Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسپیس ایکس پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ

    اسپیس ایکس پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ

    اسپیس ایکس کا خلائی جہازانسپائریشن 4 پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق انسپائزیشن چاروں افراد کو لے کر زمین کے گرد چکر لگائے گی، خلائی شٹل فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس اسٹیشن سے روانہ ہوئی۔ خلائی گاڑی مشن کے تحت تین دن تک وہاں قیام کرے گی، مشن کو انسپیریشن 4 کا نام دیا گیا ہےاگلے تین دنوں میں انسپیریشن 4 کا عملہ ہر 24 گھنٹے میں 15 مرتبہ زمین کا چکر لگائے گا۔

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    جس میں شہری اسپیس ایکس کے راکٹ میں زمین کے گرد چکر مکمل کریں گے خلائی گاڑی زمین کے مدار میں پہنچنے کے بعد27 ہزار 360 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے ہر 90 منٹ میں ایک چکر مکمل کرے گی خلائی گاڑی اس دوران زمین کے گرد آواز کی رفتار سے 22 گنا زیادہ تیزی کے ساتھ سفر کرے گی۔


    چند ماہ قبل ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے ناسا کے لیے انسانوں جیسے مدافعتی نظام رکھنے والے 73 ہزار خرد بینی جانور اور دیگر تحقیقاتی مواد کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن روانہ کیا تھا۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ پر 7،300 پاؤنڈ سے زیادہ تحقیقی مواد، رسد اور ہارڈ ویئر پر مشتمل جدید کارگو مشن کو جمعرات کے روز فلوریڈا میں کینیڈی اسپیس سنٹر سے خلائی اسٹیشن پر روانہ کیا۔


    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق سائنسدانوں کو انسانوں پر اسپیس لائٹ کے اثرات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی ،اس سے ماہرین خلا میں رہتے ہوئے خلابازوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مطالعہ کریں گے، اور دریافت کیا جائے گا کہ خلا میں طویل مدتی قیام کس طرح انسانی صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

  • معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت  28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرایا ہے جسے ہوم سنیما کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس نئے ٹی وی کو بطور خاص سنیما کے شوقین افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کے بعد کمپنی کا کہنا ہے کہ سنیما گھروں تک جانے کی روایت پرانی ہو گئی ہے مگر اس کے لے ضروری ہے کہ آپ کے پاس کم از کم 70 ہزار امریکی ڈالرز ( ایک کروڑ 18 لاکھ 68 ہزار 500 پاکستانی روپے) اضافی ہوں –

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایل جی کمپنی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ایکسٹریم ہوم سنیما 325 انچ (27 فٹ) چوڑا ہے اور 8 کے آپشن کے ساتھ مختلف سائزوں میں دستیاب ہے۔

    ایل جی الیکٹرانکس یو ایس اے کے نائب صدر ڈین اسمتھ نے تصدیق کی ہے کہ متعارف کرائے جانے والے نئے ہوم سنیما کی قیمتیں تقریبا ً70،000 امریکی ڈالرز سے شروع ہو کر 1.7 ملین امریکی ڈالرز ( 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے) تک ہوں گی۔

    ایل جی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ہوم سنیما 2K ، 4K اور 8K کنفیگریشنز میں دستیاب ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے ایکسٹریم ہوم سنیما میں شائقین کے لیے پاپ کارن کے علاوہ باقی سب کچھ ہے۔

    کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق متعارف کرائے جانے والے ہوم سنیما کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ صارفین اسے اپنے گھر میں موجود جگہ کے اعتبار سے افقی و عمودی طور پر بھی سیٹ کرسکتے ہیں کمپنی نے اس کے ساتھ ایک فلائٹ کیس بھی دیا ہے جس کی وجہ سے چھٹیوں کے دوران اسے اپنے ہمراہ لے جانا بھی ممکن ہوگا۔

    ایل جی کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہر سیٹ کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ پیک کیا جاتا ہے اور کسٹم پیکجنگ کا پورا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ صارفین تک پہنچنے میں کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو۔

    برطانوی اخبار کے مطابق لیکن بہت بڑے سائز کا ٹی وی متعارف کرانے والا ایل جی واحد ادارہ یا کمپنی نہیں ہے کیونکہ کچھ دن قبل ہی سام سنگ نے بھی دی وال کے نام سے ایک بڑی اسکرین کی نقاب کشائی کی تھی جو کہ ایک ہزار انچ کی ہے۔

    اخبار کے مطابق سام سنگ کی جانب سے متعار کرائی جانے والی دی وال نامی بڑی اسکرین ماڈیولر ڈیزائن میں ہے جو کئی چھوٹی اسکرینوں پر مشتمل ہوتی ہے جب کہ ایل جی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ہوم سنیما صرف ایک اسکرین پر مشتمل ہے۔

    Interior of a luxury living room with billiard table

    میڈیا رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے گھر کی دیوار کو ایک نئی جدت دی ہے اور گھریلو سجاوٹ کے ساتھ ساتھ انتہائی دلکش منظر بھی پیش کرتی ہے اور انتہائی خوشگوار و لاتعداد نئے تجربات سے ہم آہنگ کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔

    سام سنگ کی جانب سے تاحال دی وال کی قیمت کا عوامی طور پر باضابطہ اعلان تو نہیں کیا گیا ہے کہ لیکن میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کا 2019 کا ایک ورژن ایک لاکھ امریکی ڈالرز (ایک کروڑ 69 لاکھ 55 ہزار پاکستانی روپے) میں فروخت ہوا ہے۔

  • ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢   تحریر ۔ روشن دین

    ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢ تحریر ۔ روشن دین

    ڈاکٹر احمد حسن دانی کے مطابق پہلا شہنشاہ جس نے اس علاقے (گلگت) میں کشنا کی طاقت کو بڑھایا وہ ویما کڈفیس تھا۔ اس حوالے سے نشانیاں چلاس اور ہنزہ میں ملتے ہیں۔ کوشانوں نے نہ صرف پورے گلگت بلتستان کو فتح کیا بلکہ لداخ پر بھی اپنا اختیار بڑھایا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ان کی حکمرانی کی نشست ہنزہ میں کہیں واقع ہوگی۔ کوشان تبت سے سنکیانگ تک لداخ ، کوہستان اور ہنزہ سمیت علاقے کو کنٹرول کر رہے تھے۔
    کنشک کے دور میں چین کے ساتھ براہ راست رابطہ سلک روڈ شاخ کے ذریعے قائم ہوا جو گلگت سے گزرا۔ بدھ مت نے گندھارا سے کھوٹن ، یارکنڈ ، کاشغر اور چین کے مغرب تک سفر کیا۔ اس عرصے میں اس علاقے میں بدھ عباتگاہوں اور سٹوپوں کی ایک بڑی تعداد کھڑی ہوئی اور بظاہر گلگت ایک اہم بدھسٹ سٹیٹ بن گیا۔ کوشانوں نے گلگت کو ترقی اور خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن کیا۔ اس وقت گلگت کے حکمرانوں کو ’’ پٹولہ شاہی ‘‘ کا لقب حاصل تھا۔ دیوا سری چندر گلگت اور ہنزہ میں پٹولا شاہی خاندان کے آخری حکمران تھے۔
    جب تبتیوں نے گلگت پر حملہ کیا تو چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کو دوبارہ قائم کیا۔ اس دوران تبتیوں نے بلتستان کو اپنے قبضے میں لے لیا جہاں سکردو میں نشانیاں اور بدھ مت کی ایک بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف حصے میں پٹولا شاہی حکومت قائم ہوئی۔
    1884 میں ایک ہنگری سیاح کارل یوگن نے بلتستان ، گلگت اور چترال سے پتھروں کی نقش و نگار شائع کی۔ چٹانوں کی نقش و نگار کا پہلا مطالعہ جرمن تبت کے ماہر اگست ہرمن فرانک نےکیا۔ جنہوں نے 1902 میں لداخ بلتستان ، چلاس کے بارے میں اپنی پہلی آثار قدیمہ کا مطالعہ شائع کیا۔ غلام محمد نے سب سے پہلے گلگت اور چلاس کے علاقے میں بدھسٹ راک نقش و نگار کو اپنی کتاب میں شائع کیا۔ "گلگت کے تہوار اور لوک کہانیاں” 1905 میں
    گلگت بلتستان میں چٹانوں پر بدھ مت کی کئی باقیات اور تصاویر کھدی ہوئی ہیں۔ 1986 کے اندازوں کے مطابق قراقرم ہائی وے (kkh) کے ساتھ 3000 شلالیھ اور 30000 سے زائد پیٹروگلیفس دریافت ہوئے۔ چلاس کو نوشتہ جات اور پیٹروگلیفس کے مطالعہ کے لیے ایک انتہائی دلچسپ جگہ سمجھا جاتا ہے۔ چلاس کے نزدیک خروشتی نسخہ مل سکتا ہے جو دوسرے کوشنا شہنشاہ کا حوالہ دیتے ہوئے اویما داساکاسا کا نام دیتا ہے۔ چلاس کے قریب ، تھلپن کو تراش کندہ پتھروں کی کان سمجھا جاتا ہے۔ ایک راستہ ہے جسے حاجیوں کے راستے کا نام دیا گیا ہے جہاں آپ نقش و نگار پتھروں کی دولت دیکھ سکتے ہیں ، تاریخی طور پہ تھلپن سے خنجرگاہ کے راستے گلگت جانے والا راستہ ہے۔ ایک جگہ پر بدھ کے پہلے خطبے کی کہانی ہے اور اس سائٹ کو "پہلا خطبہ کی چٹان” کہا جاتا ہے۔
    یہاں بدھ بیچ میں بیٹھا ہے جبکہ پانچ شاگرد اس کے ارد گرد ہیں۔ چلاس میں ہمیں قدیم شبیہہ کا سب سے بڑا ذخیرہ اور پتھر میں نقش و نگار ملتا ہے۔ کوہستان کے شتیال سے شروع ہو کر گلگت تک۔ تھلپن میں بدھ کے بیٹھنے کی سب سے وسیع نمائندگی محفوظ ہے جس میں بدھ کا پہلا خطبہ نمایاں ہے۔ داریل اور شتیال وادی جس میں کئی مسافر آئے تھے ، مشنری سوگڈین زبان میں کئی سو نقش یہاں پائے جاتے ہیں۔ وادی گلگت (عالم برج) اور ہنزہ میں حالات شلالیھ پیش کرتے ہیں جو پورے دور میں پھیلے ہوئے ہیں جس میں کھوش سلطنت خروش اور برہمی رسم الخط میں موجود تھی جو پانچویں اور آٹھویں صدی کی ہے۔
    گلگت شہر کے نواح میں کارگاہ (نالہ) کے افتتاح کے موقع پر بدھ کا ایک پتھر کٹا ہوا ہے۔ یہ شکل 9 فٹ بلند ہے۔ غالبا histor مورخین کے مطابق یہ سنگ تراشی ساتویں صدی میں کی گئی تھی۔ فا ہین نے بدھ کے اس اعداد و شمار کا بھی ذکر کیا جس نے 400 قبل از مسہی میں گلگت کا دورہ کیا تھا۔ گلگت کے نپور گاؤں میں کارگاہ بدھ کے ساتھ مل گیا۔ مخطوطات لکڑی کے ڈبے میں پیک کیے گئے تھے۔ یہ جگہ ایک قدیم کھنڈر معلوم ہوتی ہے جو شاید بدھ راہبوں کی رہائش گاہ تھی۔
    یونیسکو کے مطابق گلگت کے نسخے سب سے قدیم نسخوں میں سے ہیں۔ یہ نسخے برصغیر میں بدھ مت کے مخطوطات کا واحد مجموعہ ہیں۔ گلگت کے مخطوطات میں تین بدھ مت کے مترادفات (مذہب کے سربراہوں کے درمیان کانفرنس) کا حوالہ ہے۔ ایک اور مشہور مقام ہنزہ کے ایک مقام پر واقع ہے جسے ہلدیکوش (گنیش اور عطا آباد جھیل کے درمیان) کہا جاتا ہے۔ یہاں کی اہمیت ایک یادگار ہے جو صدیوں تک لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہی۔ چٹانوں پر نقش و نگار پہلی صدی کے ہیں۔ چٹان میں نوشتہ جات شامل ہیں جو سوگڈین ، خروشتے اور براہمی زبانوں میں تراشے گئے ہیں۔ ہنزہ کے خوفناک پتھروں کو سب سے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ابیکس کی، شکار کے مناظر اور نقش درج ہے۔
    ہیرالڈ ہاپٹ مین کے مطابق پچاس ہزار سے زیادہ پتھروں کی نقش و نگار اور چھ ہزار نوشتہ جات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور مزید تلاش کے ساتھ ان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ کشن سلطنت کے شہنشاہ کے نام ان تحریروں کے ساتھ ساتھ کنشکا اور ہیوشکا سلطنت کے شہنشاہوں کے نام بھی ظاہر ہوتے ہیں
    تبتی لوگ لداخ سے ہوتے ہوئے بلتستان میں داخل ہوئے جہاں ان کے نوشتہ جات اور بدھ نقش و نگار سکردو اور دیگر مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں۔ سکردو کے قریب منتھل گاؤں بدھ مت کی نقش و نگار کے لیے مشہور ہے اور یہ مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ ہے جس کے چاروں طرف بیس شاگرد ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شلالیھ دوسری اور تیسری صدی کے ارد گرد کندہ کیے گئے ہوں گے۔
    اسے پہلی بار جین ای ڈنکن نے 1904 میں دستاویز کیا تھا۔ تبت سے چین کو خطرہ تھا جو گلگت کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے ، چینی سلطنت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تبتی حملہ آوروں کو بالائی سندھ اور آکسس سے دور رکھا جائے۔ تبتی لداخ ، بلتستان ، گلگت ، یاسین کے راستے شمال اور مغرب کی طرف بڑھا ، حالانکہ بوروگل گزرتا ہے۔ چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کی حکمرانی بحال کی۔ لیکن تبتی بلتستان کو اپنے قبضے میں کرنے میں کامیاب رہے۔
    یہاں ایک مکتبہ فکر بھی ہے کہ بدھ مت کے بعد گلگت اور گرد و نواح کا علاقہ قرون وسطیٰ کے زمانے میں زرتشتی حکمرانوں کے ماتحت آیا۔ ھود العلم میں لکھا ہے کہ مقامی حکمران سورج (خدا) کے پیروکار تھے۔ جان بڈولف کے مطابق آکسس وادی زرتشتی مذہب کا گہوارہ تھا اس لیے جنوب کے علاقے اس کے زیر اثر آئے۔ جان بڈولف "ٹیلیانی” تہوار کے مطابق گلگت اور ہنزہ اور بلتستان میں ماضی میں منائی جانے والی آگ کی عبادت کی یادگار ہے۔ ہنزہ میں اسے "تم شیلنگ” ، استور میں "لومی” اور چلاس میں اسے "ڈائیکو” کہا جاتا ہے۔
    جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ، اسلام اس خطے میں تیرہ کے آخر یا چودہویں صدی کے آغاز میں کشمیر ، وسطی ایشیا اور سوات/کاغان سے آیا۔ گلگت کے آخری حکمران شری بدعت کو ایک عزور جمشید نے قتل کر دیا جس نے اپنی بیٹی سے شادی کے بعد ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھی۔
    گلگت بلتستان میں کئی تاریخی مقامات ہیں ان مقامات کو حکومت کی طرف سے ورثہ قرار دینے کی ضرورت ہے اور ان کو ختم ہوتے ہوئے ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں محکمہ آثار قدیمہ/ریسرچ سنٹر کے قیام کی بھی ضرورت ہے جو گلگت بلتستان کے ثقافتی ورثے کے حصول کی طرف ایک قدم ہے۔ خاص طور پر ضلع چلاس میں آثار قدیمہ کے مقامات کے بارے میں خدشات ہیں کہ ممکنہ طور پر دیامر بھاشا ڈیم کے ساتھ ضم ہو جائیں گے۔ گلگت بلتستان کی حکومت اور وفاقی حکومت کو اس قومی ورثے کے تحفظ اور نقل مکانی کے لیے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

  • کنٹونمنٹ انتخاب یا خطرے کی گھنٹی  تحریر: سیف الرحمان

    کنٹونمنٹ انتخاب یا خطرے کی گھنٹی تحریر: سیف الرحمان

    سال 2018کے جنرل الیکشن کے بعد پاکستانی سیاست کا رخ ہی بدل گیا ہے۔ اس وقت پانچ سکنٹونمنٹ انتخاب یا خطرے کی گھنٹی

    تحریر: سیف الرحمانال کے بچے سے لے کر ستر سال کے بزرگ تک ہر شخص کی پاکستانی سیاست پہ نا صرف گہری نظر ہے بلکہ وہ بذاد خود کسی نا کسی صورت حصہ بھی لیتے نظر آ رہے ہیں۔ جنرل الیکشن پانچ سال کیلئے ہوتے ہیں۔ ان پانچ سالوں میں خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن بھی ہوتے ہیں۔ ضمنی اور بلدیاتی الیکشن سے سیاست کے بدلتے رنگ اور لوگوں کے رجحان کا بھی پتا چلتا  رہتا ہے۔ 

      سابقہ ادوار میں    تمام  سیاسی حکومتوں نے پاور میں  آ کر بلدیاتی اداروں کو  تقریبا مفلوج کئے رکھا ۔ اگر دیکھا جائے تو ڈکٹیٹر شپ میں  نا صرف  باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کرائے جاتے رہے بلکہ  ان کو اختیارات اور فنڈز بھی  ملتے رہے۔ سیاسی حکومتیں جنہیں سب سے زیادہ توجہ بلدیاتی اداروں پر دینی چاہیے انہوں نے بلدیات کو ہمیشہ پس پردہ رکھا۔ عوامی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز کی ترسیل روکے رکھی۔

    اس وقت دیکھا جائے تو  ایک بار پھر بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں  شروع ہو چکی ہیں۔ اس کا  پہلا مرحلہ کنٹونمنٹ اداروں کے الیکشن سے مکمل ہوا۔کنٹونمنٹ بورڈز کے 206وارڈز میں جنرل ممبر نشستیں جیتنے کیلئےکل 1513امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔

    پنجاب کے انیس کنٹونمنٹ بوڈز کی ایک سو بارہ وارڈز میں 878امیدواروں نے حصہ لیا۔

     سندھ کے آٹھ کنٹونمنٹ بورڈز کی 53وارڈز میں چارسو اٹھارہ امیدواروں نے حصہ لیا۔

     خیبر پختون خواہ  کے نو کنٹونمنٹ بورڈز کی تینتیس وارڈز میں ایک سو ستر واروں امید واروں  نے حصہ لیا۔

      اسی طرح بلوچستان کے تین کنٹونمنٹ بورڈز کی آٹھ وارڈز میں سنتالیس امیدواروں نے حصہ لیا۔

     بعض لوگ اس  الیکشن کے نتائج کو اگلے جنرل الیکشن میں کسی بڑی تبدیلی سے مشروط کر رہے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ کنٹونمنٹ کا علاقہ زیادہ وسیع نہیں ہوتا  یہ چند شہروں تک محدود ہوتا ہے اور  یہاں کا ووٹر بھی  گلی محلے کے ووٹر زسے مختلف ہوتا ہے۔ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ بلدیاتی الیکشن کی ہار جیت سےسیاسی جماعتوں  اور دوراندیش لیڈروں کوآئندہ آنے والے عام انتخابات  کیلئے ایک بار سوچنے پر ضرور مجبور کر دیتی ہے۔

    اس وقت پیپلز پارٹی گراؤنڈ سے مکمل غائب نظر آ رہی ہے۔ سندھ کے علاوہ باقی سارے ملک میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک بہت بری طرح متاثر ہوا پڑا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سن دو ہزار   آٹھ سے  دو ہزارتیرہ تک پانچ سال کا طرز حکمرانی  ہے۔  اس دور میں کرپشن  اور بدترین گورننس  جیسے الزامات نے پیپلز پارٹی کو تقریبا سندھ تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسے تمام خاندان جو ایک وقت میں جیالے ہوا کرتے تھے ان سے مایوس ہو کر تحریک انصاف کے ووٹر بن گئے۔ آپ کہہ سکتے ہوپیپلز پارٹی کا ستر فیصد ووٹر اس وقت تحریک انصاف کا نا صرف ووٹر ہے بلکہ انکی آنے والی نئی نسلوں نے بھی اپنا سیاسی سفر تحریک انصاف اور عمران خان کو بطور لیڈر تسلیم کرتے ہوئے شروع کر لیا ہے۔ 

    اگر بات کی جائے  مسلم لیگ ن  کی تو وہ اس معاملے میں بہت شاطر اور دور اندیش نظر آتی ہے۔ن لیگ کی اعلی قیادت پر کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کے باجود  انہو ں  نےکائونٹر کرنے کی بہتر  حکمت عملی بنائی۔ نوجوان ووٹر  کو اپنی طرف متوجہ رکھنے  کے لئے مختلف  حربے اپنائے ۔بڑی ہوشیاری سے  چند  الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی سے توڑ کر ن لیگ میں شامل کیا۔جس کی مثال  ڈی جی خان کے لغاری خاندان اور ملتان سے سکندر بوسن، جہانیاں گردیزی وغیرہ ہیں۔   اس کے علاوہ شہباز شریف کا پرو فوج گروپ میں رہنا اور نواز شریف اور مریم کا فوج مخالف ہونا بھی سیاسی حربہ اور ووٹر کی کسی دوسری طرف راغب ہونے کی کوشش کو ناکام بنانے کا حربہ نظر آتا ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کیلئے  موجودہ کنٹونمنٹ الیکشن کے  نتائج خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت  کو یقین تھا کہ  کام کرو نہ کرو لوگ عمران خان کے نام پہ ضرور ووٹ دیں۔مگر حقیقت تلخ ہے۔عوام سمجھدار ہو چکی ہے۔ آپ اندازہ لگائیں تحریک انصاف نے اپنے کئی مضبوط علاقوں سے شکست کھائی ہے اور بعض جگہوں پر تو بہت ہی  بدترین شکست ہوئی ہے۔ راولپنڈی میں تحریک انصاف نے پچھلے انتخابات میں ایک طرح سے سوئپ کیا تھا اور  اس بار چکلالہ پنڈی سے انہیں بہت بری طرح  شکست ہوئی ہے۔ آپ  واہ کینٹ  کو دیکھ لیں وہاں بھی  تحریک انصاف کو اچھا خاصہ ڈنٹ پڑا ہے۔ اگر لاہور  کی بات کی جائے تو وہاں انکی قیادت خواب خرگوش میں شادیانے بجاتی نظر آ رہی تھی ۔ میں نے الیکشن سے پانچ دن پہلے بلدیات کے ایک فوکل پرسن کو بتایا کہ لاہور میں تحریک انصاف کیلئے کچھ اچھے حالات نظر نہیں آ رہے تو انہوں مجھے جواب دیا کہ ہم آدھی سے ذیادہ سیٹیں آسانی سے جیت لیں گے۔ مجھے اس وقت بھی ان کی یہ بات بہت عجیب لگی لیکن پھر یہ سوچ کر بات دوبارہ سوال نہیں کیا  کہ شاہد ان لوگوں نے اندر کھاتے کچھ بہتر سوچ رکھا ہو گا۔

    لاہور کینٹ کے علاقے میں پی ٹی آئی کا ووٹ کافی ذیادہ ہے۔ اندرون لاہور  کی اگر بات کی جائے جس میں باغبان پورہ اور اچھرہ وغیرہ کے علاقے شامل ہیں کم ہے۔ لاہور کینٹ میں ن لیگ نے جتنا ووٹ لیا اس کی امید شاہد خود تحریک انصاف کو  بھی نہیں تھی ۔

      اگر بات کی جائےملتان  کی تو تحریک انصاف کو بہت بری طرح  شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ملتان میں ذیادہ طرح آذاد  امیدواروں نے میدان مارا ہے۔ اس پہ شاہ محمود قریشی کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان اٹھ  رہا ہے کیونکہ ملتان شاہ صاحب کا حلقہ ووٹ اور پہچان سمجھا جاتا ہے۔

    بعض لوگ کہتے پھر رہے ہیں کہ جو آذاد امیدوار جیتے ہیں وہ بھی ہمارے ہی لوگ تھے تو یہاں ٹکٹ دینے والوں پہ سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ٹکٹ ہی کیوں دیتے ہو جن کا ووٹ بینک ہی نہیں ہوتا۔ کیا یہ مقامی تنظیم کی ناکامی نہیں؟

     اگر بات کی جائے  کھاریاں کینٹ اور بہاولپور  کینٹ کی تو یہاں  تحریک انصاف نے عزت بچا لی ۔ اگر ان دو علاقوں کا رزلٹ بھی ویسا ہی آتا جیسا باقی  پنجاب کی جگہوں سے آیا تو پھر  پنجاب میں ان کا صفایا ہوجانا تھا۔ کھاریاں میں تحریک انصاف نے توقع سے ذیادہ اچھا رزلٹ دیا ۔

     اگر بات کی جائے پشاور کی تو یہاں  پی ٹی آئی  کوکلین سویپ کرنا چاہئے تھا  کیونکہ  عام انتخابات میں تحریک انصاف  نے پشاور  سے سوئپ کیا تھا۔ اس بار پشاور میں تحریک انصاف ذیادہ اچھا رزلٹ نہ دے سکی۔ پشاور کے علاوہ  نوشہرہ میں بھی تحریک انصاف کو بہت  نقصان ہوا۔ اتنے اچھے رزلٹس نہیں آئے جتنے کے پی سے توقع کی جا رہی تھی۔ بہر حال کے پی نے  تحریک انصاف کو سہارا دیا ہےورنہ پنجاب  میں ن لیگ نے تحریک انصاف کو شکست دی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہو کہ پنجاب میں عمران خان کیلئے خطرے کی گھنٹی بچ چکی ہے۔ 

     اب آتے ہیں کراچی کی طرف کراچی نے ایک بار پھر تحریک انصاف پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ۔ کراچی میں تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کو کافی ٹف ٹائم دیا۔ مجموعی طور پہ کراچی کے رزلٹ تحریک انصاف کیلئے بہت اچھے رہے ہیں۔ سندھ میں مجموعی طور پر ان کی نشستیں ذیادہ ہیں، مگر کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ جہاں سے تحریک انصاف کو جیتنا چاہیے تھاوہاں سے ہار گئی۔ یاد رہے  کلفٹن سے پی ٹی آئی  عام انتخابات میں بھی  نشستیں نکالتی رہی ہے اور یہاں پر پارٹی کے اہم لیڈروں کے گھر بھی ہیں۔ عمران خان کو سوچنا ہو گا کہ کسی کمزور  کپتان کی قیادت میں کبھی ٹیم جیت نہیں  سکتی۔ پنجاب میں کنٹونمنٹ بورڈ کے نتیجہ نے پنجاب کے مستقبل پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا۔اگر کسی کو کوئی شکوک و شہبات ہیں تو آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں کلیئر ہو جائے گا۔

     عمران خان نے پنجاب ٹیم  کیلئے جو کپتان چن رکھا ہے لگ رہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اس کپتان(عثمان بزدار ) نے ساری تحریک انصاف کو دیوار میں چن کے رکھ دینا ہے۔ شرافت اور ایمانداری کیساتھ بندے کی سیاسی ساخت اور قدکاٹھ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جو بدقسمتی سے ابھی تک بزدار صاحب کے اندر نظر نہیں آ رہا۔

    اگر ہم بات کریں مسلم لیگ ن کی تو اسکی  مجموعی نشستیں تحریک انصاف سے کچھ کم  ہیں لیکن  ن لیگ  کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں واضح طور پر اپنی برتری ثابت کردی۔ رہی سہی کثر آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں پوری ہو جائے گی۔دیکھا جائے تو  ن لیگ کی درجہ اول اور درجہ دوئم کی  قیادت  اس وقت سخت دباؤمیں ہے۔یہ سب کے سب مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ نواز شریف تاحیات ناہل اور عدالتی مفرور ہے۔ مریم نواز خود نااہل اور سزا یافتہ مجرم ہیں۔ ایسے برے حالات میں بھی  اتنی اچھی کارکردگی دکھانا قابل تحسین ہے۔اس سے یہ بھی  ثابت ہوا کہ عمران خان اور ان کے حامی اپنی تمام تر کوششوں  کے باوجود ن لیگ کو پنجاب سے آؤٹ نہیں کر سکے۔ن لیگ کی  راولپنڈی کی  اچھی کارکردگی بونس پوائنٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہےگوجرانوالہ اور کھاریاں کی شکست نے  ن لیگ کو سوچنے پر ضرور مجبور کیا ہو گا۔ کیونکہ گجرانوالہ ن لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے ہار کا مطلب ن لیگ کی بنیادیں کھوکھلی ہونے کے معترادف ہے۔ن لیگ نے اس بار کراچی میں نشستیں لے کر سب کو حیران کر دیا۔کیونکہ سندھ میں ن لیگ کا کوئی خاص ووٹ بینک نہیں ہے۔ن لیگ بھی پی پی کی طرح صوبائی جماعت بنتی جا رہی ہے   ۔ کے پی ,  سندھ اور بلوچستان میں ن لیگ کو بہت محنت کرنی پڑے گی۔

    اگر دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کے لئے یہ موجودہ الیکشن  سخت مایوس کن ثابت ہوئےہیں۔ لگ رہا ہے کہ   پیپلزپارٹی صرف سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ بلاول بھٹو ذرداری نے پنجاب میں محنت بھی کی ۔ کافی جلسے وغیرہ بھی کئے ۔ جنوبی پنجاب میں یوسی لیول تک جلسوں سے خطاب بھی کئے لیکن رزلٹ صفر جمع صفر برابر صفر ہی آیا۔اگلے عام انتخابات سے پہلے انہیں قومی سطح پر تاثر جمانے کے لئے بہت محنت کرنا ہوگی۔ کوئی نیا منشور پیش کرنا ہوگا۔ اپنے اوپر سے کرپشن کے لیبل ہٹانے ہوں گے۔ سب سے اہم بات سندھ میں گورننس بہتر کرنی ہو گی۔ اگر سندھ میں طرز حکمرانی بہتر کر لی تو شاہد باقی صوبوں میں بھی ووٹ بینک بن پائے۔ تحریک انصاف نے وفاق سے پہلے کے پی میں حکومت کی اپنا لوہا منکوایا ۔ لوگوں کو اعتماد دیا کہ ہمیں ووٹ دو ہم تبدیلی لے کر آئیں گے۔ بلاول کو بھی سندھ سے شروعات کرنا ہو گی۔  جس دن عوام نے سندھ میں تبدیلی محسوس کی بلاول کو ووٹ مانگنے میں دشواری نہیں ہو گی۔

    اگر بات کی جائے مولانا فضل الرحمان صاحب کی جماعت کی تو جے یو آئی کیلئے یہ الیکشن بہت ہی برا رہا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا صاحب کی پارٹی صرف رینٹ اے  جلسہ کی حد تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔  مولانا فضل الرحمن  صاحب کی جماعت کو سب سے ذیادہ نقصان پی ڈی ایم کی وجہ سے ہوا ہے۔

    اگر  بات کی جائے اے این پی  کی تو انہوں نے اس  بلدیاتی  الیکشن میں بہت  محنت کی اور پشاور میں بہترین کارکردگی دکھائی۔  اب آئندہ بلدیاتی انتخابات میں دیکھنا ہوگا کہ اے این پی کہاں کھڑی ہے اور اسے کتنے ووٹ ملتے ہیں؟ اگر اے این پی آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں بھی بہتر کارکردگی دیکھانے میں کامیاب ہو  جاتی ہے  تو تحریک انصاف کی قیادت کو اپنے طرز حکمرانی  پر بیٹھ کر سوچنا پڑے گا۔

    کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں سب سے ذیادہ حیران  جماعت اسلامی نے کیا۔ طویل عرصے بعد اس نے کراچی میں بہت اعلی کارکردگی دیکھائی ہے۔  جماعت اسلامی  نے کراچی سے پانچ ,  چکلالہ پنڈی سے دو   , دو جبکہ مردان اور نوشہرہ سے  ایک ایک نشست نکالی  ہے۔ اگر بات کی جائے  کراچی  کی تو یہاں جماعت اسلامی  تیسرے نمبر پر رہی اور اس کے ووٹوں کی شرح بھی  بہت اچھی رہی۔آپ کہہ سکتے ہو کہ  جماعت اسلامی نے کراچی میں ایم کیو ایم، ن لیگ اور پی ایس پی کے مجموعی ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔  اس کارکردگی پر کراچی کے امیر حافظ نعیم مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اگر کراچی میں  مزید محنت کی جائے تو جماعت اسلامی کراچی میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔  

    اس وقت پورے پاکستان میں بیالیس کنٹونمنٹ بوڈ ز کی دوسو انیس وارڈز ہیں۔ لیکن الیکشن صرف  انتالیس کنٹونمنٹ بورڈز کی دوسو چھ  نشستوں پر ہی ہو پایا ہے۔  اگر پارٹی پوزیشن دیکھی جائے تو مجموعی طور پر پی ٹی آئی نے 60 نشستوں کے ساتھ سر فہرست

      ن لیگ 57 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر

     جبکہ آذاد امید وار 43نشستوں کے  ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ 

    پیپلز پارٹی 14سیٹوں کے ساتھ چوتھےنمبر پر

    ایم کیو ایم پاکستان 10نشستوں کیساتھ پانچوے نمبر پر

     جماعت اسلامی 6سیٹوں کیساتھ چھٹے نمبر پر

     بلوچستان عوامی پارٹی 3نشستوں کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔

    ان رزلٹس سے ایک بات تو کلیئر ہے کہ آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن ہوں یا جنرل الیکشن مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان ہی ہو گا۔ خان صاحب کو پنحاب بارے ایک بار پھر تسلی سے بیٹھ کر سوچنا  پڑے گا۔ اگر پنجاب ہاتھ سے نکل گیا تو وفاق میں بیٹھنے کو کوئی فائدہ نہیں۔ 

    ن لیگ پنجاب کی حد تک کلیئر ہے اب بس وفاقی میں آنے کیلئے کے پی اور بلوچستان میں محنت کرنی پڑے گی جو باآسانی ممکن  ہے کیونکہ ان صوبوں میں ن لیگ کا اچھا خاصہ  ووٹ بینک موجود ہے جبکہ خان صاحب کو صرف اور صرف پنجاب کی حد تک محنت کرنی پڑے گی۔ اس مقصد کیلئے  ٹیم کی کمان بدلنی پڑے گی  تو بھی خان صاحب کو دیر نہیں کرنی چاہئے۔  عمران خان اگر پنجاب کلیئر کر گئے تو 2023کا جنرل الیکشن جیت کر دوبارہ وزیراعظم بننا کوئی مشکل کام نہیں  ہے۔

    @saif__says

  • ڈاکٹر صفدر محمود: پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ،تحریر: ملک رمضان اسراء 

    ڈاکٹر صفدر محمود: پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ،تحریر: ملک رمضان اسراء 

    سابق وفاقی سیکرٹری، معروف کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر صفدر محمود کئی ماہ سے علیل تھے اور اس دوران امریکہ میں زیرعلاج رہے جسکے بعد وہ وطن واپس آئے اور اپنے آخری ایام میں ان کی یاداشت چلی گئی تھی، ڈاکٹر صاحب 30 دسمبر 1944 کو ضلع گجرات ڈنگہ میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز اور پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا تھا کچھ عرصہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے کے بعد 1967ء میں سول سروس کا امتحان پاس کیا اور 1974ء میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ڈاکٹر صفدر محمود متعدد انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ مرحوم کی تصانیف میں "سچ تو یہ ہے، مسلم لیگ کا دور حکومت، پاکستان کیوں ٹوٹا، پاکستان:تاریخ و سیاست، درد آگہی اور سدابہار” شامل ہیں۔  ڈاکٹر صفدر محمود کو انکی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی ایک العربیہ اردو کی تحریر میں لکھتے ہیں کہ: "استاد ٹھیک ہی کہتا تھا کہ اگر آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ پیری اور ’’ملّائی‘‘ کی بجائے سیاست کو عیاری کہتے۔ علامہ اقبال کے دور میں شاید سیاست اتنی عیار نہیں ہوتی تھی بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ علامہ اقبال کے دور میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے قومی رہنما قائد اعظم اور نہرو دونوں اصولی،قومی اورنظریاتی سیاست کے نمائندے اور ترجمان تھے۔ سیاست میں عیاری قیام پاکستان کے بعد آئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری طرح چھا گئی۔ کم و بیش یہی حال ہندوستان میں بھی ہوا لیکن ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان میں لوٹ مار کا غدر قدرے زیادہ مچا کیونکہ مسلمانوں کے معدے وسیع، ہاضمے مضبوط اور شان و شوکت کا شوق تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔”

    ڈاکٹر صاحب روزنامہ جنگ کے آخری کالم جن کا عنوان ہے "بندگی اور بے بندگی” میں لکھتے ہیں کہ: "مرض اور قرض اچانک حملہ آور ہوتے ہیں لیکن جاتے جاتے وقت لیتے ہیں۔ اللہ پاک کا کرم ہے، اُس کی کس کس نعمت کا شکر ادا کروں کہ شاید شکر ادا کرنا ممکن ہی نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے زندگی بھر مالی قرض سے خاصی حد تک محفوظ رکھا لیکن جہاں تک دوستوں، بہی خواہوں کی محبتوں کے قرض کا تعلق ہے وہ ادا نہیں ہو سکتا۔ محبتوں کے قرض سے کہیں زیادہ اہم اور وزنی قرض احسانات کا ہوتا ہے کیونکہ میرا تجربہ ہے جو شخص آپ پر احسان کرتا ہے آپ اُس کا قرض کسی صورت بھی نہیں چکا سکتے چاہے آپ جواباً اُس پر درجنوں احسانات کریں۔ احسان صرف وہی شخص کرتا ہے جو بھلائی، نیکی، مدد، خدمت میں یقین رکھتا ہو اور اپنی ذات سے اور اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہو۔ میں نے زندگی کے سفر میں کئی ایسے لوگ دیکھے جو کسی مصیبت زدہ کو مشکل سے نکال کر احسان کا ثواب کما سکتے تھے لیکن وہ اپنے مفادات، جمع، تفریق اور سود و زیاں کی پیچیدگیوں میں اُلجھ کر کنارہ کش ہو گئے۔ مطلب یہ کہ جو انسان ہمیشہ اپنی ذات کو مقدم رکھتا ہو اور اپنے مفادات کو ہر شے پر ترجیح دیتا ہو، وہ کسی پر احسان کرنے کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ احسان کرنے کی صلاحیت اُنہیں ملتی ہے جن کے ظرف اور قلب وسیع ہوتے ہیں، جن میں ایثار کا جذبہ ہوتا ہے اور جو دوسرے انسانوں کو نہ صرف اہمیت دیتے ہیں بلکہ اُن کی خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ میں نے زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے جو دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات پر فوقیت دیتے تھے لیکن زندگی کے طویل سفر میں اپنی ذات کی نفی کرنے والے فقط چند حضرات ملے جنہیں میں صحیح معنوں میں اللہ کا دوست سمجھتا ہوں کیونکہ اپنی ذات کی نفی اللہ سے دوستی کئے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ یہ بلند رتبہ صرف اُنہیں ملتا ہے جو اِس کے مستحق ہوتے ہیں۔”

    مورخ ڈاکٹر صفدر محمود 13 ستمبر 2021 کو بقصائے الہی تقریبا 77 سال کی عمر میں خالق حقیقی کو جا ملے اس حوالے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیعہ رحیلہ قاضی نے لکھا:” ‏ڈاکٹر صفدر محمود تحریک پاکستان کے ایسے نادر تاریخ دان جو صحیح معنوں میں نظریہ پاکستان کے محافظ تھے۔ ان سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس ہمیشہ رہے گا۔ اللہ ان سے راضی ہوجاۓ۔

    ایک ٹوئیٹر صارف محمد طاہر لکھتے ہیں  کہ:

    ڈاکٹر صفدر محمود کا انتقال نظریاتی جہتوں سے مطالعہ پاکستان کے شوقین حضرات کے لیے انتہائی افسوس ناک خبر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے پاکستان کی تاریخ و سیاست کے حوالے سے قابل ذکر کام کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے۔

    معروف صحافی انصار عباسی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ‏نظریہ پاکستان کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ایک بااثر آواز محترم صفدر محمود انتقال فرما گئے۔ اللہ تعالی اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کی اسلام اور اسلامی پاکستان کے لیے کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین

    لکھاری نجمہ منصور ڈاکٹر صاحب کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ: "میری کتاب "رشحات قائد” کا دیباچہ انہوں نے لکھا تھا، بہت نستعلیق شخصیت کے مالک اور مستند تاریخ دان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)

    پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے مرحوم ڈاکٹر صفدر محمود کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ: "ڈاکٹر صفدر محمود نے مختلف میدان ہائے علم اور شعبہ صحافت میں نہایت بلند پایہ خدمات سر انجام دیں۔ دعا ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔”

    یقینا ڈاکٹر صاحب ایک عظیم تاریخ دان تھے ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جن کے چلے جانے کا خلا کبھی پر نہیں ہوتا لیکن آئیندہ نسل کیلئے ایسے منصف کی تحاریر، تصانیف اور تحقیق ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہ جاتی ہے لہذا نوجوان نسل کو چاہئے کے انہیں پڑھیں اور پھر اپنی تحقیق اور مطالعے کی بنیاد پر اختلاف یا اتفاق کا اظہار کریں کیونکہ ہم سب کو حق ہے کہ علم کی بناء پر شائستہ طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کریں اور ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی یہی خوبی تھی کہ وہ اگر کسی سے اختلاف رائے کا اظہار بھی کرتے تھے تو ان میں بے انتہاء حد تک شائستگی ہوتی تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ اہل علم  لوگوں کا بحث مباحثہ یا اختلاف رائے رکھنا بھی نئے علوم کے دریچے کھولتا ہے۔

  • کرونا ویکسین اور سازشی باتیں تحریر: محمد جمیل

    کرونا ویکسین اور سازشی باتیں تحریر: محمد جمیل

    کرونا ویکسین لگوانے سے آپ نامَرد ہو جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے سے خواتین بچے پیدا نہیں کر سکیں گی۔ کرونا ویکسین لگوانے سے آپ کو شدید ٹائیفائیڈ بُخار ہوگا، اور آپ چھ سال پہلے اوپر اٹھا لیے جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے سے آپ دو سال کے عرصے میں مَر جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے کی وجہ سے آپ الرجی کی اک خوف ناک قِسم کا شکار ہو کر بھیانک موت مریں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے کے بعد آپ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو جائیں گے جس کا نتیجہ موت کی صورت میں نکلے گا۔ کرونا ویکسین لگوانے کی وجہ سے لاکھوں لوگ پُر اسرار بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں جن کا انجام بھی موت ہوگا۔
    جب سے کرونا ویکسین ایجاد ہوئی ہے درج بالا قِسم کے جملے یا ان جملوں سے مِلتی جُلتی بہت سی ویڈیوز اور تحریریں سوشل میڈیا پہ مسلسل گردش کر رہی ہیں۔ درج بالا تمام باتیں سازشی باتیں ہیں اور فقط مبالغے پہ مبنی ہیں جِن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    فرض کریں دس لاکھ لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پہ اک اک ٹیبلیٹ پیراسیٹامول(پیناڈول) کھلائی گئی۔ دس لاکھ میں سے چار لوگوں کو پیناڈول ری ایکٹ کر گئی تو اس کا ری ایکٹ کرنے کا تناسب کتنا کم بنتا ہے؟ حتی کہ پیناڈول کے پچاس سے زائد سائیڈ ایفیکٹس ہیں۔ اسی طرح دنیا کی کوئی بھی ویکسین یا میڈیسن ہے اس کے مثبت منفی اثرات لازمی ہوتے ہیں بلکہ ہر میڈیسن کے ساتھ لکھے ہوتے ہیں۔
    ڈسپرین بےضرر سی خون پتلا کرنے والی عام دوائی ہے لیکن اگر یہ آنتوں میں جا کر انفیکشن کر دے تو کھانے والے کو معدے کا السر ہوسکتا ہے۔
    امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی ‘فائزر’ نے کئی دہائیوں پہلے بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کی نالیوں میں خون کے بہاؤ کی بہتری کےلیے sildanfil نامی کیمیکل سے ‘ویاگرا’ ٹیبلٹ تیار کی۔۔ ویاگرا کے افیکٹس میں اک عجیب امر سامنے آیا کہ ویاگرا کھانے والے افراد کا below the abdominal body یعنی کمر سے نیچے خون کا بہاؤ تیز ہو گیا جس سے ویاگرا استعمال کرنے والے مریضوں کی جنسی قوت کئی گُنا بڑھ گئی۔۔ دیکھتے دیکھتے جنسی قوت بڑھانے کےلیے ویاگرا دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی میڈسن بن گئی۔ جن لوگوں نے ویاگرا کا بےتحاشا استعمال کیا ان میں ویاگرا کا نیا سائیڈ افیکٹ سامنے آیا کہ ویاگرا نے ان کے گُردوں کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ جب صحت کے اداروں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا ہفتے میں تین سے زیادہ ٹیبلٹ کھانے والے شخص کو ویاگرا کے سائیڈ افیکٹس کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود عالمی ادارہِ صحت نے ویاگرا کے عام استعمال پہ پابندی عائد کر دی۔
    دنیا میں اس وقت جتنے زندہ انسان موجود ہیں۔ ان انسانوں میں ہر شخص کے خلیات اک دوسرے سے مختلف ہیں۔ انگلیوں کے پورووں پہ موجود نشانات سے لے کر ہمارے جسم کے اک باریک سے بال کا ڈیزائن دنیا کے کسی دوسرے انسان سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر میڈیسن ہر نئے انسان پہ ایک سا اثر نہیں چھوڑتی۔ اسی طرح فی زمانہ کووِڈ ویکسین لگوانے کا عمل جاری ہے۔ کرونا ویکسین اگر ایک لاکھ لوگوں میں سے کسی ایک کو ری ایکٹ کرتی ہے تو یہ کوئی انسان دشمن دوائی نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اس ایک متاثر شخص کو لے کر باقی ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے لوگوں پہ مثبت نتائج دینے کے عمل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ حتی کہ کووِڈ ویکسین کرونا وائرس کے کمزور سیلز ہوتے ہیں جن کا کام ہمارے مدافعتی نظام کو بہتر بنا کے طاقتور کرونا وائرس حملے سے بچانا ہے یعنی یہ ویکسین ہمارے مدافعتی نظام کی بہتری کا کام کرتی ہے.
    لہذا کرونا ویکسین سے متعلق کسی بھی منفی پروپیگنڈے پہ کان نہ دھریں جتنا جلدی ممکن ہو سکے ویکسین لگوا کر اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو وبائی وائرس سے محفوظ بنائیں۔

    Twitter Handle: @RealJameel8

  • آپ  نے  گھبرانا  نہیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    آپ نے گھبرانا نہیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    امریکہ پاکستان سے سخت ناراض ہے، اور پاکستان سے اپنے تعلقات کے حوالے سے از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔امریکہ کی ناراضگی پاکستان کو کتنی مہنگی پڑے گی۔ اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں آپ کو ایک بات کہنا چاہوں گا کہ سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں۔ پاکستان کے سامنے دو آپشن تھے ایک پاکستان کی تباہی اور اس کے ٹکڑے اور دوسرا اپنے مفادات کا تحفظ۔۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہوں گا کہ Antony blinkinنے گانگریس کے سامنے وہی کچھ کہا جو آپ کو بتایا جا رہا ہے یا صرف گفتگو میں سے ایک فقرہ لے کر پیش کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد میں آپ اصل حقائق سے آگاہ کروں گا کہ پاکستان نے جس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا اس کے نقصان کے ازالے کا پہلے ہی بندوبست کیا ہو گا۔Antony blinkinجو امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ہیں نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پانچ گھنٹے تک تند و تیز سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آنے والے چند روز یا ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا۔ اور نئے تعلقات کے تعین کے لیے امریکہ پاکستان کا افغانستان میں گزشتہ بیس سال کا کردار دیکھے گا جبکہ یہ بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ پاکستان افغانستان میں وہ کردار ادا کرتا ہے جو ہم اس سے مستقبل میں چاہتے ہیں۔جب ٹونی بلنکن سے پوچھا گیا کہ کیا اسے پتا تھا کہ اشرف غنی بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے تو ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ چودہ اگست کی رات کو اس کی اشرف غنی سے بات ہوئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ Fight to the death
    اس لیے امریکہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور وہ پندرہ اگست کو بھاگ گیا اور امریکہ کے افغانستان کے انخلا سے دو ہفتے پہلے ہی طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا۔کانگرس مینBill Keatingنے کہا کہ پاکستان نے دو ہزار دس میں طالبان کوبنایا، انہیں نام دیا اور انہیں ری گروپ ہونے میں مدد دی۔ حقانی گروپ جو امریکیوں کی موت کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے گہرے تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی فتح کوCelebrate
    کیا اور کہا کہbreaking the shackles of slaveryجبکہ کانگریس مینScott Perryکا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکی Tax payer کے پیسے سے طالبان کو مدد دی، امریکہ کو پاکستان کو مزید رقم نہیں دینی چاہیے اور اس کا Non-Natto ally status کینسل کرنا چاہیے۔

    اس گفتگو میں امریکہ میں بھارت کے سفیرTaranjit Singh Sandhuکی بڑے پیمانے پر امریکی کانگریس مین سے ملاقاتوں کا ذکر بھی آیا۔ اور ایک ریپلکن کانگریس مین
    Mark Greenکا کہنا تھا کہ کیونکہ Isi نے طالبان اور حقانی گروہ کی مدد کی ہے اس لیے امریکہ کو بھارت سے مضبوط تعلقات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
    امریکی کانگریس کے ان ارکان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے امریکیوں کو اپنا موقف پہنچانے میں کتنی محنت کی ہے ، اور پاکستان کتنے گانگریس مین سے ملا۔کیا امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے وہاں پاکستان کے امیج اور مجبوریوں کے حوالے سے کچھ نہیں کرنا تھا۔ انہیں افغانستان میں بھارت کے کالے کرتوتوں سے اآگاہ کرنا کس کی ذمہ داری تھی۔ بہر حال آپ نے گھبرانا نہیں۔۔ کیوں میں آپ کو آگے چل کے بتاتا ہوں۔امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے وہ بھی ٹونی بلنکن نے اس سوال جواب کے سیشن میں بتا دیا ہے۔امریکہ نے پاکستان کو کہہ دیا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوشش ہرگز مت کرے۔دنیا کے زیادہ تر ممالک کے ساتھ Line up
    کرے، اور طالبان کو فورس کرے کہ وہ افغان عوام کے Basic rightsکا خیال رکھے، عورتوں اور بچوں کے حقوق کو شامل کرے، Humanitarian aid کی اجازت دے اور حکومت میں تمام حلقوں کو شامل کرے۔

    ایک گانگرس ممبر نے کہا کے ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ پاکستا ن کے ساتھ امریکہ کے تعلقات Complicated ہیں لیکن یہ اکثرDuplicitiousہوتے ہیں جس پر ٹونی بلنکن نے کہا کہ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں جو کانگریس مین نے پاکستان کے گزشتہ بیس سال یا اس سے بھی پہلے کے کرادار پر تبصرہ کیا ہے۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسیاں کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ہیں اور کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے مطابق ہیں۔یہ پاکستان ہی ہے جو مسلسل افغانستان کے مستقبل پر Bets لگا رہا ہے، یہی طالبان کے ممبر اور حقانی گروپ کی دیکھ بھا ل کر رہا ہے، یہ پاکستان ہی ہے جو مختلف مقامات پر امریکہ کی مدد اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں Involveرہا ہے۔ پاکستان کا افغانستان میں کردار زیادہ تر بھارت کے خلاف خدشات کی صورت میں ترتیب پاتا ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تمام ممالک بشمول پاکستان، انٹر نیشنل کمیونٹی کی طالبان سے امیدوں پر پورا اترنے کے لیے اپنا اچھا کردار ادا کرے۔اور ہم اسے پاکستان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔بھارت، امریکہ اور دیگر ممالک نے کہا ہے کہ طالبان کو دنیا تسلیم کر سکتی ہے اورمالی مدد بھی کر سکتی ہے اگر وہ اس بات کی گارنٹی دیں کہ وہ اپنے شہریو ں کو Basic right دیں، جس میں خاتون،بچے اور اقلیتیں شامل ہیں۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی سے بڑے پیمانے پر Line up کرے، اور ان کی امیدوں کو پورا کرے۔ یہ تو وہ باتیں تھی جو امریکی کہہ رہے ہیں لیکن پاکستان کا موقف کون پہنچائے گا۔ کیا 2004تک پاکستان کی مدد سے امریکہ نے طالبان کی کمر نہیں توڑ دی تھی۔ افغانستان مِن الیکشن کے بعد جمہوری حکومت قائم ہو چکی تھی۔اس وقت طالبان کا کہیں نام و نشان بھی نظر نہیں آرہا تھا پھرامریکہ نے دوہزار پانچ میں بھارت کے ساتھ سول نیوکلیر ڈیل کا فریم ورک سائن کیا، جب پاکستان نے یہ مطالبہ کیا تو پاکستان کو کہا گیا کہ وہ اس ڈیل کے لیے قابل اعتبار نہیں ہے۔ اپنے ہزاروں لوگ مروا کر، افغانستان میں اپنے مفادات کی قربانی دے کر بھی اگر پاکستان امریکہ کی دوستی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو پھر پاکستان کے پاس امریکہ کی مزید باتیں ماننے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ یہی نہیں امریکہ بھارت کو دوبارہ افغانستان لایا، جس کی پاکستان نے جڑین اکھاڑ دی تھی۔ پھر اس بھارت نے افغانستان میں آکر پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔ امریکہ کی افغانستان میں بنائی ہوئی حکومت صبح شام پاکستان کے خلاف زہر اگلتی تھی، بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان شہروں میں درجنوں کونسلیٹ کھولے ہوئے تھے جو Raw کے ایجنٹوں سے بھرے پڑے تھے۔ بھارت کے66ٹریننگ سینٹر حال ہی میں بند ہوئے ہیں، بھارتی کونسلیٹوں سے اربوں روپے پاکستانی کرنسی کی صورت میں ملے ہیں۔ اسے روکنا کس کی ذمہ داری تھی۔

    امریکہ نے Counter terrorism کے نام پر ہر رات افغانوں کی چادر اور چار دیورای کا تقدس پامال کیا اور افغانوں کے دل میں طالبان کے لیے ہمدردی پیدا کی ۔ کیا یہ پاکستان کا قصور ہے۔کیا پاکستان طاقت ہونے کے باوجود اتنا بے بس ہو جاتا کہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیتا۔بھارت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ پشتونستان کا مسئلہ کھڑا کر رہا ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں چلوا رہا ہے۔ تو پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھر کے امریکہ بہادر کی جی حضوری میں کھڑا رہتا۔ یہ امریکہ کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی روس کو ہرا کر ایک دم سے نکل گیا تھا اور پاکستان میں کلاشنکوف کلچر پھیل گیا تھا۔ پھر الٹا پاکستان پر پابندیاں لگا دی گئی۔ یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے، جب روس کے خلاف جہاد تھا تو اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک تھے تو دنیا نے رزلٹ دیکھ لیا۔ پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں گھسیٹا گیا، پاکستان بلیک واٹر اہلکاروں کی جنت بن گیا۔امریکہ اپنے اٹھارہ بلین ڈالر کو رو رہا ہے کیا پاکستان ان پیسوں کے لیے پاکستان کے ٹکڑے کروا لیتا۔ پاکستان کا نفراسٹرکچر تباہ ہو گیا، پاکستان کی معشیت تباہ کر دی گئی، ایک سو پچاس بلین ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہوا اور اسی ہزار لاشیں پاکستانیوں نے اٹھائی۔ کیا اٹھارہ بلین ڈالر اس کی قیمت چکا سکتا تھا۔ اس جنگ میں پاکستان نے اپنے جرنیل تک دہشت گردی میں کھودیے، اس کے بعد بھی کیا پاکستان کے پاس کوئی اور آپشن بچا تھا۔پاکستان کے امریکہ کو چھوڑ کر اپنے مفادات کے تحفط کی کئی وجوہات ہیں‏۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھارت سے جنگ کے دوران امریکی مدد کبھی نہ پہنچی۔ پاکستان کو روس کے خلاف جہاد میں استعمال کر کے نہ صرف امریکہ یہاں سے چپ کر کے نکل گیا بلکہ پاکستان کو الٹا پابندیوں کا نشانہ بنایا۔ اور پھر جب دوہزار ایک میں واپس آیا تو بات کو سمجھنے کی بجائے دھمکیاں دی کہ۔ You r with us or against us. پاکستان کو پتا تھا کہ دوبارہ امریکہ اپنا مطلب نکال کر یہاں سے نکل جائے گا اور پھر وہی ہوا چین کے خلاف امریکہ نے بھارت سے نا صرف ہاتھ ملا لیا بلکہ بھارت کو پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی اجازت بھی دے دی۔امریکہ اس خطے میں بھارت کو اپنا اتحادی بنا کر چین کے خلاف استعمال کر رہا ہے ایسی صورت میں ایک میان میں دو تلواریں کسی صورت نہیں رہ سکتی۔ امریکہ نے افغان سر زمین افغان طالبان کے لیے تو تنگ کر دی لیکن پاکستانی طالبان کے لیے وہ Safe heaven
    بن گیا۔ پاکستان بڑے عرصے سے شور مچا رہا ہے کہ امریکہ اپنی زلت آمیز شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ کیا عراق، شام اور دنیا بھر میں امریکی شکست کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے۔ میرا امریکہ کو مشورہ ہے کہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لے۔ امریکہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغان سر زمین پر قدم بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب پاکستان نے طالبان کی مدد ختم کی تو ان کا بھی وہی حال ہوا تھا جو افغان حکومت کا امریکہ کی مدد کے بغیر ہوا ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔

    لیکن جیسے میں نے آپ کو شروع میں کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں، افغانستان میں طالبان اس وقت مغرب کے لیے وہ کڑوا گھونٹ بن چکے ہیں جسے وہ نہ نگل سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں۔ اگر مغرب طالبان اور پاکستان پر پابندیاں لگائے گا تو انہیں تحفظ فراہم کرنا، اور افغانستان کو دہشت گردوں کی جنت بننے سے روکنا ہمارے بس میں نہیں رہے گا۔ ابھی کئی مہینے تک تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیےاپنے شہریوں کی افغانستان سے evacuationکے لیے بہت اہم ہے، اس کے بعد دشت گردی کے خلاف آپریشن بھی پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اور طالبان کواس بات پر راضی کرنا کہInclusive govtبنائیں شائد پاکستان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکے تو اس لیے ابھی پاکستان دنیا کے لیے بہت اہم ہے اور ایک نیوکلیئر اسٹیٹ کو دنیا اس طرح تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔ اس لیے امریکہ دھمکیاں دے گا لیکن اتنا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا ہم ڈر رہے ہیں۔

  • میرا شہر جھنگ  تحریر:  اسد ملک

    میرا شہر جھنگ تحریر:  اسد ملک

    میرا شہر جھنگ ، چناب کے مشرقی کنارے پر واقع ہے جو کہ جہلم کے ساتھ اٹھارہ ہزاری کے قصبے کے قریب ہیڈ تریمو بیراج پر ہے۔ضلع جھنگ ایک مثلث کی شکل کا ہے ، جس کا چوٹی جنوب مغربی کونے پر ہے اور شمال مشرق میں اس کی بنیاد ہے۔یہ ضلع دو بڑے دریاؤں ، جہلم اور چناب سے گزرتا ہے۔  چناب عام طور پر جنوب مغرب کی طرف بہتا ہے ، اور یہ ضلع کے وسط سے نیچے کی طرف چلتا ہے تاکہ یہ عملی طور پر ضلع کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دے۔

     2014 کے سیلاب میں یہ شہر خطرے میں پڑ گیا تھا لیکن اس میں سیلاب نہیں آیا کیونکہ سیلاب کا پانی اٹھارہ ہزاری کی طرف ری ڈائریکٹ کیا گیا تھا۔ 

     دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر واقع یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 18 واں بڑا شہر ہے۔  شہر اور ضلع کا تاریخی نام جھنگ سیال ہے۔  اس علاقے میں سلطان باہو اور ہیر رانجھا کا مقبرہ بھی شامل ہے۔

    جھنگ کی تاریخ سیال قبیلے کی تاریخ ہے۔

    سکھ سلطنت کے بانی رنجیت سنگھ نے 1803 میں بھنگیوں سے چنیوٹ پر قبضہ کر لیا اور جھنگ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ، لیکن برسر اقتدار سیال احمد خان نے ایسا کرنے سے پہلے اس کا معاون بننے پر رضامندی ظاہر کی۔ رنجیت سنگھ پر دوبارہ حملہ کرنے سے پہلے اس نے چند سالوں کے لیے 70،000 روپے اور ایک گھوڑی کا سالانہ خراج ادا کیا۔احمد خان نے اسے نذرانہ دینے کی پیشکش کی ، لیکن رنجیت سنگھ نے انکار کر دیا اور جھنگ پر قبضہ کر لیا۔ احمد خان بھاگ کر ملتان چلا گیا ، جہاں اسے نواب مظفر خان کے پاس پناہ ملی۔

     جھنگ 1288 میں مہاراجہ رائے سیال ، ایک راجپوت سردار اور سیال قبیلے کے بانی نے بنایا تھا۔  سیال قبیلے ، اس کے رشتہ داروں نے اس ضلع پر اس وقت تک حکومت کی جب تک کہ جھنگ کے آخری سیال حکمران احمد خان (1812 سے 1822) کو رنجیت سنگھ نے شدید لڑائی کے بعد شکست دی۔ 

     جھنگ کے سیال خانوں اور دیگر سیال ذیلی قبائل جیسے راجبانہ اور بھروانہ کی اجتماعی حکمرانی کے تحت ، جھنگ کا سیال ملک جنوب میں مظفر گڑھ کی حد تک پھیلا ہوا تھا اور پورے چنیوٹ  ، کمالیہ اور کبیر والا القاس۔  یہ علاقہ بھکر اور سرگودھا کے کچھ حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔  گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال الکاس کو راجبانہ سیال قبیلے کے مال میں شامل کیا گیا جس نے بلوچ قبائل کو تھل کی طرف نکال دیا اور 17 ویں صدی کے وسط تک ملتان کے نواب کو شکست دی۔ 

     برطانوی راج کے تحت ، جھنگ اور میگھیانا کے قصبے ، جو کہ دو میل (3.2 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہیں ، ایک مشترکہ میونسپلٹی بن گئی ، جسے پھر جھنگ-مگھیانہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 

     مگھیانہ پہاڑوں کے کنارے پر واقع ہے ، چناب کی مٹی کی وادی کو دیکھتا ہے ، جبکہ جھنگ کا پرانا قصبہ اس کے دامن میں نشیبی علاقوں پر قابض ہے۔ 

    جھنگ صدر پنجاب ، پاکستان کا ایک شہر ہے۔  یہ 31.27 عرض بلد اور 72.33 طول البلد پر واقع ہے اور یہ سطح سمندر سے 158 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔جھنگ کی سیال ذات کے بعد وینس ذات کا بھی جھنگ میں اپنا مقام رکھتی ہے۔ میں بذاتِ خود اسد ملک میرا تعلق جھنگ کے علاقے منڈی شاہ جیونا سے ہے۔ لفظ جھنگ سنسکرت کے لفظ جنگلا سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے کھردرا یا جنگل والا علاقہ ، جنگل کا لفظ بھی ایک ہی جڑ کا حصہ ہے۔  سیاق و سباق میں ، جھنگ کی اصطلاح سنسکرت کے لفظ جنگلا سے اخذ کی گئی ہے ، جھنگ اس لفظ کا مقامی پنجابی ترجمہ ہے۔

    ضلع جھنگ 8809 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔جھنگ صدر تحصیل جھنگ (ضلع کا ایک سب ڈویژن) کا انتظامی مرکز ہے۔  تحصیل خود 55 یونین کونسلوں میں تقسیم ہے۔ اور مندرجہ ذیل چار تحصیلوں پر مشتمل ہے: احمد پور سیال۔  چنیوٹ۔ شورکوٹ۔ جھنگ

    @asad_malik333

    https://twitter.com/asad_malik333?s=09

  • لبرلز بمقابلہ لبرلز   تحریر : فیصل فرحان

    لبرلز بمقابلہ لبرلز تحریر : فیصل فرحان

     

    لبرل کے اصطلاحی معنی ہیں کہ مخالف کی رائے کو تحمل سے سننا اور اس کی بھی قدر کرنا۔ المختصر کہ صرف خود کو ہی عقل قل نہ سمجھنا۔ یقینً لبرل کوئی برا لفظ نہیں ہے بلکہ لبرل ہونا تو اچھی بات ہے کیونکہ یہ بندے کے اعلی شعور کی علامت ہے۔ لیکن جناب ایشیاء خاص طور پر انڈیا اور پاکستان میں لبرلز کی نایاب قسم پائی جاتی ہے جو لبرل لفظ کے معنی تک سے ناواقف ہے۔ ان لوگوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اپنے ملک اور اپنے مزہب کی ہر حال میں مخالفت کرنی ہے تاکہ وڈے دانشور ثابت ہو سکے۔

    یہ بات میں اپنے پاس سے نہیں کہہ رہا بلکہ مکمل ثبوت ہیں۔ویسے تو یہ لوگ ہر اہم دن پر ملک میں اتشار پھیلاتے ہے لیکن چند ایک کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ 6 ستمبر کو پاکستان کا یوم دفاع تھا جو 65 کی جنگ کی جیت کی یاد میں منایا جاتا ہے اس جنگ کو دونوں ملک بھارت اور پاکستان اپنی جیت بتاتے ہیں۔ تو دونوں ملکوں کے لبرلز حضرات نے وکھرا سیاپا ڈال دیا۔ پاکستان کے جتنے لبرلز تھے انہوں نے ٹویٹر اور فیسبک پر انڈیا کو فاتح قرار دیا ہوا تھا اور جھوٹے دلائلوں کے انبار لگائے ہوئے تھے۔ میں بڑا حیران تھا کہ کیا واقعہ ہی پاکستان یہ جنگ ہار گیا تھا پھر اچانک سے دو تین انڈین صحافیوں کے ٹویٹس نظر آئے جس میں وہ پاکستان کو فاتح قرار دے رہے تھے اور انڈیا کی شکست کو عبرتناک شکست کہہ رہے تھے۔ اور نیچے عام انڈینز انہیں گالیاں نکال رہے تھے اور آئی ایس آئی فنڈڈ کہہ رہے تھے۔ میں نے جب ان صحافیوں کے اکاونٹس چیک کیے تو انہوں نے بائیوں میں لبرل، سیکولر جیسے لفظ لکھے ہوئے تھے۔ پھر جب ان کی ٹائم لائن پر ریٹویٹس چیک کیے تو بے شمار انڈین لبرلز کے پاکستان کی جیت والے ٹویٹس تھے۔ اب میں حیرانگی کی حد کو چھو رہا تھا۔

    کافی دیرسوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ کو ان دونوں ملکوں کے لبرلز جھوٹے اور مفاد پرست ہے۔ ان لوگوں کو جہاں سے پیسہ ملتا ہے یہ لوگ صرف انہی کی زبان بولتے ہے۔ ہمارے ملک کے لبرلز ہمارے اداروں، ہمارے ملک اور ہمارے مزہب پر بلاوجہ تنقید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور انڈیا والے اپنے ملک کے خلاف۔ اب بندہ ان دونوں میں سچا کن کو سمجھے؟ پاکستانی لبرلز کو یا انڈین؟ میں تو دونوں کو نہیں سمجھتا۔

    ایک سب سے اہم بات جو میں نے ان دو ملکوں کے دانشوروں اور لبرلز حضرات میں نوٹ کی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ خود کو اعلی شعور یافتہ ثابت کرنےکیلیے ہر اکثریتی اور اچھے فیصلے کی مخالفت کرتے ہے۔ اور بلاوجہ کی تنقید کر کے ملک میں انتشار پھیلاتے ہے۔ اور پاکستانی لبرلز کی اکثریتی تعداد تو بیرونی این جی اوز سے منسلک ہے جو خود بھی باہر کے ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہے اس لیے اپنا روزگار چلانے کیلیے ہر وقت ملک پر نقطہ چینیاں کرتے رہتے ہیں۔

    اب آخر میں آتے ہے اس سوال کی طرف کہ 65 کی جنگ کون جیتا تھا؟ تو اس کے جواب کیلیے نہ تو انڈینز کی سنیں اور نہ پاکستانیوں کی بلکہ دنیا کے باقی ممالک کی سنیں۔ آسٹریلیاء، انگلینڈ، امریکہ سمیت متعدد ملکوں کے اخباروں نے پاکستان کو اس جنگ کا فاتح قرار دیا۔ اب آتے ہے عقلی دلائل کی طرف، تو جناب انڈیا نے خود پاکستان پر رات کے اندھیرے میں حملہ کیا اور یہ ارادہ کر کے کیا کہ دوپہر کی چائے لاہور میں پیے گے اور بھاٹی گیٹ پر انڈین ترنگا لہرائے گے۔ لیکن آخر میں ہوا کیا؟ وہ ایک انچ بھی پاکستان کا حصہ نہیں لے سکے بلکہ شکست خوردہ پیچھے بھاگ گئے۔ تو جب کوئی ملک اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر جنگ سے پیچھے چلا جاتا ہے تو یہ اس کی شکست ہوتی ہے۔ 

    Twitter handle: @Farhan_Speaks_

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 08) تحریر:محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 08) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 7 تحریروں میں بتایا کہ ملک میں اصل گڑ بڑ ہم لوگ کر رہے ہیں جب تک ہم خود ٹھیک نہیں ہوں گے اس وقت تک ملک میں گڑ بڑ ختم نہیں ہوگی اسی لئے جیسی عوام ہے ویسے ہی حکمران ہمارے اوپر مسلط ہوں گے اس حقیقت کو واضع کرنے کیلئے آج ہم واضع کریں گے کہ  کس طرح امتحانات میں نقل ، مسلمان لڑکیوں میں قرآن پاک کی جگہ فحاشی کے ڈائجسٹ ، ناپ تول میں کمی ، دوستی میں خود غرضی ، محبت میں دھوکہ ، ایمان میں منافقت کیسے ہو رہی ہے 

    امتحانات میں نقل: 

    امتحانات میں نقل ہر جگہ عام ہے لوگ ضمیر بیچ کر نقل کروا دیتے ہیں یہ کام سب کی ملاوٹ سے کیا جاتا ہے یہی بچے جب بڑے ہوکر جاب کیلئے رشوت دیتے ہیں اس وقت اُن کے خون میں حرام رَچ چُکا ہوتا ہے اس لئے جب جاب مل جاتی ہے تو رشوت خوری لے کر ہی کام کرتے ہیں اب خود فیصلہ کریں کہ ہم کیا کر رہے ہیں کیا ملک کو ٹھیک کرنے کا ذمہ صرف وزیراعظم کا ہوتا ہے؟ یا ہم بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں یاد رکھیں جس بچے کی تربیت جھوٹ فریب سے کی جاۓ وہ بچے بڑے ہوکر وہی کرتے ہیں جس کی تربیت دی جاتی ہے اس لئے ہمیں چاہیے ہم اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں ان 

    مسلمان لڑکیوں میں قرآن پاک کی جگہ فحاشی کے ڈائجسٹ پڑھنا: 

    آج کل ہر جگہ فحاشی بہت عام ہو گئ ہے اس کی خاص وجہ آج کل نفسہ نفسی کے تیز دور میں ہر گھر میں موبائل انٹرنیٹ ہے جس کی وجہ سے معاشرہ متاثر ہو رہا ہے اسلام ہمیں امن کا درس دیتا ہے لیکن آج کل بے حیائی اور فحاشی کی وجہ سے ریپ کیسز بہت بڑھ رہے ہیں اس کا زمہ دار ہمیشہ ہم ملک کی حکومت کو ٹھہراتے ہیں لیکن در حقیقت جن ہاتھوں میں قرآن پاک ہونا چاہیے اب موبائل آگئے ہیں رشتوں میں تقدس ختم ہوگیا ہے اس لئے کسی کو قصور وار ٹھہرانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں ۔ اپنے اعمال اور کردار دیکھیں ہم سب سارا دن کیا کرتے ہیں اور کیا کر رہے ہیں اِنہیں ڈائجسٹوں کی وجہ سے رشتوں میں سسپنس آگیا ہے بچے کہانیاں پڑھ کر بہت سمجھدار ہوگے ہیں اُن کے لئے رشتہ ایسا ہی ہے جس پر وہ پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں اِس لئے بچوں کیلئے قرآن کی تعلیم ضروری ہے   جس سے ہمیں راہِ ہدایت ملتی ہے ہمیں چاہیے قرآن مجید کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں اور اس پر عمل کریں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب کہا تھا 

    کہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی

    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    اس لئے عمل ہی ایک ایسی واحد شے ہے جس سے انسان اپنی زندگی کو کامیاب ، خوشگوار اور پرآشوب بناسکتا ہے

    ناپ تول میں کمی:

    ناپ تول ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ہر جگہ غریب ہی مرتا ہے ایک طرف مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے دوسری طرف جو لوگ مصنوعی مہنگائی کرکے بیٹھے ہیں ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے جب تک مصنوعی مہنگائی کرنے والے یا ناپ تول میں کمی والوں پر حکومت کوئی ایکشن نہیں لیتی تب تک پاکستان کا غریب چکی میں آٹے کی طرح پیستا ہی رہے گا آج کل چھوٹے پٹرول پمپوں کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں منہ مانگے پیسے وصول کرتے ہیں اور ناپ تول میں کمی کی وجہ سے لوگ بہت متاثر ہو رہے ہیں حکومت کو چاہیے اس پہ جلدی قابو پائیں تاکہ غریب عوام خوشحال ہو سکیں

      دوستی میں خود غرضی: 

    آج کل کے دور میں معاشرہ جیسے جیسے تیزی کی طرف جا رہا ہے اسی طرح لوگوں میں خود غرضی عام ہوتی جا رہی ہے پہلے وقت میں لوگ اکٹھے بیٹھتے تھے اپنے دکھ سکھ شئیر کرتے تھے لیکن آج کل ہر دوسرا شخص مفاد پرست ہے اگر اُس کو اپکی ضرورت ہے تو وہ اپ کے ساتھ ایسے مخلص ہوگا جیسے آپ کو لگے گا کہ اس جیسا با اعتماد شخص اور کوئی نہیں لیکن جب ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو لوگ اصلیت دیکھانا شروع کردیتے ہیں اُن کے لئے دوستی ایسے ہی ہے جیسے وہ سیڑھی پہ پاوں رکھ کر آگے نکل جاتے ہیں لیکن دوستی ہمیشہ مفادات سے ہٹ کہ ہونی چاہیے جب ملیں اچھے لفظوں میں یاد کریں اچھے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کریں دوستی ایسا رشتہ ہوتا ہے جو اللہ پاک آپ کے دل میں محبت پیدا کرتا ہے کہ یہ انسان بہت اچھا ہے تو اپکا دل تسلیم کرتا ہے باقی تمام رشتے اللہ پاک اوپر سے بنا کے بھیجتا ہے اس لئے جس کے ساتھ بھی رہیں ایسے رہیں جیسے پھول کانٹوں کے ساتھ رہتا ہے باقی رہی بات وقت گزر جاتا ہے کوئی کسی کو اچھے لفظوں میں یاد کرتا ہے کوئی برے الفاظ میں ۔ ہر چیز کا نعم البدل اللہ تعالیٰ کی پاک ذات نے دینا ہے اس لئے خود غرضی سے بنی دوستی اور منہ کے نکلے الفاظ کا کوئی مول نہیں ہوتا

    محبت میں دھوکہ:

    محبت ایک پاکیزہ رشتہ ہوتا ہے جو کسی بھی انسان کسی بھی جانور ، پرندے سے ہو سکتی ہے آج کل کے دور میں محبت حوس کا دوسرا نام ہے جیسے لوگ ٹشو کو استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں ویسے ہی محبت میں دھوکا دے کر اگلے شکار کی طرف نکل جاتے ہیں ہمیں چاہیے کہ محبت اللہ پاک کی ذات سے ہو جو واحد لا شریک ہے جس کی محبت میں کوئی خود غرضی نہیں کوئی دھوکے بازی نہیں ہے وہ ذات بن مانگے عطا کرتی ہے اس لئے کوشش کریں کہ ہمیشہ رشتے کو پاکیزہ اور مخلص رکھیں تاکہ دنیا میں لوگ آپ کو یاد کریں اور گزر جانے کے بعد میں لوگ اچھے لفظوں میں یاد کریں

    ایمان میں منافقت:

    آج کے اس موبائل دور میں لوگوں کے ایمان کمزور ہوگے ہیں لوگوں میں تقوی پرہیز گاری ، عاجزی ختم ہوتی جا رہی ہے ہمیں ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ پاک ہمیں منافقت سے ، زبان کے جھوٹ سے ، آنکھوں کی خیانت سے پاک کردے ہم سب تیرا شکر ادا کرتے ہیں ہمیں عبادت کرنے والا بنا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ "جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے، وہ یقیناً جانتا ہے جس حال پر تم ہو (ایمان پر ہو یا منافقت پر)، اور جس دن لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے”۔ (سورۃ النُّوْر، 24 : 64)

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کیسے ٹوکری میں ناجائز سفارش اور رشوت ، بجلی میں ہیرہ پھیری ، باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں ، خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس ، ابایوں میں فیشن  ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں یا حکومت اصل گناہگار کون ہے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha