Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو تحریر سیدہ ام حبیبہ

    ظلم رہے اور امن بھی ہو

    قائین محترم جہالت کی ضد علم ہے

    تاریکی روشنی کو مات دیتی ہے

    صبح و شام ایک ساتھ ضم نہیں ہو سکتے.

    ہماری قوم کی یاداشت کمزور ہے یا ہماری جمہوریت کے پیچھے متحرک قوتیں ملک کے وسیع تر مفادات میں قوم کو ذہنی ہیجان سے گزارنے میں اور یاداشت کو مسخ کرنے میں ماہر ہیں.

    اور ہم بھی ایسی قوم ہیں کہ یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ

    چلو اچھا ہوا ہم بھول گئے

    ہماری قوم جابجا یہ بھی کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے.

    ہم نے بہت قربانیاں دیں ہیں .

    مگر ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ ان ہی دہشت گردوں کی عام معافی کے اعلانات کیے جائیں؟ کس سے پوچھ کر ؟

    کیا اس ماں سے پوچھا گیا جسکا نازوں سے پالا نوخیز جوان ذبح کر کے اس کے سر سے فُٹ بال کھیلا گیا؟

    اس بہن سے پوچھا جسکا اکلوتا بھائی سہرا سجانے اے چند دن پہلے وردی میں ہی دفنانا پڑ جائے؟

    اس قوم سے پوچھا جس نے دہشت گردی کے لیبل کے ساتھ گلی گلی اور ملکوں ملکوں رسوائی برداشت کی پابندیاں برداشت کیں؟

    ملک کا ایسا کونسا مفاد ہے کہ اے پی ایس کے شہداء کے قاتل ہنس ہنس کر آپ کے ٹی وی چینل پہ بیٹھے ہوں اور شہیدوں کی مائیں اپنے بچوں کے ہنستے قاتل کو دیکھ کر خون رو رہی ہوں.

    کل نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ سے عین پہلے دورہ ختم کر کے نکل جاتی ہے. قوم تڑپ اٹھتی ہے کہ 18 سال بعد کرکٹ کے رنگ وطن لوٹے ہی تھے کہ سب ایکا ایکی ختم ہو گیا.

    تمام تبصرے قابلِ بحث نہیں ..کچھ آستین کے سانپ زہر اگلتے رہے اور کچھ نمک حلال اپنے نہ ہو کر بھی ہمت بنے رہے.

    مدعے کے بات یہ تھی کہ دورے کی منسوخی میں کہیں نہ کہیں طالبان کی حمایت وجہ بن رہی تھی اور سر دھنیے افغان طالبان نہیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی حمایت اور وہ بھی عام معافی جیسی بات وہ بھی ان درندوں کے لیے جن کے سر پہ ستر ہزار پاکستانیوں کا بے گناہ خون ہو.

    دشمن وار جانے نہیں دیتا مگر ان کا کیا کریں جو دارالحکومت کے دامن میں دہشتگردی کی دکان سجائے بیٹھے ہیں.اور آج اسلام آباد کی پولیس کو لیکچر دیتا مہتمم کہتا ہے

    "پاکستانی طالبان آئیں گے تمہارا حشر نشر کریں گے”

    ریاستی ادارے کو دہشتگردوں کی دھمکی پہ وزیرِ داخلہ خاموش وزیرِ دفاع ناپید ؟

    ہمارے وطن کے کرتا دھرتا یہ سمجھتے ہیں ناں کہ مقتولین کے حق میں بھی نغمات جاری کر لیں اور قاتلوں کو بھی معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیں تو ان اے کہدیجیے…

    ظلم رہے اور امن بھی ہو

    کیا ممکن ہے تم ہی کہو

    اپنے ہونٹ سیے تم نے

    میری زباں کو مت روکو

    تم کو اگر توفیق نہیں

    مجھکو ہی سچ کہنے دو

    ظلم رہے اور امن بھی ہو…

    @hsbuddy18

  • صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی تحریر:فاروق زمان

    صحت مندانہ طرز زندگی کسی بھی شخص کے کے کھانے پینے، کام کرنے، سونے جاگنے اور دیگر تمام امور سے متعلق ہے ۔ یہ انسان کی عادات و خصائل اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف رحجان کا احاطہ کرتی ہے۔ زندگی اللّلہُ تعالی کی نعمت ہے اور صحت اس سے بڑی نعمت ہے۔ آج کل صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہے۔  لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت تباہ اور صحت مندانہ طرز زندگی کوختم کرنے کے درپے ہیں۔ لوگ اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے، پر آسائش زندگی کے حصول کے لیے  دن رات تگ و دو کرتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں لیکن دراصل وہ صحت مندانہ طرز زندگی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
    موبائل فون، اور دیگر آلات کے استعمال، سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ وغیرہ نے لوگوں کو قدرت اور صحت مندانہ طرز زندگی سے دور کر دیا ہے۔ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال نیند میں کمی، تنہائی ڈپریشن وغیرہ کی وجہ ہے۔ موبائل فون اور دیگر آلات سے شعاعیں خارج ہوتی ہیں، جن کے انسانی جسم پر مضر اثرات ہیں۔ موبائل فون استعمال کرتے دن کا بیشتر وقت گزر جاتا ہے، ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنا، وہی کھانا پینا، جس سے جسمانی سرگرمیاں تو بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس سے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی بسر کرنا یا اس کے انداز اپنانا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔  اگر لوگ چاہیں تو اپنے لئے صحت مندانہ طرز زندگی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ترجیحات کے تعین، کوشش، اور توجہ سے صحت مندانہ طرز زندگی اپنا سکتے ہیں۔ اپنا خیال رکھیں، اچھی روٹین سیٹ کریں اور اسے فالو کریں۔ صاف ستھرے رہیں۔ نفاست پسندی کی زندگی بسر کریں۔ دوست بنائیں، باتیں کریں اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہیں۔
    صحت مندانہ طرز زندگی میں یہ شامل ہے کہ آپ خوراک کے معیار پر توجہ دیں۔ ناقص خوراک استعمال نہ کریں۔ غذائیت بخش خوراک کا استعمال یقینی بنائیں۔ جو غذا کھائیں، وہ متوازن ہو اور غذائیت سے بھرپور ہو۔ چینی، تیز مرچ مصالوں، چکنائیوں اور  مرغن کھانوں سے دور رہیں۔  فاسٹ فوڈز سے اجتناب کریں، یہ مضر صحت ہیں ان کا استعمال کسی بھی صورت صحت مندانہ نہیں ہے۔ پھل، سبزیاں اور دالیں وغیرہ اپنی خوراک میں شامل کریں۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ مقدار میں کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ بلکہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ وقت پر کھانا کھانے کا معمول بنائیں۔ بغیر وقت کے کھانا کھانا بھی جسم پر منفی اثرات چھوڑتا ہے۔ محنت کریں اور حلال کی کمائی کھائیں، محنت سے حاصل کیے گئے حلال رزق کے نوالے آپ کے جسم پر مثبت اثرات رکھتے ہیں۔
    پانی کا استعمال زیادہ سے کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ پانی کا استعمال ہمارے لئے کتنا مفید ہے لیکن ہم پانی کے بجائے دیگر مشروبات، کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ جو کہ مضر صحت ہیں۔ کولڈ ڈرنکس وغیرہ استعمال نہ کریں، بلکہ تازہ پھلوں سے کشیدہ رس کے استعمال کو ترجیح دیں۔
    کام کرنے کے اوقات متعین کریں۔ اتنا کام  کریں جو آسانی کے ساتھ کر سکیں، اور آپ کی صحت اجازت دے۔ دن رات کام نہ لگے رہیں اور نہ ہی جرآت سے بڑھ کر کام کریں بلکہ اتنا ہی کام کریں جس سے صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے۔ یاد رکھیں آپ کام کے لیے نہیں بنیں۔ آپ کا خود پر سب سے زیادہ حق ہے۔
    اچھی اور مناسب نیند لیں۔ بھرپور نیند آپ کو فریش اور تروتازہ رکھتی ہے۔  چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ گھنٹے کی مکمل نیند لیں نیند بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے اور نیند مکمل نہ ہونے کی صورت میں آپ بہت سی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دیر سے سونا اور دیر سے اٹھنا جیسی خراب عادتوں کو زندگی کا حصہ نہ بنائیں وقت پر سوئیں، وقت پر اٹھیں۔ اگر آپ وقت پر نہ سوئیں، اٹھیں، یا ناکافی نیند لیں تو چڑچڑا پن،  تھکاوٹ اور سستی مستقبل آپ کی ساتھی بن جاتی ہیں اور آپ کی صحت پر منفی انداز میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ بلا وجہ کی پریشانیوں اور ٹینشنوں کو زندگی میں جگہ نہ دیں۔ پریشانیاں اور ذہنی دباؤ آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ سٹریس کو مینیج کرنا سیکھیں۔ اور مثبت رویہ اپنائیں۔
    مشینوں کے استعمال نے ہمیں بہت سست اور کاہل بنا دیا ہے۔ آرام طلبی کی زندگی کو چھوڑ دیں، یہی صحت مندانہ طرز زندگی کی قاتل اور دشمن یے۔  ہر وقت پڑے رہنا اور جسمانی طور پر کوئی ہل جل نہ کرنا بہت سی بیماریاں لاتی ہے۔ یہ کاہلی، سستی اور موٹاپا کا سبب بنتا ہے۔ مشینوں پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہل جل کریں، اور اپنی قوت باہر اعتماد کریں۔ اپنے کام خود کریں۔ کام کاج اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔
    روزانہ  مستقل بنیاد پر ورزش کریں۔ اگر آپ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے تو آپ جسمانی طور پر ہمیشہ فٹ، تندرست اور چاق و چوبند رہیں گے۔ ورزش دل کے لیے بہت مفید ہے اور دوران خون کو رگوں میں رواں رکھتی ہے۔ ورزش کرتے ہوئے ایسے ہارمونز ریلیز ہوتے ہیں جن سے منفی جذبات اور ذہنی دباؤ دور ہوتا ہے۔ جس کے سبب جسم پر خوشگوار اثر پڑتا ہے۔
    اس کے علاوہ چہل قدمی اور ہوا خوری کی عادات اپنائیں۔ ان کے بھی صحت پر خوشگوار اثرات ہیں۔ تازہ ہوا میں سانس لینے سے ذہن کو تازگی ملتی ہے اور سکون ملتا ہے۔
    صحت مندانہ طرز زندگی ایک کلچر ہے، اس میں آپ کے روزمرہ کے طور طریقے شامل ہیں اگر آپ کے انداز و اطوار صحت مندانہ نہیں ہیں، صحت مندانہ طرز زندگی کو فروغ دینے والے نہیں ہیں تو یقینا آپ برے کلچر کا حصہ ہیں۔ اپنے لیئے صحت منتخب کریں، اور زندگی گزارنے کا بہترین اور صحت بخش طریقہ اپناءیں۔ ہمیں اپنی بقا کے لیےصحت مندانہ طرز زندگی کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔

    @FarooqZPTI

  • 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    سعودی عرب میں اونٹوں اور گھوڑوں کے چٹانوں پر کندہ تقریباً 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب میں حال ہی میں منبت کاری کے 21 نمونے دریافت کیے گئے ہیں پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ان کی سنگ تراشی کوئی زیادہ پرانی نہیں ان نقش و نگار کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں کافی پرانے ہیں۔

    پی سی بی کا راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ

    ابتدائی طورپر 2018 میں اردن میں بطرا میں دریافت شدہ آرٹ ورک سے مماثلت کی بناپریہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ یہ قریباً 2000 سال پرانے ہوسکتے ہیں۔

    لیکن سعودی اور یورپی اداروں کی نئی تحقیق میں مختلف طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سنگ تراشی کے آلات کے نشانات (ٹول مارکس) اور کٹاؤ کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ایکسرے ٹیکنالوجی کا تجزیہ بھی شامل ہےاس سے پتا چلتا ہے کہ منبت کاری کے یہ آثار قریباً 7000 سے 8000 سال پرانے ہیں۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ان نقش ونگار کا علاقہ،جسے اونٹ سائٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ممکنہ طورپردنیا میں جانوروں کی ان کے فطرتی حجم کے برابر بڑے پیمانے پر سنگ تراشی کا سب سے پرانامرکزہے۔

    شہباز شریف کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس: ایک اور ملزم گرفتار

    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جس دور میں انہیں تخلیق کیا گیا تھا اس دورمیں یہ خطہ آج کے بنجرمنظرنامے سے بہت مختلف نظرآتا ہوگا اس دور میں یہ علاقہ گھاس کے میدان، جھیلوں اور درختوں سے بھراپڑا تھا، جہاں جنگلی اونٹ آوارہ گھومتے پھرتے تھے اور شکار کیے جاتے تھے۔

    محقیقین کا کہنا ہے کہ اب ہم اونٹ سائٹ کو قبل ازتاریخ کے ایک دور سے جوڑسکتے ہیں جب شمالی عرب کی بدوی آبادیوں نے سنگ تراشی کا فن تخلیق کیا اور پتھر کے بڑے ڈھانچے تعمیرکیےتھے جنہیں مستطیل کہا جاتا ہے ۔

    عمر شریف کے بیرون ملک علاج معالجے کے لیے ایئر ایمبولینس کی کب تک آمد متوقع ہے؟

    محقیقین کی ٹیم میں شامل سنگ تراش نے اندازہ لگایا تھا کہ ایک نقش کو مکمل ہونے میں 15 دن تک منبت کاری کی جاتی ہو گی یہ کام ایک اجتماعی کوشش ہوسکتا ہے۔

  • اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر: ماہ رخ اعظم


    دین اسلام کی آمد عورت کیلٸے غلامی و ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کی نوید تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے خلاف تھا اور عورت کو وہ حقوق اور فرائض  عطا کیے جس کی وہ مستحق تھیں دین اسلام نے عورت کو اس قدر عزت و اہمیت دی کہ قرآن کی ایک عظیم سورۃ کا نام سورۃ النساء ہے۔ پھر  ایک اور سورۃ کا نام سورۂ مریم ہے۔  تاریخ گواہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے دور سے عورت مظلوم چلی آرہی تھی ہر دور میں عورتوں پر ظلم  و جبر کیا گیا ہے ۔ مرد انہیں اپنے عیش وعشرت کی غرض سے خرید اور فروخت کرتے انکے ساتھ جانوروں سے بھی  بدتر سلوک کیاجاتاتھا حتی کہ اہلِ عرب عورت کے وجود کو معیوب سمجھتے تھے اور بیٹیوں  کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ ہندوستان میں خاوند کی چتا پر اس کی بیوہ اہلیہ کو جلایا جاتا تھا ۔ واہیانہ مذاہب بھی عورت کو گناہ کا سرچشمہ  سمجھتے تھے۔ عورت سے تعلق رکھناروحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ دنیا کے زیادہ تر تہذیبوں میں عورت کی سماجی حیثیت نہیں تھی۔ عورت کو حقیر وذلیل نگاہوں سے دیکھاجاتا تھا۔ عورت کے معاشی اور سیاسی حقوق نہیں تھے، عورت آزادانہ طریقے سے کوئی لین دین نہیں کرسکتی تھی۔ عورت اپنے باپ کی پھر اپنے خاوند   کی اور اس کے بعد اپنے بچوں کی تابع اور محکوم تھی۔ عورت کی کوئی اپنی مرضی نہیں تھی اور نہ ہی اسے کسی پر کوئی اقتدار حاصل تھا۔ یہاں تک کہ عورتوں کو فریاد کرنے کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔
    لیکن دین اسلام نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کوزندہ درگور کرنے سے منع فرمایا اور ذلت اور پستی کے گڑھوں سے نکالا۔ اسے باپ کے لیے رحمت بنایا، شوہر کے لیے راحت،بھاٸیوں کے لیے شفقت بنایا اور ماں کے روپ میں محبت اور الفت کا سرچشمہ بنایا ۔سب سے پہلے دین اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیئے جس سے وہ صدیوں سے محروم چلی آرہی تھی اور عورت کو یہ حقوق دین اسلام نے اس لئے نہیں عطا کئے تھے کہ عورت اس کا مطالبہ کر رہی تھی یا عورتوں نے کوئی مارچ کیا تھا، بلکہ دین اسلام نے یہ حقوق اور فرائض  عورت کو اس لئے تفویض کئے کہ یہ عورت کے فطری حقوق اور فرائض  تھے، جس کی وہ قدرت کی طرف سے حق دار تھی اور ہمیشہ رہے۔ گی  دین دین اسلام نے عورت کو انسانیت کے دائرے میں حقوق اور فرائض  دیئے اور لوگوں کو یاد دلایا کہ مرد ہونا کوئی برتری کی علامت نہیں ہے اور عورت ہونا کوئی باعث عار شے  نہیں ہے۔اسلام نے عورتوں کو آزادی رائے کا پورا حق ہے۔عورت نے دین اسلام کو بیٹی، بیوی اور ماں کی حیثیت میں بے پناہ حقوق و فراٸض اور آزادیاں دی ہیں، مگر حد سے تجاوز کرنے سے ممانعت کیں ہے مگر  کچھ نا سمجھ لبرلز عورتوں آزادی چاہتی ہیں اور میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے لگا کر عورتوں کو پھسلانا چاہتی ہیں، جبکہ ہمارا جسم تو اللہﷻ  کا عطا کردہ ہے اور اگر ہم اس جسم پر اللہ ﷻ کی مرضی کی بجائے کچھ اور نافذ کریں گے تو وہ یقینا فلاح نہیں ہو گی اس لئے عورتوں کو وراثت میں حق دینے کے لئے مارچ ہونے چاہئیں ، انہیں بہترین  تربیت اور تعلیم دی جانے چاہیے اور جہیز جیسی لعنت سے چھٹکارے کے لئے مارچ ہونے چاہئے جو عورت کے حقیقی مسائل ہیں اور اسی کیلٸے ہمیں مل کر جدوجہد کرنی چاہئے۔ 

    اللہ تعالیٰ ہم سب  مسلم بہنوں  کو اسلام کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

    ‎@MahaViews_

  • پی سی بی کا راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ

    پی سی بی کا راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ کیا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کی جانب سے نیوزی لینڈکرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ ہونے کے بعد نیشنل ٹی 20کپ کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ اس سے پہلے ملتان میں 25 ستمبر سے شروع ہونا تھا۔ نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں قومی ٹیم کے تمام کھلاڑی ان ایکشن نظر آئیں گے۔

    ٹورنامنٹ میں تمام بڑے کھلاڑی حصہ لیں گے۔ ٹورنامنٹ کا دوسرا مرحلہ لاہور میں ہوگا۔

    تھریٹ لیول بدلنے پردورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ

    واضح رہے کہ پاکستان دورے پر آنے والی نیوز ی لینڈ کرکٹ ٹیم نے 17ستمبر کو پہلے ون ڈ ے سے کچھ دیر قبل سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کراچانک دورہ ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد کیویز ٹیم گزشتہ روز وطن واپس روانہ ہوگئی۔

    گرین لائن ریپڈ بس سروس:40 بسوں کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے دورہ منسوخی کے اعلان پر شائقین کرکٹ سمیت غیر ملکی کھلاڑیوں اور کرکٹ ایکسپرٹس نے بھی مایوسی کا اظہار کیا تھا-

    باکسر عامر خان کو امریکی ایئر لائنز کی پرواز سے اتار دیا گیا

  • تھریٹ لیول بدلنے پردورہ پاکستان منسوخ  کرنا پڑا       نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ

    تھریٹ لیول بدلنے پردورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ

    نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے سی ای او نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تھریٹ لیول بدلنے پر کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا۔

    باغی ٹی وی :نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے سی ای او ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ مکمل اطمینان تھا اس لئے ٹیم کو پاکستان بھیجا تھا۔ جمعہ کے روز سب کچھ بدلا ایڈوائزری تبدیل ہوئی، صورتحال بدلی، تھریٹ لیول بدلا اس لئے دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    کرس گیل کا پاکستان آنے کا اعلان،کھلاڑیوں کا رد عمل

    ان کا کہنا ہے کہ ہمیں جو ایڈوائس ملی تھی اس میں ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا حکومت سے مخصوص اور مصدقہ تھریٹ لیول کی ایڈوائزری ملی تھی۔

    انہوں نے مزید کہا ہے کہ آزاد ذرائع سے بھی ایڈوائزری کو حمایت حاصل تھی تھریٹ کی بنیادی نوعیت پی سی بی کو بتائی اس کی تفصیلات شیئر نہیں ہوسکتیں۔ ہم نے حکومت سے تفصیلی مشاورت کے بعد ہی دورہ ختم کیا تھا۔

    فول پروف سیکیورٹی:پاکستان نے دنیائے کرکٹ کو بڑی پیشکش کردی

    دوسری جانب نیوزی لینڈ کرکٹ اسکواڈ دبئی پہنچ گیا ہےجس کے بعد اب کھلاڑی اگلے مرحلے میں نیوزی لینڈ واپس جائیں گے۔

    یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان کھیلنے کے لیے آئی تھی، ٹیم اسٹیڈیم کیلئے روانہ ہونے والی تھی کہ سیریز کو منسوخ کر دیا گیا پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ نے یکطرفہ طور پر سیریز منسوخ کی ہے مہمان ٹیم کیلئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈن نے کرکٹ ٹیم کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم تھی میں نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیم کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔

    دوسری طرف شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں وہ مصروف ہیں جن کوہرمحاذپرشکست ہوئی ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بات نہیں ایسی ساز شیں پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑسکتیں

    نیوزی لینڈ سیریز منسوخ، تکلیف میں بھی محسوس کر رہا ہوں:آگے بڑھنا ہے:گھبرانا نہیں:…

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہاہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم شام 6 بجے چارٹرڈ طیارے سے دوبئی روانہ ہو گی ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاہے کہ نیوزی لینڈ کی 33 رکنی ٹیم کا وفد اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ چکا ہے جو شام 6 بجے چارٹر ڈ طیارے سے روانہ ہو گی ۔ وزیرداخلہ نے کہاکہ پوری ٹیم کے کرونا ٹیسٹ بھی ہو چکے ہیں۔

    33 رکنی وفد چارٹر فلائیٹ RJD232 کے ذریعے دوبئی روانہ ہو گی۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ نے بے بنیاد سیکیورٹی خدشات پر پاکستان کا دورہ موخر کیا۔امریکہ کی نیٹو فوج ، آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور کابل میں سفارت خانوں کے سفارتی عملے نے انخلا کے لیے پاکستان کو ترجیح دی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مخالف عالمی ایجنڈوں کے لیے کھیلوں کو قربانی کا بکرا نہ بنائیں۔

    سی سی پی او لاہوربھی نیوزی لینڈ کے رویے پرجزباتی ہوگئے

  • کرس گیل کا پاکستان آنے کا اعلان،کھلاڑیوں کا رد عمل

    کرس گیل کا پاکستان آنے کا اعلان،کھلاڑیوں کا رد عمل

    ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری بلے باز کرس گیل کی جانب سے پاکستان آنے کے اعلان پرقومی کھلاڑیوں کی جانب بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ویسٹ انڈیز کے جارحانہ بلے باز کرس گیل نے کہا ہے کہ وہ پاکستان جا رہے ہیں اور کون کون ان کے ساتھ جا رہا ہےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرس گیل نے لکھا کہ میں آج پاکستان جا رہا ہوں، انہوں نے سوال پوچھا کہ کون کون میرے ساتھ آ رہا ہے؟-

    جس کے بعد قومی کرکٹرز کی جانب سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا جا رہا ہے-

    قومی کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان نے کہا کہ آپ جب بھی پاکستان آئیں آپکو ہمیشہ خوش آمدید کہیں گے۔


    قومی آل راؤنڈر محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ خوش آمدید کرس گیل، آپ واقعی ایک حقیقی چیمپئین ہیں، پاکستان کی جانب سے بہت سا پیار۔


    فاسٹ باؤلر محمد عامر نے بھی کرس گیل کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آپ سے ملاقات ہوگی۔

    واضح رہے کہ کرس گیل کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب نیوزی لینڈ کی ٹیم نے سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر پاکستان کا دورہ ختم کر دیا کرس گیل کا بیان اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ، پاکستان ایک پرامن اور محفوظ ملک ہے۔

  • پاکستان کا مستقبل روشن ہے تحریر: فرمان اللہ

    پاکستان کا مستقبل روشن ہے تحریر: فرمان اللہ

    پاکستان کے روشن مستقبل پر بات کرنے سے پہلے میں ماضی پر ایک نظر ڈالنا چاہتا ہوں۔ پچھلے 5 دہائیوں پر اگر نظر ڈالیں تو جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کی بجائے اسے تنزلی کی طرف لے کر گئے، معاشی طور پر پاکستان کو مقروض بنایا، اداروں میں سیاسی بھرتیاں کر کے اداروں کو تباہ و برباد کیا گیا، تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی صحت کی بہتر سہولیات عوام کو دی گئی۔ سادا لفظوں میں اگر بتاوں تو ملک غریب ہوتا گیا مقروض ہوتا گیا اور حکمران امیر سے امیر تر ہوتے گئے، بیرون ملک جائیدادیں اور کاروبار بناتے گئے۔

    اور مزے کی بات کہ یہ حکمران ملک لُوٹتے رہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں تھا نہ عدلیہ اور نہ باقی ادارے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہر ادارے میں اپنے من پسند کے لوگ بھرتی کیے جو خود بھی کھاتے رہے اور ان چور حکمرانوں کے سہولتکار بھی بنے رہے۔ آج پاکستان کا ہر ادارہ مقروض ہے اور ہر ادارے میں کرپشن عروج پر ہے۔

    ایسے ایک محب وطن پاکستانی اٹھا جس نے ان چور حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کیا اور ایک طویل جدوجہد کے بعد اسے موقع ملا کہ وہ پاکستان پر حکمرانی کرے اس محب وطن اور ایماندار شخص کا نام ہے عمران خان۔ جب اسے حکومت ملی تو پاکستانی دیوالیہ کے قریب تھا دن رات محنت کرنے کے بعد ملک کو ایک بہتر سمت میں ڈال دیا لیکن یہ ممکن نہیں کہ 70-60 سال کا گند 5 سال میں صاف کیا جا سکے۔ عمران خان ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جنکے اثارات کچھ سالوں کے بعد ظاہر ہوں گے اور ان منصوبوں کا فائدہ ہماری آنے والی نسل کو ہو گا جیسے شجرکاری بظاہر تو غیر مقبول منصوبہ ہے لیکن ماحولیات کے لحاظ سے انتہائی اہم جسے سابقہ ادوار میں نظر انداز کیا گیا، ڈیمز جو وقت کی ضرورت ہے ہر سال ہم اربوں روپے کا پانی ضائع کرتے ہیں اور اسے روکنے کا کوئی نظام نہیں ہمارے پاس موجودہ حکومت خاص توجہ دے رہی ہے اس پر اور ڈیمز سے سستی بجلی کی پیداوار میں کافی اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے یونٹ کے ریٹ کو کم کیا جا سکتا ہے اور لوڈ شیدڈنگ پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ زراعت جسے سابقہ ادوار میں تباہ و برباد کر دیا گیا کسان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی کسان کو سہولیات فراہم کی گئی جس سے وہ اپنی پیداوار بڑھا سکے اور نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم ہر قسم کی چیز امپورٹ کرتے ہیں اور مہنگائی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔ موجودہ حکومت نے پہلی بار کسان کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں تاکہ زرعی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جا سکے۔ تعلیم جو کسی بھی معاشرے کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے موجودہ حکومت تعلیمی نظام کی بہتری پر پوری توجہ دے رہی ہے تاکہ ہماری آنے والی نسل جدید تعلیمی نظام حاصل کر سکے۔ سابقہ ادوار میں صحت کی سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی لیکن آج ہر پاکستانی کو صحت انصاف کارڈ دیا جا رہا ہے جس کے زریعے اس کا مفت علاج کیا جا سکے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک انقلابی اقدام ہے موجودہ حکومت کا۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے منصوبے ہیں جو ہیں تو غیر مقبول منصوبے لیکن پاکستان کے بہتر مستقبل اور ترقی میں بہت اہم کردار ادا کریں گے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی اس تحریر کا عنوان "پاکستان کا مستقبل روشن ہے” رکھا ہے۔ بس اس کے لیے عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن ان شاء اللہ بہت جلد اچھے دن آئیں گے۔

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan

  • بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے تحریر: محمد جمیل

    اکثر لوگ یہ اعتراض اور سوال کرتے ہیں کہ اگر معیشت درست سمت پر گامزن ھے اور ملک کی معیشت ترقی کر رہی ھے تو پھر مہنگائی اتنی زیادہ کیوں ھے اور اس ترقی کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچایا جا رہا.
    ان دونوں سوالوں کا بہت آسان جواب ھے
    مثال کے طور پر آپ کا گھر 10 لاکھ روپے کا مقروض ھے
    اور آپ ہر مہینے قرضوں کی قسطیں دے رہے ھو آپ کے گھر کا خرچہ 1 لاکھ روپے ماہانہ ھے اور آپ کی آمدنی 50 ہزار ھے تو آپ ان حالات کو کیسے ٹھیک کریں گے؟؟
    پہلے آپ اپنے خرچے کم کریں گے جتنے فالتو اخراجات ھیں اس کو ختم کریں گے پھر آپ اپنی آمدنی بڑھائیں گے مطلب آپ روزانہ 8 گھنٹے کام کرتے ہیں جس کے آپ کو پچاس ہزار روپے ملتے ہیں تو آپ اپنے کام کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹے کریں گے.
    جب آپ اخراجات کم کریں گے اور کام بڑھائیں گے تو آپ کا خسارہ کم ھو جائے گا اور کچھ وقت اسی محنت کو جاری رکھیں گے تو آپ کے اخراجات سے آمدن زیادہ ھونی شروع ھو جائے گی
    مگر حالات پھر بھی تبدیل نہیں ھونگے کیونکہ آپ کے اوپر جو دس لاکھ کا قرضہ ھے وہ بھی آپ کو واپس کرنا ھے لہذا اب آپ کے پاس جو زیادہ آمدن آتا ھے وہ آپ ان قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کریں گے اور آپ کی حالت وہی سخت ھونگے آپ کی زندگی تکلیف دہ ھونگی
    مگر جیسے ہی آہستہ آہستہ آپ کا قرضہ کم ھوتا جائے گا آپ کی قسطیں کم ھوتی جائیں گی آپ کے حالات پر فرق پڑنا شروع ھو جائے گا
    یہی حالت آج کل پاکستان کی ھے الحمداللہ اخراجات کم ھو گئے ہیں آمدن میں اضافہ ھونے لگا ھے کچھ قرضے دئے جا چکے ہیں اور کچھ ضروری قرضے دینے باقی ھے جو ان شاءاللہ ایک سال تک دے دئے جائیں گے اور پھر جو آمدن بچت ھو گی وہ حکومت عوام پر خرچ کرے گی اور مہنگائی میں کافی حد تک کمی آجائے گی.
    دوستوں اس وقت ھم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں .
    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو 3 سال مکمل ہو چکے ہیں وزیراعظم عمران خان صاحب نے 2018 میں اقتدار سمبھالنے سے لےکر اب تک بہت ہی کامیابیوں کے دعوے کئے ہیں. لیکن حقیقت یہ ہےکہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مہنگائی کئی گناہ بڑھ چکی ہے.
    گزشتہ 3 سالوں میں چینی 55 سے 130 روپے, آٹا 45 سے 80 روپے, دودھ 80 سے 140 روپے اور گھی 140 سے بڑھ کر 350 روپے ہو چکا ہے. جبکہ سبزیاں, دالیں, اور باقی خوردنی اشیاء بھی عوام کی قوت سے نکل چکی ہیں. اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات, گیس اور بجلی کی قیمتوں کافی اضافہ ہوا ہے
    اگر ڈالر کی بات کی جائے تو جب تحریک انصاف نے اس ملک کی بھاگ دوڑ سمبھالی اس وقت ڈالر 124 روپے تھا لیکن اس وقت ڈالر 168 روپے تک جا پہنچا ہے
    بھوک افلاس اور تنگدستی ایسی پُر درد حقیقت ہے جس کے سامنے عزت نفس، انسانیت اور نام نہاد نظریات ہتھیار ڈال دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں
    مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے
    ایک سروے کے مطابق تحریک انصاف کی 3 سالہ حکومتی کارکردگی سے 48 فیصد پاکستانی خوش جبکہ 45 فیصد ناراض ہیں.
    جس تیزی سے پاکستان کی معیشت اوپر جا رہی ھے ان شاءاللہ اگلے سال تک پاکستان اس قابل ھو جائے گے کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کر سکے گا
    بس ھمیں تھوڑا صبر کرنا ھوگا
    یاد رہے مظبوط اعصاب کے لوگ ہی مشکلات سے نکل آتے ہیں عظیم اقوام کی نشانی یہی ھے کہ وہ مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کریں.

    Twitter Handle: @RealJameel8

  • بیٹی اللہ کی رحمت تحریر: محمد احسان

    بیٹی اللہ کی رحمت تحریر: محمد احسان

    میں ان خواتین سے پوچھوں گا جو سڑکوں پر فحاشی اور بے شرمی کا مظاہرہ کررہی ہیں ، "کیا آپ نے اسلام سے پہلے خواتین کی تاریخ پڑھی ہے؟ کیا آپ جانتی ہیں؟

    اسلام سے قبل عورت کو کتنا ذلیل و رسوا کیا جاتا تھا۔اسلام سے پہلے عورتوں کی عزت کو کس قدر پامال  کیا جاتا تھا۔اسلام سے قبل ہندو عیساٸ اور یہودی عورت کو نہ صرف "منحوس” سمجھتے تھے بلکہ "بیٹی”پیدا ہوتے ہی اس کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔عورت کو جاٸیداد میں حق ملتا تھا اور نہ ہی معاشرے میں اس کا کوٸ کردار تھا۔مرد جب چاہتا کسی عورت سے شادی کرتا۔جب چاہتا اسے طلاق دے دیتا۔عورت پر ہر قسم کی پابندی تھی عورت پر جانوروں کی طرح ظلم و ستم کیا جاتا تھا۔

    اس کے برعکس اسلام نے عورت کو عزت دی۔اسلام نے عورت کو زندہ دفنانے سے منع کا۔اسلام نے عورت پر ظلم و ستم سے روکا۔

    بیٹی کو اللہ کی رحمت کہاگیا۔اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ کہا ہے۔اسلام نے عورت کے قدموں تلے جنت رکھی ہے۔اسلام نے عورت کو ہر روپ میں عزت بخشی۔اسلام نے عورت کو جاٸیداد میں حقوق دلواۓ۔

    عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔عورت اگر بیوی ہے تو سکون ہے۔عورت اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے۔اسلام نے عورت کو چادر اور چاردیواری کا تحفظ فراہم کیا۔

    آپﷺ نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں. ۔جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟ بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں.

    جبکہ

        یہودی او عیساٸ آج بھی عورت کو کھلونہ سمجھ کر اس سے کھیلتے  ہیں۔ عورت کو آج بھی وراثت میں حق نہیں دیتے۔عورت کو کلبز اور شراب خانوں میں ننگا نچواتے ہیں۔عورت کو فاحشہ بننے پر داد دیتے ہیں۔

    اس سب کے باوجود میرا جسم میری مرضی کرنے والیوں کو اعتراض ہے کے اسلام نے انکو حقوق نہیں دیۓ

    اگر اسلام نے آپکو حقوق نہیں دیۓ تو میں چیلنج کرتا ہوں بتاۓ دنیا کا وہ کونسا مذہب ہے جس نے آپ(عورت)کوحقوق دیۓ۔

    اے مسلمان بہن خدارا مغربی عورتوں  کی طرح خود کو جسم بیچنے والی دکان مت بنا۔آپ باعزت ہیں۔آپ ان مغربی بےحیاہ عورتوں کی طرح بلکل بھی نہیں ہیں۔جنہیں مرد جب چاہے اپنی حوس پوری کرنے کے بعد چھوڑ دیتا ہے۔

    اللہ ﷻ نے آپکو عزت دی ہے۔آپکو کوٸ غیر محرم چھونا تو دور دیکھ بھی نہیں سکتا۔عورت اللہﷻ کے نزدیک تبھی ہوتی ہے جب وہ چاردیواری میں رہتی ہے۔اسلام نے آپکو تحفظ دیا ہے پھر بھی آپ نعرے لگاتی ہیں کے اسلام نے حقوق نہیں دیے 

    دعا ہے۔اپنے آپ کو پہچانو خود کو بازاروں کی زینت مت بناو۔ افراط

     اللہ پاک آپ سب(بہنوں) کی عزت محفوظ رکھے آمین

    تحریر اچھی لگے تو لاٸک اور شیئر ضرور کریں