Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میچ میں کتے کی انٹری، دلچسپ ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل

    میچ میں کتے کی انٹری، دلچسپ ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل

    آئر لینڈ میں خواتین کے کرکٹ میچ اس وقت دلچسپ موڑ اختیار کر گیا جب میچ میں کے دوران کتے کی انٹری ہوئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

     

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق آئر لینڈ میں جاری خواتین کے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران کتا اچانک میدان میں آ گیا اور گیند منہ میں دبا کر بھاگ نکلا۔

    آسٹریلیا کی افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ کے بائیکاٹ کی دھمکی،ٹی 20 ورلڈ کپ بارے بھی بڑا دعویٰ

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خواتین کھلاڑی نے جیسے ہی شارٹ مارا اور وہ رن لینے کے لیے دوڑی تو اچانک ایک کتا میدان میں داخل ہوا اور فیلڈر کے پہنچنے سے قبل ہی کتے نے گیند کو اپنے منہ سے پکڑ کر دوڑ لگا دی۔

    شائقین کرکٹ کیلئے انتظارختم، اٹھارہ برس بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد

    کھلاڑیوں نے کتے کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کتے نے دوڑ لگا دی اور ہاتھ نہ آیا تاہم بعد ازاں کتا بالنگ اینڈ پر پہنچ گیا اور کھلاڑی کو گیند تھما دی کتے کی اس انٹری اور حرکت سے میچ شائقین خوب محفوظ ہوئے-

    پی سی بی نے کرک ایچ کیو اور کرک وز سے تین سالہ معاہدہ کرلیا

    کتے کی وجہ سے میچ کو تھوڑی دیر کے لیے روکا گیا اور اسے نکالنے کے بعد کرکٹ میچ دوبارہ شروع کیا گیا، کتے کی دلچسپ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے اور اسے ابھی تک ہزاروں صارفین دیکھ چُکے ہیں-

    قومی کرکٹ ٹیم کا ایک اور کھلاڑی کرونا کا شکار

    پاکستان کپ ویمنز ون ڈے ٹورنامنٹ جمعرات سے شروع ہوگا

  • لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان – محمد نعیم شہزاد

    لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان – محمد نعیم شہزاد

    لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان
    محمد نعیم شہزاد

    12 ستمبر 2021 کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کا دن ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے انتخابی مہم زوروں سے جاری ہے۔ انتخابات میں اپنی کامیابی کے بعد عوامی خدمت کے دعویداروں نے اپنی انتخابی مہم سے عوام کو خوب پریشان کی رکھا۔ گزشتہ دو دن لاہور میں بارش بھی ہوئی اور اس بارش کے دوران پانی سے بری گلیوں میں محلے کی دکانیں اور راستے بند کروا کر عوامی خدمت کے خوب وعدے کیے گئے ۔ اس بار کے انتخابات میں ہونے والے چند اہم مشاہدات قارئین کی نظر کرتا ہوں۔

    لاہور میں خصوصاً کینٹ کے علاقے میں زیر زمین پانی پینے کے قابل نہیں ہے جس کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ نے ہر ٹیوب ویل کے ساتھ واٹر فلٹریشن پلانٹ لگا رکھا ہے۔ فلٹریشن پلانٹ کے کارٹریج ہر تین مہینے بعد تبدیل ہونا ہوتے ہیں اور اس کی تاریخ کا باقاعدہ چارٹ فلٹریشن پلانٹس پر آویزاں کیا جاتا ہے۔ الیکشن سے پہلے تقریباً دو ماہ کا عرصہ کارٹریج کی تبدیلی کے بغیر گزرا ہے اور کسی عوامی نمائندے نے اس بنیادی مسئلے پر توجہ نہیں دی کیونکہ وہ تو ان پلانٹس کا پانی استعمال نہیں کرتے یہ تو علاقے کے غریب مکینوں کے لیے ہے۔ ورنہ جگہ جگہ فلٹریشن پلانٹس قیمتاً پانی بیچ رہے ہیں۔

    دوسرا ایک اہم مشاہدہ ہوا وہ نون لیگ کے حوالے سے تھا۔ گزشتہ قومی انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والی اس جماعت نے نعرہ تبدیل کر لیا اور ووٹ کی عزت کی بجائے کام پر ووٹ مانگنا شروع کر دیا۔ اب ان کا نعرہ ہے کام کو ووٹ دو۔ گویا ووٹ کی عزت یہی ہے کہ ووٹ کام کو دیا جائے تو کام تو حقیقت میں کوئی بھی نہیں کرتا تو کیا ووٹ کو ضائع کر دیا جائے؟ جواب سوچ کر دیجیے گا۔

    پاکستان تحریک انصاف کی بات کریں تو کمال حیرت کی بات ہے کہ مرکز اور ایک صوبے کے علاوہ باقی صوبوں میں حکومت کرکے تبدیلی نہ لا سکنے والی جماعت اب بھی تبدیلی کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم نے گزشتہ دو برس کی حکومت کی تعلیمی سرگرمیوں کو سراہا ہے جبکہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں تعلیمی ادارے بہت کم عرصہ کھلے رہے اور طلباء خوش جبکہ والدین، اساتذہ اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان پریشان رہے۔

    امیدواروں کی ایک بڑی تعداد آزاد حیثیت سے بھی الیکشن لڑ رہی ہے۔ لاہور کینٹ کی وارڈ نمبر 6 میں ایک آزاد امیدوار ایسے ہیں جو گزشتہ الیکشن پی ٹی آئی کی طرف سے لڑتے رہے ہیں مگر اس بار وہ پارٹی کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ گزشتہ شب ان کے مرکزی دفتر کے سامنے ان کا انتخابی جلسہ تھا جس میں ایک مضحکہ خیز واقعہ پیش آیا۔ پنڈال سپورٹرز سے بھرا ہوا تھا اسٹیج پر معززین علاقہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ پرجوش خطابات ہو رہے تھے۔ جب اسٹیج سے امیدوار کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگوائے جا رہے تھے عین اسی وقت نامعلوم کہاں سے ایک گدھا پنڈال میں داخل ہو گیا۔ اور عوام میں کی بھیڑ میں گھستا چلا گیا۔

    گلیاں پانی سے بھری ہیں ۔ بعض سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ علاقے کے ٹیوب ویل اکثر خراب رہتے ہیں اور بیشمار عوامی مسائل کا ڈھیر ہے مگر الیکشن تو ہو گا۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا کام کو عزت ملتی ہے یا عوام اب بھی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ جو بھی ہو فیصلہ رات تک ہو جائے گا۔

  • سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    سفر کاغان |تحریر اعجازالحق عثمانی

    کے۔پی۔کے ” کے ہزارہ ڈویژن میں واقع وادی کاغان اپنے حسین و دلکش مناظر،پرلطف آب وہوا،ہرے بھرے فلک بوس پہاڑوں اور اپنی جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔161کلومیٹر طویل وادی کاغان کا آغاز بالاکوٹ سے ہوتا ہے۔شہداء کی سرزمین بالاکوٹ مانسہرہ سے 30کلومیٹر اور سطح سمندر سے 3250 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔وادی کاغان کا دروازہ کہلایا جانے والا یہ شہر تعلیمی،ثقافتی اور ایک تجارتی مرکز بھی ہے۔اس شہر کی سیاحتی اہمیت کچھ زیادہ نہیں ۔سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل کا مدفن ہونے کی وجہ سے اسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔اور وادی کا اختتام سطح سمندر سے 13690فٹ بلند درہ بابوسر پر ھوتا ہے۔اس حسین وادی کے بارے میں کوثر نیازی لکھتے ہیں:
    باٹا کنڈی کی بھلدران کی، شگران کی یاد
    دل شاعر میں ہے خوابوں کے پرستان کی یاد
    یہ پگھلتی ہوئی چاندی سا چمکتا پانی!
    دل سے جائے گی نہ اب وادی کاغان کی یاد
    مصحف روئے دل آرا کی تلاوت جیسے
    کتنی رنگین ودل افراز ہے ناران کی یاد
    اس خواہش میں چلا آیا ہوں بابوسر پر
    اس کی چوٹی سے مجھے آئے گی فاران کی یاد
    کاش اس مست خنک چھاوں میں تم بھی ہوتے
    دل میں ابتک ہے اک حسرت وارمان کی یاد
    عشق جس رنگ میں ہو زندہ وپائندہ ہے
    دل ہر سنگ میں ہے سیف کے رومان کی یاد
    جبر کرکے مجھے لے آئے یہاں کوثر
    دل سی جائے گی نہ احباب کے احسان کی یاد

    یہ کوئی ستمبر کی آخری رات ہوگی۔جب ہم 9بجے کے قریب وادی کاغان کےلیے روانہ ہوئے۔گاڑی میں بیٹھتے ہی ہلاگلا شروع ہوگیا۔کبھی نعرے بازی سننے کو ملتی تو کبھی گانے۔۔۔۔۔
    مانسہرہ پہنچتے ہی سرد اور خنک ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ایک ہوٹل سے چائے پی اور پھر سفر شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاغان کا پہاڑی راستہ جتنا ہم نے خوفناک سنا تھا ۔اس سے کہیں زیادہ نکلا۔اس سمے ہمیں وہ وقت یاد آیا جب ہم ماں کے شیر ہوتے تھے مگر دن کے وقت بھی گاوں کے پہاڑوں سے بکریوں کو واپس لانے کےلیے جانے سے ڈرتے تھے۔ان پہاڑوں پر ہمیں “ماں”یاد آتی تھی۔اور ان پہاڑوں پر “خدا”یاد آیا۔
    تقریبا صبح سات بجے کے قریب ہم وادی کاغان میں داخل ہوچکے تھے۔ایک دوست ہمیں “silent”بھائی کہتا ھے۔مگر جتنی خاموش وادی کاغان ہے اتنے ہم بھی نہیں۔
    بقول مستنصر حسین تارڑ:
    “وادی کاغان کے لوگ کچی کوٹھروں سے بھیڑ بکریوں کو بےدخل کر کے اور ان میں سیاحوں کو داخل کر کے ایک شب میں ہزاروں روپے کماتے ہیں۔اس کے باوجود بہت سے لوگ رہائش نہ ملنے پر بالاکوٹ میں جاکر سر چھپاتے ہیں۔”
    مگر اب کاغان میں ہوٹلوں اور خچروں کی تعداد مساوی ہونے والی ہے۔دو گھنٹے آرام کے بعد ہم جھیل سیف الملوک کی طرف روانہ ہوئے۔”جھیل سیف الملوک “کے بارے میں ہمارا خیال تھا کہ یہ جھیل بھی “کلرکہار جھیل” کی طرح مختلف چیزوں مثلا بسکٹ، ٹافیوں اور چپس کے خالی رپیروں سے سجی ہوگی۔مگر افسوس!جھیل پر پہنچ کر ہمارا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ہماری پہلی نظر جن چیزوں پر پڑی وہ بدوضع کھوکھے،خیمے نما عارضی کمرےاور اپنی قمیض سے ناک صاف کرتا بچہ تھا۔اور دوسری نظر میں ہم نے ایک دل کش اور حیرت انگیز چیز سفید لباس میں دیکھی۔آپ کے خیال میں کوئی پری ہوگی مگر پری نہیں تھی۔ایک پہاڑ تھا۔جس نے برف کا سفید لباس اوڑھ رکھا تھا۔ہاں!ہمیں جھیل سیف الملوک پر “پریاں “بھی دیکھائی دی مگر وہ نورانی پریاں نہ تھیں۔
    چند گھنٹوں کے آرام کے بعد ہم ناران کا بازار دیکھنے دوڑ پڑے۔رات کے دس بجے بھی سڑک کی دونوں جانب انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہجوم تھا۔حلوائی کی دکان پر رنگ برنگی مٹھائیاں تھالوں میں سجی ہوئی تھیں۔حلوائی کی دکان کے بالکل سامنے تیکھے نقوش والا لڑکا “کافی”بیچ رہا تھا۔ رات کو بھی دن کا سماں تھا۔نوجوان جوڑے”من تو شدی ،تو من شدی” کی مجسم صورت بنے آ اور جا رہے تھے۔کچھ تو ایسے بھی تھےجو کبھی نوجوان جوڑوں کو دیکھتے تو کبھی ادھر ادھر کی دکانوں کو۔ہم بھی انھی میں شمار تھے۔یعنی۔۔۔۔۔۔۔ٹائم دیکھا تو 12بج چکے تھے۔مگر اس ماحول سے نکلنے کو جی ہی نہیں چارہا تھا۔سوچا جاکر سونے کا کیا فائدہ ناجانے پھر کب ملے گا یہ سماں۔حالی نے بھی شاید میرے لیے کہا تھا۔
    “کھیتوں کو دے لو پانی اب بہہ رہی ہے گنگا”
    تھوڑا آگے سیخوں پر کباب بنائے جا رہے تھے۔ایک ہوٹل میں رش اتنا تھا کہ جیسا مفت کھانا مل رہا ہو۔سو ہم بھی گھس گئے۔جب بل آیا تو مفت کھانے والوں کو یوں لگا کہ جیسے پڑوسیوں کا بل بھی ہم بھر رہے ہیں۔کچھ دیر بعد اچانک بازار کی رونق آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگی اور ہم بھی لوٹ آئے۔
    اگلے روز ناشتے کے بعد ہم”بابو سر ٹاپ”کی دید کو نکل پڑے۔ شاہراہ کو چوڑا کرنے کےلیے جگہ جگہ بل ڈوزر پہاڑوں سے ماتھا لگائے دیکھائی دیے۔ کھڑکی سے گردن باہر نکالی تو تیکھے نقوش والی لڑکی تیز تیز قدموں سے چلتی دیکھائی دی۔تھوڑا آگے میری ہی عمر کا ایک جوان بھیڑ بکریاں چراتے دیکھائی دیا۔راستے میں جھیل”لولوسر”کی دید بھی نصیب ہوئی۔جسے وادی کی شہہ رگ یعنی “دریائے کنہار” کا ماخذ بھی کہا جاتا ہے۔وادی کا حرف آخر کہلایا جانے والا درہ بابو سر ناران سے 81کلومیٹر اور سطح سمندر سے 13690فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ایک دفعہ گاوں میں ابا جان نے بتایا”بیٹا اونچی جگہ پر سگنلز اچھے آتے ہیں”مگر بابو سر کی( 13680فٹ )کی اونچائی پر ایسا نہیں تھا۔”سورج کے قریب تھے،پھر بھی سردی زیادہ”۔چائے پینے کےلیے لکڑی کے پرانے تختوں سے بنے اک اعلی ہوٹل میں گئے۔چھوٹے سے کپ میں پانچ گھونٹ چائے۔اور قیمت پچاس روپے ادا کرنا پڑی۔یعنی فی گھونٹ 10روپے۔بابوسر کی ٹاپ پر پہنچتے ہی ہمیں “اعزارائیل”کا خیال آیا اور ہم نیچے کی طرف بھاگے۔ناران واپس پہنچ کر ہم نے آرام کی خاطر اپنے کمرے میں جانے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔دوستوں کے اصرار پر ہمیں ناران کی گلیوں کی خاک چھاننے کےلیے جانا پڑا۔سوکھے پتوں کی مانند لوگ اپنے کام کاج میں مصروف تھے۔ زیادہ تر گھروں کے چار دیواریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔چند گھروں میں تو مغرب سے پہلے بھی روٹی کھاتے افراد دیکھائی دیے۔انھیں دیکھ کر مجھے اپنا آبائی گاوں یاد آیا۔ وہاں ہم بھی کبھی مغرب سے پہلے تو کبھی نماز کے فورا بعد کھانا کھا لیتے تھے۔وہاں کے لوگ بھی ناران کی اس گلی کے لوگوں کی طرح سادہ ہیں۔ تھکاوٹ کے احساس کو قدرے زائل کرنے کےلیے ہم نے چائے پی۔ہوٹل واپس آکر کھانا کھایا۔اور پھر بازار چل دیے۔
    اگلے دن “لالہ زار”کی طرف روانگی ہوئی۔لالہ زار تو واقعی لالہ زار ہے۔ جو مزہ پیدل جانے میں ہے،وہ بھلا چیپ میں جانے والوں کو کہاں نصیب ہوتا ھے۔(خود )گرتے اور (پتھروں کو) گراتے ہوئے بڑی مشکل سے پہنچے۔ہمارا خیال تھا کہ لالہ زار پر پھول ہمارا استقبال کریں گے۔مگر ہمارا استقبال صنوبر کے درختوں اور آلو کے کھیتوں نے کیا۔لیکن تھوڑا آگے چل کے پھولوں نے بھی مسکراتے ہوئے ہمیں استقبالیہ نظروں سے دیکھا۔لوگ گھڑ سواری یا خچر سواری بڑے شوق سے کر رہے تھے۔ پرندوں کی چہچاہٹ۔۔۔صنوبر کے درخت۔۔۔لالہ وگل۔۔۔لالہ زار کی رونق ہیں۔
    کنہار کی ٹراوٹ مچھلی اپنے خوش ذائقے کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔لیکن اب یہ خوش ذائقہ مخلوق کم ہوتی جارہی ہے۔سنا ہے کہ دریائے کنہار کا پانی انکھوں کے امراض کےلیے انتہائی مفید ہے۔کہا جاتا ہے کہ سفر کے دوران ملکہ نور جہاں کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ملکہ نے اس پانی سے آنکھیں دھوئی تو آرام مل گیا۔ ملکہ نے دریا کو “نین سکھ”کا نام دیا۔ہمیں بھی دریائے کنہار کی دید تو نصیب ہوئی مگر افسوس وقت کی کمی کی وجہ سے ہم کنہار کی الجھی موجوں سے گفتگو نہ کرسکے۔
    وادی میں تین دن رات مسلسل گھوڑے دوڑانے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ “آلو”یہاں کی اہم پیداوار اور “ہندکو”یہاں کی مقامی زبان ہے۔جو حضرات “حج کعبہ”کر چکے ہیں اور “فطرت یا قدرت کا حج”کرنا چاہتے ہیں تو وہ وادی کاغان جا کر یہ سعادت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    @EjazulhaqUsmani

  • یوم وفات حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ  تحریر: احسان الحق

    یوم وفات حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ تحریر: احسان الحق

    حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح وہ بطل جلیل ہیں جن کی فراست، تدبر، سیاست اور وکالت کا برصغیر میں تو کیا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں. آپ یقیناً بیسویں صدی کے عظیم ترین اور بہترین رہنما ہیں جن کی عظمت، فراست، اخلاق اور سیاست کی تعریف کرنے پر پوری دنیا مجبور ہے. آپ نے مسلمانان برصغیر کے خلاف انگریز-ہندو گٹھ جوڑ کا بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا اور دونوں حریفوں کو اپنی فراست اور سیاست کے ذریعے زیر کیا. تقریباً 200 سالہ غلامی میں جکڑی مسلمان قوم کو بدمست اور متعصب ہندوؤں اور انگریزوں سے آزادی دلانا یقیناً بہترین صاحب سیاست اور صاحب فراست شخصیت کا کام ہے. بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح عالم سیاسیات میں ایک انتہائی منفرد اور غیرمعمولی شخصیت ہیں. آپ نہ صرف سیاست، وکالت، شجاعت اور حوصلے میں اعلیٰ ترین تھے بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے بے لوث اور بے غرض ہو کر اجتماعی فلاح کا ایسا کارنامہ سرانجام دینے میں کامیاب ہوئے جس کی دشمنوں سمیت ساری دنیا معترف ہے.

    حضرت قائداعظمؒ ایک بہترین سیاستدان اور مدبر ہونے کے ساتھ ساتھ دور اندیش بھی تھے. برصغیر کے مسلمانوں کے متعلق آپ نے جتنے خدشات کا اظہار کیا وہ سارے خدشات وقت کے ساتھ ساتھ درست ثابت ہوئے. دہلی میں منعقدہ مسلم لیگ کے تیسویں اجلاس میں آپ نے فرمایا تھا.

    "مسلمان گروہوں اور فرقوں کی نہیں بلکہ اسلام اور قوم کی محبت پیدا کریں کیوں کہ انہیں برائیوں نے مسلمانوں کو 200 سال سے کمزور اور محکوم بنا رکھا ہے”. اسی طرح آپ نے کشمیر کے متعلق جو فرمایا تھا کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” ہمیں اب احساس ہوا کہ کہ کشمیر کیسے اور کس طرح پاکستان کی شہ رگ ہے. ناجائز اسرائیلی ریاست کے قیام کے خلاف آپ نے جو کچھ فرمایا تھا آج وقت نے ٹھیک اسی طرح ثابت کر دیا ہے. ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق ہندوؤں کی سوچ کا آپ 100 سال پہلے بتا چکے تھے جو آج ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں.

    بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائداعظمؒ بیماری کی حالت میں بھی پاکستان کا سوچ رہے تھے. قائداعظمؒ کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ "قائداعظمؒ کے آخری لمحات” میں لکھتے ہیں کہ، 

    قائداعظمؒ کو کریون اے کے سگریٹ پسند تھے اور اکثر یہی سگریٹ نوش فرماتے تھے. ایک دن کریون اے کے سگریٹ ختم ہو گئے اور پورے کویٹہ میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے تھے. لیفٹیننٹ کرنل الٰہی بخش نے کہا کہ میں نے ایک دوکان پر یہ سگریٹ دیکھے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں جا کر یہ سگریٹ لے آتا ہوں. جاتے جاتے کرنل الٰہی بخش کہنے لگے کہ اگر ہم پاکستان میں سگریٹ بنانے کی فیکٹری بنائیں اور اچھی قسم کا تمباکو امریکہ سے منگوا کر اپنے ہی ملک میں سگریٹ بنانا شروع کر دیں تو یہ کتنا اچھا ہوگا. یہ سن کر حضرت محمد علی جناحؒ کی آنکھیں جوش سے لال ہو گئیں اور فرمانے لگے "پاکستان میں دنیا کا سب سے اچھا تمباکو ملتا ہے، تمباکو کے لئے ہم امریکہ کے محتاج نہیں ہو سکتے. ہم اپنے ملک میں بہترین تمباکو پیدا کر کے سیگریٹ بنا کر دوسرے ملکوں کو بھی بیچ سکتے ہیں”

    ایک روز حضرت قائداعظمؒ باتوں باتوں میں فرمانے لگے کہ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے، ایک ایسی حقیقت جس کا دوست، دشمن، اپنے اور پرائے سب اعتراف کرنے پر مجبور ہیں. پاکستان بن چکا ہے. پاکستان کا مستقل درخشندہ ہے. میری روح کو تسکین میسر ہے کیوں کہ برصغیر کے مسلمان اب ہندوؤں یا انگریزوں کے غلام نہیں رہے بلکہ آزاد ریاست کے مالک ہیں. مزید فرماتے ہیں کہ جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری قوم آج ایک آزاد اور خود مختار قوم بن چکی ہے تو فخر سے میرا سر عجز و نیاز کے جذبات سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کو جھک جاتا ہے.

    ان دنوں معالجین کی زیر نگرانی آپ حضرت قائداعظمؒ کوئٹہ زیارت میں تھے. آپ کی طبیعت قدرے سنبھل گئی تھی مگر بعد میں آپکی طبیعت روز بروز مضمحل ہوتی چلی گئی اور کمزوری میں اضافہ ہوتا گیا. 8 یا 9 ستمبر کو قائداعظمؒ نے اپنی طبی ٹیم سے فرمایا کہ مجھے کراچی لے چلو.

    11 ستمبر کو کوئیٹہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے. آپکے ذاتی معالجین، مادر ملت فاطمہ جناح اور کرنل الٰہی بخش ہمراہ تھے. دوران سفر آپ سکون سے رہے. قائداعظمؒ کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں کہ

    "ہم 11 ستمبر کو کوئٹہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے. راستہ میں مکمل پرسکون رہے اور ادھر ادھر کی باتیں بھی کرتے رہے. سفر کے دوران کسی قسم کی پریشانی یا تکلیف محسوس نہیں کی”

    فاطمہ جناح کے کہنے پر کرنل الٰہی بخش، ڈاکٹر مستری اور ڈاکٹر ریاض علی شاہ ہوٹل چلے گئے. ڈاکٹر کہتے ہیں کہ 9 بجے کے قریب فاطمہ جناح کا ہمیں فون آیا اور کہتی ہیں کہ کمزوری میں اضافہ ہو گیا ہے اور طبیعت میں بے قراری بڑھتی جا رہی ہیں، پریشانی کے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح نے یہ سب فون پر ڈاکٹروں کو بتایا. معالجین اور کرنل الٰہی بخش فوراً گورنمنٹ ہاؤس کراچی پہنچے. حضرت قائداعظمؒ پر بے ہوشی طاری تھی اور کمزوری انتہا کو پہنچ چکی تھی. آپکی نبض میں بگاڑ آ گیا تھا اور آنکھیں پتھرا رہی تھیں. طبی ٹیم نے باہم مشورے سے آپکو کئی ٹیکے لگائے گئے جس سے آپکی طبیعت میں کسی حد تک بہتری پیدا ہوئی. مگر کچھ دیر بعد آپ کا دل ڈوبنے لگا اور آپکی نبض بھی غیرمتوازن طریقے سے چلنے لگی، آنکھیں بند ہونے لگیں اور سانس بھی رک رک کر چلنے لگی. اس بے ہوشی کے عالم میں آپ نے کچھ کہا.

    ساتھ کھڑے معالجین اور قریبی لوگوں کے بقول کہ حضرت قائداعظمؒ کا آخری فقرہ مکمل طور پر ہمیں سمجھ نہیں آیا صرف "اللہ” اور "پاکستان”سمجھ آیا. مطلب آخری لمحات میں آخری الفاظ بھی اللہ اور پاکستان کے متعلق تھے. 11 ستمبر 1948 کو 71 سال کی عمر میں پاکستان اور مسلمانوں کا سوچتے سوچتے 10 بج کر 25 منٹوں پر صدی کے عظیم ترین رہنما، مسلمانان برصغیر کے مسیحا، باکردار، بابائے قوم اور بانی پاکستان ہمیشہ کی نیند سو گئے.

    انا للہ واناالیہ راجعون.

    بانی پاکستان حضرت محمد علی جناحؒ کے انتقال کی خبر پورے کراچی میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی. کراچی سمیت پورا پاکستان حزن و ملال میں ڈوب گیا. تمام رات لاکھوں پاکستانیوں سمیت دنیا کے تمام مسلمان اپنے عظیم رہنما اور مسیحا کی رحلت پر ماتم میں سوگوار اور اشک بار رہے. صبح ہوتے ہی پورا پاکستان ماتم کدہ بن گیا. 12 ستمبر کو عظیم قائد کے عظیم جنازے کو اس کی شایانِ شان کے مطابق فوجی اور ریاستی اعزاز سے اٹھایا گیا. اپنے عظیم قائد کو الوداع کہنے کے لئے لاکھوں لوگوں نے جنازہ میں شرکت کی. صدی کے عظیم ترین رہنما اور مسیحا کو دفن کر دیا گیا.

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا.

    اللہ تعالیٰ حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ کی تمام لغزشوں کو معاف فرمائیں اور درجات بلند فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا کریں۔ آمین

    ‎@mian_ihsaan

  • تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    تعلیمی اداروں میں جانبداری کا بڑھتا رجحان تحریر حیاء انبساط

    آجکل تعلیمی اداروں میں چھوٹے بچوں کو پڑھانے کیلئےاساتذہ کا انتخاب کرتے ہوئے قابلیت سے زیادہ خوبصورتی کو ترجیح دی جا رہی ہے نئی نئی تعلیم سے فارغ ہوئی لڑکیوں کو بناء کسی تدریسی تجربے یا کسی تدریسی تربیت کے کم تنخواہوں پر اسکولوں میں بطور استاد رکھ لیا جاتا ہے جن کی تعلیمی قابلیت میٹرک ، انٹر اور بہت زیادہ ہو تو گریجویشن ہوتی ہے لیکن کوئی پروفیشنل سرٹیفیکٹ یا ڈگری نہیں ہوتی۔
    انہیں اسکول مالکان پیسہ بچانے کیلئے ہائر کرتے ہیں اور ایک ،دو گھنٹوں کی ورک شاپ کروا کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت پڑھانے کے لیئے اچھی طرح ٹیچر کی تربیت کر دی ہے جبکہ ہوتا سب کچھ اسکے برعکس ہی ہے ۔

    ان لڑکیوں کے پڑھانے کے طریقوں میں تو جو غلطیاں ہوں سو ہوں مگر جو ایک چیز سب سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے وہ ہے پسندیدگی یا جانبداری ۔ ان ٹیچرز کو تمام بچوں میں جو بچہ یا بچی زیادہ پیارے لگتے ہیں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے چاہے وہ گود میں بیٹھا کے کلر کروانا ہو یا اپنے ہاتھ سے لنچ بریک میں کھانا کھلانا ہو ۔ اب اگر یہی رویہ باقی تمام بچوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا تو قابلِ تعریف امر ہوتا مگر المیہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ اور غیر تربیتی عملہ دراصل معصوم ذہنوں میں تعصب ، جلن اور حسد جیسے جذبات( جن کے نام سے بھی یہ معصوم ذہن ناواقف ہیں ) بھر رہا ہے جب ایک ٹیچر جو کے تمام بچوں کو یکساں تعلیم اور شفقت دینے پرمعمور کی گئی ہے بچوں کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھے گی تو دوسرے کمسن ذہنوں پہ کتنا منفی اثر پڑے گا باقی بچے اس مخصوص بچے سے گھلنے ملنے سے کترائیں گے ایک طرح سے اس بچے کا کلاس میں سوشل بائیکاٹ ہو جائے گا جس معاملے میں اس بچے کا قصور بھی نہیں ہوگا اسکی سزا باقی بچوں کی طرف سے اسکو دی جائے گی

    دوسرے بچے اپنا احساس محرومی مٹانے کیلئے اسکو احساس کمتری میں مبتلا کر دیں گے اور یہ سب کوئی بھی بچہ جانتے بوجھتے نہیں کرتا لیکن یہ ان سے ہوتا چلا جاتا ہے اور وجہ ہوتی ہیں کم تعلیم یافتہ ، کم تنخواہوں پہ نوکریاں کرتی غیر تربیت یافتہ اساتذہ

    یہ مسئلہ صرف چھوٹی کلاسز تک محدود نہیں رہتا بلکہ جیسے جیسے بچوں کی کلاس بڑھتی جاتی ہے بچوں میں مختلف طرح کے رویے جنم لیتے ہیں کچھ بچے اسی امتیازی سلوک کے بناء پہ خود کو دوسروں سے برتر تصور کرنے لگتے ہیں ، کچھ اساتذہ کی خوشامد کرکے آگے بڑھنے کو ذریعہ بنا لیتے ہیں

    ایک چیز اور جو تعلیمی اداروں میں دیکھی جارہی ہے وہ والدہ یا کسی قریبی رشتہ دار کا اسی ادارے میں ٹیچر ہونا ہے جہاں انکے گھر کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوں پھر وہاں جانبداری کا عمل دخل زیادہ نظر آتا ہے اساتذہ آپس میں دوستاں کر لیتی ہیں اور پھر اس دوستی کا شکار لائق اور قابل بچے ہوتے ہیں

    ان طور طریقوں سے ہم اچھے ذہنوں کا زیاں کردیتے ہیں وہ بچے جو روشن مستقبل کے ضامن تھے انکی آئندہ کی زندگی اندھیروں کی نظر ہو جاتی ہے وہ پڑھائی اور اسکول سے بھاگنے لگتے ہیں لعن طعن کی وجہ سے انکا دل تعلیمی اداروں سے اچاٹ ہوجاتا ہے اور اگر غلط لوگوں کے ہاتھ چڑھ جائیں تو پوری طرح برباد ہوجاتے ہیں

    اس کے علاوہ کم عمر اور غیرپیشہ ورانہ ٹیچرز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آگے داخلے کیلئے سال کے بیچ میں اسکول چھوڑ کے چلی جاتی ہیں جن کی وجہ سے معصوم بچے جو ان اساتذہ کے عادی ہوجاتے ہیں ذہنی طور پہ پریشان ہوجاتے ہیں اور انکی تعلیمی کارکردگی پہ یہ تبدیلی بری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔

    چھوٹے علاقوں میں یا نچلی سطح پہ کھولے گئے اسکول صرف اپنی طلبہ کی گنتی بڑھانے کی خاطر بگڑے ہوئے ، فیلیئرز اور بڑی عمر کے بچوں کو بھی کبھی سفازش ، کبھی اثر رسوخ اور کبھی لالچ کی بناء پہ باآسانی داخلہ دے دیتے ہیں جنکی وجہ سے کم عمر طلبہ کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ وقت سے پہلے ان معلومات کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں جس سے انکے کمسن ذہن سخت اثرانداز ہوتے ہیں انکا دھیان پڑھائی سے ہٹ کر دوسری سرگرمیوں کی جانب مبذول ہوجاتا ہے

    یہ کم تعلیم یافتہ عملہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بے تحاشہ کوتاہیاں کرتا نظر آتا ہے ان کا خود کا مشاہدہ کم ہوتا ہے تو بچوں کے ذہنوں میں ابھرتے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے کے بجائے یہ ٹیچرز ان کو کبھی ڈانٹ کر کبھی غلط جواب دیکر گمراہ کر دیتے ہیں ۔ ان ٹیچرز کو امتحانی پرچہ (کوئسچن پیپر) بھی سیٹ کرنا نہیں آتا اکثر ہی غلط مارکنگ کرتی دیکھائی دیتی ہیں مثلاً دو لائن کے سوال کے نمبر ۴، ۶ نمبر ہونگے اور بڑے سوال یا مضمون کے کم نمبر سیٹ کیئے ہوتے ہیں

    پڑھے لکھے والدین سے یہ اساتذہ ایسے خوف کھاتے ہیں جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو ان سے اگر میٹنگ رکھی جائے تو عموماً آپ کو والدین اساتذہ کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور یہ اساتذہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے بچے کو ہی نالائق ، نااہل،نکما ثابت کرنے کے درپہ نظر آتے ہیں

    ان سب سے ہٹ کر ایک اور مسئلہ جو آجکل درپیش ہے وہ ہے پرائیوٹ ٹیوشن کا۔ پہلے اگر کوئی بچہ پڑھائی میں کمزور ہوتا تھا تو اس کے لیئے ٹیوشن کی سہولت سے استفادہ حاصل کیا جاتا تھا لیکن آج کل ٹیوشن کے معانی ہی تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں اساتذہ اپنے ہی اسکول کے ہی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور امتحان سے پہلے ہی امتحانی سوالات بچوں کو رٹّا دیئے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی بچے اعلٰی نمبر حاصل کرکے اگلی جماعت میں چلے جاتے ہیں اور جن طالبعلموں نے محنت کرکے تمام سلیبس سے تیاری کی ہوتی ہے انکے نمبر کم آجاتے ہیں ۔

    یہ جانبداری اور اجارہ داری کا سلسلہ دراصل ایک پوری نسل کی ذہنی تباہی کا موجب بنتا جا رہا ہے لیکن اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے انکی جانبداری اور اس ٹیوشن گردی کے نظام کے خاتمے پہ بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
    ہم ملک میں یکساں نظام تعلیم کی بات تو بہت زور و شور سے کرتے ہیں کہ ملک کے تمام طبقوں میں تعلیمی نصاب اور نظام یکساں ہونا چاہئیے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھرتیوں ، انکی اہلیت ، قابلیت اور تربیت کی بھی پوری جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی انہیں بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپنی چاہئے ۔ اساتذہ ہی قوم کے معمار ہیں اگر وہی بہترین نہیں ہونگے تو وہ ایک شاندار قوم کی تیاری میں کیسے معاون کردار ادا کر سکتے ہیں ؟ سوچیئے گا ضرور!
    Twitter handle : @HaayaSays

  • پاکستانی سیاست کی پھوپھی جان چوہدری نثار علی خان    تحریر : علی خان

    پاکستانی سیاست کی پھوپھی جان چوہدری نثار علی خان   تحریر : علی خان

    چوہدری نثار پاکستانی سیاست کا بڑا نام ہے پر اس کے ساتھ یہ وہ پھوپھی ہے جو کسی سے خوش نہیں چاہیے وہ نواز شریف ہو، شہباز شریف ہو ذرداری یاں عمران خان ۔ 

    ہم دیسی لوگوں میں  کیونکہ رشتوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اس لیے زندگی کے ہر  سنجیدہ و تفریحی شعبے میں  معروف شخصیات سے مختلف رشتے منسوب کردئیے جاتے ہیں۔ چاچائے کرکٹ۔۔ بابائے قوم۔۔۔ مادر ملت۔۔۔ برادران  ملت۔۔۔ دختر مشرق وغیرہ وغیرہ۔ سیاسی رشتوں میں بہن ،بھائی، بیٹا بیٹی وغیرہ تو ہم سب نے ہی سن رکھے ہیں۔۔۔  سیاسی اتحاد بنتے ہی مختلف نسبی رشتے بھی وجود میں آجاتے ہیں۔۔۔ کچھ سیاستدانوں  میں یہ نام کے رشتے بعد میں باقاعدہ رشتہ داریوں میں بھی تبدیل ہوجاتے ہیں

    روزمرہ زندگی میں بھی والد کے دوستوں کو چاچا  اور والدہ کی دوستوں کو خالہ کہنا عام سی بات ہے لیکن  سگی پھوپھو کے علاوہ کسی کو پھوپھو بنانے کی ریت شاید ہی کسی نے سنی ہو۔ پھوپھی کا رشتہ سب  رشتوں سے منفرد ہوتا ہے۔   سب سے زیادہ خیال بھی پھوپھو رکھتی ہے اور ناراض بھی رہتی ہے۔ ناراض ہوتے ہوئے بھی سب کی خبر رکھنا پھوپھو کا ہی کمال ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ پھوپھی کسی رشتے کا نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے تو  غلط نہ ہوگا۔ پھوپھو کے ناراض ہونے کے لیے کوئی خاص وجہ درکار نہیں ہوتی۔ گھر میں کوئی  بھی خوشی ہو سب سے پہلے پھوپھو کو دعوت دی جاتی لیکن پھر بھی  ناراضی کا سامنا ہوتا کہ دعوت دینے آگئے ہم کوئی غیر تھے۔ ہم سے کوئی صلاح ہی لے لیتے۔ اگر صلاح لے لی جائے تو یہ گلہ کہ مشورہ دینے کا کیا فائدہ کرتے تو تم لوگ اپنی ہی مرضی ہو وغیرہ وغیرہ 

    پاکستانی سیاست میں بھی ایک ایسے کردار ہیں جن پر آج کل پھوپھی والی کیفیت طاری ہے۔ ماضی میں ایک ہی جماعت سے طویل تر وابستگی کے باوجود بھی ہر معاملے میں اپنی علیحدہ رائے رکھی اور اپنی بات مانے نہ جانے پر پارٹی قیادت سے نالاں بھی  رہے۔  اپنی علیحدہ رائے کو انقلابی سمجھا یہ اور بات کہ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ڈیڑھ انچ کی مسجد تھی۔ پارٹی کے اندر اور باہر کسی سے ناراض ہوئے تو یوں ہوئے کہ سالوں بات کرنے سے بھی گئے۔ اپنی سنیارٹی کا زعم اتنا کہ پارٹی سربراہ کو جونیئر ہونے کے طعنے دیتے رہے۔ اپنی جماعت سے طویل عرصہ ناراضی پر دوسری جماعت نے شمولیت کی دعوت دی تو گومگو کی کیفیت سے نہ نکلے اور وزارت اعلیٰ کا ممکنہ منصب گنوا بیٹھے۔ الیکشن میں ضد کے باعث قومی اسمبلی کی نشست نہ جیت سکے تو خودساختہ ناراضی سے صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا حلف تک نہ لیا اور گھر بیٹھ رہے۔ عرصہ اڑھائی سال بعد اچانک خود ہی سے خیال آیا تو اسمبلی پہنچ کر حلف اٹھا لیا۔ اس بات پر اس بڑھیا کی یاد آئی  بار بار لڑائی کرکہ گھر سے نکل جاتیں  اور سامنے میدان میں بیٹھ کر نخروں سے مانتیں۔ اب روز نکلیں تو بار بار کی لڑائی سے تنگ آئے گھر والے منانے نہ آئے۔ بھوک کی ماری خاتون  کو اور کچھ سمجھ نہ آیا تو چراگاہ سے واپس آئے بچھڑے کی پونچھ پکڑی اور یہ کہتی گھر میں داخل ہوئیں کہ "مینوں چھڈ میں نئیں جانا گھر نوں”۔

      پاکستانی سیاست کی یہ پھوپھو آج کل تحریک انصاف پر بہت نثار ہیں اور تحریک انصاف والے بھی  سینئر سیاست دان  سے پینگیں بڑھنے پر نہال ہیں۔ اللہ کرے یہ پیا ر محبت بڑھتا رہے اور   سب شیر و شکر رہیں لیکن پھوپھی والی کیفیت کچھ بھی کروا سکتی ہے۔  ایسی ہی ایک پھوپھی کو مشکل سے منا کر بھتیجے کی شادی کے لیے لایا گیا۔ پھوپھی صاحبہ کو  کچھ دیر میں پرانی رنجش یاد آئی لیکن لڑائی کا بہانہ نہ سمجھ آیا تو چھت پر جاچڑھیں اور کچھ کھٹر پٹر کی۔ اہل خانہ نے بچوں کا شور سمجھ کر پوچھا ” کون اے چھت تے” موقعے کی منتظر پھوپھی نے نیچے اتر فوری بچے سنبھالے اور شادی چھوڑ روانہ ہوگئیں کہ "ہن اسی کون ہوگئے؟؟؟”

    تحریر ؛ علی خان    

    @hidesidewithak

  • کورونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی اثر انگیز ہے…. تحریر :مدثرہ مبین

    کورونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی اثر انگیز ہے…. تحریر :مدثرہ مبین

    پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس کا تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں 15 ستمبر تک توسیع کا اعلان ایک دفعہ پھر عوام میں اس سوال کے سر اٹھانے کا باعث بن گیا ہے کہ کیا کورونا وائرس صرف تعلیمی اداروں میں ہی اثر انگیز ہے؟ گزشتہ دو سال سے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان ہوتے ہی یہی سوال زیرِ بحث آتا ہے.
    دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا وبائی مرض کورونا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو آسیب کی طرح چمٹ چکا ہے. پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بنا ہے. لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. کئی ممالک کی معیشت، زراعت اور تعلیم خاصے نقصان سے دوچار ہوئی ہے. دنیا میں کم و بیش ہی کوئی ملک ہوگا جو کورونا وائرس کی لپیٹ میں نہیں آیا. کئی جان کے محافظ ڈاکٹر بھی کورونا وائرس کا شکار ہو کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں.
    اس سب کے باوجود آج بھی پاکستان کی ایک تہائی آبادی کورونا کو ایک فریب ہی تصور کر رہی ہے. زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ بھی اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ایک حکومتی سازش ہے.
    اب کی بار بھی تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں توسیع کا اعلان منظر عام پر آتے ہی عوام غصے کا اظہار کرتے ہوۓ یہ سوال کرتی نظر آ رہی ہے کہ صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے جا رہے ہیں، بازار اور مارکیٹیں کیوں نہیں؟
    بچوں اور بوڑھوں میں قوت مدافعت نوجوانوں کی بانسبت خاصی کم ہوتی ہےاسی لیے بچےاور بوڑھے جلد جراثیم کی لپیٹ میں آجاتے ہیں. اور ایسے خطرناک جراثیم ان پر زیادہ گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں.
    پوری دنیا میں اس وقت آنلائن تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے. اور یہاں ہر گھر میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہونے کے باوجود نہ صرف ہماری عوام جان بوجھ کر تعلیم کے معاملے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ الزام ہمیشہ کی طرح دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کی بھرپور کوشش بھی کر رہی ہے.
    حکومت کی گزشتہ بازاروں پر پابندی کے باوجود عوام مسلسل حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتی رہے اور بند دکانوں کے اندر گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی. ایسے میں بازاروں پر پابندی ہونا نہ ہونا برابر ہی تھا.
    اگر مارکیٹیں بند بھی کر دی جاۓ تو کیا عوام کے پاس اتنا سرمایا موجود ہے کہ کچھ دن بھی گزارا ہوسکے. ہمارے ملک کی تقریباً 24 فیصد آبادی نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہے جنہیں عام حالات میں بھی دو وقت کا کھانا تک میسر نہیں.
    یا تو یہ وجوہات لوگوں کے ذہن کے پردے پر ابھرتی نہیں یا وہ انہیں جاننا اور سمجھنا نہیں چاہتے. بلکہ اس فیصلے کو بھی حکومت کے گزشتہ فیصلوں کی طرح تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں.
    ہم میں سے کتنے لوگ کورونا کے اس وبائی مرض میں حکومت کے پیش پیش ہیں؟ کتنے لوگ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ ویکسینیشن کروا چکے ہیں؟ اب تک صرف 9.8 فیصد لوگوں نے ہی ویکسین لگوائی ہے. کچھ کا موقف ہے کہ ویکسینیشن کروانے سے جلد موت واقع ہو جائے گی. ایسے لوگوں کا کیا خدا پہ ایمان نہیں کہ زندگی موت تو صرف اسی کے ہاتھ میں ہے.
    حکومتی فیصلوں پر تنقید کرنے کی بجائے انکے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ویکسینیشن کرواۓ تا کہ معمول زندگی پھر سے بحال ہو سکے.

  • طب، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کون کون سے ادویہ کا ذکر قرآن وحدیث میں آیا تحریر اکرام اللہ نسیم

    قرآن مجید اللہ پاک کی آخری نازل شدہ آسمانی کتاب ہے جو نبی کریم صَلَّی اللہ علیہ وسلم پر تیس سال کے عرصے میں نازل ہوئی اللہ پاک نے ہر مسلمان کو قرآن مجید کو پڑھنے اور اسکو سمجھنے کے لئے بھیجا تاکہ اسکو سمجھ کر صحیح معنوں میں دین اسلام پر چلنے کا سلیقہ آئے

     اسکے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں طبی ادویات کا ذکر کیا تاکہ انسان بیماری کی صورت میں ان ادویات سے فائدہ   اٹھا سکے

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں  انجیر ، زیتون ، کافور، کھجور، دودھ ،انار ، مچھلی ، یاقوت، مرجان، شہد، پیاز مٹی ریشم سونا چاندی ترنجبین  زنجبیل مونگا موتی الحدید پرندوں کا گوشت بیر ریحان جانوروں کا گوشت مختلف پھلوں میوں اور بارش کے پانی کا بھی ذکر کیا 

    طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد وہ تمام ادویہ اغذیہ بقاء صحت کی تدابیر اور وہ چیزیں جو قرآن وحدیث سے ثابت ہو

    حدیث میں ان ادویہ کا ذکر ہے کھمبی سناء شہد سویا تلبینہ قسط زیتون مہندی سرمہ اونٹنی کا دودھ کافور زعفران تربوز گھی بیر ریحان کستوری  ریشم لوبان ثرید آب بارش  زم زم چقندر کاسنی  کا ذکر ہے اسکے علاوہ بھی دیگر اشیاء کا ذکر ہے 

    عطائی معالج کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے علاج کیا حالانکہ اس سے علاج معالجے کا کچھ علم نہ تھا  اس حال میں زمہ داری اس معالج پر آئے گی  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے طب کا علم نہ ہونے کے باوجود معالجے کی زمہ داری لی تو وہ ہر طرح کے نقصان کا ذمہ دار ہوگا 

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار کے بیمار کے لئے جو کا دلیا بنانے کا حکم دیتے اور وہ مریض کو کھلایا جاتا  

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھمبی کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء بخش ہے اور تلبینہ دل کے بیمار کے لئے تسکین بخش ہے اور یہ غم کو زائل کرتاہے بہی کے بارے میں فرمایا کہ یہ دل کو مضبوط کرتی ہے روح کو نشاط بخشتی ہے اور سینے کی گھٹن کو دور کرتی ہے

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کلونجی میں ہر بیماری کے لئے شفاء ہے سماء اور شہد کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں کو استعمال کرو اسمیں سوائے موت کہ ہر بیماری کی شفاء ہے 

    اسہال کی شکایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نے ایک شخص کو شہد تین بار پینے کا کہا تین مرتبہ پینے کے بعد اسکو شفاء مل گئی

    زم زم کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں ہر بیماری کی شفاء ہے 

    زیتون کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسمیں 72بیماریوں کی شفاء ہے

    ہر انار کے اندر جنت کے پانی کا ایک قطر ہے 

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرمہ میں بہترین سرمہ اثمد ہے یہ بینائی کو روشن کرتا ہے اور بال اگاتا ہے

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے کاسنی موجود ہے کیونکہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا  کہ جب جنت کے پانی کے قطرے اس پر نہ گرتے ہوںکاسنی کھاؤ مگر اسے جھاڑو متکاسنی بچھو کے کاٹے پر لگانا مفید ہے اور آنکھ میں ڈالنا موتیا کو فایدہ دیتا ہے

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل  ‎@realikramnaseem

  • حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    حضرت معاویہ رض تابعین کی نظر میں تحریر:تعریف اللہ عفی عنہ

    ‏(بسم اللہ الرحمن الرحیم)

    تابعین کرام میں اپ کی کیا حیثیت تھی؟اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور خلافت میں  کسی کو کوڑوں سے نہیں مارا ،مگر ایک شخص جس نے حضرت معاویہ رض پر زبان درازی کی تھی،اس کے متعلق انہوں نے حکم دیا کہ اسے کوڑے لگائے جائیں۰

    (ابن عبدالبر:الاستیعاب تحت الاصابہ ج:۳ ص:۱۳۵)

    حافظ ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک جہ مشہور تابعین میں سے ہیں ،ان سے کسی نے حضرت معاویہ کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن المبارک جواب میں کہنے لگے:بھلا میں اس شخص کے بارےمیں کیا کہوں؟جس نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہو اور جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو انہوں نے جواب میں ربنا لک الحمد کہا ہو۰

    (ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج۸ ص:۱۳۹)

    انہی عبداللہ ابن المبارک سے ایک مرتبہ کسی نے سوال کیا کہ :یہ بتلائے کہ حضرت معاویہ اور حضرت عمربن عبدالعزیز میں سے کون افضل ہے؟سوال کرنے والے نے ایک جانب اس صحابی کو رکھا جس پرطرح طرح کے اعتراضات کئے گئے تھے ،اور دوسری طرف اس جلیل القدر تابعی کو جس کی جلالت شان پر تمام امت کا  اتفاق ہے،یہ سوال سن کرعبداللہ ابن مبارک غصے میں اگئے اور فرمایا”تم ان دونوں کی اپس میں نسبت.  پوچھتےہو،خدا کی قسم! وہ مٹی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے  ہمراہ جہاد کرتے ہوئےحضرت معاویہ کی ناک کے سوراخ میں چلی گئی،وہ حضرت عمر بن عبدالوزیز سے افضل ہے ”

    (حوالامذکورہ بالا)۰

    اسی قسم کا سوال حضرت معافی بن عمران رض سے کیا گیا تو وہ بھی غضب ناک  ہوگئے اور فرمایا :بھلا ایک تابعی کسی صحابی کے برابر ہوسکتا ہے؟حضرت معاویہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ،ان کی بہن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں تھیں،انہوں نے وحی خداوندی کی کتابت کی اور حفاظت کی،بھلا ان کے مقام کو کوئی تابعی کیسے پہنچ سکتا ہے؟

    اور پھر یہ حدیث پڑھ کر سنائی کہ حضورﷺ  نے فرمایا جس نے میرے اصحاب اور رشتہ داروں کو برا بھلا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو۰

    (ابن کثیر:البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۳۹)

    مشہور تابعی حضرت احنف بن قیس اہل عرب میں بہت حلیم اور بردبار مشہور ہیں ،ایک مرتبہ ان سے پوچھا گیا کہ:بردبار کون ہے ؟اپ یا معاویہ ؟اپ نے فرمایا :بخدا میں نے تم سے بڑا جاہل کوئی نہیں دیکھا ،حضرت معاویہ قدرت رکھتے ہوئے حلم اور بردباری سے کام لیتے ہیں اور میں قدرت نہ رکھتے ہوئے بردباری کرتا ہوں ،لہذا میں ان سے کیسے بڑھ سکتاہوں ؟یا ان کے  برابر کیسے ہوسکتا ہے؟

    چنانچہ ایک شیعہ مورخ امیر علی لکھتے ہیں:-

    مجموعی طور پر حضرت معاویہ کی حکومت اندرون ملک بڑی خوشحال اور پرامن تھی اور خارجہ پالیسی کے لحاظ سےبڑی کامیاب تھی۰

    (بحوالہ "حضرت معاویہ "مولفہ:حکیم محمود احمد ظفر سیالکوٹی۰)

    یہاں پر اسکی ایک حوش طبوعی کی واقعہ لکھتا ہوں ،ایک بار ایک شخص اپ رض کے پاس ایا اور کہنے لگا میں ایک مکان بنا رہا ہوں ،اپ میری مدد کردیجئے اور بارہ ہزار درخت عطا کردیجئے۰

    اپ رض نےپوچھا:کہاں گھر ہے؟

    کہنے لگا:بصرہ میں !

    اپ رض نے پوچھا "لمبائی چوڑائی کتنی ہے؟”

    کہنے لگا :دو فرسخ لمبائی ہے اور دو فرسخ چوڑائی ۰:

    اپ رض نے مزاخا فرمایا :-

    :-یہ مت کہو کہ میرا گھر بصرہ میں ہے،بلکہ یوں کہو کہ بصرہ میرے گھر میں ہے۰

    (حافظ ابن کثیر :البدایہ والنہایہ ج:۸ ص:۱۴۱۰)۰

    الغرض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین بہت بڑے مقام والے ہیں ۰ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریفات احادیث میں ائی صحابہ کرام اجمین نے ان کی تعریفات کئے ہیں اور بڑے بڑے اکابرین امت نے ان کی تعریفات کئے ہیں انشاء اللہ ابھی علمائے حق ان کی تعریفات کرتے اور قیامت کی صبح تک کریگی 

    صحابہ تو وہ لوگ ہے جس اللہ راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہے اللہ تعالی ہم کو صحابہ کرام اجمعین کی محبت عوطا فرمائے اور ان کی گستاخی سے اللہ تعالیہم سب کو محفوظ فرمائے۰امین ثم امین۰

    ‎@Tareef1234

  • قائد اعظم کا پاکستان:-

    پاکستان 14 اگست 1947 کو ہمارے بزرگوں کی جانی مالی قربانیوں کی وجہ سے معرضِ وجود میں آیا۔ قائد اعظم کا خواب تھا کہ یہ ملک اسلامی فلاحی ریاست بنے جو کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے انسان کو اپنی اولاد کی طرح پالے، ہر کسی کی جان و مال محفوظ ہوں۔

    میرے ذہن میں کچھ سوالات آتے ہیں جن کے جوابات مجھ سمیت پوری قوم کے لئے جاننا ضروری ہیں۔

    قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ آپ کی سیاسی و مذہبی بصیرت کیا تھی؟ پاکستان کا دستور و آئین کیسا ہو گا؟

    ریاست پاکستان ایک عظیم نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی, اِس کی بنیاد رکھنے والے قائد اعظم ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ریاست چاہتے تھے۔ وہ ایک ایسے پاکستان کی تشکیل چاہتے تھے۔ جہاں آئین کی بالادستی ہو، جہاں پارلیمان آزادی اور خودمختاری سے فیصلے کر سکے، جہاں ہر شہری کو بلا امتیاز انصاف میسر ہو اور وہ اپنی عبادات اور رسومات کو آزادی سے ادا کر سکے، جہاں درسگاہیں علم و دانش کا گہوارا ہوں، تعلیم، روزگار اور صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہو، جہاں عورت کی عزت و توقیر کو مقدم رکھا جائے۔

    قائداعظم نے جب پہلی بار پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا تو اُس میں واضح اور واشگاف الفاظ میں کہا "آپ سب پاکستانی ہیں، آپ کا جو بھی مذہب اور عقیدہ ہے ریاست کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں آپ بلا خوف و خطر اپنی عبادت گاہوں میں جائیں۔

    قائد اعظم اپنی سیاسی زندگی میں تقریباً 35 سال تک ہندوستان کی امپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے رکن رہے۔ اس دوران آپ نے جمہوری آزادی اور قانون کی بالادستی کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی۔

    قائد اعظم کی زندگی کا اہم ترین مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی، جمہوری اور آئینی حقوق کی پاس داری تھا اور وہ خود بھی کبھی قانون شکنی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ آپ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے سب سے بڑے حامی اور مشاورت پر پختہ یقین رکھنے والے تھے۔

    لندن کے روزنامہ ورکر لندن کو ایک انٹرویو میں قائد اعظم نے کہا کہ وہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں جس کا کسی بھی رنگ یا نسل سے کوئی تعلق نہ ہوگا اور وہ جمہوری حکومت عوام کے تابع اور عوامی امنگوں کی ترجمان ہوگی۔

    آپ نے واضع کر دیا تھا کے جمہوریت مسلمانوں کے خون میں شامل ہے کیوں کہ مسلمان، انسانیت، برابری، بھائی چارے اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

    قائد اعظم پاکستان میں ایسا پارلیمانی جمہوری نظام عوام کو دینا چاہتے تھے جس میں قانون کی بالادستی ہو، وہ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ چاہتے تھے جو صرف اور صرف  جمہوری پارلیمانی نظام حکومت سے ہی ممکن ہے۔

    یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے۔ لیکن کیا ہم نے ان ستر سالوں میں پاکستان کو وہ اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کی جس کا انہوں نے اپنی مختلف تقاریر میں ذکر کیا۔

    Twitter ID:

    ‎@farazrajpootpti