Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے  تحریر محمد تنویر

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تحریر محمد تنویر

    یہاں میرے دل کے بہت قریب موضوع کو متعارف کرانے کے لیے ایک داستان ہے۔ ایک خاندانی محفل کے دوران میں اپنے کزن کی پوتی کے ساتھ گپ شپ کر رہا تھا۔ جب اس نے مجھے اپنی دلچسپیوں کے بارے میں بتایا تو میں نے اسے قریب آنے کو کہا کیونکہ میں اسے سن نہیں سکتا تھا اور میں نے اپنے آلہ سماعت کی طرف اشارہ کیا جو میں نے کان میں لگایا ہوا تھا۔ اس نے سماعت کے چھوٹے آلے میں بڑی دلچسپی ظاہر کی اس کی جانچ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں کئی سوالات پوچھے جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ اس کا تجسس اور سیکھنے کا شوقین تھا۔

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے اس لیے نہیں کہ یہ قومی زبان ہے بلکہ اس لیے کہ یہ میری مادری زبان بھی ہے۔ اس عمر میں وہ واحد زبان تھی جو وہ سمجھتی تھی۔ اگر میں انگریزی میں بات کرتا تو ہم اتنے سنجیدہ موضوع پر ایسی بامعنی گفتگو نہیں کر سکتے تھے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا وہ دلچسپی بھی لیتی یقینا نہیں کیونکہ ایک بچہ اس چیز میں دلچسپی رکھتا ہے جس میں وہ مصروف ہے یہ تب ہی ممکن ہے جب اس عمل میں استعمال ہونے والی زبان وہ ہو جو بچہ سمجھتا ہو۔

    یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے یہ فطرت کی ایک بنیادی حقیقت ہے جسے ہمارے اساتذہ اکثر نظر انداز کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے بچوں کی تعلیم (جو دراصل خود حاصل کرنا ہے) اور ان کے سیکھنے کی ترغیب میں دلچسپی ختم ہو کررہ جاتی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت بچے کو ایک استاد کی بات سننے کی ضرورت ہوتی ہے جو تمام باتیں ایک عجیب زبان میں کرتا ہے جسے بچہ ہمیشہ نہیں سمجھتا کچھ معاملات میں استاد بھی اس میں روانی نہیں رکھتا ہے بچے کا ان پٹ نہیں مانگا جاتا۔

    کیا کوئی طالب علم سے یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہ تمام ممبو جمبو میں دلچسپی لے اپنے آپ سے لطف اندوز ہونے دو رسمی تعلیم دراصل پیدائش کے وقت شروع ہونے والے قدرتی طور پر سیکھنے کے عمل میں خلل ڈالتی ہے۔ اگر ہمارے معلم واقعی بچوں کی بھلائی چاپتے ہیں تو وہ قدرتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں اور بچے کو اس چیز سے محروم نہ کریں جو اسے خوشی اور تحفظ کا احساس دلاتی ہے وہ صرف اور صرف مادری ہے۔ عالمی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق تمام ترقی یافتہ اور خوسحال ممالک کی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ ان ملکوں میں بنیادی تعلیم مادری زبان میں ہی فراہم کی جاتی ہے.

    SNC دوسری زبان کا مرکب ہمارے بچوں کو جذباتی اور عملی ضروریات کو پورا نہیں کرتا جو چیز مجھے سنگل قومی نصاب اور زبان کی پالیسی کے بارے میں انتہائی پریشان کن معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پالیسی بچے کی ضروریات اور حساسیت کو مکمل
    طور پر نظر انداز کرتی ہے 3 ستمبر کو منعقد ہونے والی SNC کے بارے میں مختصر کانفرنس ان دنوں مسلسل ترقی پذیر SNC پر بحث کرنے والی سیریز کا تازہ ترین فورم ہے تمام شرکاء نے تعلیم میں حصہ لیا لیکن بچے کی سیکھنے کی ضروریات کے تناظر میں اس سے زیادہ بے خبر گروپ نہیں ہوسکتا ان میں سے ہر ایک کی بنیاد میں جانتا ہوں سے شروع ہوئی۔ اساتذہ کا بچے کی نفسیات کے بارے میں علم نہ ہونا بہت زیادہ جذباتی عدم تحفظ کا باعث بنتا ہے جو معاشرے میں بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
    SNC نصاب میں کیے گئے انتخاب کے سیکورٹی پہلو پر توجہ نہیں دیتا یہ مسائل خاص طور پر زبان بچے کے سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ "ذہنیت کی یکسانیت” کی خاطر SNC تنوع کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ تنقیدی سوچ کو ختم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں روٹ لرننگ اور ثقافتی بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر
    علمی ترقی سست ہو جاتی ہے۔ اگر تعلیم کا ذریعے کچھ سالوں کے لیے بچے کی اپنی مادری زبان میں ہوتا تو یہ یقینی بناتا کہ وہ ایک اچھی طرح سے ایڈجسٹ شخصیت کی نشوونما کرتی ہے اور زندگی بھر تعلیم سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ اس کے باوجود ایس این سی کے معماروں نے ایک عجیب و غریب پالیسی کا انتخاب کیا ہے جسے ابہام میں ڈوبے ہوئے گزشتہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے دوران خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔

    مختصراً، جیسا کہ میں اسے سمجھتا ہوں انگریزی اور اردو کو گریڈ 1 سے بطور مضامین پڑھایا جائے گا۔ عام علم سماجی علوم اور اسلامیات اردو میں ہوں گے جبکہ سائنس اور ریاضی انگریزی میں پڑھائی جائے گی۔

    یہ زبان کا مرکب ہمارے بچوں کی جذباتی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ اس پر مسلط کی گئی زبان زیادہ تر معاملات میں اس کی مادری زبان نہیں ہے بلکہ نامعلوم الفاظ کا ‘ممبو جمبو’ ہے جو ایک لسانی رکاوٹ بن جاتا ہے جو اس کے بعد اسے پیچھے چھوڑ دے گا اور اسے ایک مصنوعی سیکھنے کا طریقہ اپنانے پر مجبور کرے گا جسے بچے کبھی پسند نہیں کریں گے۔

    ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک کثیر لسانی ریاست ہے اور تعلیم کو بھی بہ زبانی ہونا پڑے گا یہ مادری زبان پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خطے سے خطے میں مختلف ہوتا ہے اور یہ کہ یکسانیت کے اصول کے خلاف عسکریت پسند ہمارے حکمران بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں یقینا قومی زبان اردو اور انگریزی بھی تدریسی طور پر پڑھائی جائے گی مادری زبان میں تعلیم کیلئے احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    دس سال پہلے معروف ماہر لسانیات ہیویل کولمین نے برٹش کونسل کے لیے پاکستان کی تعلیم کے بارے میں ایک فالو اپ رپورٹ تیار کی تھی جس میں اس نے تجویز دی تھی کہ پاکستان کو مقامی زبانوں پر تحقیق کرنی چاہیے۔ اگر یہ کیا جاتا تو ہم SNC کے ساتھ گھومتے نہیں۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ارباب اختیار کوچاہیئے مادری زبان میں علم حصول یقینی بنائیں تاکہ نسل نو مستقبل میں دنیا دے کندھے سے کندھا ملا کر چل سکے۔

  • عمران خان اور اُن کا انقلابی اقدام، دوسرا حصہ تحریر احمد خان

    عمران خان اور اُن کا انقلابی اقدام، دوسرا حصہ تحریر احمد خان

    آپ ہر طرف یہی سنتے ہیں کہ غریب مر گیا لٹ گیا برباد ہو گیا دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوگیا وغیرہ وغیرہ

     عمران خان پاکستان کا پہلا وزیراعظم ہے جس کے دورِ حکومت میں پاکستان کے تمام صوبوں میں ترقیاتی کام بڑی تیزی کے ساتھ جاری ہیں، جس میں زیادہ تر مکمل ہو چکے ہیں اور زیادہ تر پر کام جاری ہیں

    پاکستان کی معیشت کو دیکھ لیجئے برآمدات کو دیکھ لیجئے ٹیکس ریونیو کو دیکھ لیجئے ریمیٹنس کو دیکھ لیجئے نیب ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کی ریکوریوں کو دیکھ لیجئے غریبوں کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات دیکھ لیجئے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات دیکھ لیجئے 

    اب ذرا غور کیجئے گا

    1 احساس پروگرام

    2 پناہ گاہیں اور لنگر خانے

    3 کوئی بھوکا نہ سوئے

    1 احساس پروگرام کے تحت ملک بھر کے لاکھوں غریب اور مستحق خاندانوں کو ماہانہ 12 ہزار روپے دیا جا رہا ہے

    اور اب ذرا اس بات پر غور کیجئے گا پیپلزپارٹی کے جو وزیر مشیر بھوکے ننگے گھرانوں سے اٹھ کر بڑے بڑے عہدوں پر آ بیٹھے تھے ان کی بھوکی ننگی حریص بیویوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریبوں کو دیے جانے والے 12000 روپے تک نہ چھوڑے اور اس میں بھی کرپشن کرتے ہوئے انہوں نے لاکھوں کروڑوں روپیہ ہڑپ کر لیا

    ایک لمحے کے لیے ذرا اس بات پر غور کیجئے جنہیں آپ معزز سمجھتے ہیں وہ اندر سے کس قدر پلید اور نیت کے بھوکے ننگے حریص ہوتے ہیں جو صاحب استطاعت ہونے کے باوجود بھی غریبوں کا حق ہڑپ کر لیتے ہیں

    ایسے نفسی انسان کی مثال رال ٹپکائے کتے کی مانند ہوتی ہے جسے بھگانے کے لیے آپ اسے پتھر بھی ماریں تو وہ پلٹ کر پتھر کو بھی سونگھنے لگے گا کہ شاید اس میں سے بھی ہڈی مل جائے

    بہرحال عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد ان تمام وزیروں مشیروں کی بیگمات سمیت سب کو نکال باہر کیا جو صاحب استطاعت ہونے کے باوجود بھی 12 ہزار روپیہ لیتے تھے

    اور اب الحمدللہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے زیرنگرانی احساس پروگرام کے تحت بڑے صاف اور شفاف طریقے سے ہر مستحق اور غریب کو اس کا حق مل رہا ہے اب کوئی مجھے یہ مثال پیش کرکے دکھائے کہ عمران خان کے کسی وزیر مشیر یا اس کی بیوی یا احساس پروگرام کی سربراہ نے غریبوں کو دیئے جانے والے ان پیسوں میں کوئی غبن کیا ہو؟؟ یا احساس پروگرام کا پیسہ کھایا ہو؟؟

    یہ مثال آپ کو جرائم پیشہ بھتہ خور بھوکے ننگے حریصوں کی جماعت پیپلز پارٹی میں تو ملے گی لیکن انشاءاللہ تحریک انصاف میں نہیں اور اگر یہ مثال تحریک انصاف میں ملی تو انشاءاللہ اس کے خلاف کارروائی بھی ہوگی

    2 پناہ گاہیں اور لنگر خانے بنا کر عمران خان نے غریبوں کا کھانے پینے اور آرام کرنے کا مسئلہ حل کر دیا ہے اب جتنا خرچہ ان کا کھانے پینے اور سونے پر ہوتا تھا اب یہ غریب افراد وہی خرچہ اپنے گھر بھیجتے ہیں جس سے ان کی آمدنی میں الحمدللہ کچھ نہ کچھ اضافہ ہوا ہے

    3 کوئی بھوکا نہ سوئے اس پروگرام کے تحت عمران خان غریب غربا بھوکے افراد کے لیے کھانا تیار کر کے موبائل گاڑیوں کے ذریعے ان تک پہنچا رہا ہے اور جہاں بھی کوئی ضرورت مند نظر آئے گا گاڑی اسے اسی وقت کھانا کھلائے گی

    اب ذرا غور کیجئے میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں آپ تاریخ پاکستان اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ایسے اقدامات کی کوئی مثال نہیں ملے گی جو اقدامات غریب کے لیے عمران خان نے اٹھائے ہیں

    غریب کے سونے کا انتظام کر لیا غریبوں کے کھانے کا انتظام کرلیا غریبوں کے پیسوں کا انتظام کرلیا جہاں کوئی ضرورت مند غریب ہو اسے چھوٹا کاروبار کروانے کا انتظام کرلیا

    الغرض محدود وسائل کے باوجود عمران خان نے غریبوں کا 70 80 فیصد سے زائد مسئلہ حل کر دیا ہے

    اب اگر کوئی غریب خود ہڈحرامی کرتے ہوئے مزدوری نہ کرے محنت نہ کرے اپنا ذریعہ آمدن نہ بڑھائے تو مجھے بتاؤ اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟؟

    اگر اب بھی تم یہی رونا روتے ہو کہ غریب مر گیا غریب لٹ گیا تباہ ہو گیا برباد ہو گیا عمران خان نے غریب کو مار ڈالا وغیرہ وغیرہ

    تو سیدھی سی بات ہے بھئی اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی اگر تم مطمئن نہیں تو پھر آپ بغض عمران میں پاگل ہو چکے ہو اپنا اعلاج کرو  ( )

    @iamAhmadokz

  • ستاروں کے راز تحریر: ڈاکٹر راحیل احمد

    ستاروں کے راز تحریر: ڈاکٹر راحیل احمد

    خالق کائنات نے جہاں اس فرش أرضی کو پہاڑوں، ندی نالوں ، گنگناتے جھرنوں اور سبز پوش وادیوں سے سجھایا ہے وہاں آسمان ارضی کو بھی ٹمٹماتے چراغوں سے حسن بخشا ہے اور جب چشم انسانی اس خوبصورت نظارے سے لطف اندوز ہونے کیلئے سوئے گردوں جاتی ہے تو اس سے آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ستاروں کی یہ دنیا اپنے حسن کا خراج وصول کیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

    یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے کوئی بھی چیز بے مقصد یا بے معنی پیدا نہیں کی تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی کائنات، یہ لاتعداد روشن چراغ اپنے وجود کا کوئی مقصد نہ رکھتے ہوں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قدیم زمانے کا انسان اپنی منزلوں کا پتہ لگانے کیلئے ستاروں سے مدد لیا کرتا تھا گویا قدرت نے ان چھوٹے چھوٹے کمکموں کو سفر میں انسانی رہنمائی کا منصب بھی سونپا۔ اس کے علاوہ سورة ملک میں اللہ تعالٰی کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا اور ہم ان کے ذریعے شیاطین کو دفعہ کرتے ہیں جن کیلئے المناک عذاب تیار ہے۔ ایک معتبر رویات کے مطابق گروہ شیاطین آسمان کا حال معلوم کرنے کیلئے وہاں تک رسائی کی کوشش کیا کرتے تھے جن کو روکنے کیلئے ان ستاروں کو ان کی مار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔ ” کوئی نہیں جو میرے علم کا احاطہ کرسکے مگر جتنا میں چاہوں ” 

    ستاروں کی دنیا پر اگر غوروفکر کیا جائے تو جدید سائنس کے مطابق ان کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر تو ممکن نہیں البتہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی تعداد دنیا کے تمام ساحلوں پر پڑی ریت کے ذرات سے بھی زیادہ ہے جبکہ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ان میں سے بعض ستارے ایسے ہیں جو زمین کے برابر یا اس سے کم وجود رکھتے ہیں لیکن بہت اے ستارے ایسے بھی ہیں جن کے ایک کونے میں ہماری لاکھوں زمینیں سما سکتی ہیں اور اگر ان حقائق کی روشنی میں کائنات کی وسعتوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو عقل انسانی پہلے قدم پر ہی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہوجائے۔

    رب کائنات سورة واقع میں فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی مقام کی اور اگر تم سمجھ سکو تو یہ بہت ہی بڑی قسم ہے جب کہ سائنس نے آج قدرت کے اس راز کی نقاب کشائی کرتے ہوئے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ستارے ٹوٹ کر بلیک ہول میں گرتے ہیں اور پھر اس کی وسعتوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ اب اس بلیک ہول کی وسعت پر غور کریں کہ اس حجم کتنا ہوگا جس میں سورج اور اس سے بھی بڑے بڑے ستارے سما جائیں اور ان کے وجود کا احساس تک ختم ہوجائے۔ لیکن بات یہاں تک بھی ختم نہیں ہوتئ اکیسویں صدی کے انکشافات کے مطابق کائنات میں ایسے بےشمار بلیک ہول موجود ہیں جو ٹوٹے ہوئے ستاروں کا آخری مسکن کا کام کررہے ہیں۔

    اسلامی عقائد کے مطابق علم نجوم کے اندازوں کی تصدیق کو کفر سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن اگر اس میں سے غائب اور مستقبل بینی کو نکال دیا جائے تو ستاروں کا علم بھی قدرت الہی کی تصدیق اور اس کی حمد و ثناء سے آزاد نہیں رہ سکتا کیونکہ اللہ تعالٰی کی کوئی بھی تخلیق ایسی نہیں جو نہ صرف اپنے اندر مقصدیت نہیں رکھتی بلکہ اس کائنات کے زرے سے لے کر بڑے بڑے إجرام فلکی تک اس کی شہادت دے رہی ہیں۔

    @WsiKaSlam

  • بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار کون ؟  تحریر: احسن ننکانوی

    سوال یہ ہے کہ بچوں کے بناؤ یا بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہوتا ہے۔ والدین اساتذہ کرام گھر کا ماحول یا پھر باہر کا معاشرہ۔ 

    آج کے نوجوان کا کردار انتہائی گھناؤنا اس لئے ہے نہ گھر والوں نے اس کے کردار پر تنقیدی نظر ڈالی اور نہ ہی سکول و کالج می میں اساتذہ دیکھتے ہیں۔ کہ ہمارے نوجوان کس ڈگر پر چل نکلے ہیں۔

    ہمارے نوجوان کا جو آج کل کردار ہے اس پر اقبال نے بھی کیا خوب کہا 

                لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی 

    بے شک آپ اس بات کو نہ ماننے کے لئے تیار ہوں برحال آپ کو یہ بات ماننا ہو گی ۔جب سے والدین اور اساتذہ کرام نے بچوں کی تربیت سے مکمل بے اعتنائی اور بے پرواہی برتی ہے ۔ تب سے اس معاشرے کا نوجوان علمی و اخلاقی دونوں پہلوں میں دیوالئے پن کا شکار ہو چکا ہے ۔

    اب میں یہ نہیں کہوں گا کہ سارا معاشرہ ہی ایسا ہے یا سارے والدین اور اساتذہ کرام ہی ایسے ہیں۔ 

    نہیں ایسا ہرگز نہیں لیکن بہت سارے ہیں بھی۔ آپ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ آج کل کے والدین اپنے بچوں کے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی پر بے ہودہ فلمیں دیکھتے ہیں۔

    اساتذہ خود اپنے شاگردوں کے ہمراہ سینما ہال میں موجود ہوتے ہیں  ۔ اور اس چیز کو کونفیڈینس کا نام دیا جاتا ہے ۔ 

    اس حقیقت پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے۔کہ بچہ فطری طور پر نقال ہوتا ہے  ۔ وہ تو گھر میں اپنے والدین اور سکول و کالج میں اپنے اساتذہ کا خوب اچھی طرح مطالعہ کرتے ہیں۔ اور آپ نے یہ بھی ایک مشہور مثل سنی ہو گی کہ ‘خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ‘ 

    جو عمل اور کردار والدین کا ہوگا بیٹا اور شاگرد بھی وہی کرے گا ۔ یہ سچ ہے ماں اگر نماز پڑھے گی تو بچہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا اس کی طرح ہی رکوع اور سجود کرے گا ۔ ماں کی طرح ہی دعا کے لئے اپنے ننھے منے ہاتھ اٹھا دے گا ۔

    ہاں اگر ماں ایسا نہ کرتی ہو۔ اگر ماں فلمیں اور ڈرامہ پسند کرتی ہے تو بچہ بھی پھر وہی چیز پسند کرے گا ۔ 

    اگر باپ آوارہ اور اوباش لوگوں میں بیٹھے گا تو بیٹا بھی ویسے ہی دوست چنے گا ۔ ایسا ہی طریقہ اساتذہ کا اتا ہے ان کا ماحول دیکھ کر بچہ سیکھتا ہے ۔ بہر حال کلاس کا کمرہ اور گھر کا ماحول پہلی سٹیج ہے جہاں سے بچے کے بناؤ اور بگاڑ کے سفر کا آغاز ہوتا ہے  ۔ آج کا بچہ علامہ اقبال یا محمد علی جوہر تب بنے گا ۔ جب اس کی ماں اس کو

     لاالہ الااللہ کی لوری سنائے گی  ۔ 

    یہاں پر مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آگیا 

    شکایت ہے یا رب مجھے  خدا وندان مکتب سے 

    سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا 

    بہر حال اساتذہ اور والدین پرندے کے دو پر ہیں۔ جب تک پرندے کے دونوں پر اپنی رفتار اور پرواز جاری نہیں رکھیں گے۔ دونوں اخلاق و کردار کا نمونہ پیش نہیں کریں گے ۔ تب تک پرندہ بلند پرواز شاہین کی مانند نہیں ہو گا ۔ اور اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچے گا ۔

    بہر حال میں اپنا مؤقف پھر دہراؤں گا ۔ کہ والدین اور اساتذہ کرام کو اپنا اپنا کام صحیح طور پر سرانجام دینا چاہیے۔ کیونکہ جب تک یہ دونوں بزرگ اپنا کام نہیں کریں گے ۔ تو معاشرے میں شاہین نہیں کرگس ہی پیدا ہوں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کے بناؤ اور بگاڑ کا ذمہ دار تو باہر کا ماحول اور معاشرہ ہوتا ہے ۔ ہاں اس میں وہ بھی کافی حد تک شامل ہے ۔ اس پر الگ سے کسی دن لکھا جائے گا ۔ انشاءاللہ 

     

    @AhsanNankanvi

  • پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام تحریر: محمد عمران خان

    پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام تحریر: محمد عمران خان

    دنیا میں کسی بھی معاشرے میں خواندگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خواندہ لوگ معاشرے کی ترقی و خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں۔ پڑھے لکھے افراد ہی معاشرے میں بہترین انتظامات اور مسائل کا حل پیش کرسکتے ہیں۔ نا خواندہ معاشرہ کسی جنگل یا حیوانوں کے مسکن کی پرح ہوتا ہے جہاں نہ کوئی قانون ہوتا ہے نہ ہی اس کی عملداری، بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا سسٹم ہوتا ہے۔

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح وطن عزیز پاکستان میں بھی تعلیم کی ترقی کے بلند و بالا نعرے لگائے جاتے ہیں۔ طلباء و طالبات کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے راگ الاپے جاتے ہیں۔ سکالرشپس اور وظائف کے اجراء کے لیے کروڑوں کے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ مگر آخر میں جب تفتیش ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وفاقی سطح سے یونین کونسل سطح تک کے آفیسران کی ملی بھگت سے وہ فنڈز ان کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوچکے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام انتہائی دگرگوں حالت سے دوچار ہے۔ صاحب استطاعت طبقہ سرکاری نظام تعلیم کی بجائے پرائیویٹ نظام تعلیم کی طرف جانا زیادہ پسند کرتا ہے۔ مگر جو غرباء یا اوسط طبقہ کے لوگ ہیں وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کی بجائے پچپن سے کام کاج پر لگا دیتے ہیں تاکہ وہ ان کا سہارا بن سکیں۔ معصوم بچے جب لاشعوری کی حالت میں کسی کام پر جاتے ہیں تو ان کا معاشی استحصال شروع ہوجاتا ہے۔ انتہائی کم اجرت پر گھنٹوں کام لیا جاتاہے۔ ایسے حالات یا تو لاقانونیت کی بنیاد بنتے ہیں یا جرائم کی۔ 

    پاکستان میں پرائیویٹ سکولز مافیاز بھی سرکاری نظام تعلیم کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ وہ غیر معیاری تعلیم دے کر بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کی بجائے تاریک کردیتے ہیں۔ زیادہ فیسوں کے حصول کے لیے بچوں کو بغیر کچھ پڑھائے اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا جاتا ہے تاکہ والدین کی خوشنودی حاصل کی جاسکے۔ مزید پرائیویٹ سیکٹر کی سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ملی بھگت سے سرکاری سکولوں کو یا تو سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں یا پھر سرے سے سکول کو عملہ ہی فراہم نہیں کیا جاتا۔ 

    اگر دوسری جانب سرکاری سطح پر دیکھا جائے تو نظام تعلیم کی بہتری کی طرف کوئی عملی قدم اٹھتا ہوا نظر نہیں آتا۔ پاکستان کو 73 سالوں میں یکساں نظام تعلیم نہیں مل سکا۔ اسی طرح یکساں نصاب بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ دیہی علاقوں میں سکولز بند پڑے ہیں یا عملہ ہی موجود نہیں ہے۔ 

    ہائیر ایجوکیشن کی طرف دیکھا جائے تو وہاں بھی حالات ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔ کالجز اور یونیورسٹیز میں مؤثر طریقہ تعلیم نہ ہونے سے اکثر طلباء بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور غلط دھندوں میں پڑنے سے اپنی زندگیاں برباد کر ںیٹھتے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کے بعد طلباء کو واضح رہنمائی کا بھی کوئی سسٹم موجود نہیں کہ کس طالب علم کے لیے کونسی فیلڈ بہتر ہے۔ اس طرح ٹیلنٹ بھی سامنے نہیں آسکتا۔ طلباء کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ انہوں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔ مؤثر رہنمائی نہ ہونے سے طلباء تعلیم مکمل کرنے کے بعد معاشی نظام پر بوجھ بنتے ہیں۔ نوکریوں کی تلاش میں پھرتے طلباء غربت سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے بھی کسی قسم کی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی کہ طلباء اور تعلیمی نظام کے اندر کن اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    لہٰذا ہمارا تعلیم نظام دنیا کے پسماندہ ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سے بڑی تذلیل اور فکر کی بات کیا ہوگی کہ پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی ٹاپ 500 یونیورسٹیز میں شامل نہیں ہے۔ اعلیٰ اور مؤثر ذرائع نہ ہونے کے سبب پاکستانی طلباء عالمی سطح پر اپنی خدمات پیش کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستانی حکومت کو تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ تاکہ پاکستانی طلباء بھی دنیا کے شانہ بشانہ کھڑے ہو سکیں۔

    تحریر: محمد عمران خان

    Twitter Handle: @ImranBloch786

  • وڈیو مافیاز تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    ویسے تو وطن عزیز ہر قسم کے مافیاز کے نرغے میں ہےہی،

    مگر اب کچھ عرصہ سے ایک نیا مافیاز سر اُٹھا رہا ہے۔

    یہ مافیاز اپنے مخالفین اور اپنے ساتھیوں کی قابل اعتراض وڈیوزبنا کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور پھر بوقت ضرورت اسے استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتا ہے۔

    اس گندے مگر دھندے میں تازہ ترین بھونچال مسلم لیگی راہنما محمد زبیر کی وڈیو کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے،

    جس کے آفٹر شاکس ابھی تک جاری ہیں۔

    وڈیو کس نے جاری کروائیں؟

    وڈیوز جاری کروانے کے پیچھے مقاصد کیا تھے؟

    ان سوالات کا ابھی تک جواب آنا باقی ہے۔

    وڈیو آنے کے فورا” بعد سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں ۔

    کچھ لوگوں نے مبینہ طور پراسے مریم اور اسکی ٹیم کی کارستانی گردانا اور کچھ نے الزام ایجنسیوں پر لگانے کی کوشش کی۔

    مگر ایک بات جو فوری طور پر زہن میں آتی ہے،

    وہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں وڈیو زہن میں آتے ہی جو نام سب سے پہلے زہن میں آتا ہے،

    وہ مریم صفدر کا ہی ہے۔

    وجہ یہ ہے کہ مریم صفدر ببانگ دہل اس دھندے میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکی ہیں۔

    جج ارشد ملک مرحوم کی قابل اعتراض وڈیوز جاری کرنے کا اعزاز بھی محترمہ کو ہی حاصل ہے۔

    اس جج کو بلیک میل کر کے اپنی مرضی کے فیصلے بھی لئے اور بعدازاں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے اسکی وڈیوز بھی جاری کر دیں۔

    اس خاندان کی ججوں کو بلیک میل کر کے اور زاتی مفادات پہنچا کرمرضی کے فیصلے کروانے کی بہت پرانی تاریخ ہے۔

    ملک قیوم جیسے ججوں کے نام پر دھبہ افراد کے زریعے بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف کرواے گئے فیصلے کون بھول سکتا ہے؟

    مرحوم جج ارشد ملک کی وڈیوز کی ریلیز کے تاریخی موقع پر مریم صفدر نے ایک اور تاریخی اعلان بھی کیا تھا کہ ہمارے پاس بہت سی ایسی وڈیوز موجود ہیں،

    جو اس وقت جاری کی جائیں گی جب قائد محترم نواز شریف چاہیں گے۔

    یہ چیز حیران کن تھی کہ ایک بیٹی اعلان کر رہی تھی کہ اسکے باپ کے پاس کچھ ایسی وڈیوز ہیں،

    جن سے بوقت ضرورت مخالفین کو بلیک میل کرنے کا کام لیا جاۓ گا۔

    محمد زبیر کی وڈیوز کس نے جاری کیں،

    ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا۔

    کراچی میں کچھ وکلا نے محمد زبیر کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست دیتےہوۓ قانونی کاروائ کا مطالبہ کیا ہے۔

    دیکھتے ہیں کہ اس درخواست کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟

    محمد زبیر والی وڈیوز کی دوطرح کی انکوائری بہت ضروری ہے،

    تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

    ایک تو یہ پتہ چلایا جاۓ کہ محمد زبیر یہ کبیع فعل کس کے ساتھ اور کیوں کر رہا تھا؟

    کہیں وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کر کے کسی کا مجبوری کا فائدہ تو نہیں اُٹھا رہا تھا؟

    کیونکہ ان میں سے کچھ وڈیوز اس دور کی ہیں،

    جب زبیر بطور گورنر سندھ کام کر رہا تھا۔

    دوسری یہ چیز دیکھنی چاہیے کہ یہ وڈیوز کس نے جاری کیں اور اس کے پیچھے مقاصد کیاہیں؟

    غریدہ فاروقی،اقرار الحسن اور منصور جیسے کئی لبرلز صحافیوں کے نزدیک ،

    کہ اگر یہ گھناونا فعل باہم رضامندی سے ہوا تویہ زبیر کا نجی معاملہ ہے،

    لہذااس پر کاروائ کی ضرورت نہیں۔انکے مطابق صرف وڈیو جاری کرنے والے کو سامنے لانے کے لئے قانونی کاروائ کی ضرورت ہے۔

    یہ تھیوری اور سوچ بلکل غلط ہے،

    ہم جس معاشرے میں رہتےہیں،

    وہاں اس قسم کے گھٹیا کاموں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    زبیر کی وڈیو میں نظر آنے والا شرمناک کام نہ تو قانونی طور پر جائز قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر،

    ہمارہ معاشرہ پہلے ہی ان لبرلز کی وجہ سے تباہی کی طرف گامزن ہے۔

    یہ گھٹیا لوگ ایسے گھٹیا کاموں کے درست ہونے کا بھی جواز دینے لگے ہیں،

    جو ہماری سوسائٹی کی لیے تباہی کا باعث ہے،

    یہ رویہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

    یہ کام ہر طرح سے شرمندگی کا باعث ہے،

    خاص طور پر جب اسے کرنے والا ایک پبلک سرونٹ یا اہم سیاسی و سرکاری شخصیت ہو۔

    لبرلز کا بس چلے تو ہمیں یورپ میں پائ جانے والی بے ہودگی اور عریانیت کا حصہ بنا دیں،

    مگر اس ملک کے غیور عوام جو اپنی ملکی اور اسلامی اقدار کی اہمیت سمجھتے ہیں،

    وہ ایسا ہر گز ہونے نہیں دیں گے۔

    ہمیں وہ مادر پدرآزادی نہیں چاہیے۔

    جس سے ہم اپنے کلچراور اپنے آفاقی مذہب سے خدانخواستہ دور ہوتے جائیں۔

    ہمارے معاشرے میں بگاڑ کے لئے بہت سے مافیاز سرگرم ہیں۔

    آجکل نشر کئے جانے والے ڈرامے ہی دیکھ لیں۔

    ان ڈراموں میں موضوعات اور ڈائیلاگ و سین اتنے تھرڈ کلاس اور قابل اعتراض ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

    ان ڈراموں کو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا تک نہیں جا سکتا۔

    ان ڈراموں سے نوجوان نسل کو کھلم کھلا غلط پیغام دیا جارہا ہے،

    مستقبل کے معماروں کو مذہبی درخشندہ روایات کا باغی بنایا جا رہا ہے۔

    گھٹیا ڈراموں کےاس مکروہ دھندے ہر حکومتی خاموشی بھی ناقابل فہم ہے۔

    اس میں کوئ شک نہیں کہ ہر طرف مافیاز کی بھرمار سے حکومت بھی انڈر پریشر رہتی ہے،

    ایک مافیا پر ہاتھ ڈالا جاۓ تو کئی دوسرے مافیاز اسکی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں۔

    مگر حکومت اور قانون کے ہاتھ ان مافیاز سے لمبے ہوتے ہیں۔

    ان مافیاز کے خلاف کاروائ ضرور ہونی چاہیے تاکہ انہیں اپنی حدود اور قیود کا پتہ ہو۔

    کئی دفعہ یہ فیصلہ کرنا مُشکل ہو جاتا ہے کہ معاشرے میں بگاڑ اور تفاوت پیدا کرنے میں زیادہ کردار یہ منفی ڈرامے ادا کر رہے ہیں یا غریدہ جیسے نام نہاد اینکرز ،

    جو باہم رضامندی سے ہونے والے زنا کو جائز سمجھتے ہیں۔

    جیسا کہ محمد زبیر کی وڈیوز سامنے آتے ہی غریدہ نے اپنےٹویٹس میں کہا کہ وڈیو میں نظر آنے والا غلیظ کام اگر باہم رضامندی سے ہوا ہے تو بات دوسری ہے !

    یہاں بات دوسری ہے 

    سے مُراد غالبا” یہی ہے کہ مرضی سے کیا گیا گناہ ،

    گُناہ نہیں رہتا اور یہ کہ اسے چلنے دیں ،بس یہ تحقیق کر لیں کہ وڈیوز کیسے جاری ہوئیں؟

    ہمارے ملک میں صحافت کی بدنامی کا باعث بننے والے غریدہ جیسے ہی لوگ ہیں،

    جو ن لیگ پر اگر کوئ مصیبت آۓ تو اینکری چھوڑ کر ترجمان کا روپ دھار لیتے ہیں۔

    اور بات اگر پی ٹی آئ کی ہو تو انکا بغض ہر حال میں قائم رہتا ہے۔

    ریحام خان کی لچر قسم کی کتاب اور عائشہ گلالئی کے عمران خان پربے بنیاد میسیجز الزامات پر ہفتوں ٹاک شوز ہوتے رہے۔

    اب کہا جا رہا ہے کہ زبیر والے معاملے کی پروہ پوشی احسن اقدام ہوگا،

    حالانکہ وڈیوز میں ہر چیز پوری طرح عیاں ہے۔

    ان دوہرے معیارات نے ہمارے ملک کی صحافت کو رنڈی والا دھندا بنا دیا ہے۔

    پیسے کے بغیر نہ تو خبر دی جاتی ہے اور نہ ہی تجزیہ

    اور جب لفافہ مل جاۓ تو ایک خاص اینگل سے تبصرے کر کے حق لفافہ ادا کیا جاتا ہے۔

    محمد زبیر کی وڈیوز آنے کے بعد اسکا اپنا موقف بھی سامنے آچکا ہے،

    محمد زبیر کے مطابق یہ ایک پست زہنیت کی ڈاکٹرڈ ۔قسم کی فیک کاروائ ہے۔

    ویسے بائ دا وے،انجینئرڈ کاروائ کا تو سنتے رہتے ہیں،

    یہ ڈاکٹرڈ کاروائ کیا ہوتی ہے،؟

    اسکے بارے میں تو کوئ اس کام کا ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے،

    اور اس کام کا ڈاکٹر ،

    مریم صفدر سے بڑااور سپیشلسٹ اور کون ہو سکتا ہے؟

    جسکے پاس بقول اسکے اپنے،

    وڈیوز کی پوری لائبریری ہے۔

    محمد زبیر کو بھی ایک بار پھر اپنے قائد اور اپنے قائد کی بیٹی سے ہی رہنمائ لینا ہو گی،

    کہ یہ ڈاکٹرڈ ،کاروائ کیسے ہوئ؟#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • حضرت مولانا قاسم ناناتوی رحمہ اللہ کی حالات تحریر:تعریف اللہ

    حضرت مولانا قاسم ناناتوی رحمہ اللہ کی حالات تحریر:تعریف اللہ

    حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح کا اصل نام حورشید حسن تھا۰اپ رح ۱۲۴۸ میں ضلع سہارنپور کے قصبے نانوتہ میں پیدا ہوئے۰اپ رح کے والد اسدعلی بن غلام شاہ رح نہایت پرہیزگار اور صوم وصلوۃ کے پابند تھے۰اپ رح بچپن ہی سے سعادت مند ،ذہین اور محنتی تھے۰ابتدائی تعلیم قصبہ دیوبند میں حاصل کی پھر ۱۲۶۰ میں مولانا مملوک علی رح کے ہمراہ دہلی تشریف لے گئے اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کے چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ عبدالغنی سے علوم حدیث کی تکمیل کی۰بعد ازاں اپ رح شیخ المشائخ حضرت مولانا حاجی امداداللہ مہاجر مکی رح سے بیعت کی اور تصوف وسلوک کی منازل طے کرتے ہوئے خلعت خلافت حاصل کی۰اس روحانی نسبت نے اپ رح کے باطنی جوہروں کو خوب نکھاردیا۰اپ رح خوش مزاج اور عمدہ اخلاق کے مالک تھے۰

    حد درجہ منکسرالمزاج ،شہرت سے گریزاں،ریاء سے کوسوں دور تھے۰علم وعمل،زاہد وتقوی کے پہاڑ تھے اور بڑے مناظر تھے۰باطل قوتوں سے متعدد مناظرے کیے اور ہمیشہ کامیاب رہے۰اپ رح اپنے اور کے ایک عظیم محدث اور سچے عاشق رسولرسولﷺ تھے۰اپ رح نے حاجی امداداللہ مہاجر مکی رح کی قیادت میں اپنے رفقائےکار مولانا رشید احمد گنگوہی ،مولانا محمد یعقوب نانوتوی رح مولانا شیخ محمد تھانوی رح اور حافظ ضامن شہید رح سے مل کر انگریزوں کے خلاف جہاد میں بھی حصہ لیا۰انجام کار اپ رح کے کئ ساتھی شہید ہوئے اور کئ گرفتار ہوگئے۰

    جنگ آزادی کی شکست کے بعد اپ رح نے احیائے دین کا کام دوسرے انداز میں شروع کیا اور دارلعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی جہاں سے بے شمار تشنگان علم نے فیض پایا ۰دارالعلوم دیوبند کا قیام تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو علم وعمل کی دنیا میں ہمیشہ جگماتا رہے گا۰اس دارالعلوم کے فضلاء میں حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسن رح،علامہ انورشاہ کشمیری رح،علامہ شبیر احمد عثمانی ،مولانا حسین احمد مدنی،مفتی عزیزالرحمن عثمانی ،مفتی محمد شفیع ،مولانا عبیداللہ سندھی،اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمتہ اللہ علیھم جیسی ہزاروں مشاہیر شخصیات نکلیں جنہوں نے ایک عالم کو اپنے فیض چے منور کیا ۰بالاخر علم وعمل کا یہ افتاب ۴ جمادی الاول ۱۲۹۷ بروز جمعرات ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا۰

    حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح سے اتنی زیادہ محبت وعقیدت ہے کہ بہت زیادہ۰حالاں کہ دارالعلوم دیوبند کے دوسرے اکابرین سے بھی عقیدت ہے مگر حضرت نانوتوی رح کی طرف دل زیادہ کھنچتا ہے، ان کے ساتھ قدرتی محبت قلبی ہے جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ائمہ اربعہ میں امام اعظم رح کے ساتھ اور مشائخ عظام میں سے حضرت نقشبندی بخاری رح کے ساتھ محبت بہت زیادہ ہے۰اسی طرح حضرت نانوتوی رح کیساتھ محبت بہت زیادہ ہے۰حتی کہ ان کا نام آجائے تو پتہ نہیں مجھے کیا ہوجاتا ہے۰میں اس وقت مسجد میں بیٹھا ہوں ،باوضو بیٹھا ہوں،منبر پر بیٹھا ہوں اگر میں قسم کھا کر کہوں کہ مجھے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح کیساتھ اپنے باپ سے بھی زیادہ محبت ہے تو میں حانث نہ بنوں گا۰

    ایک مرتبہ اپ رح قطب عالم حضرت گنگوہی رح کے ہمراہ حج کیلئےجارہے تھے۰قافلے میں کوئی حافظ نہ تھا۰رمضان المبارک کا مہینہ اگیا ۰اپ رح روزانہ ایک پارہ حفظ کرکے رات کو تراویح میں سنادیتے تھے ۰کسی کو پتہ بھی نہ چلا اور صرف ایک ماہ کی محتصر مدت میں پورا قران پاک حفظ بھی کرلیا۰

    استاد کا ادب:ادب کی کیفیت یہ تھی کہ مولانا ذوالفقار علی رح جب بیماری میں اپ کے پاس اتے تو اپ رح اٹھ کر بیٹھ جاتے تھے۰ایک مرتبہ مولوی صاحب نے دریافت کیا،حضرت !اپ ایسا کیوکرتے ہیں؟تو فرمایا،حضرت!اس لیے کہ اپ میرے استاد ہیں ۰انہوں نے کہا :میں کہاں استاد ہوں؟فرمایا ایک مرتبہ مولانا مملوک علی رح کسی کسی کام میں مصروف تھے تو اپ سے فرمایا تھاکہ ان کو ذرا کافیہ کا سبق پڑھادو  اس لیے اپ میرے استاذ ہوئے۰

    پیر کے ہم وطن ادمی کا احترام:تھانہ بھون کے ایک شحص کو اہل علم سے محبت تھی۰اس نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کو بتایا کہ ایک دفعہ میں دیوبند میں مولانا قاسم نانوتوی رح کی مجلس میں حاضر ہوا۰مولانا نے فارغ ہوکر پوچھا ،کہاں سے ائے ہو؟میں نے کہا ،تھانہ بھون سے ایا ہوں ۰یہ سن کر گھبرا کر فرمایا کہ بے ادبی ہوئی،وہ میرے پیر کا وطن ہے۰اپ ائے اور میں بیٹھا رہا اپ مجھے معاف کیجئے۰

    شان مسکنت:ایک طالب علم نے حضرت نانوتوی رح کی دعوت کی ۰اپ رح نے فرمایا کہ ایک شرط پر منظور ہے کہ خود کچھ مت پکانا ،گھر میں جوءتمھاری روٹیاں مقرر ہیں وہی ہمیں بھی کھلا دینا۰اس نے منظور کرلیا۰یہ ہے شان مسکنت اور غربت وانکساری اور عاجزی  کہ اتنا بڑا شحص اور اس طرح اپنے کو مٹائے ہوئے تھا۰

    @Tareef1234

  • پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    امریکہ افغانستان سے چلا تو گیا ہےلیکن وہ ابھی بھی افغانستان کے معاملات سے خود کو بے دخل کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ اس خطے میں اس کا Interest
    ہے کیونکہ امریکہ کے سپر پاور ٹائٹل کے لئے جو سب سے بڑا خطرہ سر اٹھا رہا ہے اس کا تعلق بھی اسی خطے سے ہے۔ اور اس خطرے کا نام چین ہے جسے کچلنے کے لئے اس وقت امریکہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور اس جنون میں امریکہ کی حالت اس وقت کسی خونخوار جانور سے کم نہیں ہے۔چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی وجہ سے ہی امریکہ میں افغانستان کے معاملے کو لیکر کافی مختلف طرح کی آراء گردش کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے انخلا کے معاملے پر امریکی سینیٹ میں فوجی قیادت اور وزیر دفاع کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

    امریکی سینیٹ میں کیا کاروائی ہوئی؟ وہ کونسی شخصیات ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ افغانستان سے تمام فوجی نکالنا، جو بائیڈن کا غلط فیصلہ ہے؟افغانستان کے معاملے پر تین اہم ممالک کیا سوچ رہے ہیں؟پاکستان پر امریکہ کو غصہ کیوں ہے کیوں وہ پاکستان کر پابندیاں لگانے کی بات کر رہا ہے؟آپ کو یاد ہوگا کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران 26اگست کو کابل ایئرپورٹ کے گیٹ پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جی ہاں وہ کابل ائیر پورٹ جو اس وقت امریکی فوج کی زیر نگرانی تھا اس حملے میں 182 افراد ہلاک ہوئے تھے ان ہلاک ہونے والوں میں
    169افغان شہری جبکہ 13 امریکی فوجی شامل تھے۔جس کے بعد اب امریکی سینیٹ کمیٹی برائے مسلح افواج نے چھ گھنٹے تک افغانستان سے امریکی انخلا اور کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے بارے میں امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرلMark Alexander Milleyامریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل Kenneth Franklin McKenzieاور وزیر دفاعLloyd James Austinسے کافی سخت سوالات کئے گئے۔ لیکن آپ کو یہ جان کرحیرت ہوگی کہ اپنے جوابات میں Mark MilleyاورKenneth McKenzieنے واضح طور پر یہ بتایا کہ انھوں نے افغانستان میں 2500امریکی فوجی برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔ کیونکہ وہ 2020 کے آخر میں اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ افغانستان سے فوجیوں کے تیز تر انخلا سے افغانستان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ البتہ انھیں یہ امید نہیں تھی کہ یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا۔جبکہ صدر جو بائیڈن نے 19 اگست کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ انھیں یاد نہیں کہ کسی نے انھیں ایسا مشورہ دیا ہو۔اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹریJen Psakiکا بھی بیان سامنے آیا کہ صدر جوبائیڈن کو افغانستان سے متعلق تقسیم شدہ رائے ملی تھی۔ لیکن بالاخر فیصلہ کمانڈر انچیف کا ہوتا ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ 20 سالہ جنگ ختم کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ صدر بائیڈن جوائنٹ چیفس اور فوج کے مخلصانہ مشوروں کی قدر کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمیشہ اس سے اتفاق کریں۔

    جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ خود امریکی فوجی افسران یہ بات جانتے تھے کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد وہاں سے حکومت ختم ہو جائے گی اور طالبان قبضہ کرلیں گے لیکن صدر جوبائیڈن نے ان کی بات کو نظر انداز کرکے خود فیصلہ لیا تو اس سب کے بعد وہ پاکستان پر الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ یہ سب پاکستان کی وجہ سے ہوا۔پاکستان وہ ملک ہے جو کبھی بھی براہ راست افغانستان میں ہونے والی جنگ کا حصہ نہیں رہا لیکن نقصان سب سے زیادہ پاکستان کا ہی ہوا۔ ہم نے اس جنگ کی وجہ سے 80 ہزار جانیں قربان کیں اور اپنی معیشت تک تباہ کروائی۔ اس کے علاوہ امریکہ جو ہمارا اتحادی ہونے کا دعوی کرتا تھا اس نے ہمارے اوپر 450 سے زائد ڈرون حملے کیے اور ساتھ ساتھ Do more کا مطالبہ بھی چلتا رہا۔ اور اب ایک بار پھر امریکہ نے اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کا ہی مکو ٹھپنے کی تیاریاں پکڑ لیں ہیں۔ امریکی سینیٹ میں 22ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا جس کا نام ہےAfghanistan counter terrorism, over-sight and accountability actاس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام جائزہ لیں کہ 2001سے لے کر 2020 کے دوران پاکستان سمیت طالبان کو مدد فراہم کرنے والے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا کردار کیا تھا جس کا نتیجہ افعانستان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا اور اس میں طالبان کو محفوظ پناہ گاہوں، مالی اور انٹیلیجنس مدد، طبی ساز و سامان، تربیت اور تکنیکی یا سٹریٹجک رہنمائی کا معاملہ بھی شامل ہو۔اس کے علاوہ بل میں طالبان کے خلاف مقابلے کے لیے اور طالبان کے پاس امریکی ساز و سامان اور اسلحے کو واپس حاصل کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ سے ان معاملات کی تحقیقات کے بعد 180دن میں پہلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ اور طالبان کا ساتھ دینے والے عناصر پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اس معاملے میں دو چیزیں بہت اہم ہیں ایک تو یہ کہ پاکستان کا نام خاص طور پر اس بل میں شامل کیا گیا ہے یعنی کہ یہ کوئی اشارہ یا تنبیہہ نہیں ہے بلکہ ڈائریکٹ پاکستان کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔اور دوسرا اہم پوائنٹ یہ ہے کہ امریکی سینیٹ میں اس وقت ڈیموکریٹک اور رپبلکن سینیٹرز کی تعداد برابر ہے دونوں کے5050ممبران ہیں ایسی صورت میں کسی بل کو پیش کرنے اور اس کو منظور کرانے کے لیے اکثریت نہ ہونے کی صورت میں نائب صدر کملا ہیرس کا حتمی ووٹ استعمال کیا جائے گا۔ اور ان کا ووٹ پاکستان کی حمایت میں آنا تو بہت مشکل ہے۔

    اب حیرت تو اس چیز پر ہے کہ امریکہ جس نے افغانستان میں خود آنے کا فیصلہ کیا۔پھر وہاں اربوں ڈالر بھی خرچ کئے۔افغان حکومت بھی امریکہ کی بنائی ہوئی تھی۔افغانستان میں فوجیوں کی بھرتیاں اور ٹریننگ بھی امریکہ نے کی جو ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔دوسری طرف سب جانتے ہیں کہ پاکستان سے طالبان کی قیادت کو رہا کرنے کا مطالبہ کس کا تھا؟ دوحا میں طالبان سے معاہدہ کس نے کیا اور ان کی واشنگٹن ڈی سی میں میزبانی کس نے کی؟جب یہ سب کچھ امریکہ کرتا رہا ہے تو قصور پاکستان کا کیسے ہو گیا۔ لیکن میں آپ کو بتاوں کہ اس بل کو پیش کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ایک تو امریکہ کی لوکل سیاست ہے کیونکہ اگلے ایک سال میں امریکہ کے Mid term elections ہونے ہیں اور رپبلکن پارٹی نے ان الیکشنز کا سوچ کر ہی Popularity
    حاصل کرنے اور سیاست کھیلنے کے لئے یہ بل پیش کیا ہے۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بل کو وجہ بناتے ہوئے پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔اس بات کے بہت زیادہ چانسز ہیں کہ جو بائیڈن انتظامیہ پاکستان کو یہ کہے کہ یہ بل رپبلکن پارٹی نے پیش کیا ہے اس میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن آپ بتائیں کہ آپ ہمیں کیا دے سکتے ہیں تاکہ ہم اس کی مدد سے اس بل کو روک سکیں۔اب بات آتی ہے چین کی امریکہ چین کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور کیونکہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی اور یہاں پر جاری سی پیک کی وجہ سے امریکہ کو ویسے ہی پاکستان اور چین پر بہت غصہ ہے۔ اور اپنی ناکامی کی وجہ سے امریکہ بالکل بوکھلایا ہوا ہے کہ کیسے اس کا سارا کا سارا الزام کسی اور ملک پر ڈال دیا جائے اس لئے اس معاملے میں پاکستان کا انتخاب کیا گیا ہے کہ ایسے ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے پاکستان بھی اور چین بھی۔ پاکستان کو ویسے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ معیشت کا برا حال ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے اور ایسی صورتحال میں اگر امریکہ پاکستان پر پابندیاں لگاتا ہے تو سوچ لیں کہ حالات کئی گنا زیادہ خراب ہو سکتے ہیں اور جتنے حالات خراب ہوں گے سی پیک پر کام اتنا ہی متاثر ہو گا اور امریکہ کو چین کا راستہ روکنے میں اتنی ہی آسانی ہو گی۔لیکن پاکستان اور چین کو بھی یہ بات بہت اچھے سے سمجھ آ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے پر دونوں ممالک نے بہت محتاط رویہ اپنایا ہوا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس حوالے سے موقف اپنایا ہے کہ اگر طالبان نے شمولیتی حکومت قائم نہ کی تو آنے والے دنوں میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک غیر مستحکم اور انتشار کا شکار افغانستان کی صورت میں نکلے گا۔اور چینی وزارت خارجہ نے بھی بیان دیا ہے کہ چین امید کرتا ہے کہ افغانستان میں تمام دھڑے مل کر اپنی عوام اور بین الاقوامی برادری کی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں گے اور ایک شمولیتی سیاسی ڈھانچہ کھڑا کریں گے۔پاکستان اور چین کے علاوہ روس کے وزیر خارجہ نے بھی اسی سے ملتا جلتا بیان دیا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان نے جو وعدے عوامی طور پر کیے ہیں انھیں پورا کیا جائے۔ ہماری پہلی ترجیح یہی ہے۔یہ تینوں وہ ممالک ہیں جنھوں نے دوحہ امن مذاکرات اور طالبان کی عبوری حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت کی بظاہر حمایت بھی کی تھی۔

    اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اب کی بار خاموش ہیں حالانکہ جب پہلے طالبان کی حکومت آئی تھی تو پاکستان کے ساتھ انھوں نے بھی اس کو تسلیم کیا تھا۔ دراصل اب کی بار یہ سب جانتے ہیں امریکہ اس وقت بہت غصے میں ہے اور ایسی صورت میں اگر ایک مرتبہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا تو یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکے گا۔ اس کے بعد ان ممالک کو اپنے فیصلے کا دفاع ہی کرنا ہو گا۔ اس لئے ان ممالک کے لیے فی الحال یہی بہتر ہے کہ یہ انتظار کریں۔ خاص طور پر پاکستان کیونکہ چین اور روس تو پھر بھی معاشی طور پر مضبوط ملک ہیں امریکہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ہے اور وہ اپنی عزت بچانے اور غصہ اتارنے کے لئے کسی بھی حد تک پاکستان کے خلاف جا سکتا ہے۔

  • جمہوریت اور پاکستان تحریر فیضان احمد

    جمہوریت اور پاکستان تحریر فیضان احمد

    ھمارے ملک پاکستان میں جس طرح سے جمہوریت پنپی ھے اس کی وجہ سے جمھوریت کے اصل فوائد عام عوام تک نھیں پہنچ پاۓ ۔ 

    جمھوریت واقعی اگر صحیح معنوں میں کسی معاشرے کا حصہ ھو تو بہترین طرز معاشرت کو کامیابی کے ساتھ دنیا میں رائج کر سکتی ھے ۔ لیکن ھمارے ھاں کسی اور ھی درجے کی جمہوری روایات دیکھنے کو ملتی ھیں ۔ 

    جیسا کہ کوئ شخص ممبر پارلیمنٹ بنتا ھے ۔۔ تو پھر یہ ایک عمومی بات ھے کہ پھر اسکا پورا خاندان ھی ممبر پارلیمنٹ کے طور پر خود کو گردانتا ھے ، اور حیران کن طور پر جو موصوف خود پارلیمنٹ کا حصہ ھوتے ھیں اور جو کسی حلقہ کے عوام کے نمائندے کے طور پر وھاں بیٹھتے ھیں وہ خود بھی سب سے پہلے اپنے خاندان کو ھر محکمے میں "سیٹ” کرواتے ھیں ۔

     اور دیکھا جاۓ تو معاشرے کی جمہوری اقدار اس سطح تک گر چکی ھیں کہ عام عوام کے منہ سے یہ تک سننے کو مل جاتا ھے کہ فلاں ایم پی اے یا ایم این اے اپنے بھائی کے لیے کچھ نھیں کر سکا تو ھمارے لیے کیا کرے گا ۔ 

    اور پھر اگر کوئ ممبر پارلیمنٹ کسی کا سفارشی کام نہ کروا سکے یا نہ کروانا چاھے تو سننے کو یہ ملتا ھے کہ اس کی تو کہیں چلتی ھی نھیں ۔۔ یعنی معاشرہ چاھتا ھی یہ ھے کہ ان کا نمائندہ کچھ بھی کر کے انکا ناجائز مطالبہ بھی پورا کرواۓ ۔ 

    ایک بہت بڑی خلیج محسوس ھوتی منتخب نمائندگان اور عوام کے باھمی تعلق میں ، عوام سمجھتی ھے کہ جسکو ممبر پارلیمنٹ بنا دیا ھے وہی شاید اب کرتا دھرتا ھے انکا ، ادھر سے منتخب نمائندگان بھی عوامی طاقت کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنا جانتے ھیں ۔ جبکہ اگر وہی نمائندہ اپنی عوام کو اداروں کا کردار ، اپنی آئینی دائرہ کار میں رھتے ھوۓ "طاقت” کے بارے میں بتا دے تو شاید وہ معاشرے میں کچھ بہتری لا سکے اس حوالے سے ۔ 

    جب کہ ان منتخب نمائندوں کو اگر پارلیمنٹ کا حصہ بننے سے پہلے جمھوری اقدار ، اداروں کا صحیح اور آئینی دائرہ کار ، پاکستان اور بین الاقوامی تاریخ ، اور کامیاب جمھوری ممالک کی جمھوریت کے بارے میں تعلیم یا ٹریننگ کے کسی خاص اور "اسمبلی ممبر” کوالیفکیشن کی طرح کا کچھ پروگرام اگر لازم قرار دے دیا جاۓ تو آنے والے تمام اسمبلی ممبران چند سالوں میں شاید اس مملکت خداداد کے اپنے اپنے حلقے کی جمھوری روایات کے سلسلے میں بہت کچھ بہتر کر لیں گے۔  

    اور ھو سکتا ھے کہ پھر جو ھمارے ملک میں کبھی کبھی قوم کی بجاۓ ایک ھجوم دکھائ دیتا ھے ، اسکی Moral values میں بھی مزید ڈیویلپمنٹ دیکھنے کو ملے۔ اس سب کے لیے یقیناً کچھ دھائیاں درکار ھوں گی ، لیکن بہرحال بہتری بھی ممکن ھے ۔ جہاں اگر سنگل نیشنل کریکولم کے ذریعے نئ آنے والی نسل کو "قوم” بنانے کا بہترین بیج بویا گیا ھے ۔۔ اسی طرح ممبر پارلیمنٹ کی ٹریننگ کا کوئ لازم "کورس” سٹارٹ کر کے موجودہ قوم کی سمت بھی درست کی جاسکتی ھے ۔

    خیر اللہ پاک سے دعا ھے کہ ھم اپنی آنکھوں سے جمہوریت کے واقعتاً ایسے فوائد دیکھ لیں جو کہ مغربی ممالک میں لوگوں کو حاصل ھیں ۔ورنہ جو حالات ھیں وہ بحر حال پھر سے خلافت(صدارت) والا سسٹم مانگتے ھیں . اور سسٹم کی تبدیلی بسا اوقات خونی انقلاب مانگتی ھے ، اور تاریخ اسطرح کے انقلابوں کی بہت تکلیف دہ ھی سننے کو ملتی ھے ۔ امید ھے اس بلاگ میں دی گئ تجویز کسی ایسے شخص کی نظر سے گزر جاۓ جو اس پر بے شک مزید کام کر کے آگے کہیں متعلقہ قومی ادارے یا تھنک ٹینک کو دے سکے تو میری اس تحریر مقصد پورا ھو جاۓ ۔ 

    پاکستان پائندہ باد
    | Faizan Ahmad

    Twitter:@iamfzalik

  • کیا کشمیر آزاد ہو پائے گا؟ تحریر اریبہ شبیر

    کیا کشمیر آزاد ہو پائے گا؟ تحریر اریبہ شبیر

    کوئی مانے یا نہ مانے لیکن میں کہتی ہوں اگر دنیا میں کوئی جنت ہے تو وہ کشمیر ہے۔ اور جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی ان شاء اللّٰہ۔ دنیا کی سر زمین پر بنی ہوئی یہ حسن کی وادی اپنے آپ میں بے مثال ہے۔ کشمیر جنت نظیر ہے۔ وہ کشمیر جس میں سر سبز و شاداب میدان ہوا کرتے تھے وہ کشمیر جس میں سکون کی وادیاں ہوا کرتی تھیں وہ کشمیر آج جل رہا ہے۔ آج وہاں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ آج وہاں آگ اور خون کا طوفان ہے۔ پھولوں کی خوشبو کی بجائے بارود کا دھواں اپنے پھن پھیلائے کھڑا ہے۔

    آگ اور خون کا یہ کھیل ابھی تک جاری ہے۔ اور یہ کھیل کوئی آج کا کھیل نہیں ہے بلکہ بھارت پچھلے ستر سالوں سے کشمیر میں آگ اور خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ بھارتی فوج کشمیریوں پر گولیوں کی برسات کر رہی ہے۔ ان کے مکانوں کو نذر آتش کر رہی ہے۔ اس وقت کشمیر میں گرفتاری، قتل و غارت، خون خرابہ جلسوں اور ریلیوں پر اندھا دھند فائرنگ عام ہے۔ بھارتی فوج کشمیریوں کے گھر میں گھس کر ان کے مکانوں کو توڑ رہی ہے دکانوں کو نذر آتش کر رہی ہے۔ ان کے گھروں پر چھاپے مارکر سازوسامان لوٹ رہی ہے۔ کشمیریوں کے گھر میں کوئی شہید ہو جائے تو بھارتی فوج انھیں اٹھا کر لے جاتی ہے۔ باپ کو بیٹے کی میت کو سہارا دینے پر اپنی بربریت کے مظاہرے شروع کر دیتی ہے۔ 

    اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری ہلاک اور سات لاکھ سے زائد زخمی اور اپاہج ہو چکے ہیں۔ سارے کشمیری بھارت کی بربریت اور ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ کیا بھارت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟ کیا کوئی بھارت کو اس ظلم و ستم سے روکنے والا نہیں ہے؟ کوئی کشمیر کے لیے کچھ بولتا کیوں نہیں؟ پورے عالمِ دنیا میں کوئی کشمیر کے لیے آواز نہیں اٹھاتا۔ کیا بھارت کو روکنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا؟ روز ٹی وی پر اور سوشل میڈیا پر بھارتی فوج کی کشمیر پر ظلم و ستم کی داستان دکھائی جاتی ہے ہر لوکل اور انٹرنیشنل چینل اس کی بربریت کے مظاہرے دکھاتا ہے جسے دیکھ کر ہر عام آدمی کا دل پسیج جاتا ہے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ دیکھ کر دل پھٹ جاتا ہے لیکن اگر کسی کو فرق نہیں پڑتا تو وہ ہے بھارتی فوج۔ اگر کسی کو ان مظالم سے فرق نہیں پڑتا تو وہ ہے عالمی ادارہ برائے حقوقِ انسانی۔ پوری دنیا کے لیے بڑی شرم کی بات ہے کہ مسئلہ کشمیر پر نہ تو برطانیہ کچھ بولتا ہے نہ دنیا کی سپر پاور امریکہ۔ عالمی ادارہ برائے حقوقِ انسانی اس وقت آنکھیں بند کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتے دیکھ رہا ہے۔ اس بار موجودہ حکومت نے اقوامِ متحدہ میں عالمی فورم پر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے جو ہمیشہ کی طرح بھارت کی بربریت میں دب کے رہ گئی ہے۔ 

    مسئلہ کشمیر صرف دو چار لوگوں کی زندگی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ دو کروڑ کشمیریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ یہ پاکستانیوں کی آزادی کا مسئلہ ہے اس کی سلامتی اور استحکام کا مسئلہ ہے۔ کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ کہا جاتا ہے اور شہ رگ کے کٹ جانے سے سارا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ عمران خان نے جس طرح اقوامِ متحدہ میں کشمیر کا موضوع اٹھایا ہے اب سارے کشمیریوں کی توقعات عمران خان سے جڑی ہیں۔ عمران خان مودی سرکار کے لیے ایک برا وقت بن کر ابھر رہا ہے۔ بھارت کشمیریوں پر جتنے بھی ظلم کے پہاڑ توڑ دے لیکن پاکستانی قوم ہمیشہ کی طرح کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ لیکن میرا اقوام متحدہ سے یہ سوال ہے کہ کیا کبھی کشمیر آزاد ہوگا؟ کیا کبھی کشمیر پر ظلم و ستم کے بادل کم ہوں گے؟ کیا کشمیری بارود اور بمباری کے دھواں کی بجائے پھولوں کی مہک میں سانس لے سکیں گے؟ اور کیا کشمیر عالمی دنیا میں اپنا ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے جگہ بنا پائے گا؟

    @alifsheen_5