Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بدعنوانی و سفارش، خواجہ آصف کی تنقید ، اصلاح کون کرے گا؟

    بدعنوانی و سفارش، خواجہ آصف کی تنقید ، اصلاح کون کرے گا؟

    بدعنوانی و سفارشہ، خواجہ آصف کی تنقید ، اصلاح کون کرے گا؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے 26 اکتوبر 2025 کو ایک ٹویٹ میں سرکاری ملازمتوں میں رائج بدعنوانی اور سفارش کلچر پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے سیالکوٹ کے سردار بیگم ہسپتال کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر بتایا کہ ایک سال میں سیالکوٹ میڈیکل کالج کے 22 پروفیسرز نے لاہور تبادلے کروائے کیونکہ وہاں پرائیویٹ پریکٹس اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔ محکمہ صحت کے افسران سے بات چیت میں انہیں بتایا گیا کہ لاہور میں پوسٹنگ کے لیے سفارشیں، ہڑتالیں اور دباؤ معمول کی بات ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق یہ کلچر تمام سرکاری اداروں میں پھیل چکا ہے، اور بااثر سیاست دان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس کی پشت پناہی کرتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے خود اعتراف کیا کہ وہ بھی ماضی میں اس "گناہ” کے مرتکب رہے ہیں۔ انہوں نے فوج اور سول سروسز کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوج میں بھی مرضی کی پوسٹنگ کا رواج ہوتا تو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدوں کی حفاظت ممکن نہ رہتی۔ ان کے مطابق فوجی جوانوں نے چار سال میں چار ہزار شہادتیں دیں، مگر وہ سول افسران سے زیادہ تنخواہیں نہیں لیتے اور نہ ہی غیر ملکی پاسپورٹ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حلقے کے ایک پٹواری کی مثال دی جو کینیڈا میں رہائش پذیر ہے اور یورپ میں کاروبار رکھتا ہے، جبکہ اس کے سفارشی اثرورسوخ والے لوگ ہیں۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ اس کلچر کی بیخ کنی ضروری ہے، اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قول سے اختتام کیا:
    "Ask not what your country can do for you.ask what you can do for your country.”

    سوال مگر یہ ہے کہ اگر ایک سینئر حکومتی وزیر، جو خود اقتدار اور قانون سازی کے مراکز میں اثر و رسوخ رکھتا ہے، صرف سوشل میڈیا پر تنقید کرتا ہے تو اصلاحی اقدامات کون کرے گا؟ خواجہ آصف کے پاس پالیسی اور قانون سازی کی طاقت ہے، اس کے باوجود وہ محض بیانات تک محدود کیوں ہیں؟ اگر وہ واقعی اس نظام کی خرابی کو محسوس کرتے ہیں تو اصلاح کے لیے عملی اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟

    سرکاری ملازمتوں میں سفارش اور دوہری وفاداری کا مسئلہ نیا نہیں۔ خواجہ آصف نے اس سے قبل بھی بیوروکریسی پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے اور کہا تھا کہ آدھے سے زیادہ افسران ملک چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ جنوری 2025 میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ بائیس ہزار سے زائد سرکاری افسران دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ 2018 میں سپریم کورٹ نے دو سو تیرہ افسران کو دوہری شہریت چھپانے پر نوٹس جاری کیے تھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرکاری نظام میں بدعنوانی اور غیر وفاداری کس حد تک سرایت کر چکی ہے۔

    پٹواری نظام، جو زمین کے ریکارڈ کا بنیادی ستون ہے، سب سے زیادہ کرپٹ اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ برطانوی دور سے چلا آ رہا یہ نظام دستی ریکارڈ پر منحصر ہے، جس سے جعلسازی اور رشوت ستانی آسان ہو جاتی ہے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ڈیجیٹلائزیشن سے اصلاح کی کوشش ضرور ہوئی ہے مگر رفتار سست ہے۔ آج بھی ضلعی بیوروکریسی نے کئی اہم مواضعات کو اپنے کچن چلانے کے لیے کمپیوٹرائزڈ نہیں ہونے دیا، تاکہ رشوت، سفارش اور مفاد پر مبنی لین دین کا سلسلہ برقرار رہ سکے۔ خواجہ آصف کے بیان کردہ پٹواری کی مثال اس نظام کی انہی خامیوں کی علامت ہے، جہاں سرکاری ملازم بیرونِ ملک کاروبار اور رہائش رکھتے ہیں مگر جواب دہی سے بالاتر ہیں۔

    اگر خواجہ آصف واقعی اصلاح چاہتے ہیں تو ان کے پاس کئی راستے ہیں، دوہری شہریت رکھنے والے سرکاری افسران کے لیے سخت قانون سازی، سفارش کلچر کے خاتمے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، اور پٹواری نظام کی مکمل ڈیجیٹل تبدیلی۔ 2022 میں تجویز دی گئی تھی کہ دوہری شہریت رکھنے والے افسران کو اعلیٰ عہدوں سے روکا جائے — اگر خواجہ آصف واقعی سنجیدہ ہیں تو وہ اس تجویز کو قانون کی شکل دے سکتے ہیں۔ اسی طرح نیب اور ایف آئی اے کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ غیر ملکی مفادات رکھنے والے افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر سکیں۔

    فوج اور سول سروس کے درمیان خواجہ آصف کا تقابلی نکتہ اخلاقی اعتبار سے درست ہےکہ فوجی اپنی جان دیتے ہیں، جبکہ سول افسران اکثر نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر اصلاح کی بات صرف تقریروں اور ٹویٹس تک محدود رہے تو یہ تضاد برقرار رہے گا۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر ایک وزیر، جو اقتدار کا حصہ ہے، عملی اقدامات نہیں اٹھاتا تو پھر اصلاح کون کرے گا؟

    یہ صرف کسی ایک وزیر یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے نظام کا امتحان ہے۔ خواجہ آصف کی تنقید ایک آئینہ ہے جو ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ نظام کی خرابیوں کا اعتراف تو سب کرتے ہیں، مگر اصلاح کا بوجھ کوئی نہیں اٹھاتا۔ آخر کب تک ہم یہ سوال دہرائیں گے کہ "ملک ہمارے لیے کیا کرے؟” اب وقت ہے کہ حکمران خود جواب دیں کہ وہ ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

  • نو پارکنگ بورڈ کے بغیر لفٹر کے چالان

    نو پارکنگ بورڈ کے بغیر لفٹر کے چالان

    نو پارکنگ بورڈ کے بغیر لفٹر کے چالان
    تحریر: سرمد خان چنگوانی
    📧 Sarmadchangwani1@gmail.com
    ڈیرہ غازی خان شہر جنوبی پنجاب کا ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا علاقہ ہے۔ یہاں کی سڑکیں، بازار، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے روز بروز مصروف ہوتے جا رہے ہیں۔ مگر اس بڑھتی ہوئی شہری سرگرمی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں سب سے نمایاں مسئلہ ٹریفک پولیس کی جانب سے گاڑیوں کے لفٹر کے ذریعے چالان کا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں "نو پارکنگ” کا کوئی واضح بورڈ موجود نہیں ہوتا۔ شہریوں کے لیے یہ صورتحال نہ صرف پریشانی کا باعث بنتی ہے بلکہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔

    شہر کے مختلف مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ ٹریفک پولیس کی لفٹر گاڑیاں اچانک آتی ہیں اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وارننگ کے کھڑی گاڑیوں کو اٹھا کر تھانے یا مخصوص پارکنگ یارڈ میں منتقل کر دیتی ہیں۔ بعد ازاں گاڑی کے مالک کو جرمانے کے ساتھ ساتھ لفٹنگ چارجز بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی جگہ پر "نو پارکنگ” کا بورڈ یا کوئی واضح نشانی نصب ہی نہیں کی گئی تو عام شہری کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ جگہ ممنوعہ ہے؟ کیا شہریوں کو سزا دینے سے پہلے ان کو آگاہ کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بنتی؟

    قانون کے مطابق موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور ٹریفک پولیس کے جاری کردہ قواعد میں واضح طور پر درج ہے کہ پارکنگ کی ممانعت صرف اسی جگہ قابلِ اطلاق ہوگی جہاں اس کی باقاعدہ نشاندہی کی گئی ہو۔ اگر کسی سڑک یا علاقے میں "نو پارکنگ”کا سائن بورڈ یا نشان نصب نہیں، تو شہری کو یہ علم ہونا ناممکن ہے کہ وہاں گاڑی کھڑی کرنا جرم سمجھا جائے گا۔ قانون کی روح یہی ہے کہ پہلے آگاہی دی جائے، پھر کارروائی کی جائے۔ مگر بدقسمتی سے ڈیرہ غازی خان میں اس اصول پر عملدرآمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

    کئی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ان کی گاڑیاں بازاروں یا دفاتر کے قریب اس وقت لفٹ کر لی گئیں جب وہ چند منٹ کے لیے کوئی کام نمٹانے گئے تھے۔ جب وہ واپس آئے تو نہ گاڑی موجود تھی، نہ کوئی نوٹس، اور بعد میں پتا چلا کہ چالان بھی ہو چکا ہے۔ بعض اوقات تو وہ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں برسوں سے لوگ اپنی گاڑیاں پارک کرتے آ رہے ہیں۔ اب اچانک اگر وہاں لفٹر کارروائی شروع کر دے تو عوام کو بغیر اطلاع کے سزا دینا انصاف کے منافی ہے۔

    یہ بھی قابلِ غور ہے کہ”نو پارکنگ” کے بورڈ صرف لگانا کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں نمایاں اور واضح مقام پر نصب کیا جانا ضروری ہے۔ اکثر جگہوں پر بورڈ ایسے لگائے جاتے ہیں جو درختوں، دکانوں کے سائن بورڈز یا بجلی کے کھمبوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں، جس کے باعث وہ عام نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ اس طرح شہری نادانستہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ پارکنگ سے سڑکوں پر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، ٹریفک جام لگتا ہے اور ہنگامی سروسز متاثر ہوتی ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک درست مؤقف ہے، مگر اس کے لیے شہریوں کو شریکِ سفر بنایا جائے، ان کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ انہیں قائل کیا جائے۔ اگر شہر میں باقاعدہ پارکنگ پلان تیار کیا جائے، پارکنگ ایریاز مخصوص کیے جائیں، اور "نو پارکنگ” کی واضح نشاندہی کی جائے تو عوام خود بخود تعاون کریں گے۔

    ڈیرہ غازی خان میں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ پہلے شہری سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ پارکنگ کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں، سڑکوں کے کنارے واضح نشانات لگائے جائیں، اور ٹریفک پولیس کو پابند کیا جائے کہ وہ صرف اُن گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے جو واقعی ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہی ہوں۔ عوام پر جرمانے عائد کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان کو قانون کے بارے میں تعلیم دی جائے۔

    یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ٹریفک قوانین عوام کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں، عوام کو تکلیف پہنچانے کے لیے نہیں۔ اگر قانون پر عملدرآمد شفاف، غیرجانبدار اور واضح طریقے سے کیا جائے تو عوام اس کا احترام کریں گے۔ لیکن اگر کسی شہری کو بغیر اطلاع کے سزا دی جائے تو اس سے نہ صرف عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

    ڈیرہ غازی خان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ٹریفک نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کرے۔ شہریوں کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے، بورڈز کو واضح اور یکساں معیار کے مطابق لگایا جائے، اور جہاں بورڈ موجود نہیں وہاں لفٹر کارروائی فوری طور پر روک دی جائے۔ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی، شفافیت اور انصاف ہی وہ راستہ ہے جس سے ٹریفک کا نظام بہتر ہو سکتا ہے اور شہری اداروں پر اعتماد بحال رہتا ہے۔

  • کشمیر کی وزارت عظمیٰ،عہدہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کشمیر کی وزارت عظمیٰ،عہدہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر اس وقت سیاسی بے یقینی اور عوامی اضطراب کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وہاں بدامنی، احتجاج اور عوامی بے چینی میں اضافہ اس امر کا تقاضا کر رہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ سیاسی جماعتیں ہوش مندی کا مظاہرہ کریں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفاد اور سفارتی وقار سے جڑا ہوا ایک حساس مسئلہ ہے۔ ایسے میں وہاں کی قیادت کا انتخاب کسی سیاسی مصلحت یا ذاتی وفاداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار، اہلیت اور عوامی اعتماد کے معیار پر ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی کلچر میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عہدوں کی تقسیم میرٹ کی بجائے سیاسی قربت اور مفاد پرستی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر یہی رویہ آزاد کشمیر میں بھی دہرایا گیا اور کسی بد کردار یا کرپٹ فرد کو وزیراعظم کے عہدے پر بٹھایا گیا تو اس کے نتائج خطرے ناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ عوامی اعتماد مزید مجروح ہوگا انتظامی نظام کمزور پڑے گا۔ آزاد کشمیر کو اس وقت ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو دیانت دار، بصیرت اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہو جو محض اقتدار کی کرسی کی خواہش نہ رکھتا ہو بلکہ عوامی نمائندگی کے اصل جذبے کے تحت اپنی ذمہ داری نبھائے۔

    کشمیر کے عوام باشعور ہیں وہ اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شفافیت اور انصاف چاہتے ہیں پاکستان کی سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال محض ایک صوبائی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی اور بین الاقوامی وقار سے جڑا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وہاں ایک باکردار، قابل اعتماد اور دیانت دار قیادت سامنے لائی جائے ورنہ بداعتمادی اور انتشار کی لہر ایک بڑے سیاسی بحران میں بدل سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کا عہدہ کوئی عام سیاسی کرسی نہیں بلکہ یہ قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار سوچیں کشمیر کے عوام کسی سیاسی جماعت کے سیاسی تجربات کے میدان نہیں وہ ایک باوقار قوم ہے جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے پرچم کے سائے میں اپنی وفاداری نبھائی۔ اگر کسی کرپٹ، بدکردار یا نااہل شخص کو وزیراعظم بنا دیا گیا تو یہ محض ایک تقرری نہیں ہوگی بلکہ کشمیر کے عوام پر قاری ضرب ہوگی۔

  • نئی سفارت کاری، نیا پاکستان. خواب سے حقیقت تک کا سفر

    نئی سفارت کاری، نیا پاکستان. خواب سے حقیقت تک کا سفر

    نئی سفارت کاری، نیا پاکستان. خواب سے حقیقت تک کا سفر
    پاکستان کی خارجہ پالیسی نے 2025 میں جو فاصلہ طے کیا، وہ کسی معجزے سے کم نہیں، ایک نئے خودمختار دور کا آغاز
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    امریکی اخبار Foreign Policy Magazine (واشنگٹن ڈی سی) میں 23 اکتوبر 2025 کو شائع ہونے والی رپورٹ “Pakistan’s Year of Diplomatic Miracles” کے مطابق، رواں برس پاکستان نے بین الاقوامی محاذ پر ایسی سفارتی کامیابیاں حاصل کیں جنہیں تجزیہ کار ایک “غیر معمولی تبدیلی” قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں کی بے یقینی، معاشی دباؤ اور سیاسی بحران کے باوجود اپنی خارجہ پالیسی کو ایک نئی سمت دی ہے جو “خودمختاری، توازن اور معاشی مفاد” پر مبنی ہے۔ امریکی ماہرِ امورِ خارجہ رابرٹ اے میننگ کے مطابق پاکستان نے عالمی سطح پر “ردِ عمل دینے والی ریاست” کے بجائے “پیش قدمی کرنے والی قوت” کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ پاکستان نے بیک وقت چین، امریکا، سعودی عرب، ایران اور روس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کیا اور جنوبی ایشیا میں اپنی حیثیت کو ازسرِ نو منوایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ وہ سفارتی مقام ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے لیے خواب بن چکا تھا، مگر 2025 میں اسے عملی شکل دی گئی۔ مزید یہ کہ اخبار کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی نے 2025 میں نہ صرف واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بحال کیے بلکہ بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی، چین کے ساتھ معاشی و دفاعی شراکت میں وسعت، سعودی عرب و خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کے بڑے معاہدے اور ایران و روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کو نئی جہت دی۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا کہ پاکستان اب بلاک سیاست سے ہٹ کر ایک “خودمختار توازن” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت وہ ہر عالمی طاقت سے اپنے قومی مفاد کے مطابق تعلقات استوار کر رہا ہے۔ امریکی مصنف نے اسے پاکستان کی سفارتکاری کا “نیا جنم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے اس برس سفارتی طور پر جو فاصلہ طے کیا ہے، وہ کسی معجزے سے کم نہیں، بشرطیکہ یہ سمت داخلی استحکام اور معاشی اصلاحات کے ذریعے برقرار رکھی جائے۔

    یہ تجزیہ نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کے لیے اعتراف کی علامت ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان اب محض ردِعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ اپنے فیصلوں میں دانشمندی اور خودمختاری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ افغانستان کی غیر یقینی صورتِ حال، بھارت کی جارحانہ پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے باوجود پاکستان نے اپنے قدم اس طرح جمائے ہیں کہ وہ خطے میں ایک مستحکم ثالثی کردار میں ابھر رہا ہے۔ چین کے ساتھ سی پیک منصوبوں کی توسیع، وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ نئی تجارتی راہداریوں کی تعمیر اور ایران کے ساتھ توانائی کے تعاون نے خطے میں ایک نئے جغرافیائی و معاشی توازن کو جنم دیا ہے۔ ان پالیسی اقدامات نے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو نئی امید دی بلکہ اسے ایک ایسی جغرافیائی اہمیت پر لا کھڑا کیا جہاں وہ مشرق اور مغرب دونوں کے درمیان رابطے کا مرکز بن سکتا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی ایک اہم سنگ میل ہے۔ واشنگٹن جو کبھی پاکستان پر “ڈو مور” کے دباؤ کے ساتھ نظر آتا تھا، اب پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری اور توانائی تعاون کی سطح پر نئے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ دفاعی شعبے میں محدود مگر بااعتماد رابطے بحال ہونا اور سفارتی رابطوں کا تسلسل اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنی پوزیشن کو متوازن رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ کامیابی اس وقت اور بھی اہم ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت اپنی جارحانہ پالیسیوں کے باعث خطے میں سفارتی طور پر تنہا ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کی غیر جانبدارانہ اور امن دوست حکمتِ عملی نے اسے عالمی فورمز پر پذیرائی دلائی ہے۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سرمایہ کاری کے نئے معاہدے، گوادر سے لے کر خیبر تک توانائی و انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمولیت اور روس کے ساتھ تیل و گیس کی تجارت پر پیش رفت ، یہ سب اس نئی خارجہ پالیسی کے عملی مظاہر ہیں۔ اس سمت میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ پاکستان نے اب امداد نہیں بلکہ سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔ اس نے اپنی معاشی خودمختاری کو خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عالمی طاقتیں پاکستان کو ایک “ڈیویلپمنٹ پارٹنر” کے طور پر دیکھنے لگی ہیں، نہ کہ صرف ایک اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر۔

    "2025 وہ سال ہے جب پاکستان نے سفارتکاری کی دنیا میں اپنی نئی پہچان پیدا کی ہے ،جیسے ایک خواب نے حقیقت کا لباس پہن لیا ہو، اور ایک خاموش خواہش نے عالمی منظرنامے پر اپنی آواز بلند کر دی ہو۔ مگر اس کامیابی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اندرونی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ معیشت کی مضبوطی، گورننس میں شفافیت اور سیاسی استحکام وہ بنیادیں ہیں جن پر خارجہ پالیسی کا یہ نیا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ اگر اندرونی سطح پر اتفاقِ رائے اور پالیسی تسلسل قائم نہ رہا تو یہ سفارتی پیش رفت وقتی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر پاکستان نے اپنی موجودہ سمت کو برقرار رکھا تو آنے والے برسوں میں وہ خطے کے لیے ایک اقتصادی پل، امن کا ضامن اور بین الاقوامی تعلقات کا قابلِ اعتماد مرکز بن سکتا ہے۔

    عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں جاری تبدیلی کے اس نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جب قومیں ماضی کی زنجیروں کو توڑ کر مستقبل کی سمت قدم بڑھاتی ہیں، اور اپنی شناخت کو نئے سانچے میں ڈھالتی ہیں۔ اگر پاکستان نے اپنی موجودہ خارجہ حکمتِ عملی میں تسلسل، بصیرت اور استقامت برقرار رکھی تو 2025 صرف ایک کیلنڈر سال نہیں رہے گا بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک نئے عہد کی بنیاد کے طور پر رقم ہو گا ، ایسا عہد جس میں پاکستان نہ صرف خطے کا فعال حصہ ہو گا بلکہ اس کی قیادت، رہنمائی اور سمت متعین کرنے والا مرکزی کردار ادا کرے گا۔

  • اسرائیل امریکہ کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    اسرائیل امریکہ کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    کہا جاتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی ہر بات ماننے کیلئےمجبور ہے ، کیوں اور کیسے امریکہ اسرائیل کی یرغمالی میں آجاتا ہے؟آئیے جانتے ہیں آج یو ایس کا پارلیمنٹ، کارٹونز، فلمیں ، تعلیمی ادارے آج سب جیوش اور اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں ،یو ایس کی ٹاپ یونیورسٹیز کے بیس فیصد پروفیسرز، ٹاپ کی چالیس فیصد فرم اور انڈسٹری کے ملازمین، انسٹھ فیصد مصنف اور ڈائریکٹر، پچاس فیصد دانشور جیوش ہیں۔

    آپ نے کبھی محسوس کیا کہ جن چیزوں کیلئے امریکہ دوسرے ملکوں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے،انہی چیزوں کیلئے اسرائیل امریکہ کو مذاکرات کے ذریعے مجبور کر کے اپنا کام کروا لیتا ہے، بیشک موجودہ ایران اسرائیل جنگ ہو یا یمن سعود ی جنگ میں امریکہ کے ذریعے اسرائیل کا تسلط، شام ہو یا عراق، مصر ہو یا یمن، لبنان ہو یا فلسطین ۔۔۔ کسی بھی جگہ اسرائیل امریکہ کی پناہ میں نہیں آیا ، بلکہ امریکہ کو ہر جنگ شروع کروانے کیلئے اسرائیل کی ضرورت پیش آتی رہی، آج جب ٹرمپ آیا تو جنگیں بند کروانے کا سہرا اپنے نام کر رہا ہے۔

    یو ایس نے سعودی عرب سے یمن وار میں یہ کہہ کر سپورٹ واپس لے لی تھی کہ اس وار میں لاکھوں لوگ مارے جا رہے رہیں،لیکن یہاں پر اگر نقطہ دیکھا جائے تو پوری دنیا کے پریشر کے باوجود امریکہ جنگ بندی معاہدے پر ابھی تک عمل نہیں کروا سکا۔ جبکہ ٹرمپ کو ایک روز خود اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہو کر کہنا پڑا تھا کہ امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا، اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ امریکہ اسرائیل کو استعمال کر رہا تھا بلکہ یہاں واضح نظر آیا کہ اسرائیل امریکہ کو استعمال کر چکا تھا ۔صدر ٹرمپ آج کہہ رہے ہیں کہ میں جنگیں بند کروا چکا ہوں اور دنیا میں امن میرے دور میں آئے گا، جبکہ جوبائیڈن نے کہا تھا کہ غزہ فلسطین کا واقعہ کوئی جینو سائیڈ (نسل کشی ) نہیں ہے۔

    اسرائیل کیسے امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے یہ چیز قابل توجہ اور سمجھنے والی ہے، ایک اسرائیلی این جی او ہے جس کا مالک (STEVE J. ROSEN سٹیو ۔ جے ۔ روزن ہے) سٹیو ۔ جے۔ روزن نے کہا تھا کہ میں اگر خالی رومال بھی دوں تو امریکی ستر ایم پی ایز چوبیس گھنٹے سے پہلے مجھے دستخط کر کے دے دیں گے ، یہ بات ایک اسرائیلی این جی او کا چیف کہہ رہا تھا ۔

    اسرائیل کا امریکہ میں اس قدر ہولڈ ہے کہ اسرائیل این جی او ز امریکہ میں اسرائیل مخالف رکن ہو امریکہ میں ہی الیکشن ہروا دیتے ہیں اور سب سے اہم بات کہ اس بات کو وہ ٹویٹر جیسے پلیٹ فارم پر بتا بھی دیتے ہیں اور امریکہ نیتن یاہو کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے بڑی اچھی حکتِ عملی کے ساتھ اپنی لابی ڈپلو میسی بنا کر رکھی ہوئی ہے،اسرائیل نے امریکہ کی یونیورسٹی سے لیکر میڈیا تک اور انڈسٹری سے لیکر یوایس گورنمنٹ تک اپنا ایسا پروپیگنڈا کرنے والا دماغ بٹھا کر رکھا ہوا ہے۔ مشہور کارٹون سپر بُک دیکھیں تو اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور یہودی تاریخ بہت اعلیٰ ہے، سپر بک کارٹون سیریز کا ایپی سوڈ چوبیس دیکھیں تو اس میں بتایا گیا ہے کہ یروشلم میں آغاز سے ہی جیوش رہا کرتے تھے جن پر بہت زیادہ ظلم ہوا ، تو اس لیے اس سیریز کا مین کیرکٹر گریٹ وال آف چائنا جیسی دیوار بنانے کا آغاز کرتا ہے جو دیوار یہودویوں کی حفاظت کرے گی۔دوسری ایک مشہور سیریز (The prince of egypt)ہے۔ دی پرنس آف اجپت سیریز میں بتایا گیا ہے کہ مصر کا راجا جیوش کو بچاتا ہے، اور پھر اس سیریز میں مین کردار آ کر مصر میں یہودیوں کو دوبارہ رہنے کی اجازت دلواتا ہے، یہ سب کارٹونز میں امریکہ میں دکھایا جا ہے ، یعنی اسرائیل اور یہودیوں نے شروع سے ہی امریکن کے دماغوں میں نرم رویہ اسرائیل کو لیکر دکھایا تاکہ کل کو کوئی مسئلہ بھی در پیش آجائے تو امریکن کو یہی لگے کہ اسرائیل اور یہودی بہت اچھے ہیں اور امریکنز کی ہمدردی ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ ہو گی۔

    امریکہ کی یونیورسٹیوں کے سلیبس میں اسرائیل کا بیانیہ اور اینگل دکھایا جاتا ہے، ہر کوئی امریکن یا امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والا ہے وہ اسرائیل یا یہودیوں کو ہر معاملے میں ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پبلیکشن ہاؤسز جیوش کی ہسٹری، یروشل کی ہسٹری، جیوش کے پراسیکیوشن کی کہانیاں ریگولرلی پبلش کرتے رہتے ہیں، اور رپورٹ کیمطابق اس سب پروپیگنڈا کے پیچھے جو آرگنائزیشن ملوث ہے اس کا نام (institute of curriculm services) ہے۔

    اسی طرح فلم انڈسٹری پر، ہالی ووڈ اس وقت اربوں بلین ڈالرز کی انڈسٹری ہے جہاں فنڈنگ کا اہم کردار ہوتا ہے، ہالی ووڈ فلمیں تو پوری دنیا میں دیکھی جاتی ہیں اگر اس میں فنڈنگ کے ذریعے پروپیگنڈا کر لیا تو ایک سوپچانوے مما لک میں آپ کا بیانیہ پہنچ جائے گا، انیس سو ساٹھ میں ایک فلم آئی جس کا نام تھا ایکسوڈس(۔Exodus)تھا ۔ اس فلم میں ورلڈ وار ٹو کے بعد جیوش مہاجرین کی فلسطین پہنچنے کی کوشش کو دکھایا گیا ہے، یہ فلم اسرائیل کے جنم کی کہانی کو بھی بیان کرتی ہے، پھر دو ہزار پانچ میں ایک فلم آئی جس کا نام Munichتھا۔۔ اس فلم میں ایک کہانی بتائی گئی جب انیس سو بہتر میں میونک اولمپکس کیلئے اسرائیل کے آٹھ کھلاڑی گئے تھے جن کو ایک فسطین کے جہادی گروپ نے مار دیا تھا ، اس فلم میں بتایا گیا کہ کیسے اسرائیل پھر اس دہشت گرد گروپ سے اپنا بدلہ لیتا ہے، کیونکہ اس فلم میں اسرائیل فلسطین اور جیوش مخالف ہر شخص کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔میڈیا میں بھی اسرائیل کا اچھا خاصا کنٹرول ہے، غزہ اسرائیل وار میں بھی اموات کی تعداد کم بتائی جاتی رہی، ا مریکہ کے بڑے سے بڑے نیوز اخبارات کے جو ٹاپ لکھاڑی ہیں ان میں اکسٹھ پرو اسرائیلی ہیں،ٹاپ تھری نیوز کمپنیز کے مالک جیوش ہیں، یہ تاریخی حوالوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا جس سے امریکہ اور اسرائیل دہائیوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • نام نہاد ڈپریشن  : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    نام نہاد ڈپریشن : تحریر۔ عائشہ اسحاق

    گزشتہ سالوں میں کتنے ہی سول سروس کے آفیسر اس نام نہاد ڈپریشن کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔
    عام عوام کی یہ غلط فہمی ہے کہ ہر خودکشی کرنے والا ظالم اور حرام خوری کی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہو گا جبکہ اکثر اوقات حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔
    کون نہیں جانتا کہ ملک عظیم پر اشرافیہ کا ایک ٹولہ قابض ہے ۔
    سیاست سے بیورو کریسی تک ہر جگہ انہی کا قبضہ ہے ۔ یہ ٹولہ عوام کے سامنے جو مرضی نورا کشتی کر لیں لیکن حقیقت میں تو یہ ایک کلٹ کا ہی حصہ ہیں جن کے مفادات مشترک ہیں تو ایسے میں آگر کوئی بھی قسمت سے اس ایلیٹ کلب میں اپنی محنت کے بل بوتے پر چلا بھی جائے تو اس کے لیے دو ہی راستے ہیں پہلا کہ ان کے ساتھ مل جائے اور فائدے میں رہے دوسرا اگر ایمانداری کے اصولوں پر چلے تو پھر ڈپریشن کے لیے تیار رہے اب یہ اشرافیہ کا کلٹ اس آفیسر کو زچ کرنے کے لیے ہر حربہ اپنائے گا اس کی پرموشن روک دی جائے گی اسے محکمے میں سائیڈ لائن کر دیا جائے گا ۔۔

    آگر یہ خودکشی کرنے والے آفیسرز ڈپریشن میں اس وجہ سے تھے جیسا عام عوام کی رائے بتاتی ہے مطلب عوامی حقوق کی پامالیاں اور مالی بے ضابطگی ۔۔تو پھر یہ بڑے بڑے مگر مچھ جو ملک لوٹ کھا گئے … یہ ڈپریشن میں جا کر خود کشی کیوں نہیں کرتے ؟..
    آخر ہر بار کم رینک کا آفسر ہی اوپر والوں کے دباؤ کی وجہ سے خودکشی کیوں کرتے ہیں ؟…
    آخر حکومت پر قابض مافیا ان سے ایسا کونسا مطالبہ کرتا ہے جسے کرنے کی بجائے یہ لوگ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ؟..
    کوئی خود کشی کرنے والا افسر انتہائی غریب گھرانے سے آ کر آفسر بنا تو کسی کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے کیا انسان خود اندر سے اتنا کمزور ہو سکتا ہے کہ ان حالات کے باوجود اپنی جان لے لے؟…

  • اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    اسٹرٹیجک پارٹنر یا اسٹرٹیجی ،افغانستان حریف حلیف کی کشمکش میں کیوں؟تحریر: علی ابن ِسلامت

    ماضی میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی صرف سرحدیں ہی نہیں بلکہ دل بھی ملتے ہیں لیکن اب اثر زائل ہو چکا ہے، اس اثر کے خاتمے کے اسباب افغان حکومت کی غلط پالیسیوں کے ساتھ کچھ سیاسی طاقتوں کے نا توازن تعلقات تھے۔ افغانستان کی جغرافیائی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن اس کی موجودہ سرحدیں تنازعات میں گھری ہوئی ہیں، میں اس بات سے قرینہ قیاس کرتا ہوں کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات بہتر کرنا بھی غلطی ہو گی۔

    دنیا گواہ ہے کہ جب جب افغانستان کے ساتھ جس نے وفا کی وہ مارا گیا۔دی وال سٹریٹ جرنل کے جرنلسٹ سون اینجل راسموسن نےسال 2024 میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان Twenty Years: Hope, War and the Betryal of an Afghan Generation تھا۔ یہ کتاب خصوصی طور پر افغانیوں کی بے وفائی اور عالمی برادی کے کردار پر لکھی گئی۔ اس کتاب میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سیاسی تنازعات اور الزامات پر بھی بحث کی گئی ہے،کتاب میں جہاں افغان خطے میں بسنے والے لوگوں کی بے وفائی پر تبصرہ ہے وہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے مخصوص واقعات وجہ موضوع ہیں نہ کہ پوری افغان نسل یا پٹھان قوم کو الزامات کا نشانہ بنانا مقصود ہے۔ آن دی ادر سائیڈ، یہ بات سچ ہے کہ افغانی حکمرانوں نے کبھی اپنے لوگوں سے بھی وفا نہیں کی۔قطع نظر کہ ماضی میں پاکستان کی سیاسی قیادت کی وجہ سے بھی معاملات میں جھول تھے ۔

    افغانستان کی موجودہ شکل کا قیام 1747 میں احمد شاہ درانی نے کیا تھا جس کا رقبہ 6 لاکھ 52 ہزار 864کلومیٹر ہے۔ویسے تو افغانستان کی تاریخ آریانہ سے شروع ہوئی تھی جو آج کے افغانستان ، خراسان پر مشتمل تھی اسی وجہ سے افغانستان کی سرحدیں مختلف ادوار میں تبدیل ہوتی رہیں۔آج افغانستان کی موجودہ سرحدیں 6 ممالک سے ملتی ہیں واضح رہے کہ افغانستان کسی بھی ملک میں طالبان کو نہیں بھیج سکتا اور نہ ہی کوئی ملک افغانستان کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے مگر حیران کن طور پر پاکستان نے افغانی مہاجرین کا 40 سال بوجھ برداشت کیا جس کا ثمر یہ ملا کہ آج ہم دہشت گردی کے چنگل سے نہیں نکل پا رہے،پاکستان پچھلے چند سالوں میں دہشت گردی کی وجہ سے 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے،آج اکتوبر 2025 تک اسی ہزار سے زائد لوگوں کی قربانیاں دے چکا ہے لیکن آج بھی افغان طالبان کی نظر میں پاکستان بُرا ہے ۔ پاکستان اپنے بڑے بھائی کو ہمیشہ گلے لگا کر دشمن کی سازشوں سے بچاتا رہا ۔

    پاکستان کے ساتھ جو افغان سرحد ملتی ہے اس کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے جس کی لمبائی 2670 کلومیٹر ہے ،دوسرے نمبر پر تاجکستان کی سرحد افغانستان کے ساتھ 1206 کلومیٹر ہے جبکہ ایران 936،ترکمانستان 744اور چین کی سرحد 76 کلومیٹر ہے ۔ چھ ممالک میں سے افغانستان کا بس کسی ملک میں نہیں چلتا مگر پاکستا ن کی سرحد بھی پار کرتے ہیں اور گالی بھی دیتے ہیں، تمام احسانات کے باوجود جو پاکستان نے آج تک نہیں جتلائے افغانستان سابقہ حریف انڈیا کو موجودہ دوست بنا چکا ہے ،لگتا یوں ہے کہ افغانستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلق قائم کرنا اپنے ساتھ دشمنی کرنےکے مترادف ہے۔پچھلے ہفتہ طالبان کے وزیر خارجہ امیر متقی نے ایک ہفتہ انڈیا کے دورہ پر تھے جس کا واضح ثبوت ہے کہ افغانستان اپنی پالیسی بدل چکا ہے۔ افغانستان کی اپنی تاریخ جہاں بہت پرانی ہے وہاں افغانی طالبان آج بھی ازلوں سے چلتی دشمنی کی تاریخ کو مسخ نہیں کرنا چاہتے اور بار بار ہار جاتے ہیں۔ گوریلا وار کے ماہر پاکستان کو گرانے کو سوچتے ہوئے خود گر جاتے ہیں ، شاید کچھ لوگ سوچیں کے افغانستان نے امریکہ جیسی سپر پاور کو شکست دی ، واضح رہے کہ امریکہ کو شکست دلانے میں صرف افغانستان کا ہی کردار نہیں تھا۔افغانستان کے چونتیس صوبے ہیں لیکن کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جہاں جہاد کے نام پر مجاہدین کی ریل بیل نہیں تھی، آج جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کو چار برس گزر چکے ہیں کسی ملک نے باقاعدہ طور پر افغان طالبان کو تسلیم نہیں کیا۔ کنارہ کشی کے باوجود پاکستان ہمیشہ بازو بنا ، بارِ دیگراں تعلقات خراب ہوئے لیکن معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ، آج حقانی گروپ اور قندھاری گروپ میں آپسی لرائیاں جاری ہیں جس کا فائدہ دشمن اٹھانے کی لاکھ کوشش کر رہا ہے۔یہ آج کی بات نہیں 1994 سے بھارت افغانستا ن کو ایک پراکسی کے طور پر دیکھ رہا رتھا جس کے ذریعے اپنی پراکسیوں کو مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ اگر یہی صورتحال افغان طالبان کی رہی تو نہ صر ف افغان خطہ بلکہ ملحقہ خطوں کی بقاء کا مسئلہ بنے گا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان دوست وفا میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔

    آج افغانستان میں بہت سے لسانی گروہ اپنی قوم کی شناخت کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن افغان طالبان کی غلط پالیسیاں نہ صرف قوم کی شناخت بلکہ خطے کی شناخت کی دشمن بنی ہوئی ہیں۔1979 سے افغانستا ن میں مردم شماری نہیں کی گئی، 2008 میں مردم شماری کی کوشش بھی ناکام ہو گئی، 2013 میں اعداوشمار تو جمع کیے گے لیکن کامیابی نہ مل سکی کیونکہ طالبان پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کی سازشوں میں مصروف تھے۔
    آج افغانستان کی آبادی تقریباً 4 کروڑ سے زائد ہے جن میں 42 فیصد سے زائد پشتون اور دوسرا بڑا گروہ تاجک ہے ، نقطہ یہ ہے کہ اتنے بڑے اسلحہ ڈپو اور وسائل کے ساتھ طالبان اپنی قوم کی بہتری کا سوچ سکتے ہیں مگر وہ غیر قانونی جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں ۔ میں یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا کہ اگر افغانستان کی خواتین کو حقوق ملیں، بندوقیں بیچ کر اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتا بیں تھما دی جائیں تو نہ صرف ایک بلکہ دو خطوں کی عوام کئی یورپی ممالک سے مضبوط اور لٹریسی ریٹ کا عالمی سطح پر تذکرہ کیا جائے گا ۔ لیکن میں پھر کہوں گا یہ سب تب ممکن ہو گا جب اپنوں کو مارنے سے نکل کر گلے لگانے کا سلسلہ شروع ہو گا۔انیس اکتوبر کو پاک افغان جنگ بندی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی وجہ سے ایک نئی امید کا پہلو نکلا ،لہذا اُمید ہے کہ دشمن کے آنچل میں پہنچنے کے بعد یہ اُمیدیں دم نہیں توڑیں گی بلکہ طالبان آبیاری کے لیے نئی اور بہتر اسٹر ٹیجی کا سوچیں گے۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    قوموں کی تعمیر صرف عمارتوں اور صنعتوں سے نہیں ہوتی بلکہ کردار اور ایمان سے ہوتی ہے۔ کردار کی تعمیر وہی قوم کر سکتی ہے جو اپنی نئی نسل کو اپنے دینی و اخلاقی سرمایے سے روشناس کرائے۔ اور ہمارے لیے سب سے بڑا سرمایہ قرآن و سنت ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے؛ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔”یہ فرمان آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا ساڑھے چودہ سو برس پہلے تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی نئی نسل کے ذہنوں میں قرآن و سنت کی روشنی اتارنے کا وہ حق ادا کیا ہے جو ہونا چاہیے؟ افسوس کہ آج ہمارے بچوں کی لائبریریاں رنگ برنگی کہانیوں اور مغربی کرداروں سے بھری پڑی ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، ان کے پیغام اور ان کی سنت کے حوالے سے مواد نہایت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔یہی وہ خلا ہے جسے دارالسلام انٹرنیشنل نے اپنی خوبصورت کاوش 20 احادیث فار کڈز (انگلش) سے پر کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ کتاب بچوں کے معصوم ذہن کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ بیس صحیح احادیث کا انتخاب، ان کا نہایت سادہ ترجمہ اور عام فہم تشریح، اور ساتھ ہی دلچسپ مشقیں یہ سب کچھ مل کر کتاب کو ایک ایسی تحریر بنا دیتے ہیں جو صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ دل میں اترنے کے لیے ہے۔یہ کتب خانوں کی سجی سجائی الماریوں کے لیے نہیں بلکہ گھروں کے ڈرائنگ روم، کلاس روم کی میز اور ہر اس جگہ کے لیے ہے جہاں بچوں کے ذہن پروان چڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ بچے ہی تو ہمارے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر ان کے دل میں ابھی سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور احادیث کی روشنی ڈال دی جائے تو آنے والی نسلیں یقیناً گمراہی کے اندھیروں سے بچ جائیں گی۔کتاب کی ایک اور بڑی خوبی اس کی طباعت ہے۔ چہار رنگوں کے ساتھ آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی یہ کتاب بچے کے ذوق کو اپیل کرتی ہے۔ رنگوں کی یہ دلکشی اس کے پیغام کو اور زیادہ جاذبِ نظر بنا دیتی ہے۔ سادہ سا مواد اگر خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے تو وہ ذہن پر کئی گنا زیادہ اثر ڈال دیتا ہے، اور یہی خصوصیت اس کتاب کو بھی امتیازی حیثیت دیتی ہے۔قیمت کے اعتبار سے بھی کتاب ہر والدین کی دسترس میں ہے۔ محض 450 روپے میں یہ قیمتی تحفہ لاہور کے معروف ادارے دارالسلام انٹرنیشنل سے دستیاب ہے۔ ایک ایسی سرمایہ کاری جو ہر مسلمان گھرانے کو کرنی چاہیے، کیونکہ اس کا منافع دنیاوی دولت نہیں بلکہ بچوں کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے۔یہ کتاب صرف ایک اشاعتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ یہ والدین کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھ میں محض کھلونے نہ دیں، بلکہ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے آراستہ وہ تحفہ دیں جو انہیں زندگی بھر روشنی عطا کرے۔ یہ اساتذہ کو بھی پیغام دیتی ہے کہ وہ نصاب کے بوجھ سے نکل کر بچوں کے لیے وہ علمی غذا فراہم کریں جو ان کے کردار کو سنوارے۔حقیقت یہ ہے کہ 20 احادیث فار کڈز ہماری نئی نسل کے لیے ایک چراغ ہے۔ ایک ایسا چراغ جو گھروں کی دیواروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرتا ہے۔ یہ کتاب صرف خریدنے کے لیے نہیں بلکہ اپنانے کے لیے ہے، اور ہر اس والدین پر قرض ہے جو اپنی اولاد کو ایمان کی امانت دینا چاہتا ہے۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل 36لوئر مال نزد سیکرٹریٹ لاہور پر دستیاب ہے

  • دو نومبر :مینار پاکستان کی  طرف سے دعوت نامہ،تحریر:ریاض احمد احسان

    دو نومبر :مینار پاکستان کی طرف سے دعوت نامہ،تحریر:ریاض احمد احسان

    دو نومبر وہ دن جب مینارِ پاکستان پھر سے اپنی تاریخ کی روح سے ہمکلام ہونے والا ہے
    یہ وہ مینار ہے جو فقط پتھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ قوم کے عزم، ایمان اور نظریے کا مجسم اظہار ہے اس کے سائے میں وہ تعبیریں سانس لیتی ہیں جو اقبالؒ اور قائداعظمؒ نے دیکھیں مینارِ پاکستان آج پھر اپنی فصیلوں سے ایک صدا بلند کر رہا ہےکہ اے اہلِ وطن! میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں اپنے عہد کی تجدید کے لیے، اپنے نظریے کی حفاظت کے لیے، اپنی وحدت کے استحکام کے لیے،اپنی ریاست کی تعمیر کے لیے،اپنی معیشت کی مضبوطی کے لیےدو نومبر کو مینارِ پاکستان کی فضائیں پھر سے زندہ ہوں گی یہاں ایک قوم اپنے شعور کے ساتھ جمع ہوگی،ایک نظریہ اپنے اظہار کے ساتھ نمایاں ہوگا اور ایک ملت اپنی نئی سمت کے تعین کے لیے صف بستہ ہوگی۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام ہونے والا یہ تاریخی ورکرز کنونشن فقط ایک سیاسی اجتماع نہیں یہ دلوں کی بیداری، جذبوں کی تجدید،عزمِ تازہ سے جسم باندھ لینے کا اعلان اور روحِ پاکستان کے احیاء کا لمحہ ہے۔یہ وہ وقت ہے جب اہلِ سیاست و ریاست، علماء و مشائخ، اہلِ قلم و دانش، تاجر و صنعتکار، قانون دان و صحافی سب ایک عزم کے ساتھ مینارِ پاکستان کے دامن میں جمع ہوں گے تاکہ وطن کی تقدیر کے نئے باب کو رقم کیا جا سکے-مینارِپاکستانآج در در محبت و خلوص بھری دعوت لے کر دستک دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں وہ مینار ہوں جس کے سائے تلے تمہارے بزرگوں نے ایک نقشہ کھینچا تھا ایسا نقشہ جس کے رنگ نظریے،سوچ،ایمان، قربانی اور استقلال سے بھرے ہوئے تھے انہی فصیلوں کے نیچے وہ قرارداد پڑھی گئی تھی جو غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا اعلان بن گئی۔ آج وقت ہے کہ ہم اس عہد کو پھر سے زندہ کریں، اس مینار کو پھر سے آباد کریں اس قرارداد کو اپنی رگوں میں دوڑتا ہوا محسوس کریں .

    آج مشرقی و مغربی سرحدوں پر تنی ہوئی بندوقیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ وطن کی آزادی صرف ایک نعمت نہیں ایک ذمہ داری بھی ہے۔دشمن ہماری وحدت کے در و دیوار پر وار کرتا ہے تو ہمیں اپنی صفوں کو اتنا مضبوط کر دینا ہے کہ کوئی بھی دراڑ نہ ڈال سکے یہ کنونشن ان غازیوں اور شہداء کے نام ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں جن کے خون سے یہ سبزہلالی پرچم باوقار ہے جن کے لہو نے زمینِ وطن کو مقدس بنایا۔ہم ان کے وارث ہیں اور یہ وراثت ہمارے ایمان، ہماری سیاست، اور ہماری قومیت کی اساس ہے۔

    آج وطن کے اندرونی حالات بھی ہمیں پکار رہے ہیں۔ سیاسی انتشار نے سوچ کو منتشر کر دیا ہے، فرقہ واریت نے دلوں میں فاصلے پیدا کر دیے ہیں اور ذاتی مفادات نے قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے لیکن مینارِ پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں فرقوں سے نہیں، نظریے سے بنتی ہیں۔ وہ نظریہ جس نے ہمیں ایک ملت بنایا تھا آج پھر ہماری رہنمائی کا طلبگار ہے۔ آئیں،اس نظریے کو زندہ کریں۔ اپنے اندر سے تعصب کے بت پاش پاش کریں،بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ختم کریں اور پاکستان کو اس کے اصل مقصد سے ہم آہنگ کریں-اسلامیت، انسانیت اور پاکستانیت کے ملاپ سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو امن، عدل اور محبت کی خوشبو سے خود بھی مہکے اور اسی مہک کا پرچار بھی کرے

    یہ اجتماع اُن کارکنوں کے نام بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں قوم و ملت کے لیے وقف کر دیں جو گلی گلی، بستی بستی پاکستان کے نام پر روشنی پھیلاتے رہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ان محنت کشوں، غازیوں، اور نظریاتی سپاہیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے خدمت کو شعار بنایا۔ دو نومبر ان سب کے عزم و ایثار کا دن ہے، ان کی قربانیوں کے اعتراف کا دن ہے، ان کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔

    آئیں، ہم سب مینارِ پاکستان کی سمت چلیں کہ یہ عزت و عظمت والا مینار ہمیں بلا رہا ہے
    اور یہ کہہ رہا ہے کہ اپنے دلوں کو نظریے کی روشنی سے منور کرو، اپنی صفوں کو وحدت کے رشتے سے جوڑو، اپنی زبانوں کو نفرت کے نہیں محبت کے کلمات سے آراستہ کرو۔ یہ ملک تمہاری امانت ہے، اسے وفا سے سنبھالو
    دو نومبر کو مینارِ پاکستان اپنے بازو پھیلائے اعلان کر رہا ہوگا
    یہ وہ دن ہوگا جب پاکستان اپنی تاریخ کے اوراق سے مدد لیتے ہوئے نیا عہد لکھے گا۔
    یہ وہ لمحہ ہوگا جب ہم اپنے شہداء کے خون سے وفا کا عہد نبھائیں گے
    اور جب ساری قوم ایک آواز میں کہے گی
    ہم پاکستان کے ہیں، پاکستان ہمارا ہے
    ہم اس کے دفاع، وحدت اور وقار کے محافظ ہیں۔
    اے اہلِ پاکستان
    دو نومبر کو مینارِ پاکستان آپ کو بُلا رہا ہے
    کیا تم اس پکار پر لبیک کہنے کو تیار ہو؟
    اے اوورسیز پاکستانیو! تم جو دیارِ غیر میں بھی وطن کی مٹی کی خوشبو میں سانس لیتے ہو کیا تم اس صدا پر لبیک کہو گے؟
    اے اہلِ صحافت! تم جو قلم کو امانت اور سچائی کو عبادت سمجھتے ہو کیا تم اس آواز میں اپنی آواز ملاؤ گے؟
    اے صنعت و تجارت کے امین لوگو! تم وہ ہو جن کے کارخانے اور دکانیں وطن کی معیشت کی دھڑکن ہیں کیا تم مینارِ پاکستان کی اس پکار پر سینہ تان کر کہو گے
    لبیک، ہم حاضر ہیں
    کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباء
    یہ وقت کتابوں کے حرفوں سے نکل کر تاریخ کے صفحوں پر عمل لکھنے کا ہے
    اٹھو کہ مینارِ پاکستان تمہیں اپنے پرچم اور اپنے نظریے کی گواہی دینے کے لیے بلا رہا ہے
    اے علماء و مشائخ! تم جو منبر و محراب کے وارث ہو تمہاری زبانوں سے نکلنے والا ایک ایک لفظ قوم کی سمت بدل سکتا ہے کیا تم بھی مینارِ پاکستان کے سائے میں امت کی وحدت کا علم بلند کرو گے؟
    اے بار و بینچ کے نگہبانو تم تو وہ ہو
    جن کے فیصلے تاریخ کے دھارے موڑ سکتے ہیں کیا تم اس وطن کے دستور اس کے وقار اور اس کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ بن کر مینارِ پاکستان کی پکار کا جواب دو گے؟
    اے سُرخ سیبوں کی سرزمین یعنی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینے والے غیرت مندو کیا تم محسنِ شہ رگِ پاکستان کی ہدایت پر مینارِ پاکستان پہنچو گے؟
    اے اہلِ ایمان! اے اہلِ غیرت
    مینارِ پاکستان تمہیں پکار رہا ہے
    وہ مینار جس کی اینٹ اینٹ میں قومی وحدت کی خوشبو ہے، جس کے سایے تلے قراردادِ آزادی نے انگڑائی لی تھی آج پھر اپنے فرزندوں کو وارم اپ ہونے کی صدا دے رہا ہے
    اے عزت والو!
    اٹھو! کہ یہ مٹی تمہاری غیرت کا قرض مانگتی ہے
    اٹھو! کہ تاریخ پھر تمہارے نقشِ قدم کی گواہ بننا چاہتی ہے
    مینارِ پاکستان کا وسیع و عریض اور سرسبز و شاداب میدان تمہیں بلا رہا ہے
    کہ آؤ اور اس دھرتی کے نام پر پھر سے نعرۂ تکبیر بلند کرو
    اے وطن کے سپاہیو! اے علم و قلم کے امین لوگو
    یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں یہ وقت للکارنے کا ہے
    یہ وقت ہے کہ تمہارے لبوں سے “اللہ اکبر” کی گونج فضا میں گھل جائے
    اور مینارِ پاکستان کی چوٹی پر وہی روشنی اتر آئے
    جو کبھی 1940 کے دنوں میں دلوں سے اٹھی تھی اور تاریخ بن گئی تھی
    اے غیرت والو
    اب تمہاری باری ہے
    کہ تم بھی اپنی صفوں کو یکجا کرو، اپنے عزم کو پختہ کرو
    اور دنیا کو دکھا دو کہ یہ قوم ابھی زندہ ہے
    یہ قوم ابھی جھکی نہیں، یہ قوم ابھی مٹی نہیں
    اے جوانو
    مینارِ پاکستان تمہیں بلاتا ہے
    کہو لبیک اس پکار پر
    اور تاریخ کے نئے باب میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھ دو
    اٹھو کہ قوم تمہاری راہ تک رہی ہے
    اٹھو کہ وطن تمہارے قدموں کی چاپ سننا چاہتا ہے
    لبیک کہو… کہ یہی لمحہ ہے، یہی عہد ہے، یہی وطن کی پکار ہےیہی مینارِ پاکستان کی پرخلوص دعوت ہے،یاد رہے کہ مینارِ پاکستان میں ہوں،مینارِ پاکستان آپ ہیں اور مینارِ پاکستان
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہے
    کیا تم لبیک کہتے ہو؟
    ریاض احمد احسان

  • بھٹو خاندان کی تاریخ میں نصرت بھٹو کا کردار ، ایک روشن چراغ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھٹو خاندان کی تاریخ میں نصرت بھٹو کا کردار ، ایک روشن چراغ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تاریخ کے صفحات میں کچھ نام ایسے رقم ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں رہتے وہ استقامت قربانی اور حوصلے کے استعارے بن جاتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو مرحومہ انہی میں سے ایک تھیں وہ عورت جس نے اپنی انکھوں کے سامنے اپنے شوہر کو تختہ دار تک جاتے دیکھا بیٹے کو لہو میں لت پت پایا۔ بیٹیوں کو جدوجہد کی بھٹی میں جلتے دیکھا مگر وہ ایک لمحے کے لیے کمزور نہ پڑیں۔ ان کا نام نصرت بھٹو تھا لیکن نصرت پاکستان بن گئیں۔ جب ظلم اپنی انتہا کو چھو رہا تھا جب ہر دروازے پر آہنی زنجیریں اور دیواروں پر سناٹے تھے تب وہ ایک ماں نہیں ایک تحریک بن گئیں۔ مارشل لاء کے اندھیرے دور میں جب بھٹو کا نام لینا جرم تھا تب نصرت بھٹو نے اس نام کو اپنے دل پر کندہ کر لیا۔ وہ جیلیں دیکھتی رہیں ان کی آنکھوں میں آنسو ضرور آئے مگر ان آنکھوں میں اور آنسوؤں میں شکست نہیں تھی عزم کا عکاس تھا۔ نصرت بھٹو نے نہ صرف اپنی فیملی بلکہ پوری قوم کے حوصلے کو سہارا دیا۔ میر مرتضٰی بھٹو کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا بینظیر بھٹو کو بار بار قید و جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ نصرت بھٹو ان سب دکھوں کو دبا کر قوم کو کہتی رہیں یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی سیاسی جدوجہد کا اصل زیور صبر ہے انتقام نہیں۔ نصرت بھٹو نے اپنے خاندان کو نہیں ایک نظریے کو زندہ رکھا وہ بھٹو خاندان کی وہ چٹان تھیں جن کے سائے میں تاریخ نے کئی طوفان دیکھے مگر ان کے ایمان کا چراغ کبھی بجھا نہیں۔

    بھٹو خاندان کی اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہر صفحے پر نصرت بھٹو کی خاموش آنکھیں نظر آتی ہیں جن میں آنسو نہیں روشنی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جس نے بینظیر بھٹو کو جمہوریت کی علامت بنایا اور پیپلز پارٹی کو قربانی اور جدوجہد کا نشان۔ ملکی سیاسی تاریخ میں نصرت بھٹو کا نام ایک مجاہدہ اور ایک عہد کی علامت کے طور پر ہمیشہ روشن رہے گا۔ دوسری جانب خاتون بیگم کلثوم نواز مرحومہ تھیں جس نے اپنے خاوند نواز شریف کی رہائی کے لیے جدوجہد کی۔ اسلام آباد آبپارہ سے لاہور تک سفر میں ان کے ساتھ گاڑی میں خواجہ سعد رفیق، راولپنڈی کی ایک خاتون طاہرہ اورنگزیب تھیں بڑے بڑے نام نہاد ن لیگی رہنماؤں نے کلثوم نواز مرحومہ کو اکیلا چھوڑ دیا۔ مسلم لیگ ن کے انتہائی اہم عہدے پر فائز ایک شخص نے آبپارہ میں خود گرفتاری دے دی تاکہ بیگم کلثوم نواز کے ساتھ سفر نہ کرنا پڑے۔ نواز شریف سمیت اعلٰی قیادت جیلوں میں بند تھی بیگم کلثوم نواز کے ساتھ جو کچھ ہوا ایک عالم گواہ ہے۔ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے جدوجہد کو جاری رکھا جیلیں بھی کاٹیں اور اپنے اوپر بنائے گئے مقدمات کا سامنا کیا اور اپنی جماعت کو زندہ رکھا۔ ماضی قریب کے اکابرین نے جمہوریت، آزادی اظہار اور حقوق انسانی کے لیے جدوجہد کی۔ بیگم نصرت بھٹو جیسے اور بیگم کلثوم نواز جیسے درخشاں ستاروں سے ہمارا دامن بھرا ہوا ہے خالی نہیں۔