Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وفائے مرد نظر انداز کیوں؟      ازقلم: غنی محمود قصوری

    وفائے مرد نظر انداز کیوں؟ ازقلم: غنی محمود قصوری

    وفائے مرد نظر انداز کیوں؟؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    موجودہ دور میں عورت کی مظلومیت کا رونا رویا جاتا ہے جس میں کچھ حقیقت بھی ہے مگر زیادہ تر افسانوی باتیں گھڑ کر دین حنیف اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے-

    خاص کر حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی دعوے دار کسی بھی دانستہ غیر دانستہ وقوعہ کو لے کر واویلا شروع کر دیتی ہیں تاریخ گواہ ہے جس قدر اسلام نے عورت کو تحفظ دیا اس قدر کوئی اور مذہب میں نہیں-

    اس لئے نبی ذیشان کا فرمان ہے کہ جو شخص بھی بیٹی کی اچھی طرح سے پرورش کرے گا اور اسے اخلاق حسنہ سے متصف کرے گا تو وہ جنت میں داخل ہوگا(بخاری:1418،مسلم 2629

    عورت کا مقام مذید بڑھاتے ہوئے اللہ تعالی نے جہاں مرد (باپ) کی حرمت بارے ارشاد وہاں اسی عورت ( ماں) کی حرمت بارے ارشاد فرمایا
    تم انہیں اف تک نہ کہنا(الاسراء:23

    یعنی اللہ تعالی جہاں والد سے سخت رویہ نا اپنانے کا حکم دے رہے ہیں وہیں ماں کے لئے بھی یہی ارشاد فرمایا گیا ہے

    ماں، بہن بیٹی،بیوی و دیگر محرم عورتوں کے علاوہ اسلام میں پرائی عورت بارے سخت احکامات فرمائے گئے ہیں تاکہ ان کی حرمت محفوظ رہے اور وہ بد نگاہوں سے بچی رہے اسی بارے ارشاد ہے کہ

    ور اگر عورت پرائی ہو تو اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اس کی طرف نگاہ بھی اٹھا کر مت دیکھنا(النور:30)

    مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے اس کی ذمہ داری بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنا ہے
    اس بارے ارشاد ہے

    آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہو اور آدمی اپنی ذات، اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے
    صحیح ابن ماجہ 1752

    یعنی صدقہ خیرات دینے سے بھی پہلے اپنے بیوی بچوں پر اچھا خرچ کرنا لازم ہے

    اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا

    تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کیلئے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل خانہ کیلئے تم سب سے زیادہ بہتر [خیال رکھنے والا]ہوں
    ترمذی: (3895)

    جہاں مرد کی ذمہ داری عورت کا خیال رکھنا ہے وہیں عورت پر بھی فرض ہے کہ اپنے مرد کے حقوق پورے کرے اس کی ضروریات کا خیال رکھے اور اس کی عزت کی حفاظت کرے
    اس بارے ارشاد ہے

    رسول كريم صلى اللّٰه عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    الدنيا متاع ، وخير متاعها المرأة المؤمنة ، إن نظرت إليها أعجبتك ، وإن أمرتها أطاعتك ، وإن غبت عنها حفظتك في نفسها ومالك
    ” دنيا كا بہترين مال و متاع مومن عورت ہے، اگر تم اسے ديكھو تو تجھے اچھى لگى اور خوش كر دے، اور اگر تم اسے حكم دو تو وہ تمہارى اطاعت كرے، اور اگر تم اس كے پاس نہ ہو تو وہ اپنے نفس و عزت كى اور آپ كے مال كى حفاظت كرے

    جب مرد و عورت دونوں لازم و ملزوم ہیں حقوق یکساں ہیں تو پھر اکیلی عورت کے حققوق بارے چند بے ضمیر مردوں کی غلطیوں کے باعث اتنا واویلا کیوں ؟
    حالانکہ اب تو عورت اتنی آزاد ہے کہ پاکستان میں فیملی کورٹس ایکٹ اکتوبر 2015 میں منظور ہوا تھا جس کے سیکشن 10 کی دفعہ 6 کے تحت قانونی طور پر طلاق و خلع کا عمل آسان تر کردیا گیا تھا جو کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اضافہ کر رہا ہے-

    گز شتہ برسوں کے مقابلے میں سال 2018ء میں اعلیٰ تعلیم یا فتہ و ملازمت پیشہ خواتین میں طلاق و خلع لینے کا رحجان بڑی تیزی سے بڑھا ہے جوکہ اب رواں سال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جس کی وجہ اکثر عورتوں کی انا پر ستی ، خود کمانے و خود کفیل ہونے کا گھمنڈ اور معاشرتی بے راہ راوی نے ہے جس کے باعث ہمارا خانگی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے-

    ایک اور رپورٹ کے مطابق 1970 میں طلاق کی شرح پاکستان میں 13 فیصد تھی جس میں اب 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اگر دیکھا جائے تو جہاں حقوق کی ادائیگی میں غافل مرد ہیں تو وہیں عورتیں بھی ہیں تو پھر یہ یک طرفہ واویلا کیوں؟؟

  • ٹک ٹاک کو ماہانہ بنیاد پر استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوگئی

    ٹک ٹاک کو ماہانہ بنیاد پر استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوگئی

    معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک کو ماہانہ بنیاد پر استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: صیلات کے مطابق ٹک ٹاک نے ایک ارب سے زائد افراد پر مشتمل عالمی ٹک ٹاک کمیونٹی کی تعمیر کے ذریعے عالمی سنگ میل حاصل کر لیا۔

    اس موقع پر ٹک ٹاک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ٹک ٹاک میں ہمارا مشن تخلیقی صلاحیتوں کو تحریک دینا اور تفریح فراہم کرنا ہے آج ہم اِس مشن اور ٹک ٹاک کی عالمی کمیونٹی کا جشن منا رہے ہیں اب ہر ماہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد ٹک ٹاک پر آتے ہیں تاکہ تفریح فراہم کر سکیں۔

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    ٹک ٹک انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ اس پلیٹ فارم پر نئے لوگ اس لیے آتے ہیں کہ وہ کچھ سیکھ سکیں اور کچھ نیا دریافت کر سکیں ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم مختلف خاندانوں پر مشتمل انتہائی دلفریب اور متنوع کمیونیٹیز اور تخلیق کنندگان کا گھر ہیں جو وقت کے ساتھ ہمار ے پسندیدہ ستاروں میں بدل جاتے ہیں۔

    ٹک ٹک انتظامیہ نے مزید کہا کہ ہماری عالمی کمیونٹی، تمام نسلوں میں، لاکھوں افراد تک پہنچے کی صلاحیت کے باعث اہمیت اختیار کر چکی ہے موسیقی، خوراک، حسن اور فیشن سے لیکر فن، مقاصد اور ہر وہ چیز جو اِن کے درمیان موجود ہے ثقافت حقیقی معنوں میں ٹک ٹاک پر شروع ہوتی ہے۔

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

    سعودی عرب : بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

  • انضمام الحق  دل کی تکلیف کے باعث اسپتال داخل

    انضمام الحق دل کی تکلیف کے باعث اسپتال داخل

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دل کی تکلیف کے باعث سابق کرکٹر انضمام الحق کو نجی اسپتال میں داخل کیا گیا اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد معروف سرجن پروفیسر ڈاکٹر زبیر اکرم نے عالمی شہرت یافتہ بلے باز انضمام الحق کی انجیو پلاسٹی کردی ہے۔

    عمر شریف کی امریکہ روانگی موخر، اہلیہ کی وفاقی اور صوبائی حکومت سے مدد کی اپیل

    انضمام الحق کو اسٹنٹ ڈالا گیا ہے اسپتال انتظامیہ کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کی طبیعت اب پہلے سے بہتر ہے۔

    واضح رہے کہ سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم انضمام الحق قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بھی رہ چکے ہیں 1992 کے ورلڈکپ میں سیمی فائنل کے ہیرو انضمام الحق نے 120 ٹیسٹوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 8830 رنز بنارکھے ہیں، ان کا ٹیسٹ میں انفرادی اسکور 329 رنز ہےجبکہ وہ پاکستان کے لئے 25 ٹیسٹ سینچریاں اور 46 نصف سینچریاں بناچکے ہیں۔

    نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: اعظم خان اور شاہین شاہ آفریدی کو جرمانوں کا سامنا

    ایک روزہ میچز میں انضمام الحق نے پاکستان کی جانب سے 378 میچز کھیل کر 11739 رنز اسکور کئے، انہوں نے 10 سینچریاں اور 83 نصف سینچریاں بنارکھی ہیں۔

    برطانوی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی جیت ہے شہباز شریف

  • لاما اور اونٹ کے ذریعےکورونا وائرس ختم کیا جا سکتا ہے     برطانوی سائنسدانوں کا دعویٰ

    لاما اور اونٹ کے ذریعےکورونا وائرس ختم کیا جا سکتا ہے برطانوی سائنسدانوں کا دعویٰ

    لندن: برطانوی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ لاما اور اونٹ کے ذریعے انسانوں سے کورونا وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ لاما اور اونٹ میں بننے والی مختصر اینٹی باڈیز یعنی ’نینو باڈیز‘ کورونا وائرس کے خاتمے کا سبب بنتا ہے عام اینٹی باڈیز کے مقابلے میں نینو باڈیز کی جسامت بہت کم ہوتی ہے لیکن اب تک کی تحقیق میں انہیں ایسے کئی وائرسوں اور جرثوموں کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے کہ جن پر روایتی اینٹی باڈیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    روزالن فرینکلن انسٹی ٹیوٹ برطانیہ کے سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر تجربہ گاہ میں رکھے گئے ایک لاما میں ناول کورونا وائرس داخل کیا تو لاما کے جسم میں موجود ایک خاص نینو باڈی نے وائرس کو جکڑ کر مزید پھیلنے سے روک دیا۔

    لاما میں سے یہ نینوباڈی الگ کی گئی اور اگلے مرحلے میں اسے ہیمسٹرز (چوہوں جیسے جانوروں) پر آزمایا گیا جو وائرس سے متاثر کیے گئے تھے ہیمسٹرز میں بھی اس نینوباڈی نے وہی کارکردگی دکھائی جس کا مظاہرہ یہ لاما میں کرچکی تھی۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ماہرین کے مطابق لاما سے حاصل شدہ نینو باڈی کو اسپرے کی شکل میں براہِ راست ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچایا جاسکتا ہے جو اس کا سب سے بڑا فائدہ ہے-

    رپورٹ کے مطابق 1989 میں لاما اور اونٹ پر تحقیق کے دوران پہلی بار نینوباڈیز دریافت ہوئیں جبکہ ان سے اولین علاج وضع کرنے میں مزید 30 سال لگ گئے۔

    سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    واضح رہے کہ اس سے قبل برازیلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اب سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے وائپر سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کے بچاؤ کی دوا کی تیاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے سانپ کے زہر میں موجود مالیکیول نے بندروں کے خلیوں میں کورونا وائرس کی افزائش کو روکا ہے اور یہ وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ممکنہ پہلا قدم ہے۔

    سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق وائپر سانپ کے زہر میں پایا جانے والا مالیکیول بندروں کو لگایا گیا جس سے کورونا وائرس کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت میں 75 فیصد کمی آئی یہ دریافت اس وائرس سے لڑنے کے لیے ایک دوا کی تخلیق کی طرف ممکنہ پہلا قدم ہو سکتا ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وائپر سانپ کے زہر میں پائے جانے والے مالیکیولز پہلے ہی انسداد بیکٹریا خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہیں یہ لمبے سفر میں پہلا قدم ہے یہ عمل بہت لمبا ہے۔

  • دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ا یسا پر اسرا مقام ہے جہاں پتھر خود بخود حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا میں اس جگہ کا نام ڈیتھ ویلی نیشنل پارک رکھا گیا ہے جہاں پتھر اپنی جگہ سے خود بخود سرکتے ہوئے نظر آتے ہیں دنیا کے اس خشک ترین مقام میں ایک جھیل کی خشک تہہ میں ایسا ہوتا ہے جسے ریس ٹریک پلایا کا نام بھی دیا گیا ہے ریس ٹریک کی خشک سطح پہ بے جان پتھر خود بخود سرکتے ہیں جس سے ان کے پیچھے ایک ٹریک بن جاتا ہے۔

    2014 میں 2 سائنسدانوں نے بتایا تھا کہ کئی بار یہ بھاری اور بڑے پتھر برف کی پتلی مگر شفاف تہہ میں سورج والے دنوں میں سرکتے ہیں، جسے انہوں نے آئس شوو کا نام دیا سائنسدان جیمز نورس نے اس موقع پر بتایا تھا کہ ہم یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے کہ دنیا کا وہ مقام جہاں سال بھر میں اوسطاً محض 2 انچ بارش ہوتی ہے، چٹانی پتھر اس طرح سرکتے ہیں جیسے عموماً آرکٹک کے خطے میں نظر آتا ہے۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    انہوں نے یہ دریافت حادثاتی طور پر کی تھی، ویسے یہ ان پتھروں کی حرکت کی ہی جانچ پڑتال کررہے تھے مگر انہوں نے ان چٹانوں کو دسمبر میں اس وقت متحرک دیکھا جب وہ وہاں موجود اپنے ٹائم لیپس کیمروں کو چیک کرنے گئے۔

    رپورٹس کے مطابق ان چٹانی پتھروں کا وزن کئی بار 200 کلو گرام سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک منٹ میں 15 فٹ سے زیادہ سرک سکتے ہیں، اکثر یہ اپنی جگہ سے کئی کلومیٹر دور تک چلے جاتے ہیں۔

    حیران کن طور پر کسی انسان نے ان پتھروں کو حرکت کرتے نہیں دیکھا یعنی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا البتہ انہیں 2014 میں ٹائم لیپس فوٹوگرافی کی مدد سے ضرور حرکت کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے اور اس وقت اس حیران کن معمے کی ممکنہ وجہ بھی سامنے آئی۔

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

  • خاندان پہلے سیاست بعد میں تحریر:آصف اسماعیل

    اس سے پہلے کہ ہم اس بحث کو سمیٹیں کہ نواز شریف کے بعد پارٹی قیادت کو کے پاس جائے گی ہمیں چوہدری ظہور الہی کے خاندان اور ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کو سمجھنا ہو گا کیونکہ یہ دونوں خاندان ایک دوسرے سے منسلک بھی ہیں اور ایسا کرنے سے زیادہ بہتر انداز میں پتا چلے گا کہ پاکستان میں سیاسی خاندانوں میں قیادت کیسے منتقل ہوتی ہے۔

    اگر چوہدری ظہور الہی کے خاندان پر نظر دوڑائی جائے تو چوہدری صاحب خود سیاست میں کافی متحرک تھے جبکہ ان کے بھائی چوہدری منظور الہی نے اپنے آپ کو کاروبار تک ہی محدود رکھا، مگر وہ اپنے بھائی کے سیاست مفادات کی حفاظت بھی کرتے تھے ان کی مدد بھی۔
    چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں ہی اپنے بیٹے چوہدری شجاعت کو قومی اسمبلی کا ممبر منتخب کروایا، اس وقت کے سیاستدانوں سے بات کی جائے تو وہ یہ بتاتے ہیں کہ گجرات میں ایک رائے تھی کہ چوہدری ظہور الہی کے بیٹے سیاست کریں گے جبکہ چوہدری ظہور الہی کے بیٹے چوہدری پرویز الہی کاروبار کا آگے لے کر جائیں گے مگر پھر انیس سو

    اکیاسی میں چوہدری ظہور الہی کو الذوالفقار کی جانب سے قتل کیا گیا تو یہ ضرورت پڑی کہ مرکز کی سیاست اگر چوہدری شجاعت کریں گے تو صوبائی سیٹ پر بھی کسی ایسے شخص کو سامنے لانا چاہیے جو خاندان سے ہو اور جو خاندان سے مفادات کی حفاظت بھی کرے۔ اسی حوالے سے جب میری ترجمان پرویز الہی زین علی بھٹی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ "چوہدری ظہور الہی کی شہادت کے فوری بعد قیادت کا ایک خلا پیدا ہو گیا کیونکہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا تو اس وقت خاندان کے اندر اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ چوہدری شجاعت مرکز کی سیاست کریں گے اور چوہدری پرویز الہی جو کہ چوہدری ظہور الہی کے بھتیجے بھی ہیں انہیں پنجاب کے معاملات دیکھنے پر معمور کیا جائے گا، جہاں تک سیاسی کھینچا تانی کی بات ہے تو وہ اسی وجہ سے نہیں ہوئی کہ دونوں کو اپنے رولز کا پتا چل گیا”۔ چوہدری ظہور الہی کی زندگی میں ہی چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز دونوں ہی متحرک ہو گئے تھے کیونکہ پی این اے کی تحریک میں دونوں سے طالبعلم سیاست شروع کر دی تھی۔

    اسی طرح اگر ہم بھٹو خاندان پر نظر دوڑائی تو کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کے بھائی نہیں تھے تو قیادت کا جھگڑا ان کے بچوں میں ہونا تھا جو بعد میں ہوا بھی مگر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی بے نظیر بھٹو کی گرومنگ شروع کر دی تھی جیسا کہ آپ سب نے دیکھا ہو گا کہ شملہ معاہدے کے وقت بے نظیر بھٹو اس دورے میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھیں اور انہیں ہی سیاسی جانشین تصور کیا جاتا تھا مگر خاندان کے اندر لوگوں کا خیال تھا کہ جانشین مرتضی بھٹو کو ہونا چاہئے لیکن اس خیال کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی اور بے نظیر بھٹو ہی اصل وارث بنیں۔

    اب اگر ہم ان دونوں خاندانوں کو سامنے رکھیں تو ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ نواز شریف کا سیاسی وارث کون ہو گا۔ 1999ء کے مارشل لاء کے فوری بعد سے لے کر دو ہزار سات تک سب کا ماننا یہی تھا کہ حمزہ شہباز ہی نواز شریف کے سیاسی وارث ہوں گی اور یہ تاثر دو ہزار سولہ تک کافی حد تک درست بھی مانا جاتا ہے کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار اٹھارہ کے دوران حمزہ

    شہباز پنجاب میں ڈپٹی وزیراعلی کے طورپر متحرک رہے۔ مرکز کی سیاست نواز شریف کے ہاتھ میں تھی جبکہ مریم نواز ان کے ساتھ میٹنگ اور بیرونی دوروں پر ہوتی تھیں اور پنجاب کے انتظامی معاملات شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے ہاتھ میں تھے۔ میری اپنی رائے میں خاندان میں خاموش مفاہمت اب بھی برقرار ہے مگر اب اس میں تھوڑی پیچیدگی آ گئی ہے کیونکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پانامہ کیسز کے دوران اس طرح سے متحرک نہیں ہوئے اور نہ ہی دونوں نے بیانات دیئے جیسے کھل کر مریم نواز یا نواز شریف سامنے آئے۔ اب پارٹی میں دو گروپ ہیں جو نظر نہیں آتے لیکن نواز شریف کے منظر سے ہٹنے کے بعد سامنے آئیں گے۔ ایک گروپ کا ماننا یہ ہے کہ جس کی دھاک پنجاب پر ہوتی ہے وہی مرکز میں حکومت بناتا ہے جبکہ دوسرے گروپ کا ماننا ہے کہ ووٹ نواز شریف کا ہے، مریم نواز اور نواز شریف پر جب مشکل وقت تھا تو شہباز شریف اور ان کے بیٹے خاموش تھے تو قیادت مریم نواز کے پاس ہی جانی چاہیے۔

    اب اگر تجزیہ کیا جائے تو جیسے چوہدری خاندان میں اس بات پر اتفاق تھا کہ مرکز کی سیاست چوہدری شجاعت کریں گے اور صوبے کی سیاست چوہدری پرویز الہی ویسے ہی نواز شریف کا سیاسی وارث مرکز میں مریم نواز کی صورت میں سامنے آئے گا اور صوبے میں حمزہ شہباز کی صورت یہاں تک شہباز شریف کا تعلق ہے تو ان کا کردار بالکل اسی طرح کا ہو گا جیسا اس وقت نواز شریف کا ہے، کیونکہ جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر بھٹو کی گرومنگ اپنی زندگی میں ہی شروع کر دی تھی تو یہ بات سب کو معلوم تھی کہ بے نظیر بھٹو ہی سیاسی جانشین ہوں گی ویسے ہی مریم نواز کا پلڑا اس وقت حمزہ شہباز پر کافی بھاری ہے۔ ہمیں لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں کہ حمزہ شہباز کی نسبت مریم نواز کی جدوجہد کم ہے مگر مریم نواز حمزہ شہباز کے مقابلے میں "کراوڈ پلر”ہیں۔ جہاں تک جماعت یا خاندان میں لڑائی کی بات ہے تو میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو گا کیونکہ جس طرح مافیاز میں "خاندان پہلے اور کاروبار بعد میں” آتا ہے 2یسے ہی سیاسی خاندانوں میں ایک خاموش مفاہمت ہوتی ہے کہ "خاندان پہلے آتا ہے اور سیاست بعد میں” آتی ہے۔ ہم نے ماضی میں تو یہی دیکھا اب مستقبل کا حال اللہ جانتا ہے۔

  • 27ستمبر یوم سیاحت تحریر چوہدری عطا محمد

    27ستمبر یوم سیاحت تحریر چوہدری عطا محمد

    سیاحت کے شعبے کو دنیا بھر کے ممالک میں ایک صنعت کی حیثیت حاصل ہے، سیاحت کا یہ شعبہ معیشت میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے اورملک کی مجموعی آمدنی میں اضافہ کرنے کا بہترین زریعہ بھی ہے
    اگر ہم بات کریں ارض پاک پاکستان کی تو دنیا بھر کی طرح ارض پاک پاکستان میں بھی آج کی دن یعنی 27ستمبر کو عالمی یوم سیاحت کے نام سے بھرپور طریقہ سے منایا جاتا ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ٹورزم آرگنائیشن کے ماتحت تقریباً 1980 میں پہلا بار عالمی سطع پر سیاحت کا دن منایا گیا۔ اس دن کے اگر مقاصد کی بات کی جاۓ تو دنیا بھر میں سیاحت کے فروغ کے لئے یہ دن منایا جاتا ہے جس سے اقوام عالم میں تمام ممالک کے درمیان بھائی چارے یعنی دوستی کی فضا پیدا کرانا باہمی روابط رکھنا ہے

    دنیا بھر میں سیاح بہت سے ممالک کا دورہ کر کے اس ملک کی تہزیب و تمدن اور ثقافت کا بخوبھی جائزہ لیتے اور سمجھتے جس سے سیاحوں کو اس ملک کے لوگوں کے بارے ان کے رئین سہن کھانے پینے کے بارے میں معلومات ملتی اس دن کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہہ لوگوں میں اس بات کا زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کیا جاۓ کہہ سیاحت اقوام عالم کے تمام ملکوں کے درمیان بہت سی اہمیت رکھتی ہے
    اگر ہم ارض پاک پاکستان کی سیاحت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ارض پاک پاکستان کا شمار بھی اقوام عالم کے خوبصورت ملکوں میں شمار ہوتا ہے یہاں تاحد نگاہ قدرتی خوبصورتی آنکھوں کو ٹھنڈک اور راحت دینے کے لئے پھیلی ہوئی ہے

    دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان کے قدرتی حسین مقامات اپنی طرف راغب کرتے ہیں ارض پاک میں خوبصورت پر پیچ خم کھاتی خوبصورت وادیاں پہاڑ اور بہتے ہوۓ دریا خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پھر پاکستان کا ثقافتی ورثہ بھی اپنا ایک مقام رکھتا ہے
    اگر میں پاکستان میں چند خوبصورت جہگوں کے نام لوں تو مری کالام ما لم جبہ آزاد کشمیر بالاکوٹ سوات گلگت کاغان ناران اور بہت سے ایسے شہر جگہیں ہیں جو دیکھنے والے سیاحوں پر سحر طاری کر دیتے ہیں
    گزشتہ ادوار میں حکمرانوں کی عدم دلچسبی اور توجہ نہ دینے کیوجہ سے یہ شعبہ کافی سست رہا۔
    لیکن پاکستان میں تحریک انصاف کی پہلے گورنمنٹ ہی جس نے سیاحت پر بھر پور توجہ دی سابقہ کے پی کے کیں دور حکومت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین جناب عمران خان کی خصوصی دلچسبی کیوجہ سے کے پی کے میں کافی زیادہ اس شعبہ میں ترقی دیکھنے میں آئی اب چونکہ مرکز میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور وزیز اعظم جناب عمران خان صاحب پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے خصوصی توجہ بھی دے رہے ہیں جس کیوجہ سے ہر آنے والا سال پہلے سال سے زیادہ اس شعبہ سے آمدن اکٹھی کر رہا ہے
    پاکستانی قوم کی دنیا سے پیار کرنے والی اپنے مہمانوں کو عزت دینی والی ہے پاکستان پرامن اور خوبصورت ترین ملک ہے

    @ChAttaMuhNatt

  • ترکی کتنا طاقتور ہے:-     تحریر اصغر علی

    ترکی کتنا طاقتور ہے:-     تحریر اصغر علی

                                 
                
    اسلامی دنیا میں اگر کوئی ایک ملک امریکی بالادستی کو چیلنج کرتا ہے تو وہ ترکی ہے اس کی حالیہ مثال پچھلے دنوں میں آپ کے سامنے آئی امریکہ نے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو ترکی نے اسرائیل سے اپنے ڈپلومیٹک تعلقات توڑ دیے ترکی نہ ہی کوئی ایٹمی ملک ہے اور نہ ہی اس کے پاس کسی قسم کے کوئی ایٹمی ہتھیار ہیں ہیں مگر باوجود اس کے اس کا شمار دنیا کی چند بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے ترکی کی سب سے بڑی قوت اس کا جغرافیہ ہے کیونکہ ترکی یورپ اور ایشیا دونوں براعظموں کے درمیان میں واقع ہے اور درمیان میں واقع ہونے کی وجہ سے وہ دونوں براعظموں کا دروازہ بن چکا ہے ترکی کے اس جغرافیائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روس اور امریکہ دونوں ہی یہ چاہتے ہیں کہ ترکی میں ان کے ساتھ رہے اور اس چیز کو ترکی اچھی طرح جانتا ہے مگر یہی جغرافیہ ترکی کے لئے سب سے بڑی مصیبت بھی ہے کیوں کہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہر سال ایشیا سے یورپ جانے کے لیے ترکی میں آ جاتے ہیں جو ترکی کی کے لیے بڑا معاشی چیلنج کھڑا کر دیتا ہے ترکی یورپی یونین کا حصہ بننا چاہتا ہے ہے مگر اس کا جغرافیا اس کی بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ یورپی یونین میں آنے والے ہر ملک کے لوگ دوسرے ملک میں بغیر ویزے آسانی سے آ جا سکتے  ہیں اگر ترکی یورپی یونین میں شامل ہو جاتا ہے تو ہر سال ایشیا سے آنے والے لاکھوں تارکین وطن بآسانی یورپ چلے جائیں گے جو کہ ممکن نہیں ہے اس لیے ترکی کی سر توڑ کوششوں کے باوجود یورپی یونین اسے اپنا رکن بنانے سے انکاری ہے معاشی لحاظ سے ترکی 863 ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کی سترویں بڑی معاشی طاقت ہے ترکی کے جی ڈی پی کا زیادہ انحصار سیاحت پر ہے ایک اندازے کے مطابق ہر سال ستر لاکھ سیاح ترکی کا رخ کرتے ہیں ترکی کی فوجی اہمیت اور بھی زیادہ ہے ترکی دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ہے جب کہ پاکستان تیرویں بھارت پانچویں اور چین تیسری بڑی طاقت ہے نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ملک ترکی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو مغربی فوجی اتحاد نیٹو سے بھی جنگ کرنے پڑے گی اور یہاں یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ نیٹو اتحاد میں امریکہ کے بعد دوسری بڑی فوج بھی ترکی کی ہے اور اس کی تعداد 4 لاکھ دس ہزار ہے امریکی پابندیوں کے باوجود ترکی نیٹو اتحاد کا واحد ایسا ملک ہے جو روس سے جدید ہتھیار اور ریڈارسسٹم خرید رہا ہے ترکی مسلمان ملکوں میں بھی خاص اہمیت رکھتا ہے ہے جب امریکی صدر  نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مسلم ممالک کا ایک اجلاس بلایا اور بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا ترکی کے اس اقدام نے مسلمانوں کے دل جیت لیے تھے ترکی میں دو بڑے اہم مسائل ہیں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ترکی میں رہنے والے کرد اقلیت کے لوگوں نے آزادی کی تحریک شروع کردی ہے ان لوگوں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ ساتھ شام اور عراق میں بھی اپنے اڈے قائم کر لیے ہیں ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شام کے شمالی علاقے پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے اور عراق میں بھی ترکی کی فوج داخل ہوچکی ہے اسی فوجی مداخلت کی وجہ سے ترکی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ترکی کا دوسرا بڑا مسئلہ یورپی یونین اور امریکہ سے خراب تعلقات ہیں اس وقت صورت حال یہ ہے ہے کہ ترکی تیزی سے روس ایران پاکستان کے قریب ہو رہا ہے قطر اور ایران سے بھی اس کے اچھے تعلقات ہیں تاہم شام عراق اسرائیل سعودی عرب یمن یونان سائپرس اور امریکہ سے اس کے تعلقات کافی حد تک ک خراب ہو چکے ہیں یوں دیکھا جائے تو ترکی اپنے جغرافیائی لحاظ معاشی ترقی نیٹو کی رکنیت اور فوجی طاقت کی وجہ سے دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے ہے تاہم کرد کی بغاوت امریکا اور یورپ سے مسلسل کشیدہ تعلقات اور ہمسایہ ممالک کی بگڑتی صورتحال نے ترکی کے لیے بہت سارے چیلنج پیدا کر دیے ہیں

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI
    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • اسلام و پاکستان مخالف بل منظور تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    اسلام و پاکستان مخالف بل منظور تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    آج سے کچھ قبل سوشل میڈیا پر ایک خبر نظروں سے گزری جس کا عنوان یہ تھا کہ سندھ اسمبلی میں اسلام مخالف بل منظور ہوگیا پہلے تو میں نے اسے فیک اور جھوٹی خبر سوچ کر ان دیکھا کردیا کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کیسے اسلام مخالف بل منظور کا سکتا ہے؟

     مگر پھر اگلے دن میرے ایک اور عزیز نے مجھے یہ خبر واٹسپ پر بھیجی پھر میں نے سوچا کیوں نہ اس خبر کی تصدیق کی جائے.

    خبر کی تحقیق کرنے پر پتا چلا واقع یہ خبر تو حقیقت پر مبنی ہے پھر مزید سندھ اسمبلی میں منظور ہوئے اس کردار داد کو پڑھا تو اس کا اسکا خلاصہ یہ نکلا کہ حقیقت میں یہ بل اسلام مخالف ہے اور اسلام کے دارہ کار کے بل کل منافی ہے. 

    کیا ہمارے حکمران اتنے کم عقل ہیں؟ کہ ا چند ووٹوں کی خاطر اپنا ایمان بیچ کر ان کے تہواروں میں جاتے ہیں انہیں کے جیسی عبادت کرتے ہیں ان کے بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں کیا اسلام اس اجازت دیتا ہے؟

    تفصیلات کے مطابق یہ بل ایک سال قبل مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی نند کمار گولکانی نے پیش کیا تھا جسے منظور کرلیا گیا.

    وطن عزیز پاکستان میں دین مذہب میں کوئی تفریق نہیں بلکہ اتنا خیال تو یہاں کسی مسلم کا نہیں رکھا جاتا جتنا کسی غیر مسلم کا رکھا جاتا ہے اس کے بر عکس اگر آپ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو دیکھیں وہاں کتنی انسان حقوق کی پامالی ہو رہی ہے مسلمانوں کا جینا وہاں محال ہے کتنی ہی مسلم بستیوں کو غیر قانونی طور پر قرار دے مسمار کر دیا جاتا ہے اپنے آپ کو سیکیولر ملک قرار دینے والا بھارت خود انسانی حقوق کی پامالی کرتا ہے .

    آئیں اس بل کی کچھ اہم تعریف آپ کے سامنے رکھتا ہوں.

    کوئی بھی لڑکی یا لڑکا 18سال سے قبل اسلام قبول نہیں کرسکتا زبردستی کلمہ پڑھنا نے والے اور نکاح خواں کو کم از کم 5 سال قید اور ضمانت بھی نہ ہو سکے گی.

    اس میں سب سے پہلے خلاف شریعت بات عمر کی تحدید کرنا ہے دین اسلام میں کہیں بلوغت کیلئے اٹھارہ سال کی عمر مقرر نہیں کیونکہ دور نبوی میں پندرہ سال سے کم بچوں نے بھی اسلام قبول کیا بچوں میں سب سے پہلے اسلام حضرت علی المرتضیٰ رضہ نے قبول کیا اسی طرح زید بن حارثہ رضہ نے پندرہ اور معاذ و معوذ رضی اللہ عنھما نے بارہ اور تیرہ سال میں اور اگر تاریخ اسلام کو صحیح معنوں میں پڑھا جائے تو یہ بل بلکل ہی اسلام مخالف ہے

    اسلام تو اسکی بھی اجازت نہیں دیتا کہ کسی غیر مسلم کو زبردستی اسلام قبول کروایا جائے. 

    اگر یہ بل کسی غیر مسلم ملک میں ہو تو سمجھا جا سکتا ہے لیکن اس وطن عزیز پاکستان یہ کردار داد منظور ہونا ہمارے سیاستدانوں کے منہ پر ایک تماچہ ہے.

    میں سمجھتا ہوں کہ بل اسلام کی دعوت تبلیغ کو روکنے کیلئے اور اس وطن عزیز پاکستان کے خلاف ایک ہتھکنڈا استعمال کیا گیا ہے پہلے جب دشمنوں نے ملک پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی الحمدللہ ہم نے اسکا بھرپور جواب دیا اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی اب جبکہ یہ اس میں بھی ناکام ہوئے تو انہیں نے ہمارے سوئے ہوئے حکمرانوں کا سہارا لیکر وطن عزیز کی بنیادیں کچی کرنی چاہیں ہیں کیونکہ دین اسلام وہ واحد مذہب ہے جو تیزی سے دنیا میں پھیل رہا ہے جس سے غیر مسلم ان خوفزدہ طاقتوں، این جی اوز اور سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے غیر مسلم خصوصاً ہندو ارکان نے نومسملوں کے ساتھ تعاون اور ان کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے اداروں اور علماء کو ڈرانے کےلیے مذکورہ قانون پاس کیا ہے۔

  • کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    کرونا کا ٹیکا اور کراچی کا نوجوان تحریر محمد صادق سعید

    قارئین آج میں ایک بہت اہم موضوع پر لکھنےجارہا ہوں یوں تو میں اپنی تمام تحریروں میں کوشش کرتا ہوں کے میری لکھی گئی تحریر سے کسی کی دل آزاری نہ ہو اور قلم کی آواز ایوانوں میں سنائی دے جیسا کے آپ کے علم میں ہے کے ہر جگہ کرونا کا رونا ہے لیکن کرونا جاتے جاتے بھی کراچی کے کئی پڑھے لکھے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرتا جا رہا ہے آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کرونا کا نوجوانوں کے مستقبل سے کیا واسطہ تو آئیں میں آپ کو بتاتا ہوں کرونا کس طرح نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے بالخصوص کراچی کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کررہا ہے آج میرا جانا اپنے کسی دوست کے پاس ہوا جو کے سندھ پولیس میں بطور ایس ایچ او ملازمت کر رہا ہے میں اس کے پاس بیٹھا خوش گپیاں مار رہا تھا کے اچانک اس دوست کے فون کی گھنٹی بجی اس نے فون کال اٹھاتے ہی کہا سر میں گرفتاریاں کر رہا ہوں جن لوگوں نےکرونا ویکسین نہیں لگوائی دوسری جانب کال پر کوئی اعلیٰ افسر موجود تھا کیونکہ میرا ایس ایچ او دوست اسے سر کر کے مخاطب کر رہا تھا دوسری طرف سے کرونا ویکسین نہ لگانے والوں کے خلافِ 40 ایف آئی آرز درج کرنے کا حکم صادر فرمایا جا رہا تھا چونکہ میں ایس ایچ او صاحب کے قریب بیٹھا تھا تو مجھے دوسری جانب سے کی جانے والی گفتگو کی آواز سنائی دے رہی تھی اور میرا ایس ایچ او دوست سر سر اور سر بولے جارہا تھا فون کال بندہونےکےبعد میں نے اپنے دوست موصوف سے پوچھا کے یہ کیا چکر ہے 40 ایف آئی آرز کس کی کرنی ہے اور آج ہی کیوں کرنی ہے میرے دوست نے مجھ سے کہا بھائی آج سے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کےخلاف مہم کا آغاز کیا جا چکا ہےاور ایف آئی آر درج کرنے کا حکم ملا ہے اور مجھے فوری طور پر حکم ملا ہے کے کم ازکم 40 ایف آئی آرز درج کر کے رپورٹ واٹس کرنی ہے افسران بالا کو یہ تمام باتیں سن کر میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور میں نے اپنے ایس ایچ او دوست سے کہا یار یہ تو بہت زیادتی اور ظلم ہو جائے گا کہنے کو تو یہ ایف آئی آر چھوٹی سی ہے لیکن یہ ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دے گی ایک ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ نوجوان کسی باہر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے نہیں جا سکتا سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکتا اسلحہ کا لائسنس نہیں بنوا سکتا تو یہ تو بہت بڑا ظلم ہو جائے گا اس سے پہلے بھی آپ کو یاد ہو گا ون وے اور ڈبل سواری پر نوجوانوں کی ایف آئی آرز درج کر کے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کیا جا چکا ہے کہنے کو تو یہ تمام ایف آئی آریں ایک چھوٹی سی سیکشن 188کے تحت کاٹی جاتی ہیں لیکن یہ چھوٹی سی ایف آئی آر نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرجاتی ہے کرمنل ریکارڈ ڈیٹا بیس پر انٹری کر کے نوجوانوں پر ساری زندگی کا دھبہ لگا دیا جاتا ہے پوری دنیا میں اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں کے کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہوں لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کے کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ کیا جارہاہے خدارا نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ نہ کیا جائے یہ نوجوان مستقبل کا معمار ہیں اس ملک کی باگ دوڑ ان ہی میں سے کسی نوجوان نے سنبھالنی ہے براہِ مہربانی کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کے خلافِ ایف آئی آر کے بجائے اگر جرمانہ کر دیا جائے تو بھی لوگ ویکسین لگوا لیں گے اگر ہم فرض کر لیں کے ایک تھانے میں 40 نہیں 25 ایف آئی آرز روزانہ کی بنیاد پر درج کی جائیں تو کراچی کے 108 تھانہ جات سے 2700 ایف آئی آرز درج کر کے نوجوانوں کو تباہی کی جانب گامزن کر دیا جائے گااس پر نظر ثانی کی جائے اور اس نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کیاجائے چیف جسٹس آف پاکستان اس بات کا از خود نوٹس لیں اور کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ پونے سے بچائیں۔

    جزاکِ اللہ

    Name:

    Sadiq Saeed | صادق سعید

    Twitter Handle

    @SadiqSaeed