Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مہنگائی کا طوفان    تحریر.ہارون خان جدون

    مہنگائی کا طوفان تحریر.ہارون خان جدون

    گزشتہ رات ڈالر کی اڑان سب کی نیندیں اڑا کر لے گئی ہے جس کے سبب پٹرولیم مصنوعات ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں مزدور بندہ تو پہلے ہی بہت مشکل سے اپنی زندگی گزار رہا ہے اب اوپر سے مزید پٹرول مہنگا ہو جانے سے عام بندے کی زندگی پر بہت اثر پڑے گا

    واقعی حقیقی معنوں میں تو ڈالر کو فریز کر دیا جاتا ہے اور جس کے سبب خاص طور پر ایشیائی ممالک کی معیشت بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہےپاکستان جو کہ پہلے ہی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے س کی معیشت مزید گرتی ہے اور بدلے میں مہنگائی کا طوفان لے کر آتی ہے۔ پرائس کنٹرول والوں کی اپنی ریٹ لسٹ ہے جبکہ بازار میں فروخت کنندگان کی اپنی لسٹ۔ کچھ تو ان بھائی لوگوں نے بھی مصنوعی مہنگائی کی ہوئی ہوتی ہے جس کا خمیازہ عوام بھگتتی ہے۔ اگر کوئی آگے سے احتیاطاً پوچھ بھی لے کہ اتنی مہنگی چیز کیسے؟ تو جواب سننے کی بجائے وہ اپنے سوال پہ پچھتاتا ہے

    صوبائی اور وفاقی سطح کی پالیسی عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہے وہ نہیں جانتا کہ ایکسچینج ریٹ کیا ہے ؟ کرنسی کی ویلیو بڑھی یا گھٹی ؟ افراط زر یا تفریط زر کا مقصد کیا ہے ؟ ڈیولپمنٹ ہو رہی ہے کہ نہیں ؟ ہم گرے لسٹ میں ہیں یا بلیک لسٹ میں؟ نیشنل انکم یا جی ڈی پی کہاں پہ رکے گی؟ وغیرہ وغیرہ اور عام آدمی سمجھنا بھی نہیں چاہتا کیونکہ اسے بس اپنا گھر چلانا ہے۔ وہ ووٹ اسی لیے تو دیتا ہے کہ مجھ سے بہتر لوگ ملک چلائیں۔ 

    اب ہم ملک تو نہیں چلا سکتے کم از کم اپنی اخلاقی اقدار تو بہتر بنا سکتے ہیں تا کہ ایک عام آدمی کی زندگی سہل ہو سکے اب جیسا کہ آج کل مارکیٹ میں شخصیت کو دیکھ کر چیز بیچی جاتی ہے اگر تو تھوڑا پڑھا لکھا ہے مارکیٹ کے اصول و ضوابط جانتا ہے اسے چیز مناسب نرخ پہ بتائی جا تی ہے اگر کوئی بیچارہ سادہ لوح شخص پہلے تو خریداری کی سکت نہیں رکھتا اور اگر بچوں کی خاطر چلا بھی جائے تو اسے مہنگے داموں پہ چیز دی جاتی ہے یا پھر غیر معیاری چیز پکڑا دی جاتی ہے۔ جیسا کہ میڈیکل اسٹور پہ ملٹی نیشنل دوائی کی بجائے کٹ ریٹ والی دوائی تھما دی جاتی ہے۔ 

    دوسری طرف ہماری یہ بھی اخلاقی کمزوری بن چکی ہے کہ جس چیز کا ریٹ موجود نہیں اس میں بے تحاشہ منافع شامل کر لیا جاتا ہے۔ کپڑے کو دیکھیں تو 50 یا 100 کے ہندسے میں ملے گا یعنی یا تو 300 روپے میٹر یا پھر 350 روپے بیچ والی گنتی جیسے بھول گئی ہو, اسیطرح جوتے والے یا پھر جنرل اسٹور اور کراکری والے بھی من مرضی کے ریٹ لگاتے ہیں اور آگے سے پوچھتے ہیں کہ آپ کتنے دیں گے؟ فرنیچر والے اور دیگر اشیائے ضرورت والے تو مت پوچھیں دکان میں پاؤں رکھا نہیں کہ اسی طرح واپس آنے کو دل کرتا ہے۔ 

    میری تمام تاجران سے اور حکومتی عہدیداروں سے اپیل ہے کہ مہنگائی کے طوفان میں اور کچھ نہ سہی تو غریب عوام کی اس طرح بھی مدد ہو سکتی ہے ایک تو ہر چیز کا ریٹ لگا ہو ، جو کہ منظور شدہ ہو ، اور مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کو یقینی بنائیں تاکہ عام آدمی کو کسی جگہ تو ریلیف ملے.

    @ItzJadoon 

  • شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    شمالی علاقہ جات: جنت نظیر تحریر عمران افضل راجہ

    پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ بڑی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ہے۔
    خیبر پختونخوا پاکستان کے شمال مغربی حصے میں واقعہے۔ اس کی وسیع سرحد
    افغانستان سے منسلک ہے۔ خیبر پختونخوا اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے جانا جاتا
    ہے۔ سیاحوں کی دلچسپیاور مہم جوئی کے لیے بہت سی جگہیں ہیں۔ شمال میں کچھ
    خوبصورت اور جنت نظیر وادیاں اور پہاڑ ہیں جن میں کاغان اورسوات،کالام، مالم
    جبہ شامل ہیں۔ یہاں پر بہت سے دریا بھی بہتے ہیں جن میں کابل، سوات، چترال، ژوب
     شامل ہیں۔ ان دریاؤںاور جھیلوں کی وجہ سے یہ صوبہ زیادہ تر سرسبز و شاداب
    وادیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ سال کے زیادہ تر وقت یہ وادیاں اور پہاڑ برفسے ڈھکے
    ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں یہاں موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا ہے اس لیے پاکستان سمیت
     دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑیتعداد شمالی علاقوں کا رخ کرتی ہے۔

    ناران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں کاغان وادی ایک مقبول سیاحتی
     مقام ہے۔ یہ مانسہرہ شہر سے 119 کلومیٹر (74 میل) 2،409 میٹر (7،904 فٹ) کی
    بلندی پر واقع ہے ۔یہ بابوسر ٹاپ سے تقریبا kilometres 65 کلومیٹر (40 میل) دور
     ہے۔  کاغاناپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر
    سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    وادی کاغان

    ایک الپائن وادی ہے جو خیبر پختونخوا ، پاکستان کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے۔
     2005 کے تباہ کن کشمیر زلزلے سے پیدا ہونے والیلینڈ سلائیڈنگ نے وادی میں جانے
     والے کئی راستوں کو تباہ کردیا ، حالانکہ اس کے بعد سڑکیں بڑی حد تک دوبارہ
    تعمیر کی گئی ہیں۔کاغان ایک انتہائی مقبول سیاحتی مقام ہے۔

    ناران کاغان میں ہر سال خوشگوار موسم کی وجہ سے ہزاروں سیاح وادی کی سیر کو آتے
     ہیں۔ یہ بابوسر پاس سے گرمیوں میں گلگتہنزہ کا گیٹ وے بھی ہے۔

    جھیل سیف الملوک

    جھیل سیف الملوک ایک پہاڑی جھیل ہے جو وادی کاغان کے شمالی سرے پر واقع ہے ، یہ
     سیف الملوک نیشنل پارک میںناران قصبے کے قریب سطح سمندر سے 3،224 میٹر (10،
    578 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ اور پاکستان کی بلند ترین جھیلوں میں سےایک ہے۔
    ماہرین کا خیال ہے کہ وادی کاغان تقریبا 300،000 سال قبل گلیشیر سے ڈھکی ہوئی
    تھی۔ اور یہ جھیل بھی گلیشیر کےپگھلنے سے وجود میں آئی۔ دی گارڈین کے مطابق
    جھیل سیف الملوک پاکستان کے پر کشش مقامات میں سے 5 ویں نمبر پر ہے۔گلیشیر کے
    درمیان سبزی مائل شفاف جھیل کسی خواب کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس کے اسی ملکوتی
    حسن کی بدولت اس کےبارے میں مختلف کہانیاں مشہور ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چاند
     کی چودھویں رات کو یہاں پریاں اترتی ہیں۔

    شوگران

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کو بے شمار خوبصورت مقامات سے نوازا گیا ہے اور
    وادی شوگران ان میں سے ایک ہے۔ شوگرانوادی کاغان کا ایک پہاڑی مقام ہے جو سطح
    سمندر سے 2،362 میٹر کی بلندی پر ہے۔ شوگران کے لوگ بہت شائستہ اور دوستانہہیں۔
     ہر سال سیاحوں ایک بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے۔  سری پائے میں ، پائی جھیل
    کے نام سے ایک جھیل ہے جہاںسیاح گھڑ سواری سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ
    کہ سری پائے ایک زرخیز سرسبز گھاس کا میدان ہے۔ وادی شوگران میںمالکنڈی جنگل
    اور منی چڑیا گھر شوگران اہمیت کے حامل ہیں۔ مالکنڈی جنگل ایک گھنا اور گہرا
    جنگل ہے۔ مالکنڈی جنگل کی سیرکرتے وقت ، آپ کو چیتوں اور کالے ریچھوں کا سامنا
    کرنا پڑ سکتا ہے ، اس لیے اپنی حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ وادیشوگران میں
    منی چڑیا گھر بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ ایک چھوٹا چڑیا گھر ہے جس میں
    معروف سہولیات اور پرندوں کیخاص قسم ہے۔

    آنسو جھیل

    آنسو جھیل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی وادی کاغان میں
    واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے 4،245 میٹر (13،927 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے اور اسے
    ہمالیہ رینج کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ جھیل وادی کاغان
     کا سب سےاونچا پہاڑ ملیکا پربت کے قریب واقع ہے۔ جھیل کا نام اس کی آنسو کی
    شکل کی وجہ سے  ہے۔ اس کو  1993 میں پاک فضائیہ کےپائلٹوں نے دریافت کیا تھا جو
     اس علاقے میں نسبتا کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔ مشکل اور دشوار گزار سفر کے
     باوجود اس کیخوبصورتی سیاحوں خاص طور پر مہم جوئی کے شوقین افراد کو یہاں
    کھینچ کر لے آتی ہے۔

    مالم جبہ

    مالم جبہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں سیدو شریف سے تقریبا
     40 کلومیٹر دور ہندوکش پہاڑی سلسلے میں ایک ہلاسٹیشن اور سکی ریزورٹ ہے۔ یہ
    اسلام آباد سے 314 کلومیٹر اور سیدو شریف ہوائی اڈے سے 51 کلومیٹر کے فاصلے پر
    واقع ہے ۔ یہپاکستان کا واحد سکی ریزورٹ ہے۔  یہ صرف ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ
     اس کے آس پاس  2 بدھسٹ سٹوپا اور 6 خانقاہیں بھیہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ
    یہاں دو ہزار سال پہلے بھی آبادی تھی۔

    اگرچہ مالم جبہ زیادہ تر اسکیئنگ کے لیے مشہور ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک
    خوبصورت اور پر فضا پہاڑی مقام ہونے کی وجہ سےبھی یہاں ہر سال سیاحوں کا رش
    رہتا ہے۔

    نتھیاگلی

    نتھیا گلی ایک خوبصورت اور پر فضا پہاڑی ریزورٹ ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر
    پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں واقع ہے۔ یہگلیات رینج کے مرکز میں واقع ہے ،
    جہاں کئی پہاڑی سٹیشن واقع ہیں۔ نتھیا گلی اپنی قدرتی خوبصورتی ، پیدل سفر کے
    ٹریک اورخوشگوار موسم کے لیے جانا جاتا ہے، جو کہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے باقی
     گلیات رینج کے مقابلے میں بہت ٹھنڈا ہے۔ یہ مری اورایبٹ آباد دونوں سے تقریبا
     32 کلومیٹر (20 میل) دور ہے۔ جنگلی حیات اور فطرت سے محبت کرنے والے سیاحوں
    اور ہائیکنگکرنے والوں کے لیے یہ بے پناہ کشش لیے ہوئے ہے۔

    چونکہ نتھیا گلی 8،200 فٹ پر واقع ہے ، اس لیے میراں جانی ہائیکنگ  کے لیے
    بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ یہ 6-7 گھنٹے کا سفر ہے۔اگر پیدل سفر طویل لگتا ہے تو
     سفر کے لیے گھوڑے بھی کرائے پر دستیاب ہیں۔

    ایک انتہائی تجویز کردہ جگہ ، گرین اسپاٹ پاکستان ایئر فورس بیس کالاباغ پر
    واقع ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز ، آرام دہ علاقہ ہے۔قریب ہی ایک چھوٹا سا کیفے ہے
    جو کافی ، چائے ، سافٹ ڈرنکس اور سنیکس پیش کرتا ہے۔

    گورنر ہاؤس نتھیا گلی کے مرکزی بازار سے سڑک کے اوپر واقع ہے۔ بہت پہلے برطانوی
     راج کے دوران تعمیر کیا گیا۔یہ سرسبز وشاداب لان سے گھرا ہوا ہے۔

    فن تعمیر کا ایک اور حیرت انگیز شاہکار نتھیا گلی کا چرچ ہے۔  برطانوی حکمرانوں
     کے دور میں تعمیر کیا گیا ، لکڑی سے بنا ہوا چرچ نتھیاگلی میں ایک اہم کشش ہے۔
     اس کے چاروں طرف سرسبز گھاس ہے جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔

    مشک پوری

    شمالی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں نتھیا گلی پہاڑیوں
    میں ایک 2،800 میٹر اونچا (9،200 فٹ) پہاڑ ہے۔ یہاسلام آباد سے 90 کلومیٹر (56
    میل) شمال میں ، ایوبیہ نیشنل پارک کے نتھیا گلی علاقے میں ڈنگا گلی کے بالکل
    اوپر ہے۔ یہ میرانجانیکے بعد گلیات ریجن کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو 2،992
    میٹر (9،816 فٹ) پر واقع ہے۔

    چوٹی پر پانی کا تالاب ہے جو آسمان اور درختوں کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔
    وادی کشمیر کا ایک خوبصورت نظارہ مشک پوری سےبھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لہذا ،
    بنیادی طور پر ، نہ صرف یہ دلکش مقام آپ کو اپنی اندرونی خوبصورتی دکھاتا ہے
    بلکہ آس پاس کےمقامات کی جھلک بھی پیش کرتا ہے-

    ایوبیہ نیشنل پارک

    مری پہاڑیوں میں ایک چھوٹا قومی پارک ہے۔ ایوبیہ نیشنل پارک تقریبا 3128 ہیکٹر
    ایکڑ رقبے پر محیط ، یہ جگہ خاص طور پر کے پیکے میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں ان
    پرندوں اور جانوروں کا وجود ہے جو ناپید ہونے کے خطرے کا شکار ہیں۔ کالا ریچھ
    اور چیتےعام نظر میں آتے ہیں۔ کوکلاس فیزینٹ اور کالیج فیزینٹ ، یہاں پائے جاتے
     ہیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ 45 منٹ کا یہ سفر دریائے جہلم اور پائنس
     سے ڈھکی پہاڑیوں کی دلکش خوبصورتی سے بھرپور ہے۔ یہ پارک پاکستان میں نم
    ہمالیہ کےمعتدل جنگلات کی بہترین باقیات میں سے ایک ہے اور سات بڑے دیہات اور
    تین چھوٹے شہروں (نتھیاگلی ، ایوبیا اور خانس پور) سے گھرا ہوا ہے۔ ایوبیہ
    نیشنل پارک ایک بڑا تفریحی علاقہ ہے جس میں بڑی تعداد میں مقامی سیاح آتے ہیں
    جن میں زیادہ تر اسلامآباد اور ایبٹ آباد سے آتے ہیں۔ ہر سال تقریبا 100،000
    سیاح یہاں آتے ہیں۔

    وادی سوات

    وادی سوات ایک بلند و بالا سیاحتی مقام ہے جو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے
     شمال مغربی پہاڑوں میں واقع ہے۔ یہ جگہ آثارقدیمہ ، سیر و تفریح اور ہائیکنگ
    کے لیے مثالی ہے۔ اگرچہ سوات کی وادی اپنی شاندار قدرتی خوبصورتی کے لیے شہرت
    رکھتی ہے ،پھر بھی اس کے 5،337 کلومیٹر (2،061 مربع میل) کے رقبے میں سیاحوں کے
     لئے بہت سے پرکشش مقامات ہیں۔ سوات کوپاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے ،
    دریائے سوات کے ارد گرد ایک قدرتی جغرافیائی علاقہ ہے۔ وادی گندھارا کی قدیم
    بادشاہت کےتحت ابتدائی ہندو مت اور بدھ مت کا ایک بڑا مرکز تھا۔ وادی میں 10
    ویں صدی تک بدھ مت کا وجود تھا، جس کے بعد یہ علاقہزیادہ تر مسلم ہوگیا۔

    سیدو شریف سوات کا دارالحکومت ہے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، سیدو شریف میں
    مرکزی سرکاری دفاتر ، پیشہ ور تعلیمیادارے ، صحت کی سہولیات وغیرہ موجود ہیں ۔
    سیدو شریف وادی سوات میں 25 قبل مسیح اور پہلی صدی کے اختتام کےدرمیان بدھ مت
    کا ثبوت ہے۔ سیدو شریف میں سیاحوں کی ایک اور اہم توجہ سوات میوزیم ہے جو بدھ
    دور کی ہزاروں اشیاءکے ساتھ ساتھ بدھ سے پہلے کے تاریخی نمونے بھی دکھاتا ہے۔

    مینگورہ بازار سوات کا مرکزی کاروباری مرکز ہے۔ مینگورہ شہر میں ہزاروں دکانیں
    ہیں جو تمام دن کھلی رہتی ہیں۔ مینگورہ میں مختلفقسم کے ہوٹل ، ریستوران ، ٹیک
    اوے ، کیفے اور مغربی فوڈ آؤٹ لیٹس ہیں جو مقامی اور فاسٹ فوڈ دونوں پیش کرتے
    ہیں۔

    سوات ہندوکش پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع اپنے شاندار پہاڑوں کے لیے بھی مشہور
     ہے جہاں آپ پیدل سفر ، ٹریکنگ اورہائیکنگ کر سکتے ہیں۔ سطح سمندر سے 4500 سے
     6000 میٹر تک کئی پہاڑی چوٹیاں ہیں۔ دریائے سوات پر مشتمل سوات کا علاقہسرسبز
    وادیوں ، برف سے ڈھکے گلیشیئرز ، جنگلات ، گھاس کا میدان اور میدانی علاقوں سے
    ڈھکا ہوا ہے۔سوات کی جھیلیں اپنےساتھ ایک بھرپور تاریخ رکھتی ہیں۔ وادی سوات
    میں بے شمار تالاب اور میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیلیں ہیں۔ اس وادی میں تقریبا
    35 مشہور جھیلیں ہیں ، ان میں سے ہر ایک اپنے دلکش اور چمکتے ہوئے مناظر سے
    منفرد ہے۔ یہ جھیلیں پودوں اور جنگلی حیات کیمتعدد اقسام کا گھر ہیں۔

    وادی کالاش

    شمالی پاکستان کے ضلع چترال کی وادیاں ہیں۔ یہ وادیاں ہندوکش پہاڑی سلسلے سے
    گھری ہوئی ہیں۔ وادی کے باشندے ایک منفردثقافت ، زبان رکھتے ہیں اور قدیم ہندو
    مت کی ایک شکل پر عمل پیرا ہیں۔ کالاش وادیاں پاکستانی اور بین الاقوامی سیاحوں
     کے لیےکشش کا باعث ہیں۔ کالاش لوگوں کی ثقافت منفرد ہے اور شمال مغربی پاکستان
     میں اپنے اردگرد موجود بہت سے عصری اسلامینسلی گروہوں سے مختلف طریقوں سے
    مختلف ہے۔ وہ مشرک ہیں اور فطرت ان کی روز مرہ کی زندگی میں انتہائی اہم اور
    روحانیکردار ادا کرتی ہے۔ ان کی مذہبی روایات اور تہوار ان کے مذہب کی نمائندگی
     کرتے ہیں۔ کالاش دو الگ الگ ثقافتی علاقوں پرمشتمل ہے ، رمبور اور بمبوریت کی
    وادیاں ایک بنتی ہیں اور دوسری وادی بیریر؛ وادی بیریر ان دونوں میں زیادہ
    روایتی ہے۔ کالاشافسانہ اور لوک داستانوں کا موازنہ قدیم یونان سے کیا گیا ہے ،
      لیکن وہ برصغیر پاک و ہند کے دیگر حصوں میں ہندو روایات کےبہت قریب ہیں۔
    کالاش نے ماہرین بشریات اور سیاحوں کو اپنی منفرد ثقافت کی وجہ سے اس علاقے کے
    باقی لوگوں کے مقابلےمیں متوجہ کیا ہے۔ اپنی شاندار ثقافت ، زبان ، تہواروں اور
     آرٹ کی عالمی مقبولیت کے معیار کے ساتھ سیاحوں کے لیے بھرپورکشش رکھتا ہے۔اگر
    آپ معاصر آرٹ اور کلچر کے شوقین ہیں تو کے پی کے میں کالاش ویلی کا رخ کریں۔

    ٹھنڈیانی

    ٹھنڈیانی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گلیات علاقے میں ایک پہاڑی سٹیشن
    ہے۔ ٹھنڈیانی ضلع ایبٹ آباد کے شمال مشرقمیں واقع ہے اور ہمالیہ کے دامن میں
    ایبٹ آباد سے 37.5 کلومیٹر (23.3 میل) کے فاصلے پر ہے۔ دریائے کنہار سے آگے
    مشرق میںبرف سے ڈھکا ہوا پیر پنجال پہاڑی سلسلہ کشمیر ہے۔ کوہستان اور کاغان کے
     پہاڑ شمال اور شمال مشرق میں دکھائی دیتے ہیں۔شمال مغرب میں سوات اور چترال کے
     برفانی سلسلے ہیں۔ ٹھنڈیانی کے لفظی معنی ” بہت سرد ” کے ہیں۔ اس سے آپ یہاں
    کیآب و ہوا کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ٹھنڈیانی موسم گرما کے مہینوں میں بہترین
    موسم اور سرسبز و شاداب ، اور سردیوں میں برف سےڈھکی پہاڑیوں کی خصوصیت رکھتا
    ہے۔ خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان سے بہت سے سیاح یہاں آتے ہیں ، خاص طور پر
    گرمیوںکے موسم میں۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے ، پرکشش مناظر اور جنگلوں اور
    دیگر قریبی مقامات تک ہائیکنگ کی خصوصیت کی وجہسے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    پاکستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے۔ یوں تو پاکستان کے دوسرے صوبوں اور
    اضلاع میں بھی خوبصورت وادیاں ہیں۔ لیکنخیبر پختونخواہ میں پائی جانے والی یہ
    سرسبز، دلکش اور پرسکون وادیاں پاکستانی سیاحت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ
    وادیاں ہر ساللاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ کر لاتی ہیں۔ اگرچہ بہت سی
    وادیوں کو جانے والے راستے کافی اچھی حالت میں ہیں لیکن ابھیبھی زیادہ تر
    علاقوں تک پہنچنے کے لئے انتہائی دشوار گزار سفر طے کرنا پڑتا ہے۔  لیکن سیاحت
    اور مہم جوئی میں دلچسپی رکھنے اورپرفضا، پرسکون جگہ پر چھٹیاں گزارنے کے
    خواہشمند افراد کے راستے میں یہ مشکلات رکاوٹ نہیں بنتی۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • عزت نفس کا مقدمہ.     تحریر:صائمہ مشتاق

    عزت نفس کا مقدمہ. تحریر:صائمہ مشتاق

    ملک پاکستان کی فلاحی ساکھ اقوام عالم میں مثالی ہے۔یہاں انسانی خدمت پر معمور شخضیات نے نہ صرف عالم کو متحیر کیا بلکہ اُن کے دستیاب وسائل بھی اُن پر حیرت زدہ ہوئے۔اُن کے پاس زادِ راہ صرف سچا اور خالص انسانی خدمت کا جذبہ تھا۔گلی محلے کے نامعلوم افرادمینارِ فلاح بنے۔جذبے کی سچائی اور خدمت کے تسلسل نے انہیں فلاحی یونیورسٹی بنا دیا۔ اقوام عالم متوجہ ہوئیں اور انہیں عالمی اعزازات سے فخر مند کیا اُن کی خدمات کی تصدیق کی۔پاکستان کے امامِِ فلاح کے ابتدائی فلاحی دور کو پڑھا جائے تو انسانی بے توقیری اور الزامات کی عجب داستانیں فلاحی منظر نامے میں بکھری پڑی ہیں۔فلاح کا راستہ چننے اور انسانیت کی خدمت کے لیئے اپنے آپ کو وقف کرنے والوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے یا اُن کی خدمات کا احاطہ کیا جائے تو اُن کے آغاز سفر میں لا حق مسائل کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اُن کو پیش آنے والی مشکلات کا ادراک ہو سکتا ہے۔اُن پر لگائے جانے والے الزامات حاسدوں کے حملے قیاس آرائیاں کرپشن کی متحیر کرتی کہانیاں منفی پراپوگنڈہ جیسے تکلیف دہ رویوں کے درمیان اُنہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔خبر نہیں کہ ایسا ماحول اور ایسے رویے اُن کو اذیت دیتے تھے یا نہیں۔وہ مایوسی کا شکار ہوئے یا نہیں۔اُن کے قدم ڈگمگائے یا نہیں۔وہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے یا نہیں۔ لیکن اُن کی کامیابیاں کہہ رہی ہیں کہ کسی بھی منزل پر پہنچنے کے لئے وسائل کی عدم دستیابی راہ میں حائل مسائل اور غیر متوقع مشکلات تو منزل تک پہنچنے کے سنگ میل ہوا کرتے ہیں۔جنہیں کامیابی کی منزل کے مسافروں کو یقیناًسامنا کرنا پڑتا ہے۔مسائل و مشکلات میں سے راستہ بناتے ہوئے اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ وہ غلطیوں اور خامیوں کو ماننے اور اُن سے سیکھنے والے ہوتے ہیں۔ستائش سے بے نیاز ہوکر کسی اجر کی توقع کے بغیر لمبا عرصہ گمنامی اور بے توقیری کے دائرے میں رہتے ہوئے محو سفر رہتے ہیں

    کسی بھی انسان کو رویے مزاج اور مشکلات متاثر اوردکھی ضرورکر تی ہیں لیکن شاید وہ انہیں مشن کی تکمیل خدمت کی منزل کے حصول کے ٹولز بنا لیتے ہیں۔ شاید وہ مشکلات مسائل اور وسائل سے زیادہ اپنے مشن کو بڑا سمجھنے والے ہوتے ہیں۔وسائل کی عدم دستیابی کو اپنے سفر کو روکنے کا جواز نہیں بناتے۔وہ تو بے نامی کو ناموری دینے والے ہوتے ہیں۔ایک وقت آتا ہے جب وہ مشرق سے طلوع ہونے والے سورج کی طرح اپنی روشنی بکھیرنا شروع کرتے ہیں تو وہ انسانیت کی خدمت سے پہچانے جانے لگتے ہیں پھر انکی خدمت کا تسلسل انہیں گمنامی کی سیاہ رات سے پہچان کے آسمان کا روشن ستارہ بنا دیتا ہے۔خدمت کے وکٹری سٹینڈپر کھڑے یہ سارے فخراور تمام اعزازا ت حاصل کرنے والوں کا مشاہدہ کیا جائے تو مجھے خالی چراغوں سے آغاز سفر کرنے والوں کے ساتھ وہ لاتعداد گمنا م مالیاتی فلاح کرنے والے بلند قامت نظر آتے ہیں جنہوں نے فلاحی چراغوں میں مالیاتی تیل ڈال کر چراغوں کو نہ صرف روشنی عطا کی بلکہ اس روشنی کے تسلسل کوقا ئم رکھنے میں بھی معاون و مددگار رہے۔اس سلسلے میں اورسیز پاکستانیوں کا بھی تاریخ ساز مثالی اور متاثر کن ریکارڈ ہے۔انہی کے تعاون سے فلاح کے دیئے روشن ہیں۔یہی لوگ فلاحی دنیا کے برجِ ِفلاح ہیں۔انہی کے دم سے پاکستان کو دنیا بھر میں چیرٹی کو فنڈنگ کرنے والے ملک کا اعزاز حاصل ہوا۔پاکستان نے صحت،تعلیم اور دیگر فلاحی شعبوں میں دنیا کو متوجہ کیا۔فلاح کو کامیابی کا راستہ دینے سسکتی اور وسائل سے محروم طبقات کی خدمت دراصل مالیاتی خدمت سے جڑی ہوئی ہے۔مستقبل کے فلاحی پراجیکٹ کی پلانگ کرنے والے بھی اِسی طبقہ کے تعاون کے یقین پر ہی اپنے پراجیکٹ ڈیزائین کرتے ہیں۔پاکستان کی فلاحی اور عطیات دینے والی تاریخ مسلسل لکھی جا رہی ہے اس میں بڑ ی قد آور فلاحی شخصیات،ادارے اور عطیات دینے والوں کے کردار کی درجہ بندی ہو رہی ہے۔پاکستان میں روشنی بکھیرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ہو سکتا ہے کہ بعض فلاحی منصوبے شخصی کمزوریوں اور خامیوں سے یا کسی فلاحی ادارے کی انتظامی غلطیوں سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے ہوں لیکن کوئی فلاحی منصوبہ اس وجہ سے نہیں رُکا کہ اُسے مالی معاونت حاصل نہیں ہو سکی۔پاکستان میں عام ڈونر کے علاوہ کارپوریٹ ڈونرز کا فلاحی سیکٹر میں بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔فلاحی شعبہ اب کراوڈ فنڈ ریزنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آئی ٹی اوردیگر ٹیکنالوجیز فلاحی مشکلات کو آسان بنا رہی ہیں۔زکاۃ اور صدقات میں مذہبی وابستگی والے افراد شاید آگے ہوں لیکن میرا ذاتی مشاہدہ ہے ہو سکتا ہے صیح نہ ہو۔ جو لوگ اپنے آپ کو کسی وجہ سے خطا کارمان کر اور اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنے خالق و مالک سے معافی کی طلب میں انسانی فلاح کے لئے مالی معاونت کفارے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اُس کو راضی کرنے کی جستجو رکھتے ہیں۔اُن کے پاس نیکیوں کا تکبر تو نہیں ہوتالیکن معافی مانگنے اور اللہ کو راضی کرنے کی آپشن ہر وقت موجود رہتی ہے۔اللہ کی مخلوق کو وسیلہ بنا کر اُسے راضی کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔اُس کی دکھی اور مسائل زدہ مخلوق جب اپنے خالق کو دعا کی مس کال بھیجتی ہے تو مالک کسی کے دل میں مدد کا خیال ڈال کر مس کال کرنے والے پر کرم فرماتاہے۔وۂ شخص کس قدر ا فضل و معتبر ہوگا جس کے ذمے فطرت ڈیوٹی لگاتی ہے کہ میرے فلاں بندے کی دعا کی مس کال آئی ہے اس کے پاس پہنچو۔

    اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس کے کتنے گناہ معاف ہوتے ہوں گے، کتنے درجات بلند ہوتے ہوں گے اور وہ مالک و خالق اُس سے کتنی جلدی راضی ہو جاتا ہوگا۔فطرت کے خود کار نظام نے خالق کی خلق کردہ کائناتوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ایک دفعہ ایک صحافی جوکہ دل کے عارضے میں مبتلا تھا ایمرجنسی کی حالت میں علاج کے لئے مالی مشکلات کی پوسٹ لگائی جس پر میں نے بھی مقامی سیاست دانوں کو متوجہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی کچھ ہی دیر بعد بہت سارے احباب رابطے میں آگئے۔ایک نیک دل اورسیز پاکستانی نے رابطے میں آکر میرا اکاونٹ نمبر مانگا تو میں نے کہا کہ ضرورت مند کو رقم پہنچے میں دیر نہ ہو جائے اس لئے مریض کا اکاونٹ نمبر لے کر بھیجتا ہوں۔ اُس انسان دوست نے انتہائی مستعدی سے معقول رقم مریض کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دی۔چکوال، لاوہ اور تلہ گنگ کے اورسیز پاکستانیوں نے بھی خوب حق ادا کیا لیکن ضرورت مند کی ضرورت پوری ہو گئی تھی باقی احباب کا شکریہ ادا کیا۔ذاتی دُکھی اسٹوری کو پبلک کرتے ہوئے مجھے بڑاعجیب لگ رہا ہے لیکن مجبوری ہے کہ یہی دُ کھی اسٹوری پراجیکٹ کی بنیادبن رہی ہے۔1995 سے دونوں آنکھیں کالے موتیے سے متاثر ہیں کچھ عرصہ کے بعدنظر کی عینک تجویز ہوگئی پھر ایک آنکھ کی نظر بالکل ختم ہوگئی۔ڈاکٹر سے آنکھ تبدیل کرنے کے متعلق مشورہ کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ سسٹم ہی ختم ہو گیا ہے اس لئے اب آنکھ تبدیل نہیں ہو سکتی کچھ عرصہ بعد دوسری آنکھ میں کالا موتیا ہونے کی وجہ سے اپریشن ہوا اور اب اس پر ہی زندگی کا انحصار ہے۔کافی عرصہ سے معمول کی مصروفیات میں تبدیلی آگئی ہے میں ڈرائیونگ نہیں کر سکتا، رات کو روشنی پھیل جاتی ہے سا منے سے آنے والی ٹریفک کے فاصلے کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔پیدل چلنے سے دائیں آنکھ میں نظر نہ ہونے کی وجہ سے دائیں طرف نظر نہیں آتا تو عموما ًکسی پیدل چلنے والے سے ٹکر لگ جاتی ہے کئی دفعہ موٹر سائیکلوں سے ٹکرا چکا ہوں اس لئے گھر تک ہی محدود رہتاہوں۔نہ جانے کب زندگی سفید چھڑی کی محتاج ہو جائے،پھر کسی اور کی آنکھوں سے راستہ دیکھنا پڑے۔کئی سالوں سے یکسانیت اور بے مقصد زندگی گزارتے گزارتے ایک دن میرے ذہن میں خیال آیا کہ جو بھی مہلت میسر ہے کیوں نہ اُ سے بامقصد بنایا جائے اور کوئی ایسا کام کیا جائے جو انسانی بھلائی کے لئے ہو تو میرے ذہن میں آنکھوں کے فری ہسپتال بنانے کا خیال آیا یہ جو خیال ہو تا ہے اُسے بھی یقیناً کوئی بھیجتا ہے۔میں نے کئی ماہ اس پر غور کیا اور بالاخر میر ے انفرادی فیصلے کو میرے دل اور دماغ نے قبول کرلیا۔انسان کی زندگی خوابوں سے جڑی ہوتی ہے اور ان خوابوں کی تعبیر کا حصول ہی در حقیقت اس کے سینے میں موجود دل کی دھڑکنوں کوقائم رکھتا ہے۔جب تک خواہش ہوتی ہے انسان اس خواہش کے حصول کے لئے خود کو متحرک رکھتا ہے اور جب خواہشیں ختم ہو جاتی ہیں تو جسم زند ہ رہتا ہے لیکن زندگی دم توڑجاتی ہے۔خواہش کا موجود رہنا زندگی کی علامت ہوتی ہے۔خواہش امید سے جڑی ہوتی ہے اور امید یقین قائم رکھتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ خواہشوں کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔کبھی کوئی اہرا م ِمصر بنانے کی خواہش کرتا ہے اور کبھی کوئی تاج محل تعمیر کرنے کا سوچتا ہے۔کوئی یونیورسٹی بنانے کا ارادہ رکھتاہے۔خواہش ہی ہولی فیملی،گلاب دیوی ہسپتال بنواتی ہے۔خواہشیں روپ بدل لیتی ہیں صدقہ جاریہ کی خواہش۔

    دکھی انسانیت کے لئے آسانیاں بانٹنے کی خواہش۔ایمان سلامتی کی خواہش۔آنکھوں کے خواب تعبیر مانگتے ہیں۔آنکھوں میں خوابوں کی ہریالی نہ ہو تو زندگی صحراکی ریت ہو جاتی ہے۔دل اجڑ جاتے ہیں اور پھر دماغ سوچنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔خواہشیں،آرزوئیں اور تمنائیں زندگی کو حرارت بخشتی ہیں ان کا قابل عمل ہونے یا نہ ہونے سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔خواہشوں اور خوابوں کے رک جانے سے نہ صرف زندگی رکتی ہے بلکہ کائنات تھم جاتی ہے۔25بیڈ کے آنکھوں کے جدید چیرٹی ہسپتال پراجیکٹ کے ابتدائی مرحلے میں 15 سے20 کنال زمین کا عطیہ، دوسرے فیز میں ہسپتال کی بلڈنگ کی تعمیر اورا ٓخری فیز میں مشینری، آلا ت کی ضرورت ہوگی۔سمیڈا کی2016 کی فزیبیلٹی 23 کروڑ روپے کی تھی جس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔اس پراجیکٹ سے سالانہ 27300 مریض مستفید ہوسکتے ہیں۔160 سے 200 افراد کو ملازمت کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔کسی عوامی بھلائی کے نیک مقصد منصوبے کے لئے کسی سے مالی معاونت کے حصول میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی اور نہ ہی کرنی چاہئے۔لیکن میرے ساتھ ایک المیہ ہے کہ میں اپنے دیئے ہوئے پیسے بھی نہیں مانگ سکتا۔اسی کمزوری کی وجہ سے ایک سال سے اس منصوبے کی امانت دل اور دماغ میں چھپائے پھرتا ہوں۔فیس بک پر میری فرینڈ لسٹ میں چکوال سے غفران عمر جو فیس بک پر پوسٹ کے ذریعے مالی امداد حاصل کرکے مستحقین کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں۔اب تک بقول اُن کے وۂ کروڑوں روپے کی امداد تقسیم کر چکے ہیں ایک دن انہوں نے پوسٹ لگائی کہ فلاحی کام کرنے والوں کو عزت نفس کا صدقہ کرنا پڑتا ہے۔ مجھے ان کی پوسٹ سے حوصلہ ملا اور میں اس حوصلے کے یقین پر عملی مرحلے کی طرف بڑھنے لگا ہوں۔مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ تصوراتی پراجیکٹ قابل عمل نہیں ہوتے شروع شروع میں ناممکن ہوتے ہیں لیکن ہو جانے کے یقنِ کامل،جہد مسلسل اور مخلص ٹیم سے قابل عمل ہو جاتے ہیں۔صاحبو!مجھے صرف یقین ہی نہیں کامل یقین ہے کہ جس کاساری کائنات پہ تسلط ہے،جو سارے نظام پرمحیط ہے ا ور جس سے سبب اسباب مانگتے پھرتے ہیں کیوں نہ کامیابی کی،برکت کی، وسائل کی د عا مانگ لی جائے، وۂ عطا کرنے والا ہے مانگنے سے راضی ہو جا تا ہے۔آپ احباب بھی کامیابی کی دعا کا صدقہ ضرور کریں۔اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کے لئے مجھے آپ کا ساتھ چاہیے ہوگا اور تسلسل کے ساتھ چاہیے ہوگا۔ اندھیرے کی لڑائی میں فتح مندی کا گُر امجد اسلام امجد نے بتا دیا ہے۔
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے۔۔۔تمھاری دسترس میں جو دیا ہو وۂ جلا دو

  • ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت.  تحریر:ام سلمیٰ

    ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت. تحریر:ام سلمیٰ

    ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت. تحریر:ام سلمیٰ

    حصہ اول

    جہاں آئے روز آپ کو صرف بری خبر سننے کو مل رہی ہوتی ہیں وہاں کچھ اچھے کیے ہوئے کاموں کا ذکر بھی ہونا چائیے خاص کر ایسے کام جیسکا بنیادی مقصد سبسڈی دے کر صرف فوری حل دینا نہں بلکے نسلوں کے لیے کیا گیا کام ہو ایسا ہی ایک کام جو کے عمران خان صاحب کا توجہ کا مرکز ہے وہ ہے ڈیمز کی تعمیر جو کے ملک کو انتہائی اہم ضرورت ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے اہم مسئلوں کو سمجھا جائے اور ان مسائل کو جڑ سے ختم کیا جائے نہ کے وقتی طور پر سبسڈی دے کر اپنی واہ واہ کروا کر مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل نہ کیا جائے.عمران خان کی حکومت صاف اور سستی توانائی پیدا کرنے اور آئندہ نسلوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے نئے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دے رہی ہے۔

    اس سلسلے میں داسو اور دیامر بھاشا ڈیموں سمیت مختلف چھوٹے اور بڑے ہائیڈل پاور پراجیکٹس پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔

    ماہرین پانی کے مطابق دیامر بھاشا اور داسو ڈیم پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے کیونکہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد تقریبا 5،000 5 ہزار میگاواٹ سستی بجلی دستیاب ہوگی۔سستی بجلی کا فائدہ صرف اس حد تک محدود نہں کے آپکا بجلی کہ بل کم ہوجائے گا اس کے فائدے کئی گنا ہیں.

    داسو ڈیم کا پہلا مرحلہ 2025 تک مکمل ہو جائے گا انشاء اللہ جس سے نیشنل گرڈ میں 2160 میگاواٹ بجلی شامل ہو جائے گی۔ یہ صلاحیت 2029 تک اپنے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ 4320 میگاواٹ تک بڑھ جائے گی۔

    ایک پیغام میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت کی حد عبور کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم بجلی کی پیداوار ، آبپاشی اور پینے کے مقاصد کے لیے پانی کو بچانے کے لیے نئے ڈیم تعمیر کریں۔یہ اس وقت ملک کی اشد ضرورت ہیں.دیکھا جائے تو پچھلی حکمران پارٹیوں نے ان ضرویات کو کبھی اس طرح سے سمجھنے اور ان پے کام کرنے کو نے فوقیت دی نہ اِنکی اہمیت کو کبھی سمجھا یہ ملک کی انتہائی اہم ضرورت ہے اور اس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی بہت مشکلات میں گھری ہوئی ہے.

    دیکھا جائے تو وزیراعظم عمران خان ہمیشہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔اور یہ بات اس چیز کا بھی سبب بنی کے ہمیں عالمی موسمیاتی کانفرینس کی سربراہی ملی جو کے پاکستان کی علمی سطح پر بہت بڑی کامیابی تھی کیوں کے یہ وزیراعظم کا وژن ہے کہ ڈیموں کی تعمیر ہماری نسلوں کا مستقبل بچائے گی انشا اللہ اور یے بات سو فیصد درست بھی ہے۔

    دریں اثنا ایک پیغام میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پائیدار ترقیاتی پالیسی انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پوری دنیا صاف توانائی میں منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب ایک اور بڑا مسئلہ ہے جسے نئے ڈیموں کی تعمیر سے حل کرنے کی ضرورت ہے اور اسکو حل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے ماہر ڈاکٹر افتخار احمد نے ایک پیغام میں کہا کہ توانائی کی پیداوار کے لیے جیواشم ایندھن کے استعمال سے بچنے کے لیے ڈیموں کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار سے ڈیم زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کے لیے پانی کا انتظام کرنا ضروری ہے۔
    اصل میں ہمارے ملک میں پچھلی حکومتوں میں کیے گئے انتظامات میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو مد نظر نہں رکھا گیا جس کی وجہ سے پاکستان آج توانائی جیسے مسائل کا شکار ہے.

    موسمیاتی تبدیلی کے تجزیہ کار شفقت منیر نے ایک پیغام میں کہا کہ ہائیڈل منصوبے سستی بجلی پیدا کرتے ہیں جو کے ملک اس وقت اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا میں چھوٹے ڈیم مقامی علاقوں کو توانائی فراہم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا اور داسو ڈیم کئی دہائیوں سے زیر التوا تھے۔

    Twitter handle
    @aworrior888

  • نسبت کمال اللہ کی طرف تحریر: یاسر خان بلوچ

    نسبت کمال اللہ کی طرف تحریر: یاسر خان بلوچ

          ذوالقرنین ایک ایسا حکمران تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے سلطنت حکومت اقتدار اور اسباب و وسائل کی فراوانی سے نوازا تھا ۔ آپ کے اقتدار اور سازوسامان کا رب تعالیٰ نے ان الفاظ میں تذکرہ فرمایا: ”ہم نے انہیں زمین پر اقتدار دیا اور ہر قسم کے وسائل مہیا کیے۔”
          آپ مشرقی و مغربی ممالک کو فتح کرتے ہوئے ایک ایسے پہاڑی درّے پر پہنچے کہ جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے وہاں کے لوگوں نے آپ سے ایک مطالبہ کیا ، جس کا ذکر رحمٰن نے یوں فرمایا: ” انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! بے شک یاجوج و ماجوج اس سرزمین میں فساد کرنے والے ہیں تو کیا ہم تیری کچھ آمدنی طے کر دیں اس شرط پر کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دے۔”
          بادشاہ ذوالقرنین نفس پرست اور مال و دولت کا حریص نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والا اور آخرت پر ایمان رکھنے والا مومن شخص تھا۔ اس نے جواباً کہا:
          "جن چیزوں میں میرے رب نے مجھے اقتدار بخشا ہے وہ بہت بہتر ہے، اس لیے تم قوت کے ساتھ میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔”
          ذوالقرنین نے فوراً اپنی خدمات پیش کی اور تعمیراتی سامان مزدوروں سمیت طلب کیا اور فرمایا:
          "تم میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کا درمیانی حصہ برابر کر دیا تو کہا: آگ تیز جلاؤ یہاں تک کہ اس نے اسے آگ بنا دیا تو کہا: لاؤ میرے پاس پگھلا ہوا تانبا میں اس کو اس پر انڈیل دوں۔”
          جب گرم چادروں پر پگھلا ہوا تانبا ڈالا گیا تو وہ ایسا لمبا مضبوط بند بن گیا کہ یا جوج ماجوج اس کو پار کرنے یا اس میں نقب زنی کرنے سے عاجز آگئے۔ حد درجہ مضبوط اور لمبی چوڑی دیوار قائم کر دی اور اس عظیم کارنامے کو سر انجام دیکر اپنی زبان سے ایسا تاریخی جملہ کہا کہ ساری کوشش و محنت اور ہنر مندی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دی اور رب تعالیٰ نے اس پیارے جملے کا قرآن بنا کر حضرت محمدﷺ پر نازل فرمادیا۔
          حضرت ذوالقرنین نے فرمایا:
          "یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آگیا وہ اسے زمین کے برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ ہمیشہ سچا ہے۔”
       سیدنا ذوالقرنین کے مثالی جواب سے تین باتیں سامنے آئیں۔
       1۔ ہمین نیکی، اچھائی اور احسان کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اللہ نے ہمیں اس قدر مقام عطا فرمایا ہے کہ ہماری توجہ، سفارش یا راہ نمائی سے کسی غریب کا بھلا ہو سکتا تو ہمیں اول فرصت اس سے تعاون کر کے اپنا اللہ سے اجر لینا چاہیے۔ دوسری طرف کسی ساتھی، دوست یا قریبی کا کام کرنے سے پہلوتہی کرنا، جھوٹے وعدے دے کر اس کو پریشان کرنا یا کام کرنے کے لیے تکلفات کا مظاہرہ کرنا رشوت کا مطالبہ کرنا، ایسا کردار کسی دنیا دار جاہل کا تو ہو سکتا ہے با عمل مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔
       2۔نیکی کا کام سر انجام دیکر اپنی صلاحیتوں اور کارناموں کی داستان کھولنے کی بجائے، اس کو اللہ تعالیٰ کی توفیق کہ کر اسی کی طرف منسوب کر دینا چاہیے۔ اکثر دنیا دار تو درکنار دینی ذوق رکھنے والے معمولی سا کارنامہ انجام دے کر اترانا شروع کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے کام لے لے وہ شکر، تواضع اور نسبت الی اللہ کی بجائے فخرو غرور اور گھمنڈ کا شکار ہو جاتے ہیں جب کہ ایسا کرنا عمل ضائع کرنے کے برابر ہے۔اور آجکل یہ ٹرینڈ بنا ہوا ہے کہ کوئی بھی اگر کسی غریب کی مدد کر دے تو سیلفی کے بہانے اس کی تذلیل کی جاتی ہے۔
       3۔اپنی مضبوط سے مضبوط بلڈنگ، کوٹھی اور بنگلے پر بھی نازاں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عارضی جانتے ہوئے، توجہ آخرت کی طرف کرنی چاہیے۔ آج کل لوگ پانچ یا بیس مرلہ کی کوٹھی بنا کر فکر آخرت سے بلکل غافل ہو جاتے ہیں اور ان کی ساری توجہ مکان، کوٹھی اور دکان تک ہی محدود رہتی ہے۔
       ‎@YasirKhanblouch

  • مصر کی تاریخ تحریر اصغر علی

    مصر کی تاریخ تحریر اصغر علی

    آج سے چار ہزار سال پہلے Egyptian لوگ جنہیں مصری بھی کہا جاتا ہے مصر پر راج کرتے تھے اور اپنے زمانے میں انہوں نے ایسی دریافتیں کی تھی جو آج ہم صرف سوچ ہی سکتے ہیں جیسا کہ پیرامڈ یا اہرام مصر کا آسمان کی طرف تین ستاروں کے بالکل نیچے ہونا اور اہرام مصر کے اندر کا درجہ حرارت 20 ڈگری ہی رہنا جس کا مطلب ہے کہ نہ یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے اور نہ ہی گرمی ہمیشہ ایک جیسا ٹمپریچر رہتا ہے اور سب سے حیرت انگیز چیز جو یہاں انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے وہ ہے ایلین کیونکہ ایلین کے بارے میں آج ہم جو تصورات پیش کرتے ہیں وہ وہاں مصر میں آج سے چار ہزار سال پہلے  پیرامڈ یا اہرام مصر کے  پر ایلین  کے بارے میں ایسی ایسی پینٹنگز موجود ہیں جو آج کے سائنسدانوں کو وہاں کھوج کرنے پہ مجبور کر دیتی ہیں اور اہرام مصر کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ یہ انسانوں نے بنائے ہوں گے بلکہ یہاں پر اور بھی مخلوق موجود تھی جس پر آج کے دور میں یقین کرنا ناممکن ہے سائنسدان اہرام مصر پر لمبے عرصے سے کام کر رہے ہیں مگر آج تک کوئی بھی یہ نہیں جان پایا کہ یہ تین پیرامڈ کس طرح بنائے گئے اور یہاں پر کس طرح کی کنکریٹ کا استعمال ہوا ہو گا کیونکہ صرف ایک پیرامڈ کے اندر 13 لاکھ پتھر استعمال ہوئے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ استعمال ہونے والے ہر ایک پتھر کا وزن 27 سو کلو سے لے کر 70 ہزار کلو تک ہے اس لیے ایک پتھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت دینا بہت مشکل ہے اور اگر آج کی بات کریں تو آج کے دور کی جدید ترین کرین بیس ہزار کلو سے زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی تو آج سے چار ہزار سال پہلے اتنا وزن اٹھانا کس طرح ممکن ہوا ایک مقام سے دوسرے مقام پر کس طرح ان پتھروں کو پہنچایا گیا اس کا ایک ہی جواب ہے جس پر آج کل کے دور پہ یقین کرنا مشکل ہے اور وہ ہے ایلین کیونکہ ان پیرامیڈ کے بارے میں ایک مشہور تھیوری ہے جس کو Orion Constellation کی تھیوری کہہ سکتے ہیں کیونکہ اگر آپ رات کے وقت ان پیرامڈ کو دیکھیں تو ان کے بالکل اوپر تین ستارے پرفیکٹ ڈائریکشن میں نظر آئیں گے یہی تین ستارے Orion Constellation میں واقع ہے اور ان تین ستاروں کی پوزیشن ان پیرامڈ سے واضح ہوتی ہے اس لیے کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بہت سال پہلے خلائی مخلوق یا ایلین  انہی تین ستاروں سے زمین پر آئے تھے اور اپنے ساتھ بہت ایڈوانس ٹیکنالوجی لے کر آئے تھے اور انہوں نے ہی ان کو تعمیر کروایا تھا اب یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ اہرام مصر کو خلائی مخلوق نے بنایا یا انسانوں نے  لیکن ایک بات تو طے ہے اور وہ یہ کہ ان تین پیرامڈ سکا ان تین ستاروں سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے اس کا ذکر ایک اور سائنسدان نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے اس نے جب پیرامڈ کے پتھر کے  پر تجربات کیے  تو پتہ لگا کہ جو پتھر پیرامڈ میں لگا ہوا ہے اس ساخت کا پتھر پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے اہرام مصر ہر زاویے سے مختلف رازوں سے بھرے پڑے  ہیں یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ پیرامیڈ انسانوں نے بنائے تو اس وقت انسانوں کے پاس اتنی ٹیکنالوجی کہاں سے آئی اور دوسری بات ان کے اوپر ایلینز اور اڑن طشتری کی پینٹنگ موجود ہونا جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ یہ پیرامڈ انسانوں نے نہیں بنائے ہیں اور اگر انسانوں نے بنائے ہیں تو یہ پیرامڈ کس لیے بنائے  گئے پہلے لوگ یہ مانتے تھے کہ ان پیرامیڈ کے اندر س وقت کے بادشاہوں اور ملکہ کی حنوط شدہ لاشیں موجود ہیں ہے مگر جب پیرامڈ کے اندر ایک روبوٹ کو بھیجا گیا تو سب کچھ  واضح ہو گیا کہ پیرامڈ کے اندر کسی قسم کی کوئی حنوط شدہ لاش موجود نہیں تھی اہرام مصر آج بھی سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے اور سائنسدان اس کے اوپر تجربات کر رہے ہیں دیکھتے ہیں اور کتنا وقت اور لگتا ہے اہرام مصر کی حقیقت جاننے میں

  • نیوزی لینڈ ایک کٹھ پُتلی تحریر۔محمد نسیم

    نیوزی لینڈ ایک کٹھ پُتلی تحریر۔محمد نسیم

    24 جون 2020 کو وزیرہوابازی جناب غلام سرور نے پارلیمان کے سیشن میں انکشاف کیا کہ قومی ائیرلائن PIA کے 262 پائلٹس کو جعلی لائسنس جاری کئیے گئے ہیں
    کیونکہ خبر پاکستان کی تھی تو جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور خوب پھیلی انڈین میڈیا نے بھی بات کو خوب اچھالا اور یہ خبر پورے آب وتاب کے ساتھ انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنی کیونکہ خبر حیران کن تھی تو پاکستان دشمن عناصر نے موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور یورپی یونین ،امریکہ اور انگلینڈ میں یہ مسئلہ پوری قوت سے اٹھایا گیا اور ان تینوں نے پی آئی اے پر چھ ماه کی پابندی لگادی
    اس ضمن میں یہ بات قابل ستائش ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت نے کھل کر اداروں میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا شروع کی اسی طرح مہذب قومیں اپنی خامیوں کو پہچان انکی تصیح کرکے ترقی کی منازل کی طرف گامزن ہوتی ہیں اور دُنیا میں نام کماتی ہیں لیکن پاکستان جو ہمیشہ سے اندرونی و بیرونی غداروں سے گھرا تھا اس دفعہ اسکو اندرونی غداروں کو کھل کر پہچاننے کا موقع ملا اور غداروں کو بھی غداری کرنے کا موقع مل گیا
    اپنوں کی بیوقوفیوں اور غیروں کی عیاریوں کے باوجود اس امر کے کہ پاکستان نے معاملے کی تحقیقات کرکے 22 پائلٹس کے خلاف جعلی لائسنس رکھنے کے خلاف کاروائی کی یکم جولائی 2020 پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے 6 ماه کی پابندی لگادی گئی
    یہ پاکستان کے قومی خزانے کا بہت بڑا نقصان تھا پر یہ وہی خواب تھا جس کے لئیے دشمن برسوں سے جال بنتا آرہا تھا خیر پاکستان نے اس امر کو مہلت سمجھتے ہوئے ائیر لائن میں ہر ممکن اصلاحات اور شفافیت لانے کا انتظام کیا۔
    ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ جنوری 2021 کو پی آئی اے کو EU،انگلینڈ اور امریکہ جانے کی اجازت مل جاتی لیکن ناضرین PIA پر پابندی میرٹ کے تحت لگائی ہی نہ گئی تھی بلکہ یہ تو ایک سوچے سمجھے سازش تھی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی لہذا نتیجہ یہ ہوا کہ دسمبر 2020 میں تین ماه کا اور اضافہ کردیا گیا
    قائین لیکن بات ابھی بھی ختم نہ ہوئی بلکہ مارچ 2021 میں بھی پی آئی اے کی فلائٹس نا کھل سکیں اور کورونا کا بہانہ بنا کر جولائی 2021 تک پابندی میں اضافہ کردیا گیا اور پھر جولائی سے تاحال پابندی برقرار رکھی گئی
    قارئین پاکستان نے ان تین فریقوں کو اس قدر غیر سنجیده روئیے پر سخت ردعمل کا فیصلہ کیا اور انگلینڈ کی ایک سال کے اندر آنے والی وزارت داخلہ کی تین فلائٹس کو پاکستان آمد سے صاف انکار کردیا اور برطانیہ سے سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں داخلے کے لئیے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالا جائے اور لوگوں کو آمد ورفت کی اجازت دے مگر برطانیہ نے پاکستان کا نام ریڈ لسٹ سے نہ ہٹایا اور اپنی ہٹدھرمی پر بضد رہا پاکستان پابندی سے کروڑوں ڈالر نقصان سہتا رہا برطانیہ کو جب چارٹرڈ طیاره اترنے کی اجازت نہ ملی تو اس کو تین لاکھ پاؤنڈ کا نقصان پہنچا اور قائین کھیل یہاں سے مزید کھیلا جاتا ہے ہم سب جانتے کہ برطانیہ کو نقصان سہنے کی عادت نہیں چنانچہ اس نے اور بھارت نے پاکستان میں ہونے والی پاک نیوزی لینڈ کرکٹ سیریز کو نشانہ بنانے کی ٹھانی۔انہوں نے کیوی ٹیم پر ممکنہ دہشگرد حملوں کی جھوٹی انٹیلیجینٹس رپورٹ نشر کرنا شروع کردی اور نیوزی لینڈ کو مجبور کردیا کہ وہ اپنا دوره پاکستان معطل کردے
    چنانچہ پاکستان کی جانب سے صدارتی سیکیورٹی کے حصول اور تمام یقین دہانیوں کے باوجود بھی کیویز نے اپنا دورہ عین وقت پر معطل کیا
    قائین یہ اقدام پاکستان کے ابھرتےاعتماد اور طاقت کو زچ کرنے اور پاکستان کے عوام کے جزبات مجروح کرنے کےلئیے کیا گیا
    نیوزی لینڈ کے اس غیر ذمہ دارانہ روئیےسے دنیا بھر کے کرکٹ کھلاڑیوں ،شائقین اور منتظمین کی طرف سے کڑی تنقید کی گئی لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ملک پاکستان جوکہ بیرونی دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہا تھا اور متعلقہ فورمز پہ ان کو جواب دے رہا تھاعین اسی وقت ملک کے اندرونی غداروں نے آستین کے سانپ کی مانند ملک کو ڈسنا شروع کردیا ان ملکی غداروں نام نہاد دانشوروں سے لے کر بڑے بڑے صحافی ،اینکرز،تجزیہ کار اور سیاستدان بھی ہیں جنہوں نے اس ملک کی پلیٹ سے کھایا اور بڑانام کمایا، وه سیاستدان جنہوں نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا آج وه بین الاقوامی منظر نامے کے اس نازک موڑ پر پاکستان سے اس غداری کا ارتکاب کررہے ہیں کہ شاید ہی ملک پاکستان اس نقصان کو سہہ پائے
    پاکستان آج تاریخ کے جس اہم موڑ پر کھڑا ہے مجھے الله پاک سے قوی اُمید ہے جلد پوری دُنیا پاکستان کی قربانیوں اور نیک نیتی کا اعتراف کرے گی لیکن پاکستانی ان بیرونی آقاؤں کے اشارے پر چلنے والے دانشوروں اور سیاستدانوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے

    میرے وطن خداکرے تیری ارض پاک سے نکلے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
    @Naseem_Khera

    Sent from my iPhone

  • درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو    تحریر : فضیلت اجالہ 

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو  تحریر : فضیلت اجالہ 

    ہم مساوات کا سبق بچپن سے سیکھ رہے ہیں لیکن آج تک ہم یہ سمجھنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں کہ مساوات کیا ہے اور مساوات کی نوعیت کیا ہے۔ مساوات انسانیت کی اہم ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔

    انسانیت وہ جذبہ ہے جو ہمیں دوسروں کے بارے میں مثبت سوچنے پر اکساتا ہے۔ انسانیت کے بغیر معاشرے میں رواداری ممکن نہیں ہے۔ انسانیت ہمیں دوسروں کے دکھ اور تکلیف کو سمجھنا سکھاتی ہے۔

    لیکن افسوس آج ہم خود کو انسان تو کہتے ہیں لیکن انسانیت سے نا آشنائ ہے ۔

    انسان کی تخلیق  کے ساتھ ہی انسانیت نے جنم لیا.

    بہت سے مسلمان صرف عبادت کرنے کو زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں لیکن اگر مسلہ عبادت کا ہوتا تو اللہ تعالی کی عبادت کرنے کیلیے جن ،چرند ،پرند اور حیوان ہی کافی تھے ،انسان کی تخلیق کا مقصد ہی انسانیت کی تسکین تھا  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان بڑھتے گئے اور انسانیت مرتی گئ ،بحیثیت مسلمان ہمارا مزہب بھی ہمیں انسانیت کی تلقین کرتا ہے 

    انسانیت کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم اور بنیادی ذریعہ قرآن پاک اور سنت نبوی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل سیرت ہمارے لیے انسانیت کی سب سے بڑی اور انمول مثال ہے۔ کفار اہل مکہ نے نبی آخر الزمان  اور ان کے ساتھیوں کی راہ میں مختلف مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کیں لیکن میرے نبی نے کبھی بدلہ نہیں لیا ،کبھی رنگ ،زات،نسل،مزہب کا فرق نا پالا اور انسانیت کی وہ داستانیں رقم کی جس نے انسانیت کو معراج کروائ ۔

    ۔ فتح مکہ کے موقع پر اللہ کے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دشمنوں کو معاف کیا اور دنیا کو انسانیت کی سب سے بڑی تعلیم دی۔

     نا صرف سنت نبوی بلکہ قرآن میں بھی اللہ نے ہمیں بار بار  انسانیت کی تعلیم دی ہے۔

    آج ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات کو بھول گیا ہے۔ آج ہم ایک دوسرے کے درد اور تکلیف سے ناواقف ہیں ، یہاں تک کہ اگر ہم جانتے ہیں تو ہم بے حس ہو گئے ہیں۔ آج ہم ایک دوسرے کو مصیبت میں دیکھ کر بھی خاموش ہیں۔

    اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانیت ہمارے دلوں سے مٹ گئی ہے۔ ترقی کے اس مادر پدر دور میں جیسے جیسے انسان بڑھتے جا رہے ہیں انسانیت کہیں ناپید ہوتی جا رہی ہے ۔کیا اتنا ہی مشکل ہے ہے انسان ہونا؟ ہر گز نہیں ارے انسانیت کا اظہار تو ہمارے چھوٹے چھوٹے اعمال سے بھی ممکن ہے۔

    کسی انجان ،راہ چلتے مسافر کو پانی پلا دینا،کسی بھوکے کی بھوک کا بغیر کہے احساس کر لینا ،صرف انسان ہونے کے ناتے کسی دوسرے انسان کی مدد کر دینا ،راہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ،بظا ہر چھوٹے چھوٹے دکھنے والے یہ اعمال ہمارے اندر موجود انسانیت کو زندہ رکھنے کا موجب بنتے ہیں ۔

    اور ہم تو اس عظیم ہستی کے امتی ہیں جن کے حسن سلعک کی مثا لیں کفار بھی دیتے تھے ہم تو اس مزہب کے پیروکار ہیں جو انسان تو انسان جانوروں سے بھی ،ہمدردی ،رحم اور حسن سلوک کا درس دیتا ہے اور یہ سب تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب ہم میں انسانیت موجود ہو 

    آج ہمیں انسانیت کے جذبے کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    آج ہمیں قرآن پاک کا بغور مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے اور حضور پاک  کی زندگی کا مطالعہ کرنا ہے۔  اسوہ حسنہ سے سچی محبت اور حضور پاک  کی اطاعت ہماری کامیابی کی کلید ہے۔

    اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت عطا فرمائے،ان جیسا تو کائنات میں ممکن ہی نہیں لیکن ایسا انسان ضرور بنائیں جس پہ انسانیت فخر کرے ۔

    @TPW_U

  • مرنے کے بعد قیامت تک کا معاملہ. تحریر: محمد اسعد لعل

    مرنے کے بعد قیامت تک کا معاملہ. تحریر: محمد اسعد لعل

    اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے ایک دن اس کے اعمال کے مطابق اس کے ساتھ جزا و سزا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے دی ہے۔قرآنِ مجید ہمیں پیغمبری کی تاریخ کے بارے میں یہ بتاتا ہے کہ جس دن اس دنیا کی ابتداء ہوئی اسی دن سے پیغمبری کی بھی ابتداء ہو گئی۔ حضرت آدمؑ سے لے کر محمد ﷺ تک انبیاء کرام جزا و سزا کی منادی کرتے آئے ہیں، انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید نے یہ بتایا ہے کہ انبیاء کرام اس لیے بھیجے گئے تاکہ وہ لوگوں کو جنت کی بشارت دیں اور اللہ کے عذاب اور گرفت سے ان کو خبردار کریں۔ انبیاء کرام نے جتنی بھی تفصیلات بیان کی ہیں وہ سب کی سب جزا و سزا ہی کا حصہ ہیں۔۔۔ اُس میں جو باتیں بتائی گئی ہیں ان کا خلاصہ میں بیان کر دیتا ہوں۔

    اس دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں کہ جن کا معاملہ بالکل صاف ہوتا ہے۔ وہ خدا کی ہدایت کو لپک کر قبول کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تعبیر کے مطابق دین میں سبقت کے مقام پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں جیسے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر اور دوسرے جلیل و قدر صحابہ ہیں یا خود انبیاء کرام ہیں۔ اسی طریقے سے قرآنِ مجید نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کی راہ میں جان دے دیتے ہیں، جن کو شہدا کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان اللہ کی راہ میں دے دی، دین کی دعوت دی گئی تو آگے بڑھ کر دعوت کو قبول کیا، پہلے ہی مرحلے میں اللہ کے پیغام کی تصدیق کر دی اور اس کے بعد زندگی بھر اپنے آپ کو خدا کے راستے پر رکھا۔ ۔۔ان کے لیے کسی حساب کتاب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بتایا ہے کہ جیسے ہی یہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں ہماری نعمتیں ان کو ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔

    دوسرے وہ لوگ ہیں جو خدا کے مقابلے میں سرکش ہو گئے۔انہوں نے خدا اور خدا کے پیغمبروں کو چیلنج کر دیا۔ بڑی مثالوں میں جیسے فرعون ہے، ابو جہل ہے۔۔۔ اُن کے بارے میں بھی قرآنِ مجید میں بتا دیا گیا ہے کہ جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اُن کو صبح شام اُن کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح سے گویا ایک ذہنی نوعیت کا ٹورچر ہے جس میں وہ مبتلا کر دیے جاتے ہیں۔

    تیسرے وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اچھے کام بھی کیے ہیں اور بُرے کام بھی۔۔۔ کوئی سرکشی نہیں کی، ندامت کا احساس بھی ہوتا ہے، ایمان بھی ہے اور خدا کی طرف رجوع بھی ہے۔۔۔تو ان لوگوں کا معاملہ اُٹھا رکھا جائے گا یہاں تک کے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حساب کتاب کر کے فیصلہ کریں گے اور بتائیں گے کہ یہ نیکو کار تھے، تو ان کے لیے ظاہر ہے ایک جزا ہے۔۔۔ اور اگر اس موقع پر ان کا پلڑا ہلکا ہوا تو ان کے لیے سزا ہے۔

    یہ تین کیٹیگری قرآنِ مجید نے الگ الگ کر دی ہیں، جزا و سزا تو محشر کے روز ہی شروع ہو گی، لیکن اللہ کی نعمتیں ایک گروہ کے لیے اور اللہ کا عذاب ایک دوسرے گروہ کے لیے مرنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے، کیوں کہ ان کے حساب کتاب کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی ان کا معاملہ ہر لحاظ سے واضح ہوتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں، اور روز محشر نیکوکار لوگوں کے ساتھ اُٹھائے جائیں۔۔۔آمین

    Twitter ID:

    @iamAsadLal

  • ڈالر اور حکومتی چورن  تحریر : سیف الرحمان

    ڈالر اور حکومتی چورن تحریر : سیف الرحمان

    دوستوپاکستان حاصل کرنے کا مقصد اگر دیکھا جائے تو اس حساب سے اس وقت ہم تقریبا الٹ چلتے نظر آ رہے ہیں۔ ہم نے انگریزوں اور ہندوں  بظاہر آذادی حاصل  تو  کرلی لیکن ہمارے حکمرانوں آج بھی  ہمیں ان کے تابع کر رکھا ہے۔ ہمارے ہاتھ پاؤں باند کر آئی ایم ایف اور ولڈ بینک کے آگے چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے تمام ٹیکس اور قیمتوں کا تعین امریکی کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم اس سیارے میں سب سے کم تر مخلوق ہیں۔ ہندوں آج بھی ہمیں ویسے  ہی دیکھ رہا ہے جیسے ستر سال پہلے دیکھا کرتا تھا۔ انگریز آج بھی ہماری مجبوری سے فائدہ اٹھارہا ہے جیسا آذادی سے پہلے لیا کرتا تھا۔

    ایک طرف ہمیں ڈالر نے دبا کر رکھا ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں آج جو اپوزیشن ملی وہ بھی انتہائی احمق , نابالغ , غیر سیاسی اور مفاد پرستوں کا ٹولا ہے۔  جب یہ لوگ حکومت میں تھے تب بھی انہوں نے ملک کو تباہ کیا اور آج جب یہ اپوزیشن میں ہیں تو بھی مال بچاؤ کھال بچاؤ سے آگے کا کچھ سوچتے ہی نہیں۔دوسری طرف  حکومت کے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے اور اندازے اس وقت غلط نظر آ رہے ہیں۔ اشیاء خردو نوش کی تمام چیزیں مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہیں۔ آٹا ۔چینی۔گھی اور دالیں جو ہر گھر کی بنیادی ضروریات ہیں پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ اس وقت تمام  صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے۔

    ابھی غریب آٹے چینی اور گھی کی وجہ سے پریشان بیٹھا تھا کہ ڈالر نے اڑان بھر لی۔ ڈالر اس وقت تاریخ کی سب سے مہنگی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔اگر معیشت اچھی سمت چل رہی تھی تو ڈالر کیوں مہنگا ہو ا؟  

    ڈالر کی اڑان نے حکومت کے ان تمام دعوں کا پول کھول کر رکھ دیا جس میں برآمدات کے اضافے کی باتیں کی جا رہی تھی۔  کرنٹ خسارے میں کمی جیسے دعوے بھی کئے گئے۔ صحافی جب شوکت ترین صاحب سے مہنگائی اور ڈالر مہنگا ہونے پہ سوال کرتے ہیں تو ترین صاحب یا تو بات گول کر دیتے ہیں یا جواب ہی نہیں دیتے۔لگ رہا ہے کہ  شاہد ترین صاحب اگلے دو سال پورے نا کر پائیں کیونکہ ان کے پاس کہنے کو کچھ خاص بچا بھی نہیں۔ خان صاحب کھلاڑی بدلنے سے وقت تو گزر جائے گا لیکن شاہد حالات نہ بدل سکیں۔ اس لئے بہتر ہے کوئی ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

    بحثیت پاکستانی قوم ہم اس رویہ کے مستحق نہیں جیسے ہمارے حکمران ہمارے ساتھ کرتے آ رہے ہیں۔ پیٹرول ڈبل ٹیکس لگا کر دیا جاتا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود  ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے گندم اور چینی باہر سے منگوائی جاتی ہے پھر ہمیں ہی  مہنگےداموں  فروخت  بھی کی جاتی ہے۔جب وزیروں سے مہنگی چینی اور آٹے پہ  سوال کیا جائے تو کہتے ہیں کسان کو اسکی پوری   قیمت دی جا رہی ہے اس لئے آٹا چینی مہنگی ہیں۔ چلو مان لیا آپ کسان کو پوری قیمت دے رہے ہو  تو پھر باہر سے گندم چینی اور دالیں کیوں منگوا رہے ہو؟ زرعی ملک ہونے کے ناطے عوام کو وافر چینی آٹا دالیں اور سبزیاں بھی تو ملنی چاہیں۔ اگر نہیں مل رہی تو کسان سے کون پوچھے گا کہ بھائی اتنی سبسڈی اور ریٹ لینے کے باوجود تم زرعات میں ہمیں کیا دے رہے ہو؟ کھانے پینے کی اشیاء کا ایک زرعی ملک میں مہنگا ہونا حکمرانوں کی نالااہلی کاجیتا جاگتاثبوت ہے۔

    جب بات کی جائے مہنگائی کی تو کہتے ہیں سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے یہ دن دیکھنے کو ملا ہے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ سابقہ  حکمرانوں  نے بہت کرپشن کی   وہ نااہل اور نکمے تھے لیکن  خان صاحب آپ کو آئے بھی اب تین سال ہو چکے ہیں۔ آپ نے مہنگائی کنٹرول کرنے   کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ اگر اقدام کئے تو کیا آپ کے اقدامات سے مہنگائی کنٹرول ہوئی ؟ آئندہ عام انتخابات میں جیتنا ہے تو مہنگائی کو شکست دینی پڑے گی ورنہ عوام نے مہنگائی سے تنگ آ کر  بقول آپ کے ان ہی چوروں ڈاکوں کو پھر ووٹ دے دینا ۔ اس بار نہ تو آپ کا دھرنا کام آئے گا اور نا ہی عوام آپ کی باتوں میں آئے گی۔

    اس وقت ڈالر نے تمام ملکی ریکارڈ توڑ دیئے۔ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکا ہے۔  مئی 2021سے ستمبر 2021کے درمیان صرف چار ماہ کے  کم عرصہ میں ڈالر 16روپے مہنگا ہوا ہے۔ اگر بات کی جائے اوپن مارکیٹ کی تو  پاؤنڈ اس وقت دوسو پینتیس,  یورو اس وقت دوسو تیس,   اماراتی درہم سنتالیس,  سعودی ریال پنتالیس,  دینار چارسوچوراسی ,ین تیس روپے پچاسی پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔

    آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ خان صاحب آپ کو اپوزیشن سے ذیادہ  اپنی معاشی ٹیم سے خطرہ ہے۔ اگلا الیکشن اگر جیتنا ہے تو مہنگائی کو ان دو سالوں میں  ہر صورت شکست دینی پڑے گی۔  اگر آپ کی حکومت مہنگائی سے ہار گئی تو الیکٹرانک ووٹنگ بھی آپ کوشکست سے نہیں بچا پا گئی۔خان صاحب آپ کے اردگرد موجود سیاسی بیٹروں کی ٹیم نکمی اور نااہل ہے۔  آپ ایجنسیوں کی مدد لیں اور سٹاک ایکسچنج کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ مہنگائی پہ کنٹرول کیلئے بھی ایجنسیوں کو متحرک کریں۔ اپنے نااہل وزیروں اور مشیروں کی فوج کو گھر بھجوائیں۔ آپ کو ڈیفنڈ کرنے کیلئے سوشل میڈیا پہ  نوجوانوں کی ایک لمبی چوڑی بیروگار فوج موجود ہے۔ آپ صرف  عوام کی جان  مہنگائی سے چھڑا دیں ورنہ عوام نے آپ سے جان چھڑا لینی۔

    @saif__says