Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مردہ کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں”  صرف ایک یاد دہانی … تحریر مدثر حسن ‎

    مردہ کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں” صرف ایک یاد دہانی … تحریر مدثر حسن ‎


    انااللہ واناالیہ راجعون !!!

    موت جسے ہر انسان چاہے وہ جس فرقے سے تعلق رکھتا ہے چاہے وہ جس مذہب سے تعلق رکھتا ہے جانتا ہے کہ وہ جتنا بھی اس دنیا میں جی لے جہاں بھی جائے لیکن اس نے موت کا ذائقہ تو لازمی چکھنا ہے۔ اور روح پرواز کرنے کا وقت بڑا ہیبت ناک ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ گنہگار کی روح جسم سے ایسے نکلتی ہے جیسے مخمل کا کپڑا جھاڑیوں پہ ڈال کر پھر زور سے کھینچا جائے جبکہ مومن کی موت گویا آٹے سے بال نکالنے کے مترادف ہے۔ وہ لمحہ جب روح جسم سے نکل رہی ہوتی ہے اس لمحے کو "عالم سقرات” کہتے ہیں جو بڑا ہی کربناک منظر ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو عالم شروع ہوتا ہے اسے "عالمِ برزخ” کہتے ہیں یعنی قبر۔

    سب سے پہلے اسکی روح پاؤں سے نکلنا شروع ہو جاتی ہے اور آخر میں سر سے نکلتی ہے اگرچہ دماغ کچھ لمحیں زندہ رہتا ہے۔ جب انسان مر جاتا ہے یا اسکی روح پرواز ہو جاتی ہے تو اسے یوں لگتا ہے وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اسکے ساتھ جو جو ہوتا اسے یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ خواب میں ہے۔ اسے نہلایا جاتا ہے کفن پہنایا جاتا ہے نماز جنازہ پڑھایا جاتا ہے اسے بس اتنا پتہ ہوتا ہے کہ جو سب کچھ ہو رہا ہے وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد عالم برزخ شروع ہو جاتا ہے اس کے اہل و عیال اس کے جسم خاکی کو قبر میں دفن کر کے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں تب دو فرشتے آتے ہیں اور ایک اسے کاندھے سے ہلائے گا تاکہ وہ اٹھ بیٹھے تو اس کا جو خواب تھا اب وہ اس سے بیدار ہو چکا ہوتا ہے اور سب سے پہلے وہ اپنے کفن کو ہاتھ لگا کر کہتا ہے کہ میرا لباس کہاں ہے؟ اور میں کہاں ہوں اس وقت تب اسے ایک فرشتہ بتاتا ہے کہ وہ مر چکا ہے اور اب وہ اپنی قبر میں بیٹھا ہے۔ وہ فرشتے جو اسکی قبر میں اتارے جاتے ہیں انہیں "منکر نکیر” کہتے ہیں۔۔ جب اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ مر چکا ہے تو تب وہ چیختا چلاتا ہے اور خدا کے حضور گڑگڑاتا ہے۔ کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما دے مجھے آپکی رحمت اور فضل کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ تیرے سوا میرا کوئی نہیں ہے میری مدد فرما۔
    اگر وہ مسلمان ہوگا ایمان والا ہوگا اور اس نے اچھے اعمال کیے ہونگے تو اسے بخش دیا جائے گا اور وہی قبر اس کیلیے باغِ بہشت بن جائے گی۔۔۔ اگر اس نے برے اعمال کیے ہونگے اور لوگوں کو ستایا ہوگا یا گناہ کبیرہ کرتا رہا ہوگا تو اسے سخت سزا دی جائے گی اور اس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور قیامت تک وہ اس سزا کی بھٹی میں جلتا رہے گا جب تک اللہ کا فضل نہیں آن پہنچتا۔۔۔
    یہ وہ عالم ہوتا ہے جب انسان کے پاس کچھ نہیں ہوتا سوائے سلامتی والے دل اور نیک اعمال کے۔ جو وہ دنیا میں کر کے آ چکا ہوتا ہے۔ ہاں البتہ صدقہ جاریہ جو وہ اپنی زندگی میں کرتا ہے اس کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے۔ صدقہ جاریہ جیسا کہ مسجد بنانا، نلکا لگانا، درخت لگانا وغیرہ۔۔ ہو سکتا ہے یہی صدقہ جاریہ اسکی بخشش کا ذریعہ بھی ہو۔
    اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں انسان پر۔ دنیا میں مرتے دم تک انسان کو مہلت ہوتی کہ وہ اپنے اعمال پہ نادم ہو کر خدا کے حضور توبہ کر لے لیکن جب موت آ جائے اس پر تب یہ دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اس لیے ابھی وقت ہے توبہ کر لی جائے۔
    اسلام میں بھائیوں اور بہنوں ، یہاں آپ کے پاس دو آپشن ہیں:
    1۔ یہ چھوٹا سا علم صرف یہاں پڑھا جائے اور کچھ نہ ہو۔
    2۔ اپنے خاندان کے لیے دعا کریں۔
    اس کے علاوہ حکم ہے کہ اہل و عیال میں سے جو فوت ہو جائے تو اس کیلیے مغفرت کی دعا کرتی رہنی چاہیے کہ اللہ کا کرم ہو جائے اور بندے کی بخشش ہو جائے۔
    اے اللہ ، میری جان مت لینا جب تک میں اپنی پوری طرح نہ ہوں اور تم سے ملنے کے لیے تیار نہ ہوں آمین،
    تحریر مدثر حسن


  • میڈیا کا کردار تحریر: ملک ضماد

    میڈیا کا کردار تحریر: ملک ضماد

    تو بات ہورہی تھی ہمارے میڈیا کی
    کل ہی زبیر عمر صاحب کی کچھ وڈیوز لیک ہوئیں جن پر ہمارا میڈیا ہمیں اخلاقیات پڑھا رہا تھا وہی لوگ جن کا خود اخلاقیات سے دور دور تک کوئی تعلق نہی زیادہ دور نہیں جاتے چند دن پہلے کے واقع کو ہی دیکھ لیتی ہیں جس نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کر کہ رکھ دیا
    تو بات ہوری تھی عائشہ اور ریمبو والے واقع کی زرا تفصیل میں جاتے ہیں۔۔ کیونکہ اب تو معاملہ کھلنے کے بعد دب بھی چکا ہے
    پہلے پہل تو محترمہ نے خود اپنے عاشقوں کو دعوت دی آنے کی لیکن یہاں سوال یہ کہ
    لڑکی نے جھنڈا انڈیا کا اٹھایا یا پاکستان کا سہی سلامت کیسے نکلی یہ ڈیبیٹ ہی نہیں مسلہ یہ ہے کہ ہم جب پندرہ اگست کو انڈیا کے یوم آزادی والے دن انکی ہار کی خوشیاں منارہے تھے اس سے ایک دن پہلے پاکستانی عوام پاکستان کا قانون اور شخصی ازادی جیسے حساس موضوغ عالمی دنیا سے لخ لعنت سمیٹ چکے تھے
    اگلہ سوال
    وہ منار پاکستان کیسے گئی اور کیا اتنے اہم دن کوئی بھی فیمیلز لے کر نہیں آیا تھا جیسے اس بات کو جانتا ہے کہ آج منٹو پارک اور اقبال کی آرام گاہ پر پاکستان کی کی عزت کا جنازہ نکالنا ہے
    کیوں کہ وڈیو میں دور دور تک کوئی اور عورت نظر نہیں آرہی
    اب پاکستانی سینٹی عوام سے گزارش ہے کہ زرا تہ تک جاکر سوچیں ٹھیک ہے معاملہ دل خراش ہے مگر اس سے ایک دن پہلے طالبان کابل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے اور اس تین چار دن پہلے خان سے ایک امریکی صحافی پاکستان میں اسلام کی وجہ سے عورتوں کی آزادی کو خطرہ سمجھ تھی جس کے جواب میں خان صاحب نے یورپئن کنٹریز میں ریپ کے اگلے پچھلے واقعات سنا کر پاکستان کو عورت کے لیے سیگ ملک کہا تھا

    اور معاملہ تب تک دبا رہا جب تک عزت ماآب اقرار الحسن سید اور جناب یاسر شامی نے انکا انٹر ویو نا کر لیا وہ پاکستان جہاں نمرہ علی کی بھونڈی وڈیو دو گھنٹے میں وائرل ہوجاتی ہے وہاں ایک سیکچوئل ہراسمینٹ کی وڈیو تین دن تک کیسے دبی رہی جب کہ وڈیو کئی لوگوں نے بنائی اوت یہ کیسے ممکن ہو کہ وہ سارے لوگ اس انتظار میں ہوں کہ کب طالبان عورت کے لیے برقع لازمی قرار دیتے ہیں

    پاکستانی میڈیا اگر پاکستان کے حق میں کوئی خبر دیکھ لے تو اس کو نشر کرنے کے لیے ان کو پہلے تو کافی پریشانی ہوتی ہے پھر اگر نشر کر بھی دیں تو سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں انڈین میڈیا اپنی گورنمنٹ کی جھوٹی خبر کو بھی ایسے سچ کر کے دیکھاتا ہے جیسے وہ سچ ہی ہو

    پاکستانی میڈیا کو اگر پاکستان کو بدنام کرنے یا پاکستان کا امیج خراب کرنے کے حوالے سے ہلکی سی خبر یا امکان بھی نظر آ جائے تو اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے بس پاکستان میں طوفان برپا ہونے والا ہے

    حکومت پاکستان اگر کوئی پالیسی بنانے کا سوچتی ہے تو ہمارا میڈیا اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ میڈیا کا احتساب نا ہو سکے بلکہ میڈیا والے اپنی مرضی سے سب کچھ کر سکیں

    اگر کوئی میڈیا سیکشن حقیقت عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتا یے تو باقی میڈیا مالکان اس کے خلاف کھڑے کو جاتے ہیں اور اس کو کام کرنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں

  • کپتان کی کامیاب سفارتکاری تحریر۔محمد نسیم

    کپتان کی کامیاب سفارتکاری تحریر۔محمد نسیم

    تین روز قبل اقوام متحده کی جنرل اسمبلی میں بھارت اور پاکستانی وزیراعظم کے خطاب ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ورچول آن لائن سے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی کشمیر اور افغانستان کے مُدے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا اور اقوام عالم کو کشمیر،افغانستان میں ابھرتے ہوئے انسانی المیوں سے آگاه کیا
    قارئین چند روز قبل ہی کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کا انتقال ہوا ہر آزادی کا متوالا مغموم تھا لیکن سونے پہ سہاگہ یہ کہ بھارتی حکام سید علی گیلانی کی میت اہل خانہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا بھارت کا یہ انکار نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آزادی کی ٹحریک کو کچلنے کی ایک ناکام کوشش ہے جو کہ مستقبل قریب میں آزادی کی تحریک کو نئی جِلا بخشے گی
    افغانستان کے مسئلےپر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اقوام عالم کو بتایا کہ افغانستان میں جنگ چھیڑنے کا فیصلہ امریکہ کا تھا اور ادھر سے ناکام نکلنے کا فیصلہ بذات خود امریکہ نے کیا لیکن اس سارے معاملے میں پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بننے کی غلطی کی اور اس غلطی کا نقصان بھی صرف اور صرف پاکستان کو ہوا پاکستان نے اس جنگ میں نا صرف 80 ہزار قیمتی اور بے قصور پاکستانی جانیں گنوائیں بلکہ کئی ارب ڈالرز کی معیشت کا بھی نقصان کیا جس کی بھرپائی آج تک ممکن نہ ہوسکی اس سارے معاملے میں غم تو یہ ہے کہ بجائے امریکہ ہماری قربانیوں اور بے لوث دوستی کو سراہتا اس نے اپنی ناکام پالیسیوں پر پاکستان ہی کی سرزنش کردے اور ناکامی کا قصور وار پاکستان کو ٹھہرانے لگا
    قارئین جیسا کہ اس دور میں میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اس سارے پروپیگینڈے میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے جو پاکستان کے خلاف امریکہ کو ہر وقت اکساتا رہتا ہے اور ISI کا جو ڈر بھارت میں بیٹھ چکا ہے اسے ہر وقت کیش کرتا رہتا ہے بھارت نے نا صرف امریکہ کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان میں امریکہ سے پاکستان ڈبل گیم کررہا ہے بلکہ اس بات پر بھی اماده کرلیا کہ تمام دھشت گردی اور افغانستان میں امریکی ہار کا اصل ذمہ دار بھی پاکستان ہے
    دریں اثنا اقوام متحده کے اجلاس کے بعد مودی کمیلاہیرس سے ملاقات کی اور ملاقات کے بعد مودی نے چالیس ٹویٹ کئیے لیکن کمیلاہیرس کی طرف سے ایک ٹویٹ بھی نہیں کیا گیا یہ ٹویٹ بھارتی پروپگینڈےطکا حصہ تھیں جس میں بھارتی مفادات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اس ملاقات کے بعد مودی نے جوبائیڈن سے بھی ملاقات کی ۔
    یہاں ایک بات انتہائی قابل غور ہے کہ مودی نے اقوام متحده ،کمیلاہیرس اور جوبائیڈن سے جو بھی ملاقاتیں کیں ان سب کے دوران کشمیر،سکھ اور دلت برادری سراپا احتجاج رہی اور بھارت اور مودی کے خلاف شدید نعرے بازی ہوتی رہی لیکن مودی نے ان سب چیزوں کی پرواه کئیے بغیر اور ان برادریوں کی دادا رسی کے بغیر اپنا مزموم ایجنڈا جاری رکھا اور بائیڈن کے سامنے اپنی تمام خواہشات رکھ دیں جن کی تکمیل کے لئیے یہ دوره امریکہ کیا تھا
    مودی نے جوبائیڈن سے تین چیزوں پر بات کی جن میں سے سب سے پہلی بھارت کی یہ خواہش تھی کہ اسے Aukus اتحاد میں شامل کیا جائے قارئین یاد رہے کہ یہ اتحاد بڑھتی بین الااقوامی فضا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد اسٹریلیا،برطانیہ اور امریکہ کے مفادات کا تحفظ اور ان ممالک کی دنیا پر حکمرانی کوقائم رکھنےچکے لئیےبنایاگیا
    اس اتحا میں شامل ہوکر بھارت کامقصد تو بڑی عالمی طاقت بننے کا تھا لیکن صد افسوس بھارت کا یہ ادھورا خواب ادھورا ہی رہا مودی نے افغانستان میں امریکی مدد اور کشمیر میں ہونے والے مظالم پر امریکی خاموشی کا مطالبہ کیا تو امریکی صدر نے مودی جی کو کھری کھری سنادیں مودی جی جو وزیراعظم کی حثیت سے اپنے بڑے مطالبات منوانے چلا تھا امریکہ کی طرف سے سرزنش اور ڈومور کے مطالبے کے ساتھ واپس لوٹے اور اپنی قابلیت جس پر وہ بھارت میں جنتا کو بھرپوربےوقوف بناتے ہیں اسکا بھانڈاپھٹوا کر آگئے
    امریکی صدر جوبائیڈن نے ناصرف مودی جی کو کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف وزیاں یاد کروائی بلکہ پورے بھارت میں اقلیتوں میں ہونے والے مظالم سے روکا جوبائیڈن نے مودی کو نئے بھارتی شہریت بل پر بھی خوب ڈانٹ پلائی اور ان اقدامات سے ہونے والی دشواریوں سے لوگوں کو محفوظ رکھنے پرزوردیا
    اور ہندتوا کو بے لگام گھوڑوں کو لگام دینے کےلئیےصدربائیڈن نے مودی جی کوانہی کے آزادی دہندہ موہنداس کرم چندگاندھی جی کےامن پسند فرمان یاد کروائےاور اس امن پسندی کے سبق کے ساتھ مودی جی کو چلتا کیا یاد رہے گاندھی جی اپنے اس فلسفے کوعدم تشدد،احترام اور برداشت کا فلسفہ کہتے تھے
    قارئین یوں مودی جی جنہوں نے UN کے خالی میدان کو جیتنے کے لئیے اتنا پیسہ بہایا وہاں جاکر بھی اپنے مقاصد حاصل نہ کرپائے اور دوسری طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بغیر امریکہ جائےاور مودی کے لئیے میدان خالی چھوڑ کر بھی سفارتی جنگ جیت لی اور بھارت سمیت پوری دنیا پر واضح کردیا کہ پاکستان کے بہادر لیڈر اور عوام بھارت سے کئی گنا قابل اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنے اور اپنے اصولی موقف کے دفاع کی بھرپور قابلیت رکھتے ہیں
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج پائندہ باد
    @Naseem_Khera

  • یوٹیوب کا ویکسین مخالف مواد کو بلاک کرنے کا اعلان

    یوٹیوب کا ویکسین مخالف مواد کو بلاک کرنے کا اعلان

    فیس بک اور ٹوئٹر کے بعد یوٹیوب نے ویکسین مخالف مواد کو پلیٹ فارم سے بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت عالمی ادارہ صحت یا ممالک میں منظوری حاصل کرنے والی ہر قسم کی ویکسینز کے اثرات کے خلاف گمراہ کن مواد پر پابندی عائد کی جائے گی۔

    ویکسین کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے استعمال سے دائمی مضر اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے یا ویکسین سے بیماری کا پھیلاؤ کم نہیں ہوتا یا تحفظ نہیں ملتا وغیرہ پر کمپنی کی جانب سے ایکشن لیا جائے گا۔

    کورونا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات :فیس بک نے وینزویلا کے صدر کا آفیشل پیج…

    تاہم صارفین کی جانب سے ویکسین پالیسیوں، نئے ویکسین ٹرائلز اور ماضی میں ویکسینز کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے مواد کو پوسٹ کرنے کی اجازت ہوگی۔

    صارفین ویکسینز پر سائنسی بحث اور اپنے ذاتی تجربے کو بیان کرسکیں گے، مگر ویکسین کے حوالے سے گمراہ کن باتوں کی اجازت نہیں ہوگی۔

    یوٹیوب کے علاوہ فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی کورونا کی بیماری اور ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن مواد پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس سے پہلے اگست میں یوٹیوب نے کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے والی 10 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹا دی تھیں۔

    فیس بک کا جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    یوٹیوب انتظامیہ کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت، امریکی سینٹر فارڈیزیز کنٹرول سمیت دیگر ماہرین صحت کی رائے کو دیکھتے ہوئے ویڈیوز کے مواد کو چیک کیا گیا ویڈیوز میں کورونا کے بارے میں معلومات غلط، نقصان دہ اور غیر واضح تھیں۔ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم پر ہر منٹ میں 500 گھنٹے سے زیادہ مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔

    یوٹیوب کے گلوبل ترسٹ اینڈ سیفٹی نائب صدر میٹ ہالپرین نے بتایا کہ جامع پالیسیوں کو تشکیل دینے میں وقت لگتا ہے، ہم ایسی پالیسی لانچ کرنا چاہتے ہیں جو جامع، تسلسل کے ساتھ نفاذ کے لیے آسان اور چیلنجز کا سامنا کرسکے۔یوٹیوب کے ساتھ ساتھ فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی کووڈ 19 کی بیماری اور ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن مواد پر پابندی عائد ہے۔

    یوٹیوب نے اگست 2021ء میں بتایا تھا کہ اس نے اپنے پلیٹ فارم پر کووڈ 19 سے متعلق بہت زیادہ خطرناک گمراہ کن مواد پر مبنی 10 لاکھ ویڈیوز کو ڈیلیٹ کردیا ہے۔یوٹیوب کے چیف پراڈکٹ آفیسر نیل موہن نے یہ اعدادوشمار ایک بلاگ پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ فروری 2020 سے اب تک 10 لاکھ ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بُک نے جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا تھا فیس بُک نے اپنی پریس ریلیز میں کہا تھا کہ جو سوشل میڈیا اکاؤنٹس باقاعدگی سے غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلاتے ہیں، ان کی پوسٹس کو ہٹانے کے بجائے ان پر لیبل لگا کر صارفین کو خبردار کیا جائے گا۔

    فیس بک نے نفرت اور نسل کی بنا پر نازیبا جملوں کو روکنے کا ایک اہم ٹول پیش کردیا

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں    شیخ رشید

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں شیخ رشید

    وزیر داخلہ شیخ رشیداحمد نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد وومن چیمبرز آف کامرس کی تقریب حلف برداری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ 20اکتوبر سے پہلے خواتین بازار کا آغاز کردیا جائے گا، وزیر داخلہ نے کہا کہ سلمان شہباز کو پاکستان آنے کی اجازت ملی ہے تو اپنے تایا کو بھی ساتھ لے آئے،(ن) لیگ تقسیم کا شکار ہے، ’’ن‘‘ سے ’’ش‘‘ نکلے گی کہتا تھا، اب کہتا ہوں ’م‘ بھی نکلے گی۔

    شیخ رشید نے کہا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کیلئے ان کی فوج سے زیادہ سکیورٹی فورس تعینات کی گئی، نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر بھارت نے غلط خبریں پھیلائیں، ہمارے لوگ کرکٹ کو پسند کرتے ہیں مگر نیوزی لینڈ ٹیم کے جانے سے ہم مرے نہیں جارہے۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ،پی سی بی کو لاکھوں کا بل آ گیا

    وزیر داخلہ نے مہنگائی بڑھنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ہے حکومت چار بنیادی چیزیں اور چار دوائیاں انسولین، بلڈ پریشر، وغیرہ سستی کرنے جارہی ہے۔

    اس سے قبل اسلام آباد ویمن چیمبر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ راولپنڈی میں دو یونیورسٹی بنائی اب تیسری بھی بناؤں گا-

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کے استعفے کے بارے میں بورڈ آف گورنرز فیصلہ کرے گا

    اس حوالے سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا تھا کہ سیریز نہ ہونے پر سب کو کتنا افسوس ہے اس بات کا مکمل اندازہ ہے لیکن کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے نیوزی لینڈ کرکٹ کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہوں ہمارے لیے کھلاڑیوں کا تحفظ سب سے اہم ہے ساتھ ہی ،وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا-

    اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ

  • روس :گوگل پر ڈیڑھ کروڑ کا جرمانہ عائد

    روس :گوگل پر ڈیڑھ کروڑ کا جرمانہ عائد

    ماسکو: روسی عدالت نے سرچ انجن گوگل پر 90 ہزار ڈالرز کا جرمانہ عائد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماسکو کی مقامی عدالت نے سرچ انجن گوگل کو غیر قانونی مواد ڈیلیٹ نہ کرنے جرمانہ عائد کیا جو تقریبا ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے بنتا ہے۔

    گوگل کی جانب سے جرمانہ عائد کیے جانے کے حوالے سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

    روس نے یوٹیوب کی جانب سے روس کے جرمن لینگویج چینلز کو ڈیلیٹ کیے جانے پر یوٹیوب پر پابندی لگانے کی دھمکی دی تھی۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ ماسکو کی ایک عدالت نے ممنوعہ مواد ڈیلیٹ نہ کرنے پر فیس بک پر 21 ملین روبلز مالیت کے 5 جرمانے عائد کیے تھے جو 2 لاکھ 88 ہزار امریکی ڈالر بنتے ہیں جبکہ اسی عدالت نے ٹوئٹر پر بھی 5 ملین روبلز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    جنوبی کوریا میں گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد

    اس سے قبل جنوبی کوریا میں بھی گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی کی جانب سے جرمانے کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ گوگل نے آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کی مارکیٹ میں اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ہے۔

    یہ جرمانہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے خلاف ریگولیٹری اداروں کے اقدامات میں نیا اضافہ ہے جنوبی کوریا نے ایک ایسا نیا قانون متعارف کروایا تھا جس کا مقصد ایپس اور گیموں کی دنیا میں اس کی اجارہ داری کو کم کرنا ہے۔

    ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

    جنوبی کوریا کی جانب سے گوگل اور ایپل جیسے بڑے ایپ سٹور آپریٹرز پر سافٹ ویئر ڈویلپرز کو اپنے ادائیگی کے نظام استعمال کرنے پر مجبور کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گوگل نے "اینٹی فریگمنٹشن معاہدے” کے ذریعے مارکیٹ کے مقابلے کے رجحان میں رکاوٹ ڈالی ہے جو سمارٹ فون بنانے والوں کو اینڈرائیڈ کے ترمیم شدہ ورژن انسٹال کرنے سے روکتا ہے، جسے "اینڈرائیڈ فورکس” کہا جاتا ہے-

    اینٹی ٹرسٹ واچ ڈاگ نے گوگل کو مقامی کرنسی میں 207.4 ارب (176.8 ملین ڈالر) جرمانہ کیا تھا اور ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی کو اصلاحی اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائنسدانوں کا دعویٰ

  • دریائے فرات اور سونےکا خزانہ  تحریر محمد آصف شفیق

    نبی مہربان ﷺ نے دریائے فرات  جوکہ کم و بیش 2800 کلومیٹر طویل ہے   جوکہ ترکی، شام، اردن اور عراق  سے گزرتا ہے  جس کے بارے میں نبی مہربان ﷺ نے آنے والے وقت میں  پیش آنے والے واقعات   کا بتایا اور اس  دور میں اگر ہم موجود ہوں تو ہمارا ردعمل کیا ہونا چائیے

                    

     ” اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” جلدی وہ زمانہ آنے والا ہے جب دریائے فرات سونے کا خزانہ برآمد کرے گا ( یعنی اس کا پانی خشک ہو جائے گا اور اس کے نیچے سے سونے کا خزانہ برآمد ہوگا ) پس جو شخص اس وقت وہاں موجود ہو اس کو چاہئے کہ اس خزانہ میں کچھ نہ لے ۔ ” (بخاری ومسلم )( مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 7) 

     

    تشریح

     اس خزانہ میں سے کچھ لینے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ اس کی وجہ سے تنازعہ اور قتل وقتال کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت کی گئی ہے ! اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس خزانہ میں سے کچھ بھی لینا اس لئے ممنوع ہے کہ خاص طور پر اس خزانہ میں سے کچھ حاصل کرنا آفات اور بلاؤں کے اثر کرنے کا موجب ہوگا اور ایک طرح سے یہ بات قدرت الہٰی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ! نیز بعض حضرات نے یہ لکھا کہ اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ وہ خزانہ مغضوب اور مکروہ مال کے حکم میں ہوگا جیسا کہ قارون کا خزانہ ‘ لہٰذا اس خزانہ سے فائدہ حاصل کرنا حرام ہوگا ۔

             

     ” اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ دریائے فرات سونے کا پہاڑ برآمد نہ کرے گا !لوگ اس کی وجہ سے ( یعنی اس دولت کو حاصل کرنے اور اپنے قبضہ میں لینے کے لئے ) جنگ اور قتل وقتال کریں گے، پس ان لوگوں میں ننانوے فیصد مارے جائیں گے، اور ہر شخص یہ کہے گا کہ شاید میں ( زندہ بچ جاؤں گا اور ) مقصد میں کامیاب ہو جاؤں گا، یعنی ہر شخص اس توقع پر لڑے گا کہ شاید میں ہی کامیابی حاصل کرلوں اور اس دولت پر قبضہ جما لوں چنانچہ ننانوے فیصد لوگ اس توقع میں اپنی جان گنوا بیٹھیں گے ۔” ( مسلم )(مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 8)    

     

    تشریح

     بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی بات کو دو مختلف موقوں پر مختلف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ، لہٰذا دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ نکلے گا کہ دریائے فرات کے نیچے سے سونے کا ایک عظیم خزانہ برآمد ہوگا جس کی مقدار پہاڑ کے برابر ہوگی ۔ تا ہم یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں حدیث میں پہاڑ کے برابر سونے کہ جس کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ اس خزانہ کے علاوہ ہوگا جس کا ذکر پہلی جدیث میں کیا گیا ہے اور ” سونے کے پہاڑ ” سے مراد سونے کی کان ہے ۔

     

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب دریائے فرات سونے کا خزانہ نکالے گا، چنانچہ جس شخص کو ملے وہ اس سے کچھ نہ لے، عقبہ بیان کرتے ہیں ہم سے عبداللہ نے بواسطہ ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں مگر یہ کہ انہوں نے کہا سونے کا پہاڑ نکالے گا۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2033)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑے نکل آئے جس پر لوگوں کا قتل وقتال ہوگا اور ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے اور ان میں سے ہر آدمی کہے گا شاید میں ہی وہ ہوں جسے نجات حاصل ہوگی اور یہ خزانہ میرے قبضہ میں رہ جائے گا۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2771 )

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2773)

    عبدالحمید بن جعفر ابی سلیمان بن یسار حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن نوفل سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے ساتھ کھڑا ہوا تھا تو انہوں نے کہا ہمیشہ لوگوں کی گردنیں دنیا کے طلب کرنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتی رہیں گی میں نے کہا جی ہاں انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف روانہ ہوں گے پس جو لوگ اس کے پاس ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم نے لوگوں کو چھوڑ دیا تو وہ اس سے سارے کا سارا(سونا) لے جائیں گے پھر وہ اس پر قتل و قتال کریں گے پس ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے ابوکامل نے اس حدیث کے بارے میں کہا کہ میں اور ابی بن کعب حسان کے قلعہ کے سایہ میں کھڑے ہوئے تھے۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2775)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات ایک سونے کے خزانے کو منکشف کرے گا۔ تم میں سے جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔(جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 472)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ دریائے فرات میں سے سونے کا پہاڑ نہ نکلے اور لوگ اس پر باہم کشت وخون کریں گے چنانچہ ہر دس میں سے نو مارے جائیں گے۔(سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 926)

     

             

     ” اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ” جلدی وہ زمانہ آنے والا ہے جب دریائے فرات سونے کا خزانہ برآمد کرے گا ( یعنی اس کا پانی خشک ہو جائے گا اور اس کے نیچے سے سونے کا خزانہ برآمد ہوگا ) پس جو شخص اس وقت وہاں موجود ہو اس کو چاہئے کہ اس خزانہ میں کچھ نہ لے ۔ ” (بخاری ومسلم )(مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 7)     

     

    تشریح

     اس خزانہ میں سے کچھ لینے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ اس کی وجہ سے تنازعہ اور قتل وقتال کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت کی گئی ہے ! اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس خزانہ میں سے کچھ بھی لینا اس لئے ممنوع ہے کہ خاص طور پر اس خزانہ میں سے کچھ حاصل کرنا آفات اور بلاؤں کے اثر کرنے کا موجب ہوگا اور ایک طرح سے یہ بات قدرت الہٰی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ! نیز بعض حضرات نے یہ لکھا کہ اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ وہ خزانہ مغضوب اور مکروہ مال کے حکم میں ہوگا جیسا کہ قارون کا خزانہ ‘ لہٰذا اس خزانہ سے فائدہ حاصل کرنا حرام ہوگا ۔

    اللہ رب العالمین  سب کو اپنے حفظ و امان میں  رکھیں   بنی مہربانﷺ کے فرامین پر عمل پیرا ہونے  والا بنائے

    آمین یا رب العالمین 

    @mmasief

     

  • کیا عالمی تنازعات کے حل کے لئے اقوام متحدہ کا کردار اطمینان بخش ہے؟ تحریر: ثاقب معسود

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دنیا کا سب سے اہم اور بہت بڑا فورم ہے جس کا اجلاس ہر سال ستمبر میں منعقدہوتا ہے جسے عالمی سطح پر بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ اس اجلاس میں دنیا کے تقریبا تمام ممالک شامل ہوتے ہیں اور اس اجلاس میں تمام ممالک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے مسائل کو اجاگر کریں جو ان کے لیے بہت اہم ہیں اور بین الاقوامی برادری کو ان کے بارے میں بات اور غور و غوض کرنا چاہیے۔ اس اجلاس میں بین الاقوامی تنازعات پر بھی کھل کر بات کی جاتی ہے اور حریف ممالک ایک دوسرے کے خلاف ہر طرح کے ثبوت اور شواہد وغیرہ بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنا مضبوط مئوقف دنیا کے سامنے لا سکیں۔ پاکستان ہر سال اس موقع پرمسلم امہ کے علاوہ اہم اور سنجیدہ اورحل طلب مسائل پر بات کرتا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کراسکے۔ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اپنا خطاب کرونا کی تباہ کاریوں سے شروع کیا کہ دنیا کو کووڈ19 کے ساتھ ساتھ کس طرح معاشی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درپیش خطرات جیسے چیلنجز کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ خدا کے فضل سے پاکستان کورونا کی وباء پرقابو میں رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور باہمی تعاون کی منصوبہ بندی کی بدولت ہمیں انسانی زندگیوں اور معاش کو چلائے رکھنے میں مدد ملی اور ہماری معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہا۔وزیراعظم نے یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی کو دولت کی غیرقانونی ترسیل کو روکنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی بناناہوگی۔ عمران خان نے باور کرایا کہ اسلامو فوبیاایک ایسی خوفناک شکل اختیارکرچکاہے جس کی روک تھام کیلئے ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔نائن الیون کے بعد سے کچھ امریکی حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا رہا ہے جس کے سبب مغرب میں انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ مسلمانوں کومسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت اسلامو فوبیا کی سب سے خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ بھارت کی فاشسٹ آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت کی جانب سے پھیلائے گئے نفرت انگیز ہندوتوا کے نظریات نے بھارت میں بسنے والے 20 کروڑ مسلمانوں کیخلاف خوف و تشدد کی ایک لہر پیدا کر رکھی ہے۔ این آر سی کے امتیازی قوانین کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ بھارت نے بدقسمتی سے مسلمانوں کے قلع قمع کی سوچ پر مبنی ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جسے وہ جموں و کشمیر مسئلے کا حتمی حل قرار دیتا ہے جبکہ یہ راستہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا عکاس ہے۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے عالمی قوتوں کو بھارت کا اصل مکروہ چہرہ دکھاتے ہوئے کہاکہ بھارت نے پانچ اگست 2019 ء سے مسلسل کرفیو اور غیرقانونی اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ اس نے 13 ہزار کشمیریوں کو اغوا کیا ہوا ہے جس میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ سینکڑوں کشمیریوں کو جعلی پولیس مقابلوں میںشہید کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح بھارت نے کشمیریوں کو اجتماعی سزائیں دینے کی روش اختیار کر رکھی ہے جس میں پورے پورے گائوں اور مضافاتی علاقے تباہ کر دیئے جاتے ہیں۔ اس جبر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ اسے مسلم اقلیتی علاقے میں بدل دیا جائے۔ اور مقبوضہ جموں کشمیر میں معصوم اورنہتے لوگوں پر پیلٹ گن کا سفاکانہ استعمال، ریپ کوایک جنگی
    ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے ،عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دیگر ہمسایوں کی طرح بھارت کے ساتھ بھی امن سے رہنے کا خواہش مند ہے لیکن جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا دارومدار جموں و کشمیر کے مسئلہ کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونے میں ہے۔ امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا یواین قراردادوں کے مطابق حل ضروری ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی کی فاشسٹ حکومت نے کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے سازگار ماحول بنائے وزیراعظم نے اس کیلئے عالمی قیادتوں سے بھارت کو مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے پر مجبور کرنے کا تقاضا کیا ہے۔ نمبرایک بھارت پانچ اگست 2019 کو کئے گئے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات منسوخ کرے نمبر2 کشمیر کے عوام کیخلاف ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکے نمبر3 مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب میں کی جانیوالی تبدیلیاں واپس لے۔ اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک اور جنگ کو روکا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے موسمیاتی تبدیلیوںاور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق دنیاکی توجہ مبذول کرانے کی بھی کوشش کی۔وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں اپنے طویل خطاب کے دوران یقینا ایک مدبر لیڈر کی حیثیت سے اقوام عالم کو درپیش تمام مسائل کی نشاندہی بھی کی اور انکے ممکنہ حل کے راستے بھی دکھائے۔ بلاشبہ آج الحادی قوتوں کا اسلامو فوبیا سے متعلق پیدا کیا گیا تلخ ماحول بھی علاقائی اور عالمی امن تاراج کرنے پر منتج ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم نے مرض کے اصل روٹ کی بھی نشاندہی کی جو بھارت سے نکل کر دنیا میں پھیل رہا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گردی کا موردالزام ٹھہراتے ہوئے انکے قتل عام کی صورت میں مسلم کشی کی نوبت تک پہنچ چکاہے۔ بھارت کا اصل ایجنڈہندوتو اکے ذریعے اکھنڈ بھارت کی صورت میں اسکے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کا ہے جس کے تحت ہندو سماج برصغیر میں مسلم حکمرانوں کے ہاتھوں اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینا چاہتا ہے چنانچہ انتہا پسند ہندو حکمرانوں نے سیکولر بھارت کو ہندو انتہا پسند ریاست میں تبدیل کرکے پورے خطے میں ہندو جنونیت کی آگ بھڑکا دی ہے جو بالآخر پوری دنیا کی تباہی کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر پر قیام پاکستان کے وقت سے ہی بھارت کا غیرقانونی تسلط جمانا اسکے مسلم دشمن توسیع پسندانہ عزائم ہی کا تسلسل تھا چنانچہ وہ اپنے ہی پیدا کردہ اس مسئلہ کے حل کیلئے یواین سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بھی پائوں تلے روندتا رہا اور عالمی قیادتوں و عالمی اداروں کے ہر دبائو اور ثالثی کی پیشکشوں کو بھی رعونت کے ساتھ ٹھکراتا رہا جبکہ اس نے پاکستان بھارت دوطرفہ مذاکرات کے حوالے سے 1972 میں طے پانے والے شملہ معاہدہ کو بھی دوطرفہ مذاکرات کی ہر میزپررعونت کے ساتھ الٹا کر غیرموثر اور ناکام بنایا اور کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی اختیار کرکے بھارتی تسلط قبول نہ کرنے والے کشمیریوں پر ظلم وتشدد کی نئی مثالیں قائم کردیں۔ بھارت کی مودی سرکار نے تو مسلم دشمنی کی ساری حدیں عبور کرلی ہیں اور ہندوتوا کے ایجنڈے کی بنیاد پر مسلمانوں کے علاوہ بھارت کی دوسری اقلیتوں بشمول سکھوں کی زندگیاں بھی اجیرن بنا دی ہیں۔ مقبوضہ وادی بشمول لداخ کو جبراََ بھارت میں ضم کرنے کیلئے مودی سرکار نے دو سال قبل پانچ اگست کو جو یکطرفہ اقدامات اٹھائے جن کے بعد اس نے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کرکے ان پر باہر کی دنیا کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں وہ دنیا بھر میں ظلم و جبر کی نئی مثال ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ مودی سرکار نے کورونا کی آڑ میں بھی مسلمانوں پر ظلم و جبر کے راستے نکالے اور انہیں کورونا کے پھیلائو کا موردِالزام ٹھہرایا جس
    پر مودی سرکار کیخلاف دنیا بھر میں نفرت و حقارت کی لہر اٹھی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ جنرل اسمبلی میں خطاب کیلئے واشنگٹن آنیوالے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو وہاں کشمیریوں اور سکھوں کے سخت احتجاج کا ہی سامنا نہیں کرنا پڑا امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی خود انکے استقبال سے گریز کیا جبکہ انکے خطاب کے موقع پر حریت کانفرنس کی اپیل پر کشمیریوں نے مقبوضہ وادی اور بھارت میں مکمل ہڑتال کی۔ وزیراعظم عمران خان نے اسی تناظر میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ہندوتوا کا ایجنڈا رکھنے والے جنونی بھارت کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی اور عالمی قوتوںسے پاکستان اور بھارت کے مابین ایک نئی جنگ روکنے کے اقدامات اٹھانے کا تقاضا کیا جن میں اصل قدم مسئلہ کشمیر کے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیلئے اٹھانا مقصود ہے۔ بلاشبہ علاقائی اور عالمی امن مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے جس کی جانب وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شریک عالمی قیادتوں کو متوجہ کیا ہے۔ اس تناظر میں جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس روایتی اجلاسوں کی طرح محض نشستند گفتند خوردن و برخاستند پر ہی منتج نہیں ہونا چاہیے بلکہ اجلاس میں اقوام عالم کو درپیش تمام مسائل بالخصوص اسلامو فوبیا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس لائحہ عمل طے کرناہوگا۔ورنہ ایسی اقوام متحدہ کی کوئی ضرورت نہیں عیسائیوں کیلئے مشرقی تیموراورجنوبی سوڈان میں توفوری حرکت میں آجاتی ہے مگرمسلمانوں کے دیرینہ مسائل ،کشمیر،فلسطین اورسائپرس (قبرص)پچھلے سترسالوں سے حل طلب ہیں ،مسلمان ممالک عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ یواین اوصرف غیرمسلم کے مفادکے تحفظ کیلئے کام کرتی ہے جبکہ مسلم امہ کے مسائل سے ہمیشہ طوطاچشمی اختیارکئے رکھی ہے۔اب بھی اگریواین اومسلمان ممالک کے دیرینہ حل طلب مسائل پرآنکھیں بندرکھتی ہے توپھرایسی اقوام متحدہ کی مسلمانوں کوکوئی ضرورت نہیں ہے اورمسلمان ملکوں مغربی استعمارکے تابع یواین اوکوخیربادکہہ دیناچاہئے۔

    @isaqibmasood

  • چکوال میں ابھرتی پاکستان تحریک انصاف تحریر ۔۔ محمد نثار ٹمن

    چکوال میں ابھرتی پاکستان تحریک انصاف تحریر ۔۔ محمد نثار ٹمن

    ویبسٹر کی ڈکشنری کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ سے مراد ’’رہنمائی کرنے کی اہلیت‘‘ ہے۔ جبکہ میرین کورز (Marine Corps) کی تعریف کے مطابق لیڈرشپ ذہانت، انسانی تفہیم اور اخلاقی کردار کی ان صلاحیتوں کا مرکب ہے جو ایک فردِ واحد کو افراد کے ایک گروہ کو کامیابی سے متاثر اور کنٹرول کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

    لیڈر یا قائد سے مراد ایک ایساشخص ہوتا ہے جب اسے کوئی ذمہ داری یا عہدہ عطا کیا جائے تووہ اسے اپنے منصب کے شایان شان انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ازل سے لیکر موجودہ دور تک قیادت کوئی آسان ا ور معمولی کام نہیں ہے کہ جس کی انجام دہی کی ہر کس و ناکس سے توقع کی جائے۔لیڈروں کو ہردم اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہوتا رہتا ہے ۔ ان چیلنجز سے عہدہ براں ہوکر ہی لیڈرز اعتماد ،استحکام اور قبولیت کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔گوناں گوں علاقائی مسائل اور درپیش چیلنجز کے باعث قیادت کی باگ ڈور ہمیشہ اہل افراد کے ہاتھوں میں ہونا بے حد ضروری ہے۔ معاشرے کو درپیش تمام مسائل کا حل ایک فرد واحد سے ہرگز ممکن نہیں ہوتا ہے بلکہ اسکے آپ کے ساتھ موجود ٹیم میں اہلیت و قابلیت کا ہونا بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ اکیلے انسان کاقیادت کی ذمہ داریوں سے عہدہ براں تقریبا ناممکنات میں شامل ہے۔ لیڈر کا کام اپنی اقتداء کرنے والوں کو ان مسائل کے حل کرنے کے لئے تحریک فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یاد رکھئے کہ کوئی بھی ماں کے پیٹ سے لیڈر بن کر نہیں آتا، سب اپنے ہاتھوں سے اپنی قائدانہ صلاحیت کو تعمیر کرتے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھئے کہ یہ اصول صرف سیاسی لیڈروں پر لاگو نہیں ہوتے، بلکہ ہر طرح کے لیڈر کے لئے ان کی افادیت یکساں ہے۔

    ضلع چکوال میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ایم این اے محترمہ فوزیہ بہرام اور انکی پوری ٹیم کو بھی ایک ایسی ہی قیادت سپرد کی گئی ہے۔ جس کےلیے مشکلات بھی ہیں اور چیلیجز بھی ہیں، آستیں کے سانپ بھی ہیں اور مخلص دوست بھی ہیں۔ قیادت کےلیے نہایت ضروری ہے قیادت کے اصولوں کو سمجھنا اور انکو ایپلیمنٹ کروانا، اور ایم این اے فوزیہ بہرام کے اندر یہخوبی شاید اسلیے بھی دوسروں سے نمایاں ہے کیونکہ انہوں نے 1991 میں Eisenhower Fellowship کا ایوارڈ بھی لے رکھا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ اعزاز کی بات یہ ہے کہ 1953 میں امریکہ میں President Dwight D. Eisenhower کی سربراہی میں اس ادارے کا قیام ہوا اور آج تک صرف اور صرف 2000 افراد کو یہ فیلوشپ ایوارڈ دیا گیا جن میں ایم این اے فوزیہ بہرام کا نام بھی شامل ہے۔ اس ادارے کا مقصد کسی بھی انسان کو بطور سپاہی ، سیاستدان ، اور عالمی رہنماء انسانیت کی خدمت اور بھلائی کےلیے تیار کرنا ہے۔ یہ تنظیم جدید اور قابل سیاسیی اور باقی شعبہ زندگی کے رہنماؤں کی نشاندہی کرتی ہے ، انکو بااختیار بنانے میں مدد اور انکو آپس میں جوڑتی ہے، آپ اسکی مزید تفصیلات گوگل پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔
    فوزیہ بہرام نے 2015 میں پاکستان تحریک انصاف کو جوائن کیا اور اسکی وجہ ملک میں ایک تبدیلی اور فرسودہ سیاسیی نظام کا خاتمہ کرنا تھا، جو پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا ویژن ہے۔سیاسیی لیڈی ہونے کے ساتھ ساتھ فوزیہ بہرام، ہیلتھ، لوکل گورنمنٹ اور رورل ڈویلپمنٹ کی ممبر بھی ہیں، اسکے علاوہ فوزیہ بہرام کو بزنس لیڈی، ماہر آرائیش خانہ اور ماہر زراعت بھی کہا جاتا ہے۔ اگر تعلیم کی بات کی جائے تو ایم این اے فوزیہ بہرام نے Poli Glot School London سے 1978 میںGeneral Hotel Administration اور Sale Management میں ڈپلومہ بھی کیا ہوا ہے، جبکہ اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان سے ڈبل گریجویشن بھی کر رکھی ہے۔
    اگر فوزیہ بہرام کے فیملی بیک گراونڈ کی بات کی جائے تو انکی دادی جان جنکا نام سونینا تھا، وہ افریقہ کے شاہی خاندان سے ہونے کے ساتھ ساتھ پرنسسز آف بلاپ کیج پینڈا، موزہ نیک بھی تھیں (سورس گوگل)۔ انکی فیملی کے کحچھ ممبرز ورلڈ بنک اور یونائٹیڈ نیشن میں سئینر عہددار بھی ہیں, جبکہ انکے انکل مسٹر ایف ایم خان انڈین فلم انڈسٹریزی میں سئینر علمبردار تھے۔ انکی بھتیجی پلواشہ خان بھی ایم این اے ہیں، جبکہ انکی ہمشیرہ کے سسر (مرحوم) عمر خان پاکستانی سینٹر رہ چکے ہیں۔ انکی سیاسیی فیملی کے بہت سارے افراد پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خواہ میں سئنیر بیروکریٹس ، جبکہ کحچھ پاکستان آرمی میں آفیسرز ہیں۔

    پاکستانی سیاست میں ضلع چکوال کی اہمیت سے انکار کرنا ناممکن ہے کیونکہ اس ضلع نے ہر دفعہ ممبر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی بنائے ہیں۔ اس وقت پاکستان مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسیی رسہ کشی اپنے عروج پر ہے، حکومت پاکستان کیطرف سے علاقائی ترقیاتی فنڈز کی الاٹمنٹ شروع ہوچکی ہے اور دونوں پارٹیوں کے دفاعی جیلوں کے مابین نہایت معرکہ خیز سوشل میڈیا جنگیں شروع ہیں، ہر طرف سے کریڈیٹ کریڈیٹ کی آوازیں سنائی دے رہیں ہیں۔ فیس بک گلیوں اور نالیوں کی تصاویرں سے بھری پڑی ہے۔ 25 جولائی 2018 کے دن سے علاقے میں ایک سیاسیی دنگل شروع ہوا تھا، جو اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

    مسلم لیگ ق کے اندر سیاسیی اور علاقائی سپورٹرز کی منافقت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ چاچے مامے کو ترجیح دی جانے لگی ہے، ووٹرز میں سخت مایوسی کا سماں ہے۔ ماضی کے لیڈروں کیطرح حافظ عمار یاسر اور انکی ٹیم ممبرز صرف گنے چنے مواقعوں پر نظر آتے ہیں۔ عوام کے اندر بے چینی سرایت کرچکی ہے۔ چند نام نہاد صحافیوں کی غلط پولیسوں کی وجہ سے ق لیگ کی سیاسیی ساکھ کو بہت نقصان ہوچکا ہے اور آگے بھی ہونے کے خدشات نمایاں ہیں۔علاقائی صحافی مسلم لیگ ق کےلیے بیساکھی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ علاقے میں پروفیشنل صحافیوں کی کمی اور ناقص صحافتی علم و عمل کی بدولت مسلم لیگ ق کے اندر موجود انکےانسوسٹرز کو بھی شدید تحفظات ہوچکے ہیں۔ لیکن انکی مجبوری ہے کیونکہ انہوں نے پیسہ لگا رکھا ہے، وصولی کیے بغیر بغاوت نہیں کرسکتے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اس وقت پورے علاقے میں ابھرتی جارہی ہے۔ کیونکہ گھر کو چلانے کے لیے گھر کے سربراہ کا سمجھدار ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے، اسی طرح سیاسیی جماعت کی قیادت یا علاقائی معاملات کو بخوبی سرانجام دینے کےلیے بھی عقل و فہم اور مناسب تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک محنتی اور جانفشان ٹیم کا ہونا بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ لیڈر کوئی فرشتہ نہیں ہوتا ہے، نہ ہی اسکو الہام ہوتا ہے، بلکہ اسکی متحرک ٹیم کے ذریعے اسکو مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ علاقائی لیڈر شپ ہو یا قومی لیڈر شپ ہو، ٹیم ورک کے بغیر ناممکن ہے۔ فوزیہ بہرام کی سماجی ورکس کےلیے اپنے ٹیم کے ہمراہ پورے علاقے میں نہایت بہترین حکمت عملی سے کام جاری و ساری کروا دئیے ہیں۔ صرف و صرف ٹمن کےلیے ایک اندازے کے مطابق 55 لاکھ کے فنڈز جاری کروائے گئیے ہیں اور سابق یونین کونسل چئیرمین رانا عظمت ٹمن کی سربراہی میں علاقے میں کام جاری و ساری ہیں۔ 55 لاکھ کی محدود رقم میں پورے علاقے کو پختہ کرنا شاید ناممکنات میں سے ہے لیکن اسکے باوجود فوزیہ بہرام کی ٹیم اپنی طرف سے کوشاں ہے کے ماضی سے ابھی تک چلے آنے والے محرومی کے شکار محلے یا علاقے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں۔

    مستقبل میں بلدیاتی الیکشن کی آمد آمد ہے اور علاقائی سیاسیی پس منظر نہایت دلچسپ و مقابلہ خیز بنا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے علاوہ سردار منصور حیات بھی ایک بار پھر نئے انداز اور نئی جماعت مسلم لیگ نون کے نمایندے کے طور پر پنجا آزمائی کریں گے۔ اور بھولی بھالی عوام کو ایک بار پھر سے میٹھے میٹھے سیاسیی لڈو کھلانے کی کوشش کریں گے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کے مقابلہ مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہی ہوگا اور فلوقت پاکستان تحریک انصاف کا پلڑا بھاری لگا رہا ہے۔ لیکن یہاں مجھے سابقہ صدر آصف علی زرداری کی وہ بات یاد آرہی ہے کے ” سیاست کی کوئی بھی بات حرف آخر نہیں ہوتی ہے” ۔ تمام اندازے و تخمینے موجودہ حالات و عوامی رجحان کو دیکھ کر لگائے جاتے ہیں اور میں نے بھی اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ہر انسان کو حق ہے کے وہ سیاسیی منظر نامے پر اپنی اپنی رائے قائم کرسکتا ہے، کیونکہ ہم سب آزاد ملک کے باشندے ہیں اور ماں کے پیٹ سے آزاد ہی اس دنیا میں آئے ہیں۔

  • امریکہ ضرور پنگا لے گا، تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ ضرور پنگا لے گا، تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کے افغانستان سے جانے کے بعد جس ایک خدشے کا سب سے زیادہ اظہار کیا گیا وہ یہ تھا کہ افغانستان میں بہت سے قبائل ہیں جو کئی دہائیوں سے جنگ لڑتے آ رہے ہیں اس لئے امریکہ کے جانے کے بعد صورتحال یہ ہو گی کہ وقتی جیت کی خوشی منانے کے بعد یہ اپنے اپنے حصے کی بوٹی کے لئے آپس میں لڑنا شروع کردیں گے کیونکہ ان کو لڑنے کی عادت ہے۔
    لیکن اگر یاس مین کچھ حقیقت ہے تو یہی فارمولا امریکیوں پر بھی توفٹ ہوتا ہے امریکہ بھی تو کئی دہائیوں سے کسی نہ کسی ملک میں جنگ لڑتا آیا ہے۔ صرف1945 کے بعد سے اب تک امریکہ نے پانچ بڑی جنگیں لڑی ہیں جن میں کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چند معمولی جنگیں بھی ہیں جن میں صومالیہ، یمن اور لیبیا کی جنگیں شامل ہیں۔
    یہ ایک الگ بحث ہے کہ ان جنگوں میں ظاہری طور پر امریکہ کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن یہ بات بھی اب دنیا کے سامنے آ چکی ہے کہ ان جنگوں کی آڑ میں امریکی کمپنیوں نے بہت سا پیسہ بنایا ہے کئی ملک جو ترقی کر رہے تھے وہاں امریکہ کے جانے کے بعد تمام انفراسٹرکچر کا ستیاناس ہو گیا۔ یہ ممالک جنگوں کی وجہ سے کئی دہائیوں پیچھے چلے گئے۔تو اب جو امریکی فوج اتنے سالوں سے جنگیں لڑ رہی ہے کیا افغانستان میں موجود قبائل کی طرح وہ نہیں چاہیں گے ان کو ایک نیا ٹارگٹ ملے ایک نیا محاذ کھولا جائے۔ وہ امریکی دفاعی اور نجی کمپنیاں جو اب تک جنگوں میں مال بناتی آئی ہیں وہ نہیں چاہیں گی کہ دوبارہ سے کوئی ایسا سلسلہ شروع ہو جس میں وہ اپنی دیہاڑیاں لگا سکیں۔

    تو آج میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اب امریکہ سکون سے بیٹھنے والا نہیں ہے ایک مخصوص حلقے نے اپنی پوری تیاری کر لی ہے کہ امریکہ سے ایک نئی جنگ شروع کروائی جائے اور اب کی بار یہ کوئی چھوٹی جنگ نہیں ہوگی بلکہ ایک بڑی طاقت کے ساتھ پنگا لیا جائے گا۔ اور کیونکہ مقابلہ ایک مضبوط ملک کے ساتھ ہوگا تو امریکہ اس جنگ میں اکیلا نہیں جائے گا بلکہ اپنے اتحادیوں کوبھی اس جنگ میں گھسیٹے گا۔یہ جنگ کس ملک کے ساتھ ہو سکتی ہے؟اور اس کے اثرات کس ریجن پر سب سے زیادہ اثرات ہوں گے؟اور جنگی ہتھیاروں کے حوالے سے امریکہ کی کیا دوغلی پالیسی ہے؟جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ اب کی بار بہت بڑی جنگ ہو گی امریکہ کوئی چھوٹی لڑائی نہیں کرے گا تو آپ جان لیں کہ بہت زیادہ چانسز ہیں کہ امریکہ اس بار
    Directہی دنیا میں ابھرنے والی نئی سپر پاور چین کے ساتھ جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہو گی جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کافی عرصے سے پیشن گوئیاں کرتے آ رہے ہیں۔ اور اب اگر آپ امریکہ سمیت اس کے اتحادی ممالک کے میڈیا پر چلنے والی خبریں بھی دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ان کے میڈیا پر اس بارے میں بہت زیادہ
    Debateبھی شروع ہو چکی ہے۔لیکن کیونکہ چین کے ساتھ ٹکر لینا کوئی آسان بات نہیں ہے اس لئے اس بار امریکہ نے اپنے ساتھ اپنے باقی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔حال ہی میں برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نےAsia Pacificمیں جس سیکیورٹی معاہدےAukusکا اعلان کیا ہے اس کا مقصد دراصل اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان 36ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ایک غیر ایٹمی ملک کو ایٹمی صلاحیت دینے کے بڑے فیصلے پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے حالانکہ ماضی میں امریکہ نے ہمیشہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے الزامات لگا کر لیبیا، عراق، شمالی کوریا اور ایران پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا رہا ہے جس کا خمیازہ یہ ممالک آج تک بھگت رہے ہیں حتی کہCovid 19کے دوران ایران پر انہی الزامات کی وجہ سے ادویات تک کی درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان اور شمالی کوریا پر بھی اسی معاملے میں بہت سی پابندیاں لگائی گئیں حال ہی میں جب شمالی کوریا نے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تو اس پر بھی امریکہ نے سخت ردعمل دیا تھا مگر خود نئے سیکورٹی معاہدوں کے نام پر آسٹریلیا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ فرانس سے ڈیل کینسل کرنے کے بعد جس طرح یہ تینوں ممالک اس معاہدے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور جس طرح کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کو میدان جنگ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور یہ سب اقدامات چین کو اشتعال دلانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ امریکہ نے خود بھی آواز سے پانچ گُنا تیز رفتار میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق2013کے بعد سے اس طرح کے کسی ہتھیار کا یہ اولین تجربہ ہے۔ امریکا کی
    Defence Advance research projects agency (DARPA) طرف سے بھی بتایا گیا ہے کہHyper sonic air weapon concept(HAWC) کی پرواز کا تجربہ گزشتہ ہفتے ہی کیا گیا ہے۔ اسی سال جولائی میں روس نے بھی ہائپر سانک کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ روسی صدر نے اس موقع پر کہا تھا کہ اس میزائل کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ جس کے مقابلے میں اب امریکہ نے یہ تجربہ کیا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ کئی دوسرے ممالک جن میں جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام اور انڈیا شامل ہیں ان کے ساتھ بھی سرمایہ کاری کرکے کئی معاہدے کر رہا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی کامیابی کے لئے اس جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے اس تمام صورتحال میں چین بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیےAsia Pacificتجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے وقت میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی بلاک جن میں روس، پاکستان، ایران، ازبکستان تاجکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں ان کے درمیان آنے والے دنوں میں نئے سیکیورٹی معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ دنیا میں اب ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا اور کئی نئے ممالک بھی اس ایٹمی دوڑ میں شامل ہوں گے۔

    جس کی ایک مثال شمالی کوریا بھی ہے جس نے آج ہی ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔لیکن امریکہ کا دوغلا پن دیکھیں کہ وہ اس تجربے می مذمت کر رہا ہے۔ یعنی وہ خود جو مرضی کرے وہ ٹھیک ہے اپنے اتحادیوں کو جو مرضی تربیت دی جائے وہ جائز ہے لیکن اگر کوئی اور ایسا ملک تجربہ کرتا ہے جو امریکہ کا اتحادی نہیں ہے تو اس کی مزمت شروع ہو جاتی ہے۔امریکہ نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل کا یہ تجربہ اقو ام متحدہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور اس کی وجہ سے شمالی کوریا کے پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی برادری کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ہم شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطے کے اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن شمالی کوریا نے جب یہ بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تو اس سے چند گھنٹے پہلے ہی اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نمائندے نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک کے خلاف دیگر ملکوں کی جو مخالفانہ پالیسیاں ہیں ان کی وجہ سے پیانگ یانگ کو ہتھیاروں کا تجربہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف اپنے دفاع اور ملک میں سلامتی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے ہی اپنے قومی دفاع کومستحکم کررہے ہیں۔ امریکا نے ہمارے جنوب میں تقریبا 30 ہزار فوجیں تعینات کررکھی ہیں اور کوریا جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ایک ماہ کے دوران شمالی کوریا کا میزائلوں کا یہ تیسرا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے اس نے ایک کروز میزائل اور دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔ امریکہ کے علاوہ جنوبی کوریا کی حکومت نے بھی قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ طلب کی اور میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک کم فاصلے تک پہنچنے والا میزائل تھا اور شمالی کوریا نے ایسے وقت اس کا تجربہ کیا ہے جب کوریا میں سیاسی استحکام کی صورت حال بہت نازک ہے۔جنوبی کوریا کے علاوہ امریکی دوست ملک جاپان کے وزیراعظم نے بھی بیان دیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک میزائل کا تجربہ کیا ہے جو بیلسٹک میزائل ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے ان کی حکومت نے اپنی چوکسی اورنگرانی تیز کردی ہے۔اس سے آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ افغانستان میں اگر لڑائی ہوتی بھی ہے تو وہ آپس میں ان کے ملک کے اندر ہی ہو گی لیکن امریکہ کو جو لڑائی کی لت پڑ چکی ہے وہ کہیں زیادہ خطرناک ہے اس لئے آنے والے دن پوری دنیا کے لئے بہت اہم ہیں۔ اب امریکہ ضرور کسی نہ کسی بڑی طاقت کے ساتھ پنگا لے گا۔ اس کے بعد بے شک ان کو کوئی ظاہری ناکامی کیوں نہ ہو لیکن مالی طورپر تو فائدے ہی فائدے ہوں گے۔