Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "‏کینٹونمنٹ الیکشن میں جیت وزیراعظم عمران خان کے نظریے کی جیت تحریر فرزانہ شریف

    "‏کینٹونمنٹ الیکشن میں جیت وزیراعظم عمران خان کے نظریے کی جیت تحریر فرزانہ شریف

    مخالفین خان صاحب سے جتنی بھی نفرت کریں لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے اب خان صاحب کو ہرانے کے لیے ان کے مقابلے کا لیڈر لانا ہوگا ان شکست خوردہ پارٹیز میں دم خم نکل چکا ہے ۔
    ‏کینٹونمنٹ الیکشن میں کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عوام نے خان صاحب کے نظریے پر لبیک کہہ دیا ہے ایک مہنگائی چھوڑ کر خان صاحب کی حکومت نے ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹی ہیں عوام کو ریلیف دینے کے لیے یوٹیلٹی سٹورز ہر شہر میں کھولے ہیں اگر مافیا حق داروں کے پاس ان کا حق نہیں پہنچنے دے رہا تو اس میں خان صاحب کا قصور نہیں ہر علاقے کے نمائندے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا رزق حلال کرکے کھائے اور محنت کرے اس مافیا کو کنٹرول کرے خان صاحب کی محنت پر پانی نہ پھیریں
    کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے پنجاب میں تقریبآ کلین سویپ کیا گوجرانوالہ جہاں ہمیشہ سے نون لیگ کا ہولڈ رہا۔ عام زبان میں ہم کہتے تھے گوجرانوالہ نون لیگ کا گڑ ہے ویاں سے بھی پی ٹی آئی کو تاریخی کامیابی ملی ۔ نون لیگ کو صرف دو سیٹیں ہی مل سکیں ۔لاہور اور ملتان میں نون لیگ کی پوزیشن مضبوط رہی وہ بھی پی ٹی آئی کے اندر روائتی لڑائی جھگڑے اور ٹکٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے اور آزاد امیدوار دوسرے نمبر پر رہے پورے الیکشن میں ۔ پہلے نمبر پر پی ٹی آئی رہی ۔۔
    جن علاقوں سے پی ٹی آئی ہاری خان صاحب کو وہاں بہتر سے بہتر حکمت عملی استمال کرنی ہوگی اور وہاں کے نمائندوں کو جگانا ہوگا کام کرو گے تو 2023 کا الیکشن جیت پاو گے۔۔سوشل میڈیا پر یہ کہہ دینا کہ پی ٹی آئی کا مقابلہ پی ٹی آئی (آزاد امیدواروں )کے ساتھ تھا یہ کہنا ایسے ہی ہے جیسے بلی کبوتر کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتی ہے ان باتوں سے ہم اپنے دل کو تسلی تو دے لیں گے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیوں وزرا کا ملتان ۔لاہور جیسے شہروں پر اپنا ہولڈ کمزور رہا؟
    راولپنڈی جس نے خان صاحب کو جنرل الیکشن میں کلین سویپ جیسا تحفہ دیا تھا وہاں سے پی ٹی آئی ہار گی ہم تو اسلام آباد اور پنڈی کو پی ٹی آئی کا گڑ سمجھنے لگ گے تھے لیکن آج کے الیکشن نے بتادیا کہ کام کرو گے تو عوام بھی آپکو پھولوں کے ہار پہنائے گی ورنہ پھر خدانخواستہ پی پی والا حساب ہوجائے گا اگر وزراء ابھی بھی نہ جاگے تو ۔۔۔
    فواد چوہدری اچھا کام کررہا ہے سوشل میڈیا پر بھی الیکٹرونک میڈیا پر بھی اور اپنے علاقے میں بھی یہی وجہ ہے جہلم میں پی ٹی آئی نے کلین سویپ کیا ۔۔
    راولپنڈی میں اب پنڈی بوائے کو جاگ جانا چاہئیے وزیرداخلہ آپکو اس لیے نہیں بنایا تھا کہ ہم اپنی جیتی ہوئی سیٹیں بھی ہار جائیں اپنے علاقے میں لوگوں کے مسائل حل کریں صرف پریس کانفرنس کرلینے سے الیکشن نہیں جیتا جاتا ۔۔
    ‏ پشاور کوئٹہ حیدرآباد سیالکوٹ ٹیکسلا سے پی ٹی آئی کی شکست پر خان صاحب کو ایکشن لینا ہوگا وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑا چلیں سیالکوٹ تو ہے ہی نون لیگ کا گڑ ۔لیکن پشاور میں شکست ہونا ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔۔
    اب وقت کم ہے کام بہت ذیادہ ۔۔دو سال چٹکیوں میں گزر جائیں گے پی ٹی آئی ورکر کو ابھی سے الیکشن کمپئن شروع کر دینی چاہئیے اپنے اپنے علاقوں میں ۔۔اور جو لوگ مہنگائی کے ستائے ہوئے ہیں خان صاحب سے سخت بد ظن ان کو دلائل سے پیار سے اصل حقائق بتائیں کہ اصل مہنگائی کی کیا وجہ ہے کس طرح کرپٹ سیاستدانوں نے ملک کا دیوالیہ نکالا اگر خان صاحب بروقت نہ آجاتے پاکستان بینک کرپٹ ہوجاتا اب خان صاحب نون لیگ کے لیے ہوئے قرض بھی واپس کررہے ہیں اور ملک میں ترقیاتی کام بھی کروا رہے ہیں 30 سال کا گند تین سال میں ختم نہیں ہو سکتا تھوڑا سا وقت دیں ۔اپ کا لیڈر آپکے ملک کی ایسے حفاظت کر رہا ہے اللہ کی کرم نوازی سے جیسے گھر کو بڑا سربراہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے بس آپ نے ہمت نہیں ہارنی صرف تھوڑا سا اور صبر کرلیں ایک روشن چمکتا ہوا پاکستان آپ دیکھیں گے ان شاءاللہ
    اللہ میرے ملک کو شاد آباد رکھے اس کے لیے بہتر سوچنے والوں کو جزائے خیر دے اور میرے ملک میں رہنے والوں کی اللہ خیر کرے آمین ثمہ آمین

  • مقامِ دل ( پارٹ 2)  تحریر : نعمان ارشد

    مقامِ دل ( پارٹ 2)  تحریر : نعمان ارشد

    عشق والے دل میں نور ہوتا ہے۔ 

    قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالٰی ہے

    بھلا جس کا سینہ اللّٰه نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو وہ اپنے رب کی طرف سے اجالے میں ہے۔ اور خرابی اور ہلاکت ہے ان لوگوں کی جن کے دل اللّٰه کی یاد کرنے پر سخت ہیں۔ یعنی وہ اللّٰه کا ذکر نہیں کرتے اور وہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ 

    مزید ارشادِ باری ہے

    اور جن کے دل اللّٰه کے خوف سے ڈرتے ہیں ان کی حالت تو یہ ہے کہ ان کی کھالوں کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ان کے جسم کی کھالیں اور ان کے دل اللّٰه کی یاد میں نرم ہو جاتے ہیں۔ 

    قرآن پاک میں ایسی آیات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خداوند نے کس انداز سے مومنوں اور کافروں کی دلی کیفیت کو بیان فرمایا ہے۔ یعنی ایمان اور کفر دل کی نرمی اور سختی پر بھی موقوف ہیں۔ یعنی مومن کا دل نرم اور کافر کا دل سخت ہوتا ہے۔ 

    حدیث شریف میں ہے کہ شیطان ہر وقت انسان کے دل میں بیٹھا رہتا ہے۔ جب انسان اللّٰه کا ذکر کرتا ہے تو وہ دوڑ جاتا ہے۔ اور جب انسان اللّٰه کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے تو شیطان وسوسے ڈالنےکی کر اس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ( مشکوٰۃ شریف) 

    حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی مسلمان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ آجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ استغفار کر لیتا ہے تو وہ نقطہ اس کے دل پر سے مٹ جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ پر مداومت کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بھی زیادہ ہو جاتا یے یہاں تک کہ وہ اسکا دل ڈھانپ لیتا ہے ( مشکوۃ شریف) 

    مولانا رومؒ طہارتِ قلب اور تزکیہ نفس اور صفائے قلب کی ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ چینیوں اور رومیوں میں مقابلہ ہو گیا چینی کہتے ہیں کہ نقش و نگاری میں ہم ماہر ہیں اور رومی کہتے ہیں کہ اس فن میں ہم جیسا کوئی نہیں۔ بادشاہ وقت نے دونوں کا امتحان لیا۔ اور کہا کہ دونوں اپنے اپنے فن کا کمال دکھاؤ۔ چینیوں نے بادشاہ سے سینکڑوں رنگ و روغن طلب کیے اور پھر بادشاہ وقت نے رومیوں سے پوچھا کہ تمہیں بھی کسی سامان کی ضرورت ہے؟ رومیوں نے کہا کہ ہمیں کسی رنگ و روغن کی ضرورت نہیں۔ ہم صرف زنگ و میل دور کریں گے۔ چنانچہ چینی رومی دو دیواروں پر اپنے فن کا کمال دکھانے لگے۔ درمیان میں ایک پردہ لٹکا دیا۔ چینی تو دیوار پر نقش و نگار بنانے لگے اور رومی دیوار کو صیقل و صاف کرنے لگے۔ رومیوں نے دیوار کو اتنا صاف کیا کہ دیوار شیشے کی طرح چمکنے لگی۔جب دونوں اپنے اپنے کام سے فارغ ہو گئے تو بادشاہ وقت دیکھنے کے لیے آیا تو پہلے چینیوں کے فن کو دیکھا تو ان کی نقش و نگاری کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ پھر رومیوں کی طرف آیا تو درمیان سے پردہ اٹھا دیا۔ بس پھر کیا تھا کہ جو چینیوں کی دیوار پر دیکھا تھا اس سے کہیں بہتر سامنے دیوار پر عیاں تھا۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ مسلمان تو بھی اپنے دل کو اللّٰه کے ذکر سے اس قدر صیقل کر لے کہ وہ شیشے کی طرح چمکنے لگے اور حرص و ہوا اور خواہشاتِ نفسانی کا غبار مٹ جائے، فسوق و فجور کے اندھیرے دور ہو جائیں، گناہ و معصیت کی سیاہی دھل جائے۔ ضلالت اور گمراہی کے بادل چھٹ جائیں اور باطنی حجابات اٹھ جائیں۔ تیرا دل بھی رومیوں کی دیوار کی طرح معرفت کا آئینہ بن جائے۔ انوار و تجلیاتِ اِلٰہی کا مرکز بن جائے۔ اور پھر ساری کائنات تیرے اندر سما جائے اور پھر جدھر بھی دیکھے تجھے جلوہِ حسنِ یار نظر آئے۔ 

    ‎@Official__NA

  • طب نبویﷺدعاؤں اور دواؤں سے علاج تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    طب نبویﷺدعاؤں اور دواؤں سے علاج تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    نبی کریمﷺ کاجسموں کا علاج تین طرح کا تھا۰ایک طبعی دواؤں سے جنہیں اجزائے جماداتی وحیوانی سے تعبیر کیا جاتا ہے،دوسرا روحانی اورالہی دعاؤں سے جو کچھ ادعیہ،اذکار اور آیات قرآنیہ میں ہے،اور تیسرا ادویہ کامرکب ہے جو ان دونوں قسموں سے مرکب ہے یعنی داوؤں سے بھی اور دعاؤں سے بھی۰

    دعاؤں سے علاج: قرآن شریف سے بڑھ کر کوئی شے اعم وانفع اور اعظم ثناء نازل نہیں ہوئی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

    ترجمہ:”اور ہم نے قرآن سے وہ نازل فرمایا جو مسلمانوں کیلئے شفاء ورحمت ہے۰”(سورۃ بنی اسرائیل:آیت۸۱)۰

    اب رہا امراض جسمانیہ کیلئے قرآن کریم کا شفا ہونا تو اس وجہ سے ہے کہ اس کی تلاوت کیذریعے برکتیں حاصل کرنا بہت سے امراض وعلاج میں نافع ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی شحص کو شفاء قرآن پڑھ کر بھی نہ ہو تو اسے حق تعالی کبھی شفاء نہ دے گا۰

    حدیث میں ہے کہ فاتحۃ الکتاب ہر مرض کی دوا ہے۰

    حضرت علی المرتضی رض کی حدیث میں ہے جو ابن ماجہ میں مرفوعا مروی ہے”خیرالدواءالقرآن”(بہترین علاج قرآن ہے)۰

    بدنظری کا علاج:نبی کریمﷺ اس کا علاج معوذتین سے فرماتے۰یعنی ان آیات سے جن میں شرور سے استعاذہ ہے جیسے معوذتین سورۃفاتحہ آیۃ الکرسی وغیرہ علماء کہتے ہیں کہ سب سے اہم واعظم دعا وشفاء سورۃ الفاتحہ ایۃ الکرسی اور معوذتین کا پڑھنا ہے۰

    لا حولا ولا قوۃ کاعمل:حضرت ابن عباس رض سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جسے غم وافکار گھیرلیں اسے چاہئے کہ لاحولاولاقوۃالاباللہ بکثرت سے پڑھا کرے علماء فرماتے ہیں کہ اس کلمہ کے عمل سے بڑھ کر کوئی چیز مددگار نہیں ہے۰

    درد سر کی دعا:حمیدی بروایت یونس بن یعقوب عبداللہ سے درد سر کی دعا نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ درد سر میں اپنے اس ارشاد سے تعوذ فرماتے تھے:”بسم اللہ الکبیر واعوذباللہ العظیم من کل عرق نعار ومن شر حدالنار”

    ترجمہ:”حدا کے نام کیساتھ جو بڑا ہے اور میں پناہ چاہتا ہوں اللہ بزرگ کی ہررگ اچھلنے والے کی اور اگ کی گرمی کے نقصان سے۰” 

    ہر درد وبلاء کی دعا: حضرت ابان ابن عثمان اپنے والد عثمان رض سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے سنا ہے کہ جو کوئی تین مرتبہ شام کے وقت:بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمه شیء فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم”تو شام تک اس کو کوئی شے ناگہانی بلا مصیبت نہ پہنچے گی۰(مدارج النبوۃ)۰

    دنت کے درد کی دعا:بیہقی عبداللہ بن رواحہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے درد دنت کی شکایت کی۰تو حضورﷺ نے اپنا دست مبارک ان کے رخسار پر جس میں درد تھا رکھ کر سات مرتبہ پڑھا:اللھم اذھب عنه ما یجد وفحشه بدعوۃ نبیک المسکین المبارک عندک”دست اٹھانے سے پہلے اللہ نے ان کے درد کو رفع فرمالیا۰(مدراج النبوۃ)۰

    حرام چیز میں شفاء نہیں:سنن میں مروی ہے کہ نبی کریمﷺ سے شراب کو دوا میں ڈالنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو اپنے فرمایا مرض ہے علاج نہیں۰(زادالمعاد)

    نیز نبی کریمﷺ سے منقول ہے کہ جس نے شراب سے علاج کیا اسے اللہ شفاء نہ دے۰(زادالمعاد)۰

    شہد ک تاثیر:حضرت ابو ھریرہ رض فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شحص ہر مہینہ تین دفعہ صبح کے وقت چاٹ لے وہ کسی بڑی مصیبت وبلا میں مبتلا نہیں ہوتا۰(ابن ماجہ،مشکوۃ)۰

    قرآن وشہد میں شفا:حضرت عبداللہ بن مسعود رض فرماتےہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:کہ دو شھاء دینے والی چیزوں کو اپنے اوپر لازم کرلو (یعنی اس کا استعمال ضرور کیاکرو)ایک شہد دوسرا قرآنشریف(یعنی أیات قرآن)۰(ابن ماجہ ،بیہقی،مشکوۃ)۰

    کلونجی کی تاثیر:حضرت ابوھریرہ رض فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کلونجی سے ہر بیماری کی شفاء ہے مگر موت کی نہیں۰(بخاری،مسلم،مشکوۃ)۰

    روغن زیتون:حضرت زید بن ارقم رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ذات الجنب کی بیماری میں روغن زیتون اور ورس (ایک بونی)کی تعریف کی۰(ترمذ,مشکوۃ)۰

    دوا میں حرام چیز کی ممانعت:حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم دوا سے بیماری کا علاج کرو لیکن حرام چیز سے اس بیماری کا علاج نہیں کرو۰(ابوداؤد، مشکوۃشریف)۰

    مرگی:نبی کریمﷺ اکثر اوقات آفت زدہ کے کان میں یہ آیت پڑھا کرتے تھے: (افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون)اور آیت الکرسی سے بھی اسکا علاج کیا کرتے تھے اور آفت زدہ کو بھی اسکا ورد رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے اور معوذتین پڑھنے کو بھی فرمایا کرتی تھے۰(زادالمعاد)۰

    ‎@Tareef1234

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    انسان اپنی تمام ضروریات اپنے آپ پوری نہیں کرسکتا۔ اسے اپنی خواہشات، اپنی ضروریات اور اپنا مدعا دوسروں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ پہنچانے کے عمل کو "ابلاغ” کہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جو موجودہ دور کے معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاؤ انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہار رائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرائع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال اگر ضروریات کے تحت مثبت طریقے سے کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے میں نعمت سے کم نہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ایسے ٹول کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے معاشرے میں مثبت و منفی اثرات کے بے انتہا نقوش چھوڑے ہیں۔ سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا خصوصاً نوجوانوں کو اپنے سحر اور رنگینیوں میں جکڑے ہوئے ہے۔ 12 سال سے 35 سال کے افراد میں سوشل میڈیا کے استعمال کا رجحان بے انتہا حد تک بڑھ چکا ہے۔ جن نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو اپنا کر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے وہ اس سے بے پناہ مالی و معاشرتی فوائد حاصل کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوان مرد و عورتیں لاکھوں کروڑوں روپے کما کر اپنے روزگار کا ذریعہ حاصل کر چکے ہیں۔ ہر آتے دن کے ساتھ ہی فری لانسرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کے معاشی فوائد کو کھول کھول کر بیان کررہے ہیں۔

    پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہو رہا ہے اور نوجوان بڑھ چڑھ کر اس کا استعمال کرتے اور اس سے متاثر ہوتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ با آسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ٹرولز یعنی سوشل میڈیا کے ایسے گمنام یا اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز و مزاح کی آڑ میں انتشار پھیلانا ہوتا ہے، بڑے متحرک ہیں۔ ہم سب اس سنگین صورتحال سے آگاہ تو ہیں لیکن سدباب کیلئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔ اس حوالے سے شاید مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ ہونا ہوگا۔ تاکہ وہ اپنی اولاد اور شاگردوں کی تربیت کرتے قت اس اہم مگر بڑی حد تک نظر انداز معاملے پر مناسب توجہ دے سکیں۔ اس حوالے سے والدین کی اولین اور اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کس عمر میں انٹرنیٹ اور سمارٹ فون تک رسائی دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پھر رسائی سے پہلے اور رسائی کے دوران ان کی مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی نہایت ضروری ہے۔

    سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی جانب ایک نگاہ دوڑائی جائے تو فکر انگیز حد تک یہ نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر چکا ہے۔ نوجوان فحاشی و عریانی کے بدمست کھیل میں کود کر اپنا مستقبل داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی دشمن بھی اپنی چال چلتے ہوئے نوجوانوں کے ذہنوں میں شیطانیت کا پرچار کرتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وارفیئر بھی سوشل میڈیا پر لڑی جانے والی جنگ ہے جو آج کل سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔

  • پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان

    پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان


    بعض اوقات زندگی میں ہم اتنا مگن ہوتے ہیں کے اپنے کھانے پینے کی ضرویات کا سہی طرح خیال نہں رکھ پاتے یہ شاید اتنا سوچنے کا وقت بھی نہں ہوتا ہمارے پاس کے ایسا کیا اچھا ہے کھانے میں کو بیک وقت آپکو بیماریاں سے بچائے آپ کے بال آپکی جلد آپکی جسمانی وضح کے لیے ایک ساتھ اچھا ہو ایسا کیا ہے جس کے استعمال سے ہم اپنی صحت بھی خیال رکھ سکتے اپنے بڑھتے ہوئے وزن کو بھی کنٹرول کر سکتے ہیں جی بلکل ایسے تمام خو صیات پائی جاتی ہیں پھلوں میں جس سے ہماری روز مرہ کی جسمانی ضرویات پوری ہوتی ہیں اور ہمارا وزن کو کنٹرول کرنے اور ساتھ جلد کو صاف شفاف رہنے میں بھی مدد ملتی ہے.
    آپ کو بھوک لگی ہے اور کچھ مزیدار کھانا چاہتے ہیں آپ کو بھوک ختم کرنے اور پیٹ کے بھرنے کا احساس دلائے اور آپ کو موٹا نہ کرے ، کیا یہ ممکن ہے؟ شاید یہ پہلا خیال ہے جو آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ تو جواب ہے ہاں! یہ ممکن لیکن اس طرح کی کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے آپ کو تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے تھوڑی تیاری کرنی پڑتی ہے اور آپ اتنے تھکے ہوئے ہیں کہ اٹھ کر کھانا پکانے کی ہمت نہں رکھتے
     تو ایسا کیا ہے جو آپ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں ، کیا آسانی سے کیا کھایا جا سکتا ہے ایسر کیا چیز کھانے کے لیے جلدی ملنا ممکن ہے؟

     جی بلکل بہت آسانی سے آپ کھا سکتے ہیں صحت مند چیزیں ، کھانے کے لیے فوری تیار پھل سے آپ فوری لطف اندوز ہو سکتے ہیں جو کہ مشینی تیار نہں شدہ بلکہ آپ صرف اپنے دانتوں کو استعمال کرتے ہوئے سے بھرپور طریقے سے اِسکا مزا لے سکتے ھیں.
     لیکن یہ کیا ہے جو صحت کے متعدد فوائد فراہم کر سکتا ہے اور اب بھی آسانی سے قابل رسائی ہے؟ آئیے خیالات سے آگے نہ بڑھیں اور اپنے آپ کو فطرت کی دی گئی نعمتوں کی طرف رہنمائی کریں جس نے ہمیں رنگا رنگ اور پرکشش پھلوں سے نوازا ہے جو نہ صرف فائدہ مند ہیں جب کہ تندرستی کی بات آتی ہے بلکہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد بھی ہیں۔

     پھلوں کے صحت کے فوائد کیا ہیں؟
     چونکہ یہ جانا جاتا ہے کہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد ہیں لہذا یہاں ایک جھلک ہے کہ آپ کو اپنی خوراک میں پھلوں کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔

     پھل وٹامن اور معدنیات کا ایک بھرپور ذریعہ ہیں جو ضروری غذائی اجزاء سمجھے جاتے ہیں جو جسم میں میٹابولک سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور انسانی جسم میں بہت سے دوسرے کام انجام دیتے ہیں۔
     پھل فائبر کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جو متعدد طریقوں سے فائدہ مند ہیں جن میں شامل ہیں۔ آنتوں کی صحت کو بہتر بنانا ، بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ، بلکے اور مکمل طور پر فراہم کرنا ، کولیسٹرول کو کم کرنا ، قبض سے نجات اور اور بہت سے فوائد
     پھل بہت سے اینٹی آکسیڈنٹس مہیا کرسکتے ہیں جو دل کے مسائل ، کینسر اور بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور ان آزاد ریڈیکلز سے لڑتے ہیں جو کے جسم میں منفی اثرات پیدا کرتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس بڑھاپے میں تاخیر کرتے ہیں لہذا پھل چمکدار اور جوان جلد کے حصول میں بھی مدد کرتے ہیں۔
     پھل غذائی اجزاء کی ایک وسیع رینج سے لدے ہوتے ہیں جو فوائد کی بات کرتے وقت اس کو حاصل کرتے ہیں۔ پھلوں کی ایک مثال جو وٹامن سی کی ایک بہت بڑی مقدار مہیا کرتی ہے جو لوہے کے جذب میں بہت ضروری ہے ، بہت سے انفیکشن سے بچاتی ہے ، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے ، یہ زخموں کو بھرنے میں مددگار اور اہم ہے ہڈیوں اور دانتوں کی صحت
     پھلوں میں پانی کی اچھی مقدار ہوتی ہے جو آپ کو ہائیڈریٹ اور فعال رکھتی ہے۔
     پھل آپ کے میٹابولزم کو فروغ دیتے ہیں لہذا وزن کو کنٹرول کرنے اور ایک مثالی اور صحت مند جسمانی وزن حاصل کرنے میں یہ آپکی مدد کرسکتے ہیں اس لیے اپنی روز مرہ زندگی میں پھل کھانے کی عادت بنائیں۔
    تحریر

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟  تحریر: احسان الحق

    ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟ تحریر: احسان الحق

    آج سے تقریباً تین سال قبل ہمارے ایک رشتے دار عزیز کے خلاف اقدام قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس اس کو گرفتار کر کے لے گئی. مدعی نے ملزم پر الزام عائد کیا کہ اس نے چھری دکھاتے ہوئے مجھے قتل کی دھمکی دی یا قتل کرنے کی کوشش کی. عدالت میں گواہ بھی پیش کر دئیے گئے. ملزم مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا. آخر کار متعدد پیشیوں اور ضروری عدالتی کاروائی کے بعد معزز عدالت نے ملزم کو مجرم بنا کر جیل میں بھیج دیا. پچھلے ماہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے. دس لاکھ روپے کے بدلے صلح کرنے اور مقدمہ واپس لینے پر اتفاق ہوا. مجرم کے غریب اہل خانہ نے گھر کا سارا مال اور سامان بیچ کر اور ادھار لے کر تقریباً دو ہفتوں میں دس لاکھ کا بندوبست کر لیا. تقریباً ڈیڑھ لاکھ اوپر خرچ ہوا. کل گیارہ لاکھ چالیس ہزار خرچ کرنے کے بعد ملزم یا مجرم پچھلے ہفتے گھر واپس آیا. یہاں پر ایسا قانون حرکت میں آیا جو ہمیشہ عام غریب پاکستانی کے خلاف حرکت میں آتا ہے.

    مذکورہ بالا واقعہ گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چھری دکھاتے ہوئے قتل کی دھمکی کے الزام پر عدالت نے غریب ملزم یا مجرم کو جیل بھیج دیا اور دوسری طرف ایک درندے اور سفاک صفت قاتل کو اعتراف جرم کرنے کے باوجود عدالت سزا سنانے سے قاصر ہے. ایک ایسا سفاک قاتل جس کے خلاف جنسی تشدد، جسمانی تشدد، قتل، قتل کے بعد سر کو دھڑ سے الگ کرنے جیسے سنگین ترین الزامات ثابت ہو چکے ہیں. نور مقدم کا قاتل اثرورسوخ اور کافی طاقتور ہے یہی وجہ ہے کہ اعتراف جرم بلکہ اعتراف جرائم کے بعد بھی عدالت میں پیشیاں بھگتائی جا رہی ہیں. ملک عزیز میں قانون اور آئین کی پاسداری اور بالادستی ناپید ہو چکی ہے اور انصاف ملنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور بالخصوص غریب آدمی کے لئے انصاف لینا تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے. ایسے لاتعداد واقعات اور مقدمات ہیں جن میں ملزمان اعتراف جرم کرتے ہیں، اعتراف جرم کے بعد بھی ان کو سزا نہیں دی جاتی. دوسری طرف غریب آدمی بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزا اور جرمانے کا مستحق ٹھہرتا ہے. بعض اوقات سزا اور قید مکمل ہونے کے بعد بھی عام آدمی کو اضافی انتظار، محنت اور خرچہ کرنا پڑتا ہے، پھر کہیں جا کر اسکی جان چھوٹتی ہے.

    پچھلے سال لاہور موٹر وے پر ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. ایک کار سوار عورت لاہور سے سیالکوٹ کا سفر کر رہی تھی، گاڑی میں تیل ختم ہونے پر مدد کی انتظار میں سڑک کنارے کھڑی تھی. دو موٹر سوار لوگوں نے جنسی زیادتی کی، جسمانی تشدد کیا اور کچھ سامان بھی چھین کر لے گئے. وہ دونوں مجرم عام پاکستانی تھے. پیسے اور تعلقات کے حوالے سے وہ کمزور مجرم تھے. ان دونوں کو پکڑ لیا گیا اور عدالت نے مختلف دفعات لگاتے ہوئے سزائے موت، قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنائیں. حالانکہ اس واقعہ میں عورت کو قتل نہیں کیا گیا، قتل کے بعد سر کو جسم سے الگ بھی نہیں کیا گیا، لاش کی بے حرمتی بھی نہیں گئی. پولیس اور ادارے مجرموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے اور عدالت نے انہیں سخت سزا دی جس کے وہ یقیناً مستحق تھے. مجرموں اور متاثرہ عورت کے درمیان تعلقات اور طاقت کے حوالے سے بہت فرق تھا. متاثرہ عورت ان جیسی عام پاکستانی ہوتی یا مجرم عورت کے مساوی طاقتور ہوتے تو شاید عدالت فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیتی یا ابھی تک مقدمہ چلایا جا رہا ہوتا.

    نور مقدم واقعہ لاہور موٹروے واقعے سے کہیں زیادہ المناک، دردناک اور دلخراش واقعہ ہے. جس میں قاتل نے انسانیت کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے انتہائی سفاکانہ طریقے سے مقتولہ کو قتل کیا. قتل سے پہلے جنسی تشدد کیا، جسمانی تشدد کیا، پھر قتل کیا، قتل کے بعد پھر تشدد کیا، سر کو دھڑ سے جدا کر دیا. اس واقعہ پر بہت ساری بحث کی جا چکی ہے اور بحث ہو رہی ہے اور اب لوگوں کو اس قتل کے بابت معلوم کو چکا ہے. یہ ایسا درناک، افسوسناک اور المناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. مانا کہ قاتل اور مقتول دونوں اونچے درجے کے خاندان ہیں. دونوں کے پاس پیسوں اور تعلقات کی کوئی کمی نہیں. نور مقدم کے قاتل کا اعتراف جرم کے باوجود بھی اس کے خلاف سزا نہ سنائی جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قاتل مقتول سے زیادہ طاقتور ہے. میری ذاتی معلومات کے مطابق مجرم نے دوران تفتیش اقبال جرم کر لیا تھا. دوسری طرف پولیس نے موقع واردات سے شواہد بھی اکٹھے کر لئے تھے اور کچھ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلم بند کئے گئے تھے. اس سب کے باوجود قاتل ابھی تک سزا سے دور ہے.

    بمطابق 13 ستمبر بروز سوموار کو قاتل ظاہر جعفر کی پیشی تھی. احاطہ عدالت کے باہر لوگوں نے قاتل کو سزا دینے اور نور مقدم کو انصاف دینے کے لئے خاموش احتجاج کیا. ہمارا عدالتی نظام اور سزا و جزا کا عمل اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ لوگ کمرہ عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں پھر بھی ہماری عدالتیں ان مجرموں کو سزا دینے سے قاصر رہتی ہیں. مثال کے طور پر ذیل میں کچھ مشہور واقعات اور ان کا اعتراف کرنے والے مجرمین کا ذکر کرتے ہیں.

    کراچی وار گینگ کا سرغنہ عزیر بلوچ دوران تفتیش پولیس کے سامنے اور کمرہ عدالت میں معزز جج کے سامنے 120 سے زیادہ قتل، اغواء برائے تاوان، کراچی میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت، پڑوسی ملک کو حساس مقامات کی معلومات کی فراہمی جیسے سنگین ترین جرائم کا اعتراف کر چکا ہے مگر ابھی تک عدالت نے اسکو سزا نہیں دی. عزیر بلوچ کافی اثرورسوخ رکھنے والا طاقتور آدمی ہے. کراچی میں ایک فیکٹری کے دروازے باہر سے بند کر کے آگ لگا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں 258 مزدور زندہ جل کر خاکستر ہو گئے تھے. آگ لگانے والا رحمان بھولا بیرون ملک سے گرفتار ہو کر عدالت میں پیش ہوا اور اقبال جرم کرتے ہوئے سب کچھ کچھ بتا دیا. میرے خیال میں بھولا ابھی تک زندہ ہے. شاہ زیب قتل واقعہ کے مرکزی مجرموں نے کمرہ عدالت میں قتل کا اعتراف کیا تھا مگر ان کو سزا نہیں سنائی جا سکی، اب تو سنا ہے کہ قاتل ملک سے بھی باہر چلا گیا ہے. لاہور میں کمسن گھریلو ملازمہ عظمی کو گھر کی مالکن نے قتل کیا، قتل کرنے کے بعد لاش کو گٹر میں پھینک دیا. مقتولہ نے اقبال جرم کیا، کچھ عرصے بعد عدالت نے مقتولہ کو رہا کر دیا تھا. خیبر پختونخواہ پولیس تہرے قتل میں مطلوب قاتل کو یورپ سے گرفتار کرکے پاکستان لے آئی، قاتل نے عدالت میں اعتراف جرم کیا. کچھ ہفتوں بعد غالباً دو یا تین لاکھ کے بدلے عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا. اس طرح کے واقعات سے ہماری عدالتی تاریخ بھری پڑی ہے.

    ناقابل تردید شواہد، مختلف تنظیموں اور پاکستانیوں کے پرزور مطالبے اور احتجاج کے باوجود ابھی تک قاتل کے خلاف سخت ترین کاروائی غیر یقینی نظر آ رہی ہے. عدالتی حوالے سے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتیں ظالم کو سزا دینے اور مظلوم کو انصاف دینے میں جلدی کریں. اب دیکھنا یہ ہے کہ قاتل ظاہر جعفر اور شریک جرم اس کے والدین کو عدالت کب اور کتنی سزا دیتی ہے یا پھر رہا کرتی ہے.

    ‎@mian_ihsaan

  • طالبان اور ان کے خلاف ہونے والا جھوٹا پروپیگنڈا تحریر: محمد رمضان

    طالبان اور ان کے خلاف ہونے والا جھوٹا پروپیگنڈا تحریر: محمد رمضان


    دیکھا جائے تو جب سے کابل فتح ہوا ہے تب سے اسلامی امارات کے خلاف بے بنیاد پروپیگینڈا شروع ہے ۔یہ پروپیگینڈا وہ لوگ کررہے ہیں جو تادم مرگ رہنے کا سوچ کر  افغانستان آئے تھے لیکن ان کے خواب خاک میں مل گئے 

    وہ چاہتے تھے کہ ہم افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے خلاف گھٹیا حرکات سرانجام دیں

    اس میں درج ذیل نکات شامل ہیں

    1.سب سے پہلا پروپیگنڈہ یہ تھا کہ یہ لوگ عورتوں کو کام پر نہیں جانے دیں گے لیکن انہوں نے عورتوں کے لیے نرس اور مختلف شعبوں میں کام جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی اور یہ پروپیگنڈہ بھی اپنی موت آپ مر گیا

    2۔دوسرا پروپیگنڈا یہ تھا کہ یہ لوگ بہت ظالم لوگ ہیں کابل فتح ہونے کے چند دنوں بعد اور امریکی اسلحہ اور ہیلی کاپٹر ہاتھ لگنے کے بعد طالبانوں نے ایک ہیلی کاپٹر اڑایا اور اس کے ساتھ نیچے رسی کےساتھ ایک مجاہد  کو لٹکا کر مشقیں کیں۔ تو انڈین میڈیا نے پروپیگنڈا کیا کہ یہ ایک امریکی ٹرانسلیٹر کو پھانسی دی جا رہی ہے

    3۔افغانستان کا ایک صوبہ پنجشیر جس پر نہ ہی سوویت یونین قبضہ کر سکی اور نہ ہی امریکہ اس کو حاصل کر سکا لیکن چند دنوں میں طالبان نے  اس پر قبضہ کرلیا  تو اس کے خلاف یہ پروپیگنڈا چلایا گیا کہ یہ سراسر پاکستانی مداخلت کی وجہ سے قبضہ ہوا ہے ورنہ طالبان کے اندر اتنی پاور کہاں سے آئی کہ جس کو سوویت یونین قبضے میں لے سکا اور نہ ہی امریکہ  قبضے میں لے سکا اس جنگ میں پاکستان کی مداخلت قرار دیدیا گیا اور کہا گیا کہ اس کے اندر پاکستان کے F16 جہاز اور  ڈرون استعمال ہوئے ہیں ۔جس کی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے واضح الفاظ میں تردید کی

    4۔ااور پھر ملا حسن اخوند کے وزیراعظم بنتے ہی یہ کہا گیا کہ ایک میٹنگ کے دوران طالبان رہنماؤں کے لڑائی ہوئی جس میں ملا عبد الغنی برادر شدید زخمی ہوئے اور شاید فوت بھی ہوگئے 

    اس پرپیگنڈا کے پھیلنے کے بعد ملا عبد الغنی برادر کو بذات خود بیان جاری کرنا پڑا کہ وہ الحمداللہ خیریت سے ۔ وہ سفر میں تھے کہ شر پسند عناصر نے ان کے مرنے کی خبر چلادی

    لیکن ان کرپٹ لوگوں کو کوئی نہیں پوچھتا جو اپنے ساتھ 169ملین ڈالر لےکر افغانستان سےفرار ہوئےتھے۔ ان کےنائب امراللہ صالح کےپاس اتنا کچھ تھاکہ فرار ہونےسے پہلے 6.5 ملین ڈالر نقد اور سونےکی اینٹیں گھر پر چھوڑ دیں

    یہ وہ لوگ ہیں  جو کرپشن کو اپنا وتیرہ سمجھتے ہیں لیکن ان  کی 90فیصد آبادی 2 ڈالر یومیہ سے کم کماتی ہے۔

    جن کو کوئی کام نہ ملے وہ پردے پر پروپیگنڈہ شروع کردیتا ہے ۔ بندہ ان سے پوچھے ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے 

    مسلمانوں نے اسلام کے اصولوں پر چلنا ہے ۔جس طرح مسلمان آپ کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتے اس طرح یورپ کو چاہیے کہ اسلام میں مداخلت نہ کریں

    اسی سلسلے میں ٹرمپ نے ایک بیان دیا کہ

    ہم چاہتے ہیں کہ

     خواتین نقاب نہ پہنیں لیکن پھر میں نے انٹرویو دیکھا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم یہ پہننا چاہتی ہیں، اور ایک ہزار سال سے پہن رہی ہیں، کوئی ہمیں کیوں بتاتا ہے کہ اسے نہ پہنیں۔ جب وہ پہننچا چاہتی ہیں تو ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم اس میں دخل اندازی کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ

    جتنا پروپیگنڈا کرنا ہے کر لو لیکن طالبان افغانستان میں ایک حقیقت بن چکی ہے جسے تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی افغانستان کے اندر امن قائم رکھے

     آمین

    ‎@MRamzan26

  • اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا تحریر:سید مصدق شاہ

    وہ دوراہے پر کھڑی تھی۔ اس کے آج کے فیصلے پر اس کی آنے والی زندگی کا دارومدار تھا۔ اس کے راہ زیست کو پھولوں سے سجنا تھا یا وہاں ہمیشہ کانٹے  ہی اگنے تھے یہ اس کے آج کے فیصلے پر منحصر تھا۔ اور وہ۔۔ وہ تو پھول اور کانٹوں میں تمیز ہی نہیں کر پا رہی تھی۔ گھر میں مہندی کا فنکشن جاری تھا۔ کل اس کی بارات آنی تھی۔ اماں کئی مرتبہ آکر اس کی بلائیں لے چکی تھیں۔ 

    لڑکیاں ڈھولک لیے اس کے گرد گھیرا بنائے بیٹھی تھی۔ گانے، شوخ قہقہے،ذومعنی جملے، چھیڑ چھاڑ اس سب میں اس کا رویہ کچھ اور ہونا چاہیے تھا 

    مگر وہ۔۔

     وہ تو تمام رونقوں سے پرے سوچوں کے عمیق سمندر میں گم تھی۔ 

    دوبارہ اسجد کا میسیج آیا تھا۔ اس نے لمبے چوڑے میسیج میں دوبارہ وہی کچھ لکھا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہم ہے اور وہ اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ زمانے کو لعن طعن محبت کے قسمیں وعدیں اور آخر میں دوبارہ وہی۔۔ بھاگ جانے کا مشورہ۔۔

     چاہتی تو وہ بھی یہیں تھی۔۔ اسجد اس کی دو سال کی محبت تھا جس سے وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔

     شادی تو وہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ مگر کامران بیچ میں آگیا۔ کامران اس کا تایا زاد۔

     اس نے بہت کوشش کی منع کرنے کی مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔

    اسے آج فیصلہ کرنا تھا۔ ایک طرف اس کے والدین کے ہنستے مسکراتے چہرے تھے اور دوسری طرف اسجد کی محبت۔ 

    وہ سوچ رہی تھی اگر اس نے ایسا کوئی قدم اٹھا لیا تو کیا اس کے ابا معاشرے میں دوبارہ سر اٹھا کر جی پائیں گے۔

    وہ مسکان جو ابھی اماں کے چہرے پر سجی ہے کیا وہ دوبارہ مسکرا پائیں گی۔

    اسے یاد آیا وہ تو دل کی مریض تھیں۔ کیا وہ یہ صدمہ سہار پائیں گی۔ بہت سے اگر اس کا دل دہلا رہے تھے۔اور اس سے چھوٹی نادیہ۔۔ 

    اگر وہ بھاگ گئی تو نادیہ کے لیے گھر کی دیواریں اتنی اونچی کر دی جائیں گی کہ وہ باہر کی دنیا میں جھانک بھی نہ سکے۔کیا وہ ان رشتوں کے بغیر رہ پائے گی۔

     کیا وہ خون کے رشتوں سے کٹ کر سکون کے ساتھ جی پائے گی۔۔نہیں۔۔

    پر جی تو وہ اسجد کے بنا بھی نہیں پائے گی اس کے دل سے صدا آئی۔

    دل کچھ کہتا اور دماغ اسے رد کر دیتا۔ اور دل بھی کہاں دماغ کے پیش کردہ حقائق کو تسلیم کرتا۔

     اس دل و دماغ کی جنگ میں سبین اسے کھانا دینے آئے جسے اس نے بھوک نہیں ہے کہہ کر واپس بھجوا دیا۔۔

    اف۔۔ کیا کرے وہ۔۔ اسجد کے میسج پر میسج آرہے تھے۔

     اس نے ملتان کے لیے دو ٹکٹ لے لیے تھے۔۔فیصلہ ہو چکا تھا۔

     محبت اور رشتوں کی جنگ میں خون کے رشتوں کو مات ہوئی تھی۔

     اس نے سر درد کا بہانہ کیا اور کمرے میں چلی آئی۔

    وہاں آکر اس نے کاغز قلم ڈھونڈا۔ کانپتے ہاتھوں سے کچھ سطریں لکھی اور کاغذ ٹیبل لیمپ کے نیچے رکھ دیا۔

    کھڑکی کے راستے وہ گھر کے پچھلی جانب آئی جہاں اسجد اپنے دوست کی گاڑی لیے تیار کھڑا تھا۔ اس نے آخری نظر گھر کو دیکھا۔

    کچھ چہرے آنکھوں کے سامنے لہرائے۔ اس کے قدم لڑکھڑائے مگر فیصلہ تو وہ کر چکی تھی اب اس پر عمل کرنے کا وقت تھا۔ وہ پہلے اسجد کے دوست کے گھر گئے وہاں ان کا نکاح ہوا۔ پھر اس کا دوست خود انہیں سٹیشن تک چھوڑنے آیا۔

    گاڑی لاہور سٹیشن سے نکلی تو اسے لگا جیسے وہ اپنے وجود کا ایک حصہ یہیں کہیں چھوڑے جا رہی ہے۔

     آنسوؤں کی باڑ سے دور جاتا لاہور ریلوے سٹیشن اب دھندلا ہوتا جا رہا تھا۔،،

    دو سال بیت چکے تھے تھے اسے اب کبھی کبھار گھر والوں کی یاد ستاتی 

    دل انہیں ملنے کو تڑپ اٹھتا  مگر ننھی لائبہ نے اس کی توجہ ہٹا دی تھی ماضی کی تمام یادیں لائبہ کی ننھی قلقاریوں میں گم ہوجاتیں اسجد بھی تو بہت اچھا تھا اس کے ساتھ اس نے اپنی محبت کے تمام وعدے وفا کیے

    مگر پھر بھی کہیں ایک خلاصہ باقی رہتا وہ بھی جانتی تھیں کہ خلا کہیں باہر نہیں بلکہ اس کے اندر ہے مگر پھر بھی زندگی حسین تھی اور حسین ہی رہتی اگر اس روز مال میں اسے وہ نہ ملتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ لائبہ کو لے کر شاپنگ مال گئی تھی جب پرام کو بچوں کو سیکشن کی طرح دکھیلتے ہوئے اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی

     ایک پل کو جیسے اسے یقین نہ آیا یقینا وہ نادیہ تھی

     اس کی نظر بھی پڑھ چکی تھی اور آنکھوں میں شناسائی کی چمک ائی وہ قدم اٹھاتے اس کے پاس چلی آئی

     کیسی ہو نادیہ؟

     دل تو شدت کے ساتھ اسے گلے لگانے کا چاہ رہا تھا تھا مگر بیچ میں دو سال کا فاصلہ حائل تھا 

    میں ٹھیک ہوں اپا

     تم کیسی ہو ؟ اس نے بمشکل چہرے پر مُسکان سجا لی تھی

    تم ۔۔۔۔یہاں کیسے۔۔۔

    اس کی حیرت ہنوز قائم تھی

    میں یہاں دو ماہ پہلے آئی تھی کامران کی پوسٹنگ ہوگئی ہے نا یہاں

    کامران ۔۔۔۔ اس نے بے یقینی سے اپنی چھوٹی بہن کی طرف دیکھا

    ہاں آپا کسی نے تو ابا کی عزت رکھنی تھی نا

    اسے یقین نہیں آرہا تھا نادیہ اس سے پانچ سال چھوٹی تھی یعنی کامران نادیہ سے آٹھ سال بڑا تھا ایسے میں کوئی مرد شاپنگ بیگ تھامے اس کی جانب آیا تھا بلاشبہ کامران تھا اسے دیکھ کر وہ پل کو ٹھٹکا

     پھر چہرے پر سختی کے آثار آگئے 

    میں کاونٹر پر ہوں وہی آجانا نادیہ کو بتا کر وہ کاونٹر کی طرف بڑھ گیا

     آپی یہ تمہاری بیٹی ہے؟

    اس کی نظر ابھی لائبہ پر پڑی تھی۔۔ ہاں ، اس نے جھک کر اسے پیار کیا تھا ماشاء اللہ بہت پیاری ہے

    کامران ٹھیک ہے نا تمہارے ساتھ ؟

    اس کے دل میں کئی اندیشے جاگ رہے تھے

    ہاں کامران بہت اچھے ہیں آپا وہ نا بھی بولتی تو اس کے چہرے پر آنے والے رنگ خوشگوار ازدواجی زندگی کا پتا دے رہے تھے 

    اور اماں ابا۔۔۔؟ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا

    وہ فورا سیدھی کھڑی ہوئی لبوں کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی اپا تم مغرور تھی ان کا

    تمہیں دیکھ کر جیتے تھے وہ

     تم نے اماں سے ان کی زندگی اور ابا سے ان کا غرور چھین لیا

    اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا

    تمہارے جانے کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ جان لیوا ثابت ہوا وہ الفاظ نہیں تھی بلکہ پھگلا ہوا سیسہ تھا جو اس کے کانوں میں انڈیلا جا رہا تھا

    وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی

    ابا تو شاید اس دن کے بعد بولنا ہی بھول گئےکبھی کسی نے انہیں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا

    اسے لگا کہ کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے کر مسل دیا ہے

    آپا پتہ ہے اماں نے مرنے سے پہلے تمہارے بارے میں کیا کہا تھا؟

    وہ یک ٹک اسے دیکھنے جارہی تھی

    ماں نے کہا تھا تم بھی میری طرح یوں ہی تڑپو گی  اسے لگا کہ کسی نے اسے پاتال میں دھکیل دیا ہو

    وہ کتنی ہی دیر گم صم کھڑی رہی نادیہ اپنی بات کہہ کر جا چکی تھی وہ بھی اپنے اعمال کردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے گھر کو چل پڑی بے آب اسے پوری زندگی اس بوجھ کے ساتھ جینا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وقت ماہ و سال پر اپنی گرد ڈال کر انہیں ماضی میں بدلتا رہا اور یوں 20 سال گزر گئے لائبہ جوان ہو چکی تھی اللہ نے لائبہ کے بعد اسے کوئی اولاد نہیں دی

     وقت نے اس کے بالوں میں چاندی اتار دی تھی

     سب کچھ بدل گیا تھا اگر کچھ نہیں بدلا تو اس کا پچھتاوا  تھا 

    اسے روز رات کو خواب میں اماں ابا کا چہرہ نظر آتا تھا

     اسے نادیہ کی باتوں کی گونج سنائی دیتی اماں اس کا کاندھا جھنجوڑ کر کہتی تو نے ہمیں تڑپایا ہے تو بھی یوں ہی تڑپے گی وہ نیند میں جاگ جاتی اور دوبارہ سو ہی نا پاتی

     اب تو اسے نیند اور دواؤں کے بنانیند ہی نہیں آتی جاگتے ہوئے بھی ایسے ہی خیال ذہن میں آتے رہتے ہیں

    سب کہتے لائبہ بالکل اس پر گئی ہے وہی آنکھیں وہی ناک نقشہ اور وہ دہل جاتی 

    کہیں وہ بھی میری طرح۔۔۔۔۔۔

    اس سے آگے وہ سوچ نا پاتی

    وہ ہر وقت اسے دیکھتی رہتی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کرتی جوں ہی وہ کالج سے اتی اس کا بیگ گھنگالتی۔

    وہ سو رہی ہوتی تو کئی بار اس کے کمرے میں جا کر اسے دیکھ کر تسلی کرتی اسجد اور لائبہ دونوں ہی اس کے ان عادت سے نالاں تھے

    اسجد تو پھر سمجھ جاتا پر لائبہ اس پر چڑھ دوڑتی اسے خوب سناتی پر وہ پھر بھی نہ رہ پاتی

     ٹی وی میں یا کسی شخص سے کسی لڑکی کے گھر سے بھاگ جانے کا سنتی تو اس کا زخم ہرا ہو جاتا کئی دن  گم صم بیٹھی رہتی ایسے میں وہ خود سے بھی بے خبر رہتی اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی رہتی 

    پھر کچھ دن بعد اسی جون میں واپس آجاتی اور لائبہ کے ساتھ وہی رویہ اپنا لیتی

    ڈاکٹرز کہتے تھے کہ اسے کوئی نفسیاتی عارضہ ہے مگر وہ تو اپنے اعمال کی فصل کاٹ رہی تھی جو زہر اس نے 20 سال پہلے بویا تھا اب وہ ایک تناور درخت بن چکا تھا اور اس کا زہر اس کے اپنے جسم میں سرایت کر چکا تھا

     اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا اس زہریلے درخت کی چھاؤں تلے

    (ختم شدہ)

    Tweeter Id Handel:  @

  • قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    اگر دیکھاجائے تو ایک قلمکار کا دائیرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے۔ وہ اپنے قلم سے بہت کچھ کر سکتا ہے زمانہ میں انقلاب لا سکتا ہے ۔ذہنی تربیت دے سکتا ہے۔اذنی تحریر کو مقصد سے آراستہ کر سکتا ہے اسکو مفید بنا سکتا ہے۔مگر آج کا قلمکار، آج کے قلم کی طرح یوز انڈ تھرو ہو گیا ہے ۔ یعنی پڑھو اور بھول جاؤ۔ تحریر بے مقصد، غیر دلچسپ، ناقابل فہم ہوگی تو کون قاری اس کو یاد رکھے گا۔ آج کے قلمکار کی تحریر ایسی ہوتی ہے کہ بس بس کیا پڑھے یاد نہیں رہتا۔ وجہ کیا ہے ؟ وجہ ایک ہی ہے اب سوشل میڈیا کا دور ہے اب جھوٹ پہلے جیسی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے صحافتی قوانین بنائے ہیں جن میں حقائق پر مبنی خبر ہی نشر کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں قومی سطہ کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤس بھی ریٹنگ کے چکر میں ہر خبر کو بریکننگ نیوز بنا کر نشر کرتے ہیں اور اکثر خبریں صرف اِن الفاظ کے ساتھ نشر کی جاتی ہے "ذرائع کہ مطابق” لیکن ذرائع کا نام، اِدارے کا نام، کسی مستند صحافی کا نام لئے بغیر ہی اُس خبر کو سارا سارا دن ساری رات بار بار چلایا جاتا ہے۔ کیا یہ ٹحیک ہے کسی بھ ایسی ریاست کے لئے جس کے خلاف ہائبرڈ وار فیئر بھرپور انداز میں مسلط ہو۔؟پہلے اہل قلم اپنی قلم کو تلوار بنا لیتے تھے،سوئے ہُوئے ذہنوں کو جگانے کا کام لیتے تھے۔ نیز قلم سے نشتر کا کام لیتے تھے معاشرہ میں رائج فرسُودہ رسم و رواج اور برائیوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ مگر آج کا قلمکار، قلم تو اس کے لئے بھی تلوار ہے مگر زنگ آلود تلوار جس کو وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ گویا ایک دوسرے کو کند چھری سے ذبح کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

    ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگا رہتا ہے۔ تنقید برائے تنقید کرتا چلا جاتا ہے۔ جس سے مُعاشرے میں برائی کو تقویت ملتی ہے مقابلہ بازی میں مدے سے ہٹ کر بحث میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اور یہ نا صرف مُعاشرے بلکہ ریاست کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ایک صحافی جو قلم سے ایک دوسرے کی کاوشوں پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اور اس لفظی جنگ میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے بھی گریز نہیں کرتا اِس کا نقصان کسے ہوگا یہ جانے بغیر وہ اِس مقابلے میں بل آخر جھوٹ کا سہارا لینا شروع کر دیتا ہے جو برائی کی پہلی سیڑی ثاب ہوتی ہے اور یہاوہ صحافی اپنے قلم کے ساتھ خیانت کر بیٹھتا ہے ضمیر کو بھی جھوٹی تسلی دے کر سلانے لگتا ہے۔ مگر حرام کا ایک لُقمہ حلق میں جاتے ساتھ حلال رزق سے چند لمحوں میں قوسوں دُور ہوجاتا ہے۔
    پاکستان اِس وقت ففتھ جنریشن وار جیسی جنگ کی زد میں ہے اور میڈیا اِس جنگ میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں فیک نیوز کی ایک لمبی لائن لگ جاتی ہے جو ریاست مخالف استعمال ہوتی ہے ایسے مشکل حالات میں میڈیا ریاست کا ساتھ دیتا ہے جبکہ ہمارا میڈیا غیر ملکی ہتھکنڈوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر بضد ہے۔

    ‏ایسا صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ حکومت کہہ رہی ہے سچ بولیں اور یہ جاہل کہتے ہیں نہیں ہمیں یہ منظور
    ‏فیصلہ ہونے والا ہے اس قوم نے تباہ ہونا ہے یا ترقی یافتہ عظیم قوم بننا ہے
    اللہ کو ہماری ضرورت نہیں ہم نہیں سدھریں گے تو ہم سے بہتر لوگ آجائیں گے
    احتجاج ہورہا ہے کہ جھوٹ کی آزادی دو یہ وہ گناہ ہے جس پہ اللہ نے خود لعنت فرمائی ہے
    جو گروہ جیتے گا وہ ملک کے مستقبل کا تعین کردے گا۔
    میڈیا میں جھوٹی خبروں اور خواہشات پہ مبنی جھوٹے من گھڑت تجزیوں کی روک تھام کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے ۔ صحافی
    عدالتوں میں بہتری اور اصلاحات کے لیئے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے- وکلاء
    الیکشن کمیشن میں بہتری کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے۔ الیکشن کمیشن
    مگر نیا پاکستان کیوں نہیں بنا اس کا جواب عمران خان کو دینا ہو گا۔ بہت خُوب
    جب آپ لوگو جھوٹ نہیں بولیں گے تو آپ کو کسی بات کا ڈر نہیں ہونا چاہئے
    مگر وہ کہتے ہیں نا چور کی داڑھی میں تنکا
    ان شاءاللہ یہ ہو کر رہے گا۔
    @A2Khizar

  • اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام انسان دوستی اور عظمت ِ انسانیت کا درس دیتا ہے اسلام ہمیں نفرت اور قتل و غارت نہیں بلکے امن، سلامتی اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اسلام انسانیت کی کامیابی کا ضامن ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے غیرمعمولی ظاہری اور معنوی خوبیوں سے آراستہ کیا اسلام ایک دینِ کامل اور مکمل دستورِحیات ہے، اسلام میں انسانی زندگی سے متعلق تعلیمات وہدایات موجود ہیں اسلام نے انسانی تاریخ میں غیرمعمولی انقلاب برپا کیا، اسلامی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ تمام انسان ،خواہ وہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہتے ہوں، کسی بھی مذہب کو ماننے والے ہوں مگر سب اللہ کے بندے ہیں
    اللہ کے رسول نے تمام انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
    ’’اے لوگو!بلاشبہ تمہارارب ایک ہے اورتم سب کا باپ بھی ایک ہے،جان لوکہ کسی عربی کوکسی عجمی پراورنہ ہی کسی عجمی کوکسی عربی پر،نہ کسی گورے کوکسی کالے پر اورنہ کسی کالے کو کسی گورے پرکوئی فضیلت اوربرتری حاصل ہے ،سوائے تقویٰ کے۔ ‘‘
    سب انسان ایک مٹی سے بنے ہیں ہم انسانوں میں فرق ہم دنیا والوں نے بیدا کررکھا ہے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ،کسی بھی گورے کو کالے پر کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ،غریب کو امیر یا امیر کو غریب پر ،کسی رنگ ،نسل ،قوم،علاقے کی وجہ سے کوئی فوقیت نہیں ۔سب انسان برابر ہیں اللہ کی نظر میں برابر ہیں ۔ذات قبیلے رنگ روپ نسل سب کوایک دوسرے کی پہچان کو بنائے گیا ہے ابتر بتر کے لئے نہیں بنایا گیا ۔

    اسلام انسان کو کچھ حقوق بھی دیے ہیں اسلام ہر انسان کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے اسلام بلاتفریق ِ رنگ و نسل و مسلک و مذہب، ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ انسانی جان کے احترام کو اسلام نے فرض قرار دیا ہے ہر انسان کو جینے کا حق ہے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ معاشرے میں ہر شخص کی جان، مال اور آبرو کا تحفظ ہر انسان کا حق ہے بلاتفریق بنیادی حق ہے۔ اسلام نے عزتِ نفس کو بھی اہمیت دی ہے اور ایسی گفتگو کو بھی منا کیا گیا ہے جس سے کسی کی بے عزتی کا پہلو نکلتا ہو۔ اسلامیہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ عورت بہرحال محترم ہے، خواہ وہ اپنی قوم کی ہو، یا دشمن قوم کی ہماری ہم مذہب ہو یا کسی غیرمذہب سے تعلق رکھتی ہو، یا لامذہب ہو۔عورت کی عصمت کے احترام کا یہ تصور اسلام کے سوا کہیں نہیں پایا جاتا۔ بدقسمتی سے معاشرے نے عزت کا پیمانہ معاشی حیثیت کو بنا رکھا ہے اسلام ہمیں شخصی ومذہبی آزادی کا حق بھی دیتا ہے دین اسلام میں زبردستی کا پہلو موجود نہیں ہے

    اسلام احترامِ انسانیت اور امن و سلامتی کا علم بردار ہے۔انسان دوستی اور احترام انسانیت دین اسلام کا امتیاز اور بنیادی شعار ہے ،جس کے بغیر احترام انسانیت اور امن و سلامتی کا تصور بھی محال ہے۔ فتنا فساد تب ہوتا ہے جب انسان جب اپنی اس حیثیت کو بھول جاتا ہے یااحساس برتری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو فتنہ وفسادپر آمادہ ہوجاتا ہے۔ پھرحسد، تکبر، غیبت ، چوری ،چغلی، قتل و غارتگری، بدکاری و بداخلاقی جیسی بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس صورت میں ایسے لوگوں کی اصلاح و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے آج انسان اپنی عظمت کھو چکا ہے ، غلط جگہ پر اپنی عزت کو تلاش کر رہا ہے، دنیا کے عارضی عیش وآرام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے جسیے ساری عمر اس دنیا میں رہنا ہے آج کا انسان یہ بھول چکا ہے ایک دن اللہ کے سامنے پیش بھی ہونا ہے اور ہر چیز کا جواب دینا ہے اس کو بس دنیا کے کاموں سے مطلب رہے گیا ہے ۔ پوری طرح اپنی ذاتی خواہشِ نفس کا غلام بن چکا ہے انسانی جان کا کوئی احترام باقی نہیں رہ گیا اپنے مطلب کے لئے کچھ مقصد کے خاطر یک دوسرے کی جانوں کے در پر ہے۔انسان کے وہ سارے اخلاقی اقدار کھو چکا ہے۔ فضیلت انسان کی تخلیق اس کائنا ت میں جتنی بھی اشیاء اللہ رب العزت نے پیدا کیں ’کُنْ‘’فَیَکُوْنُ‘ کے پس منظر میں نظر آتیں ہیں جبکہ حضرت انسان کو اللہ رب العزت نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث اس بات پر دلالت کرتیں ہیں ، اللہ رب العزت کا اپنے ہاتھوں کسی کا تخلیق کرنا اس کی اہمیت اور انفرادیت کو واضح کرتاہے کائنات کو تخلیق کرنے کے مفہوم پر نظر ڈالی جائے تو تسخیرِ کائنات کا مقصد ایک یہ کہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے اور انسان مخدوم ہے، زمین، سمندر،پانی، ہوائیں،پہاڑ، چاند،سورج، ستارے یہی موٹی موٹی اشیاء کائنات گنی جاسکتی ہیں۔ ان کے انسان کا خادم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا مگر انسان کے بغیر ان چیزوں کا کچھ نہیں بگڑتا۔

    اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ زمین میں جتنی بھی اشیاء موجود ہیں۔ خواہ وہ جمادات ہوں، نباتات ہوں یا حیوانات ہو ں، اللہ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرمادی ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہے استعمال کر چکا ہےاور اس سے حسب ضرورت فائدہ اٹھا سکتاہے۔ رہیں وہ چیزیں جن کا تعلق زمین سے نہیں مثلاً : سورج، چاند ،ستارے وغیرہ تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین بنادیئے ہیں اور انسان کو ایسے نظم وضبط سے جکڑ رکھا ہے کہ انسان ان سے فائدے اٹھا سکتاہے اور اپنے معمولات زندگی اور کاروبار وغیرہ ٹھیک طرح سے سرانجام دے سکتاہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6