندہ شمالی میکسیکو میں پایا جاتا تھا، جسے اپنے حجم کے لحاظ سے دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ہدہد کا درجہ حاصل تھا جنگلوں میں بسیرا کرنے والے اس پرندے کی نسل کو اسی وقت خطرہ لاحق ہو گیا تھا جب بڑے پیمانے پر جنگلوں کی کٹائی شروع ہوئی تھی۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

    جنگلی حیات کے عہدے داروں نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ سن 1944 کے بعد سے ہدہد کے دیکھے جانے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے بہت کوششوں کے باوجود وہ ان 23 نسلوں کے جانداروں کو ڈھونڈنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور اب وہ برسوں سے کہیں بھی دیکھے نہیں گئے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان نسلوں کی معدومی میں آب و ہوا کی تبدیلی کا بڑا حصہ ہے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آب و ہوا کی تبدیلی کے عمل کو روکنے کے جلد اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو جنگلی حیات کی نسلوں کا دنیا سے خاتمہ ایک معمول بن جائے گا-

    اس وقت دنیا بھر میں جنگلی حیات کی تقریباً 902 اقسام ایسی ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ معدوم ہونے والی ہیں کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ معدوم ہونے والی نسلوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    رپورٹ کے مطابق جنگلی حیات کی 23 نسلوں کے دنیا سے مٹ جانے کا اعلان اس لیے کیا گیا ہے، کیونکہ ان جانوروں کی صورت حال کی تبدیلی سے متعلق سفارشات کئی برسوں سے التوا میں پڑی ہوئی تھیں اور ان پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ان میں سے کسی بھی نسل کی بحالی کا حقیقی امکان پیدا ہوا تو ان کے تحفظ کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

    بہت سے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہمارا کرہ ارض معدومی کے بحران سے گزر رہا ہے تاریخی اعتبار سے معدومی کی یہ شرح ماضی کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے انسان ہی نہیں جانور بھی متاثر ہوتے ہیں امریکی ساِنسی جریدے کی جانب سے نئی تحقیق کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیاتھا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا تھا کہ چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

    انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی…

  • دنیا کی کم عمر ماہر فلکیات

    دنیا کی کم عمر ماہر فلکیات

    برازیل کے شہر فورٹالیزا سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ نکول اولیویرا نے دنیا کی سب سے کم عمر ماہرِ فلکیات ہونے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق برازیل کے شہر فورٹالیزا میں رہنے والی برازیل کی 8 سالہ نکول اولیویرا دنیا کی سب سے کم عمر ماہرِ فلکیات بن گئی نکول نے ناسا سے وابستہ پروگرام میں شامل ہوکر ایسٹرائیڈز یعنی سیارچوں کی تلاش شروع کردی ہے نکول نے اب تک 18 سیارچوں کا سراغ لگا لیا ہے۔

    ناسا کے اس پروجیکٹ کو ایسٹرائیڈ ہنٹرز کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو کائنات میں دریافتوں کے لیے مدد دے کر سائنس سے متعارف کروانا ہے۔

    اسپیس ایکس پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ

    نکول کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کا کمرا نظام شمسی کے پوسٹرز سے بھرا ہوا ہے اور وہ اپنے فارغ وقت میں ٹیلی اسکوپ کی مدد سے آسمان کی تصاویر لیتی رہتی ہے۔

    جبکہ وہ اپنا زیادہ وقت کمپیوٹر پر سیارچوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہوئے گزارتی ہیں اپنے یوٹیوب چینل پر نکول نے برازیل کے ماہر فلکیات ڈولیا ڈی میلو جیسی بااثر شخصیات کا انٹرویو کیا ، جنہوں نے ایس این 1997 ڈی نامی سپرنووا کی دریافت میں حصہ لیا تھا۔

    جہاں تک اس کے اپنے عزائم ہیں تو وہ بڑے ہو کر ایرو اسپیس انجینئر بننا چاہتی ہے نکول کا کہنا ہے کہ وہ راکٹ بنانا چاہتی ہیں اور ابھی وہ فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی خلائی مرکز میں ان کے راکٹ دیکھنے کی خواہاں ہیں۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

  • انصاف کا دوہرا معیار  تحریر :  محمد زیشان روؤف

    انصاف کا دوہرا معیار تحریر :  محمد زیشان روؤف

    ‏ 

    کہتے ہیں معاشرے میں برائی کرنا جتنا آسان ہو جاتا ہے اس قدر اس برائی کے ارتکاب میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے اور کوئی بھی برا کام کرنے میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب اس کا سر انجام دینا آسان ہو چکا اور پہلے مشکل تھا بلکہ کسی بھی گناہ اور جرم پر مناسب سزاؤں کے رحجان میں کمی ہی اصل آسانی ہے جو باقی دیکھنے والوں کو بھی جرم کرنے پر اکساتی ہے۔ جب مجرم کو سزا نہیں ملتی تو باقی لوگوں کو شہہ ضرور مل جاتی ہے کہ ویسا ہی جرم وہ بھی دہرائیں اور جو جرم کر چکا ہوتا ہے اسکے تو جیسے منہ کو خون لگنے والی بات ہو جاتی ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ سزا جزا کا تو کوئی عمل دخل ہی نہیں اس لئے بار بار جرم ہوتے رہتے  ہیں ۔

     پاکستان کا المیہ یہی رہا ہے کہ قانون تو بنا دیا جاتا ہے مگر اس پر عمل درآمد کروانا کبھی ممکن نہیں ہو سکا۔ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ قانون کو گھر کی باندی سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح معاشرے میں جرم پروان چڑھتا رہتا ہے اور آئے دن نیا سے نیا جرم سامنے آتا ہے دو یا چار دن سوشل میڈیا ,  پرنٹ اور  الیکٹرانک میڈیا پر شور مچتا ہے پھر کوئی نیا کیس سامنے آ جاتا ہے اور پرانے کیس پر سے سب کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں اور یوں کبھی کسی کیس کا فیصلہ سامنے نہیں آتا جو کہ لوگوں کے لیئے نشان عبرت بن سکے۔ جب تک سزاؤں پر شرعی طریقہ کار کے مطابق عمل نہیں ہو گا تب تک لوگ عبرت حاصل کیسے کریں گے۔ اس لیئے ہمیشہ سے برائی کی جڑ کو پکڑنے کی ضرورت رہی۔ اور برائی کی جڑ ہمارے معاشرے میں انصاف کا نہ ہونا ہے  ۔

    اگر بروقت سزا  جرم ہونا شروع ہو جائے تو معاشرے میں آدھی برائیاں تو خود بخود ہی ختم ہو جائیں گی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طاقتور کو سزا دینے کا رواج ہی نہیں کمزور بغیر جرم کے بھی چار پانچ سال سزا کاٹ لیتا ہے۔ انصاف کا یہ دہرا معیار ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔  جس معاشرے کی جڑیں عدل و انصاف کی وجہ سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جائیں اس معاشرے کو تباہی سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ حضرت علی (رض) کا قول ہے

    کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ناانصافی کانہیں

    عدل و انصاف کسی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔  جب آپ ریڑھ کی ہڈی کو نکال دیں گے تو پھر جسم کا کیا بنے گا۔

    عواموانصاف کی فوری اور معیاری فراہمی کو کس قدر ترسی ہوئی ہے اس کا اندازہ جنرل الیکشن 2018میں عمران خان کی جیت سے واضع ہے۔ خان صاحب نے عدل و انصاف کا نعرہ لگایا تھا عوام نے عدل و انصاف کو ویلکم کیا اور ووٹ دیا۔

    لیکن پاکستان میں نظام عدل قائم ہونا نا ممکن نظر آتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو اسلام کے نام ہر حاصل کیا گیا ہو وہاں 4 ماہ سے 4 سال تک کی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے لیکن ایک طبقہ جو لبرل ازم کا جھنڈا اٹھائے پھرتا ہے وہ یہ کہے کہ سر عام سزا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔ اور ایسے قاتلوں اور درندوں کا دفاع کرنے والے ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی پاکستان میں جرم دہرایا جاتا ہے۔ جب کسی کو سر عام سزا نہ دی جائے گی تو لوگ عبرت کیسے حاصل کریں گے۔ اب دیکھا جائے تو وہ درندہ صفت لوگ کوئی زیادہ اثرو رسوخ والے بھی نییں ہوتے لیکن ان کے حق میں آواز اٹھا کر بچانے والے اس بات کے ذمہ دار ہیں جو ان درندوں کے ساتھ بھی رحم والا معاملہ کر کے جرم کو تقویت دیتے ہیں

    اس لیئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جرم کو عام کرنے کے پیچھے لبرل طبقے کا بھی بہت بڑا رول ہے

    اسی طرح منشیات کا دھندہ دیکھا جائے تو وہ چھوٹے پیمانے پر شاید لوگ چھپ چھپا کر کرتے ہوں لیکن بڑے مافیاز کو حکومتی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جو کہ اعلٰی آفسران کو ماہانہ ادائیگی کرتے ہیں اور کھلم کھلا منشیات جیسے نا سور کو معاشرے میں پھیلاتے ہیں۔ ایسے عناصر پر بھی کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا اور اگر کوئی رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جائے تو زر خرید عدالتوں سے شراب کو شہد ثابت کروا کے بری ہو جاتا ہے

    انصاف کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی اکائی ہے جسے بد قسمتی سے پاکستان کی بنیادوں سے مسمار کر دیا گیا۔ اور یوں پاکستان کی بنیادی اکائیوں میں سے ایک ستون ہی نکال دیا گیا۔ جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیئے جاتے حقیقی تبدیلی کسی صورت نہیں آ سکتی کیونکہ معاشرے مل کر قومیں اور ملک بناتے ہیں جب کی معاشرتی نظام ہی درہم برہم ہوا ہو تو کون سی تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے

    ‎@Z33_6