Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم


    دین اسلام کی آمد عورت کیلٸے غلامی و ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کی نوید تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے خلاف تھا اور عورت کو وہ حقوق اور فرائض  عطا کیے جس کی وہ مستحق تھیں دین اسلام نے عورت کو اس قدر عزت و اہمیت دی کہ قرآن کی ایک عظیم سورۃ کا نام سورۃ النساء ہے۔ پھر  ایک اور سورۃ کا نام سورۂ مریم ہے۔  تاریخ گواہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے دور سے عورت مظلوم چلی آرہی تھی ہر دور میں عورتوں پر ظلم  و جبر کیا گیا ہے ۔ مرد انہیں اپنے عیش وعشرت کی غرض سے خرید اور فروخت کرتے انکے ساتھ جانوروں سے بھی  بدتر سلوک کیاجاتاتھا حتی کہ اہلِ عرب عورت کے وجود کو معیوب سمجھتے تھے اور بیٹیوں  کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ ہندوستان میں خاوند کی چتا پر اس کی بیوہ اہلیہ کو جلایا جاتا تھا ۔ واہیانہ مذاہب بھی عورت کو گناہ کا سرچشمہ  سمجھتے تھے۔ عورت سے تعلق رکھناروحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ دنیا کے زیادہ تر تہذیبوں میں عورت کی سماجی حیثیت نہیں تھی۔ عورت کو حقیر وذلیل نگاہوں سے دیکھاجاتا تھا۔ عورت کے معاشی اور سیاسی حقوق نہیں تھے، عورت آزادانہ طریقے سے کوئی لین دین نہیں کرسکتی تھی۔ عورت اپنے باپ کی پھر اپنے خاوند   کی اور اس کے بعد اپنے بچوں کی تابع اور محکوم تھی۔ عورت کی کوئی اپنی مرضی نہیں تھی اور نہ ہی اسے کسی پر کوئی اقتدار حاصل تھا۔ یہاں تک کہ عورتوں کو فریاد کرنے کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔
    لیکن دین اسلام نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کوزندہ درگور کرنے سے منع فرمایا اور ذلت اور پستی کے گڑھوں سے نکالا۔ اسے باپ کے لیے رحمت بنایا، شوہر کے لیے راحت،بھاٸیوں کے لیے شفقت بنایا اور ماں کے روپ میں محبت اور الفت کا سرچشمہ بنایا ۔سب سے پہلے دین اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیئے جس سے وہ صدیوں سے محروم چلی آرہی تھی اور عورت کو یہ حقوق دین اسلام نے اس لئے نہیں عطا کئے تھے کہ عورت اس کا مطالبہ کر رہی تھی یا عورتوں نے کوئی مارچ کیا تھا، بلکہ دین اسلام نے یہ حقوق اور فرائض  عورت کو اس لئے تفویض کئے کہ یہ عورت کے فطری حقوق اور فرائض  تھے، جس کی وہ قدرت کی طرف سے حق دار تھی اور ہمیشہ رہے۔ گی  دین دین اسلام نے عورت کو انسانیت کے دائرے میں حقوق اور فرائض  دیئے اور لوگوں کو یاد دلایا کہ مرد ہونا کوئی برتری کی علامت نہیں ہے اور عورت ہونا کوئی باعث عار شے  نہیں ہے۔اسلام نے عورتوں کو آزادی رائے کا پورا حق ہے۔عورت نے دین اسلام کو بیٹی، بیوی اور ماں کی حیثیت میں بے پناہ حقوق و فراٸض اور آزادیاں دی ہیں، مگر حد سے تجاوز کرنے سے ممانعت کیں ہے مگر  کچھ نا سمجھ لبرلز عورتوں آزادی چاہتی ہیں اور میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگا کر عورتوں کو پھسلانا چاہتی ہیں، جبکہ ہمارا جسم تو اللہﷻ  کا عطا کردہ ہے اور اگر ہم اس جسم پر اللہ ﷻ کی مرضی کی بجائے کچھ اور نافذ کریں گے تو وہ یقینا فلاح نہیں ہو گی اس لئے عورتوں کو وراثت میں حق دینے کے لئے مارچ ہونے چاہئیں ، انہیں بہترین  تربیت اور تعلیم دی جانے چاہیے اور جہیز جیسی لعنت سے چھٹکارے کے لئے مارچ ہونے چاہئے جو عورت کے حقیقی مسائل ہیں اور اسی کیلٸے ہمیں مل کر جدوجہد کرنی چاہئے۔ 

    اللہ تعالیٰ ہم سب  مسلم بہنوں  کو اسلام کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

    ‎@MahaViews_

  • پی سی بی کا راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ

    پی سی بی کا راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ کیا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کی جانب سے نیوزی لینڈکرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ ہونے کے بعد نیشنل ٹی 20کپ کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ اس سے پہلے ملتان میں 25 ستمبر سے شروع ہونا تھا۔ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں قومی ٹیم کے تمام کھلاڑی ان ایکشن نظر آئیں گے۔

    ٹورنامنٹ میں تمام بڑے کھلاڑی حصہ لیں گے۔ ٹورنامنٹ کا دوسرا مرحلہ لاہور میں ہوگا۔

    تھریٹ لیول بدلنے پردورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ

    واضح رہے کہ پاکستان دورے پر آنے والی نیوز ی لینڈ کرکٹ ٹیم نے 17ستمبر کو پہلے ون ڈ ے سے کچھ دیر قبل سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کراچانک دورہ ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد کیویز ٹیم گزشتہ روز وطن واپس روانہ ہوگئی۔

    گرین لائن ریپڈ بس سروس:40 بسوں کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے دورہ منسوخی کے اعلان پر شائقین کرکٹ سمیت غیر ملکی کھلاڑیوں اور کرکٹ ایکسپرٹس نے بھی مایوسی کا اظہار کیا تھا-

    باکسر عامر خان کو امریکی ایئر لائنز کی پرواز سے اتار دیا گیا

  • تھریٹ لیول بدلنے پردورہ پاکستان منسوخ  کرنا پڑا       نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ

    تھریٹ لیول بدلنے پردورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ

    نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے سی ای او نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تھریٹ لیول بدلنے پر کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا۔

    باغی ٹی وی :نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے سی ای او ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ مکمل اطمینان تھا اس لئے ٹیم کو پاکستان بھیجا تھا۔ جمعہ کے روز سب کچھ بدلا ایڈوائزری تبدیل ہوئی، صورتحال بدلی، تھریٹ لیول بدلا اس لئے دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    کرس گیل کا پاکستان آنے کا اعلان،کھلاڑیوں کا رد عمل

    ان کا کہنا ہے کہ ہمیں جو ایڈوائس ملی تھی اس میں ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا حکومت سے مخصوص اور مصدقہ تھریٹ لیول کی ایڈوائزری ملی تھی۔

    انہوں نے مزید کہا ہے کہ آزاد ذرائع سے بھی ایڈوائزری کو حمایت حاصل تھی تھریٹ کی بنیادی نوعیت پی سی بی کو بتائی اس کی تفصیلات شیئر نہیں ہوسکتیں۔ ہم نے حکومت سے تفصیلی مشاورت کے بعد ہی دورہ ختم کیا تھا۔

    فول پروف سیکیورٹی:پاکستان نے دنیائے کرکٹ کو بڑی پیشکش کردی

    دوسری جانب نیوزی لینڈ کرکٹ اسکواڈ دبئی پہنچ گیا ہےجس کے بعد اب کھلاڑی اگلے مرحلے میں نیوزی لینڈ واپس جائیں گے۔

    یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان کھیلنے کے لیے آئی تھی، ٹیم اسٹیڈیم کیلئے روانہ ہونے والی تھی کہ سیریز کو منسوخ کر دیا گیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ نے یکطرفہ طور پر سیریز منسوخ کی ہے مہمان ٹیم کیلئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈن نے کرکٹ ٹیم کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم تھی میں نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔

    دوسری طرف شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں وہ مصروف ہیں جن کوہرمحاذپرشکست ہوئی ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بات نہیں ایسی ساز شیں پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑسکتیں

    نیوزی لینڈ سیریز منسوخ، تکلیف میں بھی محسوس کر رہا ہوں:آگے بڑھنا ہے:گھبرانا نہیں:…

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہاہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم شام 6 بجے چارٹرڈ طیارے سے دوبئی روانہ ہو گی ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاہے کہ نیوزی لینڈ کی 33 رکنی ٹیم کا وفد اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ چکا ہے جو شام 6 بجے چارٹر ڈ طیارے سے روانہ ہو گی ۔ وزیرداخلہ نے کہاکہ پوری ٹیم کے کرونا ٹیسٹ بھی ہو چکے ہیں۔

    33 رکنی وفد چارٹر فلائیٹ RJD232 کے ذریعے دوبئی روانہ ہو گی۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ نے بے بنیاد سیکیورٹی خدشات پر پاکستان کا دورہ موخر کیا۔امریکہ کی نیٹو فوج ، آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور کابل میں سفارت خانوں کے سفارتی عملے نے انخلا کے لیے پاکستان کو ترجیح دی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مخالف عالمی ایجنڈوں کے لیے کھیلوں کو قربانی کا بکرا نہ بنائیں۔

    سی سی پی او لاہوربھی نیوزی لینڈ کے رویے پرجزباتی ہوگئے

  • کرس گیل کا پاکستان آنے کا اعلان،کھلاڑیوں کا رد عمل

    کرس گیل کا پاکستان آنے کا اعلان،کھلاڑیوں کا رد عمل

    ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری بلے باز کرس گیل کی جانب سے پاکستان آنے کے اعلان پرقومی کھلاڑیوں کی جانب بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ویسٹ انڈیز کے جارحانہ بلے باز کرس گیل نے کہا ہے کہ وہ پاکستان جا رہے ہیں اور کون کون ان کے ساتھ جا رہا ہےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرس گیل نے لکھا کہ میں آج پاکستان جا رہا ہوں، انہوں نے سوال پوچھا کہ کون کون میرے ساتھ آ رہا ہے؟-

    جس کے بعد قومی کرکٹرز کی جانب سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا جا رہا ہے-

    قومی کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان نے کہا کہ آپ جب بھی پاکستان آئیں آپکو ہمیشہ خوش آمدید کہیں گے۔


    قومی آل راؤنڈر محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ خوش آمدید کرس گیل، آپ واقعی ایک حقیقی چیمپئین ہیں، پاکستان کی جانب سے بہت سا پیار۔


    فاسٹ باؤلر محمد عامر نے بھی کرس گیل کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آپ سے ملاقات ہوگی۔

    واضح رہے کہ کرس گیل کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب نیوزی لینڈ کی ٹیم نے سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر پاکستان کا دورہ ختم کر دیا کرس گیل کا بیان اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ، پاکستان ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔

  • پاکستان کا مستقبل روشن ہے تحریر: فرمان اللہ

    پاکستان کا مستقبل روشن ہے تحریر: فرمان اللہ

    پاکستان کے روشن مستقبل پر بات کرنے سے پہلے میں ماضی پر ایک نظر ڈالنا چاہتا ہوں۔ پچھلے 5 دہائیوں پر اگر نظر ڈالیں تو جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کی بجائے اسے تنزلی کی طرف لے کر گئے، معاشی طور پر پاکستان کو مقروض بنایا، اداروں میں سیاسی بھرتیاں کر کے اداروں کو تباہ و برباد کیا گیا، تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی صحت کی بہتر سہولیات عوام کو دی گئی۔ سادا لفظوں میں اگر بتاوں تو ملک غریب ہوتا گیا مقروض ہوتا گیا اور حکمران امیر سے امیر تر ہوتے گئے، بیرون ملک جائیدادیں اور کاروبار بناتے گئے۔

    اور مزے کی بات کہ یہ حکمران ملک لُوٹتے رہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں تھا نہ عدلیہ اور نہ باقی ادارے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہر ادارے میں اپنے من پسند کے لوگ بھرتی کیے جو خود بھی کھاتے رہے اور ان چور حکمرانوں کے سہولتکار بھی بنے رہے۔ آج پاکستان کا ہر ادارہ مقروض ہے اور ہر ادارے میں کرپشن عروج پر ہے۔

    ایسے ایک محب وطن پاکستانی اٹھا جس نے ان چور حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کیا اور ایک طویل جدوجہد کے بعد اسے موقع ملا کہ وہ پاکستان پر حکمرانی کرے اس محب وطن اور ایماندار شخص کا نام ہے عمران خان۔ جب اسے حکومت ملی تو پاکستانی دیوالیہ کے قریب تھا دن رات محنت کرنے کے بعد ملک کو ایک بہتر سمت میں ڈال دیا لیکن یہ ممکن نہیں کہ 70-60 سال کا گند 5 سال میں صاف کیا جا سکے۔ عمران خان ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جنکے اثارات کچھ سالوں کے بعد ظاہر ہوں گے اور ان منصوبوں کا فائدہ ہماری آنے والی نسل کو ہو گا جیسے شجرکاری بظاہر تو غیر مقبول منصوبہ ہے لیکن ماحولیات کے لحاظ سے انتہائی اہم جسے سابقہ ادوار میں نظر انداز کیا گیا، ڈیمز جو وقت کی ضرورت ہے ہر سال ہم اربوں روپے کا پانی ضائع کرتے ہیں اور اسے روکنے کا کوئی نظام نہیں ہمارے پاس موجودہ حکومت خاص توجہ دے رہی ہے اس پر اور ڈیمز سے سستی بجلی کی پیداوار میں کافی اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے یونٹ کے ریٹ کو کم کیا جا سکتا ہے اور لوڈ شیدڈنگ پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ زراعت جسے سابقہ ادوار میں تباہ و برباد کر دیا گیا کسان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی کسان کو سہولیات فراہم کی گئی جس سے وہ اپنی پیداوار بڑھا سکے اور نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم ہر قسم کی چیز امپورٹ کرتے ہیں اور مہنگائی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔ موجودہ حکومت نے پہلی بار کسان کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں تاکہ زرعی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جا سکے۔ تعلیم جو کسی بھی معاشرے کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے موجودہ حکومت تعلیمی نظام کی بہتری پر پوری توجہ دے رہی ہے تاکہ ہماری آنے والی نسل جدید تعلیمی نظام حاصل کر سکے۔ سابقہ ادوار میں صحت کی سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی لیکن آج ہر پاکستانی کو صحت انصاف کارڈ دیا جا رہا ہے جس کے زریعے اس کا مفت علاج کیا جا سکے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک انقلابی اقدام ہے موجودہ حکومت کا۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے منصوبے ہیں جو ہیں تو غیر مقبول منصوبے لیکن پاکستان کے بہتر مستقبل اور ترقی میں بہت اہم کردار ادا کریں گے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی اس تحریر کا عنوان "پاکستان کا مستقبل روشن ہے” رکھا ہے۔ بس اس کے لیے عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن ان شاء اللہ بہت جلد اچھے دن آئیں گے۔

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan

  • بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے تحریر: محمد جمیل

    اکثر لوگ یہ اعتراض اور سوال کرتے ہیں کہ اگر معیشت درست سمت پر گامزن ھے اور ملک کی معیشت ترقی کر رہی ھے تو پھر مہنگائی اتنی زیادہ کیوں ھے اور اس ترقی کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچایا جا رہا.
    ان دونوں سوالوں کا بہت آسان جواب ھے
    مثال کے طور پر آپ کا گھر 10 لاکھ روپے کا مقروض ھے
    اور آپ ہر مہینے قرضوں کی قسطیں دے رہے ھو آپ کے گھر کا خرچہ 1 لاکھ روپے ماہانہ ھے اور آپ کی آمدنی 50 ہزار ھے تو آپ ان حالات کو کیسے ٹھیک کریں گے؟؟
    پہلے آپ اپنے خرچے کم کریں گے جتنے فالتو اخراجات ھیں اس کو ختم کریں گے پھر آپ اپنی آمدنی بڑھائیں گے مطلب آپ روزانہ 8 گھنٹے کام کرتے ہیں جس کے آپ کو پچاس ہزار روپے ملتے ہیں تو آپ اپنے کام کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹے کریں گے.
    جب آپ اخراجات کم کریں گے اور کام بڑھائیں گے تو آپ کا خسارہ کم ھو جائے گا اور کچھ وقت اسی محنت کو جاری رکھیں گے تو آپ کے اخراجات سے آمدن زیادہ ھونی شروع ھو جائے گی
    مگر حالات پھر بھی تبدیل نہیں ھونگے کیونکہ آپ کے اوپر جو دس لاکھ کا قرضہ ھے وہ بھی آپ کو واپس کرنا ھے لہذا اب آپ کے پاس جو زیادہ آمدن آتا ھے وہ آپ ان قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کریں گے اور آپ کی حالت وہی سخت ھونگے آپ کی زندگی تکلیف دہ ھونگی
    مگر جیسے ہی آہستہ آہستہ آپ کا قرضہ کم ھوتا جائے گا آپ کی قسطیں کم ھوتی جائیں گی آپ کے حالات پر فرق پڑنا شروع ھو جائے گا
    یہی حالت آج کل پاکستان کی ھے الحمداللہ اخراجات کم ھو گئے ہیں آمدن میں اضافہ ھونے لگا ھے کچھ قرضے دئے جا چکے ہیں اور کچھ ضروری قرضے دینے باقی ھے جو ان شاءاللہ ایک سال تک دے دئے جائیں گے اور پھر جو آمدن بچت ھو گی وہ حکومت عوام پر خرچ کرے گی اور مہنگائی میں کافی حد تک کمی آجائے گی.
    دوستوں اس وقت ھم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں .
    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو 3 سال مکمل ہو چکے ہیں وزیراعظم عمران خان صاحب نے 2018 میں اقتدار سمبھالنے سے لےکر اب تک بہت ہی کامیابیوں کے دعوے کئے ہیں. لیکن حقیقت یہ ہےکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مہنگائی کئی گناہ بڑھ چکی ہے.
    گزشتہ 3 سالوں میں چینی 55 سے 130 روپے, آٹا 45 سے 80 روپے, دودھ 80 سے 140 روپے اور گھی 140 سے بڑھ کر 350 روپے ہو چکا ہے. جبکہ سبزیاں, دالیں, اور باقی خوردنی اشیاء بھی عوام کی قوت سے نکل چکی ہیں. اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات, گیس اور بجلی کی قیمتوں کافی اضافہ ہوا ہے
    اگر ڈالر کی بات کی جائے تو جب تحریک انصاف نے اس ملک کی بھاگ دوڑ سمبھالی اس وقت ڈالر 124 روپے تھا لیکن اس وقت ڈالر 168 روپے تک جا پہنچا ہے
    بھوک افلاس اور تنگدستی ایسی پُر درد حقیقت ہے جس کے سامنے عزت نفس، انسانیت اور نام نہاد نظریات ہتھیار ڈال دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں
    مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے
    ایک سروے کے مطابق تحریک انصاف کی 3 سالہ حکومتی کارکردگی سے 48 فیصد پاکستانی خوش جبکہ 45 فیصد ناراض ہیں.
    جس تیزی سے پاکستان کی معیشت اوپر جا رہی ھے ان شاءاللہ اگلے سال تک پاکستان اس قابل ھو جائے گے کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کر سکے گا
    بس ھمیں تھوڑا صبر کرنا ھوگا
    یاد رہے مظبوط اعصاب کے لوگ ہی مشکلات سے نکل آتے ہیں عظیم اقوام کی نشانی یہی ھے کہ وہ مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کریں.

    Twitter Handle: @RealJameel8

  • بیٹی اللہ کی رحمت تحریر: محمد احسان

    بیٹی اللہ کی رحمت تحریر: محمد احسان

    میں ان خواتین سے پوچھوں گا جو سڑکوں پر فحاشی اور بے شرمی کا مظاہرہ کررہی ہیں ، "کیا آپ نے اسلام سے پہلے خواتین کی تاریخ پڑھی ہے؟ کیا آپ جانتی ہیں؟

    اسلام سے قبل عورت کو کتنا ذلیل و رسوا کیا جاتا تھا۔اسلام سے پہلے عورتوں کی عزت کو کس قدر پامال  کیا جاتا تھا۔اسلام سے قبل ہندو عیساٸ اور یہودی عورت کو نہ صرف "منحوس” سمجھتے تھے بلکہ "بیٹی”پیدا ہوتے ہی اس کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔عورت کو جاٸیداد میں حق ملتا تھا اور نہ ہی معاشرے میں اس کا کوٸ کردار تھا۔مرد جب چاہتا کسی عورت سے شادی کرتا۔جب چاہتا اسے طلاق دے دیتا۔عورت پر ہر قسم کی پابندی تھی عورت پر جانوروں کی طرح ظلم و ستم کیا جاتا تھا۔

    اس کے برعکس اسلام نے عورت کو عزت دی۔اسلام نے عورت کو زندہ دفنانے سے منع کا۔اسلام نے عورت پر ظلم و ستم سے روکا۔

    بیٹی کو اللہ کی رحمت کہاگیا۔اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ کہا ہے۔اسلام نے عورت کے قدموں تلے جنت رکھی ہے۔اسلام نے عورت کو ہر روپ میں عزت بخشی۔اسلام نے عورت کو جاٸیداد میں حقوق دلواۓ۔

    عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔عورت اگر بیوی ہے تو سکون ہے۔عورت اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے۔اسلام نے عورت کو چادر اور چاردیواری کا تحفظ فراہم کیا۔

    آپﷺ نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں. ۔جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟ بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں.

    جبکہ

        یہودی او عیساٸ آج بھی عورت کو کھلونہ سمجھ کر اس سے کھیلتے  ہیں۔ عورت کو آج بھی وراثت میں حق نہیں دیتے۔عورت کو کلبز اور شراب خانوں میں ننگا نچواتے ہیں۔عورت کو فاحشہ بننے پر داد دیتے ہیں۔

    اس سب کے باوجود میرا جسم میری مرضی کرنے والیوں کو اعتراض ہے کے اسلام نے انکو حقوق نہیں دیۓ

    اگر اسلام نے آپکو حقوق نہیں دیۓ تو میں چیلنج کرتا ہوں بتاۓ دنیا کا وہ کونسا مذہب ہے جس نے آپ(عورت)کوحقوق دیۓ۔

    اے مسلمان بہن خدارا مغربی عورتوں  کی طرح خود کو جسم بیچنے والی دکان مت بنا۔آپ باعزت ہیں۔آپ ان مغربی بےحیاہ عورتوں کی طرح بلکل بھی نہیں ہیں۔جنہیں مرد جب چاہے اپنی حوس پوری کرنے کے بعد چھوڑ دیتا ہے۔

    اللہ ﷻ نے آپکو عزت دی ہے۔آپکو کوٸ غیر محرم چھونا تو دور دیکھ بھی نہیں سکتا۔عورت اللہﷻ کے نزدیک تبھی ہوتی ہے جب وہ چاردیواری میں رہتی ہے۔اسلام نے آپکو تحفظ دیا ہے پھر بھی آپ نعرے لگاتی ہیں کے اسلام نے حقوق نہیں دیے 

    دعا ہے۔اپنے آپ کو پہچانو خود کو بازاروں کی زینت مت بناو۔ افراط

     اللہ پاک آپ سب(بہنوں) کی عزت محفوظ رکھے آمین

    تحریر اچھی لگے تو لاٸک اور شیئر ضرور کریں

  • علم و تعلیم تحریر:رضوان۔

    علم و تعلیم تحریر:رضوان۔

    جان نثار اختر صاحب کے مصرے تعلیم کو وسعت دینے ہیں فرماتے ہیں 
    یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں 

    اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
    تعلیم حاصل کرنے کی اہمیت بہت واضح ہے مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے  ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گےا ہے Education تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گےا ہے آج کے اس پر آشوب اور تےز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگرSchool  اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ،وکالت Advocate  ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی  Friendship کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح او رنیک Society معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے تعلیم کی اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی ،جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے تعلیم حصول کےلئے قابل اساتذہ بھے بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو   higher educationاعلٰی تعلیم کے حصوص میں مدد فراہم کرتے ہیں استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائے بلکہ استاد وہ ہے جو طلب و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کوتا ہے اور انہیں شعور و ادراک ،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے اپنے شاگرہ کو مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے methed سے پورا کیا ،ان کی شاگرد آخری سائنس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو آلودہ کردیا گےا ہے محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قائع ہوگےا کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھاآج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے آج کی تعلیم صرف اسلیئے حاصل کی جاتی ہے تاکہ اچھی نوکری مل سکے یہ بات کتنی حد تک سچ ہے اسکا اندازہ آج کل کی تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے جیسے بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کا رٹنہ ہے بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاقہ شاید ہی کچھ عنایت کیاہومگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسطرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ ترکے بانی مسلمان ہی ہیں اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے آج پاکستان میں تعلیم ادارے دہشت گردی کے نشانہ پر ہے دشمن طاقتیں تعلیم کی طرف سے بدگمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے درپہ ہیں ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہے جو اپنی سرداری ،چوہداہٹ،جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل سیاہ رہ جاتا ہے اوراسی وجہ سے ہمارے نوجوان طبقہ تعلیم کی ریس میں پچھے رہ جاتی ہے مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دنیا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے اورایسی تعلیم کے بل پر انہوں نے فتح کیا ہے مغرب کی کامیابی اور مشرقی کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں پربھروسہ کرتے ہیں ان کا دفاع بجٹ تو اربوں روپے کا ہپے مگر تعلیم بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے ،اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے علم کی اہمیت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ جیسا کہ روس اور چین چاہتے ہیں کہ ان کے عوام تعلم حاصل کرکے ایک خودمختار اور جمہوریت کا پرستار بن سکیں ، اسلام میں تعلم حاصل کرنے والا اللّہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کر ے اور فکر آخرت اور دنیا کے فانی ہونے کا یقین پیدا کرے  
    Twitter  @RizwanANA97

  • دورہ   نیوزیلینڈ”  تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    دورہ   نیوزیلینڈ” تحریر؛ ارباز رضا بھٹہ

    ایک ملک جس نے پچھلی کئی دہائیوں سے کوشش کی ہو کے ایک بار پاکستان میں کرکٹ واپس آ جائے ایسے وقت پر جب وہ معاشی طور پر ڈگمگا رہا ہوں جب ہر طرف سے مشکلات در پر ہوں اس وقت کرکٹ کی واپسی کے لیے پی ایس ایل جیسا عظیم ایونٹ کروانا اور آہستہ آہستہ پاکستان میں لے کر آنا تاکہ وہ تمام لوگ جو کرکٹ کے دیوانے ہیں جنہوں نے کئی سالوں سے دوسرے ممالک میں مہنگے داموں ٹکٹ خرید کر میچ دیکھے یا پھر گھروں میں رہ کر اس امید میں رہے کہ ایک دن ہمارے ملک کے گراؤنڈ بھی آباد ہوں گے۔ ان کے مرجھائے ہوئے دل صرف اور صرف پاکستان میں کرکٹ کی واپسی پر کھل اٹھے۔ ان لوگوں کے جذبات و احساسات کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سیاسی طور پر بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ نے پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر اپنے ناپاک ارادے کا دھبہ لگانے کے لئے اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا۔

     جب آپ کی ٹیم ایک ہفتہ تک پاکستان میں رہی نہ ہی کوئی خطرہ پیش آیا اور نہ ہی ان کی عزت افزائی میں کمی آئی۔ جسے بڑے پروٹوکول کے ساتھ پاکستان میں خوش آمدید کہا گیا مگر پھر بھی اگر خطرہ پیش آیا تو صرف میچ سے چند لمحے پہلے ہی کیوں؟ ایک ملک میں جا کر آپ پانچ چھے دن رہیں اور پھر اس کی طاقت و قوت یعنی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے واپس چلے جائیں کیا یہ آپ کو زیب دیتا ہے؟ آپ نے نہ صرف پاکستان کے روشن چہرے اور سبز پاسپورٹ پر اپنی غلیظ حرکت سے دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کی ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کے دلوں کی امید کو بھی توڑا ہے۔ آپ نے لاکھوں لوگوں کے جذبات سے کھیلا ہے۔

     آپ سے پہلے پی ایس ایل میں آپ کی ٹیم کے کھلاڑی ہمارے ہاں کھیل چکے ہیں انہیں تو اس سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا اس کو چھوڑیے آپ سے پہلے ساؤتھ افریقہ، بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز وغیرہ کی ٹیمیں بھی تو پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ کیا ان کو ذرہ برابر بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

     اس منصوبے میں صرف نیوزی لینڈ ہی نہیں دوسرے ممالک بھی موجود ہیں جو کہ پاکستان کو دن بدن پستی کی جانب دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ ان کی یہ تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ ہم مشکلات کا جرآت سے مقابلہ کرنے والی قوم ہیں۔ ہم نےبھی نیوزی لینڈ کا دورہ کیا جب مساجد میں حملے ہوئے یا پھر جب نیوزی لینڈ میں کرونا شدت سے تھا اور ان کی بدانتظامی کے باوجود ہم نے دورہ ختم نہیں کیا۔ اب وقت ہے کہ ہم صرف کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وقار کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کریں۔ اپنی ہمت اور جرات مندی سے ایسی ٹیموں کو میدان میں ہی بتا دیں کہ ہم کون ہیں؟

     ہمارے کرکٹ بورڈ کو مزید بہترین انداز میں پی ایس ایل جیسے ایونٹ کو آگے لے کر چلنا ہوگا تاکہ پاکستان کے دشمنوں کو ہر جگہ رسوائی نصیب ہو اور اس واقع پر ICC میں بھرپور آواز اٹھائی جائے۔ الحمدللہ ہمارا یہ ملک پوری دنیا کے لیے ایک محفوظ ملک ہے جس نے اپنی طاقت و قوت کا ہر جگہ مظاہرہ کیا ہے اور کامیاب رہا ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنی قوت و صلاحیت سے دشمن کی طرف سے ہر آنے والی سازش اور میلی نظر کو پہچانیں اور اس کو ایسا جواب دیں کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں۔

    اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کو پہچانیں اور بےنقاب کریں جو کہ اس واقعے پر جس میں پاکستان کی عزت پر دھبہ لگانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے خوشی منا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تب خوش ہوتے ہیں جب پاکستان پر وقت آتا ہے خدا ان لوگوں کو ہر جگہ دربدر کرے جس طرح یہ لوگ پہلے ہی ہورہےہیں۔

  • پاکستانی ثقافت تحریر : تعمیر حسین

    پاکستانی ثقافت تحریر : تعمیر حسین

    پاکستانی رہن سہن،تہذیب اور بدوباش کو پاکستانی ثقافت کہتے ہیں۔ پاکستانی قومی لباس شلوار قمیض ہے اور پاکستان کے دیہی علاقوں میں  سادہ کھانا پینا پسند کیا جاتا ہے۔

     دیسی کھانے بالخصوص مکھن ساگ کے ساتھ   ہر کوئ خوشی سے کھانا پسند کرتا ہے ۔ سبزیاں گھروں میں اگائ جاتی ہیں اور ایسی تازہ سبزیاں صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہوتی ہیں کیونکہ ان میں مصنوعی کھادوں کا کم سے کم استعمال کیا جاتا ھے  ۔ کیونکہ ثقافت  دنیا میں پہچان کا باعث ھوتی ھے اس لیے ھمیں پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لیے کوشاں رہنا چاہیے ۔مغربی طور طریقے اپنانے سے ہم اپنی ثقافت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، جس کا ادراک ھمیں مستقبل قریب میں ھو جاے گا۔ 

     پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جو پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کے تمامی صوبوں میں  الگ الگ زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جیسے کہ بلوچستان میں بلوچی ، سندھ میں سندھی ، خیبر پختونخواہ میں پشتو اور پنجاب میں پنجابی،  لیکن اردو زبان ہر صوبے میں بولی جاتی ہے۔

     چاروں صوبوں کے رہن سہن میں فرق ہے۔ ہر صوبے کا منفرد لباس اور کھانے پینے کے طور طریقے اور رسم ورواج مختلف ہیں ۔ دیہی علاقوں میں کچے مکان اب بھی موجود ہیں وہاں کی طرز زندگی شہروں سے بہت مختلف ہے۔ گاوں کے سادہ سے لوگ اور انکا مل جل کے رہنا انتہائ متاثر کرتا ہے شہروں میں ہر سہولت موجود ہے مگر اتنی مصروف زندگی ہوگئ ہے کہ ہر کوئ بس اپنی زندگی میں مگن ہے۔ مغربی طور طریقے اپنائے جا رھے ھیں  اور اپنی ثقافت کو بھولایا جا رھا ھے ، اگر ایسا ہی رہا تو مغربی طور طریقہ غلبہ پا لے گا اور ہماری اپنی پہچان ختم ہو جائے گی۔ اپنی ثقافت کو اپنائیں یہی ہمارا کلچر ہے ۔ ہمیں انگریزوں سے آزادی  اس لیے نہیں دلوائ گئ کہ ہم انکے نقشے قدم پہ چلیں  ہم کو اپنی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے ۔ اپنی پہچان کو زندہ رکھیں تا کہ ھمارا شمار زندہ اقوام میں ھو ۔

    قبائلی علاقوں میں پشتو زبان بولی جاتی ہے خیبرپختون خواہ کے زیادہ تر علاقوں میں پشتو بولی جاتی ہے۔ پٹھان لوگ بہت محنتی جفاکش اور جنگجو ہوتے ہیں۔ اپنا کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ھیں۔ دھنبے اور بکرے کا گوشت بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ مہمان نوازی میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ھیں۔ خوشی کے موقع پر خوشی کا اظہار ہوائ فائرنگ سے کرتے ہیں۔

    پاکستانی کھانے دنیا بھر میں  اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اور بہت زیادہ پسند کیے جاتے ہیں جیسا کہ بریانی ،مچھلی کباب تکے وغیرہ وغیرہ۔

     ہر علاقے کی شادی بیاہ کی رسمیں بھی الگ ہیں ۔ ہر قوم کے شادی بیاہ کا انداز ہی نرالا ھے۔ پنجاب میں شادی کا اہتمام زور و شور سے کیا جاتا ھے۔ شادی کے دن سے پہلے ہی گھر میں مختلف تقاریب کا آغاز ھو جاتا ھے اور دور دراز کے رستہ دار شادی میں شرکت کے لیے پہلے ہی آ جاتے ھیں۔ ڈھولک رکھی جاتی ھے ۔ پرات پر ٹپے ماہیے گاے جاتے ھیں جو کہ بے حد پسند کئیے جاتے ھیں۔ پرات لڑکیاں رکھتی ھیں اور اپنے فن کا اظہار کرتی ھیں ۔ ٹپے ماہیے پنجاب کی شان ھیں ۔

    پاکستان کے ہر علاقہ میں شادی بیاہ کا انداز ہی نرالہ ھے۔

     ہر علاقے کا اپنا کھیل ہے جیسا کہ پنجاب میں دیہات میں  گلی ڈنڈا  بہت زیادہ کھیلا جاتا ھے۔ شٹاپو، لکن میٹی  اور بہت سے کھیل کھیلے جاتے ھیں۔ لیکن   کرکٹ ہر علاقے میں پائی جاتی ھے اور اس کو نوجوان نسل بڑے شوق سے کھیلتی ھے۔

    غرض کھیل سے لے کر زندگی کے تمام پہلوئوں کے متعلق ھماری ثقافت ھماری راہنمائی کرتی ھے اور ھماری پہچان بنتی ھے۔

    اگر ہم کسی ملک میں جا کے بھی اپنا طور طریقہ نہیں بدلتے اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں تو یہی ملک سے محبت ہے۔ ہمیں اپنی پہچان، اپنی ثقافت کو ہر حال میں زندہ رکھنا چاہیے تا کہ ھماری آنے والی نسلوں کو اپنی ثقافتی ورثے کا پتہ ھو۔ یہ ثقافتی ورثہ آئندہ آنے والی نسلوں کی امانت ھے جو کہ ھمیں ان تک پہنچانا ھے۔ ہماری پہچان ہمارا ملک پاکستان ہے دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں اپنی شناخت قائم رکھیں۔

    پاکستان پائندہ باد

    Official Twitter Account @J_Tameer