Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سعودی کمپنی آرامکو کی مالی قدر میں اضافہ، امریکی کمپنی ایپل کو دباؤ کا سامنا

    سعودی کمپنی آرامکو کی مالی قدر میں اضافہ، امریکی کمپنی ایپل کو دباؤ کا سامنا

    سعودی عرب کی سرکاری تیل کی کمپنی آرامکو امریکہ کی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو ٹکر دینے کی تیاری میں ہے-

    باغی ٹی وی : بزنس انسائیڈر کے مطابق آرامکو دنیا کی بیش قدر کمپنی بننے سے چند قدم کی دوری پر ہے سعودی عرب کی تیل کمپنی کا مارکیٹ قدر میں حجم 20 کھرب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے جس کے بعد تیل کمپنی ایپل فرم سے صرف تیس ارب ڈالر پیچھے رہ گئی ہے۔

    یاد رہے کہ اب تک امریکہ کی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل دنیا کی بیش قدر فرم ہے جس کی مالی قدر 20 کھرب 30 ارب ڈالر ہے اس وقت ایپل کو دباؤکوسامنا ہے کیونکہ سرمایہ کار اس ٹیکنالوجی فرم کے مہنگے اسٹاک کے بارے میں محتاط ہیں جبکہ بانڈ سے کمائی یا منافع میں اضافہ ہورہا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آرامکو کمپنی کی مالی قد ر میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے حصص کی قدر میں تبدیلی صارفین کے رجحان کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔

    فاسٹ فوڈز اور ٹریفک حادثات وقوانین کی خلاف ورزی کے درمیان حیران کن تعلق کا انکشاف

    کورونا وبا کی وجہ سے گزشتہ سال تیل کمپنیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا صارفین گھروں سے باہر نکل رہے ہیں جس کی وجہ سے ایپل کمپنی کے حصص پر منفی اثر پڑا ہے اور آمد و رفت میں اضافے سے تیل کھپت پھر سے بڑھ گئی ہے جس کا براہ راست فائدہ تیل کمپنی آرامکو کو ملا ہے۔

    تیل کی قیمتوں کے لیے عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ کی قیمت ستمبر میں تقریبا 71 ڈالر فی بیرل سے شروع ہوئی تھی ۔ آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق ۔ منگل کو اس کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل سے زیادہ پر پہنچ گئی ہے۔

    سروسز متاثر ہونے کے بعد فیس بُک کواسٹاک مارکیٹ میں 50 ارب ڈالر کا نقصان

    بنک آف امریکا کارپوریشن کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں توانائی کے بحران سے تیل کی قیمتوں میں اضافے میں مدد مل سکتی ہے اور 2014ء کے بعد پہلی مرتبہ خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ جبکہ سعودی حکومت سعودی آرامکو کمپنی کی 98 فیصد مالک ہے اور باقی حصص سعودی اسٹاک ایکسچینج میں دستیاب ہیں یہ کمپنی پہلے بھی دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی رہ چکی ہے۔

    فیس بک انسٹاگرام اور واٹس ایپ 7 گھنٹوں بعد ، مارک زکر برگ کا کتنا نقصان ہوا؟

  • ورزش کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات :تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ورزش کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات :تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہماری مصروفیات کافی زیادہ ہوتی ہیں اور اُن مصروفیات کی وجہ سے ہم لوگ ذہنی طور پر بہت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور ہمارا ذہن بھی صحیح سے کام نہیں کر پاتا ، ہم لوگ اپنے روز مرہ کے کام اچھے سے نہیں کر پاتے۔ ایسے میں ہمیں ایک ایسی دوا کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں ذہنی سکون دے اور ورزش ہی وہ واحد چیز ہے جو ہمیں یہ سکون مہیا کر سکتی ہے۔ ورزش کے ہماری زندگی پر بہت مثبت اثرات ہیں اور روزآنہ کی بنیاد پر اگر ہم ورزش کریں گے تو ہم خود کو بہت چست اور توانا محسوس کریں گے۔ ورزش کی وجہ سے ہم جسم میں ایک عجیب سی طاقت کو محسوس کرتے ہیں اور کوئی بھی کام ہو ہم میں اسکو کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ورزش کے انسان کی صحت پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اُن پر بات کرتے ہیں۔
    اگر ہم ہر روز ایک مخصوص وقت پر ورزش کریں گے تو ہمارا وزن متوازن رہے گا اور موٹاپے جیسی بیماری سے نجات حاصل ہو جائے گی۔
    ورزش کی وجہ سے ہم بہت سی سنگین نوعیت کی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں جیسا کہ دل کی بیماریاں جو کہ آجکل بہت عام ہوتی جا رہی ہیں اُنکا خطرہ کم ہوتا جاتا ہے اور ہماری صحت پر بہت ہی اچھا اثر پڑتا ہے۔
    اسّی طرح شوگر کی بیماری بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگر ہم اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہ ورزش کو اپنا روز کا معمول بنانا ہوگا۔
    اگر کوئی کسی نشے میں مبتلا ہے جیسا کہ سیگریٹ وغیرہ تو ورزش کے ذریعے ان چیزوں سے بچا جا سکتا ہے۔
    اگر ہم ورزش کرتے ہیں تو ہماری ذہنی صحت اور رویہ بہت بہت اچھا ہو جاتا ہے کیوں کہ ورزش کے دوران ہمارا جسم کیمیکل کا اخراج کرتا ہے اور یوں ہم سکون محسوس کرتے ہیں۔
    اسکے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورزش سے ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں بڑا اضافہ ہوتا ہے ہم میں عمر کے ساتھ ساتھ مشکلات کو حل کرنے کے بہتر سے بہتر طریقے مل جاتے ہیں کیوں کہ ورزش سے ہمارا جسم پروٹینز اور دوسرے کیمیکلز کا خراج کرتا ہے جس سے ہمارا دماغ بہتر کام کرتا ہے۔
    آخر میں اہم چیز یہ ہے کہ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ کیسے بنایا جائے ؟
    اسکا سب بہتر حل یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے آگے بڑھا جائے اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارا جائے۔ ورزش کو فن کی طرح لیا جائے اور زیادہ پرجوش طریقے سے کیا جائے اس سے ہم آسانی سے ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
    TA: @AhtzazGillani

  • نیوزی لینڈ نے دورہ پاکستان ری شیڈول کرنے کی تیاریاں شروع کردیں      پی سی بی

    نیوزی لینڈ نے دورہ پاکستان ری شیڈول کرنے کی تیاریاں شروع کردیں پی سی بی

    پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے اچھی خبر ملے گی-

    باغی ٹی وی : پی سی بی چئیرمین رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے اچھی خبر ملے گی نیوزی لینڈ نے دورہ ری شیڈول کرنے کی تیاریاں شروع کردیں ہیں-

    واضح رہے کہ ذرائع کے مطابق نیوزی لینڈ نے یک طرفہ سیریز منسوخی کے فیصلے کے بعد پہلی بار پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے رابطہ کیا نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی سے دوبارہ سیریز شیڈول کرنے پر بات چیت کی گئی اور نیوزی لینڈ کرکٹ نے سیریز منسوخی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ،پی سی بی کو لاکھوں کا بل آ گیا

    ذرائع کے مطابق دونوں بورڈز کا سیریز کے لیے نئی جگہ تلاش کرنے پر غور کیا اور کہا گیا کہ موجودہ ونڈو میں دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز ممکن نہیں۔

    پاکستان نے ورلڈ کپ کے بعد ویسٹ انڈیز، سری لنکا، بنگلہ دیش اور آسٹریلیا سے بھی سیریز کھیلنی ہیں۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے معاملے پر نتیجے پر پہنچ گئے ہیں شیخ رشید

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ

    اس ضمن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کیلئے ان کی فوج سے زیادہ سکیورٹی فورس تعینات کی گئی، نیوزی لینڈ ٹیم کے معاملے پر بھارت نے غلط خبریں پھیلائیں، ہمارے لوگ کرکٹ کو پسند کرتے ہیں مگر نیوزی لینڈ ٹیم کے جانے سے ہم مرے نہیں جارہے۔

    بھارتی چالوں سے دور رہتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرنے چاہیئے، آفریدی کا دیگر ممالک کو…

  • قلم کی عظمت    تحریر : شاہ زیب

    قلم کی عظمت   تحریر : شاہ زیب

     دنیا نے گلوبل ویلج سے گلوبل سٹی کا سفر قلم کے بازوں پر کیا دنیا میں کہیں بھی معاہدہ طے پایا جائے تو قلم کی سیاہی سے ابتدا کی جاتی ہے ترقی امن ومان سلامتی یا دہشت گردوں سے مذاکرات قلم کی طاقت سے شروع ہوتے ہیں۔

     یوں تو قلم کا ہم سے صدیوں پرانا رشتہ ھے مگر قدیم زمانے میں پیغام یا معدہ کرتے وقت پرندوں کے پروں کو استعمال کیا جاتا تھا جیسے ہی زمانہ ترقی یافتہ ہوتا گیا تو ہماری شان قلم کو بھی ترقی سوجھی اور نئے طرز کا قلم بن گیا۔

     قلم ایک ایسا انمول قیمتی سرمایہ ھے جو تلوار سے تیز اور طاقت وار بھی جانا جاتا ھے قلم کو دودھاری تلوار اس لیے کہا جاتا ھے قلم کی سیاہی کی بدولت ظالم اور مظلوم کی پہچان اور حق پر ڈٹے ہوئے مجاہدین کی تحریریں لکھی جاتی ہیں اگر غیر جانبداری سے قلم کا استعمال کیا جائے تو ہی قلم کی سیاہی کی عظمت و عزت برقرار ہے۔

    افسوس کے ساتھ بتاتا چلوں قلم کی عظمت کو سب سے زیادہ نقصان دور حاضر کے صحافیوں نے کیا صحافت جو ریاست کا چوتھا ستون جانا جاتا ہے لیکن قلم فروشوں نے چند ڈالروں کے عوض قلم کی سیاہی کی قیمت لینا شروع کر رکھی ہے کسی بھی شخص کی کردار کشی کر کے سماج کی نظروں میں گرانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

    قلم فروش سمجھتے ہیں وہ کسی کی کردار کشی کر کے انسان کو نیچا دیکھاتے ہیں تو یہ ان کی غلطی فہمی ہے اسطرح سے قلم فروش کسی انسان کی نہیں بلکہ قلم کی نوک جس کا دوسرا نام علم ھے اس قلم کی عظمت و عزت پامال کر رہے ہیں نہایت ہی ادب کے ساتھ اپنے دوست لکھاریوں کے لیے پیغام ھے میں کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا ایک حقیقت ہے جو آپ کو بتائی ھے دوستوں جہاد بالقم کے ساتھ کھڑے رہنے سے حق بات دوسروں تک پہنچائی جا سکتی ہے اگر آپ قلم کی عظمت و سیاہی کی قیمت وصول کرنے لگ جائیں گے تو پھر آپ میں اور جسم فروش طوائف میں کوئی فرق نہیں۔

    اب ففتھ جنریشن وار  قلم سے لڑی جا رہی ہیں اور دشمن کے غلط پروپیگنڈہ کا مقابلہ اسی کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا بہت مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن درست اور ٹھوس حقائق کو سمجھنے والا ہی ان نا پاک عزائم رکھنے والوں کا قلم کی طاقت سے قلع قمع کرتا ہے اور قلم تو ویسے بھی تلوار سے زیادہ طاقت رکھتی ہے اور سچ ہمیشہ چاقو کی طرح تیز کاٹتا ہے ہمیشہ ایک چیز اپنے پلے باندھ لیں غلط چیزوں کو وقتی سکون فیم کے لیے مت لکھیں ہمیشہ دلیل کے ساتھ بات کریں کیونکہ اپ کا پڑھا جانے والا ایک ایک لفظ اپ کی شناخت ہوتی ہے یہ بس دھیان رکھیں کہیں اپ کی شناخت اپ کے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت نہ ہو کیونکہ ہم سب وار فئیر کے اُس حصے میں جہاں دشمن ہمیں اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا لیکن اللہ کے فضل سے چال بازوں کی چالیں قلم سے ناکام بنا دیتے اور میرا یہ ایمان ہے کہ جذبہ ایمانی سے سرشار قومیں کبھی ہار نہیں مانتی۔۔

    اللّٰہ رب العزت سے دعا ہے میری

      قلم جو میری پہچان ھے اور سچ لکھنے والوں کی حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین

    Twitter handle.

    @shahzeb___

  • اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اولیا کرام کی اسلام کے لئے خدمات… تحریر جام محمد ماجد..

    اللّه کریم رحمن و رحیم جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے جس نے ساری کائنات بنائی اور اس میں سے انسان کو اعلی مقام دے کر اشرف المخلوقات بنا کر پوری کائنات میں دیگر تمام مخلوقات میں فضیلت عطا فرمائی حضرت آدم علہیہ السلام کو تخلیق فرما کر ابو البشر بنایا اور اللّه پاک نے تمام فرشتوں کو انھیں سجدہ کرنے کو کہا تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی سواے ابلیس نے پس وہ مردود ہوا اور حکم ماننے سے انکار کیا تو ذلیل و خوار اور رسوا ہوا اور اسی طرح سے اس دن سے لے کر بہکانا شروع کیا اور آج تک بہکاتا آیا ہے تو اللّه تعالیٰ نے انسانوں کو راہ راست پے لانے کے لئے انبیا کرام کو کو نازل کیا جنہوں نے بھٹکے ہووں کو راہ راست پے لیا اور اللّه کی وحدانیت اور اللّه کے دین کی تعلیم دی اسی طرح سے یہ سلسلہ چلتہا یہاں تک کے ہمارے پیارے نبی پاک نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللّه علیہ وسلم تشریف لاے جو کے اللّه کے آخری رسول اور نبی ہیں آپ صلی اللّه علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلم ہو گیا ہے آپ صلی اللّه علیہ وسلم کی تعلیمات کو رہتی دنیا تک انسانیت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ قرار دیا گیا حضور پاک صلی اللّه علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضی اللّه عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین حق کی تبلیغ کی اور اسلام کو پھیلایا ان کے بعد دین اسلام کی تبلیغ کو اللّه کے نیک کامل بندوں نے سنبھالا اور لوگوں کو اللّه تعالیٰ اور حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کے دین کی پہچان کرائی جس سے یہ نیک لوگ اولیا اللّه کے منصب پر فیض ہوے اور انہیں نیک بندوں کے بارے میں اللّه تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا کے انھیں نہ کسی بات کا خوف ہو گا نہ ہی کسی چیز کا ڈر ہو گا
    اللّه کریم کے یہ نیک صالح بندے اپنی عادت و اطوار میں حضور نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور سنتوں پر سختی سے کاربند ہوتے ہیں برصغیر پاک و ہند میں انہی نیک صالح اولیا اللّه کی وجہ سے اللّه پاک نے اسلام کو طاقت بخشی جس کی وجہ سے یہاں اسلام غالب آیا کیوں کے اولیا اللّه کی آمد فتح سندھ کے ساتھ ہی شورع ہو گئی تھی اور نیک لوگوں کی محبت سے لوگ جوق در جوق دین اسلام کی طرف کھنچے چلے آے کیوں کے اس سے پہلے برصغیر اندھیروں بتوں کی پوجا اور کفر سے ڈوبا ہوا تھا بعد میں اسلام کی روشنی سے مالامال ہو گیا اور یہ سب اللّه کے نیک بندوں کی محبت سے پھیلای گئی تبلیغ کا نتیجہ ہے اور اس طرح اللّه کے کامل اور صالح لوگوں کے فیض سے ہر سو روشنی پھیل گئی اور برصغیر پاک و ہند اسلام کا مرکز بن گیا .
    اللّه پاک ہمیں سہی معنوں میں اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماے اور پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام و امن کا گہوارہ بناے آمین…
    پاکستان زندہ باد

    ٹویٹر ہینڈل @Majidjampti

  • فاطمید فاؤنڈیشن؛ امید کی روشن کرن  تحریر: محمد بلال

     پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں خدمت ِ خلق کے جزبےسے سرشار ایک زندہ قوم بستی ہے۔ اسی جزبہ سے سرشارایک ادارہ فاطمید فاؤنڈیشن ہے جو تھلیسیمیا کے مریضوں کےلیے ایک امید کی روشن کرن ہے۔

    ٓآج میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد اس ادارہ کے متنظمین کی حوصلہ افزای کرنا ہے۔

     آئیے، جانتے میں کہ یہ ادارہ کیسے شروع ہوا ہے۔برٹو روڈ، کراچی، پاکستان کے ایک چھوٹے سےکمرے سے شروع ہونے والا یہ سفر آہستہ آہستہ سب سےبڑی رضاکارانہ صحت کی دیکھ بھال اور خون کی منتقلی کی خدمت میں داخل ہو گیا ہے جو ہر مہینے اپنے ہزاروں مریضوں کو ہزاروں بیگ صحت مند مکمل طور پر جانچنے والے خون اورخون کی مصنوعات فراہم کرتا ہے۔ (جن میں اکثریت بچےہیں) خون کے خوفناک امراض یعنی تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا اورخون کے دیگر امراض میں مبتلا ہیں۔آج فاطمید مراکز کراچی،لاہور، پشاور، ملتان، کوئٹہ، حیدرآباد، رشید آباد (ٹنڈو الہ یار)،خیرپور اور لاڑکانہ میں ہیں۔ قارئین، سب سے اہم موضوع یہ ہے کہ یہ وجود میں کیوں آیا؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز کی مناسب، موثر، محفوظ فری چارجز کی عدم موجودگی صحت کے نظام کا ایک اہم مسئلہ ہے جس کاآج پاکستان کو سامنا ہے۔پاکستان میں ممکنہ طور پر روکنے کےقابل زچگی کی بیماری اور اموات کے لیے خون کی منتقلی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ کینسر سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، رینل ڈائلیسس، رینل ٹرانسپلانٹیشن، کارڈیو ویسکولر بائیپاس سرجری، تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا، لیوکیمیا وغیرہ کے لیے خون کے انتہائی ماہر مراکز کی تشکیل، خون اور خون کی مصنوعات کی اس سے بھی زیادہ ضرورت کا باعث بنی ہے۔ایک اندازےکے مطابق، پاکستان کو روزانہ تقریبا، 8000 یونٹ خون کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ خون کی موجودہ دستیابی سے باہر نکلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیپاٹائٹس بی کے کافی زیادہ پھیلاؤ کی شرح کے ساتھ محفوظ خون کی جمع اور فراہمی مزید کم ہو گئی ہے۔اگرچہ ملک کے تمام علاقوں میں منظم سروے نہیں کیے گئےہیں، لیکن اندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریبا دس ملین لوگ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے وائرس سے متاثر ہیں، یہاں تک کہ پاکستان جیسے کم واقعات والے ملک میں بھی ایچ آئی وی انفیکشن پھیلنے کا خطرہ مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ خون اور خون کی مصنوعات کے ذریعے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس انفیکشن کی منتقلی، لہٰذا منتقلی کے لیے غیر متاثرہ ‘محفوظ خون’ کی مناسب فراہمی کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستان میں معاشی مسائل کےباوجود فاطمیدفاؤنڈیشن وہ ادارہ ہے جس کے تمام مراکز جدیدترین بلڈ اسکریننگ سسٹم سے لیس ہیں جو اعلیٰ معیار کی بلڈاسکریننگ کٹس کے ساتھ چل رہے ہیں۔فاطمید کے مریض(ان کی بڑی اکثریت بچے ہیں) غریب اور ضرورت مند ہوسکتے ہیں لیکن ان کے لیے خون کا محفوظ ترین معیار حاصل کرناانسانیت کا تقاضا ہے اور بلا شبہ ہونا بھی چاہیے۔ یقینا یہی طریقہ ہے، جس کے ذریعہ بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتاہے۔ واضح رہے،

    فاطمید فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو پاکستان میں رضاکارانہ طور پر خون کی منتقلی کی خدمات کا علمبردار ہے۔ یہاں تک کہ خون اور خون کی مصنوعات کی مقداری پیداوار کے لحاظ سے بھی، فاطمید فاؤنڈیشن پاکستان میں خون کی منتقلی کی خدمات کی برادری کی رہنما ہے۔بلڈٹرانسفیوژن سروس سینٹر میں خون کی خرابی کے مریضوں کےلیے خصوصی خدمات کی فراہمی پاکستان میں ایک نایاب واقعہ ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن آج کراچی، لاہور، پشاور، ملتان،لاڑکانہ، خیرپور اور رشید آباد (ٹنڈو الہ یار) میں اپنے مراکز کےذریعے ہر مہینے 8000 سے زائد تھیلوں سے صحت یاب خون اور خون کی مصنوعات اپنے رجسٹرڈ مریضوں کو منتقل کرتا ہےاور اللہ کے کرم سے یہ سلسلہ کرونا جیسے وبائی مرض کےباوجود جاری ہے۔ اللہ رب العزت انہیں اس کام کا اجروثواب دیں۔آمین یارب العالمین 

    @Bilal_1947

  • دوہرا معیار اور معاشرتی بگاڑ  تحریر: نصرت پروین

    دوہرا معیار اور معاشرتی بگاڑ تحریر: نصرت پروین

    ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ تمام مذہبی اور معاشرتی تعلیمات سب کے لئے مساوی ہوں اور حکمران اور نوکر سب کے لئے ان تعلیمات کا نفاذ بلا تفرہق ہو۔ مذہبی اور معاشرتی تعلیمات اور اصول و ضوابط کسی بھی معاشرے میں وہی مرکزی حثیت رکھتے ہیں جو انسانی جسم میں قلب رکھتا ہے۔ کسی بھی انسانی معاشرے میں بہترین زندگی گزارنے کی عملی صورت وہاں کی مذہبی اور معاشرتی تعلیمات کی پیروی ہے۔ اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔ اور اصول و ضوابط امیر، غریب، حکمران، نوکر، سب کے لئے مساوی ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا نظام اس کے برعکس ہے ہماری مذہبی و معاشرتی تعلیمات اصول و قوانین صرف غریب کے گرد گھومتے ہیں جبکہ حکمران اور سیکولر طبقے کا ان سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ تمام برائیوں کا گہوارہ بنتا جارہا ہے۔ اور صورتِ حال کافی تشویشناک ہے۔ آج سے کچھ سال قبل اخبارات میں جرائم اور برائی سے متعلق خبریں پڑھ کر یا سوشل میڈیا پر برائی کا سن کر اطمینان ہوتا تھا اور اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ الحمدللہ ہمارے مسلم افراد کا نام نہیں ہے۔ لیکن آج مسلم معاشرے میں بے حیائی کی ایسی وبا پھیلی کہ اب اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے جرائم کی خبروں کا صفحہ کھولا جاتا ہے یا سوشل میڈیا پہ جہاں کہیں برائی اور جرائم کی خبر ملتی ہے تو مسلمان ملوث نظر آتا ہے۔ وہ تمام برائیاں جو پہلی قوموں میں تھیں اور ان کی بناء پر انہیں اللہ کے غضب نے گھیرا آج کا مسلم معاشرہ ان تمام برائیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اصول و ضوابط اور سزا کا نظام صرف غریب اور نچلے طبقے کے لئے، یا مذہب سے بیزار ہوکر مولوی تک محدود کر دیا گیا ہے جب کہ سیکولر اور امیر طبقہ ان اصول و ضوابط اور سزاؤں کو نظر انداز کر کے بہیمانہ افعال انجام دیتا ہے تو اس کا دفاع کیا جاتا ہے بلکہ اسے سراہا جاتا ہے۔ کوئی مولوی یا غریب کوئی برائی کرے تو اس پر قانون لاگو کر کے فوراً سزا دی جاتی ہے اس کے بر عکس اگر یہ ہی جرم کوئی حکمران، اور سیکولر طبقے کا کوئی فرد کرے تو اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس سب کی جیتی جاگتی مثال گزشتہ دنوں میں محمد زبیر کی وائرل ہونے والی ویڈیو اور پھر ان پر انکے حکمرانوں کا انکا دفاع کرنا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کی ٹوہ میں نہیں لگنا چاہیے اس طرح کسی کے برے عمل کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا بہر حال گناہ ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر انسان کسی کا ایسا کوئی عیب دیکھے تو خود اس شخص سے شئیر کرے اور اسے اس گناہ سے بچنے کی ترغیب دے لیکن ہمارا معاملہ یہاں بھی المناک ہے سوشل میڈیا پر ایک طبقہ ایسا ہے جو اسلام کی تعلیمات کے مطابق کہ "برائی کو نشر نہ کیا جائے بلکہ برا سمجھا جائے اور روکا جائے” کو نظر انداز کر کے اس برائی کو پھیلانا اور دکھانا اپنا بہترین مشغلہ سمجھتا ہے۔ اس طرح دوسرے لوگوں تک ایسی ویڈیوز کو گناہ جاریہ کے طور پر شئیر کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً معاشرے میں فحاشی عام ہوجاتی ہے اور پھر ہمارے حکمران ایسے ہیں جو اپنی تنگ نظری کی بدولت تمام انسانیت کے مساوی تقاضوں کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ ایسے حکمران مصالح کلیہ سے نظریں چرا کر جزوی مصلحتوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اور پھر فحش اعمال پر اپنے ساتھیوں کا دفاع کرتے ہیں۔ پھر حکمرانوں کے ان اعمال کے سبب معاشرے میں بگاڑ پھیل جاتا ہے۔ لہذا بگاڑ سے بچنے کے لئے حکمرانوں کو اس معاملے میں ایکشن ضرور لینا چاہیے بطور مسلم معاشرہ ہمارے حکمرانوں کو مذہبی تعلیمات کا بہترین علم ہونا چاہیے اور ان کا نفاذ بھی کرنا چاہیے۔ لیکن اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پھر لوگ قیادت میں آکر ایسے فحش اعمال انجام دیتے ہیں جن کے سبب معاشرے میں بگاڑ پروان چڑھتا ہے۔ ایسی صورت میں معاشرے کا اخلاقی نظام بلکل پست ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حکمرانوں کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے گمراہی کے گڑھے میں گر جاتے ہیں۔ حکمران اور اونچے طبقے کے لوگ عیش و عشرت میں اتنا مگن ہوجاتے ہیں کہ انہیں مادی دنیا سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں معاشرے کے افراد اخلاقی اور روحانی تقاضوں سے بے توجہ ہوجاتے ہیں۔ ان حالات میں معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ زائد مال و دولت کا مالک بن کر فحش اعمال کا عادی جاتا ہے اس کے مقابلے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد فاقے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس طرح مالدار طبقے کو مال کی زیادتی اور محتاج طبقے کو اس کی کمی نکما کر دیتی ہے۔ دونوں گروہ اخلاقی عیوب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ تشوشناک صورتِ حال آج ہماری ہے۔
    ان سارے حالات کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم سب ہیں جہاں ہمارے حکمران غلطی کرتے ہیں ہم بھی ان کی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں۔ اور پھر ان کا دفاع کیا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ دوہرے معیار کو ترک کرتے ہوئے کوئی بھی فرد جرم کرے اسے ضرور سزا دی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی قومیں اسی لئے برباد ہوئی کہ جب کوئی بڑے طبقے کا فرد جرم کرتا تو اسے معاف کر دیا جاتا اور اگر نچلے طبقے کا کوئی فرد جرم کرتا تو اس سزا دی جاتی۔ یہ ہی دوہرا معیار آج ہمارا ہے۔ ہم سب جہاں بھی ہوں دوہرے معیار کو اپناتے ہیں جزوی مصلحتوں کو اپناتے ہیں۔ اگر ہم معاشرے میں بگاڑ کا خاتمہ اور امن کا قیام چاہتے ہیں تو ہم سب کو بطور فردِ واحد دوہرا معیار چھوڑنا ہوگا تب ہی معاشرے کی بقا ممکن ہے۔
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    از قلم نصرت پروین
    @Nusrat_writes

  • پی ایم سی کے باہر ڈاکٹر پولیس آمنے سامنے اور خوار ہوتا مریض تحریر: ناصر بٹ

    پی ایم سی کے باہر ڈاکٹر پولیس آمنے سامنے اور خوار ہوتا مریض تحریر: ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    روزانہ کی بنیاد پر احتجاج, ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا ہے, مظاہرین سخت نعرے بازی اور دھرنوں کی حکمت عملی سے جب میڈیا اور حکام بالا کی توجہ اپنی طرف مبزول کروانے میں ناکام ہو جائیں تو پرتشدد کاروائیوں کا آغاز کیا جاتا ہے, احتجاجی دھرنوں کی تاریخ اٹھا لیں تو یہ چیز عام ہے کہ جب تک پرتشدد حالات پیدا نہ کیے جائیں مجال ہے اخباری سرخیوں یا ٹی وی ہیڈلائینز یا یوں کہیں سوشل میڈیا کی نیوز فیڈ میں آپ کو جگہ مل سکے, جوں ہی مار دھاڑ کا سلسلہ چل پڑتا ہے تو بڑے نام آپ کے نام کی ٹویٹ بھی داغتے ہیں اور بڑے چینلز آپ کو ہیڈلائن کا حصہ بھی بنانے پر مجبور ہوتے ہیں, یہ ہی ہوا کل جب این ایل ای امتحان کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ملک بھر سے پاکستان میڈیکل کمیشن کی بلڈنگ کے سامنے پہنچے, پہلے تو کئی گھنٹے نعرے بازی اور تقاریر کا سلسلہ جاری رہا لیکن جب کام نہ بنا تو ڈاکٹرز کی جانب روڑ بلاک کرکے دھرنا دے دیا گیا, اس ساری صورتحال میں اب تک ایس پی صدر نوشیروان علی کی سربراہی میں خاموش تماشائی کا ہی کردار ادا کرتی رہی لیکن جب مشتعل ڈاکٹرز کی جانب سے پی ایم سی کی بلڈنگ میں داخل ہونے کی مبینہ کوشش کی گئی تو پرسکون انداز میں کھڑی اسلام آباد پولیس حرکت میں آگئی اور پھر کیا تھا میدان جنگ کے مناظر تھے, پولیس اہلکاروں کی کوشش تھی کہ کوئی ڈاکٹر پاکستان میڈیکل کمیشن کی عمارت میں نہ گھس سکے تو ڈاکٹرز کے سر پر پی ایم سی کی بلڈنگ میں فتح کا جھنڈا گاڑنے کا جنون سوار تھا, اسی کشمکش میں ڈاکٹرز اور پولیس گھتم گتھا ہوئی, پولیس نے لاٹھی چارج کیا تو ڈاکٹرز نے بھی بے دریغ اینٹیں برسائیں, اس دوران کئی ڈاکٹر کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئی, آگ کو ہوا دینے کا لمحہ تب آئے جب ینگ ڈاکٹرز کے ایک رہنماء کی جانب سے بیچ بچاؤ کروانے والے ایس پی صدر نوشیروان پر حملہ کیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس دوران پولیس افسر کی عینک ٹوٹ گئی اور وردی کو پھاڑ دیا گیا جبکہ ایس پی پولیس زخمی ہوگئے تاہم جوابی کاروائی میں اہلکاروں کی جانب سے ڈاکٹرز کی بھی درگت بنائی گئی, اس ساری صورتحال میں ایس پی پولیس اور ڈاکٹرز کی ہاتھا پائی کی ویڈیو نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ مین سٹریم میڈیا میں بھی اپنی جگہ بنائی اور افسوسناک واقعہ پر حکام بالا میں بھی غم و غصہ پایا جاتا رہا تاہم معاملات کو نمٹانے کی غرض سے ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات, ایڈیشل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد رانا وقاص, متعلقہ اے سی, قائمقام ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد ملک جمیل ظفر بھی موقع پر پہنچ گئے تاہم ڈاکٹرز کی جانب سے دو مطالبات سامنے رکھ دئیے گئے, پہلا مطالبہ گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا تھا جبکہ دوسرے مطالبے میں نائب صدر پی ایم سی کا استعفی مانگا گیا, شام تک وزارت صحت حکام کی موجودگی میں مزاکرات ہوئے اور بالاآخر گرفتار ڈاکٹرز کو رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹرز نے اس واقعہ کے خلاف ملک بھر کے ہسپتالوں میں او پی ڈی سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا اور مریضوں کی خواری کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اب ہسپتالوں میں سماں یہ ہے کہ بیماری ساتھ لیے جیب میں چند روپے ڈال کر علاج کی غرض سے ہسپتالوں کا رخ کرنے والے غریب مریض گیٹ پر لگے بڑے بڑے تالے اور ینگ ڈاکٹرز کے نعرے سنتے ہوئے مایوس ہوکر واپسی کا رخ اختیار کر رہے ہیں, اب سوال بس اتنا ہے کہ مانا کہ مطالبات جائز ہونگے, مانا کہ پولیس نے سختی کی ہوگی لیکن اس ساری صورتحال میں اس غریب مریض کا قصور کیا ہے جو ٹیکس دیکر بھی حکومت کی فراہم کردہ بنیادی صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہوگیا؟؟؟

  • محسنِ انسانیت بحثیت معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم  (عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے)   تحریر: عرفان صادق

    محسنِ انسانیت بحثیت معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم (عالمی یومِ اساتذہ کی مناسبت سے) تحریر: عرفان صادق

    رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شمار دنیا کی ان چیدہ چیدہ اثرانگیز ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کو کئی اہم معاملات میں نئے اسالیب اور جہات سے متعارف کروایا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کامل شخصیت تھے جنہوں نے نا صرف اپنی کمال تربیت بلکہ اپنے کردار سے بھی ایسی جماعت تیار کی جن میں انسانیت کا وجودِ کامل نظر آتا ہے۔ حضرتِ انسان نے اپنی تخلیق سے لے کر رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک ہر ایک ذات میں کوئی نہ کوئی کمی، کوتاہی یا غلطی پائی لیکن آمنہ رضی اللہ تعالی عنھا کے بطنِ اطہر سے پیدا ہونے والے لعل نے انسانیت کے لیے ایسا نادر نمونہ پیش کیا جو ہر قسم کی ھفوات سے مبرّا تھا۔ بے شمار خصائصِ جمیلہ و اوصاف حمیدہ کے مرکّب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور معلّم اور مدرّس بے مثل کردار پیش کیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے زیادہ متاثر کن معلّم آپ کا اخلاق تھا۔ذیل میں ہم ان چند اصولِ تدریس کا ذکر کریں گے جو حیاتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ماخوذ ہیں ۔
    پہلے شاگردوں میں حصولِ علم کا شوق و جستجو پیدا کرنا پھر علم منتقل کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تدریسی طریقہ تھا ۔ کئی مواقع پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو مخاطب کرکے پہلے ان میں حصول علم کا اشتیاق پیدا کرتے پھر انتقال فرماتے ہیں مثلا: الا اخبرکم؟ (کیا میں تمہیں خبر نہ دوں ) ، الا ادلکم۔؟(کیا تمہیں ایسی چیز کی رہنمائی نہ کروں) ، اتدرون ما الغیبۃ؟ (کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے )
    اور ایسے کئی الفاظ جو انسان کو چوکنا کر دینے کو کافی ہوتے تھے۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موقعہ کی مناسبت اور طالب علم کی کیفیت دیکھ کر تعلیم دیتے مثلا ایک ہی سوال” اسلام میں سب سے افضل عمل کونسا ہے ؟” مختلف صحابہ کرام رضی اللہ تعالی نے مختلف اوقات میں پوچھا تو ہر ایک کو ان کے ذاتی معاملات اور موقعہ کی مناسب دیکھ کر مختلف جواب دیا ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے ساتھ نرمی اور شفقت کا معاملہ کرتے اور بے جا مارپیٹ اور زود و کوب کرنے سے اجتناب کرنا بھی تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی خاصہ تھا۔
    حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور خادم و طالب علم دس سال گزارے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک کبھی مجھے مارنا تو دور کی بات غصہ تک نہ ہوئے حتی کہ مجھے یہ تک نہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یہ کام کیوں نہ کیا۔؟ سبحان اللہ العظیم ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو سمجھانے کے لیے کچھ کر کے پیش کرتے ہیں یا کرواتے ۔جسے ہم آج کے جدید دور میں (Activity Based Learning) کا نام دیتے ہیں جس سے موضوع کا فہم اور ادراک صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے قلوب و اذہان میں ازبر ہو جاتا ۔مثلا ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عصا سے زمین پر ایک سیدھا خط کھینچا اور کہا یہ میرا سیدھا راستہ ہے جو اس پر چلا وہ کامیاب ہوگیا ۔ اور پھر اس خط کے گرد کئی خطوط کھینچے اور کہا یہ گمراہی کے راستے ہیں۔
    اس کے علاوہ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم ہر میسر آنے والے موقعے میں تعلیم کے پہلو کو اُجاگر کر کے اسے اپنے طلبہ تک پہنچاتے۔ آپنے پاس بغرضِ علم آنے والے طلباء کا خیر مقدم کرتے گفتگو کرتے ہوئے طلباء کو اپنے قریب بٹھاتے اور پھر ان کی طرف اتنی توجہ کرتے ہیں کہ سامعین بھی ہمہ تن گوش ہو جاتے اور کلام کا ایسا انداز اختیار کرتے کہ سننے والے دم سادھ کر بیٹھتے اور ایک ایک بات بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ ازبر کر لیتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان سے نکال دیتےاحادیث کے بے شمار مجموعے اس بات کی کامل دلیل ہیں۔یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم Communication Skills) میں کمال مہارت رکھتے ۔
    شاگردوں سے محبت کے اظہار کے لئے کبھی ان کو مختصر نام یا کبھی کنیت سے پکارتے تھے ۔جیسے ایک دن ایک صحابی کو بلیوں سے کھیلتے دیکھا تو ابوہریرہ کہہ دیا اور پھر وہ تاابد راوی حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بن کر رہ گئے ۔
    ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مٹی سے کھیلتے دیکھا تو ابوتراب کہہ دیا ۔
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے اپنے طلباء کے لیے تعلیم و تربیت کا بندوبست کرتے ایسے اپنے طلباء کے لئے دعائیں بھی خوب کرتے ۔مثال کے طور پر ایک دن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قرآن مجید سے محبت کا عالم دیکھا تو ان کے لئے دعا کی کہ "اللھم علمہ القرآن”
    اے اللہ ان کو قرآن کا عالم بنا دے ۔ایسی دعا کی کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ تفسیرِ قرآن کے ماخذ شمار کیے جاتے ہیں ۔
    رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب طلباء سے بات کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں ٹھہراؤ ہوتا اور اپنی بات کو خوب وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور حسبِ ضرورت اپنی بات کا اعادہ بھی فرما دیتے ۔ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کو تعلیم دیتے ہوئے ہاتھوں سے مناسب اشارے یعنی باڈی لینگویج کا بھرپور استعمال کرتے ۔ مثلا ایک دن فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ایسے ہوں گے اور ساتھ ہی اپنی شہادت والی اوردرمیانی انگشت مبارک کوملا کر ہوا میں لہرایا۔
    معلّمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلباء کے فہمِ کامل کے لئے مثالوں کا استعمال کرتے ہیں مثلا ایک دفعہ فرمانے لگے کہ اللہ کو گناہ گار کا توبہ کرنا اس قدر خوشگوار لگتا ہے جیسے کسی بھوکے صحرائی مسافر کو اپنے گمشدہ زادِراہ مل جائے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناسب اور علم طلب سوال سے خوش ہوتے اور بےکار اور باعثِ مشقت سوال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے اور کسی سوال کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہوتا تو بجائے اپنی طرف سے جواب دینے یا اٹکل پنجو لگانے کے خاموش ہو جاتے اور وحیِ الٰہی کا انتظار فرماتے ۔ کسی قابلِ شرم مسئلہ پر تفہیم مقصود ہوتی تو اس سے ہرگز صرف نظر نہ کرتے لیکن ایسی باتوں کو اشارہ کنایہ کی زبان میں ایسے سمجھاتے کہ انتقالِ علم بھی ہو جاتا اور شرم و حیا کا دامن بھی سلامت رہتا۔
    ایسے ہی آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم طلبہ کسی کے عمل کو آسان بنانے کے لئے پہلے اجمالاً بیان کرتے پھر مکمل تفصیل کے ساتھ مکمل جزئیات کو سمجھاتے اگر کہیں مناسب سمجھتے ہیں کہ تھوڑے کلام سے یہ بات مکمل سمجھ آ جائے گی تو اس پر اکتفا کرتے۔ ایسی احادیث جن میں تھوڑے کلام میں گہری بات کہہ دی جائے ان کو جوامع الکلم کہا جاتا ہے مثلا "لا ضرر ولا ضرار” "اسلام میں نہ خود کو نقصان پہنچانا جائز ہے نہ کسی دوسرے کو "۔
    الغرض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطور استاد ایک کامل ترین معلّم تھے جن کے مکتب سے نکلنے والے طلباء عرب و عجم کے ایسے حکمران بنے کہ وہ عوام کے اجسام کے ساتھ ساتھ ان کے قلوب و اذہان کے بھی حکمران ہوتے تھے۔

  • اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار تحریر۔نعیم الزمان

    اولاد کی پرورش میں والدین کا کردار تحریر۔نعیم الزمان

    اولاد اللہ تعالیٰ کی انسان کو عطاء کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اولاد کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” یعنی اللہ تعالیٰ نے جو اولاد تمہارے لیے مقدر فرمائی ہے اس کو نکاح کے ذریعے تلاش کرو”۔

     حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جتنے بھی انسان اس دنیا میں آئے اور اپنی زندگی بسر کرنے کے بعد اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔مگر اللہ پاک نے ہر انسان کو اولاد کی صورت میں اپنے بندوں کی پرورش کی توفیق بخشی اور اللہ نے سب کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ سب اپنے پیچھے دین اور دنیا کا جانشین چھوڑ کر جائیں۔ اولاد کی پیدائش پر رب العالمین کے آگے سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور اولاد میں خیروبرکت کے لیے دعا مانگی چائیے۔ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اللہ کے حضور نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگنی چاہیے۔ 

    بچے قدرت کا انمول تحفہ ہوتے ہیں۔زندگی میں خوشیاں اولاد ہی کی بدولت ہوتی ہیں۔ اگر کسی گھر میں بچے نہ ہوں وہ گھر تمام تر نعمتوں کے باوجود خالی خالی سا لگتا ہے۔ اولاد کے لیے گھر پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ بچے اپنی ابتدائی عمر میں والدین سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔اور اپنے والدین کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی لیے بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ذمہ داری خاص کر والدہ پر زیادہ عائد ہوتی ہے جس کو اولاد کی پہلی معلمہ کا درجہ دیا گیاہے۔ اکثر اوقات والدین بچوں کو مہنگے ترین سکولوں میں داخل کروا کر ان کی ضروریات پوری کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زمہ داری پوری کر لی ۔ لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہوتا ہے جب آپ اور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو اچھی تربیت دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اولاد کی تربیت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "ماں باپ کا اپنی اولاد کو سب سے بہترین عطیہ اچھی تربیت ہے” 

    بغیر تعلیم و تربیت کے لاڈ اور پیار سے اگر گھر کا ایک بچہ بگڑ جائے تو پورے گھر کا عیش و عشرت برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اچھی پرورش ،تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو ہر والدین پر قرض ہے۔ اولاد ہر والدین کو پیاری ہوتی ہے۔چاہے والدین غریب ہوں یا امیر۔ والدین اپنی اولاد کی پرورش اور تعلیم کے لیے ہر طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کر تے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ اولاد کی تربیت پر زیادہ توجہ دی جائے ۔ بچوں کو ابتدا سے ہی اچھی عادتیں ڈالیں۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ کر ابتدا کرنا گھر میں موجود بڑوں سے اخلاق سے پیش آنا گھر میں بغیر اجازت کس کمرے میں نہ جانے کی عادتیں ڈالیں۔ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کی عادت ڈالیں۔بچوں کے مثبت کاموں پر حوصلہ افزائی کر یں ۔ بچوں کا مذاق اڑانے سے گریز کریں۔اور غلط کاموں پر فوری سرزنش کرنی چاہیے تا کہ بچوں میں غلط عادتیں پروان نہ چڑھ سکیں۔ والدین کو بچوں کے سامنے لڑنے جھگڑنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے اقدامات بچوں کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ بچوں کو کسی بھی غلطی پر ڈانٹے سے پہلے اس کی تحقیقات کر لینی چاہیے۔ بلاوجہ ڈانٹنے پیٹنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے بچے احساس کمتری ذہنی اور جسمانی  کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور اس سے بچے کی پرورش اور پڑھائی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔والدین بچوں پر تنقید سے گریز کریں جن بچوں پر زیادہ تنقید کی جاتی ہے وہ زندگی میں کو شش کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ بچوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنے رویے میں غصہ محسوس نہ ہونے دیں اور دوستانہ رویے سے پیش آئیں۔ بچوں کو کھیل کود اور سیر تفریح کے لیے بھی مناسب وقت دیں۔تا کہ وہ زیادہ تنگی کا شکار نہ ہو جائیں ۔ بحثیت والدین بچوں کو کبھی بھی مہمانوں اور باہر کے لوگوں کے سامنے برا بھلا کہنے سے گریز کریں۔ اس سے بچوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ بہت ساری منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کے سامنے بچوں کی خوبیاں بیان کرنی چاہیے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اچھے کاموں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔کوئی بھی قوم اخلاق کے بغیر خاک کے ڈھیر کی ماند ہوتی ہے۔ اس لیے اخلاقیات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اخلاقی تربیت سیکھانے کا بہترین وقت بچپن کا  ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو ابتدا سے ہی اخلاقی اصولوں سے اچھی طرح روشناس کر دیں تو یقیناً بچوں کے بالغ ہونے کے بعد ان کے بد اخلاق ہونے اور جرائم کی دنیامیں بھٹکنے کے مواقع تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔موجودہ حالات کے پیش نظر بچوں کو بلاوجہ گھروں سے باہر نہ جانے دیں ۔اگر جانا ضروری بھی ہو تو کسی بڑے کا ساتھ ہونا لازم ہے۔ایک متوازن  پرورش اور تربیت ہی بچے میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔جو زندگی گزارنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے ہم سب کو اپنے بچوں کو رزق حلال کھلانے ان کی اچھی پرورش اور تعلیم و تربیت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔اور ان تمام احباب کو اولاد نرینہ عطاء فرمائے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ اور بچوں کو اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے۔ دنیا اور آخرت میں خیر کا باعث بنائے ۔آمین 

    @786Rajanaeem