Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ ہردور میں امن معاہدے لایا،عمل نہ دارد !
    ٹرمپ منصوبے کا یہ مطلب نہیں،پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا
    پاکستان میں کئی مقبول لیڈر اقتدار میں آئے،قوم کیلئے صرف نواز شریف فکرمند
    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل، فلسطین 20 نکاتی منصوبہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ٹرمپ سے قبل بھی، بل کلنٹن، بش اور اوباما نے بھی اپنے اپنے ادوار میں امن معاہدے دنیا میں پیش کئے، 1993 میں اوسلو معاہدہ، پھر بش دور میں امریکہ، یورپی یونین ،روس اور اقوام متحدہ نے پیش کیا اوباما دور میں مذاکرات متعدد بار ہوئے، اب امریکی صدر ٹرمپ نے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس منصوبے کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک سوالیہ نشان ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا یا کرنے جا رہا ہے، پاکستان دیگر اسلامی ممالک کی طرح اسرائیل، فلسطین امن معاہدے میں شامل ہیں،

    پاکستان میں اس وقت سیاسی لیڈرشپ کا فقدان ہے، سیاسی جماعتوں میں موجود علاقائی سیاستدان مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر رہے ہیں،جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کب تھی کس کا کیا کردار رہا، اس سلسلے میں پاکستان سمیت ایک عالم گواہ ہے،کیا انہی سیاست دانوں کی وجہ سے آئین کا قتل عام نہیں ہوا؟ کیا آئین کے قتل عام میں ملوث یہ سیاستدان نہیں تھے؟ کہا جاتا ہے کہ عمران خان مقبول لیڈر ہے چلیے مان لیا عمران خان مقبول لیڈر ہیں، کیا وہ جس کشتی میں سوار ہو کر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تھے، اس کشتی کے ملاح کون تھے؟ جمہور کے مسائل کا کسی کو ادراک ہے، نہ تھا، نہ ہے، کس طرح اقتدار حاصل کیا جائے اور کیسے کیا جائے اقتدار کی فکر سب کو ہے اس ملک کو اس عوام کی فکر کسی کو نہیں،سوچیے اور غور کیجئے،

    نواز شریف ملکی سیاسی تاریخ میں ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں، جنہوں نے ملکی دفاع مضبوط کرنے کے بعد 2013 اور 2017 جب وزیراعظم بنے تو ان کی توجہ کا مرکز معاشی ترقی تھی آج کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار گواہ ہیں، ان کے خلاف پانامہ سے قبل جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور نااہلی جیسے مقدمات انہی سیاستدانوں کے سامنے بنائے گئے، خدا کی پناہ اعلیٰ ججوں کا ایک گروپ بھی اس سازش میں ملوث نہیں تھا؟ بحیثیت قوم ہم نے اپنے سیاسی لیڈرشپ کی قدر نہیں کی، جس کا خمیازہ آج ملک و قوم دونوں بھگت رہے ہیں، جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کی آڑ لیکر سیاستدانوں کی اکثریت نے عوام اور اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، آج کی بین الاقوامی سیاسی شطرنج کھیلے جانے والی گیم میں پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، ملکی معیشت کو سنبھالنا ایک چیلنج ہے، پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وفاقی وزیر خارجہ کی سیاسی حکمت عملی درست راستوں پر چل رہی ہے،

    پاک فوج کسی ایک فرد کا نام نہیں پاک فوج اور جملہ اداروں کو اس ملک کی سرحدوں کی فکر تھی اور یہ جاری ہے، تاہم ہم نے بحیثیت قوم، سیاسی جماعتوں نے اپنے قائدین سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا،،بقول شاعر ،،
    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں
    کون سا داغ نکال کر دل سے ثبت سرےدیوان کریں

  • جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    گزشتہ چند برسوں میں ہمارے معاشرے میں یہ رجحان شدت سے بڑھا ہے کہ جیسے ہی کوئی بڑا جرم رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا اسے اپنی اولین ترجیح بنا لیتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے طوفان برپا ہو جاتے ہیں، اخبارات کی سرخیاں سنسنی خیز انداز میں لکھی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ تصویریں اور ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ اطلاع رسانی کا عمل ہے مگر اصل میں یہ ایک ایسا طرزِ عمل ہے جو معاشرتی اقدار، نفسیات اور قانون پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

    جب کسی شہر یا علاقے میں جرم ہوتا ہے اور اسے بار بار نشر یا شیئر کیا جاتا ہے تو عوام میں غیر یقینی اور خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جرم ہر جگہ ہے اور وہ کسی وقت بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر معاشرے کو غیر محفوظ بنا کر پیش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ میڈیا اکثر مجرم کے نام، تصویر اور تفصیلات ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جیسے وہ کوئی غیر معمولی شخصیت ہو۔ اس عمل سے نادانستہ طور پر مجرم کو شہرت ملتی ہے۔ بعض اوقات لوگ جرم سے زیادہ مجرم کی جرأت یا "کارنامے” کو یاد رکھنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے تاثر سے دوسرے افراد کو بھی یہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ اسی راستے پر چلیں تاکہ انہیں بھی پہچان مل سکے۔

    جرائم کی خبر دیتے ہوئے بعض اوقات میڈیا اس حد تک تفصیل بیان کرتا ہے کہ مجرم کے طریقۂ واردات کی مکمل کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ اس سے وہ افراد جو جرم کی طرف میلان رکھتے ہیں، انہیں عملی "رہنمائی” مل جاتی ہے۔ یہ رجحان بالخصوص بینک ڈکیتی، اغوا یا انٹرنیٹ فراڈ جیسے جرائم میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس سب کے ساتھ ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ جرائم کی مسلسل تشہیر نوجوان نسل پر نہایت برا اثر ڈالتی ہے۔ جب وہ روزانہ قتل، چوری، ڈاکہ یا زیادتی جیسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں یہ تاثر بیٹھنے لگتا ہے کہ یہ سب "عام” باتیں ہیں۔ یوں جرائم کے خلاف حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے اور برائی کے خلاف اجتماعی ردِ عمل دھندلا جاتا ہے۔

    میڈیا کا کام حقیقت بیان کرنا ہے، لیکن خبر کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ خوف و ہراس یا سنسنی پھیلائے، صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کی اطلاع دے مگر اس کو تفریح یا ڈرامے کا رنگ نہ دے۔ بدقسمتی سے آج زیادہ تر میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا چینلز ریٹنگ اور ویوز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خبر کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے غیر ضروری تفصیلات اور جذباتی تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں صحافتی اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داری پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ میڈیا کو اپنی زبان، الفاظ اور انداز پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ سخت الفاظ، ڈرامائی بیانات اور خوفناک تصاویر استعمال کرنے سے خبر ایک "تفریحی پیکیج” بن جاتی ہے۔ صحافتی اصول یہ کہتے ہیں کہ جرم کی خبر سادہ، مؤثر اور غیر جانبدار انداز میں دی جائے۔

    ریاست پر لازم ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے ایک واضح ضابطۂ اخلاق مرتب کرے۔ ایسا ضابطہ جو بتائے کہ کون سی معلومات عوام تک پہنچانی ضروری ہیں اور کون سی معلومات جرم کو بڑھا سکتی ہیں۔ صرف ضابطہ بنا دینا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اداروں کو سختی کے ساتھ نگرانی کرنی ہوگی تاکہ میڈیا ریٹنگ کی خاطر قانون کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اگر کوئی چینل یا پلیٹ فارم جرم کی غیر ضروری تشہیر کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

    اگر جرم کی خبر دینی ہی ہے تو اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ عوام کو اس سے سبق ملے۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں ڈکیتی ہوئی ہے تو اس کے ساتھ عوام کو حفاظتی تدابیر سے بھی آگاہ کیا جائے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کے طریقۂ واردات پر نہیں بلکہ اس کے اسباب پر بات کرے۔ مثلاً بے روزگاری، غربت، منشیات یا سماجی ناانصافی جیسے عوامل پر روشنی ڈالی جائے تاکہ اصل بیماری کا علاج ہو سکے۔ جرائم کی خبر کے ساتھ عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ جرم سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور اگر جرم ہو جائے تو کس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا جائے۔

    آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جرم کی خبر دینا ایک صحافتی ضرورت ہے، مگر اس خبر کو اس انداز میں پھیلانا کہ معاشرہ خوف زدہ ہو یا مجرم ہیرو بن جائے، نہایت خطرناک ہے۔ خبر کا مقصد عوامی شعور بیدار کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ریٹنگ بڑھانا یا سنسنی خیزی پھیلانا۔ اگر میڈیا اور ریاست دونوں اپنی ذمہ داری پوری کریں تو جرائم کی تشہیر کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور خبر کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

  • تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور

    تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور

    تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور
    تحریر: ملک ظفر اقبال
    تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھا اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ دنیا میں معاشی، سائنسی اور معاشرتی میدانوں میں آگے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا حق بس ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔ کتابوں اور تقاریر میں تو کہا جاتا ہے کہ "تعلیم سب کے لیے”، مگر حقیقت میں یہ سہولت غریب کے لیے دن بدن دور ہوتی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں تعلیم ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور کاروباری لوگ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے بزنس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگی پرائیویٹ تعلیم عام والدین کی پہنچ سے باہر ہے۔ شہروں میں اچھے معیار کے اسکول اور کالجز زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں جہاں فیسیں ہزاروں اور لاکھوں میں ہیں۔ ایک مزدور یا کم آمدنی والا والد اپنے بچوں کو ان اداروں میں پڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

    اگر ہم سرکاری اداروں کی کارکردگی کی بات کریں تو فائلوں کی حد تک تو کامیابی حاصل ہے، مگر فیلڈ رپورٹ کے مطابق اس میں بہت کچھ جھوٹ لکھا ہوتا ہے۔ سرکاری اداروں کی زبوں حالی خود وزیرِ تعلیم بیان کر چکے ہیں کہ کس طرح سرکاری استاد سرکار کو چونا لگاتے ہیں۔ جہاں غریب کے بچے پڑھتے ہیں وہاں تعلیمی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ اکثر اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کی نایابی اور دیگر مسائل طلبہ کی تعلیم میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ کئی اسکولوں میں بجلی، پانی اور بیت الخلاء تک موجود نہیں۔

    کتابوں اور اسٹیشنری کا بوجھ بھی غریب والدین کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ سرکاری اداروں میں بچوں کو بروقت کتب میسر نہیں آتیں جبکہ مہنگائی کے اس دور میں کتابیں، کاپیاں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ مزید بوجھ ڈال دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غریب بچے اکثر تعلیم کی بجائے مزدوری پر لگ جاتے ہیں تاکہ گھر کے اخراجات پورے کر سکیں۔ یوں تعلیم ان کے لیے خواب اور مشقت حقیقت بن جاتی ہے۔

    ہمارے نظامِ تعلیم نے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے جس سے امیر کے بچے مہنگے سکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم پاتے ہیں اور آگے جا کر اعلیٰ عہدوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب غریب کے بچے یا تو سرکاری سکولوں کی کمزور تعلیم تک محدود رہتے ہیں یا غربت کی وجہ سے پڑھائی ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی طبقاتی فرق معاشرے میں ناانصافی، احساسِ محرومی اور جرائم کو جنم دیتا ہے۔

    پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم دے۔ لیکن افسوس کہ یہ شق آج تک مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکی۔ اگر حکومت واقعی تعلیم کو سب کے لیے ممکن بنانا چاہتی ہے تو اسے:

    * سرکاری اسکولوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا ہوگا،
    * پرائیویٹ اداروں کی فیسوں پر کنٹرول رکھنا ہوگا،
    * کتابیں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ مفت فراہم کرنا ہوں گے،
    * اور سب سے بڑھ کر والدین کو معاشی سہارا دینا ہوگا تاکہ بچے مزدوری کے بجائے اسکول جا سکیں۔

    مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے والدین مجبوراً بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں بھیجتے ہیں۔ *تعلیم سب کے لیے* کا نعرہ اُس وقت حقیقت بن سکتا ہے جب غریب اور امیر کے بچوں کے درمیان تفریق ختم ہو۔ اگر غریب کا بچہ تعلیم سے دور رہے گا تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ تعلیم کو طبقاتی نہیں بلکہ قومی بنیادوں پر عام کرنا ہوگا، ورنہ یہ نعرہ صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود رہے گا۔

    آخر کب تک؟

  • ٹرمپ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، بھارت پر دباؤ، پاکستان سے قربت

    ٹرمپ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، بھارت پر دباؤ، پاکستان سے قربت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں ایک جانب بھارت کے ساتھ تعلقات کو مسلسل دھچکے دیے ہیں، وہیں دوسری جانب پاکستان کے ساتھ روابط میں غیر معمولی تیزی دکھائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں یہ ’’ری بیلنسنگ‘‘ وقتی حکمت عملی ہے یا طویل المدتی پالیسی، اس پر ابھی واضح نہیں کہا جا سکتا۔

    ٹرمپ نے بھارت کو تجارتی محاذ پر سخت نشانہ بنایا ہے۔ امریکی زرعی اور ڈیری لابیوں کے دباؤ پر وہ بھارت کی سرخ لکیریں توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس میں کسی اصولی موقف کے بجائے امریکی طاقت کا مظاہرہ شامل ہے۔ یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا سے یک طرفہ رعایتیں حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ اسی نوعیت کی کامیابی بھارت کے خلاف دکھانا چاہتے ہیں، مگر نئی دہلی اس دباؤ کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔روس سے رعایتی نرخوں پر تیل کی خریداری روکنے کے لیے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جسے صرف تجارتی نہیں بلکہ سیاسی ہتھیار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔امریکہ نے ایران کی بندرگاہ چابہار پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں، جہاں بھارت نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر چین اور پاکستان کے گوادر پورٹ کے حق میں جا رہا ہے۔ یہی گوادر ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کا اہم حصہ ہے جو چین کو خلیجی خطے تک رسائی دیتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرمپ بھارت سے اس وقت ناخوش ہوئے جب اس نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے بعد جنگ بندی کا سہرا انہیں دینے سے انکار کر دیا۔ پاکستان نے نہ صرف ٹرمپ کو اس جنگ بندی کا کریڈٹ دیا بلکہ باضابطہ طور پر انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد بھی کر دیا۔ اس سے ٹرمپ کا جھکاؤ مزید اسلام آباد کی جانب بڑھ گیا۔ٹرمپ بارہا کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، جسے بھارت مسترد کرتا آیا ہے۔ تاہم یہ بیانات پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی امریکی کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔امریکی صدر کی نئی پالیسی میں سعودی عرب بھی شامل ہے، جہاں پاکستان کو سکیورٹی پارٹنر بنانے کے لیے ایک دفاعی معاہدہ طے پایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے پیچھے امریکی رضامندی لازمی شامل ہے کیونکہ سعودی سلامتی ہمیشہ امریکی ہتھیاروں اور اڈوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی فنڈنگ سے مزید بڑھ سکتی ہیں۔

    پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں نجی دعوت دینا اور امریکی جنرل کا پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کوششوں کو سراہنا اسی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو ’’ایٹمی تحفظ‘‘ کی پیشکش پر بھی واشنگٹن نے خاموشی اختیار کی ہے۔معاشی محاذ پر پاکستان نے بلوچستان میں رئیراَرتھ (Rare Earths) دھاتوں کی کان کنی کے حقوق امریکا کو دینے کی پیشکش کی ہے۔ اگرچہ یہ ایک طویل اور پیچیدہ منصوبہ ہے، لیکن امریکی کمپنی کے ساتھ ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’پاکستان کرپٹو کونسل‘‘ اور وائٹ ہاؤس کے قریبی کاروباری حلقوں کے درمیان کرپٹو کرنسی کے معاملات بھی زیرِ بحث ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ٹرمپ نے سیاسی، عسکری اور معاشی کارڈز کو دوبارہ ترتیب دے کر جنوبی ایشیا میں ایک نئی سفارتی بساط بچھائی ہے، جس سے بھارت کے مفادات کو زبردست چیلنج لاحق ہے جبکہ پاکستان کو ایک نئی بین الاقوامی اہمیت مل رہی ہے۔

  • میٹا کی برطانیہ میں  اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف

    میٹا کی برطانیہ میں اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف

    ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں برطانیہ میں فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لیے اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف کرا رہی ہے۔

    کمپنی کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت صارفین کے پاس دو آپشن ہوں گے: یا تو وہ ماہانہ فیس ادا کرکے بغیر اشتہارات کے سروس استعمال کریں یا پھر مفت پلیٹ فارمز استعمال کرتے رہیں جن میں ٹارگٹڈ اشتہارات دکھائے جائیں گے۔میٹا نے بتایا کہ سبسکرپشن فیس ویب ورژن کے لیے تقریباً 3 پاؤنڈ اور آئی او ایس و اینڈرائیڈ پر 3.99 پاؤنڈ ماہانہ ہوگی۔ یہ ماڈل یورپی یونین میں متعارف کرائے گئے سبسکرپشن جیسا ہے، جو ڈیٹا پرائیویسی قوانین کی تعمیل کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اشتہارات سے پاک سروسز صارفین کو اپنے آن لائن تجربے پر زیادہ کنٹرول فراہم کریں گی، جبکہ مفت سروسز کو اشتہارات کے ذریعے چلانے کا نظام بھی برقرار رہے گا۔ ادائیگی کرنے والے صارفین کو اشتہارات نہیں دکھائے جائیں گے اور ان کا ذاتی ڈیٹا اشتہارات کے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی ریگولیٹرز کی بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کے بعد یہ ماڈل مستقبل میں دیگر ممالک میں بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس: اراکین بانی سے شکایات پر آمنے سامنے آگئے

    ٹرمپ کا غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

    بانی پی ٹی آئی کی بدتمیزی،رپورٹرز کا قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کا اعلان

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا ایران پر پابندیوں کے بعد سفارتی رابطے رکھنے کا اعلان

  • صارف کے حقوق اور موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار،تحریر:یوسف صدیقی

    صارف کے حقوق اور موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار،تحریر:یوسف صدیقی

    صارف کے حقوق آج کے جدید دور میں نہایت اہم موضوع بن چکے ہیں۔ موبائل فون اور ڈیجیٹل خدمات ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ چاہے تعلیم حاصل کرنا ہو، کاروبار کرنا ہو یا روزمرہ کے امور انجام دینا ہوں، موبائل سروسز کے بغیر زندگی تقریباً نامکمل ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے حقوق کی پامالی اور غیر ضروری چارجز کے ذریعے لوٹ مار کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

    صارف کے حقوق صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہیں۔ ایک صارف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شفاف قیمتوں پر معیاری خدمات حاصل کرے، اسے مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی یا اضافی چارجز سے بچایا جائے۔ پاکستان میں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر عملی طور پر شکایات کا فوری حل اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ یہی کمزوری موبائل کمپنیوں کے لیے صارف سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

    موبائل سروسز میں لوٹ مار کی کئی شکلیں عام ہیں۔ اکثر کمپنیاں صارف کو پیکج کے فوائد بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں، جبکہ اصل میں وہ خدمات محدود یا اضافی چارجز کے تحت دستیاب ہوتی ہیں۔ صارفین کی معلومات کا غلط استعمال بھی عام ہوتا ہے، جیسے غیر ضروری اشتہارات بھیجنا یا ڈیٹا کی نجی معلومات فروخت کرنا۔ شکایات کے حل میں تاخیر اور غیر سنجیدگی صارف کے حق کی پامالی میں شامل ہے۔

    گذشتہ چند سالوں میں پاکستان میں متعدد صارفین نے موبائل کمپنیوں کے خلاف شکایات درج کروائی ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی صارف نے ڈیٹا پیکج خریدا، لیکن اس کا ایک حصہ غیر متوقع اضافی چارجز کے ساتھ وصول کیا گیا۔ ایسے معاملات میں صارف کو نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ کمپنی پر اعتماد بھی ختم ہوا۔ عالمی سطح پر بھی مثالیں موجود ہیں جہاں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین موجود ہیں اور کمپنیاں مجبور ہیں کہ وہ شفاف اور ذمہ دار رہیں۔

    پاکستان میں صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے Consumer Protection Act اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) موجود ہیں، جو صارفین کی شکایات سننے اور حل کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ تاہم، عملی طور پر شکایات کا فوری اور مؤثر حل اکثر ممکن نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے صارفین کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائیں اور موبائل کمپنیوں کو صارف کے حقوق پامال کرنے سے روکیں۔

    صارفین کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ وہ آگاہ اور بااختیار ہوں تاکہ informed choices کر سکیں۔ موبائل کمپنیوں کی شفافیت یقینی بنانا اور غیر ضروری یا چھپے ہوئے چارجز ختم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو شکایات کے فوری حل کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے اور صارفین کی کمیونٹی، فورمز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کا تبادلہ اور کمپنیوں کی نگرانی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ قانونی چارہ جوئی کے عمل کو آسان اور سستا بنایا جائے تاکہ ہر صارف اپنے حقوق کے لیے آسانی سے اقدام کر سکے۔

    صارف کے حقوق کا تحفظ صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ جب صارف اپنے حقوق سے باخبر ہوگا تو موبائل کمپنیاں مجبور ہوں گی کہ وہ شفاف اور ذمہ دار سروس فراہم کریں۔ لوٹ مار اور دھوکہ دہی کے خلاف جدوجہد صرف صارف کی تعلیم اور آگاہی سے ممکن ہے۔ ہر صارف کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے اور شفاف خدمات کا مطالبہ کرے۔ موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار روکنا صرف ایک ادارے یا قانون کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ پوری معاشرتی ذمہ داری ہے جس میں حکومت، ادارے اور صارف سب مل کر اپنا کردار ادا کریں۔

  • غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    غزہ امن منصوبہ، آزادی کا وعدہ یا اسرائیلی مفاد کی چال؟تحریر:عتیق گورایا

    امریکہ کی جانب سے پیش کیا گیا نیا غزہ امن منصوبہ خطے میں ایک نئی بحث کا سبب بن چکا ہے۔ یہ منصوبہ 21 نکات پر مشتمل ہے جس میں یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی بے دخلی، عبوری حکومت کے قیام اور اسرائیلی انخلاء جیسے نکات شامل ہیں۔ بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر ایسی شقیں موجود ہیں جو فلسطینی عوام کے لیے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔

    منصوبے کے مطابق معاہدے کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں یرغمالیوں اور مرنے والوں کی باقیات واپس کی جائیں گی۔ یہ اقدام انسانی ہمدردی کے طور پر پیش کیا گیا ہے مگر حقیقت میں یہ فلسطینیوں پر فوری دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ اگر بڑے معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو یہ صرف وقتی خاموشی ہوگی جس کے بعد اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔منصوبہ کہتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کر کے اقتدار سے الگ کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو کون پر کرے گا؟ موجودہ حالات میں کوئی بھی جماعت فوری طور پر عوامی سطح پر متبادل کے طور پر قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ یہ خلا مزید انتشار اور غیر ریاستی عناصر کے ابھرنے کا سبب بن سکتا ہے۔منصوبے میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کرنے کی تجویز بھی ہے جو بین الاقوامی نگرانی میں کام کرے گی۔ اس حکومت کو تعلیمی، عدالتی اور انتظامی ڈھانچوں کو چلانے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اگر یہ حکومت مقامی نمائندگی کے بغیر قائم ہوئی تو اسے عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ خطرہ یہ ہے کہ یہ عبوری مرحلہ طویل المدتی ہو جائے اور فلسطینی خودمختاری ایک خواب بن کر رہ جائے۔

    اسرائیل نے غزہ سے انخلاء پر آمادگی ظاہر کی ہے مگر شرط یہ ہے کہ متبادل سیکیورٹی فورسز تعینات ہوں۔ یہ شرط منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری ہے، کیونکہ اگر متبادل فورسز کی تیاری میں تاخیر ہوئی تو اسرائیل دوبارہ اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔منصوبے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امن قبول کرنے والے حماس ارکان کو معافی یا محفوظ راستہ دیا جائے۔ بظاہر یہ مفاہمت کی کوشش ہے مگر متاثرین اور فلسطینی عوام کے لیے یہ اقدام ناانصافی محسوس ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں داخلی تقسیم اور مزید اختلافات پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔منصوبے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو وہ ہے جو اسرائیل کو عبوری مرحلے کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی اختیارات دیتا ہے۔ اگر فلسطینی انتظامیہ مطلوبہ شرائط پوری نہ کر سکی تو اسرائیل کو ریاست کے قیام کے وعدے سے دستبردار ہونے کا اختیار ہوگا۔ اس طرح فلسطینی ریاست کا قیام محض ایک مشروط وعدہ بن جاتا ہے۔

    ایک اور پہلو جو سامنے آیا ہے وہ ہے “غزہ ریویرا” منصوبہ، جس کے تحت غزہ کو دوبارہ تعمیر کر کے ایک ساحلی اور سیاحتی مرکز بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر آبادی کی عبوری یا مستقل نقل مکانی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ناقدین اس کو نسلی صفایا اور آبادیاتی انجینیئرنگ سے تعبیر کر رہے ہیں۔یہ منصوبہ بظاہر امن کا خاکہ پیش کرتا ہے مگر اس کے اندر ایسے کئی خطرناک پہلو موجود ہیں جو فلسطینی خودمختاری کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ عوامی نمائندگی، شفاف وقت بندی اور واضح قانونی ضمانتوں کے بغیر نافذ ہوا تو یہ اسرائیلی مفاد کا اوزار بن کر رہ جائے گا۔ فلسطینی عوام کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے حقِ خود ارادیت کو کسی بھی بین الاقوامی منصوبے میں بنیادی شرط کے طور پر منوائیں۔

  • اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    اکیلا مجاہد بمقابلہ پوری فوج ، اسرائیلی طاقت کا بھانڈا پھوٹ گیا ،تحریر:عتیق گورایا

    فلسطینی مزاحمت کا ایک واقعہ جو دنیا کو بتا گیا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ایمان اور قربانی میں ہے

    مغربی میڈیا اسرائیلی فوج کو دنیا کی ناقابل شکست قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک ایسی فوج جو ٹیکنالوجی، اسلحے اور تربیت میں بے مثال ہے۔ لیکن فلسطینی سرزمین پر جب حقیقت کھلتی ہے تو یہ تمام دعوے ریت کی دیوار کی طرح گر جاتے ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کے سامنے اسرائیلی فوج کی کمزوریاں نہ صرف نمایاں ہوتی ہیں بلکہ ان کی بزدلی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو جاتی ہے۔

    یہ بات سب سے زیادہ اس وقت آشکار ہوئی جب ایک اکیلا فلسطینی فائٹر اسرائیلی فورس کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ یہ نوجوان نہ کسی بکتر بند گاڑی پر سوار تھا، نہ ہی جدید ہتھیاروں سے لیس بلکہ ایک کلاشنکوف جو شاید AMD-65 ہے جو کہ ہنگری کی بنائی ہوئی AKM کی ہی ایک شکل ہے اور شاید ایک AGS-17 گرنیڈ لانچر ہے جو روسی تیار کردہ ہے اور گاڑی وغیرہ پر نصب ہوتا ہے۔ اس کے پاس صرف ایمان، غیرت اور عزم کا سرمایہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے پیدل دستے بار بار اس پر ٹوٹ پڑے، لیکن وہ انہیں ناکام بناتا رہا۔ آخرکار جب فوجی دستے بے بس ہو گئے تو انہوں نے ایک ڈرون کے ذریعے اسے نشانہ بنایا۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی علامت تھا کہ اسرائیلی فوج کو دو بدو مقابلے کا حوصلہ نہیں، وہ صرف فاصلے سے وار کر سکتی ہے۔

    اسی مزاحمت کی روح کو فلسطین کے عظیم شاعر محمود درویش نے اپنے کلام میں بیان کیا:
    «أُحِبُّكَ يا وَطَنِي فَإِنَّ مَسْمَعِي وَمَنْظَرِي
    لَوْلَا الدِّمَاءُ لَمَا تَمَّ الطَّهَارَةُ وَالجِدُّ»
    محمود درويش، قصيدة: على هذه الأرض ما يستحق الحياة
    یہی وہ خون ہے جو فلسطینی مزاحمت کی بنیاد ہے۔ اسرائیلی فوج صرف نہتے شہریوں کے خلاف طاقت دکھاتی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینی فضائی بمباری کا نشانہ بنتے ہیں، زمینی لڑائی میں نہیں۔ یہ اعداد و شمار خود ان کے خوف کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج براہِ راست لڑائی کا سامنا کرنے کے قابل نہیں۔ اور فلسطینی مزاحمت کار بھی اکثر و بیشتر بلکہ 99 فیصد فضائی کارروائی میں ہی شہید ہوئے ہیں۔
    7 اکتوبر اس بزدلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جب اسرائیلی فوج چھ گھنٹے تک ردعمل نہ دے سکی۔ ان کی حکمتِ عملی محض فضائی حملوں پر مبنی تھی، اور جب زمین پر سامنا کرنا پڑا تو ان کے سپاہی لڑکھڑا گئے اور پسپا ہو گئے۔ طاقتور فوج کا یہ پروپیگنڈا محض ایک فریب ہے جو سرمایہ اور میڈیا کے زور پر دنیا کو دکھایا جاتا ہے۔
    اسی حقیقت کو محمود درویش نے غزہ کے بارے میں کچھ یوں کہا:
    «غَزَّةُ بَعِيدَةٌ عَنْ أَقَارِبِهَا وَقَرِيبَةٌ مِنْ أَعْدَائِهَا
    لِأَنَّهُ مَتَى تَفَجَّرَتْ غَزَّةُ صَارَتْ جَزِيرَةً وَلا تَكْفُّ الانْفِجَارَاتُ»
    — محمود درويش،
    ترجمہ: "غزہ اپنے رشتہ داروں سے دور مگر دشمنوں کے قریب ہے، کیونکہ جب غزہ پھٹتا ہے تو ایک ایسا جزیرہ بن جاتا ہےجس کے دھماکے تھمنے کا نام نہیں لیتے”

    یہ اشعار اس حقیقت کا عکس ہیں کہ فلسطین کی سرزمین پر جب بھی ایک دلیر مجاہد کھڑا ہوتا ہے، تو وہ پوری دنیا کو ہلا دیتا ہے۔ اس اکیلے مجاہد کی قربانی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک عہد ہے کہ مزاحمت کبھی ختم نہیں ہو گی۔
    وہ اکیلا مجاہد دراصل پوری قوم کی مزاحمت کا چہرہ ہے۔ اس نے دنیا کو بتا دیا کہ ٹیکنالوجی اور اسلحہ محض کھوکھلے دعوے ہیں، اصل طاقت ایمان، قربانی اور سچائی ہے۔ اسرائیلی فوج جب بھی کسی بہادر اور سچے حریف کا سامنا کرتی ہے تو اس کے مصنوعی دعوے اور پروپیگنڈا ریت کی طرح بکھر جاتے ہیں۔یہی وہ پیغام ہے جو فلسطین کی ہر گلی، ہر بچہ اور ہر شہید دنیا کو سناتا ہے: ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مزاحمت کی روشنی اسے آخرکار شکست دے کر رہتی ہے۔

  • ماضی کا استاد باوقار، آج کا استاد بے توقیر کیوں؟

    ماضی کا استاد باوقار، آج کا استاد بے توقیر کیوں؟

    ماضی کا استاد باوقار، آج کا استاد بے توقیر کیوں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    آج حسبِ معمول موبائل پر آئے ہوئے میسیجز دیکھ رہا تھا کہ ایک نہایت ہی قابلِ احترام سکول پرنسپل کی طرف سے ایک مضمون موصول ہوا۔ عنوان تھا: "استاد کی بے عزتی – ایک قوم کی بربادی”۔ مضمون پڑھتے ہی دل بوجھل ہو گیا۔ اس میں لکھا تھا کہ آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ استاد کی عزت صرف تقریروں اور کتابوں تک محدود ہو گئی ہے۔ حقیقت میں استاد کی وہ حیثیت جو کبھی مقدس ہوا کرتی تھی، اب تماشہ بن گئی ہے۔ شاگرد استاد سے علم حاصل کرنے کے بجائے اس پر جملے کستے ہیں، والدین معمولی بات پر استاد کو نیچا دکھاتے ہیں اور معاشرہ استاد کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ اسے عزت کی روٹی دے۔

    یہ الفاظ صرف جذباتی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہی استاد جس نے ہمیں "ا، ب، پ” سے روشناس کرایا، قلم پکڑنا سکھایا، لفظوں کو جملوں میں جوڑنا سکھایا، آج اسی استاد کو کلاس میں بے توقیر کیا جا رہا ہے۔ اس کی بات کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور اس کی شخصیت کو مجروح کیا جاتا ہے تو ایسا کیوں ہورہا ہے؟

    اگر ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو اس وقت استاد اور شاگرد کا رشتہ محض تعلیمی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی بنیادوں پر قائم تھا۔ استاد شاگرد کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتا تھا، اس کی تربیت صرف نصاب تک محدود نہیں ہوتی تھی بلکہ کردار سازی، اخلاقیات اور عملی زندگی کے اصولوں تک پھیلی ہوتی تھی۔ استاد کا مقصد صرف نصاب مکمل کرانا نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک صالح، باکردار اور ذمہ دار شہری کی تعمیر کرنا ہوتا تھا۔

    اس وقت ٹیوشن یا اکیڈمی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ استاد کلاس روم میں ہی اپنے فرائض کی ادائیگی کو اپنا فرض سمجھتے تھے اور پوری کوشش کرتے تھے کہ طالب علم کو کسی اضافی مدد یا فیس دینے کی ضرورت نہ پڑے۔ وہ اپنے پیشے کو نوکری نہیں بلکہ پیغمبری پیشہ سمجھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ علم کی روشنی پھیلانا اور جہالت کو دور کرنا ہی اس پیشے کا بنیادی مقصد ہے۔ یہی نظریہ انہیں قوم کا معمار بناتا تھا، جن کے ہاتھوں میں ملک و ملت کی آئندہ نسلوں کی تقدیر ہوتی تھی۔

    مگر آج تعلیم ایک مقدس فریضہ نہیں رہی بلکہ مکمل طور پر کاروباری صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ استاد جو کبھی علم کا وارث اور مبلغ تھا، آج ایک مافیا کا روپ دھار چکا ہے، جسے طلباء کی روحانی یا اخلاقی تربیت سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ اس کی واحد غرض زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا ہے اور اسی مالی لالچ نے اس مقدس پیشے کے وقار کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

    آج کے استاد نے اپنے بنیادی کردار یعنی کردار سازی سے مکمل غفلت برتنی شروع کر دی ہے۔ جس استاد کو قوم کے نونہالوں کی اعلیٰ ذہنی تربیت کرنی چاہیے تھی، وہ آج انہیں اخلاقی اقدار سے دور کر کے بے راہ روی کی طرف دھکیلنے کا ذمہ دار بن رہا ہے۔ کئی تعلیمی ادارے اور اساتذہ غیر ضروری اور نام نہاد کلچرل پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کے کچے ذہنوں کو شعوری یا لاشعوری طور پر ایک مادر پدر آزاد معاشرے کی طرف دھکیل رہے ہیں، جہاں ذمہ داری اور اخلاق سے زیادہ آزادی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

    سرکاری تعلیمی اداروں میں استاد کا دوہرا معیار اور بے ایمانی اس زوال کا سب سے عملی ثبوت ہے۔ وہ اساتذہ جو سرکاری اداروں سے باقاعدہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں، وہ اپنے فرض سے سراسر غفلت برتتے ہیں۔ حاضری لگانے، چائے پینے اور رسمی کارروائی کے بعد کلاس سے غائب ہو جانا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ طلباء کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ان ہی اساتذہ کی ذاتی اکیڈمی یا ٹیوشن سنٹر میں مہنگی فیس دے کر پڑھنے آئیں۔ اس صورتحال کا افسوسناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو طلباء ان کی ٹیوشن میں پڑھنے کی سکت رکھتے ہیں، وہ تو ہر امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ غریب اور مستحق طلباء جو مالی بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ کامیابی کا یہ معیار علم پر نہیں، بلکہ جیب کتنا بھاری یا موٹی ہے پر منحصر ہو گیا ہے۔

    یہ سب کچھ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ استاد کی بے توقیری محض ایک معاشرتی حادثہ نہیں بلکہ خود اس پیشہ کے حاملین کی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ جب آپ کا پیشہ پیغمبری سے نکل کر محض ایک تجارت بن جائے اور آپ کی نیت علم کی ترسیل کے بجائے مالی مفاد ہو جائے تو اس زوال کو روکنا ممکن نہیں رہتا۔ استاد کی عزت میں کمی کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالی جا سکتی، اس کی بنیاد موجودہ دور کے اساتذہ نے خود رکھی ہے۔

    آج جب استاد نے وہ کردار چھوڑ کر صرف پیسہ کمانے کو اپنا مقصد بنا لیا ہے تو یہ زوال اس کی اپنی لائی ہوئی مصیبت ہے، جس کی آبیاری کسی اور نے نہیں بلکہ آج کے اساتذہ نے خود کی ہے۔ اسی لیے جب استاد کی بے عزتی ہوتی ہے تو سب سے پہلے اساتذہ کو اپنے ضمیر میں جھانکنا چاہیے کہ کہیں اس کی وجہ ان کا اپنا عمل تو نہیں ہے۔ عزت واپس حاصل کرنے کے لیے استاد کو دوبارہ اپنے پیشے کو مقدس سمجھنا ہوگا، شاگرد کو اولاد کی طرح تربیت دینا ہوگی اور تعلیم کو تجارت نہیں بلکہ عبادت بنانا ہوگا۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا آج کا استاد خود کو دوبارہ وہی باوقار مقام دلانے کے لیے تیار ہے؟ کیا وہ اپنے ضمیر سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت رکھتا ہے کہ "میں نے اپنے پیشے کے ساتھ کیا کیا؟” کیا وہ اس زوال کو روکنے کے لیے خود کو بدلنے پر آمادہ ہے؟ یا پھر وہ اسی بے توقیری کو اپنی قسمت سمجھ کر خاموشی سے قبول کرتا رہے گا؟

    یہ سوال ہر استاد کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے۔ کیا وہ اس آواز کو سننے کے لیے تیار ہے؟

  • بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام عالم اس وقت جدید ٹیکنالوجی کی طرف رواں دواں ہے۔ پاکستان نے اگر بھارت سے جنگ جیتی جہاں پاک فوج کا کردار تھا وہاں جدید ٹیکنالوجی بھی شامل تھی۔ جس کی وجہ سے پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر اپنے آپ کو منوایا۔ لیکن حیران کن حد تک یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی پاکستان کو غلامی کے دور میں کیوں دھکیلنا چاہتی ہے۔ آخر یہ پاکستان، جمہوریت اور عوام سے کس چیز کا بدلہ لینا چاہتی ہے۔ برطانوی راج میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا کلیکٹر کے پاس انتظامی عدالتی اور پولیس تینوں طرح کے اختیارات تھے۔ مقصد یہ تھا کہ نو آبادیاتی نظام آسانی سے چل سکے رعایہ پر قابو رکھا جائے اور بغاوتوں کو دبایا جا سکے۔ آزادی کے بعد پاکستان میں یہ نظام جاری رہا لیکن بعد میں 2001 میں پولیس آرڈر اور لوکل گورنمنٹ اصلاحات کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کردار ختم کر دیا گیا اور عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کیا گیا۔ انگریز کا نظام بنیادی طور پر عوامی نمائندگی نہیں کرتا تھا بلکہ نو آبادیاتی کنٹرول کے لیے بنایا گیا تھا۔ پاکستان کے کچھ بیوروکریٹ یہ سمجھتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کو دوبارہ عدالتی اختیار ملیں لیکن وکلا کی ایک بڑی تعداد اور عدلیہ کی اکثریت اس کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ برطانیہ سمیت زیادہ تر جمہوری ممالک نے انتظامیہ اور عدلیہ کو مکمل طور پر الگ کر دیا ہے وہاں پولیس، میئر یا منتخب مقامی حکومت کے ماتحت ہے نہ کہ کسی بیوروکریٹ یا مجسٹریٹ کے۔ چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط ڈھانچہ برطانیہ سمیت دیگر جمہوری ممالک میں بنایا گیا مجسٹریٹی نظام نو آبادیاتی اور غیر جمہوری تھا۔ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے اداروں کی علیحدگی شفاف، احتساب اور مقامی حکومت کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا نہ کہ پرانا غلامی والا ڈھانچہ واپس لانا۔ نظام کی ساخت سے زیادہ عمل درآمد اور نیت کا ہے اگر پولیس اور عدلیہ کو آزاد اور جواب دے بنایا جائے تو مجسٹریٹی نظام کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

    حیرت انگیز طور پر 2024 میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا مجسٹریٹی نظام ختم کرنے کا بل دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے باوجود ایوان صدر جاتے ہوئے گم کر دیا گیا جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے۔ پارلیمنٹ ممبران قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کو باز پرس کرنی چاہیے کہ وہ بل کہاں گیا۔ سن 1973 کے متفقہ آئین میں بھی مجسٹریٹی نظام ختم کرنے پر اتفاق ہوا مگر ہر دور میں بیوروکریسی رکاوٹیں ڈالتی رہی۔ بیوروکریسی اخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کو اور اس قوم کو جس میں ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں دوبارہ غلامی کے دور میں کیوں جانا چاہتی ہے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر تمام محکموں کی سربراہی ان کے پاس ہے اور ان محکموں کا جو حال ہے وہ ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی معلوم ہے۔ آذاد کشمیر میں آج حالات خراب ہیں وہاں مجسٹریٹی نظام پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ سابقہ فاٹا میں ڈی سی جج ہوا کرتا تھا اور پولیس بھی تھی مگر وہاں کی آگ فوج نے اپنے خون سے بجھائی۔ سوال یہ ہے کہ مجسٹریٹی نظام وہاں کیا کرتا رہا؟ بلوچستان کا زیادہ تر علاقہ ڈی سی کے مکمل کنٹرول میں ہے مگر حالات سب کے سامنے ہیں وہاں بھی اگر پاک فوج نہ ہو تو سوچیے کہ پھر کیا ہو۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی مجسٹریٹی نظام ہے ذرا غور سے سوچیے کہ اسلام آباد کے کیا حالات ہیں زیادہ پیچھے جائیں تو اسی مجسٹریٹی نظام کے دور میں امریکی سفارت خانے پر ایک ہجوم چڑھ دوڑا اور یہ واقعہ سن 1979 کا ہے اور 1989 کا حملہ اسی مجسٹریٹی نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سندھ اور پنجاب میں امن و امان بہت بہتر ہے کیونکہ پولیس اپنا کام کر رہی ہے اور عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ بیوروکریسی کا ایک گروپ مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو ایک آذاد مملکت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ پولیس کو پروفیشنل بنائیں۔ پاکستان کے قریبی ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کے تمام بڑے شہروں میں مجسٹریٹی نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ بیوروکریسی کا گروپ اب پنجاب اور سندھ میں حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا ہے ذمہ داران ریاست پنجاب اور صوبہ سندھ کی حکومت اس سنگین مسئلے پر خصوصی توجہ دے۔