Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت کی افغانستان  میں دلچسپی پاکستان  کے لئے براہ راست سلامتی  کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور دہشت گردی کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کے ذکر نے ہلاکر رکھ دیا تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط شدہ اس دستاویز پر عمل نہ کرنا بقول شاعر:
    مجروح قافلے کی میری داستان یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں ،مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے۔ ذرا سوچئے ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ کیوں یہ آگ بھڑک اُٹھتی ہے ؟ اور ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ بات تو طے ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور آج بھی ملوث ہے ۔ علاقائی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے نہ صرف خطے میں نئی صف بندیاں پیدا کی ہیں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے بھارت کی افغانستان میں دلچسپی کوئی نہیں بات نہیں۔ 2001 کے بعد بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جن میں سے ،سلم ڈیم ، افغان پارلیمنٹ بلڈنگ اور مختلف سڑکوں وتعلیمی منصوبوں کی تعمیر شامل ہے ۔ یعنی بھارت وسط ایشیا تک اپنی رسائی بڑھانا اور پاکستان کے مغربی اثر کو محدود کرنا ہے ۔ طالبان حکومت کے قیام کے ساتھ ہی بھارت پھر افغانستان کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے جو ظاہرکرتا ہے کہ دہلی اپنی نرم طاقت کی حکمت عملی دوبارہ فعال کررہا ہے ۔ بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ہے۔ خاص طورپر کے پی کے اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں۔ بھارت افغانستان تعاون علاقائی تجارت، مفادات خصوصا سی پیک اور وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے منصوبوں پر بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے۔ چین ، ایران اورروس افغانستان میں استحکام کے خواہاں ہیں لیکن ان کے اپنے مفادات ہیں۔

    چین پاکستان کے ساتھ سی پیک کے ذریعے معاشی راہداری قائم کرنا چاہتاہے ۔ ایران چاہتا ہے کہ بھارت کی سرمایہ کاری اس کے راستوں سے ہو جیسے چاہ بہار پورٹ ۔ اس پیچیدہ ماحول میں پاکستان کو محتاط مگر متحرک سفارتکاری اختیار کرنا ہوگی ۔ پاکستان کو اپنے مفادات کویقینی بنانا ہوگا۔ چین، ایران ، ترکی اور روس جیسے ملک کے ساتھ پالیسی ہم آہنگی بڑھانا ناگزیر ہے ۔ عالمی فورمز پر پاکستان کو شواہد کے ساتھ بھارت کے کردار کو پیش کرنا چاہیئے۔ اندرونی استحکام کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا اصل مضبوط داخلی نظام ، سیاسی اتفاق رائے اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے ۔ بھارت افغانستان کے تعلقات کا بڑھانا خطے کے لئے نیا منظر نامہ تخلیق کررہا ہے ۔ پاکستان کے لئے یہ چیلنج ضرور ہے مگر خطرہ تب بنتا ہے جب وہ محض رد عمل میں پالیسی بنا ئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان حکمت عملی ، سفارتی کاری اور داخلی استحکام تینوں محاذوں پر متوازن اور سنجیدہ کردار ادا کرے۔ خطے میں امن و استحکام کادارومدار اسی بات پر ہے کہ ہر ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دے یہی امن کی بنیاد ہے۔

  • نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے قربانی، ایثار اور ایمان کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جس نے اپنے سپوتوں کے خون سے وفا کے چراغ جلائے، اور ہر دور میں دشمن کے سامنے سربلند رہی۔ آج جب فتنۂ خوارج اور دہشت گردی کے سائے ایک بار پھر امن کی روشنی کو گہنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو وطنِ عزیز کے فرزندانِ توحید پھر سے ایک عزمِ نو کے ساتھ میدان میں صف بستہ دکھائی دیتے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں قوم کے پاس ایک ایسی حکمتِ عملی موجود ہے جو محض قانون نہیں بلکہ ایک عہد، ایک پیمان، اور ایک عزم ہے—کہ وطن کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔پاک فوج کے ترجمان کی حالیہ پریس کانفرنس میں جو پیغام قوم کے نام آیا، وہ دراصل ریاستی عزم کی گونج تھی۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد ہی امن و امان کی ضمانت ہیں،

    قوم جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں میں جو جوان دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں، وہ محض سپاہی نہیں، بلکہ اس قوم کی غیرت اور ایمان کے امین ہیں۔ ان کی شہادتیں، ان کی قربانیاں کسی فرد یا ادارے کی نہیں، بلکہ پورے وطن کی اجتماعی میراث ہیں۔یہی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی بن کر جلتے ہیں، اور جن کے دم سے وطن کے افق پر امید کے دیے روشن رہتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت میں انتشار، منافقت یا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، فتنۂ خوارج نے ہی اس کی بنیاد رکھی۔آج بھی وہی ذہنیت، وہی زہر، نئے چہروں اور نئے ناموں سے وطنِ عزیز میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے یہ عناصر کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اور کبھی آزادی کے نام پر قوم کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔انہی کے تعاقب میں افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، اور یہ قربانیاں اس بات کی ضمانت ہیں کہ قوم دہشت گردی کے اس اندھیرے کو ہمیشہ کے لیے مٹا کر دم لے گی۔

    یہ کوئی راز نہیں کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ازلی دشمن بھارت کا ہاتھ ہے۔ایک طرف وہ دہشت گردی کو فروغ دے کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف عالمی برادری کے سامنے امن کا علمبردار بننے کا ناٹک کرتا ہے۔مزید افسوس کا مقام یہ ہے کہ افغانستان، جو کبھی برادر اسلامی ملک کہلاتا تھا، آج خاموش تماشائی بن کر دہشت گردوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔کیا ایک اسلامی ہمسایہ ملک کا یہ شایانِ شان رویہ ہے؟کیا یہ امتِ مسلمہ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ وہ امن کے دشمنوں کے خلاف صف بستہ ہو جائے؟یہ رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے، پاکستان کا صبر کمزوری نہیں بلکہ حکمت ہے، اور اس کی خاموشی تدبر کا مظہر۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان صرف ایک سرکاری پالیسی نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہری کا اجتماعی عہد ہے۔یہ پلان اُس فلسفے پر قائم ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف گولی سے نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، روزگار، گورننس، اور قومی یکجہتی سے ممکن ہے۔جب خیبر پختونخوا میں گورننس بہتر ہوگی، جب بلوچستان کے نوجوانوں کو مواقع میسر آئیں گے، جب قانون سب کے لیے برابر ہوگا، تب ہی وہ خواب حقیقت بنے گا جس میں امن ایک نعمت نہیں بلکہ ایک فطری حق بن جائے گا۔

    یہ وقت تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ تاریخ کے دھارے میں کردار ادا کرنے کا ہے۔ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، فرقہ واریت اور سیاسی تقسیم کے زہر کو ترک کرنا ہوگا۔قوم کے ہر طبقے، ہر فرد اور ہر ادارے کو یہ عہد دہرانا ہوگا کہ یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم نہ ماضی میں جھکی ہے، نہ آج جھکے گی۔یہ قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، جس کے پیچھے ایمان کی قوت اور قربانی کا عزم ہے۔افواجِ پاکستان کے بہادر سپوت اور عوام کے مخلص دل ایک ساتھ کھڑے ہیں ایک ہی مقصد کے لیےمامن، استحکام اور مادرِ وطن کی حفاظت۔

    تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ وہ قومیں کبھی فنا نہیں ہوتیں جو اپنے شہداء کا خون ضائع نہیں جانے دیتیں۔
    آج جب دشمن چاروں جانب سے نفسیاتی، فکری اور عسکری حملے کر رہا ہے، تو ہمیں ایک ایسی صف میں کھڑا ہونا ہوگا جہاں کوئی کمزور کڑی نہ ہو۔یہی قومی یکجہتی، یہی ایمان، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔یہ وطن ہمارا ہے، اور ہم اس کے محافظ ہیں۔ہم اپنی جانوں سے زیادہ اپنے پرچم کو عزیز رکھتے ہیں۔ہم اس سرزمین کے ہر ذرے کی حفاظت کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کو تیار ہیں۔ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی فضاؤں میں امن کا پرچم پھر سے پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا رہا ہوگا،اور شہداء کے خون سے سینچی گئی یہ دھرتی ہمیشہ کے لیے دہشت کے سائے سے آزاد ہو جائے گی۔

  • امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    کبھی کبھی قوموں پر ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب وہ اپنے وجود، اپنی بقا اور اپنی سمت کے تعین کے لیے خود سے سوال کرتی ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑا ہے ، ایک ایسا موڑ جہاں دشمن صرف سرحدوں کے پار نہیں بلکہ ہمارے اندرونی امن اور یکجہتی کو بھی للکار رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی نعرہ ہمیں متحد کر سکتا ہے تو وہ ہے: نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد،ترجمانِ پاک فوج کی حالیہ پریس کانفرنس میں یہی پیغام پوری وضاحت سے سامنے آیا۔سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کے نکات قومی منشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسا منشور جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوقوں سے زیادہ، ارادوں اور اتحاد سے جیتی جاتی ہے۔

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر ہمارے زخم ہرے کر دیے ہیں۔ ہمارے نوجوان شہید ہو رہے ہیں، ماؤں کے آنچل لہو سے تر ہو رہے ہیں، اور دشمن اپنی ناپاک سازشوں میں مصروف ہے۔ان حملوں کے پیچھے ازلی دشمن بھارت ہے، جو “فتنۂ خوارج” کے ذریعے وطنِ عزیز کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی حکومت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔کیا برادر اسلامی ملک کا یہ رویہ زیب دیتا ہے کہ پاکستان کے صبر اور بارہا احتجاج کے باوجود وہ ان عناصر کو روکنے میں ناکام رہے جو پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کا خون بہا رہے ہیں؟یہ صرف پاکستان نہیں، پوری امتِ مسلمہ کا اخلاقی امتحان ہے۔

    نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات صرف ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ وہ آئینہ ہیں جن میں ہم اپنی کمزوریاں اور ترجیحات دیکھ سکتے ہیں۔ ان نکات پر عملدرآمد ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ پلان سیاسی ترجیحات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کہیں فرقہ واریت کا زہر، کہیں صوبائی تعصب کی دیوار، اور کہیں مصلحت کی دبیز تہہ نے اس پلان کی روح کو ماند کر دیا۔اب وقت آگیا ہے کہ اس بھولی ہوئی ترجیح کو ازسرنو زندہ کیا جائے۔نیشنل ایکشن پلان کو محض کاغذی خاکہ نہیں بلکہ ریاستی عزم اور عوامی اعتماد کا استعارہ بنانا ہوگا۔دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے ہمارے بہادر سپاہی اور جوان دراصل اس قوم کے وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں بھی روشنی بانٹتے ہیں۔ ان کی شہادتیں محض تاریخ کے اوراق نہیں بلکہ عہدِ وفا کی داستانیں ہیں۔یہ قربانیاں کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری ملتِ پاکستان کی مشترکہ میراث ہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وطن کی حفاظت کسی ایک فورس یا طبقے کی ذمہ داری نہیں ، یہ ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔

    دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اس کا مقصد ایک ہی ہے، انتشار، خوف اور بداعتمادی پھیلانا۔ لیکن یہ قوم وہی ہے جو بارہا لہو میں نہا کر بھی سر اٹھا کر کھڑی ہوئی۔افواجِ پاکستان اور عوام آج بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات سے نہیں، عزم اور تدبر سے کام لیں۔پاکستان کی سیکورٹی کی ضمانت ہماری افواج ہیں، مگر پائیدار امن کی بنیاد عوامی یکجہتی ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد، صوبوں میں بہتر گورننس، انصاف تک عام رسائی، اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی ہی وہ راستہ ہے جو قوم کو دوبارہ اعتماد اور سکون کی فضا مہیا کر سکتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ محض بندوقوں کی گھن گرج سے نہیں جیتی جا سکتی؛ اس کے لیے فکری بیداری، قومی شعور اور اجتماعی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے” محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے اور یہ عہد ہم سب کو نبھانا ہے۔آج جب دشمن ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، ہمیں اپنے گھر کے چراغ مضبوطی سے تھامنے ہیں۔یہی قومی اتحاد، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل، یہی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ یکجہتی ہمارا ہتھیار ہے، ہماری ڈھال ہے، ہمارا فخر ہے۔امن کی صبح دور نہیں، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کر لیں، اور اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک بار پھر متحد قوم بن جائیں،پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم کبھی جھکنے والی نہیں، اور یہ وطن ہمیشہ اپنے شہیدوں کے لہو سے زندہ رہے گا۔ یہ وقت قوم کے اتحاد، نیشنل ایکشن پلان کے احیاء اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا ہے۔ کیونکہ جب قوم اور فوج ایک ہو جائیں تو کوئی دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، پاکستان کے امن کو پامال نہیں کر سکتا۔

  • خون کی قیمت پر مہمان نوازی، اب افغانوں کی واپسی ناگزیر

    خون کی قیمت پر مہمان نوازی، اب افغانوں کی واپسی ناگزیر

    خون کی قیمت پر مہمان نوازی، اب افغانوں کی واپسی ناگزیر
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا حالیہ بیان ایک طویل عرصے سے جاری دیرینہ تکلیف کو کھول کر سامنے لے آتا ہے۔ اُنہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ افغان مہاجرین کی ستر سالہ مہمان نوازی کی قیمت ہم اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس جائیں۔ یہ صرف جذبات نہیں بلکہ ایک سادہ اور سخت پیغام ہے کہ برداشت کی حد پار ہو چکی ہے۔ قومی اسمبلی میں اُن کی تنبیہ تھی کہ دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ ناقابلِ قبول ہوگا اور پناہ دینے والوں کو حساب دینا پڑے گا۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری "اپنے شہریوں کا تحفظ سب سے اوّل ہے”۔

    2021 کے بعد ٹی ٹی پی نے اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں کیونکہ انہیں افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے میسر آئے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت ٹی ٹی پی کو بھائی سمجھتی ہے، انہیں ہتھیار، تربیت اور پناہ گاہیں فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی روکی جائے، مگر عملی نتائج ناکافی رہے۔ اس تناظر میں بھارتی عنصر کا ذکر بھی سامنے آتا ہے کیونکہ پاکستانی انٹیلی جنس اور حکام بعض کارروائیوں کے پیچھے بھارتی مداخلت یا پراکسی وار کی نشاندہی کرتے ہیں، دعویٰ کرتے ہوئے کہ بھارت "را” کے ذریعے مالی امداد، ہتھیار اور رہنمائی فراہم کر رہا ہے تاکہ اندرونی کمزوری پیدا کی جا سکے۔

    2025 میں حملوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان نے یہ محسوس کیا کہ بھارت اور افغانستان "انسانی حقوق” کے پردے تلے اپنی حکمتِ عملی چلاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں امیر خان متقی کا بھارت کا دورہ جو 9 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی پہنچ کر چھ روزہ قیام پر ہیں اور جہاں وہ بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملے ،جو دہشت گردی اور گٹھ جوڑ کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے۔ 2021 کے بعد یہ پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہے اور اس کا پیغام پاکستان کے لیے کوئی اچھا نہیں، خصوصاً جب اسی عرصے میں پاکستان نے افغان مہاجرین کے خلاف "بڑی کارروائی” کا عندیہ دیا۔ متقی کا روس کے بعد پاکستان آنے کے بجائے بھارت جانا پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ خواجہ آصف کا پیغام کال ٹو ایکشن بن چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے بیانات، گذشتہ دورِ حکومتوں کی پالیسیاں اور مباحث بھی اس بحث کا حصہ ہیں کہ عمران خان کے دور میں ہونے والے اقدامات، پی ٹی آئی کی بعض پالیسیوں پر تنقید اور مذاکراتی رویے کے تضاد نے ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

    اس دوران ایک اور خطرناک پہلو سامنے آتا ہے کہ بعض چھوٹے چھوٹے کاروبار، جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، اصل میں دہشت گردوں کے رابطے یا مالیاتی راستے ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک بھر میں کئی شہروں میں ایسے چائے خانے ہیں جو عام لوگوں کے لیے "کوئٹہ ہوٹل” کے نام سے معروف ہیں۔ بظاہر معمولی کاروبار دکھائی دیتے ہیں، مگر سیکیورٹی ذرائع اور مقامی رپورٹس کے مطابق یہ بہت سی صورتوں میں سلیپر سیلز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی چائے خانے اور لنڈا کے کاروباروں کی آڑ میں منشیات، اسلحہ، دہشت گردی اور اسمگلنگ کے سلسلے چلتے ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں نظرانداز شدہ رابطے، رقم کی ترسیل اور چھوٹے چھوٹے سامان کے ذریعے غیرقانونی نقل و حمل کا جال بنتا ہے۔

    ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان چھوٹے کاروباروں پر فوکس کریں، ان کا ڈیٹا اکٹھا کریں، کاروباری لائسنس اور شناختی کارڈ چیک کریں، کرایہ داروں اور مالکان کا پس منظر دیکھیں اور اگر ضرورت ہو تو مقامی سطح پر ڈیٹا بیس بنائیں تاکہ شناختی روابط سامنے آ سکیں۔ جب ان چائے خانوں اور لنڈا کے ٹھیکوں کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے گا تو اکثر صورتوں میں افغان شہریوں اور ان سے جُڑے عناصر کی کڑیاں ملنا مشکل نہیں رہے گی۔اس وقت اہم کام یہ ہے کہ ادارے مل کر ایک واضح لائحہ عمل بنائیں، مقامی سطح پر کوئٹہ ہوٹل جیسے مشکوک تجارتوں کا نقشہ تیار کیا جائے، ریڈ کے مطابق کارروائیاں ہوں.

    اس کے علاوہ سفارتی محاذ پر بھی متحرک ہونا پڑے گا ، افغان حکومت سے واضح مطالبات، سرحدی نگرانی میں اضافہ اور بین الاقوامی دباؤ کے ذریعے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ لازمی ہے۔بھارت اور کسی بھی بیرونی فریق کی مداخلت کے الزامات کو سنجیدہ لینا چاہیے اور مناسب ثبوت کے ساتھ بین الاقوامی فورمز پر پوری توانائی کے ساتھ آواز اٹھانا چاہیے،

    دوسری طرف اگر مہمان نوازی قومی جان و مال پر بجلی کی ننگی تار بن جائے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ مہمان نوازی آخر کس قیمت پر جاری رکھی جائے؟ وزیرِ دفاع کا بیان دراصل بیداری کا پیغام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قوم اور ریاست مل کر یہ فیصلہ کریں کہ وہ اپنے گھر، اپنی سرحد اور اپنی عوام کا تحفظ کس طرح یقینی بنائیں۔ میزبان کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر کی حفاظت کرے، لیکن خون کی قیمت پر مزید مہمان نوازی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

    جنہوں نے 1979 سے اب تک پاکستان کا کھایا، یہاں پناہ لی اور پھر اسی ملک کے ازلی دشمن کے ساتھ ہاتھ ملا کر ہمارے ہی خون سے زمین سرخ کی، وہ اب کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انسانی حقوق کا راگ بہت الاپا جا چکا مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانیوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں؟ کیا انسانی حقوق صرف ان افغان دہشت گردوں کے لیے ہیں جو بھارت کے ایماء پر پاکستان میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں؟ اب خون کی قیمت پر مہمان نوازی ناقابلِ برداشت ہے اور افغانوں کی واپسی ناگزیر ہو چکی ہے۔

  • گوگل کا پاکستانی طلبا کو  مفت جیمینائی اے آئی پرو پلان دینے کا اعلان

    گوگل کا پاکستانی طلبا کو مفت جیمینائی اے آئی پرو پلان دینے کا اعلان

    گوگل نے پاکستانی طلبا کے لیے خصوصی تعلیمی اقدام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طالبعلم ایک سال تک جیمینائی اے آئی پرو پلان مفت حاصل کر سکیں گے۔

    اس کا مقصد طلبا کو جدید اے آئی ٹولز فراہم کر کے ان کی تعلیم، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔واضح رہے کہ اس پلان کی قیمت پاکستان میں تقریباً 5,600 روپے ماہانہ ہے، تاہم یہ سبسکرپشن اہل طلبا کو بلا معاوضہ فراہم کی جائے گی۔

    طلبا کو حاصل ہونے والے فیچرز

    جیمینائی 2.5 ماڈل تک رسائی: ریسرچ، اسائنمنٹس اور پراجیکٹس میں آسانی۔گوگل ایپس میں انٹیگریشن: جی میل، ڈاکس، شیٹس، سلائیڈز اور میٹ میں اے آئی فیچرز۔نوٹ بک ایل ایم: ذاتی تحقیقی اور تحریری ٹول، اضافی آڈیو اوورویوز اور نوٹس کے ساتھ۔ویڈیو تخلیق: ٹیکسٹ اور تصاویر سے جدید ویڈیوز بنانے کی سہولت۔2 ٹی بی کلاؤڈ اسٹوریج: گوگل ڈرائیو، جی میل اور فوٹوز میں وافر اسٹوریج۔ی

    ونیورسٹی کے طلبا اس مفت سبسکرپشن کے لیے سائن اپ کر سکتے ہیں: یہ پیشکش گوگل کے اس عالمی مشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد طلبا کو جدید ترین تعلیمی و تخلیقی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    بھارت کے لیے ویزا قوانین میں نرمی نہیں ہوگی،برطانوی وزیراعظم

    افغان حکومت کی پاکستان میں سرگرم افراد کو بسانے کی پیشکش، 10 ارب روپے طلب

  • غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ، جنگ بندی انسانیت کیلئے امید کی نئی کرن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ، جنگ بندی انسانیت کیلئے امید کی نئی کرن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کی ان کوششوں سے ثابت ہوا کہ جب دنیا ایک ساتھ انسانیت کے لیے کھڑی ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے

    پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے جبکہ سیاسی محاذ پر انتشار، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے

    عوام کے دکھ، مسائل اور امیدیں سیاسی کھینچا تانیوں میں دب گئیں سیاست خدمت کے بجائے ایک کھیل یا تماشہ بن چکی ہے

    مریم نواز عوامی خدمت کے ذریعے عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیں مگر کچھ سیاستدان اس کے خلاف سازش میں مصروف ہو گئے ہیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    غزہ میں امن کی جانب پیش رفت اور قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ ایک انسانی سطح پر بڑی کامیابی ہے خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو برسوں سے درد، جدائی اور خوف میں جی رہے تھے۔ غزہ میں جنگ بندی کی خبریں انسانیت کے لیے امید کی نئی کرن ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی انتظامیہ، یورپی ممالک، اسلامی دنیا اور تمام ان ممالک کا جنہوں نے اس امن میں مثبت کردار ادا کیا۔ امن کی یہ کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ جب دنیا ایک ساتھ انسانیت کے لیے کھڑی ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ امن دیر پا ہو گا اور غزہ سمیت پوری دنیا میں انصاف، احترام اور بھائی چارہ قائم ہوگا۔ دوسری جانب پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب ملک کے لیے ہمارے جوان اپنی جان قربان کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف سیاسی رہنما اپنے ذاتی مفادات، اقتدار کی کشمکش اور ایک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہوتے ہیں۔ عوام کے دکھ، مہنگائی اور سکیورٹی جیسے اصل مسائل اکثر پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی عوام میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ سیاست خدمت کے بجائے ایک کھیل یا تماشہ بن چکی ہے۔ جب تک سیاستدان قوم کے حقیقی مفاد کو اپنی انا اور مفادات سے اوپر نہیں رکھیں گے تب تک دورِ ابتلاء جاری رہے گا۔ پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے ایک طرف ملک کی بہادر فوج روزانہ اپنی جانیں قربان کر کے وطن کے امن، سلامتی کی حفاظت کر رہی ہے، اور دوسری طرف سیاسی محاذ پر انتشار، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے۔ عوام کے دکھ، مسائل اور امیدیں ان سیاسی کھینچا تانیوں میں دب کر رہ گئی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ وعدے تو کرتی ہیں مگر عملی طور پر اکثر ان کے فیصلے ذاتی مفاد، طاقت اور انتقام کے گرد گھومتے ہیں۔ پارلیمان کے ایوانوں سے لے کر میڈیا کے مباحثوں تک شائستگی اور دلیل کی جگہ طنز، الزام اور شور و غوغا نے لے لی ہے۔ عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے وہ سیاست دانوں کی تقاریر میں امید ڈھونڈتا ہے مگر ہر بار اسے مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔ عوام کے نزدیک سیاست اب خدمت کا نہیں بلکہ مفاد کے تحفظ کا کھیل بن چکی ہے ایک ایسا کھیل جس میں ہار ہمیشہ عوام کی ہوتی ہے۔ عجب تماشہ ہے جو سیاست دان عوام کی خدمت کے راستوں پر چلتا ہے اس کے خلاف سازش شروع ہو جاتی ہے اس کی مثال مریم نواز ہے۔ بلاشبہ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب میں عوام کی خدمت کرتے ہوئے عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیں حیرت ہے کہ اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے کچھ سیاستدان اس کے خلاف سازش میں مصروف ہو گئے ہیں جو عوام کے حقوق پر ایک ڈاکے کے مترادف ہے۔ ملک کو اس وقت اتفاق، انصاف اور حقیقی قیادت، ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کے زخموں پر مرہم رکھ سکے نہ کہ انہیں مزید گہرا کرے۔ جب تک سیاست میں اخلاقیات، شفافیت اور قومی مفاد کو ترجیح نہیں دی جاتی پاکستان اپنی حقیقی ترقی اور استحکام کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

  • واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ

    واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ

    واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    زیرِ زمین پانی کا کڑوا اور کھارا پن ہونا ایک ایسا المیہ ہے جسے ہم سب آنکھیں بند کرکے دیکھ رہے ہیں۔ جی ہاں، میری مراد اُن سرکاری اداروں سے ہے جو اس کے ذمے دار ہیں لیکن ان کا کردار آٹے میں نمک کے برابر رہ گیا ہے۔ جہاں جہاں صنعتی علاقے (انڈسٹریل ایریاز) ہیں، وہاں زیرِ زمین پانی کڑوا اور آلودہ ہو چکا ہے اور مزید ہوتا جا رہا ہے۔ ادارے موجود ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    سب سے بڑی وجہ سرکاری اداروں کی نااہلی اور کرپشن ہے، جنہوں نے اس پورے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ قومی مفاد کے بجائے انفرادی سوچ نے ہمیں ڈبو دیا ہے۔ پانی زندگی کی بنیاد ہے، مگر افسوس کہ پاکستان میں یہی زندگی کا سرچشمہ زہر بن چکا ہے۔

    ہمارے شہروں اور صنعتی علاقوں میں آلودہ پانی کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ کے لیے بنائے گئے حکومتی منصوبے ناکامی کی داستان بن چکے ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبے صرف کاغذوں میں کامیاب نظر آتے ہیں، مگر زمین پر ان کی حالت بدترین ناکامی کی مثال ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتوں کے پھیلاؤ کے ساتھ صاف پانی کی فراہمی ایک نازک مسئلہ بن چکی ہے۔

    حکومت نے مختلف شہروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، فلٹریشن پلانٹس اور سیوریج ٹریٹمنٹ یونٹس کے قیام کے منصوبے شروع کیے تاکہ شہریوں کو آلودگی سے پاک پانی فراہم کیا جا سکے۔ مگر عملی طور پر یہ پلانٹس یا تو بند پڑے ہیں، یا غیر فعال مشینری کا ڈھیر بن چکے ہیں، اور بعض تو کبھی مکمل ہی نہیں ہوئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہری نکاسی آب کے نالوں اور زہریلے مادوں سے ملا ہوا پانی پینے پر مجبور ہیں۔

    سرکاری و نجی شعبے میں اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں مگر نتیجہ صفر۔ اس کی بڑی وجہ سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی ہے۔ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں پچھلے دس برسوں کے دوران واٹر ٹریٹمنٹ پر اربوں روپے خرچ کیے گئے مگر ان منصوبوں کا حال مایوس کن ہے۔ لاہور میں واسا (WASA) کے زیرِ انتظام کئی ٹریٹمنٹ پلانٹس مشینوں کے پرزے خراب ہونے کے باعث بند ہیں۔ کراچی میں کئی یونٹس مکمل ہونے کے باوجود کام نہیں کر رہے جبکہ جنوبی پنجاب اور اندرونِ سندھ میں واٹر سپلائی اسکیمیں ناقص میٹریل کے باعث چند ماہ میں ناکارہ ہو جاتی ہیں۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی اور غیر تربیت یافتہ عملہ واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم کو مکمل طور پر ناکام بنا دیتا ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ کا نظام واسا، ٹی ایم ایز، لوکل گورنمنٹ اور انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ ذمہ داری ہے مگر ان اداروں میں نہ کوآرڈینیشن ہے، نہ پلاننگ اور نہ ہی احتساب۔ واسا کے پاس جدید لیبارٹریز نہیں، انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ صرف نوٹس جاری کرنے تک محدود ہے، لوکل گورنمنٹ کے پاس فنڈز نہ ہونے کا بہانہ ہمیشہ تیار رہتا ہے، اور سیاست دان ان منصوبوں کو صرف فیتہ کاٹنے کی حد تک یاد رکھتے ہیں۔

    یوں صاف پانی کے منصوبے کاغذی فائلوں اور افتتاحی تختیوں کی نذر ہو جاتے ہیں اور نتیجے میں عوام زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ناکامی نے عوام کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے، جبکہ آبی حیات بھی شدید طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ شہروں میں نلکوں سے بدبو دار، نمکین اور زنگ آلود پانی آ رہا ہے۔ دیہاتوں میں نکاسی آب کے جوہڑ ہی پینے کے پانی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

    ہسپتالوں میں گردے، جگر اور آنتوں کی بیماریوں کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ آلودہ پانی سے بچوں کی اموات اور حاملہ خواتین میں پیچیدگیوں کی شرح بڑھ چکی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسی ریاست میں ہو رہا ہے جو خود کو اسلامی فلاحی ریاست کہتی ہے۔ ہر حکومت اپنے منشور میں صاف پانی کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کرتی ہے، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    “صاف پانی اسکیم” کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، مگر اکثر فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں۔ اوور بلنگ، ناقص انتظام اور کرپشن نے نظام تباہ کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں شہریوں نے اپنے خرچے پر فلٹریشن یونٹس لگائے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پینے کے پانی میں ٹوٹل ڈیزالو سالڈز (TDS) 500 ppm سے کم ہونے چاہئیں، مگر پاکستان کے بیشتر شہروں میں یہ 1500 سے 2500 ppm تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتی واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

    صاف پانی بنیادی انسانی حق ہے، مگر پاکستان میں یہ حق ایک عیاشی بنتا جا رہا ہے۔ حکومتی ادارے اپنی نااہلی، بدعنوانی اور بے حسی کے باعث عوام کو زہر پینے پر مجبور کر چکے ہیں۔ اگر اب بھی اصلاحِ احوال نہ کی گئی تو آنے والے وقت میں صرف قحط نہیں، بلکہ آلودہ پانی سے ہونے والی اموات سب سے بڑا قومی المیہ بن جائیں گی۔

    سوال یہ ہے کہ آخر اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟

  • گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ . امن پر حملہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ . امن پر حملہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    غیر قانونی ریاست اسرائیل نے ایک طویل عرصے سے مشرق وسطی میں دہشت و بد امنی کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ دہشت گرد ریاست روز امن اور انسانی حقوق کے اصولوں کی دھجیاں بکھیرتی جا رہی ہے۔ اگر کوئی ملک یا مزاحمتی تنظیمیں جیسے حماس اور حزب اللہ مزاحمت کرتی ہے۔ تو امریکہ ، غیر قانونی ریاست اسرائیل کی پشت پناہی کے لئیے حاضر پایا جاتا ہے۔ فلسطینی علاقوں پہ اسرائیلی جارحیت روز کا معمول بن چکا ہے۔ دہشت گرد اسرائیل کا غزہ پر زمینی، بحری اور فضائی محاصرہ جاری ہے۔ جس سے وہاں امداد و خوراک کی شدید قلت واقع ہو چکی ہے۔ اسرائیلی بمباری و دہشت گردی سے روز فلسطینی مسلمان شہید ہو رہے ہیں۔ جو بچے ہیں۔ وہ بھوک اور ادویات کی کمی سے مر رہے ہیں۔ اب تک 66 ہزار سے زائد مظلوم فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ادارے محض بے بس نظر آتے ہیں۔

    اس سنگین صورتحال میں مختلف ممالک نے غزہ کی جانب ایک پرامن بحری سفر کا آغاز کیا۔ تاکہ غیر قانونی اسرائیل کا غزہ پر بحری محاصرہ پر امن طریقے سے توڑا جا سکے۔ اور غزہ کے محصور عوام کو امداد پہنچائی جا سکے۔ مگر اس پرامن قافلے پہ بھی اسرائیلی جارحیت نہ رک سکی۔

    31اگست 2025ء کو بارسلونا (اسپین) سے اس بحری امدادی قافلے کا آغاز ہوا۔ جسے گلوبل صمود فلوٹیلا کا نام دیا گیا۔فلوٹیلا بحری اصطلاح میں چھوٹے جہازوں یا کشتیوں کے قافلے کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ صمود عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ڈٹ جانے،مزاحمت، استقامت اور ثابت قدم رہنے کے ہیں۔ اس قافلے میں اہم جہازوں میں Handala, Mavi Marmara ll, Marinette, Akdeniz, Freedom, Hope, Naji Al_Ali، Solidarity اور justice شامل تھے۔ جبکہ کئی اہم تنظیموں نے اس میں شرکت کی۔

    اس فلوٹیلا میں 44 سے زائد ممالک کے 500 سے زائد اہم اراکین، جن میں ڈاکٹر، انسانی حقوق کے کارکنان، پارلیمنٹیرینز، مذہبی رہنما اور صحافی وغیرہ سوار تھے۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ جبکہ اس فلوٹیلا میں الجزیرہ ٹی وی کے صحافی حسن مسعود اور نیلسن منڈیلا کے پوتے زویلی ویلی منڈیلا بھی شامل تھے۔

    گلوبل صمود فلوٹیلا یعنی "عالمی استقامت کا بحری قافلہ” دراصل 30 مئی 2010ء غزہ کا بحری محاصرہ توڑنے کے لئیے جانے والے بحری قافلے Freedom Flotilla Coalition کا ہی تسلسل ہے۔ جس کے اہم مقاصد میں غزہ کے بحری محاصرے کو توڑنے کی علامتی کوشش کرنا ، وہاں کے محصور عوام تک امداد، ادویات اور خوراک کی فراہمی نیز مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ء یکجہتی تھا۔ نیز عالمی میڈیا اور اداروں کی توجہ غزہ کی سنگین صورتحال کی طرف دلانا بھی مقصود تھا۔ اس لحاظ سے گلوبل صمود فلوٹیلا انسانی ، اخلاقی اور سیاسی تینوں حوالوں سے ایک پُرامن اور مضبوط مشن تھا۔

    بدقسمتی سے امدادی کارکنوں کے اس پر امن مشن کو بھی اسرائیلی جارحیت سے استثنیٰ حاصل نہ رہا۔ اور مختلف مقامات پہ اس پہ ڈرون حکمت جاری رہے۔ پہلا ڈرون حملہ 8 ستمبر کو تیونس کے قریب ،دوسرا 24 ستمبر اور تیسرا 28 ستمبر 2025ء کو ہوا۔ بالآخر 2 اکتوبر 2025ء کو اسرائیلی نیوی نے فلوٹیلا کے بیشتر جہازوں اور کشتیوں کو قبضہ میں لے لیا۔ 3 اکتوبر 2025ء کو آخری جہاز Marinette کو بھی غزہ سے 42.5 بحری میل کے فاصلے پہ روک کر قبضے میں لے لیا۔ امدادی کارکنوں کو گرفتار اشدود کی بندرگاہ منتقل کر دیا گیا۔ اور ان کے فونز کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق کچھ ممالک کے امدادی کارکنوں کو استنبول ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔

    ڈاکٹروں اور صحافیوں پر مشتمل ایک امن امدادی فلوٹیلا پر حملہ درحقیقت امن پہ حملہ ہے۔ اسوقت جبکہ امریکی صدر جنگ بندی کے لیے اپنی مرضی کے پلان دے کے حماس کو دھمکیوں سے آمادہ کرنے کی کوشش میں تھے۔ اسرائیل تب بھی اپنے دہشت گردی جاری رکھے ہوئے تھا۔ اب جبکہ حماس نے بھی ٹرمپ کے 20 نکاتی پلان پہ آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ جس کی رو سے غزہ کا انتظام غیر فلسطینی ٹیکنوکریٹس ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ نہ تو فلسطینی علاقوں پہ اسرائیلی بمباری رکی ہے۔ نہ ہی غزہ میں امداد کے لئیے محاصرہ ختم کیا گیا ہے۔ 4 تا 5 اکتوبر یعنی صرف 24 گھنٹوں 66 فلسطینی شہید کر دیئے گئے ۔ جن میں بچے بھی شامل تھے ۔

    اقوا متحدہ میں ہونے والی حالیہ کانفرنس میں قریباً ہر ملک اسرائیلی دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ اور اسے حل کی طرف لے جانے کے لئیے ایپل کی ہے۔ یہاں تک کہ جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک نے عالمی عدالت (IJC) میں اسرائیل پہ فلسطینیوں کی نسل کشی کو مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

    پاکستان نے فلسطین پہ ہمیشہ ایک واضح موقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان جلد آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا ہے۔ جس کا دارالحکومت القدس شریف تسلیم کیا جائے۔ یہی وقت ہے۔ کہ اب مسلم امہ کو متحد ہو کر اس مطالبے پہ عمل درآمد کروانا ہو گا۔ تاکہ خطے میں غیر قانونی ریاست اسرائیل کی دہشت گردی کو روکا جا سکے۔
    ظلم کے خلاف مزاحمت نہ کبھی رکی ہے۔ نہ رکے گی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق10 کشتیوں پر مشتمل "ضمیر” نامی ایک اور امدادی فلوٹیلا غزہ کی جانب محو سفر ہو چکا ہے۔
    ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں جب مظلوم فلسطینیوں کو کفار کے تسلط سے آزادی حاصل ہو گی ۔ اللہ رب العزت جلد فلسطین کے عوام کو امن اور آزادی عطا فرمائے۔ آمین

    اے ارضِ فلسطین کے جانباز سپوتو!
    ہمت نہ کبھی جہد کے میدان میں ہارو!

    تم اصل میں ہو مسجدِ اقصیٰ کے نگہبان
    رہنا ہے تمھیں شام و سحر بر سرِ پیکار

  • بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    ”سدا بہار افسر“
    ’باس از آلویز رائٹ اور یس باس“ کی تسبیح کرتے یہ افسران سنئیر افسران، وزراء اور چیف منسٹر کے درباری بنے ہوتے ہیں۔ جی حضوری کے چیمپئین ہونے کی وجہ سے ہر حکومت میں ”فٹ“ ہو جاتے ہیں اور من مرضی کی پوسٹنگ لیتے ہیں۔ یہ باس اور طاقتور کے سامنے لیٹ جاتے ہیں مگر ماتحت اور عام لوگوں کے سامنے انتہائی سخت گیر۔

    ”ٹک ٹاکر افسران“
    ان کی مثال ”جِنا لُچا اونا اُچا“ والی ہے جو جتنا زیادہ قانون شکن، کرپٹ اور واحیات ہوتا ہے وہ سوشل میڈیا پر اتنا زیادہ اچھا دکھنے کی ایکٹنگ کرتا ہے بلکہ اگر صحیح تشریح کی جائے تو ان افسران میں لُچے اور ٹُچے والی دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں. پہلے افسران اپنی عظیم الشانی کی وجہ سے مشہور ہوتے تھے اب ذلیل الشانی سے۔
    ٹک ٹاکر افسران کی ذلیل ترین قسم والے افسران کی ویڈیو سامنے آتے ہی منہ سے بے ساختہ گالیاں نکل جاتی ہیں کیونکہ یہ اس قدر بے حس اور غیرت سے عاری ہوچکے ہیں کہ اپنی ویڈیو ایکٹنگ کیلئے معزز شہریوں کی پرائیویسی خراب کر رہے ہوتے ہیں۔

    سستے ایکٹر:
    اکثر دفتر اور سرکاری گاڑی کی ویڈیوز لگاتے ہیں تو کبھی انصاف کی بروقت فراہمی کی فیک اور پلانٹڈ ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں۔
    ایسے افسران اپنی سستی ایکٹنگ سے ناصرف اپنا گھٹیا پن ثابت کرتے ہیں بلکہ افسری کو داغدار کرتے ہوئے ساری سول سروس کیلئے گالی بنے ہوتے ہیں۔ تمام مرد افسران کی سستی ایکٹنگ اتنی بری اور گھٹیا نہیں ہوسکتی جتنی چند خواتین افسران خاص طور پر خواتین پولیس افسران کی ہے۔ خواتین افسران تو باقی خواتین کیلئے قابل تقلید حد تک مہذب ہوتی تھیں لیکن نئی افسران نے شوبز انڈسٹری کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    مجبور ٹک ٹاکر:
    کچھ افسران پہلے والی اقسام کی اوورایکٹنگ اور سنئیرز کی ڈیمانڈ کے ہاتھوں مجبور ہوکر بھی ٹک ٹاکر بنے ہوئے ہیں کہ اگر ویڈیوز نہ بنائی تو سیٹ چھن جائے گی۔

    ”ادیب افسر“
    پہلی بات تو یہ ہے کہ سرکاری افسر کا ادیب ہونا کوئی فخر والی بات نہیں ہے اسے جس کام کیلئے سرکار نے بھرتی کیا ہے وہی کرنا چاہئے۔ادب کا سہارا لینے والوں میں اکثریت نہ ادیب ہوتے ہیں اور نہ اچھے افسر۔

    کاروباری افسرگروپ:
    یہ اپنی سرکاری نوکری اور عہدوں کے مطابق جس محکمے میں بھی جاتے ہیں وہاں کاروباری لائن سیدھی کرلیتے ہیں۔ یہ اپنے مخصوص کاروباری گروپ کے علاوہ نہ تو کسی کی سفارش مانتے ہیں اور نہ ہی کوئی لین دین کرتے ہیں۔

    ”دیانت دار افسر“
    افسروں کی ایک ناپید قسم ہے، انہیں زیادہ تر کھڈے لائن پوسٹنگ ہی ملتی ہے، کبھی یہاں کبھی وہاں ”رولر کوسٹر“ کی طرح دھکے کھاتے رہتے ہیں۔جب ہر طرف پیسوں کی لین دین سے پوسٹنگ کا بازار گرم ہوتا ہے تو چیف سیکرٹری اور آئی جی حضرات ایسے دو، چار ایماندار افسران کو بھی پوسٹ کردیتے ہیں تاکہ یہ کہہ سکیں کہ اگر میرٹ پر پوسٹنگ نہیں ہورہی تو فلاں افسرکا تو سب کو پتا ہے کہ انتہائی دیانتدار ہے وہ کیسے لگ گیا۔

    ”کنسیپٹ کلئیر افسران“
    ایسے افسران کا مائنڈ سیٹ کلئیر ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے اور جھولیاں بھر بھر کے سمیٹنا ہے۔شدید کرپٹ ہونے کی وجہ سے کسی کی کال رسیو نہیں کرتے کہ کہیں کسی سفارشی کال پر مفت میں کام نہ کرنا پڑ جائے۔ سگے باپ کی بھی بات نہیں مانتے جبکہ اپنے ٹاؤٹ کی کال کہیں بھی کسی بھی حالت میں فوراً سے پہلے رسپانس کرتے ہیں۔

    بچے افسران:
    بیوروکریسی میں بچہ کلچر عام اور زبان زد عام ہوچکا ہے کہ یہ فلاں افسر کا بچہ ہے۔ فلاں کا کماؤ پتر اور فلاں کا ”پلاؤ پتر“ہے۔بچے بننے کے مختلف مراحل ہے کمائی کے لحاظ سے کماؤ بچوں کی اکثریت بطور سیکشن آفیسر اور سب رجسٹرار کلک ہوتے ہیں۔ کنسیپٹ کلئیر افسران ان سیٹوں پر سنئیر افسران کے مُنشی بن کر پیسہ اکٹھا کرتے ہیں اور یوں صاحب کا بچہ بن جاتے ہیں اور سارا کیرئیر اس سنئیرز کا بچہ بن کر گزار دیتے ہیں وہی سنئیر نہ صرف اس کیلئے پوسٹنگ مینج کرتا ہے بلکہ شیلٹر بھی فراہم کرتا ہے۔ سنئیر افسر اور بچہ دونوں جہاں بھی بیٹھیں گے ایک دوسرے کے سو کالڈ کارنامے اور فضائل بیان کریں گے۔

    جو افسران جونئیر لیول پر کلک نہیں ہوتے جب گریڈ 18اور انیس میں سسٹم کو سمجھ لیتے ہیں تو جس آفسر کا دامن وہ بچہ بن کر تھامتے ہیں وہ پھر اس کو پوسٹنگ کیلئے ایسے انٹرڈیوس کرواتا ہے کہ سر آپ کو دی بیسٹ بچہ دے رہا ہوں، قابل اور ”ریاضی“ کا ماہر ہے لیکن کمٹمنٹ کا پکا ہے اُس کی طرح نہیں کہ ہر جگہ منہ مارتا ہے۔ بیوروکریسی کے بچہ کلچر میں اس بات کو معیوب بھی سمجھا جاتا ہے انکا بچہ ہر کسی کا بچہ نا بنے، بلکہ ”لو پروفائل” اور ”نان سوشل” رہنا ہے تاکہ بچہ کوئی غلطی نہ کرجائے، بچے تو بچے ہوتے ہیں بعض اوقات نہ بتانے والی بات بھی منہ سے نکال دیتے ہیں اس لیے بچے کو جتنا سنبھال کے رکھا جاسکتا ہو رکھا جاتا ہے۔
    چالیس پینتالیس سال کا افسر بھی بچہ کہلانا فخر محسوس کرتا ہے۔
    بات صرف اتنی ہے جب بچہ بننا فائدے کا سودا ہو تو پھر بچہ بننا اور کہلانا فخر اور شیلٹر محسوس کرتے ہیں۔ جس قدر تیزی سے یہ بچہ کلچر پروان چڑھ رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ بیوروکریسی کی عزت اور وقار بالکل ختم ہوجائے اور ہر کوئی بچہ بننے اور کہلانے کی ڈور میں لگ جائے۔

  • امن منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلیے مودی حکومت، اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کو دھمکی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلیے مودی حکومت، اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کو دھمکی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف سرحدی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے

    امریکی صدر اپنی سفارتی قیادت استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن و مذاکرات کا فریم ورک قائم کریں

    پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا نہ کہ دہشت گردی کا ذمہ دار، دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان میں بھارت ہے

    بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا رہا انہیں مالی سپورٹ بھی کرتا رہا

    بھارتی حکومت، بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی عوام ہوش کے ناخن لیں ورنہ تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    توجہ برائے امریکی صدر ٹرمپ، توجہ برائے یورپی یونین، توجہ برائے اقوام متحدہ، جب وائٹ ہاؤس سے امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ سے دنیا میں صدائیں بلند ہونے لگی ہیں جنگ نہیں امن۔ دنیا میں اس پر عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں اس کی تازہ مثال اسرائیل اور فلسطین کے لیے بیس نکاتی فارمولا پیش کیا گیا۔ صدر ٹرمپ کے دنیا میں امن منصوبے کو سبوتاز کرنے کے لیے بھارت کی مودی حکومت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو دھمکی دی ہے۔ ثابت ہوا بھارت ایک ملک کے ساتھ ساتھ دہشت گرد ملک ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف سرحدی مسلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ امریکی صدر اپنی سفارتی قیادت استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن و مذاکرات کا فریم ورک قائم کریں۔ بالکل ویسا ہی جیسے فلسطین اسرائیل کے تنازعے کے لیے پیش کیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ پاک فوج پولیس اور عوام نے قربانیاں دیں جس کا ایک عالم گواہ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا رہا انہیں مالی سپورٹ بھی کرتا رہا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کراچی اور دیگر شہروں میں دہشت گردی میں ملوث رہا جس کے ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا نہ کہ دہشت گردی کا ذمہ دار، دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان میں بھارت ہے جس کی ثبوت عالمی دنیا کے پاس موجود ہیں۔ ہماری پاک فوج جملہ اداروں، پولیس اور عوام نے لہو سے امن کا چراغ جلایا۔ آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد اس بات کا ثبوت ہیں پاکستان نے بھارت کی جانب سے بھیجے گئے نیٹ ورک کو توڑا اور اپنے ملک و قوم کو بچایا۔ یعنی بھیجے گئے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا اور اپنے ملک کو قوم کو بچایا بھارت اب بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وقت آگیا ہے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے دنیا سچ کا ساتھ دے پاکستان امن چاہتا ہے جنگ نہیں چاہتا۔ امریکہ مغربی ممالک اور دیگر عالمی قوتیں جنوبی ایشیا میں ایک ایسا خطرہ ابھر رہا ہے جو صرف پاکستان بھارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام، انسانی المیے اور ممکنہ وسیع البنیاد تنازع میں دھکیل سکتا ہے۔ یہ خطرہ اگر بروقت، معقول اور غیر جانبدار سفارتی مداخلت سے نہ روکا گیا تو بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع، ماجرین کے ہجوم اور خطے میں بین الاقوامی کشیدگی کے اضافے کا سبب بن سکتا ہے جو عالمی سلامتی اور اقتصادی استحکام دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ بھارتی حکومت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی عوام ہوش کے ناخن لیں ورنہ تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں۔