Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    جب نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اپنا دورہ کینسل کرکے واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا تو کہا تھا کہ بظاہر جو وجوہات ہمیں بتائی جا رہی ہیں یہ پورا سچ نہیں ہے۔اور اب اس بات کے ثبوت بھی سامنے آ رہے ہیں کہ اس تمام معاملے کے پیچھے ہمارا دیرینہ دشمن اور ہمسایہ بھارت ملوث ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت نے ایسا کیوں کیا ؟کیا پاکستان کو آئی سی سی میں یہ کیس لیکر جانے سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟ پہلے بات کر لیتے ہیں کہ ابھی تک وہ کون سے ثبوت ہمارے سامنے آئے ہیں جو یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اس تمام کارستانی کے پیچھے بھارت ملوث تھا۔یہ سازش دراصل شروع ہوئی تھی ایک فیس بک پوسٹ سے جو انیس اگست کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے بنے ایک جعلی اکاونٹ سے کی گئی تھی۔ اس پوسٹ میں لکھا گیا کہ۔۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور حکومت اپنی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجیں کیونکہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ داعش پاکستان میں کارروائی کرنے کی تیاری کر ہی ہے اور وہ ٹارگٹ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی ہو سکتی ہے میں جانتا ہوں کہ داعش مجھ سے ناراض ہو گی اس پوسٹ کے بعد۔ اب یہ نیوزی لینڈ کی حکومت پر ہے کہ وہ غور سے سوچیں۔

    اس کے بعد اکیس اگست کو Abhinandan Mishraجو کہ بھارتی اخبارSunday Guardianکے بیورو چیف ہیں انہوں نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں لکھا گیا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں دہشتگرد حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ آرٹیکل اسی جعلی فیس بک پوسٹ کو بنیاد بنا کر لکھا گیا تھا اور Abhinandan Mishraکے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے امر اللہ صالح کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔اس کے بعد چوبیس اگست کو نیوزی لینڈ کے کھلاڑیMartin Guptill کی بیوی کوایک ای میل ملتی ہے جو کہ tehreeklabaik@protonmail.com
    کی آئی ڈی سے بھیجی گئی تھی۔ اس ای میل میں یہ دھمکی دی گئی کہ مارٹن کو پاکستان میں قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن جب اس ای میل کی تحقیقات کی گئی تو پتا چلا کہ یہ ای میل کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک سے جڑی ہوئی نہیں ہوئی تھی۔ اور وہ ای میل اکاﺅنٹ چوبیس اگست کو رات ایک بج کر پانچ منٹ پر بنایا گیا تھا اور بنانے کے چند گھنٹوں کے بعد صبح گیارہ بج کر
    59 منٹ پرMartin Guptillکی بیوی کو اس سے ای میل کی جاتی ہے۔ اور یہ ایک اکلوتی ای میل ہے جو اس اکاونٹ سے کی گئی یعنی اس سے پہلے یا اس کے بعد ابھی تک اس اکاونٹ سے کوئی اور ای میل کی ہی نہیں گئی۔protonmailدراصل ایکSecure serviceہے۔ جس کی تفصیلات آسانی سے مہیا نہیں ہوتیں۔ بہر حال اس کے لئے انٹر پول سے درخواست کی گئی ہے اور وہ ہی ہمیں کچھ مدد کر سکتے ہیں۔لیکن ان تمام دھمکیوں کے باوجود نیوزی لینڈ نے یہ دورہ کینسل نہیں کیا تھا اور گیارہ ستمبر کو نیوزی لینڈ کی ٹیم چارٹرڈ فلائٹ سے پاکستان پہنچ بھی گئی تھی۔ اور T20ٹیم کے ممبرز بارہ ستمبر کو یہاں پہنچے۔ اس کے بعد ان کو یہاں ہائی لیول کی سیکیورٹی دی گئی۔ سرینا ہوٹل میں ان کو الگ ایک پورا ونگ دیا گیا تھا۔ جہاں ٹیم اور سیکیورٹی فورسز کے علاوہ کسی کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ Civil arm forces, police, rangers اور سیکیورٹی ایجنسیز سب مل کر ان کو سیکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ تقریبا ایک ہزار سے زیادہ لوگ اس ٹیم کو سیکیورٹی مہیا کر رہے تھے۔ دو ہیلی کاپٹرز بھی ان کی سیکیورٹی کے لئے فراہم کیئے گئے۔ آخری بار اتنی سیکیورٹی اس وقت کی گئی تھی جب محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ اس کے بعد پریکٹس سیشن کا شیڈول بھی جاری ہوا دونوں ٹیموں نے دھمکیوں کے بعد باوجود دو دن پریکٹس بھی کی لیکن کوئی الرٹ رپورٹ نہیں ہوا اس کے بعد ایک دن چھٹی کا بھی گزارا لیکن کوئی سیکیورٹی ایشو سامنے نہیں آیا۔

    لیکن سترہ ستمبر کو میچ سے پہلے صبح ساڑھے دس بجے نیوزی لینڈ کی ٹیم یہ بتاتی ہے کہ ان کی حکومت کی طرف سے تھریٹ الرٹ آیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی حکومت کی ہدایت پر یہ دورہ منسوخ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد پی سی بی کے حکام ، وزارت داخلہ کی ٹیم اور ایجنسیوں کے لوگ ان کے پاس بھی گئے اور درخواست کی کہ آپ لوگ ہم سے تھریٹ الرٹ شیئر کریں لیکن انہوں نے ایسا کوئی ثبوت شئیر نہیں کیا۔حالت تو یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان جو اس وقت ایس سی او کے سمٹ میں مصروف تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم Jacinda Ardernسے بات بھی کی کہ اگر وہ اس وقت دورہ کینسل کریں گے تواس سے عوامی سطح پر تلخی پیدا ہو گی لیکنJacinda Ardernنے کہا کہ ان کے پاس سنجیدہ انفارمیشن ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ لیکن وہ سنجیدہ انفارمیشن آج تک ہم سے شئیر نہیں کی گئی۔ اب جب دورہ کینسل ہونے اور ٹیم کے واپس جانے کے بعد ہمارے اداروں نے تحقیقات کیں تو سب کچھ کھل کر سامنے آگیا کہ ان یہ دھمکی آمیز ای میلز کےپیچھے سب کچھ کیا دہرا بھارت کا ہے۔یہ ای میل بھارتی شہر ممبئی سے بھیجی گئیں جس میں وی پی این استعمال کرتے ہوئے سنگا پور کی لوکیشن دکھائی گئی۔ ایک ای میل اٹھارہ ستمبر کو بھی سامنے آئی۔ اس کے بارے میں Interpol Wellingtonنےانٹر پول اسلام آباد کو بتایا کہ ہمیں Hamzaafridi7899@gmail.com کے ای میل اکاﺅنٹ سے ایک ای میل موصول ہوئی ہے۔ جو کہ نیوز ی لینڈ کے وقت کے مطابق 18 ستمبر 6 بج کر 25 منٹ پر کی گئی تھی۔ جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق یہ ای میل 17 ستمبر 11 بج کر 25 منٹ پر بھیجی گئی۔جس میں دھمکی دی گئی کہ۔۔نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم آپ نے پاکستان جا کر غلطی کی اب آپ دیکھیں گے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ہوٹل سے فلائٹ کے راستے میں کہیں پر بھی بم لگایا جائے گا میرے لوگ آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ وہ آرہے ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔ اللہ اکبر۔

    یہ ای میل بھی آئی ڈی بنانے کے پندرہ منٹ بعد بھیجی گئی۔ ای میل بھارت سے کی گئی تھی لیکن وی پی این کا استعمال کرتے ہوئے سنگاپور کی لوکیشن شو کی گئی تھی۔ کیونکہ یہ ڈیوائس جس سے ای میل بھیجی گئی تھی اس ڈیوائس پر 13 اور آئی ڈیز بنے ہوئے ہیں اور وہ تمام آئی ڈیز ہندی ناموں پر ہیں۔ زیادہ تر ای میلز ہندی فلم انڈسٹریز اور ڈراموں کے نام پر بنائی گئی ہیں۔ صرف ایک ای میل پر حمزہ کا نام ڈالا گیا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ یہ ای میل تھریٹ پاکستان سے آیا ہے ۔یہ موبائل ڈیوائس بھارت میں اگست 2019 میں لانچ کی گئی تھی موبائل سم 25 ستمبر 2019 کو انڈیا میں رجسٹرڈ ہوئی اس ای میل کو استعمال کرنے والے شخص کا نام اوم پرکاش مشرا ہے جس کو تعلق ممبئی سے ہے۔ لیکن اس ای میل کے ٹائم پر آپ غور کریں تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ اس ای میل کا دورہ کینسل ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ دورہ کینسل کرنے کے بعد ای میل کی گئی تھی۔ تاکہ اس تمام کام میں پاکستان کو ملوث کیا جا سکے۔اب اس حوالے سے مزید ثبوت حاصل کرنے کے لئے وزارت داخلہ نے ایف آئی آر درج کرکے انٹرپول سے بھی رابطہ کرلیا ہے۔ تاکہ معاملے کو بے نقاب کیا جا سکے۔ کیونکہ نیوزی لینڈ کے بعد ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو بھی اسی طرح کے ایک ای میل اکاونٹ سے ایک ای میل کی گئی ہے۔ جوehshanullahehshan@protonmail.comکے اکاونٹ سے کی گئی ہے اور اس ای میل آئی ڈی میں اگر آپ احسان کے سپیلنگ پر غور کریں تو آپ کو خود پتہ چل جائے گا کہ یہ کسی ہندی بولنے والے کے Spellings تو ہو سکتے ہیں لیکن اردو بولنے والے احسان کے یہ Spellings
    کبھی استعمال نہیں کرتے۔ویسے بھی ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ چند ماہ پہلے جب آزاد کشمیر میں کے پی ایل کھیلی گئی تھی تو بھارت نے کھلی دھمکی دی کہ اس ٹورنا منٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو بھارت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے مقابلوں کو روکنے کے لئے بھارت کس حد تک جا سکتا ہے۔
    لیکن پاکستانیوں کو اس وقت زیادہ افسوس اس لئے ہے کہ جب نیوزی لینڈ پر دہشت گردی کا حملہ ہوا تھا تو اس وقت وہاں موجود ہمارے کرکٹرز اور ہماری قوم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گی تھی لیکن ان کی ٹیم ان جعلی ای میلز کے ڈر سے ہی واپس چلی گئی۔اب بات آتی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ہماری حکومت کے رد عمل کی۔ رمیز راجہ کا اس بارے میں کافی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپنی ٹوئیٹ کے آخر میں انہوں نے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے؟ نیوزی لینڈ ہمیں اب آئی سی سی میں سنے گا۔

    اس کے علاوہ ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ۔۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دوروں کی منسوخی سے پاکستان ٹیلی ویژن کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ دونوں بورڈز کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وکلا سے مشورہ کریں گے۔اب سوال یہ آتا ہے کہ کیا ہمیں آئی سی سی میں جانے سے یا پھر بورڈز کے خلاف قانونی کاروائی سے کوئی فائدہ ہو گا؟؟ سب سے پہلے تو ابھی یہ بھی کلئیر نہیں ہے کہ قانونی کاروائی کرے گا کون؟ حکومت کرے گی، پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا یا پھر پی ٹی وی؟اس کے علاوہ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اگر کوئی کرکٹ بورڈ اپنی حکومت کی ہدایت پر کوئی سیریز کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پھر اس میں آئی سی سی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔اس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کا ہمیشہ ایک ہی جواز پیش کرتا ہے کہ اسے اپنی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کے ساتھICC future tour programکے تحت ہونے والی چھ سیریز نہ ہونے پرجو آئی سی سی میں اپنا کیس کیا ہوا تھا کہ سیریز کینسل ہونے سے جو ہمارا نقصان ہوا ہے چھ کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کیس میں شکست ہو گئی تھی اور ایک بھی پیسہ ملنے کے بجائے ہمیں وکیلوں کی فیس کے طور پر 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے پڑے تھے۔اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ ایسے کسی فراڈ میں آنے سے بچیں اس سے ہمارے سیاستدانوں کو سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں مزید نقصان ہی ہو گا اور ہمارا ٹائم بھی ضائع ہو گا۔ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ابھی صرف ٹیم کی کارکردگی پرتوجہ دیں تاکہ آنے والے ورلڈ کپ میں خود کو ثابت کر سکیں کیونکہ دورہ کینسل ہونے سے جو نقصان ہونا تھا وہ اب ہو چکا ہے۔

  • اسٹیبلمشنٹ کی سازش ،تحریر:  زوہیب خٹک

    اسٹیبلمشنٹ کی سازش ،تحریر: زوہیب خٹک

    ایوب، ضیا اور مشرف، تینوں ڈکٹیٹرز گزرے ہیں اور مجموعی طور پر 30 سال تک برسراقتدار رہے۔ لیکن فوج کا سسٹم ایسا ہے کہ ان کی اولاد میں سے کوئی جنرل تو دور، بریگیڈئیر بھی نہ بن سکا ۔ ضیا کے بیٹے نے کچھ عرصہ سیاست میں حصہ لیا لیکن پھر وہ بھی کھڈے لائین لگ گیا۔

    سابق آئی ایس آئی چیف اور افغان جہاد کے دور کا سب سے طاقتور جنرل اختر عبدالرحمان کے صاحبزادے ہمایوں اختر اور ہارون اختر نے ن لیگ اور ق لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست کی، آج کل یہ دونوں بھائی بھی کھڈے لائین لگے ہیں۔

    راحیل شریف، پرویز کیانی، وحید کاکڑ، جہانگیر کرامت، اسلم بیگ، یحی خان، جنرل موسی ۔ ۔ ۔ ۔ اتنے بڑے بڑے جرنیل لیکن ان کی اولاد فوج کے سسٹم کے آگے بے بس نظر آئی اور اپنے باپ کے نام کا فائدہ نہ اٹھا سکی۔

    کچھ یہی حال عدلیہ کا بھی ہے۔ اعلی عدالتوں کے جج اپنے بچوں کو وکیل بنوا لیں تو بڑی بات ہے، ملکی تاریخ میں شاید ہی کسی چیف جسٹس کا بیٹا چیف جسٹس بن سکا ہو۔ اسی طرح بیوروکریسی میں بھی دیکھ لیں، طاقتور ترین سیکریٹریز کی اولاد بزنس یا پرائیویٹ سیکٹر میں جاب کرتی ہیں، شاذ و نادر ہی اپنے باپ کی طرح اعلی سرکاری عہدے پر آسکے۔

    اس کے برعکس آپ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو دیکھ لیں۔ ایک دفعہ باپ سیاست میں آگیا تو پھر اس کا بھائی، بیٹا، بیٹی، بیوی، بہن، داماد، بہنوئی۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے بعد اگلی نسل تک سیاست پر اپنا حق سمجھتے ہوئے دھڑلے سے اقتدار میں اپنا حصہ مانگتی ہے۔

    بھٹو اور شریف خاندان کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ نوازشریف کے اس وقت کم از کم 22 رشتے دار پنجاب اور مرکز میں وزارتوں یا اعلی سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔

    فضل الرحمان کا بھائی،بیٹا،بہن، وغیرہ بھی سیاست میں آچکے ہیں۔

    چوہدری برادران، لغاری، مزاری، چٹھے، قریشی، پگاڑا، جتوئی، اچکزئی، اسفندیارولی، الغرض ملک کے چاروں صوبوں کے بڑے بڑے سیاستدانوں کو دیکھ لیں، اپنے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے افراد کو بھی سیاست میں اور اقتدار میں شریک رکھتے ہیں۔
    پرویز خٹک بھی اپنی بیٹیوں اور داماد کو سیاست میں لا کر اعلی عہدے دلوا چکا۔
    ان سیاستدانوں کی اہلیت کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ یہ اپنے علاقے کے بڑے زمیندار اور جاگیردار ہیں، بدمعاش اور قاتل ہیں، رسہ گیر اور اٹھائی گیرے ہیں، دھوکے باز اور قبضہ گروپ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے علاوہ ان کی کوالیفیکیشن کیا ہے؟ کس بنیاد پر یہ اپنے بھائیوں اور بچوں کو اپنے ساتھ سیاست میں لے آتے ہیں اور یوں ملک ان تین درجن خاندانوں کے زیر کنٹرول آجاتا ہے۔

    عوام تو جاہل ہیں، جن کی سوچنے سمجھنے کی حس ہی ختم ہوچکی، کبھی پڑھی لکھی بیوروکریسی یا ملٹری کے آفیسرز سے پوچھ کر دیکھیں کہ ان کے دل پر کیا بیتتی ہوگی جب انہیں کسی بدمعاش سیاستدان اور اس کی اولاد کو اس وجہ سے سلام کرنا پڑتا ہے کہ وہ بزورطاقت اپنے حلقے سے ووٹ لے کر رکن اسمبلی منتخب ہوگیا اور پھر وزیر شذیر بھی منتخب ہوگیا۔

    اسٹیبلشمنٹ کا نام لے کر آپ اپنا رونا جتنا مرضی رو لیں لیکن کم از کم آرمی، عدلیہ اور سول بیوروکریسی میں اقربا پروری تو نہیں، جرنیل کا بیٹا جرنیل نہیں بنتا، جج کا بیٹا جج نہیں لگتا اور محکمہ سیکرٹری کا بیٹا ڈی جی نہیں لگتا۔

    یہ کارنامے صرف ہماری ‘ جمہوریت ‘ میں ہی ممکن ہیں اور ایسا کرنے والے سیاستدان جب اپنے آپ کو جمہوریت پسند کہہ کر سارا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں

    اور
    ذمہ دار فوج ہے !!!❗

    ذوالفقار بھٹو کو ایوب خان نے وزیرخارجہ بنایا۔لیکن ایوب خان کے بعد اسی بھٹو کو عوام نے 2 بار پاکستان کا سربراہ مملکت بنایا۔ اسکی بیٹی اور داماد کو تین بار پاکستان کی سربراہی سونپی۔ جس کے بدلے میں انہوں نے نہ صرف پاکستان کو دولخت کر دیا بلکہ پاکستان پر بیرونی قرضے چڑھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کا وہ بیڑا غرق کیا کہ دوبارہ نہیں اٹھ سکی۔

    اسکی ذمہ دار پاک فوج ہے؟

    نواز شریف کو جنرل ضیاءالحق نے صوبائی وزیرخزانہ بنایا۔ لیکن عوام نے اس کو تین بارپاکستان کا وزیراعظم بنایا اور 6 بار پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا سربراہ۔ اسکا نتیجہ پاکستان پر ریکارڈ ساز قرضوں، قومی اداروں کی مکمل تباہی، اونے پونے فروخت اور کشمیر سمیت خارجہ محاذ پر تباہ کن پالیسی کی صورت میں نکلا۔۔

    اسکی ذمہ داری پاک فوج پر ہے؟

    پاکستان میں 8 لاکھ پولیس، کم از کم 2 لاکھ ججز، وکیل اور ان کے معاؤنین ہیں۔ اربوں روپے کا بجٹ رکھنے والی والی ایف آئی اے اور نیب نامی ادارے ان کے علاوہ ہیں۔ لیکن کرپشن کرنے والوں کو سزائیں نہ ملنے کی ذمہ دار پاک فوج ہے؟کل 50 ارب ڈالرز کے قومی بجٹ میں سے 7 ارب ڈالرز پاک فوج کو ملتے ہیں باقی 43 ارب ڈالر کا بجٹ پارلیمنٹ کے پاس جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کی معاشی بدحالی کی ذمہ دار پاک فوج ہے؟

    پاک فوج نے دہشت گردی کی سہولت کار پکڑ کرشہادتوں کے ساتھ عدالتوں کے حوالے کیے۔ جہاں سے ان کو رہائیاں مل گئیں اور باہر آتے ہیں عوام نے ان کو سونے کے تاج پہنا دئیے۔ اور جمھوریت نے انھیں سچے ایمان دار سیاست دان ہونے کے سرٹیفکیٹ دیے۔

    لیکن ذمہ دار پاک فوج ہے ؟

    پاکستان کی کل آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے جن میں سے 6 لاکھ فوج ہے۔ پاک فوج بیک وقت دہشگردوں اورغیر ملکی ایجنسیوں کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی پراکسی جنگ کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ۔ پاکستان میں تمام قدرتی آفات کے موقعے پرسارے چھوٹے بڑے ریلیف آپریشنز کر رہی ہے۔سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے دن رات مصروف ہے۔ چین، روس اور اب خلیج ( اسلامی اتحاد ) کے محاذ پر انڈیا اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مقابلہ کر رہی ہے۔ کلبھوشن جیسے کتنے انڈین ایجنٹ بے نکاب کیے جس پر ان کے سہولت کارجمھوروں کو سانپ سونگھ گیا۔دہشت گردی سے متاثرہ لاکھوں آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ سول عدالتوں سے ملنے والے دہشت گردی کے کیسز سن رہی ہے۔ پولیو کے قطرے پلا رہی ہے۔ مردم شماری کر رہی ہے۔ ہتہ کہ چھوٹو گینگ کو پکڑنے کے لیے بھی فوج کو بلایا جائے۔

    پاک فوج اس وقت دنیا مین سب سے زیادہ جانیں دینے والی فوج بن چکی ہے جس میں آفسیرز کی شہادتوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جو پاک فوج کی شہادت سے خالی گیا ہو۔

    لیکن پاکستان میں ہر خرابی کی ذمہ دار پاک فوج ہے۔ یہ باقی 19 کروڑ 93 لاکھ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ان سب پرکوئی فرض اور ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ؟

    خدارا فوج کو بدنام کرنے والے مکروہ لوگوں کا ساتھ نہ دیں اور اپنا فرض ادا کریں ۔ الیکشن میں اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں ۔ نہ کہ ان کرپٹ اور بے ضمیر، چوروں ڈاکوؤں کو لا کر اپنا مستقبل ان ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں دیں ۔

    تحریر زوہیب خٹک

    Twitter @zohaibofficialk

  • ففتھ کالمسٹ اور پاکستان از قلم محمد عبداللہ

    ففتھ کالمسٹ اور پاکستان از قلم محمد عبداللہ

    "ففتھ کالمسٹ اور پاکستان”
    قوموں کی زندگی میں نظریے، اعصاب، یقین اور وفاداری کی جنگ سب سے مشکل ترین ہوتی ہے. آفات و مصیبت اور ہنگامی حالات کے وقت بےیقینی ہی سب سے بڑا دشمن ثابت ہوتی ہے. ایسے موقع پر اعصاب کو مضبوط رکھنا، نظریے پر مستحکم رہنا اور ملک و ملت سے وفادار رہنا ہی سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے. ایسے کٹھن حالات میں لائق تحسین ہوتے ہیں وہ افراد اپنی قوم کے یقین کو ڈگمگانے نہیں دیتے.
    لیکن ننگ دیں ننگ وطن ایسے بھی ہوتے ہیں جو دشمن کی افواج کے ہتھیار پکڑے سپاہی نہیں ہوتے لیکن وہ ویسے ہی آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں جیسے دشمن افواج ہوتی ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے دشمن بیرونی ہوتا اور آپ کے جغرافیے اور طاقت کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ یہ لوگ اندرونی ہوتے ہیں اور نظریے اور یقین کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں.
    ایسا نہیں ہوتا کہ یہ لوگ دشمن کے تربیت یافتہ جاسوس ہوتے ہیں اور خاص مواقع یا حالات میں ان کو آپ کے اندر چھوڑا جاتا ہے بلکہ یہ انہی معاشروں میں موجود ہوتے ہیں. ان کا تعلق میڈیا اور صحافی برادری سے بھی ہوسکتا ہے، سیاسی جبوں اور دستاروں کے پیچھے بھی اصلیت چھپائے ہوسکتے ہیں، اعلیٰ عہدے پر فائز افسر یا بیوروکریٹ بھی ہوسکتے ہیں، منبر و محراب کی آڑ میں بیٹھے علماء اور مولانا حضرات بھی ہوسکتے ہیں اور قوم کو سبق دیتے استاد و دانشور بھی ہوسکتے ہیں.
    دنیا ان کو ففتھ کالمسٹ کے نام سے جانتی ہے. یہ دشمن کی فوج کا باقاعدہ دستہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ اسی فوج کا پانچواں کالم ہوتے ہیں جو اپنے ہی معاشروں میں رہتے ہوئے ننگ دیں اور ننگ وطن کا کردار ادا کرتے ہیں. یہ انفرادی یا گروہی حیثیت میں افراد کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جو اپنے ہی ملک و معاشرے کی نظریاتی جڑیں کھودنے پر جتا ہوتا ہے. کٹھن اور مشکل حالات میں قوم کو اعصابی طور پر کمزور کرنے اور دشمن کی بالادستی تسلیم کروانے میں اہم کردار انہی کا ہوتا ہے.
    پاکستان کے قیام سے لے کر تاحال جب بھی قوم و ملت میں کوئی کٹھن وقت آیا آپ کو یہ طبقہ نظر آیا ہوگا جو بجائے قوم کو متحد کرکے ان سازگار حالات کو بہتر بنانے کی طرف کوشش کرے بلکہ عین ہنگامی اور جنگی حالات میں یہ طبقہ قوم کے اعتماد و یقین کو ڈگمگاتا نظر آئے گا. دشمن کے "پےرول” پر موجود طبقہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ یہ آپ کے اندر موجود ہوتا ہے اور اندر سے وار کرتا ہے جو خاصا مہلک ثابت ہوتا ہے.
    ایسے لوگوں کو پہچاننا قطعاً بھی مشکل نہیں ہے. مثال کے طور پر نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے عین وقت پر دورے سے انکار اور بعد ازاں انگلینڈ کے بھی انکار پر آپ دیکھیں کونسا طبقہ تھا جو بغلیں بجا رہا تھا، وہ کون لوگ تھے جو اس مشکل ترین وقت میں قوم کو مزید مایوس کر رہے تھے، وہ کون تھے جو ریاست پر عوام کے یقین و اعتماد کو کرچی کرچی کر رہے تھے جی یہی لوگ ففتھ کالمسٹ تھے ان کو پہچانیے اور ان کو اپنی صفوں سے نکالیے.
    Muhammad Abdullah

  • سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان

    سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان

    آج عالم اسلام کے مرکزمملکت سعودی عرب کا قومی دن جوش وخروش سے منایا جارہا ہے۔سعودی عرب سمیت دنیا بھر کہ سفارتخانوں میں تقریبات کا اہتمام ہورہا ہے۔سعودی عرب کے قومی دن پر ہر مسلمان کے جذبات مختلف ہیں۔سعودیہ عرب سے پاکستان کا دینی اعتبار سے بھی اہم رشتہ ہے کعبۃ اللہ اور گنبد خضریٰ کی وجہ سے.پاک سعودی تعلقات پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے قبل کے ہیں.1946ء میں قائد اعظم نے ایم ایچ اصفہانی کی معیت میں مسلم لیگ کا ایک نمائندہ اقوام متحدہ بھیج دیا اس وفد کے ذمے یہ کام سونپا گیا تھا کہ تحریک پاکستان کے لئے عالمی راہنماؤں کی تائید حاصل کی جائے۔ اقوام متحدہ کا اجلاس شروع ہو چکا تھا تب چونکہ پاکستان معرض وجود میں نہیں آیا تھا اس لئے مسلم لیگ کے وفد کو اجلاس میں داخل ہونے سے روک دیا۔اس وقت سعودی وفد کی قیادت شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز (جو بعد ازاں مملکت کے بادشاہ بنے)کر رہے تھے۔ جب معلوم ہوا تو بنفس نفیس خود باہر نکل کر انھوں نے مسلم لیگ کے وفد سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ اپنے ہوٹل میں ایک ظہرانہ رکھا اور عالمی راہنماؤں کو وہاں مدعو کیا اور ان سے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا وفد آپ کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتا ہے چنانچہ نیویارک کے ہوٹل میں وفد نے اپنا موقف عالمی راہنماؤں کے سامنے پیش کیا۔پاکستان معرض وجود میں آیا تو مرحوم شاہ عبدالعزیز آل سعود پہلے راہنما تھے جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ٹیلیفون کرکے مبارک باد پیش کی تھی.اس کے بعد پاکستان اور سعودی عرب میں دوستی کا پہلا معاہدہ شاہ ابن سعود کے زمانے میں 1951ء میں ہوا تھا۔ شاہ فیصل کے دور میں ان تعلقات کو بہت فروغ ملا۔ سعودی عرب ان چند ممالک میں ہے جنہوں نے سرکاری سطح پر مسئلہ کشمیر میں پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ ستمبر1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔ اپریل 1966ء میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ 1967ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان میں فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ اپریل 1968ء میں سعودی عرب سے تمام برطانوی ہوا بازوں اور فنی ماہرین کو رخصت کر دیا گیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب مین مالی امداد فراہم کی اور دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔ پاکستان کے عوام ان کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک بہت بڑی آبادی شاہ فیصل کالونی کہلاتی ہے اور اسی کی نسبت سے کراچی کے ایک ٹاؤن کا نام شاہ فیصل ٹاؤن ہے۔جبکہ سعودی دارالحکومت ریاض اور جدہ شہر میں ”شارع محمد علی جناح ” کے نام سے سڑکیں موسوم ہیں۔ایک وقت وہ بھی پاکستان پر آیا جب ہمارے ہمسائے ملک بھارت نے دھماکے کرکے ہمیں خبردار کردیا.پورے عالم اسلام میں کسی کے پاس ایٹمی قوت نہیں تھے.پاکستان نے بسم اللہ پڑھ کر اس منصوبے پر کام شروع کردیا.عالمی طاقتوں نے پاکستان کے قرضے بند کردیے پاکستان کی امداد روک دی کوئی پاکستان کو ایک بیرل تیل دینے کو تیار نا تھا.اس موقع پر مخلص دوست سعودی عرب نے پچاس ہزار بیرل تیل فی دن کے حساب سے تین ماہ مفت تیل دیا جس سے پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکا.جب پاکستان ایٹمی قوت بن گیا اور 1998 ء مئی میں چھ دھماکے کرکے بھارت کو اس کی جارحیت کا جواب دیا دوسری طرف سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل اللہ کے حضور سجدے میں جھک گئے اور سعودیہ میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں کیونکہ پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن چکا تھا.
    کوئی بھی ایسا مشکل وقت پاکستان پر آیا ہو سعودی حکومت نے پاکستان کا ساتھ دیا.جب حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے دوران جنگ ہوئی توسعودیہ عرب نے پاکستان سے مدد طلب کی.پاکستان نے اس وقت کے حکمران میاں محمد نواز شریف کو اپنے حامیوں سمیت دیگر اراکین اسمبلی کی مخالفت بھی تھی اس کے باوجود انہوں نے سعودیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی حامی بھرلی اور یہاں سے فوج روانہ کی.سعودیہ عرب نے پاکستان کے ساتھ ملکر فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا جس میں 39 ملک کی افواج کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس فوجی اتحاد کی سربراہی جنرل راحیل شریف کو سونپی گئی جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے.
    پاکستان اور سعودیہ کی دوستی کے بارے میں اگر لکھا جائے تو کتاب چھپ سکتی ہے اتنے الفاظ ہیں تو چلتے ہیں پاکستان کی برسراقتدار حکومت کے سعودیہ عرب سے تعلقات کی طرف جب عمران خان صاحب وزیر اعظم بنے انہوں نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے سعودیک عرب کا دورہ کیا اور اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں دورے کیے جن میں سعودی عرب کے حاکم کو پاکستان دورے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کی اور پاکستان تشریف لائے اس دوران کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔اس حالیہ کورونا وباء نے پوری دنیا میں اپنا جال بچھایا اسی طرح سعودی عرب کو بھی بری طرح اس نے متاثر کیا۔سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے لاکھوں زائرین حرمین شریفین اور مدینۃ النبی ﷺ کی زیارت سے محروم رہے۔اس وباء کے دوران سعودی حکومت نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔بالخصوص حج جیسے فریضے کو رکنے نہیں دیا جو کہ میں سمجھتا ہوں سعودی حکومت کا قابل تحسین اقدام ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کا قلب وجان کا تعلق خدا تعالی ہمیشہ قائم رکھے اور سرزمین حرمین کو دشمن کی نظر سے محفوظ رکھے۔آمین

  • نیوزی لینڈ کھلاڑیوں کو دھمکیاں، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

    نیوزی لینڈ کھلاڑیوں کو دھمکیاں، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) نے بھارت کی جانب سے نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مقدمہ سائبر ٹیرارزم سیکشن 109اور 506 کے دفعات کے تحت درج کیا گیا ہےمقدمہ کے مطابق ملزمان کی جانب سے ای میل کے ذریعے حملہ کرنے کی اطلاع دی گئی،ہوٹل اور جہاز میں بم رکھنے کی دھمکی دی گئی۔ای میل کا آئی پی ایڈریس پہلے سنگا پور پھر بھارت سے لنک تھا۔ملزمان نے وی پی این کے ذریعے ای میل کی ۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کا واجب الادا قرض اتارنے میں کوتاہی برتی ہے…

    مقدمہ ایف آئی اے انسپکٹر وسیم خان کے بیان پر درج کیا گیا ہے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے مطابق مقدمہ انٹرپول کی جانب سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں انکوائری کے بعد درج کیا گیا۔

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے دورہ پاکستان میں پہلے ون ڈے سے کچھ دیر قبل ہوٹل سے گراؤنڈ جانے سے انکار کردیا تھا اور سکیورٹی کا بہانہ بنا کر یکطرفہ طور پر سیریز منسوخ کر دی گئی، گزشتہ روز بھی انگلینڈ نے بھی نیوزی لینڈ کی طرح پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ نہیں ہوا برطانوی…

    اس سے قبل کیویز کی طرف سے یکطرفہ کرکٹ دورہ منسوخ کرنے کے بعد پاکستان نے نیوزی لینڈ سے باضابطہ احتجاج کیا تھا پاکستانی ہائی کمشنر مراد اشرف جنجوعہ نے نیوزی لینڈ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران ہائی کمشنر نے احتجاجی مراسلہ نیوزی لینڈ حکومت کے سپرد کیا تھا۔

    پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان ملتوی کرنا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، جس انداز میں دورہ ملتوی ہوا وہ غلط ہے، دورہ ملتوی کرنے سے متعلق کوئی تفصیلات شیئر نہیں کی گئیں، پاکستان کی پوزیشن بالکل واضح ہے۔

    پاکستان نے نیوزی لینڈ سے کرکٹ ٹیم کی واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھا دیا

  • انگور جس کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے

    انگور جس کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے

    جاپان میں پیدا ہونے والے قیمتی انگور کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے سے زائد ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان میں ایک ایسا انگور بھی پیدا ہوتا ہے جو انتہائی نایاب ہے اس انگور کو مارکیٹ میں روبی رومن کے نام سے جانا جاتا ہے-


    انگور کی اس قسم کو رنگوں کے حساب سے تین درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کے ایک گچھے کو اس بار 76 ہزار 174 روپے میں فروخت کیا گیا اور امریکی کرنسی میں یہ رقم 450 ڈالرز بنتی ہے۔

    ریلوے سٹیشنوں پر لگائے گئے سیکیورٹی سکینرز کاعرصہ دراز سے خراب ہونے کاانکشاف

    اس انگور کے سائز، ذائقے اور رنگت کی وجہ سے اس کو نایاب سمجھا جاتا ہے جس کی قیمت عام انگور سے کہیں زیادہ ہے اس انگور کو فروخت سے پہلے انسپیکشن کے لیے لے جایا جاتا ہے جہاں پر فوڈ ماہرین رنگت، ذائقہ اور دیگر چیزوں کو چیک کرنے کے بعد اس کو فروخت کرنے کی منظوری دیتے ہیں۔

    پاکستان کے خلاف وار فیئر قائم کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ،شیخ رشید نے کیا بے نقاب

    جاپان کی یونیورسٹی پرفیکٹورال کے محقق ہیروشی نے بتایا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا حصے میں انگور کی یہ قسم نہیں پیدا ہوتی اور اسی وجہ سے اس کو انفرادی حیثیت حاصل ہے۔

    حراست میں لیےگئےسینئر صحافی وارث رضا:خود ہی گھرپہنچ گئے

    ریلوے سٹیشنوں پر لگائے گئے سیکیورٹی سکینرز کاعرصہ دراز سے خراب ہونے کاانکشاف

  • اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اچھا کھانا شوہر کے معدے سے ہوکر دل پر اثر کرتا ہے ،تحریر: فرزانہ شریف

    اگر لڑکیاں چاہتی ہیں سسرال میں بھی والدین کے گھر جیسی لاڈبھری اور شاہانہ ٹائپ ذندگی ملے انجوائے کرنے لے لیے تو وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کرنے میں بھی دلچسپی لینی شروع کردے جو لڑکیاں صرف پڑھائی میں ہی مگن رہتی ہیں اور کم عمری میں شادی ہوجاتی ہے پھر اگلے گھر وہ بہت خوار ہوتی ہیں اگر تو خوش قسمتی سے سسرال اچھا مل جائے تو پھر اس کی اس خامی کو بھی خوبی میں بدل دیا جاتا ہے اور اگر سسرال اتنا اچھا نہ مل سکے تو اس کی تعلیم بھی اس کے لیے طعنہ بن جاتی ہے انپڑھ جھٹانیاں بات بات پر طعنے دیتی ہیں کہ ہاں جی یہ پڑھی لکھی ہے لیکن ہے بےچجعی (پھوہڑ)تو لڑکی کی ساری خوداعتمادی ہوا ہوجاتی ہے اور وہ دل میں سوچتی ہے کاش میں سکول کالج نہ گی ہوتی ۔بلکہ گھر کے کام سیکھے ہوتے اور چلاکیاں سیکھی ہوتیں ۔کہ سامنے والا جھگڑ رہا ہوتا ہے اور ایک پڑھتی پڑھتی شادی کے بندھن میں بندھ جانے والی معصوم سی لڑکی کو پتہ ہی نہیں چلتا اسے آگے سے کیا جواب دینا ہے کیونکہ مائیں آپکی ہر قسم کی اچھی تربیت کرتی ہیں لڑنا جھگڑنا نہیں سکھاتی ۔۔اس لیے میری لڑکیوں سے ریکویسٹ ہے کہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی سیکھیں ۔ خاص طور پر کھانا بنانے کی پریکٹس شروع کردیں تو اگلے گھر جاکر آپ سسرال والوں کے دلوں پر راج کرو گی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا دماغ اتنا میچور تو ہوجاتا ہے جہاں وہ فیشن کرنا سیکھ رہا ہوتا ہے وہی عقل اور چالاکیاں بھی انسان وقت کے ساتھ سیکھتا جاتا ہے کوشش کریں اپنی چالاکیاں مثبت کاموں میں صرف کریں۔
    آپ کتنے بھی چالاک ۔خوب صورت ۔خوب سیرت ہوں تعلیم یافتہ ہوں (میں لڑکیوں کی بات کررہی ہوں ) لیکن آپ کو اگر اچھا کھانا بنانا نہیں آتا تو آپکی ساری قابلیت کاغذ کےخوبصورت پھول سے ذیادہ نہیں ہوگی جو بظاہر تو خوبصورت لیکن اس میں وہ خوشبو تازگی نہیں ہوگی جو اصلی پھول میں ہوتی ہے
    ۔۔
    کھانے بنانے کے لیے آپکو کسی ورد کسی وظیفہ کی ضرورت نہیں بس کوشش کرنے کی ضرورت ہے جیسے ہمارے والدین ہماری شادی سے پہلے دیکھتے ہیں لڑکا کیا کام کرتا ہے کیسا اس کا رہیں سہن ہے کتنا کماتا ہے اسی طرح لڑکے والوں کا بھی حق بنتا ہے کہ لڑکی ایسی ملے جو اچھا کھانا بنا سکتی ہو گھر کو صاف ستھرا رکھ سکتی ہو اس کے ساتھ ساتھ گھر کا ماحول کیسے خوشگوار بنانا ہے اس بات کا اسے ادراک ہونا چاہئیے۔کہتے ہیں اپنے شوہر کے دل پر قبضہ کرنا ہوتو اس کا راستہ معدے سے ہوکر دل کی طرف جاتا ہے۔۔!!

    میں ہمیشہ اپنی ماں سے سنتی آئی ہوں کہ جس خاتون کے ہاتھ میں اللہ کا دیا خاص تحفہ ذائقہ ہوتا وہ اپنے شوہر کے دل پر راج تو کرتی ہی ہے اپنے سسرال والوں کے دلوں پر بھی راج کرتی ہے۔ہمیشہ اپنے ہاتھ صاف ستھرے اور بال لپیٹ کر کچن میں جائیں اور جب بھی کھانا بنانے لگیں” بسمہ اللہ "پڑھ کر شروع کریں اپنا دماغ حاضر رکھ کر اور ساتھ اللہ کا شکر ادا بھی کریں جس نے آپکو ان نعمتوں سے نوازا ۔جو خواتین کچن کا کام خود کرتی ہیں میں نے ان کی فیملی کو صحت مند اور ہشاش بشاش دیکھا کیونکہ جب آپ صاف ستھرے ہاتھوں سے کھانا بنائیں گی صاف ہاتھوں سےگوشت دھو کر بنائیں گی ۔صاف ہاتھوں سے گندھا آٹا اس سے پکی روٹی۔۔ آپ کے صاف ہاتھوں سے کاٹی گی سبزی پیاز۔آپ کی محنت سے پکا ہر قسم کا کھانا گوشت سبزی ۔جب ان کے معدوں میں جائے گا تو ان کے دل میں آپکی محبت عزت بڑھے گی آپکے خلوص عقیدت کی تپش ان کے دلوں میں اثر کرے گی کہ کتنی عقیدت محبت سے آپ اپنی فیملی کے لیےکھانا بناتی ہیں ۔گھر میں چاہے آپ نے ملازم ہی کیوں نہ رکھے ہوں (یورپ ممالک میں تو گھریلو ملازم کا تصور ہی نہیں پاکستان کی بات کررہی ہوں )تب بھی کچن کا کام کسی صورت ملازموں پر نہ چھوڑیں اپنی فیملی کے لیے خود وقت نکالیں چاہے آپ جاب ہی کیوں نہ کررہی ہوں ۔۔

    اگر آپ کچن میں چائے بنانے جاتی ہیں چائے کپ میں ڈال کر گیلی گیلی گرم گرم دیگچی اسی وقت واش کردیں بعد میں آپکو محنت سے صاف کرنے کی ضرورت نہیں پیش آئےگی اسی طرح کچن میں کھانا بناتے ہوئے ہر چیز ساتھ ساتھ سمیٹنے کی عادت ڈالیں آج کا کام کل پر نہ ڈالیں جیسے جیسے کھانا بنانے کے دوران برتن بنتے جاتے ہیں ساتھ ساتھ دھوتی جائیں ،(ہم نے تو کچن پیپر رکھا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں سب لوگ افورڈ نہیں کرسکتے آپ گھر میں یوز ہوئی پرانی چادریں واش کرکے ان کے چھوٹے چھوٹے پیسیز کی شکل دے کر ایک بڑے شاپر میں ڈال کر کچن کے کسی دراز میں رکھ لیں )جب آپ کھانا بنارہی ہوتی ہیں تو ایک ڈسٹر یا سپونی۔یا پھر کوئی پرانے کپڑے کا پیس پاس ہی رکھیں جس سے کھانا بناتے وقت دیوار پر پڑنے والی چھینٹیں اسی وقت صاف کرتی جائیں ساتھ ساتھ چولہا بھی صاف کرتی رہیں کیونکہ اسی وقت گیلی اور گرم ہونے کی وجہ سے صاف کرنا آسان ہوتا ہے بعد میں آئل اور مصالحہ جات جم جانے کی وجہ سے اکثر داغ رہ جاتے ہیں،جو بعدمیں بہت محنت طلب اور وقت مانگتے ہیں ۔اسی لیے تو کہتے ہیں "وقت پر لگایا گیا ٹانکہ آپکو نو ٹانکوں سے بچاتا ہے ”
    کھانا بنانے کے بعد اچھی طرح سینک صاف کردیں شیلف وغیرہ بھی ساتھ ساتھ ہی صاف کرتی جائیں اور کچن کا فرش دھو کر ایگزاسٹ فین چلا دیں ۔کھانے کی مہک اور دھواں وغیرہ باہر نکل جائے گا پھر اپنی فیملی کو بہت محبت پیار سے اپنے ہاتھوں کا مزیدار کھانا پیش کریں اور ڈھیروں محبتیں پیار سمیٹیں ۔اپنی فیملی کا پیار محبت کسی بھی خاتون خانہ کے لیے بیش قیمت تحفہ ہوتا ہے
    اللہ تعالی آپ سب کے گھروں کو آباد رکھے شاد رکھے آپکو اپنی فیملی کے دل کی شہزادی اور آنکھوں کا تارا بنائے رکھے آمین

  • پاکستان اور اقوام عالم .تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    پاکستان اور اقوام عالم .تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    آجکل دو اصطلاحات بہت زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔
    1۔ پہلی Full spectrum deterrence
    2۔ دوسری Minimum level deterrence

    یہلے ہم Deterrence کو سمجھ لیں تو یہ دونوں اصطلاحات سمجھ آ جائیں گی۔ کسی کو خوف میں ڈال کر اس کو اس کے مقاصد سے باز رکھنے کے عمل کو Deterrence کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ ایسے ہے کہ آپ اپنے ہتھیاروں کے بل پر خوف پیدا کرکے دشمن کو کسی جارحیت سے روکنے کو Deterrence کہیں گے۔
    ١٩٩٨ء سے پاکستان ایٹمی قوت کے طور دنیا کے نقشہ پر ابھرا۔ اگر آپ ٢٨ مئی ١٩٩٨ء سے فورا” پہلے کے زمانے میں بھارتی مشیروں، وزیروں اور میڈیا کی ہرزہ سرائیاں ملاحظہ فرمائیں تو قارئین بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ علاقہ میں اپنی برتری کے زعم میں مبتلاء ہو چکا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کھلم کھلا جارحیت کے پیغامات دے رہا تھا۔دوسری جانب کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں بھارتی کاروائیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ دنیا ابھی ورطہُ حیرت میں تھی کہ تمام عالمی قوتوں نے پاکستان پر دباؤ پڑھا دیا کہ ایٹمی دھماکے سے باز رہے۔
    ان حالات میں امریکہ تو بہت سی مراعات اور تب کے وزیراعظم (جن کیلئے ایک امریکی جریدہ میں خبر چھپی تھی کہ یہ سب کچھ بیچ سکتا ہے دولت کی خاطر) سے فون پر رابطے اور سفراء کے ذریعہ مختلف حیلہ و بہانوں سے دباؤ بڑھایا گیا۔
    اس وقت ایک پروگرام میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بیان کے مطابق، تمام سیاسی، دانشوروں اور فوجی قیادت اس پر متفق تھی کہ فورا” دھماکے کرکے اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور انہی دھماکوں سے بھارتی جارحیت کو رد کیا جا سکتا ہے۔ اس پر بہت بار مشاورت بھی کی گئی لیکن وزیراعظم مُصر رہے کہ انتظار کیا جائے۔ یہ گرچہ الگ پورا باب ہے لیکن یہاں اختصار سے تذکرہ کر دیا تاکہ ذہنوں میں یادیں تازہ ہو جائیں۔ خیر کہ پاکستان نے بھی دھماکے ٢٨ مئی ١٩٩٨ء کو کرکے ایٹمی قوت کے طور پر اپنا لوہا منوایا۔ یہ ایٹمی ہتھیار پاکستان کی سالمیت کی ضمانت قرار پائے۔ ان دھماکوں کے ساتھ ہی اچانک تمام رویے جو بھارتی قیادت کی طرف سے دھمکیوں اور میڈیا کے نفرت انگیز رویوں سے سامنے آ رہے تھے، پیشاب کی جھاگ ثابت ہوئے۔ ہر طرف بشمول سوشل میڈیا، سب کو سانپ سونگھ گیا۔ پاکستان نے اپنی اس طاقت کو ظاہر کیا تھا جو ایک عرصہ سے تیار تو کر چکا تھا لیکن اپنے ہتھیاروں کو مناسب موقع کیلئے ذخیرہ کر رکھا تھا۔
    ان ہتھیاروں اور قوت کا مظاہرہ کر کے پاکستان دنیا میں تو الگ مقام حاصل کر چکا ہی تھا لیکن اسلامی دنیا کیلئے پہلا مسلم ملک تھا جو اب تک واحد ہے ایٹمی قوت کے ساتھ، لہذا مسلم امہ کیلئے خاص طور پر قائدانہ مقام حاصل کر لیا۔

    پالیسی:
    یہاں پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کی پرامن پالیسی جاری رہے گی اور پاکستان ایک ذمہ دار قوم ہے جو اپنے اثاثوں کی ناصرف حفاظت کر سکتا ہے بلکہ اس قوت کو غیر ذمہ دارانہ طور پر استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس پالیسی کو عام زبان میں Minimum level Deterrence کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا اعلان کرکے پاکستان نے بہت محتاط اور بینظیر کمانڈ سٹرکچر بنایا اور اپنے اہم اثاثوں کی محافظت اور اس کے استعمال کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے۔ کچھ ہی عرصہ میں دنیا کو مطمئن کر دیا کہ پاکستان انتہائی ذمہ دار ملک ہے اور اس ملک کی قیادت کسی طور پر اپنی سالمیت پر سودا بازی کو قبول نہ کریگی۔
    بعد ازاں پاکستان بھارتی جارحیت کا منہ توڑنے کے بعد اپنی معیشت کی طرف متوجہ ہوا۔ ہر پاکستانی نے اس ضمن میں محنت کی اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے لگا۔ لیکن حکمرانوں نے قرضہ کی لعنت بھری دلدل میں پاکستان کو ڈبو کر تمام معیشت کو عالمی معاشی اداروں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ عام عوام کو قرضوں سے خریدی ہوئی سستی روٹی دیکر خوش رکھا جبکہ دوسری طرف اپنے بینک بیلنس اور جائدادیں دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلاتے رہے۔ وہ تمام یورپی ممالک جو کالے دھن کو لعنت کہتے نہ تھکتے تھے، جانتے بوجھتے اپنی آنکھیں بند رکھے ہوئے تھے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا جا سکے۔
    ١٩٩٨ء کے بعد اچانک آہستہ آہستہ پاک فوج کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی گئی لیکن وہ اقتدار کی بساط لپیٹتے ہی ختم ہو گئی۔ مشرف دور میں ایسی تمام مہمات کسی مقام پر نظر نہ آتی تھیں۔

    مشرف دور کی واحد غلطی ق لیگ کیساتھ ملکر آمر سے سیاستدان بننے کی خواہش نے جنرل مشرف کو دوراہے پر لاکھڑا کیا اور این آر او کا فیصلہ ان کے اقتدار کے تابوت میں واحد کیل ثابت ہوا۔
    پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے مشرف دور کے اکٹھے ہوئے خزانوں کو جن کی مالیت تقریبا” ٦٥ ارب ڈالر سے زائد ذخیرہ کہا جاتا ہے، اپنے مفادات میں استعمال کیا۔ ١٠ سال کی قلیل مدت میں پاکستان کو عملا” معاشی طور پر ایک بار پھر عالمی اداروں کے مرہون منت بنا دیا گیا۔
    امریکی جارحیت افغانستان کے خلاف جاری رہی اور ساتھ ہی امریکہ پاکستان کو بلیک میل کرتا رہا، جبکہ امریکہ نے بھارت سے ہر سطح پر تعلقات کو استوار کیا اور معاشی و دفاعی معاہدے کئے لیکن ایسے نازک وقت میں اپنے پرانے دوست پاکستان کو یکسر نظرانداز ہی نہ کیا بلکہ بعض مقامات پر بھارت کی حمایت کرکے پاکستان کو زدوکوب کرنے کی بہیمانہ کوششیں ہوئیں۔
    پھر زمین و آسمان نے دیکھا کہ بھارت نے اپنے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر پاکستان کو اندرونی و بیرونی خلفشار میں مبتلا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن پاکستان کے اداروں نے اپنی بہترین کاوشوں کے ذریعہ ایسی ہر کوشش کو بالآخر ناکام بنا دیا۔ اس تمام جنگی صورتحال میں پاکستان کو بہت خون کی قربانی پیش کرنا پڑی۔ لیکن آخر میں آزادی کا چراغ مزید تیز لو کیساتھ جلتا دکھائی دے رہا ہے۔
    اس وقت تک پاکستان نے پرامن ملک اور تمام عالمی قوتوں کیساتھ دوستانہ رویہ رکھا۔ محتاط پالیسی کو جاری رکھا گیا اور بعض اوقات ثبوت ملنے کے باوجود بھارت پر الزام تراشی سے اجتناب برتا تاکہ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو معمول پر رکھنے کی بھرپور کوشش جاری رہے۔ لیکن بنیا کب انسانیت دکھا سکتا ہے؟ ایسی ہر کوشش کو پاکستان کی کمزوری سمجھ کر بنیے نے اپنی پاکستان مخالف کارروائیوں میں تیزی دکھاتا رہا۔
    یہ صورتحال پاکستان کیلئے ناقابل قبول تو رہی لیکن پاکستان نے کبھی اپنی پالیسی کو نہ بدلا۔ ٢٠٠١ء سے جنرل مشرف نے پہلی بار جارحانہ دفاع کی پالیسی کا اعلان کیا۔اس اعلان کیساتھ ہی پاکستان میں حالات پر سکون ہونا شروع ہو گئے، جبکہ بھارت کی طرف کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں منظم تحریکوں نے زور پکڑ لیا۔ جلد ہی بھارت نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کی لہر پیدا کرنا شروع کی جس کیلئے ہمارے اندر موجود بےوقوف پاکستانی جنت کے شوقین پاکستانی طالبان کی صورت میں مارکیٹوں، اہم سرکاری عمارتوں اور مختلف سکولوں میں پھٹتے نظر آئے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے پاکستان سے Do More کے مطالبہ نے پاکستان کو عجیب پریشانی سے دوچار کیا۔ امریکہ خود پاکستان میں آپریشن کا خواہاں تھا، لیکن مشرف حکومت سے کمال سمجھداری سے امریکی خواب چکنا چور کر دیا اور اپنا علاقہ ایسے تمام بیرون ملک سے آئے اور پاکستانی دہشتگردی میں ملوث افراد کا صفایا کرنا شروع کر دیا۔ پاک فوج کا کردار اس پورے آپریشن میں قابل ستائش اور قربانیوں کی لازوال داستان بن گیا۔

    جلد ہی سول حکومت پیپلزپارٹی کی قیادت میں سامنے آئی اور جنرل مشرف کو وہ NRO جو دیا تھا، ایک پچھتاوا بن کر رہ گیا۔ اب زرداری سٹریٹجی کی بات ہونے لگی۔ زرداری صاحب نے ایک طرف جنرل مشرف کو وردی اتار کر گھر کی راہ دکھائی تو دوسری طرف نواز لیگ کو کمال ہوشیاری سے اپنے ساتھ ملا کر "باریوں” پر راضی کر لیا۔ عام عوام کے سامنے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے سیاستدانوں نے اندرون خانہ اپنے الو سیدھے کرنا شروع کر دئیے۔
    جلد ہی زرداری صاحب کی حکومت کے خاتمہ کے بعد نواز لیگ نے معاہدہ کے تحت حکومت بنائی اور دفاعی پالیسیاں سب کی سب جارحانہ کی بجائے کلی طور پر مدافعانہ بن کر رہ گئیں۔ یہی دور تھا جب بھارت نے ایک جانب کشمیر میں ہاتھ سے نکلتے حالات کو قابو کیا تو دوسری جانب مشرقی پنجاب کی بھی تمام مزاحمتی تنظیموں کی کمر کو توڑ ڈالا۔ اسی زمانے میں فوج کے خلاف عوام میں ابتری پھیلائی گئی اور بدنام کیا جانے لگا۔
    حالیہ افغانستان میں تبدیلیوں اور عالمی قوتوں کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے، پاکستان نے بھی اپنی پالیسی کو عالمی قوتوں کی پالیسی، خاص طور پر بھارتی میڈیا اور بھارتی پالیسی کو مدنظر رکھ کر تبدیل کی۔ ہمیشہ امن کی بات کرنے والے ملک کو بزدل یا مجبور سمجھ کر پاکستان میں بدامنی اور عوام میں بےچینی کا سبب بننے والے بھارت اور چند اور پاکستان مخالف ممالک کی سرگرمیاں اس بات پر پاکستان کو مجبور کرتی ہیں کہ اپنی پالیسی کو یکسر بدلا جائے، لیکن پہلی بار پاکستان کے وزیراعظم نے "Absolutely Not” کا نعرہ لگایا جسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔
    یہ نعرہ ہی نہیں ہے بلکہ اقوام مغرب اس کو چیلنج کے طور پر ملاحظہ کر رہی ہیں۔وہ قوم جو ایک عرصہ تک ان کیلئے "شرفو” کی حیثیت رکھتی تھی، آج انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کر رہی ہے جو انکے لئے ناقابل قبول ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ "گھاس” کھا کر زندہ رہنا سیکھ لیا جائے، لیکن قومی وقار اور قومی سلامتی کیلئے سب ایک ہوکر کھڑے ہو جائیں۔ شعب ابی طالب (ع) میں تین سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی درختوں کے پتے، جڑیں اور کم پانی پر گزارا کیا تھا؟ کیوں؟ تاکہ امت مسلمہ کے افراد وقت پڑنے پر اپنے ایمان کو بیچنے پر مشکلات کو، مصیبتوں کو قبول کریں لیکن اپنے ایمان کو مت بیچیں۔
    اس نعرہ کا مطلب ہی اب یہ ہے کہ جیسا تعلق تم رکھو گے ویسا جواب یہاں سے ملے گا۔اب یہی پالیسی رہے گی۔ ارجنٹائن کو JF17 Thunder کو بیچنا پاکستان کی معیشیت کیلئے اہم ہے تو بھلا چند میچ پاکستان کی ترجیح نہیں ہو سکتے۔ آپ کو پاکستان نے کبھی مجبور نہ کیا کہ بھارت کو تو سرخ لسٹ سے نکال دیا تھا ایک عرصہ پہلے جبکہ وہاں کرونا کی تباہ کاریاں ثبوت کیساتھ ظاہر ہیں جبکہ پاکستان کو فقط بھارت کو راضی رکھنے کیلئے سرخ لسٹ میں رکھا گیا۔
    دوسری جانب FATF بھی قابل غور ہے۔ کشمیر میں بھارتی کردار، پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کی کارروائیاں، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحدوں پر کاروائیاں، ۔۔۔۔۔ کیا تمام دنیا اندھی ہے یا دیکھنا نہیں چاہتی؟

    فیصلہ آپ کیجئے۔

    پاکستان زندہ باد

    کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی،لاہور

  • خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کا مثالی کردار .تحریر: ثاقب معسود

    خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کا مثالی کردار .تحریر: ثاقب معسود

    امریکا میں 20 سال قبل پیش آنے والے نائن الیون واقعات کے بعد افغان جنگ میں پاکستان امریکی اتحادی بنا۔ اگرچہ پاکستان نے صرف لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور امریکا کے اتحادی افواج کے ساتھ انٹیلی جنس شیئر کرنے پر اتفاق کیا ، لیکن پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ حصہ ڈالا۔ پاکستان نے خطے میں دہشت گردی کو شکست دینے کے وسیع تر عالمی مفاد میں اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔افغان جنگ میں شمولیت کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی، پاکستان میں دہشت گردی کانہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوگیا، دہشت گردوں نے حکومتی رٹ کوچیلنج کردیا،ہرطرف بم دھماکے اورافراتفری کاماحول بنادیا گیا،جس پر قابو پانے کے لئے پاک فوج نے بڑے پیمانے پر فوجی اپریشن کرنے کے ساتھ اپنے معاشرے کو ڈی ریڈیکلائزیشن کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مدرسہ اصلاحات ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں(فاٹا)کا انضمام ، کم ترقی یافتہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانا ، تعلیمی اصلاحات ، غربت کے خاتمے کے پروگرام اور نیشنل ایکشن پلان جیسے آئینی اقدامات پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی چند مثالیں ہیں۔ یہ واضح ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت بے مثال ہے اور عالمی برادری بالخصوص امریکہ کو اس کو تسلیم کرنا چاہیے اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہئے لیکن اس کے برعکس پاکستان شکوک وشبہات اورڈبل گیم کے الزامات لگائے گئے۔

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے پہلے فوجی آپریشن میں شمالی وزیرستان میں درہ اکاخیل کے ایک وزیر ذیلی قبیلے کے خلاف کارروائی کی جو جولائی 2003 میں امریکی فوجی کیمپ پر القاعدہ کے زیر قیادت حملے میں ملوث تھا۔ اکتوبر2003ء میں ٹی ٹی پی، القاعدہ عناصراوروزیرستان کے زلی خیل اور کری خیل قبیلوں نے ریاستی اداروں کیسامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیاجن کے خلاف پاک فوج نے اپریشن کرکے ان عناصرکا خاتمہ کیا۔ وانا آپریشن مارچ 2004 میں ہوا تھا جس کے نتیجے میں چیچنیا اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے 63 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے تھے اس آپریشن کے دوران القاعدہ کے ہاتھوں پاک فوج کے 26 فوجی جوانوں نے مٹی کاقرض اداکرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ اپریل 2004محسود قبیلوں کے خلاف شکائی میں آپریشن کیاگیا ۔ ستمبر 2005 اور 23 جنوری 2008 کو شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں بھی دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔

    آپریشن شیردل کا مقصد باجوڑ ایجنسی کوٹی ٹی پی کیدہشت گردوں کے کنٹرول سے بازیاب کرانا تھا اور یہ اپریشن اگست 2008 ء سے 2 فروری 2010 ء تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں تحریک نفاذ شریعت محمدی(ٹی این ایس ایم)کے سربراہ صوفی محمد اور ٹی ٹی پی سوات کے ترجمان مسلم خان پکڑے گئے۔ یکم ستمبر 2009 ء آپریشن بیا در شروع ہواجس نے نیٹو سپلائی ٹرکوں پر دہشت گرد حملوں کو کم کیا۔ آپریشن راہ نجات 16 ستمبر 2009 کو ڈیرہ اسماعیل خان ، فرنٹیئر ریجن ٹانک اور ژوب سے 90 فیصد دہشت گرد عناصر کا صفایا کر دیاگیا۔ 2011 میں 144 آپریشن کیے گئے جس کے نتیجے میں1016 دہشت گردجہنم کاایندھن بنے۔ 2012 میں پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں امن قائم کیا۔ 2013 میں کراچی اور بلوچستان کو پاکستان رینجرز کی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں سے نجات ملی۔ آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان پر مرکوز تھا ، 28 دسمبر 2014 تک اس علاقے میں 2100 دہشت گرد مارے گئے۔ فاٹا کی خیبر ایجنسی میں خیبر 1 آپریشن ٹی ٹی پی اور اس کے ساتھی لشکر اسلام کے خلاف تھا۔ خیبر ٹو آپریشن مارچ 2015 میں وادی تیراہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے ارادے سے شروع کیا گیا تھا جو ٹی ٹی پی ، لشکر اسلام اور جماعت الاحرار کے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ 2015 میں نیشنل ایکشن پلان(این اے پی)کے تحت کراچی میں امن واپس لایاگیا۔ 2016 میں بلوچستان توجہ کا مرکز تھا، پاک فوج کے جوانوں اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تحریک طالبان سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔ فروری 2017 میں ، آپریشن ردالفسادنے لاہور ، سیہون شریف ، خیبر پختونخواہ اور سابقہ فاٹا سے باقی دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کیا۔ خیبر IV ، وسط جولائی 2017 نے خیبر ایجنسی کی وادی راجگال اور وادی شوال کودہشت گردوں سے صاف کرنے میں مدد کی۔ آپریشن ردالفسادسے ملک میں دہشت گردوں کاخاتمہ ہوا اورپاکستان میں امن کی فضاقائم ہوئی ۔ ابھی تک ملک دشمن عناصر کیخلاف ٹارگیٹیڈاپریشن کاسلسلہ جاری ہے،جہاں ہماری پاک فوج کے جری شیرجوان چھپے دشمنوں کوایک ایک کرکے واصل جہنم کرنے میں مصروف ہیں اوراپنی جانوں کے نذرانے بھی پاک وطن پرنچھاورکررہے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور نہ پاکستان بلکہ خطے کودہشت گردی کے ناسورسے پاک کردیاہے۔

    @isaqibmasood

  • نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ

    نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ

    نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ
    سب سے پہلے تو پاپی پاپا کے گرد شکنجہ تنگ ہو گیا ہے ۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے آٹھ ملین پاؤنڈ کی برآمدگی کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں نواز شریف کو دس سال قید اور آٹھ ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔۔ شریک ملزمان میں ملکہ جذبات مریم صفدر کو ساتھ سال قید، دو ملین پاؤنڈ جرمانہ اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نواز شریف پر عائد جرمانے کی رقم کی موجودہ قدر ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کے برابر ہے۔ اب اس سلسلے میں نواز شریف کی جائیدادیں فی الفور فروخت کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو مراسلے بھی جاری ہوچکے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنرز کو نواز شریف کی قابل فروخت جائیدادوں کی تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف کے نام موجود جائیدادوں میں موضع مانک میں 940کنال زرعی اراضی، موضع بدھوکی ثاہنی 299 کنال، موضع مل 103 کنال اور موضع سلطان میں 312 کنال اراضی شامل ہیں۔ ۔ موضع منڈیالی شیخوپورہ میں 14 کنال زرعی اراضی اور اپر مال لاہور میں قیمتی رہائشی بنگلہ نمبر 135 بھی برائے فروخت پراپرٹی میں شامل ہے۔ نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سابق وزیراعظم سے جرمانہ کی وصولی پر عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فروخت شدہ جائیدادوں سے حاصل ہونے والی رقم ملکی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو گی۔ جبکہ جرمانہ کی مکمل رقم ریکور نہ ہونے کی صورت میں ملزم کے مزید اثاثہ جات تلاش کیے جائیں گے۔ یوں پاپی نواز شریف اپنے انجام کی جانب گامزن ہیں ۔ آپکو یاد ہو گا کچھ ہفتے پہلے میں ایک وی لاگ میں بتایا تھا کہ نوازشریف اب دوبارہ واپس نہیں آئیں گے چاہے جو بھی جو کچھ مرضی کہیں ۔ پھر کہہ رہا ہوں ۔ یہ ویڈیو کلپ سنبھال کر رکھ لیں ۔ اب نوازشریف کا واپس آنا ممکن ہی نہیں رہا ۔ ۔ ویسے ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ تو قدرت کا انصاف ہے مکافات عمل ۔ پر موجودہ حکومت کے تیور اور حرکتیں بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔

    الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تنازعہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ اب اس پر اتفاق رائے پیدا ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اس پر کوئی اعتراض سننے کو بھی تیار نہیں۔ بلکہ حکومت نے دوٹوک اعلان کردیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اپوزیشن کے ساتھ آخری دفعہ مذاکرات ہوں گے۔ یعنی حکومت ڈنڈے کے زور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے زریعے ہی الیکشن کروائے گی ۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن جائے بھاڑ میں ۔ میں تواس پر یہ ہی کہوں گا کہ زبردستی کے فیصلے آمریتوں میں تو ہوسکتے ہیں جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ باقی آپ خود فیصلہ کر لیں کہ اس وقت ملک میں آمریت ہے یا پھر جمہوریت ، قوم یہ تماشا کئی دنوں سے دیکھ رہی ہے۔ حکومتی وزراء کا لہجہ دھمکی آمیز ہے۔ دھمکی آمیز لہجہ اس وقت ہوتا ہے جب دلیل کے ساتھ بات منوانے کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنز کے پیچھے بھی وزراء ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے انھوں نے حکومت کی کوئی مج چرا لی ہے ۔ اداروں سے اس طرح کا کھلواڑ تحریک انصاف کے وزراء کی پرانی مشق رہی ہے اور بدقسمتی سے اب اس کا نشانہ الیکشن کمیشن بن گیا ہے۔اعظم سواتی ، بابر اعوان اور فواد چوہدری الیکشن کمیشن کو یوں دھمکیاں دے رہے ہیں جیسے کوئی بدمزاج تھانیدار اپنے ماتحتوں کو ڈراتا اور دھمکاتا ہے۔ پھر پیٹرول کے بعد بجلی اب قہر بن کر عوام ٹوٹنے والی ہے ۔central power purschasing agency کی جانب سے نیپرا کو بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی درخواست دے دی گئی ہے ۔ درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر25ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ CPPA کا موقف ہے کہ ڈیزل اور فرنس آئل سے مہنگی ترین پیداوار بجلی مہنگی ہونے کی وجہ ہے۔ یوں اب بجلی کی قیمت میں دو روپے سات پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔

    پھر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے وزیر اعظم کی جانب سے فوراً منظور کرلیا گیا۔ اس کہانی کی اصل اسٹوری یہ ہے کہ تابش گوہر پر مقامی ریفائنریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے جبکہ سی سی او اجلاس میں تابش گوہر نے ریفائنریز کے لئے پیشگی مراعات کی تجاویز بھی دی تھیں ۔ پر آپ دیکھیں ایسے اور بہت سے بہروپیے اس حکومت میں مختلف اداروں میں بڑے عہدوں پر براجمان رہے ہیں جو کہ حقیقت میں مافیا کے ایجنٹ تھے ۔ پر جب یہ پکڑے گئے تو حکومت نے صرف ان کو گھر ہی بھیجا کبھی مکمل انکوئری یا سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا ۔ اگر حکومت نیب اور ایف آئی اے کو اپوزیشن کے ساتھ ان مافیاز کے ایجنٹوں کے پیچھے لگادیتی تو آج جو اپوزیشن کی آواز اونچی سے اونچی ہوتی جارہی ہے ۔ کبھی نہ ہوپاتی ۔ تابش گوہر جیسے لوگ وہ ایجنٹ ہیں جنہوں نے اداروں اور عام عوام کو اتنے ٹیکے لگوائے ہیں کہ عوام کا تبدیلی پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے ۔ کیونکہ ہر بار جب شور زیادہ مچتا ہے یا یہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہ ایجنٹ استعفی دیتے ہیں موج کرتے ہیں ۔ فائلیں ویسے ہی بند ہوجاتی ہیں ۔ پی ٹی آئی کی نام نہاد حکومت تین سال سے یہ ہی گل کھلا رہی ہے ۔ آپ خود دیکھ لیں کہ ملک میں کون کرپٹ ہے اور کون نہیں ۔ ہر طرف اور ہر سیکٹر میں عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں ۔ ملک میں کوئی ایسا وزیر نہیں جو کرپٹ نہ ہو ۔ پیسے اور دھونس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے ۔ جس مرضی سرکاری ادارے میں چلے جائیں پیسے کی چمک کے بغیر آپکو کوئی گھاس تک نہیں ڈالے گا ۔

    حکومت کی نااہلی کی وجہ سے نظام بیٹھ چکا ہے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے ختم ہو گئے ہیں ۔ اس وقت شاید ہی معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ ہو جو کپتان کی حکومت کے لگائے ہوئے زخموں سے چور نہ ہو۔ تحریک انصاف کے وزیر مشیر ہر چیز کے بارے میں فخریہ کہتے ہیں کہ یہ کام پاکستان میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی ہے۔ کیونکہ پہلی بار عوام کی بھی بس ہوگئی ہے۔ اس بار کابینہ اجلاس میں دو تین لوگوں نے ہمت کرکے کپتان کے منہ پر ہی کہہ دیا ہے۔ کہ اس بار جو آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں اس کا قصووار آپکا چہیتا عثمان بزدار ہے ۔ نہ کہ سندھ حکومت ۔ پرعثمان بزدار کپتان کی آنکھوں کا تارا ہیں ۔ اسی حوالے سے ایک خبر ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں نے بھی غریبوں کو زیادہ ہٹ کرنا شروع کر دیا۔ جیسے امیروں کو این آر او دے دیا گیا ہو ۔ خبر یہ ہے کہ اس سال کاریں بہت کم اور غریب کی سواری موٹر سائیکلیں بہت زیادہ چوری ہوئیں۔ صرف لاہور میں آٹھ ہزار چھیانوے موٹر سائیکل آٹھ مہینوں میں چوری ہو چکے ہیں۔ یعنی چور ڈاکو بھی ’’تبدیلی‘‘ سے ہم آہنگ ہو گئے۔ تبدیلی کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں۔ اور چوروں کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں ۔ ۔ ادارہ شماریات کے مطابق اشرافیہ ایلیٹ کلاس کی آمدنی بڑھی ہے اور بے تحاشا بڑھی ہے۔ جبکہ غریب ، لوئر مڈل کلاس ، مڈل آف دی مڈل کلاس کی آمدنی کم ہوئی ہے اور بے تحاشا کم ہوئی ہے۔ ۔ یہ جو بدزبان ۔ بدکلام اور بد گفتار وزیر اندھا دھند جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان میں تو بہت موجیں ہیں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔ جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں مختلف ممالک کی مہنگائی کی شرح چار فیصد سے آٹھ فیصد ہے ۔ مطلب بنگلہ دیش میں چار فیصد اور بھارت میں آٹھ فیصد مہنگائی ہے ۔ جبکہ پاکستان میں 17فیصد ہے۔ یہ میں نے اپنی طرف سے گڑھ کر نہیں بتائے یہ عالمی بینک کے اعدادو شمار ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک تحفہ اس حکومت کے پاس ہے۔ شبلی فراز فرماتے ہیں کہ مہنگائی کے علاوہ باقی سارے اشاریے مثبت ہیں۔ اس سے حکومت کی پالیسی پتہ چل جاتی ہے کہ حکومت غربت کی بجائے غریب مٹا رہی ہے۔ ایک اور خوشخبری سن لیں کہ ملکی قرضوں میں ایک مہینے کے دوران بارہ سو ارب کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ اب قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے سو فیصد کے برابر ہو چکا ہے۔ میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ اس حکومت کو نواز شریف کو دیکھ کر سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ کیونکہ حساب تو ان کو بھی دینا ہی پڑے گا آج نہیں تو کل ۔۔۔