بلدیاتی ادارے وہ ادارے ہیں جہاں لوگوں کو ہر دوسرے دن کام پڑتا رہتا ہے ایک کسی کی وفات کسی کی پیدائش کا اندراج کروانا پورے شہر کو صاف ستھرا رکھنا اور ایسے بہت سے کام بلدیاتی اداروں میں کیا جاتے ہیں لیکن عوام کو جو سب سے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ہے صفائی ستھرائی کا نظام بڑے شہروں میں تو بلدیاتی اور پرائیویٹ ادارے ایکٹو
رہتے ہیں اور صفائی ستھرائی کا کام بہت اچھے طریقے سے نبھاتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور کوئی پوچھے گا بھی کیوں کیونکہ وزیروں نے تو بڑا شہر میں داخل ہوتا ہے نہ چھوٹے شہر میں کوئی داخل ہوگا نہ کسی کو اس چیز کی خبر ہوگی اور غلطی سے کوئی اگر چھوٹے شہروں میں صفائی ستھرائی کے لیے کمپلین بھی کر دیتا ہے تو تب بھی صفائی ستھرائی نہیں کی جاتی کیونکہ ان سے جواب طلب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ان سے پہلے تک جتنی حکومتی گزری انہوں نے کبھی اس چیز پر غور نہیں کیا بڑے شہروں میں تو سب غور کر لیتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کی فریاد کوئی نہیں سنتا سن 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی اور یہ سلسلہ شروع ہوا اس وقت سے سنتے آرہے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن ہوں گے کب ہوں گے یہ کسی کو نہیں پتا لیکن اس حکومت سے بھی میرا وہی گلا ہے جو پچھلی حکومتوں سے رہا ہے پاکستان تحریک انصاف بھی بڑے شہروں کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی ہے یا ان کے نمائندے رکھتے ہیں لیکن چھوٹے شہروں کے فریاد سننا ان کے لئے باعث شرم ہے آج اگر ان میں کوئی لاہور سے کمپلین کرتا ہے تو یہ بھاگ کر اس کمپلین کو رجوع کرتے ہیں لیکن اگر کوئی وہی کمپلین چھوٹے شہر سے کرتا ہے تو یہ صرف اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں صرف اس لئے کہ ہمارا اس شعر سے کیا مطلب کیونکہ ان کو مقبولیت تو بڑے شہروں سے مل نہیں ہوتی ہے چھوٹے شہروں کے ان کا کیا لینا دینا سننے میں آرہا ہے کہ جنوری دو ہزار بیس میں بلدیات کے الیکشن ہوں گے میں امید کرتا ہوں اس سے پہلے پہلے ہر شہر میں بلدیات کے لیے فوکل پرسن تعینات کر دیا جائے گا حکومت پنجاب کی طرف سے تاکہ چھوٹے شہروں کے بھی معاملات کو حل کیا جا سکے اگر حکومت پنجاب یہ اقدام سر انجام دیتی ہے تو مجھے امید ہے لوگوں کے 80 فیصد معاملات یہی پر حل ہو جائیں گے اور جب حکومت پنجاب فکر پرسنٹ کائنات کر دے گی بلدیات کے لیے ہر شہر میں تو فوکل پرسن ہر بلدیات کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹیوٹر اکاؤنٹ بنوائے گا جس سے اس شہر کی عوام گھر بیٹھے اپنے مسئلے ٹوئٹر پر شیئر کریں گے فوکل پرسن کو اور بلدیات کے اداروں کو ٹھیک کرتے ہوئے اور فوکل پرسن ان مسلوں کو جلد از جلد حل کروانے کی کوشش کرے گا اس طرح سے ہر شہر کی کاردگی بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائیگی کیونکہ لاہور میں بیٹھے گورنمنٹ پنجاب کے افسروں کو نہیں پتا کے چھوٹے شہروں میں کہاں پر کام نہیں ہو رہا اور کہاں پر توجہ کی ضرورت ہے یہ کام صرف اسی شہر کے نمائندے ہی کر سکتے ہیں اور یہ کام حکومت پنجاب کو کرنا چاہیے اگر وہ بلدیات کا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں تو اگر ایسا نہ کیا گیا تو بہت سے شہروں میں بہت سے معاملات ہیں جن کی بنا پر بہت سے شہروں سے تحریک انصاف الیکشن ہار سکتی ہے لیکن اگر یہ اقدام اٹھایا جائے تو عوام کے لیے بھی سہولت ہو جائے گی اور حکومت پنجاب کی کارکردگی بھی بہتر ہو جائے گی
Twitter: @usamajahnzaib
Category: بلاگ
-

بلدیاتی الیکشن اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی تحریر : اسامہ خان
-

سیرت نبیﷺ تحریر:غلام نبی بلوچ
تحریر:غلام نبی بلوچ
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں حضرت آدم سے لے کر خاتم نبی حضرت محمدﷺ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار پغمبر بھیجے۔ان پغمبروں میں زیادہ تر نبی تھے اور رسول قلیل تعداد میں۔نبی اور رسول میں بنیادی فرق یہ ہے نبی سابقہ شریعت کی پیروی کر کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچاتا جبکہ رسول صاحب شریعت یعنی ایک نئ شریعت لے کر لوگوں تک رب العالمین کا پیغام پہنچاتا۔ہر رسول کو نبی کہ سکتے ہیں لیکن ہر نبی کو رسول نہیں کہ سکتے۔حضرت محمد خاتم النبیینﷺ سے پہلے انبیاء اکثر وبیشتر اللہ کا پیغام مخصوص بستیوں اور قبیلوں میں پہنچاتے تھے اور بیک وقت ایک سے زائد انبیاء بھی ہوتے تھے۔لیکن اللہ کے محبوب حضرت محمدﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔حضرت محمدﷺ چند بستیوں یا قبیلے کے لیے پغمبر بنا کر نہیں بھجے گۓ۔حضرت محمدﷺ پوری دنیا کے لیے پغمبر بنا کر بھیجے گۓ۔
نبوت سے پہلے کی زندگی:
حضرت محمدﷺ 20 اپریل 571 عیسوی کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوۓ۔آپﷺ کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ ماجدہ کا نام بی بی آمنہ تھا۔آپ کے والد عبداللہ وفات پا چکے تھی آپ کی تربیت آپ کے دادا عبدالمطلب نے کی۔جب آپ چھ برس کی عمر کو پہنچے والدہ کا انتقال ہوا۔آٹھ برس کی عمر میں آپ کے دادا کا انتقال ہوا تو پرورش آپ کے چچا ابو طالب نے اپنے سپرد لیا۔آپ نے اپنے چچا کے ساتھ تجارت کی غرض سے دوسرے ملکوں کا سفر کیا جس میں بصرہ اور شام شامل ہیں۔حضرت محمدﷺ کی ایمانداری سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہ نے آپ سے نکاح کر لیا۔حضرت خدیجہ ایک بیوہ خاتون تھی۔نکاح کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال اور آپﷺ25 برس کے تھے۔آپﷺ ہمیشہ سچ بولتے تھے اور امانت میں خیانت نہیں کرتے تھے اس لیے مکہ کے لوگوں نے آپ کو صادق اور امین کا لقب دیا۔
نبوت کے بعد کی زندگی:
جب آپﷺ چالیس سال کے ہوۓ تو اللہ نے آپ کو نبوت جیسے عظیم نعمت سے نوازا۔غار حرا میں آپ پر پہلی وحی مبارک نازل ہوئی۔آپﷺ کی نبوت پر سب سے پہلے حضرت خدیجہ،حضرت ابوبکر صدیق،حضرت علی،حضرت زید بن حارث،حضرت عثمان بن عفان،سعد بن ابی وقاص، طلحہ بن عبیداللہ، عبدالرحمٰن بن عوف، ابو عبیدہ بن جراح اور زبیربن العوام ایمان لاۓ۔آپﷺ نےاسلام کی تبلیغ شروع کی تو مکہ کے لوگ آپﷺ کے دشمن ہوگۓ۔دشمنی کی انتہا یہاں تک تھی کہ مکہ کے لوگ آپﷺ کےقتل کےمنصوبے بنانے لگے۔مسلمانوں پر ظلم و تشدد کیا جاتا۔اس وجہ سے کچھ صحابہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گۓ۔أپﷺ نے بھی حضرت ابوبکر کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔مدینہ پہنچنے سے پہلےآپﷺ نے قبا کےمقام پر قیام کیا اور مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔اس کے بعد آپﷺ مدینہ پہنچے اور مہاجرین و انصار میں رشتہ مواخات قائم کر دیا۔ آپﷺ کی قیادت میں ہونے والے غزوات میں غزوہ بدر،غزوہ احد،غزوہ خندق,غزوہ خیبر اور غزوہ حنین نمایاں ہیں -آپﷺ کی قیادت میں مسلمانوں نے نہ صرف کفار مکہ کو شکست دے کر 8 ہجری میں مکہ فتح کر لیا بلکہ اس پہلے اور بعد میں دیگر قبائل کو اپنا فرمانبردار بنایا۔آپﷺ نے 10 ہجری میں حج بیت اللہ ادا کیا جسے حجتہ الوداع کہتے ہیں۔آپﷺ 63 برس کی عمر میں وفات پاگۓ۔آپﷺ کو اسی حجرے میں سپردخاک کیا گیا جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی تھی۔آپﷺ کا روضہ مسجد نبوی کے اندر واقع ہے۔
آپﷺ کی چند ازواج مطہرات کے نام درج ذیل ہیں:
حضرت خدیجہ بنت خویلد،حضرت سودہ،حضرت عائشہ بنت ابی بکر،حضرت حفضہ بنت عمر،حضرت زینب بنت خزیمہ،حضرت زینب بنت حجش،حضرت جویریہ بنت حارث،حضرت میمونہ بنت حارث،حضرت صفیہ۔
آپﷺ کے بیٹوں کے نام درج ذیل ہیں:
قاسم،عبداللہ اور ابراہیم۔
آپﷺ کے بیٹیوں کے نام درج ذیل ہیں:بی بی فاطمہ،بی بی زینب، بی بی ام کلثوم اور بی بی رقیہ
Twitter id: @GN_bloch
-

ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب۔۔۔ ہنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے ادبی است تحریر عقیل احمد راجپوت
شہنشاہِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ان کی کے جن کی خاطر دنیا تخلیق کی گئی وہ جو نبیوں کے سردار ہیں وہ جو رحمت اللعالمین ہیں کے جن کے آنے سے قیصر و کسریٰ کے درباروں میں زلزلہ آگیا وہ جو یتیم مکہ ہوکر آقائے دو جہاں ہیں وہ کے ان کی آمد اس وقت ہوئی جب پورا جہاں بدکاریوں میں ڈوب چکا تھا لڑکیوں کو ذندہ درگور کرنے والے معاشرے میں محبت اور امن کا پیغام لیکر آنے والے میرے تمہارے ہم سب کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو امت مسلمہ کو بھائی سے بھائی کو ملانے آئے کالے اور گورے کا فرق مٹانے والے چاند کو دو ٹکڑے کرنے والے سر سے پاؤں تک لہو لہان کرنے والوں کے لئے بھی بددعا نا کرنے والے محمد کے کیا کہنے
وہ کے جن ہونے کی سعادت نصیب کرنے والی وہ اونٹنی جو کمزور اور آہستہ آہستہ مقام پر پہنچا کرتی تھی وہ ایسے بھاگی کے طاقتور اونٹ کے مالکان دیکھتے رہ گئے
حلیمہ کی بکریوں نے اتنا دودھ دیا کے برتن ختم ہو گئے دودھ آنا ختم نہیں ہوا
وہ کے جن کے غلام بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کی بیٹی فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کے نواسے حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہمیرے آقا میرے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کیا کہنے وہ جو عرشِ بریں پر جوتیا پہن کر گئے وہ جہاں براق کا اختتام ہوا جہاں جبرائیل امین کے جانے کی حد ختم ہو وہاں میرا اور آپکا نبی اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو اپنی امت کی بخشش کی ہر دعا میں اللہ سے سفارش کرنے والا میرا آپکا نبی کریم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم.
کچرہ پھینکنے والی عورت کی تیمارداری کرنے جانے والے رحمت اللعالمین محمد جنت میں جن کے ہاتھوں سے حوض کوثر کا پانی نصیب والوں کو ملے گا
دین اور دنیا کا خلاصہ کرکے امت کو راہِ حق دکھانے والے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم فاقوں میں اللہ کا شکر ادا کرنے والے محمد کافروں میں بھی صادق اور امین کہلاتے والے محمد اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کا طریقہ بتانے والے محمد اپنے آخری وقتوں میں بھی امت امت پکارنے والے محمد پر لاکھوں کروڑوں درود وسلام
انسانوں کے نبی جنات کے نبی مچھلیوں کے نبی فرشتوں کے نبی میرا اور آپکا نبی کسی شہر صوبے یا ملک برادری کا نہیں پوری کائنات کا نبی سارے نبیوں کا بنی بن کر آیا ہاں اپنی پیدائش پر خوش ہوا کر اے امت محمدی کے انسان تو اس نبی کا امتی بن کر دنیا میں پیدا ہوا جو ساری کائنات کے نبیوں کے سردار ہیں
ہاں ہاں وہ نبی جس نے دنیا میں قدم رکھا تو ہزاروں سال سے جلنے والی فارس کی آگ بجھ گئیمیرا اور آپکا نبی وہ ہے جس سے پوچھ کر موت کا فرشتہ حجرے میں داخل ہوا اور فرمایا اللہ کے نبی جانا چاہتے ہیں تو چلیں نا جانے کا حکم ہو تو میں واپس ہوجاتا ہو اللہ اللہ فرشتے نے پہلی بار کسی سے پوچھا ہے کہ روح نکال لو یا نہیں جب سے دنیا بنی ہے یہ کسی انسان سے نہیں پوچھا گیا آنا چاہیں تو آجائیں نا آنا چاہیں تو نہیں لانا ایسا ہے ہمارا نبی
لوگوں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہو نبی کریم کے سامنے پیش ہوگے کیا منہ لیکر جاؤ گے دنیا میں کتنی بدمعاشی اور غلط کاریوں میں لگے پڑے ہو نبی کے احکامات کی پابندی کرو انصاف اور سچ کے سوا کسی چیز پر نا چلو اپنی اور اپنے چاہنے والوں کی ابدی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کرو خود بھی عمل کرو دوسرے کو بھی تلقین کرو نبیوں والے کام امت محمدی کے حصے میں آئے ہیں
غلطی کی ہزار بار معزرت
-

تمباکو نوشی ایک جان لیوا سرگرمی ہے۔ تحریر۔نعیم الزمان
آج کے دور میں تمباکو نوشی ایک عام سی عادت بن گی ہے ہر دوسرا شخص اس نشے یا عادت میں مبتلا ہے۔یاد رکھیں تمباکو نوشی ایک جان لیوا سرگرمی ہے اس کے مضر اثرات سے پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ بہت ساری بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں ۔ جس میں دمے کی بیماری پھپھڑوں کی بیماری بلڈ پریشر اور شوگر جیسی بیماریاں جو بعد میں کینسر جیسی موزی بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہیں ان کا شکار ہو رہے ہیں ۔اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس عادت سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سیگریٹ نوشی ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے چاہے وہ جسمانی لحاظ سے ہو معاشرتی لحاظ سے ہو یا معاشی لحاظ سے ہو یا اخلاقی لحاظ سے۔ سیگریٹ نوشی کرنے والے سے ہر وقت اس کے ہاتھ سے منہ سے اس کے کپڑوں سے بدبو سی آتی رہتی ہے جو گھر کے باقی افراد کو اور معاشرے کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ میں بھی عرصہ پانچ سال سے اس عادت میں مبتلا تھا۔ شروع شروع میں فیشن کے طور پر سیگریٹ نوشی کا استعمال کیا ۔اور بعد میں سیگریٹ نوشی کا عادی بن گیا۔ مگر آہستہ آہستہ اس کے مضر اثرات محسوس ہونے لگے جو میرے لیے پریشانی کا باعث تھے ۔ جیسے چلنے میں دشواری۔ گیم کے دوران بھاگنے میں دشواری۔ سیڑھیاں چڑھنے میں دشواری۔ ایک دن میں نے سیگریٹ نوشی ترک کرنے کا ارادہ کیا۔جو کے فوراً سے بہت مشکل تھا۔ میں نے ہومیوپیتھک کے ایک ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ ان کی بتائی ہوئی چند باتوں پر عمل کیا ۔الحمداللہ میں نے اس عادت سے جلد چھٹکارا حاصل کر لیا ۔ وہ چند باتیں آپ لوگوں سے شئیر کرتا چلوں ۔
1- سیگریٹ نوشی چھوڑنے کا پختہ ارادہ کرنا۔
2- ایسی کسی بھی چیز کو پاس نہ رکھنا جس کا تعلق۔ سیگریٹ نوشی سے ہو جس میں( سیگریٹ کی ڈبیا، سیگریٹ جلانے کے لئے ماجس یا لائٹر)
3-سیگریٹ نوشی کرنے والے دوست احباب سے دوری کیوں کہ یا زیادہ مشکل کام ہوتا ہے اپنے دوست احباب سے دور رہنا ۔مگر کچھ وقت کے لیے یہ قربانی بھی دینا پڑتی ہے۔
4-اگر آپ کو سیگریٹ نوشی زیادہ تنگ کرے سیگریٹ پینے کی حاجت ہو۔ تو ادرک کے چھوٹے چھوٹے پیس کر لیں اور ان کو اپنے پاس رکھ لیں یا کچن میں استعمال ہونے والی دال چینی کے چند ٹکڑے۔ جب سیگریٹ پینے کا دل کرے تو ادرک یا دال چینی کے چند پیس چبا لیں جس سے آپ کی سیگریٹ کی حاجت پوری ہو جائے گی۔
اس عمل کو ایک سے دو ہفتے تک اپنائیں انشاء اللہ آپ سیگریٹ نوشی کی عادت سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات انسان کا ارادہ ہوتا ہے۔جب آپ کسی بھی کام کے لیے ارادہ کر لیں تو آپ کی تھوڑی سی کوشش آپ کو منزل تک پہنچا سکتی ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیزبھی اس نشے یا عادت میں مبتلا ہے تو ان چند باتوں پر عمل پیرا ہو کر اس نشے یا عادت سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو اس نشے اور عادت سے چھٹکارا دے۔اور سب کو صحت مند زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
جزاک اللہ خیرا
@786Rajanaeem
-

ادب و احترام گھر کو جنت بنا دیتا ہے | تحریر :عدنان یوسفزئی
گھر ایک ایسا معاشرتی مرکز ہے جو جنت کی تصویر بھی ہے اور دوزخ کا نمونہ بھی، قرآن کی رو سے دوزخ کی آگ کے شعلے چاروں طرف سے گھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن گھر کی دوزخ کے شعلے انسانوں کو نظر نہیں آتے ۔مگر وہ ان کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں ۔بےچینی، اضطراب مایوسی، بےسکونی جیسی بہت سی کیفیات نے افراد خانہ کو اس قدر ایک دوسرے سے بیگانہ بنادیا ہے کہ حشر کا سا سماں معلوم ہوتا ہے غصہ، حسد، تکبر، نخوت اور غیبت جیسے سینکڑوں روحانی امراض نے افراد خانہ میں بے ادبی اور بداحترامی کو جنم دیا ہے ۔
یہی بے ادبی اور بداحترامی افراد میں عدم تعاون اور عدم مطابقت کا باعث ہے ۔گھر کا چھوٹا سا معاشرہ نظارہ جنت کی بجائے نظارہ دوزخ ہے ۔جب معاشرہ کے بیشتر گھروں میں یہ کیفیات نشوونما پاتی ہیں تو تمام معاشرہ بداخلاقیوں کا نمونہ بنتا ہے ۔یہی بداخلاقیاں افراد معاشرہ کے لئے ازخود اس دنیا میں عذاب کا موجب بنتی ہیں، گویا یہ عذاب فانی ہے مگر وہ اسی سے آنے والے "ابدی” عذاب کے مستحق بنتے چلے جاتے ہیں ۔
اس کے برعکس باہمی ادب و احترام وہ کنجی ہے جس سے ہر قسم کے تالے کھلتے چلے جاتے ہیں۔یہی وہ صراطِ مستقیم جس پر چل کر افراد میں محبت وپیار کے سوتے پھوٹتے ہیں، ایثار اور قربانی کے جذبے کار فرما ہوتے ہیں، بغض وعناد کے شعلے ٹھنڈے ہوتے ہیں ۔احساسات محرومی پر صبر کرنا آتا ہے، ہر عمل پر بدنیتی، نیک نیتی میں تبدیل ہوتی ہے ۔باہمی احترام سے نیکیوں میں اضافہ اور بدیوں میں کمی آتی ہے ۔معیار زندگی کے حصول کی دوڑ ختم ہوتی ہے ۔احترام آدمیت کی تربیت کا شوق پیدا ہوتا ہے ۔قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی و حفاظت ہوتی ہے ۔انفرادیت کی بجائے اجتماعیت جلا پاتی ہے ۔ہر فرد سب کے لئے اور سب ایک کے لئے سوچتے ہیں ۔ایک گھر ہی نہیں، بلکہ تمام معاشرہ فلاح وبہبود کا نمونہ بنتا ہے ۔
کامیابی کے لئے ہر وقت اور ہر مقام پر دو چیزیں ضروری ہیں ۔ایک ایمان اور دوسرے نیک اعمال ایک بنیاد ہے اور دوسری عمارت خوبصورت عمارت کے لئے مضبوط بنیاد کی اشد ضرورت ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کو پیدا کیا ۔انسانوں میں باہمی ادب و احترام کی بنیاد اللہ کا ادب و احترام ہے اللہ تعالیٰ کا ادب و احترام کیا ہے؟
اللہ کو محض اور محض ایک مانا جائے ۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، اسی لئے شرک کو سب سے بڑی بے ادبی، بداحترامی، بدتمیزی اور ظلم عظیم کہا گیا ہے ۔مزید اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین، کسی سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہو، کسی اور سے بات بننے کا یقین اللہ کی سب سے بڑی بے ادبی ہے ۔اللہ کا بے ادب کسی اور کا ادب و احترام نہیں کرسکتا ۔دوسرے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور انہیں کے طریقوں میں کامیابی کا مکمل یقین ہو، غیروں کے طریقوں میں خدا کے رسول کی بے ادبی اور بداحترامی کا یقین ہو ۔الغرض ایمانیات ہوں، عبادات ہوں اور اخلاق و معاملات ہوں ۔اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ادب و احترام کا ایک خاص معیار قائم کیا ہے ۔اس معیار کو قائم کیے بغیر باہمی ادب و احترام کا تصور کرنا غلط ہے ۔گھر ہو یا معاشرہ، اخلاق و معاملات کے اس معیار کو مشعل راہ بنانا ہوگا، ورنہ جنت نہ یہ دنیا بنے گی اور نہ اس دنیا میں ملے گی ۔
اس وقت ضرورت ہے کہ مسلمان قوم کو اسباب برکت پر لایا جائے، مسلمان معاشرہ میں عملاً اسباب برکت کو رواج دیا جائے، تاکہ انسانیت خدائی برکت کے ثمرات ولوازمات سے مستفیض ہوسکے ۔
آسان ترین اور معاشرہ میں ہر محلہ گھر اور ہر فرد کیلئے جسم و روح کی تسکین و خوشی کا ذریعہ، ظاہری و باطنی جسمانی و روحانی برکتوں سے مالا مال کردینے والا مجرب نسخہ برکت کیا ہے؟
سنئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا البرکتہ مع اکابرکم برکت تمہارے بڑوں کیساتھ ہے ۔بڑوں کا ادب و احترام اور ان کی راحت رسانی اور ان کے حقوق کی ادائیگی برکتوں کے نزول کا بہترین اور یقینی ذریعہ ہے ۔
بے شمار واقعات اس پر شاہد ہیں کہ والدین کے خدمت گزار اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے اور ان کے حقوق شریعت کے مطابق ادا کرنے والے کو ہر طرح کی برکتوں سے نوازا گیا اور ایسے ہی اساتذہ اور علماء اور اہل اللہ کا ادب و احترام اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق ادا کرنے والے کے علم و عمل اور تقوی و طہارت میں ظاہری و باطنی برکتیں نمایاں نظر آتی ہیں اور اس کے برعکس جو لوگ بڑوں کے حقوق میں کوتاہی کرتے ہیں، والدین اور اساتذہ کا ادب و احترام اور حسن سلوک شریعت کے مطابق نہیں کرتے تو ان کی ہر چیز میں بے برکتی ہی بے برکتی ہے اور یہی شکوہ و گلہ زبان زد عام ہے کہ کسی چیز میں برکت نہیں ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے بڑوں کا ادب و احترام کرنیوالا بنائے ۔
Twitter | @AdnaniYousafzai
-

سیاست اور عیاشیاں تحریر: ذیشان اخوند خٹک
سیاست اور عیاشیاں
سیاست ایک ایسا معزز شعبہ ہے جس کو کوئی صحیح طریقے سے نبھائے تو وہ عبادت کے زمرے میں آجاتی ہے. تاریخ گواہ ہے کہ پہلے پہل صحابہ رضی اللہ عنہ نے ایسے ایسے حکمرانی کی جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی اور ان حکومتوں کی تعریف صرف مسلمان نہیں بلکہ کافر بھی کرتے ہیں. وہ ایسی سلطنت بنی تھی جس میں تپتی صحرا میں بھی خاتون کو خود محفوظ سمجھتی تھی.
سیاست اور عیاشی کا تعلق بہت قریب رہا ہے اور عیاشیوں کی وجہ سے ہی مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنت زمین بوس ہوگئی.
آج مسلمانوں کی غالب اکثریت جوکروڑوں تک جاپہنچی ہے مگر پھر بھی لاچار زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ خستہ حالی ان کامقدر بنی ہوئی ہے اور ان کی معیشت اور نظام تباہی کا شکار ہے۔ ان سب کی سے بڑی وجہ حکمرانوں کی عیاشیاں ہے.مسلمانوں کی برصغیر پر ایک عظیم حکومت تھی مگر جب مسلمان حکمرانوں نے عیاشیاں شروع کردی اور انگریزوں نے برصغیر کی تجارت اپنے ہاتھ میں لے لی.
تو پھر مسلمانوں پر ایسا وقت بھی آیا کہ مسلمانوں کے حکمران جیل کی سلاخوں میں بند ہوگئے اور اپنے وطن میں دفن ہونے کی آرزو بھی پورا نہیں ہوئی.جس وقت یورپ کے حکمران بہترین کالج، ریسرچ سنٹر اور یونیورسٹیاں بنا رہے تھے اس وقت ہمارے عیاش حکمران تاج محل، باغات تعمیر کررہے تھے. اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکمران قوم کی ترقی میں سنجیدہ تھے یا عیاشیوں میں؟
پاکستان کے حکمران عیاشیوں میں ڈھوبے نہیں ہے بلکہ تمام عالم اسلام کے حکمران عیاشیوں میں ڈھوبے ہوئے ہے. میڈیا میں ایک عرب شہزادے فیصل بن فہد کی خبر شائع ہوئی جس نے جوئے کی ایک میز پر 10کھرب ڈالر (یعنی تقریباً چھ سو کھرب روپے) ہارے.
عرب حکمرانوں نے اپنے عیاشیوں کیلئے دبئی جیسا شہر بنا ڈالا.پاکستان کے اہم محکموں کے دفاتر میں حریم شاہ جیسے فحاش لڑکیاں کا آنا جانا لگا رہنا اور وہاں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانا عام بات بن گئی ہے. پاکستان کے حکمرانوں کی عیاشیوں میں جنرل رانی کا نام سرفہرست ہے جس نے اپنے حسن کے جلوے دیکھا کر ملک کی اہم ترین خاتون بن گئی اور صدر پاکستان ان کے انگلیوں پر ناچتے تھے. جس ملک میں اتنی فحاشی پھیلی ہوئی ہوں اس میں سابق گورنر سندھ زبیر عمر کی ویڈیو تو ایک ذرہ ہے. یہ تو اس ملک کی معمول بن چکا ہے کہ اعلیٰ افسران اور سیاست دان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر ان کو ہراساں کرتے ہیں.
"پارلیمنٹ سے بازار حسن تک ” کتاب نے اس لئے شہرت حاصل کی کہ اس میں پارلیمنٹ سے جڑے لوگوں ، حکومتی ایوانوں اور سیاستدانوں کے عیاشیوں کے قصے لکھے ہوئے تھے.
نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں طاہرہ سید کو پرائم منسٹر ہاوس میں "خاتون اول "کا درجہ حاصل تھا دونوں کے عیاشیوں کے قصے کسی سے ڈھکے چھپے نہ رہے. طاہرہ سید کو بہت مالی فوائد حاصل ہوئے اور میاں صاحب نے مری میں پنجاب ٹورازم ڈویلپمینٹ کارپوریشن کی چئیر لفٹ بھی طاہرہ سید کو دے دی.
اس کتاب میں پاکستان کے سیاستدانوں کے وہ عیش پرستانہ واقعات لکھے گئے ہیں جس پر ایک محب وطن کی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہے.ٹوئٹر ہینڈل : @ZeeAkhwand10
-

اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ
انگلش کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان منسوخ کرنے پرپاکستان سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ سال پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیئرمین انگلینڈ اینڈ ویلزآئن وٹمورنے کہا اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے فیصلے سے پاکستان اور کرکٹ فینز سے معذرت خوا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو فیصلہ کیا وہ انتہائی مشکل تھا، فیصلہ کھلاڑیوں کی ذہنی صحت کو دیکھ کر کیا گیا، دورہ کیلئے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ہم آگے بڑھیں گے اس کیلئے وقت پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بورڈ نے یہ فیصلہ اپنی ججمنٹ کے حساب سے لیا ہے دورہ پاکستان منسوخ ہونے سے متعلق کھلاڑیوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔
واٹمور کا مزید کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ فیصلے سے خاص طور پر پاکستان میں لوگ مایوس ہوئے، تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن سکیورٹی اور ویلفیئر کی ایڈوائس پر فیصلہ کیا گیا پاکستان کے ساتھ تعلقات نئے سرے سے بنانے ہیں، ہم پاکستان کے مشکور ہیں کہ وہ گزشتہ برس انگلینڈ آئے۔
چیئرمین انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ نے کہا کہ اگلے سال پاکستان کے شیڈول ٹور کے حوالے سے جو ہو سکا ہم کریں گے۔
انگلش کرکٹ بورڈ کی معزرت اور پاکستان کے دورے کا اعلان ہمارے مؤقف کی بڑی کامیابی ہے، کرکٹ کے کھلاڑیوں، سفارت کاروں، انٹرنیشنل میڈیا اور ان تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے اس معاملےپرپاکستان کا ساتھ دیا پاکستان کی کرکٹ کیخلاف ایک اور سازش ناکام ہوئ،
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) September 29, 2021
انگلش کرکٹ بورڈ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ کی معذرت اور دورے کا اعلان ہمارے مؤقف کی کامیابی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ کیخلاف ایک اور سازش ناکام ہوئی۔ پاکستان کا ساتھ دینے والے کھلاڑیوں، سفارت کاروں، انٹرنیشنل میڈیا اور تمام لوگوں کا شکریہ ۔خیال رہے کہ نیوزی لینڈ نے مبینہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے دورہ پاکستان اچانک منسوخ کردیا تھا، جس کے بعد انگلش ٹیم نے بھی اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا تھا جس پر برطانوی وزیراعظم بورس جونسن بھی انگلش بورڈ سے ناراض تھے۔
چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کہا تھا کہ ، ہم پوری دنیا سے دشمنی نہیں لے سکتے،آئندہ 6ماہ میں ہمارے پاس بہت پیسے آئینگے،لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ آئی سی سی کی میٹنگ کا کوئی فائدہ ہوتا ہے،اپنے حساب سے گول پوسٹ بدل دیا جاتا ہے، دہرا معیار ختم ہونا چاہیے،ہم نے اپنی ٹیم کو بہترین بنانا ہےزیادتی جب بھی ہو تو اپنا موقف سب کے سامنا رکھنا چاہیے-
انہوں نے کہا تھا کہ بلاک بنے ہوئے ہیں ، ایک نے پل آوٹ کیا، دوسرے نے بھی کردیا، آگے بھی ہوسکتے ہیں،ہمیں اس معاملے کو بلاک کے ذریعے اور قانونی طور پر اٹھانا ہوگا، ہم صرف اپنا موقف رکھیں گے، کسی سے الگ نہیں ہونا چاہتے،بھیک میں کرکٹ نہیں کھیلیں گے،ان کے ہاتھ میں اپنی قسمت میرے ہوتے ہوئے نہیں دے سکتے۔ ان ممالک کوآئئنہ دکھانے کے ساتھ تمام قانونی راستے بھی اپنائیں گے-
-

آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والی نسلوں کو مستقبل میں ہیٹ ویو کے واقعات میں 7 گنا اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا-
باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق برسلز یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں ماہرین نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسمیاتی تبدیلیاں انتہائی شدت اختیار کر لیں گی ہماری آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی۔
ان بچوں کو اپنے دادا کے مقابلے میں جنگلات میں آگ لگنے کے دگنے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ خشک سالی کے واقعات میں بھی 3 گنا اضافہ ہو جائے گا۔ سب سے زیادہ افریقی ممالک متاثر ہوں گے جہاں ایسے شدید موسمی اثرات یورپ کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ ہوں گے۔
تحقیق کے مطابق افریقہ میں 2021 میں پیدا ہونے والے بچے یورپ میں پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں ہیٹ ویو کے 50 گنا زیادہ واقعات دیکھیں گے۔ اسی طرح خشک سالی اور جنگلوں میں آتشزدگی جیسے واقعات میں 6 گنا تک اضافے کا خدشہ ہے2021 میں پیدا ہونے والوں بچوں کو اپنی زندگی میں اپنے دادا کے مقابلے میں خشک سالی کے 2.6 گنا زیادہ اور سیلابی صورت حال کے 2.8 گنا زیادہ واقعات سے نبردآزما ہونا پڑے گا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
تحقیق کی منصف ڈاکٹر جوئری نے کہا ہے کہ اس ریسرچ میں نے ہم نے یہ بتایا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں انسانوں کو کن بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ابھی سے جارحانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
تحقیق میں 1970 سے 2019 تک موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے حادثات کے اعداد و شمار بھی پیش کئے گئے جس کے مطابق 1983 میں ایتھوپیا میں شدید خشک سالی کے باعث 3 لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار گئےاسی سال سوڈان میں خشک سالی سے ڈیڑھ لاکھ افراد چل بسے۔
1970میں بنگلہ دیش میں سمندری طوفان 3 لاکھ جانیں لے گیا جبکہ1991 میں بنگلہ دیش میں ہی سمندری طوفان ایک لاکھ 38 ہزار جانیں لےگیا خشک سالی سے سب سے زیادہ افریقی ممالک ایتھوپیا، سوڈان، موزمبیق جب کہ سمندری طوفان اور سیلاب سے بنگلہ دیش اور میانمار زیادہ متاثر ہوئے۔
50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ
تحقیق میں جاری کئے اعدادو شمار کے مطابق مالی لحاظ سے سمندری طوفان کٹرینا امریکا کے لیے تباہ کن ثابت ہوا 2005 میں آنے والے اس طوفان سے امریکا کا 163 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ 2017 میں سمندری طوفان ہاروے سے امریکا کو 96 ارب ڈالر کانقصان ہوا اسی سال سمندری طوفان ماریا نے امریکا کو 69 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
اس سے قبل تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے انسان ہی نہیں جانور بھی متاثر ہوتے ہیں امریکی ساِنسی جریدے کی جانب سے نئی تحقیق کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔
انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی…
دوسری جانب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیاتھا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔
ناسا کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔
حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔
ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا تھا کہ چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔
2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…
-

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم تحریر: محمد اختر
قارئین کرام! 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن نے ایک قرارداد منظور کی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کی ضمانت دی گئی تاکہ کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کو استعمال کر سکیں۔لیکن، تاحال اس کے برعکس گزشتہ ساتھ دہائیوں سےمقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اب بھی اس پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ کشمیریوں کو ہندوتوا نظریے کے زیر اثر بھارتی قابض افواج کے مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس بابت ہر شخص آشنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ عسکری زدہ خطہ بن چُکا ہے، جہاں بھارتی قابض افواج انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جو کہ اقوام متحدہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔جبکہ، ان خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی میڈیا میں اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2018 اور 2019 میں دو رپورٹوں میں بھی درج کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں، پاکستان نے ایک بار پھر ایک جامع ڈوزیئر جاری کیاہے۔ جو عالمی انصاف اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔جموں و کشمیر کا وہ حصہ جو غیر قانونی طور پر بھارت کے قبضے میں ہے دنیا کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں کے باشندے کئی دہائیوں سے کھلی فضا میں سانس لینے کے لیے ترس رہے ہیں۔بھارت کی قابض افواج نے ان پر ایسے مظالم ڈھائے ہیں کہ ایک بار جب ان کی مکمل چھان بین کی جائے اور حقائق سامنے آجائیں تو مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان نے عالمی برادری کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے بارہا ثبوت فراہم کیے ہیں، جس پر عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں نےمحض رسمی بیانات جاری کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کئی دہائیاں پرانی قراردادیں بھی ہیں جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ یہ سب دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عالمی برادری تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے ورنہ بھارت اتنا مضبوط نہیں ہے کہ پوری دنیا کے سامنے مضبوطی سے کھڑا ہو سکے۔دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کے ثبوت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں، پاکستان نے بڑے پیمانے پر جنگی جرائم، کشمیریوں کی نسل کشی، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں،داعشکے پانچ تربیتی کیمپوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے جعلی مقابلے کے ناقابلِ تردید ثبوت پیش کئے ہیں۔ڈوزیئر میں جعلی پرچم آپریشن اور خواتین کی بے حرمتی کے جامع ثبوت موجود ہیں۔131 صفحات پر مشتمل دستاویز تین باب پر مشتمل ہیں۔ پہلا باب جنگی جرائم سے متعلق ہے۔ دوسرا باب جعلی مقابلوں سے متعلق ہے، جبکہ تیسرا باب سلامتی کونسل کی قراردادوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کو تبدیل کرنے کی ہندوستان کی کوششوں سے متعلق ہے۔ڈوزیئر میں 113 حوالہ جات ہیں، جن میں سے 26 بین الاقوامی میڈیا سے اور 41 بھارتی تھنک ٹینک سے لیے گئے ہیں۔ ان میں سے صرف 14 حوالہ جات پاکستان کے ہیں۔ یہ سب سے مستند دستاویز ہے جس میں 3432 مقدمات جنگی جرائم سے متعلق ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب میں ڈوزیئر میں معلومات کا جائزہ لے رہا تھا تو یہ جان کر خوفزدہ ہوا کہ 8،652 اجتماعی قبریں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے 6 اضلاع کے 89 دیہاتوں میں دریافت ہوئیں جن میں سے 154 قبروں میں 2، 2 افراد جبکہ 23 قبروں میں 17 سے زائد افراد کی لاشیں ہیں۔بھارتی فورسز نے 239 ٹارگٹ سیل بنائے ہیں۔ 2014 سے اب تک مقبوضہ وادی کے 30 ہزار افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 231 افراد کرنٹ لگا کر شہید کئے گئے ۔ جب سے بھارت میں ہندوتوا کی حکومت آئی ہے، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا کو پیش کیے گئے ڈوزیئر میں 1،128 افراد کی نشاندہی کی گئی جو ماورائے عدالت قتل ہوئے یا پیلٹ گنیں ان کے خلاف استعمال کی گئیں۔ڈوزیئر میں خواتین کی بے حرمتی اور ایک لاکھ سے زائد املاک کو جلایا گیا ہے جو کہ آتش زنی کے جرم میں آتی ہیں۔ اس میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کیے گئے جعلی آپریشنز کا بھی ذکر ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لینا چاہیے اور تحقیقات کرنی چاہیے۔ چونکہ،کشمیری عالمی انصاف اورانسانی حقوق کے علمبرداروں سے پوچھ رہے ہیں کہ اس سے زیادہ وحشیانہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ عصمت دری کو بھارت نے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، لیکن اس کی سرزنش نہیں کی گئی۔یورپی ممالک اس پر دوہرے معیار پر عمل پیرا ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت اس وقت دی گئی جب وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حسبِ معمول مرتکب ہو تا رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ عالمی برادری کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آج حالات بدل چکے ہیں، بھارت کے جرائم پر پردہ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔ خیال رہے، مقبوضہ وادی اور اس کے مظلوم عوام پر بھارت کی قابض افواج کے مظالم کے ٹھوس شواہد اور ثبوت پر مبنی یہ پہلا ڈوزیئر نہیں ہے، بلکہ پاکستان نے بارہا ثبوت فراہم کیے ہیں کہ بھارت مسلسل ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو گزشتہ 777 دنوں سے محصور کر دیا گیا ہے اور مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے لیکن دنیا اس پر اس طرح توجہ نہیں دے رہی جس طرح اسے دینی چاہیے۔عالمی برادری کو اس حقیقت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک ہیں اور بھارت کی پالیسیاں نہ صرف خطے بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت خطے میں جو ماحولپیدا کر رہارہا ہے اس سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ یہ صرف بدتر ہوگا اور اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو نقصان ہوگا۔
@MAkhter_
-

امریکہ بہادر اور مکافاتِ عمل تحریر: یاسرشہزادتنولی
۔
طاقت کے نشے میں چور امریکہ بہادر جس نے دنیا میں ظلم بربریت کے وہ شرمناک کھیل کھیلے کے معصوم انسانیت نے سر شرم سے جھکا لئے ۔ پوری دنیا پر آقا کی صورت میں مسلط ہونے کی خواہش میں امریکہ سامراج انسانیت کی ہر اس حد سے گزر ا ہے کہ جہاں دنیا کی ہر پستی اور ذلالت بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ کبھی امریکہ بہادر نے ”ویت نام’ میں خون کی ہولی کھیلی تو کبھی ہیرو شیمااور ناگا ساکی پر ایٹمی آگ برسا کر بے گناہ انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔ جاپان کی لاکھوں بے گناہ عوام کو موت کے گھاٹ اتار کر بھی امریکی درندوں کی خونخوار آنکھیں مزید انسانوں کے خون کی پیاسی ہی رہیں۔ اور اسی تناظر مین عراق کے صدر صدام حسین کو بنیاد بنا کر اندھا دُھند عراق پر یلغار کر دی امریکہ کو مسلمانوں سے تو خاص کر خدا واسطے کا بیر ہے عراق میں امریکہ نے نہتی عوام بوڑھوں، بچوں اور خواتین پر وحشی پن اور درندگی کی وہ انسانیت سوز تاریخ رقم کی جسے دیکھ کر لوگ چنگیزی دور کے مظالم بھی بھو ل گئے خبر کچھ یوں ہے کہ امریکہ کے کم وبیش 40ہزار فوجیوں نے یہ کہتے ہوئے استعفے دے دیئے ہیں کہ امریکہ کے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر عراق میں ہمارے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو مروایا ہے۔ عراق کے مسلمان بالکل بے گناہ تھے اور ہم نے ناحق ان معصوم لوگوں کو خون بہایا ہے امریکی استعفیٰ دینے والے فوجیوںنے مزید کہا کہ ہمارا ضمیر ہمیں بری طرح بے چین رکھتا ہے کہ ہم نے کتنے ہی بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو بے دردی سے ہلاک کیا ہے ان معصوم عراقیوں کا کوئی قصور نہ تھا وہ ہم سے لڑنے نہیں آئے تھے بلکہ ہم خود ان سے لڑنے ان کے ملک گے تھے ہم فوجیوں کو یہ باور کرایا گیا تھا تم حق و سچ کی وہ جنگ لڑنے جا رہے ہو جس میں تمہاری اور تمہارے مذہب کی بقا ہے لیکن آج ہمیں اس خوفناک حقیقت کا ادراک ہو ا ہے کہ یہ جنگ نہ ہی ہمارے مذہب کی تھی اور نہ ہی ہماری بقاء کی تھی بلکہ یہ لڑائی جارج بُش اور کلنٹن اپنے اقتدار کیلئے اور امریکی عوام کے سامنے ہیرو بننے کیلئے لڑ رہے تھے۔ اور یہی برسرا قتدار خون خوار ٹولہ اپنے اقتدار کے محل ان بے گناہ مسلمانوں کے خون سے تعمیر کرتا رہا۔ اور ہر امریکی برسرِ اقتدار ٹولے نے بے گناہ انسانیت کے خون خرابے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا ۔ آج ہم اپنے ہی ضمیر کے مجرم ہیں ہمارا ضمیر ہم سے بار بار یہ سوال کر رہا ہے کہ لاکھوں نہتے اور بے گناہ انسانوں کو قتل کرکے تم نے کون سا کمال کیا ہے۔ ان معصوموں کے خون سے تم نے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرکے کبھی ایک ظالم اور کبھی دوسرے درندے کے اقتدار کو مضبوط کیا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے امریکی فوجیوں نے حکومت سے ملنے والے ”گولڈ میڈل” اٹھا کر دور پھینک دیئے گولڈ میڈل پھینکتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے امریکی فوجی جوتے اٹھا اٹھا کر امریکہ کے منہ پر مار رہے ہوں استعفے دینے والے فوجیوں نے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیا کہ ہم عراقی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے ہم ان بے گناہ مسلمانوں کے خون کا ہر قیمت پر ازالہ کریں گے جو ہمارے ہاتھوں ناحق مٹی کی خوراک بنے ہیں۔ خداوندتعالیٰ کی ذات بہت عظیم ہے ، امریکہ ہر جگہ سے ہمیشہ ذلیل خوار ہو کے ہی بھاگا ہے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کی ہمارے سامنے ہے ۔ بس میں صرف اتنا کہوں گا کہ امریکہ کے رہنے والے 40ہزار امریکی فوجی جب استعفے دے کر امریکہ کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر سکتے ہیں توہم دنیا بھر کے مسلمان خدا اور خدا کے رسول کے نام پر یکجاء ہو کر مسلمانوں کی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو مروڑ کر پھینکنے کی طاق کیوں نہیں رکھتے۔ دنیا کے تمام مسلامونں کو انفرادی فائدے کا پسِ پشت ڈال کر اجتماعی سوچ کو اپنا کر عصرِ حاضر کے تمام چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک متفق اور مستحکم قوم بننا ہوگا۔ اور اس میں ہم سب کی بقاہے۔
https://twitter.com/YST_007?s=09