دنیا میں اب تک ٹوٹل 212 سلطنتیں گزر چکی ہیں ان میں سب سے بڑی اور طویل ترین سلطنت سلطنت برطانیہ ہے اور سلطنت برطانیہ ہی وہ ایسی سلطنت ہے جو لمبے عرصے تک عالمی طاقت رہی ایک اندازے کے مطابق 1921 میں یہ عروج کے دور میں 33 ملین مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی یاد رہے پاکستان کا رقبہ 796096 مربع میل ہے سلطنت برطانیہ میں اس وقت 45 کروڑ اسی لاکھ لوگ آباد تھے یہ اس وقت کی عالمی آبادی کا چالیس فیصد بنتے تھے یہ اتنی وسیع و عریض تھی کہ ایک اندازے کے مطابق سو سال یا اس سے بھی زیادہ وقت سلطنت برطانیہ میں سورج غروب نہیں ہوا تھا کیونکہ یہ اس وقت دنیا کے پانچوں آباد براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی سلطنت برطانیہ کا آغاز 1591 میں آئرلینڈ سے ہوا اس سلطنت برطانیہ کے تیزی سے پھیلنے کی ایک وجہ ایسٹ انڈیا کمپنی بھی تھی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ابتدا 16 ویں صدی میں ملکہ ایلزبتھ ون کے دور میں باحیثیت تجارتی کمپنی ہوئی اس کا مقصد بر صغیر کے ساتھ تجارت کرنا تھی مغل سلطنت کے بعد برصغیر میں میں جو خلا پیدا ہوا اسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورا کیا اور اس کے بعد 1857 میں برصغیر مکمل طور پر سلطنت برطانیہ کا حصہ بن چکا تھا اس کے بعد اٹھارہ سو اٹھاون میں میں ملکہ وکٹوریہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک سو بیس سال بعد ختم کر دیا اور ہندوستان کو باضابطہ طور پر پر سلطنت برطانیہ کی کالونی بنا دیا اور ملکہ وکٹوریہ قیصر ہند بن گئی ملکہ وکٹوریہ نےبرطانیہ پر 64 سال حکومت کی اور ان کے دور حکومت میں سلطنت برطانیہ اپنے عروج پر تھی سلطنت برطانیہ کے اثرورسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی افریقہ آسٹریلیا امریکہ وغیرہ میں ان کے مقامی لوگوں سے گورو کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے جبکہ اس سلطنت سے پہلے ان جگہوں پر گوروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ملکہ وکٹوریہ 22 جنوری 1901 کو انتقال کر گئیں اس کے بعد ایڈورڈ ہفتم تخت نشین ہوگیا ملکہ وکٹوریا 22 جنوری 1901 سے نو ستمبر 2015 تک سلطنت برطانیہ کی طویل ترین عہد حکومت وقت کے لحاظ سے سرفہرست رہی بعد ازاں 9 ستمبر 2015 کو یہ ریکارڈ ملکہ ایلزبتھ دوم کو حاصل ہوگیا ابتدا کی طرح سلطنت برطانیہ کا زوال بھی آئرلینڈ سے ہی 1922 میں شروع ہوا اس کے بعد 1947 میں برصغیر کا علاقہ پاک و ہند بھی علیحدہ ہو گیا کیونکہ برصغیر پاک و ہند میں بہت زیادہ دہ ظلم و ستم شروع ہوگئے تھے یو آہستہ آہستہ کر کے سلطنت برطانیہ کم ہوتی گئی اس کے بعد ذکر کرتے ہیں مسلمانوں کی مشہور ترین سلطنت سلطنت عثمانیہ جس کو خلافت عثمانیہ بھی کہتے ہیں اس فہرست میں اس کا 24 وا نمبر ہے یہ سلطنت بھی تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی ان کے علاوہ عظیم سلطنتوں میں خلافت عباسیہ خلافت راشدہ مغلیہ سلطنت سلجوقی سلطنت بیزنٹائن سلطنت ایوبی امیر تیمور کی تیموری سلطنت جس نے پندرہویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کو جب وہ اپنے عروج پر تھی شکست دی اور سلطنت عثمانیہ کے سلطان کو اپنے قید میں کردیا بعد ازاں ا میر تیمور نے نے عثمانی سلطان کو قتل کر دیا لیکن اس کے بعد امیر تیمور سلطنت عثمانیہ کے اوپر حکمرانی نہیں کرنا چاہتا تھا اور وہ واپس اپنی تیموری سلطنت میں لوٹ گیا اس کے تین سال بعد امیر تیمور کا بھی انتقال ہو گیا اس کے علاوہ لاطینی اور قرطبہ خاندان مشہور سلطنتیں شمار ہوتی ہیں جو کہ اپنے رقبے اور حکمرانی کی وجہ سے دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی تھی
Twitter: Ali_AJKPTI
Category: بلاگ
-

دنیا کی عظیم ترین سلطنتیں تحریر علی اصغر خان
-

دور جدیدایک وبال؛ تحریر؛ غلام مرتضی
آج کل چونکہ جدید دور ہے اور ہر کوئی گزرتے وقت کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے ۔جس میں ہر کوئی خود کو دوسرے سے بہتر دیکھنا چاہتا ہے ۔لڑکے اچھی ملازمت چاہتے ہیں ،دوسروں سے زیادہ كمانا چاہتے ہیں ،خود کو دوسرے سے اچھی پوسٹ پر اور اونچا دیکھنا چاہتے ہیں ۔جبکہ لڑكياں بھی اس ریس میں پیچھے نہیں وه خود کو کسی سے كمتر تسلیم نہیں کر سکتیں ۔لڑکیاں نئے سے نئے ڈیزائن کے اور برینڈیڈ کپڑے پھننا چاہتی ہیں جبکہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔
اس زمانے کی بڑھتی رفتار میں کوئی بھی پیچھے نہیں ہے چاہے وه مرد ہو یا عورت ،بوڑھے ہوں یا بچے ۔بچے اچھی تعلیم کے لئے اچھے ادارے جانے کا خواب رکھتے ہیں ۔جبکہ بوڑھے پاركس میں جانے اور واک وغیرہ کرنے میں ٹھیک رهتے ہیں ۔وه بھی نئے دور کی سہولتوں سے آراسته ہونا چاہتے ہیں ۔وه بھی وہیل چئیر اور موبائل فون کی سهولت بروئے کار لاتے نظر آتے ہیں۔ والدین کی خواہش ہے کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ کر ان کا نام روشن کریں ۔اگر کوئی کھیل کے میدان میں اگے بڑھ رہا ہے تو وہ اپنے بچوں کو بھی وہی کرنے کا کہتے ہیں ۔چونکہ آج کل فیشن کا دور ہے تو کچھ مائیں خود کو زمانے کے برابر دیکھنے کے لئے اپنی بچیوں کو بھی ویسے ہی تنگ لباس خرید کر دیتی ہیں تا کہ وہ کسی سے کم نہ لگیں ۔جب کہ اسلام ہمیں پردے کا درس دیتا ہے ۔یہی کچھ لڑکیاں اپنے انھیں ارادوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے والدین کے خلاف بھی ہو جاتی ہیں اور انہیں اپنا دشمن سمجھتی ہیں ۔
ایک زمانہ تھا میلے لگتے تھے اور وہاں سادے لوگ اپنی اپنی خوشیاں سمیٹتے تھے ۔لیکن اب دعوتیں ہوتی ہیں جس میں ہر کوئی خود کو دوسرے سے الگ اور بہتر دیکھنا چاہتا ہے ۔کوئی عورت دوسری عورت کو اپنے سے بہتر برداشت کر ہی نہیں سکتی ۔
پہلے پہلے مائیں اپنے بچوں کو اپنی گود میں تربیت دیتی تھیں لیکن اب یھاں بچا پیدا ہوتا ہے بولنے کے قابل ہوتے ہی اسے موبائل فون تهما دیا جاتا ہے ۔جس سے بچے کی اچھی پرورش نہیں ہو پاتی ۔
رخ کرتے ہیں جدید دور کے ایک بڑےمسئلے کی طرف جسے (fame) کہتے ہیں ۔اسے پانے کے لیۓ کوئی بھی کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔جیسا کہ آپ میں سے کوئی ایسا نہیں جو ٹک ٹاک جیسی بے هوده ایپ سے متعارف نہ ہو یہی کافی نوجوان اپنی لگن اور محنت سے کامیاب ہوئے پر کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہنر نہ رکھنے پر فحاشی کا سہاره لے رہے ہیں اور بےہوده حر کتیں کرتے دكهائی دیتے ہیں ۔جو کہ باقی نسل کو بھی خراب کر رہے ہیں ۔لڑکے ہوں یا لڑكياں کوئی پیچھے نہیں اس دوڑ میں ۔لڑکیاں الگ الگ طریقوں سے مشہور ہونا چاہتی ہیں جبکہ اپنا پرده تک بھول بیٹھی ہیں ۔وه لڑکیاں جو اسلام کی شہزادياں ہیں وه خود کو مغرب کی پرياں سمجھتی ہیں ۔
جبکہ لڑکے عجیب حرکتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔خدا نے مرد بنایا اپنے خاندان کی رہنمائی کے لیۓ ،عورت کی عزت کے لیۓ ۔مرد کی شان اسکی مونچھیں اور داڑھی ہوتی ہیں ۔مرد کی بارعب آواز پورے گھر میں دهات بٹھائے رکھتی ہے ۔جبکہ آج کل کچھ لڑکے مرد بن کر راضی نہیں اور میك اپ میں خوش رهتے ہیں ۔کئی لڑکے مشہور ہونے کے لئے داڑھی مونچھ ہٹوا کر لپ اسٹک لگانے کو عظیم سمجھتے ہیں اور بڑے بال رکھ کر اپنی مردانگی پر ایک دهبا لگا رہے ہیں ۔جس پر ان کے والدین بھی خاموشی تانے ہوئے ہیں ۔حال ہی کی ایک خبر ہے کہ لاہور میں ایک باپ نے اپنی بیٹی کو ٹک ٹاک جیسے وبال سے دور رهنے کا کہا جس پر لڑکی سے اپنے باپ کو مارا۔مزاحمت کرنے پر باپ نے بیٹی کو كمرے میں بند کیا جس پر بیٹی نے پورے گھر میں آگ لگا دی ۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس نشے میں دهت ہو چکی ہے ۔
اب آپ بھی خوب واقف ہیں اس دور سے ۔جس سے ہر عقلمند انسان پناہ چاہتا ہے ۔بے شک اب انسان کے لیۓ ہر کام آسان ہے لیکن یہی کچھ آسانياں ایسی بھی ہیں جو ہمارے لیے بہتر ثابت نہیں ہو سکیں ۔نوجوان نسل کو اپنے اور ملک کے دفاع کے لیۓ وه کام کرنا چاہیے جو دشمن کو پست کرے ناکہ ایسی حركات سے ملک و قوم کا نام برباد کرنا چاہیے ۔اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی میں سرعام منشیات کا استعمال جاری ہے جو کہ ہمارے لیے شرم کا باعث ہے ۔
اس میں کافی ہاتھ والدین کا بھی ہے جو کہیں نا کہیں اپنی اولاد کی تربيت میں كمي چھوڑ دیتے ہیں ۔یا پھر ان پر دھیان نہیں دیتے جس وجہ سے وه بری صحبت میں پڑ جاتے ہیں ۔آج ہم ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں کہ باہر پرده کر کے نکلنے کو جهالت سمجھا جاتا ہے اور فحاش لوگوں کو ماڈرن ۔بہرحال کوئی بھی انسان دوسرے جیسا نہیں اگر کوئی کہے کہ سب ایک ہیں تو یہ سراسر ناانصافی ہو گی ۔کیونکہ ایک مچهلی پورے تالاب کو گنده کرتی ہے اسی طرح چند ایسے لوگ ہمارے معا شرے کی تباہی کا باعث بنتے ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو دیکھتے ہی انہیں سمجھائیں کیونکہ باقی نسل پر ان کا منفی اثر پڑ رہا ہے ۔ یہ ہماری نسل کی بقا کی جنگ ہے جو ہم سب کو مل کر لڑنی ہے۔ اگر ہم سب اپنے حصّے کا کام کریں گے تو ضرور اس وبال پر قابو پا لیں گے ۔ -

بدنام معاشرہ تحریر: رانا محمد جنید
کسی بھی معاشرے کی صحت کے لیے اس میں امانت، دیانت اور شرم وحیا کا پایاجانا بہت ضروری ہے۔ اور یہی عناصر کیسی معاشرے کی ترقی کا سسب بھی بنتے ہیں اور جب یہ عناصر کیسی معاشرے سے ختم ہو جاتے ہیں تو وہ معاشرہ تباہی کی جانب گامزن ہو جاتا ہے. جب کوئی قوم یا معاشرہ مالی اور بد فعلی کی راہ روی پہ چل پڑتا ہے تو وہ تباہ ہو جاتا ہے اور قرآن مجید میں اس کی بہترین مثالیں موجود ہیں.
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ایل دوسرے کا حق چھین لیا اپنے لیے فخر کی بات سمجھا کرتی تھی اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ذریعے انہیں سراط مستقیم پہ آنے کی دعوت دی پر ان پر کوئی اثر نا ہوا، جس کے بعد اللہ پاک نے ان پر چمگادڑ کا عذاب نازل فرمایا اور اس قوم کو تباہ کر دیا.
ایسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جنسی راہ روی کا شکار تھی حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اس چیز سے باز رہنے کی تلقین کی پر وہ اس برائی میں دھنستے چلے گئے پھر اللہ پاک نے فرشتوں کی ایک جماعت کو ان کی طرف انسانی شکل میں بھیجا اور قوم لوط نے اس کو بھی اپنی برائی میں شامل کرنا چاہا پر اس سے پہلے وہ کچھ کرتے اللہ پاک کے حکم سے فرشتوں نے پوری بستی کو الٹ کر زمین پہ دے مارا اور پھر آسمان سے پتھروں کی بارش کی جس سے قوم لوط ماری گئی اور حضرت لوط علیہ السلام اپنے ماننے والوں کو لے کر چلے گئے تھے
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فقط برائی کے ارتکاب سے نہیں روکا بلکہ برائی کے قریب تک جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 32 میں ارشاد فرماتے ہیں:
”اور زنا کے قریب نہ جاؤ ‘ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے”۔
ہمارا پیارے دین اسلام ہر ایک جاندار ہے حقوق سکھاتا ہے مگر افسوس کی بات ہے کیسی دوسرے کے تو کیا انسان خود اپنی ہم جنس کو بھی اس کے حقوق دینے اور اس کی حفاظت کے لیے تیار نہیں
ہمارا معاشرہ اس قدر بگڑ چکا ہے کہ اب یہاں ہر کوئی اپنی عزت کی پروا کرتا ہے اور دوسروں کی عزت کا خیال نہیں
یہاں پر عورت کو اب صرف ایک گوشت کا ٹکڑا سمجھا جاتا ہے جیسے اپنی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کچھ بھی نہیں
حال ہی میں کچھ ایسے ہی واقعات ہمیں دیکھنے کو ملے جو روح کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے چاہے وہ قصور کی زینب ہو یا سانحہ موٹر وے، نور مقدم کیس ہو یا سانحہ منار پاکستان ان واقعات سے ہمارے معاشرے کی بس حالی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے ہم کس طرف جا رہے ہیں
اگر ان واقعات کو نا روکا گیا تو ممکن ہے چند سالوں بعد ہر گھر میں زینب جیسی بچی کی عزت روند دی جائے گی.
ہم سب مسلمان ہیں اور ہم اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں تو ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں ہر عمل کریں اور اپنے معاشرے سے برائی کو ختم کر سکیں
قرآن مجید برائی کو روکنے کے لیے چند اصول بیان کرتا ہے جو ہر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہیں
مرد اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھیں
عورتیں اپنی نگاہوں کو جھکائیں اور اپنے وجود کو ڈھانپیں۔
بے نکاح لوگوں کا نکا ح کیا جائے۔
کسی کے گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت لی جائے۔
ظہر اورعشاء کے بعد اور فجر سے پہلے گھریلو کمروں میں ملازم اور بچے بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔
تہمت لگانے والوں کو سخت سزا دی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے والدین، اساتذہ، علماء کرام اور ریاست کا فرض بنتا ہے کے وہ اس برائی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں
والدین اپنے بچوں کی اچھی طرح سے پرورش کریں اور انہیں ہر برائی اور اچھائی میں فرق کرنے کا بتائیں اور ان کی مصروفیات ہر نظر رکھیں
اساتذہ کو چاہیے کے وہ اہنا نظام تعلیم اس طرح کا بنائیں کے جو برائی کے خاتمے کا سبب بنے ناکہ اس کو اور زیادہ ہوا دے، اور بچوں کو اس برائی کے مثبت نتائج سے آگاہ کریں
اور یہاں ریاست کا اہم کردار ہوتا ہے کے فحاشی پھیلانے والے ذرائع بند کرے اور وہ اسے قانون بنائے جن میں ملزمان کو جلد از جلد اس کے گناہوں کی سزا دی جا سکے تاکہ دوسرے ان اے عبرت حاصل کریں
اگر مذکورہ بالا تدابیر کو اختیار کر لیا جائے تو یقینا معاشرہ طاہر اور مطہر معاشرے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو برائی سے بچ کر شرم وحیا والی زندگی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
آمین !@Durre_ki_jan
-
جمعہ کی فضیلت : تحریر : فرح بیگم
جمعہ کی فضیلت :
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے ، اور اللّه کے نزدیک سب سے بڑا دن ہے ۔” جمعہ کا دن اللّه کے نزدیک عید الفطر اور عید الاضحیٰ سی بھی بڑھ کر ہے ۔ جمعہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "جمع ہونا ہے ”
اس دن ہی حضرت آدم ع کی اولاد جمع کی جائے گی ،حضرت آدم ع اور حضرت حوا ع زمین پر اسی روز ہی ملے تھے ۔ اس دن میں ہی انکو وفات بھی دی اور اس دن قیامت بھی اے گی ۔ حدیث میں جمعہ کے کہی ناموں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ سید الایام (دنوں کا سردار ) ، خیر الایام (بہترین دن ) ، افضل الایام (فضیلت والا دن ) ، عید المومنین ( مومنوں کا دن) ۔ جمعہ ایک اسلامی اصطلاح ہے ۔ یہودیوں کے لیے ہفتے کا دن عبادت کے لیے مقرر تھا کیوں کہ اس دن بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تھی ۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودی سے الگ کرنے کے لیے اتوار کا دن خود با خود مقرر کیا تھا ۔اس بات کا حکم نہ حضرت عیسیٰ ع نے دیا نہ انکی کتاب نے ۔ اسلام نے اپنی ملت کو ہمیشہ ممتاز رکھا ہے اور جمعہ کے دن کا انتحاب کیا ہے عبادت کے لیے ۔ اس لیے جمعہ کو عید کا دن کہا جاتا ہے ۔حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس دن تمہارے باپ آدم ع پیدا ہے ، اور اس دن ہی صور پھونکا جائے گا اور اس دن ہی لوگ قبروں سے اٹھاییں جائے گے ۔ اور اس دن ہی سب کی پکڑ ہوگی "۔ حضرت امام سے راویت ہے کہ انہوں نے فرمایا جمعہ کا مطلب لیلتہ القدر سے بھی زیادہ ہے ۔جمعہ کا دن سارے دنوں سے افضل ہے ۔ ہر مسلمان کو چاہیئے جمعہ کے دن لازمی غسل کرے ، اپنے سر کے بالوں کو اور جسم کو خوب صاف رکھے ، مسواک کرے ، ، عمدہ کپڑے پہنے ، ناخن کاٹے، خوشو بو لگائے وغیرہ ۔ ارشاد مبارک ہے جو شخص جمعہ کے دن اچھے سی غسل کرے گا ،اپنے آپکو پاک صاف رکھے گا اور وقت پر مسجد جائے گا تو اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی ، اور جو اس کے بعد دوسری ساعت میں گیا تو اس نے گاۓ کی قربانی دے اور جو تیسری ساعت میں گیا اس نے مینڈک کی قربانی دی اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے ایک انڈے کا صدقہ دیا ۔ جب خطبہ دینے کے لیے خطیب نکلتا ہے تو فرشتے مسجد کا دروازہ چھوڑ دیتے ہیں ۔اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آ بیٹھتے ہیں ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی فضیلت کو بیان کرتے ہوے فرمایا کہ اس میں ایک ایسی گڑھی ہے جس میں ایک مسلمان جو نماز کا پابند ہو اللّه سے جو بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو عطاء کرتا ہے ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس مرد نے گھر میں جمعہ کی نماز ادا کی دل کرتا ہے میں اس کے گھر کو جلا دوں "۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ مبارک لال ہو جاتی تھی ، آواز بلند ہو جاتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے میں صحابہ کو اسلام کی تعلمیات دیتے تھے ۔حضرت جبر فرماتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز معتدل ہوتی تھی اور خطبہ بھی معتدل ہوتا تھا ۔ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے اور پھر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے ۔ جمعہ کے خطبہ کی آرام اور سکون سے سنانا چاہیئے ۔ تا کہ روحانی فائدہ ہو سکے ۔
جمعہ کے دن جو دعا مانگی جائے وہ ضرور پوری ہوتی ہے ۔ مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جمعہ کی نماز لازمی ادا کرے اور لوگوں کو بھی اس کی ترگیب دے ۔Twitter id: @iam_farha
-

حضرت مولانا شیخ الہند محمودالحسن قدس سرہ کی حالات) تحریر:تعریف اللہ عفی عنه
شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی رح ۱۲۶۸ بمطابق 1851 کو بریلی میں پیدا ہوئے۰ آپ رحمہ اللہ کے والد ماجد مولانا ذوالفقار علی رح ایک جید عالم تھے۰
أپ رحمہ اللہ کا شجرہ نسب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنه سے جاکر ملتا ہے۰
آپ رح نے قرآن پاک کا کچھ حصہ اور ابتدائی کتابیں مولانا عبدالطیف رح سے پڑھیں۰
ابھی آپ رح قدوری تہذیب وغیرہ پڑھ رہے تھے کہ ۱۲۸۳ میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح نے دارالعلوم دیوبند قائم کیا ۰آپ رح اس مدرسہ کے پہلے طالب علم بنے۰ ۱۲۸۶ میں آپ کتب صحاح ستہ کی تکمیل کرکےفارغ التحصیل ہوئے ۰ حدیث میں آپ رح کو مولانا قاسم نانوتوی رح مولانا یعقوب نانوتوی رح کے علاوہ قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی رح اور مولانا شاہ عبدالغنی رح سے بھی اجازت حاصل ہے۰آپ رح کو فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی دارالعلوم دیوبند کا معین مدرس بنادیا گیا ۰ابتدا میں آپ رح کے سپرد ابتدائی تعلیم پڑھانے کا کام کیا گیا ۰لیکن بہت جلد آپ علمی استعداد اور ذہانت ظاہر ہونےلگی اور رفتہ رفتہ آپ رح مسلم شریف اور بخاری شریف کی تدریس تک جا پہنچے۰
آپ رح کا زمانہ تدریس چوالیس سال سے زائد ہے۰اس عرصہ میں اطراف اکناف عالم میں اپ رح کے تلاذہ پھیل گئے جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۰آپ رح کے ممتاز تلامذہ میں مولانااشرف علی تھانوی رح ،علامہ شبیر احمد عثمانی رح،علامہ انور شاہ کشمیری رح ،مولانا حسین احمد مدنی رح،مفتی کفایت اللہ دہلوی رح،مولانا اصغر حسین دیوبندی رح،مولانا عبیداللہ سندھی رح،مولانا اعزاز علی رح،مولاناحبیب الرحمن عثمانی رح اور مولانا عبدالسمیع رح جیسے مشاہیر علم وفضل شامل ہے۰
آپ رح شروع سے ہی نیک اور نیک فطرت تھے۰اس کے ساتھ مولانا محمد قاسم نانوتوی رح کی محبت اور صحبت اور مولانا رشید احمد گنگوہی رح کی توجہات نے آپ رح کو روحانیت کے عرش پر بٹھادیا تھا۰شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے اپ رح کے کمالات علمیہ وروحانیہ سے خوش ہوکر دستار خلافت اور اجازت نامہ بیعت عنایت فرمایا۰دربار رشیدیہ سے بھی اپ رح کو یہ نعمت حاصل ہوئی۰حاصل یہ کہ اپ رح علم نبوت ،شریعت ،طریقت اور روحانیت کے مجمع البحرین ہی نہیں بلکہ مجمع البحار تھے۰اپ رح اگر چہ اکثر اوقات تعلیم وتعلم اور تصنیف وتالیف اور مطالعہ کتب میں مصروف رہتے لیکن اور ادووظائف ،ذکر ومراقبہ،اور صلوۃ الیل پر بھی ہر حالت سفر وحضر حتی کہ مالٹا کی طوفانی برفباری میں بھی اپ رح کے معمولات میں فرق نہ آتا تھا۰
انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے مشن کو اپ رح نےکافی اگےتک بڑھایا ۰اپ رح عسکری بنیادوں پر مسلمانوں کو منظم کرکے انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہتے تھے۰اس ضمن میں اپ رح نے تحریک ریشمی رومال شروع کی جس کا مرکز اپ رح نے کابل کو بنایا ۰اپنوں کی سازش اور ریشہ دوانیوں سے تحریک کامیاب نہ ہوسکی تاہم اس نےمسلمانوں میں بیداری کی روح پھونک دی۰_۱۳۳۵ میں انگریزوں نے اپ رح کو گرفتار کرکے مالٹا پہنچادیا ۰ ۱۳۳۸ میں وہاں سے رہا ہوئے اور ہندوستان آئے ان دنوں تحریک خلافت وعروج پر تھی باوجود عمر میں زیادتی اور بیماری کے آپ رح نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا لہذا بیماری میں اضافہ ہوگیا۰اپ رح نے ۱۸ربیع الاول ۱۳۳۹ کو دیوبند میں انتقال فرمایا۰الل. اپ رح پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۰اتباع سنت:
حضرت شیخ الہند رح کا معمول تھا کہ وتروں کے بعد بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے تھے۰کسی شاگرد نے عرض کیا،حضرت!بیٹھ کر نوافل پڑھنے کاثواب تو ادھا ہے۰حضرت رح نے فرمایا ہاں بھائی !یہ تو مجھے معلوم ہے مگر بیٹھ کر پڑھنا حضورﷺ سے ثابت ہے اس لیے سنت عمل کو اپنایا۰اپ رح کا معمول رمضان میں تراویح کے بعد سے صبح تک قرآن پاک سننے کا تھا حافظ بدلتے رہتے اور حضرت رح اخیر تک کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے جس کی وجہ سے کبھی کبھی پأؤں پر ورم بھی آجاتا تھا۰تو اس پر اپ رح خوش ہوتے کہ (حتی یتورمت قدماہ)کی سنت کی موافقت نصیب ہوگئ۰
زمانہ نظر بندی میں اپ رح اکثر توجہ الی اللہ میں خاموش رہتے یا تسبیح اور ذکراللہ میں مشغول رہتے،عشاء کی نماز کے بعد تھوڑی دیر اپنے وظائف پڑھتے تھے پھر آرام فرماتے اور دو بجے کے قریب سخت سردی میں اٹھ کر ٹھنڈے پانی سے وضو کرکے نماز تہجد میں مصروف ہوجاتے۰نماز تہجد کے بعد اپنی چارپائی پہ بیٹھ کر صبح صادق تک مراقبہ اور ذکر خفی میں مشغول رہتے جب کہ مالٹا کی سردی مشہورومعروف ہے۰
اللہ تعالی ہمارے اکابرین کی قبروں پر رحمتیں نازل فرمائے۰ اور اللہ ہمارےعلمائےحق کی حفاظت فرمائے اللہ تعالی ہمارے مساجد،مدارس،خانقاہوں،تبلیغی مراکز اور مجاہدیںکی حفاظت فرمائے۰امین ثم امین۰
@Tareef1234
-

آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں تحریر فاروق زمان
آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں؟ ہیں یا نہیں؟ رکیں، سوچیں، اپنی زندگی کو اپنی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح چلائیں۔ اب اس فلم میں خود کو دیکھیں کہ آپ کون سا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنے ساتھ ایک ہیرو کی طرح ہیں یا زیرو ہیں۔ آپ کا کردار کیا ہے، مثبت یا منفی آپ کی شخصیت و حیثیت کیا ہے۔ آپ کی زندگی کیسی ہے۔ آپ کا کردار آپ کی زندگی میں قابل ذکر یا طاقتور ہے یا نہیں۔ آپ واقعی ہیرو ہیں یا اپنی زندگی کے ولن ہیں۔ آپ فالتو کردار یا منفی کردار تو نہیں جو ہر چیز ہر بات کا منفی پہلو دیکھتا ہے۔ نا خود خوش رہتا ہے، نہ دوسروں کو خوش رہنے دیتا ہے۔ خود پریشان رہتا ہے یا دوسروں کو پریشان کرتا رہتا ہے۔ بالکل ناکام ہے۔ جو اپنی زندگی کے مقصد کو یکسر بھلا ضائع کر رہا ہے۔ بس کھانے پینے اور سونے میں مشغول ہے۔ جس میں کوئی قابل ذکر خصوصیت نہیں ہے۔ ایک کمزور انسان، جو زندگی میں آنے والی مشکلات کے سامنے ہار مان لیتا ہے اور مشکلات سے لڑنے اور ان کو حل کرنے کی بجائے ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ گھبرا جاتا ہے۔ آپ سوچیں آپ کو نظر آنے والی اپنی زندگی کی فلم وہی ہے، جیسا آپ اپنی زندگی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کی زندگی آپ کی توقعات اور خواہشات کے مطابق ہے۔ آپ کی زندگی میں آپ کا کردار وہی ہے جو آپ چاہتے ہیں۔ کیا آپ واقعی اپنی زندگی کے ہیرو ہیں۔؟
اپنی زندگی کی فلم دیکھنے کے بعد بہت سے جوابات میں آپ کو ناکامی کا اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ میں آپ، اپنی زندگی کی فلم اپنی آنکھوں کے سامنے چلا کر دیکھیں تو ہمیں مایوسی ہوتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہیرو بالکل نہیں ہیں ، بلکہ ہمارا کردار کوئی قابل ذکر نہیں ہے۔ بعض اوقات تو لگتا ہے کہ ہم اپنے سے منسلک دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں بھی ولن کے کردار کے طور پر شامل ہیں۔ اپنی زندگی کی فلم دیکھنے کے بعد شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں، یا کو سکتا ہے آپ کو لگ رہا ہو کہ آپ تو بلکل بھی ہیرو نہیں ہیں۔ ہیرو نہیں ہیں تو ہیرو بننا ہوگا۔ خود کو بدلنا ہو گا۔ آپ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں، آپ کو ثابت کرنا ہو گا۔ آپ کو ہیرو بننے کے لیے تگ و دو کرنی ہوگی۔ اپنی زندگی کی فلم میں خود کو ہیرو کی طرح فٹ کرنا ہو گا۔ آپ کے یقیناً اپنی زندگی سے متعلقہ بہت سے خواب ہوں گے۔ زندگی سے وابستہ امیدیں ہوں گی۔ بہت کچھ بننا چاہتے ہوں گے۔ اس سب کے لیے، ہیرو بننے کے لیے آپ کو اپنا کردار از سر نو تعمیر کرنا ہو گا۔ کمر کس کر میدان میں اترنا ہو گا۔ محنت، عزم اور ہمت سے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے جدو جہد کرنی ہوگی۔بلند مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بلند شخصیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔
ہیرو بننے کے لیے آپ کو اپنے ساتھ اپنا سلوک بدلنا ہوگا۔ اپنے اندر سے بہتر انسان تلاش کرنا اور اپنے اندر سے ہیرو کو باہر نکالنا ہو گا۔ دنیا داری کے منفی جال سے نکلنا ہو گا۔ اپنی شخصیت کو اچھائی کے سراپے میں ڈھالنا ہو گا۔ اپنی تعمیر بہتر اور مثبت خطوط پر کرنا ہوگی۔ اس شخصیت کی تعمیر اچھی عادات اور اچھے کاموں کی بنیاد پر کرنا ہو گی۔ بری عادتوں سے چھٹکارا پانا ہوگا۔ ولن یا منفی کردار کو مقابلہ کر کے پچھاڑنا ہوگا۔ ہیرو دراصل ایک ایسا لفظ ہے، جو اچھائی کا ہر رخ ہے۔ ایک طاقت کا نام ہے، وہ طاقت جو جو برائی کا مقابلہ کرکے اس کو پٹخ کے رکھ دیتی ہے۔ آپ کو بھی ایسے ہی ہر منفی چیز کا نام مٹانا ہو گا۔
خود کو بیکار کی باتوں اور بے مقصد کاموں میں ضائع مت کریں۔ آپ کی عادات و اطوار، اعلیٰ شخصیت، عمدہ انسان اور بہتر کردار کے حامل انسان کی ہونی چاہیے۔ زندگی کے ہیرو بن کر زبردست طریقے سے گزاریں۔ اپنی طاقت خود بنیں، بلاشبہ آپ ہی اپنی زندگی کے ہیرو ہیں۔@FarooqZPTI
-

پاکستان کا طاقتور ترین سیاست دان کون؟ تحریر اکرام اللہ نسیم
جب 2018 کےجنرل الیکشن کا نتیجہ آتا ہے
پاکستان کے چھوٹے بڑے پارٹیوں کے رہنماء اور لیڈران دنگ رہ جاتے ہیں
بھلا یہ کیسانتیجہ آیا ہے کیونکہ جہاں ایم ایم اے کی تیس سے پچاس سیٹیں بنتی تھی
وہاں انکو صرف 13 سیٹیوں تک محدود کردیا اسی طرح ن لیگ کو اقتدار سے ہٹا کر زمین پر دے مارا
پی پی پی کا صفایہ پنجاب سے کردیا چند سیٹوں تک محدود کردیا
جماعتِ اسلامی کو پورے ملک سے 1نمبر حلقہ سے سیٹ عبد الاکبر چترالی کی صورت میں ملی
یہی حال اے این پی کا بھی تھا جنہیں دیوار سے لگا دیا گیا
ایم کیو ایم کے ساتھ تو سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا
تحریک لببیک پاکستان کے ساتھ وہ گیم کھیلا گیا جو آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں ن لیگ کے ساتھ کھیلا گیا
اب ہر طرح مایوس اور بے چینی کی صورت حال پیدا ہو گئی ملک کے تمام سیاستدان حیران و پریشاں ہے کہ اتنے کثیر مقدار میں ووٹ کیسے چوری ہوگئے کہ اب ہم کیا کریں کچھ سمجھ نہیں آرہا
سیاستدانوں کے حس ماؤف ہو چکے تھے چہرے مرجھائے ہوئے تھے
غصے کی آگ دل میں بھڑک رہی تھی زرداری حیران نواز شریف پریشان
اتنے میں پاکستان کے ایک طاقتور ترین سیاست دان سربراہ مولانا فضل الرحمان صاحب آل پارٹی کانفرنس بلاتی ہیں وہاں اسی آل پارٹی کانفرنس کے اندر تمام سیاسی قائدین کو مشورہ دیتے ہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں اب اگر ووٹ چوروں نے ووٹ چوری کئے
اسکا واحد حل میرے ذہن میں ہیں
وہ یہ کہ کسی بھی پارٹی کے رہنما نے حلف نہیں اٹھانی
ووٹ چوری کو ہم اسطرح روک سکتے ہیں جب یہ تجویز سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان صاحب نے سب کے سامنے رکھی اکثریت پارٹیوں نے اسکے ساتھ اتفاق کیا
مگر ملک کے دو بڑی پارٹیوں ن لیگ پی پی پی نے کہا ہمیں مہلت دیں ہم اسپر سوچیں گے پھر جواب دینگے
جب ان دو پارٹیوں کو آگے سے گٹھ جوڑ اور لالچ کی دلانے کے لئے رابطے ہوئے تو یہی وہ موقع تھا جو اپوزیشن نے ضائع کیا اور ایک چنتخب نمائندے کو عوام پر مسلط ہونے کا موقع فراہم کیا
بات آگے بڑھی اے پی سی کا سربراہ بھی پاکستان کے طاقتور ترین سیاست مولانا فضل الرحمان صاحب کو بنایا گیا پھر جب اے پی سی کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تحریک کا آغاز کیا گیا وہاں بھی پی ڈی ایم کا سربراہ پاکستان کے طاقتور ترین سیاست دان مولانا فضل الرحمان صاحب کو بنانا پڑا
مولانا فضل الرحمان صاحب الفاظ کے چناؤ کے اعتبار سے تمام سیاستدانوں سے ممتاز ہیں
مولانا فضل الرحمان صاحب ذہانت کے اعتبار سے بھی دیگر سیاستدانوں سے ممتاز ہیں
مولانا فضل الرحمان شجاعت کے اعتبار سے دیگر سیاستدانوں سے ممتاز ہیں
مولانا فضل الرحمان صاحب کا شمار اس لئے بھی پاکستان کے طاقتور ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہیں کہ انکے پاس سٹریٹ پاور ہے
انکے پاس پچاس ہزار باوردی رضاکاران ہیں جو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں مولانا فضل الرحمان صاحب پر جان نچھاور کرنے کے لئے
ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل
@realikarmnaseem
-

آخر پٹرول اور ڈالر کی اتنی اونچی اڑان کیوں؟ تحریر: چودھری عرفان رانا
گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر دو چیزیں بہت زیادہ گردش کررہی ہے، جن میں سے ایک پٹرول اور دوسرا ہے ڈالر، لفظ پیٹرولیم لاطینی زبان کا لفظ ہے جس میں پیٹرا کے معنی چٹان اور اولیم کے معنی تیل کے ہیں، یعنی چٹانوں سے حاصل والی تیل، اور یہی تیل کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے تیل کو "کالا سونا” بھی کہا جاتا ہے پاکستان اپنے ضرورت کا 70 فیصد سے زائد تیل درآمد کرتا ہے، حکومت نے گزشتہ چند ماہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کافی حد تک اضافہ کیا، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا، ہر کوئی حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کافی پریشان ہے،ایسے میں جب ملک میں شرح مہنگائی پہلی ہی 11 فیصد سے تجاوز کر گئی، اس اضافے سے عوام پر کافی بوجھ بڑھ گیا ہے اور عوام ایک کمر توڑ مہنگائی کے نیچے دب گیا ہے، اگر ہم پٹرول کی بنیادی قیمت اور ان پر لگے ٹیکسز پر نظر دوڑائیں تو اس وقت ملک میں پٹرول کی قیمت 123.3 روپے ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی 5.62 اور سیلز ٹیکس 11.76 ہے یعنی کل ٹیکس 17.38 اور پٹرول کی بنیادی قیمت 105.92 ہے، اس طرح کل بنیادی قیمت 123.3 روپے بنتا ہے، ن لیگ کی حکومت میں یہ ٹیکس کی شرح 52 فیصد تھا، کسی بھی ملک کی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کی حساب سے طے کرتی ہیں، گزشتہ سال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کافی گر چکی تھی، جس کی وجہ سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی جنگ قرار دے دی گئی، یاد رہے سعودی عرب تیل نکالنے پر سب سے کم خرچ کرتا ہے اس لیے اس نے روس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے عالمی منڈی میں ضرورت سے زیادہ تیل کی رسد شروع کی، جس کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں کافی گر گئی، جس کا زیادہ فائدہ چین کو ہوا کیونکہ چین تیل درآمد کرنیوالا دنیا کا پانچواں ملک ہے، تاہم روس کی معیشت پر تیل کی اتار چڑھاؤ کا زیادہ اثر نہیں ہوتا،
اب آتے ہیں ڈالر کی اونچی اڑان پر، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ڈالر کی اونچی اڑان ہے دنیا میں زیادہ تر تجارت ڈالر اور سونے میں ہوتا ہے، ہر ملک میں اوپن مارکیٹ ڈالر کی قیمت متعین کرتا ہے، جو قومی ریزرو اور ڈالر کی رسد اور کمی کو دیکھ کر متعین کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں ڈالر کا ریٹ دو طریقوں سے متعین کیا جاتا ہے جسمیں سے ایک انٹر بینک اور دوسرا اوپن مارکیٹ ہے، انٹر بینک اپنے انڈر تمام بینکوں کیلئے ڈالر کا ریٹ متعین کرتا ہے، اور اسی طریقے سے بینکوں کے درمیان ڈالر کی خریدوفروخت ہوتی ہے، دوسرا طریقہ اوپن مارکیٹ ہے جہاں عام لوگوں کیلئے ڈالر کا ریٹ متعین کیا جاتا ہے، اس وقت پاکستان میں ڈالر کی قیمت 168 روپے کے آس پاس ہے،ڈالر کی قیمت میں اس اضافے سے بیرونی قرضوں میں 1170 ارب روپے کا اضافہ ہوا، اس طرح ڈالر کے بڑھنے سے شرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے، ڈالر کے معاملے میں سٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ کیلئے اپنے ہدایات جاری کر سکتا ہے، لیکن سٹیٹ بینک حکومت کے پابند نہیں ہے, ڈالرکی ریٹ تب بڑھتا ہے جب ڈالرکی رسد کم اور ڈیمانڈ زیادہ ہوجاتا ہے، اس کی عمدہ مثال میلے میں ٹماٹر کی قیمت ہے، جب میلے میں ٹماٹر کم ہوجاتی ہے تو ریٹ زیادہ ہوجاتا ہے، اور جب باہر سے زیادہ ٹماٹر کی سپلائی میلے میں آجائیں تو پھر ٹماٹر کی قیمت کم ہوجاتی ہے، یہی مثال ڈالر کی بھی ہے، جب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کم ہو جاتے ہیں تو اس کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے سٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ میں ڈالر بھیجتے ہیں،جس سے ڈالر کی قیمت کنٹرول ہوجاتی ہے لیکن حکومت کے پاس ڈالر کا سٹاک جسے فارن ریزرو کہا جاتا ہے کم پڑ جاتے ہیں، یہی طریقہ ڈالر کی مصنوعی قیمت برقرار رکھنا بھی کہلاتی ہے، یاد رہے اسحاق ڈار پر بھی یہی الزام لگایا گیا تھا، ڈالر کے ریٹ بڑھنے کی ایک وجہ افغانستان کی صورتحال ہے، جن کے ساتھ ہمارے برآمدات رک گئے ہیں اور یہاں کے ڈالر وہاں منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں، دوسری وجہ سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے مطابق اس سال پاکستان کا 20 ارب ڈالر قرض کی واپسی ہے، اس لیے کرنسی ڈیلر ڈالر کی کمی اور قیمت بڑھنے سے بچنے کیلئے پہلے سے ڈالر خرید لیتے ہیں، تیسری وجہ درآمدات ہے جن میں کرونا ویکسین، گندم، چینی کپاس ، تیل اور مشینری جیسی درآمدی اشیاء شامل ہیں،اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے ماہ پاکستان کی درآمدات 4 بلین ڈالرز سے بڑھ کر 6 بلین ڈالرز ریکارڈ کی گئی ہے، یاد رہے سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے ایک انٹرویو میں ڈالر اور شرح سود بڑھانے کی اصل وجہ درآمدات کو کنٹرول کرنا قرار دیا تھا، چوتھی وجہ ڈالر کی بلیک مارکیٹ ہے، پانچویں وجہ ذخیرہ اندوزی ہے، چھٹی وجہ 30 جون کو ایمنسٹی اسکیم کی بندش ہے، اس اسکیم کے ذریعے بھی زیادہ ڈالر پاکستان منتقل ہوئے، یہ ہے کچھ وجوہات، پٹرول اور ڈالر کی ڈالر کی اونچی اڑان کی،یہ سارے وجوہات مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں
Chaudhry Irfan Rana Twitter
@Ipashtune
-

عمران خان کے ساتھ میرا دس نکاتی اختلاف تحریر: احسان الحق
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان نے قوم میں ایک نئی سوچ اور امید پیدا کی ہے. عمران کی انتخابی مہمات میں کی گئی تقاریر، مخالفین پر لگائے گئے الزامات اور نئے پاکستان بنانے کے لئے نعروں اور وعدوں سے پاکستانیوں بالخصوص نوجوانوں میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی. عمران خان کے نعرے اور وعدے اس قدر خوبصورت اور پرکشش تھے کہ پاکستانیوں کی خاصی تعداد سیاسی لحاظ سے عمران خان کی طرف جھک گئی. انتخابی نعروں اور وعدوں کی بنا پر پاکستانیوں نے عمران خان سے غیر معمولی توقعات وابستہ کر لیں. عمران خان کی حکومت چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور ابھی تک عمران خان قوم کی توقعات کے عین مطابق پورا نہیں اترے ماسوائے کچھ شعبوں اور معاملات میں.
میرے خیال میں عمران خان کے نعروں اور وعدوں کو دو مختلف زاویوں سے دیکھنا چاہئے. ایسے معاملات جن کا تعلق اقتصادیات اور معاشیات سے ہے جیسا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا وغیرہ اور کچھ انتظامی حوالے سے وعدے تھے جیسا کہ مختلف اصلاحات وغیرہ. پاکستان ایک غریب، ترقی پذیر اور قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک ہے. دوسرا سابقہ حکومتوں کے معیشت مخالف معاہدوں، منصوبوں اور قرضوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا، بجلی مہنگی کرنا، ڈالر کا اوپر جانا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا جیسی مجبوریاں سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں اور ان پر مجھے ذاتی طور پر کوئی تشویش نہیں. وعدوں اور نعروں کی دوسری قسم جس کا تعلق انتظام، حکومت، احتساب، آئین سازی، مہنگائی اور اصلاحات سے ہے، ان پر مجھے بہت تشویش ہے کیوں کہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں پیسہ خرچ نہیں ہوتا. جیسا کہ پولیس اصلاحات، اس میں قومی خزانے پر کتنا بوجھ پڑے گا؟ میرے خیال میں کچھ بھی نہیں، مفت میں پولیس اصلاحات ہو جائیں گی.
مجھے عمران خان کے ساتھ جس 10 نکاتی اختلاف ہے، ان دس نکات کا خزانے اور بجٹ سے تقریباً کوئی تعلق نہیں.
عمران خان نے سو دنوں میں مختلف کام کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے سو دنوں کا حکومتی ایجنڈا پیش کیا تھا. ان سو دنوں میں مختلف کام کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور ان میں ایک وعدہ تھا سرائیکی صوبے کا قیام. آج 1100 دن گزر جانے کے باوجود بھی سرائیکی صوبے کا قیام مکمل نہیں ہوا حالانکہ یہ کام سو دنوں میں کرنے کا وعدہ تھا، خیر ہم تو اس وقت بھی جانتے تھے کہ یہ کام سو دنوں میں کیسے ہو سکتا ہے. صوبے کا قیام ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے. کچھ سیکرٹریوں کی تعیناتی کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جا سکا. اگر حکومت غیر معمولی تیزی اور کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنے دور حکومت میں سرائیکی صوبے کا قیام مکمل کر جائے تو پھر بھی انتخابی حوالے سے الیکشن کمیشن کا کام باقی رہ جائے گا. جس میں صوبائی اور وفاقی حلقہ بندیوں سمیت ایوان بالا کی نشستوں پر بھی کام کرنا پڑے گا. دس نکات میں یہ پہلا نکتہ ہے جس پر اعتراض ہے کیوں کہ اس کا تعلق بھی بہت بڑے بجٹ سے نہیں.
ماڈل ٹاؤن واقعہ کے ردعمل میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ حکومت میں آتے ہی پولیس کو سیاست دانوں، جاگیرداروں اور حکومتی ارکان کے عمل دخل اور اثر سے پاک کریں گے. پولیس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں گی. پولیس کو عوام کا خادم بنایا جائے گا. پولیس اصلاحات ابھی تک نہیں ہو سکیں بلکہ مخالفین کا الزام ہے کہ شہباز شریف دور میں پنجاب پولیس کی کارکردگی نسبتاً بہتر تھی. پولیس اصلاحات کرنے کے لئے بھی کسی اضافی رقم کی ضرورت نہیں، مطلب محض انتظامی معاملہ ہے مگر ابھی تک عمران خان اور پنجاب حکومت اصلاحات کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے. عمران خان مختصر کابینہ رکھنے کا بھی وعدہ کرکے آئے ہیں. وہ اکثر یورپ بالخصوص برطانیہ کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہتے تھے کہ 15 بندوں کی کابینہ ہوگی. مگر اب وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کے مشیر اور وزیر مملکت کی تعداد نصف سینکڑے کے نزدیک ہوگی.
سب سے مقبول نعرہ اور پرکشش اور متاثر کن وعدہ احتساب کا وعدہ تھا. عمران خان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے بہت سارے لوگوں سے پیسہ نکلوا کر قومی خزانے میں جمع کروانے کا وعدہ کرتے تھے. سیاسی معاملات اور وجوہات کی بنا پر کچھ لوگوں کا یا کسی سطح تک احتساب ضرور ہوا ہے مگر جس قدر توقعات وابستہ تھیں ویسا احتساب ابھی تک دیکھنے میں نظر نہیں آیا. متحدہ حزب اختلاف اور حکومت کے کچھ لوگ احتساب کے ریڈار میں ضرور آئے ہیں مگر مقصد سزا دینا نہیں بلکہ قومی پیسہ وصول کر کے واپس قومی خزانے میں جمع کروانا ہے.
مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے. موجودہ حکومت میں مہنگائی سو فیصد سے تین سو فیصد تک بڑھ چکی ہے. معاشی بدحالی عروج پر ہے. موجودہ حکومت کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ دوسرا سال کورونا میں گزر رہا ہے مگر مجموعی طور پر حکومت مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے. غریب عوام کی قوت خرید جواب دے رہی ہے. اشیائے خوردونوش میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے. مہنگائی یا قیمتوں پر قابو پانا صرف جانچ پڑتال اور سزا جزا سے ہو سکتا ہے. ذخیرہ اندوزوں اور خود ساختہ قیمتوں میں اضافہ کرنے والے مافیا کو راہ راست پر لانے کے لئے بجٹ کی ضرورت نہیں. یہ صرف انتظامی امر ہے.
عمران خان اور موجودہ حکومت کے ساتھ اہم ترین اور شدید ترین اختلافات میں سے ایک اختلاف بے حیائی، فحاشی اور اسلام دشمنی کے متعلق ہے. موجودہ حکومت میں فحاشی اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. مارچ 2018 میں پہلی بار پاکستان میں لبرلز اور اسلام دشمن طلاق یافتہ خواتین نے عورت مارچ منایا. یہ ن لیگ کے دور حکومت میں اور عام انتخابات سے پہلے کی بات ہے. چند درجن آنٹیوں نے شرعی اقدار اور چادر چاردیواری کے خلاف اور عورت کی آزادی کے نام پر متنازعہ جلوس نکالا. اگلے سال 2019 میں ہونے والے عورت مارچ نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے. خواتین کی تعداد، مردوں اور میڈیا کے لوگوں کی شرکت، سوشل میڈیا پر کوریج، انتہائی نازیبا اور شرمناک پلے کارڈز اور نعروں کے لحاظ یہ عورت مارچ انتہائی متنازعہ تھا. مبینہ طور پر ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری ہیں. ہر آئندہ عورت مارچ اسلام دشمنی میں، شرعی اقدار کے مزاق اڑانے میں اور فحش نعروں کے حوالے سے زیادہ متنازعہ اور شرمناک ہوتا ہے. اسلام، اخلاقیات اور شرم وحیا کی ساری حدیں تو رواں سال 2021 کے عورت مارچ میں عبور کی گئیں جب مبینہ طور گستاخانہ پلے کارڈز اور ہم جنس پرستی کی عالمی تنظیم کا جھنڈا لہرایا گیا مگر آج تک عمران خان اور اس کی حکومت اس پر ایسے خاموش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں. مجھے زیادہ اعتراض اس بات پر ہے کہ اس طرح کی تمام اسلام اور اخلاق دشمن سرگرمیوں کی پشت پناہی وزارت انسانی حقوق کر رہی ہے.
عمران خان نے مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگایا اور ٹھیک مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان کو چلانے کا وعدہ کیا مگر حقائق اس کے برعکس ہیں. عمران خان نے کابینہ کے لئے جن لوگوں کا انتخاب کیا وہ اکثر لبرل ہیں اور ان میں متعدد اسلام کے دشمن ہیں. ایک طرف مدینہ کی ریاست کا نعرہ دوسری طرف لبرل اور اسلام دشمن کابینہ کا انتخاب، اس بات پر بھی مجھے کافی اختلاف ہے.
سنجیدہ ترین اعتراضات اور اختلافات میں ایک اسلام دشمن آئین سازی یا ترمیم سازی بھی ہے. موجودہ ایوان نے اسلام مخالف قانون سازی کی اور کچھ ترمیم کی. جیسا کہ گھریلو تشدد بل یا Domestic violence Bill جس میں بیوی کو شوہر کی اطاعت اور خدمت نہ کرنے کا اختیار دیا گیا، عورت چاہے تو خاوند کو جیل بھی بھیج سکتی ہے. والدین اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کر سکتے اور تربیت کے لئے ڈانٹ ڈپٹ نہیں کر سکتے. کسی بھی جرم یا غلطی پر والدین اپنی اولاد کو گھر سے نہیں نکال سکتے حالانکہ اسلام نے والد کو اجازت دی ہے کہ اگر بیٹا نافرمانی پر اتر کر باغی بن جائے تو والد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے بیٹے کو جائیداد سے عاق کر سکتا ہے.
ان دنوں ایک اور متنازعہ مجوزہ آئینی بل زیر بحث ہے جس میں 18 سال سے کم کوئی بھی غیر مسلم شخص اسلام قبول نہیں کر سکتا اور 18 سال سے اوپر اسلام قبول کرنے والے شخص کے لئے سخت طریقہ کار بناتے ہوئے ایسی شرائط اور پیچیدگیوں کی تجویز زیر غور ہے جس سے اسلام قبول کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا جائے گا. حکومتی سطح پر اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ واقعی اس نوعیت کا بل وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس زیر غور اور زیر بحث ہے. اب یہ بھی سنا ہے کہ اس بل کو مسترد کر دیا گیا ہے.
آخر میں سادگی اور یکساں نظام تعلیم کے وعدے ہیں. سادگی پر عمران خان نے اپنے تئیں کوشش کرتے ہوئے سادگی اختیار کی ہے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کیا. وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات اور وزیراعظم کے بیرونی دوروں پر آنے والے اخراجات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے. وفاقی کابینہ اور اراکین، صوبائی حکومت اور اراکین روایتی انداز میں اقتدار کے مزے لے رہے ہیں. بحیثیت وزیراعظم اور بحیثیت سربراہ تحریک انصاف عمران خان کو سختی سے سادگی والی بات کا عمل درآمد دوسرے ماتحت لوگوں پر بھی کروانا چاہیے.
آخر میں یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب کے حوالے سے ہے، کچھ دن پہلے حکومت اور وزارت تعلیم کی جانب سے عملی کام دیکھنے میں نظر آیا حالانکہ یہ کام عمران خان ہنگامی بنیادوں پر کرنے کا وعدہ کر چکے تھے. حسب معمول اور حسب روایت عمران خان کے اس بہترین کام کی مخالفت کی گئی اور اس وقت مخالفت عروج پر ہے. مخالفین اور مخالفت کی متعدد وجوہات ہیں. سب سے اہم عمران خان کے ساتھ سیاسی اختلاف، دوسرا لبرلز کا گروہ جو ہمیشہ اخلاقیات کے منافی کام کرتا ہے، کچھ نجی تعلیمی ادارے بھی مخالفت کر رہے ہیں، کچھ قوم پرست طبقہ بھی اردو کے بغض میں یکساں نصاب کی مخالفت میں ہے. عمران خان اور وزارت تعلیم مخالفت اور تنقید کے بعد بیک فٹ پر چلی گئے ہیں. اب دیکھنا یہ ہے کہ یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب والا وعدہ کب، کیسے اور کتنا پورا ہوتا ہے.
@mian_ihsaan
-

عالمی تناظر میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت تحریر: محمد عمران خان
کسی بھی ملک کی جغرافیائی حیثیت اس کو دنیا میں ممتاز بناتی ہے۔ کیونکہ جغرافیہ ہی واحد ایسی چیز ہے جو سماجی، معاشی اور علاقائی فوائد کا مظہر ہے۔ ہر ملک کسی نہ کسی بنیاد پر اپنے جغرافیے کی اہمیت رکھتا ہے۔
جنوبی ایشیاء میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان نے جب اپنے جغرافیے کے خطوط و نقوش کو دیکھا تو یقیناً یہ خداوند کریم کا ایک عظیم تحفہ تھا جو پاکستانی قوم کے حصے میں آیا۔ پاکستان کے مشرق میں روایتی حریف بھارت، مغرب میں افغانستان، شمال مشرق میں چین، شمال مغرب میں ایران اور جنوب میں بحیرہ عرب واقع ہے۔ چین کا ہمسایہ ہونا پاکستان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں کیونکہ مستقبل قریب میں چین ایک نئی سپر پاور کے طور پر ابھرنے والی ریاست ہوگا اور دنیا کے تمام فیصلے یہیں ہوں گے۔ پاکستان کے برادر ممالک ایران اور افغانستان سے تعلق کچھ اچھے نہیں رہے۔ ایران سے اکثر و بیشتر پاکستان کے خلاف بیانات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں بدامنی اور دہشتگردی کا باعث بنتی رہی ہے۔
وسطی ایشیائی ممالک اور روس کو سمندر کے ایسے ساحل کی ضرورت ہے جو بارہ مہینے تجارت کے لئے موزوں ہو۔ پاکستان کے پاس کراچی اور گوادر کے شاندار ساحل موجود ہیں جو پورا سال آپریشنل رہتے ہیں۔ اسی طرح روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو تجارت کے لئے پاکستان کی بندرگاہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب روس نے 70 کی دہائی میں افغانستان پر حملہ کیا تھا تو تب بھی اس کا واحد مقصد افغانستان کو فتح کرکے پاکستان کے ساحل پر قبضہ جمانا تھا مگر پاکستانی ایجنسیوں نے بروقت ایکشن لیا اور روس کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اسی طرح افغانستان کی سمندری تجارت بھی پاکستان کی بندرگاہوں سے ہوتی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک گیس کی پیداوار سے مالامال ہیں لہٰذا پاکستان نے بھی گیس درآمد کرنے کے لیے ان ممالک کا انتخاب کیا ہے جس میں تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا شامل ہیں۔ یہ گیس پائپ لائن خطے کے ممالک کے درمیان انتشار اور دشمنی کو ختم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
جب 9/11 کا واقعہ ہوا تو امریکہ کو افغانستان میں جنگ کے لیے افغانستان کے قریبی ممالک سے ہوائی اڈے درکار تھے۔ تب بھی پاکستان نے اپنے ہوائی اڈے امریکہ کو فراہم کرنے کی غلطی کی۔ مگر امریکی آج تک اڈے فراہم کرنے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے تاکہ خطے کو دہشتگردوں سے پاک کیا جاسکے۔
اسی طرح چین کو سمندر کی تجارت کے لئے پاکستان کی بندرگاہوں کی ضرورت ہوئی تو پاکستان نے سی پیک جیسا منصوبہ شروع کرکے پرانی دوستی کو مزید مضبوط کرنے کا سامان کرلیا۔ سی پیک میں روس سمیت خطے کے کئی ممالک شرکت کے خواہش مند ہیں تاکہ وہ اپنی تجارت کو بڑھا سکیں۔ پاکستان نے بھی فراخدلی سے خطے کے دوست ممالک کو اس عظیم الشان منصوبے میں شامل کرنے کے سگنل دیے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد خطے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں پھنسے عالمی برادری کے سفیروں، آفیشلز اور باشندوں کو نکالنے کے لیے دن رات محنت اور جانفشانی سے کام لیتے ہوئے محفوظ طور پر ان کا انخلا مکمل کیا۔ دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح افغانستان کی عوام کے لیے پاکستان نے راشن اور ادویات باہم پہنچانے کا بندو بست کیا ہے تاکہ عوام کو انسانی ہمدردی کے تحت ہر ممکن مدد فراہم کی جاسکے۔ امریکی بھی پاکستان کے تعاون پر شکر گزار نظر آئے۔
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ دنیا کو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا ہوگی تاکہ نیو ورلڈ آرڈر جو کہ چین ترتیب دے گا اس میں پاکستان کی حمایت کے ساتھ وہ ممالک اپنا اچھا وقار حاصل کرکے چین کی مدد کے حق دار بن سکیں