Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ریلیشن شپ   تحریر: شھریار سیالوی

    ریلیشن شپ  تحریر: شھریار سیالوی

    ریلیشن شپ آجکل کے دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ ہے اور آجکل میں دیکھتا ہوں کہ یہ لفظ ریلیشن شپ بچوں کا کھیل بن چکا ہے۔ کل تک جو پچیس سال کی عمر میں جو کہ ایک میچور بندہ ہوتا ہے وہ بھی اپنی پسند تک کے بارے میں بتانے سے ڈرتا تھا مگر آجکل کا نوجوان، میں یہ بلکل نہیں کہہ رہا کہ اظہار کرنا غلط ہے، پیار کرنا غلط ہے، مگر ایسے پیار کرنا بےشک گناہ ہے۔ یہاں یہ آجکل جو بچہ اپنے پاوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا وہ اپنی جان کو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کی باتیں کرتا ہے اور عجیب و غریب قسم کے سپنے دکھا رہا ہوتا ہے۔ دس سال کی لڑکی صرف اس بات پر پریشان ہوتی یے کہ اسے اسکا بوائے فرینڈ وقت نہیں دیتا۔ بارہ سال کی عمر کی بات جائے تو اسے یہ پریشانی ہوتی یے کہ میری جان کسی اور سے تو بات نہیں کرتی۔ مختصر یہ کہ پیار اور ریلشن شپ مذاق بن کر رہ گیا یے۔ یہاں پر تو وہ لوگ بھی پیار کا دعوی کررہے ہوتے ہیں جنھیں نہ تو پیار کا پتہ ہوتا ہے اور نہ ہی رشتہ نبھانا آتا ہے۔ یاد رکھیں ہمیشہ کہ ان لوگوں کیساتھ تو گزارا ہوسکتا ہے جنکی طبعیت خراب ہو لیکن اس کے ساتھ بلکل گزارا نہیں ہوسکتا ہے جنکی تربیت خراب ہو۔ یہاں پہ پیار کا مطلب پتا نہیں اور دعوی سچے پیار کا کیا جاتا ہے۔ اپنی پسند کو پیار کا نام دیا جاتا ہے، ارے نہیں نہیں اپنے ٹائم پاس کو سچے پیار کا نام دیا جاتا ہے۔پیار تو نہیں یہاں ٹائم پاس کرتے ہیں لوگ، کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جس ٹائم پاس کو محبت کا نام دے کر استعمال کرکے چھوڑ جانے کے بعد اس انسان پر کیا گزرتی ہے، انسان بکھر جاتا ہے، جو انسان کل تک ہنستا کھیلتا تھا وہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور اسے اپنی زندگی بےمعنی لگنے لگ پڑتی یے۔

     یہی وہ سب سے بڑی غلطی ہے جو ہم کرتے ہیں۔ یاد رکھیں پیار اور پسند دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ہم اپنی پسند کو اکثر پیار کا نام دے دیتے ہیں اور پسند کبھی مستقل نہیں ہوتی اور اس پسند کو ایک نہ ایک دن ناپسند  ہونا ہوتا ہے اور ایسے انسان کیلئے رونا اور اپنی زندگی ضائع کردینا دانشمندی نہیں ہے۔ محبت منتیں کرنے کا نام نہیں ہے اور منتیں کی بھی کس سے جارہی یے جو نہ رشتوں کو نبھانا جانتا ہے اور نہ ہی اسے رشتوں کی کوئی قدر ہے تو آپ خود بتائیں ایسے انسان سے کس چیز کی توقع کی جاسکتی یے۔ محبت اس چیز کا نام نہیں کہ اپنی ذات کو بےمول کر دیا جائے۔ محبت اس چیز کا نام نہیں کہ اپنی عزت ایسے انسان کے ہاتھوں میں دے دی جائے جو صرف آپکو کھلونا سمجھتا ہو، محبت اس کا نام نہیں کہ اپنے وقار کو گرا دیا جائے۔ لوگوں کو کھونے سے کبھی نہ ڈرو، ڈرو اس بات سے کہ لوگوں کو خوش کرتے کرتے خود کو نہ کھو بیٹھو اپنا وجود ختم نہ کر ڈالو۔ ہمارے معاشرے میں وجہ سے نہیں وجہ بنا کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور ہم اس کیلئے رو رہے ہوتے ہیں جسکو نہ تو ہماری کبھی پرواہ تھی اور نہ ہی کبھی ہوگی۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کسی کی بھی زندگی میں رہنے کیلئے بھیک نہ مانگو۔ ایک دفعہ اسے بلاو بات کرو، مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرو اور اگر نظر انداز کردئیے جاو تو خاموشی سے علیحدگی اختیار کرلو۔ 

    اپنی زندگی میں ایک ایسا اصول بنالیں کہ جو چیز آپکو چھوڑ کر چلی جائے اور ایسی چیز جو کبھی آپکی تھی ہی نہیں اسے بھول جاو کیونکہ بھول جانے کی عادت انسان کو بہت سی چیزوں سے بچا لیتی ہے۔ محبت کرنے والے کبھی بھی بےادب نہیں ہوتے، کبھی پتھر دل نہیں ہوتے۔ ہمیشہ ایسے شخص کا چناو کرو جو آپکو عزت دے کیونکہ عزت محبت میں بہت خاص ترین ہوتی ہے۔ جو شخص آپکو عزت نہیں دے سکتا وہ آپ سے کبھی محبت نہیں کرسکتا۔ جو بھی پیار کا دعوی کرتا ہے تو وہ بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ نہیں بلکہ میاں بیوی بن کر رہیں۔ اظہار کرتے ہو تو نکاح کیساتھ کروں۔ یہ سب میری آپ سے گزارش ہے کہ سچا پیار کبھی بھی بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ نہیں بنے گا۔ جب بھی بنے گا محرم بنے گا۔ جب کسی سے محبت کرو تو اسے پردے میں رکھو کیونکہ محبت پردے میں ہی اچھی لگتی ہے۔ یہ نمائش کی چیز نہیں ہے۔ اندھی محبت ہو یا اندھا اعتماد دونوں گہرائی میں گرا دیتے ہیں۔ محبت کا مزہ ہی تب ہے جب محبوب محرم بن کر ملے اور جب آپ ایک دوسرے کیساتھ پاکیزہ  رشتے میں بندھ جاتے ہیں تو کوشش کی جائے کہ۔اس رشتے کو مضبوطی سے تھاما جائے اور جب اس رشتے سے عزت و احترام چلا جائے تو رشتے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ جن رشتوں کو ہم بہت آسان سمجھتے ہیں تو جان لیجیئے پیار کرنا آسان نہیں ہوتا  خود کو دکھ دینا بھی پڑتا ہے دوسروں کی خوشی کیلئے اور ہاں یاد رہیں کبھی بھی آپکو آپ کا پیار دکھ نہیں دے گا۔ یہاں پر اچھا انسان ٹٹول رہے ہوتے ہیں۔ ایک اچھا انسان ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ دنیا میں کبھی بھی اچھے انسان کی تلاش مت کرنا بلکہ خود کو اچھا اور بہترین بن کر دکھانا شاید کسی اچھے انسان کی تلاش ختم ہوجائے۔  ہم اکثر اوقات بہتر کی تلاش میں بہترین کو کھو دیتے ہیں۔ یہاں پہ سب سے بڑی وجہ جو رشتے ٹوٹنے کی بنتی ہے وہ ہے غلط فہمی ہے اور اسے سن کے چپ ہوجاتے ہیں اور ان سب باتوں کو پی جاتے ہیں تو وہ باتیں ہمیں اندر ہی اندر سے کھا جاتی ہیں۔ ختم ہوجاتے ہیں وہ رشتے جن کیلئے ہم جی رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھئیے بھروسہ ہی تو ایک رشتے کی اہم چیز ہوتی ہے جب وہی نہیں رہے گا تو رشتے میں بچے گا کیا؟ اس دنیا میں سب سے خوبصورت رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ یہی سب رشتوں کی بنیاد ہے۔ پیار کو نکاح میں بدلو۔ اظہار کرو تو نکاح۔ دنیا کی ابتداء بھی میاں بیوی اور انتہا بھی۔ جنت میں بھی سب میاں بیوی کے رشتے سے ہی رہیں گے تو تمہارا پیار بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ سے کیسے شروع ہوسکتا ہے؟؟؟ لہذا کوشش کریں نکاح کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیں تاکہ معاشرے سے زنا جیسی لعنت کا خاتمہ ہوجائے تاکہ ایک مثالی معاشرہ وجود میں آسکے۔ اللہ ہم سبکو دین کی سمجھ عطا فرمائے (آمین )۔

  • : والدین کے حقوق  تحریر: تیمور خان

    : والدین کے حقوق تحریر: تیمور خان

    انسان کے دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں اور جن جن رشتوں کے ساتھ انسان دنیا میں جڑا ہوا ہے ان تمام رشتوں اور ان تمام تعلقات میں  ہر ایک انسان کا جو بنیادی رشتہ اور بنیادی تعلق ہے بلکہ جس رشتے اور تعلق کی وجہ سے ایک انسان دنیا میں آیا ہے وہ  بنیادی رشتہ اور تعلق وہ انسان کے والدین کا رشتہ اور تعلق ہے ماں باپ دونوں ایک انسان کے لئے اس دنیا میں آنے کا وسیلہ ہیں اور انسان کا وہ زمانہ جس میں وہ سو فیصد مختاج ہوا کرتا ہے وہ زمانا جس میں وہ نہ کھا سکتا ہے نہ پی سکتا نہ چل سکتا ہے نہ پھر سکتا ہے نہ ہی اپنی مرضی سے گرمی اور سردی سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے یہ تمام نازک ترین اور حساس مراحل ایک انسان کے ساتھ اگر بخوبی عافیت کے ساتھ  طے ہوتے ہیں تو وہ ایک انسان کے والدین اور ماں باپ کی برکت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

    قرآن کریم فرقان حمید میں اکثر مقامات پر جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا تذکرہ اور حکم فرمایا وہاں اپنی عبادت کے متصل والدین کے حقوق کا حکم کیا بیسیوں مقامات پر قرآن کریم میں والدین کے حقوق کی بات کی گئی مفسرین فرماتے ہیں کہ والدین کے حقوق کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے اور ان کے حثیت کو اہمیت دینے کے لئے اللہ نے اپنی عبادت کے متصل والدین کے حقوق ادا کرنے کے بات کی ہے اور ویسے بھی ایک انسان پر جتنے بھی حقوق العباد لازم کیے گئے ہیں یاد رکھیں آن تمام میں بنیادی حق والدین کے حقوق ہیں انسان پر اپنے بہن بھائیوں اور رشتےداروں کے کچھ نہ کچھ حقوق ہیں لیکن ان تمام میں بنیادی حق وہ والدین کا حق ہے 

    اسی لئے  جگہ جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے حقوق کو یاد دلاتے ہوئے جو ان کے اپنے بچوں پہ احسانات ہیں اللہ نے قرآن میں ان کی بھی نشاہدہی فرمائیں اور پھر والدین کے حقوق کی مکمل تشریح اور مکمل بیان اور  تفصیل سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنے احادیثِ طیبہ میں ہمیں سکھائیں۔

    سورت آسرا پندرہ پارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا ٫٫ تمہارے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ساتھ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ان کے ساتھ احسان والا معاملہ کرو اگر تمہاری زندگی میں سے دونوں یا کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے یا کمزور ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے انہیں آف تک ہی نہیں کہنا اور ان کو جھڑکنا بھی نہیں ہے ان کے سات خندہ پیشانی کے ساتھ بات کرنی ہے اور جب بھی اپنے والدین کے سامنے بات کیا کرو تو ان کے ساتھ نرمی اور احسن طریقے سے بات کیا کرو اور ہمیشہ جو تمہارے رحمت اور شفقت اور رحم کے جو تمہارے پر ہیں وہ اپنے والدین پہ ڈالے رکھنا اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہا اپنے عمال اور قردار کے زریعے جہاں والدین کے ساتھ حسن سلوک کروگے نہ زبانی اپنے باتوں کے زریعے ان کو تکلیف پہنچاؤ گے نہ عمال کے زریعے اور پھر ساتھ ساتھ اللہ سے یہ دعا بھی کرو گے ک اے اللہ میرے والدین پہ اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالہ تھا جس طرح میرے والدین نے میری تربیت کی تھی میری ضروریات کو پورا کیا تھا، اے میرے رب تو میرے والدین پہ رحم فرما،  اس کا مطلب یہ ہے٫٫ اے اللہ جس وقت میں کمزور تھا اے اللہ میری کمزوری کا انہوں نے خیال رکھا تھا، اے اللہ اب میرے والدین کمزور ہیں اب مجھے توفیق دے کہ میں ان کا خیال رکھوں،، اور اللہ سے دعا کرنے کا معنیٰ بھی یہ ٫٫ اے اللہ تو میرے والدین پر رحم فرما؛؛ اے اللہ تو انہیں مختاج ہونے سے دور فرما۔

    اسی لئے یاد رکھیں والدین کے حقوق کو حقوق العباد میں بنیادی حیثیت حاصل ہے، سرکارِ دوعالم ﷺ کے بارگاہ میں ایک صحابی آئے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میرے والدین کا مجھ پر کیا حق ہے تو آپ نے فرمایا تمہارے والدین تمہارے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی ہیں ، صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ ہمارے والدین ہمارے لئے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی اس بات کی ہمیں سمجھ نہیں آئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا٫ اگر تمہارے والدین تم سے خوش ہونگے ان کو راضی رکھو گے ان کے حقوق ادا کروگے تو یہ تمہارے لئے جنت میں جانے کا سبب ہو گا، اور اگر تم اپنے والدین کو ناراض رکھوگے اور آپ کے والدین ناراضگی کی حالت میں تم سے جدا ہو گئے تو یہی ان کی ناراضگی تمہارے لئے جہنم کا سبب ہوگا،، اسی لئے یاد رکھیں سرکارِ دوعالم ﷺ نے والدین کی رضامندی کو جنت کا سبب اور والدین کی ناراضگی کو جہنم کا سبب فرمایا، اگر والدین تم سے راضی ہیں تو اللہ تم سے راضی ہے اور اللہ کی رضا یہ تمام نعمتوں سے بڑھ کر یہاں تک کہ جنت سے بھی بڑھ کے نعمت ہے۔

    مفسرین کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص سے  والدین راضی ہیں اور اس کو سو فیصد پتہ ہو کہ ہاں میرے والدین مجھ سے راضی ہیں اور والدین بھی یہ اقرار کرے کہ ہاں ہم اپنے بیٹے سے بہت خوش ہیں اور راضی ہیں، تو مفسرین فرماتے ہیں یہ شخص قسم سے کہہ سکتا ہے کہ ہاں میرا رب بھی مجھ سے راضی ہیں، اگر ایک شخص جو روزے، حج حقوق العباد، میدان جہاد کا غازی بھی ہے لیکن والدین اس سے راضی نہیں تو پھر یاد رکھیں اس کا رب بھی اس سے راضی نہیں ہے، لیکن ایک شخص جو تہجد بھی نہیں پڑتا حقوق العباد بھی نہیں کرتا میدان جنگ کا غازی بھی نہیں کچھہ بھی نہیں کرتا لیکن اس کا باپ اس سے راضی ہے باپ اس نے راضی رکھا ہوا ہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ہاں میرا رب مجھ سے راضی ہے والدین ایک انسان کے لئے بہت بڑی نعمت ہے، والدین کو راضث رکھنا بہت ہی آسان ہے اگر ایک انسان نے ساری عمر والدین کی نافرمانی کی ہو اور شرمندہ ہو کر وہ والدین کے سامنے ہو جائے تو والدین کے دل میں اللہ نے اولاد کے لئے جو محبت رکھی ہے تو وہ آخر کار اپنے اولاد کو معاف کر دیتے ہیں، اس لئے اپنے یہ یاد رکھیں اللہ نے جن کو والدین عطاء کیے ہیں اور وہ زندہ ہیں تو انکو راضی رکھیں ان کے حقوق کو پورا کریں، اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں جنت کا سبب قریب تر اس لئے ہے باپ سے کہ جنت تمہاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے ایک صحابی آئے یارسول اللہ ﷺ میں جہاد کے لئے جانا چاہتا ہوں ، آپ نے فرمایا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں تو صحابی نے فرمایا باب نہیں البتہ والدہ زندہ ہے تو آپ نے فرمایا جا، جا کر اپنے والدہ کی خدمت کر یہ تیرے لئے سب سے افضل جہاد ہے یادِ رکھیں جہاد کرنا ایک نیکی ہے لیکن سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو اپنے والدین کی خدمت کریں یہ تمہارے لئے سب سے افضل نیکی ہے، جو انسان اپنے والدین کا فرمانبردار ہے اس کی اولاد کل اس کی فرمانبردار ہو گی۔ تو والدین یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اپنے والدین کو وقت دیں ان کو راضی کیجئے ان کی راضا تلاش کیجئے کہ ان کی راضا کس چیز میں ہے اور ان کی حقوق ادا کرنے کی کوشش کیجئے اپنے بچوں کو بھی سکھائے تاک اللہ ہم سے راضی ہو، اللہ تبارک و تعالٰی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق ادا فرمائے اور اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے۔ آمین

    @ImTaimurKhan

  • ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ  تحریر: اریبہ شبیر

    ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر: اریبہ شبیر

    ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے لگتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی طاقت اسے بچا لیتی ہے۔ یہ ان دیکھی طاقت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس طاقت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مصیبت سے نجات دلا سکے؟؟
    پیارے دوستو! یہ طاقت ہوتی ہے صدقہ و خیرات کی طاقت، اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت، ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طاقت۔ یہ طاقت ہوتی ہے غیب کی مدد۔ جب انسان تباہی کے دہانے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اللّٰہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالٰی کی اپنے بندے سے محبت ہوتی ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کا اپنے بندے پر احسان ہوتا ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے۔ انسان بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا۔ دور ہمیشہ ہم آتے ہیں اللّٰہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا فاصلے ہم پیدا کرتے ہیں اور اسے مٹانا بھی ہمیں چاہئے. صدقہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ صدقہ کیا ہوتا ہے؟ صدقہ وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ انسان برے وقت،برے حالات اور بری موت سے بچ جاتا ہے۔ ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ پودے اور درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔راہ چلتے ہوئے کی مدد کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں پتھر کانٹے ہٹانا صدقہ ہے۔ مسجد میں قرآن پاک رکھوانا، اس کی تعمیر و مرمت میں اپنی استطاعت کے مطابق حصّہ ڈالنا صدقہ ہے۔ پانی پلانے کو احادیث مبارکہ میں صدقہِ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ثواب اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے ۔ پیاسوں کو پانی پلانا، تشنہ لبوں کی سیرابی کا کام کرنا اور انسانوں کی پانی کی تکمیل کر نا صدقہ ہے جس کا ثواب اللّٰہ تعالٰی آخرت میں خود دے گا۔ تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانے میں صدقہ دینا افضل ہے۔ صدقہ دینے سے اور اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔ اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے. دراصل
    ہم دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنی اس مصروف ترین زندگی میں ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔ معاشرہ تو دور کی بات ہے ہم تو اس قدر بے ہوش ہیں کہ ہمارے ہمسائے میں آج کیا ہوا، کون بیمار ہے کس کا انتقال ہوا ہمیں کسی کی کوئی خبر نہیں۔انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ اگر انسان سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور عبادت کے لئے اللّٰہ تعالٰی کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں۔
    ذرا سوچئے جس مسجد میں ہم روزانہ نماز ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، روشنی کے لیے لائٹس، جنریٹر، کارپٹ، امام اور مؤذن کی سہولت حاصل ہوتی ہے تاکہ میں نماز میں آسانی ہو۔ جبکہ ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں؟دس روپے؟ زیادہ سے زیادہ بیس روپے۔ جبکہ ہم ٹی وی کیبل 300 اور انٹرنیٹ 1300 کی فیس ہر ماہ ادا کرتے ہیں۔ موبائل پر بے تحاشا لوڈ کرواتے ہیں۔ناچ گانا پارٹی ہلہ گلہ اور بے فضول کی نمود و نمائش میں بے تحاشا پیسہ اڑاتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم مسلمانوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ہم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر کے ہی بڑے آدمی بن سکتے ہیں لیکن اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے لئے چھوٹے چھوٹے اچھے عمل ہی بہت ہیں۔ انسان اپنے اوصاف سے عظیم ہوتا ہے عہدے سے نہیں کیونکہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھنے سے کوا کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتا۔
    دعا ہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    نام: اریبہ شبیر
    Twitter I’d @alifsheen_5

  • عورت کی آزادی یا عورت تک آزادی تحریر سیدہ ام حبیبہ

    عورت کی آزادی یا عورت تک آزادی ہر جگہ ہر فورم پہ عورت کی آزادی پہ مباحثے اور تقاریر چلتی ہیں.آئے دن سوشل میڈیا پہ بھی یہی موضوع زیرِ بحث رہتا ہے.
    ایک جماعت عورت کی آزادی کے حق کے لیے قلم آزمائی کرتی نظر آتی ہے.تو دوسری اسکے تحفظ یا پردے کی بابت دلائل دیتی ہے.
    اب کیسے جانیں کہ کون عورت کا اصل حامی ہے اور کون نہیں.
    اس کے لیے ہمیں آزادئ نسواں کی جدوجہد پس منظر اور موجودہ صورتحال کو یک مشت دھیان میں رکھنا ہوگا.
    عورت کو صنفِ نازک بھی کہا جاتا ہے. اس کی نزاکت اسکی جسمانی ساخت کے اعتبار سے قدرت نے طے کی ہے.اس عورت کی محبت میں اس کے احترام میں کہیں تو سردارِ انبیاء صلوۃ اعزاز میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہیں عورت کو زدوکوب کیا جاتا ہے.
    عورت پہ ظلم و ستم کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ایسے میں خواتین کے حقوق کے لیے کچھ انقلابی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے معاشرے سے اس ظلم کے خاتمے کی کوشش شروع کر دی شمع سے شمع جلتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سطح. پہ سینکڑوں تنظیمیں خواتین کے حقوق او تحفظ کی ضامن بننے لگیں.
    سب اچھا جا رہا تھا مگر ایک پل کو رکیے کہ غلط کیا تھا اور کہاں تھا..
    ان ہی تنظیموں کو عالمی ادارے فنڈنگ بھی کرتے تھے. کہ مالی لحاظ سے کوئی دشواری نہ ہو…
    مگر پھر رکیے .
    اب دیکھیے کیا یہ ساری تنظیموں کا مقصد خواتین کا تحفظ ہی تھا؟
    قارئین محترم ایسا جال بنا جا رہا تھا جس سے بچنا ناممکن ہو جاتا.ان تنظیموں کی آڑ میں ایسی تنظیمیں وجود میں أئیں جو مغربی ایجنڈے کے لیے پسماندہ ممالک میں کام کرتیں اور عورتوں کے حقوق کے نام پہ وہاں اپنے مذموم عزائم پورے کرتیں.
    وطنِ عزیز میں بد قسمتی سے لبرل ازم کی آزادی کی خوب پامالی کی گئی.
    لبرل ازم کے نام پہ ننگ پن کو پروموٹ کیا جانے لگا.اور لباس کو جسم کو عورت کی آزادی عورت کے حقوق کے نام پہ یورپ کے مطابق ڈھالا جانے لگا.
    جینز ٹاپ اور دیگر تمام مغربی لباس پہننا عورت کی آزادی سمجھا گیا.اور برقعہ حجاب عورت کی غلامی.
    ایک پل کو وہ عورت جس نے جینز ٹائٹ پہنی ہو اور اسکے ہر شخص آتا جاتا ایکسرے کر رہا ہے
    کیا اسکے جسم پہ واقعی اسکی مرضی چل رہی ہے؟
    یا سینکڑوں راہگیروں کی مرضی؟.
    خیر آمد برسرِ مطلب کہ ایک ہود نامی شخص ایک بے ہودہ سا بیان داغتا ہے کہ برقعے حجاب میں عورت نارمل نہیں ہوتی .اور اس قدر حقارت اور ننگ دھڑنگ لڑکیاں ایکٹو ہوتی ہیں.
    یہ وہ سوچ ہے جو عورت کی آزادی نہیں عورت تک رسائی چاہتی ہے.
    یہ رال ٹپکاتے بھیڑیے ہیں.جو برقعے والی عورت کے خال و خد نظر نہ آنے پہ اس برقعے کو پستی اور غلامی سے تعبیر کرتے ہیں.
    عورت کا تحفظ خود عورت کرتی ہے.عورتیں ان کو اپنا محافظ مانتی ہیں جو دراصل انکے جسم سے لباس سے خائف ہیں اور اس کم سے کم دیکھنے کو آزادی کہتے ہیں.

    تلخی تحریر کی کڑواہٹ نہ منہ میں بھر دے
    چائے میں چینی ذرا اور ملا کر پڑھیے

    @hsbuddy18

  • بد چلن  تحریر  زوہیب خٹک

    بد چلن تحریر زوہیب خٹک

    بشیر احمد کے ہاں دوسری بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ لیکن اس لیے خوش تھا کہ چلو یے بڑی بیٹی مائزہ کی طرح معزور تو نہیں ہے ۔ بڑی محبت سے اس کا نام فائزہ رکھا ۔معمولی سا سرکاری نوکر بشیر احمد پچپن برس کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے وفات پا گیا ۔ فائزہ کے کمزور کندھوں پر معزور بہن اور بوڑھی ماں کا بوجھ آگیا۔ فائزہ جیسے تیسے محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اور مرحوم باپ کی پینشن سے گھر کا گزر بسر کرتی رہی اور اپنی تعلیم مکمل کر لی کہ چلو کوئی اچھی نوکری مل جائے گی تو گھر کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔۔ فائزہ کو یقین تھا کہ بہت جلد ان کے حالات بدلنے والے ہیں لیکن وہ نہیں جانتی تھی ابھی زندگی نے اور بہت امتحان لینے ہیں۔

    برقع پہنے وہ جب نوکری کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتی جاتی تو محلے والوں نے شک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہائے یہ آخر کہاں گھومتی پھرتی ہے ۔ ہائے باپ کا سایہ نا ہو تو لڑکیاں ایسے خراب ہو جاتی ہیں ضرور اس کا کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہے ہائے دیکھو تو اپنے مرحوم باپ کی عزت کا زرا بھی پاس نہیں ہائے اللہ ایسی اولاد کسی کو نا دے۔ الغرض جس کے منہ میں جو آتا کہہ دیتا ۔ دوسری طرف جہاں نوکری کے حصول کے لیے در بدر کی خاک چھان رہی تھی وہاں بھی مردوں کی شکل میں بڑے عہدوں پر بیٹھے درندے اس کو نوچنے کو تیار بیٹھے تھے ۔ بی بی یہ برقع یہاں نہیں چلے گا ٹھیک ہے آپ کی تعلیم اچھی ہے لیکن ہمارے دفتر میں ماڈرن لباس پہن کر آنا پڑے گا ماشااللہ آپ اتنی حسین ہیں آپ کو حسن چھپانے کی کیا ضرورت آپ ایک کام کریں پرسنل سیکرٹری کی نوکری مل جائے گی تنخواہ بھی پچاس ہزار باقی مراعات الگ تھوڑا خود کو گروم کریں آپ میں کسی چیز کی کمی نہیں۔

    یہ فکرے جملے بازیاں سنتے سنتے فائزہ راتوں کو پھوٹ پھوٹ کر روتی اللہ سے شکوے کرتی کہ اے اللہ اگر حسن دینا تھا تو اس معاشرے کا محتاج کیوں کیا۔؟ بوڑھا ہی سہی باپ کا سایہ تو تھا وہ کیوں چھین لیا۔؟ اے اللہ میری مشکلیں کب آسان کرے گا ۔؟ ایک دن صبح کے اخبار میں سرکاری اساتزہ کی بھرتی کا اشتہار دیکھا تو سوچنے لگی یہاں تو رشوت یا سفارش لگے گی میرے پاس تو دونوں نہیں ۔ سوچ میں تھی کہ معزور بہن مائزہ نے پوچھا کیا ہوا کہنے لگی سرکاری نوکری ہے لیکن مِلے گی نہیں ۔ ماں نے باورچی خانے سے آواز دی بیٹا ہمت تو کرو کیا پتہ اللہ ہمارے دن پھیر دے ۔ فائزہ نے لمبی سی آہ بھری کہا کاش ۔۔ بہر حال نا چاہتے ہوئے بھی وہ قسمت آزمانے چلی گئی امتحان دیا اور اِس یقین کے ساتھ گھر واپس آئی کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا چند دن بعد گھر پر خط موصول ہوا کہ آپ نے امتحان میں ٹاپ کیا ہے آپ کو انٹرویو کے لیے فلاں تاریخ کو آنا ہے۔۔

    فائزہ چِلائی امی میں پاس ہوگئی امی اب مجھے نوکری مل جائے گی۔ امی آپ کی دعائیں قبول ہوگئیں ۔ بڑی بہن مائزہ کو گلے لگا کر رو پڑی ہاتھ اُٹھاتے ہوئے کہا شکر ہے تیرا میرے مالک شکر ہے تیرا تو نے مجھ پر کرم کیا ۔ اُسے یقین تھا کہ اب ضرور نوکری مل جائے گی ۔ اور آخر انٹرویو کا دن آگیا وہ پر اُمید ہو کر انٹرویو دینے پہنچی انٹرویو دیا اور واپس گھر آگئی چند دن بعد آفر لیٹر کے ساتھ خط موصول ہوا اُسے نوکری مل گئی تھی ۔ فائزہ دوڑ کر اپنی ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ اماں اللہ نے ہماری سن لی ماں کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ جھلی تجھے کہتی تھی نا اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔۔

    یوں فائزہ کی زندگی بدلنے لگی ۔ اب وہ باعزت روزگار سے اپنے گھر کا خرچہ اٹھا رہی تھی ۔ ایک دن شدید بارش تھی سکول سے واپسی پر کوئی رکشہ نا مل رہا تھا تو ساتھی اُستانی نے کہا آؤ میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں گی میرا بھائی ابھی آتا ہی ہوگا ۔ فائزہ اپنی ساتھی اُستانی کے ساتھ چل پڑی ۔ محلے میں اُتری تھی کہ محلے کی چند خواتین نے گاڑی سے اترتے دیکھ لیا ۔ اب تو شک یقین میں بدل گیا تھا ہائے ہائے میں نا کہتی تھی اس لڑکی کے لچھن ٹھیک نہیں۔ دیکھو تو کتنی بڑی گاڑی سے اتر کہ آرہی ہے ۔ دِکھانے کو برقع تو ایسے پہنا ہوتا ہے جیسے اس سے زیادہ شریف زادی کوئی نہیں اور کرتوت دیکھو اللہ معافی اللہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے ۔ مرے ہوئے باپ بوڑھی ماں کی عزت کا بھی خیال نہیں ۔

    یہ چہ مگوئیاں آخر فائزہ کے گھر تک پہنچ گئیں کمیٹی جمع کرنے والی بلقیس خالہ نے ایک دن کہہ دیا ہائے بہن برا نا مانو یہ شریفوں کا محلہ ہے اپنی بیٹی پر نظر رکھو لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ۔ ہائے اب تو محلے میں گاڑیاں آنے لگی ہیں ۔ محلے کی اور بچیوں پر کیا اثر پڑے گا ۔ میری مانو اپنی بیٹی کی شادی کرا دو ۔ اللہ نا کرے جوان بچی ہے کوئی غلط قدم نا اٹھا لے۔ ہائے توبہ آج کل کا زمانہ تو بہت خراب ہے۔ فائزہ کی ماں کو زمین اپنے پیروں تلے سے سرکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی اُسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ کچھ دیر بعد فائزہ سکول سے واپس آئی تو موقع پاتے ہی ماں نے پوچھ لیا تم آج کل کہاں آتی جاتی ہو محلے والے طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں بیٹا ہم غریب ہیں پر عزت دار ہیں روکھی سوکھی کھا کر ساری زندگی گزاری لیکن اپنی عزت پر سودا نا کیا ۔ کوئی ایسا قدم نا اٹھانا کہ ہماری عزت خاک میں مل جائے ۔

    فائزہ کو حیرت کا جھٹکا لگا اور ماں سے کہنے لگی اماں آپ کو اپنی بیٹی کی پرورش پر پورا یقین ہونا چاہئیے نا میں نے کوئی غلط قدم اٹھایا نا کبھی ایسا سوچ سکتی ہوں ۔ فائزہ چیخ چیخ کر رونا چاہ رہی تھی لیکن اس کے آنسو بھی اب خشک ہو چکے تھے ۔ شائد اُسے اب یہ سب سننے کی عادت ہوچکی تھی ۔ فائزہ کے لیے رشتے آنے لگے تو محلے والوں کے بد چلن کے ٹھپے کی وجہ سے وہ بھی انکار کر جاتے فائزہ اب اٹھائیس سال کی پڑھی لکھی وہ لڑکی ہے جس پر محلے والوں نے بد چلن کی مہر لگا دی ہے۔ فائزہ دن بھر خود کو تھکا کر گھر آتی ہے راتوں کو اپنا سرہانہ آنسوں سے بھر کہ سو جاتی ہے اور صبح پھر سے کام پر چلی جاتی ہے ۔ آپ کے آس پڑوس میں ایسی انگنت فائزہ ہیں جن پر محلے والوں نے بد چلن ہونے کی مہر لگا دی ہے۔۔

    کبھی فرصت نکالیں کسی یتیم مسکین غریب فائزہ کی ماں سے پوچھیں بہن گھر میں راشن کی تکلیف تو نہیں بہن کوئی مسئلہ پریشانی ہو تو مجھے اپنا بھائی سمجھ کر یاد کیجیے ۔ بہن آپ کی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں ۔ شائد کوئی فائزہ آپ کے محلے میں جینا سیکھ جائے ۔ بزرگ فرما گئے ہیں جب استعطاعت رکھنے والے لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو غریب کی بیٹیوں کی عزتیں نیلام ہوتی ہیں ۔
    تحریر
    زوہیب خٹک

    Twitter @zohaibofficialk

  • سوشل میڈیا اور سماجی رابطے تحریر ظفر ڈار۔

    سوشل میڈیا اور سماجی رابطے تحریر ظفر ڈار۔

    ہم اس نسل کے نمائندے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی ابتداء کمپیوٹر اور موبائل فون سے نہیں کی۔ ہمیں کالج کی کوئی اسائنمنٹ بنانے کیلئے بھی کمپیوٹر کی ضرورت نہیں تھی۔ پیشہ ورانہ زندگی میں کمپیوٹر ایک ٹائپ رائٹر کے طور پر استعمال ہونا شروع ہوا۔ ہماری ایک سیکرٹری ہمارے سرکلرز ورڈ سٹار پر ٹائپ کرتی تھی، پھر پرنٹ نکال کر دیتی اور ترمیم کا ایک سلسلہ شروع ہوتا اور آخر کار دو سے تین دن میں وہ مکمل ہوتا۔ ان کے پاس بڑی بڑی گراموفون کے ریکارڈ سائز کی ڈسک ہوتی تھی جس میں بہت تھوڑا سا ڈیٹا محفوظ ہوتا تھا۔ کمپیوٹر میں ڈیٹا محفوظ ہونے کی گنجائش بہت کم ہوتی تھی۔ لیکن اس وقت ہمارے دماغ میں گنجائش بہت زیادہ تھی، ہمیں سارے دوستوں اور رشتہ داروں کے ٹیلیفون نمبرز یاد ہوتے تھے۔ کوئی اجنبی بھی ملتا تو اس کا فون نمبر یاد ہو جاتا تھا۔ 

    موبائل فون اگرچہ Amps ٹیکنالوجی پر 90 کی دہائی میں دستیاب تھے لیکن ان کا حصول اور پھر انسٹافون سے کنکشن لینا بہت مہنگا سودا تھا، کیونکہ کال وصول کرنے پر بھی پیسے لگتے تھے۔ اس وقت یہ سہولت بڑی کمپنیوں کے سینئر منیجرز کے پاس ہی دستیاب ہوا کرتی تھی۔ میں ایک فلپس کا موبائل فون یورپ سے لایا تھا لیکن جب میں نے انسٹافون سے کنکشن اور ماہانہ چارجز کی معلومات لی تو بغیر سوچے سمجھے فوراً ارادہ ترک کر دیا۔ اس وقت میرے اپارٹمنٹ کا ماہانہ کرایہ اتنا ہی تھا جتنا فون کا متوقع بل۔

    پھر تیزی سے تبدیلیاں آنے لگیں، کمپیوٹر میں ونڈوز 3.1، پھر 95 ، 98 اور ملینیم بھی آگئیں۔ اس دوران ہارڈویئر میں بھی تبدیلی آتی رہی 1.5 MB کی فلاپی ڈسک، پھر سی ڈی 750 ایم بی، یوں لگتا تھا ہم بہت سا ڈیٹا سٹور کر سکتے ہیں۔ ہم نے ہر قسم کا ڈیٹا سی ڈی میں ذخیرہ کرنا شروع کر دیا۔ زندگی آسان ہوگئی لیکن یادداشت کمزور ہونے لگی۔ ہم نے دماغ کا سارا ڈیٹا کمپیوٹر میں جمع کر دیا اور ہمارے دماغ خالی ہو گئے۔ اسی دوران موبائل فون میں بھی نمایاں تبدیلیاں ہوئیں ۔۔۔ ایمپس سے جی ایس ایم اور پھر سم کارڈ، خیر یہ گفتگو پھر کبھی۔

    غالباً 1998 یا 99 میں ہمارے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ ایک جی بی کی ہارڈ ڈسک آرہی ہے اور اس میں اتنا ڈیٹا محفوظ ہو سکتا ہے کہ آپ کو زندگی بھر کسی سی ڈی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہم اس اطلاع پر بہت خوش تھے کہ ہمیں سی ڈیز کے ڈھیر سے نجات ملے گی۔ آج کے بچے اس خوشی کو نہیں محسوس کر سکتے، کیونکہ ان کے موبائل فون میں اس سے سو گنا زیادہ ڈیٹا آ سکتا ہے۔

    اسی دوران ہم ورلڈ وائڈ ویب یعنی www سے متعارف ہوئے اور انٹرنیٹ کا استعمال شروع ہوا جو ٹیلیفون لائن سے کنیکٹ ہوتا تھا اور یوں ہم دفتری نیٹ ورک کی ای میل سے ویب کی یاہو میل اور ہاٹ میل سے متعارف ہوئے جنہیں کسی بھی جگہ دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ ہمارے لئے ایک اور بڑی سہولت تھی۔ اس انٹرنیٹ کی دنیا میں پہنچے تو سوشل میڈیا کی پہلی سائٹ جس سے ہم متعارف ہوئے وہ فیس بک تھی۔ بہت ڈرتے ڈرتے اکاؤنٹ بنایا کہ کہیں پیسے نہ مانگ لیں۔ پھر ایک دوسرے سے اس کا استعمال سیکھتے رہے۔ مجھے یاد ہے کسی بھی پرانے یا نئے دوست سے ملتے تو پہلا سوال یہ ہوتا تھا "تم فیس بک پہ ہو نا ۔۔۔ آو کنیکٹ ہوتے ہیں” اور یوں فیس بک پہ دوستیاں ہونے لگیں۔ اس وقت کسی اجنبی کو ریکویسٹ بھیجنا بہت مشکل کام تھا۔

    فیس بک نے ہمیں پرانے دوستوں کو ڈھونڈنے میں مدد کی، دوسرے شہروں اور ملکوں میں رہنے والے پرانے دوستوں سے رابطہ کرا دیا لیکن بہت دیر میں یہ احساس ہوا کہ دور رہنے والوں سے رابطے کے عوض ہم قریب رہنے والے دوستوں سے بہت دور ہو گئے۔ اس وقت تک ہم کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں کھو گئے تھے جس نے ہمیں سکائپ پر وڈیو کال میں مصروف کر دیا تھا۔ پھر گوگل نے سب کچھ بدل دیا اور ہم گوگل میں دب گئے۔

    فیس بک پر جب غیر ضروری دوستیوں سے تنگ آگئے تو ٹویٹر، لنکڈ ان اور واٹس ایپ کا رخ کر لیا۔ گویا سوشل میڈیا نے ہمیں مکمل طور پر جکڑ لیا۔ جو وقت ہم گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ گزارتے تھے وہ سوشل میڈیا کی نظر ہونے لگا۔ کمپیوٹر پر موجود سارے ورچوئل دوستوں کو پہچاننے میں تو آسانی ہو گئی لیکن مجسم انسانوں سے نا آشنا ہو گئے۔ میں سولہ سال سے جس اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں، وہاں کسی کو نہیں جانتا لیکن مجھے معلوم ہے کہ اکثر پارکنگ میں ایسے لوگ ملتے ہیں جن سے میں سوشل میڈیا پر رابطے میں ہوں لیکن پڑوس میں رہ کر بھی کبھی ملاقات نہیں ہوتی۔ میں سوشل میڈیا کے دوستوں سے گفتگو کرتا ہوں، چیٹ اور وائس نوٹ بھیجتا ہوں لیکن  اپنے پڑوسیوں سے دور ہو گیا ہوں۔

    سوچتا ہوں ہماری اولاد جب ہماری عمر کو پہنچے گی تو ٹیکنالوجی انہیں کہاں لے جا چکی ہو گی ۔۔۔ ؟

    @ZafarDar

     https://www.facebook.com/zafarmdar

  • میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا  امتحان، تحریر: نوید شیخ

    میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    خبریں تو بہت ہیں لیکن اس حکومت کے لیے مسئلہ نمبر ون میڈیا بنا ہوا ہے ۔ آج کی بھی خبریں اور وزراء کے بیانات صرف یہ ہی تھے کہ کیسے بے لگام میڈیا کو لگام ڈالی جائے ۔ یہ حکومت اپنی کارکردگی ، وزراء اور مشیروں کا احتساب کرنے کو تیار نہیں ۔ پر میڈیا کے ہاتھ پاوں باندھا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے ۔

    معیشت کو ٹھیک کرنے اور پاکستان کو پتہ نہیں کیا بنانے کے جو دعوے کیے جاتے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی اعلی کارکردگی سے ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 170روپے کے قریب پہنچ گیا ۔ جس سے سٹاک مارکیٹ میں 1کھرب ڈوب گئے ہیں ۔ جی ہاں ایک کھرب روپے ۔ یہ وہ خبر ہے جو حکومت سمجھتی ہے کہ فیک نیوز ہے ۔ ایسے جب پیڑول ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے تو حکومت سمجھتی ہے کہ یہ بھی فیک نیوز ہے ۔ بجلی آٹے چینی کی قیمتوں میں اضافے کو بھی حکومت فیک نیوز کی نظر دے دیکھتی ہے ۔ حقیقت اور کھرا سچ یہ ہے کہ یہ حکومت ہی فیک ہے۔ اس کے کنڑول میں نہ تو اس کے اپنے وزیر ہیں نہ ہی بیوروکریٹ ۔ اور مافیاز تو اس حکومت کو استعمال کرتے ہیں ۔ ان کو کنٹرول کرنا اس حکومت کے بس میں نہیں یہ سچ آپ بتائیں گے تو آپکو غداری سے لے کر پٹواری جیالے سمیت پتہ نہیں کیا کیا طعنے دیے جائیں گے ۔ آپکو کہا جائے گا کہ آپ بھارت چلے جائیں ۔ آپ ایجنٹ ہیں۔ آپ بتائیں گے کہ ملک میں بے روزگاری ، مہنگائی اور کرائم بڑھ رہا ہے ۔ آپ کہیں گے کہ عثمان بزدار اورمحمود خان ٹکے کا کام نہیں کررہے۔ تو یہ اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں آپکے پیچھے لگا دیں گے جو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آپکو لعن طعن کریں گے ۔ یہ آپکو لفافہ کہیں گے ۔ یہ آپکو ننگی گالیاں دیں گے ۔ یہ آپکی ایسی کردار کشی کریں گے کہ آپ اپنی ہی نظروں میں گر جائیں گے ۔

    مجھے یہ کہتے ہوئے رتی برابر بھی نہ خوف ہے نہ ڈر ہے کہ سوشل میڈیا کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غلط استعمال پی ٹی آئی نے کیا۔ بلکہ باقی جماعتوں نے ان کی دیکھا دیکھی میڈیا سیل بنائے ۔ یہ واحد جماعت تھی جس نے کئی سال قبل برطانیہ، امریکہ ،سنگاپور اور یورپ میں خصوصی اور خفیہ سوشل میڈیا سیل قائم کئے تھے جو فیک اکائونٹس سے نقادوں کی کردار کشی کرتے رہے۔ ملک کے اندر مختلف اہم لیڈروں نے سوشل میڈیا کے اپنے اپنے سیٹ اپ بنائے ۔ جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی تنظیم کے سوشل میڈیا کے سیٹ اپس اس کے علاوہ تھے ۔ تو اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی فیک ٹرولنگ سے مجھے کوئی فرق پڑے گا تو یہ غلطی پر ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ سب سے زیادہ فیک نیوز حکومتی پارٹی خود پھیلاتی ہے ۔ میرا کام ہے یہ بتانا کہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ کن اذیتوں میں مبتلا ہیں ۔ اور میں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ۔ آپ جا کر میری گزشتہ ویڈیوز دیکھیں لیں ۔ کمنٹس پڑھ لیں ساری کہانی آپکو معلوم ہوجائے گی ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اس وقت نواز شریف اور آصف زرداری کے کرپشن اسکینڈلز سے لے کر بری گورننس کو ایکسپوز کیا جب وہ حکومت میں تھے ۔ ہم آج بھی کئی کیس اس دور کے بھگت رہے ہیں ۔ ہم پر حملے ہوئے ۔ ہم نوکریوں سے نکالے گئے ۔ لفافے لینے ہوتے تو نواز شریف سے زیادہ کون دے سکتا تھا ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اکیلے مریم کے میڈیا سیل کو ٹکر دیے رکھی ۔ تو میں اور میری ٹیم ان سے نہیں ڈری تو یہ جو جھوٹی ٹرولنگ میری کی جارہی ہے ۔ یا مجھے اور میری ٹیم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ میں ڈرنے والا نہیں ہوں میں سچ بولوں گا ۔ کیونکہ مجھے ہے حکم اذان

    ہ مالشیوں اور پالشیوں کی تو ہی دور میں ہی آؤ بھگت ہوتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ میں یہ نہیں کروں گا ۔ یہ میں بتادوں کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے میڈیا کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے ۔ اگر یہ قانون بن گیا تواس کے بعد حکومت پر تنقید کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ صرف اخبار نہیں اور الیکٹرونک چینلز نہیں بلکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول بھی حکومت کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کالے قانون کے لئے عمران خان اور ان کے ترجمان یہ بھونڈی دلیل دے رہے ہیں کہ وہ فیک نیوز کا خاتمہ چاہتے ہیں حالانکہ سب سے زیادہ فیک نیوز خود یہ حکومت پھیلارہی ہے ۔ شائد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بارعوام نے یہ افسوسناک منظر دیکھا ہے کہ کسی وفاقی وزیر نے بے دریغ اور بلا جھجک الیکشن کمیشن آف پاکستان پر پیسے لینے کی سنگین تہمت عائد کی ہے۔ کیا وفاقی وزیر کے پاس ثبوت ہیں ۔ کیا یہ فیک نیوز نہیں ہے ۔ اپوزیشن سمیت سب عوام اس الزام پر ہل کر رہ گئے ہیں ۔ چنانچہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت اُس سیاسی جماعت کا نام بتائے جس نے الیکشن کمیشن کو بطورِ رشوت پیسے دیے ہیں۔ اس پرحکومتی وزیر کہتے ہیں کہ ہم کو بلیک میل کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے خلاف میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں آٹا ، چینی ، گھی ، بجلی ، دوائیوں ، پیٹرول مافیا پر اس حکومت کے بیانات اور فیک نیوز کی ایک داستان ہے جس پر اگرکوئی کتاب لکھنے بیٹھے تو صحفے کم پڑجائیں ۔ حکومت اگر فیک نیوز کا خاتمہ چاہتی ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے خلاف ہتک عزت کے کیسز چل رہے ہیں ۔ قانون بنا دے کہ ان کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونا چاہئے ۔ آج بھی تمام حکومتی وزیر ڈھٹائی سے کہتے رہے کہ حکومت کو غلط خبر نشر ہونے پر صحافتی ادارے پر 25 کروڑ جب کہ صحافی پر ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید تک سزا دینے کا اختیار ہونا چاہیے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ یہ پتہ کیسے لگائیں گے کہ فیک نیوز کونسی ہے؟ کیا فیک نیوز وہ ہوگی جسے حکومت کہہ دے کہ یہ فیک نیوز ہے۔ یعنی حکومت جسے سچ قرار دے، وہ ہی سچ ہو گا۔

    ویسے بھی کون سا صحافی ہے جو چاہے گا کہ وہ فیک نیوز دے ۔ اس ملک میں خبر کی حرمت کی خاطر صحافیوں نے صرف ماریں نہیں کھائیں اپنے گلے تک کٹوائے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کی شکل بگاڑنے کی جو کوششیں کی گئی ہیں ۔ اُن سے کون واقف نہیں۔ کئی چینل و اخبارات سخت مالی دباؤ کا شکار ہوکر بند ہوگئے ہیں ہزاروں صحافی بے روز گار ہوگئے اور کئی ادارے مقروض ہوگئے۔ پاکستان صحافت کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 138ویں پوزیشن سے145ویں پوزیشن پر چلا گیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ اس حکومت نے خود ایک فیک نیوز کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ اس حکومت میں جو جتنا جھوٹ بولے ۔ جو جتنے اچھےطریقے سے مخالفین کو لتراڑے اس کو اتنا ہی اچھا عہدہ مل جاتا ہے ۔ اس حکومت نے چن چن کر بدتمیز ، اخلاق سے گری گفتگو کرنے والوں ، رنگ بازوں اور نااہلوں کی فوج کو جمع کر رکھا ہے ۔ جس کا کام بس روز دن میں دس دفعہ میڈیا پر آکر لوگوں کی کردار کشی کرنا ہے ۔یعنی جتنا لُچا اتنا اُچا۔ میڈیا پر اس قدر پابندیاں تو شاید ڈکٹیٹر شپ کے دور میں بھی نہیں لگی تھیں جتنی آج لگائی جا رہی ہیں ۔ لہٰذا حکومت، عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ کیونکہ نہ یہ حکومت صدا رہنے ہے ۔ نہ عہدے صدا رہنے ہیں ۔ نہ کرسی صدا رہنی ہے ۔ دراصل پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ اس خواہش کا عملی اظہار پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالتے ہی کر دیا تھا۔ پچھلے تین برسوں کے دوران بھی خان صاحب کی حکومت ملکی میڈیا کو زیرکرنے اور اپنے ڈھب پر کرنے کی لاتعداد کوششیں کر چکی ہے۔ کئی صحافی اور میڈیا ورکرز لمبے حکومتی ہاتھوں کا ہدف بنے ہیں۔ یہ میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا بھی امتحان ہے۔ اپوزیشن کی ساری قیادت اور ملک کی نمایاں وکلا تنظیموں نے بھی میڈیا ورکرز کے اس احتجاج میں شرکت کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ وعدہ کہاں تک ایفا ہوتا ہے

  • کرونا اور حکومتی دوغلا پن، تحریر: محمد شعیب

    اس وقت ہمارا ملک کرونا وائرس کی چوتھی لہر چل رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لاک ڈاون دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے بلکہ ویکسین کو لیکر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں تک بھی سننےمیں آ رہا ہے کہ یہ پورا مہینہ ہی لاک ڈاون کی نظر ہو سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی ہے جسے مکمل طور پرvaccinateکرنا ہے اور جب یہ ہدف حاصل کرلیں گے تو ستمبر کے آخر میں پانبدیوں میں کمی ہو گی۔ اور 30 ستمبر تک جن لوگوں نے دونوں ڈوز نہیں لگوائیں ہوں گی ان پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔فضائی سفر پر پابندی ہوگی، شاپنگ مالز میں دکانداروں اور گاہکوں دونوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ بند کردی جائے گی، انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شادیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے، تعلیمی اداروں میں ویکسین نہ لگوانے والا عملہ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔

    ٹھیک ہے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کرونا وائرس بہت خطر ناک ہے ہمیں اس سے بچاو کے لئے ہر صورت احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کرونا اور اس سے بچاو کی ویکسین کو لیکر مختلف ممالک اور مختلف حکومتوں کے رویے اتنے دوغلے کیوں ہیں؟پابندیوں کے معیار مختلف کیوں ہیں؟جس کام میں حکومت کی مرضی ہو اس کام پر چھوٹ کیسے مل جاتی ہے؟صرف چند چیزوں کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟کورونا وائرس جب پھیلنا شروع ہوا تو ہم نے دیکھا کے بہت سے ممالک میں بہت سخت لاک ڈاون لگایا گیا جبکہ کچھ ممالک میں بغیر لاک ڈاون کے بھی اس پر قابو پا لیا گیا۔ اور اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو عجیب ہی صورتحال ہے جب گزشتہ سال کورونا وبا کی شروعات تھی توپاکستان میں سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ عوام کو گھروں میں بند کردیا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سخت لاک ڈاون کے بعد کرونا وائرس کا پاکستان سے خاتمہ ہو جاتا اور اب ہم سکون میں ہوتے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ وائرس شدید سے شدید ہی ہوتا گیا۔ کیونکہ جن ممالک سے یہ وائرس یہاں آ رہا تھا ان کی فلائٹس بند کرکے ہم اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بچاو کے لئے فلائٹس بند نہیں کیں لیکن خود پر پابندیاں لگوا کر ریڈ لسٹ میں ضرور آ گئے۔ اور اب جیسے جیسے ویکسین کو لیکر حکومت عوام پر دباو بڑھا رہی ہے تو لوگوں کی طرف سے اس پر تنقید بڑھتی جا رہی ہےدراصل لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو اس فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ویکسین لگوائیں یا نہ لگوائیں یا ابھی نہ لگوائیں اور کچھ عرصہ بعد لگوائیں لیکن حکومت بضد ہے کہ اگر ویکسین نہ لگوائی تو سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہیں ملے گی، ہم سم بند کر دیں گے، شناختی کارڈ بلاک کردیں گے۔ کسی دفتر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ جسے عوام حکومت کی بدمعاشی کہہ رہی ہے۔ اور یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت یہ دھمکیاں پاکستانیوں کو دی جارہی ہیں اور ان کی پرسنل لائف میں دخل دیا جارہا ہے؟اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج جب اس وائرس کے پھیلاو کو شروع ہوئے تقریبا دو سال ہونے والے ہیں اور ویکسین کا عمل شروع ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں تو عوام ابھی تک اسے قبول کیوں نہیں کررہی عوام اتنیConfuseاور ڈری ہوئی کیوں ہے؟دراصل اس کی وجہ دنیا کے کئی ممالک اور ان کی حکومتوں کا دوغلا پن ہے۔سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کی ہی بات کر لیں تو حکومت کی طرف سے شادی ہالز میں تین سو لوگوں کی اجازت ہے۔ پارکس میں پانچ سو لوگوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ لوکل بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ بازاروں میں رات آٹھ بجے تک خوب ہجوم ہوتا ہے۔ لیکن سکولز بند ہیں۔۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ فیل ہونے والے طلبہ کو بھی رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا اور آئندہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع ہوگا۔اور اگر کہیں پابندیوں میں نرمی بھی کر دی جائے تو تعلیمی ادارے 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولے جاتے ہیں Alternate daysمیں کلاسز ہوتی ہیں۔جب کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو سب ماہرین نے خود ہمیں یہ بتایا تھا کہ بچوں کے لئے یہ وائرس خطرناک نہیں ہے بچے صرف اس وائرس کےCarrier ہوتے ہیں۔ تو اب جب بڑوں کو ویکسین لگ چکی ہے اور بچوں کا اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تو سکولز ابھی تک کیوں بند ہیں؟ اگر کھولے بھی جا رہے ہیں تو پچاس فیصد حاضری کیوں؟ ایک بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں تو کلاس میں پچیس بچے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ اور بھی بہت سے ممالک ہیں جہاں بہت سخت لاک ڈاون لگائے گئے تھے لیکن جب لاک ڈاون ہٹایا گیا تو سب سے پہلے سکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا گیا اور اس کے بعد سے اب تک وہاں سکول کھلے ہوئے ہیں اس کے بعد سکولز بند نہیں کئے گئے۔تو جب باقی ممالک میں سکولز کھولے جا سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ پاکستان میں جب لاک ڈاون میں نرمی کی بات آتی ہے تو سکولز کا نمبر سب سے آخر میں کیوں؟ کیا پاکستان میں وائرس کی کوئی خاص قسم ہے جو سکولز میں زیادہ ایکٹیو ہے؟اور ساتھ ہی پندرہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کو بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہCarrier ہیں آپ نے ان کو ویکسین لگانی شروع کر دی حالانکہ کوئی بھی ویکسین کیوں نہ ہوBioNTech, Pfizer CanSino CoronaVac Moderna Oxford, AstraZenecaSinopharm Sputnik V ان کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ویکسینز کرونا سے بچاو میں کارگر نہیں ہیں یہ کرونا کا علاج نہیں ہیں۔ ان کا رول صرف اتنا ہے کہ اگر آپ کو کرونا ہو جائے تو یہ آپ کی حالت کو زیادہ بگڑنے نہیں دیتیں کہ کسی انسان کو ventilator کی ضرورت پڑے یا خدانخواستہ کسی کی موت ہو جائے۔ صرف اس بنیاد پر ہم خود بچوں کے اندر ویکسین کی صورت میں وائرس والا جراثیم ڈال رہے ہیں تاکہ ان کی Immunityبڑھ جائے۔اور جبکہ ان ویکسینز کے بہت سے Side effectsکے کیسسز بھی سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت جلدی میں بنائیں گئیں ہیں آج تک تاریخ میں کوئی ویکسین بھی تیار کرکے اتنی جلدی سب انسانوں کو نہیں لگائی گئی جتنی جلدی اس ویکسین کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے لازمی قرار دے کر زبر دستی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی جن کو کرونا ہو چکا اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہیں ان کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔

    سکولز کے ساتھ ساتھ یہی حال مساجد کا بھی ہے اور یہی دوغلاپن آپ کو سیاسی سرگرمیوں میں بھی نظر آئے گا۔ جب بھی جس سیاسی جماعت کا دل کرتا ہے وہ جلسے جلوس کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں کوئی ایس او پیز فالو نہیں کی جاتیں اور اتنی بڑی تعداد میں عوام کا ہجوم اکھٹا کر لیا جاتا ہے۔ اور تو اور آپ خود دیکھ لیں کرونا کی وجہ سے سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن الیکشنز بند نہیں ہوئے لوگ پولنگ بوتھ پر اکھٹے ہو رہے ہیں ایک بیلٹ پیپر کتنے ہاتھوں سے گزر رہا ہے ایک ہی سٹیمپ سے کتنے لوگ ٹھپا لگا رہے ہیں لیکن وہاں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔اور یہ دوغلا پن صرف پاکستان میں نہیں ہے اور بھی کئی ممالک میں ہے آپ سعودیہ عرب کی ہی مثال لے لیں۔ سعودیہ عرب میں حرم خالی ہے حج تقریبا معطل ہے۔ عمرہ بھی بند ہے۔ لیکن 5 جولائی 2021 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق حج مقامات پر جانے پر 20 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سینما ہالز کھلے ہیں فلم فیسٹیول ہو رہے ہیں۔ کورونا کے ‏دوران 20 نئے سینما کھل گئے۔ آخری 2 سینما 19 اگست 2021 کو ریاض اور طائف میں کھولے گئے۔ دو ہزار بیس میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی لیکن سعودیہ میں 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے 13 میں سے 9 صوبوں میں سینما کھل چکے ہیں جن میں سے 21 ریاض، 9 مکہ مکرمہ ریجن اور 8 مشرقی ریجن میں کھولے گئے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب میں سینما گھروں کی تعداد 12 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 33 تک پہنچی اور اب 44 ہوگئی ہے اور یہ وہ وقت ہے جب کرونا اپنے عروج پر رہا ہے۔ جدہ اورریاض میں بڑے میوزیکل ‏کنسرٹ ہوئے ہیں فٹ بال میچز بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن لوگ حرم شریف میں نہیں آ سکتے؟
    وہاں جانے کے لئے تو ابھی تک کوئی ویکسین بھی فائنل نہیں کی جا رہی کہ لوگوں کو پتہ ہو کہ اگر ہم یہ ویکسین لگوا لیں تو اس کے بعد حج یا عمرہ کے لئے جا سکتے ہیں لیکن نہیں صرف اپنی مرضی کی جگہیں کھولنی ہیں اور جہاں مرضی نہیں ہے وہاں سب بند ہے۔

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتوں کی ان دوغلی پالیسیز کی وجہ سے عوام ابھی تک اس وائرس کو لیکر کنفیوز ہے۔ جس طرح زبردستی ویکسین لگائی جا رہی ہے عوام اس سے ڈری ہوئی ہے۔ اگر پوری دنیا میں یہ وائرس ہے تو پوری دنیا کا اس سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ سیاسی ہجوم کی اجازت ہے الیکشنز کی اجازت ہے لیکن سکولز اور مساجد پر پابندی ہے۔ ایک پالیسی بنائیں اور اس کو ہرجگہ لاگو کریں اور جہاں تک بات ویکسین کی ہے تو پہلے لوگوں کا اس پر اعتماد بحال کریں پھر ویکسین لگائیں تاکہ لوگوں میں بے چینی ختم ہو عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہی چلانے کا وتیرہ مت اپنائیں اس میں سب کا نقصان ہے۔

  • متوازن غذا  تحریر : عفراء مرزا

    متوازن غذا تحریر : عفراء مرزا

    مرغیاں کوفتے مچھلی بھنے تیتر بٹیر
    کس کے گھر جاے گا سیلاب غذا میرے بعد
    مندرجہ بالا شعر تو مجید لاہوری کا ہے جس میں انھوں نے دل کھول کر بدپرہیزی کی ہے ۔ گوشت کے دل دادہ شاعر نے زبان کے چسکے کو اس قدر خوب صورتی سے ادا کیا ہے کہ شعر زبانی یاد ہوگیا ہے ۔ انسانی جسم کو جس قدر گوشت کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ سبزیوں کی اور دیگر لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔

     متوازن غذا ہی جسم کو توانا و تن درست رکھتی ہے ۔ جس قدر بہ ترین اور معیاری خوراک کا انتخاب کیا جاے گا ۔ اسی قدر جسم طاقت ور، صحت مند اور مدافعتی اعتبار سے مضبوط ہوگا ۔

    غذائیت سے بھرپور خوراک کے ذرائع ایسے ہوں جو جسم کی تعمیر و تشکیل اور مکمل نشوونما کرسکیں ۔ وٹامنز ، پروٹینز، چکنائی ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، کلورین ، گندھک ، آکسیجن اور سوڈیم وغیرہ ہمارے بدن میں بیماریوں سے دفاع کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھنے میں اہم ترین ذریعہ ہیں ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مندرجہ بالا اجزاء سے ہی بدن قائم رہتا ہے ۔

     ہم کو خیال رکھنا چاہیے کہ کیا کھایا ہے جب کہ ہم میں سے اکثر خیال رکھتے ہیں کہ کتنا کھایا ہے ۔ حالاں کہ ایک ترین چیز کیا کھایا ہے ۔

     جسم کی نشوونما ، قد کی مناسب بڑھوتری، بینائی اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن اے کو لازمی حیثیت حاصل ہے جو کہ حیوانی غذاؤں مثلاً دودھ، دہی، پنیر، مکھن ،دیسی گھی اور چربی والے گوشت کے علاوہ دیگر میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔

     سبزیوں میں گاجر ، ٹماٹر ، پالک ، بند گوبھی وغیرہ میں مخصوص مقدار کے ساتھ پایا جاتا ہے۔  اعصابی نظام کو متحرک رکھنے ، دل و دماغ اور اعضا کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے وٹامن بی کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ تمام ترکاریوں ، سبزیوں ، پھلوں اور گندم ، مکئی ، دالیں اور دودھ کی مصنوعات میں اس مقدار کافی موجود ہوتی ہے ۔

     وٹامن سی آنکھوں ، دانتوں ، مسوڑھوں اور جلد کی حفاظت کرتا ہے ۔ عام جسمانی کم زوری کو دور کرنے میں اہم کردار اسی وٹامن کا ہوتا ہے ۔ ممکنہ حد تک پھل چھلکوں سمیت  اور سبزیاں کچی کھائیں ۔


     حد سے زیادہ سبزیوں و ترکاریوں کو دھونے ، پکانے اور بھوننے سے یہ نازک و لطیف وٹامن ضائع ہوجاتا ہے۔  وٹامن ڈی کا کردار بھی لازم ہے کہ اس کا کام دانتوں کی مضبوطی اور حفاظت کرنا ہے ۔


     موسم سرما کی دھوپ اور مالش کرنا اس کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیجیے۔  وٹامن ای انسانی نسل کشی اور افزائش کے لیے ضروری ہے۔ بوڑھاپے کے اثرات کو روکنا اسی وٹامن کا کام ہے ۔ یہ گندم ، باجرا ، جو، چنا، پستہ، بادام ، چلغوزہ و تلوں کے تیل میں کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ نشاستہ کا کردار بدن میں ایندھن جیسا ہے اور جسم کو قوت توانائی فراہم کرنے کا بہ ترین ذریعہ ہے ۔

     پروٹین عضلات اور جسم کی دوسری بافتوں کی نشوونما کے لیے ایک لازمی جزو ہے جو کہ گوشت، انڈا، دودھ ، مکھن ، مختلف روغنیات، پالک، گاجر ، مٹر، لوبیا اور دالوں وغیرہ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کیلشیم ، فولاد ، میگنیشیم ، گندھک ، آئیوڈین ، کلورین ، سوڈیم ، پوٹاشیم ، فاسفورس ، زنک اور کئی دیگر وٹامنز بھی ہیں جو کہ جسم کے لیے لازم ہیں ۔

    ذرا سی احتیاط اور بہ ترین غذائی انتخاب ہمارے لیے صحت و تن درستی کا پیام بن جاتا ہے ۔ غیر معیاری اور ناقص خوراک کا استعمال ، عدم صفائی اور غیر صحت مندانہ طرز عمل ہمیں بیماریوں کی دعوت دیتا ہے۔ بازاری اشیاء سے حتی الامکان اجتناب اور معتدلانہ طرز زیست ہی ہمیں توانا و تن درست رکھ سکتا ہے ۔

    AframirzaDn

  • شمالی کوریا کا ٹرین کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ ،  جاپان نے اشتعال انگیزی قرار دیدیا

    شمالی کوریا کا ٹرین کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ ، جاپان نے اشتعال انگیزی قرار دیدیا

    شمالی کوریا نے ٹرین کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہےشمالی کوریا ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر ایسا نظام تیار کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : میزائل کو شمالی کوریا کی مشرقی بندرگاہ کے قریب چلتی ہوئی ٹرین سے داغا گیا ٹرین لانچ میزائل نیا نظام ہے جو حملہ آور دشمن کو نشانہ بنانے کیلئے تیار کیا گیا ہے شمالی کورین حکام کے مطابق میزائل نے مشرقی ساحل سے800 کلومیٹر دور سمندر میں ایک ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے داغے گئے میزائل ایک نئے "ریلوے سے چلنے والے میزائل سسٹم” کی آزمائش ہیں جو کسی بھی طاقت کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے

    جنوبی کوریا اور جاپانی حکام نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انہیں شمالی کوریا کی جانب سے کیے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کا پتہ چلا ہے۔اس سے چند دن پہلے ہی اس نے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ایٹمی صلاحیت ہو سکتی ہے۔

    شمالی کوریا نے میزائل کی لانچنگ اسی دن کی جب جنوبی کوریا نے سب میرین سے مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    جاپان کے وزیراعظم یوشڈی سوگا نے میزائل لانچ کو ‘اشتعال انگیز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خطے کا امن اور سلامتی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے رواں ہفتے یہ دوسرا میزائل تجربہ ہے بیلسٹک میزائل کے تجربات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں جو شمالی کوریا کی ایٹمی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

    رواں ہفتے کے آغاز پر شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا جو کہ جاپان کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    افغانستان کےمسئلے پر پاکستان سے رابطے میں ہیں امریکا