Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ،پی سی بی کو لاکھوں کا بل آ گیا

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ،پی سی بی کو لاکھوں کا بل آ گیا

    نیوزی لینڈ کی سیریز منسوخ ہونے کے بعد راولپنڈی کی انتظامیہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) کو اخراجات کی مد میں 27 لاکھ روپے کا بل تھما دیا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مد میں راولپنڈی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میچ کے دن سکیورٹی اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں اور انہیں کھانے میں پلاؤ اور بریانی کھلائی جاتی تھی۔

    انتظامیہ کے مطابق کیوی ٹیم جب پریکٹس کے لیے آتی تھی تو روٹ لگتا تھا اور جب تک ٹیم گراؤنڈ میں رہتی تھی نفری تعینات رہتی تھی۔

    ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا تھا کہ سیریز نہ ہونے پر سب کو کتنا افسوس ہے اس بات کا مکمل اندازہ ہے لیکن کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے نیوزی لینڈ کرکٹ کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہوں ہمارے لیے کھلاڑیوں کا تحفظ سب سے اہم ہے ساتھ ہی ،وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا-

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کے پاس بھی کوئی اطلاع نہیں تھی، صرف بہانہ بنایا گیا، اس کے پیچھے کیا ہے آئندہ کچھ روز میں پتا چلے گا۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیاہے جس کی بنیاد پر سیریز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہمارے لیے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے ، موجودہ حالات میں ہمارے پاس یہی آپشن تھا ، پی سی بی نے سیریز کیلئے بہترین میزبانی کی ۔ ہمارے کھلاڑی محفوظ ہیں اور بہترین انتظامات کیئے جارہے ہیں-

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے سابق کپتان مائیکل…

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

  • آپ ﷺ پر درود و سلام کیسے بھیجیں تحریر: محمد آصف شفیق

    آپ ﷺ پر درود و سلام کیسے بھیجیں تحریر: محمد آصف شفیق

    قرآن کریم میں ارشاد  باری تعالیٰ  ہے

    اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۗىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ ۭ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا   56؀

    اللہ اور اس کے ملائکہ نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔(سورۃ الاحزاب 56)

    صحابہ کرام ؓ  نے  نبی کریم ﷺسے پوچھا کہ اے نبی مہربان   ﷺہم  آپ  ﷺ پر درورد و سلام  کیسے بھیجیں  اسی حوالے سے آج  ہم  احادیث کی  روشنی میں جاننے کی کوشش کریں   گے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک بار مجھ پر درود بھیجے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 907)

     

      عبداللہ بن یوسف مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ان کے والد عمرو بن سلیم زرقی حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کیسے پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پڑھا کرو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 627)

    قیس بن حفص موسیٰ بن اسماعیل عبدالواحد بن زیاد ابوقرہ مسلم بن سالم ہمدانی عبداللہ بن عیسیٰ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت کرتے ہیں عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ ملے تو فرمایا کیا میں تمہیں ایسا تحفہ نہ دوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے میں نے عرض کیا ضرور دیجئے انہوں نے کہا ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یعنی اہل بیت پر ہم کس طرح درود پڑھیں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو بتا دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے درود پڑھیں (اب اہل بیت پر درود کا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بتا دیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پڑھو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 628)

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپ کو سلام کرنا تو جانتے ہیں لیکن آپ پر درود کس طرح بھیجیں، آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ ۔

    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1308 

    حضرت عمرو بن سلیم زرقی ابوحمدی ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں، آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ  (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1310)

    یحیی بن یحیی تمیمی، مالک، نعیم بن عبد اللہ، محمد بن عبداللہ بن زید انصاری، عبداللہ بن زید، ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سعد بن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو اللہ تبارک وتعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کیسے درود بھیجیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے یہاں تک ہم تمنا کرنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کا سوال نہ کیا جاتا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم (اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) پڑھو اور سلام تم پہلے معلوم کر چکے ہو۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 902)

    محمد بن عبداللہ بن نمیر، روح، عبداللہ بن نافع، اسحاق بن ابراہیم، روح، مالک بن انس، عبداللہ بن ابی بکر، عمرو بن سلیم حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو (اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) اے اللہ درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور اولاد پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا آل ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج واولاد پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر بے شک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 906)

    حفص بن عمر، شعبہ، حکم بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے (یا لوگوں) نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا حکم ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھیں سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن درود کا طریقہ ہمیں معلوم نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں پڑھا کرو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ(سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 973)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو ہم اہل بیت پر درود بھیجنے کا پورا پورا ثواب پانے کا خواہش مند ہو تو اس کو چاہیے کہ یوں کہا کرے

     اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

    (سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 979)

    حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! تمہارے بہتر دنوں میں سے ایک جمعہ کا دن ہے اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن ان کا انتقال ہوا اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اس دن سب لوگ بیہوش ہوں گے اس لیے اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس طرح پیش کیا جائے گا جب کہ (وفات کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم (اولوں کی طرح) گل کر مٹی ہوجائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے جسموں کو زمین پر حرام قرار دیدیا ہے (یعنی زمین باقی تمام لوگوں کی طرح انبیاء کے اجسام کو نہیں کھاتی اور وہ محفوظ رہتے ہیں۔

    سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1044

     

     

     

     

     

     

  • کالم نگاری کے 5 آسان طریقے۔ تحریر کنزہ صدیق

    قلم اور قلمکار کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے قلم کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اقبال کی قلم ہی مسلمانوں کا شعور جگانے کا سبب بنی اسی طرح قلم اور قلم کار کا رشتہ نہایت ہی گہرا ہے 

    کالم نگار معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔

    کالم نگاری کے شوقین نوجوانوں کے لیے چند نہایت آسان طریقے اور کچھ اصول میں بتانا چاہوں گی جن کی مدد سے کوئی بھی بڑی آسانی سے اپنے خیالات کو لفظوں میں بیان کرسکتا ہے 

    کالم لکھنے کا سب سے پہلا مرحلہ شروع ہوتا ہے ڈائری لکھنے سے۔۔

    جی ہاں آپ کے دماغ میں جب بھی کوئی اچھا سا ٹاپک آئے تو آپ فوراً ہی اسے محفوظ کر لیں ساتھ ساتھ اسی کے متعلق سوچنا بھی شروع کریں 

    بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دماغ میں وہی ٹاپک آتا ہے جو ہمارے اردگرد ہورہا ہوتا ہے لہذا جب بھی آپ اپنے عنوان کے متعلق سوچیں تو زرا اردگرد کے ماحول پہ بھی نظرِ ثانی کریں

    روز ایک ورق لکھئیے دماغ میں خاکہ بنائیے یہ طریقہ آپکو اچھا لکھاری بننے میں مدد دے گا

    دوسرے طریقہ یہ ہے کہ آپ چھوٹی چھوٹی کہانیاں بنائیے ایسی کہانیاں جو موجودہ دور کی عکاسی کرسکیں، آپ سیاسی کہانیوں سے لے کر طنزومزاح سے بھرپور کہانیاں لکھنا شروع کریں آج کل نوجوانوں کو سیاست کا بڑا ہی شوق ہے اسی لیے ملک میں ہونے والے روز مرہ کے معاملات پہ بھی آپ لکھ سکتے ہیں 

    چلیں جی اب بڑھتے ہیں ہمارے تیسرے طریقے کی طرف جوکہ آپ کو ایک اچھا کالم نگار بننے میں مدد دے گا تیسرا طریقہ یہ کہ آپ کسی اچھے کالم نگار کو پڑھنا شروع کریں انکے الفاظ پہ غور کریں الفاظ کے چناو اور انکے معنی و مفہوم پہ غور کریں تاکہ آپ کو سیکھنے میں مدد ملے یاد رکھئیں جب بھی آپ کسی کتاب یا کالم کو پڑھتے ہیں تو آپکے دماغ میں بھی مختلف کردار ابھرتے ہیں جسکی وجہ سے آپکو مختلف آئیڈیاز مل جاتے ہیں 

    چوتھا طریقہ ہے مکالمہ،

    تحریر سکیھنے کا ایک طریقہ فرضی مکالمہ ہے جیسا کہ فرض کر لیجئے کہ دو دوست آپس میں مثبت بحث کر رہے ہیں جس میں ایک چھٹی کے دن کو گھر میں گزارنے پہ بہتر سمجھتا ہے تو دوسرا گھومنے پھرنے کو اہمیت دیتا ہے۔ دو متضاد نظریات یا خیالات کے درمیان موازنہ کرنے سے مزید خیالات جنم لیتے ہیں جسکی وجہ سے تحریر لکھنے مں آسانی ہوتی ہے 

    پانچواں طریقہ اور سب سے اہم یہ کہ مراسلہ اور مکتوب نگاری ہے آپ جو بھی لکھیں اس پہ بڑے غور کرنے کے بعد اسے جانچ لیں بات ہمیشہ مثبت اور مختصر کریں سمجھانے کے لیے الفاظ کا چناو آسان رکھیں تاکہ کسی بھی کلاس کے لوگوں کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو مختصر بامعنی الفاظ سے آپ کے کالم میں خوبصورتی آتی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ مزاح یا شاعری بھی شامل کیجئے تاکہ پڑھنے والے کو مزہ آئے بجائے اسکے کہ وہ بور ہوجائے ۔۔

    میں نے بھی کوشش کی کہ آپ کو سب سے آسان لفظوں میں سمجھا سکوں امید ہے کہ شروعات میں کالم لکھنے کے لیے آپکو ان طریقوں سے مدد ملے گی

    کالم نگاری کا دائرہ کار اور دائرہ عمل اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ اسکی سماجی و سیاسی،تہذیبی،اخلاقی اور ہمہ گیر وسعت سے کون انکار کر سکتا ہے ۔اس کے اعتراف میں اکبر الہ آبادی کا کہنا ہے کہ 

    کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

    جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو۔

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔

  • صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    صحافی اور پولیس تحریر:یاسرشہزادتنولی

    .

    پولیس اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پولیس صحافیوں کی بے حد عزت کرتی ہے۔ چائے پلاتے ہیں ساتھ تصویر بناتے ہیں۔ صحافی اتنے میں پھولے نہ سما پاتے ہیں کہ ہمارے فلاں آفسر کے ساتھ تعلق ،فلاں ایس ایچ او میری بہت قدر اور عزت کرتا ہے۔ اس افسر کا کہنا ہے کہ تمہاری خبریں اور تحریر بہت اچھی ہوتی ہے۔ وہ افسر میرے کام کی بہت تعریف کرتا ہے۔ اس طرح معاشرے کے افراد صحافیوں کی عزت کرنے لگتے ہیں کہ جب کبھی کام ہوا ،تو یہ کام آئے گا۔

    صحافی افسران کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔ افسران کے قصیدے لکھتا ہے۔ ڈکیتی اور چوری کی خبریں شائع کرنے کی بجائے چھپا دیتا ہے۔ پولیس کے ظلم و ستم ، رشوت ستانی، ناانصافی کی خبروں پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بجائے میرٹ کرنے کے خبریں لکھتا ہے ویلڈن ، کرائم فائٹر، دبنگ آفیسر، جرائم کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ۔ صحافی اندر سے ڈرتا بھی ہے کہ پولیس کی نہ تو دوستی اچھی ہوتی ہے، نہ پولیس کی دشمنی اچھی ہوتی ہے۔ کہ ایسا نہ ہو کسی مقدمے میں میرا نام ڈال کر مجھے زلیل وخوار کیا جائے۔

    پولیس والے اچھی سیلری اور فیس لے کر ملک و قوم کی خدمت سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ میں انعامات اور تعریفی اسناد وغیرہ۔ اس کے برعکس صحافی تنخواہ کوئی نہیں، گھر چلانے کے لیے محنت مزدوری، یا چند صحافی ناجائز ذرائع آمدنی۔ رشوت یا فیس نہیں، شیلڈ یا انعام نہیں۔ جتنی مرضی ایمانداری سے چلے ، بلیک میلر ، اور پتہ نہیں کیا کیا الزامات ۔ مطلب گھوڑا کھوتا برابر۔ بلکہ کھوتوں کی تو آج کل سنا ہے زیادہ قدر و منزلت ہے۔

    اب صحافی کو کام پڑ گیا ہے،اپنا یا عزیز یا دوست کا۔ صحافی بڑا خوش ہوتا ہے،دل میں کہ میں نے تو اس آفسر کی بڑی تابعداری کی ہوئی ہے۔ انشاء اللہ جاتے ہی کام ہو جائے گا۔ کام بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ کام بھی جائز ہے ،ناجائز نہیں ہے۔ اب صحافیآافسر کے پاس پہنچ گیا۔ کام سے بھی چھٹی کی ، لینا دینا بھی کچھ نہیں۔ اب افسر پانی یا چائے ،عزت کرے گا۔

    جیسے ہی صحافی کام بتائے گا۔ تو افسر کو یاد آ جاتا ہے کہ اس کام کے تو میں نے پیسے لیے ہوئے ہیں۔ اس مفت خورے نے دینا بھی کچھ نہیں ہے ۔ افسر فوری سوچتا ہے کہ اب اس کو کس طرح ٹالنا ہے۔ سر معاملہ چونکہ اوپر تک نوٹس میں ہے۔ اس لیے میں کچھ نہیں کر سکتا،آپ آ گئے ہیں، آپ سے وعدہ ہے ،میرٹ ہو گا۔ بے فکر ہو کر جائیں۔ یا کہا کہ مدعی کو مطمئن کر لیں ،ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب اسی رات تفتیشی 5 ہزار روپے لے کر بندہ چھوڑ دیتا ہے۔بلکہ مدعی کو ڈرا دھمکا اور بے عزت کر کے راضی نامہ لکھوا دیتا ہے۔ یا کسی تفتیش میں 2 سے 3 بار صحافی جا چکا ہے۔ اب کسی نیچے ملازم کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی بے عزتی کرو ، روایتی طریقہ اختیار کرو، تاکہ ہمارا سر چھوڈ دے۔ ہمیں فیس لے کر گناہ گار اور بے گناہ لکھنے دے۔ کیونکہ نہ اس نے پیسے دینے ہیں،نہ لینے دینے ہیں۔ اور تھانہ کہ آپ کو پتہ ہے کتنے اخراجات ہوتے ہیں۔ پھر صحافی پرچہ ہو جانے پر یا کوئی زیادتی ہو جانے پر پولیس کے کسی بڑے آفسر سے رابطہ کرتا ہے۔ اب بڑے آفسر کو سب پہلے سے ہی علم ہوتا ہے۔ یا وہ کوئی نوٹس نہیں لیتا ہے۔ صحافی سوچتا رہتا ہے کہ میں نے تو اس کی بڑی تابعداری کی تھی۔ زیادہ پریشر آنے پر پرچہ خارج کرنے کے احکامات،یا ریلیف دینے کے فرضی احکامات ۔ لیکن اس کے باوجود طریقہ پاکستانی اور روایتی، جمع قائد اعظم۔ 

    اس سب کے باوجود،صحافی کڑتا رہتا ہے۔ لیکن مجبور ہوتا ہے،ویلڈن کے پی کے پولیس۔ کیونکہ اسے اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ ہمارا دیس پولیس اسٹیٹ ہے۔ اور ہماری باری ان کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ اور وہی کام ٹاؤٹ چند سکوں میں کروا لیتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ یہاں کسی بھی جھوٹ پر مبنی من گھڑت کہانی میں نام آنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ اور کس طرح پیسے لے کر بے گناہ کو گناہ گار اور گناہ گار کو بے گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔ کیونکہ لوگ روازنہ یہ معاملات لے کر اس کے پاس آتے ہیں۔ لیکن وہ خاموش رہتا ہے،کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ ہماری پولیس کسی کو اٹھا کر غائب کر دے اور کچھ بھی کر دے۔ لیکن کچھ نہیں بنتا ، کیونکہ ہمارا ملک پولیس اسٹیٹ ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کس آفسر نے کتنا مال بنایا اور کس قدر تیزی سے ترقی کی ،لیکن وہ خاموش رہتا ہے کیونکہ اس کی باری پولیس کو میرٹ یاد آ جاتا ہے۔ صحافی کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کہاں تک کتنے پیسے پہنچ رہے ہیں، لیکن وہ خاموش رہتا ہے کہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ پولیس کی نہ دوستی اچھی ،نہ دشمنی۔ 

    انصاف بکتا ہے تھانہ کی دکان پر سے

    روٹی خریدوں یا انصاف کس دکان سے

    سوچ رہا ہوں کہ تفتیشی کو فیس دوں

    یا وکیل صاحب کو،لیکن فیصلہ تو ہے مثل پہ

    لعنت ہے ایسے نظام پہ،انصاف ناپید ہے

    مجرم دندناتے ہیں،مسکین کے لیے جیل

    عدالت بھی ہے چلتی تفتیش پہ یارو

    سفارشی پولیس کو پسند نہیں ہیں یارو

    بس پیسے دو اور کام اپنے لو ،ہے شرط

    نام نہیں لو گے ،تو ہر کام ہو جائے گا

    ٹوکن مشین کی طرح چلتا ہے نظام یارو

    پورے ملک کا دستور ہے،بس قائد اعظم یارو

    بات میری مانو اور تم بھی قائد کے اصول اپناٶ۔

  • آئی سی سی، نیوزی لینڈ اور پاکستان تحریر:محمد محسن 

    آئی سی سی، نیوزی لینڈ اور پاکستان تحریر:محمد محسن 

    دنیا کے چند محبوب ترین کھیلوں میں سے ایک کھیل کرکٹ بھی ہے۔ ویسے اگر آپ کرکٹ کا موازنہ دوسری کھیلوں سے کریں تو یہ دنیا میں اتنا مشہور نہیں جتنا اولمپکس یا فٹبال ہیں لیکن پھر بھی اس کا جنون پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ جیسے فٹبال کی گیم کو مینج کرنے کے لیے فیفا نامی ایک اتھارٹی بنائی گئی ہے بالکل اسی طرح کرکٹ کے قواعد و ضوابط بنانے کے لیے ICC نامی ایک اتھارٹی قائم کی گئی ہے جو بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کی مختلف سیریز منعقد کرواتی ہے اور ساتھ ساتھ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کو سزائیں بھی سنائی ہے۔ ICC بنیادی طور پر 1909 میں imperial cricket conference کے نام سے معرضِ وجود میں آئی جو کہ 1965 میں international cricket conference بن گئ اور اب موجودہ دور میں یہ international cricket council کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بنیادی طور پر انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ نے ICC بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ دوسرے ممالک بھی جڑتے گئے اور اپنا اثرورسوخ بڑھاتے گئے جس میں چیدہ مثال انڈیا کی ہے۔ انڈیا، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز تینوں ممالک نے 1926 میں ICC کو جوائن کیا لیکن انڈیا ان تینوں میں سے ICC میں سبقت لے گیا۔ اس وقت ویسے تو ICC کے 12 مستقل ممبرز ہیں لیکن ان میں سے چند ایک ممبرز کی اس اتھارٹی پر اجارہ داری ہے جن میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور انڈیا سرفہرست ہیں۔ 

    اسی ICC کے شیڈول کے مطابق ستمبر 2021 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کی پاکستان کے ساتھ پاکستان میں ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز منعقد ہونا تھی۔ جس میں تین ون ڈے اور پانچ ٹی ٹونٹی میچز کھیلے جانے تھے۔ اس شیڈول کے مطابق نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان میں آئی دو، چار دن پریکٹس کی اور پاکستان نے اپنی فول پروف سکیورٹی مہیا کی جس سے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مطمئن تھے۔ لہزا پہلا میچ ہونے والا تھا، ٹکٹوں کی فرخت ہو چکی تھی، گراؤنڈ میں میڈیا کیمرے لگ چکے تھے اور میچ کی مکمل تیاریاں ہو چکی تھیں کہ اچانک نیوزی لینڈ کی ٹیم کو یہ کہہ کر وطن واپس بلا لیا گیا کہ یہاں سیکورٹی خطرات ہیں۔ پاکستان نے بارہا پوچھا کہ ہماری انٹیلیجنس کے پاس ایسی کوئی رپورٹ نہیں لہزا آپ بے فکر ہو کر کھیلیں لیکن انہوں نے اپنی رٹ لگائے رکھی اور عمران خان کے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو فون کرنے کے باوجود ٹیم واپس چلی گئی۔

    نیوزی لینڈ کی ٹیم تو واپس چلی گئی لیکن وہ یہاں کئ سوالات چھوڑ گئی۔ کیا جب یہاں ان کے پریکٹس میچز چل۔رہے تھے تب یہاں کوئی تھریٹ نہیں تھا؟ کیا جب یہاں پی ایس ایل میں فارن سے کھلاڑی آتے ہیں تب یہاں سب ٹھیک ہوتا ہے؟ اس سیریز کا عین اس وقت کینسل ہونا جب دو دن بعد IPL شروع ہونا ہو کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ شاید دنیا یہ بھول رہی ہے جب انہی ممالک کے فوجی جنہوں کی شہہ پر نیوزی لینڈ کی ٹیم واپس گئی افغانستان سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے تب ان کو سہارا اسی پاکستان نے ہی دیا تھا۔ تب یہ بھاگ بھاگ کر پاکستان آرہے تھے اور پاکستان کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا واپس جانا ایک نئی گیم کا حصہ ہے جو آج کل امریکہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا شروع کرنے جا رہا ہے۔ انڈیا اور اس کے حلیف جتنی مرضی بھونڈی کوششیں کر لیں وہ پاکستان کو ایک پر امن ملک بننے سے نہیں روک سکتے۔ یہ شاید یہ بھی بھول گئے ہیں کہ اسی انگلینڈ کے ایک ادارے نے پچھلے سال پاکستان کو ٹورازم میں بہترین ملک قرار دیا تھا۔ اب جتنا مرضی نیوزی لینڈ اپنی اس حرکت کو کور کرنے کی کوشش کرے یا پاکستان کو کسی دوسرے ملک میں سیریز کروانے کا کہے اس کی یہ دغابازی ICCکی تاریخ میں اس پر ایک بدنما داغ کی طرح اس کے ماتھے پر سجی رہے گی۔ 

  • ہم اہل کفار کے خوف سے اللہ سے جنگ کررہے ہیں تحریر: میاں عبدالمتین

    ہم اہل کفار کے خوف سے اللہ سے جنگ کررہے ہیں تحریر: میاں عبدالمتین

    اللہ تعالی نے سود کو صرف حرام ہی قرار نھیں دیا بلکے اللہ اور اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سود کھانے والوں کے لئے سخت ترین وعیدیں بھی بیان کی ہیں۔

    سود کیوجہ سے بظاہر تو مال و دولت میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اضافہ بے برکتی اور نقصان کا باعث بنتا ہے اور انسان کیلئے کسی ناگہانی آفت کا باعث بنتا ہے۔

    اللہ تعالی نے سود سے دور رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا!

    ( سود قرآن کی روشنی میں )
    آیت نمبر 1..اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اور جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نھیں ہوں گے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شحص جس کو شیطان خبطی بنا دے لپٹ کر (یعنی مدہوش سا)یہ سزا اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے

    ایت نمبر 2..اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں ۔۔
    ( سود احادیث کی روشنی میں )
    حدیث نمبر 1..حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کو ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار (یعنی بھاگنا) اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔”( بخاری)۔۔۔

    حدیث نمبر 2۔۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جس شب مجھے (معراج میں) سیر کرائی گئی، میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جس کے پیٹ کمروں کے مانند تھے، ان میں بہت سے سانپ پیٹوں کے باہر سے دکھائی دے رہے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہنے لگے کہ سود خور ہیں۔”( سنن ابن ماجہ)

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بنکاری بھی شریعت کے مطابق سودی نظام سے پاک ہوگی مگر ان کی رحلت کے بعد پاکستان کفار کے بنائے سودی نظام کی دلدل میں اس طرح دھنستا چلا گیا کہ آج ہم کفار کے پھیلائے جال کی وجہ سے 97 بلین ڈالرز کے مقروض ہوچکے ہیں ہم اس سودی نظام کو اس خوف سے نہیں چھوڑ رہے کہ عالم کفار ہم پر معاشی پابندیاں عائد کردے گا گویہ ہمیں کفار کا تو خوف ہے لیکن اللہ کا خوف نہیں ہے سودی نظام کو اپنا کر ہم نے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم فرقان حمید میں سود کھانے والوں سے اعلانِ جنگ کیا ہے ہم سود خور اللہ سے حالتِ جنگ میں نہیں ہیں؟ بیشک اللہ اس پوری کائنات کا خالق و مالک ہے وہی بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس سے کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا سود خور خسارے میں ہیں اللہ ہمارے حکمرانوں کو قرآن و حدیث کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام چلانے اور ہم عوام کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

    @MateenSpeaks

  • بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے امتحان میں نقل کرانے والا گروہ گرفتار

    بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے امتحان میں نقل کرانے والا گروہ گرفتار

    بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس نے سرکاری ٹیچرز کی بھرتی کے لیے ہونے والے امتحان میں چیٹنگ کرانے والے گروہ کو بے نقاب کردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق راجستھان پولیس نے ریاست بھر میں چھاپے مار کر اس گروہ کے 40 کارندوں کو گرفتار کرلیا، جو چیٹنگ کے لیے چپلوں میں کالنگ آلات نصب کرتے تھے۔

    نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: اعظم خان اور شاہین شاہ آفریدی کو جرمانوں کا سامنا

    رپورٹس کے مطابق بیکانیر شہر میں ایک خاتون سمیت گروہ کے 5 کارندوں کو پکڑا گیا جو امتحان دینے والے امیدواروں کی چپلوں میں بلیو ٹوتھ ڈیوائس لگاتے تھے اور ایک چپلوں کا جوڑا 6 لاکھ روپے میں فروخت کرتے تھے۔

    ویڈیو لیک کے بعد بھی وہ اتنے ڈھیٹ کہ ابھی تک شرمندہ تک نہیں پوئے. زبیر عمر کی…

    چپلوں کے سول میں ایک ننھی سی بیٹری اور ایک سم کارڈ چھپایا جاتا تھا جبکہ امیدوار کے کان میں ننھا سا مائیکرو فون لگایا جاتا تھا جس کے ذریعے وہ سوالات کے جوابات سن کر پرچہ حل کرلیتے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان میں ایک معطل سب انسپکٹر بھی شامل ہے جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جارہے ہیں گرفتار ملزمان سے بلیوٹوتھ ڈیوائسز اور سم کارڈز برآمد کیے گئے ہیں۔

    میرے خلاف جعلی اور تبدیل شدہ ویڈیوز جاری کرنا کوئی سیاست نہیں،محمد زبیر

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ ایک کوچنگ سنٹر کا مالک تلسی رام بتایا جاتا ہے، جو اس سے پہلے بھی نقل کے الزامات میں گرفتار ہوا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اسی کیس میں جب پولیس نے ایک جوڑے کو نقل کے الزام میں گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ اس جوڑے نے اپنی ایپلیکیشنز میں یکساں نام، والدین کے نام، یہاں تک کہ تاریخ پیدائش بھی یکساں لکھی تھی اسی طرح اپنی بیویوں کو چیٹنگ کرانے کے الزام میں 2 پولیس کانسٹیبلز کو بھی معطل کیا گیا۔

    ی آئی اے عملے کی دیانتداری، مسافر کو لاکھوں روپے لوٹا دئیے

  • امن کا نشان ہمارا پاکستان تحریر: سحر عارف

    امن کا نشان ہمارا پاکستان تحریر: سحر عارف

    امن ایک ایسی نایاب چیز ہے جس کی طلب ہر انسان کو ہوتی ہے پر یہ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آتی۔ امن کچھ محنت، جتن اور قربانیاں مانگتی ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان نے ہمیشہ امن و امان کی تمنا کی ہے پر آج تک مکمل طور پر اسے حاصل نہیں کر پایا۔ جہاں پوری دنیا میں آج سب سے بڑا مسئلہ ہی امن کے حصول کا ہے وہیں ہمارا ملک پاکستان بھی امن و امان کا دلی خواہش مند یے۔

    کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ امن کا گہوارہ بن جائے۔ ہمارے دشمنوں نے جب کبھی بات کی تو ہمیشہ جنگ و جدل کی ہی بات کی۔ ان کی ہر چھوٹی بڑی بات اور اختلاف اسی جنگ جیسی چیز پر آکر رکتا ہے۔ کبھی جنگ وجدل کی دھمکیاں دیتا ہے تو کبھی پورے غرور کے ساتھ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے معصوم جانوں کے خون سے کھیلتا ہے۔

    ان کا یقین اس بات پر ہے کہ جب وہ خوف و ہراس پھیلا کر پاکستان کو ہر محاذ پر شکست دے سکتے ہیں تو پھر امن م کی جانب آئیں ہی کیوں ۔ پر اس کے برعکس پاکستان کا اس بات پر کامل یقین ہے کہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب سے اہم چیز امن و آشتی ہے۔ لڑائی جھگڑوں، نفرتیں پھلانے اور جنگ وجدل جیسی چیزوں سے سوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی وجہ سے آج پوری دنیا اس بات کی چشم دید گواہ ہے کہ پاکستان کو جب، جہاں اور جیسے موقع ملا اس نے امن کا پیغام دینے میں پہل کی۔

    کبھی جنگ و جدل میں پہل نہیں کی بلکہ ہمیشہ اس کا اختتام ضرور کیا۔ جب کبھی دشمن نے پاکستان کی پیٹھ پیچھے وار کرنا چاہا تو ہمارے ملک کے محافظوں نے اس کا مقابلہ بھی کیا پر ساتھ ہی امن کو فروغ دینے کی بھی بات کی۔ ابھی دو سال قبل 2019 کی ہی مثال لے لیں کہ کس طرح بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن وردھمان کا جہاز فضائی حملے کے دوران پاکستان کی حدود میں آکر گرا تو پاک فوج نے اس پائلٹ کی کس قدر مہمان نوازی کی۔

    یہ جانتے ہوئے بھی کہ خدا نخواستہ اگر ایسا کچھ پاکستانی فضائیہ کے کسی پائلٹ کے ساتھ ہوتا تو بھارت اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتا۔ جو کبوتروں اور غباروں تک کو نہیں بخشتا وہ اس معصوم کے ساتھ ناجانے کیا کیا کرتا۔ خیر تین دن تک ابھی نندن کی مہمان نوازی کرنے کے بعد اسے باعزت طریقے سے بھارت کے حوالے کر دیا گیا جہاں پہنچتے ہی ابھی نندن نے ناصرف چائے کی تعریف کی ساتھ ہی اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان واقع ہی امن کا حقیقی خواہش مند ہے۔

    بے شک یہ تمام مناظر پوری دنیا نے دیکھے اور پاکستان کے اس اقدام کو دنیا بھر میں سراہا بھی گیا۔ بات صرف یہی ختم نہیں ہوتی پاکستان نے تو امن کے لیے بھارت کی طرف ایک اور قدم بھی بڑھایا جس کی وجہ سے سکھوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھول دیا گیا اور انھیں بغیر کسی ویزے اور پریشانی کے گرودوارہ میں آنے کی اجازت دے دی گئی۔ جس کے لیے سکھ یاتریوں نے برسوں انتظار کیا تھا۔

    پاکستان کے اس اقدام سے سکھوں میں خوشی کی ایک نئ لہر دوڑی تو وہیں انھوں نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان درحقیقت خطے میں امن و سلامتی چاہتا یے۔ اس کے علاؤہ کشمیر کے مسئلے پر بھی بھارت کو پاکستان کی جانب سے بار بار یہ پیغام دیا جاتا رہا اور ابھی بھی دیا جارہا ہے کہ وہ آئیں اور مل بیٹھ کر اس مسئلے کے حل کی بات کریں۔ کیونکہ ہم خطے میں امن و امان چاہتے ہیں۔ پر افسوس بھارت اب بھی چپ سادھے ہوئے ہے اور کسی بھی حوالے سے امن کی بات کرنے سے گریزاں ہے۔

    @SeharSulehri

  • انڈیا امن کا دشمن تحریر : نواب فیصل اعوان

    انڈیا امن کا دشمن تحریر : نواب فیصل اعوان

    بھارت شروع دن سے آج تک پاکستان کی مخالفت ہی کرتا آیا ہے چاہے وہ عالمی سطح پہ ہو ملکی سطح پہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے امن کو تباہ کرنے میں کوٸ کسر نہیں چھوڑی ۔
    بھارتی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت نے ستر سال سے زاٸد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کشمیر پہ اپنا ناجاٸز تسلط برقرار رکھا ہوا ہے ۔
    اقوام متحدہ میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف کٸ بار قراردادیں منظور ہوٸیں مگر اقوام عالم ان قراردادوں پہ عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے ۔
    پاکستان نے کٸ بار بھارت کو بے نقاب کیا ہے چاہے وہ افغانستان سے بیٹھ کے پاکستان پہ دہشتگردانہ کارواٸیاں کرانے کا معاملہ ہو یا بلوچستان کے حالات خراب کرنے کیلۓ باغی بلوچوں کو فنڈنگ کا معاملہ ہو پاکستان اس معاملے کو اقوام عالم تک پہنچاتا رہا ہے ۔
    بھارت نے پاکستان کو غیر محفوظ اور غیر مستحکم کرنے کیلۓ سوشل میڈیا پہ بھی انڈین کرونیکلز کی شکل میں پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پہ ایک منظم نیٹ ورک چلایا پے جو ڈس انفو ویب نے بے نقاب کیا ۔
    پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ کیلۓ غیرمحفوظ ثابت کرنے کیلۓ بھارت سری لنکن ٹیم پہ بھی حملے میں ملوث رہا ہے ۔
    حال ہی میں جس طرح پاکستان کو بین الاقوامی سطح پہ نیچا دکھانے کی جو کوشش کی گٸ الحَمْدُ ِلله پاکستان کے ریاستی اداروں نے بہترین کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ انڈیا کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ۔
    بھارت کی جانب سے نیوزی لینڈ ٹیم کو ہراسمنٹ ای میل بھیجنے کے معاملے سے سب بخوبی آگاہ ہیں کہ کس طرح گپٹیل کی بیوی کو مسلمان کے نام سے ای میل بنا کے دھمکی دی گٸ کہ اس کے شوہر کو پاکستان میں قتل کر دیا جاۓ گا ۔
    پاکستان و نیوزی لینڈ کی سیریز کا ملتوی ہونا اسی کی ہی کڑی پے ۔
    حالانکہ سیکیورٹی کے بہترین انتظامات ہونے کے باوجود نیوزی لینڈ کا سیریز منسوخ کر کے جانا جہاں ان کی ٹیم کو نان پروفیشنل بنا گیا وہیں ریاستی اداروں کی دو دن کی محنت سے اس فیک ای میل کے پیچھے بھارت کا نکلنا دنیا کیلۓ المیہ ۔
    نیوزی لینڈ کے دورے سے قبل سکیورٹی کے انتظامات چیک کرنے کیلۓ جو وفد آیا تھا اس نے پاکستان کے سکیورٹی کے بہترین انتظامات کو سراہا تھا مگر اچانک سیریز کا ملتوی ہونا ایک بین الاقوامی سازش ہے ۔
    کیا بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آۓ گا ۔؟
    یہ وہ سوال ہے جو قبل از وقت تو نہیں ہے مگر عالمی فورم پہ بھارتی موجودگی میں پوچھا ضرور جاۓ ۔
    دنیا جانتی ہے کہ بھارت ایک انتہا پسند ملک ہے جہاں اقلیتیوں کو برابری کے حقوق حاصل نہیں ہیں ۔
    بھارت کو دنیا لگام دے کیونکہ یہ دنیا کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ..
    موجودہ دور میں جس طرح بھارت پاکستان سے دشمنی کو فروغ دے رہا ہے وہ ہماری آنے والی نسلوں کیلۓ بہت بھیانک ثابت ہو سکتا ہے ۔
    اس وقت جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں جو کہ خطے میں قیام امن کیلۓ مثبت رویہ نہیں ہے ۔
    بھارت پاکستان دشمنی میں اس قدر آگے نکل گیا پے کہ وہ اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ اسلحے کی خرید کیلۓ مختص کرتا ہے ۔
    بھارت کا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں ہے اس کا واضع ثبوت یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل دو بھارتی باشندے یورینیم کو مارکیٹ میں فروخت کرتے دھر لیۓ گیۓ جب کہ عالمی دنیا اس معاملے پہ شفاف تحقیقات کو یقینی بناتی پر خاموشی سوالیہ نشان ہے ۔؟
    کیا بھارت اقوام عالم سے سنبھالا نہیں جا رہا ۔؟
    جنوبی ایشیا میں امن تب تک قاٸم نہیں ہو سکتا جب تک بھارت مسلہ کشمیر کے پرامن حل پہ راضی نہیں ہوتا ۔
    اگر دنیا چاہتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے سے جنگ کرنے سے باز رہیں تو اقوام عالم بھارت کو باور راۓ کہ وہ مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پیش نظر عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوۓ حل کرے اور کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلاۓ ۔
    اقوام عالم بھارت کو پاکستان کے اندرونی و بیرونی معاملات میں مداخلت سے بھی باز رکھے ورنہ خطے میں حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں ۔

    @NawabFebi

  • شوگر تحریر: فرح بیگم

    شوگر تحریر: فرح بیگم

    شوگر ایک ایسی بیماری ہے تو تا حیات رہتی ہے ۔یہ بیماری ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لا حق ہو سکتی ہے ۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجودہ گلوکوز کو حل کر کے خون میں شامل نہیں ہوتا ۔جس کی وجہہ سے دل کے دورے ، گردے فیل ، نا بینا پن ، پاؤں کٹنے کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ اس وقت پاکستان کا ہر چوتھا بندا ڈیبیٹس کا شکار ہے ۔ شوگر کی بیماری سے ہر سال ڈیڑھ لاکھ پاکستانی معذور ہے۔یہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے ۔اور اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ 22لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہیں ۔ عالمی صحت کے مطابق یہ بیماری آج سے 4 سال پہلے کے مطابق 4 گناہ زیادہ ہے ۔ کیوں کہ ہر چار میں سے ایک فرد کو یہ بیماری لازمی ہے۔اور یہ بڑھتی ہی چلے جا رہی ہے ۔ یہاں تک کہ شوگر پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہہ بھی ہے ۔
    شوگر کی وجہہ یہ ہے کہ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس اور گلوگوز میں بدل دیتا ہے جس کے بعد پینکریاز میں ہارمون انسولین ہمارے جسم کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانا رہنے کے لیے اس شکر کو اپنے اندر جذب کرے۔ شوگر تب لا حق ہوتی ہے جب انسولین سہی مقدار میں نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے ۔جس کی وجہہ سی شوگر ہمارے اندر جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ شوگر کی کہیں اقسام ہیں ۔ٹائپ ون ڈیبیٹس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتی ہے ۔ جس کی وجہہ سے شوگر خون میں جمع ہونا شروع ہوتی ہے ۔ سائنس دان بھی اس کا حل نہیں نکال سکے انکا کہنا تھا کہ یہ کوئی جینیاتی اثر کی وجہ سی ہے ۔شوگر کے زیادہ تر مریض ٹائپ ون کا شکار ہیں ۔ ٹائپ ٹو میں لبلبہ ضرورت کے مطابق یا تو انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا.
    کچھ حاملہ خواتین کو ڈیبیٹس ہو جاتی ہے ۔اس کی وجہہ یہ ہے کہ انکا جسم ان کے لیے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا ۔ ایک اندازے کے مطابق 6 سے 16 فیصد خواتین کو حمل کے دوران شوگر ہو جاتی ہے ۔ وہ خواتین وازش کے ذریعے اسکو ختم کر سکتی ہیں ۔تا کہ اسکو ٹائپ ون میں جانے کے لیے روکا جا سکے ۔اگر لوگوں کو بڑھتی ہوئی گلولوز کے بارے میں بتا کر انکی مدد کر سکتے ہیں ۔ اگر علامات کی بات کی جائے تو سستی اور پیاس کا زیادہ لگنا، پیشاب زیادہ آنا، وزن کم ہونا، نظر کم آنا، زخموں کا نہ بھرنا شوگر کی علامت ہے. شوگر کا زیادہ انحصار جینیاتی اور ماحول پر ہوتا ہے۔ لیکن اپ اپنے آپ کو صحت مند غذا اور چست ذندگی اپنا کر رہ سکتے ہیں ۔ میٹھے کھانوں اور شربتوں سے اجتناب کریں۔ سفید روٹی کی بجاۓ خالض اٹے کا استعمال کریں ۔صحت مند غذاؤں میں پھل ، سبزی کا استعمال کریں۔ جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے لیول کو کم کرتی ہے ۔ برطانیہ میں این ایچ ایس کے مطابق ہفتے میں کم از کم تیز چل قدمی اور سیڑھی چڑھنا مفید ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اسکا ذمدار غربت کو کہا گیا ہے ۔

    Twitter Id: @iam_farha