Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شانِ پاکستان.تحریر ۔ حافظ حمزہ سلمانی

    شانِ پاکستان.تحریر ۔ حافظ حمزہ سلمانی

    شانِ پاکستان
    تحریر ۔ حافظ حمزہ سلمانی
    پاکستان صرف ایک ملک کا نام نہیں، بلکہ ایک عقیدہ، ایک نظریہ، اور ایک عظیم خواب کی تعبیر ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جو قربانیوں کی لازوال داستانوں سے وجود میں آئی، جہاں ہر اینٹ، ہر ذرہ، ہر پرچم کا رنگ، قوم کی عظمت، غیرت اور حمیت کی گواہی دیتا ہے۔ "شانِ پاکستان” کہنا گویا ان تمام خوبیوں اور قدروں کا مجموعہ ہے جو اس وطنِ عزیز کو دنیا میں ممتاز بناتی ہیں۔

    پاکستان کی شان اُس وقت ابھری جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ ریاست کا خواب دیکھا، جہاں وہ اپنے دین، ثقافت، تہذیب، اور روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس خواب کو تعبیر دینے کے لیے علامہ اقبالؒ نے فکری رہنمائی دی اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے حکمت، عزم، اور تدبر سے اُسے عملی شکل دی۔ لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ سرزمین حاصل کی، اور یوں پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ایسی نظریاتی ریاست کے طور پر ابھرا جو اسلام کے اصولوں پر مبنی تھی۔

    شانِ پاکستان اس کی بے مثال ثقافت، دلکش مناظر، شاندار ورثے، اور غیور عوام میں بھی جھلکتی ہے۔ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے رنگ، رسم و رواج، اور روایات مل کر ایک ایسی حسین تصویر بناتے ہیں جس پر ہر پاکستانی کو ناز ہے۔ پنجابیوں کی گرمجوشی، سندھیوں کی مہمان نوازی، بلوچوں کی غیرت، پختونوں کی بہادری، کشمیریوں کی وفایہ سب پاکستان کی خوبصورتی اور شان کا مظہر ہیں۔

    پاکستان کی زبان، ادب، اور فنون لطیفہ بھی اس کی شان کے امین ہیں۔ اردو ادب نے شاعری، افسانہ، تنقید، اور نثر میں جو بلند مقام حاصل کیا، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، اور پروین شاکر جیسے شعرا نے پاکستان کے جذبات، درد، خواب اور امیدوں کو اپنے اشعار میں سمویا۔

    فیض احمد فیضؔ نے کہا تھا:
    "نکلے ہیں عزم لے کے ہم اہلِ وفا کی بزم سے
    تارے بھی توڑ لائیں گے، گل بھی کھلا کے چھوڑیں گے”

    یہ اشعار اس یقین کو ظاہر کرتے ہیں جو قوم کی شان اور قوتِ ارادی کی علامت ہے۔

    پاکستان کی فوج، اس کی سیکیورٹی ایجنسیاں، اور محنتی عوام بھی شانِ پاکستان کا اہم حصہ ہیں۔ ہماری افواج نے نہ صرف جنگوں میں جرات مندی سے دشمن کا مقابلہ کیا بلکہ امن کے وقت بھی زلزلوں، سیلابوں اور دیگر آفات میں قوم کے لیے سینہ سپر ہوئیں۔

    محسن نقویؔ نے اس جذبے کو خوبصورت انداز میں کہا:
    "یہ جو سرحد پہ کھڑے ہیں، یہ تمھارے جیسے ہیں
    فرق بس اتنا ہے کہ یہ جاگتے رہتے ہیں”

    پاکستان کی شان اُس وقت اور بھی نمایاں ہوتی ہے جب ہم اپنے قومی پرچم کی جانب دیکھتے ہیںسبز رنگ مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے اور سفید رنگ اقلیتوں کے احترام کا اعلان ہے۔ ستارہ اور ہلال ترقی و روشنی کا استعارہ ہیں۔ یہ پرچم ہماری وحدت، ایمان، اور قربانی کی روشن علامت ہے۔

    پاکستان کی ترقی بھی اس کی شان ہے۔ ایٹمی طاقت بننا، اقوامِ متحدہ میں ایک باوقار آواز رکھنا، دنیا بھر میں پاکستانیوں کی کامیابی، یہ سب ثابت کرتے ہیں کہ ہم ایک باصلاحیت قوم ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے لے کر ارفع کریم تک، عبدالستار ایدھی سے ملالہ یوسفزئی تک، پاکستانیوں نے ہر شعبے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔

    ہمارے کسان، مزدور، طالب علم، اساتذہ، اور سائنسدان، سب پاکستان کی بنیاد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    احمد ندیم قاسمیؔ نے کہا:
    "نئی منزل کے خواب آنکھوں میں
    نئی نسلوں کے پاس ہوتے ہیں”

    یہ نسلیں ہی پاکستان کی حقیقی شان اور روشن مستقبل کی ضامن ہیں۔
    شانِ پاکستان کا ایک اور پہلو اس کی اسلامی شناخت ہے۔ ہمارا آئین، ہمارے ادارے، اور ہماری تربیت اسلام کے اصولوں پر استوار ہے۔ عدل، مساوات، اخوت، اور دیانت،یہ وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط قوم کھڑی کی جا سکتی ہے۔

    ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شانِ پاکستان صرف حکومتی کارکردگی یا فوجی طاقت سے نہیں، بلکہ عوام کے کردار، اتحاد، دیانت، اور حب الوطنی سے وابستہ ہے۔ اگر ہم ہر فرد کو باعزت زندگی دیں، تعلیم، صحت، انصاف مہیا کریں، اور قوم کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں تو پاکستان کی شان مزید بلند ہوگی۔

    آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کی شان ہم سب سے وابستہ ہے۔ یہ ملک ہمارے آبا و اجداد کی قربانیوں کا ثمر ہے، اور اس کی حفاظت، تعمیر، اور ترقی ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

    "یہ وطن تمھارا ہے، تم ہو پاسبان اس کے
    یہ چمن تمھارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے”

    فاطمیؔ

    اللہ کرے پاکستان ہمیشہ سلامت رہے، ترقی کرے، اور دنیا کے نقشے پر ایک باعزت، پرامن، اور خوشحال ملک کے طور پر پہچانا جائے۔

    پاکستان زندہ باد!
    شانِ پاکستان پائندہ باد!

  • شان پاکستان.تحریر:شاہد نسیم چوہدری فیصل آباد

    شان پاکستان
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری فیصل آباد
    "یار، یہ پرانے لوگ بھی ناں بس ہر وقت پاکستان، قربانی، حب الوطنی۔۔۔ کوئی اور بات ہی نہیں!”
    احمد نے بے زاری سے کہا اور موبائل کی سکرین پر انگلیاں چلانے لگا۔
    وہ ایک مشہور پرائیویٹ یونیورسٹی کا طالبعلم تھا، جس کے دن انسٹاگرام اور راتیں نیٹ فلکس پر گزرتی تھیں۔ سوشل میڈیا پر اس کی پروفائل تصویروں سے بھری ہوئی تھی — برگر، کافی، جم، اور ایک دو سیلفیاں پاکستان کے پرچم کے ساتھ… لیکن صرف 14 اگست کو۔
    احمد کے والد ایک بڑے بزنس مین تھے۔ ملک، قوم، یا تاریخ سے اسے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ آزادی، جدوجہد، اور قربانی جیسے الفاظ اس کے لیے صرف اسکول کے نصاب کا بوجھ تھے۔

    ایک دن، 13 اگست کی شام، یونیورسٹی سے واپسی پر اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔ قریب ہی ایک چائے والا ہوٹل نظر آیا، جس پر پرچموں کی قطاریں لگی تھیں اور ایک بورڈ پر لکھا تھا:
    "شانِ پاکستان: 1947 کے سپاہی کی زبانی
    رات 9 بجے، داخلہ مفت!”
    احمد نے چونک کر دیکھا۔”مزیدار چائے، اوپر سے مفت ڈرامہ… چل احمد، بوریت ختم کر!”
    رات کو جب احمد مقررہ جگہ پہنچ کر اندر داخل ہوا تو ایک چھوٹا سا کمرہ دکھائی دیا۔ کچھ بینچیں، دو تین دیواروں پر پاکستان کی تصاویر، اور سامنے ایک سادہ سی میز۔ چند لوگ بیٹھے تھے — زیادہ تر بزرگ۔
    پھر ایک دبلا پتلا بوڑھا آدمی اسٹیج پر آیا۔ سفید شلوار قمیص، کندھے پر چادر، اور سینے پر ایک تمغہ۔

    "السلام علیکم! میرا نام بابا رشید ہے۔ 1947 میں ، میں نے سرحد پار کی۔ میری عمر اُس وقت تیرہ برس تھی، مگر میری آنکھوں میں جو تصویریں قید ہیں، وہ آج تک دھندلائی نہیں…”
    احمد کی آنکھیں موبائل پر تھیں، لیکن کانوں میں بوڑھے کی آواز آہستہ آہستہ گھسنے لگی۔
    "ہم نے پاکستان مانگا تھا، خدا سے۔ مگر خدا نے اسے یوں نہ دیا جیسے عیدی ملتی ہے۔ ہمیں اس کے بدلے اپنی بہنوں کے دوپٹے، ماؤں کے سہاگ، اور بچوں کی معصوم لاشیں دینی پڑیں۔”
    کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
    "میں نے اپنی ماں کو کٹتے دیکھا۔ ہم قافلے کے ساتھ تھے۔ وہ پچھلی طرف رہ گئی تھی۔ جب میں واپس بھاگا… ایک سکھ کی تلوار میرے سامنے چمکی۔ میں چیخا۔ اور وہ رُک گیا۔ بولا: بھاگ جا بچے، ورنہ تُو بھی…”
    بوڑھا کانپنے لگا۔
    "میں بھاگ آیا، ماں کو چھوڑ کر، پاکستان کی طرف۔ مگر آج تک اُس ماں کی چیخیں میرے خواب میں آتی ہیں۔ اور جب کبھی کوئی جوان مجھ سے کہتا ہے کہ ‘پاکستان نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟’… تو میرے دل سے آواز آتی ہے — سب کچھ دیا، بیٹے، سب کچھ۔”

    تیسرا منظر: موبائل بند ہو گیا
    احمد نے موبائل کی طرف دیکھا — بیٹری ختم ہو چکی تھی۔ اب وہ مجبور تھا کہ بات سنے… اور اب وہ سننا چاہتا بھی تھا۔
    بابا رشید کی آواز اب رندھ چکی تھی:
    "پھر وقت گزرتا گیا۔ میں جوان ہوا۔ 1965 کی جنگ لڑی۔ میں نے لاہور کے محاذ پر بارودی سرنگیں بچھائیں۔ میرے ساتھ والے دو جوان شہید ہوئے۔ ایک کی لاش کو میں نے خود دفنایا۔ لیکن سوال یہ ہے…”
    انہوں نے مجمع کی طرف دیکھا۔
    "یہ پاکستان، جو ہمارے لہو سے سیراب ہوا… کیا آج بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا ہم نے اسے جان دے کر سمجھا تھا؟”
    مجمع خاموش تھا۔
    "کیا ہم نے اسے صرف جھنڈے لہرانے، پٹاخے چلانے، اور سیلفیاں لینے کے لیے حاصل کیا؟”
    بوڑھے کی آنکھیں اب احمد کی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ اور احمد کی نظریں جھک گئیں۔

    چوتھا منظر: ایک سوال، ایک جواب
    پروگرام ختم ہو چکا تھا۔ احمد نے باہر آ کر ایک سگریٹ سلگانا چاہی، لیکن ہاتھ کانپنے لگے۔
    "بابا جی…”
    بابا رشید پیچھے مڑے۔
    "جی بیٹا؟”
    "میں نے کبھی ان قربانیوں کو اس زاویے سے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے لگتا تھا یہ سب پرانی باتیں ہیں، نصاب کا بوجھ…”
    بابا جی مسکرائے۔
    "بیٹا، تاریخ اگر صرف کتابوں میں رہ جائے تو قومیں اندھی ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کتاب نہیں، ایک خون کی تحریر ہے۔”
    "تو پھر ہم کیا کریں؟ ہم نئی نسل…؟”
    بابا جی نے احمد کے کندھے پر ہاتھ رکھا:
    "تم سچ بولو، محنت کرو، وطن سے محبت کرو… یہ کافی ہے۔”
    "لیکن ہم نے تو سچ بولنا چھوڑ دیا ہے، بابا جی…”
    "پھر دوبارہ سیکھ لو، بیٹا۔ یہی شانِ پاکستان ہے!”

    نئی صبح
    اگلی صبح احمد نے انسٹاگرام پر اپنی پروفائل پکچر بدلی — ایک سادہ تصویر، سفید قمیص، ہاتھ میں پرچم، اور کیپشن:
    "شانِ پاکستان اُن بزرگوں کی آنکھوں میں ہے جنہوں نے یہ خواب دیکھا تھا۔ اور میرے جیسے نوجوانوں میں جو اب جاگ رہے ہیں!”
    اس تصویر پر لائکس تو کم آئے، مگر بابا رشید کا فون آیا:
    "بیٹا، کل رات تم نے کہا تھا کہ تم کچھ کرنا چاہتے ہو؟”
    "جی بابا جی!”
    "تو آؤ، ہمارے فلاحی ادارے میں شام کو بچوں کو پڑھانا شروع کرو۔ یہی شانِ پاکستان ہے!”
    "شانِ پاکستان” صرف پرچم لہرانا یا ترانے بجانا نہیں…
    یہ سمجھنا ہے کہ
    جنہوں نے ہمیں یہ وطن دیا، وہ کون تھے…
    اور
    ہم اسے کس حال میں لے جا رہے ہیں۔
    اگر آج کا نوجوان، اپنا آپ پہچان لے،
    تو سمجھ لو پاکستان کی شان سلامت ہے۔۔۔۔۔۔، اور یہی "شان پاکستان” ہے ۔۔۔۔۔،

    *پاکستان زندہ باد! قلم سلامت!

  • شانِ پاکستان.تحریر: فیضان عباس الحسینی

    شانِ پاکستان.تحریر: فیضان عباس الحسینی

    شانِ پاکستان
    تحریر: فیضان عباس الحسینی
    پاکستان ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے، ایک قربانیوں سے سجی داستانِ حریت ہے۔ اس کی شان نہ صرف جغرافیہ میں پوشیدہ ہے، بلکہ اس کی روح اس عقیدے، اس تصور، اور اس عظمت میں پنہاں ہے جس کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں نے تاریخ کے صفحات پر اپنے لہو سے ایک نئی سطر لکھی۔ "شانِ پاکستان” فقط ایک نعرہ نہیں، یہ ایک عہد ہے، ایک جدوجہد ہے، اور ایک نظریاتی ورثہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔

    تاریخی پس منظر: نظریہ سے ریاست تک
    برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ جب ظلم، جبر اور اکثریتی استبداد سے لبریز ہونے لگی، تب ایک مردِ درویش، علامہ محمد اقبالؒ نے اس تاریکی میں اجالا بکھیرنے کی تمنا کی۔ 1930ء میں اپنے خطبۂ الٰہ آباد میں انہوں نے ایک الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا، جو نہ صرف جغرافیائی طور پر جدا ہو بلکہ دینی و تہذیبی اساسات پر قائم ہو۔

    اس خواب کو حقیقت کا جامہ قائدِاعظم محمد علی جناحؒ نے پہنایا، جنہوں نے انتھک محنت، بے مثال قیادت، اور آئینی جدوجہد کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ ان کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940ء کو قراردادِ لاہور منظور کی، جو بعد ازاں قراردادِ پاکستان کہلائی اور یہی وہ دن تھا جب پاکستان کا تصور ایک واضح اور متعین ہدف بن گیا۔

    1947ء میں جب 14 اگست کی رات ہوئی تو صرف سرحدیں نہ بدلیں، نسلوں کی تقدیریں بدل گئیں۔ لاکھوں جانیں قربان ہوئیں، ہزاروں مائیں بیٹے ہاریں، لیکن اُس خون سے ایک نئی صبح نے جنم لیا ، وہ صبح جس کا نام تھا پاکستان۔

    شانِ پاکستان: نظریاتی و فکری پہلو
    پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ "لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کی بنیاد پر حاصل کی گئی ریاست ہے۔ اس کی شان اُس وحدانیت پر قائم ہے جو تمام مسلمانوں کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔ یہ ملک اُس نظریاتی تشخص کا محافظ ہے جو صدیوں پر محیط اسلامی تہذیب، ثقافت اور تمدن کی آئینہ دار ہے۔

    پاکستان کی شان اُس وقت اور نکھرتی ہے جب ہم اس ریاست کو دینِ اسلام کے عدل، مساوات، علم، اور اخوت کے اصولوں پر استوار کرتے ہیں۔ یہ ملک فقط مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ اقلیتوں کو بھی وہی حقوق عطا کرتا ہے جو اسلامی تعلیمات کا جوہر ہیں۔

    شانِ پاکستان: قربانیوں کی داستان
    پاکستان کی تخلیق کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ یہ تاریخ کا وہ طوفان تھا جس میں انسانیت کا ایک حصہ ڈوب گیا اور ایک حصہ ایمان کی کشتی میں سوار ہو کر پار اترا۔ ہجرت کے وہ مناظر، ریل گاڑیوں کے لاشوں سے بھرے ڈبے، اجڑی بستیاں، لٹے قافلے، یہ سب پاکستان کی شان کے استعارے ہیں۔ یہ قربانیاں ہمارے قومی تشخص کی بنیادیں ہیں، اور ان کا احترام ہر پاکستانی کا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔

    شانِ پاکستان: تعمیر و ترقی میں عوام کا کردار
    پاکستان کی اصل شان اُس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے عوام اپنے اپنے دائرہ کار میں خلوص، محنت، دیانت، اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک کسان جب زمین کو ہل چلاتا ہے، ایک سپاہی جب سرحد پر جاگتا ہے، ایک استاد جب نسلوں کو علم و حکمت سے سیراب کرتا ہے، ایک سائنسدان جب نئی ایجادات کے خواب بُنتا ہے، سب دراصل "شانِ پاکستان” کو تقویت دے رہے ہوتے ہیں۔

    یہ ملک اُن شہداء کی جاگیر ہے جنہوں نے 1965ء، 1971ء، اور کارگل کی جنگوں میں اپنے لہو سے دشمن کو بتایا کہ ہم نہ صرف زندہ قوم ہیں بلکہ غیرت مند اور حوصلہ مند قوم ہیں۔ پاکستان کی فوج، اس کے غیور عوام، اور اس کی پرعزم مائیں اس ملک کا اصل چہرہ ہیں، جو ہر آندھی میں چراغ کی مانند روشن رہتا ہے۔

    شانِ پاکستان: علم و ادب میں
    پاکستان کی شان اس کی علمی، ادبی، اور فکری روایات میں بھی نمایاں ہے۔ یہاں فیض، منٹو، جالب، اور اقبال جیسے نابغہ روزگار افراد پیدا ہوئے جنہوں نے قلم کے ذریعے آزادی، خودی، اور حق گوئی کی شمع جلائی۔ آج کا نوجوان جب قلم اُٹھاتا ہے، وہ دراصل پاکستان کی اس فکری میراث کو آگے بڑھا رہا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تعلیم کو اپنا ہتھیار بنائیں اور علم کے ذریعے دنیا کو دکھائیں کہ پاکستان ایک ذی شعور، ذی فہم، اور امن پسند قوم کا گہوارہ ہے۔

    شانِ پاکستان: اقوامِ عالم میں مقام
    پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ یہ کارنامہ اس قوم کی غیرت، عزم، اور بے پناہ صلاحیت کا غماز ہے۔ پاکستان نے عالمی امن، اقوامِ متحدہ کی امن مشنوں، اور بین الاقوامی تعاون میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔ ہماری ثقافت، فن، موسیقی، قوالی، ہنر، اور میزبانی دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔
    یہی "شانِ پاکستان” ہے کہ دنیا ہمیں ایک باوقار، خوددار، اور مہذب قوم کی حیثیت سے جانے۔

    نتیجہ: ہم کیا کر سکتے ہیں؟
    ہمیں چاہیے کہ ہم "شانِ پاکستان” کو محض تقریر اور تحریر تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنے کردار، عزم، اور عمل سے ثابت کریں۔ہمیں جھوٹ، بددیانتی، فرقہ واریت، اور قومی املاک کی تباہی کو ترک کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے اداروں، اپنے اساتذہ، اپنے بزرگوں، اور اپنی اقدار کا احترام کرنا ہوگا۔
    تب جا کر یہ ملک نہ صرف زمین پر بلکہ دلوں میں بھی بسے گا۔

    پاکستان ایک نعمت ہے، اور اس نعمت کی شکرگزاری صرف یومِ آزادی کے نعرے نہیں، بلکہ روزمرّہ کی دیانت دارانہ زندگی میں ہے۔

    پاکستان کی شان آپ ہیں، ہم ہیں، ہمارا کردار ہے۔
    آئیے! ہم سب مل کر اپنے عظیم وطن کی شان کو ایسا تابندہ کریں کہ اقوامِ عالم رشک کریں۔

    پاکستان پائندہ باد، پاکستان زندہ باد۔

  • شانِ پاکستان.تحریر۔بنتِ حوا

    شانِ پاکستان.تحریر۔بنتِ حوا

    شانِ پاکستان
    تحریر۔بنتِ حوا
    ایک عقیدت بھرا سلام، اس پاک سرزمین کے نام!
    پاکستان، صرف ایک ملک نہیں…
    یہ ایک دعاؤں کی قبولیت ہے، ایک شہادتوں کی روشنی ہے، ایک عزمِ فولادی، ایک وعدہ ربانی ہے۔
    یہ وہ سرزمین ہے جس کے خمیر میں کلمہ توحید شامل ہے۔
    یہ وہ خطہ ہے جسے خدا نے نہریں، پہاڑ، دریا، کھیت، معدنیات، غیرت مند قوم، اور ایٹمی طاقت سے نوازا۔

    یہ چمن یونہی رہے گا قائم و دائم، ان شاءاللہ
    خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
    (حفیظ جالندھری)

    یہ ملک کسی سازشی میز پر بیٹھ کر نہیں بنا،یہ کربلا کی یاد تازہ کرتے ہوئے، ہجرت کی تکلیفیں جھیل کر، ماؤں، بہنوں، بچوں اور بزرگوں کی قربانیوں کے بدلے میں ملا۔یہ وہ وطن ہے جس کے لیے قائداعظم محمد علی جناح نے بیماری میں بھی آرام نہ کیااور علامہ اقبال نے جو تصور خواب میں دیکھا، اسے فکر، فلسفہ اور اشعار سے جلا بخشی۔

    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

    (اقبال)

    پاکستان کی مسلح افواج ہماری غیرت کی دیوار، امن کی ضمانت اور خوفِ دشمن کی بنیاد ہیں۔کارگل ہو یا سوات، سیلاب ہو یا زلزلہ، یہ بیٹے ہمیشہ سب سے آگے رہے۔جب پاک فوج چلتی ہے، تو پہاڑ جھکتے ہیں، دشمن کانپتے ہیں،اور پوری قوم کا دل فخر سے بھر جاتا ہے۔

    خون اپنا ہو یا پرایا ہو
    نسلِ آدم کا خون ہے آخر

    (فیض احمد فیض)

    پاکستان کی سرزمین اتنی زرخیز ہے کہ اگر سچائی سے کاشت کی جائے، تو سونا اگلے۔پنجاب کے کھیت، سندھ کی نہریں، بلوچستان کے خزانے، خیبر پختونخواہ کی پہاڑیاں اور گلگت کی وادیاں سب مل کر پاکستان کا حسن ہیں۔

    خدا کے فضل سے یہ سرزمین ہے بڑی پیاری
    یہی ہے میری جنت، یہی میری عطا ساری

    پاکستان کا ادب، شاعری، موسیقی، مصوری ، سب کچھ ایک ایسی روح ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔
    فیض، جالب، پروین شاکر، بانو قدسیہ، نصرت فتح علی خان، مہدی حسن . ان سب کا فن، پاکستان کی پہچان ہے۔

    دل دل پاکستان، جان جان پاکستان
    میرے ہوش و خرد کی پہچان پاکستان

    پاکستان کی اصل "شان” اُس کے نوجوان ہیں، وہ نوجوان جو سافٹ ویئر انجینئر بھی ہیں، فوجی کیڈٹ بھی، ڈاکٹر بھی، کھلاڑی بھی اور شاعر بھی۔
    یہی وہ نسل ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی، فنون اور ادب میں پاکستان کا جھنڈا دنیا بھر میں بلند کر رہی ہے۔

    نہیں ہے نا اُمیدی، کفر ہے نا اُمیدی
    نہیں اپنی فطرت میں، کمزوری و زاری

    (اقبال)

    پاکستان ایٹمی طاقت، خودمختار اور باوقار ملک ہے۔28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑ گرجے، اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان صرف محبت کا علمبردار ہی نہیں، بلکہ اپنے دفاع کا ضامن بھی ہے۔ہم امن چاہتے ہیں، لیکن غلامی ہرگز قبول نہیں۔

    ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں
    ہم سب کی ہے پہچان، پاکستان

    یہ ملک صرف مسلمانوں کا نہیں، اقلیتوں کا پاکستان بھی ہے۔پاکستان صرف مسلمانوں کا وطن نہیں، بلکہ یہ ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی، سب کے لیے برابر کا گھر ہے۔یہاں مندر بھی ہیں، گرجا بھی، گردوارے بھی اور مسجدیں بھی .سب ساتھ سانس لیتے ہیں۔

    یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
    (حبیب جالب)

    آج اگرچہ مسائل ہیں، مہنگائی ہے، بدعنوانی ہے، لیکن یہ سب عارضی ہے۔جس قوم نے صفر سے ملک بنایا، جو قوم سروں پر کفن باندھ کر جنگیں لڑی، وہ قوم ان چیلنجز سے بھی نکلے گی۔

    اے ارضِ وطن، ہم تجھے سنواریں گے
    دھو لیں گے تیرے داغ، تجھے چمکائیں گے

    پاکستان… ہمارا فخر، ہماری جان ہے
    شانِ پاکستان صرف فوج، ثقافت، یا ایٹم بم نہیں … بلکہ ہر پاکستانی کا کردار، سچائی سے کمائی گئی روٹی، نماز میں اُٹھنے والے ہاتھوں کی دعا اور قربانیوں کی خوشبو ہے۔

    آئیے آج تجدیدِ عہد کریں:

    ہم پاکستان کو صرف وطن نہیں، امانت سمجھیں گے۔ہم نفرت نہیں، محبت بانٹیں گے۔ہم زبان، نسل، فرقے کے بجائے، قوم اور انسانیت کو ترجیح دیں گے۔اور سب سے بڑھ کر، ہم پاکستان کو فخر کا مقام دلائیں گے۔

    چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
    میرے خوابوں کا گلشن، یہی ہے وطن
    میرے نغموں کی چاہت، یہی سرزمین
    میری جنت، میرا عشق، میرا پاکستان!

    پاکستان زندہ باد، پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر:کشور آپی

    شانِ پاکستان
    تحریر:کشور آپی
    "مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی”
    دل موہ لینے والی آواز ریشماں.. کیا کہنے ہیں اس کے۔ درد بھرا ہوا ہے اس کی آواز میں۔ جو کلام بھی پڑھتی ہے، اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ لہجہ سادہ، سچا، ایسا لگتا ہے جیسے اس کا کلام کہیں دیہات میں بیٹھ کر سن رہے ہوں۔

    عامر کو تو جیسے ریشماں کے کلام کی عادت ہوگئی تھی۔ صبح سویرے اٹھنا، نماز پڑھنا، واک پر جانا اور ساتھ میں موبائل پر ریشماں کے گیت بلیوٹوتھ کے ذریعے سننا۔ یونیورسٹی میں بھی چپ چاپ رہنا۔
    "کیا مسئلہ ہے یار؟” اکثر میں پوچھتا، اور وہ چپ کر جاتا۔ ایک دن وہ پھٹ پڑا۔ کہنے لگا:
    "زاہد! تمہارے گھر میں کون کون ہیں؟”

    میں نے کہاکہ "تم نے یہ کیا سوال کر دیا؟ کون کون ہیں؟ ظاہر ہے بھئی ابو، امی، بہن، بھائی، اور کون ہوتا؟ میری شادی ہو جاتی تو تمہاری بھابھی بھی ہوتی، مگر ابھی تو میں سنگل ہوں۔”

    عامر بولا: "زاہد! میرے گھر میں میری امی نہیں ہیں۔ وہ فوت ہوگئی ہیں۔”
    زاہد بولا: "بھائی، معاف کر دو، مجھے پتہ نہیں تھا۔ تمہاری امی کب فوت ہوئیں؟”

    عامر نے افسردہ ہو کر کہاکہ "میں تقریباً دو سال کا تھا جب میری امی کا انتقال ہو گیا تھا۔ تم جب یونیورسٹی جاتے ہو تو تمہاری امی تمہیں ناشتے کے لیے آوازیں دے رہی ہوتی ہیں۔ تب مجھے اپنی امی بہت یاد آتی ہیں، کہ اگر وہ زندہ ہوتیں تو مجھے بھی اسی طرح آوازیں دیتیں۔” عامر بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔

    زاہد کو اب سمجھ آئی کہ آخر عامر کیوں ریشماں کا یہ گیت بار بار سنتا ہے۔
    زاہد نے عامر سے پوچھا کہ کیا اس کے ابو نے دوسری شادی نہیں کی؟

    وہ بولا: "کی ہے یار، بھلا کون اتنے عرصے تک اکیلا رہ سکتا ہے۔ میری دوسری امی ہیں مگر ان کا سلوک میرے ساتھ اچھا نہیں ہے۔ سارا دن مجھ سے گھر کے کام کرواتی رہتی ہیں، ابو سے شکایتیں لگاتی ہیں کہ میں ان سے صحیح طرح سے بات نہیں کرتا، ان کا کہنا نہیں مانتا اور یہیں پر بس نہیں کرتیں، مجھے ابو سے پٹواتی ہیں۔”

    زاہد بولا: "یار دنیا میں غم بھرے پڑے ہیں۔ کسی کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے، کسی کے پاس چھت نہیں ہے، کسی کے پاس سب کچھ ہے لیکن وہ کسی کو برداشت نہیں کرتا۔ یہی تمہاری سوتیلی ماں کا حال ہے۔ وہ بیوہ ہو کر آئی ہے مگر اسے تمہاری قدر نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں تم ایک نیک لڑکے ہو۔ دنیا میں ایک سے ایک عیاش، بدتمیز انسان ہے، مگر تم پانچ وقت کے نمازی اور اپنی پڑھائی کرنے والے انسان ہو۔ کیسے وہ یہ سب کر لیتی ہے؟ کیا اس کا ضمیر مر گیا ہے؟ وہ ایک بن ماں کے بچے کے ساتھ یہ ظلم کر رہی ہے۔ خدا اسے ہدایت دے اور اس کے دل میں تمہارے لیے رحم ڈالے۔”

    عامر ایک دن زاہد سے ملنے آیا تو عامر کی امی (سوتیلی) نے پردے کی اوٹ سے کہہ دیا کہ "بیٹا وہ نہیں ہے، گھر کا سودا لینے گیا ہے، آ جائے گا تو بتا دوں گی۔” عامر اس دن پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ اگر میری ماں ہوتی تو وہ بھی مجھے "بیٹا” کہتی۔

    زاہد عامر کے گھر گیا۔ جیسے ہی بیل بجائی، عامر نکل کے باہر آ گیا۔ عامر کی آنکھیں رو رو کر سوج گئی تھیں۔ زاہد نے پوچھا تو بتایا کہ "آنکھ میں کچھ گر گیا تھا۔”

    عید آئی تو عامر عید پڑھنے کے بعد گھر آیا اور سویاں کھا کر سو گیا۔ اسی گلی میں اس کے ماموں رہتے تھے۔ عامر کی والدہ کے فوت ہو جانے کے بعد وہ کبھی ان کے گھر نہیں آئے تھے۔ جب عامر کا دل کرتا تو وہ اپنے ماموں کے گھر چلا جاتا، ماموں کے بچوں سے کھیل کر واپس آ جاتا۔ اس کی ممانی بہت اچھی تھیں۔ وہ عامر کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتیں، کھانا کھلاتیں اور پیسے دیتیں تاکہ وہ اپنی من پسند چیز کھا لے۔

    عامر کے ابو کا کلینک تھا اور وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ وہ جو بھی جیب خرچ عامر کو دینے کے لیے اپنی بیوی کو دیتے، وہ اپنے پاس رکھ لیتی اور عامر کو کچھ نہ دیتی۔

    زاہد اس کے گھر کے حالات سن سن کر پریشان ہوتا، مگر صبر کے سوا چارہ نہ تھا۔

    زاہد، عامر اور یونیورسٹی کے لڑکوں نے ٹرپ پر جانے کا فیصلہ کیا تو عامر نے کہاکہ "یار میں تو پڑھائی کرنا چاہتا ہوں، تم لوگ ہو آؤ۔ فی الحال میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔” زاہد کو پتہ تھا کہ آخر یہ کیوں جانے سے انکار کر رہا ہے۔ زاہد نے عامر کے ابو سے اجازت لی اور عامر کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔

    سوات جا کر عامر بہت خوش ہوا کیونکہ وہ جب چھوٹا تھا تو اس کے ابو اسے پارک یا جھیل پر لے جاتے تھے، لیکن اب تو سب اسے خواب لگنے لگا تھا۔

    سوات میں اس نے خوب مزے کیے۔ جھیل، آبشاریں، جھرنے اور مخملیں فرش جیسے راستے اور موسم خوشگوار ، کبھی ہلکی ہلکی بوندا باندی اور کبھی بارش۔ ہوٹل سیاحوں سے بھرے پڑے تھے۔ گرمی سے بلکتے انسان خوشگوار موسم کی تلاش میں یہاں کا رخ کرتے ہیں اور کچھ دن گزارنے کے بعد اپنے اپنے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور حسین یادیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ زاہد اور عامر نے بھی کئی ویڈیوز اور تصاویر بنائیں اور خوب لطف اندوز ہوئے۔ زاہد اور عامر کا گروپ بھی ایک ہفتہ گزارنے کے بعد اپنے شہر روانہ ہوگیا۔

    عامر پہلے سے بہتر لگ رہا تھا۔ اب وہ اپنی سوتیلی امی کی باتوں کو نظر انداز کرنے لگا اور خوش رہنے لگا۔ زاہد کو بھی اسے اس طرح دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

    زاہد اب ہر چوتھے یا پانچویں ماہ سیر کا پروگرام بناتا اور عامر کے ابو سے اجازت لے کر عامر کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا۔ اسے دکھ صرف یہی تھا کہ اس کی سوتیلی ماں اس سے اچھا سلوک نہیں کرتی تھی اور عامر کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ وہ ہنسنا بھول گیا تھا اور ہر وقت افسردہ رہنے لگا تھا۔

    سیر پر جانے سے عامر کی حالت تبدیل ہو گئی اور وہ خوش خوش رہنے لگا۔ یونیورسٹی میں عامر اور زاہد کا آخری سال تھا، مگر ان کی دوستی اب بھی ویسی ہی ہے جیسی پہلے دن تھی۔

    یہی ہمارے ملک کی شان ہے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کو اکیلا نہیں چھوڑتا، ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور مل جل کر ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔ اللہ ہمارے ملک کو شاد و آباد رکھے اور سب کو پیار اور محبت سے رہنے کی توفیق دے۔
    آمین ثم آمین۔

    میری ہردم ہے دعا یا رب
    اس وطن کو رکھے سدا یا رب
    پھول ایسے کھلیں اس میں
    جو تا قیامت مہکتے رہیں
    اس وطن کی مٹی میں
    پیارے شہید ہیں سوئے ہوئے
    جان اپنی قربان کرکے
    جنت میں اعلیٰ مقام ہیں پاتے
    اس وطن کے یہ رکھوالے
    اپنا تن، من، دھن لٹاتے ہیں
    اے وطن کے باسیو تم
    خوش رہو اور ایک ہو جاؤ

  • شانِ پاکستان.تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    شانِ پاکستان.تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    شانِ پاکستان
    تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    وطن…
    ایک لفظ نہیں، ایک دھڑکن ہے،ایک سایہ ہے جو تپتے سورج میں چھاؤں بن کر برستا ہے،ایک آنگن ہے جس میں نسلیں پلتی ہیں،ایک مٹی ہے جسے بوسہ دینے سے ماتھے کا نصیب جاگتا ہے۔

    پاکستان…
    کوئی نقشہ نہیں، کوئی نشان نہیں،بلکہ وہ خواب ہے جو ایک شاعر کی پلکوں سے ٹپکا،ایک قائد کے حوصلے سے ابھرا،اور ایک قوم کے لہو سے رنگین ہوا۔

    یہ وطن ہمیں صدیوں کے انتظار، لاکھوں کی قربانی اور کلمۂ توحید کی گونج کے ساتھ ملا۔یہ وہ تحفہ ہے جو تاریخ نے ہمیں کانٹوں سے چن کر دیا۔
    مگر سوال یہ ہے کہ…”ہم نے اس تحفے کی حفاظت کیسے کی؟”

    وہ دن، وہ منظر، وہ قربانی
    چودہ اگست 1947 کا سورج فقط طلوع نہ ہوا،وہ اپنے ساتھ قافلوں کی آہیں، بچوں کی چیخیں اور ماؤں کی سسکیاں لے کر طلوع ہوا۔

    راستوں پر خون تھا، مگر زبانوں پر "پاکستان زندہ باد” کا نعرہ تھا۔بکھری لاشوں کے درمیان جھنڈا بلند تھا۔ریلوے اسٹیشنوں پر آنکھوں کے سامنے خاندان مٹ رہے تھے،مگر دل میں امید کی شمعیں روشن تھیں۔

    پاکستان ایک انقلابی دعا کا قبول ہونا تھا۔یہ مٹی محض سرحدوں میں قید ایک ملک نہیں،یہ ہماری شناخت ہے، ہماری زبان، ہماری ثقافت، ہمارا وقار۔

    شانِ پاکستان کیا ہے؟
    شانِ پاکستان وہ مینار نہیں جو صرف تصویر میں ہے،بلکہ وہ اذان ہے جو مسجد کے مینار سے ہر صبح ہمیں جگاتی ہے۔وہ مزار نہیں جو ہری جالیوں میں چھپا ہے،بلکہ وہ بازار ہے جہاں ایک باحجاب بیٹی رزقِ حلال کے لیے کام کرتی ہے۔

    شانِ پاکستان وہ سپاہی ہےجو برف کی چادر میں لپٹا، پہرہ دے رہا ہے۔شانِ پاکستان وہ اُستاد ہےجو چاک کے گرد اپنی زندگی کا دائرہ بنا کر نسلیں بناتا ہے۔شانِ پاکستان وہ کسان ہے،جو سورج کے ساتھ بیدار ہوتا ہے اور مٹی کو سونا بنا دیتا ہے۔

    مگر آج…!ہم نے وطن کی محبت کو صرف نعروں تک محدود کر دیا۔ہم نے پرچم کو دیوار پر چڑھا دیا، مگر دل سے اتار دیا۔قانون کا مزاق، انصاف کی بولی،اخلاق کی موت، سچ کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔جس ریاست کو "مدینہ کی جھلک” بننا تھا،وہاں نعرے تو بہت ہیں، لیکن کردار مفقود ہے۔

    مزاحمت: شان کا اثاثہ
    تاریخ شاہد ہے کہ قومیں جنگوں سے نہیں، ضمیر کے بیدار ہونے سے بنتی ہیں۔پاکستان کی اصل شان وہ ہےجو اپنے اندر سچ، غیرت، اور قربانی کو زندہ رکھے۔وہ شان ضمیر کے بیدار لمحے میں ہے،جب ایک طالبعلم کمرہ امتحان میں نقل سے انکار کرتا ہے۔وہ مزاحمت ہے،جب ایک دیہاڑی دار مزدور حرام کی روٹی ٹھکرا دیتا ہے۔وہ روشنی ہے،جب ایک شاعر ظلم کے خلاف نظم لکھتا ہے، چاہے پابند سلاسل ہو جائے۔وہ غیرت ہے،جب ایک بچی گاؤں میں اسکول نہ ہونے پر چھت پر بیٹھ کر پڑھتی ہے،اور کہتی ہےکہ”ایک دن میں استاد بنوں گی، اس پاکستان کے لیے!”

    امید کا چراغ
    اگرچہ اندھیرے بہت ہیں،لیکن روشنی مر نہیں گئی۔آج بھی کوئی استاد بچوں کے ہاتھوں میں قلم دے رہا ہے۔آج بھی کوئی ماں بچے کو سچ بولنا سکھا رہی ہے۔آج بھی کوئی نعت خواں وطن سے محبت کو ترنم میں سجا رہا ہے۔اور آج بھی کوئی نوجوان فیس بک پر نہیں، میدانِ عمل میں پاکستان کے لیے جیت رہا ہے۔

    اب کیا کرنا ہے؟
    اب وقت ہے کہ ہم صرف تقریریں نہ کریں، کردار دکھائیں۔وطن سے محبت صرف نعرہ نہ ہو، وعدہ ہو۔جشنِ آزادی صرف رنگوں کی بہار نہ ہو، عمل کا چمن ہو۔ہر فرد ایک چراغ بنے، ہر دل ایک منار بنے۔اور ہر زبان، "پاکستان زندہ باد” سے پہلے "میں زندہ باد کیسے بنوں؟” کا جواب دے۔

    حلفِ وفاداری
    آئیے، آج چودہ اگست کے دن،نئے کپڑے پہننے سے پہلے نیا عہد کریں۔ہم سچ بولیں گے۔ہم ایماندار رہیں گے۔ہم وطن کے وفادار ہوں گے۔ہم اپنے قلم، اپنی سوچ، اپنے قدم اور اپنے خواب پاکستان کے نام کریں گے۔کیونکہ…”شانِ پاکستان وہ نہیں جو دکھائی دے،بلکہ وہ ہے جو جِھلکے، جو جلے، جو روشنی بنے!”

    پاکستان زندہ باد…….شانِ پاکستان پائندہ باد!

  • شانِ پاکستان.تحریر:قراۃلعین کاظمی ،مانسہرہ شنکیاری

    شانِ پاکستان.تحریر:قراۃلعین کاظمی ،مانسہرہ شنکیاری

    شانِ پاکستان
    از قلم .قراۃلعین کاظمی ،مانسہرہ شنکیاری
    جب زمین پر ظلمتوں کے سائے چھا گئے، جب غلامی کی زنجیروں نے قوموں کی روحیں جکڑ لیں، تب ایک آواز اٹھی، ایک خواب جاگا ، پاکستان کا خواب۔ یہ خواب محض ایک ریاست کا نہیں تھا، یہ ایک نظریے، ایک عقیدے اور ایک جدوجہد کا نام تھا۔ پاکستان، جسے لاکھوں قربانیوں، خون سے بھیگے کفنوں اور ماؤں کی سسکیوں کے عوض حاصل کیا گیا، وہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ہمارے بزرگوں کی امیدوں اور دعاؤں کا حاصل ہے۔
    پاکستان، میری پہچان، میری جان!
    شانِ پاکستان اُن سپاہیوں میں ہے جو برفیلے مورچوں پر جاگتے ہیں تاکہ ہم سکون سے سو سکیں۔ شانِ پاکستان ان ماؤں کی آنکھوں میں ہے جو اپنے بیٹے کو کفن میں لپٹے دیکھ کر بھی فخر سے کہتی ہیں: "میرا بیٹا وطن پر قربان ہو گیا۔”
    شانِ پاکستان ان طلبہ میں ہے جو لائبریریوں کی گرد آلود میزوں پر بیٹھ کر دن رات محنت کرتے ہیں، تاکہ اس ملک کا مستقبل روشن ہو۔ شانِ پاکستان ان کسانوں کی ہتھیلیوں میں ہے جو سورج کی تپش میں پسینہ بہا کر ہماری روٹی اگاتے ہیں۔
    شانِ پاکستان تم ہو، میں ہوں، ہم سب ہیں!

    ہماری سرزمین کے ہر ذرے میں وہ طاقت ہے جو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی جھکا سکتی ہے۔ ہماری زبان، ہماری تہذیب، ہمارا لباس، ہمارے رسم و رواج ، سب "پاکستان” کا عکس ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اُس قوم سے ہیں جس نے ایٹمی طاقت بن کر دنیا کو دکھا دیا کہ اگر ہم پر امن ہیں تو کمزور ہرگز نہیں۔
    لیکن!
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فقط پاکستان سے محبت کا دعویٰ نہ کریں بلکہ اسے عمل سے ثابت کریں۔ جھوٹ، دھوکہ، بدعنوانی، نفرت .یہ سب پاکستان کی شان کے دشمن ہیں۔ اگر واقعی ہمیں اس ملک سے محبت ہے، تو ہمیں اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اس کی عزت، ترقی اور عظمت کے محافظ ہیں۔

    اے پاکستان! تو صرف ایک وطن نہیں، تو میرا فخر ہے، میری غیرت ہے، میری پہچان ہے۔ میں تجھ پر جان بھی قربان کر دوں، مگر تیری عزت پر آنچ نہ آنے دوں۔ تو سلامت رہے، تو ترقی کرے، تو دنیا کی نظروں میں ایک مثال بنے — یہی میری دعا ہے، یہی میری خواہش، یہی میرا خواب ہے۔
    تو ہے شانِ پاکستان، اور میں تیرا سپاہی۔

  • مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟

    مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟

    مہنگائی اور واپڈا کی سلیب گردی، کیا یہی ہے آزادی؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    کل 14 اگست 2025 ہے، پاکستان کا 78 واں یومِ آزادی۔ سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے، قومی ترانہ گونجے گا اور تقریبات میں بلند بانگ دعوے کیے جائیں گے کہ ہم ایک آزاد اور ترقی یافتہ قوم ہیں۔ لیکن کیا یہ سچ ہے؟ جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہو، جب بجلی کے بلز واپڈا کی سلیب گردی کی شکل میں غریبوں کی کمر توڑ رہے ہوں، تو یہ کیسی آزادی ہے؟ گیلپ پاکستان کے تازہ سروے جس میں 500 سے زائد کاروباری شعبوں کی آراء شامل ہیں، قوم کی تکلیف کو عیاں کر دیا ہے۔ 28 فیصد تاجر مہنگائی کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں، 18 فیصد یوٹیلٹی بلز کے اضافے سے نالاں ہیں اور فوری حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن حکمران، خاص طور پر وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری جو عوام کو بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے بجائے جھوٹ پر مبنی کہانیاں اور مکارانہ چالیں چل رہے ہیں ،جو اقتدار کے نشے میں قوم کی چیخیں سننے سے قاصر ہیں۔

    78 سال قبل ہم نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی، لیکن آج ہم اپنے ہی حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی غلامی میں جکڑے ہیں۔ سروے بتاتا ہے کہ کاروباری طبقہ جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بدترین حالات سے گزر رہا ہے۔ 28 فیصد تاجر مہنگائی کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ یہ مہنگائی کیا ہے؟ یہ وہ زہر ہے جو غریب کے دسترخوان سے روٹی چھین رہا ہے جو بچوں کو سکول سے دور کر رہا ہے، جو مریضوں کو دوا سے محروم کر رہا ہے۔ آٹا، دال، چینی، تیل ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اور حکمران؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم ترقی کی راہ پر ہیں۔ کس کی ترقی؟ چند سرمایہ داروں کی جو حکومتی سرپرستی میں پل رہے ہیں یا اس قوم کی جو بھوک اور افلاس سے مر رہی ہے؟

    یوٹیلٹی بلز کا معاملہ اور بھی تکلیف دہ ہے۔ سروے کے مطابق 18 فیصد تاجروں نے بجلی کے بھاری بلز کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ واپڈا کی سلیب گردی نے غریبوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ سلیب سسٹم کوئی منصفانہ نظام نہیں، بلکہ ایک ظالمانہ ہتھیار ہے جو کم آمدنی والوں کو سزا دیتا ہے۔ تھوڑا زیادہ استعمال کیا، سلیب بدلی اور بل دگنا، تگنا۔ گرمیوں میں پنکھا، سردیوں میں ہیٹر ،یہ کوئی عیاشی نہیں ہے بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن واپڈا نے اسے لگژری بنا دیا۔

    وفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں کہ “ہم نے بجلی کی قیمتوں میں کافی ریلیف دیا”۔ یہ کیسا ریلیف ہے ؟، جب فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور سلیب سسٹم نے غریبوں کی زندگی اجیرن کر دی؟ اویس لغاری کی یہ بے سروپا دلیلیں، یہ مکارانہ چالیں، عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ سروے بتاتا ہے کہ 47 فیصد تاجروں کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ لوڈشیڈنگ! 78 سال بعد بھی؟ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے گرڈ سسٹم کی اپ گریڈیشن خواب ہی رہا۔ 53 فیصد نے لوڈشیڈنگ نہ ہونے کی بات کی، لیکن یہ کوئی کامیابی نہیں۔ یہ تو بنیادی حق ہے، جو نصف قوم سے چھینا جا رہا ہے۔ اویس لغاری کی سربراہی میں سولر اور ونڈ انرجی کے منصوبے محض کاغذی ہیں، جن کا کوئی عملی وجود نہیں۔

    حکمرانو! سنو، یہ یومِ آزادی ہے لیکن قوم پوچھ رہی ہے کہ مہنگائی سے کب آزادی ملے گی؟ سروے کے مطابق 11 فیصد تاجروں نے ٹیکسوں کے بوجھ کو اپنا مسئلہ قرار دیا۔ GST اور انکم ٹیکس بڑھ رہے ہیں لیکن بدلے میں سہولیات کیا ہیں؟ ٹوٹی سڑکیں، خالی ہسپتال، بغیر اساتذہ کے سکول۔ ٹیکس دے کر قوم کیا پا رہی ہے؟ صرف حکمرانوں کے محلات اور پروٹوکول؟ 6 فیصد تاجروں نے سیاسی عدم استحکام کو خطرہ قرار دیا۔ سیاسی انتشار نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ ایک حکومت آتی ہے، دوسری جاتی ہے، لیکن مسائل وہیں کے وہیں۔ 7 فیصد نے قوت خرید میں بہتری کا مطالبہ کیا، 3 فیصد نے روپے کی قدر مستحکم کرنے کی بات کی۔ یہ سب حکومتی ذمہ داری ہے لیکن وہ کہاں ہیں؟ اقتدار کی ہوس میں ڈوبے ہوئے۔

    سروے میں کچھ مثبت نکات بھی ہیں، لیکن وہ اویس لغاری کی ناکامیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔ گزشتہ سروے میں 6 فیصد تاجروں نے حکومتی فیصلوں کو درست کہا تھا، اب 17 فیصد۔ لیکن یہ اضافہ اویس لغاری کی کامیابی نہیں ہے بلکہ چند سرمایہ داروں کی چاپلوسی ہے، جو حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اویس لغاری کی زیر نگرانی بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نجکاری کے نام پر بجلی کمپنیاں سرمایہ داروں کے حوالے کی جا رہی ہیں جبکہ عوام مہنگے بلز تلے دب رہے ہیں۔ رشوت ستانی میں کمی آئی ہےگزشتہ 34 فیصد سے اب 15 فیصد۔ لیکن یہ اویس لغاری کی کامیابی نہیں بلکہ تاجروں کی ہمت ہے، جو اب رشوت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔اویس لغاری کا آن لائن بلنگ سسٹم ایک مذاق ہے، جہاں اوور بلنگ اور غلطیاں روز کا معمول ہیں۔ لوڈشیڈنگ نہ ہونے کی بات 53 فیصد نے کی لیکن باقی 47 فیصد؟ وہ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اندھیرے میں ہیں۔

    یومِ آزادی پر قائد اعظم کے خواب کو یاد کیجیے۔ ایک خوشحال پاکستان، جہاں غریب اور امیر برابر ہوں۔ لیکن آج؟ IMF کے قرضوں کی غلامی نے قوم کو جکڑ رکھا ہے۔ مہنگائی، ٹیکس اور سبسڈیز کا خاتمہ ، یہ سب IMF کی شرائط ہیں۔ اور اویس لغاری؟ وہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے جھوٹ بول رہے ہیں کہ “بجلی سستی کی”۔ یہ کیسا ریلیف، جب سلیب سسٹم اور فیول چارجز نے غریبوں کو زندہ درگور کر دیا؟ قرض ادا کون کر رہا ہے؟ قوم، اپنی جیب سے۔ لیکن حکمرانوں کے عیش و عشرت میں کوئی کمی نہیں۔

    کاروباری طبقہ برباد ہو رہا ہے۔ مہنگائی نے خام مال مہنگا کر دیا، یوٹیلٹی بلز نے فیکٹریاں بند کر دیں، لوڈشیڈنگ نے پیداوار روک دی۔ اویس لغاری کی ناکام پالیسیوں نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کو کاغذوں تک محدود رکھا۔ ٹیکسوں کا بوجھ چھوٹے تاجروں کو کچل رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے۔ قوت خرید کم اور روپیہ کمزور۔ یہ سب حکومتی ناکامی کی زنجیر ہے۔

    حکمرانو! جاگو، یہ یومِ آزادی ہے، لیکن قوم کی آزادی کہاں؟ مہنگائی روکو، بجلی سستی کرو۔ اویس لغاری کی جھوٹی کہانیوں سے باز آؤ، جو عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔ سلیب سسٹم کو منصفانہ بناؤ، لوڈشیڈنگ ختم کرو۔ قوم سے وعدہ کرو کہ اگلا یومِ آزادی حقیقی آزادی کا ہوگا۔ ورنہ، تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی۔

  • مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے قریب رات کا کرفیو

    مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سرحد کے قریب رات کا کرفیو

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ضلع مجسٹریٹ سامبا نے لائن آف کنٹرول سے 2 کلومیٹر تک کے علاقوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ آیوشی سوڈان کے جاری کردہ حکم کے مطابق کرفیو آئندہ دو ماہ تک روزانہ رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک نافذ رہے گا یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کی سرحدی نگرانی کو بڑھانے اور رات کے اوقات میں شہریوں کی نقل و حرکت کو ریگولیٹ کرکے غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کیا گیا۔ کرفیو کے اوقات کے دوران نقل و حرکت کی اجازت صرف ضروری وجوہات کی بناء پر دی جائے گی اور لوگوں کو بی ایس ایف یا پولیس اہلکاروں کے مطالبے پر پیش کی جانے والی شناخت اپنے ساتھ رکھنی ہوگی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • خدارا!لوگوں کیلئے آسانیاں پیداکریں ،ملک کو اکھاڑہ نہ بنائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا!لوگوں کیلئے آسانیاں پیداکریں ،ملک کو اکھاڑہ نہ بنائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاک امریکہ تعلقات ،فیلڈ مارشل کے دوروں سے بھارت پریشان ،اصلی چہرہ دنیا نے دیکھ لیا
    سینیٹر اسحاق ڈار کےعالمی رہنمائوں سے مسلسل رابطے،بھارت کو بے نقاب کردیا
    پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے نوجوانوں جدید ٹیکنالوجی دینا ہوگی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    پاک امریکہ تعلقات اس وقت عروج پر ہیں،بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکے ساتھ امریکی صدر کی ملاقات ،پاک بھارت کشیدگی کے دوران وزیر خارجہ سینیٹراسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا عالمی دنیا سے مسلسل رابطہ ،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا اور عالمی دنیا میں بھارت کی سفارتی شکست نے بھارت کی مودی حکومت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آچکا ہے، پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل باہمی مفادات اور بدلتے عالمی حالات پر منحصر ہے، اگر دونوں ممالک اعتماد کی بنیاد پر تعلقات کو از سر نو تشکیل دیں اور غیر روایتی شعبوں میں تعاون بڑھائیں تو یہ تعلقات ایک زیادہ متوازن اور پائیدار شکل اختیار کر سکتے ہیں، علاقائی سلامتی میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے ،پاکستان آج بھی جغرافیائی لحاظ سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے،طویل تعلقات کے لئے دونوں ممالک کو پالیسی میں شفافیت اور ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، تعلیم، صحت ،ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے شعبے نئے مواقع فراہم ہو سکتے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سمیت اعلیٰ عہدوں پر تعینات بیورو کریسی کے افسران ،اعلیٰ بیوروکریٹ اور دیگر پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ملک و قوم کو مستحکم بنانے کے لئے پیٹ سے سوچنا بند کرکے دماغ سے سوچنا شروع کردیں ،امریکہ اور مغربی ممالک سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کریں،نوجوان نسل کو جدید تعلیم اور سائنس کی تعلیم دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں، پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم ،عمل اور میرٹ ہے، ایمانداری اور دیانت داری سے ملک وقوم کی خدمت کریں، سچ پوچھئے تو ریاست اب تھک چکی ہے ، اللہ تعالی ٰنے دنیا کے لئے جو فرش بچھایا تھا یہ امن کا فرش ہے ، پاکستان کی سرزمین بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے دنیا بھرکا یہ فرش امن کے لئے بنایا گیا تھا افسوس مٹی کے بنے انسان نے اپنے اقتدار واختیارات کے لئے اسے اکھاڑہ بنا دیا ، پاکستان کا یہ فرش اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے کسی سیاسی جماعت کے اکھاڑے کے لئے نہیں بنایا گیا اس میں بسنے والے انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں