Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گلی گلی نگر نگر  ، دو نومبر! دو نومبر،تحریر : ریاض احمد احسان

    گلی گلی نگر نگر ، دو نومبر! دو نومبر،تحریر : ریاض احمد احسان

    مینارِ پاکستان،بادشاہی مسجد اور اسکی مضافاتی فضاؤں میں ولولوں اور جذبوں کا طوفان ہے،زمین کے ذرے ذرے میں ایک نیا عزم جاگ رہاہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ورکرز کنونشن قریب ہے وہ لمحہ جس کی دھڑکن ملت کے سینے میں تیزی سے دھڑک رہی ہے، وہ دن جب لاہور کے مینار سے پھر نعرۂ تکبیر کی صدائیں ایک نئی توانائی کے ساتھ بلند ہوں گی

    اہلِ ایمان جانتے ہیں کہ یہ وہی مینار ہے جس نے غلامی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلایا تھا،جس کے سائے تلے قوم نے اپنے وجود اور مستقبل کا اعلان کیا تھا آج پھر وہی مینار پکار رہا ہے آج پھر وہی فضا گواہ بننے والی ہے کہ اس قوم کا ضمیر جاگ چکا ہے،اس کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں اور اس کے کارکن میدان میں اتر چکے ہیں اس وقت ملک کا کوئی گوشہ،کوئی کونا ایسا نہیں جہاں اس پیغام کی گونج نہ پہنچی ہو۔

    بلوچستان کے ریگزاروں سے لے کر وادیٔ سوات کے نیلگوں چشموں تک، سندھ کے صحراؤں سے پنجاب کے زرخیز کھیتوں تک، کشمیر کے برف پوش پہاڑوں سے کراچی کے ساحلوں تک ایک ہی ولولہ ہے، ایک ہی جذبہ ہےایک ہی خواب ہے، ایک ہی پکار ہے اور ایک ہی دعوت ہے کہ دو نومبر کو مینارِ پاکستان کے سائے تلے قوم اپنی وحدت کا مظاہرہ کرے گی، اپنے ایمان کی تجدید کرے گی، اپنے عہدکو نبھانے کے لیے عزمِ تازہ سے جسم باندھے گی کہ آج اساتذہ اپنے شاگردوں کو جوشِ ملی کا سبق دے رہے ہیں،علماء و مشائخ محراب و منبر سے ملت کو اتحاد کی دعوت دے رہے ہیں۔تاجر اپنے دکانوں پر، مزدور اپنے کارخانوں میں، کسان اپنے کھیتوں میں، طلباء اپنے ہاسٹلز میں اور وکلاء اپنے بار رومز میں سب ایک ہی آواز میں لبیک مینارِ پاکستان ،لبیک مرکزی مسلم لیگ کہتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ فاتح قوم اور متحد قوم کا حقیقی چہرہ اور تعارف پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہی ہے

    اوورسیز پاکستانی بھی جذبات کے دریا بن گئے ہیں
    لندن کی سڑکوں سے، نیویارک کے ایونیو سے، دبئی کے بازاروں سے، جدہ و مدینہ کی مقدس فضاؤں سے وہ سب ایک ہی نعرہ دہرا رہے ہیں کہہم ارضِ پاک کے ساتھ ہیں، ہم نظریۂ پاکستان کے محافظ ہیں

    وہ جو دیارِ غیر میں ہیں ان کے دل آج بھی اسی خاک سے بندھے ہیں جسے علامہ اقبال نے “ارضِ پاک” کہا تھا، جس کے لیے قائدِ اعظم نے اپنی جوانی، اپنی صحت، اپنی زندگی نثار کر دی تھی

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قائدین سے کارکنان تک دن رات سرگرم عمل ہیں،کہیں بینر لگ رہے ہیں، کہیں وال چاکنگ ہو رہی ہے، کہیں گلیوں میں ترانے گونج رہے ہیں،کہیں تربیتی نشستیں ہو رہی ہیں،کہیں دعوتی دسترخوان سجائے جا رہے ہیںآئی ٹی اسپیشلسٹ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آسانیاں اور آسودگیاں بانٹتے دکھائی دے رہے ہیں،گرافکس والے اپنا ہنر آزما رہے ہیں،شعبہ خدمتِ خلق مکمل فعال،متحرک اور توانا ہے
    شعبہ میڈیکل مکمل فعال ہے ،ورکرز کنونشن کی حفاظت پر مامور لوگ سربسجدہ ہو کر اللہ رب العزت کی مدد مانگ رہے ہیں ،جماعتی ترجمان مین اسٹریم میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا تک کی موثر اور جامع رہنمائی کر رہے ہیں،عدالتوں کے وکلاء عدل کے ایوانوں سے نکل کر پیغامِ وحدت عام کر رہے ہیں۔تاجر و صنعتکار اپنی مجلسوں میں وطن کی تعمیر کا عہد دہرا رہے ہیں۔اساتذہ اپنے شاگردوں میں اُمید کے چراغ جلا رہے ہیں۔اور کسان وہی مٹی کے بیٹے اپنے کھیتوں میں پسینہ بہاتے ہوئے کہہ رہے ہیں..ہم نے زمین سے سونا اگایا، اب ہم قوم کے دلوں میں اُمید اگائیں گے اور اپنے پانیوں پر پہرہ دیں گے..ان کے چہرے دھوپ سے تمتمائے ہوئے ہیں لیکن ان آنکھوں میں روشنی ہے، ایمان کی روشنی، وطن کی محبت کی روشنی۔

    یہ صرف ایک ورکر کنونشن نہیں یہ قوم،ملک اور سلطنت کی روح کا احیاء ہے۔
    یہ مینارِ پاکستان کے عہد کی تجدید ہے، یہ قراردادِ لاہور کے وعدے کی تکمیل ہے۔
    یہ وہ دن ہے جب قوم اپنے خالق کے حضور سرِ نیاز جھکائے گی، اپنے وطن سے وفا کا عہد دہرائے گی
    اور کہے گی
    ہم نظریۂ پاکستان کے سپاہی ہیں، ہم اتحاد، ایمان اور نظم کے پرچم دار ہیں
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اسی بیانیے کا اظہار کیا ہے کہ قومیں نعرے یا دعوے سے نہیں۔کردار سے بنتی ہیں
    اور کردار اسی وقت جنم لیتا ہے جب دلوں میں ایک مقصد، ایک درد اور ایک سوز بیدار ہو۔
    دو نومبر کا دن وہی سوز جگانے والا دن ہے۔
    دو نومبر کا سورج گواہ ہوگا
    کہ یہ قوم بکھری نہیں، متحد ہے
    مایوس نہیں، پرعزم ہے
    خاموش نہیں، بول رہی ہے
    اور اس کی زبان پر ایک ہی پیغام ہے
    ایمان، اتحاد، نظم
    یہی ہماری پہچان ہے

    اے فرزندانِ پاکستان!دو نومبر کا یہ ورکرز کنونشن آپ کو اکٹھا کر رہا ہے
    اپنے خالق کے نام پر، اپنے شہیدوں کے لہو پر، اپنے قائد کے خواب پر
    محسنِ شہ رگ پاکستان کی ہدایت پر
    آؤ دو نومبر کو مینارِ پاکستان کی آغوش میں وعدہ کریں
    کہ ہم اس ملک کو جہالت سے علم کی طرف
    نفرت سے محبت کی طرف
    انتشار سے استحکام کی طرف
    مایوسی سے عزم و یقیں کی طرف
    خدمتِ ذات سے خدمتِ انسانیت کی طرف
    بے راہ روی سے ذمہ داری کی طرف
    تخریب سے تعمیر کی طرف
    بے روزگاری سے روزگار کی طرف
    بے ہنری سے ہنر کی طرف
    اور بدامنی سے امن کی طرف
    لے کر جائیں گے
    یہی ہے اصل انقلاب — یہی ہے اصل پاکستان
    اور یہی ہے
    گلی گلی نگر نگر _،،،دو نومبر!دونومبر
    کا ایک مقصد اور نامکمل پیغام کہ ابھی بہت سی باتیں،حکمت عملیاں ،منصوبے اور سرپرائز باقی ہیں

  • پاکستانی عوامی نمائندے خوف کی علامت کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی عوامی نمائندے خوف کی علامت کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کے ہر مہذب اور جمہوری ملک میں پارلیمنٹ وہ ادارہ سمجھا جاتا ہے جہاں عوام کی آواز سنی جاتی ہے ان کے مسائل حل کیے جاتے ہیں اور ان کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے۔ وہاں کے پارلیمنٹیرین اپنی ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں ان کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ خدمت ہوتا ہے۔ وہ عوام کے درمیان رہتے ہیں ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں اور اپنے طرز عمل سے اپنے ملک کی عزت وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے ہمارے ملک کے کہیں پارلیمنٹیرین جو عوامی نمائندے کہلاتے ہیں عوام میں خوف اور اضطراب کی علامت بن چکے ہیں۔ اُن کے ارد گرد پانچ، پانچ، چھ، چھ مسلح گارڈز ہوتے ہیں۔ جدید اسلحہ اور کلاشنکوف سے لیس قافلے عوامی سڑکوں پر دوڑتے نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً عوام جنہیں ان نمائندوں سے امید اور تحفظ کا احساس ہونا چاہیے ان کے سامنے خود کو غیر محفوظ اور خوفزدہ محسوس کرتی ہے۔ یہ رویہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے

    عوامی نمائندہ وہ ہوتا ہے جو اپنے کردار، علم اور خدمت سے لوگوں کے دل جیتے۔ نہ کہ اپنی طاقت اور اسلحے کے زور پر جب عوام کے نمائندے ہی عوام کو خوفزدہ کرنے لگیں تو پھر ریاستی اداروں، قانون اور انصاف پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونا لازمی ہے۔ اس وقت وزیراعلٰی پنجاب جنہوں نے صوبے میں گڈ گورننس، میرٹ اور عوامی فلاح کے لیے کئی بہترین اقدامات کیے ہیں یہ امید ہے کہ وہ اس سنگین مسلے پر بھی توجہ دیں۔ ضروری ہے کہ ملک کی تمام اسمبلیوں میں ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت کوئی بھی رکن اسمبلی یا عوامی نمائندہ ذاتی مسلح گارڈز رکھنے کا مجاز نہ ہو۔ اگر ریاست اپنے عوام کی حفاظت کی ضامن ہے تو پھر کسی عوامی نمائندے کو اپنی ذاتی فورس بنانے کی ضرورت نہیں۔ بہت ہو چکا وقت ہے کہ ہمارے پارلیمنٹیرین اپنی اصل ذمہ داریوں کی طرف لوٹیں۔ وہ قانون سازی جو عوام کے حق میں ہو، وہ پالیسیاں جو تعلیم، صحت اور انصاف کو مضبوط بنائیں اور وہ اقدامات جو ملک میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ نہیں بلکہ عوام کا اعتماد اور محبت ہے اگر ہمارے عوامی نمائندے اس حقیقت کو سمجھ لیں اور نہ صرف عوام کا خوف ختم ہوگا بلکہ پاکستان کا سیاسی کلچر بھی مثبت سمت اختیار کرے گا۔ عوام نمائندوں سے خوف نہیں امید چاہتی ہے وہ امید جو خدمت، انصاف اور کردار سے جنم لیتی ہے۔ اگر عوامی نمائندے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی عادات اور رویوں میں تبدیلی لے آئیں تو یقیناً پاکستان ایک مہذب پرامن اور خوشحال ملک بن سکتا ہے۔

  • تبصرہ کتب،پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث

    تبصرہ کتب،پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث

    جب ہم دنیا میں حیات ہوں تو بچے ہمارے لیے رحمت ، راحت اور خوشی کا باعث بن سکتے ہیں اور جب ہم دنیا سے چلے جائیں گے تو اس وقت ہمارے بچے ہمارے لیے بخشش ، نجات اور صدقہ جاریہ بن سکتے ہیں لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہوگا جب ہم بچوں کی تربیت اچھی کریں گے، ان کے اخلاق وکردار کو سجانے اور سنوارنے کے لیے محنت کریں گے اور انھیں دین کی تعلیمات سے آشنا کریں گے لیکن اگر ہم بچوں کی تربیت اچھی نہیں کریں گے اور کا تعلق دین سے نہیں جوڑیں گے تو کل قیامت کے دن یہی بچے ہمارا گریبان پکڑیں گے اور اللہ کی عدالت میں ہم پر دعویٰ دائر کریں گے تب ہمارے پاس کوئی عذر نہیں ہوگا ۔ بچوں کی اچھی تربیت والدین کا فرض ہے ۔ اچھی تربیت میں عمدہ کتابیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ بچوں کے لیے اصلاحی اخلاقی کتابیں شائع کرنے میں دارالسلام انٹرنیشنل کا ایک نام اور مقام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پیارے بچوں کے لیے 60سنہری احادیث ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ اس کتاب میں 60ایسی احادیث شامل کی گئی ہیں جو روزمرہ زندگی کے معاملات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ مثلاََ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، حیا ایمان کا حصہ ہے ، نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے ، جنت کی کنجی نماز ہے ، جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ، تم سچائی پر قائم رہو ، مظلوم کی بدعا سے بچو ، تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے ہاتھ ہاتھ سے نہ کھائے ، بے شک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا ، جہنم کی آگ سے بچو ، رشتے داروں سے حسن سلوک عمر میں اضافے کا بعث بنتا ہے ، جھوٹ سے بچو ، جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ اپنی ہتھلیاں اپنے چہرے پر رکھے اور اپنی آواز پست رکھے ، بے شک صدقہ اللہ کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے ، جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ، ماں کی خدمت کرو بلاشبہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے ، جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرے گا ، چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا ، اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے ، جس نے خیر وبھلائی کے کام کی رہنمائی کی اسے نیکی کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا ۔ اسی طرح دیگر احادیث بھی اصلاحی اور اخلاقی موضوع پر ہیں ۔ان احادیث سے اس کتاب کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ بات معلوم ہے کہ اللہ نے انسان کی زندگی کو مزین کیا ہے اولاد کے ساتھ اورمال کے ساتھ۔ یہ اولاد اور مال انسان کے لیے آزمائش ہے۔ مال ہو تو انسان کا حق ہے کہ اسے جائز طریقے سے کمائے اور جائز طریقے سے خرچ کرے اولاد ہو تو انسان کا حق ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرے ۔ اولاد کی تربیت میں غفلت سنگین جرم ہے جس کے دنیا میں بھی انسان کو نتائج بھگتنے پڑتے ہیں اور آخرت میں تو اس کے لیے عذاب عظم ہے ہی ۔ بچوں کو اگر بچپن ہی سے اچھی کتابیں پڑھنے کے لیے دی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کی تربیت اچھی نہ ہو ۔ رسول ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لیے ہدایت کا شفاف سرچشمہ ہے ۔ ہمیں زندگی کے ہر ہر لمحے آپ کی پاکیزہ سیرت اور احادیث سے رہنمائی ملتی ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی بڑی محبت سے احادیث اور دین کی باتیں نہ صرف سکھیں بلکہ انھیں محفوظ بھی کیا ۔ آج وہ تمام ذخیرہ احادیث ہماری رہنمائی کے لیے ہمارے پاس موجود ہے ۔ کتب احادیث میں بہت ضخیم کتب بھی موجود ہیں جن کی اپنی اہمیت ہے تاہم مختصر کتب احادیث کی بھی اپنی اہمیت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پیارے بچوں کے ل میں ایسی 60مختصر احادیث جمع کی گئی ہیں جو ہمارے اور ہمارے بچوں بچیوں کے اخلاق اور کردار کو سجا اور سنوار سکتی ہیں ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر شائع کردہ اس کتاب کی قیمت 250روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم نزد لوئر مال سیکرٹریٹ سٹاپ پر دستیاب ہے ۔

  • افغانیوں کی غداریاں کب ختم ہوں گی؟

    افغانیوں کی غداریاں کب ختم ہوں گی؟

    افغانیوں کی غداریاں کب ختم ہوں گی؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفے بڈانی
    تہذیبیں کتابوں میں سنہرے حروف سے لکھی جاتی ہیں، مگر افغانستان کی تاریخ خون، بارود اور احسان فراموشی سے بھری ایک المناک داستان ہے۔ یہ سرزمین، جسے قدرت نے غیر معمولی جغرافیائی اہمیت عطا کی، صدیوں سے بیرونی طاقتوں کی یلغار کا مرکز رہی، لیکن اس کا اصل المیہ دشمن نہیں بلکہ اپنوں کی غداری رہی ہے۔ برطانوی دور کی افغان جنگوں سے لے کر آج کے طالبان دور تک، افغان حکمرانوں اور بعض اوقات خود عوام نے اپنی ہی قوم اور مخلص ہمسایوں کے ساتھ دغا بازی کی مثالیں قائم کیں۔ پاکستان نے جس خلوص سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، انفراسٹرکچر سے لے کر انسانی ہمدردی تک بے مثال مدد فراہم کی، اسی کے بدلے اسے سرحدی حملے، دہشت گردی اور بھارت نوازی کی شکل میں زخم ملے۔ آج جب طالبان کے وزرا نئی دہلی میں بیٹھ کر پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور سرحد پار سے گولہ باری کرتے ہیں تو یہ تاریخ کی اسی زنجیر کی نئی کڑی محسوس ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ غداریوں اور احسان فراموشیوں کا سلسلہ کب ٹوٹے گا؟

    برطانیہ کی پہلی افغان جنگ( 1839 تا 1842)کے بارے میں ایرانی مئورخین کا کہنا ہے کہ ایران نے اس دور میں افغانستان کی بھرپور مدد کی، برطانوی فوج کے مقابلے میں اپنی افواج ہرات میں داخل کیں اور جنگ میں برطانیہ کے خلاف اپنا سب کچھ دا ؤپر لگا دیا۔ تاہم افغان مئورخین اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں کہ ایران نے دراصل افغانستان کی مدد نہیں کی بلکہ ہرات پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی کی، جو گریٹ گیم یعنی برطانیہ اور روس کے درمیان وسطی ایشیا پر غلبے کی کشمکش کا حصہ تھی۔

    افغان تاریخ میں متعدد حکمران ایسے گزرے ہیں جو اپنی قوم سے غداری کر کے بیرونی طاقتوں کے کٹھ پتلی بنے اور دشمنوں کا آلہ کار ثابت ہوئے۔ یہ غداریاں نہ صرف قومی اتحاد کو کمزور کرتی رہیں بلکہ افغانستان کو مستقل انتشار کا شکار بھی رکھا۔ چند اہم مثالیں درج ذیل ہیں
    شاہ شجاع (1839-1842): پہلی افغان جنگ کے دوران برطانیہ نے انہیں تخت پر بٹھایا۔ وہ برطانیہ کے کٹھ پتلی تھے اور افغان قوم کی مزاحمت کے باوجود برطانوی مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔ ان کی غداری کی وجہ سے افغانوں نے بغاوت کی اور انہیں قتل کر دیا گیا۔
    حفیظ اللہ امین (1979): سوویت یونین کے حملے کے دوران حفیظ اللہ امین نے اپنے پیشرو نور محمد ترکئی کو قتل کر کے اقتدار حاصل کیا اور سوویت یونین کا کٹھ پتلی بنا۔ ان کی غداری نے افغانستان کو سوویت قبضے میں دھکیل دیا، جس سے لاکھوں افغان ہلاک ہوئے۔
    ببرک کارمل (1979-1986): سوویت یونین نےحفیظ اللہ امین کو ہٹا کر ببرک کارمل کو اقتدار دیا۔ وہ مکمل طور پر سوویت کٹھ پتلی تھے اور افغان مجاہدین کی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کی، جو قومی غداری کی واضح مثال ہے۔

    حامد کرزئی اور اشرف غنی (2001-2021): امریکہ اور نیٹو کے حملے کے بعد یہ دونوں حکمران مغربی طاقتوں کے کٹھ پتلی بنے۔ کرزئی نے امریکی مفادات کو ترجیح دی اور غنی نے بھی یہی کیا جو 2021 میں طالبان کے سامنے فرار ہو گئے۔ ان کی حکومتوں کو "کٹھ پتلی نظام” کہا جاتا ہے جو افغان قوم کی خودمختاری سے غداری تھی۔یہ مثالیں دکھاتی ہیں کہ افغان حکمران بار بار بیرونی طاقتوں (برطانیہ، سوویت یونین، امریکہ)کے آلہ کار بنے اور اپنی قوم سے غداری کی، جس سے افغانستان مستقل بحران کا شکار رہا۔

    افغان حکمرانوں کی غداری کی زنجیر میں ایک اہم کڑی بھارت کا کردار بھی ہے۔ تاریخی طور پرافغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات میں بھارت نے افغانستان کو اپنا آلہ کار بنا کر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پرسابق افغان نائب صدر امر اللہ صالح کو بھارت کا پٹھو کہا جاتا ہے جو پاکستان کو بدنام کرنے اور علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث رہے۔ کرزئی اور غنی کی حکومتوں نے بھی بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے جو پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ تھے۔ ان حکومتوں نے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ‘را’ کو افغانستان میں کارروائی کرنے کی اجازت دی، جو پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث تھی، جس سے بلوچستان اور خیبرپختو نخوا میں بھارتی فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور بی ایل اے دہشت گردی کا نیٹورک اور کارروائیاں اور طالبان کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

    بھارت نے طالبان حکومت کوڈالر دیکر ان کے ساتھ روابط بڑھا لیے ہیں جو پاکستان کو ہرگز قبول نہیں ہیں۔ یہ تعلقات پاکستان کے لیے ایک چیلنج ہیں کیونکہ افغانستان سے ٹی ٹی پی جیسے گروپس پاکستان پر حملے کر رہے ہیں اور یہ بھارتی اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے۔ اس طرح افغان حکمران بھارت کی کٹھ پتلی بن کر پاکستان کی سرحدوں پر تناؤپیدا کرتے رہے اور معاشی و سیکیورٹی نقصان پہنچاتے رہے ہیں اور ابھی تک یہ سلسلہ رکا نہیں۔امیر خان متقی کی بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کو دھمکیاں اور طالبان حملے حالیہ واقعات احسان فراموشی کی اس کہانی کو مزید تلخ بناتے ہیں۔

    اکتوبر 2025 میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا اور وہاں سے پاکستان کو کھلی دھمکیاں دیں۔ متقی نے کہا کہ "پاکستان ہمارا واحد متبادل نہیں ہے” اور بارڈر جھڑپوں میں افغانستان نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں اور متقی کی بھارت میں موجودگی نے یہ تاثر دیا کہ طالبان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اس کے فوراََبعد طالبان فورسز نے پاکستان کی سرحدوں پر حملے کیے۔ متعدد جھڑپیں ہوئیں، جن میں طالبان نے پاکستانی فوجیوں پر حملے کیے اور دعوی کیا کہ 58 پاکستانی فوجی مارے گئے۔ یہ حملے کئی صوبوں میں ہوئے، جن میں ٹی ٹی پی اور دیگر گروپس شامل تھے اور پاکستان نے واضح ثبوتوں کےساتھ بتایا ہے کہ یہ حملے افغان سرزمین سے کیے جا رہے ہیں پاکستان نے اس کا بھرپور جواب دیا۔ پاکستان نے ایئر سٹرائیکس کیں، جن میں خوست اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور دعوی کیا کہ 200 سے زائد طالبان اور اتحادی مارے گئے۔ پاکستان نے افغان طالبان کی کئی بارڈر پوسٹس پر قبضہ کیا اور کارروائیاں کیں۔ یہ جوابی کارروائی پاکستان کی خودمختاری کی حفاظت کا حصہ تھا اور آخر کار دونوں جانب سے سیز فائر کا اعلان ہوا۔

    پاکستان نے افغانستان کو ہمیشہ ایک بھائی ملک سمجھا اور اس کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سوویت حملے (1979-1989) کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان مجاہدین کو تربیت دی، اسلحہ فراہم کیا اور اربوں ڈالر خرچ کیے۔ اس کے علاوہ 40 سال سے زائد عرصے تک پاکستان نے 40 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو پناہ دی، انہیں تعلیم، روزگار اور طبی سہولیات فراہم کیں،یہ ایک تاریخی احسان ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔لیکن افسوس کہ افغان حکمرانوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے یہ احسان بھلا دیا۔ حالیہ برسوں میں طالبان حکومت نے پاکستان پر الزامات لگا کر اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کو سپورٹ کر کے غداری کی ہے۔ بارڈر تنازعات جیسے طورخم اور چمن پر جھڑپیں، افغانوں کی احسان فراموشی کی واضح مثالیں ہیں۔

    پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو میں اربوں ڈالر کی امداد دی، لیکن بدلے میں الزامات اور دشمنی ملی۔ متقی کی دھمکیاں اور طالبان حملے اس احسان فراموشی کی تازہ ترین مثالیں ہیں جو پاکستان کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنے دفاع میں سخت اقدامات اٹھائے۔ یہ سلسلہ 1979 سے شروع ہوا، جب پاکستان نے سوویت کے خلاف مدد کی، لیکن 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد سے شدت اختیار کر گیا، جہاں افغانستان نے ٹی ٹی پی کو پناہ دے کر پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا۔ یہ احسان فراموشی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے افسوسناک ہے۔

    افغانستان کو چاہیے کہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھے اور غداری کی اس زنجیر کو توڑے احسان فراموشی کی یہ روایت نہ صرف ان کی قوم کو کمزور کرتی ہے بلکہ علاقائی امن کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔ افغان قوم کو اپنے حکمرانوں سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ یہ غداریاں کب ختم ہوں گی؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وضاحت:اس کالم میں برطانیہ کی پہلی افغان جنگ( 1839 تا 1842 )سے متعلق ایرانی اور افغانی مئورخین کے مختلف مئوقف پر مبنی ہے۔ ایرانی مئورخین کے مطابق ایران نے افغانوں کی مدد کی، جب کہ افغان مئورخین کا کہنا ہے کہ ایران نے دراصل ہرات پر قبضے کی کوشش کی۔ یہ دونوں مئوقف تاریخی دستاویزات پر مبنی ہیں، تاہم مغربی مئورخین کی اکثریت ایران کی مہم کو علاقائی توسیع قرار دیتی ہے، نہ کہ افغان حمایت۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخی حوالہ جات
    Historical References

    1. https://en.wikipedia.org/wiki/First_Anglo-Afghan_War
    2. https://www.historic-uk.com/HistoryUK/HistoryofBritain/First-Anglo-Afghan-War-1839-1842/
    3. https://www.thoughtco.com/the-first-anglo-afghan-war-195101
    4. https://en.wikipedia.org/wiki/Siege_of_Herat_%281837%E2%80%931838%29
    5. https://en.wikipedia.org/wiki/First_Herat_War
    6. https://journals.openedition.org/samaj/3384
    7. https://en.wikipedia.org/wiki/Hafizullah_Amin
    8. https://en.wikipedia.org/wiki/Operation_Storm-333
    9. https://en.wikipedia.org/wiki/Babrak_Karmal
    10. https://en.wikipedia.org/wiki/Hamid_Karzai
    11. https://www.wsws.org/en/articles/2014/09/30/afgh-s30.html
    12. https://indianexpress.com/article/india/amrullah-saleh-afghanistan-crisis-taliban-takeover-7503410/
    13. https://issi.org.pk/wp-content/uploads/2017/10/7-SS_Mir_sherbaz_Khetran_No-3_2017.pdf
    14. https://www.jstor.org/stable/312410
    15. https://en.wikipedia.org/wiki/Soviet%E2%80%93Afghan_War
    16. https://en.wikipedia.org/wiki/Foreign_involvement_in_the_Soviet%E2%80%93Afghan_War
    17. https://globalcompactrefugees.org/gcr-action/countries/afghan-refugee-situation

  • امریکا میں ایمیزون ویب سروسز کی خرابی، 2 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور ایپس متاثر

    امریکا میں ایمیزون ویب سروسز کی خرابی، 2 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور ایپس متاثر

    امریکا میں ایمیزون ویب سروسز میں اچانک تکنیکی خرابی کے باعث 2 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور ایپس کی سروسز متاثر ہو گئیں، جن میں بینکنگ پلیٹ فارمز، گیمز، اور مشہور موبائل ایپلی کیشنز بھی شامل ہیں۔

    خبر ایجنسی کے مطابق یہ مسئلہ پیر کی صبح پیش آیا، جو ایمیزون ویب سروسز کے سسٹم میں خرابی کے باعث پیدا ہوا۔ ایمیزون کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی کو اس خرابی کا علم ہے اور انجینئرز اس کی وجوہات تلاش کرنے اور نظام بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق امریکا کے مشرقی حصے سے منسلک سرورز کی خرابی کے باعث دنیا بھر میں سروسز متاثر ہو سکتی ہیں۔

    ایمیزون کی اپنی ایپس جیسے پرائم ویڈیو، ایلیکسا، ایمیزون میوزک، اور کینوا سمیت متعدد مشہور ویب سائٹس بند یا سست روی کا شکار ہو گئیں۔
    اس کے علاوہ رابن ہڈ، وینمو، بینک آف اسکاٹ لینڈ، ایپک گیمز اسٹور، فلیکر، فورتنائٹ، زوم، اور ہنگ سمیت درجنوں عالمی پلیٹ فارمز بھی متاثر ہوئے۔برطانیہ کی حکومتی ویب سروسز، جن میں ایچ ایم آر سی (HMRC) اور یونیورسل کریڈٹ کے آن لائن پورٹلز شامل ہیں، عارضی طور پر بند ہو گئ۔

    ایمیزون ویب سروسز کا مؤقف
    ایمیزون نے اپنے اسٹیٹس پیج پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم متعدد سروسز میں خرابی اور تاخیر دیکھ رہے ہیں۔ ہماری ٹیم مسئلے کے حل کے لیے سرگرم ہے اور جلد مکمل اپ ڈیٹ فراہم کرے گی۔ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کاروباری ادارے اپنے خودکار نظام (Automated Workflows) کا جائزہ لیں کیونکہ وہ بھی AWS پر ہوسٹ ہو سکتے ہیں، جبکہ اہم ڈیجیٹل کاموں کو وقتی طور پر معطل رکھنا بہتر ہوگا جب تک کہ نظام مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتا

    بلوچستان میں افغان مہاجرین کے 10 کیمپس بند، 85 ہزار افراد وطن واپس

    تحریک لبیک پاکستان کے سو سودی اکاؤنٹس، 15 کروڑ کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف

    کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کی پہلی کامیابی، مفرور ملزم گرفتار

    اسرائیل نے غزہ میں امدادی گزرگاہیں کھول دیں،رفح گزرگاہ تاحال بند

  • ٹک ٹاک نے پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد ویڈیوز حذف کردیں

    ٹک ٹاک نے پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد ویڈیوز حذف کردیں

    ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے سال 2025 کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کے دوران پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر 2 کروڑ 54 لاکھ 48 ہزار 992 ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔

    یہ اعداد و شمار ٹک ٹاک کی پیر کے روز جاری کردہ کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ میں سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق 99.7 فیصد ویڈیوز ازخود (پروایکٹیولی) حذف کی گئیں، جبکہ 96.2 فیصد ویڈیوز پوسٹ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دی گئیں۔یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کی شکایات کے بعد متعدد مرتبہ پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ پہلی بار اکتوبر 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی تھی جو کمپنی کی یقین دہانی کے بعد 10 روز میں ختم کر دی گئی تھی۔

    عالمی سطح پر ویڈیوز کا حذف ہونا
    ٹک ٹاک کے مطابق دنیا بھر میں 18 کروڑ 90 لاکھ ویڈیوز کو پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا، جو مجموعی ویڈیوز کا 0.7 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے 16 کروڑ 39 لاکھ سے زائد ویڈیوز خودکار نظام کے ذریعے حذف ہوئیں، جبکہ 74 لاکھ 57 ہزار ویڈیوز بعد ازاں نظرثانی کے بعد بحال کی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 99.1 فیصد ویڈیوز از خود ہٹائی گئیں، جبکہ 94.4 فیصد ویڈیوز 24 گھنٹوں کے اندر ڈیلیٹ کی گئیں۔

    ٹک ٹاک نے بتایا کہ 7 کروڑ 69 لاکھ 91 ہزار 660 جعلی اکاؤنٹس بند کیے گئے، جبکہ 2 کروڑ 59 لاکھ سے زائد ایسے اکاؤنٹس بھی ختم کیے گئے جن کے صارفین کی عمر 13 سال سے کم ہونے کا شبہ تھا۔رپورٹ کے مطابق 30.6 فیصد حذف شدہ ویڈیوز بالغ یا حساس مواد پر مشتمل تھیں، 14 فیصد نے حفاظتی و اخلاقی معیار کی خلاف ورزی کی، اور 6.1 فیصد ویڈیوز پرائیویسی و سیکیورٹی اصولوں کے خلاف تھیں۔

    مزید 45 فیصد ویڈیوز جھوٹی معلومات پھیلانے کے الزام میں ہٹائی گئیں، جبکہ 23.8 فیصد ویڈیوز مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ یا ترمیم شدہ تھیں۔رپورٹ کے مطابق 2025 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں پاکستان میں 2 کروڑ 49 لاکھ 54 ہزار 128 ویڈیوز حذف کی گئی تھیں، یعنی اپریل سے جون کے درمیان ہٹائی گئی ویڈیوز کی تعداد میں تقریباً 5 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا

    محمد رضوان برطرف، شاہین شاہ آفریدی پاکستان ون ڈے ٹیم کے نئے کپتان مقرر

    وفاقی وزیرداخلہ کی بلاول بھٹو سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر گفتگو

    جوئے ایپ کی تشہیر کیس: عدالت نے ڈکی کی اہلیہ عروب جتوئی کو طلب کرلیا

  • جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوریت بمقابلہ بادشاہت، امریکی صدر کے طرزِ قیادت پر عوامی ردِعمل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیویارک، واشنگٹن، ڈی سی، شکاگو، میامی، اور لاس اینجلس، میں امریکہ بھر کے شہروں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف (NO KINGS) کے مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی. وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد امریکی صدر کے خلاف یہ پہلا بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ہے. امریکی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہ احتجاج پورے یورپ میں امریکی سفارت خانوں کے باہر ہوا۔ مظاہرین نے NO KINGS کے نام سے احتجاج کیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر خود کو جمہوری لیڈر کے بجائے بادشاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ امریکی سیاسی روایت میں بادشاہ کا تصور نہایت حساس ہے کیونکہ امریکہ کی بنیاد ہی برطانیہ کی بادشاہت کے خلاف بغاوت میں رکھی گئی تھی۔ اس لیے جب ایک صدر خود کو اس علامت کے ذریعے پیش کرے تو یہ سیاسی شعور رکھنے والے امریکیوں کے لیے جمہوریت پر خطرے کی گھنٹی محسوس ہوتی ہے۔ لاکھوں مظاہرین نے NO KINGS کو جمہوریت کے دفاع کے نعرے کے طور پر اپنایا. اس سے حزبِ مخالف کو ایک مضبوط اخلاقی موقف ملا کہ وہ عوامی سطح پر صدر کی طاقت کے حد سے زیادہ کہ استعمال کے خلاف ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ قدامت پسند ریپبلکن ووٹرز نے بھی اس نعرے سے اتفاق کیا حالانکہ وہ ٹرمپ کے حامی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے یہ تحریک پارٹی لائن سے آگے بڑھ کر جمہوری اصولوں کی بات کر رہی ہے۔ ٹرمپ کی ویڈیوز نے آن لائن دنیا میں طنز اور جوابی بیانیوں کی جنگ چھیڑ دی۔ مظاہرین نے ٹرمپ کے KING TRUMP کو الٹا استعمال کیا. NO KINGS کا بیش ٹیگ ٹویٹر پر چند گھنٹوں میں ایک ٹرینڈ بن گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سیاسی طنز دو دھاری تلوار ہے جس سے مقبولیت کے ساتھ ساتھ مخالفت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ویڈیو نے امریکی معاشرے میں پہلے سے موجود تقسیم ڈیموکریٹس بمقابلہ ریپبلکن، شہری، اور دیہی علاقوں کو مزید گہرا کر دیا۔ ایک طبقہ اسے اظہارِ آزادی کہہ کر دفاع کر رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے عوام کی تذلیل سمجھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ٹرمپ کی سیاست اب صرف پالیسی نہیں بلکہ جذباتی وفاداری کے جذبات پر مبنی ہے۔

    امریکی نوجوان طبقہ جو عام طور پر سیاست سے دور رہتا ہے اس بار سوشل میڈیا کے ذریعے سرگرم ہوا تحریک نے ان کے لیے جمہوریت اور عوامی NO KINGS آواز کی معنویت کو زندہ کیا یعنی سیاسی شمولیت میں اضافہ ممکن ہوا اس کے مستقبل کی سیاست پر اثرات پڑھیں گے۔ پارٹی کے اندر بعض سینئر رہنماؤں نے نجی طور پر تشویش ظاہر کی کہ ایسی ویڈیو اعتدال پسند ووٹرز کو دور کر سکتی ہیں۔ کچھ پارٹی رہنما اس رجحان کو (CULT POLITICS) کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو روایتی ریپبلیکن اقتدار جیسے ادارہ جاتی احترام کے خلاف جا رہی ہے۔

    دوسری طرف ڈیموکریٹس نے اس واقعے کو بے انتخابی بیانیہ میں شامل کر لیا ہم بادشاہ نہیں چاہتے ہمیں عوامی حکمرانی چاہیے۔ اگر یہ بیانیہ موثر رہا تو آئندہ انتخابات میں اسے سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔ کنگ ٹرمپ ویڈیو محض طنزیہ ویڈیو نہیں رہا یہ اب امریکی سیاست کی نئی علامت بن چکا ہے۔ ایک طرف یہ طاقت کی سیاست کی نمائندگی کرتا ہے دوسری طرف یہ عوام کی خود مختاری کے دفاع کی علامت بن گیا ہے۔ لہذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ ویڈیو دراصل امریکی جمہوریت کے بیانیہ کی جنگ کا نیا محاذ بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہیے اور اپنا رخ جمہور کی طرف موڑ لینا چاہیے انتخابی اصلاحات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت عوامی دباؤ کے تحت اصلاح کرتی ہے تو وہ اصلاح نہیں بلکہ پسپائی ہوتی ہے۔ جس طرح آج لاکھوں افراد صدر ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر نکلے، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں جمہوریت لڑکھڑا چکی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ملک میں قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کو مستحکم کرنے پر توجہ دینا ہوگی اور ان ممالک سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔

  • پاکستان کا خلائی پروگرام ، پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں پہنچ گیا

    پاکستان کا خلائی پروگرام ، پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں پہنچ گیا

    پاکستان نے خلائی ٹیکنالوجی میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹ (HS-1) کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ ہو گیا، جس کے ساتھ ہی ملک کا خلائی پروگرام جدید سائنسی دور میں داخل ہو گیا ہے۔

    یہ 2025 میں خلا میں بھیجا جانے والا پاکستان کا تیسرا سیٹلائٹ ہے، جسے قومی خلائی پالیسی اور وژن 2047 کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ لانچنگ تقریب میں پاکستانی سائنس دان اور انجینئرز بھی شریک تھے، جو پاکستان اور چین کے خلائی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ماہرین کے مطابق ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹ زمین کے ماحولیاتی تغیرات، زراعت، آبی ذخائر، جنگلات، قدرتی آفات اور فضائی معیار کی نگرانی میں انقلاب برپا کرے گا۔ یہ سیٹلائٹ 130 بینڈز پر مشتمل ہے، اور اس نوعیت کی ٹیکنالوجی اس وقت دنیا کے صرف چند ترقی یافتہ ممالک کے پاس موجود ہے۔

    وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق یہ سیٹلائٹ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلوں جیسی قدرتی آفات کی پیش گوئی میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ گلیشئرز کے پگھلنے اور کھسکنے کے بارے میں قبل از وقت معلومات فراہم کرے گا۔

    زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ سے ملک میں کلائمٹ اسمارٹ زراعت کو فروغ ملے گا، فصلوں کو پانی کی قلت سے ہونے والے نقصان کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے گا، اور زرعی پیداوار میں 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی، فصلوں کی صحت اور جنگلات کے تحفظ کے بارے میں بھی حقیقی وقت کی معلومات حاصل کی جا سکیں گی

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان اسٹیل ملز سے چوری ہونے والا 200 کلو کاپر کباڑ گودام سے برآمد

    اسرائیل کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام حماس نے مسترد کر دیا

    سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی کے لیے نقصان دہ، تحقیق

  • شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ

    شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ

    شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    نریندر مودی جب دنیا بھر میں ’’شائننگ انڈیا‘‘ یعنی روشن بھارت کا نعرہ لگاتے ہیں تو وہ ایک ایسے ملک کی تصویر دکھاتے ہیں جہاں بڑی بڑی عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی، اور ترقی کی چمک نظر آتی ہے۔ مگر اگر ان چمکتی سڑکوں اور عمارتوں کے پیچھے عام آدمی کی زندگی کو دیکھا جائے تو حقیقت بالکل مختلف ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق بھارت آج دنیا کا ساتواں سب سے زیادہ مقروض ملک بن چکا ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھارت پر اس وقت 3 ہزار ارب ڈالر کا قرض ہے اور ہر بھارتی شہری پر اوسطاً 504 ڈالر کا قرض چڑھا ہوا ہے۔

    اس کے مقابلے میں پاکستان کا نمبر اس فہرست میں 33واں ہے، جہاں قومی قرض 260 ارب ڈالر کے قریب ہے یعنی بھارت ہم سے کہیں زیادہ مقروض ہونے کے باوجود خود کو ترقی یافتہ ملک کہلواتا ہے۔

    لیکن اصل فرق معیشت نہیں بلکہ زندگی کے معیار کا ہے۔ بھارت میں لاکھوں لوگ آج بھی بھوکے سوتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹوں کے مطابق بھارت میں تقریباً 22 کروڑ افراد روزانہ بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر عورتیں اور بچے ہیں جو غذائی کمی اور کمزور صحت کا شکار ہیں۔ یہی نہیں، ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق بھارت میں تقریباً سات فیصد آبادی کے پاس بیت الخلا (ٹائلٹ) کی سہولت تک موجود نہیں۔ دیہاتوں میں لاکھوں لوگ آج بھی کھلے میدانوں میں رفع حاجت پر مجبور ہیں۔

    اب ذرا پاکستان کو دیکھیں۔ یہاں اگرچہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل ضرور ہیں مگر کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا۔ پاکستان میں ’’احساس‘‘، ’’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘، اور پاکستان بیت المال جیسے سرکاری منصوبے لاکھوں غریب خاندانوں کو خوراک اور مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔ دیہاتوں میں آج بھی لوگوں کے درمیان ہمدردی، خیرات اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی روایت موجود ہے۔

    بھارت کے بڑے شہروں، جیسے دہلی، ممبئی اور کولکتہ میں لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔ بچے اور بوڑھے سب ایک ہی کمبل کے نیچے گزر بسر کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بے گھر افراد کی تعداد اس قدر زیادہ نہیں۔ یہاں حکومت اور فلاحی تنظیموں نے کئی شہروں میں پناہ گاہیں (شیلٹر ہومز) قائم کی ہیں جہاں لوگ مفت کھانا اور رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت میں دولت چند ہاتھوں تک محدود ہے۔ اکنامک سروے آف انڈیا 2024 کے مطابق بھارت کی کل دولت کا 77 فیصد صرف دس فیصد امیر ترین طبقے کے پاس ہے۔ یعنی عام آدمی کی جیب خالی ہے مگر چند کاروباری خاندانوں کے محلات چمک رہے ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ معاشی مسائل ہیں، لیکن دولت کی تقسیم بھارت کے مقابلے میں کچھ بہتر اور متوازن ہے۔ یہاں متوسط طبقہ اب بھی موجود ہے اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

    مودی جب پاکستان کو ’’بھوکا اور ننگا ملک‘‘ کہتے ہیں تو حقیقت میں وہ اپنے ملک کے زخم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کی بڑی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بھارت میں لاکھوں بچے خوراک اور علاج سے محروم ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2024 کے مطابق بھارت کا نمبر 111 واں ہے، جبکہ پاکستان کا 102 واں۔ یہ فرق چھوٹا ضرور ہے مگر یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں بھوک پاکستان سے زیادہ شدید ہے۔

    پاکستان میں عام شہری کی زندگی میں غربت ضرور ہے مگر انسانیت، خودداری اور ہمدردی کی روشنی باقی ہے۔ یہاں اگر کوئی مصیبت میں ہو تو لوگ مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ محلے کے دکاندار سے لے کر مساجد تک، ہر جگہ کسی نہ کسی شکل میں لوگوں کو سہارا مل جاتا ہے۔

    اس کے برعکس بھارت کا ’’شائننگ انڈیا‘‘ دراصل بھوکا بھارت بن چکا ہے، جہاں بڑی عمارتوں کے نیچے بچے بھوک سے بلکتے ہیں اور جدید شہروں کے فٹ پاتھوں پر لوگ چھت کے بغیر سوتے ہیں۔ دنیا کو دکھائی جانے والی ترقی کے پیچھے عام بھارتی شہری کی حالت دگرگوں ہے۔

    پاکستان کے مسائل اپنی جگہ درست ہیں مگر یہاں عوام میں ایک دوسرے کے لیے احساس اور بھائی چارہ زندہ ہے۔ یہی جذبہ پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ اگر ہمارے وسائل صحیح استعمال ہوں، بدعنوانی پر قابو پایا جائے اور تعلیم و روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں تو پاکستان اس خطے کا سب سے مضبوط انسانی معاشرہ بن سکتا ہے۔

    آج بھارت کا وہی چمکتا دمکتا ’’شائننگ انڈیا‘‘ اندر سے بھوکا، کمزور اور خوف زدہ نظر آتا ہے۔ ایک طرف ارب پتیوں کے محلات جگمگا رہے ہیں تو دوسری طرف لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر بھوکے سوتے ہیں۔ مودی سرکار نے مذہبی نفرت، ظلم اور طبقاتی ناانصافی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے میدان میں بھارت پیچھے جا رہا ہے اور سماجی ناہمواری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان تمام معاشی مشکلات کے باوجود، اب بھی دلوں میں امید، ایثار اور ایمان کی دولت رکھتا ہے۔ یہاں کوئی مودی نہیں جو اقلیتوں کو جلائے، کوئی انتہا پسند حکومت نہیں جو مذہب کے نام پر سیاست کرے۔ پاکستان کا اصل چہرہ اس کی عوام کی غیرت، قربانی اور ایک دوسرے کے لیے محبت ہے۔

    مودی کا ’’شائننگ انڈیا‘‘ صرف نعرہ ہے جبکہ پاکستان حقیقت ہے۔ وہ حقیقت جو کم وسائل کے باوجود جینے، ڈٹ کے رہنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔اب وقت دور نہیں جب مودی کا مصنوعی چمک دمک والا بھارت اپنی نفرتوں کے بوجھ تلے دب جائے گا اور دنیا دیکھے گی کہ اصل روشنی، اصل شان، اصل وقار صرف پاکستان کے پاس ہے۔ کیونکہ پاکستان نہ کسی کی زمین پر بنا، نہ کسی کے سائے میں زندہ ہے،بلکہ پاکستان خودمختار اور آزاد پاکستانیوں کی سرزمین ہے .
    پاکستانی عوام و پاکستان زندہ باد ،افوج پاکستان پائندہ باد۔

  • خط بنام رسول خدا حضرت  محمد  ﷺ (پتہ:  مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)تحریر:ظفراقبال ظفر

    خط بنام رسول خدا حضرت محمد ﷺ (پتہ: مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)تحریر:ظفراقبال ظفر

    خط بنام رسول خدا حضرت محمد ﷺ (پتہ: مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)
    "فاطمہ ؓ کے بابا حسنینؓ کے نانا پہ لاکھوں سلام”
    "پیارے کریم آقا ﷺ!
    سب سے پہلے ادب کی کمی پیشی اور جذبات و تصورات کی بے لگام بے ترتیب عکاسی پر آج کے دور کا یہ بدو ہاتھ جوڑ کرمعافی مانگتاہے۔
    حضور ﷺ آپ کے اس مجرم نے اپنی بداعمال حیات کی نجات کو آپ کی محبت سے منسوب کیا ہے۔ شرف سماعت کا احسان بخشیں۔
    آقا جی مجھے دشمن نفس کی جب پہچان ہونے لگی تومیں ناراضگی خدا میں بہت دُور نکل چکا تھا مجھے اپنے خساروں کا پچھتاوا ستانے لگا۔
    زندگی کی عصر ہو چکی مغرب سر پر ہے عشاء نزدیک ہے آخرزندگی زمین کی آغوش کا مقدر ہو جانی گئی۔
    اتنے کم بچے وقت میں گزری حیات کی ساری قضاؤں کا کفارہ کیسے ادا ہو سکے گا؟
    دنیا کے سارے معاملے بے معنی ہو کر رہ گئے اورروزآخرت والی نفس و نفسی کا منظر آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا۔
    میں خدا کے حضور آنکھوں کے کٹوروں میں ندامت کے اشک بھر کر پیش کرنے گیا اور گمان تھا کہ خدا کی جانب سے دل کا کاسہ معافی کے تحفے سے بھر کر واپس لوٹے گا۔۔۔مگرایسا نہیں ہوا۔خدا کے اصولوں کا جہان الگ ہے۔
    خالی برتن کا لوٹنا بہت غمناک تھا۔اس سے بڑی کیا نالائقی ہو گئی کہ بندہ خدا سے خدا کو ہی نہ کما سکے۔
    ندامت کے آنسووں سے تو توبہ کے مرجھائے پھولوں پر بھی بہار آ جاتی ہے مگر میرے وجود کے آنگن اندرگردش کرتی خزاں میں
    اُمید کے درخت سے آس کے گرتے زدر پتوں کی کھنکھناہٹ کا افسردہ ماحول طاری تھا۔
    میں بارگاہ خداوندی سے اپنے اعمال نامے جیسا دل کا خالی برتن ہاتھوں میں لیے لوٹ تو آیامگر مایوس نہیں تھا۔
    کیونکہ آقا ﷺمیں آپ کو جانتا مانتا چاہتا ہوں آپ ہر طرح کے گنہگار کو اپنے دامن رحمت کی پردہ پوشی میں چھپا لیتے ہیں
    آپ خداکو اپنے رُخ انورسے منا لیتے ہیں۔
    حضو ر ﷺ میں مال اور اعمال کا کنگال بندہ پرواز رُوح سے مدینہ منورہ کے تصوراتی سفر پہ نکل پڑا۔
    میں مسجد نبوی میں عین روضہ رسول ﷺ کے سامنے نماز توبہ کی ادائیگی میں یوں رب کو سجدہ کررہا ہوں کہ سر حضور ﷺکے سامنے بھی جھک رہا ہے۔ خدا کو سجدہ اور حضور ﷺکا ادب کمزورایمان کوقبولیت کے قابل بنا نے لگے۔
    مدینہ سے دور مدینہ کی یادوں میں تڑپتے جو زندگی گزاری وہ بے قراری اک طرف مگر مدینہ سے واپسی کا نقصان رُوح کی موت جیسا ہے۔
    اپنے وجودکی موجودگی مدینہ اندر رکھنے کو یہ حسرت مچلنے لگی کہ حضور ﷺکسی طرح آپ کواپنے ساتھ لے جاؤں یا خود کوآپ کے پاس رکھوا لوں۔
    میں شدت سے یہ چاہنے لگاکہ مسجد نبوی ؑ کاداخلی دروازہ جہاں جوتے اتار کر پہلا قدم رکھتے ہیں وہاں اپنے دل کو نسب کردوں
    کہ آپ کے در پر آنے والے ہر مسافر کے پیروں کے تلوے میرے دل پر آئیں اور یہ دل مہمان مدینہ کے پاؤں کے بوسے لیتا جائے
    اس منظر کو حضور ؑآپ دیکھ لیں اور تبسم فرما کر ملائیکہ کو حکم فرما ئیں کہ اس دل کو اُٹھا کر ہمارے پاس رکھ دو ہم نے اسے شرف توجہ بخش دیا ہے۔
    یہ فرمان جاری ہوتے ہی خوشبو کی لپٹ میرے جسم و رُوح کو اپنے حصار میں لینے لگی۔
    میں منگتا سخاوت کے آسمان تلے کھڑا کرم کی بارش کو تنگ دامن میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کیے جا رہا ہوں۔
    پھر احساس توجہ رسول ؑمیں عرض کرتا ہوں۔ حضور ؑ خدا سے خدا کو مانگتا ہوں تو آپ ؑ کی جانب بھیج دیا جاتا ہوں۔
    آپ ذات خدا کا رستہ بھی ہیں منزل بھی اور سلیقہ سفر بھی ہیں۔
    حضور ؑ جس خدا نے آپ کو ہم سے ملوایا ہے ہمیں بھی اُس خداسے ملوا دیجئے۔
    یہ محبت محمد ﷺ کامعجزہ ہے کہ اگر حضور ؑآپ کی محبت میں اشک بہیں تو بندہ خودبخود،قرب خدا کے قریب ہو جاتا ہے۔
    یکدم دل کی زمین پہ یہ خیال اترا کہ ارے پگلے نگاہ مصطفی ﷺ ہی تو نگاہ خدا ہے۔۔ آرزو پیش کر۔۔
    مانگ کیا مانگتا ہے محمد ﷺکے رب سے؟
    میں ہاتھ جوڑ کر کہنے لگااے رب محمد ﷺ مجھ بداعمال و گنہگار کو روز آخرت حضور ﷺ کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالیجئے گا۔
    میری رُوح کو ہدایت کا غسل دے کر اپنی رضا کا لباس پہنادیجئے گا۔
    حضور ﷺ کی محبت کو میری قبرمیں نور کاچراغ بنا دیجئے گا۔
    قربان جاؤں اپنے رب پہ جس نے بابا آدم ؑ کی تخلیق سے بھی پہلے حضور ﷺ کا نور رحمت سارے جہانوں پر رکھ دیا۔
    پھر ہمیں تقسیم وقت کے اُس حصے میں پیدا فرمایاجہاں حضو ر ﷺ ہم سے پہلے آ کرہمارے لیے دنیاو آخرت کی منزلیں آسان فرما گئے۔
    مجھے یہ جان کر اتنی خوشی نہیں ہوتی کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہم سب عالم ارواح میں تھے۔
    جتنی خوشی یہ جان کر ہوتی ہے کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہم حضو ر ﷺ کے عالم دُعا میں تھے۔
    مجھے تو اُس منظر کے تصور نے کبھی احساس فخر سے نکلنے ہی نہیں دیا کہ حضور ﷺ جب آپ بشری روپ میں انسانوں کے درمیان تشریف لا ئے تھے تو آسمان کے تمام ملائکہ زمین پر نور افشانی کر تے ہوئے وجود انسان کو حسرت زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے آرزو مند ہوئے کہ اے کاش ہم محبوب خدا ﷺکی اُمت سے ہوتے۔۔۔
    حضور ﷺ یہ غلام اپنے مقدروں پہ ناز کر تا درود شریف کا ہدایہ پیش کرتے یہ درخو است کرتا ہے کہ اپنے مقدس قدموں میں جگہ عطا فرمائیے کہ آپ کا یہ دیوانہ آپ کے نعلین مبارک کے نیچے آنے والے ہر زرے کا بوسہ لے آنکھوں سے لگائے اور دل میں رکھ لے۔
    والسلام!
    آپ کا گنہگار اُمتی!
    ظفر اقبال ظفر رائیونڈ لاہورپاکستان