Baaghi TV

Category: بلاگ

  • منصب کی بےتوقیری  تحریر: آصف گوہر 

    ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔

    ۞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°

    "۔۔۔۔۔۔۔۔  اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    سورة الأنعام 151

    مختلف سیاسی جماعتوں کے بدکار رہنماؤں کی  ویڈیو لیک ہونا معمول بن چکا مگر معاشرے اور ریاست کا اس پر ردعمل انتہائی قابل افسوس ہے ۔بےحیائی کے مناظر پر مبنی ویڈیوز چند روز سوشل میڈیا کا موضوع بحث بنتی ہیں اور پھر یکسر بھلا دی جاتی ہیں نہ ملک کا قانون حرکت میں آتا ہے نہ عدالتیں از خود نوٹس لیتی ہیں اور یوں معاملہ ختم ہوجاتا ہے اور بدکار پورے طم طراق سے اپنی گندی سیاست کو جاری رکھتا ہے ۔

    بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بےحیائی کو برائی سمجھا ہی نہیں جاتا ایسے بدبخت صحافی اور نام نہاد دانشور بےحیائی کے دفاع میں سینہ ٹھونک کر سامنے آجاتے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے ترجمان زبیر عمر کی پانچ قابل اعتراض اور فحش ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد نیوز چینل پرخبریں پڑھتے پڑھتے صحافی بننے والی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اگر زبیر عمر نے پانچ خواتین کے ساتھ باہمی رضامندی سے بدکاری کی تو اس پر کوئی اعتراض نہیں بنتا ہاں اگر نوکری کا جھانسہ دیکر بدکاری کی گئ تو پھر سوال بنتا ہے۔

    اس طرح کی چربی زبانی کی وجہ سے بدکاروں کے حوصلے بڑھتے ہیں۔اور زبیر عمر جیسے بدکار ویڈیو لیک ہونے پر منہ چھپائے کی بجائے اگلے ہی لمحے ٹی وی پر بیان بازی کر رہا ہوتا ہے۔

    اور تو اور ان بدکاروں کی سیاسی جماعتیں بھی ان کی کھلی بےحیائی پر نہ صرف خاموشی اختیار کرتی ہیں بلکہ اپنے ان رہنماؤں کی سرپرستی بھی جاری رکھی جاتی ہے۔ طلال چوہدری کی تنظیم سازی عابد شیر علی کی فحش گوئی راحیل اصغر کی سرعام بدزبانی اور زبیر عمر کی ویڈیوز پر مسلم لیگ ن نے بطور سیاسی جماعت کو ایکشن نہیں لیا۔ یاد رہے یہ بدکاری زبیر عمر نے نہیں کی بلکہ گورنر زبیر عمر نے کی ہے

     ایک بندہ گورنر جیسے اہم منصب پر فائز ہوتے ہوئے کیسے مجبور خواتین کو نوکریوں کا جھانسہ دیکر ان کے ساتھ منہ کالا کرتا رہا اور ریاست خاموش رہی ۔ایسے زندیق شخص کو اس منصب پر فائز کرنے والا بھی اس کے جرم اور گناہ میں برابر کا شریک ہے

    گناہ کو گناہ نہ سمجھنے والے معاشرے انارکی اور ٹو پھوٹ  کا شکار ہوکر وحشی درندوں کا مسکن بن جایا کرتے ہیں۔

    ہمارے مذہب نے شادی شدہ زانیوں کے لئے سزا مقرر کی ہے اور سزا کا نفاذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت ان تمام ویڈیوز کا فرانزک تجزیہ کروائے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو گرفتار کرکے حد لاگو کرے ۔

    آئین کی متعلقہ شق کے تحت ایسے بدکاروں کو سیاست میں حصہ لینے اور میڈیا پر بیان جاری کرنے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے ۔اگر آئین میں اس بدکاری کے متعلق کوئی سزا مقرر نہیں تو حکومت ضروری آئین سازی کرے تاکہ آئندہ کسی کو گورنر جیسے اہم ریاستی اور آئینی عہدہ کو استعمال کرتے ہوئے اسی بدکاری کی جرات نہ ہو سکے۔                             @EducarePak

  • زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    نفسیاتی مسائل جنھیں ہم عام الفاظ میں ٹینشن بھی کہتے ہیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں.
    دیکھا جائے تو انکی فہرست بہت بڑی ہے. ہم معاشی مسائل اور غلط قسم کے رسم و رواج میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے اور بے حسی لوگوں میں اس طرح رچ گئی ہے کہ اب انھیں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے معلوم نہیں… اگر معلوم ہوتا بھی ہے پر انکو اسکے صحیح اور غلط سے کوئی سروکار نہیں ہوتا.
    اور اسکی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام بہتر ہونے کی بجائے تنزلی کا شکار ہورہا ہے.
    پہلے غربت تھی پر رشتوں کی اہمیت بہت سمجھی جاتی تھی مگر اب یہاں رشتوں کی بجائے روپے پیسے کی اہمیت نے جگہ لینی شروع کردی ہے..

    وجہ ؟؟؟
    انسان نے اپنی ضروریات اس قدر بڑھا لی ہیں کہ اب ایک فرد کی کمائی میں گھر کا خرچ چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے اور ایک مشین کہ طرح کام میں لگا رہتا ہے پر پھر بھی ضروریات پوری نہیں ہوتیں.. نہ اپنے خاندان کو وقت دے سکتا ہے نہ اپنے بچوں کو….
    بچوں کی ضروریات پوری کرتے کرتے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بچوں کو اسکے پیار اسکے وقت کی بھی ضرورت ہے.
    ایک ریسرچ کے مطابق بچوں میں نفسیاتی مسائل کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اسکی بڑی وجہ والدین کے جھگڑے یا بچوں کے ساتھ سخت رویہ بھی ہوسکتا ہے
    اور جب بچے اپنے والدین کی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو وہ شدید قسم کے ڈپریشن کا شکار ہوجاتےہیں جس کے خطرناک نتائج بھی ہوسکتے ہیں.
    والدین کو چاہئیے کہ وہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی وقت بھی دیں. اپنے اور بچوں کے درمیان ایک دوستانہ ماحول بنائیں, بچے کے مسائل سمجھیں اس سے ایک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے گی.
    مگر افسوس ہماری خواہشات اور ترجیحات خود ہم نے بدل دی ہیں. بچوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنوں سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں (یا دور ہوگئے ہیں) اب ہمیں سہولیات میسر تو آئیں ہیں مگر وقت کی کمی کا رونا بھی روتے ہیں.
    پہلے خوشی غمی کے موقع پر سب رشتہ دار اکٹھے ہوجاتے تھے مگر اب یہ بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے.
    افسوس اب تو بزرگوں کے تجربے سے یا دور اندیشی سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا بلکہ اب جس کا اسٹیٹس بڑا ہو اسی سے مشورہ اور اسی سے ملنا اور تعلقات رکھے جاتے ہیں صاف الفاظ میں اب تو زیادہ تر لوگ مفاد کا رشتہ رکھتے ہیں, پر مطلب اور مفاد کے رشتوں سے ہمیشہ تکلیف ہی ملتی ہے کیونکہ پیسے اور مفاد کے بنائے گئے رشتوں کی حقیقت اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب یہ دونوں چیزیں نہیں رہتی.
    پھر ہم وقت کا رونا روتے ہیں کہ وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے مگر یہ ہم خود کی تسلی کے لئے وقت کو بدنام کررہے ہوتے ہیں.
    اصل میں جیسے ہی انسان کے پاس دولت یا عہدہ آ تا ہے تو وہ اپنے رشتے داروں سے خود کو دور کرلیتا ہے.
    اور اسی ترک تعلق نے انسان کو تنہا کردیا ہے اور جب ناکامی ہوتی ہے تو وہ خود کو اکیلا کھڑے دیکھتا ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار.
    دیکھیں حالات جیسے بھی ہوں پر اپنوں کا ساتھ کبھی مت چھوڑیں, انکا دکھ درد بانٹیں, یہ رتبہ, یہ عہدہ کسی کام کا نہیں آ نا
    زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان رشتوں کو نبھانے سے ملیں گی کیونکہ یہ بہت انمول ہوتے ہیں.

    @Rehna_7

  • ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    ایک طرف عورت مارچ تو دوسری جانب حیا ڈے ،تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں خواتین کو لیکر بہت سی نئی بحثیں شروع ہو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کچھ خواتین کے حق میں اور کچھ کے خلاف بہت سے سوشل میڈیا ٹرینڈ چل رہے ہوتے ہیں۔ کہیں خود خواتین میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا رہی ہوتی ہیں تو دوسری طرف خواتین ہی ان نعروں کو لیکر اس طرح کی مارچ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔ ایک طرف عورت مارچ ہوتی ہے تو دوسری جانب حیا ڈے منایا جاتا ہے۔

    اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عورتوں سے متعلق مسائل صرف ہمارے ملک میں ہیں؟ جی نہیں۔۔۔پاکستان کوئی واحد ملک نہیں ہے جہاں اس طرح کے مسائل ہیں بلکہ ان ممالک کی ایک لمبی لسٹ ہے۔ لیکن چند ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پر حالات کافی مختلف ہیں۔وہ کونسا ملک ہے جہاں عورتوں کو مختلف فیلڈز میں سب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہے؟کیا ہر ایک فیلڈ میں برابر نمائندگی حاصل کرنے کے بعد عورتوں کے مسائل ختم ہو جاتے ہیں؟Gender equalityکیا ہوتی ہے اور وہ کونسا ملک ہے جہاں Gender equalityسب سے زیادہ ہے؟عورتوں کو اگر Leadership rolesدئیے جائیں تو اس کے فائدے اور نقصانات کیا ہو سکتے ہیں؟ عورتوں کے لئے ہم معاشرے کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟عورتوں کے حقوق کے حوالے سے یہ سب وہ سوالات ہیں جو اس وقت ہر ایک معاشرے میں اٹھائے جا رہے ہیں۔عورتوں کو سیاسی نمائندگی دینے کی بات کی جائے تو ہو سکتا ہے کہ آپ سوچیں کہ امریکہ، برطانیہ ، ناروے، سویڈن، نیوزی لینڈ یا فن لینڈ میں سے کوئی ایک ملک ہو گا جہاں کی پارلیمنٹس میں سب سے زیادہ خواتین ہوں گی۔ لیکن نہیں۔۔ ان میں سے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی بہترین مثال ایک افریقی ملک روانڈا ہے۔ جس کی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ روانڈا کے Lower house of parlimentمیں61.3%عورتیں ہیں۔حالانکہ روانڈا ایک کم آمدنی والا غیر ترقی یافتہ ملک ہے۔
    اگر باقی دنیا کی بات کی جائے تو عورتوں کی پارلیمنٹ میں ہونے کی Global average 25.5%ہے یعنی زیادہ تر ممالک میں یہ Average 50%سے کافی کم ہے۔ صرف تین ملک ایسے ہیں جہاں عورتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ جن میں پہلے نمبر پر روانڈا 61%دوسرے نمبر پر ہے کیوبا53%اور تیسرے نمبر پر ہے یو اے ای50%کے ساتھ۔۔۔۔
    روانڈا میں خواتین کی شمولیت کا یہ تناسب صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں ہے بلکہ 32%خواتین سینیٹرز ہیں۔42% cabinet membersاور50%ججز بھی عورتیں ہی ہیں۔ لیکن یہاں میں آپ کو روانڈا کے بارے میں ایک خاص بات بتاتا چلوں کہ یہاں پر ہمیشہ سے خواتین اس طرح مضبوط اور اعلی پوزیشنز پرنہیں ہوتیں تھیں۔

    1990تک یہاں پارلیمنٹ میں خواتین صرف 17%ہوتیں تھیں۔17%سے عورتوں کی نمائندگی 61%پر کیسے پہنچی اس کی بھی ایک تاریخ ہے۔ 1994میں روانڈا میں ایک بہت ہی خوفناک
    Genoside ہوئی جس میں تقریبا آٹھ لاکھ لوگ مارے گئے تھے جن میں بڑی تعداد مردوں کی تھی۔ اس نسل کشی کے بعد روانڈا کی آبادی میں 70%خواتین باقی رہ گئیں تھیں اور مرد صرف
    30%ہی باقی رہ گئے تھے۔ جبکہ ان خواتین میں سے زیادہ تر عورتیں پڑھی لکھی نہیں تھیں انہوں نے گھر سے باہر نکل کر کبھی کام نہیں کیا تھا۔ اور دوسری طرف ملک میں تبدیلی لانا بھی وقت کی ضرورت بن گئی تھی۔ اس صورتحال میں روانڈا کے صدرPaul Kagame نے فیصلہ کیا اگر ہمیں اپنے ملک کو چلانا ہے اور ترقی کے راستے پر لیکر آنا ہے تو ضروری ہے کہ یہاں کو عورتوں کو Activeکیا جائے۔ جس کے لئے سن دو ہزار تین میں انہوں نے ایک نیا آئین بنایا۔ اور اس میں Gender quotaکوڈالا گیا۔ تاکہ عورتوں کو برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے اور وہ بھی اپنے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ روانڈا کے آئین میں صاف لکھا ہے کہ عورتوں کو Decision making organizationsمیں 30%نمائندگی دینا لازم ہے۔تو اس کے بعد جب دو ہزار تین میں رواندا میں الیکشن ہوا تو ایک تو Gender quotaپرتیس فیصد خواتین کو پارلیمنٹ میں لایا گیا اور دوسری طرف کیونکہ عورتوں کی تعداد ملکی آبادی میں زیادہ تھی تو اس لئے باقی سیٹوں پر بھی بہت سی خواتین الیکشن لڑنے کے بعد پارلیمنٹ میں آنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس طرح ان کے لیڈر کی سوچ، حالات کی مجبوری اور Gender quotaکی وجہ سے روانڈا وہ ملک بن گیا جہاں پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔ہمارے اپنے ملک میں بھی آپ کو معلوم ہے کہ عورتوں کے لئے Reserved seatsکا کوٹہ موجود ہے چین میں بھی عورتوں کے لئے یہ کوٹہ رکھا جاتا ہے۔ جبکہ یورپین ممالک میں تو پولیٹیکل پارٹیز نے خود سے ہی یہ Strategy بنائی ہوئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں خواتین کی ایک خاص تعداد میں شمولیت کو یقینی بناتے ہیں۔ اس طرح کوٹہ سسٹم کے بعد یہ تو ضرور ہوا ہے کہ Globallyاب خواتین کی ایک بڑی تعداد پارلیمنٹس میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔لیکن اس کے بعد سوال یہ اٹھتا ہے کہ
    Gender quota کے یا خواتین کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کے کیا فائدے یا نقصانات ہیں۔اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آنے کے بعد خواتین ملک میں موجود خواتین کے مسائل پر بہتر انداز میں آواز اٹھا سکتی ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے مختلف بلز پاس کروا سکتی ہیں۔ روانڈا میں یہ ہوا بھی کہ خواتین کے پارلیمنٹ میں آنے کے بعد Inheritence and succession
    کے کئی قوانین پاس کروائے گئے جس سے عورتوں کے مسائل میں کافی کمی ہوئی۔2008میں روانڈا میں Anti-gender based violence lawبھی پاس کیا گیا جس کی مدد سے وہاں زیادتی اور تشدد کے واقعات میں کافی کمی دیکھنے میں آئی۔اور جب خواتین کی حمایت میں خواتین زیادہ بلز لیکر آتی ہیں قوانین پاس کرواتی ہیں تو اس سے ایک تو عورتیں قانونی طور پر مضبوط ہوتی ہیں اور دوسراMind set میں بھی Changeآتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد دنیا میں Highest rate of female labour participationبھی روانڈا کا یہ ہے جو کہ تقریبا83%ہے۔

    عورتوں کے پارلیمنٹ میں ہونے سے کسی بھی ملک کو ایک اور بڑا فائدہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عورتیں ہیلتھ کئیر اور ایجوکیشن کے حوالے سے بہتر کام کرتی ہیں۔جبکہ دوسری طرف اس طرح کو کوٹے کے نقصانات بھی ہیں جس میں ایک مثال برازیل کی ہے کہ وہاں Gender quotaمتعارف کروانے کے بعد بھی عورتوں کی پارلیمنٹ میں شمولیت کوئی زیادہ بڑھ نہیں سکی۔
    کچھ ممالک میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ Gender quotaکی وجہ سے وہ خواتین پارلیمنٹ میں پہنچ جاتی ہیں جو اتنی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوتیں۔ جس کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ پاور نہیں نہیں ہوتی یا جن لوگوں کے پاس پاور ہوتی ہے وہ ان عورتوں کو Puppetکی طرح treatکرتے ہیں۔ اور ان عورتوں کو صرف اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشروں میں ایک مائنڈ سیٹ یہ بھی ہے کہ عورتیں بہتر لیڈر نہیں بن سکتیں اس لئے اگر وہ لیڈر بن بھی جائیں تو وہ مائنڈ سیٹ ان کو پرفارم نہیں کرنے دیتا۔ساتھ ساتھ اہم بات یہ بھی ہے کہ کسی ملک میں Political representationبہتر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں Gender equalityبھی ہے۔ یہاں پر بھی روانڈا ایک بہترین مثال ہے کہ ان کی خواتین سیاستدان خود یہ بات کہتی ہیں کہ صرف خاتون ہونے کی وجہ سے اکثر ان کی Capabilitiesپر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ روانڈا کی اپنیParlimentary leader کا کہنا ہے کہ ابھی بھی روانڈا میں لوگ
    Gender issuesکو سمجھتے نہیں ہیں۔ Gender equality ابھی بھی ان سے بہت دور ہے۔ خواتین کے پاور میں ہونے کے باوجود بھی Domestic voilence کا ریٹ روانڈا میں بہت ہائی ہے۔
    اس لئے صرف یہ کہہ دینا کہ اگر کسی ملک میں عورتوں کو تمام فیلڈز میں بہتر نمائندگی مل جائے گی تو عورتوں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔Gender gap
    کو کم کرنے کے لئے ہیلتھ ایجوکیشن اور ورک میں بہت سےایسےMeasuresہیں جو کہ ہمیں بحیثیت معاشرہ لینے پڑتے ہیں۔ اور Gender gapکی اگر بات کی جائے تو آئس لینڈ وہ ملک ہے جہاں یہ Gapسب سے کم ہے حالانکہ وہاں عورتوں کی Political representationکافی کم ہے۔دراصل آپ کو یہ سب Detailsبتانے کا مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی لڑائیاں کرنے سے یا خواتین کے صرف سیاست میں آجانے اور زیادہ نوکریاں حاصل کر لینے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق و فرائض کی جو لڑائی چل رہی ہے وہ آپس میں مل بیٹھ کر ہی حل ہونگے ہمیں اپنے اپنے RolesکوDefineکرنا ہوگا اور ان رولز کو بہتر طور پر ادا کرنا ہو گا جو کام عورت کا ہے اسے عورت کو بہتر طور پر کرنا ہو گا اور جو کام مردوں کے ہیں ان کو کرنے ہونگے۔ ہمیں بحیثیت انسان ایک دوسرے کا خیال کرنا ہو گا تاکہ ہمارا ملک عورتوں اور بچوں کے لئے محفوظ ہو سکے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی عورتیں ہی آنے والی نسل کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور جب تک آپ کی آنے والی نسلیں بہتر نہیں ہونگی آپ کے معاشرے کا مستقبل بہتر نہیں ہو سکتا۔

  • قرب قیامت  اور کعبہ کا خزانہ تحریر:محمد آصف شفیق

    قرب قیامت  اور کعبہ کا خزانہ تحریر:محمد آصف شفیق

     
     

    قیامت کے قریب آتے ہیں جہاں اور بڑی چھوٹی نشانیاں  ظاہر ہوں گی ان میں سے ایک  کعبہ  کے خزانہ کو لوٹ لینا بھی  شامل ہے آج اسی حوالہ سے   حدیث نبوی ﷺ کا مطالعہ کرتے ہیں

     

     حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم حبشیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کرو تاکہ وہ تم سے کچھ نہ کہیں اور تم سے تعرض نہ کریں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کعبہ کا خزانہ ایک حبشی ہی نکالے گا جس کی دونوں پنڈلیاں چھوٹی چھوٹی ہوں گی۔ ( ابوداؤد )) مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1368(       

     

    تشریح

     حدیث کے آخر میں جس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا تعلق آخر زمانہ سے ہے جبکہ قیامت بالکل قریب ہوگی اس وقت اہل حبشہ کو غلبہ حاصل ہوگا اور ان کا بادشاہ اپنا لشکر لے کر مکہ پر چڑھ آئے گا اور کعبۃ اللہ کو ڈھا دے گا اور اس خزانہ کو نکال لے گا جو خانہ کعبہ کے نیچے مدفون ہے ، چنانچہ حدیث میں کعبہ کے خزانہ کو نکالنے والے جس حبشی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے یا تو حبشہ کا بادشاہ مراد ہے یا پھر لشکر مراد ہے نیز خزانہ سے مراد وہ پورا خزانہ ہے جو کعبہ اقدس کے نیچے مدفون ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ خزانہ سے مراد وہ مال اسباب ہے جو نذر کے طور پر وہاں آتا ہے اور خانہ کعبہ کا خادم اس کو جمع کرتا ہے۔

     واضح رہے کہ یہاں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک حبشی خانہ کعبہ کا خزانہ نکال لے گا یا ایک اور روایت میں یوں فرمایا گیا ہے کہ ایک حبشی خانہ کعبہ کو تباہ وبرباد کر دے گا، تو یہ بات قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد وحرما آمنا (امن وامان والاحرم) کے خلاف اور معارض نہیں ہے کیونکہ حبشیوں کے ذریعہ خانہ کعبہ کی تخریب و تباہی کا یہ واقعہ قیامت کے قریب پیش آئے گا جبکہ روئے زمین پر کوئی شخص اللہ اللہ کہنے والا نہیں رہے گا۔ اور امنا کے معنی یہ ہیں کہ کعبہ اقدس قیامت تک مامون ومحفوظ رہے گا، لہٰذا جب روئے زمین پر اللہ اللہ کہنے والوں تک کا کوئی اثر موجود نہ رہے گا اور جب قیامت ہی آ جائے گی تو پھر اور کیا چیز باقی رہ جائے گی کہ کعبہ بھی باقی رہے۔ ویسے یہ بات بھی بجائے خود وزن دار ہے۔ لیکن بعض حضرات نے ایک اور وضاحت بیان کی ہے اور اس کو زیادہ صحیح کہا ہے، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ جو امن والا حرم قرار دیا ہے تو اس کے غالب احوال کے اعتبار سے قرار دیا ہے یعنی خانہ کعبہ کی اصل حقیقت تو یہی رہے گی کہ وہ با امن حرم کے طور پر ہمیشہ ہر قسم کی تخریب وپلیدگی سے محفوظ ومامون رہے گا۔ مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا سخت حادثہ پیش آ جائے جس سے اس کی تخریب کاری ہو چنانچہ کعبہ کی تاریخ میں ایسے حادثات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں جنہوں نے اس کو نقصان پہنچایا جیسا کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عبدالملک بن مروان کی خلافت کی طرف سے اہل مکہ کے خلاف حجاج بن یوسف کے حملے کے دوران خانہ کعبہ کی سخت تخریب ہوئی یا قرامطہ کا واقعہ پیش آیا کہ اس نے خانہ کعبہ کو سخت نقصان پہنچایا ۔ بس اگر زمانہ آئندہ میں بھی کعبہ کی تخریب کا پیش آنے والا کوئی واقعہ پیش آئے تو وہ واقعہ حرما امنا کے خلاف نہیں ہوگا یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ با امن حرام قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو یہ حکم فرمایا کہ جو بھی شخص اس مقدس شہر اور حرم محترم میں آئے اس کو امن وعافیت عطا کرو اور یہاں کسی کے ساتھ بھی تعرض نہ کرو، چنانچہ منقول ہے کہ جب زندیقوں کی جماعت قرامطہ کا سردار فساد و تباہی مچا چکا اور لوگوں کے قتل وغارت گری اور شہریوں کو لوٹ مار سے فارغ ہوا تو ایک دن کہنے لگا کہ اللہ کا یہ فرمان کہاں گیا کہ ا یت (ومن دخلہ کان امنا) (یعنی جو بھی شخص اس حرم محترم میں داخل ہوا اس کو امن وعافیت حاصل ہو گئی ؟ ) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی ، اس نے کہا کہ قران کریم کے اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص کبھی بھی مکہ و اہل مکہ اور خانہ کعبہ کی تخریب اور نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا بلکہ اس فرمان الٰہی کی مراد یہ حکم دینا ہے کہ جو شخص حرم محترم میں داخل ہو جائے اس کو امن وعافیت عطا کرو اور اس میں لوٹ مار اور قتل وغارت گری کے ذریعے کسی کے ساتھ تعرض نہ کرو۔

    اللہ رب العالمین ہمیں ہر قسم کے فتنے سے محفوظ رکھیں  ایمان کی ساتھ زندہ رکھیں اور ایمان  کیساتھ موت عطا فرمائیں ۔ آمین  یا رب العالمین

    @mmasief 

  • پاکستانی صحافیوں کا پاکستان میں پھنسے طلباء سے سفری پابندیاں ہٹانے کی اپیل۔ تحریر: یاسر اقبال خان

    پاکستانی صحافیوں کا پاکستان میں پھنسے طلباء سے سفری پابندیاں ہٹانے کی اپیل۔ تحریر: یاسر اقبال خان

    ‏اچھی تعلیم اور اچھی نوکری ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے اور اپنا ملک چھوڑ کر ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کے حصول کیلئے جانا ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے لیکن کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال ہر انسان کیلئے معاشی اور سماجی خطرہ بن گیا ہے۔ اس کورونا وبائی بیماری نے پوری دنیا کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔ وہ نوجوان نسل جنہوں نے اپنی خوابوں کی تكمیل کیلئے ترقی یافتہ ممالک تعلیم کیلئے جانا تھا وہ اپنے ہی ملک میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ 

    ایسا ہی کچھ حال پاکستانی طلباء کا ہے جو دو سالوں سے چین کا ویزا حاصل کرنے کے انتظار میں ہیں۔ دسمبر 2019ء میں چین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ابتدائی طور پر کیے جانے والے اقدامات میں تعلیمی اداروں کو بند کردیا تھا اور طلبا کو ویزا دینے پر پابندی عائد کی تھی۔ یہ پاکستانی طلباء چین کے یونیورسٹیز میں BS, MS اور PhD کی ڈگریاں پڑھ رہے ہیں اور کورونا وبا کی وجہ سے چین کا ویزا نہ ملنے پر ان طلباء کا معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ معمولات زندگی اور تعلیمی کیریئر متاثر ہو رہا ہے۔ یہ طلباء covid-19 کے وبائی بیماری میں پاکستانی حکومت سے ہر دن مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان پر سفری پابندیاں ختم کرنے کیلئے کچھ مدد فراہم کیا جائے۔ 

    ان طلباء کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے پاکستانی میڈیا کے صحافی بھی میدان میں آگئے ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم ان نوجوان طالب علموں کیلئے چینی حکومت سے بات کی جائے اور ان کے سفری مسائل حل کئے جائے تاکہ جلد از جلد یہ طلباء چین جا کر اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔

    پاکستان کے صحافی انور لودھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر طلباء کے حق میں لکھتے ہیں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چینی حکام سے پاکستانی طلباء کی حالت زار کے بارے میں بات کرے جو کورونا وبا کے دوران پاکستان آئے تھے۔ اب چینی حکومت انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے چین واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔  اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے۔

    پاکستان کے جانے پہچانے صحافی حامد میر نے بھی طلباء کی مدد کرنے کیلئے آواز بلند کیا سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر لکھتے ہیں کہ چین کی حکومت ہمارے بچوں کی بات پر توجہ دے۔ 

    نجی ٹی وی کے صحافی سلیم صافی بھی پاکستانی حکومت پر طلباء کے سفری مسائل ختم کرنے کا کہہ رہے۔

    انیلہ خالد نامی صحافی بھی حکومت وقت سے پاکستانی طلباء کے سفری مسائل حل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    نجی ٹی وی کے صحافی معید پیرزادہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک آرٹیکل شیر کیا اور لکھتے ہیں کہ اسلام آباد کے پاس بیجنگ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے کچھ مہارت ہونی چاہیے تاکہ طلباء چین واپس جا سکیں۔

    طلباء کے پریشانیوں کو دیکھتے ہوے اینکر شعیب جٹ چین کے صدرشی جن پنگ سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاک چین سے اچھے تعلقات ہیں اور طلباء آپ کی مدد کو دیکھ رہے ہیں۔ 

    نجی ٹی وی سے تعلق رکھنے والی صحافی شازیہ زیشن اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو میسج میں پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کا معاملہ حکومت پاکستان کے سامنے اٹھا رہی ہے۔

    پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی عبدالقادر نے پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کی مدد کرنے کیلئے دفتر خارجہ سمیت حکومتی حکام پر زور دیا کہ یہ مسئلہ حل کرا یا جائے۔ 

    اس کے ساتھ باغی ٹی وی نے بہت بار پاکستان میں پھنسے چین میں زیر تعلیم طلباء کیلئے آواز اٹھایا ہے اور ہر ذمہ دار ذرائع پر زور دیا ہے کہ طلباء کو ویزا جاری کرایا جائے اور انہیں چین واپس بھیجا جائے. 

    Twitter: @RealYasir__khan

  • ربیع الاول رحمتوں، عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ تحریر: علی حمزہ 

    ربیع الاول رحمتوں، عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ تحریر: علی حمزہ 

    اسلامی مہینوں میں تیسرا مہینہ ربیع الاول کا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء (شروع) میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع الاول کی ابتداء تھی۔ یہ مہینہ ساعتوں اور خیرات و برکات کا مہینہ ہے۔ کیونکہ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو اللّٰه تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمارے اور آپ سب کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ، رحمتہ اللعالمین کو پیدا فرما کر ہم سب پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش برسائی۔ اسی ماہ کو خاتم النبیین ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسی ماہ کی دسویں تاریخ کو محبوب ﷺ نے ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نکاح فرمایا تھا۔ (عجائب المخلوقات صفحہ 45) 

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ 

    وما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین۔

    "اور (اے محمد ﷺ) ہم نے تم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے۔”

     

     سورة الْاَنْبِیَآء 21:107

    دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے دونوں صورتوں میں مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دراصل نوع انسانی کے لیے خدا کی رحمت اور مہربانی ہے، کیونکہ آپ نے آ کر غفلت میں پڑی ہوئی دنیا کو چونکایا ہے، اور اسے وہ علم دیا ہے جو حق اور باطل کا فرق واضح کرتا ہے، اور اس کو بالکل غیر مشتبہ طریقہ سے بتا دیا ہے کہ اس کے لیے تباہی کی راہ کونسی ہے اور سلامتی کی راہ کونسی ۔ کفار مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو اپنے لیے زحمت اور مصیبت سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے، ناخن سے گوشت جدا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس پر فرمایا گیا کہ نادانو ، تم جسے زحمت سمجھ رہے ہو یہ درحقیقت تمہارے لیے خدا کی رحمت ہے۔ 

    مسلمانوں کو چاہیے کہ اس مہینہ مبارک میں بارہویں تاریخ کو بالخصوص محفلوں اور میلاد شریف کا انعقاد کیا جائے۔ اور محفل پاک ذریعہ ہدایت اور حصول برکات ہو گی۔

    محفل میلاد شریف کی حقیقت، حضور کی ولادت پاک کا واقعہ بیان کرنا’ آپ کی کرامات، شیر خوارگی اور حضرت حلیمہؒ کے یہاں پرورش حاصل کرنے کے واقعات بیان کرنا ا ور حضور کی نعت پاک نظم یا شعر میں پڑھنا سب اس کے تابع ہیں۔ اب واقعہ ولادتِ نبی کا تذکرہ مبارک خواہ تنہائی میں ہو یا مجلس میں، شعر میں ہو یا نثر میں ‘ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر جس طرح بھی کیا جائے اس کو میلاد شریف ہی کہا جائے گا۔

    ضور نبی کریم کے یوم ولادت کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے محافل منعقد کرتے چلے آئے ہیں اور اس مسرت کے موقع پر طرح طرح کے میٹھے پکوان پکاتے ہیں ، شب ولادت پر جی بھر کر خرچ کرتے ہیں اور قرآتِ قران کے ساتھ ساتھ نعتیہ مقابلوں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ محفل میلاد شریف منعقد کرنا اور ولادت پاک کی خوشی منانا اور اس موقع پر خوشبو لگانا’ عرق گلاب چھڑکنا’ شیرینی تقسیم کرنا’ غرض کہ خوشی کا اظہار جس جائز طریقہ سے ہو وہ مستحب اور بہت ہی باعث برکت اور رحمت الٰہی کے حصول کا سبب ہے۔

    حدیثوں میں آیا ہے کہ شب میلاد مبارک کو عالمِ ملکوت (فرشتوں کی دنیا) میں ندا سنائی دی کہ "سارے جہاں کو انوارِ قدس سے منور کردو” اور زمین و آسمان کے تمام فرشتے خوشی و مسرت میں جھوم اٹھے اور داروغہءجنّت کو حکم ہوا کہ فردوس اعلیٰ کو کھول دے اور سارے جہاں کو خوشبوﺅں سے معطر کر دے۔ اب آپ ہی سوچیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بھی آمد مصطفیٰ کی خوشی منائی تو ہم، جو آپ کے امتی ہیں، کیوں نہ اپنے پیارے نبی کے میلاد کی خوشی منائیں۔ ہم جب جشن مناتے ہیں تو اپنی بساط کے مطابق روشنیاں کرتے ہیں قمقمے جلاتے ہیں’ اپنے گھروں’ محلوں دکانوں اور بازاروں کو ان روشن قمقموں اور چراغوں سے مزین و منور کرتے ہیں لیکن وہ خالق کائنات جس کے قبضے میں مشرق و مغرب ہے اس نے جب اپنے محبوب کے میلاد پر خوشےاں منانے کا حکم دےاچراغاں کروں تو نہ صرف مشرق و مغرب تک کائنات کو منور کر دیا بلکہ آسمانی کائنات کو بھی اس خوشی میں شامل کرتے ہوئے ستاروں کو قمقمے بنا کر زمین کے قریب کر دیا اور جس پیارے نبی کے وسیلے پر ہمیں یہ دنیا’ یہ جان’ یہ جہاں اور تمام نعمتیں ملیں اس پیارے نبی کی آمد پر ہم خوشی کیوں نہ منائیں۔

    ماہ مُنّور کا چاند نظر آتے ہی سب مسلمان اپنے پیارے نبی کی ولادت کا جشن عقیدت واحترام سے منانے کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں۔ بچے’ بوڑھے’ مرد’ عورتیں سبھی اس ماہِ مبارک کی بارھویں تاریخ کو میلاد شریف کی مجالس کا اہتمام کرتے ہیں۔ پاکستان کے تمام شہر’ گلے کوچے ‘ محلے’ مساجد اور تاریخی عمارات کو قمقموں سے سجایا جاتا ہے اور چراغاں کیا جاتا ہے۔

    مسلمان کے ایمان کا یہ اہم رکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آپ کی محبت میں بنائی۔ ویسے تو سارے مہینے اور یہ کائنات آپ کے نعلین پاک کے صدقے چمک دمک رہی ہے۔ ماہ نور ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں کے جذبے دین اور آپ کی محبت کے چراغ جگہ روشن نظر آتے ہیں ۔

    میلاد والے دن خوشبو لگانا:

    یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادتِ پاک کا واقعہ بیان کرنا، حمل شریف کے واقعات، نورِ محمدی کی کرامات، نسب نامہ یا شیر خوارگی اور حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنھا کے یہاں پرورش حاصل کرنے کے واقعات بیان کرنا اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نعت پاک نظم یا نثر میں پڑھنا، سب اس کے تابع ہیں۔

    اب واقعہ ولادت خواہ تنہائی میں پڑھو یا مجلس جمع کر کے، نظم میں پڑھو یا نثر میں، کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر جس طرح بھی ہو، اس کو میلاد شریف کہا جائے گا۔

     محفلِ میلاد شریف کا شرعی حکم محفلِ میلاد شریف منعقد کرنا اور ولادت پاک کی خوشی منانا، اس کے ذکر کے موقع پر خوشبو لگانا، گلاب چھڑکنا، شیرینی تقسیم کرنا، غرضیکہ خوشی کا اظہار جس بھی جائز طریقہ سے ہو وہ مستحب اور بہت ہی باعثِ برکت اور رحمتِ الہی کے نزول کا سبب ہے۔

     حوالہ:

    (جاءَ الحق، حصہ اول، صفحہ#230

    ربیع الاول میں کثرت سے درود پاک: ربیع الاول شریف کے مبارک مہینہ میں درود شریف کثرت سے پڑھنا چاہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جو کوئی اس ماہ کی تمام تاریخوں میں یہ درود پاک ۔ "اللھم صلی علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید ایک ہزار ایک سو پچیس (1125) مرتبہ نماز عشا کے بعد پڑھے گا تو اس کو خواب میں امام الانبیاءو المرسلین کی زیارت ہو گی اگر کوئی بندہ مومن ماہ ربیع الاول میں اس درود شریف الصلوٰة والسلام علیک یا رسول اللّٰہ کو سوا لاکھ مرتبہ پڑھے تو وہ یقینا حضور پر نور شافع یوم النشور کی زیارت سے مشرف ہو گا۔ کتاب الاوراد میں لکھا ہے کہ جب ربیع الاول شریف کا مبارک چاند نظر آئے تو اس رات کو سولہ رکعت نفل پڑھے جائیں۔ دو دو رکعت کرکے اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد قل ھو اللّٰہ احد تین تین مرتبہ پڑھے جب سولہ رکعت پڑھ لے تو یہ درود شریف ایک ہزار مرتبہ پڑھے۔ اللّٰھم صلی علی محمدن النبی الامی رحمة اللّٰہ و برکاتہ اور بارہ روز تک یہ پڑھتا رہے تو سید المرسلین محبوب رب العالمین حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ کی زیارت خواب میں ہو گی۔ مگر عشاءکی نماز کے بعد اس کو پڑھا کرے اور پھر باوضو سویا کرے۔ (فضائل الشہور)

    اولیائے الہی نے حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی ولادت باسعادت کو ماہ ربیع الاول کا ایک اہم ترین واقعہ قرار دیتے ہیں اور اسی مبارک واقعہ کی وجہ سے ہی اس مہینے کو بہار کا نام دیتے ہیں۔

    بنی نوع انسان کو دین اسلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی جتنی برکات اور مہربانیاں حاصل ہوئی ہیں وہ کامل ترین انسان یعنی حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے مقدس وجود کی برکت کی وجہ سے ہیں کہ جو اس مہینے میں اس دنیا میں آئے تھے۔

    اس مہینےکی شرافت دیگر تمام مہینوں سے زیادہ ہے اور یہ مہینہ حقیقت میں دیگر مہینوں کی بہار ہے کیونکہ نبی اکرم (ص) کے نورانی وجود کی وجہ سے ہی تمام شرافتیں، رحمتیں، دنیاوی اور اخروی عنایات اور نبوت، امامت ، قرآن اور شریعت نازل کی گئی ہے۔

    میں اپنی بات کا اختتام اقبال کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا ۔

    کی محمد ﷺ سے وفا تونے تو ہَم تیرے ہیں

    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں 

    Twitter Handle: @AliHamz21

  • ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ایلیٹ کلاس سے نفرت کیوں ہے؟

    خدا جانے کیوں ایک عرصہ ہوا اس ایلیٹ کلاس سے ایک قسم کی گھن آنے لگی ہے۔ ان لوگوں میں کوئی انسانی اقدار، کوئی شرم و حیا نام کی شے نہیں ہوتی۔ مجھے کوئی اخلاقی بھاشن نہیں دینا اور نہ ہی راضی بہ رضا کے معاملات میں دخل در معقولات کا قائل ہوں۔ مگر ایک حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ کچھ معاملات پوشیدہ کرنے کے ہوتے ہیں۔ اور ان معاملات پر چاہے معاشرہ کتنا ہی مدر پدر آزاد کیوں نہ ہو، ملک مزہبی ہو کہ سیکولر، معاشرتی اور سماجی قدغنیں لگی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین سے متعلق وہ اسکینڈلز ہیں جو گاہے گاہے سامنے آتے رہے اور ان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا گئے۔ امریکی معاشرہ بھی کچھ چیزوں کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ مشرقی روایات کے باب میں کیا عرض کرنا۔

    بھائیو اور بہنو، جو کرنا ہے کرو، کون روکے ہے۔ (ویسے کون نہیں کرتا؟ کچھ ویڈیو میں کرتے ہیں۔ کچھ ویڈیو دیکھ کر کرتے ہیں۔) مگر اس دیدہ دلیری سے، اس بے احتیاطی اور بے باکی سے؟ چور تب تک چور ہے اور باکمال ہے جب تک چوری پکڑی نہیں جاتی۔ چور ہر ممکن احتیاط کرتا ہے کیوں کہ اس کو پتا ہے کہ وہ ایک جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ایک اوسط درجے کا آدمی یہ دوسرے "معاملات” بھی اسی چور کی طرح چوری چھپے کرتا ہے مگر ایلیٹ کلاس اپنی ڈھٹائی، بے شرمی اور بے باکی کی رو میں ایسی بہہ جاتی ہے کہ نہ معاشرتی حساسیت کی پرواہ، نہ مزہبی قدغنوں کا ادراک۔ نہ انسانی اقدار کا پاس نہ اپنی ساکھ کی پرواہ۔ نہ دوسرے کے خاندان کو خاطر میں لاتے ہیں نہ اپنے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طبقے میں طلاق کا رجحان سب سے زیادہ ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     زبیر عمر کی ویڈیو ایک تازہ واردات سہی مگر یہ نہ آخری ہے اور نہ پہلی۔  ویڈیوز کی فہرست کافی طویل ہے۔

    مجسمہ حسن و خوبی، ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی ایک بچی کی ماں سے کس لب و لہجے میں بات کر رہی ہے؟ سن کر ایک ابکائی سی آتی ہے۔
    کرنل کی ڈراؤنی بیوی کو کس نے نہیں دیکھا ہوگا۔
    جسٹس ارشد ملک کی وڈیو آئی جو واشروم میں جا کر دیکھنے کی چیز ہے۔
    عمران خان کے بارے میں ریحام خان کی کتاب میں انکشافات دیکھ لیں۔ اگر کسی نے تہمینہ درانی کی My Feudal Lord پڑھی ہے تو اس کو اس کلاس کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
      چیئرمین نیب ایک کال میں کس چاؤ سے سر تا پا ایک خاتوں کو چوم رہا ہے۔ اپنا طلال چودھری جو حال ہی میں تنظیم سازی کے لیے گیا اور بازو تڑوا آیا۔ نور مقدم اور اس کا قاتل دونوں ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ چوہان ہوئے، مفتی ہوئے کہ شیخ جی ہوئے، سب حریم شاہ نامی حسینہ کی گھنیری زلفوں کے اسیر ہوئے۔ ملک ریاض کی بیٹی ایک ویڈیو میں دو لڑکیوں کو اپنے شوہر کے ساتھ اپنے ہی بنگلے میں رنگے ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ کہاں تک سنو گے۔ کہاں تک سناؤں۔

    یاد آیا۔ عرصہ ہوا ایک کلپ نظر سے گزری تھی۔ امریکہ میں بسا ایک شخص دہائیاں دے رہا تھا کہ اگر اس کا تعلق مڈل کلاس اور غریب طبقے سے ہوتا تو وہ امریکہ میں کبھی نہ آ بستا۔ آگے چل کر وہ پاکستان کے اس طبقے میں بے غیرتیوں اور بے شرمیوں کی جو طویل لسٹ پیش کر رہا ہے، وہ سننے سے تعلق رکھتی ہیں، لکھنے کی نہیں۔
    تحریر : جواد خان یوسفزئی
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب   تحریر: احسان الحق

    وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب تحریر: احسان الحق

    گزشتہ رات وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے خطاب کیا. یہ خطاب ورچوئل یا فاصلاتی خطاب تھا. وزیراعظم نے ایک مسلمان عالمی رہنما کے طور پر خطاب کرتے ہوئے عالمی اور خطے کے مسائل پر مختصر مگر جامع خطاب کیا. عالمی مسائل بشمول عالمی وبا، کووڈ۱۹ ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی، منی لانڈرنگ، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی، مسئلہ کشمیر، اسلامو فوبیا، ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم، مسئلہ افغانستان اور طالبان حکومت سازی جیسے اہم ترین امور پر بات کرتے ہوئے خود کو عالمی رہنما ثابت کیا. وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز اقوام متحدہ کے صدر کو 76ویں اجلاس کی صدارت سنبھالنے پر مبارک دینے سے کیا.

    وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنما کے تقاضوں کے عین مطابق سب سے پہلے عالمی مسائل پر بات کی. اس وقت اقوام عالم کو سب سے بڑا مسئلہ عالمی وبا کووڈ۱۹ کا درپیش ہے. مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری دینا کو کووڈ ۱۹ کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کا بھی سامنا ہے. کووڈ ۱۹ کی ویکسین کی یکساں فراہمی پر بات کی کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ان ممالک کی فنانسنگ کی جائے تا کہ اس موذی مرض کا مقابلہ کیا جائے. ماحولیاتی آلودگی میں مضر گیسوں کے اخراج کے حوالے سے پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے مگر پھر بھی ہم سب سے زیادہ متاثر دس ممالک میں سے ایک ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا. اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں کروڑوں نئے درخت لگائے جا چکے ہیں اور کئی نئے جنگل بھی لگائے گئے ہیں. پاکستان نئی آماج گاہوں کو تیار کر رہا ہے اور پہلے سے موجود قدرتی آماجگاہوں کو محفوظ بنا رہا ہے. آلودگی سے بچنے کے لئے جدید اور قابل تجدید توانائی کے طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے.

    وزیراعظم نے کووڈ۱۹ کے حوالے سے  پاکستان کی کاوشیں دنیا کے سامنے رکھیں. اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے پاکستان نے عالمی وبا پر قابو پانے میں کامیاب رہا. ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کروایا جس کو دنیا نے نہ صرف سراہا بلکہ اپنایا بھی. وسائل اور بجٹ کی عدم دستیابی کے باوجود پاکستان نے انتہائی خوبصورتی اور چابکدستی سے اس موذی مرض پر قابو پایا اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور قوم کو بڑے نقصان سے بچا لیا. ہم کووڈ ۱۹ کی یکساں ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں اور ہر شہری کو ویکسین لگانے پر بھی پابند کر رہے ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی سے نپٹنے کے لئے بلین تری سونامی کا بھی ذکر کیا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان میں 1 ارب نئے درخت لگائے جا رہے ہیں. پچھلے تین سالوں میں کروڑوں نئے درختوں اور جنگلات کو اگانے سے مثبت نتائج ملنا شروع ہو چکے ہیں.

     

    مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے بھارتی مظالم اور ناجائز قبضے پر کھلے الفاظ اور شدید انداز میں مذمت کی. بھارتی مکرہ چہرے کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے رکھا. واضح انداز اور کھلے الفاظ میں فاشسٹ آر ایس ایس اور ہندوتوا کے نظریات پر بات کی کہ کس طرح پورے ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اور بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے. شہریت کے امتیازی قانون کے ذریعے آر ایس ایس اور ہندوتوا ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں. مقبوضہ جموں وکشمیر میں اکثریتی مسلمان آبادی کو ہندو آبادی سے تبدیل کیا جا رہا ہے. بھارت کی ذمہ داری ہے کہ حالات کو سازگار بناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ پرامن مزاکرات کرے اور 5 اگست 2019 والے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے. بھارت کی طرف سے فوجی تیاری، اسلحے کی دوڑ میں شمولیت، جدید اور مہلک ہتھیاروں کی خریداری پر حالات مزید خرابی کی طرف جا سکتے ہیں. ان حالات اور مستقبل میں ممکنہ جنگ کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا.

    وزیراعظم نے سید علی گیلانی کو خراج عقیدت بھی پیش کیا. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی بربریت اور دہشتگردی کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ سید علی گیلانی کی میت کو چھین لیا گیا. سید علی گیلانی کی میت پر دھاوا بول کر قبضہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بھارتی دہشت گردی سے سید علی گیلانی کے اہل خانہ مذہبی اور اسلامی طریقہ سے تدفین کرنے سے قاصر رہے. میں جنرل اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ بھارت سے مطالبہ کرے تا کہ سید علی گیلانی کے ورثا اپنی خواہش اور اسلامی طریقے سے باقیات کو اسلامی قبرستان میں دفن کر سکیں.

    وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے عالمی سطح پر منی لانڈرنگ پر بھی تفصیل سے بات کی. کہنا تھا کہ فیکٹ آئی سے پتہ چلا کہ 7000 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے محفوظ عالمی پناہ گاہوں میں چھپائے گئے ہیں. غریب اور ترقی پذیر ممالک سے چوری کر کے سالانہ اربوں ڈالر غیرقانونی طریقے سے محفوظ مالیاتی جگہوں منتقل کئے جاتے ہیں. ترقی پزیر اور غریب ممالک غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں. ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے. ان ممالک کا سرمایہ ترقی یافتہ ممالک میں جمع ہو رہا ہے اور وہ امیر سے امیر تر ملک بنتے جارہے ہیں. غریب ممالک سے لوگ روزگار کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. امیر ممالک لوٹی ہوئی غریب ممالک کی دولت اور پیسہ واپس نہیں کرتے کیوں ایسی کوئی مجبوری یا کشش نہیں ہوتی کہ جس بنا پر لوٹا ہوا پیسہ غریب ملکوں کی غریب عوام کو واپس کیا جائے. وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ منی لانڈرنگ کو روکا جائے. ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب روزگار کے لئے مہاجرین اور ملازمت کے لئے جانے والے لوگوں کو روکنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک کو دیواریں کھڑی کرنی پڑیں گی.

    وزیراعظم نے کہا 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا. اس جنگ میں ساتھ دینے کے بدلے میں پاکستان پر بھارت کے ذریعے دہشت گردی مسلط کی گئی. افغانستان کے راستے سے پاکستان پر دہشت گردی کے حملے ہوتے رہے اور بھارت افغانستان کی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرتا رہا. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانیوں نے 80 ہزار جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا. 35 لاکھ افراد بے گھر ہو کر دوسرے علاقوں کا سفر کرنے پر مجبور ہوئے. اتنی بڑی جانی اور معاشی قربانیوں کے بدلے ہماری تعریف کے بجائے امریکہ اور یورپ میں ہمارے خلاف باتیں ہوتی رہیں.

    میں پہلے دن سے ہی کہتا رہا کہ افغانستان کا حل فوجی آپریشن میں بالکل نہیں، میں امریکہ آیا یہاں سینیٹر جان ریڈ، بائیڈن اور کیری سے ملا اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی مگر میری بات کوئی بھی ماننے کے لئے تیار نہیں تھا. 20 سال بعد ہماری بات درست ثابت ہوئی اور امریکہ کو مزاکرات کے ذریعے افغانستان چھوڑنا پڑا. عمران خان نے کہا اس وقت کسی نے یہ بات نہ سمجھی اور بد قسمتی سے فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی. آج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو ایک تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ کیوں 3 لاکھ افراد پر مشتمل سازو سامان سے لیس افغان فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے. یاد رکھیں کہ افغان قوم دنیا کی بہادر ترین قوموں میں سے ایک ہے. جب اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم ہوگا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں اور کیسے آئے ہیں؟

    افغانستان کی صورتحال اور طالبان کی حکومت اور حکومت سازی پر بات کی اور دنیا پر واضح کیا کہ اس وقت طالبان اور افغانستان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا. ہمیں افغان طالبان اور عوام کو ان کے حال پر نہیں چھوڑنا چاہئے. دوحہ مزاکرات میں یہی شرائط تھیں جن پر افغان طالبان عمل پیرا ہیں. امریکہ کی طرف سے عام معافی کا اعلان، مخلوط حکومت، افغان سرزمین کو کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرنے کی اجازت اور انسانی حقوق کا احترام کرنے جیسی شرائط تھیں، افغان ان شرائط پر عمل پیرا ہیں. میں اقوام عالم کو کہتا ہوں کہ اس وقت ہم سب کو طالبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی مالی اور غذائی امداد کرنی چاہئے. اگر ان کی مدد نہ کی گئی تو اگلے سال تک غذائی قلت 90 فیصد تک بڑھ جائے گی. آخر میں میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنا وقت ضائع کئے بغیر افغانستان کے متعلق عملی طور کردار ادا کرنا ہوگا، آپ سب کا بہت شکریہ

    @mian_ihsaan

  • افغانستان جنگ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر کمائے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    افغانستان جنگ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر کمائے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کی افغانستان کے ساتھ جنگ کے حوالے سے آج تک ایک بات تو بہت کی گئی ہے کہ اس جنگ میں امریکہ نے کئی ارب ڈالرز کا نقصان اٹھایا لیکن ایک بات جو آپ نے کبھی نہیں سنی ہو گی وہ یہ ہے کہ امریکہ نے اس جنگ سے کتنے ارب ڈالرز کمائے۔جی ہاں۔۔۔ اس جنگ میں امریکی حکومت کا ہونے والا نقصان ایک طرف ہے لیکن میں آج بتاوں گی کہ وہ کونسی امریکی کمپنیاں ہیں جنہوں نے اس جنگ میں اربوں ڈالرز کمائے۔ یعنی امریکہ کو اس جنگ میں اخلاقی ناکامی تو ضرور ہوئی لیکن مالی طور پر بہت فائدہ بھی ہوا۔ اور اب جب یہ جنگ ختم ہو چکی ہے امریکہ افغانستان سے واپس جا چکا ہے تو ان کمپنیز کو حاصل ہونے والا اربوں ڈالرز کا منافع بھی بند ہوگیا ہے جس کے بعد ایک مخصوص حلقہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک نئی جنگ میں گھسیٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ جنگ کس ملک کے ساتھ ہو سکتی ہے؟اور اس کے اثرات کس ریجن پر سب سے زیادہ اثرات ہوں گے؟ اس سب پر بات کریں گے۔Brown university کےCost of war project
    کے مطابق2001سے2021 کے درمیان امریکہ نے جتنے پیسے اس جنگ پر خرچ کیے اس میں سے آدھی سے زیادہ رقم کی ادائیگی افغانستان میں امریکی محکمہ دفاع کے مختلف آپریشنز کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کی گئی۔ اور یہ ساری ادائیگیاں امریکہ کی چند نجی کمپنیز کو کی گئیں کیونکہ اس جنگ میں امریکی افواج کے اپنے فوجی اور وسائل بہت کم استعمال کئے گئے تھے۔ زیادہ تر وسائل دفاعی Defence contractorsنے فراہم کیے تھے۔ جن کے لئے ان کو payکیا جاتا تھا۔اب اگر بات کی جائے اخراجات کی تو امریکی حکومت کی اپنی ویب سائٹ USAspending.comکے مطابق 2008سے 2021کے دوران تین امریکی کمپنیوںDencorp FluorKellogg Brown & Rootکو امریکی حکومتوں نے سب سے بڑے ٹھیکے دیے۔امریکی کمپنیDencorp سے افغانستان میں مختلف سروسز حاصل کی جاتیں تھیں جن میں ملک کی نیشنل پولیس اور انسداد منشیات کی فورسز کو سامان کی فراہمی اور تربیت شامل تھی۔ اس کے علاوہ یہ کمپنی سابق صدر حامد کرزئی کی حفاظت کے لیے باڈی گارڈز کی ٹیم بھی دیتی تھی۔چند سال پہلے اس کمپنی کو ایک دوسری امریکی کمپنیAmentumنے خرید لیا تھا۔ اس طرح ان دونوں کمپنیوں کو افغانستان میں سروسزکے لئے 14.4 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔Texasمیں قائم کمپنیFluor فلور کو جنوبی افغانستان میں امریکی فوجی اڈے تعمیر کرنے کے ٹھیکے دیے گئے تھےاس کمپنی کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق یہ افغانستان میں 56 اڈے آپریٹ کرتے تھے۔ ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو سہولیات فراہم کرتے تھے اور ایک دن میں ایک لاکھ 91 ہزار سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھے۔ اس کام کے لئے اس کمپنی کو افغانستان میں 13.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔ اس کے بعد Kellogg Brown & RootیعنیKBRکوانجینیئرنگ اور اجسٹکس کا کام دیا جاتا تھا۔ انھیں رن وے اور طیاروں کی سروس، ہوائی اڈوں کی Management and aranotical communicationکے لئے3.6 بلین ڈالرز کے ٹھیکے ملے۔ان کے علاوہ جس کمپنی کو سب سے بڑے ٹھیکے ملے وہ Raytheonتھی۔ اس کا شمار امریکہ کی بڑی فضائی اور دفاعی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اسے افغانستان میں سروسز کے لئے 2.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔

    اسے حال ہی میں افغان ایئرفورس کی ترتیب کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی جس کے لیے 2020 میں اس نے 145 ملین ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔Virginiaمیں قائم سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی کمپنیAegis LLCوہ پانچویں بڑی کمپنی ہے جس نے افغانستان میں سب سے زیادہ پیسے کمائے۔اسے امریکی حکومت سے 1.2 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے تھے۔ اسے کابل میں امریکی سفارتخانے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔یہ اعداد و شمار دوہزارآٹھ سے دوہزار بیس تک کے ہیں۔ جبکہ اگر دو ہزار ایک سے ٹھیکوں کی مالیت کی بات جائے توCost of war projectکی رپورٹ کے مطابق2001سے 2020تک ان پانچ کمپنیوں کو پینٹاگون سے دو عشاریہ ایک ٹریلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔اور یہ رقم صرف وہ ہے جو انہوں نے براہ راست ٹھیکوں کی مد میں حاصل کی اس کے علاوہ کیا کیا فوائد حاصل کئے گئے ان کی تفصیلات صرف ان کمپنیز کو ہی معلوم ہیں اور کیونکہ یہ تمام پرائیوٹ کمپنیاں ہیں تو یہ اپنی معلومات پبلک بھی نہیں کرتیں۔اور ان پانچ کمپنیوں کے علاوہ بھی بہت سی دفاعی کمپنیاں ایسی ہیں جن کا اسلحہ،Navigation and communication equipmentفوجی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ریڈار، نائٹ ویژن سسٹم،Light armoured vehiclesبھی افغانستان میں استعمال ہوئیں جس سے انہوں نے بھی اس جنگ میں خوب مال بنایا مگر کیونکہ اس دفاعی سامان کی پروڈکشن کو براہ راست اس جنگ سے نہیں جوڑا جاتا تو ان کمپنیز کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔اس کے علاوہ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کے دوران ان کمپنیوں کو یہ بھی چھوٹ دی گئی تھی کہ وہ مختلف سامان اور سروسز کی قیمتوں کا تعین خود کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے کئی کنٹریکٹ تو بغیر مقابلے کے دے دیے گئے تھے۔ اور کمپنیوں نے اپنی من مانی قیمتیں حاصل کیں تھیں۔اور بعض اوقات جب حالات زیادہ خراب ہوتے تھے تو یہ کمپنیاں مشکلات کو وجہ بنا کر قیمتیں بڑھا بھی دیتیں تھیں۔ اس کے علاوہ ان ٹھیکوں میں Interest rateبہت زیادہ ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ایک بلڈنگ کو پینٹ کرنے کے لئے 20گنا زیادہ رقم وصول کی گئی جبکہ کچھ کیسسز میں ایسا بھی ہوا کہ عمارت کو پینٹ نہیں کیا گیا اور پیسے بھی لے لئے گئے۔

    پھر ایسا بھی ہوتا تھا کہ یہ کمپنیاں افغانستان کی لوکل کمپنیوں کو ٹھیکہ دے کر انتہائی سستے داموں میں کام کروا لیتیں تھیں لیکن خود امریکی حکومت کو کئی گنا زیادہ پیسے چارج کرتیں تھیں۔ اس طرح امریکہ نے اس جنگ میں جو کچھ خرچ کیا اس کا ایک بڑا حصہ واپس امریکہ ہی جاتا رہا اور وہاں کی کمپنیاں مضبوط ہوئیں کاروبار بڑھا اور خوب منافع کمایا گیا۔اور اب جب امریکہ یہ جنگ ختم کرکے واپس چلا گیا ہے تو یہ کمپنیاں ایک مخصوص طریقے سے لابنگ کروا رہی ہیں کہ کوئی نیا محاذ شروع کیا جا سکے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ دوبارہ کوئی جنگ شروع ہوتی ہے تواب تو ان کمپنیوں کے پاس پہلے سے زیادہ تجربہ ہے جس کی بنیاد پر پھرانہی کمپنیوں کو ٹھیکے دئیے جائیں گے اور اس طرح یہ منافع خوری چلتی رہے گی۔اب سوال یہ آتا ہے کہ امریکہ کا اگلا نشانہ کونسا ملک ہو سکتا ہے؟تو اس کے لئے میں آپ کو بتاوں کہ اب کی بار زیادہ چانسز یہ ہیں کہ امریکہ کوئی چھوٹی لڑائی نہیں کرے گا بلکہDirectہی دنیا میں ابھرنے والی نئی سپر پاور چین کے ساتھ جنگ چھیڑی جائے گی اور یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہو گی جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کافی عرصے سے پیشن گوئیاں بھی کر رہے ہیں۔لیکن کیونکہ چین کے ساتھ ٹکر لینا کوئی آسان بات نہیں ہے اس لئے امریکہ نے اپنے ساتھ اپنے باقی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔حال ہی میں برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نےAsia Pacific میں جس سیکیورٹی معاہدےAukusکا اعلان کیا ہے اس کا مقصد دراصل اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان 36ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ایک غیر ایٹمی ملک کو ایٹمی صلاحیت دینے کے بڑے فیصلے پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے حالانکہ ماضی میں امریکہ نے ہمیشہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے الزامات لگا کر لیبیا، عراق، شمالی کوریا اور ایران پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا رہا ہے جس کا خمیازہ یہ ممالک آج تک بھگت رہے ہیں حتی کہCovid 19کے دوران ایران پر انہی الزامات کی وجہ سے ادویات تک کی درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان اور شمالی کوریا پر بھی اسی معاملے میں بہت سی پابندیاں لگائی گئیں حال ہی میں جب شمالی کوریا نے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تو اس پر بھی امریکہ نے سخت ردعمل دیا تھا مگر خود نئے سیکورٹی معاہدوں کے نام پر آسٹریلیا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ فرانس سے ڈیل کینسل کرنے کے بعد جس طرح یہ تینوں ممالک اس معاہدے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور جس طرح کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کو میدان جنگ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور یہ بس اقدامات چین کو اشتعال دلانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔اس معاہدے کے علاوہ بھی کئی ممالک جن میں جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام اور انڈیا شامل ہیں ان کے ساتھ بھی امریکہ سرمایہ کاری کرکے کئی معاہدے کر رہا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی کامیابی کے لئے اس جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے اس تمام صورتحال میں چین بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیےAsia Pacificتجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے وقت میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی بلاک جن میں روس، پاکستان، ایران، ازبکستان تاجکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں ان کے درمیان آنے والے دنوں میں نئے سیکیورٹی معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا اور کئی نئے ممالک بھی اس ایٹمی دوڑ میں شامل ہوں گے۔ بہر حال صورتحال جو بھی ہو آنے والے دن اس خطے کے لئے بہت اہم ہیں۔ اب امریکہ اور چین کے درمیان ٹاکرا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس طرح کے حالات میں اخلاقی ناکامی تو ہو سکتی ہے لیکن مالی طور پر فائدے ہی فائدے ہوتے ہیں جس کے لئے امریکی کمپنیاں بہت بے چین ہیں۔

  • تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اورمذہبی رہنما رواداری،پیارومحبت اور باہمی تعاون کو مزید تقویت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر

    تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اورمذہبی رہنما رواداری،پیارومحبت اور باہمی تعاون کو مزید تقویت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈپٹی کمشنر

    فیصل آباد (عثمان صادق) ڈپٹی کمشنر علی شہزادنے ڈی سی آفس میں پاکستان علماء کونسل واتحادی جماعتوں کے وفد سے ملاقات کی۔ مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری پاکستان علماء کونسل وممبر اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب علامہ طاہر الحسن نے وفد کی قیادت کی۔اجلاس کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر الحسن نے کہاکہ پاکستان علماء کونسل ہمیشہ پاکستان کی سلامتی اور پائیدار امن کیلئے مصروف عمل ہے اورپیار،محبت،بھائی چارہ اور امن کا درس دیتا ہے اور تمام مکاتب فکر نے ہمیشہ فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے اہم کردار ادا کیا جس کا تسلسل آئندہ بھی جاری رہے گا۔وفد میں مولانا رفیق جامی،مولانا عبیداللہ گورمانی، مولانا حبیب الرحمن عابد،میاں ارشاد مجاہد، مولانا امین الحق،مولانا اظہار الحق، صاحبزادہ حمزہ طاہر الحسن،مولانا غلام اللہ خان،مولانا طاہر رضوی، سید حسنین شیرازی، وقار الحسن جعفری،مولانا عمر وقاص بیگ ودیگر علماء کرام موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے مثبت رویوں اورمخلصانہ کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ چہلم محرم الحرام کے موقع پر بھی اتحاد ویگانگت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا وقت کا شدید ترین تقاضا ہے لہذا تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اورمذہبی رہنما رواداری،پیارومحبت اور باہمی تعاون کی فضاء کو مزید تقویت دینے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ کسی شرپسند یا تخریب کارکومذہبی کشیدگی پھیلانے کاموقع نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام معاشرے کا ممتاز اور اہم ترین طبقہ ہیں جن کی رہنمائی سے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے لہذا وہ بھائی چارے،صبروتحمل اوربرداشت کی ترغیب دینے کا درس جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ چہلم محرم الحرام کے موقع پرضلع بھر میں سیکورٹی کے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں تاہم انہیں کامیاب بنانے میں تمام مکاتب فکر کے علماء کابھرپور تعاون ناگزیر ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ترجیح ہے اس ضمن میں علماء کرام کے تعاون اور تجاویزکا خیر مقدم کریں گے۔انہوں نے شہریوں کو کورونا سے بچاؤ کے لئے ویکسین لگوانے اور احتیاطی تدابیر کا پیغام عام کرنے کی بھی اپیل کی اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔آخر میں امن وامان کے قیام کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔