Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خود ساختہ دانش وری .تحریر: فروا نذیر

    خود ساختہ دانش وری .تحریر: فروا نذیر

    پاکستان میں آج کل ایک سوچ پروان چڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل افراتفری کا شکار ہو رہی ہے اور اس سوچ کی وجہ سے نظریہ پاکستان اور پاکستانیت شدید مجروح ہو رہے ہیں۔
    یہ سوچ خود ساختہ دانش وری کی سوچ ہے۔ آج کل ایک ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ جو شخص جتنا باغیانہ سوچ رکھتا ہو گا وہ اتنا ہی بڑا عقل مند اور دانش ور ہو گا۔ نوجوان نسل شہرت اور ہیروپنتی کے چکر میں اینٹی سٹیٹ کارروائیوں میں بڑے شوق سے شامل ہو کر سوشل میڈیا پر ملک و قوم کی بے حرمتی کرتے نظر آتے ہیں۔
    اسی سوچ کی وجہ سے لسانیت اور صوبائیت کو ہوا دی جا رہی ہے اور معصوم عوام کے ذہنوں میں انتشار، اختلاف اور علیحدگی کی گھٹیا سوچ کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کے مخلوط صوبائی حسن میں ہے۔ جس طرح کسی گلدستے میں ایک ہی رنگ کے پھولوں کی نسبت مختلف رنگ کے پھول زیادہ خوبصورت لگتے ہیں ایسے ہی پاکستان میں بھی مختلف ثقافتوں کا امتزاج انتہائی دلکش اور حسین لگتا ہے۔ پاکستان اپنی خوبصورتی اور مہمان نوازی کی وجہ سے عالمی سیاحت کا پسندیدہ ترین ملک بن چکا ہے۔
    اس باغیانہ سوچ کی بیشتر وجوہات ہیں۔ بیسویں صدی میں دنیا میں لاتعداد سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جن میں انقلابِ روس اور چی گویرا کی جدوجہد سرِفہرست ہے۔ ہماری موجودہ نسل ان سے مختلف سیاسی اور سماجی صورتحال میں رہتے ہوئے انقلابی اور چے گویرا بننے کے چکروں میں اپنی اصلیت بھی کھوتی جا رہی ہے۔ نصف صدی قبل سوویت یونین نے پاکستانی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے افکار کی تشہیر کے لئے خاطر خواہ انویسٹمنٹ کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو نظام خود سوویت یونین میں ناکام ہوا یہاں کے دیسی انقلابی اسی نظام کو پاکستان میں لاگو کرنے کی جدوجہد میں پڑ گئے۔ اس دور کے طالب علم آج کل مختلف اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہو چکے ہیں اور اکثر ریٹائر بھی ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کی لگائی پود آج بھی پل بڑھ رہی ہے۔ جو لوگ محکمہ تعلیم میں آئے انہوں نے اپنے طالب علموں کے درمیان اپنے خیالات خوب پھیلائے اور نتیجتاً انہیں بھی اپنا ہم خیال بنا لیا۔ اسی طرح ہر محکمے میں اس سوچ کے کچھ نہ کچھ لوگ موجود ہیں جو خود ساختہ سرخ انقلاب کا لولی پاپ لئے اپنی ہی جد و جہد میں مگن ہیں۔

    یہ لوگ ہر اس قدم کو سراہتے پیں جو ریاستِ پاکستان کی اساس، بنیاد، نظام اور نظریئے کے خلاف ہو۔ یہ لوگ کبھی بھی ملکی یا بین الاقوامی سطح پر ریاست کے کسی بھی بیانئے کو قبول یا پروموٹ نہیں کرتے۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے مخالفت کرتے ہیں۔
    آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر ملکی و اسلامی اقدار کی دھجیاں بکھیری جاتی پیں۔ کبھی یہ لوگ عورت مارچ کے نام پر سڑکوں پر آتے ہیں تو کبھی ان کو اساتذہ کے ڈریس کوڈ پر اعتراض ہوتا ہے۔ کبھی ان کو امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے پر اعتراض ہوتا ہے تو کبھی ABSOLUTELY NOT پر۔ کبھی یہ لوگ ایک فرضی تصویر کو افغان سفیر کی بیٹی بنا کر اغوا کے ڈراپ سین کا واویلا کرتے ہیں تو کبھی حقائق سامنے آنے پر چوہے کی طرح اپنی اپنی بلوں میں گھس جاتے ہیں۔
    یہ لوگ جیسے چاہتے ہیں ویسے رہتے ہیں وہی پہنتے ہیں اور بولتے ہیں لیکن پھر بھی ہر وقت یہ لوگ پاکستان پر طرح طرح کی تہمتیں اور الزامات لگانے کے درپے رہتے ہیں۔
    یورپ میں تیزاب گردی کے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں لیکن کسی کو کوئی خبر نہیں جبکہ پاکستان میں رونما ہونے والے اکا دکا واقعات پر بھی فلمیں بن جاتی ہیں اور آسکر مل جاتے ہیں۔
    ان لوگوں کا سب سے بڑا سپورٹر مغربی ایجنڈا ہے۔ مختلف این جی اوز اور آرگنائزیشنز کے ذریعے ان لوگوں کو فنڈنگ دی جاتی ہے۔ اور ان کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاتا ہے۔
    حکومتِ پاکستان نے نظریہ پاکستان اور پاکستانیت کو فروغ دینے کے لئے یکساں نصابی نظام لاگو کیا تو سب سے زیادہ تکلیف بھی اسی طبقے کو ہوئی۔ کیونکہ یکساں نصابی نظام سے پاکستان میں موجود من گھڑت سوچ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور نئی نسل کو پاکستانیت کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس باغیانہ سوچ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
    حالانکہ پوری دنیا میں ہر کہیں نصاب حکومت خود ہی سیٹ کرتی ہے۔ حتیٰ کہ کوریا جیسے ملک میں تو ہیئر کٹ بھی حکومت کی طرف سے منظور شدہ سٹائل سے ہٹ کر نہیں ہو سکتی۔ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور حکومتِ پاکستان ملکی مفاد کا ہر قسم کا فیصلہ کرنے کی مجاذ ہے۔
    تمام نوجوان نسل سے میری گزارش ہے کہ کسی بھی باغیانہ سوچ کا شکار ہوئے بغیر ہم سب کو اپنے ملک اور قوم کے وقار کو مدِ نظر رکھ کر صرف اور صرف ملکی مفاد کا تحفظ کرنا ہو گا۔ تاکہ ہمارا وطن بھی ترقی کرے اور پھلے پھولے۔
    خدائے ذوالجلال  پاکستان کا حامی و مددگار ہو
    پاکستان زندہ باد

  • مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ، تحریر:عفیفہ راؤ

    مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ، تحریر:عفیفہ راؤ

    جب قسمت میں بے عزتی اور لعنت مقدر ہو تو مل کر رہتی ہے۔ اور اس وقت یہ بات انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی پر ہر لحاظ سے فٹ ہوتی ہے۔ ویسے میرے لئے اس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے کیونکہ ان کا ٹریک ریکارڈ ہی ایسا ہے مودی سرکار اور اس کے دو نمبر میڈیا کے جھوٹوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لیکن اب جس طرح سے انٹرنیشنل میڈیا نے ان کے جھوٹ کا پول کھولا ہے اور انھیں بےنقاب کیا ہے اس پر اب مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ہو رہی ہے۔

    ویسے تونریںدر مودی کے ہیش ٹیگز کا سوشل میڈیا پروائرل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے وہ اکثر ہی اپنی کسی نہ کسی بونگی حرکت یا پھر کسی نئے جھوٹ کی وجہ سے وائرل ہوتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن اب کی بار ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے انٹرنیشنل میڈیا کو اس میں گھسیٹ لیا۔ تو بس پھر ان کا پول تو کھلنا ہی تھا۔دراصل ہوا یہ کہ جب انڈین وزیراعظم نریندر مودی اپنے امریکہ کے دورے سے واپس لوٹے تو فورا ہی انڈین سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں ایک امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا ایک آرٹیکل شیئر ہونا شروع ہوگیا۔اس آرٹیکل کے مطابق امریکہ کے سب سے معتبر سمجھے جانے والے اخبار نے وزیراعظم مودی کو دنیا کے لیے آخری اور بہترین امید قرار دیا تھا۔Last, Best Hope Of EarthWorld’s most loved and most Powerful Leader is here to bless us.یہ وہ الفاظ تھے جو نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ لکھے گئے اور ایسا ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے نیویارک ٹائمز نے اپنے فرنٹ پیج پر یہ ٹاپ ہیڈ لائن لگائی ہے۔جس پر انڈین حکمران جماعت کے لوگ خوب خوشی منا رہے تھے اور اس آرٹیکل کو خوب شئیر بھی کیا جا رہا تھا۔ لیکن قسمت کی مار یہ ہوئی کہ ان کا یہ آرٹیکل نیویارک ٹائمز والوں تک بھی پہنچ گیا۔ اور رنگ میں بھنگ اس وقت پڑا نیویارک ٹائمز کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ ٹوئیٹ کی گئی کہ۔۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا اخبار کا یہ صفحہ دراصل جعلی ہے۔ یہ ایک مکمل طور پر من گھڑت تصویر ہے، اور یہ گردش کرنے والی ان بہت ساری تصاویر میں سے ایک ہے جن میں وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ اس کے ساتھ اخبار نے ایک لنک شیئر کیا ہے اور انڈینز کو بتایا کہ اگر وہ نریندر مودی پر اس ادارے کی حقیقت میں کی جانے والی رپورٹنگ پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔

    اب اس تمام بات کا صاف مطلب ہے کہ یہ کوئی ایک یا اکلوتی جعلی تصویر نہیں ہے نریندر مودی کی بے شمار جعلی تصویریں ہیں جو کہ وہ اپنی فیک پروموشن اور دنیا سے اپنا گھناونا روپ چھپانے کے لئے اپنے پارٹی ممبرز اور سوشل میڈیا سلیز سے وائرل کرواتا ہے۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے اور آخر اب نیو یارک ٹائمز نے اس کی جعلی تصویروں اور بو نمبریوں کا بھانڈا پھوڑ ہی دیا ہے۔اور اس وقت انڈیا کی جتنی جگ ہنسائی ہو رہی ہے آپ کی سوچ سے بڑھ کر ہے یہاں تک کہ ان کی اپنی عوام اور صحافی ٹوئیٹر پر ان کی کلاس کر رہے ہیں۔
    انڈین رائٹر Sanjukta Basuنے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ بے جے پی کے آئی ٹی سیل کی جانب سے جھوٹی خبر پھیلانے میں کچھ نیا نہیں ہے لیکن اس بار یہ اتنا آگے چلے گئے کہ نیویارک ٹائمز کو عوامی طور پر اس کی تردید کرنا پڑی۔ اب یہ ایک بین الاقوامی خبر بن چکی ہے۔انڈین صحافی رانا ایوب نے بھی وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ کتنی شرمندگی کی بات ہے۔ نیویارک ٹائمز کو یہ وضاحت دینی پڑی کہ پورے صفحے پر مودی کی تصویر اور ان کی تعریف میں دی جانے والی شہ سرخی جسے بہت سے بی جے پی رہنماؤں نے شیئر کیا وہ جعلی ہے۔ اگر کچھ نہیں تو ہمارے سیاستدانوں کی فوٹوشاپ کرنے کی مہارت ہی بین الاقوامی خبر بنا رہی ہے۔انڈین پارلیمنٹ کے رکنDR Santanu Senنے بھی اس فیک نیوز پر مودی اور ان کی جماعت کو خوب سنائیں۔انہوں نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ۔۔وزیراعظم کو کسی نے یہ حق دیا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کا امیج خراب کریں؟What can be more shameful?ویسے صحیح کہا
    DR Santanu Senنے اس سے زیادہ شیم فل کچھ نہیں ہو سکتا لیکن اس سے بھی زیادہ ڈوب مرنے کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار کی جعلی تصویریں بنانے والی ٹیم کی انگریزی بھی بہت ہی اعلی درجے کی ہے۔

    انڈیا جو اس بات پر بہت اتراتا ہے کہ ہمارا تو تعلیمی نظام بہت اچھا ہے ہمارا ریڑھی والا بھی انگریزی بولتا ہے تو ان کی جعلی انگریزی کی بھی اصلیت اس ایک تصویر نے بتا دی ہے۔
    اس تصویر میں ستمبرکے Spellings بھی بدل کر رکھ دئیے ہیں اور اب نئے Spellings ہیں Setpemberجس پر کئی سوشل میڈیا والے طنز میں مودی جی کا شکریہ ادا کررہے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو ستمبر کے نئے SpellingsسےIntroduceکروادیا ہے۔اسکے علاوہ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے اور امریکی صدر جو بائیڈن اور دوسرےعالمی رہنماؤں سے ملنے کے لیے 24اور 25ستمبر دو دن امریکہ کا دورہ کیا تھا اور نیویارک ٹائمز کے اخبار کی فوٹوشاپ تصویر پر 26 ستمبر کی تاریخ درج ہے۔اب میں آپ کو کچھ اصل حقائق بتاتا ہوں کہ جب نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تو اصل میں وہاں مودی کے ساتھ اور اسکے میڈیا کے ساتھ خود وہاں ان کے اپنے سفیروں نے کیا سلوک کیا۔
    جس وقت مودی امریکہ کے دورے پر تھا اصل میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں مظاہرین نےGo back modi
    اورModi out of NYCکے پوسٹرز اٹھا کر احتجاج کیا تھا۔ اور تجزیہ کار اس پورے معاملے کوHall of shameیعنی شرمندگی کا باعث بتا رہے ہیں۔ اور جو خود انڈین سفارتکار نے ایک انڈین اینکر کے ساتھ کیا وہ ایک الگ کہانی ہے۔ آج تک ٹی وی کی اینکر انجنا اوم کیشیپ اصل میں اقوام متحدہ میں ہونے والی تقریروں کو Coverکر رہی تھیں۔ اب ہوا یہ کہ اقوام متحدہ میں انڈین مشن کی رکن سنیہا دوبے نے اسمبلی میں تقریر کی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد آج تک ٹی وی کی اینکر انجنا بغیر knockکئے ان کے کمرے میں گھس گئیں۔ سوشل میڈیا پراس کی باقاعدہ ویڈیو بھی موجود ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈین اینکر نے کمرے میں گھستے ہوئے ہی بولنا شروع کر دیا کہ ہمارے ساتھ سنیہا دوبے یہاں پر موجود ہیں سنہیا دوبے وہی ادھیکاری ہیں فرسٹ سیکرٹری، جنہیں پورے دیش نے اتنے گِرو کے ساتھ سنا ہے۔ مجھے پتا ہے آپ آن ریکارڈ بات نہیں کرنا چاہیں گی۔ مگر آج پورا ہندوستان آپ کو سننا چاہ رہا ہے۔

    مطلب ان کو پہلے سے معلوم تھا کہ وہ میڈیا پر نہیں آنا چاہتی لیکن وہ ان پر کیمرے کا پریشر ڈال کر زبردستی کچھ بلوانا چاہتیں تھیں۔لیکن سنیہا دوبے نے کہاNo commentsہمیں جو بولنا تھا ہم لوگوں نے وہ بول دیا پلیز اور انڈین اینکر کو واپسی کے لیے دروازہ دکھا دیا۔جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔ لوگوں نے طرح طرح کے Commentsکئے اس ویڈیو پر۔۔۔
    یہاں تک کہ دو تصویریں ساتھ جوڑ کر وائرل کی گئیں جن میں سے ایک میں وزیراعظم مودی انجنا اوم کیشیپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور دوسری تصویر میں سنیہا دوبے ان کو باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے نظر آرہی ہیں۔لیکن زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ انجنا کو جس طرح سنیہا نے ٹریٹ کیا وہ بالکل درست تھا۔اور صحیح بات ہے کہ یہ رویہ بالکل درست تھا کیونکہ جس طرح کیYellow journalismانڈین میڈیا کرتا ہے اس کا مظاہرہ ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں۔آپ کو بھی یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے کیسے فیک ویب سائٹس کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک
    Exposeہوا تھا۔ جو پاکستان کے خلاف کئی سالوں سے جھوٹی خبریں پھیلاتا چلا آ رہا تھا۔اس کے علاوہ ابھی کچھ ہفتے پہلے ایک انڈین ٹی وی چینل ویڈیو گیم کی ایک فوٹیج اپنی سکرین پر یہ بتاتے ہوئے چلا رہا تھا کہ دیکھیں کیسے پاکستانی جہاز افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان کی مدد کر رہا ہے اور مزاحمت کرنے والوں پر حملے کر رہا ہے۔یہ مذاق ختم ہوا تو ریپبلک ٹی وی کے اینکرپرسن ارنب گوسوامی نے کابل میں سیرینا ہوٹل کے دو کے بجائے پانچ فلورز بھی بنا ڈالے۔ جن کا وجود ہی نہ تھا۔موصوف اپنے پروگرام میں پاکستانی مہمان سے کہنے لگے کہ کابل میں سیرینا ہوٹل کے پانچویں فلور پر پاکستان آرمی کے افسران ٹھہرے ہوئے ہیں۔اس پر پاکستان مہمان نے انہیں بتایا کہ سرینا ہوٹل کے دو سے زائد فلورز تو ہیں ہی نہیں۔آخر میں آپ کو بتاوں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ اصل میں انڈیا کی پرانی حرکتیں ہیں پہلے سوشل میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کرتوتوں کا کسی کو اتنا زیادہ پتہ نہیں چلتا تھا لیکن اب ظاہری بات ہے جب بھی انڈینز کی طرف سے کوئی ایسی دو نمبری کی جاتی ہے تو وہ فورا پکڑی جاتی ہے۔ اور یہ دورہ جو اب انڈیا کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے یہ صرف سوشل میڈیا تک نہیں ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک انتہائی ناکام دورہ تھا

  • تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟ .تحریر :علی رضاعلوی

    تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟ .تحریر :علی رضاعلوی

    غلطیوں کے انبارسب نے لگائے لیکن جوقوم اپنی غلطیوں سے سیکھ کرآگے بڑھ سکے باشعورکہلانے کی مستحق ٹھہرتی ہے،دوسری جنگ عظیم میں خوفناک تباہی کے بعد چاروں شانے چت ‘جرمنی اٹھا، دائیں بائیں دیکھا،کپڑے جھاڑے،اپنے زخموں پرنظرڈالی،انہیں سوہان روح سمجھنے کے بجائے سنگ میل بنایااورشاہراہ ترقی پرچل نکلا‘جاپان نے جیتی ہوئی جنگ ہیروشیما اورناگاساکی کی کوکھ میں راکھ بنتے دیکھی،پرل ہاربر کیابھولا پھول کھلنا بھول گئے،آج دنیابھر میں ایسی قابل رشک معاشی حیثیت کہ ہمیں ابھی ابھی کہاہے‘ چلوقرضے کے چنددن اور۔ایران‘انقلاب کے فوری بعدمسلط کردہ جنگ اورپابندیوں کے باوجوبہتری کی جانب گامزن، کئی دہائیوں پرمحیط سعودی،ایران مخاصمت کی آغوش سے بات چیت اورمحبت بھرے بیانات کی بازگشت شروع۔دنیا کسی ایک جگہ پرنہیں ٹھہرتی،سفربہرطورجاری رہتا ہے،بہتاپانی شفاف اوررکاہوا‘ کائی اورتعفن کودعوت دیتاہے، کہاگیاہے کہ کشمیرپرعقبی راستے کی سفارتکاری رنگ دکھاچکی،گلگت‘بلتستان کے دکھوں کے چند گنتی کے دن باقی رہ گئے،غلطیاں سیاستدانوں نے بھی کیں اورآمروں نے بھی۔ لیکن کوئی تاریخ کے جبرسے سیکھنا چاہے توطعن وتشنیع سے گریز ہی آخری چارہ کار،مگرادراک کون کرے ۔

    غلطیاں خارجی توکیاداخلی محاذوں پہ بھی کچھ کم نہیں ہوئیں،ابھی کل ہی کی توبات ہے جب لاہورکاوز یراعلی‘اسلام آباد کی وزیراعظم کامنہ تک دیکھنے کا روادارنہ تھا‘سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی داستاں تونہ ہی چھیڑیئے،شاید یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری نے پی ڈی ایم کے غبارے سے جب ہوا نکالی تواسے ماضی کے انتقام سے بھی تعبیرکیا گیا،بھلے ”شہیدہ“کا آخری فو ن ”بھائی“کوتھا۔

    پی ڈی ایم کی تشکیل چند ماہ پیشتر کی ہی توبات ہے‘قومی اتحاد،نیپ اورقوم پرستوں کی دیگرتحریکوں کے قیام اور شکست وریخت کی باتیں توقصہ پارینہ ٹھہریں،کل کی بات ہے جب ایفائے عہدکی تمنائیں جوان ہوئیں،قربتیں بڑھیں، ایک دوسرے پرسیاسی سبقت لے جانے کی کوششیں عیاں ہوئیں۔دائیں زانوں کے ساتھ ہمیشہ پاندان اورلبوں پہ شعروسیاست رکھنے والے نوابزادہ نصراللہ خان کی یادتازہ ہوگئی،ان کی مسندجلیلہ پرسابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکوشکست سے دوچارکرنے اور محرومی اقتدارسے منزل دارتک پہنچنے میں معاون بننے والے حضرت مولانامفتی محمود کے سپوت مولانافضل الرحمن براجمان ہوئے، قلوب واذہان میں اے آرڈی کی یاد تازہ ہوگئی،کچھ شہروں میں احتجاجی جلسوں کی گھن گرج عوام الناس کومتوجہ کرپائی یا نہیں‘بہرحال میڈیا کاپیٹ بھرنے میں بطریق احسن کامیاب ہوگئی،نتیجہ یہ نکلا کہ بائیس برس کی نوخیزجماعت پہلی باروفاق میں برسراقتدارآتے ہی تنقیدکی زدمیں آگئی،سات دہائیوں کے ذکر سے گریزاں ماضی کے حکمراں پوری گھن گرج کے ساتھ اڑھائی برسوں کا حساب مانگنے لگے،آپ توکہتے تھے اتنے درخت لگائیں گے کہاں لگے؟زرد ہواؤں کے تھپیڑے میں آئے پاکستان کوسرسبزکیوں نہیں بنایا؟روزگارپید ا کرنے کے مواقع کہاں ہوا ہوئے؟اورہاں وہ تہہ درتہہ،پہلوبہ پہلوگھروں کی آسودگی کے دکھائے گئے خواب؟سوالات کرنے والوں سے بھی کچھ سوال توبنتے تھے،پوچھا گیا،خارزارسیاست آپ کیلئے چمنستان دہرکیسے ثابت ہوا؟دس‘بیس،تیس برس قبل جب آپ نے وادی سیاست میں قدم رنجہ فرمایا تواثاثے تب کیا تھے اب کیا ہیں؟سوالات کا جواب دینے کی بجائے حساب مانگنا جرم ٹھہرا،جب کسی کتاب سے حساب کاجواب نہیں ملاتواحتساب کا قومی ادارہ گردن زدنی ٹھہرا، وہ بھی جنہوں نے گلی کوچوں سے سرحدوں تک نگہبانی کیلئے خون کے دریا عبورکئے،سوال جواب میں آوازیں بلند ہوتی گئیں،آستینیں تہہ ہوناشروع ہوگئیں،منہ سے نکلتی جھاگ چہرے چھونے لگی،پارلیمان میں ہاتھ گریبانوں تک جاپہنچے،ہوا کے دوش سے لوگوں نے یہ منظربھی دیکھا کہ جمہوریت کیلئے باعث فخرایوان پہلوانوں کے اکھاڑے میں تبدیل ہوتا چلا گیا،بات نعروں اورگریبانوں سے بڑھ کرجوتے مارنے اوربجٹ کے تخمینے ایک دوسرے پرپھینکنے تک جاپہنچی، مہنگائی،بے روزگاری او ر کورونا کی بدحالی کے ڈسے عوام کی بد دلی بڑھنے لگی،انہیں لگنے لگا کہ اگراڑھائی برسوں میں منزل نہیں ملی تو ان ستربرسوں سے بھی صرف نظرنہیں کیا جاسکتا جن کے میرکاررواں کبھی اسلام اورکبھی روٹی کپڑا اورمکاں کالولی پاپ دیتے رہے،ان کے اثاثے تو اربوں،کھربوں کی دہلیزعبورکرگئے لیکن غریب کی کٹیا کا دیابدستور مٹی کے تیل کامنتظررہا۔

    غلطیاں ماضی میں کی گئیں تھیں،غلطیاں اب بھی جاری ہیں،سیاستدانوں نے بھی کیں،آمروں نے بھی۔سانپ گذرگئے‘لکیراب تک پٹ رہی ہے جانے کب تک پٹتی رہے گی،غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے والوں کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرتی‘اصل مسائل کا ادراک کسی کوتو کرنا پڑے گا،ملکی مسائل حل کرنے کیلئے تلخ یادوں کوچھوڑکرآگے بڑھنا ہو گا،بوڑھے قدرداں آسودہ خاک ہوئے ،جواں حکمرانوں کی ترجیحات مختلف۔اب رشتے عقائد نہیں،باہمی مفادات اورتجارت طے کرتی ہے،کہاں بھارت‘سعودی عرب چالیس ارب ڈالرکی صرف ایک شعبے‘پٹرولیم میں تجارت اورکہاں ہمارے چارارب ڈالرکی اونٹ میں زیرے کے برابرکی حیثیت،دیدہ ورکہتے ہیں بات مسلمان بھائی سے آگے نکل چکی ہے،کمیونسٹ چین،روس اورمسلمان پاکستان،ایران،ترکی اپنی اپنی راہ بھی نکالیں گے اورمل کربھی،انہیں ترجیحات میں قطراورمتحدہ عرب امارات کوبھی مت بھولئے، نصرت بھٹوکینسر، بے نظیربھٹو کان اور نوازشریف پلیٹ لیٹس کاعلاج کرانے گئے تھے، مریم کوبھی شاید خاموشی سے کہیں جاناپڑے‘رہے عمران خان تووہ بیرونی دنیا میں جھنڈے گاڑ چکے،بولے توٹرمپ اوران کی کابینہ پہ سکتہ چھا گیا‘بائیڈن سے بھی وہی نمٹیں گے، معیشت مستحکم ہوئی تواندرونی مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔

    سینئرصحافی اورتجزیہ کارعلی رضاعلوی @alirazaalviJتقریبا اٹھائیس برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں،روزنامہ جنگ،روزنامہ نوائے وقت،روزنامہ ایکسپریس،روزنامہ دن سمیت متعد د قومی اخبارات میں کالم لکھتے رہے،آج کل baaghitv.com کیلئے لکھ رہے ہیں۔ان کا ٹوئٹرہینڈل @alirazaalviJ ہے جس پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ آج کل جی ٹی وی پر پروگرام ریڈ زون کی میزبانی کر رہے ہیں یہ پروگرام جمعه ، ہفتہ ، اتوار رات دس بجکر پانچ منٹ پر نشر ہوتا ہے

  • وَش ہے یا وائرس، تحریر:محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    وَش ہے یا وائرس، تحریر:محمد عتیق الرحمن گورائیہ

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے شاعر رشید حسرت کا شعر ہے کہ
    ؎ خدا کا خوف نہیں وائرس کا تھا خدشہ
    جسے بھی موقع ملا ہے وہ چین چھوڑ گیا
    مندرجہ بالا شعر میں وائرس پر نظر ٹک جاتی ہے۔وائرس کا لفظ لاطینی زبان سے انگریزی زبان میں پھر ادھر سے دیگر الفاظ کی طرح غیرمحسوس انداز سے اردو میں داخل ہوا۔ لاطینی زبان میں بھی یہ لفظ یونانی زبان سے آیا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ یونانی لفظ ”یوس“کی تبدیل شدہ شکل وائرس ہے۔لاطینی زبان کے لفظ ”Virus“کا ماخذ ”Weis“ہے۔ لاطینی زبان کے لفظ Virulentusکو پہلی بار انگریزی میں 1398ء کے قریب Virusمیں ترجمہ کرکے استعمال کیا اور پھر 1798ء میں ان ذرائع کا نام وائرس رکھ دیا گیا جو بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔سائنسی نقطہ نظر سے بات کروں تو 1880ء میں اسے استعمال کیا گیا اور کمپیوٹر کی دنیا میں یہ لفظ 1972ء میں داخل ہوا۔ گھریلوانسائیکلوپیڈیا میں وائرس کے متعلق لکھا ہے ”متعدی امراض کا سبب بننے والا زہر یا جراثیم سے بھی نہایت چھوٹا کوئی عنصر جو عام خوردبین سے نظر نہیں آتا“وائرس کو ہم زہریلا مادہ، متعدی امراض کا زہراور بَس وغیرہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ایک اور کتاب ”اپنے لوگ“ میں وائرس کے متعلق لکھا ہے ”اب کوئی فائدہ نہیں، محبت کا وائرس فاصلوں کی پروا نہیں کرتا“۔ خالد مبین کہتے ہیں
    ؎ محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
    ہمارے درمیاں یہ فاصلے کیسے نکل آے

    سنسکرت میں یہ لفظ ”وش“ کی شکل میں دیکھ کر گمان گزرا کہ یہ لفظ ہو نہ ہو ادھر سے ہی اُدھر تک پہنچا ہو۔ پھر جب اس متعلق چیمبرز ڈکشنری کا ایک حوالہ ملا تو گمان کو یقین کی قوت میسر آئی۔ یاد رہے کہ یہ انگریزی کا Wishنہیں ہے بلکہ سنسکرت کا ”وش“ ہے جس سے وش کنیا کی طرف دھیان جاسکتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ ایسی حسینہ جسے زہر پلاکر تیار کیا گیا ہو اور قدیم روایات کے مطابق اس سے لوگوں کو مروایا جاتا ہے۔ وِش ناشک لفظ پہلی بارمیری نظروں سے گزرا ہے جب اسے لغت میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس سے مراد تریاق ہوتاہے۔آگ کا دریا کتاب میں لکھا ہے”آہا پنڈت جی کٹوٹا کا وش ناشک میرے پاس بھی نہیں، کمال نے ہنس کر جواب دیا“۔ وش اگرچہ اردو میں بھی مستعمل رہا ہے لیکن اس کا ایک مترادف لفظ بِس بھی اردو میں پڑھا اور لکھا جاتا ہے جسے ہم دیوان حالی میں دیکھ سکتے ہیں۔
    ؎ کی نصیحت بری طرح ناصح
    اوراک بِس ملادیابِس میں
    اگر وِش کو وَش کردیا جاے تو فارسی کا لفظ بن جاے گا جس کا مطلب ہو مانند، نظیر اور خوب، وَش کے متعلق امجد اسلام امجد صاحب نے کیا خوب کہا ہے
    ؎ ہو چمن کے پھولوں کا یاکسی پری وش کا
    حسن کے سنورنے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
    اب دوبارہ سے لفظ وائرس پر چلیے۔ اس سے مراد شروع میں زہر تھا جو بعد میں مہلک کے معنوں میں بھی آگیا۔ انگریزی زبان میں سیاسی جھگڑوں کو بیان کرنے کے لیے Virulent اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ وائرس پر کیا کچھ بیتا اور اس پر کیسے کیسے تجربات ہوے اور کس قدر درجہ بندیاں ہوئیں اور کیسے یہ لفظ سائنس کا حصہ بن گیا۔ یہ ایک الگ کہانی ہے کہ اس تک پہنچنا میرے لیے قدرے مشکل کام ہے۔ سرفراز شاہد کیا خوب کہتے ہیں کہ
    ؎ہے مبتلاے عشق بتاں میرا ڈاکٹر
    جو مجھ میں وائرس ہے وہی چارہ گر میں ہے

  • مستقبل کی ضرورت تحریر: سدرہ

    تعلیم مستقبل کے پاسپورٹ کی شناخت کرتی ہے ، ان لوگوں کے کل کے لیے جو آج کے لیے تیار ہیں
    اگر تعلیم آپ کو صرف جشن منانا اور اپنے آپ کو دکھانا سکھاتی ہے تو مجھے افسوس ہے ، میں آپ کو ایک اور ناخواندہ گونگا سمجھتی ہوں۔ تعلیم آپ کی ڈگریوں اور ذہانت کو ظاہر کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ تعلیم اس بات کے بارے میں ہے کہ آپ ایک فرد کے طور پر کس حد تک ترقی کرتے ہیں۔ آپ کی تعلیم ان لوگوں کو کیسے فارغ کرتی ہے جنہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے کافی مراعات حاصل نہیں تھیں؟ تعلیم صرف آپ کی ڈگریوں کی تعداد کے بارے میں نہیں ہے ، یہ آپ کے اعمال کی پیداوار ہے۔
    تعلیم کا بنیادی مقصد انسانوں کو یہ سکھانا ہے کہ اس دنیا میں نفیس طریقے سے کیسے رہنا ہے تاکہ تنازعات کم ہوں اور ہر کوئی ایک دوسرے اور ماحول کے مطابق اور امن کے ساتھ رہ سکے۔ تعلیم انسان میں پوشیدہ صلاحیتوں/صلاحیتوں کو بھی سامنے لاتی ہے اور قانونی اور باعزت طریقے سے اس کی روٹی اور مکھن کمانے میں مدد دیتی ہے۔ انسان کی سرسری ترقی کے لیے تعلیم ضروری ہے۔
    صحیح اور غلط کیا ہے ، غیر اخلاقی اور اخلاقی کیا ہے ، متعلقہ اور غیر متعلقہ کیا ہے اور کیا انصاف اور ناانصافی کیا جائز اور ناجائز کیا ہے اس میں فرق کرنے کے قابل ہونا۔

    یہ تعلیم کے فوائد ہیں۔
    تعلیم آپ کو کسی بھی غلط چیز پر سوال کرنے کی طاقت دیتی ہے۔
    تعلیم آپ کو اپنے آپ کو انجام دینے اور ایمانداری سے برتاؤ کرنے کا صحیح طریقہ سیکھنے میں مدد دیتی ہے۔
    تعلیم آپ کو حساسیت تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے اور یہ آپ کو مختلف پہلوؤں پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
    تعلیم غلط مفروضوں کو دور کرتی ہے۔
    یہ آپ کو زیادہ باشعور اور پراعتماد بناتا ہے۔
    تعلیم سیاسی ، سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد رکھتی ہے۔
    کسی بھی ملک کا. ایک پیداواری تعلیمی نظام قوم کو اس قومی مقصد کو حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر تعلیم میں آغاز سے ہی شدید مسائل کا شکار ہے۔

    یہاں بہت سے ایسے عوامل ہیں جو اس وجہ کا سبب بنے ہیں ۔۔ یہ بلاگ ان تمام عناصر کی نشاندھی کرتا ہے جو پاکستان میں تعلیمی نظام متاثر کرنے کی وجہ بنے ہیں
    پاکستان میں تعلیمی نظام سے وابستہ مسائل مناسب بجٹ کی کمی ، پالیسی پر عمل درآمد ، ناکارہ ٹیسٹنگ سسٹم ، ناقص جسمانی ڈھانچے ، اساتذہ کے معیار کا فقدان ، تعلیمی پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونا ، بالواسطہ تعلیم ، کم اندراج ، اعلی درجے کا استعفیٰ ، سیاسی مداخلت تعلیمی محکموں میں بدعنوانی ملک میں کم خواندگی کا ایک عامل ہے۔ محکمہ تعلیم میں مانیٹرنگ کے موثر نظام کی ضرورت ہے۔
    تعلیم یافتہ مردوں اور عورتوں کی بے روزگاری پاکستان کے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔ سکولوں میں طلباء کی کیریئر کونسلنگ ہونی چاہیے تاکہ انہیں جاب مارکیٹ کی سمجھ ہو اور وہ اس کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو ترقی دے سکیں۔
    بلدیاتی نظام ملک میں تعلیم اور خواندگی کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہے۔ بلدیاتی نظام میں ، تعلیم کے لیے فنڈز علاقے کی ضرورت کی بنیاد پر خرچ کیے جائیں گے۔
    تعلیم دنیا کو تبدیل کرنے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے
    تعلیم اور کورونا وائرس۔
    اگر کوویڈ نے لوگوں کی صحت اور زندگی سے زیادہ کچھ متاثر کیا ہے ، تو یہ تعلیمی نظام ہے۔ یہاں تک کہ کاروباری اداروں اور کارپوریٹوں نے بھی تیرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن یہ ابتدائی اور ہائی اسکول جانے والے بچے ہیں جو بنیادی طور پر متاثر ہوتے ہیں
    لاک ڈاؤن جاری رہنے کے ساتھ ، اساتذہ نے اپنے طلبا کو آن لائن پڑھانے کا طریقہ اپنانا شروع کر دیا ہے۔

    ٹیکنالوجی نے ان مشکل وقتوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ تین بڑی ایپس جیسے زوم ، گوگل میٹس اور مائیکروسافٹ ٹیموں کو اساتذہ نے آن لائن تعلیم کے بطور بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ طلباء موبائل یا کمپیوٹر ڈیوائس پر اساتذہ کے ساتھ رابطے کے مسائل کی وجہ سے اچھی طرح بات چیت نہیں کر سکتے جو کہ آف لائن موڈ میں ایسا نہیں ہے
    کووڈ 19 کی وجہ سے۔
    تمام طلباء نے بغیر امتحان مکمل کیے اگلے معیار پر ترقی دی۔ یہ مستقبل کو نقصان پہنچائے گا ۔۔ اس لیے اگلے معیار میں ترقی دینے سے پہلے سوچیں کہ کون اس قابل ہے اور کون نہیں۔
    آن لائن کلاسز لینا ، جو کہ مرکوز کلاس کے لیے موزوں نہیں ہے۔ آن لائن کلاس لینے پر تمام طلباء کبھی بھی فعال نہیں ہوتے ہیں۔
    کورونا وائرس کی وجہ سے طلباء بیرونی کھیل نہیں کھیلتے اور وہ ڈپریشن میں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ان کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔
    تمام مواد تعلیم کے لیے صرف آن لائن موڈ میں دستیاب ہے۔ اگر طالب علم کی طرف سے کوئی سوال ہوتا ہے تو وہ آن لائن سیشن میں تصویر کو نہیں پوچھ سکتا اور نہ سمجھ سکتا ہے جیسا کہ جسمانی طور پر پوچھنا اور تصویر کو گہرائی سے سمجھنا۔
    کورونا وائرس تمام نظام کی تباہی ہے ، لیکن سب سے
    کورونا وائرس تعلیم کو توڑتا ہے۔
    طلباء کو کوئی پریشانی نہیں ہے کہ ان کا رزلٹ پاس ہو جائے گا یا رزلٹ فیل ہو جائے گا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تمام طلباء کو اگلے معیار پر ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ کچھ سیکھتے ہیں یا نہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ جب حکومت ہمیں فروغ دے رہی ہے پھر ہم کیوں کچھ بھی سیکھتے ہیں۔ آئیے اپنا وقت سوشل میڈیا ، چیٹنگ ، گیمنگ وغیرہ پر ضائع کریں۔
    @Sidra_VOIK

  • ففتھ جنریشن وار تحریر : نواب فیصل اعوان


    آج جس موضوع پہ مجھے لکھنے کا اتفاق ہوا ہے یہ موضوع کوٸ عام فہم نہیں ہے اس کو سمجھنے کیلۓ ہمیں بہت سے پہلوٶں کا جاٸزہ لینا پڑے گا
    ففتھ جنریشن وار ہے کیا چیز اس کے محرکات کیا ہیں اس کے فاٸدے یا نقصانات کیا ہیں اس پہ تفصیلی بات ہوگی ۔
    ففتھ جنریشن وار ایک ایسی جگ ہے جس میں کسی بھی قوم کو عدم استحکام اور معاشی طور پہ مفلوج کرکے ان پہ کولڈ اسٹریٹیجی کو مسلط کیا جاتا ہے ۔
    ففتھ جنریشن وار رواٸیتی تلواروں پستولوں راٸفلوں یا موجودہ ایٹمی ہتھیاروں سے بلکل بھی نہیں لڑی جاتی ۔
    ففتھ جنریشن وار ایک ایسی جنگ ہے جس میں دشمن کسی بھی قوم کو جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں اور بحثیت قوم ایسا کرنے پہ مجبور دکھاٸ دیتے ہیں ۔
    ففتھ جریشن وار رواٸیتی جنگوں سے یکسر مختلف جنگ ہے جس میں حریف دشمنوں کو عدم استحکام کا شکار کر کے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
    ففتھ جنریشن وار کی ابتدا ناٸن الیون کے بعد شروع ہوٸ جس میں القاعدہ نے ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے امریکہ کو کھڈے لاٸن لگا کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ار دیکھتے ہی دیکھتے القاعدہ کی ہر ملک میں برانچ کھلنے لگی اور لوگ جوک در جوک القاعدہ کا حصہ بننے لگے ۔
    یہاں سے امریکہ کو عدم استحکام کا شکار کر کے ایک عجیب جنگ کا آغاز کیا گیا جو بعد میں ففتھ جنریشن وار فیٸر کہلاٸ ۔
    کسی بھی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا وہاں کی عوام کو مایوسی کی طرف دھکیلنا اس ملک کے خلاف سوشل میڈیا پہ جھوٹے پروپیگنڈے کو تقویت دینا اور ملکی اداروں کے خلاف کرنا یہ سب بھی ففتھ جریشن وار کہلاتا ہے ۔
    ففتھ جنریشن وار کی سمجھ بوجھ رکھنے والے یہ ضرور جانتے ہونگے کہ ففتھ جنریشن وار کا مطلب بھی یہی ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف ایسی سرد جنگ کا آغاز کیا جاۓ جو بنا کسی ہتھیار کے دشمن ممالک میں افراتفری اور عدم استحکام کو فروغ دے تاکہ وہ اپنے متعلقہ عزاٸم میں کامیاب ہو سکیں ۔
    ففھ جنریشن وار یہ بھی ہے کہ دشمن ہمارے نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے حکومت و ریاستی اداروں کے خلاف کر دینا ہے تاکہ وہ ریاستی اداروں سے ٹکراٸیں جس سے اندرونی خلفشار کی سی فضا قاٸم ہو ۔
    وہ دور اور تھے جب تلواروں نیزوں، توپوں یا بندوقوں کے ساتھ دشمنوں کو زیر کیا جاتا تھا یا افرادی قوت کے ذریعے جنگیں جیتی جاتیں تھیں مگر ففتھ جنریشن وار فٸیر کا جب سے دور آیا ہے آپ لوگ سوشل میڈیا سے ففتھ جنریشن جاری رکھ سکتے ہو ۔
    ففتھ جنریشن وار ایسی جنگ ہے جہاں لوگ ملکی مفادات کو یکسر انداز کےٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔
    ففتھ جنریشن وار فئیر کو ذہنی جنگ یا بیانیے کی جنگ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی بھی پسماندہ ذہن کے مالک شخص پہ مسلط کی جاتی ہے ۔ اس وقت اس دنیا میں اس جنریشن کا اہم اور موئثر ہتھیار میڈیا ہے جس میں الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا شامل ہیں۔ کیا آپ لوگ یہ جانتے ہیں کہ آپ لوگ سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم سے اس ٹولز کو بروئے کار لا کر بالخصوص نوجوان نسل کی ذہن سازی کرکے اپنے ملک یا ریاست کے خلاف کرسکتے ہیں اور ریاست یا ریاستی اداروں کے خلاف اندرونی محاذ کھول سکتے ہیں ۔ اس میں کسی بھی ملک کے حالات خراب کرنے کیلۓ مذہبی منافرت پھیلایا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے مسالک کے مابین تعصبات کو ایک دوسرے کے دماغوں میں نقش کر کے فسادات کو فروغ دیا جاتا ہے ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ففتھ جنریشن وار فئیر میں اپنی مخالف طاقت کو کمزور کرنے کے لیے قوم پرستی کی بنیاد پر پنجابی کو پھٹان سے پھٹان کو سندھی سے سندھی کو بلوچی سے اور بلوچی کو گلگت بلتستانی سراٸیکی کو پنجابی سے لڑایا جاتا ہے۔ ففتھ جنریشن وار فئیر میں مخالف فریق کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ مخالف فریق معاشی ترقی نہ کر سکیں اور ناکام و نامراد ہوتا جاۓ ۔ ففتھ جنریشن وار کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ففتھ جنریشن وار فئیر دشمن عناصر ریاستی افواج کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کر کے اپنی ریاست کی افواج کے خلاف نفرت کے راگ الاپے جاتے ہیں اس چیز کو کامیاب کرنے کے لیے نوجوانوں کا ایک گروہ تیار کر کے عسکری حلقوں کو طرح طرح کے الزامات لگا کر اپنے مقاصد کی وصولی کے لئے راستے ہموار کیۓ جاتے ہیں تاکہ وہ ملکی لوگوں کو ہی دشمن ملک کے خلاف استمعال کریں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ تو ان کا اندرونی معاملہ ہے مگر حقیقیت اسکے برعکس ہوتی ہے وہ دشمن ممالک کے ایجنڈے پہ کام کر رہا ہوتا ہے ۔ معزز قارئین ففتھ جنریشن وار دوسری جنگوں کی نسبت بہت خطرناک ترین وار ہے جس سے ہتھیاروں یا افرادی قوت کے مظاہرے سے بھی زیادہ نقصان ہوتا ہے ۔ بحثیت مسلمان اور پاکستانی ہماری اولین زمہ داری یہ ہونی چاہیۓ کہ ہم اپنے اسلام و ملک کے ایک اچھے شہری بن کے رہیں اسلام کی سربلندی کیلۓ پاکستان کی ترقی کیلۓ دشمن کی تمام چالوں کو بے نقاب کرتے ہوۓ ملکی مفاد کی جنگ لڑیں اور دشمن یا ان کے آلہ کار جس طرح ہماری ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں ان تمام سازشوں کا قلع قمع کر کے ملک کی سالمیت ،استحکام اور ترقی کے لئے ملکی وفادار بن کے سوچنا چاہیے تاکہ ہم ففتھ جنریشن وار فئیر سے مکمل طور پر بچ سکیں اور اس سرد جنگ کے نقصانات کم کیۓ جاسکیں ۔
    دوسری جانب ریاست کو بھی چاہیئے کہ وہ ففتھ جنریشن وار کے نام پر جو لوگ اپنے حقوق کے حصول کی بات کرتے ہیں ملکی مفاد کیلۓ کام کر رہے ہیں ففتھ جنریشن وار لڑ رہے ہیں اور جو لوگ حق حاکمیت اور حق ملکیت کی بات کرتے ہیں، اپنے خلاف ہونے والی ناانصافیوں پر آواز بلند کرتے ہیں انہیں خوف زدہ کرنے ڈرانے دھمکانے اور سزا دینے کے بجائے انکی بات کو بغور سنا جاۓ اور کوشش کی جاۓ کہ انکے مسائل جنگی بنیادوں پہ حل کیۓ جاٸیں تاکہ عوام اور ریاست کے بیچ محبت کا رشتہ برقرار رہے اور ہمارے ملک باسی دشمنوں کے آلہ کار بننے سے بچ سکیں کیونکہ ففتھ جنریشن وار فیٸر تمام روایتی جنگوں سے مختلف ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ فیک نیوز بھی ففتھ جنریشن فٸیر ہی کی ایک قسم ہے انڈین کرونیکلز نیٹ ورک جو کچھ عرصہ پہلے بے نقاب ہوا تھا اس میں بھی کٸ ویب ساٸٹس جرنلسٹ اور اقوام عالم کی کارواٸیوں پہ کنٹرول حاصل کرنے کیلۓ اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلۓ ہر سازش کی جاتی تھی اس کے علاوہ حالیہ دورہ نیوزی لینڈ کی منسوخی بھی ففتھ جنریشن وار کا ہی ایک حصہ ہے ۔ اس وقت قوم کو یا ملکی حالات کو کنٹرول کرنا ہے کہ انکی عوام محفوظ ہیں اس سلسلے میں قوم میں ففتھ جنریشن کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام جان سکے کہ یہ ففتھ جنرشن وار ہے کیا ۔؟ اس کے مقاصد کیا ہیں ۔؟ کیسے ففتھ جنریشن وار کسی بھی ملک یا قوم پہ مسلط کر کے اپنے اہداف حاصل کرنے کیلۓ لڑی جاتی ہے ۔؟ الحَمْدُ ِلله پاکستان کی عوام میں اس حوالے سے کافی شعور موجود ہے مگر اکثریت ففتھ جنریشن وار کی اے بی سی ڈی سے بھی ناواقف ہے اس وقت پاکستان میں ہمارے پاکستانی دشمن ممالک خاص طور پہ ازلی دشمن بھارت اسراٸیل و امریکہ کے پروپیگنڈے کو کاٶنٹر کر کے ان کو منہ توڑ جواب دیتے ہوۓ دشمن مالک کی کروڑوں اربوں روپے کی انویسٹمنٹ کو خاک میں ملانے کا ہنر رکھتے ہیں اللہ پاک ہمیں ملکی مفاد کیلۓ ہر فورم پہ حق بات کہنے والا بنا دے اور ملکی مفاد کیلۓ لڑنے والا بنا دے آمین تاکہ ہم بھی اقوام عالم کی تمام قوموں کو ٹکر دینے کے مقابل آجاٸیں ۔

    ‎@NawabFebi

  • سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال اور نقصانات:تحریر: عمران افضل راجہ

    سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال اور نقصانات:تحریر: عمران افضل راجہ

    گزشتہ دنوں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا، ہم بہت پرجوش تھے کہ چلو
    کافی عرصے بعد سب سے ملنے کا موقع مل رہاہے، خوب گپ شپ ہو گی۔ وہاں پہنچے تو
    دیکھا دلہا دلہن سمیت سب لوگ سیلفیاں لینے میں مصروف ہیں۔ کسی کے پاس باتکرنے
    کی فرصت نہیں۔ کچھ دیر یوں ہی سب کو دیکھ دیکھ کر بور ہوتے رہے پھر ہم نے بھی
    اپنا موبائل نکالا اور فیس بک پرسکرولنگ شروع کر دی۔ گزشتہ اتوار ایک پارک جانا
     ہوا تو وہاں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سب تفریح سے لطف اٹھانے کیبجائے اپنے
     اپنے موبائل کی سکرین پر جھکے ہوئے تھے۔

    ہم سب موبائل ہاتھ میں لیے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام میں مصروف ہیں۔ سوشل
    میڈیا پر ہمارے سینکڑوں دوست ہیںلیکن درحقیقت ہم بالکل تنہا ہیں۔ ہمارے پاس
    اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھنے، ان سے بات چیت کرنےکا وقت نہیں۔ گھر کےہر فرد کی
     اپنی ایک الگ دنیا ہے جو موبائل کی سکرین تک محدود ہے۔ اس تنہائی کا اگرچہ
    وقتی طور پر ہم سب کو احساس نہیں لیکنجتنا زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال میں
    اضافہ ہو رہا ہے اتنا ہی معاشرے میں نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
    ہر دوسراشخص احساس کمتری، مایوسی، حسد، چڑچڑےپن اور سماجی تنہائی کا شکار نظر
    آتا ہے۔

    پہلے پہل شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں جائیں تو رشتے دار ایک دوسرے سے گھل
    مل کر باتیں کرتے تھے، ایک دوسرے کے دکھدرد سنتے تھے،  تقریب کو بھرپور  طریقے
    سے انجوائے کیا جاتا تھا۔ مگر اب سب لوگ سیلفیاں لینے اور اسٹیٹس لگانے میں
    مصروفہوتے ہیں۔ کسی کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ اس طرح
    غیر محسوس طریقے سے ہم اپنے پیاروںسے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    جتنا زیادہ لوگ سوشل میڈیا سے جڑ رہے ہیں اتنا زیادہ سماجی تنہائی کا شکار ہوتے
     جا رہے ہیں۔  ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگفیس بک ، ٹویٹر ، Google+ ،
    یوٹیوب ، لنکڈ ان ، انسٹاگرام ، پنٹیرسٹ ، ٹمبلر ، وائن ، اسنیپ چیٹ اور ریڈڈیٹ
     سمیت 11 سوشلمیڈیا سائٹس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، اتنا ہی سماجی طور پر الگ
     تھلگ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیاپر زیادہ دوستوں کا مطلب ہر گز یہنہیں ہے کہ حقیقت
    میں بھی آپ کے زیادہ دوست ہیں۔

    زیادہ تر سوشل میڈیا پر صداقت کی شدید کمی ہے۔ لوگ اپنی دلچسپ مہم جوئی کے لیے
    اس کا استعمال کرتے ہیں،  قریبی رشتہ دارایک  دوسرے سے کتنا پیار کرتے ہیں ، اس
     قسم کی تصاویر فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت
    میں یہ سب ایک دھوکہ ہے۔ اگرچہ یہ بظاہر بہت اچھا لگتا ہے لیکن اکثر یہ دیکھا
    گیا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔سوشل میڈیا پر مدرز ڈے اور فادرز ڈے دھوم
    دھام سے منانے والے، اور جذباتی پوسٹ لگانے والے اکثر لوگوں کے پاس عیدکے عید
    بھی اپنے والدین سے ملنے کا وقت نہیں ہوتا۔ ایک ایسی ہی خاتون جن کا سٹیٹس دیکھ
     کر لگتا تھا کہ ان سے زیادہ محبتکرنے والا اور خیال رکھنے والا شوہر کسی کا
    نہیں، ایک مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی تو چہرے پر نیل کے نشانات تھے. استفسار پر
    معلومہوا کہ شوہر نے نشے کی حالت میں پیٹا ہے۔

    معاشرے میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر
    غیر حقیقی زندگی کی تشہیر ہے۔ نوجوان نسلاپنے جیون ساتھی کو ویسا ہی دیکھنا
    چاہتی ہے جیسا کہ سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے اور جب وہ ان کی امیدوں پر پورا
     نہیں اترتا توفاصلے اور اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت
    دینے کی بجائے سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ ان تمامباتوں کا منطقی نتیجہ طلاق کی
    صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

    اسی طرح خودکشی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ اپنی کامیابیوں، ترقی،
    تقریبات، تفریح حتی کہ کھانے پینے کی تصاویربھی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔
    اس طرح وہ لوگ جو یہ سب حاصل نہیں کر سکتے وہ احساس محرومی کا شکار ہو جاتے
    ہیں۔اور یہ سب حاصل نہ ہونے پر ناکامی کی صورت میں یا تو خودکشی کر لیتے ہیں یا
     پھر ان چیزوں کے حصول کے لیے جرائم پیشہسرگرمیاں اختیار کر لیتے ہیں۔

    انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ اسے پیدائش سے لے کر موت تک زندگی کے ہر قدم پر
    دوسرے انسانوں کا سہارا اورمدد درکار ہوتیہے۔ وہ اپنی خوشیاں اور غم دوسروں کے
    ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا نے انسان کو سچ مچ کا حیوان بنا دیا ہے۔
     اسکی ایک مثال چودہ اگست پر مینار پاکستان پر ہونے والا سانحہ ہے۔  اگر ہم اس
    قسم کے واقعات کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو ہماس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سوشل
    میڈیا کے بے لگام استعمال نے ہم سے ہماری اخلاقیات،  صحت اور سماجی اقدار چھین
    لی ہیں۔اس نے نہ صرف ہمیں تنہا کر دیا ہے بلکہ ایک ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی
    بیمار معاشرے کو بھی جنم دیا ہے۔

    سوشل میڈیا نےایک نشے کی طرح لوگوں کوجکڑ لیا ہے۔ چند لمحے موبائل ہاتھ میں نہ
    ہو تو طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔ گھنٹوںفیس بک اور انسٹا گرام پر بے معنی اور
    غیر ضروری پوسٹیں دیکھتے رہنے میں وقت کے ضائع ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
    ماہریننفسیات اسے ‘فیس بک ایڈکشن ڈس آرڈر’ کا نام دیتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف
    نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں بلکہ رات بھر جاگنےاور بیٹھے رہنے سے جسمانی
    بیماریوں کا بھی بآسانی شکار ہو جاتے ہیں۔ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے سے موٹاپے،
    جوڑوں کے درد،  دل اورشوگر کے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ نیند کی کمی سے
    چڑچڑاپن اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین صحتنے بیٹھے
    رہنے کو سگریٹ نوشی سے تشبیہ دی ہے کیونکہ اس سے بہت سے خطرناک امراض جنم لیتے
    ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہر سالہزاروں افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم فرصت کے
    لمحات میں بیٹھ جاتے ہیں اور غیر ارادی طور پر موبائل پر سکرولنگ شروعکر دیتے
    ہیں، جو کہ نفسیاتی طور پر بے حد خطرناک ہے۔ اس سے معاشرے میں نکمے اور بے کار
    لوگوں کی ایک فوج پیدا ہوتی جارہی ہے۔جن کا کام صرف سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں
    کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ جو ہر وقت ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں لیکن عملیزندگی
    میں مکمل طور پر ناکام ہوتے ہیں۔ ۔

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر وقت دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں، جس سے جلن، حسد اور احساس
     کمتری جنم لیتا ہے۔ تحقیق سے یہبات ثابت ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا میں موازنہ کا
    عنصر حسد کا باعث بنتا ہے- زیادہ تر لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی
    تعطیلات، بے پناہ محبت کرنے والے ساتھی اور بہترین سلوک کرنے والے بچوں کو دیکھ
     کر حسد پیدا ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میںماہرین نے فیس بک کا استعمال کرتے ہوئے حسد
     اور دیگر منفی جذبات کو دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ "صرف فیس بک پر ہونے والےحسد
    کے واقعات کی شدت حیران کن ہے، یہ اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ فیس بک
    ناگوار جذبات کی افزائش گاہ ہے۔” وہمزید کہتے ہیں کہ اگر لوگوں نے اس سے نکلنے
    کی کوشش نہ کی تو یہ ایک ایسا شیطانی چکر بن سکتا ہے، جو کہ جلن، حسد، مقابلہ
    بازی،احساس محرومی اور منفی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ
    حسد محسوس کرنے سے ڈپریشن اور دیگر منفیجذبات کو فروغ ملتا ہے اور منفی خیالات
    جسمانی صحت کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہر لمحہ اپنے ایڈونچر کو اپ لوڈ کرنے کے
    لیے کبھی پہاڑ کی چوٹی پر،  کبھی دریا کے کنارے اورکھبی گلیشیر کے نیچے کھڑے ہو
     کر تصویریں لینے والے لوگ اکثر اوقات اپنی قیمتی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے
    ہیں۔ ہر روز اس قسمکے واقعات اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

    جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کے علاوہ سوشل میڈیا اخلاقی اقدار کو بھی نقصان
    پہنچانے کا سبب ہے۔ ٹک ٹاک اس کی ایک بد ترینمثال ہے۔ ٹیکنالوجی استعمال کرنے
    کے جنون میں مبتلا لوگ معاشرتی اور اخلاقی روایات کو سمجھے بغیر ٹک ٹاک پر غیر
    اخلاقی مواداپ لوڈکرتے رہتے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ باعزت خاندانوں کے
    بچے، بچیاں، بوڑھے، جوان سب اس میں مصروفہیں۔

    ہمارا مذہب ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ نمودونمائش سے روکتا ہے۔ دین نے تو
    ہمیں سکھایا ہے کہ پھلوں کے چھلکے تکاپنے ہمسائے سے چھپا کر پھینکو، کہیں ان کو
     احساس محرومی ہو اور ان کی دل آزاری ہو۔ اس کے باوجود ہم دوسروں کے جذباتاور
    احساسات کی پرواہ کیے بغیر اپنے ہر لمحے حتی کہ کھانے پینے کی تصویریں بھی سوشل
     میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ جولوگ مہنگے ہوٹلوں میں یہ کھانا
    نہیں کھا سکتے ان کے دل پر کیا گزرے گی۔

    ان تمام باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سوشل میڈیا کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ظاہر ہے کہ یہ ہمیں دنیا سے جوڑتا ہے ، اور ایسےدوستوں کو تلاش کرنے میں ہماری
    مدد کرتا ہے جن سے ہم برسوں پہلے رابطہ کھو چکے تھے۔ اس کے علاوہ معلومات
    کےحصول اورکاروبار کرنے میں بھی مددگار ہے۔ لیکن اس کے استعمال سے پہلے ہمیں
    کچھ حدود کا تعین کرنا ہو گا۔ بجائے اس کے کہ ہم حکومتسے کبھی ٹک ٹاک، کبھی یو
    ٹیوب پر پابندی کا مطالبہ کریں، ہمیں سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔ ان
    تمام چیزوں کو استعمالکرتے ہوئے اعتدال اور اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھنا
    چاہیے۔

    اپنے ہر لمحہ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی بجائے اس کو کسی با مقصد کام کے
    لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعےمعلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، پیسے
     کمانے اور کاروبار کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسروں پر تنقید کرنے
    اور پابندیاںلگانے سے پہلے اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ ہم نظم و ضبط اور پابندی
    وقت کے ذریعے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال بھیرکھ سکتے ہیں۔ موجودہ دور
    میں ٹیکنالوجی سے دور نہیں رہا جا سکتا لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم اس
     میں کھو جائیں۔ ہم پراپنی جان کا بھی حق ہے اور اپنے رشتے داروں کا بھی۔ اس
    نشے سے نکلنے میں سب سے اہم کردار والدین ادا کر سکتے ہیں۔ لیکنزیادہ تر والدین
     خود ہی ان چیزوں سے نہیں نکل پاتے۔ ان کے پاس بچوں کو دینے کے لیے وقت نہیں۔
    انہیں شروع سے ہیبچوں کو یہ بات سمجھانی چاہیے کہ ہر کام اپنے وقت پر کرنا ہے
    اور صحت، فیملی، پڑھائی اور معاشرے  کا کامیاب شہری بننا سبسے زیادہ ضروری ہے۔
    بچوں سے بات چیت کریں، ان کو اپنے بچپن اور اسکول لائف کے قصے سنائیں، ان کے
    مسائل سنیں۔سب سے پہلے تو اپنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ورزش کے لیے وقت
    مختص کرنا چاہیے۔ دن کے کچھ گھنٹے صرف اپنی فیملیکے لیے مخصوص ہونے چاہئیں۔
    سونے جاگنے کے اوقات میں بھی موبائل کو بند کر دیں۔ اگر یہ چھوٹی چھوٹی
    تبدیلیاں ہم اپنیزندگی میں لے آئیں تو یقینا زندگی پر بہت خوشگوار اثرات مرتب
    ہوں گے۔ لیکن اگر ہم نے ابھی اس لت سے نکلنے کی کوشش نہیںکی تو اس کے گھناؤنے
    اثرات زندگیوں کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ جس کے نتائج سانحہ مینار پاکستان سے
    بھی زیادہ شدید نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • آج کا نوجوان تحریر: ثناءاللہ محسود

    آج کا نوجوان تحریر: ثناءاللہ محسود

    نوجوان کسی بھی معاشرے کی ایک اہم طاقت ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی خاندان ، ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بوڑھوں کی نسبت مضبوطی اور طاقت بخشی  ہے۔ یہ اپنے بل بوتے پر زندگی کی ہر جنگ میں فتح یاب ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی کامیابی کا انحصار نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ یہ اپنے ملک کی بنیاد ہوتے ہیں۔ وقت آنے پر ان کا خون ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتاہے ۔یہ پہاڑوں کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی نوجوان کو علامہ اقبال نے شاہین کا نام دیا۔

    تو سوال یہ ہے۔ کہ کیا آج کا نوجوان اپنی قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتا ہے۔ کیا یہ اقبال کا شاہین بننے کا ولولہ رکھتا ہے۔

    تو اس کا جواب یہ ہے ، کہ آج کا نوجوان ان سارے جذبوں سے خالی ہے۔اور اس کی وجہ نوجوانوں کا سوشل میڈیا ، منشیات ، اور دوسرے فضول امور میں دلچسپی لینا ہے ۔ رئیس لوگوں کے بگڑے ہوئے امیر زادے نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے میں مگن رہتے ہیں۔ اور دوسری طرف غریب طبقے کے لوگ دال، روٹی کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کو ملک کی فکر کیونکر ہو ۔

    اور ان سب کی وجہ یہ ہے۔ کہ آج کے دور میں نوجوانوں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگر وہ کسی بات میں مداخلت کریں تو ان کی بات کی تردید کر دی جاتی ہے۔ انھیں معاشرے کا اہم رکن سمجھنے کی بجائے  نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے لئے صحیح راستے کا انتخاب نہیں کر پاتے، اور ایسے عوامل کا شکار ہو جاتے ہیں جو معاشرے کے ساتھ ساتھ انہیں بھی تاریکیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔

    اور ایسی صورتحال میں جرائم مافیا  انہیں با آسانی جرائم کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔جس سے ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کا نقصان بھی ہوتا ہے۔

     ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوگا کہ ایک زمانہ تھا جب اسکولوں، کالجوں میں کھیل کے میدان ہوتے تھے، جہاں کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے تھے۔  ان کھیلوں کے ذریعے صبر و برداشت، حوصلہ، مقابلہ کرنے کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں غیرنصابی سرگرمیاں جیسے بیت بازی، تقریری مقابلے، مضمون نویسی وغیرہ ہوا کرتے تھے۔کیوں ختم کردی گئیں یہ ساری چیزیں جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل  بیان کرتے تھے۔  اس تیز ترین دور میں نوجوانوں سے ان کی رائے کا ہر وسیلہ چھین لیا گیا ہے ۔ سکول ، کالج نیز ہر ادارہ اپنا نام کمانے کی فکر میں نوجوانوں کے جذبات کا خون کرتا ہے۔ اور رہی سہی کسر بے روزگاری نے پوری کر دی ہے۔ 

    ان سب مسائل کا حل بس یہی ہے۔ کہ نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے وسائل مہیا کیے جائیں۔ کیونکہ ہمارے ملک کا مستقبل انہیں نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں تعلیم، صحت،  اور تجربات کا موقع دیا جائے تا کہ نوجوان ذہنی اور نفسیاتی دباؤ سے باہر نکلیں۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے ذرائع مہیا کیے جائیں۔ بہت سے نوجوان مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیم سے دور ہیں۔ ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا آسان کیا جائے۔ تا کہ اقبال کے شاہین اپنے وطن کو ایک بہترین مستقبل دے سکیں۔

    @Sanaullahmahsod

  • تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے،؟!  تحریر: تیمور خان

    تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے،؟! تحریر: تیمور خان

     

    جب میں اپنے معاشرے کے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں جن میں سب سے اہم سوال تعلیم کے متعلق ہے۔  شاید تعلیم کندھوں پر بڑھتے بوجھ کا نام ہے ، شاید تعلیم ان پرانی کتابوں کا نام ہے ، شاید تعلیم ایک ایسی دوڑ ہے جس میں ہر انسان دوسرے انسان کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے ، شاید تعلیم کی اہمیت صرف ایک کاغذ پر مبنی ہے  جس کو ہم ڈگری کہتے ہیں اور وہ اس تک محدود ہے۔  آخر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ ہے جس کا وہ مطلب نہیں جانتے کہ میں نے کیا پڑا کیا لکھا؟

     ہماری نظر میں صرف وہی لوگ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں جو اچھی انگریزی بولتے ہوں، اچھے کپڑے پہنتے ہوں، وہی لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ سمجھے جاتے ہیں ، ہمارا ذہن ان باتوں کو کیوں مانتا ہے؟  ہمیں تعلیم حاصل بھی کرتے ہیں اور ہمیں سکھایا بھی جاتا ہے لیکن ہمیں تعلیم کا صحیح مطلب اور مقصد نہیں سکھایا جاتا۔  اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ہمارے خیال میں تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے تو ہم کہیں گے کہ ہمیں ڈاکٹر ، انجینئر ، وکیل پائلٹ ہو ٹیچر بننا ہے اور پیسہ کمانا ہے ، لیکن تعلیم کی اہمیت اور مقصد ان چند الفاظ کے گرد گھومتا ہے؟   تعلیم صرف پیسہ کمانے کے لیے نہیں ہے ، تعلیم صرف ڈگری یا نوکریاں حاصل کرنے کے لئے ہرگز نہیں ہے ہماری سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی نے درست کہا ہے کہ جب تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری حاصل کرنا ہوتا ہے تو معاشرے میں صرف نوکر ہی پیدا ہوتے ہیں نہ کہ لیڈر اور یہی آج کل میں اپنے معاشرے میں دیکھ رہا ہوں۔

     افسوس کی بات ہے کہ جن کے پاس ڈگریاں ہیں ، ہم ان کو پڑھا لکھا سمجھتے ہیں اور جن کے پاس ڈگریاں نہیں ہیں ، ہم انہیں جاہل سمجھتے ہیں ، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جو صحیح اور غلط اور اچھے یا برے میں فرق پڑھے کیونکہ میں نے دیکھا ہے  پڑھے لکھے میں جاہل لوگوں کو  اور جاہلوں میں پڑھے لکھے کو بھی،  اگر ہم تعلیم کے معنی کو غور سے سمجھنے کی کوشش کریں تو علم انسان کی تیسری آنکھ کی طرح لگتا ہے۔

     دو آنکھوں سے ہم دنیا کے خوبصورت مناظر دیکھتے ہیں مگر علم کی آنکھ سے ہم عقل اور سمجھ کے مشکل مراحل سے گزرتے ہیں۔  جاہل اور پڑھے لکھے میں کوئی فرق نہیں۔  میری نظر میں جاہل وہ ہیں جو اپنے علم کے باوجود ناانصافی کرتے ہیں ، اپنی صلاحیتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں۔  میری نظر میں وہ لوگ بھی جو صرف جہالت اور بے ہوشی کی فہرست میں ہیں ان کی فہرست میں جو پڑھاتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ کچھ نہیں کرتے۔  

     عمل کے بغیر علم برائی ہے اور علم کے بغیر عمل گمراہی ہے ، یعنی علم اور عمل دونوں ضروری ہیں ، کوئی بھی کافی نہیں ہے۔  اگر علم آنکھ ہے تو عمل اس کا وژن ہے ، اگر علم زندگی ہے تو عمل شعور ہے ، اگر علم تعلیم ہے تو عمل تربیت ہے ، اگر علم پھول ہے تو عمل خوشبو ہے۔  علم شعور ہے۔  علم بنیادی طور پر قابلیت ، قابلیت اور ذہن کی کشادگی کا نام ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم نے خود ان چیزوں کو جاننے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی نے ہمیں یہ باتیں بتانے کی زحمت کی۔  اور آج ہم اس فرق کو بھول گئے ہیں اور ہماری برتری صرف ڈگریاں اور نوکریاں ہیں اور ہم انسانیت سے اس قدر دور چلے گئے ہیں کہ واپسی کی کوئی علامت نہیں ہے۔

    اس جدید دور میں ، تعلیم کا مقصد اس بات کو پوری طرح پہنچانے کے لیے کافی نہیں ہے کہ صرف سیکھنا ہماری زندگی میں کیا نکات لاتا  ہے۔  تعلیم ایک سے زیادہ مقاصد کو پورا کرتی ہے – ایک ایسے سپیکٹرم کے ذریعے جو ہماری زندگی کے معاشی ، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔  یہ اب محض خیالات اور علم کو آنے والی نسلوں تک منتقل نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی یہ صرف مالی مستحکم کیریئر کی تیاری کے لیے ہے۔  یہ ان خیالات کو بھی لے رہا ہے اور انہیں ہماری زندگیوں اور ہمارے آس پاس کی دنیا میں لاگو کر رہا ہے۔  اس کے نتیجے میں ، تعلیم کی کثیر جہتی نوعیت اپنے شاگردوں میں ہمہ گیر ثقافتی تنوع کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے ، ہمارے مطالعے میں تنقیدی سوچ کی وکالت کرنے ، اور ایسے مواقع لے کر ہماری زندگیوں کو تقویت دینے کی کوشش کرتی ہے جو ہماری زندگیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔  دنیاوی تجربات  تعلیم کے ان پہلوؤں کو پورا کرتے ہوئے ، یہ ضروری قدم ہمیں علم اور حکمت مہیا کرتے ہیں جو معاشرے اور جوانی میں ہماری شروعات کو تیار کرتے ہیں, تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے، کہ ہمیں تعلیم کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کو سمجھنا بھی چاہئے، تاکہ ہمارا آنے والا کل روشن ہو، اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    @iTaimurOfficial

  • جنٹلمین گیم از اوور؟تحریر:وقاص امجد

    جنٹلمین گیم از اوور؟

    کرکٹ جسے جنٹلمین کا کھیل کہا جاتا تھا ،اب مفادات کا کھیل ثابت ہونے لگا ہے۔یہ بات اس وقت کھل کر سامنےآئی جب ٹی 20ورلڈکپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر موجود نیوزی لینڈکرکٹ ٹیم نے میچ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل نہ صرف کھیلنے سے انکار کردیا بلکہ یکطرفہ طور پرپورادور ہ کینسل کرکےاپنے وطن واپس جانے کی ٹھان لی۔ اپنے اس اقدام کے پیچھے کیوی ٹیم نے یہ جواز پیش کیا کہ انکی ٹیم کو پاکستان میں خطرہ ہے لہٰذا جلد ازجلد انکے واپس جانے کے انتظامات کیےجائیں۔پاکستانی حکام، سکیورٹی ایجنسیز اور انٹیلی جینس پریشان ہوگئے کہ یک لخت ایسا کیا ہوا کہ مہمان ٹیم جانے پربضد تو ہوگئی مگر یہ بتانے سے قاصر تھی کہ انھیں خطرہ کس سے ہے؟یہ صورتحال دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اور خصوصی طور پر پاکستانیوں کیلئے کسی صدمے سے کم نہ تھی کیونکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اٹھارہ سال بعد پاکستان آئی تھی اور یہاں پانچ روز ہنسی خوشی گزارنے کے بعد اچانک سے سکیوٹی کا ایشو بنا کر واپس اپنے دیس چلی گئی۔ 

    سکیورٹی کے فول پروف اقدامات کیے جانے کےباوجود نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے یوں چلے جانے کی گرد ابھی بیٹھی بھی نہیں تھی کہ انگلینڈ کی ٹیم نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے پاکستان آنے سے انکار کردیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے تو پھر سکیورٹی کا بہانہ بنایا مگر انگلینڈ نے انتہائی بھونڈا جواز پیش کرتے ہوئے معذرت کی کہ انھیں اپنے کھلاڑیوں کی تھکاوٹ اور ذہنی صحت کی فکر ہے ۔ انگلش ٹیم کے اس انکار کے پیچھے چھپی وجہ کو ماہرین کرکٹ متحدہ عرب امارات میں جاری بھارتی کرکٹ لیگ( آئی پی ایل) سے بھی جوڑرہے ہیں جہاں انگلش کھلاڑی بھاری بھرکم پیسوں کے عوض کھیلنے میں مگن ہیں۔

     پاکستان کرکٹ بورڈ اوربالخصوص وزارت داخلہ کیلئےیہ بات باعث تشویش تھی کہ مکمل یقینی دہانی اور سٹیٹ آف دا گیٹس بننے کے باوجود پہلے ایک ٹیم نے یہاں آکر فوراًجانے کی راہ لی اور دوسری ٹیم نے آنا بھی گوارہ نہیں سمجھااور وہیں سے آنکھیں ماتھے پر رکھ کر دو ٹوک انکار کردیا۔

    یک نہ شُددوشُد والی یہ صورتحال جہاں سکیورٹی کے حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرگئی وہیں پاکستانی کھلاڑیوں کے ارمانوں پر بھی پانی پھیر گئی کیونکہ ورلڈکپ کی تیاریوں کے سلسلے میں یہ دونوں سیریز کافی مددگار ثابت ہونے والی تھیں۔

    اس مشکل وقت میں نئے چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ کے دوٹوک بیانیے نے کھلاڑیوں کیساتھ ساتھ پاکستانی عوام کی بھی ڈھارس بندھائی ۔نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کے کرکٹ نہ کھیلنے کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ ایک طرف تو مالی نقصانات کا ازالہ کررہا ہے اور دوسری طرف کھلاڑیوں کو ورلڈکپ کی تیاری کروانے کیلئے ڈومیسٹک ٹی ٹوینٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کا بھی بھرپور طریقے سے آغاز کرنے جارہا ہے ۔ 

    کرکٹ بورڈ کے اس اقدام سے جہاں کھلاڑیوں کو اپنا غصہ میدان میں اتارنے کا موقع ملے گاتو وہیں بڑی ٹیموں سے نبردآزما ہونے کیلئے سازگار ماحول بھی میسرآئے گا۔

    بھارت ، آسٹریلیا اور انگلینڈ پر مشتمل بگ تھری گروپ نے ماضی میں بھی پاکستا ن کرکٹ کو کئی اہم مواقعوں پرشدید نقصان پہنچایا ہے مگر اس بار نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے تمام حدود پھلانگتے ہوئے پاکستان کو ان تینوں ٹیموں سےزیادہ بڑا دھچکادیا ہے۔

     اب صورتحال کا یہی تقاضہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی بات منواتے ہوئے ناصرف اپنی اہمیت کو ثابت کرے بلکہ آئی سی سی کو ان ٹیموں کیخلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کرے تاکہ آنے والے وقت میں ویسٹ انڈیز اورآسٹریلیا کا دورہ پاکستان ممکن ہوسکے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل قریب میں”جنٹلمین گیم”کہلایا جانے والا کھیل صرف مفادات کا کھیل قرار پائے گا۔

    ازقلم  

    وقاص امجد

    Twitter Account 

    @waqas_amjaad