Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وسیم اکرم اور شعیب اختر آمنے سامنے آگئے

    وسیم اکرم اور شعیب اختر آمنے سامنے آگئے

    پاکستانی قومی کرکٹر وسیم اکرم نے شعیب اختر کو بد تمیز کہہ دیا یہ بھی کہا کہ”میں نہیں جانتا کہ لوگ اسے سنجیدگی سے کیوں لیتے ہیں۔ جو شخص دوسروں کے احترام کا فقدان رکھتا ہے وہ زندگی میں کچھ نہیں کر سکتا۔”
    https://twitter.com/newspakistan_/status/1435348704534351875?s=20
    باغی ٹی وی : شعیب اختر نے کچھ دن پہلے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ وسیم اکرم نے خود اپنی زندگی کلبز میں گزاری ہے جبکہ وسیم اکرم انٹرویو میں ان کی نائٹ کلب کی کہانی سناتے ہیں۔

    شعیب اختر نے کہا کہ میں ان سے پوچھنا چاہوں گا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے کلبز میں پکڑا مگر کیا وہ 14 سالوں میں ایک دن بھی جم لے کر گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ ہر انٹرویو میں مجھے جھوٹا کہتے ہیں آخر ہر چیز کی حد ہوتی ہے میں نے کلبنگ اپنے بڑوں سے ہی سیکھی ہے ان کے بڑے اگر اچھے ہوتے تو یہ کہانیاں نہ ہوتیں، اوراگر ہمارا بڑا عمران خان ہوتا تو کہانی ہی مختلف ہونی تھی۔

    شعیب اختر نے سابق کپتان وسیم اکرم کو جواب دیا کہ وہ راتوں کو اپنے گھٹنے کی تکلیف میں روتے تھے، اب یہ وسیم بھائی کو کون بتائے کہ میں کلب کی بجائے اسپتال میں ہوتا تھا۔

    شعیب اختر نے انکشاف کیا کہ وہ ورلڈ کپ کی رات بھی درد کے باعث ٹیکہ لگوا کر آئے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ کپتان انہیں نکال دے گا۔ ٹیم میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو ان کی کامیابی سے جلتے تھے۔

    واضح رہے کہ موجودہ حالات کے برعکس ماضی میں شعیب اختر ، وسیم اکرم کی تعریفیں بھی کر چکے ہیں، شعیب اختر کا کہنا ہے کہ ان کا کریئر وسیم اکرم نے بنایا-


    جبکہ وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم نے شعیب اختر کو دنیا میں اپنے پسندیدہ تجزیہ کار کے طور پر نامزد کیا۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ شعیب پی سی ٹی کے ہیڈ کوچ کے طور پر جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اس کام کے لیے بہترین آپشن ہے۔ پاکستان کرکٹ کو شعیب کی طرح باصلاحیت لوگوں کی ضرورت ہے۔
    "متوازی کائنات میں”

  • ایل سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کی حیثیت  دینے والا پہلا ملک بن گیا

    ایل سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کی حیثیت دینے والا پہلا ملک بن گیا

    وسطی امریکا کے ملک ایل سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کی حیثیت دینے والا پہلا ملک بن گیا۔

    باغی ٹی وی :ایل سلواڈور نے جون میں اس قانون کی منظوری دی تھی کہ بٹ کوائن کو قانونی کرنسی بنا دیا جائے اورکہا گیا تھا کہ بٹ کوائن کے ساتھ امریکی ڈالرز کی حیثیت بھی برقرار رہے گی 7 ستمبر سے اس قانون پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔

    اگرچہ قانون کے تحت ہر شہری بٹ کوائن کو استعمال کرسکے گا تاہم جن کو ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل نہیں ہوگی ان پر یہ لازمی نہیں ہوگا حکومت کی جانب سے آبادی میں بٹ کوائن کے استعمال کے لیے ضروری تربیت اور میکنزمز کو فروغ دیا جائے گا جبکہ ماہرین اور ریگولیٹرز نے اس موقع پر کرپٹو کرنسی کی قدر میں اچانک اتار چڑھاؤ اور صارفین کے تحفظ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    تاہم اب سلواڈور کے صدر نایب بوکلے کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے متعدد شہریوں کو پہلی مرتبہ بینک سروسز تک رسائی مل سکے گی اور ہر سال بیرون ملک سے بھیجے جانے والی ترسیلات زر کی فیسوں کی مد میں خرچ کیے جانے والے 40 کروڑ ڈالرز کی بچت ہوسکے گی۔

    6 ستمبر کو ایک ٹوئٹ میں صدر نایب بوکلے نے کہا کہ ‘کل سے تاریخ میں پہلی مرتبہ پوری دنیا کی نظریں ایل سلواڈور پر مرکوز ہوں گی، بٹ کوائن نے ایسا ممکن بنایا ایل سلوا ڈور نے اپنے اولین 400 بٹ کوائنز خرید لیے ہیں جبکہ جلد تعداد میں مزید اضافے کا بھی وعدہ کیا۔

    کرپٹو کرنسی ایکسچینج ایپ جمنی کے مطابق 400 بٹ کوائنز 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز پر ٹریڈنگ کررہے ہیں۔

    حالیہ سروے پولز میں ایل سلواڈور کے 65 لاکھ میں سے اکثریت نے بٹ کوائن کو قانونی کرنسی دینے کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے امریکی ڈالر کا استعمال جاری رکھنے کا کہا ہے جو گزشتہ 20 سال سے اس ملک کی قانونی کرنسی ہے۔

    گزشتہ ہفتے دارالحکومت سان سلواڈور میں سیکڑوں افراد نے اس کے خلاف مظاہرے کیے ، مظاہرین کا کہناہے کہ بٹ کوائن ایسی کرنسی ہے جس کا کوئی وجود نہیں ایسی کرنسی جس کا فائدہ غریبوں کو نہیں امیروں کو ہوگا۔

  • پاکستان اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم: تحریر:شہزاد احمد

    پاکستان اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم: تحریر:شہزاد احمد

    سائنس اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں جہاں دنیا ترقی کی طرف گامزن ہے وہیں ہمارے ملک پاکستان میں بھی سائنسی ترقی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یقیناً یہ ٹیکنالوجی پاکستان کے انتخابات کے طرز عمل میں بہت بڑا انقلاب لا سکتی ہےـ یہ ٹیکنالوجی بہت پہلے ہی متعارف کروائی جاچکی ہے اور کئی ممالک اس کا استعمال کر رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر چکا ہےـ ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی سے وابستگی کی وجہ سے یہ بات میرے لیے قابلِ رشک ہے کہ اب ہمارے ملک میں بھی یہی ٹیکنالوجی استعمال ہوگی-
    الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم):
    الیکٹرانک ووٹنگ مشین دو یونٹس پر مشتمل ہے، بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ- بیلٹ یونٹ وہ ڈیوائس ہے جو کہ ووٹر استعمال کرے گا اس ڈیوائس پر تمام امیدواران کے نام اور ان کے انتخابی نشان بنے ہوں گے- ہر امیدوار اور اس کے انتخابی نشان کے سامنے ایک بٹن بنایا گیا ہے اسی بٹن کو دبا کر ووٹر اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دے سکے گا۔ ایک بیلٹ یونٹ پر 16 امیدواران کے نام درج ہوسکتے ہیں اگر کسی حلقے میں امیدواران کی تعداد 16 سے تجاوزکرتی ہے تو دو سے زیادہ بیلٹ یونٹ بیک وقت استعمال ہوسکتے ہیں۔
    بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ کو آپس میں پانچ میٹر کیبل سے جوڑا جاتا ہے۔
    کنٹرول یونٹ کا اختیار پریزائیڈنگ افسر یا پولنگ آفیسر کے پاس ہوتا ہے اور صرف وہی اس کو آپریٹ کر سکتا ہے۔
    ووٹر کی تصدیق کے بعد پولنگ آفیسر کنٹرول یونٹ پر موجود بیلٹ بٹن کو دبائے گا تب ووٹر جا کر بیلٹ یونٹ پر ووٹ کاسٹ کرنے کے قابل ہوگا۔ اسی طرح ووٹر کی تصدیق اور کنٹرول یونٹ پر موجود بیلٹ بٹن دبانے کرنے کے بغیر دوسرا ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرسکے گا۔ پولنگ آفیسر ہر ووٹر کی تصدیق کرنے کے بعد بیلٹ بٹن دبائے گا تب جاکر ووٹرز ووٹ کاسٹ کرنے کے قابل ہونگے۔
    ووٹ کاسٹ کرنے پر بیلٹ مشین سے پرچی باہر نکلے گی جس پرانتخاب کردہ امیدوار کا نام، انتخابی نشان اور ووٹر کی ٹریکنگ آئی ڈی درج ہوگی، ووٹر کی ٹریکنگ آئی ڈی مخصوص ہوگی اوراسی طرح سے ہر ووٹر کو مختلف ٹریکنگ آئی ڈی ملے گی۔ اس پرچی کو ووٹر ساتھ موجود بیلٹ باکس میں ڈالے گا یہی کاغذی ووٹ بعد میں ڈیجیٹل نتائج کے ساتھ موازنے کے لئے استعمال ہو سکیں گے۔
    کنٹرول یونٹ کے اندر دو خفیہ سیل کیے گئے بٹن ہوتے ہیں ایک ریزلٹ اور دوسرا کلوز کا بٹن ہوتا ہے۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے پر پولنگ افسر کلوز کا بٹن دبا کر ووٹنگ روک دیگا اس کے بعد بیلٹ یونٹ پر موجود کوئی بھی بٹن قابلِ استعمال نہیں ہوگا۔ رزلٹ بٹن دبانے سے کنٹرول یونٹ پر موجود سکرین کل کاسٹ کیے گئے ووٹس اور ہر امیدوار کا علیحدہ علیحدہ نتائج دیکھائے گی-

    کیا یہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہے ہیک ہو سکتی ہے؟
    یہ ایک سٹینڈ اعلون مشین ہے۔ مختصر یہ کہ یہ مشین بیرونی آلات پرانحصار نہیں کرتی ، یعنی کہ نہ یہ وائی فائی سے کنیکٹ ہوسکتی ہے اور نا ہی بلوٹوتھ کے ساتھ، اور نہ اس میں کوئی یوایس بی یا باہر کی چیز لگ سکتی ہے- حتیٰ کہ اس میں بجلی کی تار بھی نہیں لگ سکتی ہے ۔ یہ مشین مکمل طور پر خشک بیٹری پر چلتی ہے، لہذا یہ مشین ہیک نہیں ہو سکتی۔

    مگر ہیک ہو بھی سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
    جب بات اس مشین کی سکیورٹی اوراس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ تک منتقلی پر آجائے تو یہاں پر اس کے ہیک ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں، یعنی ناقص سکیورٹی یا آپس میں جوڑ توڑ کی وجہ سے اگر کسی غیرذمہ دار شخص کو اس مشین تک رسائی حاصل ہوجائے تو یقیناً یہ مشین ہیک ہو سکتی ہے۔
    کنٹرول یونٹ پر ڈسپلے سکرین لگی ہوتی ہے جو کہ رزلٹ ڈسپلے کرتی ہے-

    اگر اسی طرح کی ایک نقلی ڈسپلے سکرین بنایی جائے جس کے نیچے بلوٹوتھ ڈیوائس نصب کی جائے اور اسی ڈسپلے سکرین کو کنٹرول یونٹ پر موجود اصلی ڈسپلے سکرین کے ساتھ تبدیل کیا جائے، اب اس سے ہوگا یہ کہ کنٹرول یونٹ اور سمارٹ فون کے درمیان بلوٹوتھ کے زریعے رابطہ قائم ہوگا- اور اسی رابطے کے ذریعے سے پولنگ ختم ہونے کے بعد اپنے مرضی کے رزلٹ شو کرائے جا سکتے ہیں۔ بہرحال یہ محض ایک خیالی بات ہے۔
    اللہ تعالی پاکستان اور پاکستانیوں کو ہر میدان میں سرخرو فرمائے۔ آمین۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔!!!
    Follow on Twitter & Instagram: @imshehzadahmad

  • ‏طالبان اور آئندہ کا لائحہ عمل تحریر: فاروق

    ‏طالبان اور آئندہ کا لائحہ عمل تحریر: فاروق

    طالبان ایک سوچ کا نام ہے اور اسی طرح امریکی مفادات بھی، گویا ایک سوچ ہار گئی یا یوں کہئیے کہ ایک سوچ جیت گئی۔ آخر کار امریکہ نے ایک دن تو جانا ہی تھا وجوہات کو اگر ایک طرف بھی رکھیں، امریکہ چلا گیا اور افغانستان میں طالبان بلا شبہ فاتح قرار پائے۔
    اگر زندگی کے کسی بھی پہلو کو دیکھیں تو زیادہ تعریف اسی کھلاڑی کی ہوتی ہے جو winning shot لگاتا ہے یا جو گول کرتا ہے یا جو آخر میں کوئی امتحان پاس کرتا ہے، ٹیم ورک میں دوسرے قدرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مختصرا” کہہ سکتے ہیں کہ طالبان ناقابل تسخیر بن کر ابھرے ہیں۔
    مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے کہ طالبان مستقبل میں دنیا کے بارے اپنا رویہ کیسے رکھ پاتے ہیں۔ شروع میں تو ہر نئی دلہن کی ہر بات اور ہر نخرہ بھلا لگتا ہے مگر وہی ساس بہو کے مسائل کے اثرات کچھ عرصہ بعد محسوس ہونا شروع ہوتے ہیں۔ ابھی مغرب یا مغرب نواز گروہوں کو افغانستان کی جمہوریت، حقوق نسواُ، مذہبی رحجانات اور جزا سزا کے طریقہ کار کے متعلق بہت پریشانی لاحق ہے مگر خود پچھلے بیس برسوں میں تمام تر وسائل ہونے کہ باوجود ایسا نظام وضع نہیں کر پائے کہ طالبان کمزور رہتے اور عوام جدت پسند ہو جاتے۔

    میری غرض کچھ ہٹ کر ہے، میں دیکھنا چاہوں گا کہ افغانستان میں طالبان کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی میں کتنی کمی واقع ہوتی ہے، طالبان پاکستان گریز قوتوں سے کتنا گریز کرتے ہیں، تحریک طالبان پاکستان سے کیا رویہ اپنایا جاتا ہے، ہندوستان کو کس حد تک اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے، پاکستان کی متعین شدہ سرحدوں کی کتنی پاسداری کی جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ، گویا پاکستان کے مفادات کا تحفظ کس حد تک یقینی بنایا جا سکتا ہے ورنہ ہماری حالت عبداللہ کی شادی میں بیگانے جیسی ہو گی۔
    دنیا میں بہت ساری تحاریک چلی ہیں اور کامیابی سے نتائج حاصل کر چکی ہیں، یعنی مقاصد مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر طالبان کا مقصد امریکہ کو شکست دینا تھا تو وہ حاصل ہو چکا، اگر افغان عوام کی نمائیندہ حکومت مقصد ہے تو اس کا موقع مل چکا ہے، اگر دنیا میں امن درکار ہے اور ہمسایوں کے حقوق کی پاسداری چاہئیے اور مذہبی رواداری چاہئیے تو اس کا موقع بھی انہیں مل چکا ہے۔
    مگر یہ سب اتنا آسان نہیں ہو گا۔ افغانستان کا مذہبی طبقہ، روشن خیال افغان، طالبان کا سیاسی ونگ اور جنگجو ونگ اور قبائلی معاشرہ ایک ایسی مسدس بناتے ہیں اور اس کے علاوہ اگر وہاں پر موجود فرقہ واریت، مختلف نسلوں اور بیرونی اثرات کو بھی مدنظر رکھیں تو طالبان کے لئیے uphill task ابھی باقی ہے اور مجھے خوف ہے کہ ایک مخصوص سوچ کا حامل گروہ اتنے ساروں محاذوں کو کیسے سنبھال پائے گا۔ میرا ملک کیسے بچ پائے گا کہ درآمد شدہ سوچ کا مقابلہ کر پائے گا۔
    ہمیں ہر فیصلہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی مکمل ذمہ داری سے کرنے ہوں گے اور ذہن میں رکھنا ہو گا کہ طالبان کامیاب ہوئے ہیں، ہم نہیں، جنگ طالبان نے لڑی ہے پاکستان نے نہیں۔ اپنے مسائل خود افغانستان نے حل کرنے ہیں ہم نے نہیں۔

  • اسلامی تعلیمات کی اہمیت: تحریر اسماء طارق

    اسلامی تعلیمات کی اہمیت: تحریر اسماء طارق

    تعلیم کے دائرہ کار میں اسکول کے طلبہ کے لیے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے، یہاں تک کہ اسکول کی دنیا میں داخل ہونے سے قبل چھوٹے بچوں کو بھی اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے تعلیم کی دنیا میں داخل ہوں گے تو ان کو اس کی عادت پڑ جائے گی اور انہیں روزمرہ زندگی میں اس کا اضافہ اور نفاذ ضروری ہے۔ موجودہ دور میں طلبہ کے لیے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ ساتھ طلبہ میں بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، مثلاً ایلیمنٹری اسکول کے وہ بچے جنہوں نے تمباکو نوشی کی ہے، ڈیٹنگ کی ہے اور دیگر، طلبہ میں اسلام کو ابھارنے سے اور اچھی سمت کی طرف راغب کرنے سے پھر طلبہ جدید دور کے منفی اثرات سے بچ جائیں گے۔

     اسلام ایک طرز زندگی ہے، اگر ہم میں اور ہماری زندگی میں کوئی مذہب نہیں تو پھر زندگی غیر منظم ہو جائے گی، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی رہنما اصول نہیں ہیں، مذہب میں ہر چیز کا قرآن و احادیث میں اہتمام کیا گیا ہے، دل کی نیت سے شروع، عبادت، رویہ، تعلیم، خرید و فروخت یا معیشت، سماجی جیسا کہ آیت 255 میں بیان کیا گیا ہے، سورہ بقرہ۔

    طالب علموں کے لئے اسلامی تعلیم کے فوائد میں کئی چیزیں شامل ہیں:

     اول، بچوں کے روحانی معاملات میں اگر بچوں نے مدارس سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے تو وہ اپنی روزمرہ زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے، مثلاً باجماعت نماز ادا کرنا، والدین یا اساتذہ سے ہاتھ ملانا، یقیناً درخواست دینے میں طلبہ کو واقعی ماحول سے مدد کی ضرورت ہوتی ہے، خاندانی ماحول وہ اہم چیز ہے جو والدین کی زمہ داری ہوتی ہے، والدین کو روزمرہ زندگی میں نفاذ کے لئے بچوں کو ہدایت اور معاونت کرنا ضروری ہے، طلبہ کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے اس کے بعد والدین کو اپنے بچوں کے رشتوں کی نگرانی بھی کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کیا جائے، جدید دور میں اس کی جتنی زیادہ روحانی گہرائی ہوگی وہ نقصان سے بچ سکے گا، کیونکہ وہ پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا ہے۔

    دوسرا یہ کہ طرز عمل یا اخلاق کے اعتبار سے اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے، مثلاً والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار، ہر ایک کے ساتھ، شائستہ، ہر ایک کی مدد کرنے میں آگے، ایک دوسرے کی مدد کرنا، اس مقام پر طالب علموں کو والدین اور اساتذہ کے رویے یا اخلاق سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے، اسلامی مذہب کے علم اور اچھے اخلاقی رویے کے ساتھ طالب علموں کو اپنی روزمرہ زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

     

     طلباء کو اسلامی تعلیم فراہم کرنے اور خاندانی ماحول، والدین، تعلقات، اساتذہ کے تعاون سے، جو اس کے بعد زندگی میں لگائے گئے ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو مدد ملے گی جو جدید دور میں طلباء کو دوچار کر چکے ہیں۔

     اسلامی تعلیم کا استعمال:

     1) مسلم طالب علموں کے لئے موجود صلاحیتوں کو تیار کرنے کے لئے جو مخلوق کے طور پر تعلیم حاصل کر سکتی ہے

    2) آئندہ نسلوں یا لوگوں کے ممکنہ رہنماؤں کی حیثیت سے طلباء کو اسلامی مذہب کی ثقافتی اقدار کو ختم کرنا۔

     3) چوں کہ اسلامی تعلیم سائنس قرآن و حدیث پر مبنی ہے، جس میں سے دونوں عربی زبان استعمال کرتے ہیں، اس لیے مسلمان طلبہ زبان کی تربیت اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔

     4) طلباء کو یہ سمجھ بوجھ دینا کہ وہ صرف ایک مسلمان کی حیثیت سے ہے جو قرآن و حدیث کی رہنمائی کرتا ہے، بلکہ وہ انڈونیشیا کا شہری بھی ہے جس کے پاس قوم کا فلسفہ حیات یعنی پنکسیلا اور 1945 کا آئین ہے۔

     آئیے ایک اچھے پائلٹ کی شکل میں طلباء کو زمانے کے نقصان سے بچانے میں مدد کریں یا کسی عظیم مذہب (اسلام) کی شان و شوکت کے لئے، آنے والی نسلوں کے بچوں کو اسلامی تعلیم دیں۔

    Twitter Account: @Asma_smt

  • ہم پاکستانی ہیں۔پاکستان ہمارا ہے! تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    ہم پاکستانی ہیں۔پاکستان ہمارا ہے! تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ یہ نعرہ تحریک آزادی کشمیر کے ایک عظیم مجاہد اورحریت پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کی زبان سے ایسے وقت میں جاری ہوا تھا کہ جب بھارت کی ریاستی دہشت گردی مقبوضہ کشمیر میں عروج پر تھی۔ سید علی گیلانی نے اس نعرہ کو ایسے وقت میں مقبوضہ کشمیر کی وادی میں بلند کیا کہ جب بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور جبر پاکستان کے نام لینے کو بھی جرم قرار دے کر نوجوانوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیتی تھی۔بطور پاکستانی جب میں اس نعرہ کی گہرائی میں جانے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ نعرہ فقط ایک لفاظی نعرہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک طرف مظلوموں کی امید ہے تو دوسری طرف پاکستان کے باسیوں کے لئے ایک سبق ہے۔
    یہ نعرہ مظلوموں کی امید ہے کیونکہ سید علی گیلانی اور ان جیسے لاکھوں کشمیری حریت پسند کہ جو ستر سالوں سے بھارت کے ریاستی ظلم و جبر کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ آزادی کی قیمت خو ن سے چکانا پڑتی ہے۔و ہ شاید یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان ہی ان کی پہلی اور آخری امید بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس بصیرت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر سے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے کا نعرہ بلند ہوا ہے اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کشمیری حریت پسند عوام اور رہنما پاکستان کو اپنا وطن اور گھر ہی سمجھتے ہیں۔ یقینا اگر کشمیر سید علی گیلانی کی زندگی میں ہی آزادی حاصل کرلیتا تو سید صاحب کشمیر کو پاکستان کے ساتھ شامل کر لیتے۔
    بہر حال جہاں تک کشمیری حریت پسندوں کا تعلق ہے تو مجھے تو ان کے اس نعرے کی گہرائی سمندر کی گہرائیوں سے زیادہ دکھائی دیتی ہے اور اس امید کو جنم دیتی ہے کہ عنقریب کشمیر بھارت کے شیطانی چنگل سے آزاد ہو گا اور پاکستا ن کا پرچم علی الاعلان کشمیر کی وادیوں میں لہراتے ہوئے سید علی گیلانی، اشرف صحرائی، شہید وانی اور دیگر شہداء و مجاہدین کی قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کریگا۔
    بطور پاکستان کے شہری اور باسی ہونے کے ناطے ہمیں بھی سید علی گیلانی کے اس نعرے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے سے کچھ تو سبق حاصل کرنا چاہئیے۔ ہمیں اس نعرے کی گہرائی اور بصیرت کو درک کرنا چاہئیے۔ اگر چہ خدا وند کریم نے مملکت خداداد پاکستان کو آزادی جیسی نعمت سے نوازا ہے تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں ہے کہ ہم ان الفاظ پر غور کریں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ کیاہمارے اعمال اور افعال آج واقعی اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہم نے یہ سوچا ہے یا محسوس کیا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ جبکہ سید علی گیلانی اور ان سے قبل حریت پسندوں نے ستر سالوں میں اس نعرے کے لئے کئی قربانیاں دے کر اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔
    جب اردگردماحول اور معاشرے پر نظردوڑاتا ہوں تو مجھے سید علی گیلانی او ر ان کشمیری حریت پسندوں کے سامنے اپنی نظریں جھکانی پڑتی ہیں کہ جنہوں نے ظلم وجبر اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مقابلہ میں اعلان جہاد بلند کیا اور کہا کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستا ن ہمارا ہے۔
    ایسا لگتاہے کہ ہمارے معاشرے کو آج اس با ت کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ ہمیں اس بات کو شدت کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت موجودہ دور میں پہلے سے زیادہ ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ اگر خدانخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچا تو ہم بھی باقی نہ رہیں گے۔آج اس بات کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستا ن کو بنانے کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے جو بے مثال قربانیاں دی تھیں ان قربانیوں کا تسلسل آج بھی جاری ہے اور افواج پاکستان، سیکورٹی اداروں سمیت عوام کے مختلف طبقات نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کی حفاظت کی ہے۔ اگر چہ پاکستان کے ازلی دشمنوں نے کبھی پاکستان کو فرقہ واریت کے نام پر لہو لہان کیا ہے تو کبھی لسانی اختلافات میں الجھا کر لہو لہان کیا ہے۔ اسی طرح جب کسی کا کچھ بس نہیں چلا تو اس نے عالمی استعمار ی ایجنڈاکی تکمیل کے لئے پاکستان کی دفاع کی سرخ لکیر افواج پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے نت نئے طریقے ایجاد کر لئے۔کسی نے کرپشن کر کے پاکستان کو لہو لہان کیا تو کسی نے طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے مظلوم اور نادار عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر پاکستان کو لہو لہان کیا۔اسی طرح کسی نے بم دھماکے کئے اور کسی نے قتل و غارت گری کے ذریعہ اور کسی نے فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دی تو کسی نے لسانیت کی آگ بھڑکائی۔یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں عام ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں مجھے جب سید علی گیلانی کا یہ نعرہ یاد آتا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کاش ہم پاکستانیوں نے بھی کبھی اس بات کو درک کیا ہوتا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ جی ہاں پاکستان ہمارا ہے۔
    اگر یہ احساس جاگ جاتا تو شاید اپنے وطن سے ہم بہت سی ان برائیوں اور مسائل کی جڑوں کو اکھاڑپھیکنتے کہ جو صرف اسی سبب پیدا ہو رہی ہیں کہ ہم مجموعی طور پر اس احساس سے خالی ہو چکے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ ہم یہاں فرقوں میں بٹ کر نفرت کا بازار گرم کر رہے ہیں، لسانی اختلاف کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر دقت کے ساتھ غورکرنا ہو گا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہماراہے۔جب ہم اس بات کو محسوس کریں گے کہ پاکستان ہمارا ہے تو یقینا اس کی ترقی اور بقاء کے لئے اسے لہو لہان کرنے کی بجائے اپنے لہو سے اس کی آبیاری کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے۔ ہمیں اپنے اندر اور آنے والی نسلوں کو سید علی گیلانی کے اس نعرے سے ہی احساس دلوانا ہو گا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ تا کہ مستقبل میں ہماری نسل نو اس احساس کے ساتھ وطن عزیز کی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی میں پیش پیش رہے۔ سید علی گیلانی میں آ پ کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں کہ آپ کی وفات کے دن اس نعرے یعنی ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے کی گونج نے ایک نئے احساس کو جنم دیا ہے۔یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے تو پھر ہمیں اپنا رویہ اور طرز تفکر بھی اسی نعرے کے ساتھ ساتھ بدلنا ہو گا اور اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے

  • جدید ٹیکنالوجی کا دور تحریر:شھریار سیالوی

    آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں وہیں پر حلال و حرام کی تمیز نہ کرنا بھی یے۔جس سے ہمارا معاشرہ مزید تباہی و بربادی کیطرف جارہا ہے۔لوگ اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کھوچکے ہیں۔بس اپنی خواہشات کے غلام بن کر رہ گئے ہیں ان خواہشات کی تکمیل کیلئے ہر جائز و ناجائز رستہ اختیار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔اچھے اور برے کی تمیز میں فرق کئے بغیر انسان دنیا کی رنگینیوں میں ڈوبتا چلاجارہا ہے اور انسان گمراہی کے اندھیروں کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے جن کے پورا ہونے پر انسان قلبی سکون حاصل نہیں کرپاتا اور اسے زندگی ادھوری ادھوری سی لگتی ہے۔انسان جب نفس کا غلام بن جائے تو اسے کہیں کا نہیں چھوڑتا۔یہ نفس ہی ہے جو انسان کو بار بار اکساتا ہے کہ اس شخص کے پاس تو یہ ہے اور تمہارے پاس کیا ہے؟تمہارے پاس تو کھانے کیلئے اچھا طعام تک نہیں۔کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہارے پاس وافر مقدار میں اشیاء خورد و نوش ہوں اور آسائشوں سے مزین گھر ہو۔کیا تم پرسکون اور معیاری زندگی نہیں گزارنا چاہتے؟جب یہ خیال انسان کے دماغ پر سوار ہو تو وہ اسکو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں نکل پڑتا ہے۔اس کی راہ میں سیدھا رستہ بھی آتا ہے اور الٹا بھی یہاں سیدھے سے مراد حلال کا رستہ اور الٹے سے مراد حرام کا رستہ ہے اور جب انسان کو اپنے رستے کا تعین کرنا ہوتا ہے تو اسے اپنے بےلگام نفس کا اکسانا دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔جس کی بنا پر وہ سیدھے رستے کے بجائے اپنے قدم الٹی جانب موڑ لیتا ہے۔

    حرام و حلال کی تمیز ہر باشعور انسان بالخصوص ہر مسلمان پر فرض ہے۔اللہ رب العزت نے انسانی زندگی کے ہر معاملات میں حرام و حلال کا فرق رکھا ہے۔ہمارے معاشرے میں لوگوں نے روزی اور مال کی حد تک حلال و حرام کا نظریہ رکھتے ہیں اور اسی کی افادیت پر زور دیتے ہیں۔اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہےکہ جو رزق و معاش حلال ذریعے سے کمایا ہو وہ انسان کے جسم کے اندر سرایت کرکے آپکی ذات کا حصہ بن جاتی ہے اور حرام کے ذرائع سے آئی ہوئی آمدنی نہ تو جسم کا حصہ بنتی ہے نہ تو ذات کا۔آجکل اولاد کی نافرمانی کا رونا رویا جاتا ہے کہ ہمارے بچے خیال نہیں رکھتے ہمارا اور ہمیں وقت نہیں دیتے۔وہ بچہ کیا اطاعت اور خدمت کے اصولوں سے روشناس ہوگا۔جس نے پیدائش کے بعد آنکھ کھولتے ہی حرام لقمے سے آغاز کیا۔اس کی رگوں میں حرام کی آمیزش کرنیوالے یہ بھول گئے تھے کہ کل کو جب بیج پھل پھول کے افزائش پائے گا تو اس کی آبپاری ویسے ہی ہوگی جیسے اس میں سختی اور نرمی ہوگی۔شاخ جتنی لچک دار ہوگی اتنی ہی آسانی سے مڑجاتی یے اس پر کسی قسم کے موسم کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہی لچک اگر بچے کے خون میں ہوگی تو بچہ اپنے والدین سے رخ نہیں موڑے گا۔اس میں سب سے اہم بات جو ہے وہ "بنیاد” ہے۔انسان کی بنیاد جتنی مضبوط اور پائیدار ہوگی اتنی ہی سب کیلئے سودہ مند ہوگی۔اس کے برعکس بنیاد اگر کھوکھلی ہوگی تو وہ کھوکھلاپن اس کی زندگی کے ہر معاملے میں آویزاں ہوگا۔جس کی بناء پر ایسے افراد نہ تو معاشرے کی ترقی کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ملک و قوم کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔

    ان کھوکھکی اور کمزور بنیادوں کی ضمانت کون دے گا۔ان کو پالنے والے یا پھر وہ لوگ خود؟حلال رزق اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔حلال میں اللہ نے بڑا سکون رکھا ہے۔اگرچہ تھوڑا قلیل ہوتا ہےلیکن برکت بہت ہوتی ہے۔محنت اور حلال آمدنی حرام کے ہر ایک لقمے سے معتبر ہوتی ہے۔حلال کی جو اہمیت ہے اس میں رتی برابر بھی شک کی گنجائش باقی نہیں لیکن ہماری زندگی میں کچھ امور ایسے بھی ہیں جہاں اللہ نے حلال و حرام میں فرق واضح رکھا ہے اور حدود متعین کی ہے۔جو بھی اس حد کو پار کرتا ہے تو وہ حرام کے زمرے میں آجاتا ہے اور جو کام متعین شدہ حدود کے اندر رہ کر کیا جائے اس کو حلال تصور کیا جاتا ہے۔

    ہمارے معاشرے میں اخلاق و کردار بھی اچھے اور برے کے طور پر کسی کو متعارف کروایا جاتا ہے۔اب یہاں غور کیا جائے تو ذہن میں حلال و حرام ابھر کے سامنے آجاتے ہیں۔اصل میں حقیقت یہ ہے کہ ہم گہرائی میں جانا پسند ہی نہیں کرتے اور ان سب الفاظوں کا استعمال بھی ضرورت کے تحت کرتے ہیں۔اپنے ذہن کو اس بات کی غور و فکر کرنے کی عادت ضرور ڈالیں کہ کیا اچھا ہے کیا برا؟ حلال و حرام کے کس معیار پر پورا اترتے ہیں۔ان صورتوں میں انسان کی قابلیت اور عقلی معیار کے پیمانے واضح ہوتے ہیں۔جہاں سوچ اور فکر میں اتار چڑھاو کی کمی ہوگی وہی عمل میں کمزوری ظاہر ہونے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں اور انسان درست راہ سے اندھی تقلید میں گمراہ ہو جاتا ہے۔

    بعض اوقات ہم دوسروں کیلئے راہ میں کانٹے بچھاتے ہیں اور انکو تکلیف دیتے ہیں۔یہ سب اعمال ہمارے خیالات کا واضح اظہار ہوتا ہے جو عملی زندگی میں کسی کیلئے مشکلات کا باعث بنتا ہے اور یہی خیالات حرام کے زمرے میں آتے ہیں۔اس کے برعکس جب کوئی خیال کسی دوسرے انسان کو آسانیاں اور خوشگوار ماحول فراہم کرتا ہے تو وہ حلال کے زمرے میں آتا ہے۔ان سب خیالات کا کنڑول انسان کے اپنے اوپر مخصر ہے۔اگر مثال میں یہ دوں کہ اگر ایک انسان کی نگاہ میں غلاظت ہو اور شرم و حیا کا عنصر موجود نہ ہو تو یہ سوال سیدھا اس کی سوچ پر ہوگا۔لہذا یہ چیز انسان پر مخصر ہے کہ جب چاہے جسطرح چاہے درست سمت کیطرف موڑ لے اور جب چاہے غلط سمت کیطرف موڑ لے۔بعض اوقات یہ سوچ کا بہاو بہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن جاتا ہے اور نقصان کسی بھی قسم کا ہو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا،جانی ہو یا مالی یہ سب نقصانات حرام کے دائرے میں آئیں گے۔اللہ ہم سبکو دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے (آمین)

  • سگریٹ نوشی کے دماغی صحت پر اثرات تحریر: ماہ رخ اعظم

    سگریٹ نوشی کے دماغی صحت پر اثرات تحریر: ماہ رخ اعظم


    ہماری نوجوان نسل کے لیے سگریٹ نوشی، جسمانی صحت کے مقابلے میں ذہنی اور دماغی صحت کیلٸےزیادہ نقصان دہ ہے۔ ذہنی صحت کی بیماریاں کیونکہ نظر نہیں آتیں۔ اس لیے اسے نظر انداز کردیاجاتاہے

    اگر آپ کو پہلے ہی ذہنی دباؤ کا شکار  ہیں تو ، تمباکو نوشی اسے زیادہ پیچیدہ بنا سکتی ہے۔. آپ سگریٹ نوشی شروع کر سکتے ہیں یا جاری رکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ یہ آپ کی پریشانی یا افسردگی میں مدد کرتا ہے ، اور پھر یہ معلوم کریں کہ جب آپ تمباکو نوشی چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کی پریشانی / افسردگی بہت خراب ہوجاتی ہے۔.

    لہذا اگر آپ تمباکو نوشی کرتے رہتے ہیں تو ، یہ ایک شیطانی چکر بن جاتا ہے۔. سگریٹ نوشی آپ کی جسمانی صحت کو بھی متاثر کرسکتی ہے ، جس کی وجہ سے سانس کی قلت ، زیادہ باقاعدہ نزلہ یا فلو ، پیلے رنگ کے داغ دار انگلیاں اور طویل مدتی ، دل کی بیماری اور کینسر جیسی چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔

    ‘نوجوان نسل میں  احساسات اور جذبات کی شدت، ڈوپامین ہارمون کی مرہون منت ہوتی ہے۔ سگریٹ ، تمباکو، نیکوٹین،  اور ڈوپامین ہارمون کے اخراج میں اضافہ کرتا ہے۔ جس کے باعث تمباکو نوشی کرنے والوں کے مزاجوں پہ ، تھکن، چڑچڑے پن، تناو اور موڈ سوئنگ کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی میں مبتلا فرد یہ سمجھتا ہے کہ یہ  دماغی اثرات وقتی ہے  بلکہ یہ یہ دیرپا ہوتے رہتے ہیں کیونکہ جب ایک بار ہمارا دماغ نکوٹین کا عادی بن جاتا ہے  تو جب تک جسم کو نکوٹین نہیں مہیا کی جائے گی۔ تو  ہمارا دماغ ڈوپامین پیدا نہیں کرئے گا۔ سگریٹ نوشی  کرنے والے ہمیشہ نیروسیزم یعنی شک کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں خود پر اعتماد نہیں رہتا ہے۔ بلکہ سامنے والے کو اور اپنے عزیز  و اقارب کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کی وجہ سے آپس میں تعلقات خراب ہونے کے ساتھ، انہیں یہ لگتا ہے کہ سگریٹ نوشی کر کے ہی وہ اپنا اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی کا سب سے بڑا اثر دماغ  اور ہماری یاداشت کو  ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے پھیپڑوں اور دماغ، دونوں کو ہی آکسیجن کی ضرورت رہتی ہے۔ نکوٹین کے استعمال سے دماغ میں آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے سیکھنے، سمجھنے ، بولنے اورنئی نئی چیزیں کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ نا صرف دماغی خلیوں کو بلکہ ہپوکیمپس  دماغ کا وہ حصہ، جو یادداشت کو محفوظ کرتا ہے اسکو بھی متاثر کرتا ہے۔

    انسانی جسم میں ایسے ہارمون پاٸے جاتے  ہیں۔ جو تناٶ ، پریشانی اور مصاٸب کو دور کر دیتے ہیں۔ لیکن نکوٹین کا عادی فرد کا جسم خود تناٶ اور  پریشانی  کو دور نہیں کرتا۔ بلکہ وہ سگریٹ پینے پر ہی تناو اور پریشانی  کم کرنے والے ہارمون خارج کرتا ہے۔ اور سگریٹ نوشی کرنے والے احباب  نیند اور بھوک کی کمی کا شکار رہتے ہیں

    نیکوٹین آپ کے مرکزی اعصابی نظام کی رفتار کو تیز کرتی ہے اور آپ کو ایسا محسوس کرواتی ہے کہ آپ کے پاس زیادہ توانائی ہے۔. یہ دماغ کو بری طرح  متاثر کرسکتا ہے  کیونکہ تمباکو نوشی کے بعد آپ کو ‘اچھا’ بھلا محسوس ہو مگر نیکوٹین انتہائی جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے لہذا  اس کی لت لگ جانے کے بعد اسے چھوڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔.

    جب آپ پہلی بار تمباکو نوشی کرنا شروع کرتے ہیں تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا سر بھاری ہو رہا یا  آپ کو  چکر آرہے ہیں ، یا آپ کے دل کی دھڑکن کو تیز تر بنا سکتا ہے ، آپ کو سر درد دے سکتا ہے اور آپ کو کھانسی ہوسکتی ہے. ان میں سے زیادہ تر اثرات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں جب آپ تمباکو نوشی کرتے رہتے ہیں تو آپ کی دماغ کی سوچنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔. وقت گزرنے کے ساتھ ، آپ کا دماغ نیکوٹین سمیت سگریٹ میں موجود کیمیکلوں کا عادی ہوجاتا ہے

    والدین  کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں پر توجہ دیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نوجوان نسل کو ڈانٹ ڈپٹ سے روکا نہیں جا سکتا اس لیے  والدین انکو پیار سے سمجھائیں کہ آپ نے مزہ لینے کیلٸے سگریٹ پی ہے۔ آپ میرے لیے بہت عزیز ہو، بہت انمول  ہو۔ والدین کو نوجوان نسل کویقین دلانا ہو گا کہ وہ ان سے غیر مشروط الفت کرتے ہیں اورانہیں مستقل مدد کی ضرورت ہو گی۔

     ہر طرح کے میڈیا کو سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے  کردار ادا کرنا ہوگا۔ نواجون نسل کو  صرف ظاہری صحت کا ہی نہیں بلکہ دماغی صحت کے نقصانات بتائیں۔ انہیں سمجھانا پڑے گا اور بار بار انہیں بتانا پڑے گا۔ ان کا  مستقبل  متاثر ہوگا۔ کیونکہ نوجوان نسل چھپ کر پی رہے ہیں۔ تو انہیں روکا جاٸیں  ان کی خوارک کا بھی خیال رکھیں۔ انہیں مصروف رکھیں اور انکی  توجہ بٹائیں اور سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ پورے جنوبی ایشیا میں پاکستان میں سگریٹ کی قیمت سب سے کم ہے۔ سگریٹ کی قیمت کو بڑھایا جانا چاہیے اور کم سن افراد کو سگریٹ کی خرید و فروخت نہ کرنے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کروانا چاہیے تاکہ ہم اپنی نوجوان  سگریٹ نوشی کے ظاہری اور دماغی اثرات سے بچایا جاسکے۔

    ‎@ItxMahrukh_

  • بھارت میں جہالت کی انتہا:بارش دیوتا کو راضی کرنے کے لئے کمسن بچیوں کو برہنہ گھمایا گیا

    بھارت میں جہالت کی انتہا:بارش دیوتا کو راضی کرنے کے لئے کمسن بچیوں کو برہنہ گھمایا گیا

    نئی دہلی: بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کے ایک گاؤں میں 6 کمسن بچیوں کو برہنہ کرکے گھمایا گیا ہے یہ شرمناک و افسوسناک واقعہ ریاست مدھیا پردیش کے علاقے بندیل کھنڈ کے ایک خشک سالی کے شکار گاؤں میں پیش آیا ہے۔

    باغی ٹی وی :” ہندوستان ٹائمز "کے مطابق بچیوں کو برہنہ گھمانے کی وجہ یہ تھی کہ گاؤں کے افراد بارش کے دیوتا کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جبکہ ریاستی پولیس کا اس ضمن میں مؤقف ہے کہ کمسن بچیوں کو ان کے خاندانوں کی مرضی کے تحت برہنہ کر کے گھمایا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق این سی پی سی آر نے اس حوالے سے ضلعی و ریاستی انتظامیہ سے باقاعدہ تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیا پردیش کے گاؤں والوں کا فرسودہ رسومات کے تحت کہنا ہے کہ اس طرح وہ بارش کے دیوتا کو راضی کرتے ہیں تاکہ وہ بارش برسا دے اور خشک سالی کا خاتمہ ہو جائے مقامی افراد یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے جو رسم ادا کی ہے اس کی وجہ سے بارش کا دیوتا راضی ہو جائے گا، بارش برسے گی اور خشک سالی کا خاتمہ ہو گا۔

    بھارت میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن نے اس حوالے سے ریاستی و ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیا پردیش کی پولیس کا کہنا ہے کہ کمسن بچیوں کے ساتھ خاندانوں کی مرضی سے سب کچھ کیا گیا ہے اور انہیں کوئی شکایت بھی موصول نہیں ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود وہ تحقیقات کررہے ہیں۔

  • جیتں یا ہاریں،آپ نے بس جارحانہ کرکٹ کھیلنی ہے     رمیز راجہ کی قومی کھلاڑیوں کو ہدایت

    جیتں یا ہاریں،آپ نے بس جارحانہ کرکٹ کھیلنی ہے رمیز راجہ کی قومی کھلاڑیوں کو ہدایت

    پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے چئیر مین رمیز راجہ نے قومی کھلاڑیوں سےملاقات میں کہا ہے کہ جیتں یا ہاریں،آپ نے بس جارحانہ کرکٹ کھیلنی ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق ملاقات میں رمیزراجہ نےایک سے 2 تبدیلیوں کاعندیہ بھی دیا ہے ملاقات میں6 سینئرکھلاڑیوں نے رمیزراجہ سےسوالات کیے۔

    ایک کھلاڑی نے اعظم خان کی سلیکشن پرتحفظات کا اظہارکیا کھلاڑی نے کہا کہ جب فٹنس ٹھیک نہیں تو ایسا کھلاڑی ٹیم میں کیوں آتا ہے ملاقات میں سینئرکھلاڑیوں نےغیرملکی کوچ کی تعیناتی کی سفارش کی کھلاڑیوں نے کہا کہ لوکل کوچزہمیشہ کھلاڑیوں سےمقابلہ کرتے ہیں۔

    چیئرمین پی سی بی بنتے ہی رمیز راجہ کا بابر اعظم کیلئے بڑا فیصلہ

    رمیزراجہ کا کہنا تھا جانتا ہوں ورلڈکپ کیلئےاعلان کردہ اسکواڈ پرتنقید ہو رہی ہےفکرنہ کریں ابھی ٹیم میں تبدیلی کی گنجائش اوروقت موجود ہے آپ لوگ کارکردگی پرتوجہ دیں،میڈیاکومیں سنبھال لوں گا۔

    مستند ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں ورلڈ کپ ٹی20 سکواڈ میں شامل کھلاڑی شامل تھے۔ نامزد چئیرمین نے کھلاڑیوں کو کارکردگی کے حوالے سے گائیڈ لائنز بھی دیں ٹیم سلیکشن کے حوالے سے بھی مینجمنٹ اور کھلاڑیوں سے گفتگو ہوئی۔

    چیف سلیکٹر نے شعیب ملک کوورلڈ ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں شامل نہ کرنے کی وجہ بتادی

    باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ رمیز راجہ نے کھلاڑیوں کو یقین دہانی کرائی کہ چیئرمین پی سی بی بننے کی صورت میں ان کے مسائل حل کیے جائیں گے، تاہم نامزد چیئرمین نے کھلاڑیوں پر واضح کیا کہ انہیں ماضی کی نسبت بہتر نتائج چاہیں-

    رمیزراجہ نے فہیم اشرف، حارث رؤف اورسعود شکیل کو مخاطب کرکے پرفارمنس بہترکرنےکی ہدایت کی ہے-

    نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے 20 رکنی قومی ون ڈے اسکواڈ کا اعلان

    دوسری جانب نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ رمیز راجہ نے بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اپنی بیٹنگ پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے ان کی جگہ محمد رضوان کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنائے جانے کا امکان ہے۔

    اس سے قبل یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ رمیز راجہ نے بابر اعظم کی مشاورت سے منتخب کیا گیا ٹی 20 سکواڈ تبدیل کردیا۔

    بابر اعظم نے شرجیل خان، فخر زمان، فہیم اشرف اور عثمان قادر کا نام سکواڈ میں شامل کیا تھا تاہم رمیز راجہ نے ان چاروں کو نکال کر ان کی جگہ آصف علی، خوشدل شاہ، اعظم خان اور صہیب مقصود کا نام سکواڈ میں شامل کر دیا ہے-

    ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان،بابراعظم کپتان:تین بڑے کھلاڑی ڈراپ