Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین  فوسل دریافت

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

    ماہرین نے مراکش سے ڈائنو سار کی نئی نسل کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی :نیچرل ہسٹری میوزیم کے محققین نے مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں عجیب فوسل پایا تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فوسل بکتر بند سپائک ڈائنوسار کی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے یہ 168 ملین سال پرانا ایک غیر معمولی قدیم ترین اینکلوسار نمونہ ہے۔

    یہ دلچسپ دریافت مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں اسی مقام پر کی گئی جہاں لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم) کے محققین نے پہلے پایا جانے والا قدیم ترین سٹیگوسور دریافت کیاتھا۔

    این ایچ ایم کی ایک محقق نے اسے نئی نسل قرار دیتے ہوئے اس کا نام ‘سپیکومیلس افر’ رکھا ہے ، جس کا مطلب ہے سپائکس کا کالر اور افریقہ-

    ماہرین کے مطابق جس چیز نے اسے منفرد بنایا وہ فوسل میں پسلیوں کی ہڈیوں میں ملنے والی سپائکس کا ثبوت ہیں جو اینکلوسار کے لیے غیر معمولی ہے کیونکہ یہ عام طور پر جلد کے ٹشو سے جڑا ہوتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اینکلوسار بکتر بند ڈا ئنوسار کا ایک متنوع گروہ تھا جو 145 سے 66 ملین سال پہلے کے پورے دور میں موجود تھا تاہم ، اس سے پہلے ان کے بارے میں بہت کم شواہد موجود ہیں نئے ملنے والے فوسل کو اس قسم کے ڈائنو سار کے فوسل کی پہلی مثال کہا جاسکتا ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ پہلے ہم نے سوچا کہ نمونہ ایک سٹیگوسار کا حصہ ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے انہیں اسی مقام پر پایا گیا تھا۔ لیکن قریب سے معائنہ کرنے پر ہم نے محسوس کیا کہ جیواشم کسی بھی پہلےسے موجود نسل کے برعکس تھا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

    نمونہ اتنا غیر معمولی تھا کہ پہلے محققین نے سوچا کہ کیا یہ جعلی ہو سکتا ہے ، لیکن سی ٹی اسکینوں کی ایک سیریز نے تصدیق کی کہ یہ ‘حقیقی فوسل’ ہے۔

  • پاکستانی کرکٹرز کے اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے        آسٹریلوی کمنٹیٹر

    پاکستانی کرکٹرز کے اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے آسٹریلوی کمنٹیٹر

    آسٹریلوی کمنٹیٹر مائیک ہیزمین نےپاکستان کا دورہ منسوخ کرنے پر انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ دنیا کو بتانا چاہتا ہوں پاکستان کرکٹ کے لیے دیگر ممالک کی طرح محفوظ ہے۔

    باغی ٹی وی: مائیک ہیزمین نے کہا کہ میں اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوں میں پاکستان میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کو انجوائے کر رہا ہوں اگر مجھے سیکیورٹی کا مسئلہ ہوتا تو میں یہاں کبھی نہ آتا دورے کی منسوخی پر روز خبریں سننے کو مل رہی ہیں جس پر دکھ ہو رہا ہے نیوزی لینڈ نے دورہ منسوخ کیا لیکن پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی تھریٹ کی معلومات شیئر نہیں کیں۔

    ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان

    انہوں نے کہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں سے پوچھے بغیر پاکستان کا دورہ منسوخ کیا جو افسوسناک ہے انگلینڈ کے کھلاڑی جنوبی افریقہ پہنچے اور کورونا کا بہانہ کر کے دورہ منسوخ کر دیا۔

    مائیک ہیزمین نے کہا کہ آئی سی سی کو ان معاملات کو دیکھنا چاہیے کیوںکہ انگلینڈ جو بھی کر رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے حال ہی میں جب جنوبی افریقہ نے پاکستان کا دورہ کیا، میں بھی پاکستان میں موجود تھا جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے کہا کہ انہیں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

    آسٹریلین کمنٹیٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرکٹرز ٹینلٹ سے بہت متاثر ہوں پاکستانی کرکٹرز کی بیٹنگ اور باؤلنگ اسٹائل مختلف ہے پاکستانی کرکٹرز کا اسٹائلز دنیا میں کہیں نظر نہیں آتا۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے کرکٹرز دنیا کے دیگر کھلاڑیوں کی نسبت مختلف صلاحیتیں رکھتے ہیں پاکستان میں لوگ بہت پیار کرنے والےہیں۔میں نے پاکستان میں کام کر کے ہمیشہ خوشی محسوس کی

    واضح رہے کہ مائیک ہیز مین اس وقت نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان میں موجود ہیں اور کمنٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں-

    نیوزی لینڈ کھلاڑیوں کو دھمکیاں، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے سابق کپتان مائیکل…

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

  • شاہ عبداللطیف بھٹائی- سندھی شاعر”  تحریر: حسیب احمد

    شاہ عبداللطیف بھٹائی- سندھی شاعر” تحریر: حسیب احمد

    شاہ عبداللطیف بھٹائی (سندھی زبان کے شاعر) برصغیر کے عظیم صوفی شاعر تھے۔

    آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو عام لوگوں۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کی ولادت 1639 عیسوی۔ 1101 ہجری میں سندھ کے موجودہ ضلع مٹیاری کی تعلقہ ہالا میں ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاہ ہالا حویلی میں رہتے تھے۔ اور موصوف کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ہستیوں میں تھا۔

    شاہ صاحب کی پیدائش کے متعلق مشہور ہے کہ سید حبیب شاہ نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں لیکن اولاد سے محروم رہے۔ اپنے اپنی محرومی کا ذکر ایک درویش کامل سے کیا، جن کا اسم گرامی عبد اللطیف بتایا جاتا ہے۔ موصوف نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ آپ کی مرادبر آئے گی۔ میری خواہش ہے آپ اپنے بیٹے کا نام میرے نام پر شاہ عبداللطیف رکھیں۔

    خدا نے چاہا تو وہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے یکتائے روزگار ہوگا۔

    سید حبیب شاہ کی پہلی بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوا، درویش کی خواہش کے مطابق اس کا نام شاہ عبداللطیف رکھا گیا لیکن وہ بچپن میں ہی فوت ہوگیا۔ پھر اس ہی بیوی سے دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام پھر شاہ عبداللطیف رکھا گیا، یہی لڑکا آگے چل کردرویش کی پیش گوئی کے مطابق واقعی یگانہ روزگار ہوا۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی کے آباو اجداد سادات کے ایک اہم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ امیر تیمور کے زمانے میں ہرات کے ایک بزرگ سید میر علی بہت سی خوبیوں کے ملک تھے۔ اور آپ کا شمار اس علاقے کے معزز ترین افراد میں ہوتا ہے تھا۔ 1398 801-2ھ میں جب امیر تیمور ہرات آیا، تو سید صاحب نے اس کی اس کے ساتھیوں کی بڑی خاطر تواضع کی، ساتھ ہی بڑی رقم بطور نظرانہ پیش کی، تیمور اس حسن سلوک سے متاثر ہوا۔ سید صاحب اور ان کے دو بیٹوں کو میر ابوبکر اور حیدر شاہ کو مصاحبین خاص میں شامل کرکے ہندوستان لے کر آیا۔

    یہاں آنے کے بعد میر ابوبکر کو سندھ علاقے سیوہن کا حاکم مقرر کیا، اور سید میر علی اور حیدر شاہ کو اپنے ساتھ رکھا۔ بعد کو سید حیدر شاہ بھی اپنے والد بزرگوار اور تیمور کی اجازت سے گھومتے پھرتے مستقل طور پر سندھ میں اگئے۔ ہالا کے علاقے میں شاہ محمد زمیندار کے مہمان ہوئے۔ شاہ محمد نے آپ کی کچھ اس طرح خدمت کی کہ وقتی راہ درسم پر خلوص محبت میں بدل گئی۔ کچھ دنوں بعد اس نے اپنی لڑکی فاطمہ کی شادی آپ سے کردی، چونکہ آپ کی ماں کا نام بھی فاطمہ تھا۔ اس لیے شادی کے بعد اس نام کو سلطانہ سے بدل دیا گیا۔ سید حبیب شاہ قریب قریب تین تین سال تک ہالا میں رہے پھر اپنے والد کی وفات کی خبر سن کر ھرات ھئے جہاں تین چار تک رہنے کے بعد وفات پاگئے، کہتے ہیں جب سید صاحب ہرات روانہ ہوئے تو آپ کی اہلیہ حاملہ تھیں۔ انہوں نے چلتے چلتے یہ وصیت کی تھی کہ اگر میری عدم موجودگی میں بچہ پیدا ہوا تو لڑکا ہونے کی صورت میں اس کا نام میر علی اور لڑکی ہوئی تو فاطمہ رکھا جائے۔ چنانچہ لڑکا پیدا ہوا۔

    اور وصیت کے مطابق اس کا نام میر علی رکھا گیا۔ میر علی خاندان میں بڑے بڑے صاحب کمال بزرگ پیدا ہوئے، ان بزرگوں میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے علاوہ شاہ عبد الکریم بلڑی والے، سید ہاشم اور سید جلال خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

    آپ نے سندھی شاعری سے لوگوں کی اصلاح کی، شاہ جو رسالو آپ ہی ایک عظیم کوشش ہے۔

    آپ (شاہ عبداللطیف بھٹائی) نے 1752ء میں 63سال کی عمر میں بھٹ شاہ میں اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔

    حسیب احمد 

    @JaanbazHaseeb

  • ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان

    ٹی20 ورلڈکپ2021 : نیوزی لینڈ گرین شرٹس کا سامنا کرنے سے پریشان

    نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ پاکستان منسوخ کرنے پر دنیا بھر سے اٹھتے سوالات اور تنقید سے کیویز پلیئر پریشان ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پہلے ہی میچ میں پاکستان کا سامنا ہوگا کیوی کوچ کہتے ہیں جو ہوا اچھا نہیں ہوا لیکن کھلاڑیوں کو کہا ہے کسی دباؤ میں نہ آئیں۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کوچ گیری اسٹیڈ نے کہا ہے کہ ہمارے دل میں پاکستانی کرکٹ شائقین کیلئے ہمدردی ہے دورہ پاکستان کی منسوخی کا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں تھا۔

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان ختم کرنے کا اعلان

    ٹی20 ورلڈکپ2021 میں نیوزی لینڈ اپنا پہلا میچ ہی پاکستان کےساتھ کھیلے گا گیری اسٹیڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو کہا وہ گرین شرٹس کےخلاف میچ کا زیادہ دباؤ نہ لیں میں کھلاڑیوں کو موت کی دھمکیاں ملنے سے بے خبر تھا۔میرے لیے تبصرہ کرنا واقعی مشکل ہے‘۔

    خیال رہے کہ نیوزی لینڈ ٹیم اپنا پہلا میچ 26 اکتوبر کو پاکستان کےخلاف شارجہ میں کھیلے گی شارجہ کو پاکستان کیلئے دنیا بھر میں ہوم گراونڈ سمجھا جاتا ہے۔

    نیوزی لینڈ کھلاڑیوں کو دھمکیاں، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

    نیوزی لینڈ نے 17 ستمبر کو پاکستان کیخلاف ون ڈے اورٹی20 سیریزسکیورٹی خدشات کو جواز بناکر اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے اگلے دن ٹیم پاکستان سے روانہ ہوگئی تھی نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا نیوزی لینڈ کے دورہ کے پیچھے پاکستان بھارتی سازش کو بے نقاب کرچکا ہے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دونوں ممالک کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے سابق کپتان مائیکل…

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

  • تعلیم نظام  تحریر:افشین

    تعلیم نظام تحریر:افشین

    دور حاضر میں جدید ٹیکنالوجی  کے استعمال کے باعث  تعلیمی نظام میں بہت تبدیلی آئی ہے جیسا کہ اب نیٹ ورک تقریباً ہر جگہ میسر ہے۔ جدید آلات مثال کے طور پہ کمپیوٹر اور موبائل ، لیپ ٹاپ کی بدولت تعلیمی نظام میں جہاں آسانی آئی ہے وہاں کچھ منفی آثرات بھی منعقد ہوئے ہیں۔ نیٹ ورک کی سہولت سے ہم ہر طرح کی معلومات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں ۔ پہلے پہل کتابیں پڑھی جاتی کچھ معلوماتی کتابیں بہت مشکل سے دستیاب ہوتی تھیں ۔اب جیسا کہ ہر طرف کرونا کی وباء عام  ہے اس سے بچاو کے باعث  بچے اور بڑے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یہ ایک طرح کی سہولت ہے پر جس طرح کی تعلیم سکول اور کالج جا کے حاصل کی جاسکتی ہے ویسی گھر بیٹھے ہر شاگرد حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ بچوں کی مختلف ذہنیت ہوتی ہے ۔ کچھ دماغی طور پہ تیز اور کچھ کمزور ہوتے ہیں ۔ اساتذہ کرام کی بات کی جائے تو پہلے اساتذہ کرام بچوں پہ انتہائی محنت کرتے اب کچھ اساتذہ کرام نے بس اس کو پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے انکو بس اپنی تنخواہ سے غرض ہوتی ہے بچے پڑھے نہ پڑھے ۔ سرکاری سکولوں کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہاں اتنی پڑھائی نہیں کروائی جاتی کچھ ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جو حاضری لگا کے گھر واپس آجاتے ہیں اور بچوں کی پڑھائی پہ کوئی توجہ نہیں دی جاتی سال کے اختتام پہ خود ہی پیپر کروا کے پاس کر دیا جاتا ہے ۔ 

    پرائیوٹ سکولوں کے بچوں کی  فیس زیادہ اور اساتذہ کی کم ہے وہاں پڑھائی تو اچھی کروائی جاتی ہے مگر والدین کو صیحح لوٹنے کا کام بھی کیا جاتا ہے ۔اگر چھٹیاں دی جائیں مہینہ یا دو مہینہ اسکی فیس بھی بطور اڈوانس لی جاتی ہے ۔جیسا کہ کرونا کی وجہ سے سکول بند رہے مگر بہت سے سکولوں میں فیس لیتے رہے کم از کم فیس کم کردی جاتی کیونکہ اگر بچے گھر بیٹھے آن لائن کلاسز لگا رہے ہیں تو انٹرنیٹ کا خرچہ بھی تو اٹھا رہے ہیں ۔ تعلیم حاصل کرنا آسان بنایا جائے نہ کہ دشوار ۔گھر بیٹھے اساتذہ کو کمانا آسان لگ رہا ہوگا مگر کچھ سفید پوش لوگوں کا بھی خیال کیا جائے ۔ اتنے خرچے کیسے برداشت کریں ۔ 

    گاوں میں ہر جگہ سکول بن چکے ہیں تعلیم دی جارہی ہے پر بچوں کی کاپیاں خالی ہوتی ہے یا پھر سوال اور  اسکا جواب اور لکھا ہوتا ہے ۔ کچھ اساتذہ مشق کی دہرائی کروا دیتے ہیں اور کہتے ہیں مشق گھر سے خود کر آنا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آپ لوگوں کے پاس بچوں کو کیوں بھیجا جاتا ہے کیونکہ آپ پڑھائیں سب کام لکھوائیں ۔اگر ماں باپ بچوں کو ٹیوشن بھی بھیجتے ہیں تو بھی آپ اپنا کام پورا کروائیں ٹیوشن والوں کا کام جو سمجھ نہ آیا ہو وہ کروانا اور ٹیسٹ یاد کروانا ہے ۔یہ ایک عزت دار پیشہ ہے محنت سے کمائے رزق کو حلال کریں مفت خوری اچھی بات نہیں ۔بہت سے اساتذہ وہ سوالات چھوڑ دیتے ہیں جو انکو بھی نہ آتے ہو۔ بچوں کو کہہ دیا جاتا ہے خود کرلو نہیں آتا تو چھوڑ دو. پہلے کی تعلیم اور اب کی تعلیم میں بہت فرق ہے مگر پہلے اساتذہ اور اب کے کچھ اساتذہ میں بھی بہت فرق ہے ۔گاوں میں تعلیمی نظام پہ توجہ دی جائے ۔سرکاری سکولوں میں بس اساتذہ کی تنخواہیں ہی زیادہ نہ کی جائیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے وہ کروا کیا رہے ۔ یہ تلخ حقیقت ہے پر سچ یہی ہے ۔ پرائیوٹ سکولوں پہ دھیان دیں۔  ماں باپ کو کم لوٹا جائے ۔ سرکاری سکولوں میں پچاس ساٹھ ہزار تنخواہیں ہیں اور بچوں کو لکھنا بھی نہیں آتا ارود بھی اتنی کمزور ہوتی ہے انگلش پڑھنا تو دور کی بات ہے ۔ سمجھ نہیں آتی تنخواہیں اتنی زیادہ کیوں ہیں انکی ؟؟ اتنی تنخواہیں مزدور کی نہیں ہوتی جو سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے ۔ بیشک اساتذہ کرام پڑھانے میں دماغ  لگاتے ہیں پر کچھ یہ کام بھی نہیں کرتے مفت میں بس کھانے پینے کا کاروبار بنا ہوا ہے. جنکی تعلیم بھی کم ہوتی ہے وہ بھی اساتذہ بنے ہوئے ہیں کیا استاد بننا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ ہر کوئی استاد بن رہا ہے ۔ استاد بننا آسان نہیں ہے بہت محنت کی جاتی ہے تب روزی حلال ہوتی ہے پر افسوس معاشرہ سچائی کم سنتا ہے سچائی کی مخالفت زیادہ کرتا ہے ۔

    #افشین 

    @Hu__rt7

  • پاکستانی امن کوششیں اور بین الاقوامی کرکٹ :   تحریرسید محمد مدنی

    پاکستانی امن کوششیں اور بین الاقوامی کرکٹ : تحریرسید محمد مدنی

    یہ بات روزِ اول سے عیاں ہے کے مغرب کی ہمیشہ کوشش رہی کے پاکستان کو کسی نا کسی طرح بدنام کیا جائے ہمارے ہاں کے لوگ چوری ریاست پاکستان کے خلاف نعرے بازی والے بیانئے کو پروموٹ کرنے والے بھی مغرب ہی میں بیٹھے ہیں اور مغرب حکومتیں ایسوں کو سیاسی پناہ بھی دیتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کے وہ ہر غلط کام کرنے والے کو اپنے ہاں پالتی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں پاکستان کے خلاف کام کر سکیں.

    پاکستان نے پوری دنیا میں خطے اور امن کے لئے جو کوششیں کی ہیں دنیا اس کی معترف ہے لیکن اچانک اب کرکٹ جیسے کھیل میں بھی سیاست شروع ہو چکی ہے یہ چیز کوئی نئی نہیں مغرب اور ہمارے ایک پڑوسی ملک کی بھی کوشش رہی کے وہ پاکستان کو کسی نا کسی طرح غیر محفوظ ملک قرار دلوائے اور اس کا مظاہرہ ہم نے کچھ دن پہلے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی طرف سے دیکھا اور ساتھ ہی اب برطانیہ کی کرکٹ ٹیم کا رویہ بھی افسوس ناک ہے.

    پاکستان نے بہترین سیکورٹی انتظامات کروائے اور دنیا نے دیکھا لیکن عین ایک دو دن پہلے نیوزی لینڈ کا اچانک دورہ ملتوی کر کے واپس جانا یہ اس کا واضح ثبوت ہے کے اب کھیل کی آڑ میں نفرت اور سیاست عروج پر ہے. ہمارے ایک پڑوسی ملک میں اس وقت خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں ظاہر ہے وہ اس اقدام پر خوش ہوگا.

    برطانیہ اور نیوزی لینڈ نے جو قدم اٹھایا ہے اس پر دنیائے کرکٹ کے کھلاڑیوں نے حتی کے نیوزی لینڈ کے انکار کرنے پر نیوزی لینڈ کے ہی سابق کرکٹر نے اپنی ہی ملک کی کرکٹ ٹیم اور حکومت پر سوال کھڑا کر دیا ہے کے اس انکار کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی.

    یہ بات واضح ہے کے پاکستان اب اپنے درست ٹریک پر چل پڑا ہے اور امن کے پیغام کو دنیا میں پھیلا رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تعریف بھی ہو رہی ہے اور وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں خارجہ پالیسی سمیت تمام معاملات میں تبدیلی بھی آئی ہے اور یہ کے سب سے پہلے پاکستان کا وقار بلند کیا جائے گا اور بھیک یا منتیں کر کے کام نہیں ہوگا تو ایسے میں مغربی ممالک کی کرکٹ ٹیمز پاکستان کو یوں بدنام کرنے پر تُلی ہیں.

    سب سے بڑی اور عجیب بے تُکی بات یہ ہے کہ برطانوی شاہی خاندان پاکستان وزٹ کرتا ہے اور پاکستان میں موجود برطانوی ہائی کمیشن بھی پاکستان محفوظ ہے کا کہتا ہے مگر وہی برطانوی کرکٹ ٹیم کہتی ہے کے ہمیں سیکورٹی خدشات ہیں کیا یہ واضح نہیں کے ان کا منصوبہ ہی کچھ اور ہے بے شک پاکستان ہر ملک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے مگر بلاوجہ کے الزامات لگانا بھی ہرگز درست نہیں.

    نیوزی لینڈ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کے کسی اور جگہ اگر پاکستان نے کھیلنا ہے تو ہم تیار ہیں جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان نے انکار کرنےفیصلہ کیا اور کہا کے پاکستان ہی میں کرکٹ آکر کھیلیں.

    عین ایک دو یا چار دن پہلے منسوخی کا اعلان کرنا بلکل ایک سازش کا حصہ لگتا ہے.

    پاکستان نے اب تمام وہ معاملے جس میں پاکستانی ریاست یا حکومت منتیں کرتی نظر آئے کو رد کر دیا ہے اور اپنا وقار اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر یہ معذرت خواہانہ رویہ بھی ترک کردیا ہے اس ابتدا ہو چکی ہے ﷲ تعالیٰ سے دعا کے کے پاکستان کے ہر معاملے میں خیر ہو آمین.

    Twitter Id @M1Pak

  • طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

    طلاق: فیشن یا مجبوری تحریر:سید غازی علی زیدی

     معاشرے میں طلاق کی بڑھتی شرح کا ذمہ دار کون؟

     آئےروز یہ بات سننے میں آتی کہ پڑھی لکھی خواتین میں طلاق کا تناسب اسلئے زیادہ کیونکہ ان میں صبر وبرداشت کی کمی ہوتی اور وہ اپنی تعلیم اور ملازمت کی اکڑ میں شوہروں کی محتاج ہو کر رہنا پسند نہیں کرتی ہیں۔ لیکن کیا یہ واقعی حقیقت ہے؟ یا پھر ہمارے پدرشاہی معاشرہ نے ہمیشہ کی طرح مردوں کا جرم چھپانے کیلئے عورت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

     آج کل کے زیادہ تر شوہر بیوی تو خوبصورت، اعلیٰ تعلیم یافتہ، ملازمت پیشہ چاہتے لیکن سلوک نوکرانی سے بھی بدتر کرتے۔ ایسی مثالی بیوی ہوجو سارا دن چپ چاپ سسرال والوں کی خدمت کرے، بچے پالے، شوہر کی مار پیٹ و گالیاں برداشت کرے اور دنیا کے سامنے اپنے شوہر کو آئیڈیل شوہر کے روپ میں بھی پیش کرے۔ اور اگر زیادہ نافرمانی کرے تو تیل چھڑک کر جھلسا دی جائے اور بعد میں چولہا پھٹنے کا بہانہ بنا کر دنیا کے سامنے خودکو بے قصور ثابت کر دیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹی کو یہ کہہ کر رخصت کیا جاتا کہ اب ڈولی نکلی تو جنازہ ہی واپس آئے وگرنہ نہیں۔ اگر بدقسمتی سے شوہر یا سسرال خراب نکل آئے تو پہلے تو بیٹی کو مجبور کیا جاتا کہ وہ سمجھوتہ کرے کبھی بچوں کے نام پر، کبھی والدین کی عزت کے نام پر تو کبھی سماج کےخوف سے۔ لیکن اگر کوئی چارہ نہ باقی رہے اور نوبت طلاق تک آجائے تو والدین ایسے برتاؤ کرتے جیسے مر ہی گئے ہوں۔ بیٹی جو پہلے سے ہی ذہنی دباؤ اور جسمانی تشدد کا شکار ہوتی نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو مجرم سمجھنے لگتی۔ ایسے والدین کو نبی کریم ﷺ کا ارشاد پاک یاد رکھنا چاہیے کہ "میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اس کا نہ ہو۔” (ابن ماجہ) رہی سہی کسر عزیز رشتہ دار ہمسایے پوری کر دیتے کہ یقیناً لڑکی میں کوئی خامی ہوگی جو شوہر نے طلاق دی۔ کبھی چال چلن پر انگلی اٹھائی جاتی تو کبھی تنک مزاجی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا۔ اور آخر میں یہ کہہ کر زخموں پر نمک چھڑکا جاتا کہ ہماری بیٹیاں بھی تو ہیں اسی کو بسنے کا سلیقہ نہ تھا. شوہر کا نکما پن، متشدد مزاج، آوارگی، دوسری عورتوں سے ناجائز تعلقات غرض ہر بات کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا۔ طلاق یافتہ لڑکی کی زندگی تو جو جہنم بنتی سو بنتی لیکن اگر کوئی شوہر کےمظالم سے تنگ آ کر خلع کا فیصلہ کر لے تو اس کو سیدھا سیدھا خودسری و آزاد خیالی کا سرٹیفیکیٹ تھما دیا جاتا۔ خاندانی نام نہاد عزت خاک میں مل جاتی کیونکہ کورٹ کچہری کے چکر لگانے پڑتے اور اگر شوہر کمین فطرت ہو تو بدچلنی بھی ثابت کر دی جاتی۔ ان سب سے بچنے کیلئے آج بھی والدین بیٹی کو ہر قیمت پر اس کے گھر بسانا چاہتے پھر چاہے وہ اور اس کے بچے سسک سسک کر باقی ماندہ زندگی گزاریں، میکے والے خرچہ بھی اٹھائیں اور لڑکی خود بھی کولہو کا بیل بنے۔ یہ ہمارے معاشرے کی اس عورت کی ہلکی سی جھلک ہے جس کی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہوتی ہے۔ شوہر تو کیونکہ مجازی خدا ہوتا اسلیے اس سے تو غلطی ہو ہی نہیں سکتی ہاں بیوی کی معمولی غلطی پر وہ ضرور اسے دھنک کر بھی رکھ سکتا اور اسکے سر پر سوکن بھی لا سکتا۔

     لیکن سوال یہ ہے کہ کیوں اس دور جدید میں بھی ایسی مظلوم عورت کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔ ہمارا معاشرہ جہاں مذہبی ٹھیکیدار ہوں یا فیمینزم کے علمبردار، پڑھے لکھے پروفیشنل ہوں یا ان پڑھ مزدور طبقہ، امیر ترین ہوں یا متوسط گھرانے، عملی طور پر عورت کیساتھ سلوک میں سب یکساں ہیں۔

     زبانی کلامی اعلی ترین مذہبی و سماجی اقدار کا حامل معاشرہ، عملی طور پر طلاق کا حقیقی تصور اور اسکی مذہبی و سماجی اہمیت سمجھنے سے تاحال قاصر ہے۔ ہم جانتے بوجھتے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے کہ طلاق ناپسندیدہ ترین لیکن جائز عمل ہے۔ جس کو مکمل رد نہیں کیا جاسکتا۔ طلاق کو شجر ممنوعہ سمجھنے والے کیا اس حقیقت سے واقف ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی دو صاحب زادیاں جو ابو لہب کے بیٹوں کے نکاح میں تھیں انہیں رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی تھی اور بعد میں یہ دونوں صاحب زادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمانؓ کےنکاح میں آئیں۔ اگر طلاق یافتہ ہونے کا مطلب داغ لگنا ہوتا تو کیا آنحضرت ﷺ کی بیٹیوں پر یہ داغ کبھی نعوذ باللہ لگتا؟

     کیا طلاق یافتہ عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺکی دو ازواج مطہرات مطلقہ تھیں۔ جن میں سے حضرت زینب بنت جحشؓ نےحضرت زیدؓ سے خود خلع لی تھی۔ کیا ہماری جرآت کہ ہم امہات المومنین کی کردار کشی کرسکیں یا یہ کہہ سکیں کہ وہ گھر بسانا نہیں جانتی تھیں؟ عورت کو اللّٰہ تعالیٰ نے مکمل انسان بنایا ہے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا

     "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے”

     زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی امانت ہے اسے ناقدر شناس کے ہاتھوں تباہ کرکے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ جو عورتیں بچوں کی خاطر گھٹ گھٹ کر سمجھوتہ کرتیں، شوہر کی ماریں کھاتیں انکےبچے گھریلو متشدد ماحول کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن جاتے اور بالآخر اپنی ماؤں کو ہی مورد الزام ٹھہراتے۔ ذندگی، رزق اور قسمت اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ان چیزوں کا مالک شوہر یا معاشرے کو سمجھنا نہ صرف جہالت بلکہ شرک ہے۔ ایک عورت انہی باتوں پر بلیک میل ہوتی اور اپنا نقصان کر بیٹھتی۔ یاد رکھیے اللّٰہ تعالیٰ ظالم نہیں نہ طلاق کوئی حرام یا پلید فعل ہے اگر ایسا ہوتا تو کبھی بھی قرآن کی پوری ایک سورت طلاق کے نام سے نہ ہوتی جس میں تمام احکامات پوری وضاحت کیساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ عورت کی شادی کا یہ مطلب نہیں کہ اسے بلی چڑھا دیا جائے اور وہ تاعمر اذیتیں سہتی رہے۔ اسلام عورت کو طلاق، خلع، علیحدگی کی صورت میں مکمل اختیارات دیتا ہے جن میں نان نفقہ سے لیکر بچوں کی سرپرستی تک تمام احکامات واضح ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستانی قانون بھی اس معاملے میں شرعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا۔ لیکن اس کیلئے اصل ہمت عورت کو کرنی ہو گی کہ اس نے ذہنی و جسمانی تشدد سہہ کر جینا یا باعزت و باوقار طریقے سے زندگی گزارنی!

    "جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے” (سورۃ الطلاق:03)

     لیکن یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بیشک میاں بیوی میں علیحدگی پر شیطان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا؛

     "جو عورت سخت مجبوری کے بغیر خود طلاق طلب کرے، اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے”(ابو داؤد) اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو ہر دور، ہر انسان اور ہر طبقہ فکر کیلئے مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ بحیثیت مجموعی ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یقیناً اسلام میں ہر فرد کے ہر حیثیت میں جامع ترین حقوق و فرائض متعین ہیں جن پر عمل کرکے ہی ایک بہترین عائلی زندگی اور مثالی معاشرہ کی بنیاد ڈالی جا سکتی

    "Syed Ghazi Ali Zaidi ”

  • انسانیت اور مسلمانیت   تحریر : امین 

    انسانیت اور مسلمانیت  تحریر : امین 

    خط جو میں نے لکھا انسانیت کے نام پر ڈاکیاں ہی مر گیا پتہ پوچھتے پوچھتے ۔

    ہروز سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا میں انسانیت سوزی کے ایسے ایسے واقعات اور شہ سرخیاں نظروں سے گزرتی ہیں کہ انسانیت شرمسار نظر آتی ہے ۔ 

    زاتی اناؤں،جھوٹی شخصیت کے تکبر میں گم ہم اپنے اصل اپنی پیدائش کے مقصد کو مکمل بھول چکے ہیں 

    کہ 

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 

    انسان انس سے ہے اور انس محبت ہے جس میں محبت ہی نہیں وہ انسان ہی نہیں 

    انگریزی کہاوت ہے کہ 

                                                 Do good Have good 

    اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ کسی کے ساتھ نیک عمل کریں تو وہ ہی  شخص ہی آپ کے ساتھ بھلائ کرے  نہیں ایسا نہیں ہے جس طرح آپ نے انسانیت کے ناطے کسی کی مدد کی بلکل اسی طرح کہیں کسی موڑ پہ کوئ اجنبی آپ کے معاملے بھی ایسے ہی انسانیت دکھائے گا اور  اسکا مطلب یہ بھی  ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ بھلائ کریں گے تو اللہ تعالی ہمارے ساتھ بھلائ کا معاملہ فرمائیں گے  

    ہم پہلے انسان ہے اور پھر مسلمان  اگر ایک شخص صرف مسلمان ہے اور اس میں انسانیت نہیں  تو یہ اسکے لۓ کافی نہیں وہ کامیاب نہیں ہے در حقیقت وہ مسلمان ہی نہیں ۔اسلام کو تمام مزاہب میں سے بہترین مزہب کا درجہ انسانیت کی بنیاد پہ ہی دیا گیا ہے 

    مذہب میں سے انسانیت اور خدمت نکال دی جاۓ تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کیلۓ پروردگار کے پاس فرشتوں کی کوئ کمی نہیں تھی   

    میرے پیاروں اگر ایک انسان پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے روزے رکھتا ہے حج ادا کرتا ہے اپنے چہرے پر داڑھی سجاتا ہے سفید کپڑے پہنتا ہے تہجد پڑھتا ہے دیگر نوافل ادا کرتا ہے حقوق اللہ تو پورا کرتا ہے لیکن 

    وہ انسان حقوق العباد میں کوتاہی کرتا ہے اس میں انسانیت نہیں ہے وہ حرام کھاتا ہے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے لوگوں کو تنگ کرتا ہے تو یقیناً یہ انسان خسارے میں ہے اسکی آخروی کامیابی ناکامی ہے 

     کیونکہ انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہی کہی پیدا ہوتی ہے  میرا مذہب انسانیت پسندی ہے جو کہ دنیا کے ہر مذہب کی بنیاد ہے۔

    دوسرے طرف ایک انسان جس میں انس ہے محبت ہے شفقت ہے ہم دردی ہے اخلاق ہے حرام نہیں کھاتا حقوق العباد تو پورا کرتا ہے لیکن یہ انسان محض انسانیت کی حد تک ہے روزے نہیں رکھتا نماز نہیں پڑھتا حلال کام نہیں کرتا حقوق اللہ پورا نہیں کرتا تو یہ انسان بھی خسارے میں ہے اسکی کامیابی ناممکن ہے

     طرف لاکھوں انسان بھی دیکھے اور لاکھوں مسلمان  بھی دیکھے لیکن ایسا بہت کم دیکھا جو انسان بھی ہو اور مسلمان بھی ہو ۔

    آج انسان چاند پر پہنچ گیا ،سمندر کی تہوں تک رسائ حاصل کر لی ،صدیوں کے سفر کو لمحوں میں سمیٹ لیا ،لیکن افسوس انسانیت تک نہ پہنچ پایا ۔وہ اونچائ یا  بلندی کس کام کی جس پر سوار ہو  کر انسان انسانیت کے میعار سے ہی گر جائے

    اے بادل اتنا برس کے نفرت ڈھل جائیں 

     انسانیت ترس گئ ہے محبت کے سیلاب کو  

    قربان جاؤں اس عظیم شخص اور عظیم انسان سے جسکی انسانیت اور مسلمانیت دیکھ کر غیر مذہب ایمان لے آتے  

    آپ میرے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ تو پڑھے آپکو ایک ہی شخصیت میں انسان بھی نظر آئیگا اور مسلمان بھی ۔اور کتنے بد نصیب ہیں ہم کہ ہم اس نبی کے امتی ہیں لیکن انسانیت کے الف سے بھی واقفیت نہیں رکھتے 

    یہاں  اگر مسلمان ہے تو انسان نہیں اور گر  انسان ہے۔جب کہ اسلام بار بار کہتا ہے کہ دین و دنیا کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی پورے کیے جائے یعنی ثابت ہوا کہ مزہب اور انسانیت لازم و ملزم ہیں ،

     آج ہمارہ مقصد صرف دوسروں پہ طنز و تنقید کرنا رہ گیا ہے ،دوسروں کے رویوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہم اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔ خدارا دوسروں پہ فتوے لگانے کی بجائے اپنے اعمال کو سدھاریے ،صحیح اور غلط کا فیصلہ رب تعالی پر  چھوڑ دیں 

    آپ انسان ہیں انسانیت پر زور دیں۔ 

     کسی کو دنیا اور آخرت میں خوشحالی، کا میابی و کامرانی چاہئے تو مزہب اور انسانیت  دونوں چیزیں خود میں پیدا کرے اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ اچھا انسان بھی بنے

     موجودہ دور کا سنگین المیہ ہے کہ سمجھانے والے نے سمجھا کر چھوڑا سمجھنے والے نے سمجھ کر چھوڑا 

    سنانے والے نے سنا کر چھوڑا سننے والے نے سن کر چھوڑا

     پڑھانے والے نے پڑھا کر چھوڑا پڑھنے والے نے پڑھ کر چھوڑا

    لکھنے والے نے لکھ کر چھوڑا ،عمل کرنے کے مقام تک کوئ نہیں آتا ۔بحیثیت مسلمان ،بحیثیت انسان ہمیں اس بات کو  سمجھنا ہے کہ کامیاب انسان بننے کیلیے 

    گفتار کے دور میں کردار کی ضرورت ہے ۔

    محض دلچسپی کے لۓ نہ پڑھے عمل کی کوشش ضرور کیجۓ گا۔

    Twitter Handle : @ameyynn

  • تقدیر تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس 

    @drislamilyas

     

    تقدیر کیا ہے ۔ جب انسان کو سید ھے اور غلط راستے پر چلنے کا اختیار دیا گیا ہے اوراس کے لیے

    جزا اور سزا کا نظام بنایا گیا ہے تو پھر یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو لکھ دیا

    جا تا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے اسی سوال سے اکثر لوگوں کے ذہن میں گردش کر تا ہے ۔اگر پیدائش سے پہلے

    ہی لکھا ہوا ہے تو انقیار کیسا اور حساب کتاب کیا۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ اگر ہر چیز لوح محفوظ میں

    درج ہے تو یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ شب قدر یا شب برأت والے دن فرشتوں کو اگلے سال کا شیڈول دیا جا تا

    ہے کہ اس سال یہ پیدا ہوگا ، ی مرے گا، یہ نیکی کے کام کرے گا، یہ برائی کے کام کرے گا، رزق کی تقسیم

    وغیرہ وغیرہ۔

    در اصل انسان کو اختیار دیا گیا ہے ۔ اور وہ آزاد ہے کہ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کرے یا

    نافرمانی کر کے سزا کا مستحق بنے ۔لیکن اللہ جونقل کل ہے یہ اس کا علم ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ انسان اپنے

    اختیار کو کیسے استعمال کرے گا۔ وہ یہ جانتا ہے کہ کون کس وقت کیا کام کرے گا۔ قیامت تک کے تمام

    حالات واقعات لوح محفوظ میں درج ہیں لیکن لوح محفوظ تک فرشتوں کی بھی رسائی نہیں ہے ۔ شب قد رکو

    آئندہ سال کا شیڈ ول فرشتوں کے حوالے کیا جا تا ہے ۔ اور انسان پورا سال اپنے اختیار سے اپنی زندگی

    گزارتا ہے ۔اورمنکر نکیرلحہ بلح تحریر کرتے ہیں اور وہ وہی اعمال ہوتے ہیں جو انہیں سال پہلے لکھ دیئے گئے

    تھے کہ کون ساشخص کب اور کیاعمل کرے گا۔ یہ اللہ کاعلم ہے جس تک مخلوق کی رسائی نہیں ۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان ہاتھ کی لکیروں ستاروں سے مستقبل کیسے جان لیتا ہے ۔ کیا

    اس میں بھی کوئی حقیقت ہے۔ جی ہاں یہ بیچ ہے اور یہ نظام بھی اللہ کا بنایا ہوا ہے ۔ اور اللہ نے انسان کو علم بھی

    دیا ہے لیکن اس میں کب تبد یلی کردی جائے گی اس کا اختیاراللہ کو ہے اور اےسی تبدیلیاں لوح محفوظ میں درج

    ہیں جس کا علم تلوق کونہیں دیا گیا۔ سورۃ لقمان آیت نمبر ۳۴ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے ” بیک اللہ کے پاس

    ہے قیامت کاعلم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اورکوئی جان نہیں جانتی کہ کل

    کیا کماۓ گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی ، بے شک اللہ جانے والا بتانے والا ہے ۔

    اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بھئی پیدائش سے پہلے پتا چل جا تا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ۔ در اصل اسکا

    معانی جنس نہیں اس کا مطلب ہے کہ جو ماں کے پیٹ میں ہے اچھا ہے یا برا ہے معاشرے میں کیسا رہے گا

    نقصان والا یا فائدہ دینے والا ۔ ہمارے پیارے نبیﷺ نے قسمت کا حال جانے سے منع فرمایا ہے اس

    لیے ہمیں مستقبل کے بارے میں جاننے کی کوئی ضرورت نہیں اور ہر وہ کام جس کے کرنے سے ہمارے نبی

    ﷺ نے منع فرمایا ہے اس کو کرنا گناہ ہے ۔ایک اور بات تقذ یرکو نہ ماننے والوں کے لیے ” قیامت کی

    نشانیان بیان کی گئی ہیں اگر انسان کے اعمال سے اللہ پہلے سے باخبرنہیں تو نشانیوں کا جواز ہی پیدانہیں

    ہوتا”۔ غزوہ احد میں ایک دن پہلے رسول ﷺ نے بتادیا تھا کہ فلان اس جگہ مارا جاۓ گا اور فلان اس جگہ

    اور وہی ہوا۔اگر تقدیر میں سب لکھا نہیں ہے تو یہ کسے ہوا مثالیں بے شمار ہیں مگر سمجھدار کے لیے یہ کافی ہیں

    اور نہ مانے والوں کو تو کوئی منانہیں سکتا 

    ڈاکٹر اسلام الیاس

  • ڈپریشن کی علامات اور علاج  تحریر :فرقان اسلم

    ڈپریشن کی علامات اور علاج تحریر :فرقان اسلم

    انسان کبھی خوش ہوتا ہے اور کبھی غمگین جس سے اس کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو کوئی پریشانی لاحق ہو تو اسے ڈپریشن کا نام دے دیا جاتا ہے اور فرضی یا معمولی سمجھ کر ٹال دیا جاتا ہے۔ ڈپریشن کی بیماری کے بارے میں ایک عام آدمی کے ذہن میں بہت سے ابہام اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جس سے ڈپریشن میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آیا اسے ڈپریشن ہے بھی یا نہیں۔ 

    ڈپریشن کے بارے میں سب سے سب سے پہلے ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈہریشن ایک بیماری ہے جیس طرح نزلہ، زکام، بلڈ پریشر، ذیابیطس، ٹی بی یا دیگر امراض۔ جن کے مریضوں کو دوا کے ساتھ ساتھ مناسب توجہ اور دیکھ بھال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح کوئی بھی انسان کئی طرح کی جسمانی بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے بالکل اسی طرح کوئی بھی انسان نفسیاتی بیماریوں کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی خاص حد مقرر ہے۔ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ آج کل چھوٹی عمر کے بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں۔ جس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً نا مساعد حالات، والدین کا مناسب پیار نہ ملنا اور احساس کمتری وغیرہ۔

    ڈپریشن کی بہت سی علامات ہوسکتی ہیں لیکن میں چند اہم علامات کا ذکر کروں گا جو کہ آج کل عام ہیں۔

    درج ذیل میں سے اگر کسی شخص میں کم ازکم چار علامات کی موجودگی ہو تو وہ ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔

    1۔ عموماً ہر وقت یا اکثر اوقات برقرار رہنے والی اداسی اور افسردگی۔ 

    2۔ جن چیزوں اور کاموں میں پہلے دلچسپی محسوس ہوتی ہو ان میں دل نہ لگنا اور ان سے بیزاری محسوس ہونا۔

    3۔ جسمانی یا ذہنی طور پر کمزوری محسوس کرنا، ہر وقت اپنے آپ کو بہت زیادہ تھکا ہوا محسوس کرنا۔

    4۔ روز مرہ کے امور اور باتوں پر صحیح طرح سے توجہ نہ دے پانا۔

    5۔ اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر سمجھنا جس کے نتیجہ میں خود اعتمادی میں واضح کمی ہونا۔

    6۔ ماضی کی تمام چھوٹی بڑی بڑی باتوں کے لیے اپنے آپ کو موردِ الزام  ٹھہراتے رہنا، اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں ناکارہ اور فضول سمجھنا۔

    7۔ مستقبل کے بارے میں سوچ کر مایوس ہونا۔

    8۔ ذہن میں خودکشی کے خیالات آنا یا خودکشی کی کوشش کرنا۔

    9۔ نیند کی خرابی یعنی کہ نیند نہ آنا اور نیند سے اچانک جاگ جانے کی صورت میں دوبارہ نیند نہ آنا۔

    10۔ بھوک کی کمی اور کسی چیز کو کھانے کا دل نہ کرنا۔

    ان علامات کی موجودگی کی صورت میں کسی ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رابطہ کرنے میں بالکل بھی جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیئے۔ کیونکہ ڈپریشن کے دورانیے اور شدت کا انحصار انسان کی شخصیت اور قوتِ مدافعت پر بھی ہوتا ہے۔ بعض مریض محض سائیکوتھراپی سے ہی بہتری محسوس کرنے لگتے ہیں لیکن اگر حالت انتہائی ہو تو ایسے حالات میں سکون آور ادویات کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔ اس صورت میں مریض کی حوصلہ افزائی کرنا اس کے لیے بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔ 

    ان تمام حالات کو اچھی طرح سے کنٹرول کرنے کے لیے ایک "ٹائم ٹیبل” کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں سونے جاگنے، کھانے پینے اور ورزش کے اوقات مقرر ہونے چاہیئں خوراک کا خصوصی طور پر خیال رکھنا جائے۔ پھل سبزیاں اور صحت بخش کھانوں کو ترجیح دی جائے کیونکہ یہ جسم کی قوتِ مدافعت بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ شراب نوشی، سگریٹ نوشی، یا اس طرح کی دیگر چیزوں کے استعمال سے اجتناب کیا جائے۔ اپنے ذہن میں آنے والے منفی خیالات کو جگہ نہ دی جائے۔ ذہن کو مثبت چیزوں کی جانب گامزن کیا جائے۔ اگر کسی قسم کا کوئی نقصان ہو گیا تو اس پر صبر کا جائے اور برداشت سے کام لیا جائے۔

    سب سے پہلے انسان کی صحت ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کی پریشانی سے گریز کیا جائے۔ کسی کو مستقبل کی فکر ہوتی ہے اور کسی کو دولت کی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر انسان کی رزق دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تو جتنا ملے اس پر اکتفا کر لینا چاہیئے۔ کیونکہ اس سے ذہنی دباؤ میں کمی آئے گی۔ ان سب پریشانیوں میں انسان سکون کی نیند بھی نہیں سو سکتا۔ اس لیے ذہنی اور روحانی طور پر سکون کے لیے پانچ وقت کی نماز ادا کی جائے اور قرآن پاک کی تلاوت کی جائے۔ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ :

    "بلا شبہ اللّٰہ کے ذکر میں ہی دلوں کا سکون ہے”۔ 

    اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

    @RanaFurqan313