Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چراغ امید   تحریر: ثناءاللہ محسود

    چراغ امید  تحریر: ثناءاللہ محسود

    لفظ امید کہنے کو ایک بہت چھوٹا سا لفظ ہے۔ جو ہم کبھی خود کو دلاسا دینے کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ 

    مگر حقیقت میں زندگی کا انحصار امید پر ہی ہے۔ یہ زندگی جو دکھوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کی آماجگاہ ہے۔ جہاں قدم قدم پر کوئی نئی آزمائش، ناکامی ہماری منتظر ہوتی ہے۔

    ایسی صورتحال میں اگر ہم امید کا دامن نہ تھامیں تو زندگی ہمارے لئے مشکل ہو جائے گی۔ 

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لفظ انسان کی ساری زندگی کا خاصہ ہے ۔امید ہر دم انسان کے اندر ایک نیا جذبہ پھونکے رکھتی ہے کہ کل یہ ہو گا پرسوں یہ ہو گا۔ امید یہ ہے کہ انسان رات کو سوتا ہے تو کہتا ہے کل فلاں نے آنا ہے میں نے فلاں سے ملنے جانا ہے۔ امید یہ ہے جو ہر فرد کو ایک ایسے خواب میں رکھتی ہے۔  جو زندگی کی معمولی ٹھوکروں سے ٹوٹ جاتا ہے ۔

    امید ایک لاحاصل خواب ہے۔ جو حقیقت کی پردو پوشی کرتا ہے۔ اور زندگی کی تلخیوں کو میٹھا رکھتا ہے۔

    اگر کوئی بیمار ہے تو تندرستی کی امید ، غریب ہے تو دولت ملنے کی امید اور برے دنوں میں اچھے دنوں کی امید لگائے رکھتا ہے ۔

    مگر اکثر لوگ ذرا سی پریشانی آنے پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ اور مایوسی کی حالت میں  خود کشی جیسے حرام فعل کا ارتکاب بھی کر بیٹھتے ہیں۔ جس سے انسان کو کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس طرح وہ اپنی دنیا کہ ساتھ ساتھ آخرت بھی برباد کر لیتا ہے۔ اسی لئے تو احادیث مبارکہ میں مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ انسان سے اس کا اچھا گمان چھین کر مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ 

    اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا!

    "اور میری رحمت سے نا امید نہ ہونا”

    سورت الزمر 53

    اللہ تعالیٰ نے خود انسان کو فرما دیا کہ حالات جیسے بھی تلخ ہوں انسان کو اللہ کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے۔

    ہماری مایوسی کی بڑی وجہ دین سے دوری ہے۔ ہم لوگ اللہ پر توکل کرنے کی بجائے خود ہی  زندگی کے جھمیلوں کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ناکامی کی صورت میں ان مصائب سے گھبرا کر فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جو سراسر خسارے کا راستہ ہے۔

    اسی طرح آج کے مشکل وقت میں ہم مہنگائی اور بے روزگاری جیسے وسائل سے پریشان ہو کر غیر قانونی ذرائع سے روزی کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس حرام رزق سے اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بچے بھی والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے برائی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ 

    اس کے بجائے اگر ہم اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرتے جو رازق ہے ۔ تو ہمیں آسان اور حلال طریقے سے بھی رزق مل سکتا تھا۔ مگر ہم نے امید کا دامن چھوڑ کر مایوسی کو چنا۔ تو اس سے ہمیں کوئی فایدہ حاصل نہ ہوا۔

    اسی طرح جب ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں۔ اور اگر ہماری دعاؤں کی قبولیت میں تاخیر ہو جائے تو ہم اکثر مایوسی کا شکار ہو کر اللہ سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ 

    جبکہ اللہ تو کن فیکون کا مالک ہے۔ وہ جو چاہے ہو سکتا ہے۔ مگر ہم لوگ اچھا گمان رکھنے کی بجائے نا امید ہو جاتے ہیں۔ ہمیں مضبوط شخصیت بننے کے لئے اپنے اندر چراغ امید کو جلائے رکھنا ہو گا ۔ تا کہ زندگی سہل رہے۔

    @SanaullahMahsod

  • مہنگائی اور وجوہات      تحریر : فضیلت اجالہ

    مہنگائی اور وجوہات    تحریر : فضیلت اجالہ

     

    تحریک انصاف حکومت کی جانب سے عوام پر ایک مرتبہ پھر مہنگائ بم گرا دیا گیا ،پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے اضافہ ،مہنگائ کا جن بے قابو ،مہنگائ خان اور اسی طرح کے لاتعداد جملے آج کل زبان زد عام ہیں ، 

    پاکستان میں مہنگائی کا رونا آج کی بات نہیں ہے۔ ہر حکومت میں سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی رہا ہے۔لیکن ہم عمران خان کو مہنگائ کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ماضی کو بلکل فراموش کر جاتے ہیں ،اور ہمارے نام نہاد صحافی اس بات کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں کہ نیا پاکستان بد ترین پاکستان ہے جبکہ اس کہ بر عکس حقیقت یہ ہےے کہ پاکستان اگر کرپٹ ترین دور سے گزرا ہے تو وہ نواز شریف اور زرداری کا دور تھا۔ اس عرصے کے دوران پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے غیر ملکی قرضے لیے گئے اور ایسے منصوبے شروع کیے گئے جنہیں مکمل کرنے کے لیے بہت زیادہ رقم خرچ ہوئی،اور جن میں عوامی مفاد کم اور زاتی مفادات کی جھلک زیادہ نظر آتی ہے ۔

     

    تنقید کرتے وقت لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب تحریک انصاف کو حکومت ملی تو ملک ڈیفالٹ کے قریب تھا، 15 ارب روپے کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، چور لیگ نے ڈالر کی قیمت مصنوعی طور پر کم دکھانے کےلیے ہر ماہ اربوں ڈالر پھونکے اور ملک تباہی کی جانب دھکیلا،خان حکومت کو اقتدار میں آتے ہی ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلیے ڈالر 128 روپے سے 160 پر لے جانا پڑا جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اسی حساب سے بڑھ گئیں

    اور ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مارچ 2020 کے بعد سے عالمی وبا کورونا کے باعث پوری دنیا تاریخ کے سب سے بڑے معاشی بحران سے گزر رہی ہے دنیا میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں ہم جو بھی چیزیں باہر سے لاتے ہیں ان کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں

    چاہے وہ پیٹرول ہو یا کوکنگ آئل یا دالیں ۔

    اگر حالیہ پیٹرول قیمت میں اضافے کی بات کی جائے تو کچھ لفافہ صحافی ہندسوں کے ھیر پھیر میں اس قدر ماہر ہیں کہ انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی سمری میں 10 روپے کو 1 روپے بنا کر پیش کیا اور یہ گھٹیا الزام سازی کی گئ کے 1 روپے بڑھانے کی درخواست پر اکٹھے 5 روپے بڑھا کہ غریب کی غربت کا مزاق اڑایا گیا۔

    پاکستان پیٹرول اور پیٹرولیم مصنوعات کے لیے مکمل طور پر دوسرے ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں 2020 میں پیٹرول کی قیمت 42 ڈالرز تھی جو محض ایک سال میں 80% اضافہ کیساتھ 75 ڈالرز تک پہنچ چکی ہے ،جب کہ پاکستان میں سال 2020 میں پیٹرول کی قیمت تھی 103.97 روپے جس میں ایک سال میں صرف 18% فیصد تک اضافہ کیا گیا، 

    دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں پیٹرول کی قیمت انتہائ کم ہے ،اسوقت انڈیا میں پیٹرول 245 روپے ،بنگلہ دیش میں 175 روپے ہے ،دوبئ اور سعودی عرب جیسے ممالک جو تیل اور پیٹرول کی پیداوار میں خود کفیل ہیں ان میں بھی پیٹرول کی قیمتیں بالترتیب 111 اور 140 روپے ہیں ،لیکن پاکستانی میڈیا یہ حقائق بتانے کی بجائے پہلے سے پریشان عوام کو مزید مشتعل کرنے کا گھناؤنا کام سر انجام دے رہا ہے 

        

    دنیا میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں

    انگلینڈ ،آسٹریلیا اور امریکہ جیسے مما لک میں بھی رواں برس مہنگائ کے کئ سالہ پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں 

    اور ایک اور چیز۔

    گندم ، چاول، گنے کی قیمتیں نون لیگ نے کئی سال ایکُ جیسی رکھیں جس سے کسان تباہی کے دہانے پر تھا ،کسان کو استحکام بخشنے کیلیے تحریک انصاف نے گندم کا ریٹ 1300 سے بڑھا کر 1800 کیا جس سے آٹا بھی اسی حساب سے مہنگا ہوا لیکن کسان خوشحال ہوا اور اس نے گندم اگانا ترک نہیں کیا ،

    گنے کا ریٹ 130 تھا اب 250 تک کسان کو ملتا ہے۔۔۔ اسی حساب سے چینی مہنگی ہوئی

    ماضی کی حکومتوں نے زاتی مفادات کی خاطر ہمیشہ بھارت سے سبزیاں خریدنے کو ترجیح دی جو بظاہر تو سستی تھیں لیکن اس وجہ سے پاکستان کا کسان تباہی کے دہانے پر تھا ۔ نئے پاکستان نے فروری 2019 میں انڈیا سے سبزیوں کی امپورٹ ختم کی ،جس سے وقتی طور پر بہت مشکلات بھی آئ ایک سال سبزیوں کا بحران رہا لیکن اب تمام لوکل سبزیاں سستے نرخوں پر دستیاب ہیں

    ہم جانتے ہیں کہ اس وقت مہنگائی ہے اور عوام اس سے بہت پریشان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کی بے پناہ کامیابیوں کے باوجود حکومت کی مقبولیت میں بظاہر کمی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ لیکن ہم مہنگائ کا زمہ دار حکومت کو ٹھہراتے اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں ۔

    وہ ملک مہنگائ کا شکار کیوں نا ہو جہاں گروسری اسٹور مالک اور کلرک سے افسر تک ہر ایک لوٹ مار میں مصروف ہو۔ ایسے بزنس مین حضرات بھی مہنگائ کا رونا روتے اور حکومت کو قصور وار ٹھہراتے نظر آتے ہیں جو وطن عزیز سے لاکھوں روپے کماتے ہیں لیکن ٹیکس کا ایک روپیہ ادا نہیں کرتے۔

    مہنگائ کی بڑی وجہ زخیرہ اندوز اور وہ عوام دشمن عناصر بھی ہیں جو اصل نرخ سے کئ گنا زیادہ قیمت پر اشیاء فروخت کرتے ہیں اور سوال کرنے پر عمران خان کو ووٹ دینے کا طعنہ دے کر معصوم عوام کا منہ بند کر دیتے ہیں

    مہنگائ کسی ایک کا نہیں بلکہ عوامی مسلہ ہے جس سے مجھ سمیت سبھی پریشان ہیں لیکن ہمارا یہ بات جاننا اور ماننا ضروری ہے کہ عمران خان اور نہ ہی پی ٹی آئی حکومت اس مہنگائی کے حق میں ہیں ۔ ایسا حکمران جس نے اس ملک کے لیے اس کی عوام کی بھلائ کیلیے 22 سال جدو جہد کی ہو اپنی پرآسائش زندگی ،آرام و سکون حتی کہ اپنی اولاد تک اس دھرتی کی خاطر چھوڑ دی ہو وہ کیوں چاہے گا کہ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو؟

    اس بات میں کوئ دو رائے نہیں ہے کہ اگر تحریک انصاف کو آئیندہ ہونے والے انتخابات میں فتح حاصل کرنی ہے تو اسے مہنگائ پر قابو پانا ہوگا اور عوامی مقاصد پر کام کرنا ہوگا ،جس کیلیے تحریک انصاف کافی حد تک جدو جہد کر بھی رہی ہے ،بہت سے ایسے منصوبے شروع کیئے گئے ہیں جس سے غریب کو ریلیف ملے جن میں ھیلتھ کارڈ ا اجراء ایک احسن قدم ہے جو اس سال کے اختتام تک سب کو مل جائے گا ۔اسکے علاوہ احساس پروگرام سے بھی غریب عوام کو کافی مدد ملی ہے ۔

    احساس پروگرام کا سروے مکمل ہونے والا ہے اس میں کروڑوں نئے خاندان آئیں گے 

    لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عمران خان 35 سالوں کے بوسیدہ نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور کرپٹ مافیا سادہ لوح عوام کو بھڑکا کر اپنے مزموم مقاصد کیلیے عوام کی پریشانیوں کو استعمال کر کے اس مرد مجاھد کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ہم مہنگائ کا رونا تو روتے ہیں لیکن کوئی بھی ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی رشوت کی کمائی چھوڑنے کو تیار ہے۔ مجھے آج بھی بھروسہ ہے کہ عمران خان اس بوسیدہ نظام کو ضرور بدل ڈالے گا اور پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا لیکن یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے جس سے ہم سب نے مل کر نبٹنا ہے ،ہمیں مل کر مادر ملت کی جڑیں کھوکھلے کرنے والے شر پسندوں کا مقابلہ کرنا ہو گا کیونکہ جو لوگ حرام کھانے کے عادی ہو چکے ہیں وہ کبھی آسانی سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

    @TPW_U

  • ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    ماں کی تربیت – تعمیر شخصیت. تحریر: سید غازی علی زیدی

    سیرت فرزندہا از امہات
    جوہر صدق و صفا از امہات
    (فرزندوں کی سیرت اور روش زندگی ما ؤں سے ورثے میں ملتی ہے۔صدق و خلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے۔ علامہ اقبال)

    ماں ایسا لفظ جو ہر زبان میں خوبصورت اور سکون و شفقت کا احساس دل میں جگاتا ہے۔ بچےکی پہلی درسگاہ ماں کی آغوش۔
    دور جدید کی چائلڈ سائیکالوجی ہو یا زمانہ قدیم کے اقوال زریں، ماڈرن تحقیقی مقالات ہوں یا مذہبی صحیفے، یورپین "ارلی چائلڈ ہوڈ ڈویلپمنٹ” کی بات ہو یا مشرقی تہذیب میں بچوں کی نشوونما، ماں کا کردار ہر حال میں اولین حیثیت رکھتا ہے۔ جدیدیت و مادیت پرستی کی آڑ میں بچوں کی پرورش و تربیت میں ماں کے کردار میں کمی کرنا یا اسے متبادل طریقے اپناکر کم کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف ماں و بچے کیساتھ زیادتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بنیادی سبب بھی ہے۔

    "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا” نپولین بوناپارٹ
    تمام جدید سائنس و نفسیات اس بات پر متفق ہے کہ کسی بھی بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے جس میں بچے کی نہ صرف بنیادی جسمانی نشوونما ہوتی بلکہ ذہنی، نفسیاتی و شعوری نشوونما بھی تشکیل پاتی۔ اس عمر میں بچے کو سب سے زیادہ توجہ، محبت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی اگر کوئی کمی رہ جائے تو وہ مناسب سدباب نہ کرنے کی صورت میں تاعمر کیلئے روگ بن سکتی۔

    لیکن ہماری سماجی بدقسمتی کہیں یا ماڈرن و لبرل نظر آنے کی احمقانہ خواہش کہ ہم بغیر سوچے سمجھے اپنی نسلوں کو بگاڑ رہے اور ہمیں اس خسارے کا احساس تک نہیں۔ وہ ماں جس کی بدولت پورا معاشرہ تشکیل پاتا وہ جدیدیت و لبرل ازم کی رو میں بہہ کر اپنا اصل مقصد فراموش کر بیٹھی ہے۔ ذریعہ معاش و پیشہ ورانہ زندگی کیلئے تگ ودو کرتی مائیں اپنی اولاد یعنی اصل سرمایہ حیات کو جانے انجانے میں بے توجہی کی نذر کر رہی ہیں جبکہ گھریلو خواتین کا مرکز ارتکاز بھی اب اولاد کی پرورش سے ہٹ کر سماجی روابط اور سوشل و الیکٹرانک میڈیا تک محدود ہو گیا ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آج کل کی ماؤں میں اپنی اولاد کیلئے محبت و شفقت میں کمی آئی ہے۔ نہیں، ہرگز نہیں بس اب ترجیحات بدل گئی ہیں۔ان کے لیے بچے کے برانڈڈ کپڑے، امپورٹڈ کھلونےو مشینری، مہنگی تعلیم کا حصول زیادہ اہم ہے۔ مائیں ہلکان ہو جاتی ہیں کہ بچے مقابلے میں کسی دوسرے بچے سے پیچھے نہ رہ جائیں لیکن صد افسوس یہ مسابقت و مقابلہ بازی صرف اور صرف مادیت پرستی تک محدود ہے۔ آکسفورڈ و کیمبرج کی کتابیں تو فراہم کردیتی ہیں اور پڑھا بھی دیتی لیکن بنیادی اخلاقی اقدار سکھانے کا وقت نہیں۔ فروزن اور فاسٹ فوڈ تو کھلا دیں گی لیکن کھانے کے آداب نہیں سکھا سکتی کہ کون اپنے مصروف لائف سٹائل سے وقت نکال کر اس جھنجھٹ میں پڑے۔ بچے تھکے ہارے سکول سے آتے اور کھانا لیکر ٹی وی یا وڈیو گیم کے سامنے بیٹھ جاتے۔ نہ پتا کیا کھا رہے نہ پتا کیسے کھا رہے۔

    لیکن اس ساری صورتحال میں صرف ورکنگ وومن کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ گھریلو خاتون خانہ بھی برابر کی شریک کار ہے۔
    کیا آج سے تیس سال یا بیس سال پہلے ورکنگ وومن نہیں تھیں؟
    بالکل ہوتی تھیں اور ان کے بچے زیادہ منظم اور تمیزدار ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی ایک مخصوص نظم و ضبط کے مطابق بسر ہوتی تھی۔ جبکہ گھریلو خواتین کا کیونکہ مکمل دھیان بچوں کی پرورش پر ہوتا تھا اسلئے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی ہوجاتا تھا۔ ہر دو قسم کی مائیں اپنی اولاد کیلئے ہمہ وقت موجود ہوتی تھیں۔ بچوں کی بھی بہترین و اولین دوست و رہنما ان کی ماں ہوتی تھی۔ ہر تکلیف، پریشانی، مسئلہ ماں کو بتانا لازمی ہوتا تھا۔اولاد جوان ہونے کے بعد بھی ماں کی نہ اہمیت کم ہوتی تھی نہ مقام میں کوئی فرق آتا تھا۔ لیکن کیا آج کل بھی ایسا ہے؟

    بیشک نہیں۔ معذرت و افسوس کیساتھ آج کل کے بچوں کا اولین رہنما ٹی وی اور بہترین دوست موبائل ہے۔ اخلاق باختہ مواد، بیہودہ زبان اور ہندی میں ڈب کیے گئےکارٹون ان کی تربیت کررہے اور معصوم بچوں کو پیارو محبت کے نام پر جنس زدہ کررہے۔ وہ والدین جو بچوں کو مکمل طور پرملازمین کے حوالے کر جاتے جو ان معصوموں کو ذہنی و جسمانی طورپر پامال کرتے ان کے کچے ذہنوں کو جنسی طور پر آلودہ کرتے اور پھر ہم حیران ہوتے جب ایک دس سال کا بچہ چار سال کی بچی کا ریپ کر دیتا۔ جب ایک چھ سال کا بچہ سکول کی اسمبلی میں نیکر اتار کر ننگا ہوجاتا یا بارہ سال کی بچی محبت کے نام پر حاملہ ہو جاتی۔

    یہ سب نہ توافسانوی قصے ہیں نہ ہی کسی ایک طبقے کی کہانی۔ بلکہ غریب ترین طبقے سے لیکر امیر ترین طبقے تک کے سچے واقعات ہیں جن کی تعداد ہر روز خطرناک طور پر بڑھ رہی اور ہم صرف ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے۔ ماڈرن اور مذہبی اقدار و تعلیمات کی جنگ میں ہم ان بچوں کو بھول گئے ہیں جو ہمارا مستقبل ہیں۔
    ماڈرن ماؤں کو احساس دلاؤ تو عورت مارچ والے شاہراؤں پر بینرز لیکر آجاتے اور قدامت پسند خواتین کو اصلاح کا کہو تو مذہبی ٹھیکیدار سڑکیں بلاک کردیتے۔ ہر دو اپنی اپنی جگہ بالکل ٹھیک لیکن پھر بھی بچے بگڑتے جارہے۔ یہ بگاڑ اب واضح ہو کر ایک بھیانک مستقبل کی نشاندہی کر رہا لیکن کوئی نہ سمجھنے کو تیار ہے نہ ذمہ داری لینے کو الٹا نشاندہی کرنے والے کو ہی لعن طعن کیا جاتا۔
    کیا یہ کھلی حقیقت نہیں کہ پہلے بچوں کو سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھائی جاتی تھی اور اب سٹوری بکس یا نرسری رائمز؟ سات سال کے بچے کو فجر کیلئے اٹھایا جاتا تھا لیکن اب بچے کی نیند خراب ہوگی یہ کہہ کر بڑے بچوں تک کو فجر کا نہیں پتا۔
    کیا یہ ہمارا المیہ نہیں؟پھر ہمیں ریاست مدینہ بھی چاہیے۔ کیا یہ بھی حکمرانوں کے کرنے کا کام ہے؟

    ماں کی تربیت کا مقابلہ دنیا کا مہنگے سے مہنگا تعلیمی ادارہ نہیں کر سکتا۔ ماڈرن ترین ماؤں کو یہ حدیث تو ازبر ہے کہ "ماں کے قدموں تلے جنت ہے” لیکن ماں کی کونسی ذمہ داریاں ہیں جن کو پورا کرنے پر جنت کی بشارت ہے اس سے انجان ہیں۔ ماں کا کام اولاد کو پیدا کر کے پھینک دینا نہیں بلکہ اس کی تربیت کرنا ہے۔اولاد کو خوراک فراہم کرنا ماں کا کام نہیں بلکہ اسلام میں ایک ماں اپنے شوہر سے اپنے ہی بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ لینے میں بھی حق بجانب ہے۔ لیکن تربیت کرنا ماں کا اولین فرض ہے جس کیلئے وہ اللّٰہ تعالیٰ کو جوابدہ ہے۔

    ’’تم میں سے ہر کوئی نگران ہے اور اپنی رعایا اور ماتحتوں کے بارے میں تم سے جواب طلبی کی جائے گی‘‘۔ (صحیح بخاری)
    بچوں کا ذہن تو کورا کاغذ ہوتا ہے جس پر مستقبل کی بنیاد ہوتی۔ پھر چاہے اسے بہترین تربیت سے رنگیں و خوشنما بنا دیں یا ناقص و بدتر تربیت سے سیاہ کردیں۔ فیصلہ ماؤں کے ہاتھ میں ہے!
    خشت اول جوں نہد معمار کج
    تاثریا می نہد دیوار کج
    (اگر معمار پہلی اینٹ غلط اور ٹیڑھی رکھ دے تو دیوار کو بلندی تک ٹیڑھا ہونے سے کیسے روکا جا سکے گا)

    @once_says

  • اگلے دو سال بھی مشکل ، آپ نے گھبرانا نہیں. تحریر: محمد شعیب

    اگلے دو سال بھی مشکل ، آپ نے گھبرانا نہیں. تحریر: محمد شعیب

    چیئرمین نیب کے حوالے سے بات کی جائے تو وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم تو تردید کرتے ہیں کہ جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آرڈیننس کاکوئی مسودہ تیار نہیں کیا۔۔ پر سماء ٹی وی دعوی کر رہا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ہو چکاہے ۔ جس کی منظوری منگل کے روز ہونے والے کابینہ اجلاس میں دیئے جانے کا امکان ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد مسودے کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پاس بھیجا جائے اور ان کی منظوری کے بعد اس کا نفاذہو جائے گا۔ لگتا بھی یوں ہی ہے کہ ایسا ہی ہوگا کیونکہ وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا مل بیٹھنا موجودہ حالات میں تو دور دور تک نہیں دیکھائی دے رہا ہے ۔ بیٹھ بھی جائیں تو نہیں لگتا کہ کسی ایک نام پر ان دونوں کو کم ازکم اتفاق ہوگا ۔ کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ عمران خان بضد ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں قانون جو بھی ہو ۔ وہ شہباز شریف کو گھاس نہیں ڈالیں گے ۔ یوں یہ معاملہ بھی کھٹائی میں دیکھائی دیتا ہے ۔ اور صرف ایکسٹینشن ہی آپشن باقی بچتی ہے ۔ پر ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض حکومتی شخصیات میں مدت میں توسیع کے دورانیے سے متعلق اختلاف تھا جسے دور کرنے کیلئے مسودے میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ جب تک نئے چیئرمین کی تقرری نہیں ہوگی تب تک موجودہ چیئرمین ہی عہدے پر کام جاری رکھیں گے۔

    ۔ پر ایسا تھوڑی ہے کہ اپوزیشن حکومتی پلاننگ سے بالکل ہی بے خبر ہو ۔ انھوں نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ہونے کی صورت میں عدالت جائیں گے ۔ یوں آنے والے دنوں میں چیئرمین نیب کی تقرری والا معاملہ میڈیا اور عوام کا اچھا خاصا entertain کرنے والا ہے ۔ پھر سائیں بزدار سرکار کی بات جائے تو اب عمران خاں بھی مان چکے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں مقابلہ پنجاب میں سخت ہوگا۔ ویسے میں تو اس کو وسیم اکرام پلس کی سخت بری کارکردگی سے تعبیر کرتا ہوں ۔ کیونکہ جتنی تبدیلیاں ان تین سالوں میں پنجاب میں ہوئی ہیں اتنی تبدیلیاں شاید گزشتہ ستر سالوں میں پنجاب میں نہیں ہوئی ہیں ۔ ابھی آج کی سن لیں کہ ایک دفعہ پھر پنجاب حکومت نے سیکرٹریز سمیت اعلی عہدے کے چودہ افسران کے تقرر تبادلے کردئیے ہیں۔ میں تو یہ ہی دعا کروں گا کہ اللہ کرے یہ نئی ٹیم مطلوبہ نتائج دے دے ورنہ ابھی اس حکومت کے دوسال باقی ہیں پتہ نہیں پنجاب کا یہ کیا حال کریں گے ۔ اگر آپکو یاد ہو تو یہی پنجاب تھا جس نے تحریک انصاف کو گزشتہ انتخابات میں مرکز اور پنجاب کی حکمرانی دلائی تھی اور اب یہی پنجاب ہے جس میں تحریک انصاف کو انتخابی دنگلوں میں چاروں شانے چت گرنا پڑا ہے۔ دراصل یہ عثمان بزدار کی حکومت کی کارکردگی پر طمانچہ ہے جو عوام نے رسید کر دیا ہے ۔

    ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ الیکڑانک ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کی اجازت دینے کے معاملات ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر غبار کی طرح ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اگلے انتخابات کو ہر صورت میں“ فتح“ کرنا سب سے بڑا مشن ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان صرف مالی مشکلات کا شکار ہی نہیں۔ داخلی اور خارجی محاذوں پر بھی مسائل ہی مسائل ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود حکومت کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ اگلے عام انتخابات کو کیسے اڑانا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں چیف جسٹس کی سرابرہی میں سپریم کورٹ کا فل بنچ کب کا بلدیاتی ادارے بحال کرچکا ہے۔ ادھر حکومت اسے ماننے سے صاف انکاری ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حالانکہ یہ ہی حکومت عوام کو نچلی سطح تک حقوق مہیا کرنے کی سب سے بڑی داعی تھی ۔ پھر عمران خان نے عوام کو یہ خبر تو دیدی ہے اگلے دو سال بھی مشکل ہیں تاہم ساتھ یہ نہیں کہا آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ عمران خان کی باتوں سے لگتا ہے ابھی اچھے دن نہیں آئے اور نہ ہی اگلے دو برسوں میں آنے والے ہیں عوام کا تو اب ایک ایک دن مشکل سے گزر رہا ہے۔ اس پر اگر کپتان نے یہ خبر بھی سنا دی ہے اگلے دو برس بھی مشکل ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے عوام پر کیا گزری ہو گی۔ لیکن وزیر اعظم کے وزیر و ترجمان ان کی اس بات کو بھی گوٹہ کناری اور سرخی پاوڈر لگا کے بیان کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ دیکھو ملک کا وزیر اعظم کتنا سچا ہے جو حقیقت ہے بیان کر دیتا ہے۔ویسے ایسا سچا اور کھرا وزیراعظم پہلے کبھی عوام نے دیکھا ہی نہیں جو مشکل حالات کی خبر بھی ایسے دیتا ہے جیسے خوشخبری سنا رہا ہو۔ پانچ سال کے لئے حکومت منتخب ہوئی ہے، اس کے پانچوں برس اگر مشکلات میں گزر جاتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں وہ عوام کو اپنی آئینی مدت کے دوران کوئی ریلیف نہیں دے سکتی تو ایسی حکومت کو کامیاب کہا جائے گا یا ناکام۔ فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ ویسے کپتان نے تو ہار نہیں مانی ان کی حکومت تو چل رہی ہے اور اب چوتھے برس میں داخل ہو گئی ہے تاہم عوام اب ہار گئے ہیں، ان کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ انہیں زندگی کی دوڑ برقرار رکھنے کے لئے جان کے لالے پڑ گئے ہیں وہ ایک امید کے سہارے زندہ تھے کہ حکومت اپنی باقی ماندہ دو سال کی مدت کے دوران ریلیف نہیں دیتی تو کم از کم مہنگائی کو موجودہ سطح پر ہی منجمد کر دے گی، مگر کپتان نے اگلے دو برسوں میں بھی مشکلات کی گھنٹی بجا کر انہیں مایوس کر دیا ہے۔

    ۔ اس وقت کوئی چیز نیچے آنے کا نام نہیں لے رہی ہے ہر چیز اوپر ہی اوپر جائے جا رہی ہے ۔ ڈالر ہو ، پیڑول ہو ، بجلی ہو ، گیس ہو ، آٹا ہو ، چینی ہو ، حکومتی دعوے ہوں یا پھر عوام ہوں ۔ کیونکہ ان حالات میں زندہ رہنا کسی جہاد سے کم نہیں ۔ کیونکہ جس حساب سے موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات مان رہی ہے۔ بہتری دیوانے کا خواب ہے ۔ ڈالر آج پھر بلندیوں پر پہنچ چکا ہے ۔ آپ دیکھیں پچھلے تین ماہ میں ڈالر کواپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کے لیے حکومت تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالرز مارکیٹ میں ڈال چکی ہے۔ تحریک انصاف سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پالیسیوں کی ناقد رہی ہے لیکن موجودہ حکومت اب خود بھی اسی طریقہ کار سے نظام چلاتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف وزیر اور مشیر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ بیانات کی بھرمار ہے جس سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ سرکار کو عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اس کا سارا زور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹے سچے اعدادوشمار پیش کرنے پر ہے۔ وزرا جب عوام اور میڈیا کو قائل نہیں کر پاتے تو انہیں کنفیوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ آج کل کئی وزرا یہ دعویٰ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمت برطانیہ اور یورپ کی نسبت بلکہ پورے خطے میں سب سے کم ہے۔ برطانیہ میں ایک لیٹر پٹرول ایک پاؤنڈ تیس پینس کا ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریباً تین سو روپے بنتا ہے جبکہ پاکستان میں صرف 123 روپے 80 پیسے فی لیٹر میں پٹرول دستیاب ہے۔ ایسے افراد سے گزارش ہے کہ وہ عوام کو یہ بھی بتائیں کہ برطانیہ میں ایک گھنٹہ کام کرنے کی کم سے کم اجرت تقریباً سات پاؤنڈ ہے۔ اگر دن میں آٹھ گھنٹے کام کیا جائے تو 56 پاؤنڈز کمائے جا سکتے ہیں جو پاکستانی کرنسی میں 12936 روپے بنتے ہیں۔ اس سے تقریباً 43 لیٹر پٹرول خریدا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان میں ایک دن کی کم از کم اجرت تقریباً چھ سو روپے ہے جس سے ساڑھے چار لیٹر پٹرول ہی خریدا جا سکتا ہے۔اس طرح یہ مانگے تانگے کے وفاقی وزیر سوشل میڈیا پر تشہیری مہم تو چلا سکتے ہیں ۔ لیکن انفارمیشن کے اس دور میں عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔

    ۔ پر کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ عمران خان ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ آئندہ انتخابات اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جیتیں گے۔ اب کوئی اندازہ لگانے لگے کہ وہ کس کارکردگی کی بات کر رہے ہیں تو سرپکڑ کر بیٹھ جائے۔ کیا مشکلات برقرار رکھنے کی کارکردگی، کیا مہنگائی کو آسمان تک پہنچانے کی کارکردگی، یا پھر گڈ گورننس میں عروج حاصل کرنے کی کارکردگی، کون سی کارکردگی ؟؟؟ کہاں کی کارکردگی ؟؟؟ کہنے کو عمران خان اپنے خوشنما نعرے نیا پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں آ گئے، مگر وہ اشرافیہ کے چنگل سے آزاد ہو سکے اور نہ عوام کو آزاد کرا سکے، ان کی حکومت میں پرانے پاکستان کے وہ تمام استحصالی چہرے موجود ہیں، جو اس ملک کے عوام کو روپ بدل بدل کر بے وقوف بناتے رہے ہیں۔ ۔ اسی لیے ان چہروں نے جلد ہی عمران خان کے نئے پاکستان کی ہیئت بدل کر پرانے سے بھی زیادہ استحصالی پاکستان بنا دیا۔ یوں ایک بار پھر وہ نظریہ جیت گیا جو عوام دشمنی پر مبنی ہے اور وہ ہار گیا جو عوام دوستی کا مظہر ہے۔ اقتدار میں چاہے مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلزپارٹی یا پھر ان دونوں کو ہرا کر تحریک انصاف حکومت بنا لے عوام کے ہاتھوں میں کچھ نہیں آتا۔ ان کے لئے محرومیوں کے سوا اس سارے نظام میں کچھ بھی نہیں، بلکہ حالات پہلے سے بدتر ہو جاتے ہیں اور تبدیلی کے ہر غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ آج کل پھر سیاسی جماعتیں عوام کے دکھ درد بانٹنے کے درد میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بھی کہہ رہی ہے ایک موقع اور دیں، پھر دیکھیں ہماری عوام دوستی اور پیپلزپارٹی بھی عوام کو نئے خواب دکھانے کی پوری کوشش کر رہی ہے، جبکہ عوام دریا کے کنارے کھڑے یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔

  • دنیا کرکٹ اور مغربی منافقت تحریر ناصر بٹ

    دنیا کرکٹ اور مغربی منافقت تحریر ناصر بٹ

    نیوزی لینڈ کی فوج سے زیادہ فورس ان کی ٹیم سیکورٹی پر لگائی، یہ الفاظ وفاقی وزیر داخلہ کے ہیں جو ان کی جانب سے گزشتہ روز دورہ نیوزی لینڈ منسوخ ہونے کے حوالے سے کہے گئے انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ تھریٹ الرٹ دینے والے تب کہاں تھے جب ماہرین کی ٹیم یہاں دورے پر تھی، وفاقی وزیر داخلہ نے اہم ترین باتیں کیں لیکن شیخ رشید کی یہ سیکورٹی کے حوالے سے کہی گئی پہلی لائن تمام میڈیا چینلز کے ڈائریکٹر نیوز صاحبان سمیت نیوز ایڈیٹرز کو بھی جیسے بھا سی گئی کہ تمام ہیڈلائنز اور اخباری سرخیوں پر یہ الفاظ ٹی وی چینلز اور اخبارات کی زینت بن گئے جس کے بعد ہونا کیا تھا وہی جو ہمارے یہاں سوشل میڈیا صارفین کیا کرتے ہیں، اخباری تراشے اور ٹی وی کے سکرین شاٹس کو جوں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا کہ ایک نئی بحث کا آغاز ہو ہی گیا، صارفین کی جانب سے وزیر داخلہ کے بیان کو کہیں بھارت کو دھمکانے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا تو کہیں نیوزی لینڈ کی اندرونی سیکورٹی پر سوالات اٹھانے کے لیے بہرحال اس ساری صورتحال میں قومی سطح پر ہوئے نقصان کا ازالہ ہونے کی بجائے اس میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور طے شدہ دورہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو بھی منسوخ کرنے کی خبریں گردش میں آگئیں، جبکہ آئندہ ماہ میں ہونے والی آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیریز بھی خطرے میں پڑ گئیں، نومنتخب چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ کی جانب سے اس پر سخت ردعمل دیا گیا کہا کہ پاکستان میں سیکورٹی معاملات پر مغربی دنیا اکٹھی ہوجاتی ہے 

    اب اس ساری صورتحال میں سیکھنے کی دو تین اہم باتوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا کہ کس طرح پاکستان کے خلاف مغربی دنیا کی منافقت کھل کر بے نقاب ہوئی اور منفی پراپیگنڈے میں سب ممالک ایک سے بڑھ کر ایک نظر آئے، اس کی چھوٹی سی جھلک اس بات میں دیکھ لیجیے کہ انگلینڈ نیوزی لینڈ کی ویمن کرکٹ ٹیمز کے مابین سیریز کا تیسرا ون ڈے شیڈول ہے لیکن نیوزی لینڈ کی ٹیم اسی ہوٹل میں موجود ہے جسے کچھ روز قبل بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی جس کے بعد بظاہر ٹریننگ تو منسوخ کر دی گئی تاہم انسداد دہشتگردی کی ایجنسیز کی جانب سے خطرناک تھریٹ دئیے جانے کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت ٹس سے مس نہیں ہوئی جس سے مغربی ممالک کی آپس اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں امتیازی روئیے کی پول کھل کر سامنے آگئی اس ساری صورتحال میں دوسری جنگ عظیم کے دوران تشکیل دی گئی پانچوں ممالک جس میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا شامل ہیں کی مشترکہ خفیہ ایجنسی فائیو آئیز کے ذریعے پاکستان کے Absolutely NOT کو ہاں میں بدلنے کی ناکام کوشش کے بعد اس پراپیگنڈے کا آغاز کیا گیا جس کے بعد پہلے نیوزی لینڈ اور بعد میں انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان میں کھیلنے سے منع کیا گیا 

     دوسری جانب اس ساری صورتحال میں ویسٹ انڈیز سمیت کئی اہم ممالک کے کرکٹرز کی جانب سے جس طرح کھل کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت اور محفوظ پاکستان کے حق میں کھل کر بات کی گئی وہ قابل ستائش ہے ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے تو اس حد تک لکھ دیا کہ بھیڑ کی کھال میں چھپے بھیڑیوں سے ہوشیار رہو، یقیناً ان کا اشارہ مغربی دوغلے پن کی طرف تھا

    لیکن بحرانی کیفیت میں موقعوں کی تلاش کرنے والی قوم ہی دنیا میں ترقی کی راہ پر چل سکتی ہیں اور یہ ہی کیا پاکستان نے کہ شائقین کے ٹوٹے دل اور قومی سطح پر پست ہونے والے حوصلوں کو دوبارہ بلند کرنے کے لیے نیشنل ٹی ٹونٹی میچ کا اعلان کر دیا جس کا باقاعدہ میلہ 23 ستمبر سے سجے گا جبکہ 12 اکتوبر تک کھیلا جائے گا

  • پاکستان اور سیاحت تحریر: تعمیر حسین

    پاکستان اور سیاحت تحریر: تعمیر حسین

    سیاحت کسی بھی ملک کا مثبت پہلو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ھے۔  تمام ممالک کی یہ کوشش ھوتی ھے کہ زیادہ سے زیادہ سیاح ان کے ملک جائیں۔ جس سے نہ صرف اس ملک کا اچھا امیج پیدا ھوتا ھے بلکہ معیشت کو بھی سہارا ملتا ھے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ھوتے ھیں۔ کیونکہ سیاح جس علاقے میں بھی جائیں وھاں کی روایتی اشیاء کو خریدتے ھیں اور اپنے دوستوں اور فیملی کے لیے تحائف کے طور پر لے کر جاتے ھیں ۔

    بعض ممالک کی معیشت کا تو انحصار ہی سیاحت پر ھے۔

     

    پاکستان بھی سیاحت کے شعبے میں دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور پاکستان کے شمالی علاقوں کی مہم جُو سیاحت،ثقافتی ورثہ اور آثار قدیمہ کے نوادرات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ شمالی علاقہ جات نہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بے حد مشہور ھیں۔ شمالی علاقہ جات ، کشمیر کے بلند پہاڑ، گلگت کی برف پوش پہاڑی چوٹیاں اور وادی کیلاش یہ صرف چند مشہور تفریحی مقامات کے نام ھیں۔ الحمدللہ پاکستان کا چپہ چپہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ھے۔

    پاکستان ان ممالک میں سے ایک ھے جہاں چاروں موسم پاے جاتے ہیں۔

    پاکستان کے شہری علاقے سیاحوں کے لئے توجہ کا ساماں رکھتے ہیں جبکہ ملک کے دیہی علاقے آرٹ،دستکاری اور دلکش ثقافت کا شاندار نمونہ ہیں۔

    دیہات اب بھی ثقافت کے مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ھوے ھیں۔

     آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں آپ کو چھولیں بلکہ آپ سے لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟

    یہ ناممکن نہیں بلکہ حقیقت ھے،  اگر آپ پاکستان کے پہاڑی مقامات کی سیر کے لیے جائیں تو ایسا تجربہ آپ کو  اچانک ہوسکتا ہے۔

    سمجھ نہیں آتا کہ کن الفاظ میں اس احساس کو بیان کریں، مگر ہمارے وطن کے رنگ ایسے ہی سدا بہار ہیں جو دل کو جیت لیتے ہیں۔ 

    گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ خزاں کا ذکر بھی زیادہ تر ہوتا ہے کیونکہ اس موسم میں اس وادی کے رنگ دیکھنے والے ہوتے ہیں یعنی نارنجی، زرد، سرخ اور دیگر رنگ ہر جگہ پھیلے ہوتے ہیں۔

    وادی سوات اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش چوٹیوں، ان گِنت جھرنوں ، چراگاہوں، نہروں اور ندیوں، قدرتی پارکوں، جھیلوں اور گھنے و تاریک جنگلوں کی وجہ سے مشہور ہے.

    بلوچستان کے ریگستانوں سے لے کر پنجاب کے سرسبز میدانوں تک پاکستان بے شمار سیاحتی مقامات رکھتا ھے 

    لاھور شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان جیسے تاریخی مقامات رکھتا ھے تو سر زمین ملتان اولیاء اللہ کی سر زمین مشہور ھے اور وھاں جلیل القدر اولیا کے مزارات ھیں جن میں بہاوالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی شامل ھے۔

     لاھور کی فوڈ سٹریٹ کی تو شان ہی نرالی ھے۔ وھاں کے چٹ پٹے مزیدار روایتی پکوان لاھور کی پہچان ھیں۔  سیاحوں کے لیے خصوصی انتظامات موجود ھیں۔

     آپ روایتی ٹانگہ پر پرانہ لاھور بھی گھوم سکتے ھیں۔ اندرون لاھور اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ھوے ھے۔ 

    مری ، اسلام آباد، کلر کہار، چکوال، خوشاب ، چترال، وادی کیلاش، سوات ، وزیرستان غرض کون کون سی جگہ کا نام لوں جو تاریخی اور سیاحتی مقامات نہ رکھتی ھو ؟  ہر شہر ، ہر علاقہ انفرادیت کا حامل ھے اور اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ھے۔  

     یہاں ضرورت اس بات کی ھے کہ حکومت پاکستان ان سیاحتی مراکز کو سہولیات فراہم کرے اور انٹرنیشنلی طور پر اس کو پروموٹ کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ سیاح پاکستان کا رخ کریں ۔ اس سلسلے میں حکومت نے کے پی کے کے علاقوں میں خاصہ کام کیا ھے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ھے۔

    اوورسیز پاکستانیوں کو چاھیے کہ جس ملک بھی جائیں پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کریں۔ وھاں پاکستان کے سیاحتی مقامات کے متعلق آگاہی پھیلائیں تا کہ وھاں کہ لوگوں میں پاکستان کے متعلق تجسس ھو اور پاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری عروج کی بلندیوں کو چھوئے۔

    جس طرح اس سال لاکھوں کی تعداد میں مقامی سیاح عید کے موقع پر سیاحتی مقامات کی طرف امڈے ھمیں  امید ھے کہ مستقبل قریب میں پاکستان غیر ملکی سیاحوں کا بھی مرکز ھو گا۔ 

    پاکستان پائندہ باد

    Official Twitter Account @J_Tameer  

  • 66 سالہ دلہن کی 79 سالہ  شخص سے شادی

    66 سالہ دلہن کی 79 سالہ شخص سے شادی

    دو عمر رسیدہ جوڑوں نے اپنی مستقبل کی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کے لئے شادی کر لی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق یہ شادی مہاراشٹر کے ضلع سانگلی میں ہوئی۔ جہاں دلہن کی عمر 66 سال ہے اور دلہن کی عمر 79 سال ہے یہ شادی ضلع سانگلی کے میرج میں واقع آستھا بے گھر خواتین سینٹر میں ہوئی۔ جہاں 66 سالہ دلہن شالینی اور 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔

    دونوں فریقوں کی جانب سے شادی پر رضامندی کے بعد محبت کرنے والوں نے سات پھیرے لینے کا فیصلہ کیا اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئےسینڑمیں رہنے والی 66 سالہ دلہن شالینی کے شوہر اور بچے کی بے وقت موت کے بعد وہ اپنی زندگی بے گھر سینٹر میں تنہا گزار رہی تھی۔

    جبکہ 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے کی اہلیہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے دادا صاحب سالونکھے کے بچوں کی شادی کے بعد وہ اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں جس کے بعد دادا صاحب سالونکھے کی زندگی تنہا گزر رہی تھی۔ تاہم بچوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے لئے رضامندی دے دی تھی بزرگ دلہن اور دلہن شالینی پاشن ، اور دلہا داس صاحب سالونکھے کی شادی سے پہلے مشورہ کیا گیا، جو آستھا بے گھر سینٹرمیں رہتے ہیں۔

    دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھا اور ایک روشن مستقبل کے سفر کو گزارنے کا فیصلہ کیا۔ تمام قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد سماجی اصلاح پسندوں ساوتری بائی اور مہاتما پھولے کی تصاویر کو پھول پیش کئے اور پرانی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے شادی کی.شادی کے دوران مدعو مہمان اور پورے گاؤں نے دلہا اور دلہن کو خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے دعائیں دیں۔

  • سعودیہ واپسی کے منتظر پاکستانی پریشانی کا شکار تحریر ہارون خان جدون

    سعودی عرب کی جانب سے کرونا کی وجہ سے ڈائریکٹ فلائٹس پر کہیں ماہ سے پابندی
    کی وجہ اپنے ملک آئے ہوے پاکستانی مزدور ورکر بیچارے ذلیل و خوار ہو گئے ہیں
    ابھی یہ سلسلہ جاری ہے جو بھی دو ماہ کے لیے گھر آیا تھا ہو دس دس ماہ سے گھر
    بیٹھا ہوا ہے اب ہو بیچارہ کھائے گا کہاں سے؟ حکومت کو چاہیے سعودی عرب سے بات
    کرکے کچھ حل نکالے

    ‏‎‎یورپ،امریکہ اور کنیڈا میں رہنے والے اورسیز جو وہاں مستقل رہنا چاہتے ہیں
    اور پاکستان آنے کا امکان بھی نہیں اور نہ اپنے رقم کا دس فیصد بھی پاکستان
    بھیجنا چاہتا ہے ان کیلئے سہولیات تلاش کیجاتی ہے لیکن جو مشرق وسطی ممالک میں
    مقیم ہے اور جسمانی محنت مزدوری سے ہر سال ریکارڈ پیسہ ‏‎‎بھیجتے ہیں،جو اپنے
    پیٹ کاٹ کر بچوں اور ملک کیخاطر یہاں یا پاکستان جاکر اب واپس آنے میں مشکلات
    سہہ رہے ہیں ان کیلئے کوئ آواز اٹھانے والا نہیں۔۔۔

    بنگلہ دیش جیسے ملک سے فلائٹس اوپن ہے لیکن ہمارے لوگ کرغزستان کے راستے آرہے,
    ‏‎‎بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن، ازبکستان، تاجکستان اور بہت سارے ملکوں کی فلائٹ
    ہے۔
    لیکن پاکستان کو اپنا بھائ مان کر بھی فلائٹ کا اجازت نہیں دیتا۔
    حکومت کو اس پر عملی اقدام اٹھانا چاہیئے ۔اور ان بیچاروں مزدوروں کی مدد کرنا
    چاہیئے
    اس وقت سودیہ میں سابق Dg رینجر جنرل R ‏‎بلال اکبر صاحب وہاں سفیر تعینات ہیں
    انکو چاہیے کے وہ سودیہ سے آے ہوے ان ملازمت پیشہ لوگوں کے اس issue کو جلد از
    جلد حل کروائیں کیوں کہ پاکستانی سفارتخانہ پہلے کا بہت ٹھنڈا ہے سعودیہ میں
    انکی کوئی نہیں سنتا ہے بنگلہ دیش کرونا کے پیک میں بھی اوپن رہا اور اب بھی
    نارمل فلائٹس ہیں پاکستان بنگلہ دیش سے بھی پیچھے ہے سعودیہ میں اور حکومت وقت
    کی سفارت کاری بھی نا ہونے کے برابر ہے حکومت کو چاہیے کے وہ اس مسلے کو
    سنجیدگی سے حل کروائیں کیوں کے لاکھوں مزدور وہاں کام کر کے اپنی family کو
    سپورٹ کرتے ہیں اور انکا گھر چلتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اکانومی کو
    بھی بہت فائدہ ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے کھانے پینے کی ہر ایشاء
    غریب کی پنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے بجلی گیس بھی مہنگی ہے اوپر سے کرونا کے اس
    وائرس نے پوری دنیا خاص کر کے غریب ممالک میں رہنے والے مزدور طبقے پر بڑا اثر
    ڈالا ہے انکی کمر ٹوٹ چکی ہے
    جو لوگ پردیس میں کام کرتے ہیں انکی پوری family ان پر dependent ہوتی ہے وہی
    پورے خاندان کا سرکل چلاتے ہیں
    لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سوچنا چاہیے اور ‏‎جب تک پاکستانیوں کی
    جعلی، ویکسین سرٹیفیکیٹ والی 2 نمبریاں نہیں رکیں گی سارے پاکستانی اسی طرح
    ذلیل ہوتے رہیں گے مختلف ممالک میں۔ کڑوا سچ ہے

    اس کے ساتھ جو لوگ گلف سے آے ہوے ہیں وہ وہاں کے قانون کی پاسداری کریں اور
    کرونا vaccine کی دو  ڈوز مکمل لگواہیں تاکہ انکے لئے واپسی کا سفر آسان ہو
    سکے کیوں کے دھوکے اور دو نمبری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس سے مزید پریشانی
    بنتی ہے پاکستانیوں کو چاہیے کے وہ legal پراسس مکمل کریں اور اسکے ساتھ ساتھ
    حکومت وقت وزیرخارجہ اور وہاں پر موجود پاکستانی سفیر کو پاکستانیوں کی اس
    پریشانی کو سمجھنا چاہیے اور جلد از جلد اس issue کو حل کروانا چاہیے تاکہ
    مزدور اپنے اپنے روزگار پر واپس جا کر اپنا کام سٹارٹ کر سکیں اور اپنی زندگی
    کو معمول پر لا سکیں.

    @ItzJadoon

  • حکومت کا ٹارگٹ غریب یا غربت  تحریر:   حافظ طلحہ ابوبکر

    حکومت کا ٹارگٹ غریب یا غربت تحریر:  حافظ طلحہ ابوبکر

    جب سے ہوش سنمبھالا ہے یہی سنتے آئے ہیں 

    مہنگائی نے جینا حرام کردیا 

    ہر نئی حکومت سے نئی اُمیدیں وابستہ کی جاتی ہیں 

    لیکن آنے والے حکمران عام آدمی تک انصاف اور عوامی سہولیات کا محض نعرہ ہی لگاتے ہیں عمل نہیں کیا جاتا پھر بھی غربت اور مہنگائی میں پسی ہوئی عوام کسی ایک کو منتخب کرتے ہیں کہ شاید ان کی مشکلات میں آسانی ہو مگر ایسا ہوا کبھی نہیں

    گزشتہ 32 سالوں کے دوران سیاستدانوں نے 

    کبھی روٹی کپڑا مکان اور کبھی ووٹ کو عزت دو کے کھوکھلے نعروں سے عوام کو بیوقوف ہی بنایا لیکن جس طرح سے موجودہ حکومت نے اپنے نعروں سے لے کر اقتدار میں آنے تک کے دوران عوامی مسائل کو حل کرنے کی امید جگائی اور وعدے کیے تھے تو محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید پاکستان کی غریب عوام کی قسمت بدل جائے گی حالات و نظام کے ستائے ہوئے لوگوں کو کچھ تو ریلیف ملے گا انصاف کی فراہمی ممکن ہو گی لیکن ایسا ابھی تک کچھ نہیں ہوا بلکہ موجودہ حکومت نے غربت ختم کرنے بجائے غریب کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ناں غریب رہے گا اور ناں ملکی ترقی میں مشکل در پیش ہو گی

    لیکن سوال یہ ہے کہ اگر غریب کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی مؤثر حکمتِ عملی نہیں تو غریب کے ووٹ کی خاطر یہی حکمران اس کی دہلیز تک کیوں جاتے ہیں 

    کسی غریب کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ملکی معیشت کہاں پر جا رہی ہے اور ڈالر کا عالمی منڈی میں کیا اتار چڑھاؤ ہے اسے فکر ہے تو گھر کا چولہا کیسے جلے گا 

    مہنگائی اور غربت نے عوام کا جینا محال کر دیا

    پٹرول کی قیمتوں میں آۓروز اضافہ’ آٹے اور چینی اور گھی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر ہی رہیں اسکے ساتھ ساتھ سبزی اور دالیں بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئیں ایسے حالات میں تو یوں لگتا کہ جیسے غریب کو جینے کا کوئی حق ہی نہیں ہے 

    ہر گزرتے دن کے ساتھ روپے کی قدر میں کمی اور بجلی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی فکر معاش کے ساتھ یہ اضافی بوجھ لادھ کر حکومت کو لگتا ہے کہ ہر ایک خوشحال زندگی بسر کر رہا تو ایسا ہر گز نہیں ہے 

    غربت کی وجہ سے چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا غربت کے ہاتھوں مجبور بے روزگار نوجوانوں کا ہجوم کسی طرح شارٹ کٹ سے زندگی آسان کرنے کے لئے دوسروں کی زندگیوں کو عذاب بنا رہے ہیں اور ہمارے وزراء اور مشیر اعلٰی سب اچھا ہے کی گردان لیے بیٹھے ہیں انکو اندازا ہی نہیں ملک میں غربت کے باعث خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہونے والی ہے آخر کب تک لوگ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے عوام کو ریلیف کی ضرورت ہے 

    اور یہی بات آج سب سے اہم اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے غریب جب اٹھے گا تو اسکو روکنا نا ممکن ہو گا حکومت کو اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ عام عوام بھی سمجھ گئی ہے اپنے حق کے لئے سڑکوں پر نکلنا پڑے گا تو وہ نکلیں گے 

    اس دیس کے ہراک لیڈ ر پرسوال اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کے ہراک حاکم کوسولی پہ چڑ ھانا واجب ہے

    ‏حکومت اور اپوزیشن کے ہمیشہ کی طرح اختلافات نے عوام کو پاگل بنایا ہوا ہے عوام مہنگائی سے پس رہی چاہے 2 سال بعد کوئی بھی جیتے عوام کو اس سے کیا، عوام کو نا اپوزیشن نے ریلیف دیا نا حکومت نے۔ عوام کا اصل مسلہ الیکشن نہیں مہنگائی ہے جس نے اس وقت کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حکومت کے تین سال گزر جانے کے باوجود عوام کو کوئی خاص ریلیف نا مل سکا۔ اب حکومت کو چاہیے کہ سابقہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کو صرف اجاگر کر کے اپنی سیاست چمکانے کی بجائے ان غلطیوں کو سدھارنے کی اور اصلاحات کی کوشش کرے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔

    الفت بدل گئی، کبھی نیت بدل گئی

    خود غرض جب ہوۓ تو پھر سیرت بدل گئی

    اپنا قصور دوسروں کے سر پر ڈال کر

    کچھ لوگ سوچتے ہیں حقیقت بدل گئی۔

    ‎@talha_abubakar4 

  • آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    آج کا مسلمان ; تحریر فرازرؤف

    ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا کیا اور اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم حضرت محمد ﷺ کے امتی ہیں۔

    لیکن بدقسمتی سے ہم امتی ہونے کا حق ادا کرنا بھول گئے، ہم اپنی زندگیوں کو آپ کے بتائے ہوئے احکامات پر چلانے کی بجائے ایسے کاموں میں ملوث ہو گئے جس کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔

    افسوس کہ آج مسلمان مذہب سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں اخلاقی زوال، بے حیائی، جھوٹ، چغل خوری، مکر و فریب، غرور و تکبر سرایت کرگئے ہیں۔

     اگر ایک نگاہ مسلمانوں کے موجودہ احوال پر ڈالی جائے، برما ہو یا شام، فلسطین ہو یا افغانستان، افریقہ یا امریکہ، عراق ہو یا یمن، ہر ملک اور دنیا کے ہر خطہ میں مسلم قوم تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ تمام اقوام عالم نے یک زبان ہو کر دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑدیا ہے، مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

    قرآن کریم میں اللہ تعالی مسلمانوں کے حوالے سے ارشاد فرماتا ہے: ” تم بہترین امت ہو "یعنی دنیا کی سب سے اچھی امت ہو ؛حالانکہ سب سے اچھی امت اسے کہتے جسے دنیا میں عز ت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے، دوسری اقوام جسے اپنے لیے نمونہ بنائیں، اس کی تہذیب کو اپنایا جائے نیز وہ ایسی امت ہو کہ خوش حالی کی زندگی گزارے، تمام طرح کی دنیاوی پریشانیوں سے مامون ومحفوظ ہو۔ ان میں سے کوئی چیز بظاہر امت مسلمہ میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

    وہ کون سے اسباب ہیں جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی یہ حالت ہے، ہمیں جلد ہی ان عوامل کو تلاش کرنا ہو گا کہیں دیر نا ہو جائے۔ ان دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کہیں کسی دن موت کا بلاوا نہ آ جائے۔ بحیثیت مسلمان اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہمیں ہر وقت اپنی آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیئے اور آخرت کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیے۔

    مسلمانوں کی موجودہ پریشان حالی کے اسباب یہ ہیں کہ وہ لاشعوری اور غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ انھیں اس ذمہ داری کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے کہ وہ اس دنیا میں بسنے والے تمام افراد کے نفع و نقصان کی فکرکریں، مگر وہ اپنی ذاتی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگئے ہیں کہ اپنی اس عظیم ذمہ داری کو بھول بیٹھے ہیں۔

    دوسرا سبب یہ ہے کہ مسلمان تعلیمی اور فنی میدان میں بہت پیچھے رہ گئے اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی کسی بھی میدان میں صحیح راہنمائی کرنا محض خواب وخیال ہے۔

    تیسرا سبب یہ ہے کہ دین سے ان کا رشتہ بہت کمزرو پڑچکا ہے، چنانچہ دینی تعلیمات ، اسلامی طرز زندگی اور اسلامی اخلاق ان کی زندگی سے ختم ہورہے ہیں۔

    چوتھا سبب یہ ہے کہ امت اللہ کی طرف رجوع کرنا بھول گئی ہے، جس کا بہترین راستہ نماز ہے، 

    نماز ہر طرح کی پریشانیوں، تکلیفوں، غموں، مصیبتوں، الجھنوں، بیماریوں اور حزن و ملال کے بادل چھانٹ دیتی ہے۔ جب کبھی حضور ﷺ کو کوئی اہم مسئلہ پیش ہوتا تو آپ اپنے رب کی بارگاہ میں نماز کی حالت میں رجوع کرتے، نماز کی ادا سے اپنے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے اور نماز سے ہی اپنے تمام معاملات کو بہتر کرتے۔ کائنات میں صرف ایک ذات اللہ عزوجل کی ہے جو دل کو جمانے اور ڈھارس بندھانے والی ہے۔

     ہم لوگ آج ہر طرف سے نفسیاتی،جسمانی،دماغی، معاشرتی، پریشانیوں، الجھنوں میں پھنسے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے اور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ سے صبر و سکون حاصل کرنے کے بجائے ہم مادی وسائل کا انتخاب کرتے ہیں، جب کہ سکون، اطمینان حاصل کرنے اور ان  تمام بیماریوں کے علاج کا ایک ہی ذریعہ، ایک ہی مداوا اور حل ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے خالق و مالک کے سامنے نماز کی حالت میں جھک جائے۔

    لہٰذا مسلمانوں کو ان چاروں اسباب میں غور کرنا چاہیے اور ان چاروں کی طرف سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے،ان انشاءاللہ کامیابی و کامرانی ان کا مقدر ہوگی اور زمین کی سربراہی اور دیگر اقوام کی قیادت و سیادت انھیں حاصل ہوگی، وہ ایک قائد امت بن کر دوبارہ ابھر سکیں گے اور پوری دنیا انھیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے گی،  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

     آیت 139: وَلاَ تَہِنُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا:  ”اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھاؤ’ 

    وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ:  ”اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔”

    Author: Faraz Rauf

    Twitter ID: @farazrajpootpti