Baaghi TV

Category: بلاگ

  • طالبان اور ان کے خلاف ہونے والا جھوٹا پروپیگنڈا تحریر: محمد رمضان

    طالبان اور ان کے خلاف ہونے والا جھوٹا پروپیگنڈا تحریر: محمد رمضان


    دیکھا جائے تو جب سے کابل فتح ہوا ہے تب سے اسلامی امارات کے خلاف بے بنیاد پروپیگینڈا شروع ہے ۔یہ پروپیگینڈا وہ لوگ کررہے ہیں جو تادم مرگ رہنے کا سوچ کر  افغانستان آئے تھے لیکن ان کے خواب خاک میں مل گئے 

    وہ چاہتے تھے کہ ہم افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے خلاف گھٹیا حرکات سرانجام دیں

    اس میں درج ذیل نکات شامل ہیں

    1.سب سے پہلا پروپیگنڈہ یہ تھا کہ یہ لوگ عورتوں کو کام پر نہیں جانے دیں گے لیکن انہوں نے عورتوں کے لیے نرس اور مختلف شعبوں میں کام جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی اور یہ پروپیگنڈہ بھی اپنی موت آپ مر گیا

    2۔دوسرا پروپیگنڈا یہ تھا کہ یہ لوگ بہت ظالم لوگ ہیں کابل فتح ہونے کے چند دنوں بعد اور امریکی اسلحہ اور ہیلی کاپٹر ہاتھ لگنے کے بعد طالبانوں نے ایک ہیلی کاپٹر اڑایا اور اس کے ساتھ نیچے رسی کےساتھ ایک مجاہد  کو لٹکا کر مشقیں کیں۔ تو انڈین میڈیا نے پروپیگنڈا کیا کہ یہ ایک امریکی ٹرانسلیٹر کو پھانسی دی جا رہی ہے

    3۔افغانستان کا ایک صوبہ پنجشیر جس پر نہ ہی سوویت یونین قبضہ کر سکی اور نہ ہی امریکہ اس کو حاصل کر سکا لیکن چند دنوں میں طالبان نے  اس پر قبضہ کرلیا  تو اس کے خلاف یہ پروپیگنڈا چلایا گیا کہ یہ سراسر پاکستانی مداخلت کی وجہ سے قبضہ ہوا ہے ورنہ طالبان کے اندر اتنی پاور کہاں سے آئی کہ جس کو سوویت یونین قبضے میں لے سکا اور نہ ہی امریکہ  قبضے میں لے سکا اس جنگ میں پاکستان کی مداخلت قرار دیدیا گیا اور کہا گیا کہ اس کے اندر پاکستان کے F16 جہاز اور  ڈرون استعمال ہوئے ہیں ۔جس کی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے واضح الفاظ میں تردید کی

    4۔ااور پھر ملا حسن اخوند کے وزیراعظم بنتے ہی یہ کہا گیا کہ ایک میٹنگ کے دوران طالبان رہنماؤں کے لڑائی ہوئی جس میں ملا عبد الغنی برادر شدید زخمی ہوئے اور شاید فوت بھی ہوگئے 

    اس پرپیگنڈا کے پھیلنے کے بعد ملا عبد الغنی برادر کو بذات خود بیان جاری کرنا پڑا کہ وہ الحمداللہ خیریت سے ۔ وہ سفر میں تھے کہ شر پسند عناصر نے ان کے مرنے کی خبر چلادی

    لیکن ان کرپٹ لوگوں کو کوئی نہیں پوچھتا جو اپنے ساتھ 169ملین ڈالر لےکر افغانستان سےفرار ہوئےتھے۔ ان کےنائب امراللہ صالح کےپاس اتنا کچھ تھاکہ فرار ہونےسے پہلے 6.5 ملین ڈالر نقد اور سونےکی اینٹیں گھر پر چھوڑ دیں

    یہ وہ لوگ ہیں  جو کرپشن کو اپنا وتیرہ سمجھتے ہیں لیکن ان  کی 90فیصد آبادی 2 ڈالر یومیہ سے کم کماتی ہے۔

    جن کو کوئی کام نہ ملے وہ پردے پر پروپیگنڈہ شروع کردیتا ہے ۔ بندہ ان سے پوچھے ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے 

    مسلمانوں نے اسلام کے اصولوں پر چلنا ہے ۔جس طرح مسلمان آپ کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتے اس طرح یورپ کو چاہیے کہ اسلام میں مداخلت نہ کریں

    اسی سلسلے میں ٹرمپ نے ایک بیان دیا کہ

    ہم چاہتے ہیں کہ

     خواتین نقاب نہ پہنیں لیکن پھر میں نے انٹرویو دیکھا جس میں انھوں نے کہا کہ ہم یہ پہننا چاہتی ہیں، اور ایک ہزار سال سے پہن رہی ہیں، کوئی ہمیں کیوں بتاتا ہے کہ اسے نہ پہنیں۔ جب وہ پہننچا چاہتی ہیں تو ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم اس میں دخل اندازی کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ

    جتنا پروپیگنڈا کرنا ہے کر لو لیکن طالبان افغانستان میں ایک حقیقت بن چکی ہے جسے تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی افغانستان کے اندر امن قائم رکھے

     آمین

    ‎@MRamzan26

  • اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا تحریر:سید مصدق شاہ

    وہ دوراہے پر کھڑی تھی۔ اس کے آج کے فیصلے پر اس کی آنے والی زندگی کا دارومدار تھا۔ اس کے راہ زیست کو پھولوں سے سجنا تھا یا وہاں ہمیشہ کانٹے  ہی اگنے تھے یہ اس کے آج کے فیصلے پر منحصر تھا۔ اور وہ۔۔ وہ تو پھول اور کانٹوں میں تمیز ہی نہیں کر پا رہی تھی۔ گھر میں مہندی کا فنکشن جاری تھا۔ کل اس کی بارات آنی تھی۔ اماں کئی مرتبہ آکر اس کی بلائیں لے چکی تھیں۔ 

    لڑکیاں ڈھولک لیے اس کے گرد گھیرا بنائے بیٹھی تھی۔ گانے، شوخ قہقہے،ذومعنی جملے، چھیڑ چھاڑ اس سب میں اس کا رویہ کچھ اور ہونا چاہیے تھا 

    مگر وہ۔۔

     وہ تو تمام رونقوں سے پرے سوچوں کے عمیق سمندر میں گم تھی۔ 

    دوبارہ اسجد کا میسیج آیا تھا۔ اس نے لمبے چوڑے میسیج میں دوبارہ وہی کچھ لکھا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہم ہے اور وہ اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ زمانے کو لعن طعن محبت کے قسمیں وعدیں اور آخر میں دوبارہ وہی۔۔ بھاگ جانے کا مشورہ۔۔

     چاہتی تو وہ بھی یہیں تھی۔۔ اسجد اس کی دو سال کی محبت تھا جس سے وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔

     شادی تو وہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ مگر کامران بیچ میں آگیا۔ کامران اس کا تایا زاد۔

     اس نے بہت کوشش کی منع کرنے کی مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔

    اسے آج فیصلہ کرنا تھا۔ ایک طرف اس کے والدین کے ہنستے مسکراتے چہرے تھے اور دوسری طرف اسجد کی محبت۔ 

    وہ سوچ رہی تھی اگر اس نے ایسا کوئی قدم اٹھا لیا تو کیا اس کے ابا معاشرے میں دوبارہ سر اٹھا کر جی پائیں گے۔

    وہ مسکان جو ابھی اماں کے چہرے پر سجی ہے کیا وہ دوبارہ مسکرا پائیں گی۔

    اسے یاد آیا وہ تو دل کی مریض تھیں۔ کیا وہ یہ صدمہ سہار پائیں گی۔ بہت سے اگر اس کا دل دہلا رہے تھے۔اور اس سے چھوٹی نادیہ۔۔ 

    اگر وہ بھاگ گئی تو نادیہ کے لیے گھر کی دیواریں اتنی اونچی کر دی جائیں گی کہ وہ باہر کی دنیا میں جھانک بھی نہ سکے۔کیا وہ ان رشتوں کے بغیر رہ پائے گی۔

     کیا وہ خون کے رشتوں سے کٹ کر سکون کے ساتھ جی پائے گی۔۔نہیں۔۔

    پر جی تو وہ اسجد کے بنا بھی نہیں پائے گی اس کے دل سے صدا آئی۔

    دل کچھ کہتا اور دماغ اسے رد کر دیتا۔ اور دل بھی کہاں دماغ کے پیش کردہ حقائق کو تسلیم کرتا۔

     اس دل و دماغ کی جنگ میں سبین اسے کھانا دینے آئے جسے اس نے بھوک نہیں ہے کہہ کر واپس بھجوا دیا۔۔

    اف۔۔ کیا کرے وہ۔۔ اسجد کے میسج پر میسج آرہے تھے۔

     اس نے ملتان کے لیے دو ٹکٹ لے لیے تھے۔۔فیصلہ ہو چکا تھا۔

     محبت اور رشتوں کی جنگ میں خون کے رشتوں کو مات ہوئی تھی۔

     اس نے سر درد کا بہانہ کیا اور کمرے میں چلی آئی۔

    وہاں آکر اس نے کاغز قلم ڈھونڈا۔ کانپتے ہاتھوں سے کچھ سطریں لکھی اور کاغذ ٹیبل لیمپ کے نیچے رکھ دیا۔

    کھڑکی کے راستے وہ گھر کے پچھلی جانب آئی جہاں اسجد اپنے دوست کی گاڑی لیے تیار کھڑا تھا۔ اس نے آخری نظر گھر کو دیکھا۔

    کچھ چہرے آنکھوں کے سامنے لہرائے۔ اس کے قدم لڑکھڑائے مگر فیصلہ تو وہ کر چکی تھی اب اس پر عمل کرنے کا وقت تھا۔ وہ پہلے اسجد کے دوست کے گھر گئے وہاں ان کا نکاح ہوا۔ پھر اس کا دوست خود انہیں سٹیشن تک چھوڑنے آیا۔

    گاڑی لاہور سٹیشن سے نکلی تو اسے لگا جیسے وہ اپنے وجود کا ایک حصہ یہیں کہیں چھوڑے جا رہی ہے۔

     آنسوؤں کی باڑ سے دور جاتا لاہور ریلوے سٹیشن اب دھندلا ہوتا جا رہا تھا۔،،

    دو سال بیت چکے تھے تھے اسے اب کبھی کبھار گھر والوں کی یاد ستاتی 

    دل انہیں ملنے کو تڑپ اٹھتا  مگر ننھی لائبہ نے اس کی توجہ ہٹا دی تھی ماضی کی تمام یادیں لائبہ کی ننھی قلقاریوں میں گم ہوجاتیں اسجد بھی تو بہت اچھا تھا اس کے ساتھ اس نے اپنی محبت کے تمام وعدے وفا کیے

    مگر پھر بھی کہیں ایک خلاصہ باقی رہتا وہ بھی جانتی تھیں کہ خلا کہیں باہر نہیں بلکہ اس کے اندر ہے مگر پھر بھی زندگی حسین تھی اور حسین ہی رہتی اگر اس روز مال میں اسے وہ نہ ملتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ لائبہ کو لے کر شاپنگ مال گئی تھی جب پرام کو بچوں کو سیکشن کی طرح دکھیلتے ہوئے اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی

     ایک پل کو جیسے اسے یقین نہ آیا یقینا وہ نادیہ تھی

     اس کی نظر بھی پڑھ چکی تھی اور آنکھوں میں شناسائی کی چمک ائی وہ قدم اٹھاتے اس کے پاس چلی آئی

     کیسی ہو نادیہ؟

     دل تو شدت کے ساتھ اسے گلے لگانے کا چاہ رہا تھا تھا مگر بیچ میں دو سال کا فاصلہ حائل تھا 

    میں ٹھیک ہوں اپا

     تم کیسی ہو ؟ اس نے بمشکل چہرے پر مُسکان سجا لی تھی

    تم ۔۔۔۔یہاں کیسے۔۔۔

    اس کی حیرت ہنوز قائم تھی

    میں یہاں دو ماہ پہلے آئی تھی کامران کی پوسٹنگ ہوگئی ہے نا یہاں

    کامران ۔۔۔۔ اس نے بے یقینی سے اپنی چھوٹی بہن کی طرف دیکھا

    ہاں آپا کسی نے تو ابا کی عزت رکھنی تھی نا

    اسے یقین نہیں آرہا تھا نادیہ اس سے پانچ سال چھوٹی تھی یعنی کامران نادیہ سے آٹھ سال بڑا تھا ایسے میں کوئی مرد شاپنگ بیگ تھامے اس کی جانب آیا تھا بلاشبہ کامران تھا اسے دیکھ کر وہ پل کو ٹھٹکا

     پھر چہرے پر سختی کے آثار آگئے 

    میں کاونٹر پر ہوں وہی آجانا نادیہ کو بتا کر وہ کاونٹر کی طرف بڑھ گیا

     آپی یہ تمہاری بیٹی ہے؟

    اس کی نظر ابھی لائبہ پر پڑی تھی۔۔ ہاں ، اس نے جھک کر اسے پیار کیا تھا ماشاء اللہ بہت پیاری ہے

    کامران ٹھیک ہے نا تمہارے ساتھ ؟

    اس کے دل میں کئی اندیشے جاگ رہے تھے

    ہاں کامران بہت اچھے ہیں آپا وہ نا بھی بولتی تو اس کے چہرے پر آنے والے رنگ خوشگوار ازدواجی زندگی کا پتا دے رہے تھے 

    اور اماں ابا۔۔۔؟ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا

    وہ فورا سیدھی کھڑی ہوئی لبوں کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی اپا تم مغرور تھی ان کا

    تمہیں دیکھ کر جیتے تھے وہ

     تم نے اماں سے ان کی زندگی اور ابا سے ان کا غرور چھین لیا

    اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا

    تمہارے جانے کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ جان لیوا ثابت ہوا وہ الفاظ نہیں تھی بلکہ پھگلا ہوا سیسہ تھا جو اس کے کانوں میں انڈیلا جا رہا تھا

    وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی

    ابا تو شاید اس دن کے بعد بولنا ہی بھول گئےکبھی کسی نے انہیں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا

    اسے لگا کہ کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے کر مسل دیا ہے

    آپا پتہ ہے اماں نے مرنے سے پہلے تمہارے بارے میں کیا کہا تھا؟

    وہ یک ٹک اسے دیکھنے جارہی تھی

    ماں نے کہا تھا تم بھی میری طرح یوں ہی تڑپو گی  اسے لگا کہ کسی نے اسے پاتال میں دھکیل دیا ہو

    وہ کتنی ہی دیر گم صم کھڑی رہی نادیہ اپنی بات کہہ کر جا چکی تھی وہ بھی اپنے اعمال کردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے گھر کو چل پڑی بے آب اسے پوری زندگی اس بوجھ کے ساتھ جینا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وقت ماہ و سال پر اپنی گرد ڈال کر انہیں ماضی میں بدلتا رہا اور یوں 20 سال گزر گئے لائبہ جوان ہو چکی تھی اللہ نے لائبہ کے بعد اسے کوئی اولاد نہیں دی

     وقت نے اس کے بالوں میں چاندی اتار دی تھی

     سب کچھ بدل گیا تھا اگر کچھ نہیں بدلا تو اس کا پچھتاوا  تھا 

    اسے روز رات کو خواب میں اماں ابا کا چہرہ نظر آتا تھا

     اسے نادیہ کی باتوں کی گونج سنائی دیتی اماں اس کا کاندھا جھنجوڑ کر کہتی تو نے ہمیں تڑپایا ہے تو بھی یوں ہی تڑپے گی وہ نیند میں جاگ جاتی اور دوبارہ سو ہی نا پاتی

     اب تو اسے نیند اور دواؤں کے بنانیند ہی نہیں آتی جاگتے ہوئے بھی ایسے ہی خیال ذہن میں آتے رہتے ہیں

    سب کہتے لائبہ بالکل اس پر گئی ہے وہی آنکھیں وہی ناک نقشہ اور وہ دہل جاتی 

    کہیں وہ بھی میری طرح۔۔۔۔۔۔

    اس سے آگے وہ سوچ نا پاتی

    وہ ہر وقت اسے دیکھتی رہتی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کرتی جوں ہی وہ کالج سے اتی اس کا بیگ گھنگالتی۔

    وہ سو رہی ہوتی تو کئی بار اس کے کمرے میں جا کر اسے دیکھ کر تسلی کرتی اسجد اور لائبہ دونوں ہی اس کے ان عادت سے نالاں تھے

    اسجد تو پھر سمجھ جاتا پر لائبہ اس پر چڑھ دوڑتی اسے خوب سناتی پر وہ پھر بھی نہ رہ پاتی

     ٹی وی میں یا کسی شخص سے کسی لڑکی کے گھر سے بھاگ جانے کا سنتی تو اس کا زخم ہرا ہو جاتا کئی دن  گم صم بیٹھی رہتی ایسے میں وہ خود سے بھی بے خبر رہتی اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی رہتی 

    پھر کچھ دن بعد اسی جون میں واپس آجاتی اور لائبہ کے ساتھ وہی رویہ اپنا لیتی

    ڈاکٹرز کہتے تھے کہ اسے کوئی نفسیاتی عارضہ ہے مگر وہ تو اپنے اعمال کی فصل کاٹ رہی تھی جو زہر اس نے 20 سال پہلے بویا تھا اب وہ ایک تناور درخت بن چکا تھا اور اس کا زہر اس کے اپنے جسم میں سرایت کر چکا تھا

     اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا اس زہریلے درخت کی چھاؤں تلے

    (ختم شدہ)

    Tweeter Id Handel:  @

  • قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    اگر دیکھاجائے تو ایک قلمکار کا دائیرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے۔ وہ اپنے قلم سے بہت کچھ کر سکتا ہے زمانہ میں انقلاب لا سکتا ہے ۔ذہنی تربیت دے سکتا ہے۔اذنی تحریر کو مقصد سے آراستہ کر سکتا ہے اسکو مفید بنا سکتا ہے۔مگر آج کا قلمکار، آج کے قلم کی طرح یوز انڈ تھرو ہو گیا ہے ۔ یعنی پڑھو اور بھول جاؤ۔ تحریر بے مقصد، غیر دلچسپ، ناقابل فہم ہوگی تو کون قاری اس کو یاد رکھے گا۔ آج کے قلمکار کی تحریر ایسی ہوتی ہے کہ بس بس کیا پڑھے یاد نہیں رہتا۔ وجہ کیا ہے ؟ وجہ ایک ہی ہے اب سوشل میڈیا کا دور ہے اب جھوٹ پہلے جیسی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے صحافتی قوانین بنائے ہیں جن میں حقائق پر مبنی خبر ہی نشر کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں قومی سطہ کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤس بھی ریٹنگ کے چکر میں ہر خبر کو بریکننگ نیوز بنا کر نشر کرتے ہیں اور اکثر خبریں صرف اِن الفاظ کے ساتھ نشر کی جاتی ہے "ذرائع کہ مطابق” لیکن ذرائع کا نام، اِدارے کا نام، کسی مستند صحافی کا نام لئے بغیر ہی اُس خبر کو سارا سارا دن ساری رات بار بار چلایا جاتا ہے۔ کیا یہ ٹحیک ہے کسی بھ ایسی ریاست کے لئے جس کے خلاف ہائبرڈ وار فیئر بھرپور انداز میں مسلط ہو۔؟پہلے اہل قلم اپنی قلم کو تلوار بنا لیتے تھے،سوئے ہُوئے ذہنوں کو جگانے کا کام لیتے تھے۔ نیز قلم سے نشتر کا کام لیتے تھے معاشرہ میں رائج فرسُودہ رسم و رواج اور برائیوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ مگر آج کا قلمکار، قلم تو اس کے لئے بھی تلوار ہے مگر زنگ آلود تلوار جس کو وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ گویا ایک دوسرے کو کند چھری سے ذبح کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

    ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگا رہتا ہے۔ تنقید برائے تنقید کرتا چلا جاتا ہے۔ جس سے مُعاشرے میں برائی کو تقویت ملتی ہے مقابلہ بازی میں مدے سے ہٹ کر بحث میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اور یہ نا صرف مُعاشرے بلکہ ریاست کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ایک صحافی جو قلم سے ایک دوسرے کی کاوشوں پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اور اس لفظی جنگ میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے بھی گریز نہیں کرتا اِس کا نقصان کسے ہوگا یہ جانے بغیر وہ اِس مقابلے میں بل آخر جھوٹ کا سہارا لینا شروع کر دیتا ہے جو برائی کی پہلی سیڑی ثاب ہوتی ہے اور یہاوہ صحافی اپنے قلم کے ساتھ خیانت کر بیٹھتا ہے ضمیر کو بھی جھوٹی تسلی دے کر سلانے لگتا ہے۔ مگر حرام کا ایک لُقمہ حلق میں جاتے ساتھ حلال رزق سے چند لمحوں میں قوسوں دُور ہوجاتا ہے۔
    پاکستان اِس وقت ففتھ جنریشن وار جیسی جنگ کی زد میں ہے اور میڈیا اِس جنگ میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں فیک نیوز کی ایک لمبی لائن لگ جاتی ہے جو ریاست مخالف استعمال ہوتی ہے ایسے مشکل حالات میں میڈیا ریاست کا ساتھ دیتا ہے جبکہ ہمارا میڈیا غیر ملکی ہتھکنڈوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر بضد ہے۔

    ‏ایسا صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ حکومت کہہ رہی ہے سچ بولیں اور یہ جاہل کہتے ہیں نہیں ہمیں یہ منظور
    ‏فیصلہ ہونے والا ہے اس قوم نے تباہ ہونا ہے یا ترقی یافتہ عظیم قوم بننا ہے
    اللہ کو ہماری ضرورت نہیں ہم نہیں سدھریں گے تو ہم سے بہتر لوگ آجائیں گے
    احتجاج ہورہا ہے کہ جھوٹ کی آزادی دو یہ وہ گناہ ہے جس پہ اللہ نے خود لعنت فرمائی ہے
    جو گروہ جیتے گا وہ ملک کے مستقبل کا تعین کردے گا۔
    میڈیا میں جھوٹی خبروں اور خواہشات پہ مبنی جھوٹے من گھڑت تجزیوں کی روک تھام کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے ۔ صحافی
    عدالتوں میں بہتری اور اصلاحات کے لیئے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے- وکلاء
    الیکشن کمیشن میں بہتری کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے۔ الیکشن کمیشن
    مگر نیا پاکستان کیوں نہیں بنا اس کا جواب عمران خان کو دینا ہو گا۔ بہت خُوب
    جب آپ لوگو جھوٹ نہیں بولیں گے تو آپ کو کسی بات کا ڈر نہیں ہونا چاہئے
    مگر وہ کہتے ہیں نا چور کی داڑھی میں تنکا
    ان شاءاللہ یہ ہو کر رہے گا۔
    @A2Khizar

  • اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام اور انسان .تحریر:صائمہ رحمان

    اسلام انسان دوستی اور عظمت ِ انسانیت کا درس دیتا ہے اسلام ہمیں نفرت اور قتل و غارت نہیں بلکے امن، سلامتی اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اسلام انسانیت کی کامیابی کا ضامن ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے غیرمعمولی ظاہری اور معنوی خوبیوں سے آراستہ کیا اسلام ایک دینِ کامل اور مکمل دستورِحیات ہے، اسلام میں انسانی زندگی سے متعلق تعلیمات وہدایات موجود ہیں اسلام نے انسانی تاریخ میں غیرمعمولی انقلاب برپا کیا، اسلامی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ تمام انسان ،خواہ وہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہتے ہوں، کسی بھی مذہب کو ماننے والے ہوں مگر سب اللہ کے بندے ہیں
    اللہ کے رسول نے تمام انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
    ’’اے لوگو!بلاشبہ تمہارارب ایک ہے اورتم سب کا باپ بھی ایک ہے،جان لوکہ کسی عربی کوکسی عجمی پراورنہ ہی کسی عجمی کوکسی عربی پر،نہ کسی گورے کوکسی کالے پر اورنہ کسی کالے کو کسی گورے پرکوئی فضیلت اوربرتری حاصل ہے ،سوائے تقویٰ کے۔ ‘‘
    سب انسان ایک مٹی سے بنے ہیں ہم انسانوں میں فرق ہم دنیا والوں نے بیدا کررکھا ہے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ،کسی بھی گورے کو کالے پر کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ،غریب کو امیر یا امیر کو غریب پر ،کسی رنگ ،نسل ،قوم،علاقے کی وجہ سے کوئی فوقیت نہیں ۔سب انسان برابر ہیں اللہ کی نظر میں برابر ہیں ۔ذات قبیلے رنگ روپ نسل سب کوایک دوسرے کی پہچان کو بنائے گیا ہے ابتر بتر کے لئے نہیں بنایا گیا ۔

    اسلام انسان کو کچھ حقوق بھی دیے ہیں اسلام ہر انسان کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے اسلام بلاتفریق ِ رنگ و نسل و مسلک و مذہب، ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ انسانی جان کے احترام کو اسلام نے فرض قرار دیا ہے ہر انسان کو جینے کا حق ہے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ معاشرے میں ہر شخص کی جان، مال اور آبرو کا تحفظ ہر انسان کا حق ہے بلاتفریق بنیادی حق ہے۔ اسلام نے عزتِ نفس کو بھی اہمیت دی ہے اور ایسی گفتگو کو بھی منا کیا گیا ہے جس سے کسی کی بے عزتی کا پہلو نکلتا ہو۔ اسلامیہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ عورت بہرحال محترم ہے، خواہ وہ اپنی قوم کی ہو، یا دشمن قوم کی ہماری ہم مذہب ہو یا کسی غیرمذہب سے تعلق رکھتی ہو، یا لامذہب ہو۔عورت کی عصمت کے احترام کا یہ تصور اسلام کے سوا کہیں نہیں پایا جاتا۔ بدقسمتی سے معاشرے نے عزت کا پیمانہ معاشی حیثیت کو بنا رکھا ہے اسلام ہمیں شخصی ومذہبی آزادی کا حق بھی دیتا ہے دین اسلام میں زبردستی کا پہلو موجود نہیں ہے

    اسلام احترامِ انسانیت اور امن و سلامتی کا علم بردار ہے۔انسان دوستی اور احترام انسانیت دین اسلام کا امتیاز اور بنیادی شعار ہے ،جس کے بغیر احترام انسانیت اور امن و سلامتی کا تصور بھی محال ہے۔ فتنا فساد تب ہوتا ہے جب انسان جب اپنی اس حیثیت کو بھول جاتا ہے یااحساس برتری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو فتنہ وفسادپر آمادہ ہوجاتا ہے۔ پھرحسد، تکبر، غیبت ، چوری ،چغلی، قتل و غارتگری، بدکاری و بداخلاقی جیسی بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس صورت میں ایسے لوگوں کی اصلاح و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے آج انسان اپنی عظمت کھو چکا ہے ، غلط جگہ پر اپنی عزت کو تلاش کر رہا ہے، دنیا کے عارضی عیش وآرام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے جسیے ساری عمر اس دنیا میں رہنا ہے آج کا انسان یہ بھول چکا ہے ایک دن اللہ کے سامنے پیش بھی ہونا ہے اور ہر چیز کا جواب دینا ہے اس کو بس دنیا کے کاموں سے مطلب رہے گیا ہے ۔ پوری طرح اپنی ذاتی خواہشِ نفس کا غلام بن چکا ہے انسانی جان کا کوئی احترام باقی نہیں رہ گیا اپنے مطلب کے لئے کچھ مقصد کے خاطر یک دوسرے کی جانوں کے در پر ہے۔انسان کے وہ سارے اخلاقی اقدار کھو چکا ہے۔ فضیلت انسان کی تخلیق اس کائنا ت میں جتنی بھی اشیاء اللہ رب العزت نے پیدا کیں ’کُنْ‘’فَیَکُوْنُ‘ کے پس منظر میں نظر آتیں ہیں جبکہ حضرت انسان کو اللہ رب العزت نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا جیسا کہ قرآن مجید اور احادیث اس بات پر دلالت کرتیں ہیں ، اللہ رب العزت کا اپنے ہاتھوں کسی کا تخلیق کرنا اس کی اہمیت اور انفرادیت کو واضح کرتاہے کائنات کو تخلیق کرنے کے مفہوم پر نظر ڈالی جائے تو تسخیرِ کائنات کا مقصد ایک یہ کہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے اور انسان مخدوم ہے، زمین، سمندر،پانی، ہوائیں،پہاڑ، چاند،سورج، ستارے یہی موٹی موٹی اشیاء کائنات گنی جاسکتی ہیں۔ ان کے انسان کا خادم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا مگر انسان کے بغیر ان چیزوں کا کچھ نہیں بگڑتا۔

    اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ زمین میں جتنی بھی اشیاء موجود ہیں۔ خواہ وہ جمادات ہوں، نباتات ہوں یا حیوانات ہو ں، اللہ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرمادی ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہے استعمال کر چکا ہےاور اس سے حسب ضرورت فائدہ اٹھا سکتاہے۔ رہیں وہ چیزیں جن کا تعلق زمین سے نہیں مثلاً : سورج، چاند ،ستارے وغیرہ تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین بنادیئے ہیں اور انسان کو ایسے نظم وضبط سے جکڑ رکھا ہے کہ انسان ان سے فائدے اٹھا سکتاہے اور اپنے معمولات زندگی اور کاروبار وغیرہ ٹھیک طرح سے سرانجام دے سکتاہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • فیس بک کی تحقیق، انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں کے لئے نقصان دہ ثابت

    فیس بک کی تحقیق، انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں کے لئے نقصان دہ ثابت

    فیس بک کی جانب سے ملکیتی ایپ انسٹاگرام پرکی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسٹاگرام سے نوجوان لڑکیوں میں نقصان دہ اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کے محققین کی جانب سے تین سال پر محیط تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ انسٹاگرام کے نوعمر صارفین کی ایک بڑی تعداد کی نفسیات پرمواد کی وجہ سے برا اثر پڑ رہا ہے۔

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    فیس بک کی جانب سے 2019 میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق انسٹاگرام پر تصاویر سے ہر تین میں سے ایک نو عمر لڑکی کو اپنے جسم کے بارے میں نفسیاتی خدشات لاحق ہوجاتے ہیں تحقیق میں رائے دینے والے نو عمروں کے مطابق ایپ کے استعمال سے اضطرات اور ڈپریشن میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

    فیس بک پریزنٹیشن میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں میں جنہوں نے خودکشی کے خیالات کی اطلاع دی ، 13 فیصد برطانوی صارفین اور 6 فیصد امریکی صارفین شامل تھے 32 فیصد نوعمر لڑکیوں نے کہا کہ جب انہیں اپنے جسموں کے بارے میں برا محسوس ہوتا ہے تو انسٹاگرام اس احساس کو مزید بڑھا دیتا ہے-

    گوگل کا جی میل کے لیے نیا فیچر

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق وہ خصوصیات جن کو سوشل میڈیا کمپنی نے سب سے زیادہ نقصان دہ قرار دیا ہے وہ اس کے کلیدی الگورتھم کا حصہ ہیں۔

    دوسری جانب انسٹاگرام نے اس تحقیق کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئےکہا کہ کمپنی نوجوان صارفین کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

    ادھر انسٹاگرام کی پبلک پالیسی کی سربراہ کارینا نیوٹن نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ تمام لوگوں کے اذہان میں یہی سوال موجود ہے کہ کیا سوشل میڈیا معاشرے کے لئے اچھا ہے یا برا؟ اس پر تحقیق ملی جلی ہےاس سے دونوں اثرات اخذ کیے جاسکتے ہیں انسٹاگرام میں ہم سوشل میڈیا کے مثبت اثرات کو اپنا مقصد بناتے ہوئے اس سے پیدا ہونے والے خطرات پر نظر رکھتے ہیں-

    صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    کا رینا نیوٹن کے مطابق انسٹاگرام نے خودکشی، خود ضربی، کھانے سے متعلق بیماریوں پر آگاہی پر بہت تفصیل میں کام کیا ہے تاکہ ایپ کو ہر کسی کے لئے محفوظ بنایا جاسکے-

    ایک بلاگ پوسٹ میں کارینا نیوٹن نے اس رپورٹنگ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی صارفین کو انسٹاگرام کی مخصوص اقسام پر رہنے سے دور کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہی ہے۔

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

  • چین کا سوشلسٹ اقدار پر مبنی "مہذب” انٹرنیٹ کو فروغ دینے کا منصوبہ

    چین کا سوشلسٹ اقدار پر مبنی "مہذب” انٹرنیٹ کو فروغ دینے کا منصوبہ

    چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سوشلسٹ اقدار پر مبنی "مہذب” انٹرنیٹ کو فروغ دینے کی کوششوں میں مزید تیزی لائے گا۔

    باغی ٹی وی :چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برسوں کی تیز رفتار نمو اور تبدیلی کے بعد چین کے ریگولیٹرز ٹیکنالوجی سے لے کر تعلیم اور تفریح تک کئی شعبوں کی سخت نگرانی کے ساتھ معاشرے پر کنٹرول کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جنوبی کوریا میں گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد

    رپورٹ کے مطابق سائبراسپیس کو حکمران کمیونسٹ پارٹی اور اس کی کامیابیوں کے بارے میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے”تاریخ کے حوالے سے منفی سوچ” کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا جانا چاہیے اور اچھی اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جانا چاہیے ۔

    چین کا افغانستان میں نئی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ

    8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سائبر اسپیس میں رویے کے اصولوں کو بھی اخلاقیات اور قوانین، جو کہ سوشلسٹ بنیادی اقدار کے مطابق ہے، کو مضبوط بنانا چاہیے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کو انٹرنیٹ کو ‘صحیح’ اور ‘محفوظ طریقے سے’ استعمال کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کو خود نظم و ضبط اور نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے مواد پلیٹ فارمز جیسے لائیو اسٹریمنگ کو مضبوط کیا جائے گا اور عوام کو نگرانی میں حصہ لینے کی ترغیب دی جائے گی۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے…

    رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم اور نابالغوں کے تحفظ جیسے قوانین کی تشکیل، نظر ثانی اور ان پر عملدرآمد کو بھی تیز کیا جائے گا۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے امریکا

  • رونالڈو کی کک: فٹبال لگنے سے خاتون زخمی

    رونالڈو کی کک: فٹبال لگنے سے خاتون زخمی

    مانچسٹر یونائیٹڈ کے ساتھ میچ سے قبل پریکٹس کے دوران کرسٹیانو رونالڈو کی کک سے فٹبال میدان سے باہر موجود گراؤنڈ انتظامیہ کی ایک خاتون اہلکار کے سر میں جا لگی جس سے وہ زخمی ہو گئیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پریکٹس کے دوران پرتگالی اسٹار کرسٹیانو رونالڈو نے گیند کو نیٹ میں پھینکنے کی کوشش کی لیکن وہ حادثاتی طور پر نیٹ کے ساتھ موجود خاتون اہلکار کو جا لگی جسے سے وہ زمین پر گر گئی۔

    رونالڈو کی پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپسی، تنخواہ کتنی ہو گی؟

    خاتون کو فوری طوری پر طبی امداد دی گئی اور رونالڈو بھی میدان سے باہر اس متاثرہ اہلکار کے پاس چلے گئے پرتگالی اسٹار نے بعد میں معافی بھی مانگی۔ طبیت بحال ہونے پر خاتون کو رونالڈو کی شرٹ بھی دی گئی۔

    فرانس کے سابق فٹبالر 40 سال کوما میں رہنے کے بعد چل بسے

    واضح رہےکہ اس سے قبل2013 میں بھی کرسٹیانو رونالڈو کی فری کک سے سٹیڈیم میں موجود ایک نوجوان کی کلائی ٹوٹ گئی تھی۔

    نیوزی لینڈ سیریز کے لئے ثقلین مشتاق ہیڈ کوچ،عبدالرزاق اسسٹنٹ کوچ مقرر

    واضح رہے کہ فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو پریمیئر لیگ کے کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں واپس آگئے ہیں مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے 36 سالہ رونالڈو کی کلب واپسی کی تصدیق کی گئی تھی رونالڈو کو ساڑھے چار ارب روپے تنخواہ ملے گی اور یہ معاہدہ 2 سال کے لیے طے ہوا ہے رونالڈو نے یووینٹس کی طرف سے کھیلنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد مانچسٹریونائیٹڈ اور یووینٹس کے درمیان ٹرانسفر ڈیل پر اتفاق ہوگیا۔

  • جنوبی کوریا میں گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد

    جنوبی کوریا میں گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد

    جنوبی کوریا میں دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی کی جانب سے جرمانے کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ گوگل نے آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کی مارکیٹ میں اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ہے۔

    یہ جرمانہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے خلاف ریگولیٹری اداروں کے اقدامات میں نیا اضافہ ہے جنوبی کوریا نے گزشتہ روز ایک ایسا نیا قانون متعارف کروایا تھا جس کا مقصد ایپس اور گیموں کی دنیا میں اس کی اجارہ داری کو کم کرنا ہے۔

    جنوبی کوریا کی جانب سے گوگل اور ایپل جیسے بڑے ایپ سٹور آپریٹرز پر سافٹ ویئر ڈویلپرز کو اپنے ادائیگی کے نظام استعمال کرنے پر مجبور کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گوگل نے "اینٹی فریگمنٹشن معاہدے” کے ذریعے مارکیٹ کے مقابلے کے رجحان میں رکاوٹ ڈالی ہے جو سمارٹ فون بنانے والوں کو اینڈرائیڈ کے ترمیم شدہ ورژن انسٹال کرنے سے روکتا ہے، جسے "اینڈرائیڈ فورکس” کہا جاتا ہے-

    اینٹی ٹرسٹ واچ ڈاگ نے گوگل کو مقامی کرنسی میں 207.4 ارب (176.8 ملین ڈالر) جرمانہ کیا اور ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی کو اصلاحی اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائنسدانوں کا دعویٰ

    کوریا فیئر ٹریڈ کمیشن (کے ایف ٹی سی) نے 2016 سے گوگل پر مبینہ طور پر مقامی سطح پر سمارٹ فون بنانے والی سیمسنگ الیکٹرانکس کو اپنے اینڈرائیڈ او ایس کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے سے روکنے کی تحقیقات کی ہیں۔

    یاد رہے کہ گوگل اور ایپل جنوبی کوریا میں آن لائن ایپ مارکیٹ پر حاوی ہیں، جو دنیا کی 12 ویں بڑی معیشت ہے اور اپنی تکنیکی صلاحیتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔

    سیئول کی وزارت سائنس کے اعداد و شمار کے مطابق گوگل پلے سٹور کا ریونیو 2019 میں تقریباً پانچ ارب ڈالر سے زائد تھا، جو ملک کے کل ریونیو کا 63 فیصد ہے۔

    یو اے ای نے 15 اداروں سمیت 38 افراد کو بلیک لسٹ کر دیا

  • امریکی فضائیہ کا مہنگا ترین بمبار طیارہ حادثے کا شکار

    امریکی فضائیہ کا مہنگا ترین بمبار طیارہ حادثے کا شکار

    امریکی فضائیہ کا مہنگا ترین بمبار طیارہ بی 2سٹیلتھ ہنگامی لینڈنگ کے دوران رن وے پر حادثے کا شکار ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : ایئر فورس گلوبل سٹرائیک پبلک افیئرز یونٹ نے بتایا کہ طیارہ معمول کے تربیتی مشن پر تھا کہ اسے” پرواز کے دوران خرابی” کے باعث تقریبا صبح 12:30 بجے امریکی ریاست میسوری کے ایئرپورٹ پر لینڈ کرنا پڑا۔

    دونوں پائلٹ محفوظ رہے حادثے کے سبب کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ آگ بھڑکی تاہم طیارے کو معمولی نقصان پہنچا ہے ایئر فورس گلوبل سٹرائیک پبلک افیئرز یونٹ کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔


    امریکی فضائیہ کے پاس صرف21 بی2 بمبار طیارے تھے جن میں ایک2008 میں حادثے کا شکار ہوگیا تھا اور اب 20 فضائیہ کے استعمال میں ہیں اس طیارے کی قیمت 2 بلین ڈالر ہے۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائنسدانوں کا دعویٰ

    ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ B2 کو ایسے مواد سے تیار کیا گیا ہے جو کسی حادثے کا شکار ہونے پر انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے یہ طیارہ روایتی اور ایٹمی ہتھیار لے جانے کے صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں انتہائی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حالیہ حادثے کے بعد تمام بی2 طیاروں کو کم سے کم دو ماہ کیلئے گراؤنڈ کر دیا گیا ہے ابتدائی طور پر یہی معلوم ہوسکا ہے کہ تیز بارش کے سبب رفتار اور اونچائی کا حساب لگانے والے سینسرز متاثر ہوئے جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔

    کابل ائیر پورٹ پر رہ جانیوالے امریکی کتوں کو نیا ٹھکانہ مل گیا

    یہ واقعہ جس میں B2 شامل تھا صبح 12.30 بجے کے قریب ہوا اور عارضی طور پر پرواز کی پابندی سے تمام سمتوں میں چھ میل اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام زمین سے 8000 فٹ پر واقع ہوا۔

    ایف اے اے نے کہا کہ یہ پابندی حادثے کی تفتیش کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی اجازت دے گی اور 17 ستمبر کو رات 8 بجے اٹھائی جائے گی یہ ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ وائٹ مین بیس پر B2 بمبار کو کس حد تک نقصان پہنچا۔ کے ایم بی سی کے مطابق یہ طیارہ 1993 سے اڈے پر موجود ہے۔

    یو اے ای نے 15 اداروں سمیت 38 افراد کو بلیک لسٹ کر دیا

  • ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

    ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

    امریکہ کی معروف اسمارٹ فونز بنانے والی کمپنی ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کروا دیا ایپل کے نئے ماڈلز کی تقریب رونمائی آن لائن اسٹریمنگ سے کی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی فون 13 پانچ مختلف رنگوں میں دستیاب ہو گا، فون میں جدید ڈیول کیمرہ سسٹم نصب ہو گا، نیا چپ سیٹ اے 15 بائیونک بھی نئے فون کا حصہ ہوگا۔

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

    رپورٹ کے مطابق آئی فون 13 فائیو جی نیٹ ورک سے بھی منسلک ہو سکے گا جب کہ آئی فون 13 منی بھی جلد فروخت کے لیے دستیاب ہو گا ایپل نےاپنے آئی پیڈ منی اور سیریز 7 اسمارٹ واچ میں بھی نئے فیچرز کا اضافہ کیا ہے۔

    آئی فون 13 کی قیمت 799 ڈالر یعنی ایک لاکھ 32 ہزار پاکستانی روپے ہو گی آئی فون 13 منی 699 ڈالر یعنی ایک لاکھ 16 ہزار روپے میں دستیاب ہو گااس کے علاوہ آئی فون 13 پرو کی قیمت دیگر ماڈل سے زیادہ رکھی گئی ہے آئی فون 13 پرو 999 ڈالر یعنی ایک لاکھ 65 ہزار روپے میں ملے گا۔

    ٹیوٹا کا پاکستان میں 100 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان ،کونسی گاڑی پاکستان میں تیار ہوگی؟

    آئی فون کے نئے ماڈل میں 13 میگا پکسل کا کیمرہ نصب کیا گیا ہے جس میں 6 ایکس تک ذوم اور 15 زی تک کا ڈیجیٹل زوم لگایا گیا ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ آئی فون 13 کے تمام ماڈلز میں بیٹری کی کارکردگی کو بہتر بنایا گیا ہے۔

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

    ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا