Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شانِ پاکستان .تحریر:عصمت اسامہ

    شانِ پاکستان .تحریر:عصمت اسامہ

    شان پاکستان
    از قلم: عصمت اسامہ
    وطنِ عزیز پاکستان ،ہمارے آباء کا خواب نگر ،ارمانوں کی بستی ہے ،یہ لاکھوں جانوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔مدینہ طیبہ کے بعد پاکستان وہ دوسری ریاست ہے جو کلمہء طیبہ "لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ” کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی۔

    شان دار تاریخ
    قیام،پاکستان مسلمانان برصغیر کی طویل تاریخی جہدوجہد کا نتیجہ ہے۔
    جب انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے تجارت کے بہانے ہندوستان میں اپنا تسلط قائم کیا اور مغل بادشاہوں سے سلطنت چھین لی تو مسلم عوام کو رفتہ رفتہ غلامی کی زنجیروں میں اس طرح جکڑ دیا گیا کہ دستور و قوانین ، نظام تعلیم ،نظام عدالت،معیشت اور سیاست غرض سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکلتا چلا گیا حتیٰ کہ مسلمانوں پر ملازمتوں کے دروازے بھی بند کردئیے گئے۔جس جگہ کسی گاۓ کو ذبح کرنے کی اطلاع ملتی تو انتہا پسند ہندو وہاں قتل و غارت گری کرکے پوری بستی کو ذبح کر ڈالتے۔اسکولوں میں مسلمان بچوں کو ہاتھ جوڑ کر بتوں کی پوجا پر مجبور کیا جاتا۔

    ~ملا نہیں وطنِ پاک ہم کو تحفے میں
    جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا!

    1857ء کی جنگ آزادی اسی جبر و تسلط سے نکلنے کی ایک کوشش تھی جسے برطانوی سامراج نے ناکام بنادیا ۔ ایسے کٹھن وقت میں مولانا محمد علی جوہر جیسے عظیم صحافیوں اور علامہ اقبال جیسے بیدار مغز ادیبوں کا قلم حریت کا چراغ اور مشعلِ راہ بنا جس نے قوم کو آزادی کا راستہ سجھایا۔علماۓ کرام نے بھی الگ اسلامی مملکت کے قیام کی حمایت کی۔

    آل انڈیا مسلم لیگ( جو اس وقت مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تھی) کے پلیٹ فارم سے 1930ء کے خطبہء الہ آباد میں شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایک الگ وطن کے حصول کا مطالبہ کیا۔آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانوں کے جدا گانہ تشخص ،حریت و غیرت کی علم بردار بن گئی تو برصغیر کے مسلمان بھی اس کے پلیٹ فارم پر متحد ہونا شروع ہوگئے۔

    جب سرکاری سطح پر اعلان ہوا کہ ہندوستان میں صرف ایک قوم آباد ہے اور وہ ہندو ہے تو قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے چیلنج کرتے ہوۓ فرمایا کہ "ایک اور قوم بھی ہندوستان میں آباد ہے اور وہ مسلمان ہیں۔ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں ،مذہبی روایات اور ادب سے تعلق رکھتے ہیں ۔وہ نہ تو اکٹھے کھانا کھاتے ہیں اور نہ آپس میں شادیاں کرتے ہیں۔ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کے دشمن کی حیثیت رکھتا ہے۔ایک کی فتح کا مطلب دوسری قوم کی شکست ہے۔یہ اکٹھے کیسے رہ سکتے ہیں؟۔( 23 مارچ 1940ء)۔

    بالآخر برسوں کی جہدوجہد کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان المبارک کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔یہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت تھی۔پاکستان کئی پہلوؤں سے زبردست اور عظیم الشان مقام کا حامل ہے۔

    نظریۂ پاکستان: ہماری فکری شان

    پاکستان کی بنیاد "دو قومی نظرئیے”( Two Nation Theory) پر رکھی گئی ہے، جو دراصل ” نظریہء اسلام” ہے۔ جس کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک علیحدہ ریاست کے لیے جدوجہد کی۔ یہ صرف زمین کے ٹکڑے کے حصول کا مطالبہ نہ تھا، بلکہ ایک ایسی شناخت کی تلاش تھی جہاں مسلمانوں کو خدا کے سوا کسی کے سامنے اپنا سر نہ جھکانا پڑے۔یہی نظریہء توحید پاکستان کی فکری شان ہے۔

    افواجِ پاکستان: ہماری عسکری شان
    جغرافیائی اعتبار سے پاکستان اہم ترین محل وقوع پر واقع ہے جسے کئی خطرات کا سامنا ہے۔پاک فوج ” دنیا کی بہترین فوج” ہے جو اندرون ملک دہشت گردوں سے اور سرحدوں پر چومکھی لڑائی لڑ رہی ہے،اس نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

    جب بھارت نے "سانحہء پہلگام "جیسے دہشت گردانہ واقعہ کو پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی اور خواہ مخواہ دھمکیاں دینے پر اتر آیا تو پاکستان نے فیصلہ کن ردعمل دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان آرمی نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں دشمن کے دانت کھٹے کردئیے۔پاکستانی فضائیہ نے سات طیارے مار گراۓ۔ بھارت کے اندر طیارے گھس گئے اور دشمن کو دن میں تارے دکھا دئیے ۔ وہ جنگ بند کروانے کے لئے امریکہ سے مدد مانگنے لگا۔

    اس معرکے میں سائبر وار،سوشل میڈیا اور سفارتی محاذوں پر بھی پاکستان نے سبقت حاصل کی۔عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو درست کہا گیا اور بھارت اپنا موقف منوانے میں ناکام رہا۔یہ معرکہ صرف عسکری فتح ہی نہیں تھا بلکہ سچائی کے میدان میں بھی پاکستان سرخرو ہوا۔نئی نسل نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جو کچھ انھوں نے مطالعہء پاکستان میں پڑھا تھا ،وہ سچ تھا!

    جوان افرادی قوت کی شان:
    پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جن میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔یہ محنتی اور باہمت ہیں۔۔پاکستانی پائلٹ ،سول انجینئرز، کھلاڑی ،آئی ٹی ماہرین ، ڈاکٹرز اور طبی عملہ،ای کامرس اور فری لانسر دنیا بھر میں وطن کا نام روشن کر رہے ہیں۔

    امتِ مسلمہ میں قیادت کی شان
    پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی ملک ہونے کے سبب دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔حالیہ فلسطین واسرائیل کی جنگ میں پاکستان نے فلسطین کی ہر ممکنہ اخلاقی ،سفارتی اور مادی مدد کی ہے۔ اقوام متحدہ میں اس جنگ کو رکوانے کی کوشش کی ہے۔ جنگی تباہ کاریوں کی حالت میں فلسطینی عوام کوخوراک،خیمے ،پانی ،طبی امداد ،اشیاۓ ضرورت فراہم کی ہیں۔جب امریکہ نے ایران پر حملے کا ارادہ کیا تو پاکستان نے اس جنگ کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان امت مسلمہ کے اتحاد کا داعی ہے۔

    قدرتی وسائل سرزمین کی شان
    سرزمین پاکستان بہت سر سبز و شاداب اور زرخیز ہے۔ ہمارے پھلوں کے ذائقے اپنی مثال آپ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں چار موسموں سے نوازا ہے ۔ یہاں برف پوش پہاڑ بھی ہیں اور چاندی جیسے پانی کے آبشار بھی ۔یہاں سونا اگلتی مٹی بھی ہے، بلوچستان میں معدنیات اور ہیروں کی کانیں بھی ہیں اور گوادر جیسی اہم بندرگاہیں بھی۔
    دیکھا جاۓ تو پاکستان سورہء رحمٰن کی عملی تمثیل ہے!

  • شانِ پاکستان .تحریر : ڈاکٹر مریم خالد

    شانِ پاکستان .تحریر : ڈاکٹر مریم خالد

    شانِ پاکستان
    تحریر : ڈاکٹر مریم خالد
    پاکستان، ایک ایسا ملک جو تاریخ، ثقافت، قربانی، محبت، اتحاد اور غیرت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ صرف ایک سرزمین کا نام نہیں، بلکہ کروڑوں دلوں کی دھڑکن، ایک نظریہ، ایک خواب اور ایک عہد کی تعبیر ہے۔ “شانِ پاکستان” صرف اس کے ایٹمی ہتھیاروں، فوجی طاقت یا قدرتی وسائل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے عوام کی حب الوطنی، مہمان نوازی، جدوجہد، برداشت اور قربانیوں کی عظمت میں پوشیدہ ہے۔

    قیام پاکستان – ایک غیر معمولی جدوجہد
    شانِ پاکستان کا آغاز 14 اگست 1947 سے نہیں بلکہ اس دن سے ہوا جب برصغیر کے مسلمانوں نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت، علامہ اقبالؒ کے خواب، اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدلا۔ لاکھوں لوگ اپنے گھر، جائیداد، عزیز و اقارب قربان کر کے اس سرزمین پر پہنچے تاکہ ایک ایسا ملک قائم ہو جہاں وہ آزادانہ طور پر اپنے دین و تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

    فطری حسن اور وسائل – قدرت کی عنایت
    پاکستان اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہے۔ شمال میں برف پوش پہاڑ، جنوب میں وسیع سمندر، مشرق میں زرخیز میدان اور مغرب میں صحرا اور معدنی ذخائر۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-ٹو، حسین وادیٔ سوات، شگر، ہنزہ، اور کشمیر کی جنت نظیر وادیاں پاکستان کی شان ہیں۔ دریائے سندھ جیسے قدرتی آبی ذخائر، زراعت کے لیے زرخیز زمینیں اور تیل، گیس، کوئلہ، نمک، سونا، تانبا جیسے قیمتی وسائل پاکستان کی قدرتی دولت کا ثبوت ہیں۔

    ایمان، اتحاد، قربانی – قومی پہچان
    شانِ پاکستان اُس ایمان سے جڑی ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک قائم ہوا۔ رمضان المبارک میں قیام، اسلامی تہذیب و اقدار پر زور، اور دینی شناخت ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ پاکستانی قوم نے ہر کٹھن وقت میں اپنی وحدت کا ثبوت دیا۔ زلزلہ ہو یا سیلاب، جنگ ہو یا کورونا جیسی عالمی وبا، قوم نے ہمیشہ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

    فوج – دفاعِ وطن کے محافظ
    پاک فوج، پاکستان کی شان کا ایک مضبوط ستون ہے۔ ہماری افواج نے نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کی، بلکہ ہر قدرتی آفت، اندرونی خطرات، اور بین الاقوامی چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ چاہے 1965 کی جنگ ہو، 1999 کا کارگل محاذ یا دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، ہماری افواج نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔

    سائنس و ٹیکنالوجی – خود انحصاری کی راہ
    پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا اس کی سائنسی شان کی ایک بڑی مثال ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے سائنسدانوں کی خدمات نے دنیا کو حیران کر دیا۔ خلائی تحقیق، دفاعی ٹیکنالوجی، زراعت، اور طب کے میدان میں بھی پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے۔ نوجوان نسل جدید آئی ٹی، سافٹ ویئر اور انوویشن میں دنیا بھر میں نام کما رہی ہے۔

    ثقافت، زبانیں اور روایات – تنوع میں اتحاد
    پاکستانی ثقافت ایک رنگین گلدستہ ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور دیگر زبانوں کی شیرینی، لباسوں کی خوبصورتی، کھانوں کا ذائقہ، اور مہمان نوازی ہماری پہچان ہے۔ شادی بیاہ، تہوار، میلوں، صوفیانہ موسیقی، قوالی اور لوک رقص پاکستان کی سماجی شان کی جھلک ہیں۔

    ادب اور فنون لطیفہ – فکری دولت
    پاکستانی ادب نے دنیا کو فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، پروین شاکر، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، منٹو، عمیرہ احمد، اور انتظار حسین جیسے عظیم ادباء دیے۔ فلم، موسیقی، ڈرامہ، اور مصوری میں بھی پاکستان کے فنکاروں نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ "کوک اسٹوڈیو” جیسا پلیٹ فارم ہماری موسیقی کی وراثت کو دنیا تک پہنچا رہا ہے۔

    نوجوان نسل – شانِ پاکستان کا مستقبل
    پاکستان کے نوجوان باصلاحیت، پرعزم اور محنتی ہیں۔ کھیل کے میدان ہوں یا سائنس، ادب، آئی ٹی، یا کاروبار، پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ارفع کریم، ملالہ یوسفزئی، شہروز کاشف، اور علی سدپارہ جیسے نوجوان پاکستان کا فخر ہیں۔

    اقوامِ عالم میں کردار
    پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی، اور مختلف عالمی تنظیموں کا فعال رکن ہے۔ کشمیر، فلسطین اور دیگر مظلوم اقوام کے لیے آواز اٹھانا ہماری خارجہ پالیسی کی خوبی ہے۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دے کر انسان دوستی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

    اختتامیہ
    “شانِ پاکستان” صرف جملہ نہیں، یہ ایک احساس ہے، ایک فخر ہے، ایک جذبہ ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وطن کی شان کو برقرار رکھنا صرف حکومت یا فوج کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری، ہر طالبعلم، ہر مزدور، ہر کسان، ہر ماں، ہر استاد اور ہر بچے کا فرض ہے۔ اگر ہم سب اپنی اپنی جگہ ایمانداری، خلوص، اور حب الوطنی سے کام لیں، تو کوئی طاقت دنیا میں ایسی نہیں جو پاکستان کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچنے سے روک سکے۔
    ہم سب کو دعا کرنی چاہیے۔

  • شانِ پاکستان .تحریر: زین العابدین مخلص

    شانِ پاکستان .تحریر: زین العابدین مخلص

    شانِ پاکستان
    تحریر: زین العابدین مخلص،اردو لیکچرر اسلامیہ گرلز ڈگری کالج مردان خیبرپختونخوا
    پاکستان صرف ایک ملک نہیں، یہ ایک زندہ قوم کا دل ہے۔ یہ ایک خواب کی تعبیر ہے، جو علامہ اقبال کی نگاہِ دور بیں میں روشن ہوا اور قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال قیادت میں حقیقت کا روپ اختیار کر گیا۔ پاکستان کی بنیاد صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک مقصد ہے، ایک جدوجہد ہے، اور یہی وہ جوہر ہے جو اسے دنیا کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔

    ہر قوم کی شان اس کی خودی، غیرت، اور استقلال میں پنہاں ہوتی ہے۔ پاکستان کی شان بھی انہی اوصاف میں ہے جو اسے ابتدا ہی سے آزمائشوں کی بھٹی سے کندن بنا کر نکالتی رہی ہیں۔ کبھی قدرتی آفات، کبھی دشمنوں کے وار، کبھی اندرونی چیلنجز، اور کبھی عالمی سازشیں.. لیکن ہر لمحہ، ہر مقام پر پاکستان نے سر بلند رکھا اور دنیا کو بتایا کہ ہم وہ قوم ہیں جو مٹ نہیں سکتے۔

    پاکستان کا نظریاتی وقار
    پاکستان کا مطلب "لا الہ الا اللہ” صرف نعرہ نہیں، یہ اس ریاست کی روح ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جس نے لاکھوں مسلمانوں کو ایک امید، ایک خواب، اور ایک نصب العین دیا۔ جب کوئی قوم اپنے نظریے سے جڑی ہو، تو اس کے پاؤں زمین میں مضبوطی سے گڑے ہوتے ہیں، اور اس کی نظر افق سے آگے دیکھتی ہے۔ یہی نظریہ پاکستان کی اصل شان ہے، جس نے اسے ایک عام ملک سے ایک غیر معمولی ریاست کا درجہ عطا کیا۔

    قربانیوں کی سرزمین
    پاکستان کی تاریخ شہادتوں سے روشن ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں آزادی کے متوالوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں، جہاں ماؤں نے بیٹوں کی میتوں پر سجدے کیے، جہاں بہنوں نے بھائیوں کی شہادت پر فخر کیا۔ ایسی قومیں کبھی زوال کا شکار نہیں ہوتیں، کیوں کہ ان کا ہر قدم قربانی کی مٹی میں گندھا ہوتا ہے۔

    قیامِ پاکستان کے وقت جو خون بہایا گیا، وہ صرف زمین کے لیے نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے وطن کے لیے تھا جہاں مسلمان آزادی سے اپنے دین، ثقافت، اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہی جذبہ آج بھی پاکستان کی رگوں میں دوڑتا ہے اور اسے ہر آزمائش میں سرخرو کرتا ہے۔

    فطری خوبصورتی اور وسائل کی فراوانی
    پاکستان کا ہر خطہ قدرت کی صناعی کا شاہکار ہے۔ شمال میں فلک بوس پہاڑ، جنوب میں نیلگوں سمندر، مشرق میں زرخیز میدان، اور مغرب میں صحرا .. یہ سب پاکستان کی شان کا مظہر ہیں۔ دریائے سندھ کی روانی، ہنزہ کی وادیاں، گوادر کی بندرگاہ اور بلوچستان کی معدنی دولت سب اس ملک کی ممکنات کا پتہ دیتی ہیں۔

    یہ وطن اگر چاہے تو اپنی زمین سے سونا نکالے، اپنے پانی سے بجلی پیدا کرے، اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیت سے دنیا کو حیران کر دے۔ شانِ پاکستان اس کی زمین میں ہے، اس کے آسمان میں ہے، اور اس کی ہوا میں ہے۔

    دفاعی طاقت اور قومی غیرت
    پاکستان کا دفاع اس کی سب سے بڑی شان ہے۔ ہماری افواج صرف وردی میں ملبوس انسان نہیں، یہ غیرت کے محافظ، نظریے کے امین اور قوم کے محافظ ہیں۔ 1965ء کی جنگ ہو یا کارگل کی جھڑپ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا سرحدوں کی حفاظت ..پاکستانی سپاہی نے ہر بار اپنے لہو سے وطن کا پرچم بلند رکھا۔

    دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننا صرف ٹیکنالوجی کی کامیابی نہیں، یہ قوم کے عزم کا مظہر ہے۔ دشمن جانتے ہیں کہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کا انجام کیا ہو سکتا ہے، کیوں کہ یہاں کے لوگ مٹی کی قسم کھا کر جیتے ہیں اور اس کے لیے مر مٹنے کو فخر سمجھتے ہیں۔

    ثقافت، زبان، اور ادب کی عظمت
    پاکستان کی شان اس کے تہذیبی ورثے میں بھی ہے۔ پنجابی کا جوش، سندھی کا سوز، بلوچی کا وقار، پشتو کی غیرت، کشمیری کی لطافت .. یہ سب مل کر ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں جو دنیا کی نظروں میں قابلِ رشک ہے۔ یہاں قوالی کی گونج ہے، صوفی کلام کی روشنی ہے، اور لوک موسیقی کی نرمی ہے۔

    اردو ادب نے اس ملک کو عظیم شعرا، ادبا، اور مفکرین عطا کیے۔ فیض احمد فیض، حبیب جالب، احمد ندیم قاسمی، اور بانو قدسیہ جیسے لوگوں نے اس سرزمین کے جذبات کو الفاظ کا جامہ پہنایا۔ پاکستان کی ثقافت اس کی روح ہے، اور یہی روح اس کی شناخت کا سب سے روشن چراغ ہے۔

    نوجوان نسل .. اُمید کی کرن
    کسی بھی قوم کی شان اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے، اور پاکستان کے نوجوان باصلاحیت، باحوصلہ اور باکردار ہیں۔ چاہے کھیل کا میدان ہو یا تعلیم کا شعبہ، طب ہو یا ٹیکنالوجی، پاکستانی نوجوان ہر جگہ اپنی صلاحیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔

    عبدالستار ایدھی جیسے خدمت گزار، ارفع کریم جیسی کم عمر ٹیکنالوجی ماہر، اور نسیم شاہ جیسے کم عمر فاسٹ بولر اس قوم کی توانائی اور جذبے کے آئینہ دار ہیں۔ اگر یہی نسل شعور، علم اور اخلاص کے ساتھ آگے بڑھے، تو پاکستان کا مستقبل نہایت روشن ہو گا۔

    پاکستان نے ہمیشہ آزمائشوں کا سامنا کیا .. دہشت گردی، معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام .. لیکن ہر بار یہ قوم مضبوط ہو کر ابھری ہے۔ ہماری قوم کی ایک خاص بات ہے کہ جب بھی کوئی مشکل آئے، ہم متحد ہو جاتے ہیں، اور یہی اتحاد ہماری شان کا سب سے قیمتی پہلو ہے۔

    زلزلے آئیں یا سیلاب، جب قوم ایک جسم کی طرح حرکت کرتی ہے، تو دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ ہم نے دکھ سہے ہیں، مگر سر جھکایا نہیں؛ ہم نے قربانیاں دی ہیں، مگر پیچھے ہٹے نہیں.. یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہماری شان ہے۔

    شانِ پاکستان صرف اس کی تاریخ، جغرافیہ، یا دفاع میں نہیں بلکہ اس کے عوام کے جذبے، اتحاد، اور خلوص میں ہے۔ یہ ملک لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں، مہاجروں کی ہجرت، ماؤں کے آنسوؤں اور بزرگوں کی دعاؤں سے بنا ہے۔ یہ صرف سرزمین نہیں، ایک خواب ہے، ایک دعا ہے، ایک ایمان ہے۔

    ہمیں چاہیے کہ اس شان کو صرف لفظوں میں نہ رکھیں، بلکہ عمل سے ثابت کریں۔ اپنے حصے کی شمع جلائیں، اپنے وطن سے وفا کریں، اور اس خواب کو مکمل کریں جو 14 اگست 1947 کو تعبیر ہوا تھا۔

    کیوں کہ جب تک پاکستان ہے، ہم ہیں اور جب تک ہم ہیں، شانِ پاکستان بھی زندہ ہے۔

  • شانِ پاکستان .تحریر: زین جٹ

    شانِ پاکستان .تحریر: زین جٹ

    شانِ پاکستان
    تحریر: زین جٹ
    پاکستان… ایہ صرف اک ملک دا ناں نہیں، ایہ اک نظریہ اے، اک خواب اے، اک قربانی دی لازوال داستان اے۔ دنیا دے نقشے اتے ابھری ایہ سبز ہلالی ریاست لکھاں جاناں، بے شمار قربانیاں تے ان گنت دعاواں دا نتیجہ اے۔ شان پاکستان صرف سرحداں، فوجی طاقت یا ثقافتی رنگاں تک محدود نہیں بلکہ ایہ اک قوم دی عزت، غیرت، ایثار تے حوصلے دی مکمل تصویر اے۔

    پاکستان دی شان اوہدے نوجواناں وچ اے جہڑے دنیا بھر وچ اپنی عقل، محنت تے صلاحیت نال ملک دا ناں روشن کر رہ نیں۔ ساڈے کھڈاریاں، ساڈے اداکاراں، ساڈے شاعراں، ادیباں، ساڈے ڈاکٹراں تے ساڈے سائنسداناں ایہناں ساریاں نے ثابت کیتا اے کہ پاکستان اک عظیم ٹیلنٹ رکھن والا ملک اے۔ جتھے مایوسی ہووے، اوتھے امیداں دیاں کونپلاں وی اگدیاں نیں تے جتھے اندھیرا ہووے، اوتھے چمکن والے چراغ وی موجود ہوندے نیں۔

    پاکستان دی شان اوہناں شہیداں وچ اے جہڑے ہر دور وچ ماں دھرتی دی رکھوالی لئی اپنی جان وار دیندے نیں۔ 1965 دی جنگ ہووے، 1971ء، کارگل ہووے یا دہشتگردی دے خلاف آپریشن، پاکستانی فوجی ہر وار سینہ تان کے کھڑی ہوندی اے، خون دا نذرانہ دیندی اے پر وطن نوں کسے وی قیمت اتے نیواں نہیں ہون دیندی۔ کیپٹن راجہ محمد سرور توں لے کے میجر شبیر شریف تک، ایہ سارے سانوں فخر دے نال کہن دی اجازت دیندے نیں کہ ایہ ساڈی شان نیں۔ اوہ ماپے وی ساڈی شان نیں جنہاں نے اپنے لال وطن تے وار دتے۔

    پاکستان دی شان اوہدی آزادی وچ اے۔ اوہ آزادی جہڑی غلامی دی لمی رات توں بعد ملی۔ اوہ آزادی جہڑی سانوں اپنی پہچان، ثقافت، مذہب تے زبان نوں بچان دا موقعہ دیندی اے۔ ایہ اک نعمت اے جہدی قدر اوہ بندہ جان دا اے جہڑا اج وی اوہدی تڑپ وچ زندہ اے۔ کشمیر، فلسطین تے ہور محکوم علاقے اج وی پاکستان ورگی آزادی دے خواب ویکھدے نیں۔

    پاکستان دی شان ایہدے کساناں وچ اے، جہڑے زمین دا سینہ چیر کے اناج اگا کے قوم نوں پال دے نیں۔ اوہناں مزدوراں وچ اے جہڑے پسینہ وگا کے اٹاں چک کے ملک دا پہیہ چلاون والے نیں۔ اوہناں عورتاں وچ اے جہڑیاں ماں، بہن، بیٹی بن کے معاشرے دی بنیاد نیں۔ اوہ تعلیم تے تربیت وچ مرداں دے نال نال قدم ملا کے چل رہیاں نیں۔

    پاکستان دی ثقافت وی ایہدی شان دا اک قیمتی جزو اے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پختون تے کشمیری ثقافتاں ایہ سبھ مل کے پاکستان دی رنگین چادر بنادے نیں۔ ساڈی شاعری، لوک گیت، موسیقی، رسم و رواج تے بولیاں اس گل دا ثبوت نیں کہ اسیں اک جیندی جاگدی ساہ لین والی قوم آں۔ وارث شاہ، شاہ لطیف، خواجہ فرید تے رحمان بابا جیہڑے لفظاں نال قوم نوں جگا گئے، ایہ دھرتی اوہناں دی اے۔ اوہناں دی شاعری وچ پاکستان دی عظمت وسدی اے۔

    پاکستان دی شان اوہدے نظریے وچ اے۔ اوہ نظریہ جہڑا قائد اعظم نے دتا، اوہ خواب جہڑا علامہ اقبال نے ویکھیا۔ اوہ مقصد جہڑا لکھاں مسلماناں نوں برصغیر دے ہر کونے توں کھچ کے لے آیا۔ ایہہ ملک "لا الہ الا اللہ” دی بنیاد تے حاصل کیتا گیا۔ ایہ اک نظریاتی قلعہ اے جتھے اسلام نوں اصل روح دے نال نافذ کرن دا خواب ویکھیا گیا۔ ایہہ خواب اجے وی مکمل نہیں ہویا، پر ایہ خواب ویکھن والے آج وی زندہ نیں، اوہناں دا جذبہ زندہ اے۔

    معاشی میدان وچ وی پاکستان دی شان کسے توں گھٹ نہیں۔ ایہ ملک زرعی لحاظ نال زرخیز اے، قدرتی وسائلاں نال مالا مال اے، ذہانت تے ٹیلنٹ نال بھرپور اے۔ سی پیک، گوادر، تھر دا کوئلہ، سوات دے سیاحتی مقام، بلوچستان دیاں معدنیات… ایہ اوہ خزانے نیں جیہڑے کسے وی ملک کول نہیں۔ بس سانوں حکمت عملی، ایمانداری تے قومی یکجہتی دی لوڑ اے۔

    پاکستان دی شان اوہدے شہراں، در و دیوار، ندی نالیاں، پہاڑاں تے درختاں وچ اے۔ جدوں لاہور دی فضا وچ اذان دی گونج آندی اے، جدوں کراچی دے سمندر تے سورج ڈھلدا اے، جدوں مری دی برف باری دھرتی تے سفید چادر پا دیندی اے، جدوں گلگت دے پہاڑاں وچ پاکستان دی گونج سنائی دیندی اے… ایہ اوہ لمحے نیں جدوں دھرتی آہستہ آہستہ آکھدی اے: "میں شانِ پاکستان آں۔”

    پر سوال ایہ وے کیہ اسیں ایہ شان سنبھال رہے آں؟ کہ اسیں اپنے اندرونی جھگڑیاں، لسانی نفرتاں، فرقہ واریت تے کرپشن نال ایہ شان داغدار نہیں کر دتی؟ ایہ اوہ سوال اے جہڑا ہر پاکستانی نوں اپنے آپ توں کرنا چاہیدا اے۔ جے اسیں پاکستان نوں واقعی فخر نال دنیا دے سامنے پیش کرنا چاہندے آں تاں سب توں پہلاں ساڈے اندر دی صفائی ضروری اے۔ خود احتسابی، دیانتداری تے دھرتی نال وفاداری دی لوڑ اے۔

    شان پاکستان صرف فوج، حکومت یا کسی خاص طبقے دی ذمہ داری نہیں۔ ایہ ہر اک دی ذمہ داری اے۔ جدوں اک استاد نیک نیتی نال پڑھاندا اے، اک ڈاکٹر ایمانداری نال علاج کردا اے، اک پڑھیار دل توں علم حاصل کردا اے، اک عام شہری قانون دی پاسداری کردا اے، تاں اوہ دراصل پاکستان دی شان وچ اضافہ کردا اے۔

    پاکستان ساڈا اے۔ ایہہ اوہ مقدس امانت اے جہڑی ساڈے بزرگاں نے خون دے نال ساڈے حوالے کیتی۔ ہن ساڈی واری اے کہ اسیں اس دی حفاظت کریے، ایہنوں ترقی دی راہ تے لیائیے تے دنیا وچ اس دا ناں فخر نال بلند کریے۔ کیونکہ ایہہ وطن سانوں مفت نہیں ملیا، ایہ ساڈے بزرگاں دی قربانیاں دی مہک نال رچیا بسیا اے۔

    آخر وچ میرے شان پاکستان دے حوالے نال میرا لکھیا اک نغمہ پڑھو:
    ہر دم اپنی آن دے نغمے گانے نیں
    یعنی پاکستان دے نغمے گانے نیں

    ایہدے ہر اک شہر دی دکھ ای وکھری اے
    پنڈی تے ملتان دے نغمے گانے نیں

    مینوں جان توں پیارا میرا دیس اے جی
    میں تے اپنی جان دے نغمے گانے نیں

    ایہ آزادی رب دی ڈھیر عنائیت اے
    رب دے اس احسان دے نغمے گانے نیں

    سارے جگ توں سوہنا ایہدا پرچم اے
    اس پرچم دی شان دے نغمے گانے نیں

    صرف اک گل یاد رکھو:
    پاکستان دی شان اسیں آں تے شان پاکستان ساڈی شان اے۔

  • شانِ پاکستان ،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    شانِ پاکستان ،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    شانِ پاکستان
    تحریر: سیدہ شبانہ رضوی
    "شانِ پاکستان” صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ یہ ہماری شناخت، ہمارے وقار، اور ہمارے خوابوں کا مجموعہ ہے۔ ہم سب کو مل کر اس شان کو برقرار رکھنا ہے — کیونکہ پاکستان ہم سب کی پہچان ہے، فخر ہے، اور زندگی ہے۔

    تاریخ کے دریچوں میں جھانکو تو ایک صدا گونجتی ہے، جو لہو میں بھیگی ہوئی، آنکھوں میں خواب سجائے، اور دل میں یقین کا چراغ جلائے اُبھرتی ہے — وہ صدا ہے "پاکستان”۔

    ایک ایسا خواب جو ستاروں کی روشنی میں نہ دیکھا گیا، بلکہ لہو کی سرخی، ماؤں کے آنسوؤں اور بے شمار قربانیوں سے تعبیر پایا۔
    یہ سرزمین کوئی عام خطۂ خاک نہیں، یہ ایک تصور کا نام ہے — ایک نظریے کی بنیاد پر بننے والی پہلی ریاست۔ یہی ہے شانِ پاکستان۔

    جب زمین تنگ ہو جائے، جب سجدوں پر پہرے ہوں، جب اذانیں گواہی بن جائیں، اور شناخت سوال بن جائے — تب خواب جنم لیتے ہیں۔ ایسے ہی حالات میں ایک خواب علامہ اقبال نے دیکھا، جس کی تعبیر قائداعظم محمد علی جناح نے بنائی۔

    وہ خواب ایک ایسی دھرتی کا تھا جہاں مسلمان آزاد ہو کر سانس لے سکیں، جہاں اذانیں خوف سے نہیں، یقین سے گونجیں، اور جہاں دین و ثقافت کو اپنی مرضی سے جینے کا حق حاصل ہو۔

    14 اگست 1947 کو وہ دن طلوع ہوا، جب ظلم کے اندھیروں کو چیر کر ایک سبز ہلالی پرچم نے آسمان سے بات کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک قوم نے اپنے ہونے کا اعلان کیا۔ یہی وہ سبز ہلالی پرچم ہے جو شانِ پاکستان اور پہچانِ پاکستان ہے۔

    کسی بھی قوم کی عظمت اس کی قربانیوں سے پہچانی جاتی ہے۔ پاکستان کی بنیاد کوئی اینٹ اور پتھر نہیں بلکہ ماؤں کی ممتا، بیٹیوں کی عصمت، بزرگوں کے آنسو، اور نوجوانوں کے بہتے ہوۓ گرم لہو سے رکھی گئی۔

    ریلوے اسٹیشنوں پر کٹے ہوئے جسم، جلتے ہوئے قافلے، اور سسکتی آوازیں — سب کچھ اس زمین کے لیے قربان ہوا۔ یہ تاریخ ہمیں صرف دکھ نہیں دیتی، بلکہ اس وطن کی قیمت یاد دلاتی ہے۔

    یہی وہ قربانی ہے جو پاکستان کی شان کو دوام دیتی ہے۔ یہی وہ درد ہے جو ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم نے یہ وطن یوں ہی نہیں پایا، یہ ایک عظیم امانت ہے۔

    پاکستان ایک گلدستہ ہے — جس میں ہر پھول اپنی مہک رکھتا ہے۔ پنجابیوں کی رونق، سندھیوں کا سنگیت، بلوچوں کا حوصلہ، پختونوں کی غیرت، سرائیکیوں کی مٹھاس، کشمیریوں کا عزم — سب مل کر پاکستان کی شان کو ایک لازوال رنگ دیتے ہیں۔

    ہمارے تہوار، روایات، کھانے، ملبوسات، اور مہمان نوازی ایسی مثال ہے جو کسی اور قوم کے پاس نہیں۔
    یہ ثقافتی تنوع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود ہم ایک ہیں — ایک پرچم، ایک وطن، ایک پہچان۔

    اگر ہم اپنے وطن کی شان کو بیان کریں اور اُن ہیروز کا ذکر نہ کریں جنہوں نے اس شان کو اونچا رکھا، تو یہ داستان ادھوری رہ جائے گی۔

    عبدالستار ایدھی کی خدمت، ڈاکٹر عبدالسلام کی ذہانت، ارفعہ کریم کا خواب، ملالہ کی جرات، اور سپاہیوں کی قربانیاں — سب اس وطن کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

    سرحدوں پر پہرہ دیتے جوان، قلم سے انقلاب لاتے استاد، علم کے چراغ جلاتے طالب علم، اور خون سے تاریخ لکھتے شہید — یہی ہیں ہمارے ہیرو، ہماری شان۔

    پاکستان ایک دن میں نہیں بنا، نہ ہی یہ ایک دن میں سنورے گا۔ ہمیں اس کی تعمیر ہر لمحہ کرنی ہے۔

    پاکستان ایک خوبصورت خواب کی تعبیر ہے جو عدل، مساوات اور بھائی چارے کی بنیاد پر دیکھا گیا تھا۔ لیکن حقیقی شانِ پاکستان تبھی ممکن ہے جب ہر شہری کو یکساں انصاف، تعلیم اور ترقی کے مواقع میسر ہوں۔ یہی وہ ستون ہیں جن پر ایک پائیدار اور خوشحال قوم کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔

    آج کے دور میں جہاں دنیا ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے، پاکستان کو بھی اس وقت انصاف اور تعلیم کے دو مضبوط بازوؤں کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا نظامِ عدل جس میں امیر و غریب کا فرق نہ ہو، جہاں طاقتور کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مظلوم کو بروقت انصاف ملے۔

    اسی طرح تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جو نسلوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں طبقاتی نظامِ تعلیم نے معاشرتی تقسیم کو اور گہرا کر دیا ہے۔ جب تک ہر بچے کو یکساں معیار کی تعلیم نہیں دی جائے گی، تب تک ہم ایک مضبوط قوم نہیں بن سکتے۔

    ترقی کا منصفانہ نظام وہ ہے جس میں صرف چند شہروں یا طبقات کو فائدہ نہ ہو، بلکہ ملک کے پسماندہ علاقوں تک بھی ترقی کی روشنی پہنچے۔ سڑک، بجلی، روزگار، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات ہر پاکستانی کا حق ہیں، نہ کہ کسی خاص طبقے کی ملکیت۔

    اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان دنیا میں عزت و وقار حاصل کرے، تو ہمیں انصاف، تعلیم اور ترقی کو ہر فرد تک یکساں پہنچانے کے لیے انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہی اصل شانِ پاکستان ہے — ایک ایسا ملک جہاں ہر انسان کو عزت، حقوق اور مواقع مساوی طور پر حاصل ہوں۔

    یہی وہ پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائداعظم نے جدوجہد کی۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس خواب کو تعبیر دیں۔

    ہمیں کرپشن سے نفرت، قانون کی پاسداری، انصاف کی یکساں فراہمی، تعلیم کی روشنی، اور برداشت کا پیغام عام کرنا ہے۔

    ہم سب ایک دوسرے کے ہاتھ تھامیں، ایک دوسرے کی طاقت بنیں، اور مل کر اس وطن کو وہ مقام دلائیں جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔

    جب بھی سبز ہلالی پرچم ہوا میں لہراتا ہے، دل سے ایک دعا نکلتی ہے:
    خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

    یہ شان قائم رہے، یہ پرچم بلند تر ہو
    اور ہم سب، اس وطن کے وفادار رہیں، سرشار رہیں۔

    پاکستان، تُو ہماری پہچان ہے
    تُو ہمارا فخر ہے
    تُو ہماری "شان” ہے۔

    پاکستان زندہ باد، پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان. تحریر   : راحین راجپوت پاکپتن

    شانِ پاکستان. تحریر : راحین راجپوت پاکپتن

    شانِ پاکستان
    تحریر : راحین راجپوت پاکپتن
    پاکستان وہ سرزمین جس کا قیام لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں، عزم، اور جدوجہد کا نتیجہ ہے، ایک ایسا وطن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ "شانِ پاکستان” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک احساس، ایک فخر، اور ایک قومی پہچان ہے۔ اس عظیم ملک کی شان اس کی تاریخ، ثقافت، قدرتی وسائل، جغرافیہ، افواج، ایٹمی طاقت، اور سب سے بڑھ کر اس کے باہمت اور جفاکش عوام سے جڑی ہوئی ہے ۔

    تاریخی پس منظر :
    پاکستان کا قیام 14 اگست 1947 کو عمل میں آیا۔ یہ دن نہ صرف آزادی کی نوید لایا بلکہ مسلمانوں کے ایک علیحدہ تشخص کے خواب کی تعبیر بھی تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت، علامہ اقبال کا تصور، اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں اس خواب کی تعبیر میں بنیادی ستون بنے۔ پاکستان کی یہ تاریخ خود اس کی شان کا ایک عظیم باب ہے جو رہتی دنیا تک مثال بن کر قائم رہے گا۔

    اسلامی تشخص اور نظریاتی بنیاد:
    پاکستان کی سب سے بڑی شان اس کا اسلامی نظریہ ہے۔ یہ ملک "لا الہ الا اللہ” کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ اس نظریے نے پاکستانی قوم کو ایک مقصد، ایک سمت، اور ایک روحانی طاقت عطا کی۔ یہاں کی مساجد، مدارس، قرآن و سنت سے لگاؤ، رمضان کی روحانیت، محرم کی عقیدت اور میلاد کی رونقیں سب پاکستان کے اسلامی تشخص کی آئینہ دار ہیں۔

    قدرتی وسائل کی فراوانی:
    اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں برف پوش پہاڑ، دریاؤں کا جال، زرخیز زمینیں، معدنیات، تیل، گیس، کوئلہ، نمک، اور دیگر قدرتی ذخائر اس کی شان میں اضافہ کرتے ہیں۔ تربیلا، منگلا اور دیگر ڈیمز، فصلوں کی پیداوار، اور چار موسموں کا یہ ملک کسی نعمت سے کم نہیں۔

    پاک فوج:
    پاکستان کی سب سے بڑی شان اس کی بہادر افواج ہیں۔ پاکستان آرمی، نیوی اور ایئرفورس نے ہر موقع پر وطن عزیز کا دفاع کیا ہے، چاہے وہ 1948، 1965، یا 1971 کی جنگ ہو، یا دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضربِ عضب ، آپریشن ردالفساد یا آپریشن بنیان مرصوص ہو ، پاک فوج نہ صرف ایک دفاعی طاقت ہے بلکہ قوم کے ہر بحران میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتی ہے۔

    ایٹمی طاقت –
    28 مئی 1998 ء کو پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو اپنی ایٹمی طاقت کا عملی ثبوت دیا۔ یہ دن "یومِ تکبیر” کے نام سے جانا جاتا ہے اور پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک قابلِ فخر سنگِ میل ہے۔ پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے، جو اس کی شان و شوکت اور وقار میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔

    ثقافت اور ورثہ:
    پاکستانی ثقافت اپنی رنگا رنگی، مہمان نوازی، ادب، شاعری، موسیقی، اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں مشہور ہے۔ پنجابی بھنگڑا، سندھی اجرک، بلوچی دستکاریاں، پشتونوں کا پختون ولی، کشمیری قالین، اور گلگت بلتستان کی موسیقی سب پاکستان کی ثقافتی شان کے مظہر ہیں۔ اردو ادب میں غالب، اقبال، فیض، جمیل الدین عالی، احمد فراز، اور پروین شاکر جیسے بڑے نام اسی دھرتی کی پہچان ہیں۔

    تعلیم اور سائنس میں ترقی:
    پاکستان میں تعلیم و تحقیق کے کئی میدانوں میں نمایاں کام ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، اور ڈاکٹر عبدالسلام، جنہیں نوبل انعام ملا، پاکستان کے علمی وقار کی علامت ہیں۔ ملک بھر میں جامعات، تعلیمی ادارے، اور سائنسی ادارے روز بروز ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔

    بین الاقوامی تعلقات اور کردار:
    پاکستان نے عالمی سطح پر کئی اہم کردار ادا کیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کا کردار، افغان جنگ میں بین الاقوامی شراکت داری، اسلامی دنیا میں قائدانہ کردار، اور مسئلہ کشمیر پر جاندار مؤقف پاکستان کی عالمی شان کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے، اور اس کا مؤقف رہا ہے کہ مسائل کا حل بات چیت اور سفارت کاری سے ہونا چاہیے۔

    معاشی و صنعتی ترقی:
    اگرچہ پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود کئی صنعتی اور زرعی شعبوں میں پاکستان نے ترقی کی ہے۔ ٹیکسٹائل، زراعت، کھیلوں کا سامان، اور سرجیکل آلات کی برآمدات میں پاکستان کا نام دنیا میں جانا جاتا ہے۔ فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، اور کراچی جیسے صنعتی شہر ملک کی معاشی ترقی کے مراکز ہیں۔

    کھیلوں میں کامیابیاں:
    کھیل کے میدان میں بھی پاکستان کی شان کچھ کم نہیں۔ کرکٹ، ہاکی، اسکواش، اور سنوکر جیسے کھیلوں میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ عمران خان، جہانگیر خان، جان شیر خان، وسیم اکرم، اور بابر اعظم جیسے کھلاڑی ملک کا فخر ہیں۔ 1992 ء کا کرکٹ ورلڈ کپ اور ہاکی میں عالمی چیمپئن بننا پاکستان کی شان کا اہم پہلو ہے۔

    قوم کی ہمت اور جذبہ:
    پاکستانی قوم میں قربانی، ایثار، اور اتحاد کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ زلزلے ہوں، سیلاب ہوں یا کوئی اور آفت، پاکستانی قوم ہر وقت متحد ہو کر ایک دوسرے کا ساتھ دیتی ہے۔ نوجوانوں میں حب الوطنی، بزرگوں کی دعائیں، ماؤں کی تربیت، اور علما کی رہنمائی اس قوم کی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔

    خلاصہ:
    شانِ پاکستان صرف اس کے ماضی یا طاقت میں نہیں، بلکہ اس کے لوگوں کی امید، عزم، اور اخلاص میں ہے۔ اگر ہم اپنی کمزوریوں پر قابو پاتے رہیں، تعلیم کو عام کریں، انصاف کو یقینی بنائیں، اور کرپشن کا خاتمہ کریں، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہوگا۔

    پاکستان ایک نظریہ، ایک عقیدہ، اور ایک شان ہے جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے۔

    پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد

  • شانِ پاکستان.تحریر:ملک ثاقب شاد تنولی ایڈوکیٹ  ایبٹ آباد

    شانِ پاکستان.تحریر:ملک ثاقب شاد تنولی ایڈوکیٹ ایبٹ آباد

    شانِ پاکستان
    از قلم : ملک ثاقب شاد تنولی ایڈوکیٹ ایبٹ آباد
    پاکستان… یہ صرف سات حرفی لفظ نہیں بلکہ ایک قوم کی پہچان، ایک عقیدہ، ایک نظریہ، اور ان لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کا عکس ہے جنہوں نے صرف اس خواب کی تعبیر کے لیے اپنا کل قربان کر دیا تاکہ آنے والی نسلیں اپنے آج کو آزادی میں جی سکیں۔

    شانِ پاکستان کوئی مخصوص دن، کوئی تقریب، یا کوئی نعرہ نہیں — یہ تو ایک مسلسل جذبہ ہے، ایک لہو کی مہک ہے جو مٹی میں رچ بس گئی ہے۔ یہ وہ پرچم ہے جو ہر آسمان سے اونچا ہے کیونکہ اس کے نیچے ایسی قوم آباد ہے جو دکھ سہہ سکتی ہے، مگر اپنے وطن پر آنچ نہیں آنے دیتی۔

    یہ شان اُن کسانوں کی ہے جن کے ہاتھوں کی مٹی میں پاکستان کی اصل خوشبو بسی ہے۔ یہ شان اُن مزدوروں کی ہے جن کے پسینے سے صنعتیں آباد ہیں۔ یہ ان سائنس دانوں، ان سپاہیوں، ان معلموں کی ہے جو خاموشی سے وطن کی خدمت کر رہے ہیں، اور ان نوجوانوں کی ہے جو روز بروز پاکستان کا نام دنیا میں روشن کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

    شانِ پاکستان، قائد کے الفاظ میں چھپی ہوئی وہ بصیرت ہے جو انہوں نے "اتحاد، ایمان، قربانی” کی صورت ہمیں سونپی۔ یہ اقبال کے خواب کی وہ تعبیر ہے جس میں ایک خود دار، باوقار اور آزاد قوم کی جھلک دیکھی گئی۔جب ہم "شانِ پاکستان” کہتے ہیں تو اس میں ہر وہ بچہ شامل ہوتا ہے جو سائنس، ادب، کھیل یا فن کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کرتا ہے۔ ہر وہ ماں شامل ہے جو بیٹے کو وطن پر قربان کر کے سر فخر سے بلند رکھتی ہے۔ ہر وہ باپ شامل ہے جو بیٹی کو قلم پکڑاتا ہے تاکہ وہ کل کی رہنما بنے۔

    آج اگر پاکستان چاند کو چھو رہا ہے، مصنوعی ذہانت میں آگے بڑھ رہا ہے، دنیا کے فورمز پر آواز بلند کر رہا ہے تو یہ اسی شان کا تسلسل ہے جس کا آغاز 1947ء کو ہوا تھا۔ مگر شان صرف کامیابیوں سے نہیں بنتی، شان بنتی ہے استقامت سے، قربانی سے، اور ان تھک محنت سے۔

    پاکستان نے یہ سب جھیلا ہے۔ زلزلے آئے، سیلاب بہا لے گئے، دہشت گردی نے دہلا دیا، مگر یہ قوم جھکی نہیں۔ شانِ پاکستان اسی غیرت کا نام ہے۔یہ شان مظلوم کشمیریوں کے لیے بلند ہوتی ہے، فلسطین کے لیے دل دھڑکاتی ہے، اور عالم اسلام کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ پاکستان وہ خطہ ہے جہاں اذان کی آوازیں گونجتی ہیں، مسجدیں آباد ہیں، گوردوارے، چرچ، مندر سب اپنی جگہ قائم ہیں — یہی تو ہے اصل شان: برداشت، محبت، ہم آہنگی۔

    مگر اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض ماضی کی قربانیوں پر فخر نہ کریں، بلکہ حال کو سنواریں تاکہ آنے والا کل بھی اسی شان کو برقرار رکھ سکے۔ ہمیں تعلیم کو عام کرنا ہے، کرپشن کو ختم کرنا ہے، قانون کی بالادستی کو مضبوط کرنا ہے، اور اپنے وطن سے اتنی محبت کرنی ہے کہ دنیا کہے: واقعی، یہ پاکستان ہے… ایک باوقار قوم، ایک شان دار ملک! شانِ پاکستان تب مکمل ہو گی ۔پاکستان کی شان صرف ماضی کی قربانیوں میں نہیں، بلکہ حال کے ان چہرہ در چہرہ کرداروں میں ہے جو خاموشی سے اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ وہ سپاہی جو برفانی مورچوں میں اپنے وطن کے لیے سینہ سپر ہے، وہ استاد جو کچی دیواروں کے نیچے بیٹھ کر بچوں کو پڑھا رہا ہے، وہ ڈاکٹر جو ہر مریض کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، وہ مزدور جو چٹختے ہاتھوں سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، اور وہ ماں جو بیٹے کو وطن کے لیے تیار کرتی ہے — یہی ہیں وہ لوگ جو پاکستان کو شان بخشتے ہیں۔لیکن اس شان کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مخلص ہوں۔

    ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف جھنڈا لہرا دینا، قومی ترانہ گا دینا، یا سوشل میڈیا پر محبت کے الفاظ لکھ دینا کافی نہیں۔اصل محبت تو وہ ہے جو عمل میں جھلکے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان مضبوط ہو، باوقار ہو، ترقی کرے، تو ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ امانت میں خیانت نہ کریں، کام میں دیانت رکھیں، زبان سے سچ بولیں، اور دل میں اخلاص رکھیں — کیونکہ یہی وہ اینٹیں ہیں جن پر ایک مضبوط پاکستان کھڑا ہو سکتا ہے۔

    شانِ پاکستان تب ہی ہو گی جب ہم اپنے اداروں کی عزت کریں گے، اپنے قانون کو اپنا مانیں گے، اور اپنے وطن کے ہر شہری کو برابر کا پاکستانی سمجھیں گے۔ ہمیں نفرت، تعصب، فرقہ واریت، اور بدعنوانی جیسے ناسوروں سے نکلنا ہوگا۔ کیونکہ یہ بیماریاں نہ صرف ہمارے دلوں کو زہر آلود کرتی ہیں، بلکہ ہماری قوم کی روح کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ جب ہم اپنے ہم وطنوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں گے۔ جب ہم اختلاف کو دشمنی نہیں، بلکہ تنوع سمجھیں گے۔ جب ہم تنقید کو اصلاح کا ذریعہ سمجھیں گے۔ جب ہم صرف سوال نہیں کریں گے، بلکہ حل بھی دیں گے۔

    آج، اگر ہم سب اپنے اپنے دائرے میں دیانت داری محنت اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ کام کریں، تو یقین جانیے یہ وطن وہ پاکستان بن جائے گا جسے دنیا "ترقی یافتہ”، "امن کا گہوارہ” اور "مثالی ملک” کہے گی۔

    کیونکہ شانِ پاکستان تم ہو، ہم ہیں، یہ قوم ہے۔
    یہ پرچم یہ مٹی یہ محبت ملک یہی ہماری شان ہے۔

  • شانِ پاکستان،تحریر: اقصیٰ جبار

    شانِ پاکستان،تحریر: اقصیٰ جبار

    شانِ پاکستان
    تحریر: اقصیٰ جبار
    پاکستان کا خواب. شان کی پہلی جھلک
    پاکستان ایک خواب سے شروع ہونے والا وہ سفر ہے، جو قربانی، استقلال اور نظریاتی عزم سے عبارت ہے۔ یہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک ایمان، ایک نظریہ اور ایک دعا کا حاصل ہے۔ اس کی بنیاد میں شہداء کا لہو، ماؤں کی آہیں، بچوں کی قربانیاں، اور قائداعظم کی لگن رقم ہے۔ یہی پاکستان ہماری سرزمین ہی نہیں، ہماری شان ہے۔

    جب علامہ اقبال نے ایک آزاد ریاست کا خواب دیکھا تو وہ محض جغرافیائی خاکہ نہ تھا۔ وہ ایک ایسی ریاست کا تصور تھا جہاں مسلمان اپنے دین، تہذیب، اور تشخص کے مطابق آزادی سے جی سکیں۔ اس خواب کو تعبیر بخشی قائداعظم محمد علی جناح نے، جنہوں نے اصولوں کی سیاست کی اور بے ٹوک فرمایا: "ہمیں نہ حکومت کا لالچ ہے، نہ اقتدار کی ہوس — ہمیں تو صرف ایک آزاد ریاست چاہیے جہاں ہم اپنے دین اور اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔”

    قربانی کا سفر شان کی اصل بنیاد
    قیامِ پاکستان کی تحریک صرف جلسے جلوسوں سے نہیں جیتی گئی، بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری قوم کی اجتماعی قربانی اور جدوجہد کارفرما تھی۔ وہ لوگ جنہوں نے ہجرت میں اپنے پیارے کھو دیے، وہ نوجوان جو راہِ آزادی میں شہید ہوئے، ان سب کی قربانیاں ہماری شان کا حصہ ہیں۔

    کبھی کبھی دل سوال کرتا ہے: اگر وہ سب آج زندہ ہوتے تو کیا محسوس کرتے؟ کیا ہم ان کے خواب کے مطابق پاکستان بنا سکے؟ شاید نہیں — مگر ان کا جذبہ آج بھی ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے، اور یہی جذبہ ہماری شان ہے۔

    ترقی کی راہ . زندہ قوم کی نشانی
    قلیل عرصے میں پاکستان نے جن شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، وہ دنیا کے لیے باعثِ حیرت ہے۔ سائنس، زراعت، دفاع، ٹیکنالوجی، اور تعلیم ، ہر میدان میں ترقی ہوئی۔ دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بننا ہماری قومی غیرت اور استقامت کا مظہر ہے۔

    جب کوئی پاکستانی عالمی سطح پر میڈل جیتتا ہے، نئی اختراع کرتا ہے، یا کسی عالمی فورم پر ملک کی نمائندگی کرتا ہے تو وہ صرف کامیاب نہیں ہوتا، بلکہ پاکستان کی شان کو بلند کرتا ہے۔

    پاکستانی شہری . اصل چمکتا ستارہ
    پاکستان کی حقیقی شان ایوانوں سے زیادہ گلی کوچوں، کھیتوں، اسکولوں اور فیکٹریوں میں جھلکتی ہے۔ وہ شہری جو محنت سے دن رات کام کرتا ہے، جو علم بانٹتا ہے، جو تخلیق کرتا ہے، جو راستوں کو روشن کرتا ہے — یہی اصل ہیرو ہیں۔
    جو اپنے فرض کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں ، چاہے وہ سرحد پر پہرہ دے رہے ہوں، اسپتال میں خدمت کر رہے ہوں، کلاس روم میں علم دے رہے ہوں، یا چھوٹے کاروبار سے اپنے خاندان کو سنبھال رہے ہوں ، وہی افراد درحقیقت پاکستان کی شان ہیں۔

    ثقافت اور روایات . شان کی روح
    پاکستان ایک رنگین گلدستہ ہے جس میں مختلف زبانیں، رسم و رواج، تہوار، لباس، اور ذائقے گھل مل کر ایک خوبصورت قومی تصویر بناتے ہیں۔ ہر خطے کی تہذیب، ہر علاقے کی مہمان نوازی، ہر رسم کا خلوص ، ہماری اجتماعی شان کو تشکیل دیتا ہے۔

    اقلیتوں کا کردار .ہم سب کی مشترکہ شان
    پاکستان کی شان صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ ہمارے مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی شہری بھی اس ملک کے محب وطن سپاہی ہیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ نے پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی، جو انسانیت کی خدمت کا انمول نمونہ ہے۔ یہ اقلیتیں نہ صرف ملک کی ترقی میں شریک ہیں بلکہ پاکستان کے مثبت چہرے کی علامت ہیں۔ ان کا احترام، تحفظ، اور مساوی حقوق دینا ہماری قومی شان کا تقاضا ہے۔

    نوجوان نسل . شان کا وارث
    آج کا نوجوان تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باہمت ہے۔ یہی وہ نسل ہے جو پاکستان کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔ اگر وہ اپنے علم، جذبے، اور ہنر کو ملک کے لیے وقف کرے، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ترقی سے نہیں روک سکتی۔
    سوشل میڈیا کے ذریعے رائے دینا کافی نہیں ، میدانِ عمل میں اترنا ہوگا۔ صرف تعلیم حاصل کرنا کافی نہیں ، کردار بھی سنوارنا ہوگا۔ یہی نوجوان پاکستان کا مستقبل اور اس کی شان کا وارث ہے۔

    روشن مستقبل . پاکستان کا وژن
    ہمیں آج یہ طے کرنا ہے کہ ہم کیسا پاکستان اگلی نسل کو دینا چاہتے ہیں؟ ایک ایسا پاکستان:
    جہاں عدل و انصاف عام ہو
    جہاں تعلیم ہر بچے کا حق ہو
    جہاں عورت کو مکمل تحفظ اور عزت ملے
    جہاں مزدور باعزت زندگی گزارے
    جہاں اقلیتیں خود کو محفوظ سمجھیں
    اگر ہم یہ وژن لے کر چلیں تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔

    چیلنجز کا سامنا . شان کی آزمائش
    بلاشبہ ہم مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ، بدعنوانی، غربت، تعلیم و صحت کی کمی، اور معاشرتی ناانصافیاں لیکن یہ سب وقتی ہیں۔ ہم نے زلزلے سہے، سیلاب جھیلے، دہشتگردی کا سامنا کیا، وباؤں میں بھی ثابت قدم رہے اور ہمیشہ ایک متحد قوم کی حیثیت سے ابھرے۔ یہی اتحاد، یہی استقامت پاکستان کی ناقابلِ شکست شان ہے۔

    ہم کیا کر سکتے ہیں؟
    اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی شان قائم رہے، تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا:
    ✅ سچ کو اپنانا ہوگا
    ✅ اپنے فرض کو اولین درجہ دینا ہوگا
    ✅ وطن سے محبت کو محض زبان سے نہیں، عمل سے ثابت کرنا ہوگا
    ✅ دوسروں کے حقوق اور رائے کا احترام سیکھنا ہوگا
    ✅ علم، محنت، اور دیانت کو اپنی زندگی کی پہچان بنانا ہوگا

    اختتامیہ . شان ہم سے ہے
    پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ، یہ ہمارا مان، پہچان اور فخر ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ملک کے شہری ہیں۔ اگر ہم سب اپنے اپنے حصے کی بہتری میں صرف ایک قدم بھی آگے بڑھائیں، تو یہ ملک عظمت کی نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔

    شانِ پاکستان ہم خود ہیں ، جب ہم اچھے ہوں گے، پاکستان عظیم ہوگا۔
    "خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا”
    پاکستان زندہ باد!
    شانِ پاکستان پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان،تحریر: رمشہ بھٹی گوجرانوالہ

    شانِ پاکستان،تحریر: رمشہ بھٹی گوجرانوالہ

    شانِ پاکستان
    تحریر: رمشہ بھٹی گوجرانوالہ
    پاکستان وہ پاک سرزمین ہے جو لاکھوں قربانیوں کے بعد 14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آیا۔ یہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب، ایک امید کا نام ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے جب قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا، تو ان کی نگاہوں میں ایک ایسے ملک کا تصور تھا جہاں اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کی جائے، جہاں مسلمان اپنے دین، ثقافت، زبان اور تہذیب کے مطابق آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔ آج کا پاکستان، ان ہی قربانیوں، دعاؤں، محنتوں اور خوابوں کی تعبیر ہے۔

    پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ایک خوبصورت ملک ہے۔ شمالی علاقہ جات کی برف پوش چوٹیاں، وادیٔ سوات، ہنزہ، اسکردو اور گلگت کی دل فریب وادیاں، نیلم اور کنہار کی بہتی ندیاں، ہر منظر دل کو چھو لینے والا ہے۔ ملک کے جنوب میں بحیرہ عرب کی پرامن لہریں، صحرائے تھر کی وسیع وسعتیں، اور بلوچستان کی چٹانوں میں چھپی خوبصورتی پاکستان کی قدرتی شان کی گواہی دیتی ہیں۔

    دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ “کے ٹو”، پاکستان میں ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام بھی یہیں موجود ہے۔ پاکستان کے یہ خوبصورت قدرتی مناظر نہ صرف سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں بلکہ دنیا کو بتاتے ہیں کہ یہ ملک کس قدر پرکشش اور متنوع سرزمین ہے۔

    پاکستان کی ثقافت صدیوں پرانی روایات، رواج، موسیقی، لباس اور زبانوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتون، کشمیری اور سرائیکی ثقافتوں کا سنگم ہے۔ ہر خطے کی اپنی مخصوص زبان، روایتی کھانے، لباس اور رسومات ہیں جو پاکستان کو رنگا رنگ ثقافتی ملک بناتے ہیں۔پاکستانی موسیقی، قوالی، کلاسیکی گائیکی، لوک دھنیں، اور جدید پاپ موسیقی عالمی سطح پر پسند کی جاتی ہیں۔ ادب کے میدان میں علامہ اقبال، فیض احمد فیض، اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور احمد ندیم قاسمی جیسے عظیم نام پاکستان کی ادبی شان ہیں۔

    پاکستان کی افواج دنیا کی بہترین اور پیشہ ور افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ دفاعی لحاظ سے پاکستان نہ صرف اپنے آپ کو مضبوط سمجھتا ہے بلکہ عالمی امن میں بھی اپنا کردار ادا کرتا آیا ہے۔ پاکستان کی فوج اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہے۔

    یومِ دفاع، 6 ستمبر، ہمیں اس شان و شوکت کی یاد دلاتا ہے جب 1965 میں پاکستان کی فوج اور عوام نے یکجہتی کے ساتھ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ، ہمارے سپاہیوں نے اپنی جانیں قربان کر کے وطن کی عزت کو بلند رکھا ۔ پاکستان ایئر فورس، نیوی ، بحری اور آرمی کے جوانوں کی قربانیاں اس قوم کا فخر ہیں۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایااور ڈاکٹر عبدالسلام، جنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا، پاکستان کی علمی شان ہیں۔ ملک میں بہت سے اعلیٰ تعلیمی ادارے نوجوان نسل کو بہترین تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پاکستانی نوجوان دنیا بھر میں اپنی ذہانت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، اور ای-کامرس جیسے شعبوں میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

    کھیلوں کے میدان میں بھی پاکستان کی اپنی شان ہے۔ کرکٹ میں پاکستان کا شمار دنیا کی بڑی ٹیموں میں ہوتا ہے۔ ہاکی، اسکواش، سنوکر اور ریسلنگ جیسے کھیلوں میں بھی پاکستان نے کئی بار عالمی سطح پر اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔جہاں ارشد ندیم نے ایتھلیٹکس میں ملک کا نام روشن کیا، وہیں نکہت زریں، کرن خان، اور دیگر خواتین کھلاڑیوں نے بھی دنیا کو دکھایا کہ پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں۔

    پاکستان کی اصل شان اس کی عوام ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قدرتی آفات، غربت، دہشتگردی، اور مسائل کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہارتے۔ سیلاب ہو یا زلزلہ، پاکستان کے عوام نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ ان میں جینے کا جذبہ، محبت، مہمان نوازی، قربانی، اور خلوص بے مثال ہے۔پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل وقت میں یکجہتی، قربانی اور ایثار کا مظاہرہ کیا ہے۔ چاہے وہ زلزلہ 2005 ہو، یا کورونا کی وبا، ہر لمحے پاکستانی قوم نے اپنے بھائیوں کے لیے دل کھول کر مدد کی۔

    پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے جہاں دینِ اسلام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں اذان کی صدا، رمضان کی روحانیت، عید کی خوشیاں، قربانی کی عظمت، میلاد النبی ﷺ کی محفلیں، سب پاکستان کی مذہبی شان کا اظہار ہیں۔ مدارس، مساجد، خانقاہیں اور درگاہیں روحانیت کا سرچشمہ ہیں جہاں لوگ دین کی روشنی حاصل کرتے ہیں۔

    پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اس ملک کا روشن مستقبل ہیں۔ ان میں جوش، جذبہ، صلاحیت اور بلند حوصلہ موجود ہے۔ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے، سڑکوں پر محنت کرنے والے، اور دنیا بھر میں کام کرنے والے نوجوان پاکستان کی ترقی کے علمبردار ہیں۔اگر ان نوجوانوں کو درست رہنمائی، مواقع اور وسائل میسر آئیں تو یہی نوجوان پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں۔

    پاکستان ہماری قومی شناخت ہے۔ ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے۔ ہمیں کرپشن، نفرت، انتہا پسندی، جھوٹ، بددیانتی اور بدعنوانی سے نجات حاصل کرنی ہے۔ ہمیں علم، اتحاد، قربانی، اخلاص، محبت، انصاف، برداشت اور ایمانداری کے اصولوں کو اپنانا ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دینی ہے، اپنی خواتین کو مساوی حقوق دینے ہیں، اقلیتوں کو تحفظ دینا ہے
    پاکستان ایک نعمت ہے، ایک تحفہ ہے، ایک خواب کی تعبیر ہے۔ ہمیں اس کی قدر کرنی ہے۔ شانِ پاکستان صرف ماضی کے کارنامے نہیں، بلکہ حال کی محنت اور مستقبل کے خواب بھی ہیں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، اس کی عزت، ترقی اور خوشحالی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    آئیے! ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں گے جس پر ہر پاکستانی فخر کرے اور دنیا اسے ایک باوقار، پرامن اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر پہچانے۔

    پاکستان زندہ باد!
    شانِ پاکستان پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر: مقدس ارشد

    شانِ پاکستان.تحریر: مقدس ارشد

    شانِ پاکستان
    تحریر: مقدس ارشد
    پاکستان کی بنیاد ایک عظیم مقصد کے تحت رکھی گئی تاکہ مسلمانوں کو ایک آزاد خطہ مل سکے جہاں وہ اپنے دین ،روایات اور اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔ یہ خطہ دنیا کے افق پر ایک نئی امید اور نور بن کر ابھرا ۔ پاکستان صرف ایک ملک ہی نہیں بلکہ عظیم نظریہ ، ہزاروں قربانیوں کی روشن مثال اور امیدوں کا چراغ ہے ۔ یہ وہ سر زمین ہے جہاں غیرت ، عزم اور محبت ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہیں ۔

    پاکستان کی تاریخ بہت سی قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ 1947ء کا سورج آزادی کی خوشبولیے طلوع ہوا اور لاکھوں قربانیوں کے بعد مسلمانوں کو یہ وطن نصیب ہوا۔

    1947ء میں حاصل ہونے والی آزادی صرف جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک سوچ اور جدوجہد کا عملی اظہار بھی تھی ۔ ہمارے رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت اور ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں نے ہمیں یہ آزادی دلائی ہے ۔

    پاکستان کی سر زمین دنیا کی خوبصورت ترین وادیوں ، پہاڑوں اور دریاؤں پر مشتمل ہے ۔ شمال میں برف پوش پہاڑ ، جنوب میں بلوچی صحرا اور وسط میں پنجاب کے میدان، یہ سبھی مل کر پاکستان کو قدرت کا انمول تحفہ بناتے ہیں ۔

    یہ وطن مختلف ثقافتوں ، زبانوں اور قومیتوں کا حسین گلدستہ ہے ۔ سندھ کی ثقافتی رونق ، پنجاب کی مہمان نوازی ، خیبرپختونخواہ کی عزت اور بلوچی بھائیوں کی سادگی سب مل کر پاکستان کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں ۔

    تعلیم اور سائنس میں پاکستان نے بہت سے کارنامے سر انجام دیے ۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے فزکس میں نوبیل انعام جیت کر پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا ۔ اس کے علاوہ ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کےلیے کوششیں اورارفع کریم کا آئ ٹی کی دنیا میں کارنامہ سب اس وطن کی شان کا حصّہ ہیں ۔

    پاکستان کا شمار دنیا کے بہترین زرعی ممالک میں ہوتا ہے ۔ یہاں گندم ،چاول ، مکئ ، گنا اور کپاس جیسی فصلیں پیدا ہوتی ہیں ۔ پاکستانی آم ،مالٹے اور کینو کی ایک الگ پہچان ہے ۔

    کھیلوں کے میدان میں بھی پاکستان پیچھے نہیں ۔ ہاکی فیڈریشن ، کرکٹ اسکواش اور سنوکر میں پاکستان نے بہت سے اعزازات جیتے۔ عمران خان ، جہانگیر خان اور یونس خان جیسے ہیرو اس مٹی کی شان ہیں ۔

    پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔ سونا ، نمک ، کوئلہ ، گیس اور تیل کی دولت اس سر زمین کی گود میں چھپی ہوئی ہے ۔

    پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔ دنیا کا دوسرا بڑا گلیشیئر ، سب سے بڑی نمک کی کان ، دنیا کی خوبصورت جھیلیں اور صحرا فقط پاکستان میں ہیں ۔ یہاں کے شہر ، دیہات اور قدرتی مناظر ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔

    پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہوتی ہے ۔ ہمارے فوجی سپاہی ہر آفت میں قوم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں ۔ قدرتی آفات ہوں یا دشمن کی سازش ، یہ بہادر سپاہی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کا دفاع کرتے ہیں۔

    پاکستان کی سب سے بڑی شان اس کے لوگ ہیں ۔ پاکستانی قوم ہمیشہ مشکل وقت میں متحد اور با ہمت رہی ہے ۔ زلزلے ہوں یا سیلاب قوم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ۔

    پاکستان ایک نئی امید، نئے جذبے اور روشن مستقبل کا ملک ہے ۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم محنت ، ایمانداری اور بھائی چارے کے ساتھ اس وطن کو مزید مضبوط اور شان دار بنائیں ۔ نوجوان نسل اس ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے ۔ اگر ہم سب سچے جذبے کے ساتھ اپنا اپنا کردار ادا کریں تو کوئی بھی وجہ نہیں کہ پاکستان دنیا کے بہترین ممالک میں شامل نہ ہو سکے ۔

    پاکستان ہم سب کے لیے اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے ۔ اس سر زمین کی ترقی ،عزت اور سالمیت کے لیے ہم سب کو بھر پور کوشش کرنا ہو گی ۔
    آئیے ہم سب مل کر شانِ پاکستان کو مزید بلند کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ یہ ملک واقعی عظمت اور شان کی علامت ہے ۔