Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وسیم اکرم کا نیوزی لینڈ کے دورہ منسوخی پر شدید مایوسی کا اظہار

    وسیم اکرم کا نیوزی لینڈ کے دورہ منسوخی پر شدید مایوسی کا اظہار

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے نیوزی لینڈ کے دورہ منسوخی پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں کے لئے ہمارے حفاظتی اقدامات اعلیٰ ترین درجے کے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان آج کرکٹ کھیلنے کے لئے دنیا کے محفوظ ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔


    انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں پوری کہانی نہیں بتائی جا رہی۔

    نیوزی لینڈ ٹیم کے خدشات درست:پولیس تھریٹ الرٹ پہلے ہی جاری کرچکی تھی

    خیال رہے کہ پاکستان میں18 سال بعد آج سے پاک نیوزی لینڈ سیریز شروع ہونے جا رہی تھی۔ نیوزی لینڈ ٹیم اسٹیڈیم کیلئے روانہ ہونے والی تھی کہ سیریز کو منسوخ کر دیا گیا۔

    پاکستان کا دورہ اچانک منسوخ کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم آج شام اسلام آباد سے روانہ ہو گی سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو لینے کیلئے خصوصی طیارہ کل اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سول ایوی ایش اتھارٹی نے خصوصی طیارے کو پاکستان لینڈنگ کی اجازت دے دی ہے خصوصی طیارہ آج شام 6 بجے اسلام آباد سے متحدہ عرب امارات اور پھر نیوزی لینڈ روانہ ہو گا۔

    برطانوی سفیر کرکٹ سیریزملتوی کرانے میں ملوث؟سفیربھی کھل کرسامنے آگئے

    پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ نے یکطرف طور پر سیریز منسوخ کی ہے۔ مہمان ٹیم کیلئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈن نے کرکٹ ٹیم کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم تھی۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا‘۔

    پاکستان میں خود کوہرطرح سےمحفوظ پایا:نیوزی لینڈ کسی کی زبان بول رہا ہے:سری لنکن…

    کچھ دیر قبل پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نےجیسینڈا آرڈن سے ٹیلیفون پر بات کی تھی۔عمران خان نے یقین دلایا کہ پاکستان میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی میسر ہے اور PCB کے مطابق خود نیوزی لینڈ کی سیکیورٹی نے پاکستان کے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کے بہترین انٹیلی جنس سسٹمز میں شامل ہیں اور ان کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کے خطرہ نہیں ہے، تاہم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ازحد احتیاط کی پالیسی کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی۔

    شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کوخط لکھنے شروع کردیئے

  • سعادت حسن منٹو تحریر عزیزالرحمن

    سعادت حسن منٹو تحریر عزیزالرحمن

    سعادت حسن منٹو کے بارے میں کچھ کہنا یا لکھنا میرے
    لئے بہت مشکل ہے ۔یہ تو منٹو سے محبت اور عقیدت کا تقاضا ہے کہ اس کے اظہار میں قلم اٹھانے کی جسارت کر رہاہوں ۔
    سعادت حسن اور منٹو دو الگ اورعلیحدہ قسم کی شخصیات ہیں اسے حسن اتفاق کہیے کہ خالق نے منٹو کو تخلیق کرتے وقت سعادت حسن کو بھی پیدا کر دیا۔ منٹو چونکہ ایک بہت غیر معمولی قسم کا کردار تھا اور اس کو سنبھالنے اس کا بوجھ اٹھانے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کے لئے بھی بہت ہی منفرد قسم کا فرد درکار تھا چنانچہ یہ خدمت سعادت حسن کے مقدر میں لکھ دی گئی۔
    سعادت حسن متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر کے کوچہ وکیلاں میں پیدا ہوا۔ اس کے والد پیشے کے اعتبار سے جج اور ذات کے حوالے سے کشمیری تھے۔ غلام حسن منٹو نے دوشادیاں کی تھیں۔ دوسری شادی ایک افغان خاتون سردار بیگم سے ہوئی اور اسی خاتون نے سعادت حسن کو جنم دیا۔ اس کی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد ہی غلام حسن منٹو نے ملازمت چھوڑ دی جس سے گھر کی کمزور مالی حالت پر ایک بڑے کنبے کا گزارہ کرنا کافی مشکل ہو گیا۔ اسی مشکل کے باعث سعادت حسن جس کے کندھوں پر منٹو بھی سوار تھا اسے مناسب توجہ نہ مل سکی جس کا وہ حقدار تھا۔ چنانچہ اپنے سوتیلے بھائیوں کی نسبت تعلیمی میدان میں وہ بہت پیچھے رہ گیا اور بچپن سے ہی امرتسر کے آوارہ مزاج لوگ اور پوشیدہ و پیچیدہ گلی کوچے سعادت حسن کے ہم سفر بن گئے۔ میٹرک کے امتحان میں متعدد بار ناکام ہونے کے بعد بڑی مشکل سے تھرڈ ڈویثرن میں پاس ہوا، اس کے بعد امرتسر کے ہی ایک کالج ’’ہندوسبھا‘‘میں داخلہ لیا، کچھ عرصہ فیض احمد فیض کے سامنے زانو تہہ کئے مگر جلد ہی طبیعت لکھائی پڑھائی سے اچاٹ ہو گئی اور عاشق علی فوٹو گرافر اور فضلو کمہار کی دکانیں اس کے لئے عظیم مکتب ٹھہریں۔ یہیں سے سعادت حسن کے ہمزاد منٹو نے جوا بازی اور شراب نوشی کے دھندے اختیار کئے۔ اسی اثناء ایک دوست کے کہنے پر علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں تقریباََ تین ماہ کے قیام کے بعد بیماری کے سبب کوچ کر گیا۔ اسی دوران منٹو کی مشہور اشتراکی ادیب باری علیگ سے ملاقات ہوئی جو اس وقت امرتسر سے شائع ہونے والے ایک اخبار ’’مساوات‘‘کے ایڈیٹر تھے، یاد رہے باری علیگ کا ’’’عسرت کدہ‘‘آج بھی پرانی انار کلی لاہور کے ایک مختصر سے مکان میں قائم ہے ۔
    باری علیگ کی صحبت نے منٹو کو سنجیدگی سے ادب کی طرف راغب کیا باری علیگ کے ایماء پر منٹو نے مشہور روسی تصینف’’ایک اسیر کی سرگذشت اورویرا‘‘ کے تراجم کئے جو آج بھی اپنی ہیت اور روانی بیان میں بے مثل ہیں۔ امرتسر میں سعادت حسن کی مالی بدحالی جب حد سے بڑھ گئی اور اسے چھوٹے سے شہر میں اسے کوئی چارہ اور چارہ کار دکھائی نہ دیا تو وہ دہلی چلا آیا، جہاں وہ آل انڈیا ریڈیو کے لئے پروگرام لکھا کرتا تھا۔یہیں پر اس نے ریڈیو کے لئے ڈرامے بھی لکھنا شروع کر دئیے۔ منٹو دہلی سے بھی جلد ہی اکتا گیا اور اگلی منزل سر کرنے کے لئے بمئبی کو ٹھکانہ بنا لیا۔ بمئبی منٹو کی حیات میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے اسی شہر میں رہتے ہوئے منٹو کو فلمی زندگی کے فراڈ سمجھنے کا موقع ملا۔ معروف ادیب، محقق اور نقاد اینس ناگی لکھتے ہیں کہ ممبئی میں منٹو کے شب و رزو مختلف فلم کمپنیوں میں بسر ہونے لگے، ممبئی میں قیام کے دوران منٹو کی ادبی شہرت مسلم ہو چکی تھی۔
    انیس ناگی لکھتے ہیں قیام پاکستان کے بعد منٹو کی زندگی ایک نئی کشمکش سے دوچار تھی، اس نے جہاں سے زندگی شروع کی تھی وہ اسی مقام پر کھڑا تھا۔جب وہ ممبئی گیا تو نوجوان تھا، نادار تھا، جب وہ پاکستان آیا تو مشہور تھا ،ادھیڑ عمر شروع ہونے والی تھی، وہ نادار تھا۔چند ہی برسوں میں اس کی صحت شراب اور غربت کی نذر ہو گئی۔ قیام پاکستان کے بعد منٹو نے امروز، وفاق اور احسان میں مضامین لکھنے شروع کئے۔اس کی پندرہ کتابیں شائع ہوئیں۔ فحاشی کے الزام میں اس پر تین مقدمات بھی دائر ہوئے۔ منٹو کی مالی حالت بد سے بد تر ہوتی گئی صفیہ منٹو کی بیوی اس کے عزیز واقارب منٹو کے گھر، اور اس کی تین بچیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ منٹو نے ’’ کفن‘‘ میں اپنی صور تحال کے بارے فریاد کی لیکن کوئی ادبی بورڈ یا ثقافتی ادارہ حرکت میں نہ آیا ،جسم کا زوال ،فن کا زوال،مالی زوال منٹو نرغے میں تھا۔ اس کا جواز حیات ختم ہو چکا تھا۔اس کے لئے ایک ہی راستہ تھا چنانچہ اس نے وہی راستہ اختیار کیا۔ منٹو موت کے وقت بھی خوف وہراس سے مغلوب نہیں تھا، نہ وہ اپنی مغفرت کا طلبگار تھا، اس نے نہ کوئی وصیت کی تھی نہ ہی اپنے پسماندگان کے لئے کسی بوکھلاہٹ کا اظہار کیا تھا۔ جو شخص زندگی بھر بیمار رہا ہو، تنگ دستی کا شکار ہو۔ جسے اپنے ہنر کی داد نہ ملی ہو۔ جو ہمیشہ معتوب رہا ہو اور جس نے امید کے بغیر زندگی بسر کی ہو۔ اس کے لئے موت کوئی خطرہ نہیں ہے۔ منٹو کے لئے زندگی کو اپنی منطق کے مطابق بسر کرنا موت سے زیادہ تکلیف وہ عمل تھا،کیونکہ زندہ رہنے کے لئے اسے ایک پورے نظام سے متصادم ہونا تھا منٹو کی زندگی کا آغاز بھی بدترین حالات میں ہوا اس کا انجام بھی بدترین حالات میں ہوا۔ اس نے امر تسر کے کوچہ وکیلاں سے لکشمی میشن لاہور تک پہنچتے پہنچتے انسان کی پوری نفسیات کا سفر کیا، وہ اپنے لئے خود موضوع بھی تھا اور معروض بھی۔
    منٹو کے بارے دنیا میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، بہت ساری یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی سطح کے مقالمے لکھے جا چکے ہیں اور مزید تحقیق جاری ہے۔چنانچہ میں منٹو کے فن اس کی سوچ، اس کے طرز تحریر ، اسلوب یا افسانوی سے متعلق کچھ لکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا، میرے نزدیک تو وہ اُردو افسانوی ادب میں کسی بھی طور سے استاد سے کم نہیں ہے، وہ پہلا قلمکار ہے جس نے اپنے قلم سے جدید اُردو افسانے کے لئے زمین کھودی۔ اسے ہموار کیا، اسے نرم کیا، اس میں جدید افسانے کا بیج بویا اور پھر عمر بھر اس بیج سے نکلنے والی کونپلوں کو درخت بنتا دیکھتا رہا۔
    افسوس کہ وہ اس کی چھاؤں میں بیٹھ نہ سکا۔

    @The_Pindiwal

  • مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارنامے اور ایجادات تحریر: فرقان اسلم 

    مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارنامے اور ایجادات تحریر: فرقان اسلم 

    جیسا کہ انسان شروع سے ہی نت نئی چیزیں بنانے اور ان کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی جدوجہد کررہا ہے۔ ان سب ایجادات میں سائنس کا بہت اہم کردار ہے۔ اور سائنس کی ان ایجادات میں سب سے اہم کردار مسلمان سائنسدانوں کا ہے۔ اگرچہ ابھی تک بہت سی مسلمانوں کی ایجادات ایسی ہیں جو نظروں سے دور ہیں۔ حالانکہ دنیا کی مفید اور ضروری ایجادات مسلمانوں اور عربوں کی مرہون منت ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں جدید یورپ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ان میں سے بعض کی تو جدید سائنس نقل بھی نہ کرسکی اور بعض کو نقل کر کے ایجاد کاسہرا اپنے سر سجایا۔

    یورپ والوں نے عظیم مسلمان سائنسدانوں جن میں قابلِ ذکر جابر بن حیان کوگیبر، ابن رشد کو اویرو، ابن سینا کو ایوونا اورابن الہیشم کو الہیزن کہنا شروع کردیا تاکہ ان عظیم انسانوں کا مسلمان اور عرب ہونا ثابت نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا سائنس کا طالب علم خالد بن یزید، زکریا، رازی، ابن سینا، الخوارزمی، ابو ریحان البیرونی، الفارابی، ابن مسکویہ، ابن رشد، کندی، ابو محمد خوحبدی، جابر بن حیان، موسیٰ بن شاکر، البتانی، ابن الہیثم، عمر خیام، المسعودی، ابو الوفاء اور الزہراوی جیسے عظیم سائنسدانوں کے حالات زندگی اور سائنسی کارناموں سے یکسر ناواقف ہے۔ بلکہ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ ان کا نام سن کر ہمارے طلباء حیرانی سی محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ سائنس کی ترقی میں زیادہ ہاتھ یورپ کا ہی ہے۔

    مسلمانوں نے سائنسی خدمات اور انسانی خدمات کی وجہ سے بہت نام بنایا ہے۔ ان کی ایجادات نے دنیا کا رہن سہن ہی بدل دیا۔ اور دنیا کو ایک نئی سمت کی جانب گامزن کردیا۔ اس بات کا اقرار مغربی دنیا آج بھی کرتی ہے۔ 

    آج میں آپ کو مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارناموں اور اہم ایجادات کے بارے میں بتاؤں گا جن کی بدولت آج دنیا میں بہت سے کام سرانجام دیے جارہے ہیں۔ ان ایجادات کے بغیر آج کے دور میں زندگی گزارنے کا تصور کرنا بھی تقریباً ناممکن تھا۔ 

    1۔ ہسپتال

    دنیا کا پہلا ہسپتال بنانے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر جاتا ہے۔ یہ ہسپتال 872ء میں مصر کے شہر قاہرہ میں احمد بن طالون کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ اس میں طبیب اور نرسیں مریضوں کے علاج کے لیے موجود ہوتی تھیں۔ اور ساتھ ہی طالبعلموں کی ٹریننگ کے لیے ایک سینٹر بھی قائم تھا۔ یہاں پر مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔

    2۔ یونیورسٹیاں

    ڈگری دینے والی دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی بنانے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے۔859ء میں مراکش میں دنیا کی پہلی یونیورسٹی "القراویون” نے پہلی ڈگری دی تھی۔ یہ یونیورسٹی شہزادی فاطمہ الفرہی نے قائم کی تھی اور آج بھی یہاں تدریس کا عمل جاری ہے۔

    3۔ سرجری

    مسلم سائنسدان الزہراوی کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ جدید سرجری کا بانی ہے۔ انہوں نے ہی سرجری کے آلات ایجاد کیے اور آپریشن کو ممکن بنایا۔ ان کی بدولت ہی موجودہ دور میں سرجری ممکن ہوئی۔ سرجری میں آج جو بھی آلات استعمال کیے جاتے ہیں سب ان کی مرہون منت ہیں۔

    4۔ الجبرا 

    محمد ابن موسیٰ الخوارزمی وہ پہلے سائنسدان ہیں جنہوں نے حساب اور الجبرا میں فرق کیا اور الجبرا کو باقاعدہ ریاضی کی صنف کے طور پر روشناس کرایا۔ یورپ پہلی بار حساب کے اس نئے سسٹم سے بارھویں صدی میں روشناس ہوا۔ الخوارزمی کو متفقہ طور پر دنیا بھر میں "الجبرا” کا بانی مانا جاتا ہے اور لفظ الگوریتھم بھی ان کے نام سے ہی کشید کیا گیا ہے۔

    4۔ ٹوتھ برش

    نبی کریم ﷺ سے مسواک کی مبارک سنت ترویج پائی اور تمام مسلمانوں کو اپنے دانت صاف کرنے کے بارے میں کہا گیا۔ اس سے قبل انسان اپنی دانتوں کی صفائی کی طرف خاص توجہ بھی نہیں دیتا تھا۔ اسی طرح سے ٹوتھ برش کی ایجاد بھی ممکن ہوئی اور دنیا کے لوگوں کو اپنے دانت صاف کرنے کا خیال آیا۔

    5۔ شیمپو

    شیمپو دنیا میں پہلی بار ایک مسلمان نے 1759ء میں اس وقت متعارف کروایا جب اس نے برطانیہ میں ایک حمام کھولا۔ برصغیر کے شیخ دین محمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلی بار یورپ کو شیمپو سے متعار ف کروایا۔

    6۔ گٹار

    مغربی دنیا میں بہت زیادہ پسند اور بجایا جانے والا آلہ موسیقی گٹار بھی مسلمانوں کی ایجاد "لیوٹ” سے متاثر ہوکر بنایا گیا۔ لیوٹ عربوں نے تقریباًایک ہزار سال قبل ایجاد کیا تھا۔ جس سے موجودہ موسیقی کے دور کے آلات بنانے میں مدد ملی۔

    7۔ شطرنج

    دنیا بھر میں بہت زیادہ پسند کی جانے والی گیم کو ایجاد کرنے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے۔ یہ کھیل ہڑپہ اور موہنجو داڑو میں بھی کھیلی جاتی تھی لیکن وہ موجودہ کھیل سے مختلف تھی۔ مسلم سائنسدان موسیٰ الخوارزمی نے صفر کی ایجاد کے ساتھ کئی طرح کے مسائل کاخاتمہ بھی کیا۔

    8۔ گھڑی

    یورپ سے سات سو قبل بھی اسلامی دنیا میں گھڑیاں عام استعمال ہوتی تھی۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے ہم عصر فرانس کے شہنشاہ شارلیمان کو گھڑی (واٹر کلاک ) تحفہ میں بھیجی تھی۔ محمد ابن علی خراسانی (لقب الساعتی 1185ء) دیوار گھڑی بنانے کا ماہر تھا ۔ اس نے دمشق کے باب جبرون میں ایک گھڑی بنائی تھی۔ اسلامی سپین کے انجنیئر المرادی نے ایک واٹر کلاک بنائی جس میں گئیر اور بیلنسگ کے لئے پارے کو استعمال کیا گیا تھا۔ مصر کے ابن یونس نے گھڑی کی ساخت پر رسالہ لکھا جس میں ملٹی پل گئیر ٹرین کی وضاحت ڈایاگرام سے کی گئی تھی ۔ جرمنی میں گھڑیاں1525ء اور برطانیہ میں 1580ء میں بننا شروع ہوئی تھیں۔

    9۔ علم فلکیات و ارضیات 

    776ء میں ابراہیم بن جندب نے سب سے پہلے عجائب الفلک کے مشاہدے کے لیے دوربین ایجاد کی تھی۔ دنیا کا پہلا ماہر فلکیات احمد بن سجستانی تھا جس نے گردش زمین کا نظریہ پیش کیا تھا۔ احمد کثیر الفرغانی نے اپنے طریقہ سے زمین کے محیط کی پیمائش معلوم کی جو مسلمہ محیط سے بہت قریب ہے۔ ابن یونس صوفی نے اپنی کتاب ”الشفائی” میں حرکت کا قانون بیان کیا ہے اس قانون کو یورپ نے بوعلی سینا کے پانچ سال بعد نیوٹن کی ایجاد کے طور پر ساری دنیا میں مشہور کرا دیا۔ علم فلکیات کا ماہر اور جغرافیہ داں ابو ریحان البیرونی نے زمین کی محیط کی پیمائش معلوم کی تھی، البیرونی نے سورج کے مشاہدے کے بعد ارض البلد اور طول البلد معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا تھا۔ البیرونی نے زمین کی محوری گردش کو بھی بیان کیا ہے۔

    10۔سوراخ والا کیمرہ

    ابن الہیثم دنیا کا پہلا انسان تھا جس نے کہا کہ روشنی آنکھ میں داخل ہوتی ہے۔ اس نے آنکھ کی ساخت پر بہت تفصیل سے لکھا اور دنیا کو کیمرے کے خیال سے متعارف کرایا۔ اگر انہوں نے یہ نہ بتایا ہوتا کہ کس طرح روشنی سفر کرتی ہے اور اسے کس طرح شبیہہ کی صورت میں محفوظ بنایا جا سکتا ہے تو آج بھی لوگوں کوکیمرے کے بارے میں علم بھی نہ ہونا تھا۔

    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کی مسلمان نسل اپنے اسلاف کے کارناموں کو فراموش کر چکی ہے۔ اور ان کی نظر میں صرف یورپ کو کی ترقی اور ایجادات کا سہرا دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر آج بھی مسلمان اپنے اسلاف کے کارناموں سے سبق حاصل کریں اور ان کی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو دنیا میں کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔

    علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں کہ:

    گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی 

    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا 

    @RanaFurqan313

  • مرد بنو تحریر   زوہیب خٹک

    مرد بنو تحریر زوہیب خٹک

    ۔

    بچپن سے سنتے آئے ہیں مرد ہو بہادر بنو مرد روتے نہیں مرد کو درد نہیں ہوتا مرد کو ٹھنڈ نہیں لگتی وغیرہ وغیرہ ۔۔ ان سب باتوں میں بیچارا مرد اپنی انا کی تسکین کا غلام بن جاتا ہے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی پہلا مشن ہوتا ہے ماں باپ کا سہارا بننا بہنوں کی شادی کوئی چھوٹا موٹا زمین کا ٹکڑا پھر اس پر گھر کی تعمیر الغرض اپنی خواہشات اور ضرورتوں کا گلا گھونٹ کر وہ اپنے فرائض پورے کرتا جاتا ہے پھر کہیں خوش قسمتی سے اچھا جیون ساتھی مل جائے تو اس کی خدمت میں دن رات ایک کر دیتا ہے بوڑھے ماں باپ کا خیال اور اپنی ازدواجی زندگی دونوں کو متوازن رکھ کر چلنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے ۔ ساس بہو کے جھگڑوں میں پِستا ہے تو سمجھ نہیں پاتا کس کے حقوق پورے کرے ایک طرف ماں باپ دوسری طرف جیون ساتھی ۔وہ پھر بھی مرد بن کر سب جھیلتا ہے ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ دونوں کے حقوق میں کوئی کوتاہی نا ہو ۔ زمانے بھر کی ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن کبھی شکوہ نہیں کرتا کہ میں تھک گیا ہوں کیونکہ وہ مرد ہے۔ جب بہن کا بھائی ہوتا ہے تو اس کی حفاظت کرتا ہے جب بیوی کا شوہر بنے تو اس پر اپنی جان قربان کرتا ہے ۔بچوں کی پرورش میں جی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ اور اس سب میں وہ کوئی احسان بھی نہیں جِتاتا اس نے اپنے باپ دادا کو بھی یہی کرتے دیکھا اور وہ خود بھی یہی سب اپنا فرض سمجھ کر کرتا ہے ۔ دکھ میں ہو تو رو نہیں سکتا تکلیف میں ہو تو اظہار نہیں کر سکتا کیونکہ اسے یہی پڑھایا سمجھایا گیا ہے تم مرد ہو ۔۔ یہی میرے معاشرے کے بیشتر مردوں کی کہانی ہے جو اپنے اپنے فرائض بخوبی نبھا بھی رہے ہیں ۔اور یہی ہمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ہاں آج بھی ماں بہن بیٹی بہو جیسے رشتے عقیدت کی حد تک محبت سے دیکھے جاتے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ برے مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر اور اس نمک برابر تعداد پر کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ میرا جسم میری مرضی ۔ اس نعرے کا سب سے پہلا شکار کون ہوا ؟ جی ہاں "مرد” جسے ظالم جابر سفاک بھیڑیا بنا کر پیش کیا گیا سڑکوں اور چوراہوں میں اس مرد کا تمسخر اڑایا گیا ننگی گالیاں دی گئیں بغاوت کے شادیانے بجائے گئے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتی نوجوان نسل بیٹیاں چیختی چلاتی پائیں گئیں "باپ سے لیں گے آزادی” یعنی باپ نے آزادی دی تھی تو آج سڑک پر اسی کی پرورش پا کر اسی کے خلاف اعلانِ بغاوت کر دیا گیا ۔ پورے ملک کو دکھایا گیا کہ ہمارا مرد ہماری پیروں کی زنجیر بن چکا ہے ہمیں آزادی چاہئیے ۔ بھلا کون سی آزادی ۔۔؟ وہ جہاں ماں بہن بیٹی بہو کے رشتے بے معنی ہیں ۔۔؟ امریکہ کی کونڈولیزا رائس کا بیان تاریخ کا حصہ ہے کہ "پاکستان کی عورت بہت محفوظ ہے جسے بچپن سے بھائی اور باپ تحفظ دیتے ہیں اور پھر جوانی سے تا مرگ شوہر اس کی حفاظت کرتا ہے۔ پاکستان کی طاقت خاندانی نظام ہے جسے ہم امریکہ میں کھو چکے ہیں”۔ یہ اسی آزاد معاشرے کی سب سے بڑے عہدے پر فائز عورت کا کہنا ہے ۔ لیکن کیا کہئیے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا ۔ مرد جو خاندانی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اسے توڑ دیا گیا تو ہم اپنے خاندانی نظام کو بچا نہیں پائیں گے ۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • جھوٹی خبروں والے مانگیں           مادر پدر آزادی ۔۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

     

             "خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں.”

    سورة الروم 41

    آزادی اظہار رائے سے مراد انسان کو اپنی بات کہنے بیان کرنے اور لکھنے کی  خودمختاری حاصل ہو۔

    مہذب معاشروں میں صحافتی اصولوں کا معیار غیرجانبداری تحقیق شدہ مکمل سچ لوگوں کے سامنے بیان کرنا ہے ۔

    پرنٹ میڈیا کے لکھنے والوں کے لئے اصولوں ضوابط ہوتے تھے اورادارتی بورڈز کی نگرانی کی وجہ سے حمید نظامی نذیر ناجی جمیل الدین عالی حسن نثار انور قدوائی جیسے بڑے بڑے نامور کالم نگار اور تجربہ کار سامنے آئے جن کی غیر جانبداری وضع داری کا زمانہ معترف ہے

    مگر ہمارے ہاں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو جب کام کرنے کی اجازت دی گئ تو صحافت نے کاروبار کا درجہ حاصل کر لیا اور ناتجربہ کار نئے نئے لوگ چینلوں پر خبریں پڑھتے پڑھتے ٹاک شوز کے میزبان تجزیہ کار اور اینکرز بن گئے۔ بات یہاں تک ہی نہ رکی نوخیز صحافی سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بن گئے واٹس ایپ پر ہدایت لینے لگے انٹرویو میں پلانٹڈ سوال پوچھے جانے لگے کئ صحافیوں نے تو بزنس آئیکون کے لئے کرائے پر کالم لکھنے کا کام بھی شروع کردیا لاہور کی سڑکوں پر پرانی موٹرسائیکل کا پلگ صاف کرتے نظر آنے والے صحافیوں نے دن دگنی ترقی کی اور فارم ہاوسز کے مالک بن گئے سیاسی جماعتوں نے اپنے ایجنڈے اور بیانیہ کےفروغ کے لئے صحافیوں کا استعمال شروع کیا اور حکومت میں آنے کے بعد من پسند صحافیوں کو پیمرا ہارٹیکلچر جیسے اداروں کا چئیرمین لگایا گیا اور سرکاری عہدوں سے نوازا گیا قلم بکنے لگے ایزی لوڈ صحافیوں کی ایک فوج طفر موج مارکیٹ میں آگئ اور یوں صحافت جیسا مقدس پیشہ تجارت کا درجہ اختیار کر گیا۔ سلسلہ یہی تک نہیں رکا شہرت اور دولت کی ہوس نے پیشہ ور بدیانتوں کا حوصلہ بڑھایا اب یہ ملک اور ملکی اداروں کے خلاف لکھنا اور بولنا شروع ہوگئے سیکورٹی اداروں کے خلاف لکھنے اور بولنے والوں کو ملک دشمن قوتوں نے ہائیر کیا اور ان کے قلم حساس اداروں کے خلاف استعمال ہونے لگے ۔جب ریاستی اداروں نے ان ملک دشمن عناصر کے خلاف تحقیقات کے کے لئے اقدامات کئے تو آزادی اظہار رائے پر حملے کا بہانہ بنا کر بیرون ممالک پناہ لینا شروع کردیا اور گرفتاریوں کو جبری گم شدگی کا نام دیا گیا۔                  

    یہ مخصوص نام نہاد صحافی ہمیشہ آپ کو اچھے کام کی مخالفت کرتے نظر آئیں گے مذہبی اخلاقی اقدار پر تنقید ملکی مفاد پر تنقید اور جھوٹی خبریں رپورٹیں نشر کرنا انکا وطیرہ ہے اپنے آپ کو بائیں بازو والے لبرلز کہلانا ان کا مشغلہ ہے حالانکہ لبرلز آزاد خیال دوسروں کی رائے کا احترام اور برداشت کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کہ لبرلز اپنی رائے کے علاوہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اسی لئے انہیں خونی لبرلز کہا جاتا ہے۔

    حکومت نے نظام تعلیم میں طبقاتی تفرئق کو ختم کرنے کے لیے یکساں قومی نصاب متعارف کروایا اس مخصوص اور نومولود صحافتی ٹولے نے نصاب کا جائزہ لئے بغیر ہی صرف اسی بات پر مضامین لکھ مارے کہ پرائمری کی کتب  کے سرورق پر بچی زمین پر کیوں بیٹھی ہے حجاب کیوں لیا ہے بچی نے پورے کپڑے کیوں پہنے ہیں۔اور یوں انہوں نے ایک ایجنڈے کے تحت ایک اچھا کام میں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش کی۔

    موجودہ حکومت کے تین سالوں میں جھوٹی خبریں اور رپورٹیں نشر کرنے والوں کی تعداد میں بےپناہ اضافہ ہوا کچھ تو اداروں اور ملک دشمنی کے اپنے لا علاج مرض کے سبب چینلز سے بھی نکالے گئے اب ان میں سے اکثر بے روزگار ہو کر یوٹیوب پر بونگیاں مار رہے ہیں۔

    یہ نام نہاد صحافی خبر دینے اور رپورٹنگ کی بجائے خود پارٹی بن جاتے ہیں کئ تو مولانا فضل الرحمن کی پرائیویٹ فوج کی یونیفارم پہن کر انقلاب کی رہ تکتے تکتے مایوس ہوکر فاتحہ خوانی بھی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    جھوٹی خبر دینے والوں کا محاسبہ کرنے کے لیے ہر ملک میں قوانین موجود ہیں صحافیوں کو بھاری جرمانے برطانیہ جیسے آزاد معاشرے میں بھی کئے جاتے ہیں۔ 

    موجودہ حکومت نے جھوٹی خبریں دینے والے صحافیوں کا محاسبہ کرنے اور میڈیا کے کیمرہ مینوں بیٹ رپورٹرز اور دیگر ورکرز کو کئ کئ ماہ تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا مالکان کے خلاف قانون سازی کرنے کی کوشش کی تو نام نہاد نامور صحافی جن کو منہ مانگی قیمت ملتی ہے وہ جھوٹی خبروں اور میڈیا ورکرز کے حق میں بننے والے پاکستان میڈیا اتھارٹی کے خلاف پھٹ پڑے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیں جھوٹ بولنے کی مادر پدر آزادی دی جائے تاکہ یہ معاشرے میں اپنی  جھوٹی خبروں اور رپورٹنگ کے ذریعے فساد مچاتے رہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہ ہو۔

    حکومت وقت سے استدعا ہے کہ اگر اب اس مافیا کو لگام ڈالنے کے ارادہ کر ہی لیا ہے تو اپوزیشن میں بیٹھے ان کے خیرخواہوں کی تنقید کو خاطر میں نہ لایا جائے

    اور اس کام کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔           

    @EducarePak 

  • ھماری سو کالڈ سوسائٹی تحریر ہما عظیم

    ھماری سو کالڈ سوسائٹی تحریر ہما عظیم

    ھماری سو کالڈ سوسائٹی
    سگریٹ کے ڈبی پہ لکھوا لیتی ھے
    کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ھے
    زھریلی ادویات پہ لکھوا لیتی ھے
    کہ بچوں سے دور رکھئیے
    صحت کے لئے مضر ھے وغیرہ وغیرہ
    لیکن گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ جیسے
    نامحرم تعلقات کے بعد پیدا ھونے والے
    خطرات و حالات کے بارے میں بات نہیں کرتی۔۔مگر
    زرا سا ان نا محرم نا جائز و حرام رشتوں پہ
    سچ بات کہہ دو سچ کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دو
    تو بڑے بڑے اعلی تعلیم یافتہ لنڈے کے لبڑلز
    کو آگ لگ جاتی ھے ۔۔
    نور مقدم کیس کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔
    بچپن سے جوانی تک کا ساتھ تھا ظاھر جعفر کا اور نور مقدم کا۔۔
    آپس میں دونوں فیمیلیز کی اتنی انڈرسٹینڈنگ تھی
    کہ نور کو رات گزارنے تک کی آزادی تھی جعفر کے گھر میں۔۔
    اس دن بھی نور اپنے والدین کو یہ بتا کر گئی کہ
    وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تین چار دن کے لئے ناردرن ایریاز میں جا رھی ھے۔۔۔
    اتنے عرصہ کے تعلقات کے باوجود ایسا کیا ھو گیا کہ جعفر نے اس بے دردی سے اس بندی کا قتل کیا ؟؟
    جو بھی ھوا ؟
    جو بھی وجوھات تھیں؟
    غلط ھوا ؟
    لیکن سب اسی بات پہ شور مچا رھے ھیں کہ یہ کیوں ھوا ؟
    ” یہ کیوں ھوا ” کہ علاوہ یہ سوال بھی ہونا چاہئیے کہ "ایسا کیوں ہوا……؟”
    ہم جب جب اپنے محرم رشتوں کی بنی حفاظتی زنجیر سے باہر نکلیں گے تب تب انسانی شکل میں موجود بھیڑیوں کو اپنے انتظار میں پنجے تیز کئیے تیار پائیں گے۔بظاہر یک کھڑے آپ کے لئیے نعرے لگارہے ہونگے آپ کو باہر کی آزادی کگ سبز باغ دیکھائیں گے مگر اصل میں خود بھوکے حوس کی پیاس لیئے اپنے شکار کو رجھا رہے ہوتے ہیں۔ہماری معصوم لڑکیاں جب ان کے جھانسے میں آجاتی ہیں تو یہ نفسیاتی انسان یا تو انہیں نورمقدم کیس کی طرح مار دیتے ہیں یا پھر کمزور کر کے کسی اور کے شکار کے۔ لئیے چھوڑ دیتے ہیں
    اور زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان جنگلی بھیڑیوں کے ساتھ عورت کی دشمنی میں عورت ہی میدان میں نکل آئی ہے۔ عورت جو عورت کا آئینہ ہے۔کہا جاتا تھا عورت ہی عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہے۔اب ظلم یہ ہو گیا ہے عورت ہی عورت کی دشمن بن چکی ہے۔وہ بھی معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر جھوٹے خواب دکھا کر مردوں کی سوسائٹی میں لاکر تر نوالہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔
    مقصد بات کا یہ ہے کہ
    کل اپنی بچیوں کو صرف یہ نہ بتائیں کہ
    نور مقدم کے ساتھ ظلم ھوا۔۔
    یہ بھی بتائیں کہ نور کے ساتھ ایسا ظلم صرف اس لئے ھوا
    کیونکہ نا محرم کے ساتھ تعلقات کا ایسا ھی انجام ھوتا ھے
    تحریر ہما عظیم
    @DimpleGirl_PTi

  • زہر کا گھونٹ  تحریر بسمہ ملک

    زہر کا گھونٹ تحریر بسمہ ملک

    میرے ہاتھ میں زہر کا پیالہ تھا۔ میں نے دھندلی نگاہوں سے اردگرد دیکھا، تو چند لوگ میرے آس پاس موجود تھے، مگر ان میں سے کوئی بھی میرے قریب نہیں آیا ، سب مجھے دور کھڑے دیکھ رہے تھے۔ زہر تو مجھے پینا ہی تھا ، پھر کیوں کسی کا انتظار کرتی۔ جیسے ہی میں نے پیالہ منہ سے لگایا۔ایک چیخ نما آواز آئی عائشہ۔۔۔۔۔۔۔!!! اور میری آنکھ کھل گئی ، اسی کے ساتھ میرے جسم کو جھٹکا سا لگا تھا۔ ہوش کی دنیا تک آتے آتے میں سوچ رہی تھی کہ شاید کسی نے وہ پیالہ مجھ سے چھین لیا تھا ، وہ شاید ابو تھے۔ ذہن پر زور دیتے خواب کے منظر کو دہراتے میں آٹھ گئی تو دیکھا امی سرہانے ہی کھٹی تھیں ” بے وقت کیوں سوئیں…..؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ؟ ” انہوں نے میری پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ جی ٹھیک ہوں ۔ بچے کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟ اسی لیے تو تمہیں آواز دے رہی تھی ، اب تو انہیں کچھ کھلا پلا دو،، دوپہر میں بھی انہوں نے صحیح طرح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ "جی اچھا” میں بال سمیٹتے ہوئے بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی اور امی بھی پاس ہی بیٹھ گئی ۔ پھر ریحان سے تمہاری کوئی بات ہوئی ؟ کئی دن ہوگئے عضے بھرے انداز سے کہا ۔ کیا کہا اس نے ؟؟ امی آپ کو بتایا تو تھا ، پھر کیوں ایک ہی سوال بار بار پوچھتی ہیں۔ میں بے زاری سے بولی میری تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ نہ جانے کیوں باربار وہی بات سنن،ئا چاہتی ہیں، جسے سن کر خود آپ کو تکلیف اور مجھے اذیت محسوس ہوتی ہے میں نے قدرے مغمول لہجے میں کہا۔ "کہہ رہے تھے خود گئی ہو ، تو خود ہی آجاو ۔ مجھ سے توقع مت رکھنا کہ واپس لینے آوں گا۔”
    ” ویسے میں سوچ رہی تھی کہ اس میں بھی کوئی حرج تو نہیں ہے جیسے آئی تھیں، ویسے ہی جاسکتا ہو اور میاں ، بیوی کے بیچ تو جھگڑے ہوتے ہی رہتے ہیں، اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ ساری زندگی میکے میں گزار دی جائے ۔ ویسے بھی تم بیوی ہو اس کی اور دو بچوں کی ماں بھی ۔” وہ بے گانگی سے بولیں۔ ” لیکن ابو کا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو پتا ہے ناں ، ابو ان سے بات کرنا چاہتے ہیں، انہیں ان کی ذمے داریوں کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ آپ خود سوچیں امی کہ آخر میں اور میرے بچے کب تک سسرال والوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ میں نے تو پھر جیسے تیسے گزارہ کر لیا ، لیکن بچوں کا کیا ۔۔۔۔۔وہ کیوں دوسروں کے احساس تلے دبے رہیں؟ چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لیے دوسروں پر انصار کرتے رہے تو ان کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچے گی ، عزت نفس ختم ہوجائے گی اور انہیں بھی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی عادت پڑ جائے گی ، جو میں ہر گز نہیں چاہتی ۔” ایک تو مجھے تمہارے ابو کی بھی سمجھ نہیں آتی ۔ انہیں اب ریحان سے کیا بات کرنی ہے ۔ ہم نے تمہاری شادی کردی ، تمہیں رخصت کرکے ہماری ذمے داری ختم ۔ اب نبھانا تم نے ہے ، تم پہ فرض ہے کہ شوہر کا مزاج سمجھو ۔ اس کے دکھ ، سکھ میں ساتھ دو، اس کے مطابق زندگی گزارو۔”
    اتنے سالوں سے برداشت ہی تو کرتی آئی ہوں ۔ بیوی ہوں تو کیا ہوا ، ان کا کوئی فرض نہیں ہے ۔۔ وہ مجھے کتنا کچھ کہہ گئے ، بچوں تک کی پروا نہیں کی ، چلو میں ماں لیتی ہوں میں بڑی ہوں ، لیکن بچے تو ان کے اپنے ہے ناں ، ایک بار بھی پلٹ کر بچوں کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کیسے ہیں کس حال میں ہیں۔ الٹا یہ کہا کہ بچوں کی بھی ضرورت نہیں رکھ لے تمہارے امی ابو مجھے پروا نہیں ۔ ایک آدمی شوہر چاہے کیسا بھی ہو ، لیکن باپ کے روپ میں تو بچوں کا سائبان ہوتا ہے مگر میرے بچوں کا سائبان ہی ان سے بیزار ہے ” میں ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی اور آنسو بہنے لگے۔ سینے میں چبھے تیر تکلیف دے رہے تھے میں سوچتی رہی کہ ریشم کی ڈوری کی طرح میں ہی پاوں سے لپٹ رہی ہوں۔
    (جاری ہے ۔۔۔۔)

    @BismaMalik890

  • 12 ربیع الاول   تحریر : فرح بیگم

    12 ربیع الاول تحریر : فرح بیگم

    حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات میں مختلف راۓ ہیں ۔ کوئی 8 ربیع الاول کا قول راجح کرتا ہے تو کوئی 12 ربیع الاول کا ۔ لیکن زیادہ مشہور 12 ربیع الاول ہے ۔ اسی طرح حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تاریخ میں بھی تضاد ہے بعض علمائے کرام کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے روز وفات پائے اور مہینہ بھی ربیع الاول کا تھا ۔البتہ تاریخ کی رائے پھر مختلف ہے ،پر زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ 12 ربیع الاول کا دن تھا ۔

    زمانہ گواہ ہے کہ جب بھی 12 ربیع الاول کا چاند دیکھائی دیتا ہے دل میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت کی لہر دوڑتی ہے ۔ ہمارا ایمان پر جوش اور یک دم تازہ ہو جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کی آمد ہر سال تجدید عہد وفا سنت کا پیغام لے کر آتی ہے ۔ اس مہینے کا مطلب ہے کہ کوئی سنت کے خلاف کام نہ ہو ۔ حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے لیے روشنی کا سر چشمہ ہیں ۔وہ پوری دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں ۔اور ہمیں فخر ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ملت لے کر اے جو دن میں نور اور رات میں امن ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ راہ دیکھائی جس پر چل کر ہم نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی فلاح پا سکتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب کی باتیں بھی بتائی پر کھبی بخل سے کام نا لیا ۔

    جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آپنے آمد کے مقصد کو پورا کر بیٹھے اور اسلام کو لوگوں تک پہنچا دیا تو اپنے خالق سے جا ملے۔ اور اس دین کو قیامت تک مکمل قرار دیا ۔ اب اس دین کے بعد کوئی دین نہیں اے گا اور حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اللّه کے آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اے گا ۔ نہ ہی اس دین میں کسی زیادتی ، مکاری کی گنجائش ہے اور نہ کسی نقصان کی ۔ لوگ 12 ربیع الاول کو عبادت سمجھ کر مناتے ہیں ،جلوس نکالتے ہیں ،لوگ جلوسوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ گھروں میں محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے ۔ یہ سب ایک عادت ہے دین سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے ۔لیکن برصغیر پاک و ہند میں اسکو ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ 12 ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو محفل میلاد کا سما شروع ہو جاتا ہے اور کیوں نا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادات کا دن ہے اور اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں ہے ۔ 12 ربیع الاول کو تیسری عید سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔

    12 ربیع الاول کی خوشی میں پورے ملک کے تمام شہروں کو ،گلیوں کو سجایا جاتا ہے ۔سارا منظر روح پرور ہوتا ہے ۔اس دن کو مولود نبی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ملک بھر میں قرآن پاک کی تلاوت اور نماز کے لیے بڑے اجتامت منعقد کیے جاتے ہیں ۔ لوگ ضرورت مندوں میں کھانا تقسیم کرتے ہیں ۔ لوگ خیرات دیتے ہیں ۔ غریبوں میں کپڑے اور کھلونے بانٹے جاتے ہیں ۔ باہر ملکوں میں مسلمان 12 ربیع الاول کو مسجد میں جمع ہوتے ہیں ، عبادت کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ محفل میلاد منائی جاتی ہے ۔

    اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس دن کو نہایت پر جوش ،احترام ، عقیدت اور ولولے کے ساتھ منائیں۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • دعا ایک عظیم نعمت   تحریر: اسد ملک 

    دعا ایک عظیم نعمت  تحریر: اسد ملک 

    انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے یہ شرف حاصل ہے کہ وہ دعا کے ذریعے اللہ سے دنیا کی کوئی بھی چیز حاصل مانگ سکتا۔ اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت دعا ہے اور خاص عبادت بھی گردانی جاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پورے دل اور اخلاص کے ساتھ اللہ سے دعا مانگے۔انسان کا مانگنا اللہ کو ویسے بھی بہت پسند ہے وہ خود چاہتا ہے کہ انسان صرف اسی سے مانگے کیوں کہ دینے والی ذات بھی صرف اللہ ہی کی ہے۔ اللہ سے مانگ کر کبھی بھی شرمندگی یا ندامت نہیں ہوتی ، جو بھی مانگا جاتا ہے وہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ہی رہتا ہے ۔

    اللہ تعالی سے جب بھی مانگا جائے تو اس پہ پورے یقین اور توکل سے مانگنا چاہیے۔ مومن صرف اللہ ہی پر توکل کرتا ہے کیوں کہ قرآن میں بھی اللہ فرماتا ہے ، "وعلی ربّھم یتوکلون” (اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں)۔ بحثیت مومن اس بات پہ یقین ہونا کہ کائنات میں ایک پتہ بھی اللہ کی مرضی کے بنا نہیں ہل سکتا اور کوئی بھی اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتا ، سب اللہ ہی کی رضا سے ہوتا ہے لہذا وہ صرف اسی پہ یقین اور بھروسہ کرتا ہے۔ اور اس کامل بھروسے کی وجہ سے اس کے اندر کی امید کبھی مدھم نہیں پڑتی اور نہ ہی انسان کبھی کسی خوف کا شکار ہوتا۔ بے شک اللہ پہ توکل اور یقین رکھنے والوں کو آزمایا جاتا ہے مگر امید کا جو دامن اس وقت مومن کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ ہزار مشکلات کے باوجود بھی اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتا ، نہ اس میں کسی قسم کی کوئی اکڑ ہوتی ہے نہ اسے کوئی چیز اللہ کے علاوہ کسی کے آگے جھکنے پہ مجبور کر سکتی ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے جو بھی ہوتا ہے وہ اللہ کی مرضی اور رضا سے ہوتا ہے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ستر ماوں سے زیادہ محبت کرنے والا اس کے لیے کچھ برا کرے گا اسی لئے وہ ہر حال میں بہت مطمئن ہو کر وہ زندگی بسر کرتا ۔

    اللہ سے یقین کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ دعا کرتے ہوئے انسان کو اس کی قبولیت کا یقین ہونا چاہیے کیوں کہ مایوس دل سے نکلی دعا اللہ کو پسند نہیں لہذا دعا اس یقین سے مانگنی چاہیے کہ دینے والی ذات صرف اللہ ہی کی ہے، وہ ہر شہ پہ قادر ہے اور وہ "کن فیکون” کا مالک ہے اسی لیے اس سے نا ممکن کو بھی مانگتے ہوئے ہچکچانا نہیں چاہیے اللہ عزوجل کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں۔اور جب یقینِ کامل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جاتی ہے تو وہ کریم اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے تو وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو خالی اور ناکام و نامراد واپس کر دے۔

    انسان زندگی میں ہر چیز حتی کہ اپنے مسائل اور خواہشات میں بھی اللہ تعالی کے حکم کا محتاج ہے ۔ دراصل انسا ن بہت بے بس اور لاچار ہے اور جب انسان کو یہ چیز محسوس ہوتی ہے تو وہ دعاوں کا سہارا لے کے اللہ کے آگے گرگراتا ہے اور اللہ کی قدرت پہ کامل یقین کے ساتھ اپنے تمام معملات اس کے سپرد کر دیتا ہے ، اس مقام پر انسان اپنی محرومی اللہ کے ہاں پیش کر دیتا ہے اور اس کی مدد کا طالب ہو جاتا ہے۔ مگر دعا قبول نہ ہونے کی صورت میں ناشکری اور نا امیدی اللہ کی ناراضی مول لینے کی مترادف ہے ۔ اللہ سے مانگنا ضرور چاہیے اور مکمل یقین کے سا تھ مانگنا چاہیے مگر ضد نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ یہ اللہ جانتا ہے کہ انسان کے حق میں کیا بہتر ہے اور کچھ دعائیں انسان کے لیے نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ ایمان اور کامل یقین کا تقاضا دعا کی قبولیت سے ہر گز مشروط نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پہ ہونا چاہیے کہ جو بھی ہوگا وہ میرے لیے بہتر ہی ہوگا کیوں کہ میں نے اپنا معاملہ اس ذات کے سپرد کیا ہے جو تمام کائنات کا مالک ہے اور اپنی مخلوق سے بے انتہا محبت کرتا ہے اسی لیے دعا جیسی عظیم نعمت سے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔

    @asad_malik333

    https://twitter.com/asad_malik333?s=09

  • عمران احمد خان نیازی کی بائیوگرافی تحریر علی اصغر خان         

    عمران احمد خان نیازی کی بائیوگرافی تحریر علی اصغر خان        

                           

              

    عمران خان کا جنم سنہ 1952 لاہور میں ایک پشتون گھرانے میں ہوا بچپن سے کافی زیادہ محنتی تھے عمران  نے 19 سال کی عمر  1971 میں اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کیا اسی دوران سنہ 1975 میں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی اپنے کیریئر کے دوران بہت سارے نشیب و فراز ان کے سامنے آئے انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران اس وقت کی بہترین ٹیموں کے  ساتھ کرکٹ کھیلی یہ وہ وقت تھا جب ویسٹ انڈیز کو کالی آندھی کے نام سے جانا جاتا تھا اور بڑے بڑے بولرز ز اس ٹائم ہوا کرتے تھے اور ان بڑے بڑے ناموں میں عمران خان نے اپنا نام بنایا یا اور پاکستان کا نام بھی روشن کیا اس کے علاوہ نیو ٹرل امپائر ر متعارف کروائے  اس کے علاوہ عمران خان سن 1982 سے لے کر سن 1992 تک پاکستان کی ٹیم کے کپتان بھی رہے ہے پاکستان کرکٹ ٹیم نے واحد ورلڈ کپ انیس سو بانوے میں عمران خان کی قیادت میں جیتا انیس سو اکانوے میں عمران خان نے  اپنی والدہ کی یاد میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بنیاد بھی رکھی انیس سو چورانوے میں انہوں نے شوکت خانم کینسر ہاسپٹل لاہور کو کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس کے بعد دوسرا شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال پشاور میں سن 2015 میں بنایا گیا عمران خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد انیس سو چھیانوے میں پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی بنیاد رکھی  1996 میں عمران خان کے جلسے بہت بڑے تھے لیکن پاکستان تحریک انصاف بدقسمتی سے سے کوئی بھی سیٹ حاصل نہ کر سکی عمران خان کو کو اپنی سیٹ پر مشہور اینکر طارق عزیز نے شکست دی بعد ازاں ایک پروگرام میں طارق عزیز سے جب پوچھا گیا کہ آپ کو کس پر یقین ہے جو پاکستان کے حالات میں بہتر کر سکتا ہے اس سوال کہ جواب میں طارق عزیز کا جواب تھا جس کو میں نے آپنے پہلے الیکشن ہرایا تھا پھر 1999 اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے  ایمرجنسی نافذ کردی گئی عمران خان جنرل مشرف کی ایمرجنسی کے خلاف تھے( اس کے بعد سن 2001 میں جب امریکا افغانستان میں داخل ہوا اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو پکڑنے کے لیے لئے تو واحد لیڈر عمران خان تھے جنہوں نے یہ کہا کہ افغان مسئلے کا حل جنگ  نہیں بلکہ کہ مذاکرات سے ممکن ہے اس کے علاوہ کافی موقع پر انہوں نے یہی بیان د یا آخر کار  20 سال کے بعد عمران خان کا وہ بیان سچ ثابت ہوا اور آج امریکہ افغانستان سے پوری طرح جا چکا ہے ہے)  پھر 2002 میں الیکشن ہوئے 2002 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو (صرف ایک سیٹ ملی اور وہ عمران خان کی اپنی سیٹ تھی اس طرح عمران خان پہلی بار قومی اسمبلی میں میں بطور ممبر نیشنل اسمبلی پہنچ گئے اس کے بعد 2008 کے جنرل الیکشن میں عمران خان نے اور ان کی پارٹی نے مکمل بائیکاٹ کر دیا اس کے بعد عمران خان اپنی پوری سیاسی طاقت کے ساتھ میدان میں اترے اور انہوں نے بہت بڑے بڑے جلسے کرنا شروع کر دیئے 2010 سے لیکر 2018 تک انہوں نے بہت زیادہ محنت کی 2013 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو پہلی بار پختونخوا میں میں حکومت مل گئی مگر خان کا خواب یہ نہیں  تھا عمران خان نے مزید محنت اور جدوجہد کی اور چار حلقوں کو کھولنے کا کہا ان کا ماننا تھا کہ یہ چار حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے مگر مسلم لیگ نون کی حکومت نے وہ چار حلقے کھولنے سے انکار کر دیا عمران خان کی سیاست شروع کرپشن ختم کرو سےہوتی ہے جو بھی حکومت ہو اس کو انصاف کرنا چاہیے کرپشن اگر اوپر سے لیڈر کرتا ہے تو نیچے والے لوگوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا اس کے بعد آخر کار سال 2018 آیا اور عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نہ صرف وفاق میں بلکہ پنجاب میں اور پہلی بار ایسا ہوا کہ خیبرپختونخوا میں یکے بعد دیگرے دوسری بار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آگئی عمران خان وزیر اعظم پاکستان پہنچ چکے تھے کرکٹ میں جب آئے اس کے بعد 22 سال کے لمبے انتظار کے بعد عمران خان نے پاکستان کو ورلڈ چیمپیئن بنوایا اسی طرح 1996 میں جب سیاست میں آئے تو ٹھیک 22 سال کے بعد 2018 میں  پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے یہ سفر یہیں پر ختم نہیں ہوا اس کے بعد بھی پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں مزید کامیابیاں سمیٹیں جن میں گلگت بلتستان کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو فتح ملی اور اس کے بعد حال ہی میں ہوئے آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف نے سادہ اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی انشاءاللہ 2023 میں پاکستان تحریک انصاف سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان اور آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی 

    Twitter account @Ali_AJKPTI