Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ساتھ جذباتی کھیل،شعور کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی و مذہبی جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں

    عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے

    وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے

    پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی ہے فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں

    تجزیہ : شہزاد قریشی
    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جذبے، ایمان اور قربانی کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ قوم کے اجتماعی شعور میں ایک خلا پیدا ہوا یہی خلا آج پاکستان کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہب نے ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے مگر بدقسمتی سے کچھ مذہبی جماعتوں نے دین کو خدمت خلق کے بجائے سیاسی طاقت کے اصول کا ذریعہ بنایا۔ عوام جو تعلیم اور شعور کی کمی کا شکار ہیں ان نعروں اور مذہبی جذبات کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ یہ وہی کیفیت ہے جس میں عقل پر جذبہ غالب آ جاتا ہے۔ تحریکِ لبیک جیسی دوسری جماعتیں اپنے مخصوص واقعات پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج تو کرتی ہیں مگر ان کے اقدامات سے ریاستی نظام، عوامی زندگی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا فلسطین و اسرائیل کے درمیان امن کی بات کر رہی ہے۔ جبکہ ہم ذرا سوچیے اپنی ہی زمین پر انتشار کا منظر دنیا کو دکھا رہے ہیں۔

    قوموں کی ترقی علم اور عمل کے دو ستونوں پر کھڑی ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی ریاستی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً ایک عام شہری تنقیدی سوچ سے محروم ہے وہ سن تو لیتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے جذبات سے کس طرح کھیل کر اسے ایک مخصوص سمت میں دھکیلا جا رہا ہے۔ وطن عزیز کا المیہ یہ نہیں کہ وسائل نہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ شعور نہیں۔ جب عوام علم سے روشنی حاصل کریں گے وہ کسی کے جال میں نہیں پھنسیں گے نہ مذہبی جذبات کے نہ سیاسی نعروں کے۔ اور جب قوم باشعور ہو جائے گی تو پاکستان واقعی وہی بنے گا جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا ایک روشن، باوقار اور متحد قوم۔ پاکستان ایک عظیم مقصد کے تحت معرضِ وجود میں آیا تاکہ مسلمان ایک آزاد وطن میں اپنی دینی، تہذیبی اور فکری شناخت کے ساتھ زندگی گزار سکیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خواب کہیں دھندلا سا ہو گیا۔ آج قوم ایک ایسے دورہ رائے پر کھڑی ہے جہاں جذبات نے عقل پر غلبہ پا لیا ہے اور قوم علم و شعور سے محروم نظر آتی ہے۔ پاکستان کے عوام کے دل میں مذہب کی محبت بے پناہ ہے مگر اسی جذبے کا غلط استعمال بعض مذہبی و سیاسی گروہ اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جماعتیں عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تعلیم و شعور کی کمی کے باعث عوام اُن نعروں کے پیچھے لگ جاتے ہیں بغیر یہ سوچے اس کا نتیجہ ملک و ملت پر کیا پڑے گا۔ حالیہ دنوں میں تحریکِ لبیک کے مظاہرے اور سڑکوں کی بندش نے ملک کے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا۔ ہر مہذب قوم کا دارومدار علم اور عمل پر ہوتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں تعلیم کو کبھی حقیقی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ معاشرے میں دلیل کی جگہ نعروں نے لے لی ہے اور برداشت کے بجائے نفرت نے جنم لیا ہے۔

    پاک فوج اور جملہ ادارے ہمیشہ سے پاکستان کی سلامتی، وقار اور بقاء کی ضامن رہی ہے۔ جیسے ایک مرغی اپنے بچوں کو باز یا چِیل کے حملے سے بچانے کے لیے اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے ویسے ہی پاک فوج اپنی قوم کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر لمحہ قربانی دیتی رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ عناصر خواہ وہ بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہوں یا اندرونی انتشار پھیلانے والے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ اور افوائیں پھیلاتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جس کا مقصد قوم اور فوج کے درمیان اعتماد کی دیوار کو گرانا ہے حالانکہ فوج وہ ادارہ ہے جس نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس قوم کو قائم رکھا ہوا ہے۔ وطن عزیز کو اپنے اصل مقصد کی طرف واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے تاکہ عوام سمجھ سکیں کہ ان کے ساتھ کب جذباتی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جائے تاکہ بیرونی طاقتیں تقسیم نہ کر سکیں۔

  • امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    امریکہ اور برطانیہ میں حسن صدیقی کے عالمی اعزازات، مگر حکومتِ پاکستان کی عدم پذیرائی

    دنیا کے ہر کونے میں پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں، جد و جہد اورعزم سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نمایاں نام ہے لاہور کے رہائشی 25 سالہ پاکستانی مصنف حسن صدیقی کا ، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود عالمی ادب کے افق پر پاکستان کا پرچم بلند کیا۔ حسن صدیقی اُن گنے چنے پاکستانیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو انسانیت، ہمدردی اور امید کے پیغام کا ذریعہ بنایا، اور دنیا کو دکھایا کہ اصل قومی ہیرو وہی ہوتے ہیں جو علم و اخلاق کے ذریعے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    Cupertino Library میں پہلا پاکستانی مصنف
    حال ہی میں حسن صدیقی نے ایک اور نمایاں عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔ اُن کی کہانی "A Hope for One Homeless” کو 10 اکتوبر 2025 کو World Homeless Day کے موقع پر امریکہ، کیلیفورنیا کی معروف عوامی لائبریری Cupertino Library میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ لائبریری Silicon Valley کے علمی و ثقافتی مراکز میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور Apple کے عالمی ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ہونے کے باعث دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتی ہے۔

    یوں حسن صدیقی وہ پہلے پاکستانی مصنف بن گئے جن کا کام اس نمایاں امریکی ادارے میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے جو نہ صرف اُن کی صلاحیتوں بلکہ پاکستان کے تخلیقی نوجوانوں کی قوتِ ارادی کا مظہر ہے۔

    ادبی سفر کا آغاز، ماں کی جدائی اور کم عمری کی ذمہ داریاں
    حسن صدیقی کی زندگی کا سفر آسان نہ تھا۔ محض 14 سال کی عمر میں اُن کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد زندگی نے اُنہیں وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔ کم عمری میں گھریلو ذمہ داریاں اور تعلیمی تقاضے ایک ساتھ نبھانا اُن کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا، مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ اُن کے والد ایک فرنیچر کی دکان پر کام کرتے ہیں، اور محدود آمدنی کے باوجود انہوں نے ہمیشہ بیٹے کے خوابوں کو جینے دیا۔ یہی وہ ماحول تھا جہاں سے حسن صدیقی نے سیکھا کہ اصل کامیابی وسائل سے نہیں، عزم سے حاصل ہوتی ہے۔ مایوس کن حالات اور محدود وسائل کے باوجود، انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے وہ کر دکھایا جس کا بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں۔

    کینٹربری کیتھیڈرل میں عالمی اعزاز
    اس سے قبل دسمبر 2024 میں، حسن صدیقی کی کہانی “A Christmas Homeless” برطانیہ کے عظیم تاریخی و ثقافتی ورثے کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، جو یونیسکو کے عالمی ورثہ میں شامل ہے۔ یہ کہانی دسمبر 2024 سے مارچ 2025 تک وہاں نمایاں طور پر آویزاں رہی۔ یہ اعزاز صرف اُن کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ تھا، کیونکہ وہ اس عالمی شہرت یافتہ مقام پر نمایاں ہونے والے پہلے پاکستانی مصنف بنے۔
    حسن صدیقی کی اس کامیابی کو متعدد بین الاقوامی اداروں نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا, جن میں برطانوی حکومت (7 جولائی 2025)، یونیسکو (20 جولائی 2025)، اقوامِ متحدہ (19 اگست 2025)، اور برطانوی ہائی کمیشن پاکستان (20 مئی 2025) شامل ہیں۔ یہ تسلیم شدہ اعزاز اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان بھی عالمی ادب کے افق پر نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

    وطن میں خاموشی کیوں؟
    جب ایک نوجوان اپنی تحریر سے دنیا بھر کے قارئین کے دل جیت لے، عالمی تنظیمیں اس کے کام کو سراہیں، تو یہ لمحۂ فخر ہونا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں جب ایسے نوجوانوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر ہمارے قومی ہیرو کب پہچانے جائیں گے؟

    ادب، فن اور ثقافت کسی قوم کا چہرہ ہوتے ہیں۔ اگر ایک مصنف اپنے الفاظ سے دنیا میں انسانیت، ہمدردی اور اخلاق ک پیغام پھیلا رہا ہے تو یہ پوری قوم کے لیے باعثِ عزت ہونا چاہیے۔

    ورلڈ اسکالرز کپ اور عالمی ادبی پلیٹ فارمز میں نمایاں کامیابیاں، NASA
    حسن صدیقی کی علمی اور تخلیقی صلاحیتیں صرف ادبی دنیا تک محدود نہیں ہیں، انہوں نے NASA سے مضمون نویسی میں اعترافی سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جبکہ World Scholars Cup میں تحقیق اور تحریر کے شعبے میں گولڈ میڈلسٹ کے طور پر نمایاں کارکردگی دکھائی، ان کی تحریریں Spillwords Press، Illumination، Storymaker اور دیگر بین الاقوامی ادبی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکی ہیں اور ان کی کتاب Twenty Bright Paths: Stories of Growth & Learning امریکہ میں شائع ہوئی، جسے نوجوان قارئین نے بے حد سراہا، اور یہ حسن صدیقی کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت پاکستانی مصنف کے طور پر متعارف کروانے کا سبب بنی۔


    خواتین کے لیے آواز: “The Female Times”
    حسن صدیقی صرف ایک مصنف نہیں بلکہ ایک سماجی شعور رکھنے والے لکھاری بھی ہیں۔ وہ دی فیمل ٹائمز کے بانی ہیں ، ایک غیر منافع بخش ڈیجیٹل میگزین جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کی آواز کو بلند کرنے کے لیے وقف ہے۔یہ پلیٹ فارم اُن خواتین کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں اپنی کہانیاں سنانے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ حسن صدیقی کا ماننا ہے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین اپنی بات خود کہہ سکیں اور اپنی جدوجہد کو کھلے عام پیش کر سکیں۔

    حکومتی اعتراف اور قومی فخر کی ضرورت
    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے لکھاریوں اور دانشوروں کو قومی ہیرو کا درجہ دیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ اُن کے ملک کی پہچان ہیں۔ لیکن پاکستان میں جب کوئی نوجوان عالمی سطح پر کامیاب ہوتا ہے تو اکثر سرکاری سطح پر خاموشی چھا جاتی ہے۔

    حسن صدیقی کی مسلسل عالمی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ اگر حکومت ایسے مصنفین کو سرکاری اعزازات، مالی معاونت، اور سرپرستی فراہم کرے تو یہ پاکستان کے عالمی تشخص کو مضبوط کرے گا۔حسن صدیقی نے ثابت کیا ہے کہ وطن کے حقیقی سفیر وہی ہوتے ہیں جو عمل، اخلاق، اور علم سے دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ آج بھی اس یقین کے ساتھ لکھ رہے ہیں کہ ایک دن پاکستان بھی اُن کی کاوشوں کو تسلیم کرے گا ، کیونکہ قومی ہیرو ہمیشہ اپنی قوم کے لیے لکھتے ہیں، چاہے قوم اُنہیں کب تسلیم کرے۔

  • جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ

    جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ

    جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    افغانستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ طالبان حکومت جو اگست 2021 میں اقتدار میں آئی تھی، دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ تین سال گزرنے کے باوجود طالبان نہ کوئی باقاعدہ حکومت قائم کر سکے ہیں اور نہ ہی انتخابات کرا سکے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حکمرانی کی بنیادیں ہلنے لگی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں طالبان حکومت کو اندرونی اختلافات، خراب معیشت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونی دباؤ اور پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان سے کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ تمام حالات مل کر طالبان کی حکومت کو زوال کے دہانے پر لے آئے ہیں جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

    طالبان کے اندرونی اختلافات ان کی حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے درمیان طاقت کی کشمکش شدت اختیار کر چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں طالبان کے ہر ماہ تقریباً سو جنگجو مارے جا رہے ہیں، جس سے طالبان کے اندر بے چینی اور بغاوت کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔ اخوندزادہ نے اقتدار کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس سے ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ طالبان حکومت میں بدعنوانی، طاقت کا غلط استعمال اور عوامی مسائل سے لاتعلقی نے عام لوگوں میں مایوسی پیدا کر دی ہے۔ کئی طالبان کمانڈر اب اپنے دھڑے بنانے کی سوچ رہے ہیں۔ افغان تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ایسی اندرونی تقسیم پیدا ہوئی، حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکی۔

    افغانستان کی معیشت پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔ طالبان حکومت بیرونی امداد پر انحصار کرتی رہی ہے لیکن اب دنیا کے ممالک نے امداد بند کر دی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق افغانستان کی معیشت تیزی سے گر رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ طالبان نے اب تک کوئی ٹھوس معاشی منصوبہ نہیں بنایااور منشیات کی اسمگلنگ سمیت غیر قانونی تجارت بڑھ گئی ہے۔ اسی وجہ سے طالبان کو “ڈالر کے بھوکے اسمگلرز” کہا جانے لگا ہے۔ زلزلوں اور قدرتی آفات نے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ بجلی، پانی، صحت اور خوراک جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہو چکی ہیں۔ بھوک اور افلاس نے عوام کو طالبان سے متنفر کر دیا ہے اور یہ عوامی غصہ کسی بھی وقت بغاوت میں بدل سکتا ہے۔

    طالبان کی خواتین کے خلاف سخت پالیسیوں نے ان کی حکومت کو دنیا بھر میں تنہا کر دیا ہے۔ لڑکیوں کے سکول اور یونیورسٹیاں بند کر دی گئی ہیں، خواتین کو دفاتر اور امدادی اداروں میں کام سے روک دیا گیا ہے اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان اقدامات سے افغان معاشرہ تقسیم ہو گیا ہے۔ عالمی برادری نے ان پابندیوں کی سخت مذمت کی ہے اور زیادہ تر ممالک نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شریعت کے نام پر ظلم و جبر کے باعث عوام کے اندر طالبان کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔

    پاکستان کے ساتھ طالبان کے تعلقات بھی اب تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے اور ایک دوسرے پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات روز بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان طالبان پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سہولت فراہم کرنے کا الزام نہیں لگاتا ہے بلکہ ثبوت دئےمگر طالبان حکومت ان گروہوں کی پشت پناہی اور بھارتی پراکسیز کیلئے استعمال کررہی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ان حالات نے طالبان کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے اور وہ اندرونی و بیرونی دونوں دباؤ میں آ چکے ہیں۔

    پاکستان وہ ملک ہے جس نے طالبان کو شروع دن سے سہارا دیا۔ 1990 کی دہائی سے لے کر 2021 تک پاکستان نے طالبان کی سیاسی، سفارتی اور فوجی مدد کی۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ طالبان نے پاکستان کے مخالف ملک بھارت سے ڈالرز کے عوض ہاتھ ملالیاہے۔ 10 اکتوبر 2025 کو طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا اور بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر متقی نے پاکستان کے خلاف سخت بیانات دیے، یہاں تک کہا کہ “پاکستان کو افغانستان کے ساتھ کھیل کھیلنے سے گریز کرنا چاہیے”۔ یہ بیان دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بنا۔

    طالبان کی غلط پالیسیوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کو ملک سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین سرحد پار کر کے واپس افغانستان جا رہے ہیں، لیکن طالبان حکومت ان کی بحالی، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے انتظام میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ان مہاجرین کی واپسی طالبان کے لیے نیا بحران بن چکی ہے، کیونکہ ان میں سے کئی لوگ طالبان مخالف قوتوں سے دوبارہ جڑنے لگے ہیں۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ طالبان مخالف جنگجو گروہ دوبارہ متحد ہو رہے ہیں اور شمالی اتحاد کی طرز پر ایک نئے محاذ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی قوتیں طالبان حکومت کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    طالبان حکومت اس وقت ہر طرف سے دباؤ میں ہے، اندرونی لڑائیاں، خراب معیشت، عوامی غم وغصہ، خواتین پر ظلم، ہمسایہ ممالک سے دشمنی اور عالمی تنہائی۔ جب کوئی حکومت عوام کا اعتماد کھو دیتی ہے اور اپنے پڑوسیوں سے تعلقات خراب کر لیتی ہے تو اس کا زوال صرف وقت کی بات رہ جاتا ہے۔ اوراس وقت ڈالروں کے بھوکے اسمگلرز طالبان کے اقتدار کا انجام قریب دکھائی دے رہا ہے۔

  • ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ
    تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان (چراغِ آگہی)
    صحافت کسی بھی معاشرے کا چوتھا ستون ہونے کے ساتھ ایک عظیم سماجی فریضہ بھی ہے، جسے وہی فرد بخوبی نبھا سکتا ہے جو فکری وسعت، معاشرتی شعور اور تحقیقی بصیرت سے آراستہ ہو۔

    ڈیرہ غازی خان کی علمی و صحافتی دنیا میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ایک نمایاں اور معتبر نام ہیں۔ وہ نہ صرف مقامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ بین الاقوامی امور پر بھی بصیرت افروز انداز میں قلم اٹھاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سچائی کی تلاش، اصلاحِ احوال کا جذبہ اور معاشرتی درد نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

    ڈاکٹر بڈانی نے ابتدائی طور پر سرکاری سطح پر طبی خدمات انجام دیں، مگر ان کے اندر موجود ایک حساس اور فکری شخصیت نے انہیں سماجی شعور کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے طب کے شعبے کو خیرباد کہہ کر صحافت اور قلم کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا، تاکہ وہ معاشرے کے زخموں کا مداوا کر سکیں۔

    ان کے کالمز قومی و علاقائی اخبارات کے علاوہ اردو پوائنٹ اور باغی ٹی وی جیسے معتبر پلیٹ فارمز پر تسلسل سے شائع ہوتے ہیں۔ ان کی دیانتدارانہ رپورٹنگ اور مدلل کالم نگاری نے انہیں قومی سطح پر پہچان دلائی، جس سے ڈیرہ غازی خان کا نام بھی روشن ہوا۔ معروف اینکر پرسن و سینئر صحافی مبشر لقمان نے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں باغی ٹی وی کے انچارج نمائندگانِ پاکستان کا منصب سونپا، جو ان کے پیشہ ورانہ اعتماد اور قابلیت کا عملی ثبوت ہے۔

    ایک تقریب کے دوران سیالکوٹ میں ایوارڈ وصول کرتے وقت مبشر لقمان نے اسٹیج پر ڈاکٹر بڈانی کا نام لیتے ہوئے کہا: "مصطفیٰ صاحب، ڈیرہ غازی خان کو ایوارڈ مبارک ہو۔” یہ الفاظ نہ صرف ڈاکٹر بڈانی کے لیے اعزاز تھے بلکہ ان کے شہر کے لیے بھی فخر کا باعث بنے۔

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے ہمیشہ اپنے خطے کی نمائندگی دیانت، ذمہ داری اور خلوص سے کی۔ قدرتی آفات اور بحرانوں کے دوران ان کا کردار قابلِ تحسین رہا۔ آج وہ علم، عمل اور انسان دوستی کی علامت بن کر ڈیرہ غازی خان کی شناخت کا روشن حوالہ بن چکے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کو صحت، عزت اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور ان کا قلم ہمیشہ حق و سچ کے لیے رواں رہے۔ آمین۔

  • پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین

    پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین

    🇵🇰 پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین 🇵🇰
    تحریر:محمد عرفان ڈسٹرکٹ بہاولنگر
    پاکستان کی افواج ہمارے وطن کا فخر اور ہماری سلامتی کی ضامن ہیں۔ یہ وہ بہادر ادارہ ہے جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آتا ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا دشمن کی جارحیت، ہماری فوج نے ہمیشہ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ملک و قوم کا دفاع کیا ہے۔

    یہ وہ نڈر سپاہی ہیں جو سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں برف پوش چوٹیوں پر اور گرمیوں کی تپتی وادیوں میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کے حوصلے فولاد سے زیادہ مضبوط، نیتیں پاکیزہ اور جذبے ایمان سے لبریز ہیں۔

    پاکستانی فوج محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک منظم، بااخلاق اور انسان دوست ادارہ ہے جو ہر آفت اور آزمائش کے وقت عوام کی خدمت میں پیش پیش رہتا ہے۔ قوم کو اپنی فوج پر بجا طور پر فخر ہے، اور پوری دنیا ان کے نظم و ضبط، بہادری اور قربانیوں کو سلام کرتی ہے۔

    اللّٰہ ربّ العزت ہماری افواج کو ہمیشہ محفوظ رکھے، انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور وطنِ عزیز پاکستان کو تا قیامت امن، استحکام اور سربلندی سے نوازے۔ آمین۔

  • جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں

    پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے

    سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی

    سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قومی اداروں پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے جس کی تازہ مثال وزیر اعلٰی کے پی کے کی جذباتی تقریر ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    جنوبی ایشیائی ملک خاص طور پر بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں پچھلے چند سالوں میں جمہوری عمل کمزور ہوتا دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ ہے۔ اگر ملک کی سیاسی جماعتوں نے منظم طریقے سے نیچے تک مضبوط اندرونی جمہوریت پر توجہ نہ دی تو قومی سیاست میں ان کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کی صورتحال ایک دہائی میں عوامی حکمرانوں کے سیاسی خلا، اظہار رائے اور انتخابی مقابلے جیسے عناصر ظاہر ہوئے جن کے باعث جمہوریت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ انتخابات میں تنازع اور شفافیت کے الزامات لگے۔ سری لنکا کی بھی یہی صورتحال ہے معاشی اور سیاسی بحران کے بعد عوامی احتجاج اور اس کے نتیجے میں طرز حکمرانی میں دیکھی گئی اقتصادی بد انتظامی اور سیاسی مرکزیت جمہوری اداروں کو تیزی سے کمزور کرتی گئی۔ یہی صورتحال نیپال میں دیکھی گئی مسلسل سیاسی عدم استحکام بار بار کابینہ میں تبدیلیاں اور آئینی جمہوری خامیوں نے جمہوری تسلسل کو متاثر کیا۔ اگرچہ بعض اوقات عدلیہ یا پارلیمانی طریقے سے بحال بھی ہوئی، ان ممالک میں مرکزی قیادت اور قائدانہ مرکزیت طاقت کا حد سے زیادہ مرکزیت میں جمع ہونا، ادارہ جاتی کمزوری، آزاد عدلیہ، میڈیا اور سیکیورٹی اداروں میں توازن کمزور ہونا معاشی بد انتظامی، عوامی ناراضگی اور سیاسی بحران نے جنم لیا۔ موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کی موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں الگ الگ انداز میں ظاہر ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، ضلعی ڈویژن اور تحصیل سطح پر باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معیشت کی خراب صورتحال، سیاسی عدم استحکام پاکستان کے ملکی نوجوانوں جو پاکستان کا مستقبل ہیں ان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ہر جماعت کے آئین میں شفاف امیدوار چننے کے ضوابط، شکایات کے میکنزم اور مدت طے کرنی ہوگی۔ مقامی لیڈرز، ووٹر، رجسٹریشن، انتخابی ضوابط فورم اور ورکشاپس کے انتظامات کرنے ہوں گے۔ پارٹی فنڈنگ کے اخراجات کے باقاعدہ آڈٹ اور عوامی خلاصے پر توجہ دینی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو پالیسی سازی، امیدواروں کی نشاندہی اور شفاف الیکشن کرانا ہوں گے۔ نوجوان و خواتین لیڈر شپ پروگرام اور میرٹ پر فیصلے کرنا ہوں گے۔ صرف طاقت حاصل کرنے کے بجائے واضح پالیسی پر ایجنڈا بنائیں اور اس کی پیمائش کریں۔ سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی۔ قیادتوں کو بااختیار بنانے سے عوامی نمائندگی بہتر ہوگی۔ سیاسی جماعتیں صرف حکومت حاصل کرنے پر مرتکز رہیں گی جو تنظیمی کمزوریاں، جمہوریت کے بحران میں بدل سکتی ہیں۔ پارٹی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے ساتھ شراکت ضروری ہے۔ قطع تعلقی ہمیشہ جنگ زدہ لسانیت مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اندرونی اصلاحات کے بجائے صرف زبانی دعوے کریں تو عوام کا اعتماد کمزور ہوگا جس کے اثرات جمہوریت پر پڑھیں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتی ہیں تو صوبائی، ضلعی سطح کی شاخیں، خود مختار فنڈ ریزنگ اور مقامی نمائندگی کو مضبوط کریں۔ نوجوان و خواتین کی قیادت کی مضبوطی اور پالیسی بیسڈ سیاست قائم کریں تاکہ پاکستان جمہوری تسلسل میں مستحکم رہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں تبھی کامیاب ہوں گی جب وہ عملی اقدامات کریں گی ورنہ پاکستان کی جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اپنے قومی اداروں جس میں پاک فوج جملہ اداروں اور پولیس پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور تو کر سکتا ہے مضبوط نہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال وزیراعلٰی خیبر پختون خواہ کی تازہ ترین تقریر ہے جسے ایک جذباتی تقریر کہا جا سکتا ہے۔

  • اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا

    نیتن یاہو کو آگاہ کیا گیا اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا

    امریکی صدر کا پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کرنا پاکستان کی عوام اور عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی باہمی رہائی اور امن معاہدے پر مصر میں دستخط ہو گئے ہیں۔ یہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سفارتی اور بڑی کامیابی ہے۔ علاقائی استحکام میں اضافہ ہوگا ارد گرد کے ممالک کے لیے بھی امن و خوشحالی لائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ انسانیت کی جیت ہے، جنگ کی نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ماضی میں ایک مجوزہ معاہدے کی بنیاد پر قرارداد 2735 منظور کی تھی۔ جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر زور دیا گیا تھا مگر اس کی عملی پیش رفت ہمیشہ محدود رہی اور نقصان کا دائرہ وسیع ہوا۔ موجودہ معاہدے کی امریکہ، مصر، ترکی، قطر اور دیگر ممالک معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں جو ایک مثبت بین الاقوامی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ امید ہے غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا موقع ملے گا اور خوراک، پانی، دوائیں وغیرہ کی فراہمی بہتر ہوگی۔ امریکہ نے اس معاہدے کی بہت شدت سے حمایت کی ہے اور اس معاہدے کو تاریخی کامیابی کہا ہے۔ مصر نے ثالث کا کردار نبھایا ہے اور اجلاس کی میزبانی کی۔ عرب ممالک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اسے استحکام کا راستہ قرار دیا ہے یہ معاہدہ ایک ابتدائی نقطہ عروج ہے۔ امید ہے امریکہ، مصر، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک جو اس معاہدہ میں شامل ہیں وہ کسی کو خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔ تاہم اس کا کریڈٹ عالمی مبصرین امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو دے رہے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پہلے کھیلتا ہے، تدبیریں کرتا ہے، پیش قدمی کرتا ہے، پیچھے ہٹتا ہے، گولی چلاتا ہے، یاد کرتا ہے اور راستہ بدلتا ہے، ساری دنیا اس کی حرکات و سکنات کو دیکھتی ہے، وہ عالمی سطح کا رونالڈو ہے، وہ بالی وڈ کے سٹارز سے زیادہ پرجوش ہے، وہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے اور یقین دلاتا ہے، وہ دھمکی دیتا ہے پھر معاہدہ کرتا ہے، وہ انتہائی حد تک جانے کا بہانہ کرتا ہے پھر کم سخت شرائط کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے، عالمی مبصرین کے مطابق دنیا اس کے مزاج کے مطابق اپنی رفتار طے کر رہی ہے، وہ سوشل میڈیا میں ہلچل مچانے کے لیے کافی ہے، وہ ایک شعلہ بیاں خطرے کی گھنٹی بجانے کے لیے کافی ہے، اس کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے، ناراض ہو جاتا ہے، مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا۔ مبصرین نے کہا ہے کہ ان کے معاونین انکی لامتنائی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کی تاریخ کے عظیم ترین صدر ہیں کیونکہ وہ ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے۔ غزہ کی جنگ کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کی ہے، کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، مغربی کنارے کا کوئی الحاق نہیں ہوگا۔ حماس اپنے ہتھیاروں اور سرنگوں کو الوداع کہہ دے گی اور غزہ پر حکمرانی بند کر دے گی۔ فلسطینی اتھارٹی کا انحصار ان اصلاحات پر منحصر ہے جو وہ انجام دے گی۔ صورتحال ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو کو اگاہ کیا کہ اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا۔ امید ہے اس کا نتیجہ بھی کامیاب رہے گا۔ دوسری طرف امریکی صدر جو پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کر رہے ہیں جو پاکستان کی عوام اور پاک فوج کی عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے اور پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی سفارت حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

  • بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران اور بیوروکریسی میں مذہبی رسم و رواج کو زور و شور سے منانے اور ہر وقت مذہبی گفتگو کا منجن بیچنے والوں میں اکثریت اپنی کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کیلئے مذہبی ٹچ کو ”فیس سیونگ ٹول“ استعمال کرتے ہیں۔چاہے کوئی بھی فرقہ ہو، مذہبی ٹچ ہر طرح کی کمیونٹی میں بکتا ہے اس لیے سب سے کارآمد طریقہ واردات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    مذہبی ٹچ کی جعل سازیاں، مذہب اور فرقوں کا پرچار کرنا قابلیت نہیں بلکہ اس حلف کی خلاف ورزی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ سرکاری فرائض میں مذہب، فرقہ اور رشتہ داری کو ترجیح نہیں دینی بلکہ میرٹ اور انصاف کرنا ہے۔
    اصل گیم تو پارٹی گروپ کی ہے۔ جہاں ساری طبقاتی تقسیم ختم ہے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپ کی باہمی عداوت کی بجائے اس بزم(پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی رقاصاؤں کی زلفوں اور قدموں کی چھنکارکے گرد گھومتی ہے، حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتی ہے۔

    منشیات کے استعمال اور دیگر حرکات پر”اہم ادارے“سے نکالا گیا بچہ بھی صوبائی سول سروس میں آچکا ہے اور ناصرف خود منہ کالا کرتا پھرتا ہے بلکہ دیگر افسران کا سہولت کار بھی بنا ہوا ہے۔ مذہبی ٹچ والے اور پارٹی گروپ جو بھی کرتے ہیں یہ انکا ذاتی معاملہ ہے جو مرضی کریں لیکن ذاتی اس لیے نہیں رہتا کہ اسی گروپنگ کی بنیاد پر اپنے مذہبی ٹچ اور پارٹی گروپ کو اہم سیٹوں اورعہدوں پر نوازا جاتا ہے۔ گندہ ہے پر دھندہ ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی کے کم از کم ایک تہائی افسران شراب نوشی اور منشیات کے عادی ہیں جبکہ دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ہیں۔

    چند سال قبل کی بات ہے کہ اس وقت کے اے ڈی سی آر لاہور کے سٹاف آفیسرکی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے۔ اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور وہاں پہنچا تو موصوف اپنے کپڑے پھاڑ اور اتار کر دوسرے افسران کو کہہ رہا تھا کہ مجھے اپنی گود میں بیٹھاؤ، خیر اسے بامشکل گاڑی میں بیٹھایا اور رات گئے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں جہاں شراب و شباب اور ہر طرح کا نشہ کرتے ہیں، لائنیں کھینچتے ہیں۔

    سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے، ”پاور کاریڈور“ میں داخل ہونے کا ”شارٹ کٹ“ لگانے والے افسران فوری ”کی پوسٹ“ پر ہوتے ہیں۔انتہائی دکھ اور شرم کا مقام ہے کہ اسی دیکھا دیکھی میں کچھ خواتین افسران بھی پارٹی گروپ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ سنئیر افسر، تگڑے سیاستدان کی گرل فرینڈ کی دعویدار خواتین افسران محکمے میں سیاہ و سفید کی مالک ہوتی ہیں۔ کچھ سرکاری جوڑوں کی ماضی میں ویڈیوز بھی لیک ہوچکی ہیں۔

    بیوروکریسی شدید زوال کا شکار ہے جہاں نئے افسران کی اکثریت شدید کرپٹ اور بدنسلی ہیں وہیں یہ نئے بچے کہیں بلیک میلر اور کہیں سپلائر کا کردار ادا کررہے ہیں۔لاہور کے چند نوجوان افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ انہی محرکات اور”سپلائی چین“ والے خفیہ تعلقات کی وجہ سے نئے افسران کی اکثریت ناصرف عام عوام کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں بلکہ اپنے سنئیر افسران کو بھی "فار گرانٹڈ” لیتے ہیں۔ اہم سیٹوں پر تعیناتی والے ان کماؤ اور پلاؤ پتر بچوں نے ابھی وقت کا پہیہ گھومتا نہیں دیکھا، وقت بدلتے ہی جب یہ او ایس ڈی ہوں گے تو اوقات میں آجائیں گے اور بندہ شناسی کا ہنر بھی جان جائیں گے۔

    پرتگالی گروپ سمیت دیگر ممالک میں ”سیٹنگ“ والے افسران بھی ٹولیوں کی صورت میں بیرون ملک جاتے ہیں اور اپنی آل اولاد کی نیشنیلٹی کرواتے ہیں۔
    ملک سلمان

  • اب افغانوں کی مہمان نوازی کا وقت ختم

    اب افغانوں کی مہمان نوازی کا وقت ختم

    اب افغانوں کی مہمان نوازی کا وقت ختم
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    اس وقت پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں اسے اپنی قومی سلامتی اور داخلی امن کے تحفظ کے لیے سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا بھارت کا دورہ، اس کے فوراً بعد پاکستانی چیک پوسٹوں پر افغان فورسز کے حملےاور پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی نے سرحدی کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔

    9 اکتوبر 2025 کو امیر خان متقی نے ہندوستانی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی، اور دونوں ممالک نے معاشی روابط مضبوط کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دوران پاکستان نے افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں افغان فورسز نے 11 اکتوبر کی رات پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا۔ پاکستان آرمی نے فوری جوابی کارروائی کی، جس میں متعدد افغان سرحدی پوسٹیں تباہ ہوئیں اور کئی افغان فوجی ہلاک ہوئے۔

    یہ حملے محض "جوابی” نہیں تھے بلکہ یہ بھارت کی سرپرستی میں افغان حکومت کی طرف سے پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کا حصہ تھے، کیونکہ طالبان بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ تمام واقعات ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر رہے ہیں کہ پاکستان نے 1979 سے لے کر آج تک افغان مہاجرین کو اپنی سرزمین پر کیوں سہارا دیا؟ جب یہ "مہمان” پاکستان کی ازلی دشمن بھارت کے اشاروں پر دہشت گردی اور بدامنی میں ملوث ہو چکے ہیں تو انہیں بغیر کسی رعایت کے پاکستان سے نکالنے کا وقت کیوں نہیں آ گیا؟

    پاکستان نے طویل عرصے سے لاکھوں نمک حرام افغانوں کی مہمان نوازی کی۔پاکستانی عوام نے اپنے وسائل میں سے ان کی کفالت کی، انہیں روزگار اور رہائش فراہم کی اور یہ امید کی کہ یہ لوگ امن قائم ہوتے ہی عزت کے ساتھ اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔ تاہم جب انہی مہمانوں کی میں سے ہمارے فوجیوں اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی گئیں اور شواہد نے دکھا دیا کہ ان کارروائیوں میں افغانی نژاد عناصر ملوث پائے گئے ہیں، تو ریاست کا اولین فرض اپنے شہریوں کا تحفظ بن جاتا ہے۔

    اس پس منظر میں یہ حقیقت واضح کی جانی چاہیے کہ پاکستان نےکسی بھی بین الاقوامی کنونشن (Convention on Refugees, 1951) یا اس کے 1967 کے پروٹوکول پرآج تک دستخط نہیں کئے اور یہاں کے پناہ گزینوں کا معاملہ پاکستان کے اپنے قوانین، مثلاً Foreigners Act, 1946 کے مطابق طے ہوتا ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (UNHCR) کی معلومات میں بھی درج ہے۔

    پاکستان قانونی طور پر پابند نہیں کہ وہ افغان پناہ گزینوں کو ہمیشہ کے لیے رکھے۔ ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہوتاہے کہ وہ اپنے داخلے، قیام اور غیر ملکیوں کے اخراج کے معاملات خود طے کرے۔ مگر بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ملک کی قومی سلامتی اور عوامی مفادات سب سے پہلے مقدم ہوتے ہیں اور اگر کوئی فرد یا گروہ سیکیورٹی رسک ثابت ہوتا ہے تو اسے واپس بھیجنے کے لیے ریاست کا قانونی اختیار موجود ہے۔

    موجودہ تناظر میں صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں شدت، سرحد پار سے دہشت گردی کی پشت پناہی اور ان واقعات کے پس منظر میں بھارت کے ساتھ افغان حکام کے بڑھتے تعلقات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر موجود یہ مہاجرین اب صرف "مہمان” نہیں رہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔

    1979 کے سوویت حملے سے لے کر آج تک پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان کی نسلوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات فراہم کیں۔ بدلے میں کیا ملا؟ دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، اسلحہ اور بدامنی! پاکستانی انٹیلی جنس رپورٹس اور خبروں کے مطابق پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں افغانی ملوث ہیں۔

    سوشل میڈیا پر ان کی نفرت کھلے عام نظر آ رہی ہے ، پاک فوج اور پاکستان کے خلاف زہریلے پیغامات، جہاں وہ بھارتی پروپیگنڈے کی بازگشت کر رہے ہیں۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں میں بھی افغان حملوں کے پیچھے بھارتی ہتھیاروں اور را کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ پاکستان نے افغانیوں کو کھلایا، ان کی اولاد پالی، مگر اب یہی لوگ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) جیسے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتے ہیں اور پاکستان میں خودکش حملے کرتے ہیں۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ برسوں سے شکایات موجود ہیں کہ افغان مہاجر کیمپ اور شہری آبادیوں میں رہائش پذیر رجسٹر اورغیر رجسٹرڈ افغانی پاکستان میں دہشت گردی، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ جیسے غیر قانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستانی حکام کی جانب سے بارہا یہ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں افغان سرزمین اور پاکستان میں مقیم بعض افغان باشندوں کا کردار شامل رہا ہے۔

    بعض افغان مہاجرین کا براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان گروہوں کی مدد کرنا جنہوں نے پاکستان پر حملہ کیا، کسی بھی میزبان ملک کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ یہ مہاجرین اب "مہمان” نہیں رہے بلکہ اب یہ پاکستان کے کھلےدشمن بن چکے ہیں۔ بھارت جو ہمیشہ سے پاکستان کا ازلی دشمن ہے، اب افغان حکومت اور اس کے مہاجرین کو اپنا آلۂ کار بنا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ پاکستانی عوام اور پاک فوج کے خلاف افغان باشندوں کی جانب سے نفرت انگیز مواد شیئر کیا جاتا ہےاور کیا جارہا ہے۔ ایسے افراد جو پاکستان میں رہتے ہیں، اس کا کھاتے ہیں اور پھر اسی کے خلاف زہر اگلتے ہیں، کسی بھی صورت مہمان نوازی کے حقدار نہیں سمجھے جا سکتے۔ ان کا عمل واضح طور پر دشمن کے ایما پر قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

    ایک حالیہ ایکس (ٹویٹر)کی پوسٹوں میں دیکھا گیا کہ سرحدی تنازعات اور فوج کے خلاف نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے، جو تقسیم کی سازش کا حصہ ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی نے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس کی نوجوان نسل بھی تباہ ہو رہی ہے۔

    یہ اسمگلنگ نہ صرف اقتصادی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ دہشت گردی کو فنڈنگ بھی فراہم کرتی ہے، جیسا کہ بین الاقوامی رپورٹس میں درج ہے کہ طالبان اور دہشت گرد گروہ منشیات کی تجارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ مہاجرین پاکستان کی کمر توڑنے والے "مہمان” بن چکے ہیں۔

    1979 سے اب تک ان افغان مہاجرین نے پاکستان کا کھایا اور اب پاکستان کی ازلی دشمن بھارت کے ایما پر پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ اب اچھے برے کی تمیز کیے بغیر ان افغان باشندوں سے پاکستان کو پاک کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ جب افغان نہیں ہوں گے تو دہشت گردی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔

    پاکستان اور پاکستانی قوم اب مزید ان افغانوں کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ جب کسی مہمان کی وفاداری پر سوال اٹھ جائے اور اس کا عمل میزبان کے مفادات کو نقصان پہنچانے لگے، تو مہمان نوازی کا فلسفہ ختم ہو جاتا ہے۔ افغان باشندوں کی پاکستان سے واپسی کے بعد دہشت گردی، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس خود بخود کمزور پڑ جائیں گے۔

    داخلی سلامتی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی اور پاک فوج اپنی توجہ صرف سرحدوں کے دفاع پر مرکوز کر سکے گی۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ داخلی اور خارجی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور افغان مہاجرین کی موجودگی انہیں مزید پیچیدہ بناتی ہے۔

    دہائیوں سے افغان مہاجرین پاکستان کے محدود وسائل پر بوجھ ہیں۔ ان کی واپسی سے ملکی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور پاکستانی عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ نہ صرف مالی بوجھ کم کرے گا بلکہ سمگلنگ نیٹ ورکس کی کمر توڑ دے گا جو پاکستان کی معیشت کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں۔

    کسی بھی ملک کے لیے اس کی قومی سلامتی سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی۔ پاکستان نے جتنا بڑا دل دکھایا ہے، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ لیکن اگر یہ مہمان اپنے میزبان کے ازلی دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل کر اسی کے خلاف کارروائیاں کریں تو یہ عمل ناقابلِ معافی ہے۔ افغان عوام کی مدد اور ہمدردی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اب وقت ہے "سب سے پہلے پاکستان” کے اصول پر عمل کیا جائے۔

    یہ ایک سخت لیکن قومی مفاد میں ناگزیر فیصلہ ہے جو پاکستان کو بحفاظت آگے لے جا سکتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر تمام افغان باشندوں کی رجسٹریشن ختم کر کے انہیں سرحد پار دھکیلنا چاہیے اور یہ افغانی کسی قسم کی مزید رعائت کے حقدار نہیں ہیں ۔ پاک فوج اور حکومت، پاکستان کو افغان باشندوں سے پاک کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں امن، عزت اور خوشحالی کے ساتھ جی سکیں!

  • بھارت کی افغانستان  میں دلچسپی پاکستان  کے لئے براہ راست سلامتی  کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور دہشت گردی کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کے ذکر نے ہلاکر رکھ دیا تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط شدہ اس دستاویز پر عمل نہ کرنا بقول شاعر:
    مجروح قافلے کی میری داستان یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں ،مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے۔ ذرا سوچئے ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ کیوں یہ آگ بھڑک اُٹھتی ہے ؟ اور ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ بات تو طے ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور آج بھی ملوث ہے ۔ علاقائی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے نہ صرف خطے میں نئی صف بندیاں پیدا کی ہیں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے بھارت کی افغانستان میں دلچسپی کوئی نہیں بات نہیں۔ 2001 کے بعد بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جن میں سے ،سلم ڈیم ، افغان پارلیمنٹ بلڈنگ اور مختلف سڑکوں وتعلیمی منصوبوں کی تعمیر شامل ہے ۔ یعنی بھارت وسط ایشیا تک اپنی رسائی بڑھانا اور پاکستان کے مغربی اثر کو محدود کرنا ہے ۔ طالبان حکومت کے قیام کے ساتھ ہی بھارت پھر افغانستان کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے جو ظاہرکرتا ہے کہ دہلی اپنی نرم طاقت کی حکمت عملی دوبارہ فعال کررہا ہے ۔ بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ہے۔ خاص طورپر کے پی کے اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں۔ بھارت افغانستان تعاون علاقائی تجارت، مفادات خصوصا سی پیک اور وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے منصوبوں پر بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے۔ چین ، ایران اورروس افغانستان میں استحکام کے خواہاں ہیں لیکن ان کے اپنے مفادات ہیں۔

    چین پاکستان کے ساتھ سی پیک کے ذریعے معاشی راہداری قائم کرنا چاہتاہے ۔ ایران چاہتا ہے کہ بھارت کی سرمایہ کاری اس کے راستوں سے ہو جیسے چاہ بہار پورٹ ۔ اس پیچیدہ ماحول میں پاکستان کو محتاط مگر متحرک سفارتکاری اختیار کرنا ہوگی ۔ پاکستان کو اپنے مفادات کویقینی بنانا ہوگا۔ چین، ایران ، ترکی اور روس جیسے ملک کے ساتھ پالیسی ہم آہنگی بڑھانا ناگزیر ہے ۔ عالمی فورمز پر پاکستان کو شواہد کے ساتھ بھارت کے کردار کو پیش کرنا چاہیئے۔ اندرونی استحکام کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا اصل مضبوط داخلی نظام ، سیاسی اتفاق رائے اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے ۔ بھارت افغانستان کے تعلقات کا بڑھانا خطے کے لئے نیا منظر نامہ تخلیق کررہا ہے ۔ پاکستان کے لئے یہ چیلنج ضرور ہے مگر خطرہ تب بنتا ہے جب وہ محض رد عمل میں پالیسی بنا ئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان حکمت عملی ، سفارتی کاری اور داخلی استحکام تینوں محاذوں پر متوازن اور سنجیدہ کردار ادا کرے۔ خطے میں امن و استحکام کادارومدار اسی بات پر ہے کہ ہر ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دے یہی امن کی بنیاد ہے۔