Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    سلطنت عثمانیہ اور تیموری سلطنت  حصہ دوئم: تحریر اصغر علی

    –  

                                             Written by : Asghar Ali 

    حصہ دوئم:-                                                          انقرہ شہر کا محاصرہ ہو چکا تھا صرف یہی نہیں اس کے بعد امیر تیمور کی فوج نے سلطان بایزید اول کے واپسی کے راستے پر تمام فصلیں اور گودام جلا ڈالے اب سلطان بایزید اول کے لیے واپس انقرہ جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا اور واپس اسی راستے سے جانا تھا جس راستے پر امیر تیمور کی فوج  نے سب کچھ جلا دیا تھا اب نہ کچھ کھانے کو تھا اور نہ ہی کچھ پینے کو اور تیموری لشکر ایک ایسی جگہ پر  تھا جہاں پر گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا اس جگہ پر امیر تیمور کو تین فائدے تھے نمبر ایک گراؤنڈ اس کی مرضی کا تھا نمبر 2 امیر تیمور کی فوج سلطان بایزید اول سے 60 ہزار سے زیادہ تھی جبکہ اس فوج میں ہندوستان سے لائے گئے ہاتھی بھی شامل تھے نمبر تین  امیر تیمور کی فوج کو آرام کرنے کا موقع مل گیا تھا اس کے مقابلے میں سلطان بایزید اول کی فوج کو دیکھیں اس مقام پر اس کو تین بڑے نقصان تھے ایک اس کی فوج منظم بھی نہیں تھی ایک لمبے سفر سے بھوک اور پیاس کا مقابلہ کر رہی تھی دوسرا یہ یہ کہ لمبے سفر کے باعث بھوک اور پیاس سے بیس ہزار سپائی راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے تیسرا بڑا نقصان فوج کی تنظیم میں چھپا تھا وہ یہ کہ اس میں تین طرح کے لوگ تھے یعنی وہ فوج ایک منظم اور اکٹھی فوج نہیں تھی اس میں میں سب سے پہلے جینیسیریز تھے جو کہ وہ سلطان بایزید اول کے بھروسے کے لوگ تھے اس کے بعد وہ ترک اور تاتاری سپاہی تھے جن کو پیسے دے کر فوج میں شامل کیا گیا تھا اور وہ کسی بھی لالچ کے تحت کسی بھی ٹائم ترک فوج کو چھوڑ سکتے تھے تیسرے وہ یورپی دستے جو سلطنت عثمانیہ کی وفاداری کے تحت اس کے ساتھ شامل تھے اب ڈیڑھ لاکھ تیموری فوج 70 ہزار  عثمانی فوج کے سامنے کھڑی تھی یہ بات دونوں سلطان بایزید اول امیر تیمور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ ایک بہت بڑی جنگ ہونے جا رہی ہے کیونکہ اس وقت پوری روئے زمین پر ان دونوں سے بڑی اور خطرناک سلطنتیں اور کہیں نہیں تھی دونوں سلطان جو کل تک ایک دوسرے کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے تھے آج ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں اب جنگ باضابطہ طور پر شروع ہو چکی تھی پہلا حملہ امیر تیمور کی جانب سے ہوا مگر اس کو ترک فوج نے پسپا کردیا جیسے جیسے جنگ آگے بڑھتی گئی امیر تیمور کا لشکر عثمانی سلطان کے لشکر پر حاوی ہوتا چلا گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ امیر تیمور کی فوج سلطان سلطان بایزید ثانی کی فوج کو شکست دینے لگی اب سلطان بایزید اول کے پاس چند ہی وفادار سپاہی بچے تھے جن کو جینسیریز کہتے تھے تیموری فوج طاقت کے ساتھ ساتھ تیرے برساتی رہیں لیکن کب تک جینسیریز ان کا مقابلہ کرتے جب سلطان نے دیکھا کہ امیر تیمور کی فوج حاوی ہونے لگی ہے تو وہ میدان جنگ سے فرار ہو گیا یہاں پر پر اب امیر تیمور کی تیموری فوج جیت چکی تھی مگر سلطان بایزید اول ان کی حراست میں نہیں تھا اور ان کے سامنے سے زندہ فرار ہو چکا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ہوا ایک ایک تیموری گھڑسوار نے بھاگتے ہوئے سلطان بایزید اول کے اوپر تیر برسایا جس کا گھوڑا زخمی ہو گیا اور سلطان زمین پر گر گیا اور امیر تیمور کا قیدی بن گیا یہ سلطنت عثمانیہ کے لیے بدترین شکست تھی اس سے بدترین شکست عثمانیوں کو آج تک نہیں ہوئی تھی اب سلطنت عثمانیہ کا سلطان امیر تیمور کا قیدی تھا اور اس کے تین بیٹے بھی امید تیمور کی تلواروں کے نیچے تھے لیکن امیر تیمور نے اس کے بیٹوں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ تیمور کی اطاعت قبول کرتے رہیں گے سلطان بایزید اول یورپ کا بہت بڑا فاتح تھا اور وہ یہ اذیت برداشت نہ کر سکا اور چند ماہ بعد دوران قید ہی مر گیا اس کے کچھ ہی ماہ بعد1405 میں امیر تیمور بھی مر گیا اس کے بعد تیموری سلطنت کافی حصوں میں ٹوٹ کے بکھر گئی جب کہ سلطنت عثمانیہ بھی سلطان بایزید اول کے تینوں بیٹوں میں بٹ چکی تھی  بھائی بھائی کے خون کا پیاسا تھا اور پوری سلطنت خانہ جنگی میں چلی گئی لیکن اس خانہ جنگی میں سلطنت عثمانیہ بکھری ضرور مگر ٹوٹی نہیں اس کی وجہ  تھی کہ یورپ میں کوئی بھی ایسی طاقت نہیں تھی جو سلطان بایزید کی حکومت ختم ہونے کے بعد یورپ سے ترکوں کو نکالنے کی کوشش کرتی یا اناطولیہ پر قبضہ کرتی اور دوسرا یہ کہ امیر تیمور اور اس کے ساتھی بھی اناطولیہ میں ٹھہر کر  عثمانی سلطنت پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے ترک سلطنت کو تیمور اور اس کے جانشینوں نے بھی کنٹرول میں نہیں لیا تو بہرحال بایزید کے چار بیٹے محمد اول عثمان عیسی اور موسی کے درمیان اگلے 11 سال تک خونریز جنگ ہوتی رہی اس میں عثمان عیسی  مارے گئے اور موسی فرار ہوگیا اور محمد اول بچ گیا اس طرح سلطنت عثمانیہ کو ایک نیا سلطان محمد اول مل گیا تھا اور سلطنت عثمانیہ ایک دفعہ پھر دنیا کے نقشے میں چودہ سو چودہ میں نمودار ہوگی سلطان محمد اول نے ایک تاریخی کام کیا کہ اس نے ترکوں کی تاریخ لکھوانا شروع کر دی آج ہم ترکوں کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ سلطان محمد اول کی مرہون منت ہے

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI

  • کیا ہم انسان ہیں؟  تحریر: ظفر ڈار

    کیا ہم انسان ہیں؟ تحریر: ظفر ڈار

    @ZafarDar 

    کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہم کسی ظلم اور جبر کی داستان نہ سنیں۔ کہیں قتل وغارت تو کہیں لوٹ مار، کہیں عزتوں کے سودے اور کہیں خواہشات کی غلامی میں معصوم بچوں اور بچیوں کی آبروریزی۔ کسی بھی حساس انسان کیلئے خود کو ایسی خبروں سے بے نیاز رکھنا ممکن نہیں ہوتا اور لامحالہ ہماری سوچ ہمیں اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہم انسان بھی ہیں یا محض لباس انسان میں ہیں؟

    اللہ تعالٰی نے ہمیں انسان بنا کر اشرف المخلوقات قرار دیا، حتیٰ کہ اپنے عبادت گزار فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ فرشتوں کو حکم ربی بجا لانے کا ہی اختیار ہے، انکار کا نہیں۔ جس نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی وہ اگرچہ گروہ جنات سے تھا لیکن اپنے علم کی وجہ سے فرشتوں کا سردار تھا، ابلیس سے شیطان بن کر ہمیشہ کیلئے معتوب ہو گیا۔ یوں اللہ تعالٰی نے انسان کی فضیلت اپنی تمام مخلوقات پر قائم کر دی۔ اللہ کی ہزاروں مخلوقات میں سے اس دنیا میں ہمارا واسطہ حیوانات و نباتات سے رہتا ہے اور کبھی کبھار جنات سے لیکن وہ ایک غیر مرئی تعلق ہے۔

    انسان اور حیوان اس دنیا میں تقریباً ایک جیسے انداز میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی پیدائش و افزائش نسل، سونا، جاگنا، کھنا پینا، ہضم کرنا اور دیگر معاملات انسانوں کی طرح ہی ہیں۔ اسی لئے میڈیکل کے طالبعلموں کو جانوروں کے نظام پر پہلے تجربات کرائے جاتے ہیں اور کسی بھی نئی دوا کو متعارف کرنے سے پہلے اس کی افادیت اور مضر اثرات جاننے کیلئے جانوروں پر ہی تجربات کئے جاتے ہیں۔ تمام خصوصیات میں مماثلت کے باوجود ایک فرق جو انسان اور جانور میں تفریق کرتا ہے وہ شعور ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، اچھے برے کی تمیز، اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔ اللہ نے انسان کو بے شمار معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے جو اپنی مرضی اور سوجھ بوجھ کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ گویا انسان جب اپنے علم، شعور اور دماغی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے تو وہ انسان کے درجے سے نکل کر حیوان کے درجے میں شامل ہو جاتا ہے۔

    انسانیت کو معراج اس وقت عطا ہوئی جب اللہ نے انسانیت پر احسان فرمایا اور اپنے محبوب ﷺ کو خاتم الانبیا بنا کر مبعوث فرمایا۔ گویا مسلمان ہونا اور حضور اکرم ﷺ کا امتی ہونا ہمیں انسانیت کے اعلٰی ترین مرتبے پہ فائز کرتا ہے۔ اگرچہ ایک مسلم معاشرے کا رکن ہونے کے ناطے میرا فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں اور میرا دین وہ مکمل دین ہے جس کے بعد کسی مزید ترمیم اور اصلاح کی ضرورت اور گنجائش نہیں اور جو قیامت تک قائم رہنے والا ہے۔ اس طرح دین فطرت اور سرکار ﷺ کے امتی ہونے کے ناطے ہم سب مسلمانوں کا طرز عمل دیگر انسانوں (اور مذاہب کے ماننے والوں) سے بہت اعلٰی معیار کا ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن مجید اور محسن انسانیت ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہماری راہنمائی کیلئے موجود ہے۔

    لیکن جب ہم عملی طور پر موجودہ معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اکثر غیر مسلم، انسانیت کا بہتر نمونہ نظر آتے ہیں۔ جو احکام اسلام نے ہمیں دئے، ہم نے انہیں بھلا دیا اور غیر مسلموں نے ان احکام کو اپنی زندگیوں اور معاشروں میں رائج کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ اخلاقی طور پر ہم سے بہتر نظر آتے ہیں۔ جبکہ ہم عمل سے خالی ہونے کے باوجود خود فریبی کا شکار ہیں۔ اگرچہ ہم حقوق اللہ کی طرف مائل ضرور ہیں لیکن حقوق العباد سے بہت دور ہیں جبکہ دین ہمیں معاشرت سکھاتا ہے۔ "تم میں سے بہتر وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے  مسلمان محفوظ رہیں” یہ کس طرف اشارہ ہے؟

    ابھی تک کی گفتگو میں یہ معاملہ زیر غور لانا چاہ رہا ہوں کہ معاشرتی رویوں اور اپنے عمل سے ہم نے خود کو انسانی درجے سے بھی نیچے حیوان کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ جو یہ نہیں سوچتا کہ میں کسی کے ساتھ ظلم کیوں کر رہا ہوں؟ کیا مجھے اللہ کے سامنے حاضر نہیں ہونا جہاں مجھ سے سوال کیا جائے گا؟ میں کسی کی ماں، بہن یا بیٹی کے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں تو کوئی میری بہن بیٹی کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے۔ ہمیں حیوان کی سطح سے انسان اور پھر مسلمان کی سطح پر واپس آنا ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر معاشرہ دے سکیں۔ خود کو تبدیل کئے بغیر ہم ریاست مدینہ کے خواب کی تعبیر نہیں حاصل کر سکتے۔

    یاد رکھیں قومیں ترقی اسی صورت میں کرتی ہیں جب وہ اچھے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں۔ آج یورپ اور امریکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہیں تو دو سو سال پہلے یہ صورتحال نہیں تھی۔ اور آج ہم مسلمان تباہی اور اخلاقی پستی کا شکار ہیں تو چند سو سال پہلے تک ہم ایک تہائی دنیا پر حکومت کرتے رہے ہیں۔

    تحریر: ظفر ڈار

    @ZafarDar 

  • چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے  تحریر: علی خان

    چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے تحریر: علی خان

    @hidesidewithak

    جب بھی عوامی مسائل  اور ترقی نہ  ہونے کی بات ہوتی ہے تو کرپشن کو اسکا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہر دور حکومت میں ماضی کے حکمرانوں ، بیوروکریٹس اور صنعت کاروں اور تاجروں پر بدعنوانی اور فراڈ کے الزامات لگتے ہیں لیکن  صدقے جائیے ہمارے نظام انصاف کے کہ آج تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ الزام ثابت بھی ہوجائے تو  مجرم پوری ڈھیٹائی سے  اس وقت تک اپنے  بے گناہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے  جب  تک کوئی  دوسری حکومت برسراقتدار نہیں آجاتی یا ادارہ احتساب سے ڈیل نہیں ہوجاتی۔  سیاستدانوں کے لیےمعاملہ زیادہ آسان ہوتا ہے کہ انہیں پانچ یا دس سال کے وقفے سے اقتدار دوبارہ مل جاتا ہے اور ان کا لوٹ کا پورا مال ہی بچ جاتا ہے

    آج کل اپنے سنہری دور کے انتظار  کرنے والے سیاستدانوں میں 35 سال اقتدار کے مزے لوٹنے والے 3 بار کے وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب  بھی شامل ہیں۔ میاں صاحب پر پاناما پیپر اسکینڈل کے بعد  کیس چلنا شروع ہواتو انکے وکلاء کی جانب سے بار بار پینترے بدلے گئے۔ میاں صاحب نے دادا سے جائیداد براہ راست بچوں کو منتقل ہونے کا موقف اپنایا تو کہانی میں قطری خط اور کیلبری فونٹ جیسے متعدد جھول واضح ہوئے، میاں نواز شریف کے تمام اہل خانہ کی جانب سے متضاد موقف نے معاملے میں کچھ نہ کچھ کالا ہونے کو پریقین کردیا۔ مریم نواز کی جانب سے جائیداد نہ ہونے کا بیان پھر لندن فلیٹس کی ملکیت کا ثابت ہونا یا پھر حسن اور حسین نواز کی جانب سے کیس کی پیروی سے یہ کہہ کر فرار کہ ہم برطانوی شہری ہیں ہم پر کیس نہیں چل سکتا۔ 

    قوم کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتا ہے کہ والد 3 بار ایک ملک پر حکمرانی کریں اور مزید کی خواہش رکھتے ہوں لیکن بچوں کی جانب سے اسکے قوانین ماننے سے ہی انکار کیا جائے۔ میاں صاحب خود بھی جب  جیل میں سزا نہ کاٹ سکے تو ایک نامعلوم بیماری میں مبتلا ہوگئے جس میں  انکی جان کو خطرہ لاحق ہوا اور دن تک گنے جانے لگے۔ پاکستان سے باہر چار ہفتے علاج  کے لیے جانے والے نواز شریف صاحب انہی فلیٹس میں  قریباً ایک سال سے مقیم ہیں جن کے بارے میں انکا پورا خاندان  متضاد بیانات دیتا رہا ۔ انہی فلیٹس کے لیے میاں صاحب کے بچوں نے مادر وطن سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اس مبینہ غبن کے ماسٹر مائنڈ اسحاق ڈار اور میاں صاحب کے  قریبی عزیز بھی مختلف کیسوں میں مطلوب اور لندن میں بیٹھ کر ملک کا درد جتا رہے ہیں

    میاں صاحب پر یہ مثال  "چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے” بالکل صادق آتی ہے۔ نواز شریف صاحب  ان فلیٹس اور لندن میں انکشاف کردہ دیگر جائیدادوں کے لیے اتنی ذلالت جھیل چکے ہیں  لیکن اس بے نامی، مشکوک اور مبینہ طور پر قومی خزانے کی لوٹ سے بنائی جائیداد  کو چھوڑنے پر راضی نہیں۔  میاں صاحب اس  کوشش میں  وطن عزیز کے خلاف واہیات زبان استعمال کرنے والے افغان حمد اللہ محب سے ملتے ہیں تو انکی صاحبزادی ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل بیان بازی میں مصروف ہیں۔ ہر موقعے پر ریاست مخالف بیانیہ اپنانے سے انکے سگے بھائی شہباز شریف بھی ان سے دوری اختیار کرتے جارہے ہیں لیکن میاں صاحب کی سمجھ اور فہم صرف اپنا لوٹ کا مال بچانے تک محدود ہے۔ اپنے کیسوں میں میرٹ کی بجائے طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرنا اور دوسرے ملک  میں بیٹھ کر حب الوطنی کے دعوے میل نہیں کھاتے۔ میاں صاحب اس ملک نےآپکو عزت دی اور سب سے بڑی مسند پر فائز کیا۔ دل بڑا کریں اور اس دولت  کو ملک و قوم کے نام کرکہ وطن سے محبت کا حقیقی ثبوت دیں۔ حب الوطنی کے نعرے ایک بات ہے  اور ان کا عملی مظاہرہ دوسری۔ عمل کا وقت قریب ہے ورنہ قوم یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ جو شخص دولت بچانے کے لیے ملک دشمنوں سے میل ملاقات رکھ سکتا ہے تو اسکی حب الوطنی پر یقین بے وقوفی ہے

  • نظامِ زندگی میں صبر کی طاقت تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    نظامِ زندگی میں صبر کی طاقت تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    صبر کی طاقت کامیابی کے ایک اہم جز میں سے ایک ہے۔. اگر آپ صبر کرتے ہیں تو ، اس سے بہت سارے انعامات ملتے ہیں ، جیسے ذاتی نمو ، زیادہ بصیرت اور افہام و تفہیم حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ، یہ ایک مضبوط کردار بناتا ہے جو آپ کو پرامن زندگی کی طرف لے جاتا ہے

    عظیم سائنس دانوں ، کاروباری افراد اور کاروباری افراد کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جن کی زندگی میں صبر نے ایک بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔. انہوں نے حالات کو بالکل بھی توڑنے نہیں دیا ، لیکن نئے امکانات کو وسعت دیتے ہوئے وہ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔. یہ ان کی صبر کی طاقت ہے ، ماحولیاتی حالات اور کھلے ذہنیت کی طرف رواداری کی خوبی جس نے انہیں کامیاب ہونے کے قابل بنایا ہے۔. اس مقام پر ، نپولین ہل کے الفاظ قابل ذکر ہیں ، "صبر ، استقامت اور پسینہ کامیابی کے لئے ناقابل شکست امتزاج بنا دیتا ہے

    صبر کی طاقت آپ کو اپنی زندگی کو بااختیار بنانے میں مدد دیتی ہے جس کی وجہ سے حکمت اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔. کامیابی خوشی کو جنم دیتی ہے اور خوشی محنت اور صبر کی پیداوار ہے۔. صبر کا حصول اعتماد کا بہتر احساس حاصل کرنا ہے ، تاکہ آپ کو ہر پریشانی کا ازالہ ہو ، مسائل کا حل ہو اور زندگی کے دکھوں کا حوصلہ ہو ۔صبر کو زندگی کے ستونوں میں سے ایک کے طور پر بنانا چاہئے ، کیونکہ صبر کی ایک اچھی مقدار کامیاب اور پرامن زندگی کی شاہراہ ہے۔.

    اگر آپ صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ، آپ نئی مہارتیں حاصل کرسکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔. اس طرح ، آپ اپنے اہداف اور مقاصد کے حصول کی طرف خود کو ہدایت کرسکتے ہیں۔. صبر آپ کو اپنے تیز فیصلوں پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے جبکہ یہ آپ کو دباؤ والے حالات اور جذباتی اتار چڑھاؤ سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں بہت مدد دیتا ہے۔.

    صبر آپ کو دوسروں پر ہمدردی رکھنے کی اجازت دینے میں بھی روادار ہونے میں مدد کرتا ہے۔. جتنا آپ صبر کرتے ہیں ، اتنا ہی آپ دوسروں کے روادار ہوتے ہیں جو آپ کو ان سے عزت دیتا ہے۔.

    یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ، لیکن کامیابی نظم و ضبط ، محنت اور صبر کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔. رکاوٹیں آپ کے راستے میں آتی ہیں اور آپ کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔. خود اعتماد اور صبر کی بنا پر آپ کو خوف اور ناکامیوں کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔. تمام تر مشکلات کے خلاف متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔

    صبر صرف ایک خصلت نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک ایسی مہارت ہے جسے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ، ہمیں خود کو یہ کہتے ہوئے مستقل طور پر یاد دلانا چاہئے ، صبر  کا پھل میٹھا ہوتا  ہے۔

    @HamxaSiddiqi 

  • تبدیلی ہی تو مانگی تھی تحریر : سیف الرحمان

    انسان بھی کیا چیز ہے۔ جب کمزور ہوتا ہے تو کمزروں کو بازو بنا کر کمزوں کے حق کی بات کرتا ہے ۔ جب طاقت میں ہوتا ہے طاقتوروں کو ساتھ ملا کر کمزوں کا خون نچوڑنے کی تدبیریں کرتا ہے۔ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ شروع شروع میں مجھے اس بات کی سہی سمجھ نہیں آئی لیکن پھر اﷲ بلا کرے عمران خان کا جنہوں نے ہمیں سیاسی شعور دیا۔  
    خان صاحب نے تبدیلی کے نام پہ نوجوانوں سے ووٹ مانگا۔ نوجوانوں نے خان صاحب کو تبدیلی لانے کیلئے مکمل تعاون کیساتھ ساتھ ووٹ بھی دیا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکلتی چلی گئی۔ نوجوانوں میں آہستہ آہستہ مایوسی کے بادل چھانے لگے۔ اس کی وجہ خان صاحب کے وزیراعظم بننے سے پہلے کے وہ دعوے  اور وعدےہیں جو انہوں نے اپنی قوم کیساتھ کئے۔اب خان صاحب چاہ کر بھی ماضی سے جان نہیں چھڑا سکتے۔
    کیا خوب کہا کسی شاعر نے
    یاد ماضی غذاب ہے یا رب______چھین لے مجھ سے میرا
    خان صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ جب تحریک انصاف پاور میں آئے گی تو لوگ باہر سے نوکریاں چھوڑ کر  پاکستان آئیں گے۔  سبز پاسپوٹ کی دنیا میں عزت کی بات کیا کرتے تھے۔  ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ بھی ابھی تک ادھورا  پڑاہے۔  پچاس ہزار مفت گھر دینے کا وعدہ بھی  وفا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کیلئے خان صاحب نے کبھی ملائیشیاء ماڈل  بنانے کی بات کی تو کبھی چینی ماڈل کو ترقی کیلئے اہم قرار دیا کبھی ایرانی انقلاب لانے کی باتیں کی تو کبھی ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا کبھی ترکی کی آذاد خیالی سے متاثر ہوئے تو کبھی  یورپ کی مثالیں دیں۔لیکن ان بلنددعوؤں میں  پاکستانی عوام کو کیا ملا؟
    آج جب خان صاحب اقتدار کے تین سال پورے کر چکے اور ماشاءاﷲ چوتھا سال شروع ہے تو کوئی بتا سکتا ہے پاکستان میں اس وقت کونسا ماڈل چل رہا ہے؟ 
     عوام کو تو سوائے مہنگائی اوربیروزگاری  کے کچھ نہیں ملا۔ اگر کچھ ملا ہے تو بتائیں۔  آپ کسی بھی چیز کے ریٹ سابقہ کرپٹ حکمرانوں کے دور سے ملا لیں موجودہ حکومت سے کم ہی  ہوں گے۔پیپلز پارٹی جیسی کرپٹ ترین حکومت کے دور میں بھی اس شرع سے مہنگائی نہیں تھی۔ خان صاحب عوام کوسٹاک ایکسچینج کے اتار چڑاؤ سے کوئی غرض نہیں۔ آپکی درآمدات اور بر آمدات سے بھی کوئی لینا دینا نہیں۔ آپ کی پناہ گاہوں کا بھی فائدہ کچھ افراد کے علاوہ اکثریت کو نہیں۔ عوام کو سستا آٹا چاہئے۔ سستا گھی چاہئے سستی چینی چاہئے ۔ سستی دالیں اور صابن چاہئے۔ وہ آپ کی حکومت ابھی تک دینے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ وقت نکال کر اس بارے لازمی سوچیں۔ کیونکہ اگلے الیکشن میں ان ہی غریب لوگوں نے ووٹ دینا ہے۔ 
    خان صاحب اقتدار سے بہتر تھا آپ اپوزیشن میں رہتے۔ آپ کی تبدیلی کا آسرا تو تھا۔ اگر آپ تبدیلی لانے میں ناکام ہو گئے تو عوام کس کے در پہ دستک دے گی؟  کیا پھر وہی نواز اور ذرداری ہمیں نوچیں گے؟ کیا ہمارے نصیب اتنے ہی برے ہیں کہ بلاول جیسا دودھ پیتا  بچہ ہمارا حکمران بننے کو تیار بیٹھا ہے یا مریم جیسی بدزبان اور بداخلاق عورت ہم پہ حکمرانی کرے گی؟  
    خان صاحب آپ نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ عوام کو سستا اور فوری انصاف انکی دہلیز پہ ملے گا۔غریب خوشحال ہوگا اور مہنگائی کا جن ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بوتل میں بند کر دیا جائے گا۔  لیکن حالات پہلے سے بھی ذیادہ خراب ہوتے جا رہے ہیں۔  ایسا لگ رہا ہے جیسے  اقتدار میں بیٹھے چہرے بدلے ہیں  کام وہی ہو رہے ہیں جیسا سابقہ حکمران کیا کرتے  تھے۔وہی پرانی رسم ورواج وہی بیان بازی وہی اداروں کو مورد الزام ٹھہرانا ۔ ہاں کرپش کی حد تک تبدیلی ضرور نظر آئی ہے۔ موجودہ دور میں سابقہ ادوار کی نسبت کرپشن کی شرع بہت کم ہے۔   اس پہ آپ کی حکومت قابل تعریف ہے۔
    تحریک انصاف کے پاس وقت کم  اور مقابلہ سخت ہے۔ اس کم عرصے میں پاکستان شاہد ایشیائی ٹائیگر تو نہ بن سکے لیکن اتنا ضرور ممکن ہے کے سبز پاسپوٹ کو دنیا عزت کی نگاہ سے دیکھ سکے۔ آپ کی عوام مہنگائی تلےمذید پسنے سےبچ جائے   ۔ آپ گھر اور نوکریاں بیشک نہ دیں  لیکن ایسے حالات تو پیدا کر دیں کہ  لوگ  خود اپنا کاروبار شروع کر کے باقی  بیروزگاروں کو نوکریاں مہیا کر سکیں۔ کامیاب نوجوان پروگرام  سکیم کی بجائے ڈائریکٹ  نوجوانوں کو بغیر سود قرض دیں۔ دیلیز پہ انصاف نہ بھی ملے چلے گا لیکن جسٹس سسٹم میں ریفارمز کر دیں تا کہ ججز سالوں کیس چلانے کی بجائے تین سے چھ ماہ میں فیصلے کرنے کے پابند ہو جائیں۔ پولیس ویشی کی بجائے عوام کی محافظ بن جائے۔ ڈاکٹر مسیحا بن جائیں اور سرکاری افسران نوابوں کی بجائے عوام کی خدمت کرنے لگ جائیں۔
    اس وقت عوام میں تاثر بنا ہوا ہے کہ وزیروں کی فوج اور مشیروں کی موج لگی ہوئی ہے۔خان صاحب ہوش کے ناخن لیں  عوام کیساتھ تبدیلی کے نام پہ دھوکہ ہونے جا رہا ہے۔ مہنگائی کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ پستہ ہی چلا جا رہا ہے۔ خان صاحب ان وزیروں مشیروں کو رکھنے کا فائدہ جب آپ کی عوام مہنگائی کی وجہ سے رو رہی ہے۔  بیشک صحت انصاف کارڈ آپ کا وہ کارنامہ ہے جو اگر کامیاب ہو گیا تو عوام کی تقدیر ہی بدل جائے گی لیکن چند  پرائیویٹ ہسپتال جان بوجھ اسکو ناکام بنانے کی  کوشش کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ٹیم کو متحرک کریں۔    ایسے تمام ہسپتالوں کو سیل کر دیں جو صحت انصاف کارڈ پہ علاج سے انکار کریں۔
    خان صاحب ایک بات ذہن نشین کر لیں ۔ آئندہ عام انتخابات میں آپ کا مقابلہ مہنگائی سے ہونے جا رہا ہے۔اگر آئندہ عام انتخاب تک مہنگائی کا پلڑا بھاری رہا تو آپ کی شکست کنفرم  ہےاور اگر آپ نے 2023الیکشن سے پہلے مہنگائی میں %30تک بھی قابو پا لیا تو شاہد آپ دوبارہ اقتدار میں آ جائیں۔ اپوزیشن کی خاموشی مہنگائی کی جیت کی وجہ ہے۔ اپوزیشن نے آپ کو مہنگائی جیسے  مضبوط جن کے آگے پھینک دیا ہے۔اس کی مثال آپ کےتین سالہ دور اقتدار میں چوتھا وزیر خزانہ کی آمد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ بیشک موجودہ وزیر خزانہ  شوکت ترین  صاحب قابل احترام اور بزرگ کاروباری شخصیت ہیں لیکن یاد رکھنا وہ اپنا بینک چلانے میں نا صرف ناکام ہوئے بلکہ فروخت کر کے آئے ہیں۔ ذرا بچ کے کہیں شوکت ترین کا تجربہ آپ کے اقتدار کو بھی نہ لے ڈوبے۔

    @saif__says 

  • ای وی ایم کا استعمال ایک اچھا قدم ہے، لیکن اپوزیشن کے اطمینان کے بغیر نہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ای وی ایم کا استعمال ایک اچھا قدم ہے، لیکن اپوزیشن کے اطمینان کے بغیر نہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں ماضی میں ہونے والے تمام انتخابات کی شفافیت کو ہارنے والی جماعتوں نے متنازعہ بنایا تھا۔ یہاں تک کہ 2018 کے انتخابات ،جنہوں نے پی ٹی آئی کو اقتدار میں لایا، متنازعہ رہے کیونکہ بڑی اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ نتائج میں ہیرا پھیری کی گئی تاکہ عمران خان کے بطور وزیر اعظم راستہ صاف ہو سکے۔

    ایسی صورت حال میں ایک ایسے نظام کو متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے جو قابل اعتماد نتائج دے سکے، جس میں کسی کے لیے اس کی سچائی کو چیلنج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس طرح انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کا استعمال صحیح قدم ہوگا، بشرطیکہ اپوزیشن کے تحفظات/ خدشات کو ان کے مکمل اطمینان سے حل کیا جائے۔

    دوسرے لفظوں میں، اگر ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ہے، تو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کا ازالہ بھی ضروری ہے۔

    اور یہ دونوں فریقوں کے درمیان کھلے ذہن کے مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ اگر اب کوئی اتفاق رائے کا طریقہ کار نہیں بنایا گیا تو 2023 کے انتخابات کے نتائج بھی ماضی کی طرح غیر واضح ہوں گے۔

    پارلیمنٹیرین کا فرض ہے کہ وہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل تلاش کریں۔ ایسے انتخابات کا انعقادہو جس کے نتائج تمام جماعتوں کے لیے قابل قبول ہوں۔

    الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کسی خاص پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ممکنہ ہیرا پھیری کے بارے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو آسانی سے دور نہیں کیا جا سکتا۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ ای سی پی کے اعلیٰ عہدیداروں سے منسوب کیے بغیر ان سب کا جواب دے۔

    محض یہ الزام ہے کہ الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈ کوارٹر بن گیا ہے یا الیکشن کمیشن نے رشوت قبول کی ہے ، یا دھمکی ہے کہ ای سی پی کی عمارتوں کو جلا دیا جائے گا ، اپوزیشن کے خدشات کو کمزور نہیں کر سکتا۔

    اسی طرح، ایک وفاقی وزیر کا یہ مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے، ای وی ایم کے انتظام کے بارے میں خوف کا جواب نہیں ہے۔ اگر حکومت سی ای سی کو ہٹانا چاہتی ہے تو اسے آئینی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

    وزیر سائنس شبلی فراز کی رپورٹ کردہ پیشکش ہے کہ اگر مقامی ای وی ایم قابل اعتماد نہیں ہیں تو انہیں کسی دوسرے ملک سے درآمد کیا جا سکتا ہے، اور یہ ایک معقول دلیل ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ مقامی ای وی ایم کو ہیک نہیں کیا جا سکتا اور جو دعوے کو جھٹلاتا ہے اسے انعام کے طور پر 10 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے تاکہ ان کی وزارت کی تیار کردہ مشینوں کے مخالفین کو چیلنج کیا جا سکے۔

    قوم نے گلیارے کے دونوں اطراف اپنے نمائندوں کو ووٹ دیا تھا تاکہ تمام مسائل حل ہوں۔ اس طرح منتخب نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ تمام مسائل کا حل تلاش کریں۔ صرف کیچڑ اچھالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گلیارے کے دونوں اطراف کے عوامی نمائندوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل تلاش کرنا ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ کسی ایسے طریقہ کار سے اتفاق کرنے میں ناکام رہے جو مستقبل کے انتخابات کے نتائج کو ناقابل تسخیر بنا سکتا ہے تو وہ ووٹروں کی توقعات پر پورا نہیں اتریں گے۔

    پی ٹی آئی کے وزراء یہ اشارے دے رہے ہیں کہ حکومت ای وی ایم قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمران جماعت دونوں ایوانوں میں اپنی عددی طاقت کی وجہ سے ایسا کر سکتی ہے۔ لیکن اس طرح کا اقدام اپوزیشن جماعتوں کے موقف کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

    لہذا، انتخابی نتائج ای وی ایم کے استعمال کے بعد بھی متنازعہ رہیں گے۔ اور ان پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔سمجھداری کا تقاضا ہے کہ دونوں فریق مل بیٹھ کر اپنے چھوٹے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کوئی حل تلاش کریں۔ اور اس مسئلے سے نمٹنے کے دوران، دونوں فریقوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگلے انتخابات میں صرف دو سال باقی ہیں اور اس آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے سے پہلے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ اگلے انتخابات نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں کی نئی حد بندی کی بنیاد پر ہوں گے۔ یہ دونوں وقت لینے والی مشقیں ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ 20 سال کے وقفے کے بعد منعقد ہونے والی 2017 کی مردم شماری کے نتائج ابھی تک کچھ جماعتوں نے قبول نہیں کیے۔

    سندھی رہنماؤں کا الزام ہے کہ سندھ کی آبادی کو کم اور پنجاب کی آبادی کو دس ملین سے زیادہ سمجھا گیا ہے۔ یہ وسائل کی تقسیم میں فیڈریٹنگ یونٹ کے حصہ کو متاثر کرتا ہے۔

    مختلف موضوعات پر مختلف جماعتوں کی پوزیشنوں کے درمیان پھنسے ہوئے فرق کو دیکھتے ہوئے، اگلے انتخابات کے لیے انتظامات کرنا وقت کے خلاف دوڑ ہوگی۔ اور مسئلہ کی سنگینی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کچھ رپورٹوں کے مطابق حکومت اگلے انتخابات شیڈول سے ایک سال قبل جولائی، اگست 2022 میں کرانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

  • گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئے

    گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئے

    گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئےہیں –

    باغی ٹی وی : نئے ٹولز کے ذریعے وہ اپنے چہرے کے تاثرات کو تبدیل کرتے ہوئے اینڈرائیڈ فونز استعمال کر سکیں گے گوگل نے کہا ہے کہ اب قوتِ گویائی سے محروم اور جسمانی طور پر معذور افراد اپنی بھوئیں اٹھا کر یا مسکرا کر ہاتھ کا استعمال کیے بغیر ہی اپنے اسمارٹ فونز چلا سکتے ہیں۔

    ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

    گوگل کے یہ دو نئے ٹول مشین لرننگ اور اسمارٹ فون کے فرنٹ کیمرا کی مدد سے صارفین کے چہرے کے تاثرات اور آنکھوں کی حرکت کا پتا لگاتے ہیں صارفین مسکراتے ہوئے، بھنویں اٹھا کر، منہ کھول کر یا دائیں، بائیں، اوپر اور نیچے دیکھ کر کوئی بھی آپشن منتخب کر سکتے ہیں۔

    لوگ اپنی روز مرہ کی زندگی میں وائس کمانڈز یا اپنے ہاتھوں کے ذریعے فون کا استعمال کرتے ہیں اگرچہ جسمانی طور پر معذور اور قوتِ گویائی سے محروم افراد کے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

    گوگل نے اس ضمن میں دو نئے فیچرز پیش کیے ہیں جس میں ‘کیمرا سوئچ’ کی مدد سے صارفین چہرے کی مدد سے اسمارٹ فونز چلا سکیں گے اسی طرح گوگل نے ‘پروجیکٹ ایکٹو’ کے نام سے ایک نئی ایپلی کیشن بھی پیش کی ہے جس کے ذریعے بھی چہرے کے تاثرات استعمال کرتے ہوئے موبائل استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    یہ ایپلی کیشن آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کے گوگل پلے اسٹور پر صارفین کے لیے مفت میں دستیاب ہےامریکہ کے صحتِ عامہ کے نگراں ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کے ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں چھ کروڑ 10 لاکھ افراد جسمانی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

    اس اعداد و شمار نے گوگل، ایپل اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسی پروڈکٹس بنانے پر مجبور کر دیا ہے جو زیادہ قابلِ رسائی ہوں۔

    گوگل کا جی میل کے لیے نیا فیچر

  • چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا  کر لیا

    چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا کر لیا

    کوالالمپور: ملائیشیا میں ایک جنگلی بندر نے چھوٹے کتے کو اغوا کر کے تین دن تک یرغمال بنائے رکھا۔

    باغی ٹی وی : ملائیشیا میں ایک بندر نے دوہفتوں کے سارو نامی چھوٹے سے پالتو کتے کو پکڑ لیا اور درختوں کے جھنڈ کے پیچھے بجلی گھر کی چوٹی پر یرغمال بنا کر رکھ لیا قریبی رہائشیوں نے کتے کو بچانے کی کوشش میں کئی جتن کئے انہوں نے بندر کو چھوٹے پتھروں اور لکڑی کے ٹکڑوں سےمارا لیکن بندر ٹس سے مس نہ ہوا۔

    تاہم کافی حربے آزمانے کے بعد بندر کو ڈرانے کے لیے اونچی آواز پیدا کرنے کی کوشش میں پٹاخے بجائے گئے پٹاخے بجانے کا منصوبہ کام آ گیا اونچی آواز سے ڈر کے بندر نے کتے کو نیچے پھینک دیا کتے کے نیچے گرتے ہی لوگ اس کے طرف بھاگے اور جھاڑیوں اور درختوں کے جھنڈ میں گرے ہوئے کتے کو ڈھونڈ نکالا۔

    ضروری دیکھ بھال اور چیک اپ کے بعد کتے کوایک مقامی فرد نے اپنے ساتھ رکھ لیا ہے وہاں پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ بندر نے کتے کوکوئی تکلیف نہیں پہنچائی بس وہ اسے لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لپکتا رہا لیکن اس کے باعث کتا بہت تھکا ہوا اور نڈھال دیکھائی دیا سارو نامی اس کتے کو ایک آوارہ کتیا سے چھینا تھا-

    انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا تھا کہ بندر اس کتے کو اپنا دوست یا بچہ سمجھ رہا تھا بعض مقامی رہائشیوں کا یہ بھی کہنا ہے کی یہ بندر پہلے بھی گھروں سے چیزیں چرا کر لے جاتے ہیں۔

    ملائیشیا میں ایک اندازے کے مطابق حکومت کو ہر سال بندروں سے متعلق اڑتیس سو سےزائد شکایات موصول ہوتی ہیں ان شکایات کے باعث وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ بندروں کو مارنے کے پروگرام پر مجبور ہوا اور 2013 سے 2016 تک ہر سال تقریباً 70 ہزار بندروں کو مارنا پڑا۔
    https://youtu.be/WQC8PPowRds

  • توکل علی اللہ .تحریر: راحیلہ امجد

    توکل علی اللہ .تحریر: راحیلہ امجد

    توکل کا مفہوم ہے کہ انسان خود کو عاجز و مجبور اور اللّٰہ تعالیٰ کو تمام جہانوں کا پروردگار و مالک تسلیم کرتے ہوئے اس ذات واحد پر بھروسہ و یقین کر لے کہ جو کچھ ہوگا باری تعالیٰ کے حکم اور منشاء سے ہوگا۔ جب دل میں یہ یقین پختہ ہو جائے تو انسان کا ایمان کامل ہو جاتا ہے۔ انسان تکبر ، غرور اور دنیا کی عارضی شان و شوکت سے کنارہ کشی اختیار کرکے اللّٰہ کی حاکمیت کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتا ہے۔ اپنی عقل ، فہم و فراست اور تدابیر کے بجائے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا پر صابر و شاکر بن کر زندگی بسر کر سکتا ہے۔
    تاہم اللّٰہ تعالیٰ نے جہاں توکل علی اللہ کا حکم دیا ہے وہاں انسان کو عقل جیسی نعمت سے نواز کر دیگر مخلوقات سے افضل کر دیا ہے۔ مختلف امور میں رب العالمین نے انسان کو عقل کے استعمال کا حکم دیتے ہوئے کچھ اختیارات تفویض کیے ہیں۔ جس طرح عقل اور فہم و فراست کے باعث ہی انسان کو عبادات اور نیکیوں کا حکم دیا ہے اور اس بنیاد پر ہی آخرت میں انسان کے لیے جزا و سزا کا تعین بھی کیا جائے گا۔

    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو رزق کے معاملے میں اپنی ذات لا شریک پر توکل کرنے اور آخرت کے متعلق فکر و کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنی دیگر بے شمار صفات کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ تمام جہانوں کی مخلوقات کا رازق بھی ہے اس نے انسانوں کو رزق کی فراہمی بھی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اس لیے انسان کو صرف کوشش کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے سوچ و فکر عطا کی گئی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم آخرت کی فکر سے بڑھ کر رزق اور دنیاوی دولت و مال کی فکر میں مبتلا ہیں۔

    دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کے لیے توکل پہلی اور لازمی شرط ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ تمام مخلوقات کی پکار سننے والا ہے جو توکل اور بھروسے سے مانگے اسے مومن اور کافر کی تفریق کے بغیر عطا فرماتا ہے۔ انسان جب خود کو کمزور و ناتواں اور مجبور و بے بس سمجھ کر یہ سوچ بختہ کرکے اللّٰہ تعالیٰ سے مانگے کہ میرا اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے کوئی مشکل کشا و حاجت روا نہیں ہے، رب کے علاؤہ کوئی عطا کرنے والا نہیں ہے، میرا رب عطا کرنے والا اور عیبوں پر پردے ڈالنے والا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کے ہاتھ خالی نہیں لوٹاتا لیکن مضبوط بھروسے اور توکل کی ضرورت ہے کہ ذات باری تعالٰی کے در سے ہی حاجت پوری اور اس بارگاہِ الٰہی سے فیض یاب ہوں گا۔

    جس انسان نے اللّٰہ پر توکل اور بھروسہ پختہ کر لیا اس کا ایمان کامل ہوگیا اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنی رضا ، خوشنودی اور توکل کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین

  • مشکل ہے ناممکن نہیں، تحریر:سفینہ خان

    مشکل ہے ناممکن نہیں، تحریر:سفینہ خان

    امریکہ کا افغانستان سے انخلا کے بعد اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ اور طالبان کا بغیر کسی خون خرابے اور بنا کوئی گولی چلائے اپنی حکومت قائم کر لینا جہاں پوری پوری دنیا کے لئے حیران کن تھا۔ وہاں بھارت کی بدترین اور ناقابل یقین شکست بھی ہے۔

    طالبان نے جہاں افغانستان میں امریکی قیادت میں قائم نیٹو افواج کے خلاف 20 سالہ جنگ جیت لی ہے۔ وہاں دوسری طرف افغانستان سے بھارت نے نا صرف اپنا اثر ور سوخ کا خاتمہ کیا ہے بلکہ دہلی نے ایک ہی جھٹکے میں اپنی مضبوط گرفت بھی کھو دی ہے۔جہاں بھارت کو افغانستان میں بہت بڑی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ وہاں پاکستان نے بھارت کے نکل جانے کے بعد اپنی دو بڑی مشرقی اور مغربی سرحدوں کو محفوظ بنا کر بہت بڑی تاریخی کامیابی سے بھی ہمکنار ہوا ہے۔سونے پر سہاگہ پاکستان کے آئی ایس آئی کے چیف فیض حمید کا کابل پہنچنا اور صحافیوں سے بات چیت کے دوران ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ پوری دنیا کے میڈیا پر متوجہ کا باعث بن گیا۔ گویا ان کے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ بھارتیوں کے زخموں پر نمک چھڑک گیا ۔ بھارتی ایسے تھڑپے جیسے چائے کا کپ نا ہو گیا بمب کا گولہ ہو گیا۔

    افغانستان میں پھنسے فوجیوں کا افغانستان سے بحفاظت انخلا اور ان کی پاکستان میں قیام اور پھر سی آئی اے کے چیف کا پاکستان جانا اور پاکستان کے آرمی چیف جرنل قمر باجوہ سمیت آئی ایس آئی کے چیف فیاض حمید سے مولقات کے دوران ان کے تعاون اور پاکستان کے کردار کی تعریف بحرحال بھارت کے لئے ایک اور شدید ترین صدمہ ہے۔بھارت کے ہاتھ سے صرف افغانستان پر قبضے اور ایشا ممالک پر تھانیدار بن کر بیٹھنے کا خواب ہی چکنا چور نہی ہوا ۔ بلکہ بھارت کی کھربوں کی افغانستان میں انویسٹمنٹ بھی ڈوب گئی ہے۔بھارت کی شکست اور بےبسی کا اندازہ اپ بھارتی میڈیا اور ان کے ریٹائرڈ جرنلز کی چیخ و پکار سے بخوبی لگا سکتے ہیں ۔بھارتی میڈیا کے جذباتی نیشنلسٹ طبقہ تو اتنا اگ بگولہ ہوا بیٹھا ہے ۔کہ کبھی وہ پنجشیر سے متعلق ویڈیو گیمز کے کلپ لگا کرجھوٹی اور من گھڑت کہانیاں پھیلاتا ہے اور دوسری طرف کابل سرینا ہوٹل میں قائم تصوراتی فیفتھ فلور میں ٹھہرے پاکستان کے آئی یس آئی کے جوانوں کے بارے میں پھیلایا جھوٹ بھی سینہ تان کے پوری دنیا کو ثابت کرنا چاہتا ہے کہ سب کچھ پاکستان ہی کروا رہا ہے۔

    بھارت اس وقت زخمی سانپ بنا بیٹھا ہے۔ وہ پاکستان پر بے درپے وار کر کے افغانستان میں اپنی شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔پاکستان میں پچھلے ہفتے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا اچانک سیکورٹی ایشوز اور دہشتگردی کے خطرے کے ڈر سے کر کرکٹ سیریز کھیلے بغیر ہی چلے گئے۔ اور آج انگلینڈ اور ویلز کے کرکٹ بورڈ نے بھی دورہ پاکستان منسوخ کر دیا۔ جو کہ بلاشبہ پاکستان کے لئے ایک دھچکہ ہے ۔ پاکستان کرکٹ شائقین کے لئے یہ ضرور بری خبر ہے لیکن اتنی بھی بری خبر نہی کہ اسے خوشی میں نا بدلہ جا سکے۔ اگر ابھی بھی پاکستان کی حکومت اور ریاستی ادارے چاہیں ۔تو انٹرنیشنل ٹیموں کو نا سہی انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو پاکستان بلا کر کرکٹ کے میدان سجا کر پوری دنیا کو پیغام دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان نا صرف سب کے لئے محفوظ ہے ۔ بلکہ کسی ٹیم کے آنے یا نا آنے سے کھیل رک نہی جایا کرتے۔

    بھارت اب آرام سے نہی بیٹھے گا۔ وہ پاکستان کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا ۔ اور اس کے لئے پاکستان اور ان کے ان کے ریاستی اداروں کو دشمن کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار رہنا ہو گا ۔کیونکہ جس فیفتھ جنریشن وار کا ذکر ہمارے سابقہ ڈی جی آئی ایس پی آر جرنل غفور کیا کرتے تھے ۔ شائد اب اس وار کی سمجھ ہمارے پاکستانی نوجوانوں کو بھی آنے لگی ہے۔ کہ اب جنگیں صرف گولی ، بندوق سے ہی نہی ٹیکنالوجی کی ذریعے بھی لڑی جائے گی ۔جس میں سب سے زیادہ سامنا فیک نیوز پھیلا کر پاکستان کی ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرنا شامل ہے۔امریکہ کا پاکستان پر غصہ سمجھ میں آتا ہے ۔امریکی صدر جوبائیڈن کا اپنی ناکامی کا ذمےدار پاکستان کو ٹھہرانا ان کے مفاد میں ہے ۔ کہ وہ کیسے دنیا کو اور اپنی عوام کو کہہ دیں ۔کہ ہم واحد دنیا کی سپر پاور طالبان سے ہار گئے۔اگر ہم اس ساری صورتحال پر فوکس کریں اور ابھی کے حالات کو آنے والے دنوں میں بیگر پیکچر کے طور پر دیکھیں تو شائد ہم سب کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

    امریکہ کے پلان اے کے مطابق ان کے اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بھارت کو افغانستان میں سب کچھ کنڑول کرنا تھا۔ جو کہ اب اس طرح تو ممکن نہیں رہا ہے۔آیندہ آنے والے دنوں میں امریکہ ، بھارت ، آسڑیلیا اور جاپان سیکورٹی ڈائیلاگ پر اجلاس کرنے جا رہے ہیں ۔ اس اجلاس میں فوکس تو ضرور چین ہو گا ۔ لیکن نشانہ پاکستان ضرور ہو سکتا ہے۔اور اس بات پر سوچ بچاو کیا جائے گا کہ چین کو آگے کیسے کنڑول کیا جا سکتا ہے۔ پھر چاہے امریکی ٹیکنالوجی کو پہلی بار آسڑیلیا منتقل کرنا ہو ۔ ایجنڈا چین اور اس خطے کا کنڑول حاصل کرنا ہی ہو گا ۔وزیر اعظم عمران خان جو ہمشہ سے ہی طالبان کے حامی رہے ہیں۔مجھے ایسے لگتا ہے وہ اس ساری سیچویشن کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جہاں پوری دنیا پاکستان اور پاکستان کے دفاعی اور ریاستی اداروں کو سراہا رہی ہے ۔ان کی مدد کے لئے شکریہ کے پیغامات بھیج رہی ہے ۔جہاں پاکستان اور پاکستان کی آرمی کے موثر کردار نے پوری دنیا کو اپنی اہمیت کا احساس دلوایا ہے ۔وہاں امریکہ میں موجود قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کی ناکام پالیسی بھی کھل کر سامنے آئی ہے ۔ کہ وہ اتنی بڑی کامیابی کو پاکستان کی وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان اپنے حق میں استعمال کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے طالبان سے متعلق کنفیوز بیانات ویٹ اینڈ واچ کی پالیسی اور دو ٹوک موقف نا لے پانے کی پالیسی نے بحرحال وفاقی حکومت کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔معید یوسف کی ناکام سفارتکاری کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی ۔کہ پاکستان کے مثبت کردار کے باوجود امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک فون کال نا کروا سکے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت کو جلد اور موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کو جہاں سٹرونگ لابنگ کی ضرورت ہے وہاں فرنٹ فوٹ پر آ کے کھیلنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت وضاحتیں دینے کا نہی ہے ۔ پاکستان کی اہمیت اپنی مثبت اور عملی پالیسی کے ساتھ دنیا کو کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے ۔ایک عرصہ دراز کے بعد پاکستان کی اس خطے میں بہت ہی سٹرونگ پوزیشن بنی ہے ۔ اس کو ہمارے ریاستی اداروں کی محنت کہہ لیں یا اللہ کا کرم لیکن جو پاکستان چاہتا تھا ویسا ہی ہوا ہے۔پوری دنیا جانتی ہے اگر سلک روٹ پراجیکٹ مکمل ہو گیا تو پاکستان کی کیا اہمیت ہو جائے گی۔ یہ وہ پراجیکٹ ہے جو پاکستان کی ہی نہی ہماری آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل کے رکھ دے گا ۔ طالبان کا سی پیک پر چین اور پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بحرحال پاکستان کے لئے نیک شگون ہی ہے۔پاکستان کو اپنی کامیابیوں کو نا صرف بچا کے رکھنا ہے بلکہ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں پر توجہ دیتے ہوئے بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس خطے کے لئے مثبت عملی اقدامات سے دنیا کو ثابت کرنا ہے۔تاکہ ہمارے ملک کے وزیراعظم کو کسی کے فون کا انتظار نا کرنا پڑے بلکہ دنیا ہمیں چل کر ہمارے پاس انا پڑے۔ مشکل ہے ناممکن نہیں