Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صنعت اور پاکستان    _تحریر: فیصل فرحان

    صنعت اور پاکستان   _تحریر: فیصل فرحان

    صنعت کسی بھی ملک کی معیشت کا بنیادی جزو  ہے صنعت کا ارتقاء 1835 سے ہوا دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنی صنعت کے ذریعے اپنے ملک کی معیشت میں انقلاب برپا کئے صنعت 1835 میں  برطانیہ سے شروع ہوئی برطانیہ نے ٹیکسٹائل صنعت کا آغاز کیا بعدازاں امریکہ اور یورپ نے اپنی صنعت پر کام کیا اور اپنا لوہا منوایا 1870 میں صنعت کے کام میں تیزی سے اضافہ ہوا

    ترقی یافتہ ممالک کی ترقی میں صنعت کا بہت اہم کردار ہے  عمومی طور پر صنعت دو طرح کی ہوتی ہے چھوٹی صنعت بڑی صنعت ۔

    چھوٹی صنعت سے مراد ایسی صنعت ہوتی ہے جس میں بیس سے کم لوگ کام کرتے ہوں ، ایسی صنعتیں آپ کو پاکستان میں مختلف مقامات پر نظر آئیں گی جیسا کے کپڑے اور دھاگے کی صنعتیں وغیرہ، ایسی صنعتوں سے علاقہ میں بے روزگار افراد کو روزگار مہیا کیا جاتا ہے اور نوجوان اپنے شہر سے روزگار کے لیےہجرت کرنے سے بچ جاتے ہیں اس سے لوگوں میں ملکی مصنوعات کے استعمال کا رجحان بھی بڑھتا ہے

    چین بنگلہ دیش امریکہ اور جاپان جیسے ممالک کے لوگ اپنی ضرورت کی اشیاء اپنے ملک میں ہی بناتے ہیں اور اپنے ملک کی بنائی گئی اشیاء کو استعمال کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ پاکستان انڈیا عرب ممالک اور افریقی ممالک مضبوط صنعت نا ہونے کی وجہ سے  اپنی ضروریات کی اشیاء بھی اپنے ممالک سے پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے انہیں دوسرے ممالک کی بنائی گئی اشیاء پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے معیشت پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔

    بنگلہ دیش نے اپنی صنعت کے لیے مؤثر پالیسیاں بنائی آج بنگلہ دیش کی صنعت پاکستان کے مقابلہ میں بہت بہتر ہے  بنگلہ دیش کی جی ڈی پی کا 28٪ فیصد حصہ صنعت سے آتا ہے   جبکہ پاکستان کی صنعت صرف 17 فیصد حصہ جی ڈی پی میں شامل کرپاتی ہے

    دوسری مثال چائنہ کی سب کے سامنے ہے جو اس وقت دنیا میں نمبر ون معاشی طاقت بن چکا ہے، اس کا مقابلہ اب امریکہ اور روس سے ہے۔ یہ وہی چائنہ ہے جو پاکستان کو 74 کی دہائی میں  رول ماڈل سمجھتا لیکن آج وہ کہاں پہنچ گئے اور ہم وہی کے وہی کھڑے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے چھوٹی صنعتوں پر توجہ دی، اپنے گھروں کو کاروباری صنعتوں میں تبدیل کر دیا یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 60% چیزیں چائنہ کی فرخت ہو رہی ہیں 

      لیکن پاکستان پچھلے 74 سالوں میں اپنی صنعت کے لیے کوئی مؤثر پالیسیاں بنانے میں ناکام رہا ہے

    موجودہ حکومت کی کوششوں اور پالیسیوں سے پاکستان میں کاروں  کی انڈسٹری اور موبائل فونز کی انڈسٹری کا آنا ایک خوش آئند بات ہے جس سے نا صرف ملک کے ریوینیو میں اضافہ ہوگا بلکہ لوگوں کو روزگار بھی ملے گا امید ہے کہ موجودہ حکومت باقی صنعتوں لیے بھی مؤثر پالیسیاں بنائے۔ خدا میرے ملک کو زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کامیابی و کامرانی عطاء فرمائے۔ آمین۔

    Twitter handle: @Farhan_Speaks_

  • نواز شریف کے سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی بےنظیر کا حوالہ دے کر انصاف مانگے مریم نواز شریف تحریر:سفینہ

    رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے ساتھ اسلام ہائی کورٹ کے سپیشل بینچ نے بروز بدھ کو مسلم لیگ ن لی نائب صدر مریم نواز صاحبہ کی درخواست پر سماعت کی ہے ۔ اس بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروقی شامل ہیں۔ اس پیٹیشن میں تقریبا وہی سب کچھ شامل کیا گیا ہے جو ان کی مرکزی درخواست میں شامل تھا۔

    اس درخواست میں مریم نواز نے الزام لگایا ہے۔ کہ میں اور میرے شوہر (ر) کیپٹن صفدر اور میرے والد سابق وزیراعظم نواز شریف کی ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں ہر مشتمل درخواست  کو دوبارہ سنا جائے۔

    مریم نواز نے اپنے وکیل عرفان قادر کے ذریعے ہائی کورٹ پر زور دیا کہ وہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں احتساب عدالت کے فیصلے کو سنگین خلاف ورزیوں پر کالعدم قرار دے۔

    مریم نواز اور ان کے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 6 جولائی 2017 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سزا سنائی تھی ، جنہوں نے مریم نواز کو سات سال اور نواز شریف صاحب کو دس سال اور ر کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں آئی ایچ سی نے ان کی سزائیں معطل کر دیں تھیں۔

    اس درخواست میں مریم نواز نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کا بار کونسل میں خطاب کے دوران کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے۔

     کہ ایون فیلڈ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کنڑول کر رہے تھے ۔ اور انھیں سچ بولنے کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا تھا۔

    درخواست میں سپریم کورٹ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے کیس کی تفتیش کے ساتھ ساتھ پراسیکیوشن کی نگرانی بھی کی ۔ جس کی کہیں مثال نہی ملتی ۔ کیونکہ آئین میں عدالت کا کام تفتیش کار یا کسی پراسیکیوٹر کا نہی ہے۔

    درخواست میں مزید لکھا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدنی سے زائد اثاثوں میں تین الگ الگ ریفرنس دائر کئے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اور نیب شفاف طریقے سے کام کرنے میں ناکام رہا۔ جس کے وجہ سے اس ریفرنسز کے نتیجے میں کیا جانے والا ٹرائل ایک زبردستی دھونس کے ذریعے کروائے گئے فیصلے کا نتیجہ ہے۔

    مریم نواز نے اس درخواست میں دوبارہ مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیوز کا بھی حوالہ دیا ہے ۔ کہ انھیں کیسے پریشرائز کر کے فیصلے ہمارے خلاف کروائے گئے۔

    یہاں ایک اور بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ مریم نواز نے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف دئیے گئے فیصلے اور پھر سابق جج جسٹس عبدالقیوم صدیقی کی آڈیو ٹیپ کا حوالہ دیا جس کی وجہ سے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلوں کو آن ڈو کیا گیا تھا۔

    ان تمام واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے مریم نواز نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر ایون فیلڈ کیس میں دی گئی سزائیں ختم کر دیں جائیں۔آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروقی اور جسٹس محسن اختر کیانی نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیل کی درخواست کو 13 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

    آج مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس کیس کا تعلق مسلم لیگ ن سے نہی ہے۔ہم کسی ادارے یا شخص کے خلاف نہی بلکہ ایک مائنڈ سیٹ کے خلاف ہیں۔

    کیا ان کے اب معاملات جنرل باجوہ سے سیٹ ہو گئے ہیں ؟ یا جان بوجھ کر جرنل فیض حمید کی افغانستان میں کامیابی اور ان کی انٹرنیشلی مثبت کریڈبلٹی کو ڈیمنج کرنا چاہ رہی ہیں ؟ کیونکہ آج کے دن ہی جنرنل فیض حمید ڈی جی ، آئی ایس آئی کے عہدے پر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد کور کمانڈر پشاور تعینات ہو گئے ہیں۔

    کیونکہ آرمی چیف بننے کیلئے کم از کم ایک کور کی کمانڈ کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اور جنرنل فیض حمید کے مستقبل کے آرمی چیف بننے کی راہ میں یہی ایک راہ میں رکاوٹ تھی۔ جو اب ختم ہو جائے گی، اور اب وہ آنے والے سالوں میں موسٹ فیورٹ بننے والے آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔

    کیا یہ اس خوف کی وجہ سے کور کمانڈر پشاور فیض حمید کو ٹارگٹ بنا رہی ہیں؟اور ان کی شخصیت کو جان بوجھ کر متنازع بنا رہی ہیں ؟

    پھر مریم نواز کہتی ہیں ۔ کہ جسٹس شوکت صدیقی اور جنرنل فیض حمید کو کٹہرے میں کھڑا کریں ان سے حلف لیں کہ وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہیں کہ ان پر لگے الزامات جھوٹ ہیں۔ کیونکہ اگر یہ جھوٹ ہوتے تو آج تک تردید ہو چکی ہوتی۔

    تو مریم نواز صاحبہ کی خدمت میں عرض ہے عدالتیں ثبوتوں پر فیصلے کرتیں ہیں اور اسی کی بنیاد پر جسٹس شوکت صدیقی کے بیانات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔کیونکہ وہ اپنی باتوں کا پروف دینے میں ناکام رہے تھے۔ لہذا ان کی گواہی اب میرے نزدیک کوئی معنے نہی رکھتی۔

    اب بات ہو جائے مرحوم جج ارشد ملک کی جن کا حوالہ بار بار مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف دیتے ہیں۔ پہلی بات تو اب وہ جج اس دنیا میں ہی نہی ہیں اور دوسرا مرحوم جج ارشد ملک مریم نواز کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز کے بارے میں اپنی زندگی میں ہی پریس ریلیز جاری کر چکے ہیں ۔

     جس میں مرحوم لکھتے ہیں کہ مریم صفدر صاحبہ نے جو ویڈیوز اپنی پریس کانفرنس میں دکھائی ہیں وہ ویڈیوز نا صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ ان مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاہ و سابق سے ہٹ کر پیش کرنے کی مذہوم کوشش کی گئی ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے اور وہ یہ ہے کہ نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بار ہا نا صرف رشوت کی پیش کش کی گئی بلکہ تعاون نا کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں گئیں۔ جن کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے حق اور سچ پر قائم رہنے کا عزم کیا اور اپنے جان و مال کو اللہ کے سپرد کر دیا وغیرہ ۔

    مرحوم جج ارشد ملک کی مکمل پریس ریلیز ہر طرف دستیاب ہے ۔ لہذا ایک شخص جب اپنی زندگی میں ہی ان کے الزامات کی تردید کر چکا اب اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد کورٹ ان ویڈیوز کو کیسے سچ مان لے گی ؟ اس کے باوجود اگر کورٹ چاہیے تو مریم نواز سے تمام مواد ویڈیو وغیرہ اویجنل فون اور رکارڈینگ گیجٹ بمع اس شخص کے جنہوں نے ریکارڈ کیا ۔ سب کچھ اویجنل ڈیٹا مانگ سکتی ہے۔

    لیکن میری رائے کے مطابق مریم نواز ان ویڈیوز کا اوریجنل ڈیٹا عدالت میں ہیش نہی کریں گی۔ اور نا ہی اس کیس کے اندر جان ہے ۔ یہ کیس زیادہ دور تک نہی جا پائے گا۔

    اب ہم بات کرتے ہیں بہت ہی اہم اور نئے پوائنٹ پر مریم نواز نے سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف ایک آڈیو آ جانے پر ان کے خلاف کئے گئے فیصلے بھی آن ڈو کر دئیے گئے تھے۔ تو پھر ہمارے کیسیز میں ویڈیو پروف آ جانے کے بعد ہمارے کیس کیوں ختم نہی کئے جا سکتے۔

    مطلب ماضی میں سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کی طرف سے مریم نواز کے والد سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے چچا شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے سسر سیف الرحمن کے خلاف لگائے گئے الزامات درست تھے؟

    کہ ماضی میں ان کے والد انکے چچا اور انکے سمدھی نے جسٹس ملک عبدالقیوم کو فون کر کے محترمہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلے کرنے کا کہا گیا؟اور ان کی آڈیو لیک ہونے کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو نے ثبوت کے طور پر کورٹ میں پیش کیا اور اپنے خلاف ہوئے فیصلوں کو آن ڈو کروایا۔

    ہمارے پاکستان میں اقتدار کی خاطر ایک دوسرے پر الزامات لگا کر زبردستی گرانے کا گندہ کھیل عرصہ دراز سے جاری ہے۔اور پاکستان میں کوئی ایسا شخص نہی جو اس گھناونے اور گندے کھیل میں شامل نا ہو۔ 

    آج بھی سب اسی کھیل کا تسلسل کا حصہ ہے۔ ماضی میں نواز شریف صاحب اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کے طور پر کام کرتے رہے۔  بےنظیر کیُ دونوں حکومتوں کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا مرحومہ کو زبردستی سزائیں دلوانے میں شامل رہے اور آج قسمت کا کھیل دیکھیں نواز شریف صاحب کی اپنی صاحبزادی مریم نواز اپنے والد کے ہاتھوں  ظلم ، ناانصافیوں اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی پاکستان کی پہلی سابقہ خاتون وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے کیس کا حوالہ دے کر انصاف مانگ رہی ہیں

  • خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    خوش اخلاقی خوف الہی کی دلیل ،تحریر:صائمہ رحمان

    انسان کی کامیابی کا راز خوش اخلاقی میں چھاپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان دوسروں کے دل جیت سکتا ہیں ۔ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر سکتا ہے خوش اخلاقی ایک سرمایہ ہے خوش اخلاقی اچھے برتاو کا نام ہے بد اخلاقی انسان کے دلوں میں صرف نفرت پیداکرتی ہے ہم میں سے ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اسن کے ساتھ عزت اور اخلاق سے بات کی جائیں یقین جانیئے اچھے اخلاق سے آپ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں۔
    جس طرح بغیر خوشبو اور رنگ کے کوئی پھول پھول کہلانےکا مستحق نہیں اس ہی طرح انسانیت اور خوش اخلاقی کے بغیر کوئی انسان انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ ایک خوش اخلاق شخص میں عاجزی اورانکساری کی صفت موجود ہوتی ہے خوش اخلاقی بہت بڑی خوبی ہے۔ خوش اخلاقی عظمت اور اشرفت کی دلیل ہےانسانیت کی بیناد اخلاق پر قائم ہےاخلاق انسانی سیرت وکردار پر مبنی رویے کا نام ہے اچھے اخلاق کا خلاصہ ہے کہ انسانیت کو تکلیف نہ دینا ہے خوش اخلاقی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے خقش اخلاقی ایمان کامل کی علامت بھی ہےایک حدیث نبوی ؐ کے مطابق مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو اچھے اخلاق کا مالک ہو اور سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہترین ہو۔
    اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویے کی پرواء کیے اخلاق دیکھے بغیر اپنا رویہ اور اخلاق متعین کرےحضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :جس کے اخلا ق اچھے ہوں وہ کامل ترین ایمان والا ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہو۔)

    اسلام میں اخلاقیات کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایمان و عقائد کی درستی کے بعد نیک اعمال و افعال کرتے ہوئے جب تک ایک مسلمان حُسنِ اخلاق جیسی صفت سے ہمکنار نہ ہوجائے اس کی زندگی دوسروں کے لیے نمونۂ عمل نہیں بن سکتی ۔
    اخلاقی اصول ایسے رویہ کی جانب راہنمائی کرتے ہیں جس سے خوشی ملتی ہے دل سکون میں ہوتا ہے اخلاق ضبط نفس پیدا کرتا ہے برائی کا جواب اچھائی میں دینا افضل اخلاق ہے اچھے اخلاق والے کامل مومن ہیں۔اچھے اخلاق دل جیتنے کا زبردست نسخہ ہےمسلمان کے اچھے اخلاق کی برکت سے غیر مسلموں کو دولتِ ایمان نصیب ہوتی ہےاچھے اخلاق کی بدولت دین کا کام خوب ترقی کرتا ہےاچھے اخلاق کی سے دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں اچھے اخلاق کی برکت سے انفرادی کوشش میں مشکلات پیش نہیں آتیں۔
    اللہ پاک ہمیں بھی اچھے اعلی اخلاق کی لازوال دولت سے مالا مال فرمائے اور بد اخلاقی سے ہمیں دور کرے

    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • شاہ رخ خان کے بیٹے کی آڑ میں کیا چھپایا گیا؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    شاہ رخ خان کے بیٹے کی آڑ میں کیا چھپایا گیا؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارتی میڈیا پر اس وقت ایک سٹوری کا بہت زیادہ چرچا ہوا رہا ہے اور وہ ہے بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی گرفتاری۔لیکن کیا آپ کو پتہ ہے اس خبر کو اتنا زیادہ بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟اس کی آڑ میں وہ کون سی اہم خبریں ہیں جن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟کس طرح سے مودی سرکار اور بھارتی میڈیا اپنی ہی عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟

    شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کو تین اکتوبر کو گرفتار کیا گیا اس کے بعد آج اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور اب سات اکتوبر تک کے لئے ریمانڈ پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے حوالے کر دیا گیا ہے آریان خان کو ممبئی کے ساحل سے دور ایک کروز شپ پر پارٹی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اس پارٹی میں منشیات کا استعمال کیا۔ ویسے سب سے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ شدت پسند مودی کے بھارت میں جہاں شراب کی فروخت قانونی ہے وہاں چرس پینے کے الزام میں شاہ رخ خان کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا۔
    خیر آریان کی گرفتاری کی اطلاع جیسے ہی سامنے آئی تو سلمان خان بھی فورا شاہ رخ خان کو تسلی دینے کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے۔ جس کے بعد پاپا رازی کی ایک بڑی فوج شاہ رخ خان کی رہائش گاہ کے باہرنظریں جمائے بیٹھی ہے تاکہ ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جائے اور ان کی تصاویر بنائی جائیں۔ جس کی وجہ سے شاہ رخ خان کی سیکیورٹی ٹیم نے بالی ووڈ کے ستاروں کو ہدایت جاری کردی ہے کہ وہ وہاں آنے سے گریز کریں۔ لیکن ٹیلی فون پر دپیکا پڈوکون ، کرن جوہر ، روہت شیٹی، سنیل شیٹی سمیت تقریبا تمام ہی اداکار اور اداکارائیں ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بالی وڈ کے تمام لوگ آریان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ آج امید تو یہ کی جا رہی تھی کہ آریان خان کو آج ضمانت مل جائیگی لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاہ رخ خان کا بیٹا اور اس کو ضمانت تک نہیں مل سکی۔ ویسے تو اس حادثے کے بعد شاہ رخ خان کو بھی احساس ہوا ہو گا کہ انڈیا میں جب عام مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو وہ کیسا محسوس کرتے ہوں گے۔ وہ ظلم جس پر شاہ رخ خان کبھی بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے، خاموش رہتے ہیں بلکہ بعد میں جاکرمودی کے ساتھ دعوتوں میں شریک ہو کر سیلفیاں بناتے ہیں۔ لیکن آج وہ مودی سرکار ان کے کام نہیں آ رہی ان کے بیٹےکو ضمانت تک نہیں دی جا رہی۔ بلکہ اس خبر کو اور زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ صرف بھارتی میڈیا کے آج تک نیوز نے اس خبر پر سو سے زیادہ ٹوئیٹس کئے ہیں۔اب میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟آپ خود سوچیں کہ آریان خان خود کوئی Celebrity
    تو تھا نہیں کہ اس کا اتنا چرچا ہو رہا ہے۔ اور نہ ہی یہ کوئی اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے اس پہلے بھی کئی بالی وڈ شخصیات کے بچے یا خود کامیاب اداکاراور اداکارائیں ڈرگز کے استعمال پر یا دوستوں کے ساتھ ڈرگز پارٹیاں کرنے کے الزامات میں گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ اب ہو سکتا ہے کہ آپ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ ڈرگز سے متعلق خبر تھی اس لئے اس کو اتنی اہمیت دی گئی تو ایسا بھی نہیں تھا کیونکہ کچھ ہی ہفتے پہلے بھارتی گجرات کے Mundra port پر تقریبا تین ہزار کلو ڈرگز پکڑی گئی تھی جس کی مالیت تقریبا اکیس ہزار کروڑ ہندوستانی روپے بنتی تھی۔ لیکن اس پر یہ پورا بھارتی میڈیا خاموش رہا تھا اس خبر پر اتنی ہزار ٹوئیٹس نہیں ہوئیں تھیں جتنی آریان خان پر خبریں بنا کر ٹوئیٹس کی جا رہی ہیں۔ آریان کے حوالے سے شاہ رخ خان کی پرانی پرانی ویڈیوز کو بھی نکال کر دوبارہ سے وائرل کیا جا رہا ہے۔

    اس کے پیچھے مودی سرکار کی سازش کیا ہے جس میں بھارتی میڈیا بھی پارٹنر بنا ہوا ہے۔دراصل اس واقع کی آڑ میں دو بہت ہی اہم خبروں کو چھپایا جا رہا ہے۔ایک خبر تو یہ ہے کہ بی جے پی پارٹی کی حکومت والی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے روڑکی میں ایک چرچ پرتین اکتوبر کو 200 سے زائد شرپسندوں نے حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی۔ اور یہ شر پسند آپ خود جانتے ہیں کہ کون ہو سکتے ہیں۔ یہ شر پسند ہندو انتہا پسند تنظیموں کے لوگ تھے جن کو مودی سرکار کی پوری سپورٹ حاصل ہے۔ اس حملے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اور ان ہندو انتہا پسندوں نے فرنیچر، تصویریں اور موسیقی کے آلات وغیرہ بھی توڑ دیے تھے۔ وہ حملہ کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے بھی لگاتے جا رہے تھے۔
    اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کو روکنے کے لئے پولیس نہیں پہنچی۔ چرچ انتظامیہ کی شکایت کے باوجود پولیس نے اب تک کسی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا بلکہ الٹا مسیحی برادری اور چرچ کے ہی نو افراد کے خلاف کیس درج کر دیا۔ اور ان پر ایک خاتون کو دھمکی دینے اور حملہ کرنے کے الزامات لگا دئیے گئے۔حالانکہ اب چرچ کے قریب ایک گھر کے پاس لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔ لیکن سیاسی دباو کی وجہ سے اب تک متاثرین کے خلاف درج کرایا گیا کیس منسوخ نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی حملے میں ملوث لوگوں کی شناخت کے باوجود ان کو گرفتار کیا گیا۔اور اس طرح کی کاروائیوں کے پیچھے ہمیشہ مودی سرکار کے پاس ایک ہی گھسی پٹی وجہ ہوتی ہے۔۔ جو کہ بی جے پی کے ریاستی صدر مدن کوشک نے اپنے بیان میں بتا بھی دی ہے کہ اس چرچ کا استعمال ہندووں کا مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہو رہا تھا۔ اس واقعے میں جو لوگ ملوث ہیں، وہ دراصل اسی کالونی کے رہنے والے تھے اور چرچ کو مذہب کی تبدیلی کے لیے استعمال کیے جانے کی وجہ سے ناراض تھے۔ اس لئے انہوں نے یہ حملہ کیا۔حالانکہ اس چرچ کو چلانے والی سادھنا لانس ایک ریٹائرڈ سرکاری اسکول ہیں جو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اب اس چرچ کو اپنی جمع کردہ رقم اور پینشن کے پیسوں سے چلاتی ہیں۔ اور وہاں ایسی کوئی کاروائی نہیں ہوتی رہی جس کا الزام ان پر لگایا جا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ دوسری خبر جس کو آریان خان کے کیس کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ کسانوں کو معاملہ ہے۔ یہ ہنگامہ بھی تین اکتوبر کو ہی شروع ہوا تھا۔ اتوار کے روز اتر پردیش کے نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ لکھیم پور کھیری میں کچھ سرکاری منصوبوں کا افتتاح کرنے والے تھے جس کے بعد انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کے آبائی گاؤں میں ایک پروگرام میں شرکت کرنا تھی۔مودی حکومت کی زراعت کے حوالے سے پالیسیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے کسان وہاں بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہو گئے جہاں یہ تقریب منعقد ہونا تھی۔ کیشو پرساد موریہ پہلے اس پروگرام میں شرکت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنے والے تھے، لیکن بعد میں ان کے پروٹوکول میں تبدیلی کی گئی اور وہ بذریعہ سڑک لکھیم پور پہنچے۔اتوار کو دوپہر ڈیڑھ بجے جب سنگ بنیاد کا پروگرام مکمل ہوا اس وقت تک وہاں کوئی ہنگامہ نہیں تھا۔ کسانوں کا احتجاج بھی پر سکون تھا۔ حالانکہ کچھ دن پہلے اجے مشرا نے اپنے بیانات میں کسانوں کو کافی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ انھوں نے کالے جھنڈے دکھانے والے کسانوں کو خبردار کیا تھا کہ میں صرف وزیر یا رکن اسمبلی نہیں ہوں۔ جو لوگ مجھے ایم پی اور ایم ایل اے بنانے سے پہلے میرے بارے میں جانتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں کسی بھی چیلنج سے بھاگنے والا نہیں اور جس دن میں نے اس چیلنج کو قبول کر کے کام شروع کیا اس دن پالیا ہی نہیں بلکہ لکھیم پور تک چھوڑنا پڑ جائے گا، یہ یاد رکھنا۔لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اجے مشرا کی تین گاڑیوں کا قافلہ تیکونیا کے قریب پہنچا جہاں کسان سڑک روک کر احتجاج کر رہے تھے۔وہاں ان کی کسانوں کے ساتھ گرما گرمی ہوئی اجے مشرا کے ساتھ موجود لوگوں میں سے کسی نے گولی چلائی جو ایک کسان کے سر پر لگی اور اس کے بعد حالات بگڑ گئے۔ جس پر انہوں نے اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں بھی ان کی گاڑیوں نے کسانوں کے ہجوم کو تیزی سے روندنا شروع کر دیا جس میں چار کسان کچل کر مر گئے اور تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں کسانوں کی لاشیں سڑک کے کنارے پڑی دکھائی بھی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور دو گاڑیوں کو آگ بھی لگائی گئی۔ ایک صحافی بھی اس میں مارا گیا۔ اور کل آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔اور جب اپوزیشن رہنماوں نے وہاں پہنچنے کی کوشش کی تو ان کو بھی زبردستی روکا گیا۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کو سیتا پور کے مقام پر حراست میں لے لیا گیا جس پر راہل گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا حکومت پرینکا کی ہمت سے خوفزدہ ہے؟ پرینکا میں جانتا ہوں کہ آپ پیچھے نہیں ہٹیں گی- وہ آپ کی ہمت سے ڈر گئے ہیں۔ ہم انصاف کی اس عدم تشدد والی لڑائی میں ملک کے کسان کو جیت دلا کر رہیں گے۔اس کے علاوہ پارٹی عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو بھی لکھیم پور کے راستے میں ہی روک لیا گیا۔ تاکہ کوئی وہاں پہنچ کر اصل صورتحال نہ جان سکے اور نہ ہی کسانوں کے ساتھ کسی طرح کی حمایت کا اظہار کیا جائے۔اب آپ سوچیں کہ انڈیا میں وہ اتنے بڑے واقعات ہوئے جن میں اتنے لوگ مارے گئے لیکن مودی سرکار اور ان کا چہیتا میڈیا صرف شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی خبر میں Interested تھا۔ انڈیا میں کسانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور Minoritiesکے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ دکھانے میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسی لئے آریان کو ابھی ضمانت بھی نہیں دی گئی تاکہ ابھی مزید کچھ دن تک میڈیا اسی خبر پر لگا رہے پھر باقی دونوں معاملات دب جائیں گے تو آریان کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔ تو یہ ہے مودی سرکار اور ان کے جعلی میڈیا کا اصل چہرہ کہ کیسے سازشیں کرکے اصل واقعات کو عوام کے سامنے آنے سے روکا جاتا ہے۔

    @afeefarao

  • پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس اور فیک نیوز، تحریر:عفیفہ راؤ

    پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس اور فیک نیوز، تحریر:عفیفہ راؤ

    پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس تو کھل چکا۔ لیکن اس وقت پنڈورا پیپرز کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا ایک بار پھر سے بہت چرچا ہو رہا ہے۔ وہی فیک نیوز جس کی ابھی تک کوئی ایک تعریف تو سامنے نہیں آسکی جسے سیاسی جماعتوں اور صحافیوں سمیت پوری قوم تسلیم کر سکے لیکن ہمارے سیاستدان خود فیک نیوز پھیلانے میں اب شامل ہو گئے ہیں تاکہ اتنے اہم معاملے کو غیر سنجیدہ کیا جا سکے۔پانامہ میں چار سو سے زائد لوگ تھے لیکن اب کی بار پنڈورا پیپرز میں سات سو سے زائد افراد ہیں۔ پانامہ کیس میں ہم نے دیکھا تھا کہ چار سو میں سے صرف ایک ہی خاندان تھا شریف خاندان جس کے خلاف کوئی خاطرخواہ کاروائی ہوئی تھی باقی شاید کسی کا نام بھی اب لوگوں کو یاد نہیں ہو گا کہ ان لیکس میں اور کون کون تھا۔اس پینڈورا پیپرز میں جس بات پر سب سے زیادہ خوشی منائی جا رہی ہے وہ یہ کہ اس میں عمران خان کا نام شامل نہیں ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں بہت سے ایسے لوگوں کے نام شامل ہیں جو کہ عمران خان کی حکومت میں ہیں اور ان کے بہت قریبی ہیں۔اس لئے ایک طرف تو یہ اس حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس ہے کہ عمران خان اب کس کس کے خلاف کاروائی کروائیں گے۔لیکن دوسری طرف بغیر کسی تحقیق کے ہمارے وفاقی وزیر شیخ رشید کہتے ہیں کہ یہ ٹائیں ٹائیں فش ہے اس میں سے کچھ نہیں نکلا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ مثال بھی دی کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔۔۔

    لیکن ایک بات جو پانامہ پیپرز میں اور پینڈورا پیپرز میں مختلف ہے وہ یہ کہ پانامہ کے ٹائم پر جن لوگوں کا اس میں نام آیا تھا وہ اس پر اپناResponseدیتے ہوئے بہت ہچکچاتے تھے۔ لیکن اب کی بار پینڈورا پیپرز میں جن کا بھی نام آیا ہے ان میں سے بہت سے لوگوں کاResponseبھی سامنے آ رہا ہے جس کی وجہ سے اب کی بار انLeaksکی وہ دہشت محسوس نہیں ہو رہی جو پہلے ہوئی تھی۔اس میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی یہ پینڈورا پیپرز سامنے آئے ہمارے اپنے وفاقی وزیر اور ایک مشیر نے فیک نیوز پھیلانا شروع کر دیں۔اور یہ وہی وزیر ہیں جو میڈیا کے حوالے سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک بل پیش کرنا چاہ رہے تھے تاکہ فیک نیوز کے پھیلاو کو روکا جا سکے۔ اور اب وہ خود ٹوئیٹر کے زریعے فیک نیوز پھیلا رہے ہیں جس پر بہت سے صحافی اور سوشل میڈیا فالوورز اب یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ فیک نیوز دینے والے صحافیوں کے خلاف جو جرمانے اور سزائیں ان وزیر صاحب کی طرف سے تجویز کی گئیں تھیں کیا اب فواد چوہدری اور شہباز گل کو وہی سزا نہیں ملنی چاہیے؟ کیا ان کے خلاف ویسی کاروائی اور جرمانے نہیں ہونے چاہیں جو کہ صحافیوں پر یہ لاگو کروانا چاہتے تھے؟
    دراصل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے سیاسی روابط شہباز گل نے دعوے کیے کہ پینڈورا پیپرز میں جن پاکستانیوں کے نام ہیں ان میں ایک نام مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا بھی ہے۔فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہاں تک بھی کہا کہ۔۔ علی ڈار جو نواز شریف کے داماد ہیں ان کے نام آف شور کمپنی کے بعد اب نئی اطلاعات یہ ہیں کہ مریم نوز کے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں ، اس خاندان کو کتنا پیسہ چاہئے؟شہباز گل نے جنید صفدر کے حوالے سے پی ٹی وی پر چلنے والی خبر کا سکرین شاٹ لگا کراپنی ٹوئیٹ میں مریم صفدر کو نشانہ بنایا اور یہ ٹوئیٹ کی کہ۔۔۔ کیا ایسے ہو سکتا ہے کسی چوری وغیرہ کی تحقیق ہو اور مریم باجی پیچھے رہ جائیں ؟ کبھی بھی نہیں۔اور یہ نہیں کہ ان دونوں حضرات نے صرف یہ خبر ٹوئیٹ کی تھی بلکہ شہباز گل نے اے آر وائی کے ایک پروگرام میں بھی پی ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنید صفدر کا نام ان دستاویزات میں شامل ہے اور فواد چوہدری نے ڈان ٹی وی کے پروگرام میں یہی بات دوہرائی۔جبکہ دو پاکستانی صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی جو اس تحقیق میں شامل رہے ہیں ان سے جب ایک چینل پر یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے صاف کہا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس کے علاوہ پنڈورا لیکس کے نام کے ایک اکاونٹ سے بھی جنید صفدر کے بارے ٹوئیٹ سامنے آئیں کہ۔۔ ہماری تحقیق کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر کی تین شیل کمپنیاں اور دو آف شور کمپنیاں سی شیلز اور ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔لیکن جب عمر چیمہ نے اس کی تردید کی اور اس اکاونٹ کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ جعلی ہے تو کچھ وقت کے بعد وہ اکاونٹ ڈیلیٹ ہو گیا لیکن فواد چوہدری اور شہباز گل کی ٹویٹس ابھی بھی موجود ہیں بلکہ ان کے اکاونٹس سے ایسی ٹوئیٹس کو بھی ری ٹوئیٹ کیا جا رہا ہے جو کہ ان کے بیانیے کے قریب ہیں۔

    لیکن میں آپ کو بتاوں کہ جنید صفدر کے حوالے سے یہ خبر صرف پی ٹی وی نے نہیں چلائی بلکہ پرائیوٹ نیوز چینل اے آر وائے نے بھی نشر کی تھی۔ جس پر مریم نواز نے کافی سخت رد عمل دیا اور اے آر وائے کو ٹیگ کرکے یہ ٹوئیٹ کی کہ اگر اے آر وائی نے فوری اس جعلی خبر پر معافی نہیں مانگی تو میں انہیں کورٹ لے کر جاؤں گی۔جس کے بعد اے آر وائے نے یہ خبر چلانا شروع کی کہ جنید صفدر والی خبر درست نہیں۔جس کے بعد مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ یہ کافی نہیں ہے۔ اے آر وائی کو بغیر کسی شک و شبہ کے معافی مانگنی ہوگی ۔۔۔ ورنہ وہ یہاں اور برطانیہ میں قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ اب کسی کو نہیں بخشا جائے گا بہت ہو گیا۔اے آر وائے نے تو پھر بھی تردید چلا دی لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پی ٹی وی، فواد چوہدری اور شہباز گل کے خلاف بھی کوئی کاروائی کریں گی یا نہیں۔لیکنPandora papers VS fake news کی اس لڑائی سے حکومت کو ایک فائدہ یہ ضرور ہوا ہے کہ اس لڑائی کے چکر میں اتنی بڑی Investigation report کو Non serious issue بنا دیا گیا۔ یہ رپورٹ آنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن جن حکومتی عہدیداران کا اس میں نام آیا ہے وہ سب اپنے عہدوں سے استعفے دیتے عدالت کی طرف سے اس پر تحقیقات کروائی جائیں۔ جو بے قصور ثابت ہو اس کو دوبارہ عہدہ دے دیا جاتا اور جس کا قصور ثابت ہو جائے اس کو سزا دی جاتی کیونکہ عمران خان اسی احتساب کے نعرے کو لیکر حکومت میں آئے تھے۔ یہی ان کی جماعت کا سلوگن ہے کہ صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی۔۔۔خیر استعفے تو نہیں آئے لیکن اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ اب ان کی طرف سےPrime minister inspection commissionکے تحت ایک اعلی سطحی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے کہ یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔ اور اس کی سربراہی خود وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔

    ہماری بھی یہی دعا ہے کہ قوم کے سامنے حقائق آئیں کیونکہ اس کام کی اس وقت ضرورت بھی ہے یہ رپورٹ اب صرف آف شور کمپنیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ صرف نواز شریف یا مریم نواز نہیں ہیں جن کے فیلٹس کی منی ٹریل ابھی تک سامنے نہیں آ سکی بلکہ اور بہت سے پاکستانی ہیں جو یہاں سے پیسہ برطانیہ لے کر جاتے رہے ہیں اور وہاں جاکر جائیدادیں خریدتے رہے ہیں۔اور ان لوگوں میں صرف سیاستدان نہیں ہیں بلکہ بہت سے اور لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر اب تحقیقات ہونی چاہیں۔ ان میں سے جو لوگ ریٹائرڈ ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن جو اس وقت حکومتی عہدوں پر ہیں ان سے استعفے لینا بھی ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔اور اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوم ان کو مان لے گی کہ پاکستان میں احتساب صرف سیاسی مقصد کے لئے نہیں ہوتے اور عوام کا اپنے انصاف کے نظام پر بھی اعتماد بحال ہو گا پھر کسی کو ہمت بھی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام کے پیسے پر ڈاکہ ڈالے۔اور اس کے ساتھ ساتھ فیک نیوز کے معاملےپر بھی غور کرلیں کہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ پھرجو کوئی بھی غلط خبر کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے آگے پھیلاتا ہے تو سب کے لئے ایک ہی سزا ہونی چاہیے۔ کیونکہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ جب انہیں کی ٹوئیٹس اور بیانات کو میڈیا اٹھا کر خبر بناتا ہے تو قصوروار صرف میڈیا تو نہیں ہو سکتا۔ صحافی ہوں یا سیاستدان سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
    @afeefarao

  • فیس بک میں خرابی: ’’ٹیلی گرام‘‘ پر ایک روز میں 7 کروڑ صارفین کا اضافہ

    فیس بک میں خرابی: ’’ٹیلی گرام‘‘ پر ایک روز میں 7 کروڑ صارفین کا اضافہ

    معروف میسیجنگ ایپ ’’ٹیلی گرام‘‘ پر ایک روز میں 7 کروڑ صارفین کا اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : فیس بک کی چند گھنٹے کی خرابی کے باعث ایک روز میں پراتنے سارے صارفین کا ایک ساتھ ٹیلی گرام پر رخ کرنے پر بانی پاول دروف نے فخر محسوس کیا ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دیگر پلیٹ فارمز سے آنے والے 7 کروڑ صارفین کو خوش آمدید کیا ہے۔

    سروسز متاثر ہونے کے بعد فیس بُک کواسٹاک مارکیٹ میں 50 ارب ڈالر کا نقصان

    انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم ہمشہ سے مشکل صورتحال کو بہترین طریقے سے سنبھالنے میں مہارت رکھتی ہے ٹیلی گرام حال ہی میں 1 ارب ڈاؤن لوڈز میں سرفہرست رہی ہے جبکہ اس ایپ کے سال کے شروع تک 500 ملین ماہانہ فعال صارفین تھے۔

    فیس بک انسٹاگرام اور واٹس ایپ 7 گھنٹوں بعد ، مارک زکر برگ کا کتنا نقصان ہوا؟

    سگنل ایپ جو ٹیلی گرام اور واٹس ایپ دونوں کے ساتھ مقابلہ میں ہے، نے بھی نئے صارفین کو ویلکم کہا ہے، ان کے آفیشل ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ “لاکھوں نئے صارفین” ایپ میں شامل ہوئے ہیں۔


    اس سے قبل مذکورہ دونوں ایپس نے اس سال کے شروع میں لاکھوں صارفین کو ویلکم کیا تھا جب واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

    فیس بک ہیک ہو گئی، ڈیڑھ ارب صارفین کا ڈیٹا ہیکرز فورمز پر فروخت کے لئے پیش روسی…

    فیس بک نے گزشتہ روز اپنی سروس میں خرابی کی وجہ سے بیک بون راؤٹرز پر کنفیگریشن تبدیلوں کو قرار دیا تھا فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب دنیا بھر میں بند ہوگئی تھی جو 7 گھنٹے بعد بحال ہوئی اس سے قبل 2018 میں فیس بک کو 14 گھنٹے کے لیے بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ 2008 میں یہ بلیک آؤٹ پورے دن کا تھا۔

    واٹس ایپ،فیسبک، انسٹاگرام ڈاؤن: ٹوئٹر خوش، معروف کمپنیوں کے دلچسپ ٹوئٹس

    فیس بُک کمائی کیلئے پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے سابق…

  • یو اے ای کا اپنا اگلا خلائی مشن "وینس” پر روانہ کرنے کا اعلان

    یو اے ای کا اپنا اگلا خلائی مشن "وینس” پر روانہ کرنے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات وینس( زہرہ) پر اپنا خلائی مشن بھیجے گا-

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا کے مطابق ‘مشن ہوپ’ کی کامیابی کے بعد متحدہ عرب امارات نے اپنے اگلے مشن کو بھیجنے کا اعلان کیا یے جو مریخ اور مشتری کے درمیان سیارچوں کی بیلٹ کی تحقیق کرنے سے پہلے امارات وینس کا مشن مکمل کرے گا۔

    سیارچوں کا خصوصی مشن 2028 میں لانچ کیا جائے گا، جو 2030 تک مریخ اور مشتری کے درمیان پہنچے گا، اور سیارچے پر لینڈ کرے گا، اگر یہ مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو متحدہ عرب امارات یہ کارنامہ انجام دینے والا چوتھا ملک بن جائے گا-

    مشن کا بنیادی ہدف مریخ اور مشتری کے درمیان سیارچوں کی پٹی کی کھوج کرنا ہو گا ، جو زمین پر کئی طریقوں سے اثر اندازہوتے ہیں یہ 5 اعشایہ 2 بلین میل اور 5 سال پر مشتمل وقت پر مبنی طویل مشن ہو گا تاہم اس پر کتنی لاگت آئے گی اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے منگل کے روز اس منصوبے کے بارے میں کہا کہ ان کی نظریں ستاروں پر ہیں کیونکہ ہماری ترقی اور ترقی کے سفر کی کوئی حد نہیں خلا میں ہر نئی ترقی کے ساتھ ، ہم یہاں زمین پر نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرتے ہیں-

    اگرچہ یہ پہلا ملک نہیں ہوگا جو زہرہ اور سیارچوں پر اپنے مشن بھیجے گا ، متحدہ عرب امارات اپنے بڑے کاموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پہلے ہی دنیا کی سب سے اونچی عمارت ، سب سے گہرے سوئمنگ پول ، سب سے بڑا شاپنگ مال ، اور زندگی سے بڑے اہداف کی بظاہر نہ ختم ہونے والی فہرست ہے جو بین الاقوامی سطح پر اپنی شبیہ کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ 10 ملین کے ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا خلائی مشن ہوپ 6 ماہ کے طویل خلائی سفر کے بعد کامیابی سے مریخ کے مدار میں داخل ہوا تھا۔ خلائی مشن ہوپ نے اس وقت تصویرلی جب وہ مریخ کے مدار میں داخل ہو رہا تھا فروری میں مریخ کے مدار میں بھیجے جانے والے خلائی مشن ہوپ نے پہلی تصویر بھیجی تھی۔

    خبر رساں ایجنسی نے متحدہ عرب امارات کی قومی اسپیس ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ تصویر مریخ کی سطح سے 24 ہزار 700 کلومیٹر بلندی سے لی گئی ‘ہوپ’ مشن سیارے کے ماحول اور اس کی تہوں کی مکمل تصویر فراہم کرنے والی پہلی تحقیق تھی۔

    زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

  • پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد جنوبی ایشیاء کی سکیورٹی صورتحال یکسر مختلف ہوگئی ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد چین نے اپنے پنجے افغانستان میں جمانا شروع کر دیے ہیں اور اس کا ثبوت چائنا کی حکومت کے طالبان کی قیادت کے ساتھ بیچنگ میں کیے گئے مذاکرات ہیں۔ اسی مذاکرات کی خبروں کے نتیجے میں امریکہ نے چین کے خلاف ایک بلاک بنانے کا فیصلہ کیا جس کا اہم رکن بھارت ہوگا۔ بھارت چونکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف ہے اور پنجشیر میں احمد مسعود کی خفیہ طور پر مدد بھی کرتا رہا ہے اور لداخ کے بارڈر پر چین اور بھارت کی فوجیں کافی بار ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتی رہی ہیں تو ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد امریکہ نے بھارت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

    افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے سرحدی علاقوں اور خصوصاً بلوچستان میں امن وامان کو تباہ کرنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ گوادر میں ایف سی اہلکاروں پر جان لیوا حملے ہوں یا پھر کوئٹہ کا سریاب روڈ ہو، ہر طرف دشمن عناصر پاکستان کو ناتلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گوادر میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بنائے گئے مجسمے کو ایک خودکش دھماکے کی صورت میں تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد پاکستانی قوم کے دل میں کافی غم و غصہ دیکھنے کو ملا۔ اس حملے سے دشمن نے پاکستانی قوم کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ہم کبھی بھی اور کسی وقت بھی بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی حملے کے فوراً بعد اگلے دن دہشتگردوں کی طرف سے ایک دفعہ پھر ایف سی سکیورٹی اہلکاروں کے اوپر حملہ کیا گیا اور اس خودکش حملے کے نتیجے میں متعدد ایف سی جوان اس مٹی کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کر گئے۔ ایف سی سکیورٹی فورسز بلوچستان میں چائنیز حکام کی سکیورٹی پر مامور ہونے کے علاوہ صوبہ بلوچستان کی سرحدوں کی حفاظت پر بھی مامور ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کو تقویت دینے کے لیے بھارت اور ایران اپنے ناپاک عزائم کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کے در پر ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان تمام دہشتگردانہ واقعات کے پیچھے اگر ہم ایران کے سازشی نظریات کو پرکھیں تو بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ ایران ہی وہ ملک ہے جو انڈیا کو پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اپنی سر زمین مہیا کرتا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا کیس ہو یا دہشتگردوں کی نقل و حمل کا مسئلہ ہو، ایران نے ہمیشہ بھارت کو ایک پل کا سہارا دیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں جو سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں ان میں سے متعدد حملہ آور ایران کے رستے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ چند مہینے پہلے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ میں متعدد سکولوں کو سیل کیا اور وہاں پر پڑھایا جانے والا لٹریچر اپنے قبضے میں لیا، وہ سکول پاکستان مخالف کاروائیوں کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے تھے اور ان کو تمام فنڈنگ ایران سے مل رہی تھی۔

    پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران کی سرحد کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے تاکہ دشمن کا وار ہر طرف سے ناکام ہو اور بلوچستان میں ترقی ہوتی ہوئی نظر آئے اور سی پیک کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکے۔ پاکستان زندہ باد!

    @anihachaudhry

  • سیارہ جہاں لوہے کی بارش ہوتی ہے

    سیارہ جہاں لوہے کی بارش ہوتی ہے

    امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جو اس قدر گرم ہے کہ اس پر پگھلے ہوئے لوہے کی بارش ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہماری زمین سے 640 نوری سال کے فاصلے پر موجود اس سیارے کا نام واسپ 76 رکھا گیا ہے ماہرین کا خیال ہے کہ سیارے کا درجہ حرارت 2500 سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہے۔

    نیویارک کی کورونل یونیورسٹی کے ماہرین نے ہوائی میں نصب جیمنائی نارتھ ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اس سیارے کی سطح کا جائزہ لیا ہے ماہرین نے سیارے کی سطح پر آئونائزڈ کیلشیم کی موجودگی کی تصدیق کی ہے سیارے کا ایک حصہ 2500 سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ گرم ہے اس درجہ حرارت پر لوہا ، بخارات کی شکل میں تبدیل ہو کر فضا میں پہنچ جاتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سیارے کا دوسرا حصہ قدرے ٹھنڈا ہے جہاں پہنچ کر یہ پگھلا ہوا لوہا ٹھنڈا ہو کر بارش کی شکل میں اس کی سطح پر واپس آتا ہے یہ سیارہ ایک ایسے ستارے کے گرد گھومتا ہے جو حجم میں ہمارے نظام شمسی کے سورج سے آدھا ہےاس کی سطح کا درجہ حرارت 5500 سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے سیارے پر ہر وقت طوفانی ہواؤں کے جھکڑ چلتے رہتے ہیں-

    یہ رپورٹ اسپیس ڈاٹ کام جرنل میں شائع ہوئی-

  • جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکی حکومت کے خزانے کی سیکرٹری Janet Yellen نے کہا ہے کہ امریکی معیشت ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔ معیشت کے بارے میں اس طرح کے فقرے کسی پاکستانی کے لیے سننا ایک عام سی بات ہے، لیکن بحثیت امریکی اگر حکومت کا ایک بڑا عہدے دار یہ کہے کہ اس کی حکومت کے پاس دس دن کے بعد یعنی سولہ یا چودہ اکتوبر کو اپنے فوجیوں کو دینے کے لیے Pay checques. اپنے پچاس لاکھ ریٹائرڈ شہریوں کو دینے کے لیے Social security fund اور اپنے تیس لاکھ فیملیوں کو Monthly child tax credit دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو یہ کتنا بڑا دھماکہ ہے۔یہ دھماکہ صرف امریکیوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے جو اپنی تجارت ڈالر میں کر رہے ہیں اور Foreign reserve کی صورت میں کھربوں ڈالر اپنے بینکوں میں رکھے بیٹھے ہیں۔

    دنیا میں یہ تجارت کا اصول ہے کہ اگر ایک سال کے تجارتی اور قرضے کے بل کے لیے پیسے آپ کے اکاونٹ میں موجود نہیں ہیں تو آپ کی کریڈٹ ریٹنگ گر جاتی ہے اور آپ کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ایک تلوار کی طرح سر پر لٹکنے لگتا ہے۔ اس لیے ہر ملک اپنی تجارت اور قرضوں سمیت اپنے خزانے ڈالر سے بھر کر رکھتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ڈالر چھاپنے والا ملک یہ کہے کہ اس کے پاس ایک ہفتے بعد اپنے سرکاری ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہ نہیں ہے تو سوچیں یہ کتنا بڑا طوفان پیدا کر دے گا۔ کیونکہ امریکی فیڈرل گورنمنٹ کے ملازم ہونے سے زیادہ اور کون سی نوکری محفوظ ہو سکتی ہے، یہاں تو پاکستان کے سرکاری ملازم کا کوئی مان نہیں ہے۔ جو ایک دفعہ حکومت میں بھرتی ہونے کے بعد اس قوم کے داماد بن جاتے ہیں۔ نخرے سے کام کرتے ہیں اور پھر تمام تر سہولتوں کے بعد ساری زندگی قوم کے پیسے سے پینشن ملتی ہے۔ جوانی بھی محفوظ اور بڑھاپا بھی۔ بحرحال واپس آتے ہیں امریکی معیشت کی طرف۔کہ آخر یہ مسئلہ ہے کیا اور کیا امریکہ اس سے نکل جائے گا۔ اس وقت امریکہ اور پاکستان کی معیشت میں ایک بیماری مشترک ہے، اور وہ قرض کے پیسے سے حکموت چلانے کا فن۔ امریکہ نے دنیا پر اپنی بالادشتی قائم رکھنے کے لیے اپنے اخراجات کو بہت زیادہ بڑھا لیا ہے۔ جہاں امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے وہیں دنیا میں سب سے زیادہ قرضہ بھی امریکہ نے ہی لیا ہوا ہے جو
    28.3 trillion dollerبنتا ہے۔ چاہے کوئی عام سا شخص ہو یا بڑا ملک، معیشت کا ایک سادہ سا اصول ہے کہ اگر آپ کے اخراجات آپ کی آمدنی سے زیادہ ہیں تو اسے پورا کرنے کے لیے آپ کو قرضہ لینا پڑے گا، اور اس قرض پر سود آپ کے اخراجات میں مزید اضافہ کر دے گا۔ اور اسطرح قرض کی واپسی کے لیے مزید قرض
    Debt Trap میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اس وقت امریکہ اپنی GDP کا اٹھانوے فیصد لے چکا ہے اور اگر سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو اگلی دو دہائیوں میں اس کا قرضہ اس کی
    GDP کے 195% ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں کنگال پارٹی کو قرض دینے والوں میں بھی کمی آ جاتی ہے اورتباہی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ بحثیت انسان تو ہم نے دیکھا ہے کہ بہت دے لوگ خودکشی کر لیتے ہیں لیکن ممالک Desprate ہو کر ایسے کام کر بیٹھتے ہیں کہ تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

    اس وقت امریکہ کے آمدنی اور کمائی میں تین ٹریلین ڈالر کا فرق ہے حکومت چلانے کے لیے اسے ہر سال تین ہزار ارب ڈالر قرض لینا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنے ملازمیں کو وقت پر تنخوا دے دے سکیں اور حکومتی مشینری چلتی ہے۔گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر کی معیشتیں تاریخ کے بد ترین بحران سے گزری تھیں جس کے دوران ترقی یافتہ معیشتوں نے ہزاروں ارب ڈالر کے نوٹ چھاپ کر عوام کو گھر بیٹھے تقسیم کیے تھے تاکہ ممکنہ عوامی بغاوت کو ابھرنے سے روکا جا سکے۔ لیکن اب معیشتوں کی بحالی کے آغاز کا واویلا کیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ اب سرمایہ دارانہ نظام ریکوری کی جانب گامزن ہے۔ لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے واقعات نے اس ریکوری کے کھوکھلے پن کو عیاں کر دیا ہے اور یہ عندیہ دے دیا ہے کہ آنے والے عرصے میں ماضی کی نسبت کہیں گہرا اور وسیع عالمی مالیاتی بحران ممکن ہے جو پوری دنیا کی معیشتوں کو ڈبونے کا باعث بن سکتا ہے۔ دنیا بھر کے حکمران طبقات اس صورتحال میں شدید خوفزدہ ہیں اور اپنے نظام کو بچانے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں لیکن ایک بوسیدہ اور انہدام کے قریب پہنچی عمارت کی طرح اس نظام پر جتنا مرضی رنگ و روغن کر لیا جائے اس کی بنیادوں میں موجود خرابی کودرست نہیں کیا جا سکتا۔اس وقت امریکہ میں لڑائی یہ ہے کہ ہر ملک میں ایک Debt limit ہوتی ہے جس میں حکومت کو ایک حد تک قرض لینے کی لمٹ دی جاتی ہے اور حکومت کو بے مہار نہیں چھوڑا جاتا کہ وہ جتنے مرضی قرضے لے کر شہہ خرچیاں کرے۔ اس طرح امریکہ میں بھی ایک Debt limitہے اور امریکہ اپنی لمٹ سے کہیں زیادہ قرض پہلے ہی لے چکا ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ کی کانگریس قانون سازی کے زریعے یہ فیصلہ کرے گی کہ حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے مزیدDebt limitبڑھانی چاہیے یا نہیں، اس وقت کانگریس میں Republican اور Democrat کی تعداد برابر ہے۔ اور اس کے لیے مخالف پارٹی Republican کی سپورٹ کی ضرورت ہے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ جس طرح بائیڈن نے2 trillionڈالر کے
    Infrastructure planاناونس کیئے ہوئے ہیں اس کے لیے وہ کسی صورت Debt limitبڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بحرحال اس صورتحال کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا امریکہ میں یہ صورتحال 2011میں بھی پیش آگئی تھی ۔ لیکن اس وقت اس بحران کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے، امریکہ کی ایک بیمار گھوڑے جیسی صورتحال پوری دنیا کی ذہن سازی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے لوگ اب سونے سمیت دیگر کرنسیوں میں تجارت سمیت بہت سے آپشنز کو بڑا سیریس لینا شروع ہو گئے ہیں۔ جو امریکہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ کیسے اس کے لیے آپ کو یہ چھوٹی سے کہانی سننی پڑے گی۔

    اب ذرا یہ سوچیے کہ امریکی وزارت خزانہ محض ایک سال کی مدت میں کہاں سے تین ہزار پانچ سو ارب ڈالر کا خسارہ پورا کرنے کا اہتمام کرسکتی ہے؟ آخر ایسا کیا ہوگیا تھا کہ امریکہ مختصر میعاد کے قرضوں کی دلدل میں پھنس گیا؟ امریکی حکومت نے بھی وہی کیا جو بہت سے پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں کیا کرتی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ نے قرض اتارنے کے لیے قرض لینے کی روایت پر عمل کیا۔ اندرونی قرضوں پر سود کا بوجھ کم کرنے کے لیے قرضے لیے جاتے رہے۔ بہت سے پرائیویٹ ادارے اسی روش کو اپناکر تباہی کی منزل تک پہنچے۔ امریکا سمیت دنیا بھر میں بہت سے بڑے ادارے اور حکومتیں قرضوں کو ادا کرنے کے بجائے ادائیگی ٹالنے کے جتن کرتی رہتی ہیں۔ جب تک خرابی مکمل طور پر واقع نہیں ہو جاتی! یہ طریق کار انسان، اداروں اور حکومتوں کو قرضوں پر قرضے لیتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ قرض دینے والے جلد یا بدیر بیدار ہوکر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ قرض کی واپسی کا امکان کس حد تک ہے؟ اور جب ایسا ہوتا ہے تب خرابی تیزی سےپھیلنے لگتی ہے اور سود کی شرح بھی ہوش ربا رفتار سے بلند ہوتی جاتی ہے۔ پھر محفل اجڑنے لگتی ہے اور دیوالیہ قرار دیے جانے کی منزل آجاتی ہے۔ جب حکومتیں دیوالیہ ہوتی ہیں تو اسے ڈیفالٹ کہا جاتا ہے۔ کرنسی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے اور اس مارکیٹ میں سٹے بازی کرنے والے اندازے لگاتے رہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت کب ڈیفالٹ کر جائے گی۔اگر کوئی ملک اپنے قلیل المیعاد قرضوں کو ایک سال میں ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اسے غیر معمولی سیکورٹی رسک سے تعبیر کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں بازار زر کے سٹے باز آپ کے بونڈ، سیکورٹی اور کرنسی کو نشانہ بنانے لگتے ہیں اور ڈیفالٹ کی راہ واقعی ہموار ہو جاتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گرین اسپین اور گوئیڈوٹی کے طے کردہ معیار کے مطابق امریکا کہاں کھڑا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ کسی بھی شخص یا ملک کو قرض دینے سے پہلے اس کے اثاثے یا جائیداد دیکھی جاتی ہے، اگر اس کے قرض اس کی جائیداد یا اثاثوں سے بڑھ جائیں تو وہ مقام اس کی تباہی کا مقام ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کی کرنسی کا طاقت کا اندازہ اس کے پاس سونے کے ذخائر سے ہوتا ہے، امریکہ کے پاس دنیا کا سب سے زیادہ سونا ہے۔ جو8133 tonبنتا ہے جس کی مالیت تقریبا پانچ سو بلین ڈالر بنتی ہے۔ جس کے مقابلے میں کہیں زیادہ وہ قرضہ لے چکا ہے۔ بھارت کے پاس 704 ton جبکہ پاکستان کے پاس یہ64 Tonہے۔ امریکا کے قلیل المیعاد بیرونی قرضے اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ امریکا پر قرضوں کا بوجھ اس قدر ہے کہ اب معیشت کی حقیقی بحالی کے بارے میں سوچنے والے احمق دکھائی دیں گے۔ قومی خزانے پر بوجھ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب اترتا دکھائی نہیں دیتا۔اب اگر امریکہ مزید ڈالر چھاپتا ہے جو کہ وہ پہلے ہی بہت چھاپ چکا ہے، سات بلین ڈالر سے زاہد کے چین، جاپان اور دیگر ممال نے امریکہ کے Treasury bill خریدے ہوئے ہیں۔اگر وہ اس صورتحال سے ڈالر کو چھوڑ کر سونا خریدنے پر لگ گئے تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔

    @shoaibsb1