Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شانِ پاکستان .تحریر:میاں وقاص فرید قریشی

    شانِ پاکستان .تحریر:میاں وقاص فرید قریشی

    شانِ پاکستان
    تحریر:میاں وقاص فرید قریشی
    پاکستان ایک عظیم ملک ہے جو 14 اگست 1947 کو لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا۔ یہ ملک صرف ایک خطہ زمین نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب، اور ایک ایسی حقیقت ہے جس میں لاکھوں لوگوں کی امیدیں اور قربانیاں شامل ہیں۔پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے ۔جو کلمہ کے نام پر معرض وجود میں آیا۔جو سب سے اہم بات جو اس کی شان کو بڑھاتا ہے۔وہ یہ کہ 27ویں رمضان المبارک شب قدر کی رات کو معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کی شان اس کے عوام، اس کی ثقافت، اس کی فوج، اس کے قدرتی وسائل، اور سب سے بڑھ کر اس کے اسلامی تشخص میں پوشیدہ ہے۔

    پاکستانی قوم دنیا کی ایک بہادر اور محنتی قوم ہے۔ ہر مشکل وقت میں پاکستانی عوام نے اتحاد، قربانی، اور استقامت کی مثال قائم کی ہے۔ چاہے وہ 1965، 1971۔ 1999،یا 2025 کی جنگ ہو۔ہمیشہ دشمن کو شکست دی۔اور ثابت کیا ۔کہ پاکستانی جس حالات میں بھی ہوں۔جب ملک کی سالمیت کی بات ہو گی۔سب کچھ بھول کر سیسہ پلائی ہو دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔جس کی مثال پوری دنیا نے 10 مئی 2025 کو دیکھا۔دشمن کا غرور خاک میں ملایا۔اور اس کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنی حکمت عملی سے پاش پاش کر دیا۔پاکستان کو 10 مئی 2025 کے بعد ایک نئی شناخت ملی ہے۔اس وقت کی سپر پاور امریکہ کو مجبور کیا۔کہ وہ پاکستان سے درخواست کر کے جنگ بندی کروائیں۔پاکستان اب ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے پوری دنیا کی نظریں اب پاکستان پر ہیں۔

    زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات، پاکستانی عوام نے ہمیشہ ایک قوم بن کر ان کا سامنا کیا ہے۔حکومت کے ملازمین کے ساتھ مل کر اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو مضبوط و توانا بناتے ہیں ۔اگر کرونہ کے دور کی بات کریں۔تو سب صاحب حیثیت لوگوں نے عام عوام تک راشن و دوسری ضروریات زندگی پہنچائیں۔اس طرح ایک محب وطن شہری ہونے کی لازوال قائم کی۔

    پاکستان کی شان مینارِ پاکستان لاہور، پاکستان کا ایک تاریخی اور قومی یادگار مقام ہے، جو پاکستان کی آزادی کی جدوجہد کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اقبال پارک، لاہور، پنجاب، پاکستان میں موجود ہے۔اس کی تعمیر کا آغاز: 23 مارچ 1960اورتکمیل: 22 مارچ 1968کو ہوئی۔اس کامعمار: نسار احمد (پاکستانی)ہے۔اور اس کی اونچائی: تقریباً 70 میٹر (230 فٹ)ہے۔اس کی تعمیر میں مواد: ماربل، کنکریٹ، اور اسٹیل استعمال ہوا ہے۔ تاریخی اہمیت کے حوالے سے اگر ذکر کریں۔تو 23 مارچ 1940 کو قراردادِ پاکستان اسی مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی تھی۔یہ قرارداد برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن (پاکستان) کے قیام کا مطالبہ تھی۔اس مقام کو یادگارِ پاکستان کے طور پر منتخب کیا گیا تاکہ اس عظیم لمحے کو یاد رکھا جا سکے۔ فنِ تعمیر کی خصوصیات کے حوالے سےمینار کی تعمیر میں اسلامی، مغلیہ اور جدید فنِ تعمیر کے عناصر شامل ہیں۔اس کی بنیاد کی سطح پر پھول کی پتیوں جیسا ڈیزائن ہے، جو قربانی، عزم، اور ترقی کی علامت ہے۔مینار کی بنیاد پر قراردادِ پاکستان کا متن اردو، انگریزی، بنگالی، اور عربی زبانوں میں کندہ ہے۔ دلچسپ حقائق میں
    مینار 4 مراحل میں اوپر جاتا ہے، جو مسلمانوں کی جدوجہد کی علامت ہیں:1. نچلا حصہ سنگِ مرمر اور پتھروں سے، جو غلامی کی حالت کی نمائندگی کرتا ہے۔2. درمیانی حصہ جدوجہد۔3. اوپری حصہ کامیابی و آزادی۔4. سب سے اوپر ترقی و خودمختاری کی علامت ہے۔

    پاکستان کی ثقافت رنگا رنگ ہے۔ یہاں مختلف زبانیں، رسم و رواج، اور تہوار موجود ہیں جو اس ملک کو خوبصورت بناتے ہیں۔ پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، اور کشمیری — سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر پاکستان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان کا تاریخی ورثہ، جیسے موہنجو داڑو، ٹیکسلا، بادشاہی مسجد، اور قلعہ لاہور، دنیا بھر میں اس ملک کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔حکومت ہر وقت کوشش میں ہے ۔کہ پاکستان کے خوبصورت مناظر کو نہ صرف پاکستانی شہریوں بلکہ غیر ملکی سیاحوں کیلئے جدید ترین سہولیات فراہم کر رہی ہے ۔اس سے نہ صرف پاکستان کے بارے میں اچھی یادیں ملیں گیں ۔بلکہ ملک کے ریونیو میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔اور ملک کی معیشت دن بدن مضبوط ہو رہی ہے۔

    پاکستان کی شان میں اضافہ کرتا ہوا ایک اور شاہکار کے ٹو (K2) دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے، جو ماونٹ ایوریسٹ کے بعد آتی ہے۔اس کی بلندی تقریباً 8,611 میٹر (28,251 فٹ)یہ پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے، قراقرم (Karakoram) کے پہاڑی سلسلے میں پاکستان کا سب سے بلند پہاڑاسے اکثر "سَوَیج ماؤنٹین” (Savage Mountain) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں چڑھنا نہایت خطرناک ہے۔1856 میں گریٹ ٹرگنومیٹرک سروے کے دوران، سروے افسر ٹامسن مونٹگمری نے قراقرم کی چوٹیوں کو K1، K2، K3 وغیرہ کے نام دیے۔چونکہ K2 کا کوئی مقامی نام معروف نہیں تھا، اس کا یہی نام "K2” برقرار رہا۔اگر چڑھائی کی تاریخ کا ذکر کریں تو پہلی کامیاب چڑھائی 31 جولائی 1954 کو اطالوی کوہ پیماؤں لِینو لاچیدیلی اور اچیلی کمپاگنیونی نے کی۔K2 پر چڑھنا بہت خطرن سمجھا جاتا ہے، اور موت کی شرح بھی بلند ترین چوٹیوں میں سب سے زیادہ ہےانتہائی سخت موسم، برفانی طوفان، اور تنگ راستے اور آکسیجن کی کمی کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تکنیکی طور پر دنیا کے مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک ہے۔

    پاکستان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے۔کہ یہ دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔جس کی وجہ سے پوری دنیا میں عزت واحترام سے اس کو دیکھا جاتا ہے ۔دفاع کے لحاظ سےپاک فوج، بحریہ، اور فضائیہ دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے ہر محاذ پر دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنایا ہے۔ ہماری افواج نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ اندرونِ ملک بھی قدرتی آفات میں عوام کی مدد کے لیے پیش پیش رہتی ہیں۔ ان کی قربانیاں ہی پاکستان کی شان کا ایک اہم پہلو ہیں۔اگرچہ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کو وہ اثاثہ جات نہیں دیئے ۔جو پاکستان کے حصے میں ائے۔اس کے باوجود پاکستان نے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بہت ترقی کی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر عبدالسلام، اور بہت سے دوسرے سائنسدانوں نے ملک کا نام روشن کیا۔ نوجوان نسل تعلیمی میدان میں آگے بڑھ رہی ہے اور ملک کے مستقبل کو روشن بنا رہی ہے۔

    پاکستان ہماری پہچان ہے، ہماری شان ہے۔ اس کی ترقی، سلامتی اور استحکام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم فرقہ واریت، نفرت، اور بدعنوانی کو چھوڑ کر ایک قوم بن کر کام کریں تاکہ پاکستان دنیا میں ایک باوقار اور ترقی یافتہ ملک بنے۔
    "پاکستان زندہ باد!”

  • شانِ پاکستان.تحریر:طوبیٰ خان

    شانِ پاکستان.تحریر:طوبیٰ خان

    شانِ پاکستان
    تحریر:طوبیٰ خان
    جب کوئی پرندہ آزاد فضا میں پر پھیلاتا ہے، تو وہ لمحہ خود ایک نعمت ہوتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں بھی آزادی ایسی ہی ایک نعمت ہے جسے حاصل کرنے کے لیے نسلوں نے قربانیاں دی ہوتی ہیں۔ پاکستان… محض ایک زمینی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب، ایک دعا اور ایک مقصد کا نام ہے۔ یہ ملک صرف جغرافیے کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کی آنکھوں کی چمک، ماؤں کے آنسو، بہنوں کی قربانی، اور ان لاکھوں دعاؤں کی قبولیت ہے جو سجدوں میں مانگی گئیں۔ یہی سب کچھ، یہی سب قربانیاں، اور یہی سب خواب، "شانِ پاکستان” کہلاتے ہیں۔

    پاکستان کی بنیاد "لا الٰہ الا اللہ” پر رکھی گئی۔ یہ وہ نعرہ تھا جس نے قوم کے دلوں میں ایک نئی روح پھونکی۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت اور علامہ محمد اقبالؒ کے فکرانگیز خواب نے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی پہچان دی۔ تحریکِ پاکستان ایک ایسی تحریک تھی جس کا مرکز و محور اسلام اور مسلمانوں کی جداگانہ شناخت تھی۔ یہ ملک، نظریاتی اساس پر قائم ہوا، اور یہی نظریہ، اس کی سب سے بڑی "شان” ہے۔

    پاکستان نے ابتدا ہی سے علم اور عسکریت کے میدان میں اپنی شناخت قائم کی۔ ہمارے سائنسدانوں، انجینئرز، اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے دنیا کو دکھایا کہ ہم کسی سے کم نہیں۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر نہ صرف دشمن کے عزائم خاک میں ملائے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے فخر کا باعث بنے۔ یہی نہیں، خلائی تحقیق، طب، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھی پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

    پاکستان کی اصل شان اس کے وہ سپوت ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں دنیا کو حیران کیا۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان – جنہوں نے دشمن کے غرور کو توڑا۔
    ارفہ کریم – دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل، جو پاکستان کی ذہانت کی علامت بنی۔
    ملیحہ لودھی – اقوام متحدہ میں پاکستان کی باوقار نمائندہ، جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی آواز بن کر دنیا کو ہمارا اصل چہرہ دکھایا۔
    عبد الستار ایدھی – انسانیت کی خدمت میں پاکستان کی نرم ترین تصویر، جنہیں ساری دنیا "فرشتہ” کہتی رہی۔
    یہ سب لوگ "شانِ پاکستان” کی وہ زندہ مثالیں ہیں جن پر ہم بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔

    پاکستان کی تہذیب، روایات اور ثقافتیں خود اپنی مثال ہیں۔ پنجاب کی محبت، سندھ کی وفا، بلوچستان کی غیرت، خیبر پختونخوا کی دلیری، اور گلگت بلتستان کی سادگی… سب مل کر پاکستان کی ثقافتی شان کو مکمل کرتے ہیں۔
    ہماری شاعری، موسیقی، لباس، کھانے، اور تہوار سب ہمارے وجود کی شناخت ہیں۔ اردو زبان خود ایک ایسی دولت ہے جو ہمیں جوڑتی ہے، اور ہماری تحریری اور ادبی وراثت کو سنوارتی ہے۔

    پاکستان آج بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ سی پیک (CPEC) جیسے منصوبے، نوجوانوں کی جدوجہد، سٹارٹ اپس، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی فیلڈز، اور تعلیمی میدان میں ہماری کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں۔
    کراچی سے لے کر خیبر تک، پاکستان کے نوجوان اب صرف خواب نہیں دیکھتے بلکہ انہیں حقیقت میں بدلنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ یہی نوجوان، ہماری سب سے بڑی امید، اور سب سے بڑی "شان” ہیں۔

    یقیناً ہمیں مسائل کا سامنا ہے — مہنگائی، سیاسی عدم استحکام، کرپشن، اور تعلیم و صحت جیسے چیلنجز۔ مگر ان سے نمٹنے کی طاقت بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ جس قوم نے صفر سے ایک ملک بنایا، وہ ان بحرانوں کو بھی عبور کر سکتی ہے۔ ہمیں صرف ایمان، اتحاد اور قربانی کے جذبے کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

    "شانِ پاکستان” صرف ماضی کی داستان نہیں، بلکہ حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی امید بھی ہے۔ یہ ملک ہمیں یوں ہی نہیں ملا، اس کے پیچھے ان گنت قربانیاں ہیں۔ ہمیں نہ صرف اس کی حفاظت کرنی ہے بلکہ اسے سنوارنا بھی ہے۔
    آیئے! اس یومِ آزادی پر ہم سب یہ عہد کریں کہ
    ہم قلم اٹھائیں گے، علم پھیلائیں گے، خدمت کریں گے، اور اپنے پاکستان کو دنیا کے افق پر ایک روشن ستارے کی طرح چمکائیں گے۔

    پاکستان کی شان صرف اس کی ایٹمی طاقت یا جغرافیائی اہمیت میں نہیں، بلکہ اس کی اصل شان اُس قوم میں ہے جو سختیوں کے باوجود اپنی امید نہیں چھوڑتی۔ ایک دیہاڑی دار مزدور، جو پسینے میں شرابور ہو کر اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا خواب دیکھتا ہے؛ ایک استاد، جو کم تنخواہ کے باوجود بچوں کے ذہنوں کو روشن کرنے کا عزم رکھتا ہے؛ ایک فوجی، جو ہر لمحہ سرحد پر کھڑا ہے تاکہ وطن کی نیندیں محفوظ رہیں — یہی سب لوگ پاکستان کی حقیقی شان ہیں۔
    ایک عام شہری کا دیانتداری سے جینا، چھوٹے تاجر کا حلال رزق کمانا، ایک طالب علم کا علم کی تلاش میں محنت کرنا — یہ سب وہ روشن چہرے ہیں جو کسی قوم کی اصل شناخت بنتے ہیں۔ آج اگر ہم پاکستان کی ترقی کے خواہاں ہیں تو ہمیں اسی کردار سازی کی طرف لوٹنا ہوگا جس کی بنیاد ہمارے اسلاف نے رکھی تھی۔

    پاکستان کی خواتین بھی شانِ پاکستان کی ایک روشن مثال ہیں۔ تحریکِ آزادی میں فاطمہ جناحؒ کا کردار، ادب میں بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب کے ہم قدم خواتین کردار، اور آج کی جدید پاکستانی خواتین — ڈاکٹرز، اساتذہ، پائلٹ، وکیل، سائنسدان — سب اپنی جگہ ایک نشانِ فخر ہیں۔

    دیہاتی عورت ہو یا شہری، ماں ہو یا بیٹی، استانی ہو یا طالبہ — وہ اپنی محنت، قربانی اور خلوص سے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔ ان کے بغیر نہ گھر مکمل ہوتا ہے، نہ معاشرہ اور نہ وطن۔

    تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے وجود کو ہمیشہ چیلنج کیا گیا، کبھی اندرونی سازشوں سے، تو کبھی بیرونی دشمنوں سے۔ مگر ہر مرتبہ قوم نے متحد ہو کر یہ پیغام دیا کہ ہم ایک جسم ہیں، ایک قوم ہیں، ایک دل کی دھڑکن ہیں۔ جب زلزلے آئے، جب سیلاب آئے، جب دشمنوں نے وار کیے — پاکستانیوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ثابت کیا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔
    "شانِ پاکستان” کسی نعرے یا علامت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل جذبے، قربانی، اور امید کا نام ہے۔ ایک خواب تھا جو اقبال نے دیکھا، ایک حقیقت تھی جو جناح نے بنائی، اور اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسے پروان چڑھائیں۔

    یہ ملک ہمارا فخر ہے، ہماری شناخت ہے، اور ہمارے بچوں کا مستقبل بھی۔ ہمیں تعلیم، اخلاق، عدل، اور خدمت کے ذریعے اس سرزمین کو وہ شان دینا ہے جو اس کا حق ہے۔

    خدایا! ہمارے اس وطن کو سلامت رکھ،
    اس کی ہوائیں، اس کی فضائیں، اس کے دریا، اس کی مٹی —
    سب کو امن و سکون عطا فرما۔
    ہمیں ایسا بننے کی توفیق دے کہ دنیا دیکھے،
    کہ پاکستان نہ صرف ایٹمی طاقت ہے بلکہ اخلاقی اور تہذیبی طاقت بھی ہے۔
    آئیے! ہم سب وعدہ کریں:
    سچ بولیں گے
    وطن سے محبت کریں گے
    فرقہ واریت، نفرت، اور انتشار سے بچیں گے
    اور پاکستان کو دنیا کا فخر بنائیں گے۔
    کیونکہ… پاکستان ہے، تو ہم ہیں!
    پاکستان زندہ باد

  • شان پاکستان .تحریر:افروز عنایت

    شان پاکستان
    تحریر:افروز عنایت
    سر زمین پاکستان ہم سب کے لئے رب العزت کی طرف سے۔ ایک بڑی نعمت اور انعام سے کم نہیں ، اس خطہ ارض کو اللہ رب العزت نے بہت سی خوبیوں سے بھی نوازا ہے ، جو ہم سب کے لئے باعث فخر ہیں ، حسین ،دریاوں ، لہلہاتے آبشاروں ،سمندر ، زرخیز سر سبز شاداب لہلہاتے باغات و کھیتوں ، پہاڑوں ،سمندر اور دریاؤں کے جھلملاتے رنگوں نے اس دیس کو ایک منفرد مقام اور حسن عطا کیا ہے ، جس کی نظیر نہیں ملتی ماشاءاللہ۔ نایاب معدنیات اور وسائل سے مالامال یہ پاک سر زمین جسے اسلام کا قلعہ کہا گیا ہے ـ جو دنیا بھر میں ہماری پہچان ہے ، حقیقت میں اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ بڑا تحفہ ہے — اور اسلامی ممالک میں بھی اس وطن عزیز کو۔ ایک خاص مقام حاصل ہے ــ

    اس ارض پاک کی ایک بڑی خصوصیت یہاں کے محب وطن ،۔ باصلاحیت ، زہین ، بہادر ، غیرت مند ، باشندے بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ اس پاک سر زمین کی شان و ماں بڑھانے کے لئے پر شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کامیابیاں حاصل کیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ـــ

    عزت دینے والی زات اللہ رب العزت کی ہے وہ جسے چاہے عزت سے نوازے ،جی ہاں ویسے تو میرے رب العزت کا بڑا کرم ہے کہ اسنے ہمیں ایک اسلامی ریاست کا مکین بنایا ہے ہم سب ایک آزاد اور مسلمان ملک میں عزت اور آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں ــ اور اس شان کو بڑھانے میں ہماری افواج سر فہرست ہیں ــ

    ہماری بہادر افواج جو ہماری اس سر زمین کی سرحدوں کی محافظ ہیں اور دفاع کے لئے دن رات سرحدوں پر پہرہ دینے والی یہ جرآت مند افواج دن رات وطن عزیز کے دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند ڈٹے ہوئے ہیں ــ جب بھی بھارت نے حملہ کر نے کی کوشش کی اسے ہماری جان نثار افواج کی وجہ سے منہ کی کھانی پڑی ،اور الٹے قدموں انہیں بھاگنا پڑا ،ماشاء اللہ جسکی تازہ مثال پچھلے دنوں پوری دنیا دیکھ چکی ہے ـ بھارت سفید جھنڈا لہرانے پر مجبور ہو گیا ـــ سلام افواج پاکستان ـــ

    یہی نہیں بلکہ ہر میدان میں چاہے وہ کھیل کا میدان ہو یا ملک کی ترقی اور بھلائی کے لئے کوئی ادارہ ہو ، یا تعلیمی میدان۔ ہر جگہ وطن عزیز کے باصلاحیت جوانوں نے اپنی کامیابی کے سکے جمائے ہیں ـ اور ملک کا نام روشن کیا ہے ـ

    ایک اہم اعزاز جو ہماری اس ارض پاک کو حاصل ہے وہ ہے ایٹمی قوت کا حاصل ہونا ، ماشاءاللہ
    جی ہاں 28 مئی 1998 کا وہ حسین اور یادگار دن تھا جب تاریخ کے صفحات پر سنہری الفاظ میں لکھا گیا کہ آج پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا ہے ،پاکستان کو اللہ رب العزت کی طرف سے یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ عالم اسلام کا پہلا ایٹمی طاقت حاصل کرنے والا مسلمان ملک ہے ، ماشاءاللہ ،

    ہمارے ملک کے قابل قدر عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبدا لقد یر خان اور انکے ساتھیوں کی چھ سات سال کی انتھک محنت اور جدوجہد کے بعد ہم اس اعزاز سے سرفراز ہوئے ،شکر الحمد اللہ

    یہ اعزاز حاصل کرنا کوئی معمولی یا آسان کام نہیں تھا بلکہ یہ ایک جدوجہد کی داستان ہے اس اعزاز کو حاصل کرنے میں راہ میں رکاوٹیں بھی آئیں ہونگی سخت محنت اور لگن اور جدوجہد کا میدان تھا لیکں سلام فرزند پاکستان کو اور انکے رفقاء کو ، جنہوں نے ہمت نہیں ہاری ، جس کی وجہ سے ہم آج ایٹمی طاقت والے آزاد ملک کے محب وطن پاکستانی ہونے کے اہل ہیں یہ اعزاز پاکستان کی شان اور ہم سب کے لئے باعث عزت ہے باعث فخر اعزاز ہے

    یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس نے تمام دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ،اور اسی قوت و طاقت کی وجہ دشمن۔ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے بھی ڈرتا ہے ، صرف دھوکے سے اور چھپ چھپ کر رات کی تاریکی میں حملہ کرکے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور سفید پرچم لہرانے لگتا ہے جسکی مثال پچھلے دنوں مکار بھارت دکھا چکا ہے ـ

    سلام محسن پاکستان ڈاکٹر عبدا لقد یر خان ،اپ پر پوری قوم کو فخر ہے آپ اس اسلامی ریاست کی شان ہیں ، آج آپ دنیا میں نہیں لیکن آپ کی وجہ سے پاکستان کو حاصل ہونے والا یہ اعزاز آپکو ہمیشہ ہمارے دلوں میں نہ صرف زندہ رکھے گا بلکہ ہم سب ہمیشہ آپکے لئے دعا گو رہیں گے آمین ثم آمین

    ہر محب وطن پاکستانی کو یہ وطن عزیز اور اسکی شان اور اسکی سلامتی عزیز ہے ، اس وطن کی عزت و ناموس اور شان کے لئے ہم سب کی آپس میں یکجہتی ،اتفاق ، ایمانداری ،محنت بے حد ضروری امر ہے ،ہماری یہ خوبیاں اور ہماری صلاحیتیں اس وطن وطن عزیز کی بقا و سلامتی کے لیے ہی ہیں ، ہر وہ کام جو وطن عزیز کی عزت اور شان کو مجروح کرے اس سے پرہیز کرنا پوری قوم کی عزت کا باعث ہے۔ یہی تعلیم اور نصیحت نئی نسل کے لئے بھی ہے جنہیں رب العزت نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے جنہیں وہ وطن عزیز کی ترقی ،سلامتی ،تحفظ کے لئے بروئے کار لاکر اس ارض کا نام اور شان مزید روشن کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ہی آج کے نونہال اس ارض پاک کا مستقبل اور وارث ہیں۔ جس طرح گھر کے تمام افراد گھر کی سلامتی ،عزت ، تحفظ کے زمہ دار ہوتے ہیں اسی طرح اس ارض پاک کا ہر فرد اسکا رکھوالا اور محافظ ہے یہ وطن جو ہمارا مسکن ہم سب کی شان اور دنیا میں ہماری پہچان ہے ،سدا قائم و دائم رہے ـــ

    سدا یوں ہی جگمگاتا رہے یہ ارض پاک
    کبھی نہ کوئی آنچ آئے اس چمن پاک پر

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • آزادی ! چند لمحے سوچتے ہیں.تحریر:نگہت فرمان

    آزادی ! چند لمحے سوچتے ہیں.تحریر:نگہت فرمان

    آزادی ! چند لمحے سوچتے ہیں
    تحریر:نگہت فرمان
    چودہ اگست پاکستان کی آزادی کا دن ہے۔ آزادی کیا ہوتی ہے، کسے کہتے ہیں آزادی اور جب آزادی مل جائے تو اس کی حفاظت کیسے کرتے ہیں ؟

    کیا آج کا پاکستانی اس آزادی کی روح سے آشنا ہے؟ کیا ہمارے جشنِ آزادی منانے کے انداز اس عظیم مقصد سے ہم آہنگ ہیں جس کے لیے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں؟ ہم ہر سال جشن آزادی پر کیا کرتے ہیں ؟ رات کے بارہ بجتے ہی آتش بازی، ڈھول باجے و تماشے کرتے ہیں اور صبح سویرے اخبارات آزادی پر خصوصی ایڈیشن شایع کرتے ہیں، ٹیلی وژن چینلز آزادی کا جشن منانے کے لیے نت نئے پروگرامز ترتیب دیتے ہیں، قومی ترانے، ملی نغمے، بچوں کے ٹیبلوز، لوک فنکاروں کے والہانہ رقص، فیس پینٹنگ، ہلا گلا اور نہ جانے کیا کچھ۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار، ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم، یہ پرچموں میں عظیم پرچم، عطائے رب کریم پرچم، میرا مالک اس عظیم پرچم کو سدا سر بلند رکھے۔ آمین

    زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن اسی جوش و جذبے سے مناتی ہیں، منانا بھی چاہیے، لیکن وہ آزادی کا جشن ہی نہیں مناتیں بل کہ اپنی ذمے داریوں کا احساس بھی اجاگر کرتی ہیں اس لیے وہ اس دن اپنا احتساب بھی کرتی ہیں، اپنا جائزہ بھی لیتی ہیں، ان سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ان سے سبق سیکھتی اور آئندہ ان سے بچنے کا عہد بھی کرتی ہیں۔ ان کے راہ نما اس دن اپنی سال گزشتہ کی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے اور اپنی قوم سے معذرت کرتے ہیں، اور اگلے دن اپنی پوری توانائی سے ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے پہلے سے زیادہ تندہی سے مصروف کار ہوجاتے ہیں۔

    لیکن کیا کہیے اسے کہ ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں لیکن اس آزادی کی روح کو سمجھے بغیر، شعور آزادی کے بغیر، اپنی ذمے داریوں کو سمجھے اور ادا کیے بغیر۔ بدنصیبی کہیے کہ ہم کبھی سنجیدہ نہیں ہوتے۔ کبھی غور نہیں کرتے، سوچتے نہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں اور کوشش بھی نہیں کرتے کہ آزادی ہوتی کیا ہے اور اس کے ثمرات سے ہم اب تک محروم کیوں ہیں۔

    چلیے اس پر چند لمحے سوچتے ہیں !
    آزادی کسی بھی قوم کے لیے وہ نعمت عظمی اور وہ بیش بہا سرمایہ افتخار ہوتی ہے جو اس قوم کی زندگی اور اس کے تاب ناک مستقبل کی ضامن حیات ہوتی ہے۔ غلام قومیں اور محکوم معاشرے نہ صرف اصل لطف زندگی سے محروم رہ جاتے ہیں بل کہ زمین پر ایک بوجھ بھی ہوتے ہیں۔ غلامی وہ مرض کہن ہے کہ جو دلوں کو یک سر مردہ کردیتا ہے شاید اسی لیے غلامی کو آزادی میں بدلنے کا زریں نسخہ بتاتے ہوئے علامہ اقبال نے بجا طور پر فرمایا تھا:
    دل مردہ، دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ!
    کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ!

    آزادی صرف ایک دن کی خوشی نہیں بل کہ مسلسل شعور، قربانی، اور ذمہ داری کا سفر ہے۔ آج جب ہم 78 واں یومِ آزادی منانے جا رہے ہیں، تو ہمیں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ جشن کی چکا چوند روشنیوں کے پیچھے کہیں ہمارا قومی ضمیر اندھیرے میں تو نہیں ڈوبا ہوا۔

    یوم آزادی کے قریب آتے ہی بازار جھنڈیوں، پرچموں اور جھنڈے سے مماثلت رکھتے کپڑوں و دیگر زیبائش کی چیزوں سے بھر جاتے ہیں۔ سڑکوں پر ہلہ گلہ کرتے نوجوانوں کا ہجوم بڑھ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وطن عزیز کے متوالوں کی تعداد ان کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل ہوتا ہے

    لیکن کیا یہی جشنِ آزادی ہے؟ کیا آزادی صرف آتش بازی، گانوں، ہلا گلہ اور سیلفیوں کا نام ہے؟ ہم قیام پاکستان کے مقصد کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ہمارے لوگ خط غربت سے نیچے زندگی کے اذیت ناک دن گزار رہے ہیں۔ انصاف و مراعات صرف اشرافیہ کے لیے ہیں، ہم اپنی ملی غیرت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، ہم عالمی ساہوکار اداروں سے بھیک مانگ مانگ کر گزر بسر کر رہے ہیں اور بھیک بھی ایسی جو وہ اپنی شرائط پر ہمیں دیتے ہیں، ہم ان کی مرضی کے خلاف سانس بھی نہیں لے سکتے، ہماری سرحدیں محفوظ نہیں ہیں، بلوچستان کے حالات سے کون بے خبر ہے۔ ہمارے ہاں ہر روز ایک نیا حادثہ ہے و سانحہ جنم لے رہا ہے۔ ناگہانی اموات و قدرتی آفات نے ہمیں گھیرا ہوا ہے اور ہم پھر بھی خود کو بدلنے کو تیار نہیں۔ ہم آخر کب تک اپنے اس سفاک رویے کو ترک کریں گے؟ اور کریں گے بھی کہ نہیں ؟

    یوم آزادی سے پہلے ہمیں محاسبہ کرنا ہوگا اور تجدید کرنا ہوگا کہ ہم بطور قوم ایمان دار بنیں۔ اپنے ملک سے مذہب سے وفادار ہوں گے، آئین کی پاسداری کریں گے،قومیں نعرے لگانے ، تقاریر کرنے گانے گانے سے نہیں بنتیں خود کو بدلنے سے بنتی ہیں۔

    تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ یوم آزادی کو صرف جذباتی نغموں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس دن کو علم، شعور، اور کردار سازی کا دن بنائیں۔ ہمیں اپنے نوجوان کے اندر مفادات سے باہر آکر پاکستان کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا اور حقیقی آزادی دلوا کر سبز رنگ کے نیچے چھائی سیاہی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اس یوم آزادی پر آتش بازیاں اور گھروں میں چراغاں ہی نہیں دلوں میں چراغ جلائیں محبت کے وفا کے اور ایمان کے۔

    چلیے احمد ندیم قاسمی یاد آئے، اسے پڑھتے ہیں اور اس پر آمین بھی کہتے ہیں:
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
    اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
    گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
    کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
    خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
    اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
    ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
    کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
    خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

  • کیا یہی تھا پاکستان !.تحریر:نگہت فرمان

    کیا یہی تھا پاکستان !.تحریر:نگہت فرمان

    کیا یہی تھا پاکستان !
    تحریر:نگہت فرمان
    خواب، خواب ہی رہتا ہے جب تک تعبیر نہ ہوجائے اور خواب تعبیر پاتے ہی مجسم ہوجاتا ہے۔ لیکن ٹھہریے! دم لیجیے! خواب کیا ہوتا ہے ؟ خواب تو سرمایہ ہوتے ہیں، لیکن پھر یہ بھی کہ جو بڑا خواب دیکھے تو اس کی تعبیر بڑی ہوتی ہے اور وہ خواب جو صرف اپنے لیے دیکھے جائیں تو ہوتے تو خواب ہی ہیں لیکن بس محدود،ڈاکٹر اقبال کو مصور پاکستان بھی کہتے ہیں ناں ، کیوں! اس لیے کہ انھوں نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا، تو بس جتنا بڑا خواب اتنی بڑی تعبیر۔
    اقبال نے ایک اور خواب بھی دیکھا تھا ، وہ یہ کہ خود ان کی زبانی:
    خدایا آرزو میری یہی ہے
    مرا نور بصیرت عام کردے
    اور پھر ان کے اس خواب نے بھی تعبیر پائی کہ آج دنیا بھر کی جامعات میں اقبال کے افکار و شاعری پر تحقیق ہورہی ہے۔
    اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر ہمارے سامنے ہے۔ اب یہ تعبیر کیسی ہے یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں۔

    خواب سرمایہ ہوتے ہیں! اور پھر خواب دیکھنے پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی جاسکتی، تقریر پر تحریر پر تو پابندی لگائی جاسکتی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا جا سکتا ہے لیکن خواب پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی کسی صورت بھی نہیں۔ پانی کی طرح خواب اپنا رستہ خود نکال لیتا ہے، خواب روایات، رسم و رواج اور سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ پنچھی کی طرح ہوتا ہے خواب تو۔ خواب بس خواب ہوتے ہیں کسی ضابطے سے پَرے۔ کوئی ریا کار ہو سکتا ہے لیکن خواب نہیں۔ اس پر کوئی بھی کسی طرح کی بھی پابندی نہیں لگا سکتا ، لگا ہی نہیں سکتا، مجبوری کہہ لیں، بے بسی بھی۔
    کیا ہم خواب کو کسی باغی سے تشبیہ دے سکتے ہیں؟

    یقیناً خواب باغی ہوسکتے ہیں، اگر اسے موضوع بنایا تو بات بہت دور تلک چلی جائے گی تو بس واپس آتے ہیں۔ تو اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا۔ حالات کیسے تھے، ناممکن تھا پاکستان ، کوئی امید نہیں، بے سرو سامانی، بے کسی اور بے بسی۔ لیکن اقبال گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اپنا جگنو لے کر نکلے۔ خواب دیکھا اقبال نے اور اسے تعبیر دینے کے لیے قدرت نے محمد علی جناح کو منتخب کیا جو قائد اعظم کہلائے۔ ایسا قائد جو اردو میں اپنا مطمع نظر بیان نہیں کر سکتا تھا اسے قدرت نے منتخب کیا۔

    ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ قائد اعظم تقریر کر رہے تھے اور ایک دیہاتی سر دھن رہا تھا، کسی نے پوچھا آپ کو انگریزی آتی ہے تو بس اتنا کہا: ”مجھے انگریزی نہیں آتی، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ قائد جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔

    جی! میرے خوابوں کا محور و مرکز بھی پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔ لیکن کیسا پاکستان …؟ پاکستان! جہاں بلند بالا پہاڑ ہیں، وادیاں ہیں، گلیشیرز ہیں۔ جھیلوں کا شفاف پانی۔ پاکستان میں پانچ دریا اور پانچ ہی موسم میں جو خوبانی سے کھجور تک میں ہمیں خود کفیل بناتے ہیں۔ جہاں زمیں سونا اگلتی ہے۔

    یہ وطن جو جغرافیائی لحاظ سے 1947 میں منصہ شہود پر آیا اپنے قیام سے پہلے اپنے وقت کے عظیم لوگوں کا خواب تھا۔ وہ عظیم لوگ جنہوں نے تاریخ عالم پر ایسے ان مٹ نقوش ثبت کیسے ہیں کہ اصول پسندی و استقامت کو اس کے اصل معانی سے روشناس کروا گئے۔ یہ پاک وطن ان عظیم المرتبت ہستیوں کا عظیم خواب تھا جو ان کی محنت شاقہ کی بہ دولت اپنی تعبیر پا گیا لیکن آج اگر میں اپنی انفرادی حیثیت میں اس مادر وطن کے لیے دیکھ جانے والے خوابوں کا تقابل ان عظیم خوابوں سے کروں تو جو اس کے بانیان نے اس کے لیے دیکھے تو ندامت کا احساس میرے قلم کی روانی میں حائل ہو جاتا ہے۔
    نوبت یہاں تک کیوں اور کیسے آگئی؟

    وہ پاکستان کہ جس کی اقتصادی ترقی کی رفتار دنیا کے بہت سے ممالک کے لیے قابل تقلید ہوا کرتی تھی۔ جس کے ماہرین معاشیات کو ریا، ملائشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ترقیاتی منصوبہ جات تیار کیا کرتے تھے۔ وہ پاکستان جس کی جامعات طب اور زراعت میں بڑی اعلی تحقیقات کے مراکز تھیں۔ پاکستان کی ایئر لائن ”با کمال لوگ لاجواب سروس“ کے سلوگن کی حامل اور جدید دور کی منافع بخش کمپنیوں کی معمار تھی۔ جس کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ایشیا بھر میں کوئی ثانی نہ تھا۔ آج بھی دنیا بھر کے کھلاڑی سیالکوٹ کے تیار کردہ کھیلوں کے سامان کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔

    وزیر آباد کے آلات جراحی مغرب کے جدید ترین اسپتالوں کی اہم ترین ضرورت تھے۔ وہ پاکستان کہ جس کی ڈرامے انتہائی کم وسائل کے باوجود اپنے پڑوسی ملک کی جدید ترین انڈسٹری سے بہت آگے تھے۔ وہ پاکستان کہ جو عالم اسلام میں اعتدال و رواداری کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ اور وہ پاکستان کہ جس کا گورنر جنرل ایک اہم ٹیکس آفیسر کو اس لیے ڈانٹتا ہے کہ اس نے اسے وقت پر انکم ٹیکس ادا نہ کرنے پر نوٹس جاری کیوں نہیں کیا تھا۔ وہ پاکستان کہ جہاں مواخات مدینہ کے بعد بھائی چارے کی سب سے بڑی مثال دنیا نے دیکھی تھی۔

    جی ہاں! یہی ہے میرے خوابوں کا پاکستان جو ماضی میں ایک حقیقت ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ مستقبل کے لیے میرے خوابوں کا پاکستان ہے۔

    ہم نے اس پاکستان کا کیا حال کردیا ہے۔ ہم سب اپنے خوابوں کے قاتل ہیں۔ ہم نے ترقی اور خوش حالی کے ان حقائق کو دوام دینے کی کوشش ہی نہیں کی کہ جن کی بنیاد پر میرے خوابوں کا پاکستان دنیا کے لیے قابل تقلید بن سکتا۔ نتیجا یہ کہ اب ہم”مضمحل ہیں اور ہمارا پاکستان مفلوج”۔

    گمراہ اشرافیہ آسمان سے اترتی ہے نہ سیاسی جماعتیں۔ دہشت گرد زمین سے اگتے ہیں نہ غداران وطن۔ یہ سب طبقے ہم ہی میں سے ہیں لہذا میرے خوابوں کا پاکستان کسی کو مورد الزام ٹھہرانے کسی پر انگلی اٹھانے یا پھر کسی کوکو سنے سے ہرگز وجود میں نہ آئے گا۔ میرے خوابوں کا پاکستان تب وجود میں آئے گا جب ہم الزام تراشی کے اس رویے کو ترک کر کے دل و جان سے اس پاک وطن کے لیے خلوص اور چاہت سے کام کریں گے اور ہم سب کو سوچنا ہوگا کہ خوابوں کے پاکستان کے حصول کی منزل دور ہونے میں ہم انفرادی طور پر کس حد تک قصور وار ہیں۔ قوم کے افراد کا انفرادی کردار ہی مجموعی قومی شناخت بنتا ہے۔ اس وطن کی تقدیر ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہماری تقدیر اس کی سالمیت و ترقی سے وابستہ ہے۔

    آئیے! اپنی پوری قوت و صلاحیت اسے مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے پر صرف کیجیے تاکہ ہم قوموں کی صف میں باعزت مقام حاصل کر سکیں اور اگر ہم نے وطن کی ترقی کی طرف سے اغماض برتا تو تاریخ ہمیں حرف غلط کی طرح مٹا ڈالے گی۔

  • شانِ پاکستان . تحریر: مونا نقوی

    شانِ پاکستان . تحریر: مونا نقوی

    شانِ پاکستان
    تحریر: مونا نقوی
    وطن عزیز جو خواب کی صورت علامہ اقبال کی جہاندیدہ آنکھوںمیں سمایا اور دوراندیش ذہن نے اس کا تصور امت مسلمہ کے دلوں میں بیدار کیا ۔ قائد ملت محمد علی جناح نے جسے شرمندہ تعیبر کرنے کے لیے انتھک جد وجہد کی ۔ تمام قوم کو یکجا کیا ، ایک ایسا نعرہ دیا جس نے ہر ذی شعور انسان میں جوش و ولولہ بھر دیا اور جوق در جوق آزدای کے پروانے اس آواز پرلبیک کہتے ہوئے سبز ہلالی پرچم کے تلے جمع ہونے لگے۔

    کچھ وطن فقط نقشوں پر بنتے ہیں چند ایک ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے نقشے دلوں پر نقش ہوتےہیں اور پاکستان ان میں سے ایک ہے…جسے خوابوں کی مٹی سے گوندھا گیا،تہجد میں مانگی گئی دعاؤں سے سینچاگیا،اور بے مثال قربانیوں سے تراشا گیا۔

    اس ارضِ پاک کی سرحدیں کسی پین کی لکیروں کی مرہونِ منت نہیں،بلکہ ان قدموں کی گرد میں چھپی ہیں جو کوچوں سے کوچے، قافلوں سے قافلے،اپنا سب کچھ چھوڑ کرصرف ”لا الٰہ الا اللہ“ کی چھاؤں میں ہجرت کر کے آئے۔یہی تو ہے پاکستان کی نظریاتی شان —جہاں عقیدہ صرف عبادت نہیں،بلکہ شناخت بھی ہے۔یہاں کی مٹی میں صرف فصلیں نہیں اگتیں،یہاں خواب اگتے ہیں —وہ خواب جو کبھی ہنزہ کے نیلے آسمان میں تیرتے ہیں،تو کبھی سوات کی وادیوں میں بانسری کی صورت بجائے جاتے ہیں۔

    بلوچستان کی قدرتی قیمتی معدنیات اپنے بطن میں چھپائے پہاڑیاں اس ملک کی شان ہیں ،دریائے سندھ میں بہتا پانی فقط پانی نہیں بلکہ صدیوں کی تہذیب کی رگوں میں بہتا ہوا خون ہے ۔کے ٹو کی برف پوش چوٹیاں وقار میں لپٹی دعاؤں جیسی ہیں جو فلک سے ہمکلام ہیں۔یہ قدرتی شان پاکستان کی وہ مسکراہٹ ہے جو زمین کے چہرے پر آسمان کے بوسے کی مانند ہے۔

    وطن عزیز جہاں قدرتی خزانوں سے مالا مال ہے وہیں روشن دماغوں اور خداداد صلاحیتوں سے لبریز قومی ہیروز کا بھی مسکن ہے۔ ایسے ہیروز جنھوں نے ناصرف قومی سطح پر اپنا لوہا منوایا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی فتح و ظفر کے جھنڈے گاڑے اور فخرِ پاکستان کہلوائے۔

    جب زمین کو خون چاٹنے کی عادت پڑی،تو ہم نے سپاہیوں کے سینے آگے کر دیے۔ہم نے وردی میں صرف لباس نہیں پہنا،ہم نے وقار، قربانی، وفا اور موت کا گہنا پہنا۔وہ سپاہی جن کے لیے میڈیم نور جہاں نے ؛ ”اے وطن کے سجیلے جوانو ! میرےنغمے تمہارے لیے ہیں“ گا کر گیت کو امر کر دیا۔یہ عسکری شان نہیں،یہ اس ماں کا سچ ہے جو بیٹے کی لاش پر بھی فخر سے کہتی ہے:”میرا بیٹا پاکستان پر قربان ہو گیا…“

    سائنسدانوں نے جب خاموشی سے مٹی میں علم بویا،تو آسمانوں سے روشنی اُتری۔جب دشمن نے ارض وطن کی طرف میلی آنکھ سےدیکھا تو ہم نے چاغی کی پہاڑیاں ہلا دیں اور ملک کو نا قابل تسخیر بنا ڈالا۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے جوہری دھڑکنیں جگائیں،تو دنیا نے ہمیں عزت کی زبان میں پکارا۔یہ سائنس و دانش کی شان ہے —کم وسائل، زیادہ حوصلے، اور حدوں سے آگے سوچنے کا ہنر۔ارفع کریم جیسے چراغ بجھنے سے پہلے افق پر روشنی کی لکیر بن گئے۔

    اور یہ جو لفظوں کی خوشبو بکھرتی ہےکبھی فیض کی نظم میں،کبھی پروین کی غزل میں،کبھی منٹو کی تلخ تحریروں میں،کبھی بانو کی نرمی میں ،یہ ادبی شان ہے،جہاں الفاظ صرف لکھے نہیں جاتے،جیے جاتے ہیں۔ہماری ثقافت وہ چادر ہےجس میں ہر رنگ کی دھجی بڑی محبت سے سلی ہوئی ہے۔پنجاب کی دھمال، سندھ کی ٹوپی،بلوچستان کا ساز، پختونخوا کی چائے،یہ سب "ہم” ہیں ۔۔۔ ”ہم“وہ چراغ جنھیں ہوائیں بجھا نہیں سکتیں۔

    اور جب کھیلوں کے میدان میں ہرا جھنڈا لہرایا جاتا ہے،تو صرف جیت نہیں،پاکستان کا دل دھڑکتا ہے۔عمران کی ورلڈ کپ کی جیت ہو،یا جہانگیر خان کی ناقابلِ شکست دوڑ ،یا ارشد ندیم کی عظیم فتح ہم نے دنیا کو بتایا کہ فتح وہی ہوتی ہے جو جذبے سے شروع ہو۔یہ کھیلوں کی شان ہے —جہاں گیند، بلّا، ریکٹ، اور پسینہ صرف کھیل نہیں،قوم کی فتح بن جاتے ہیں۔ جن کی کامیابیوں سے ملت کے دل جوش و خروش سے بھر جاتے ہیں اور ہر زبان لہک لہک کر یہ نغمہ گنگنانے لگتا ہے۔

    چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
    سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

    اور پھر…وہ عام لوگ — جن کے لیے کوئی نغمہ نہیں لکھا گیا۔۔کوئی ترانہ نہیں پڑھا گیا،جن کے لیے کوئی ڈرامہ نہیں بنایا گیا۔جن کے نام کسی اینکر نے نہیں پکارے،جن کے لیے کوئی مجسمہ نہیں بنا…مگر جنہوں نے پاکستان کو روز بچایا، روز سنوارا۔ملک کی ترقی میں جنھوں نے شبانہ روز اپنا حصہ ڈالا وہ گمنام کردار بھی کسی ہیرو سے کم نہیں۔

    کسی خاتون نے اسپتال میں ڈیوٹی دی،کسی نوجوان نے سافٹ ویئر ایجاد کیا،کسی درزی نے پاکستان کے جھنڈے میں کپڑا سی دیا،کسی ڈرائیور نے وقت پر روٹی گھر پہنچا دی —یہ سب عوام کی شان ہیں۔وہ مائیں، جو بغیر نوکری کیےدنیا کے سب سے بڑے دل کی مالک ہیں؛جو ملک کے لیے ایسی نسلیں پروان چڑھا رہی جو ملک و قوم کے لیے آنے والے وقتوں میں سرمایہ بنیں گی۔وہ بچیاں، جو تعلیم کےلیے گھروں سے نکلتی ہیں تاکہ والدین اور خاندان کانام روشن کر سکیں؛

    وہ اقلیتیں، جو چرچ، مندر، گردوارے سے نکل کرپاکستان کے لیے سانس لیتی ہیں…یہ سب اصل شانِ پاکستان ہیں۔
    اور وہ جو بیرونِ ملک بستے ہیں،اپنےدل میں پاکستان کو بسائےرکھتے ہیں۔دنیا کے نقشے پر جہاں بھی کوئی پاکستانی کچھ بڑا کرتا ہے،وہ ”شانِ پاکستان“ بن جاتا ہے۔چاہے وہ انجینئر ہو یا ڈاکٹر،کھلاڑی ہو یا استاد —اس کے نام کے ساتھ "پاکستانی” لفظ ہی اس کا تمغہ ہے۔

    اور یہ زبان اردو،جو نا صرف بولی جاتی ہے،بلکہ بہتی ہے، نرالی ہے، خواب جیسی ہے۔اس کی روانی میں تہذیب ہے،اس کی لطافت میں علم،اور اس کی گہرائی میں پاکستان۔یہ زبان کی شان ہے —جو ہمیں جوڑتی ہے، سلاتی ہے، جگاتی ہے۔تو اے وطن…تو نہ صرف نقشہ ہے، نہ صرف زمین، نہ صرف دریا تو ایک چراغ ہےجو کسی نے خون سے جلایا،اور اب ہم نے اپنی سانسوں سے بچانا ہے۔تیری شان تیرے لوگ ہیں تیری شان تیری روشنی ہےتیری شان وہ خواب ہے جو ہم نے اگلی نسل کو آنکھوں میں دے کرآسمان کی طرف دیکھنا ہے۔

    یہی تو ہے "”شانِ پاکستان“
    خوابوں، دعاؤں، آہوں اور فتوحات کی داستان۔

  • شانِ پاکستان .تحریر:ایس اے شازم

    شانِ پاکستان .تحریر:ایس اے شازم

    شانِ پاکستان
    تحریر:ایس اے شازم(پنوعاقل ضلع سکھر سندھ)
    پاکستان ہمارا مان ہے۔ہماری پہچان ہے۔ہمیں فخر ہے کہ ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جو لاکھوں جانوں کے نذرانے کے بعد حاصل ہوا،1947 کی آزادی صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی،بلکہ ایک تاریخ ساز لمحہ تھا جسے مسلمانوں نے اپنی علیحدہ شناخت،مذہب،زبان کی حفاظت کے لیے ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھی۔تقسیمِ ہند کے وقت جو خون کی ہولی کھیلی گئی وہ آج بھی تاریخ کے اوراق پر تازہ ہے۔جلتے ہوئے گھر، گاڑیوں میں لاشیں اور ہجرت کے کربناک مناظر آج بھی آنکھوں کو بھگو دیتے ہیں۔

    قائد اعظم محمد علی نے فرمایا تھاکہ پاکستان کے مستقبل کا دارومدار نوجوانوں پر ہے.
    ہمارے نوجوان صرف تعلیمی میدان میں ہی نہیں بلکہ سائنسی، ٹیکنالوجی، ادب و فنون، دفاع اور سیاسی سماجی خدمات کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ہماری نوجوان نسل جو کہ معاشرے میں جذبہِ بیداری پیدا کرتے ہیں،امن اور رواداری اور اتحاد کے پیغام کا پرچار کرتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نوجوان نسل کو صحیح سمت دینا بھی ضروری ہے۔ انہیں تعلیم، اخلاقیات اور جذبہ حبل وطنی کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرنا ہی ہمارے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    پاکستان کی شان اس کی حسن میں بھی پوشیدہ ہے۔ پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ہے یہ دریاؤں، پہاڑوں،صحراؤں، میدانوں، وادیوں اور سمندر کی حسین آمیزش رکھتا ہے، بلوچستان کے پہاڑ، پنجاب کے میدان، سندھ کے دریائی کنارے اور کے پی کے کی وادیاں۔غرض ہر خطہ ایک الگ الگ رنگ میں رنگا ہوا ہے۔پاکستان کا قدرتی حسن الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔وادی سوات سے لے کر گلگت بلتستان تک ایسی خوبصورت وادیاں ہیں جو ہمیں جنت کا نظارہ پیش کرتی ہیں۔اور سیاحوں کا دل موہ لیتی ہے۔

    پاکستان کی اصل شان اس کے عوام کا جذبہ حب الوطنی، فوج کا عزم،نوجوان نسل کی امید، زبانوں کا تنوع اور ہماری ثقافت کا حسن ہے۔دنیا بھر میں پاکستانی افواج کو امن کی راہ استوار کرنے پر سراہا جاتا ہے۔پاکستانی فوج آج کے نوجوانوں میں نظم و ضبط قربانی اور حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری پاک سرزمین پر ایسی افواج ہے جو ہر پل جاگتی ہے تاکہ ہم سکون سے سو سکیں،اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے سپہ سالار ہمیشہ چوکس اور دشمن پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں سکون میّسر کر کے دشمن کی نیندیں حرام کرنے پر تلے ہیں۔اور رافیل کو تو دشمن بھول ہی نہیں سکتا۔

    پاکستان کی افواج اس کی سیکورٹی ایجنسیاں اور دیگر قومی ادارے وہ ستون ہے جو ملک کی حفاظت اور ترقی کےضامن ہیں۔ہماری افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔جو ہر محاذ پر ملک کا دفاع کرتی ہے۔جب بھی پاکستان کی شان کی بات کرتے ہیں تو صرف اس کی سرحد و قدرتی وسائل نظم و ضبط کی بات نہیں کرتے، ہم بات کرتے ہیں ایک روحانی عظمت کی جو اس وطن کے خمیر میں شامل ہے.

    پاکستان کی شان اس کے ادب و فنون،شاعری ،اور فنکاروں میں ہے۔جنہوں نے لفظوں کے چناؤ سے انقلاب برپا کیا، جن کی تحریروں میں وطن کی مٹی کی مہک ہے،جن کے خیالوں میں قوم کی ترقی کا خواب چھپا ہوا ہے۔

    پاکستان کی شان ایک ماں کے آنچل میں ہے جو اپنے شہید بیٹے کی تصویر چوم کر صبر کا ہر وار سہتی ہے،اس مزدور کے پسینے میں ہے جو دن بھر کی محنت مشقت کے بعد بھی وطن کی محبت میں سرشار رہتا ہے۔

    شانِ پاکستان ایک چیز کا نام نہیں بلکہ مجموعہ ہے جذبوں کا ،قربانیوں کا ،اور خوابوں کا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس شان کو برقرار رکھیں، اسے مزید روشن کریں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ہم سب کا ہے اس کی عزت و سلامتی اور ترقی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔یہ ملک ہماری پہچان ہے، ہماری محبت ہے، اور ہمارا فخر ہے۔

    ہم سب پاکستان کی شان ہیں اگر ہم سچے پاکستانی بن جائیں اور وطن پاکستان سے محبت کریں اور خلوص دل سے اس کی خدمت کریں۔ تو دنیا دیکھے گی کہ ہمارا پیارا پاکستان ایک روشن ستارہ ہے،جو ہمیشہ چمکتا رہے گا ،خوشحال ہوگا اور دنیا کے نقشے پر ایک عظیم قوم کے طور پر ابھرے گا۔

    آئیے مل کر عہد کریں کہ پاکستان کا پرچم ہمیشہ سر بلند رکھیں گے اور وطنِ پاکستان کی شان کو صرف باتوں میں نہیں بلکہ عمل میں بھی زندہ رکھیں گے، کیونکہ ہم سب پاکستان کی شان ہیں. پاکستان ہے تو ہم ہیں.اللہ پاک میرے پیارے پاکستان کو ہمیشہ شادوآباد رکھے (آمین)

    آخر میں ایک شعر عرض ہے کہ۔۔..!!

    اے پاک سرزمین ہم قرض دار ہیں تیرے
    تو مانگ لے گر جان تو ہم جانثار ہیں تیرے
    سدا سلامت رکھے میرا رب شانِ پاکستان کو شازم
    تو ماں ہے،تو وفا ہے،ہم وفادار ہیں تیرے

    پاکستان زندہ باد

  • شان پاکستان .  تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم  شاہد واہ کینٹ

    شان پاکستان . تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد واہ کینٹ

    شان پاکستان
    تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد واہ کینٹ
    احمد ندیم قاسمی کا شعر ہے۔
    خدا کرے کہ میری عرض پاک پہ اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

    ملت اسلامیہ کا کون سا ایسا فرد ہے جو اپنے وطن کی آزادی کے بارے میں نہ جانتا ہو؟ بلا شبہ یہ ملک ان گنت قربانیوں اوراللہ تعالی کی پاک مرضی سے معرض واضح وجود میں آیا ہے ۔میرے وطن کا نام اسلامیہ جمہوریہ پاکستان ہے۔یہ 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا۔1947 سے تا حال یہ ایک خود مختار ریاست ہے۔

    2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی قریبا 25 کروڑ ہے ۔اسلام آباد اس کا دارالخلافہ ہے۔ اس کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر کی تمام ایمبیسیز کے دفاتر ہیں ۔ کل رقبہ ۷۹۶۰۹۷ ہے۔ واضح ہو یہ دنیا کے 36 ویں رقبے والا ملک ہے۔

    پاکستان کی قومی زبان اردو جبکہ سرکاری زبان انگریزی ہے۔یہاں چار موسم اور پانچ دریا بہتے ہیں جن کی بدولت ملک کی خوبصورتی اور دلکشی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔وطن عزیز کے چار صوبے ہیں۔ہر صوبے کو قدرت نے الگ الگ نعمت سے نواز رکھا ہے۔یہاں معدنیات کے ذخائر ہیں۔ کوئلے کی کانیں ہیں۔ ریلوے کا ایک منظم نظام ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز ہے۔ خوبصورت روڈ اور عمارتیں ہیں۔نمک کی کھیوڑہ کان ہے جہاں کئی صدیوں تک نمک نکلتا رہے گا۔
    دنیا کے مد مقابل ہر شعبہ جات قائم ہیں۔ ملک میں کہیں میدان ،سرمئی پہاڑ ، جنگلات ، برفانی تودے ، دریاؤں کا شور ، اور کہیں سر سبزہ ہآنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ اور پاکستان کی سرزمین سونا اگلتی ہے یہاں پھل، پھول سبزیاں بکثرت پیدا ہوتے ہیں جو عوام کی کفالت ،صحت اور زندگی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میں اپنے وطن کی سلامتی اور بقا کے لیے یہ شعر کہوں گا۔

    یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں
    یہاں خزاں کو بھی گزرنے کی مجال نہ ہو

    پاکستان کو آزاد ہوئے 77 برس گزر گئے ہیں۔ یہاں ہر سال بانی پاکستان کے تصور کے بارے میں فکری اور نظریاتی تحقیق ہوتی ہے۔سرکاری سطح پر پروگرام مرتب کیے جاتے ہیں۔نظریہ پاکستان پیش کیا جاتا ہے۔آزادی کی قدر و قیمت کے بارے میں تصورات اجاگر کیے جاتے ہیں۔

    اگر اس بات کو فکری تنوع میں دیکھا جائے تو یہ بات ہم پر ایک مکاشفہ کی طرح کھلتی ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے مشکلات کے باوجود بھی ریاست کو ایک سال تک کامیابی کے ساتھ چلایا۔پاکستان کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا۔ملک کو استحکام بخشا۔انہوں نے قومی خزانے کو عوام کی امانت سمجھ کر استعمال کیا۔رات کو سونے سے پہلے گورنر جنرل کی ساری بتیاں بند کر دیتے تھے۔ بانی پاکستان نے ریاستی امور کو مذہب سے الگ تھلگ رکھا۔

    ریاست پاکستان ایک منظم نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا اس کی بنیاد رکھنے والے قائد اعظم محمد علی جناح ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ریاست چاہتے تھے۔ وہ آئین کی پاسداری کرتے اور اصولوں کے متقاضی تھے۔وہ چاہتے تھے کہ پاکستان آزاد ہو کر خود مختاری کے فیصلے کر سکے۔جہاں ہر شہری کو بغیر رنگ، نسل مذہب کے انصاف میسر ہو۔وہ اعلی منشور کے خواہش مند تھے کہ یہاں علم کی پیاس بجھانے والی درسگاہیں ہوں۔ کیونکہ تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی فرض ہے۔ہر شہری کو صحت کی سہولیات میسر ہوں۔انہوں نے اس ملک کو برسوں کی محنت کے بعد حاصل کیا۔

    اگر آج ہم شان پاکستان پر غور وخوض کریں۔تو ہمارے کھیت ہمیں سونا اور چاندی مہیا کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہر صوبے میں عظیم درسگاہیں اور ہسپتالوں کی افراد ہے۔ یہاں ہر بیماری کا علاج کیا جاتا ہے۔ گرمی ہو یا سردی ہر سو ہریالی دیکھنے کو ملتی ہے۔سردیوں میں پہاڑ برف سے ڈھک جاتے ہیں۔گرمیوں میں یہ پگھل جاتے ہیں۔ گرمیوں میں یہ شور اور ٹھنڈا کا احساس مہیا کرتے ہیں۔ وادی سوات کا حسن و جمال سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہ علاقہ سوٹزرلینڈ کی طرح خوبصورت ہے۔یہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔ ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ قدرت کی خاموشی ان کو بہت سی باتوں کا درس دیتی ہے۔

    پنجاب میں ملکہ کہسار قدرت کے نظاروں کی آمین ہے۔ کراچی کی بندرگاہ تجارت کے لیے مشہور ہے۔میں اپنے ملک کی کون کون سی شان بیان کروں۔ مجھے کہیں برف باری تو کہیں تپتے صحرا سے واسطہ پڑتا ہے ۔کہیں پھول اور کہیں باغات ہیں۔ پاکستان ایٹمی لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔پاکستان کی مسلح افواج 24 گھنٹے چوکس رہتی ہیں۔ حالیہ جنگ میں پاکستان نے انڈیا کو بری طرح شکست دی۔ان کے طیاروں کو بری طرح گرا دیا گیا۔پاکستان ایئر فورس کے پائلٹوں نے انڈیا جا کر کئی ایئر بیس تباہ کیے۔سلامتی سے واپس لوٹے۔پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

    پاکستان کھیل کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں 1992 کا ورلڈ کپ جیت کر ثابت کر دیا کہ پاکستانی محنتی قوم ہے۔ دنیا میں اپنا لوہا منوانا جانتی ہے۔ مشکلات پر قابو پانا جانتی ہے۔یوں کہہ لیجیے پاکستان میں ہر شعبہ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔اس دھرتی کے سپوتوں نے دنیا میں ہر جگہ جا کر اپنا جھنڈا لہرایا ہے۔ فتوحات حاصل کی ہیں۔ بلکہ اس دھرتی سے جواں مردی نسل در نسل جاری ہے۔

    قیام پاکستان سے لے کر تا حال جن ہیروز نے پاکستان کی شان کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ان میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جنا ح، تصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ، مادر ملت فاطمہ جناح، لیاقت علی خان ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر ثمر مبارک، ڈاکٹر رتھ فاو ، پائلٹ راشد منہاس ، ذوالفقار علی بھٹو ، عمران خان ، نواز شریف ، ملالہ یوسف زئی، جہانگیر خان ، میجر عزیز بھٹی تمام سول اور سیاسی قیادت جن کی انتھک محنت کے باعث پاکستان کی شان قائم ہے۔

    اس کے جوان محنتی ، علم کے متلاشی ، ریسرچ کے پیکر ، درسگاہوں کے وائس چانسلرز قوم کو تعلیم کے زیور سے یا آراستہ کرنے میں جس قدر سر گرم ہیں۔ اس کے عملی ٹھوس ثبوت عظیم کارناموں کی بدولت منظر عام پر آرہے ہیں۔ ملک میں کہیں انجینئرنگ یونیورسٹیز قائم ہیں تو کہیں صحت عامہ کے میڈیکل کالجز ، ہسپتال ، قومی ادارے اور پرائیویٹ سیکٹر نے شان پاکستان کی بالادستی میں محنت کا لہو شامل کیا ہے۔یہی وجہ ہے آج تمام صوبوں میں سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔لوگوں کی منڈیوں تک رسائی ہے۔گورنمنٹ ایجوکیشنل اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر بھی تعلیم و تربیت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔

    مصنفین کی ایک بڑی تعداد میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر رکھی ہے۔پاکستان کے قومی اداروں میں اکادمی ادبیات پاکستان ، مقتدرہ قومی زبان ، اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے نام ادیبوں کی فلاح و بہبود میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔خدا کرے جب تک دنیا قائم و دائم ہے ۔پاکستان بھی دنیا کے نقش قدم پر موجود رہے۔اس کا پرچم ہمیشہ لہلہاتا رہے۔ہماری ہر آنے والی نسل شان پاکستان کی تاریخ کو سنہری حروف سے قلم بند کرے۔

  • شان پاکستان.تحریر:سمیہ اقبال

    شان پاکستان.تحریر:سمیہ اقبال

    شان پاکستان
    از قلم: سمیہ اقبال
    14 اگست 1947 صرف ایک دن یا تاریخ نہیں ہے بلکہ یہ تاریخ کا رخ موڑ دینے والا لمحہ ہے جس نے دنیا پر یہ واضح کیا کہ اسلام کی خاطر مسلمان کس حد تک قربانی دے سکتے ہیں۔ چودہ سو سال کے بعد مدینہ کی یاد تازہ ہوئی مدینہ بھی اسی مقصد کے حصول کے لئے دوبارہ آباد ہوا تھا تھا کہ وہاں اسلامی تعلیمات کا نفاذ ہو اور پاکستان کی بھی یہی خوبی ہے کہ اسے اسلامی تعلیمات کے نفاذ کے عزم سے بنایا گیا ہے۔

    اس ریاست کی بنیادیں خون سے سیراب ہیں۔ جب پاکستان وجود میں آگیا تو برصغیر کا کوئی گھر ایسا نہ بچا تھا جس کے خاندان کے افراد مکمل ہوں راوی کو عبور کرنے کے لئے کسی کشتی یا پل کی ضرورت نہیں تھی لوگ لاشوں پر پاؤں رکھ کے راوی عبور کر گئے اس دن راوی کا پانی سفید نہیں سرخ تھا آزادی ایسے ہی حاصل نہیں ہوئی اس کی قیمت پر فرد کو دینی پڑی ہر ماں کو دینی پڑی، ہر بہن کو دینی پڑی، عزتیں نیلام ہوئیں، کوکھ اجڑی، سہاگ اجڑے، اس دن بچے بوڑھے ہوئے جس دن مسلمان ہندوستان کی سرحد پار کر کے پاکستان آئے۔ کیونکہ یہ ایک قدم کا فاصلہ نہیں تھا جو مسلمانوں نے طے کیا یہ چودہ سو سال کا فاصلہ تھا، یہ نظریے کا فاصلہ تھا اور اس ایک سرحد پار کرنے کی مسلمانوں نے بڑی بھاری قیمت چکائی مگر اپنے عزم ارادے حوصلے سے پیچھے نہ ہٹے۔

    مسلمانوں نے بتایا کہ اسلام کی خاطر تن ، من دھن وہ سب وار سکتے ہیں۔ پاکستان کلمہ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی مدینہ کے بعد سب سے بڑی ریاست ہے مگر آج مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم نے جس مقصد سے یہ وطن حاصل کیا ہم اسے بھلا چکے، وہ نظریہ وہ قربانیاں وہ سب ہم نے بھلا دیا افسوس صد افسوس اس ملک کو اس ملک کے ایک ایک فرد نے الگ الگ توڑا اس وطن سے شکوہ کناں ہوا بس یہ کہا کہ اس ملک نے ہمیں کیا دیا سوال تو یہ ہے کہ اس ملک کو ہم نے کیا دیا کل روز محشر جب وہ لوگ ہمارے دست گریباں ہونگے جنہوں نے اس وطن کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا کہ تم نے اس مٹی کے ساتھ کیا کیا تو ہم ان کو کیا جواب دیں گے ہم شرمندہ ہیں،

    آج کے جوان کو اپنا وطن پسند نہیں اور وہ اپنے روشن مستقبل کا خواب یورپ میں دیکھتا ہے کاش کے وہ یہ سمجھ سکے اس وطن جیسا محبوب وطن پوری دھرتی پہ کہیں نہیں۔ اس وطن کی فضاء میں آزادانہ سانس لینے کے لئے ہم ہزار یورپ کے روشن مستقبل قربان کردیں۔ اس وطن کا ایک ایک زرہ چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا ہے کہ آزادی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ افسوس اس وطن کو ہم نے خود اجاڑا اور الزام دوسروں پر ڈالا۔

    یہ وطن ہمارا باغ ہے اس کی دیکھ بھال ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ وطن ہر شہری کی جاگیر ہے ہر شہری کی وراثت ہے اور اس کی ویسی ہی حفاظت ہمارا نصب العین ہے جیسے ہم اپنی وراثت کی حفاظت کرتے ہیں ۔ ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم انفرادی طور پر کچھ نہیں کرنا چاہتے اور یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات بہتر ہوں ہمارا وطن ترقی کرے مگر جب ایک عام آدمی جھوٹ، چوری، رشوت نہیں چھوڑے گا تو وہ کیسے حکومت کو الزام دے سکتا ہے۔ ایک عام آدمی جب اپنے حصے کا پانی نہیں لگائے گا تو یہ باغ کیسے پھلے پھولے گا یہاں بہار کیسے آئے گی بہار کے لئے تو ضروری ہے ہم سب اپنے حصے کے پھول لگائیں۔

    آئیں آج ایک عزم کرتے ہیں کہ ہم وہ کہانی دوہرائیں گے جس مقصد کے لیے ہمارے بڑوں نے قربانیاں دیں ہم اسے فراموش نہیں کریں گے، ہم اپنی نسلوں میں اس قربانی کا درد جگائیں گے، ہم انفرادی طور پر اپنے حصے کا دیا جلائیں گے۔

    ہم اپنے آنے والی نسلوں کو بنائیں گے کہ پاکستان روئے زمین پر اللہ کا احسان ہے یہ وطن تو علماء کے شملے کا ہیرا ہے، یہ وطن تو اللہ کی طرف سے الہام ہے، یہ وطن تو راہ نجات ہے جائے سکوں ہے جس کا شکر ہم مرتے دم تک ادا نہیں کر سکتے ۔ہم پاکستان کو نئے سرے سے استوار کریں گے اقبال کی شاعری پر ، قائد کے نظریے پر۔ تھانوی کی تہجد کی دعاؤں پر۔ اب ہم اس وطن کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، ہم روز محشر ان لوگوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونگے جنہوں نے اس وطن کی آبیاری اپنے خون سے کی ہے۔

    یہ وطن ہمارا ہے
    ہم ہیں پاسباں اس کے

    مجھے امید ہے آنے والی نسلیں اس وطن کی اہمیت کو سمجھیں گی کیونکہ اقبال نے بالکل صحیح کہا

    نہیں ناامید اقبال اپنی کشت و ویراں سے
    ذرا نرم ہو تو بڑی ذرخیز ہے یہ مٹی ساقی

    پاکستان زندہ باد
    پاکستان تابندہ باد

  • شان پاکستان.تحریر: محمد نوید عزیز

    شان پاکستان.تحریر: محمد نوید عزیز

    شان پاکستان
    تحریر: محمد نوید عزیز
    پاکستان زندہ باد!” یہ نعرہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک جذبہ، ایک عقیدہ، ایک امید ہے۔ یہ ایک ایسی سرزمین کی پہچان ہے جو قربانیوں کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ "شانِ پاکستان” کیا ہے؟ تو میرا دل بے ساختہ کہے گا، "یہ میرے وطن کے وہ گمنام سپاہی ہیں، وہ محنتی کسان ہیں، وہ مائیں ہیں جو شہیدوں کو جنم دیتی ہیں، وہ بچے ہیں جو کتابیں سینے سے لگا کر خواب دیکھتے ہیں، اور وہ سائنسدان ہیں جو ستاروں سے آگے سوچتے ہیں۔”

    14 اگست 1947 کو جب دنیا سو رہی تھی، ایک قوم جاگ رہی تھی۔ رات کے اندھیرے میں ایک نئی صبح نے جنم لیا۔ یہ صبح صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی فتح تھی۔ پاکستان کا قیام اس وقت ممکن ہوا جب لاکھوں مسلمانوں نے اپنا سب کچھ قربان کر کے، اس خاک کے لیے خون بہایا۔

    قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہمیں ایک ایسا وطن ملا، جہاں مسلمان آزاد ہو کر اپنے دین، ثقافت اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ آزادی ہی ہماری شان ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو۔

    اگر ہم جغرافیائی لحاظ سے دیکھیں، تو پاکستان ایک جنت نظیر ملک ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں نیلگوں سمندر، مشرق میں زرخیز میدان اور مغرب میں پرشکوہ پہاڑ۔ یہ سرزمین ہر موسم، ہر منظر، اور ہر رنگ کا حسین امتزاج ہے۔

    کیا آپ نے کبھی سوات کی وادیوں میں بہتے چشموں کی موسیقی سنی ہے؟ کیا آپ نے سندھ کے تھر میں صحرا کے سینے پر اگتے پھول دیکھے ہیں؟ کیا آپ نے بلوچستان کے پہاڑوں میں چھپی خاموشی کو محسوس کیا ہے؟ یا پنجاب کے کھیتوں میں جھومتی فصلوں کی مہک کو سونگھا ہے؟ اگر نہیں، تو آپ نے "شانِ پاکستان” کا ایک اہم پہلو ابھی نہیں جانا۔

    پاک فوج، رینجرز، فضائیہ اور بحریہ کے وہ بہادر جوان، جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ملک کا دفاع کیا — یہی تو ہیں اصل شانِ پاکستان۔ چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو ہمارے جانباز ہمیشہ آگے بڑھے۔

    آج جب ہم پرامن راتیں سوتے ہیں، تو یہ انہی محافظوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ وطن کے یہ سپوت ہر مشکل وقت میں سرحدوں پر سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ ان کی جرأت، ہمت، اور قربانی، پاکستان کی شان ہے۔

    شانِ پاکستان صرف ماضی کی عظمتوں میں نہیں چھپی بلکہ ہمارے آج کے نوجوانوں میں زندہ ہے۔ ارفع کریم، ڈاکٹر عبدالسلام جیسے عظیم افراد نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان صرف ایک ترقی پذیر ملک نہیں، بلکہ ایک باصلاحیت قوم ہے جو اگر موقع ملے تو دنیا کو بدل سکتی ہے۔

    پاکستان کے طلبہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ نوجوان موبائل ایپلی کیشنز، سافٹ ویئر، اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان ہی مستقبل کی امید ہیں اور یہ امید ہی ہماری شان ہے۔

    پاکستان ایک کثیرالثقافتی ملک ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور ہزارہ وال ثقافتوں کا امتزاج، ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی خوشبو پوری دنیا میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

    چاہے وہ سندھ کی اجرک ہو یا پنجاب کی پگ، بلوچستان کی چادر ہو یا خیبر پختونخوا کی چترالی ٹوپی۔ ہر علاقہ اپنی الگ پہچان رکھتا ہے، اور یہی تنوع ہماری اصل طاقت ہے۔

    ہمارے لوک گیت، قوالیاں، صوفی شاعری، اور ادب دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، بانو قدسیہ، اور عمیرہ احمد جیسے ادیبوں نے "شانِ پاکستان” کو لفظوں میں ڈھالا۔

    کبھی قدرتی آفات آئیں، کبھی دہشت گردی کا سامنا ہوا، پاکستان نے ہر بار کمر باندھی۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کے سیلاب، پوری قوم نے جس اتحاد و بھائی چارے کا مظاہرہ کیا، وہ شانِ پاکستان کی ایک روشن مثال ہے۔

    ہم نے اندھیرے دیکھے، دہشتگردی کے سائے سہے، لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ہم نے لاشیں اٹھائیں لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ ہم نے اپنے بچوں کو شہید ہوتے دیکھا، مگر دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

    یہی جذبہ، یہی غیرت، یہی وفا ۔ ہماری اصل شان ہے۔

    اب ہمیں صرف ماضی پر فخر نہیں کرنا، بلکہ مستقبل سنوارنا ہے۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ہر بچہ تعلیم حاصل کرے، ہر بیٹی محفوظ ہو، ہر مزدور کو حق ملے، ہر مریض کو علاج میسر ہو، اور ہر شہری کو انصاف حاصل ہو۔

    ہمیں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانی ہے، ناانصافیوں کو ختم کرنا ہے، اور وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہے۔ یہی نئے پاکستان کا خواب ہے، اور یہی خواب ہماری شان بن سکتا ہے۔

    "شانِ پاکستان” کوئی ایک واقعہ، ایک انسان، یا ایک جگہ نہیں۔ یہ ایک احساس ہے، ایک جذبہ ہے، جو ہر پاکستانی کے دل میں دھڑکتا ہے۔ جب ہم قومی ترانہ سنتے ہیں، جب ہم پرچم کو لہراتا دیکھتے ہیں، جب ہم عالمی مقابلوں میں اپنے کھلاڑیوں کو فتح حاصل کرتے دیکھتے ہیں — تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔

    آئیے! ہم سب مل کر وعدہ کریں کہ ہم اپنے وطن کو دل و جان سے چاہیں گے، اس کی خدمت کریں گے، اور اپنی نسلوں کو "شانِ پاکستان” کا مطلب سکھائیں گے۔

    پاکستان زندہ باد!