Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آپ  نے  گھبرانا  نہیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    آپ نے گھبرانا نہیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    امریکہ پاکستان سے سخت ناراض ہے، اور پاکستان سے اپنے تعلقات کے حوالے سے از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔امریکہ کی ناراضگی پاکستان کو کتنی مہنگی پڑے گی۔ اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں آپ کو ایک بات کہنا چاہوں گا کہ سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں۔ پاکستان کے سامنے دو آپشن تھے ایک پاکستان کی تباہی اور اس کے ٹکڑے اور دوسرا اپنے مفادات کا تحفظ۔۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہوں گا کہ Antony blinkinنے گانگریس کے سامنے وہی کچھ کہا جو آپ کو بتایا جا رہا ہے یا صرف گفتگو میں سے ایک فقرہ لے کر پیش کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد میں آپ اصل حقائق سے آگاہ کروں گا کہ پاکستان نے جس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا اس کے نقصان کے ازالے کا پہلے ہی بندوبست کیا ہو گا۔Antony blinkinجو امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ہیں نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پانچ گھنٹے تک تند و تیز سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آنے والے چند روز یا ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا۔ اور نئے تعلقات کے تعین کے لیے امریکہ پاکستان کا افغانستان میں گزشتہ بیس سال کا کردار دیکھے گا جبکہ یہ بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ پاکستان افغانستان میں وہ کردار ادا کرتا ہے جو ہم اس سے مستقبل میں چاہتے ہیں۔جب ٹونی بلنکن سے پوچھا گیا کہ کیا اسے پتا تھا کہ اشرف غنی بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے تو ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ چودہ اگست کی رات کو اس کی اشرف غنی سے بات ہوئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ Fight to the death
    اس لیے امریکہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور وہ پندرہ اگست کو بھاگ گیا اور امریکہ کے افغانستان کے انخلا سے دو ہفتے پہلے ہی طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا۔کانگرس مینBill Keatingنے کہا کہ پاکستان نے دو ہزار دس میں طالبان کوبنایا، انہیں نام دیا اور انہیں ری گروپ ہونے میں مدد دی۔ حقانی گروپ جو امریکیوں کی موت کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے گہرے تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی فتح کوCelebrate
    کیا اور کہا کہbreaking the shackles of slaveryجبکہ کانگریس مینScott Perryکا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکی Tax payer کے پیسے سے طالبان کو مدد دی، امریکہ کو پاکستان کو مزید رقم نہیں دینی چاہیے اور اس کا Non-Natto ally status کینسل کرنا چاہیے۔

    اس گفتگو میں امریکہ میں بھارت کے سفیرTaranjit Singh Sandhuکی بڑے پیمانے پر امریکی کانگریس مین سے ملاقاتوں کا ذکر بھی آیا۔ اور ایک ریپلکن کانگریس مین
    Mark Greenکا کہنا تھا کہ کیونکہ Isi نے طالبان اور حقانی گروہ کی مدد کی ہے اس لیے امریکہ کو بھارت سے مضبوط تعلقات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
    امریکی کانگریس کے ان ارکان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے امریکیوں کو اپنا موقف پہنچانے میں کتنی محنت کی ہے ، اور پاکستان کتنے گانگریس مین سے ملا۔کیا امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے وہاں پاکستان کے امیج اور مجبوریوں کے حوالے سے کچھ نہیں کرنا تھا۔ انہیں افغانستان میں بھارت کے کالے کرتوتوں سے اآگاہ کرنا کس کی ذمہ داری تھی۔ بہر حال آپ نے گھبرانا نہیں۔۔ کیوں میں آپ کو آگے چل کے بتاتا ہوں۔امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے وہ بھی ٹونی بلنکن نے اس سوال جواب کے سیشن میں بتا دیا ہے۔امریکہ نے پاکستان کو کہہ دیا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوشش ہرگز مت کرے۔دنیا کے زیادہ تر ممالک کے ساتھ Line up
    کرے، اور طالبان کو فورس کرے کہ وہ افغان عوام کے Basic rightsکا خیال رکھے، عورتوں اور بچوں کے حقوق کو شامل کرے، Humanitarian aid کی اجازت دے اور حکومت میں تمام حلقوں کو شامل کرے۔

    ایک گانگرس ممبر نے کہا کے ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ پاکستا ن کے ساتھ امریکہ کے تعلقات Complicated ہیں لیکن یہ اکثرDuplicitiousہوتے ہیں جس پر ٹونی بلنکن نے کہا کہ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں جو کانگریس مین نے پاکستان کے گزشتہ بیس سال یا اس سے بھی پہلے کے کرادار پر تبصرہ کیا ہے۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسیاں کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ہیں اور کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے مطابق ہیں۔یہ پاکستان ہی ہے جو مسلسل افغانستان کے مستقبل پر Bets لگا رہا ہے، یہی طالبان کے ممبر اور حقانی گروپ کی دیکھ بھا ل کر رہا ہے، یہ پاکستان ہی ہے جو مختلف مقامات پر امریکہ کی مدد اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں Involveرہا ہے۔ پاکستان کا افغانستان میں کردار زیادہ تر بھارت کے خلاف خدشات کی صورت میں ترتیب پاتا ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تمام ممالک بشمول پاکستان، انٹر نیشنل کمیونٹی کی طالبان سے امیدوں پر پورا اترنے کے لیے اپنا اچھا کردار ادا کرے۔اور ہم اسے پاکستان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔بھارت، امریکہ اور دیگر ممالک نے کہا ہے کہ طالبان کو دنیا تسلیم کر سکتی ہے اورمالی مدد بھی کر سکتی ہے اگر وہ اس بات کی گارنٹی دیں کہ وہ اپنے شہریو ں کو Basic right دیں، جس میں خاتون،بچے اور اقلیتیں شامل ہیں۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی سے بڑے پیمانے پر Line up کرے، اور ان کی امیدوں کو پورا کرے۔ یہ تو وہ باتیں تھی جو امریکی کہہ رہے ہیں لیکن پاکستان کا موقف کون پہنچائے گا۔ کیا 2004تک پاکستان کی مدد سے امریکہ نے طالبان کی کمر نہیں توڑ دی تھی۔ افغانستان مِن الیکشن کے بعد جمہوری حکومت قائم ہو چکی تھی۔اس وقت طالبان کا کہیں نام و نشان بھی نظر نہیں آرہا تھا پھرامریکہ نے دوہزار پانچ میں بھارت کے ساتھ سول نیوکلیر ڈیل کا فریم ورک سائن کیا، جب پاکستان نے یہ مطالبہ کیا تو پاکستان کو کہا گیا کہ وہ اس ڈیل کے لیے قابل اعتبار نہیں ہے۔ اپنے ہزاروں لوگ مروا کر، افغانستان میں اپنے مفادات کی قربانی دے کر بھی اگر پاکستان امریکہ کی دوستی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو پھر پاکستان کے پاس امریکہ کی مزید باتیں ماننے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ یہی نہیں امریکہ بھارت کو دوبارہ افغانستان لایا، جس کی پاکستان نے جڑین اکھاڑ دی تھی۔ پھر اس بھارت نے افغانستان میں آکر پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔ امریکہ کی افغانستان میں بنائی ہوئی حکومت صبح شام پاکستان کے خلاف زہر اگلتی تھی، بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان شہروں میں درجنوں کونسلیٹ کھولے ہوئے تھے جو Raw کے ایجنٹوں سے بھرے پڑے تھے۔ بھارت کے66ٹریننگ سینٹر حال ہی میں بند ہوئے ہیں، بھارتی کونسلیٹوں سے اربوں روپے پاکستانی کرنسی کی صورت میں ملے ہیں۔ اسے روکنا کس کی ذمہ داری تھی۔

    امریکہ نے Counter terrorism کے نام پر ہر رات افغانوں کی چادر اور چار دیورای کا تقدس پامال کیا اور افغانوں کے دل میں طالبان کے لیے ہمدردی پیدا کی ۔ کیا یہ پاکستان کا قصور ہے۔کیا پاکستان طاقت ہونے کے باوجود اتنا بے بس ہو جاتا کہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیتا۔بھارت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ پشتونستان کا مسئلہ کھڑا کر رہا ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں چلوا رہا ہے۔ تو پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھر کے امریکہ بہادر کی جی حضوری میں کھڑا رہتا۔ یہ امریکہ کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی روس کو ہرا کر ایک دم سے نکل گیا تھا اور پاکستان میں کلاشنکوف کلچر پھیل گیا تھا۔ پھر الٹا پاکستان پر پابندیاں لگا دی گئی۔ یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے، جب روس کے خلاف جہاد تھا تو اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک تھے تو دنیا نے رزلٹ دیکھ لیا۔ پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں گھسیٹا گیا، پاکستان بلیک واٹر اہلکاروں کی جنت بن گیا۔امریکہ اپنے اٹھارہ بلین ڈالر کو رو رہا ہے کیا پاکستان ان پیسوں کے لیے پاکستان کے ٹکڑے کروا لیتا۔ پاکستان کا نفراسٹرکچر تباہ ہو گیا، پاکستان کی معشیت تباہ کر دی گئی، ایک سو پچاس بلین ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہوا اور اسی ہزار لاشیں پاکستانیوں نے اٹھائی۔ کیا اٹھارہ بلین ڈالر اس کی قیمت چکا سکتا تھا۔ اس جنگ میں پاکستان نے اپنے جرنیل تک دہشت گردی میں کھودیے، اس کے بعد بھی کیا پاکستان کے پاس کوئی اور آپشن بچا تھا۔پاکستان کے امریکہ کو چھوڑ کر اپنے مفادات کے تحفط کی کئی وجوہات ہیں‏۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھارت سے جنگ کے دوران امریکی مدد کبھی نہ پہنچی۔ پاکستان کو روس کے خلاف جہاد میں استعمال کر کے نہ صرف امریکہ یہاں سے چپ کر کے نکل گیا بلکہ پاکستان کو الٹا پابندیوں کا نشانہ بنایا۔ اور پھر جب دوہزار ایک میں واپس آیا تو بات کو سمجھنے کی بجائے دھمکیاں دی کہ۔ You r with us or against us. پاکستان کو پتا تھا کہ دوبارہ امریکہ اپنا مطلب نکال کر یہاں سے نکل جائے گا اور پھر وہی ہوا چین کے خلاف امریکہ نے بھارت سے نا صرف ہاتھ ملا لیا بلکہ بھارت کو پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی اجازت بھی دے دی۔امریکہ اس خطے میں بھارت کو اپنا اتحادی بنا کر چین کے خلاف استعمال کر رہا ہے ایسی صورت میں ایک میان میں دو تلواریں کسی صورت نہیں رہ سکتی۔ امریکہ نے افغان سر زمین افغان طالبان کے لیے تو تنگ کر دی لیکن پاکستانی طالبان کے لیے وہ Safe heaven
    بن گیا۔ پاکستان بڑے عرصے سے شور مچا رہا ہے کہ امریکہ اپنی زلت آمیز شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ کیا عراق، شام اور دنیا بھر میں امریکی شکست کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے۔ میرا امریکہ کو مشورہ ہے کہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لے۔ امریکہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغان سر زمین پر قدم بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب پاکستان نے طالبان کی مدد ختم کی تو ان کا بھی وہی حال ہوا تھا جو افغان حکومت کا امریکہ کی مدد کے بغیر ہوا ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔

    لیکن جیسے میں نے آپ کو شروع میں کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں، افغانستان میں طالبان اس وقت مغرب کے لیے وہ کڑوا گھونٹ بن چکے ہیں جسے وہ نہ نگل سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں۔ اگر مغرب طالبان اور پاکستان پر پابندیاں لگائے گا تو انہیں تحفظ فراہم کرنا، اور افغانستان کو دہشت گردوں کی جنت بننے سے روکنا ہمارے بس میں نہیں رہے گا۔ ابھی کئی مہینے تک تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیےاپنے شہریوں کی افغانستان سے evacuationکے لیے بہت اہم ہے، اس کے بعد دشت گردی کے خلاف آپریشن بھی پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اور طالبان کواس بات پر راضی کرنا کہInclusive govtبنائیں شائد پاکستان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکے تو اس لیے ابھی پاکستان دنیا کے لیے بہت اہم ہے اور ایک نیوکلیئر اسٹیٹ کو دنیا اس طرح تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔ اس لیے امریکہ دھمکیاں دے گا لیکن اتنا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا ہم ڈر رہے ہیں۔

  • میرا شہر جھنگ  تحریر:  اسد ملک

    میرا شہر جھنگ تحریر:  اسد ملک

    میرا شہر جھنگ ، چناب کے مشرقی کنارے پر واقع ہے جو کہ جہلم کے ساتھ اٹھارہ ہزاری کے قصبے کے قریب ہیڈ تریمو بیراج پر ہے۔ضلع جھنگ ایک مثلث کی شکل کا ہے ، جس کا چوٹی جنوب مغربی کونے پر ہے اور شمال مشرق میں اس کی بنیاد ہے۔یہ ضلع دو بڑے دریاؤں ، جہلم اور چناب سے گزرتا ہے۔  چناب عام طور پر جنوب مغرب کی طرف بہتا ہے ، اور یہ ضلع کے وسط سے نیچے کی طرف چلتا ہے تاکہ یہ عملی طور پر ضلع کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دے۔

     2014 کے سیلاب میں یہ شہر خطرے میں پڑ گیا تھا لیکن اس میں سیلاب نہیں آیا کیونکہ سیلاب کا پانی اٹھارہ ہزاری کی طرف ری ڈائریکٹ کیا گیا تھا۔ 

     دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر واقع یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 18 واں بڑا شہر ہے۔  شہر اور ضلع کا تاریخی نام جھنگ سیال ہے۔  اس علاقے میں سلطان باہو اور ہیر رانجھا کا مقبرہ بھی شامل ہے۔

    جھنگ کی تاریخ سیال قبیلے کی تاریخ ہے۔

    سکھ سلطنت کے بانی رنجیت سنگھ نے 1803 میں بھنگیوں سے چنیوٹ پر قبضہ کر لیا اور جھنگ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ، لیکن برسر اقتدار سیال احمد خان نے ایسا کرنے سے پہلے اس کا معاون بننے پر رضامندی ظاہر کی۔ رنجیت سنگھ پر دوبارہ حملہ کرنے سے پہلے اس نے چند سالوں کے لیے 70،000 روپے اور ایک گھوڑی کا سالانہ خراج ادا کیا۔احمد خان نے اسے نذرانہ دینے کی پیشکش کی ، لیکن رنجیت سنگھ نے انکار کر دیا اور جھنگ پر قبضہ کر لیا۔ احمد خان بھاگ کر ملتان چلا گیا ، جہاں اسے نواب مظفر خان کے پاس پناہ ملی۔

     جھنگ 1288 میں مہاراجہ رائے سیال ، ایک راجپوت سردار اور سیال قبیلے کے بانی نے بنایا تھا۔  سیال قبیلے ، اس کے رشتہ داروں نے اس ضلع پر اس وقت تک حکومت کی جب تک کہ جھنگ کے آخری سیال حکمران احمد خان (1812 سے 1822) کو رنجیت سنگھ نے شدید لڑائی کے بعد شکست دی۔ 

     جھنگ کے سیال خانوں اور دیگر سیال ذیلی قبائل جیسے راجبانہ اور بھروانہ کی اجتماعی حکمرانی کے تحت ، جھنگ کا سیال ملک جنوب میں مظفر گڑھ کی حد تک پھیلا ہوا تھا اور پورے چنیوٹ  ، کمالیہ اور کبیر والا القاس۔  یہ علاقہ بھکر اور سرگودھا کے کچھ حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔  گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال الکاس کو راجبانہ سیال قبیلے کے مال میں شامل کیا گیا جس نے بلوچ قبائل کو تھل کی طرف نکال دیا اور 17 ویں صدی کے وسط تک ملتان کے نواب کو شکست دی۔ 

     برطانوی راج کے تحت ، جھنگ اور میگھیانا کے قصبے ، جو کہ دو میل (3.2 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہیں ، ایک مشترکہ میونسپلٹی بن گئی ، جسے پھر جھنگ-مگھیانہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 

     مگھیانہ پہاڑوں کے کنارے پر واقع ہے ، چناب کی مٹی کی وادی کو دیکھتا ہے ، جبکہ جھنگ کا پرانا قصبہ اس کے دامن میں نشیبی علاقوں پر قابض ہے۔ 

    جھنگ صدر پنجاب ، پاکستان کا ایک شہر ہے۔  یہ 31.27 عرض بلد اور 72.33 طول البلد پر واقع ہے اور یہ سطح سمندر سے 158 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔جھنگ کی سیال ذات کے بعد وینس ذات کا بھی جھنگ میں اپنا مقام رکھتی ہے۔ میں بذاتِ خود اسد ملک میرا تعلق جھنگ کے علاقے منڈی شاہ جیونا سے ہے۔ لفظ جھنگ سنسکرت کے لفظ جنگلا سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے کھردرا یا جنگل والا علاقہ ، جنگل کا لفظ بھی ایک ہی جڑ کا حصہ ہے۔  سیاق و سباق میں ، جھنگ کی اصطلاح سنسکرت کے لفظ جنگلا سے اخذ کی گئی ہے ، جھنگ اس لفظ کا مقامی پنجابی ترجمہ ہے۔

    ضلع جھنگ 8809 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔جھنگ صدر تحصیل جھنگ (ضلع کا ایک سب ڈویژن) کا انتظامی مرکز ہے۔  تحصیل خود 55 یونین کونسلوں میں تقسیم ہے۔ اور مندرجہ ذیل چار تحصیلوں پر مشتمل ہے: احمد پور سیال۔  چنیوٹ۔ شورکوٹ۔ جھنگ

    @asad_malik333

    https://twitter.com/asad_malik333?s=09

  • لبرلز بمقابلہ لبرلز   تحریر : فیصل فرحان

    لبرلز بمقابلہ لبرلز تحریر : فیصل فرحان

     

    لبرل کے اصطلاحی معنی ہیں کہ مخالف کی رائے کو تحمل سے سننا اور اس کی بھی قدر کرنا۔ المختصر کہ صرف خود کو ہی عقل قل نہ سمجھنا۔ یقینً لبرل کوئی برا لفظ نہیں ہے بلکہ لبرل ہونا تو اچھی بات ہے کیونکہ یہ بندے کے اعلی شعور کی علامت ہے۔ لیکن جناب ایشیاء خاص طور پر انڈیا اور پاکستان میں لبرلز کی نایاب قسم پائی جاتی ہے جو لبرل لفظ کے معنی تک سے ناواقف ہے۔ ان لوگوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اپنے ملک اور اپنے مزہب کی ہر حال میں مخالفت کرنی ہے تاکہ وڈے دانشور ثابت ہو سکے۔

    یہ بات میں اپنے پاس سے نہیں کہہ رہا بلکہ مکمل ثبوت ہیں۔ویسے تو یہ لوگ ہر اہم دن پر ملک میں اتشار پھیلاتے ہے لیکن چند ایک کی مثالیں درج ذیل ہیں۔ 6 ستمبر کو پاکستان کا یوم دفاع تھا جو 65 کی جنگ کی جیت کی یاد میں منایا جاتا ہے اس جنگ کو دونوں ملک بھارت اور پاکستان اپنی جیت بتاتے ہیں۔ تو دونوں ملکوں کے لبرلز حضرات نے وکھرا سیاپا ڈال دیا۔ پاکستان کے جتنے لبرلز تھے انہوں نے ٹویٹر اور فیسبک پر انڈیا کو فاتح قرار دیا ہوا تھا اور جھوٹے دلائلوں کے انبار لگائے ہوئے تھے۔ میں بڑا حیران تھا کہ کیا واقعہ ہی پاکستان یہ جنگ ہار گیا تھا پھر اچانک سے دو تین انڈین صحافیوں کے ٹویٹس نظر آئے جس میں وہ پاکستان کو فاتح قرار دے رہے تھے اور انڈیا کی شکست کو عبرتناک شکست کہہ رہے تھے۔ اور نیچے عام انڈینز انہیں گالیاں نکال رہے تھے اور آئی ایس آئی فنڈڈ کہہ رہے تھے۔ میں نے جب ان صحافیوں کے اکاونٹس چیک کیے تو انہوں نے بائیوں میں لبرل، سیکولر جیسے لفظ لکھے ہوئے تھے۔ پھر جب ان کی ٹائم لائن پر ریٹویٹس چیک کیے تو بے شمار انڈین لبرلز کے پاکستان کی جیت والے ٹویٹس تھے۔ اب میں حیرانگی کی حد کو چھو رہا تھا۔

    کافی دیرسوچنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ کو ان دونوں ملکوں کے لبرلز جھوٹے اور مفاد پرست ہے۔ ان لوگوں کو جہاں سے پیسہ ملتا ہے یہ لوگ صرف انہی کی زبان بولتے ہے۔ ہمارے ملک کے لبرلز ہمارے اداروں، ہمارے ملک اور ہمارے مزہب پر بلاوجہ تنقید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور انڈیا والے اپنے ملک کے خلاف۔ اب بندہ ان دونوں میں سچا کن کو سمجھے؟ پاکستانی لبرلز کو یا انڈین؟ میں تو دونوں کو نہیں سمجھتا۔

    ایک سب سے اہم بات جو میں نے ان دو ملکوں کے دانشوروں اور لبرلز حضرات میں نوٹ کی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ خود کو اعلی شعور یافتہ ثابت کرنےکیلیے ہر اکثریتی اور اچھے فیصلے کی مخالفت کرتے ہے۔ اور بلاوجہ کی تنقید کر کے ملک میں انتشار پھیلاتے ہے۔ اور پاکستانی لبرلز کی اکثریتی تعداد تو بیرونی این جی اوز سے منسلک ہے جو خود بھی باہر کے ملکوں میں پناہ لیے ہوئے ہے اس لیے اپنا روزگار چلانے کیلیے ہر وقت ملک پر نقطہ چینیاں کرتے رہتے ہیں۔

    اب آخر میں آتے ہے اس سوال کی طرف کہ 65 کی جنگ کون جیتا تھا؟ تو اس کے جواب کیلیے نہ تو انڈینز کی سنیں اور نہ پاکستانیوں کی بلکہ دنیا کے باقی ممالک کی سنیں۔ آسٹریلیاء، انگلینڈ، امریکہ سمیت متعدد ملکوں کے اخباروں نے پاکستان کو اس جنگ کا فاتح قرار دیا۔ اب آتے ہے عقلی دلائل کی طرف، تو جناب انڈیا نے خود پاکستان پر رات کے اندھیرے میں حملہ کیا اور یہ ارادہ کر کے کیا کہ دوپہر کی چائے لاہور میں پیے گے اور بھاٹی گیٹ پر انڈین ترنگا لہرائے گے۔ لیکن آخر میں ہوا کیا؟ وہ ایک انچ بھی پاکستان کا حصہ نہیں لے سکے بلکہ شکست خوردہ پیچھے بھاگ گئے۔ تو جب کوئی ملک اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر جنگ سے پیچھے چلا جاتا ہے تو یہ اس کی شکست ہوتی ہے۔ 

    Twitter handle: @Farhan_Speaks_

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 08) تحریر:محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 08) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 7 تحریروں میں بتایا کہ ملک میں اصل گڑ بڑ ہم لوگ کر رہے ہیں جب تک ہم خود ٹھیک نہیں ہوں گے اس وقت تک ملک میں گڑ بڑ ختم نہیں ہوگی اسی لئے جیسی عوام ہے ویسے ہی حکمران ہمارے اوپر مسلط ہوں گے اس حقیقت کو واضع کرنے کیلئے آج ہم واضع کریں گے کہ  کس طرح امتحانات میں نقل ، مسلمان لڑکیوں میں قرآن پاک کی جگہ فحاشی کے ڈائجسٹ ، ناپ تول میں کمی ، دوستی میں خود غرضی ، محبت میں دھوکہ ، ایمان میں منافقت کیسے ہو رہی ہے 

    امتحانات میں نقل: 

    امتحانات میں نقل ہر جگہ عام ہے لوگ ضمیر بیچ کر نقل کروا دیتے ہیں یہ کام سب کی ملاوٹ سے کیا جاتا ہے یہی بچے جب بڑے ہوکر جاب کیلئے رشوت دیتے ہیں اس وقت اُن کے خون میں حرام رَچ چُکا ہوتا ہے اس لئے جب جاب مل جاتی ہے تو رشوت خوری لے کر ہی کام کرتے ہیں اب خود فیصلہ کریں کہ ہم کیا کر رہے ہیں کیا ملک کو ٹھیک کرنے کا ذمہ صرف وزیراعظم کا ہوتا ہے؟ یا ہم بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں یاد رکھیں جس بچے کی تربیت جھوٹ فریب سے کی جاۓ وہ بچے بڑے ہوکر وہی کرتے ہیں جس کی تربیت دی جاتی ہے اس لئے ہمیں چاہیے ہم اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں ان 

    مسلمان لڑکیوں میں قرآن پاک کی جگہ فحاشی کے ڈائجسٹ پڑھنا: 

    آج کل ہر جگہ فحاشی بہت عام ہو گئ ہے اس کی خاص وجہ آج کل نفسہ نفسی کے تیز دور میں ہر گھر میں موبائل انٹرنیٹ ہے جس کی وجہ سے معاشرہ متاثر ہو رہا ہے اسلام ہمیں امن کا درس دیتا ہے لیکن آج کل بے حیائی اور فحاشی کی وجہ سے ریپ کیسز بہت بڑھ رہے ہیں اس کا زمہ دار ہمیشہ ہم ملک کی حکومت کو ٹھہراتے ہیں لیکن در حقیقت جن ہاتھوں میں قرآن پاک ہونا چاہیے اب موبائل آگئے ہیں رشتوں میں تقدس ختم ہوگیا ہے اس لئے کسی کو قصور وار ٹھہرانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں ۔ اپنے اعمال اور کردار دیکھیں ہم سب سارا دن کیا کرتے ہیں اور کیا کر رہے ہیں اِنہیں ڈائجسٹوں کی وجہ سے رشتوں میں سسپنس آگیا ہے بچے کہانیاں پڑھ کر بہت سمجھدار ہوگے ہیں اُن کے لئے رشتہ ایسا ہی ہے جس پر وہ پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں اِس لئے بچوں کیلئے قرآن کی تعلیم ضروری ہے   جس سے ہمیں راہِ ہدایت ملتی ہے ہمیں چاہیے قرآن مجید کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں اور اس پر عمل کریں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب کہا تھا 

    کہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی

    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    اس لئے عمل ہی ایک ایسی واحد شے ہے جس سے انسان اپنی زندگی کو کامیاب ، خوشگوار اور پرآشوب بناسکتا ہے

    ناپ تول میں کمی:

    ناپ تول ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ہر جگہ غریب ہی مرتا ہے ایک طرف مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے دوسری طرف جو لوگ مصنوعی مہنگائی کرکے بیٹھے ہیں ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے جب تک مصنوعی مہنگائی کرنے والے یا ناپ تول میں کمی والوں پر حکومت کوئی ایکشن نہیں لیتی تب تک پاکستان کا غریب چکی میں آٹے کی طرح پیستا ہی رہے گا آج کل چھوٹے پٹرول پمپوں کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں منہ مانگے پیسے وصول کرتے ہیں اور ناپ تول میں کمی کی وجہ سے لوگ بہت متاثر ہو رہے ہیں حکومت کو چاہیے اس پہ جلدی قابو پائیں تاکہ غریب عوام خوشحال ہو سکیں

      دوستی میں خود غرضی: 

    آج کل کے دور میں معاشرہ جیسے جیسے تیزی کی طرف جا رہا ہے اسی طرح لوگوں میں خود غرضی عام ہوتی جا رہی ہے پہلے وقت میں لوگ اکٹھے بیٹھتے تھے اپنے دکھ سکھ شئیر کرتے تھے لیکن آج کل ہر دوسرا شخص مفاد پرست ہے اگر اُس کو اپکی ضرورت ہے تو وہ اپ کے ساتھ ایسے مخلص ہوگا جیسے آپ کو لگے گا کہ اس جیسا با اعتماد شخص اور کوئی نہیں لیکن جب ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو لوگ اصلیت دیکھانا شروع کردیتے ہیں اُن کے لئے دوستی ایسے ہی ہے جیسے وہ سیڑھی پہ پاوں رکھ کر آگے نکل جاتے ہیں لیکن دوستی ہمیشہ مفادات سے ہٹ کہ ہونی چاہیے جب ملیں اچھے لفظوں میں یاد کریں اچھے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کریں دوستی ایسا رشتہ ہوتا ہے جو اللہ پاک آپ کے دل میں محبت پیدا کرتا ہے کہ یہ انسان بہت اچھا ہے تو اپکا دل تسلیم کرتا ہے باقی تمام رشتے اللہ پاک اوپر سے بنا کے بھیجتا ہے اس لئے جس کے ساتھ بھی رہیں ایسے رہیں جیسے پھول کانٹوں کے ساتھ رہتا ہے باقی رہی بات وقت گزر جاتا ہے کوئی کسی کو اچھے لفظوں میں یاد کرتا ہے کوئی برے الفاظ میں ۔ ہر چیز کا نعم البدل اللہ تعالیٰ کی پاک ذات نے دینا ہے اس لئے خود غرضی سے بنی دوستی اور منہ کے نکلے الفاظ کا کوئی مول نہیں ہوتا

    محبت میں دھوکہ:

    محبت ایک پاکیزہ رشتہ ہوتا ہے جو کسی بھی انسان کسی بھی جانور ، پرندے سے ہو سکتی ہے آج کل کے دور میں محبت حوس کا دوسرا نام ہے جیسے لوگ ٹشو کو استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں ویسے ہی محبت میں دھوکا دے کر اگلے شکار کی طرف نکل جاتے ہیں ہمیں چاہیے کہ محبت اللہ پاک کی ذات سے ہو جو واحد لا شریک ہے جس کی محبت میں کوئی خود غرضی نہیں کوئی دھوکے بازی نہیں ہے وہ ذات بن مانگے عطا کرتی ہے اس لئے کوشش کریں کہ ہمیشہ رشتے کو پاکیزہ اور مخلص رکھیں تاکہ دنیا میں لوگ آپ کو یاد کریں اور گزر جانے کے بعد میں لوگ اچھے لفظوں میں یاد کریں

    ایمان میں منافقت:

    آج کے اس موبائل دور میں لوگوں کے ایمان کمزور ہوگے ہیں لوگوں میں تقوی پرہیز گاری ، عاجزی ختم ہوتی جا رہی ہے ہمیں ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ پاک ہمیں منافقت سے ، زبان کے جھوٹ سے ، آنکھوں کی خیانت سے پاک کردے ہم سب تیرا شکر ادا کرتے ہیں ہمیں عبادت کرنے والا بنا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ "جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے، وہ یقیناً جانتا ہے جس حال پر تم ہو (ایمان پر ہو یا منافقت پر)، اور جس دن لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے”۔ (سورۃ النُّوْر، 24 : 64)

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کیسے ٹوکری میں ناجائز سفارش اور رشوت ، بجلی میں ہیرہ پھیری ، باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں ، خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس ، ابایوں میں فیشن  ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں یا حکومت اصل گناہگار کون ہے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • "‏کینٹونمنٹ الیکشن میں جیت وزیراعظم عمران خان کے نظریے کی جیت تحریر فرزانہ شریف

    "‏کینٹونمنٹ الیکشن میں جیت وزیراعظم عمران خان کے نظریے کی جیت تحریر فرزانہ شریف

    مخالفین خان صاحب سے جتنی بھی نفرت کریں لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے اب خان صاحب کو ہرانے کے لیے ان کے مقابلے کا لیڈر لانا ہوگا ان شکست خوردہ پارٹیز میں دم خم نکل چکا ہے ۔
    ‏کینٹونمنٹ الیکشن میں کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عوام نے خان صاحب کے نظریے پر لبیک کہہ دیا ہے ایک مہنگائی چھوڑ کر خان صاحب کی حکومت نے ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹی ہیں عوام کو ریلیف دینے کے لیے یوٹیلٹی سٹورز ہر شہر میں کھولے ہیں اگر مافیا حق داروں کے پاس ان کا حق نہیں پہنچنے دے رہا تو اس میں خان صاحب کا قصور نہیں ہر علاقے کے نمائندے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا رزق حلال کرکے کھائے اور محنت کرے اس مافیا کو کنٹرول کرے خان صاحب کی محنت پر پانی نہ پھیریں
    کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے پنجاب میں تقریبآ کلین سویپ کیا گوجرانوالہ جہاں ہمیشہ سے نون لیگ کا ہولڈ رہا۔ عام زبان میں ہم کہتے تھے گوجرانوالہ نون لیگ کا گڑ ہے ویاں سے بھی پی ٹی آئی کو تاریخی کامیابی ملی ۔ نون لیگ کو صرف دو سیٹیں ہی مل سکیں ۔لاہور اور ملتان میں نون لیگ کی پوزیشن مضبوط رہی وہ بھی پی ٹی آئی کے اندر روائتی لڑائی جھگڑے اور ٹکٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے اور آزاد امیدوار دوسرے نمبر پر رہے پورے الیکشن میں ۔ پہلے نمبر پر پی ٹی آئی رہی ۔۔
    جن علاقوں سے پی ٹی آئی ہاری خان صاحب کو وہاں بہتر سے بہتر حکمت عملی استمال کرنی ہوگی اور وہاں کے نمائندوں کو جگانا ہوگا کام کرو گے تو 2023 کا الیکشن جیت پاو گے۔۔سوشل میڈیا پر یہ کہہ دینا کہ پی ٹی آئی کا مقابلہ پی ٹی آئی (آزاد امیدواروں )کے ساتھ تھا یہ کہنا ایسے ہی ہے جیسے بلی کبوتر کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتی ہے ان باتوں سے ہم اپنے دل کو تسلی تو دے لیں گے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیوں وزرا کا ملتان ۔لاہور جیسے شہروں پر اپنا ہولڈ کمزور رہا؟
    راولپنڈی جس نے خان صاحب کو جنرل الیکشن میں کلین سویپ جیسا تحفہ دیا تھا وہاں سے پی ٹی آئی ہار گی ہم تو اسلام آباد اور پنڈی کو پی ٹی آئی کا گڑ سمجھنے لگ گے تھے لیکن آج کے الیکشن نے بتادیا کہ کام کرو گے تو عوام بھی آپکو پھولوں کے ہار پہنائے گی ورنہ پھر خدانخواستہ پی پی والا حساب ہوجائے گا اگر وزراء ابھی بھی نہ جاگے تو ۔۔۔
    فواد چوہدری اچھا کام کررہا ہے سوشل میڈیا پر بھی الیکٹرونک میڈیا پر بھی اور اپنے علاقے میں بھی یہی وجہ ہے جہلم میں پی ٹی آئی نے کلین سویپ کیا ۔۔
    راولپنڈی میں اب پنڈی بوائے کو جاگ جانا چاہئیے وزیرداخلہ آپکو اس لیے نہیں بنایا تھا کہ ہم اپنی جیتی ہوئی سیٹیں بھی ہار جائیں اپنے علاقے میں لوگوں کے مسائل حل کریں صرف پریس کانفرنس کرلینے سے الیکشن نہیں جیتا جاتا ۔۔
    ‏ پشاور کوئٹہ حیدرآباد سیالکوٹ ٹیکسلا سے پی ٹی آئی کی شکست پر خان صاحب کو ایکشن لینا ہوگا وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑا چلیں سیالکوٹ تو ہے ہی نون لیگ کا گڑ ۔لیکن پشاور میں شکست ہونا ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔۔
    اب وقت کم ہے کام بہت ذیادہ ۔۔دو سال چٹکیوں میں گزر جائیں گے پی ٹی آئی ورکر کو ابھی سے الیکشن کمپئن شروع کر دینی چاہئیے اپنے اپنے علاقوں میں ۔۔اور جو لوگ مہنگائی کے ستائے ہوئے ہیں خان صاحب سے سخت بد ظن ان کو دلائل سے پیار سے اصل حقائق بتائیں کہ اصل مہنگائی کی کیا وجہ ہے کس طرح کرپٹ سیاستدانوں نے ملک کا دیوالیہ نکالا اگر خان صاحب بروقت نہ آجاتے پاکستان بینک کرپٹ ہوجاتا اب خان صاحب نون لیگ کے لیے ہوئے قرض بھی واپس کررہے ہیں اور ملک میں ترقیاتی کام بھی کروا رہے ہیں 30 سال کا گند تین سال میں ختم نہیں ہو سکتا تھوڑا سا وقت دیں ۔اپ کا لیڈر آپکے ملک کی ایسے حفاظت کر رہا ہے اللہ کی کرم نوازی سے جیسے گھر کو بڑا سربراہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے بس آپ نے ہمت نہیں ہارنی صرف تھوڑا سا اور صبر کرلیں ایک روشن چمکتا ہوا پاکستان آپ دیکھیں گے ان شاءاللہ
    اللہ میرے ملک کو شاد آباد رکھے اس کے لیے بہتر سوچنے والوں کو جزائے خیر دے اور میرے ملک میں رہنے والوں کی اللہ خیر کرے آمین ثمہ آمین

  • مقامِ دل ( پارٹ 2)  تحریر : نعمان ارشد

    مقامِ دل ( پارٹ 2)  تحریر : نعمان ارشد

    عشق والے دل میں نور ہوتا ہے۔ 

    قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالٰی ہے

    بھلا جس کا سینہ اللّٰه نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو وہ اپنے رب کی طرف سے اجالے میں ہے۔ اور خرابی اور ہلاکت ہے ان لوگوں کی جن کے دل اللّٰه کی یاد کرنے پر سخت ہیں۔ یعنی وہ اللّٰه کا ذکر نہیں کرتے اور وہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ 

    مزید ارشادِ باری ہے

    اور جن کے دل اللّٰه کے خوف سے ڈرتے ہیں ان کی حالت تو یہ ہے کہ ان کی کھالوں کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ان کے جسم کی کھالیں اور ان کے دل اللّٰه کی یاد میں نرم ہو جاتے ہیں۔ 

    قرآن پاک میں ایسی آیات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خداوند نے کس انداز سے مومنوں اور کافروں کی دلی کیفیت کو بیان فرمایا ہے۔ یعنی ایمان اور کفر دل کی نرمی اور سختی پر بھی موقوف ہیں۔ یعنی مومن کا دل نرم اور کافر کا دل سخت ہوتا ہے۔ 

    حدیث شریف میں ہے کہ شیطان ہر وقت انسان کے دل میں بیٹھا رہتا ہے۔ جب انسان اللّٰه کا ذکر کرتا ہے تو وہ دوڑ جاتا ہے۔ اور جب انسان اللّٰه کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے تو شیطان وسوسے ڈالنےکی کر اس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ( مشکوٰۃ شریف) 

    حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی مسلمان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ آجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ استغفار کر لیتا ہے تو وہ نقطہ اس کے دل پر سے مٹ جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ پر مداومت کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بھی زیادہ ہو جاتا یے یہاں تک کہ وہ اسکا دل ڈھانپ لیتا ہے ( مشکوۃ شریف) 

    مولانا رومؒ طہارتِ قلب اور تزکیہ نفس اور صفائے قلب کی ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ چینیوں اور رومیوں میں مقابلہ ہو گیا چینی کہتے ہیں کہ نقش و نگاری میں ہم ماہر ہیں اور رومی کہتے ہیں کہ اس فن میں ہم جیسا کوئی نہیں۔ بادشاہ وقت نے دونوں کا امتحان لیا۔ اور کہا کہ دونوں اپنے اپنے فن کا کمال دکھاؤ۔ چینیوں نے بادشاہ سے سینکڑوں رنگ و روغن طلب کیے اور پھر بادشاہ وقت نے رومیوں سے پوچھا کہ تمہیں بھی کسی سامان کی ضرورت ہے؟ رومیوں نے کہا کہ ہمیں کسی رنگ و روغن کی ضرورت نہیں۔ ہم صرف زنگ و میل دور کریں گے۔ چنانچہ چینی رومی دو دیواروں پر اپنے فن کا کمال دکھانے لگے۔ درمیان میں ایک پردہ لٹکا دیا۔ چینی تو دیوار پر نقش و نگار بنانے لگے اور رومی دیوار کو صیقل و صاف کرنے لگے۔ رومیوں نے دیوار کو اتنا صاف کیا کہ دیوار شیشے کی طرح چمکنے لگی۔جب دونوں اپنے اپنے کام سے فارغ ہو گئے تو بادشاہ وقت دیکھنے کے لیے آیا تو پہلے چینیوں کے فن کو دیکھا تو ان کی نقش و نگاری کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ پھر رومیوں کی طرف آیا تو درمیان سے پردہ اٹھا دیا۔ بس پھر کیا تھا کہ جو چینیوں کی دیوار پر دیکھا تھا اس سے کہیں بہتر سامنے دیوار پر عیاں تھا۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ مسلمان تو بھی اپنے دل کو اللّٰه کے ذکر سے اس قدر صیقل کر لے کہ وہ شیشے کی طرح چمکنے لگے اور حرص و ہوا اور خواہشاتِ نفسانی کا غبار مٹ جائے، فسوق و فجور کے اندھیرے دور ہو جائیں، گناہ و معصیت کی سیاہی دھل جائے۔ ضلالت اور گمراہی کے بادل چھٹ جائیں اور باطنی حجابات اٹھ جائیں۔ تیرا دل بھی رومیوں کی دیوار کی طرح معرفت کا آئینہ بن جائے۔ انوار و تجلیاتِ اِلٰہی کا مرکز بن جائے۔ اور پھر ساری کائنات تیرے اندر سما جائے اور پھر جدھر بھی دیکھے تجھے جلوہِ حسنِ یار نظر آئے۔ 

    ‎@Official__NA

  • طب نبویﷺدعاؤں اور دواؤں سے علاج تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    طب نبویﷺدعاؤں اور دواؤں سے علاج تحریر:تعریف اللہ عفی عنه

    نبی کریمﷺ کاجسموں کا علاج تین طرح کا تھا۰ایک طبعی دواؤں سے جنہیں اجزائے جماداتی وحیوانی سے تعبیر کیا جاتا ہے،دوسرا روحانی اورالہی دعاؤں سے جو کچھ ادعیہ،اذکار اور آیات قرآنیہ میں ہے،اور تیسرا ادویہ کامرکب ہے جو ان دونوں قسموں سے مرکب ہے یعنی داوؤں سے بھی اور دعاؤں سے بھی۰

    دعاؤں سے علاج: قرآن شریف سے بڑھ کر کوئی شے اعم وانفع اور اعظم ثناء نازل نہیں ہوئی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

    ترجمہ:”اور ہم نے قرآن سے وہ نازل فرمایا جو مسلمانوں کیلئے شفاء ورحمت ہے۰”(سورۃ بنی اسرائیل:آیت۸۱)۰

    اب رہا امراض جسمانیہ کیلئے قرآن کریم کا شفا ہونا تو اس وجہ سے ہے کہ اس کی تلاوت کیذریعے برکتیں حاصل کرنا بہت سے امراض وعلاج میں نافع ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی شحص کو شفاء قرآن پڑھ کر بھی نہ ہو تو اسے حق تعالی کبھی شفاء نہ دے گا۰

    حدیث میں ہے کہ فاتحۃ الکتاب ہر مرض کی دوا ہے۰

    حضرت علی المرتضی رض کی حدیث میں ہے جو ابن ماجہ میں مرفوعا مروی ہے”خیرالدواءالقرآن”(بہترین علاج قرآن ہے)۰

    بدنظری کا علاج:نبی کریمﷺ اس کا علاج معوذتین سے فرماتے۰یعنی ان آیات سے جن میں شرور سے استعاذہ ہے جیسے معوذتین سورۃفاتحہ آیۃ الکرسی وغیرہ علماء کہتے ہیں کہ سب سے اہم واعظم دعا وشفاء سورۃ الفاتحہ ایۃ الکرسی اور معوذتین کا پڑھنا ہے۰

    لا حولا ولا قوۃ کاعمل:حضرت ابن عباس رض سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جسے غم وافکار گھیرلیں اسے چاہئے کہ لاحولاولاقوۃالاباللہ بکثرت سے پڑھا کرے علماء فرماتے ہیں کہ اس کلمہ کے عمل سے بڑھ کر کوئی چیز مددگار نہیں ہے۰

    درد سر کی دعا:حمیدی بروایت یونس بن یعقوب عبداللہ سے درد سر کی دعا نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ درد سر میں اپنے اس ارشاد سے تعوذ فرماتے تھے:”بسم اللہ الکبیر واعوذباللہ العظیم من کل عرق نعار ومن شر حدالنار”

    ترجمہ:”حدا کے نام کیساتھ جو بڑا ہے اور میں پناہ چاہتا ہوں اللہ بزرگ کی ہررگ اچھلنے والے کی اور اگ کی گرمی کے نقصان سے۰” 

    ہر درد وبلاء کی دعا: حضرت ابان ابن عثمان اپنے والد عثمان رض سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے سنا ہے کہ جو کوئی تین مرتبہ شام کے وقت:بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمه شیء فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم”تو شام تک اس کو کوئی شے ناگہانی بلا مصیبت نہ پہنچے گی۰(مدارج النبوۃ)۰

    دنت کے درد کی دعا:بیہقی عبداللہ بن رواحہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے درد دنت کی شکایت کی۰تو حضورﷺ نے اپنا دست مبارک ان کے رخسار پر جس میں درد تھا رکھ کر سات مرتبہ پڑھا:اللھم اذھب عنه ما یجد وفحشه بدعوۃ نبیک المسکین المبارک عندک”دست اٹھانے سے پہلے اللہ نے ان کے درد کو رفع فرمالیا۰(مدراج النبوۃ)۰

    حرام چیز میں شفاء نہیں:سنن میں مروی ہے کہ نبی کریمﷺ سے شراب کو دوا میں ڈالنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو اپنے فرمایا مرض ہے علاج نہیں۰(زادالمعاد)

    نیز نبی کریمﷺ سے منقول ہے کہ جس نے شراب سے علاج کیا اسے اللہ شفاء نہ دے۰(زادالمعاد)۰

    شہد ک تاثیر:حضرت ابو ھریرہ رض فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شحص ہر مہینہ تین دفعہ صبح کے وقت چاٹ لے وہ کسی بڑی مصیبت وبلا میں مبتلا نہیں ہوتا۰(ابن ماجہ،مشکوۃ)۰

    قرآن وشہد میں شفا:حضرت عبداللہ بن مسعود رض فرماتےہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:کہ دو شھاء دینے والی چیزوں کو اپنے اوپر لازم کرلو (یعنی اس کا استعمال ضرور کیاکرو)ایک شہد دوسرا قرآنشریف(یعنی أیات قرآن)۰(ابن ماجہ ،بیہقی،مشکوۃ)۰

    کلونجی کی تاثیر:حضرت ابوھریرہ رض فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کلونجی سے ہر بیماری کی شفاء ہے مگر موت کی نہیں۰(بخاری،مسلم،مشکوۃ)۰

    روغن زیتون:حضرت زید بن ارقم رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ذات الجنب کی بیماری میں روغن زیتون اور ورس (ایک بونی)کی تعریف کی۰(ترمذ,مشکوۃ)۰

    دوا میں حرام چیز کی ممانعت:حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم دوا سے بیماری کا علاج کرو لیکن حرام چیز سے اس بیماری کا علاج نہیں کرو۰(ابوداؤد، مشکوۃشریف)۰

    مرگی:نبی کریمﷺ اکثر اوقات آفت زدہ کے کان میں یہ آیت پڑھا کرتے تھے: (افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون)اور آیت الکرسی سے بھی اسکا علاج کیا کرتے تھے اور آفت زدہ کو بھی اسکا ورد رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے اور معوذتین پڑھنے کو بھی فرمایا کرتی تھے۰(زادالمعاد)۰

    ‎@Tareef1234

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    انسان اپنی تمام ضروریات اپنے آپ پوری نہیں کرسکتا۔ اسے اپنی خواہشات، اپنی ضروریات اور اپنا مدعا دوسروں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ پہنچانے کے عمل کو "ابلاغ” کہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جو موجودہ دور کے معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاؤ انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہار رائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرائع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال اگر ضروریات کے تحت مثبت طریقے سے کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے میں نعمت سے کم نہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ایسے ٹول کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے معاشرے میں مثبت و منفی اثرات کے بے انتہا نقوش چھوڑے ہیں۔ سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا خصوصاً نوجوانوں کو اپنے سحر اور رنگینیوں میں جکڑے ہوئے ہے۔ 12 سال سے 35 سال کے افراد میں سوشل میڈیا کے استعمال کا رجحان بے انتہا حد تک بڑھ چکا ہے۔ جن نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو اپنا کر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے وہ اس سے بے پناہ مالی و معاشرتی فوائد حاصل کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوان مرد و عورتیں لاکھوں کروڑوں روپے کما کر اپنے روزگار کا ذریعہ حاصل کر چکے ہیں۔ ہر آتے دن کے ساتھ ہی فری لانسرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کے معاشی فوائد کو کھول کھول کر بیان کررہے ہیں۔

    پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہو رہا ہے اور نوجوان بڑھ چڑھ کر اس کا استعمال کرتے اور اس سے متاثر ہوتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ با آسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ٹرولز یعنی سوشل میڈیا کے ایسے گمنام یا اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز و مزاح کی آڑ میں انتشار پھیلانا ہوتا ہے، بڑے متحرک ہیں۔ ہم سب اس سنگین صورتحال سے آگاہ تو ہیں لیکن سدباب کیلئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔ اس حوالے سے شاید مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ ہونا ہوگا۔ تاکہ وہ اپنی اولاد اور شاگردوں کی تربیت کرتے قت اس اہم مگر بڑی حد تک نظر انداز معاملے پر مناسب توجہ دے سکیں۔ اس حوالے سے والدین کی اولین اور اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کس عمر میں انٹرنیٹ اور سمارٹ فون تک رسائی دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پھر رسائی سے پہلے اور رسائی کے دوران ان کی مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی نہایت ضروری ہے۔

    سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی جانب ایک نگاہ دوڑائی جائے تو فکر انگیز حد تک یہ نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر چکا ہے۔ نوجوان فحاشی و عریانی کے بدمست کھیل میں کود کر اپنا مستقبل داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی دشمن بھی اپنی چال چلتے ہوئے نوجوانوں کے ذہنوں میں شیطانیت کا پرچار کرتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وارفیئر بھی سوشل میڈیا پر لڑی جانے والی جنگ ہے جو آج کل سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔

  • پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان

    پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان


    بعض اوقات زندگی میں ہم اتنا مگن ہوتے ہیں کے اپنے کھانے پینے کی ضرویات کا سہی طرح خیال نہں رکھ پاتے یہ شاید اتنا سوچنے کا وقت بھی نہں ہوتا ہمارے پاس کے ایسا کیا اچھا ہے کھانے میں کو بیک وقت آپکو بیماریاں سے بچائے آپ کے بال آپکی جلد آپکی جسمانی وضح کے لیے ایک ساتھ اچھا ہو ایسا کیا ہے جس کے استعمال سے ہم اپنی صحت بھی خیال رکھ سکتے اپنے بڑھتے ہوئے وزن کو بھی کنٹرول کر سکتے ہیں جی بلکل ایسے تمام خو صیات پائی جاتی ہیں پھلوں میں جس سے ہماری روز مرہ کی جسمانی ضرویات پوری ہوتی ہیں اور ہمارا وزن کو کنٹرول کرنے اور ساتھ جلد کو صاف شفاف رہنے میں بھی مدد ملتی ہے.
    آپ کو بھوک لگی ہے اور کچھ مزیدار کھانا چاہتے ہیں آپ کو بھوک ختم کرنے اور پیٹ کے بھرنے کا احساس دلائے اور آپ کو موٹا نہ کرے ، کیا یہ ممکن ہے؟ شاید یہ پہلا خیال ہے جو آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ تو جواب ہے ہاں! یہ ممکن لیکن اس طرح کی کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے آپ کو تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے تھوڑی تیاری کرنی پڑتی ہے اور آپ اتنے تھکے ہوئے ہیں کہ اٹھ کر کھانا پکانے کی ہمت نہں رکھتے
     تو ایسا کیا ہے جو آپ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں ، کیا آسانی سے کیا کھایا جا سکتا ہے ایسر کیا چیز کھانے کے لیے جلدی ملنا ممکن ہے؟

     جی بلکل بہت آسانی سے آپ کھا سکتے ہیں صحت مند چیزیں ، کھانے کے لیے فوری تیار پھل سے آپ فوری لطف اندوز ہو سکتے ہیں جو کہ مشینی تیار نہں شدہ بلکہ آپ صرف اپنے دانتوں کو استعمال کرتے ہوئے سے بھرپور طریقے سے اِسکا مزا لے سکتے ھیں.
     لیکن یہ کیا ہے جو صحت کے متعدد فوائد فراہم کر سکتا ہے اور اب بھی آسانی سے قابل رسائی ہے؟ آئیے خیالات سے آگے نہ بڑھیں اور اپنے آپ کو فطرت کی دی گئی نعمتوں کی طرف رہنمائی کریں جس نے ہمیں رنگا رنگ اور پرکشش پھلوں سے نوازا ہے جو نہ صرف فائدہ مند ہیں جب کہ تندرستی کی بات آتی ہے بلکہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد بھی ہیں۔

     پھلوں کے صحت کے فوائد کیا ہیں؟
     چونکہ یہ جانا جاتا ہے کہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد ہیں لہذا یہاں ایک جھلک ہے کہ آپ کو اپنی خوراک میں پھلوں کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔

     پھل وٹامن اور معدنیات کا ایک بھرپور ذریعہ ہیں جو ضروری غذائی اجزاء سمجھے جاتے ہیں جو جسم میں میٹابولک سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور انسانی جسم میں بہت سے دوسرے کام انجام دیتے ہیں۔
     پھل فائبر کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جو متعدد طریقوں سے فائدہ مند ہیں جن میں شامل ہیں۔ آنتوں کی صحت کو بہتر بنانا ، بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ، بلکے اور مکمل طور پر فراہم کرنا ، کولیسٹرول کو کم کرنا ، قبض سے نجات اور اور بہت سے فوائد
     پھل بہت سے اینٹی آکسیڈنٹس مہیا کرسکتے ہیں جو دل کے مسائل ، کینسر اور بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور ان آزاد ریڈیکلز سے لڑتے ہیں جو کے جسم میں منفی اثرات پیدا کرتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس بڑھاپے میں تاخیر کرتے ہیں لہذا پھل چمکدار اور جوان جلد کے حصول میں بھی مدد کرتے ہیں۔
     پھل غذائی اجزاء کی ایک وسیع رینج سے لدے ہوتے ہیں جو فوائد کی بات کرتے وقت اس کو حاصل کرتے ہیں۔ پھلوں کی ایک مثال جو وٹامن سی کی ایک بہت بڑی مقدار مہیا کرتی ہے جو لوہے کے جذب میں بہت ضروری ہے ، بہت سے انفیکشن سے بچاتی ہے ، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے ، یہ زخموں کو بھرنے میں مددگار اور اہم ہے ہڈیوں اور دانتوں کی صحت
     پھلوں میں پانی کی اچھی مقدار ہوتی ہے جو آپ کو ہائیڈریٹ اور فعال رکھتی ہے۔
     پھل آپ کے میٹابولزم کو فروغ دیتے ہیں لہذا وزن کو کنٹرول کرنے اور ایک مثالی اور صحت مند جسمانی وزن حاصل کرنے میں یہ آپکی مدد کرسکتے ہیں اس لیے اپنی روز مرہ زندگی میں پھل کھانے کی عادت بنائیں۔
    تحریر

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟  تحریر: احسان الحق

    ‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟ تحریر: احسان الحق

    آج سے تقریباً تین سال قبل ہمارے ایک رشتے دار عزیز کے خلاف اقدام قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس اس کو گرفتار کر کے لے گئی. مدعی نے ملزم پر الزام عائد کیا کہ اس نے چھری دکھاتے ہوئے مجھے قتل کی دھمکی دی یا قتل کرنے کی کوشش کی. عدالت میں گواہ بھی پیش کر دئیے گئے. ملزم مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا. آخر کار متعدد پیشیوں اور ضروری عدالتی کاروائی کے بعد معزز عدالت نے ملزم کو مجرم بنا کر جیل میں بھیج دیا. پچھلے ماہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے. دس لاکھ روپے کے بدلے صلح کرنے اور مقدمہ واپس لینے پر اتفاق ہوا. مجرم کے غریب اہل خانہ نے گھر کا سارا مال اور سامان بیچ کر اور ادھار لے کر تقریباً دو ہفتوں میں دس لاکھ کا بندوبست کر لیا. تقریباً ڈیڑھ لاکھ اوپر خرچ ہوا. کل گیارہ لاکھ چالیس ہزار خرچ کرنے کے بعد ملزم یا مجرم پچھلے ہفتے گھر واپس آیا. یہاں پر ایسا قانون حرکت میں آیا جو ہمیشہ عام غریب پاکستانی کے خلاف حرکت میں آتا ہے.

    مذکورہ بالا واقعہ گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چھری دکھاتے ہوئے قتل کی دھمکی کے الزام پر عدالت نے غریب ملزم یا مجرم کو جیل بھیج دیا اور دوسری طرف ایک درندے اور سفاک صفت قاتل کو اعتراف جرم کرنے کے باوجود عدالت سزا سنانے سے قاصر ہے. ایک ایسا سفاک قاتل جس کے خلاف جنسی تشدد، جسمانی تشدد، قتل، قتل کے بعد سر کو دھڑ سے الگ کرنے جیسے سنگین ترین الزامات ثابت ہو چکے ہیں. نور مقدم کا قاتل اثرورسوخ اور کافی طاقتور ہے یہی وجہ ہے کہ اعتراف جرم بلکہ اعتراف جرائم کے بعد بھی عدالت میں پیشیاں بھگتائی جا رہی ہیں. ملک عزیز میں قانون اور آئین کی پاسداری اور بالادستی ناپید ہو چکی ہے اور انصاف ملنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور بالخصوص غریب آدمی کے لئے انصاف لینا تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے. ایسے لاتعداد واقعات اور مقدمات ہیں جن میں ملزمان اعتراف جرم کرتے ہیں، اعتراف جرم کے بعد بھی ان کو سزا نہیں دی جاتی. دوسری طرف غریب آدمی بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزا اور جرمانے کا مستحق ٹھہرتا ہے. بعض اوقات سزا اور قید مکمل ہونے کے بعد بھی عام آدمی کو اضافی انتظار، محنت اور خرچہ کرنا پڑتا ہے، پھر کہیں جا کر اسکی جان چھوٹتی ہے.

    پچھلے سال لاہور موٹر وے پر ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. ایک کار سوار عورت لاہور سے سیالکوٹ کا سفر کر رہی تھی، گاڑی میں تیل ختم ہونے پر مدد کی انتظار میں سڑک کنارے کھڑی تھی. دو موٹر سوار لوگوں نے جنسی زیادتی کی، جسمانی تشدد کیا اور کچھ سامان بھی چھین کر لے گئے. وہ دونوں مجرم عام پاکستانی تھے. پیسے اور تعلقات کے حوالے سے وہ کمزور مجرم تھے. ان دونوں کو پکڑ لیا گیا اور عدالت نے مختلف دفعات لگاتے ہوئے سزائے موت، قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنائیں. حالانکہ اس واقعہ میں عورت کو قتل نہیں کیا گیا، قتل کے بعد سر کو جسم سے الگ بھی نہیں کیا گیا، لاش کی بے حرمتی بھی نہیں گئی. پولیس اور ادارے مجرموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے اور عدالت نے انہیں سخت سزا دی جس کے وہ یقیناً مستحق تھے. مجرموں اور متاثرہ عورت کے درمیان تعلقات اور طاقت کے حوالے سے بہت فرق تھا. متاثرہ عورت ان جیسی عام پاکستانی ہوتی یا مجرم عورت کے مساوی طاقتور ہوتے تو شاید عدالت فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیتی یا ابھی تک مقدمہ چلایا جا رہا ہوتا.

    نور مقدم واقعہ لاہور موٹروے واقعے سے کہیں زیادہ المناک، دردناک اور دلخراش واقعہ ہے. جس میں قاتل نے انسانیت کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے انتہائی سفاکانہ طریقے سے مقتولہ کو قتل کیا. قتل سے پہلے جنسی تشدد کیا، جسمانی تشدد کیا، پھر قتل کیا، قتل کے بعد پھر تشدد کیا، سر کو دھڑ سے جدا کر دیا. اس واقعہ پر بہت ساری بحث کی جا چکی ہے اور بحث ہو رہی ہے اور اب لوگوں کو اس قتل کے بابت معلوم کو چکا ہے. یہ ایسا درناک، افسوسناک اور المناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. مانا کہ قاتل اور مقتول دونوں اونچے درجے کے خاندان ہیں. دونوں کے پاس پیسوں اور تعلقات کی کوئی کمی نہیں. نور مقدم کے قاتل کا اعتراف جرم کے باوجود بھی اس کے خلاف سزا نہ سنائی جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قاتل مقتول سے زیادہ طاقتور ہے. میری ذاتی معلومات کے مطابق مجرم نے دوران تفتیش اقبال جرم کر لیا تھا. دوسری طرف پولیس نے موقع واردات سے شواہد بھی اکٹھے کر لئے تھے اور کچھ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلم بند کئے گئے تھے. اس سب کے باوجود قاتل ابھی تک سزا سے دور ہے.

    بمطابق 13 ستمبر بروز سوموار کو قاتل ظاہر جعفر کی پیشی تھی. احاطہ عدالت کے باہر لوگوں نے قاتل کو سزا دینے اور نور مقدم کو انصاف دینے کے لئے خاموش احتجاج کیا. ہمارا عدالتی نظام اور سزا و جزا کا عمل اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ لوگ کمرہ عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں پھر بھی ہماری عدالتیں ان مجرموں کو سزا دینے سے قاصر رہتی ہیں. مثال کے طور پر ذیل میں کچھ مشہور واقعات اور ان کا اعتراف کرنے والے مجرمین کا ذکر کرتے ہیں.

    کراچی وار گینگ کا سرغنہ عزیر بلوچ دوران تفتیش پولیس کے سامنے اور کمرہ عدالت میں معزز جج کے سامنے 120 سے زیادہ قتل، اغواء برائے تاوان، کراچی میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت، پڑوسی ملک کو حساس مقامات کی معلومات کی فراہمی جیسے سنگین ترین جرائم کا اعتراف کر چکا ہے مگر ابھی تک عدالت نے اسکو سزا نہیں دی. عزیر بلوچ کافی اثرورسوخ رکھنے والا طاقتور آدمی ہے. کراچی میں ایک فیکٹری کے دروازے باہر سے بند کر کے آگ لگا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں 258 مزدور زندہ جل کر خاکستر ہو گئے تھے. آگ لگانے والا رحمان بھولا بیرون ملک سے گرفتار ہو کر عدالت میں پیش ہوا اور اقبال جرم کرتے ہوئے سب کچھ کچھ بتا دیا. میرے خیال میں بھولا ابھی تک زندہ ہے. شاہ زیب قتل واقعہ کے مرکزی مجرموں نے کمرہ عدالت میں قتل کا اعتراف کیا تھا مگر ان کو سزا نہیں سنائی جا سکی، اب تو سنا ہے کہ قاتل ملک سے بھی باہر چلا گیا ہے. لاہور میں کمسن گھریلو ملازمہ عظمی کو گھر کی مالکن نے قتل کیا، قتل کرنے کے بعد لاش کو گٹر میں پھینک دیا. مقتولہ نے اقبال جرم کیا، کچھ عرصے بعد عدالت نے مقتولہ کو رہا کر دیا تھا. خیبر پختونخواہ پولیس تہرے قتل میں مطلوب قاتل کو یورپ سے گرفتار کرکے پاکستان لے آئی، قاتل نے عدالت میں اعتراف جرم کیا. کچھ ہفتوں بعد غالباً دو یا تین لاکھ کے بدلے عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا. اس طرح کے واقعات سے ہماری عدالتی تاریخ بھری پڑی ہے.

    ناقابل تردید شواہد، مختلف تنظیموں اور پاکستانیوں کے پرزور مطالبے اور احتجاج کے باوجود ابھی تک قاتل کے خلاف سخت ترین کاروائی غیر یقینی نظر آ رہی ہے. عدالتی حوالے سے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتیں ظالم کو سزا دینے اور مظلوم کو انصاف دینے میں جلدی کریں. اب دیکھنا یہ ہے کہ قاتل ظاہر جعفر اور شریک جرم اس کے والدین کو عدالت کب اور کتنی سزا دیتی ہے یا پھر رہا کرتی ہے.

    ‎@mian_ihsaan