Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آسٹریلیا نے افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا

    آسٹریلیا نے افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا

    سڈنی: آسٹریلیا کرکٹ ٹیم نے افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا 27 نومبر کو افغانستان کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ کی میزبانی کرنے والا تھا اور کرکٹ آسٹریلیا نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ میچ کی منصوبہ بندی اچھے سے جاری ہے تاہم اب ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے-

    میڈیا کے مطابق آسٹریلیا نے افغان خواتین ٹیم کو کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دیا ہے آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ دی تو وہ افغانستان کے ساتھ طے شدہ ٹیسٹ میچ منسوخ کر دیں گے۔

    طالبان کا افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر پابندی کا فیصلہ

    انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے لیے ہمارا وژن یہ ہے کہ یہ کھیل سب کے لیے ہے اور ہم ہر سطح پر خواتین کی اس کھیل میں شمولیت کی حمایت کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان نے افغانستان میں خواتین کے کھیلنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا ہے طالبان رہنما احمد اللہ وقاص کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خواتین کے ہر قسم کے کھیل پر پابندی ہو گی۔

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے افغان خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے آئی سی سی کا کہنا تھا کہ خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، افغانستان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • گوگل کا جی میل کے لیے نیا فیچر

    گوگل کا جی میل کے لیے نیا فیچر

    گوگل نے جی میل کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈٰا کے مطابق دنیا کی مقبول ترین ای میل سروس جی میل کو اب ای میل میسجز تک محدود رکھنے کی بجائے ہر طرح کے فیچرز سے لیس ہب میں تبدیل کیا جارہا ہےاپ ڈیٹ کے بعد جی میل موبائل ایپ میں ڈائریکٹ کالنگ کی سہولت کا اضافہ کر دیا جائے گا۔

    جی میل میں ڈائریکٹ کالنگ کے اس فیچر کے لیے گوگل میٹ کا سہارا لیا جائے گا اور صارفین اپنے کانٹیکٹس سے ون آن ون رابطہ کرسکیں گےگوگل کی طرف سے اسپیسز کے نام سے رومز چیٹ چینلز کا وعدہ بھی کیا گیا ہے جو ٹیکسٹ میسجز اور دیگر فیچرز سے لیس ہوں گے۔

    رپورٹس کے مطابق صارفین آسانی سے ای میل، چیٹس، اسپیسز اور میٹ کے درمیان نیوی گیشن کرسکیں گے جبکہ ایڈمن اور سیکیورٹی ٹولز کو بھی بہتر بنایا جائے گا کارباری اداروں کے لیے یہ نئی تبدیلیاں تو 8 ستمبر سے دستیاب ہوں گی مگر تمام صارفین کے لیے یہ اپ ڈیٹس آنے والے ہفتوں یا مہینوں میں دستیاب ہوں گی۔

  • طالبان کا افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر پابندی کا فیصلہ

    طالبان کا افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر پابندی کا فیصلہ

    کابل: طالبان نے افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر پابندی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طالبان رہنما احمد اللہ وقاص کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے ہر قسم کے کھیل پر پابندی ہو گی جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے افغان خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    افغان طالبان نے دنیا سے غیر مشروط امداد کا مطالبہ کر دیا

    آئی سی سی کا کہنا ہے کہ خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، افغانستان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر کھیل پر منفی اثرات پڑیں گے۔ خواتین کو اجازت نہ دینے کا معاملہ آئندہ اجلاس میں زیربحث آئے گا۔

    دوسری جانب طالبان نے خواتین کو کالجز اور یونیورسٹیز میں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے انہوں نے کہا کہ لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ کلاسز یا کم از کم انہیں ایک پردے سے الگ کیا جائے، جب کہ طالبات کے لیے عبایا اور ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جن سے آنکھوں کے علاوہ ان کا پورا چہرہ چھپ جائے۔

    طالبان کی وزارت تعلیم کی جانب سے نوٹیفیکیشن کے مطابق طالبات کو صرف خواتین ہی پڑھا سکتی ہیں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر اچھے کردار کے حامل کسی بوڑھے شخص کو اس کام کے لیے رکھا جائے یہ حکم نامہ ان تمام نجی کالجز اور جامعات پر لاگو ہوتا ہے جن کی تعداد میں 2001 کے بعد طالبان کا پہلا دور اقتدار ختم ہونے کے بعد بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور کل سے انہیں دوبارہ کھولنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    احکامات کے مطابق خواتین پر شٹل کاک برقعہ ( سر کے بال سے پیر کے ناخن تک کو ڈھاپنے والا برقعہ) پہننا لازم قرار نہیں دیا گیا تاہم گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کے لیے ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جس میں صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیں۔

    طالبان نے طالبات کو پورے نقاب کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی

    طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

  • 7ستمبر یوم الفتح، یوم تحفظ ختم نبوت  تحریر : احسان اللہ خان

    7ستمبر یوم الفتح، یوم تحفظ ختم نبوت تحریر : احسان اللہ خان

    جب قومی اسمبلی میں فیصلہ ہوا کہ قادیانیت کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنا موقف اور دلائل دینے قومی اسمبلی میں آئیں تو۔۔۔

    مرزا ناصر قادیانی سفید شلوار کرتے میں ملبوس طرے دار پگڑی باندھ کر آیا۔متشرع سفید داڑهی۔قرآن کی آیتیں بهی پڑھ رہے تهے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسم مبارک زبان پر لاتے تو پورے ادب کے ساتھ درودشریف بهی پڑہتے۔ مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسے میں ارکان اسمبلی کہ ذہنوں کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں تها۔ماہ نامہ "الحق اکوڑہ خٹک” کے شمارہ جنوری 1975 کے صفحہ نمبر 41 پر بیان فرماتے ہیں۔۔۔ 

    "یہ مسلہ بہت بڑا اور مشکل تها” 

    اللہ کی شان کہ پورے ایوان کی طرف سے مفتی محمود صاحب کو ایوان کی ترجمانی کا شرف ملا اور مفتی صاحب نے راتوں کو جاگ جاگ کر مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔حوالے نوٹ کیئے۔سوالات ترتیب دیئے۔ اسی کا نتیجہ تها کہ مرزا طاہرقادیانی کے طویل بیان کے بعد جرح کا جب آغاز ہوا تو اسی "الحق رسالے” میں مفتی محمود صاحب فرماتے ہیں کہ 

    "ہمارا کام پہلے ہی دن بن گیا”

    اب سوالات مفتی صاحب کی طرف سے اور جوابات مرزا طاہر قادیانی کی طرف سے آپ کی خدمت میں۔۔۔

    سوال۔مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

    جواب۔وہ امتی نبی تهے۔امتی نبی کا معنی یہ ہے کہ امت محمدیہ کا فرد جو آپ کے کامل اتباع کی وجہ سے نبوت کا مقام حاصل کر لے۔

    سوال۔اس پر وحی آتی تهی؟

    جواب۔آتی تهی۔

    سوال۔ (اس میں) خطا کا کوئی احتمال؟

    جواب۔بالکل نہیں۔

    سوال۔مرزا قادیانی نے لکها ہے جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا” خواہ اس کو میرا نام نہ پہنچا ہو (وہ) کافر ہے۔پکا کافر۔دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس عبارت سے تو ستر کروڑ مسلمان سب کافر ہیں؟

    جواب ۔کافر تو ہیں۔لیکن چهوٹے کافر ہیں”جیسا کہ امام بخاری نے اپنے صحیح میں "کفردون کفر” کی روایت درج کی ہے۔

    سوال۔آگے مرزا نے لکها ہے۔پکا کافر؟

    جواب۔اس کا مطلب ہے اپنے کفر میں پکے ہیں۔

    سوال۔آگے لکها ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔حالانکہ چهوٹا کفر ملت سے خارج ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے؟

    جواب۔دراصل دائرہ اسلام کے کئیں کٹیگیریاں ہیں۔اگر بعض سے نکلا ہے تو بعض سے نہیں نکلا ہے۔

    سوال ایک جگہ اس نے لکها ہے کہ جہنمی بهی ہیں؟

    (یہاں مفتی صاحب فرماتے ہیں جب قوی اسمبلی کے ممبران نے جب یہ سنا تو سب کے کان کهڑے ہوگئے کہ اچها ہم جہنمی ہیں اس سے ممبروں کو دهچکا لگا)

    اسی موقع پر دوسرا سوال کیا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا ہے جو امتی نبی ہو؟ کیا صدیق اکبر ؓ یا حضرت عمر فاروق ؓ امتی نبی تهے؟

    جواب۔ نہیں تھے۔

    اس جواب پر مفتی صاحب نے کہا پهرتو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد آپ کا ہمارا عقیدہ ایک ہوگیا۔بس فرق یہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہیں۔تم مرزا غلام قادیانی کے بعد نبوت ختم سمجهتے ہو۔تو گویا تمہارا خاتم النبیین مرزا غلام قادیانی ہے۔اور ہمارے خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

    جواب۔وہ فنا فی الرسول تهے۔یہ ان کا اپنا کمال تها۔وہ عین محمد ہوگئے تهے (معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی تهی )

    سوال۔مرزا غلام قادیانی نے اپنے کتابوں کے بارے میں لکها ہے۔اسے ہر مسلم محبت و مودت کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے۔اور ان کے معارف سے نفع اٹهاتا ہے۔ مجهے قبول کرتا ہے۔اور(میرے) دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔مگر (ذزیتہ البغایا ) بدکار عورتوں کی اولاد وہ لوگ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا رکهی ہے۔وہ مجهے قبول نہیں کرتے۔؟

    جواب۔بغایا کہ معنی سرکشوں کے ہیں۔

    سوال۔بغایا کا لفظ قرآن پاک میں آیا ہے” و ما کانت امک بغیا” سورہ مریم ) ترجمہ ہے تیری ماں بدکارہ نہ تهی”

    جواب۔قرآن میں بغیا ہے۔بغایا نہیں۔

    اس جواب پر مفتی صاحب نے فرمایا کہ صرف مفرد اور جمع کا فرق ہے۔نیز جامع ترمذی شریف میں اس مفہوم میں لفظ بغایا بهی مذکور ہے یعنی "البغایا للاتی ینکحن انفسهن بغیر بینه” )پھر جوش سےکہا) میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس لفظ بغیه کا استعمال اس معنی (بدکارہ) کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں ہر گز نہیں کر کے دکها سکتے۔!!!

    (اور مرزا طاہر لاجواب ہوا یہاں )

    13 دن کے سوال جواب کے بعد جب فیصلہ کی گهڑی آئی تو 22 اگست1974 کو اپوزیشن کی طرف سے 6 افراد پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔جن میں مفتی محمود صاحب، مولانا شاہ احمدنورانی صاحب، پروفیسر غفور احمد صاحب، چودہری ظہور الہی صاحب، مسٹر غلام فاروق صاحب”سردار مولا بخش سومرو صاحب اور حکومت کی طرف سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تهے۔ان کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ یہ آئینی و قانون طور پر اس کا حل نکالیں۔تاکہ آئین پاکستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے کفر کو درج کردیا جائے۔لیکن اس موقع پر ایک اور مناظرہ منتظر تها۔۔۔

    کفرِ قادیانیت و لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح تیرہ روز تک جاری رہی۔گیارہ دن ربوہ گروپ پر اور دو دن لاہوری گروپ پر۔ہرروز آٹھ گھنٹے جرح ہوئی۔اس طویل جرح و تنقید نے قادیانیت کے بھیانک چہرے کو بےنقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ایک اور مناظرہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت سے شروع ہوا کہ آئین پاکستان میں اس مقدمہ کا "حاصل مغز "کیسے لکھا جائے۔؟

    مسلسل بحث مباحثہ کے بعد۔۔۔

    22 اگست سے 5 ستمبر 1974 کی شام تک اس کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے۔مگر متفقہ حل کی صورت گری ممکن نہ ہوسکی۔سب سے زیادہ جهگڑا دفعہ 106 میں ترمیم کے مسلے پر ہوا۔حکومت چاہتی تھی اس میں ترمیم نہ ہو۔اس دفعہ 106 کے تحت صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی تهی۔ ایک بلوچستان میں۔ایک سرحد میں۔ایک دو سندھ میں اور پنجاب میں تین سیٹیں اور کچھ 6 اقلیتوں کے نام بهی لکهے ہیں۔عیسائی۔ہندو پارسی۔بدھ اور شیڈول کاسٹ یعنی اچهوت۔

    مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان یہ چاہتے تهے کہ ان 6 کی قطار میں قادیانیوں کو بهی شامل کیا جائے۔تاکہ کوئی "شبہ” باقی نہ رہے۔

    اس کے لیے بهٹو حکومت تیار نہ تهی۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا اس بات کو رہنے دو۔

    مفتی محمود صاحب نے کہا جب اور اقلیتوں اور فرقوں کے نام فہرست میں شامل ہیں تو ان کا نام بهی لکھ دیں۔

    پیرزادہ نے جواب دیا کہ ان اقلیتوں کا خود کا مطالبہ تها کہ ہمارا نام لکھا جائے۔ جب کہ مرزائیوں کی یہ ڈیمانڈ نہیں ہے۔

    مفتی صاحب نے کہا کہ یہ تو تمہاری تنگ نظری اور ہماری فراخ دلی کا ثبوت ہے کہ ہم ان مرزائیوں کو بغیر ان کی ڈیمانڈ کے انہیں دے رہے ہیں (کمال کا جواب )

    اس بحث مباحثہ کا 5 ستمبر کی شام تک کمیٹی کوئی فیصلہ ہی نہ کرسکی۔چنانچہ 6 ستمبر کو وزیراعظم بهٹو نے مفتی محمود سمیت پوری کمیٹی کے ارکان کو پرائم منسٹر ہاوس بلایا۔لیکن یہاں بهی بحث و مباحثہ کا نتیجہ صفر نکلا۔حکومت کی کوشش تهی کہ دفعہ 106 میں ترمیم کا مسلہ رہنے دیا جائے۔

    جب کہ مفتی محمود صاحب اور دیگر کمیٹی کے ارکان سمجهتے تهے کہ اس کے بغیر حل ادهورا رہے گا۔

    بڑے بحث و مباحثہ کے بعد بهٹو صاحب نے کہا کہ میں سوچوں گا۔

    عصر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے مفتی صاحب اور دیگر کمیٹی ارکان کو اسپیکر کے کمرے میں بلایا۔ مفتی محمود صاحب اور کمیٹی نے وہاں بهی اپنے اسی موقف کو دهرایا کہ دفعہ 106 میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مرزائیوں کا نام لکها اور اس کی تصریح کی جائے۔

    اور بریکٹ میں قادیانی اور لاہوری گروپ لکها جائے۔

    پیرزادہ صاحب نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مرزائی نہیں کہتے، احمدی کہتے ہیں۔

    مفتی محمود صاحب نے کہا کہ احمدی تو ہم ہیں۔ہم ان کو احمدی تسلیم نہیں کرتے۔پهر کہا کہ چلو مرزا غلام احمد کے پیرو کار لکھ دو۔

    وزیرقانون نے نکتہ اٹهایا کہ آئین میں کسی شخص کا نام نہیں ہوتا (حالانکہ محمد علی جناح کا نام آئین میں موجود ہے ) اور پهر سوچ کر بولے کہ مفتی صاحب مرزا کا نام ڈال کر کیوں آئین کو پلید کرتے ہو؟۔وزیر قانون کا خیال تها شاید مفتی محمود صاحب اس حیلے سے ٹل جائیں گے۔ (لیکن مفتی تو پهر مفتی صاحب تهے )

    مفتی صاحب نے جواب دیا کہ شیطان۔ابلیس۔خنزیر اور فرعون کے نام تو قرآن پاک میں موجود ہیں۔کیا ان ناموں سے نعوذ باللہ قرآن پاک کی صداقت و تقدس پر کوئی اثر پڑا ہے۔؟ 

    اس موقع پر وزیر قانون پیرزادہ صاحب لاجواب ہو کر کہنے لگے۔

    چلو ایسا لکھ دو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں۔

    مفتی صاحب نے کہا بریکٹ بند ثانوی درجہ کی حیثیت رکهتا ہے۔صرف وضاحت کے لیے ہوتا ہے۔لہذا یوں لکھ دو قادیانی گروپ۔لاہوری گروپ جو اپنے کو احمدی کہلاتے ہیں۔اور پهر الحمدللہ اس پر فیصلہ ہوگیا۔

    تاریخی فیصلہ۔۔۔

    7 ستمبر 1974 ہمارے ملک پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا وہ یادگار دن تها جب 1953 اور 74 کے شہیدانِ ختم نبوت کا خون رنگ لایا۔اور ہماری قومی اسمبلی نے ملی امنگوں کی ترجمانی کی اور عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔

    دستور کی دفعہ 260 میں اس تاریخی شق کا اضافہ یوں ہوا ہے۔

    "جو شخص خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت پر مکمل اور غیرمشروط ایمان نہ رکهتا ہو۔اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی بهی معنی و مطلب یا کسی بهی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو۔وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔

    اور دفعہ 106 کی نئی شکل کچھ یوں بنی۔۔۔۔۔

    بلوچستان پنجاب سرحد اور سندھ کے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں ایسے افراد کے لیے مخصوص نشستیں ہوں گی جو عیسائی۔ہندو سکھ۔بدھ اور پارسی فرقوں اور قادیانیوں گروہ یا لاہوری افراد( جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) یا شیڈول کاسٹس سے تعلق رکهتے ہیں۔ (ان کی) بلوچستان میں ایک۔سرحد میں ایک۔پنجاب میں تین۔اور سندھ میں دو سیٹیں ہوں گی، یہ بات اسمبلی کے ریکارڈ پر ہے۔کہ اس ترمیم کے حق میں 130 ووٹ آئے اور مخالفت میں ایک بهی ووٹ نہیں آیا ۔( آجاتا اگر غامدی صاحب اس وقت موجود ہوتے ) اس موقع پر اس مقدمہ کے قائد مفتی محمود رحمہ اللہ نے فرمایا۔۔۔۔

    اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔میرے خیال میں مرزائیوں کو بهی اس فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیئے۔کیونکہ اب انہیں غیر مسلم کے جائز حقوق ملیں گے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • نکاح کی اہمیت/ نسل انسانیت کی بقا۔  تحریر:- تیمور خان

    نکاح کی اہمیت/ نسل انسانیت کی بقا۔ تحریر:- تیمور خان

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے جس میں انسانی زندگی کے کسی گوشے کو نامکمل اور ادھورا نہیں چھوڑا گیا انسان کی فطرت اور اس کے تبیعت کے جتنے بھی تقاضے ہیں ان تمام کو بخوبی سر انجام دینے کے لئے اسلام نے زندگی کے ہر موڑ پر اپنے ماننے والوں کو مکمل اصول اور ضوابط عطا فرمائے ہیں یہاں تک کہ انسان کی نجی زندگی ہو یا اس کی معاشی اور اجتماعی زندگی ہو زندگی کہ ہر موڑ پر اسلام نے رہنما اصولوں کے ذریعے مسلمانوں کو نجات اور کامیابی کا راستہ بتایا ہے انسان کی جو فطری ضرورتیں ہیں جو انسان کے ساتھ پیدا کی گئیں ہیں۔ ان فطری ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت انسان کا کسی عورت کے ساتھ نکاح کا اور شادی کرنا بھی ہے شادی کرنا اور نکاح کرنا انسان کی بنیادی ضرورت ہے جہاں ایک مرد اور عورت کی فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بقائے نسل انسانی کے لئے توال اور تناسل کا ایک بہت بڑا زریعہ بھی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دنیا میں سب سے پہلے اس دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام کو بشر اور انسان بنا کہ پیدا فرمایا ادم علیہ السلام سے آج تک جتنے انسان آیے ہیں یہ سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کہلاتے ہیں لیکن یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنی قدرت سے پیدا فرمایا بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا لیکن حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا فرمانے کے بعد اللہ نے یہ اصول بنایا ایک قاعدہ اور ضابطہ بنا دیا کہ ادم علیہ السلام کے بعد جو انسان بھی اس دنیا میں آئے گا اس کے لئے ایک مرد اور ایک عورت کی ضرورت ہو گی اگر اللہ تبارک وتعالیٰ چاہیے تو بغیر کسی مرد اور عورت کی بھی کسی انسان کو پیدا کر دے جتنے انسانوں کا قیامت تک اس دنیا میں آنا ہیں تو اللہ تعالیٰ کا لفظ کن کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کن فیکون تو وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ اصول اور ضوابط جو پیدا فرمائے ہیں اور ہمیں ان اصولوں کے مطابق چلنے کا کہا ہے یاد رکھیں ان اصولوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے بقا کے لئے شادی کو نکاح کو ایک اہم جز  انسانی زندگی کا قرار دیا ہے۔

    اسی لئے آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جب پیدا فرمایا، تو آپ جنت میں رہتے تھے جنت میں ٹہلتے تھے، لیکن چونکہ دوسرا کوئی انسان اس وقت نہیں تھا اس دنیا میں اس کائنات میں ایک ہی انسان تھے اس لئے ان کے فرشتے بھی ہوا کرتے ان کے ساتھ جننات بھی ہوا کرتے اللہ تبارک وتعالیٰ کی مختلف نعمتیں ان کی ارد گرد ہوتی لیکن ان کو انسیت حاصل نہ ہوتی، کہ ہر ایک شے اپنی جنس انس اور  محبت حاصل کرتی  ہے، ایک انسان کو آپ دنیا کی ساری نعمتیں دے دیں لیکن اگر اس کے پاس کوئی انسان نہ ہو تو اس کی زندگی خوشحال نہیں ہو گی وہ چاہے گا کہ میرے ساتھ میری ہی جنس کا کوئی انسان ہو تاکہ اس کے ساتھ میں اپنی زندگی کی شب و روز بسر کر سکوں۔

    آدم علیہ السلام فطرتی انسانی کے مطابق ان کو جب انسیت جنت میں نہ ملی، ایک دن اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جب آدم علیہ السلام آرام فرما رہے تھے جب آپ بیدار ہوئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کے سوتے ہوئے آپ کے بائیں پسلی سے اماں حوا کو پیدا فرمایا، جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے قریب ایک عورت بیٹھی ہوئی ہے تو آپ کو بہت خوشی ہوئی اور جونہی آپ نے ہاتھ بڑھانا چاہا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آواز دی  اے آدم اس انسان کو جو تیری ہی جنس سے پیدا کی گئی ہے تیری ہی پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اس انسان ہو عورت کہتے ہیں یہ تمہاری انسیت کی کمی کو پورا کرے گی تمہاری فطری ضرورتوں کو پورا کرے گی لیکن اس کو ہاتھ لگانے کے آپ کو مہر دینا پڑے گا، تمہارا نکاح ہوگا ادم علیہ السلام نے پوچھا اے اللہ اس کا مہر کیا ہوگا یہ کیوں کر میرے لئے حلال ہوگی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا تم ایک مرتبہ نبی آخر الزمان جو تیری ہی اولاد سے پیدا ہوگا سب سے آخری نبی ہوگا، تم ایک مرتبہ ان پہ درود پڑھو یہی تمہارے اور اماں حوا کا حق مہر ہوگا، تو سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں ایک مرتبہ درود یہی حق مہر تھا  اور اس کے بعد حضرت آدم اور اماں حوا جنت میں پھرتے تھے، پھر جب اللہ نے آدم اور حوا کو دنیا میں بھیجا دنیا میں آنے کے بعد جب ان کا آپس میں ملاپ ہوا اور نسل انسانی کی ابتداء ہوئی تو آج تک دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں یہ سب اسی نکاح کا نتیجہ ہے۔

    تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نکاح ایسی چیز ہے جو انسان کی جہاں فطری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے وہاں  نسل انسانی کی بقاء اور اس میں پروان چڑھانے کے لئے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے نکاح کو بہت بڑا زریعہ قرار دیا گیا ہے، اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ اللہ کی نشانیوں اور نعمتوں میں سے اللہ کی ایک نعمت یہ بھی ہے کہ اللہ نے تمہاری جنس سے ہی جوڑے پیدا فرمائے، مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد کو پیدا فرمایا مرد اور عورت کے جوڑے کے ملاپ کو اس کا فائدہ اللہ نے فرمایا اسی لئے کے تم ایک دوسرے سے سکون حاصل کرو اور پھر انسانی جوڑے کے درمیان اللہ نے محبت کو پیدا فرمایا دلی محبت کو اللہ نے پیدا فرمایا، لیکن اس کے برعکس اگر ہم دیکھیں کہ آج دنیا کتنی ہی پرفتن ہو چکی ہے طلاق کی شرح بہت حد تک بڑھ چکی ہے ایک دوسرے سے جدائی اور خلاء کی شرح بہت حد تک بڑھ چکی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی میاں بیوی کی محبت کا جو رشتہ ہے وہ آج بھی قائم ہے اس لئے یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا قانون ہے اور انسان کی فطرت اور تبیعت کے عین مطابق ہے۔

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے یہی ارشاد فرمایا اے نوجوان، اپنے امت کے نوجوانوں سے خطاب کیا تم میں سے جو بھی شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہے تو وہ فوراً نکاح کرے حضور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا یہ انسان کے شرم گاہ کو محفوظ کر لیتا ہے اور انسان کی آنکھوں کو نیچے کر لیتا ہے یہ آنکھوں میں نظروں میں حیا پیدا کر دیتا ہے یہی وجہ ہے قرآن مجید فرقان حمید میں زنا کی جو سزا بیان کی گئی ہے اگر العیاذ باللہ غیر شادی شدہ جوڑا زنا کرتا ہے تو ان کے لئے سو کوڑے ہے، اگر شادی شدہ جوڑا زنا کرتا ہے یا ان میں سے یا زانی اور مزنیا میں کوئی ایک شادی شدہ ہے تو پھر ان کو سنگسار کرنے کا حکم دیا گیاہے اب زنا ہوا کیوں کیونکہ اس مرد کی جو حواہشات ہے وہ پوری نہیں ہوئی۔

    اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا زنا کا درواز بند کرنے کے لئے جب تم میں سے کسی کی اولاد بالغ ہو جائے اور نکاح کے قابل ہو جائے تو پھر تم ایسا رشتہ دیکھو کہ جس کے دین اور اخلاقی سے تم رازی ہو مرد اور عورت کے لئے ایسا رشتہ ایے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ یہ لڑکا میری بیٹی کے لئے دین دار ہے تو آپ نے فرمایا پھر سوچ سے کام نہ لو فوراً ان کا نکاح کرو اور اگر تم ان سب کے باوجود بھی نکاح نہیں کرو گے تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا پھر زمین میں فساد پیدا ہو جائے گا۔ اور وہ فساد یہی ہے کہ نہ عورت کی عزت محفوظ رہے گی اور نہ مرد کی پاک دامنی محفوظ رہے گی اسی لئے چند مواقعے میں آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو بھی جس چیز کے قابل ہو جاؤ تو فوراً ہی کر لیا کرو ان میں سے ایک نکاح کا حکم بھی ہے۔ 

    اور پھر آج کے اس زمانے میں آج کے اس فحاشی اور عریانی کے ماحول میں کہ جہاں کوئی تمیز لڑکوں اور لڑکیوں کی نہیں ہے جہاں کوئی تمیز حیا اور بے حیائ کی نہیں ہے جہاں حیاء کا جنازہ ہمارے معاشرے سے بلکل اٹھ چکا ہے، ایسے حالات میں نکاح کرنا نہایت ہی اہم ہے، یاد رکھیں ہم کہتے ہیں نکاح کرنا سنت ہے شادی کرنا سنت ہے، یاد رکھیں ہر کسی کے لئے سنت نہیں ہے جو ایسا شخص ہے مرد ہے یا عورت اگر اس کی شادی فوراً نہیں کی جائے تو وہ گناہ میں مبتلا ہوگا اس کی آنکھیں جسم گناہ میں مبتلا ہوگا تو پھر اس کے لئے نکاح سنت نہیں فرض عین ہے اور آج کل کے جو نوجوان ہیں ان کے لئے محقیقین نے نکاح کرنا فرض عین قرار دیا، اسی لئے فحاشی کا اور عریانی کا دور ہے تو اسی لئے محقیقین نے نکاح کو فرض عین قرار دیا اس لئے نکاح کرنا یاد رکھیں یہ ہمارے معاشرے ہماری تبیعتوں ہمارے گھرانے اور ہمارے خاندانوں کے لئے پاک دامنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے، اور اگر ایک شخص کہ پاس کوئی وسائل  نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو دو وقت کی روٹی کھلا سکے اور نکاح کے طاقت نہ رکھ سکے تو پھر سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص روزے رکھے کیونکہ روزے اس کے شہوانی خواہشات کو ختم کر دے گی، تو یاد رکھیں دنیا کے تمام معاشروں میں کسی نہ کسی طریقے سے نکاح کو حلال قرار دیا گیا ہے، تو اس لئے حیا کو پیدا کرنے کے لئے اپنے معاشرے کو باحیا بنانے کے لئے ہمیں اپنی آنکھوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اپنی قردار کی بھی حفاظت کرنی ہے اور ایک ایسا ماحول بنانا ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے آج کے نوجوان حیاناک بن سکے، پس اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

    @ImTaimurKhan

  • سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    سگریٹ نوشی ہر شکل میں تباہ کن تحریر: زبیر احمد

    آج کل سب سے عام پریشانیوں میں سے ایک پریشانی جو ساری دنیا میں لوگوں کو مار رہی ہے وہ سگریٹ نوشی ہے۔ بہت سے لوگ ٹینشن، ذاتی مسائل اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کردیتے ہیں. کچھ لوگ نمائش کے طور پہ بھی شروع کرتے ہیں یا کچھ لوگ لطف اٹھانے کے لئے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔آج گھر گھر کو اس بری عادت نے گھیر رکھا ہے بڑے امیروں اور رئیسوں کے گھروں میں تمباکو نوشی ایک قسم کی تفریح اور تواضع کا سامان سمجھا جاتا ہے۔

     ایک انسان سے دوسرے کو سگریٹ نوشی کی لت پڑ سکتی ہے جب کوئی سگریٹ نوشی کرتا ہے نہ صرف خود کو بلکہ اردگرد کے افراد کو بھی متاثر کررہا ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی انسان کے جسم کو بہت خطرناک قسم کی بیماریاں دیتی ہے۔ تقریبا ہر کوئی جانتا ہے کہ تمباکو نوشی کینسر اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے اس کا استعمال کرنے سے انسان کی زندگی تقریبا دس سال کم ہوجاتی ہے جبکہ اس گندی عادت کی وجہ سے سال میں ہزاروں سگریٹ پھونک دئے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ نوعمر افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں نکوٹین وقتی طور پہ انسان کو سکون پہنچاتی ہے جس سے انسان اس موذی عادت کی لت کا شکار ہوجاتا ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک سست موت کی مانند ہے۔ سگریٹ میں کیا ہے جو ہر روز لاکھوں افراد ہر دن اس کو پھونک رہے ہوتے ہیں سگریٹ میں 4000 سے زیادہ زہریلے مادے ہیں۔ماہرین کے مطابق جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو وہ خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن اس کے آس پاس لوگ خاص طور پہ بچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا میں یومیہ اٹھارہ ارب سگریٹ فروخت ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایک ارب 60 کروڑ 70 لاکھ سگریٹ فروخت ہوتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں منہ اور گلے کے کینسر کا بہت اضافہ ہوا ہے دنیا میں سگریٹ نوشی کے باعث سالانہ 80 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

    برطانوی سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق روز کا ایک سگریٹ بھی تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں دل کے دورے کا امکان 50 فیصد اور سٹروک کا 30 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہی کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں ایک ارب افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 33 فیصد مرد اور 9 فیصد خواتین ہیں سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

    سگریٹ بنانے والی کمپنیاں نت نئی مصنوعات متعارف کرائی رہتی ہیں، ہر دور میں سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے ایسی مصنوعات تیار کرکے دعوی کیا جاتا رہا کہ اس سے نقصانات کم ہوتے ہیں، حالانکہ ان کا مقصد لوگوں کو تمباکو کا عادی کرنا ہوتا ہے دوسری جانب e-cigarette وائپ بھی سالوں سے مارکیٹ میں موجود ہیں اور نوجوانوں میں مقبول ہے ۔ الیکٹرانک سگریٹ اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات ایک بڑی انڈسٹری بنتی جارہی ہیں لیکن پیکنگ چاہے جیسی بھی ہو لیکن یہ چھپانا آسان نہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔

    سگریٹ نوشی ایک ایسی عادت ہے جس سے لوگ چھوڑنا بھی مشکل محسوس کرتے ہیں بہت سے لوگ ذہنی دباؤ اور تناو میں سگریٹ پیتے ہیں لیکن ان کو جان لینا چاہیے کہ تمباکو نوشی آپکو اندر سے مار ڈالتی ہے وہ تمباکو نوشی نہیں کررہے بلکہ اپنے لیے مضر بیماریاں خرید رہے ہیں۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات کی پوری دنیا جانتی ہے اس کے باوجود لوگ اس عادت بد کو ترک کرنے پر تیار نہیں ہوتے،حکومتوں نے بھاری ٹیکس عائد کیے لیکن ‘چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی’ صدیوں سے اس کی مقبولیت برقرار ہے۔ ہر سال دنیا میں 60 کھرب سگریٹ تیار ہوتے ہیں۔ البتہ حکومتیں اس کے خلاف بھرپور سنجیدہ مہم نہیں چلاتیں اور نہ ہی حکومتوں کی جانب سے تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کو اربوں کے محصولات حاصل ہوتے ہیں۔

    tweets @KharnalZ

  •  کامِل یَقِین تحریر: محمد اسعد لعل

     کامِل یَقِین تحریر: محمد اسعد لعل

    علاقے میں قحط سالی تھی اور جانور سب کچھ کھا کر فارغ ہو گئے تھے مزید کچھ کھانے کو رہا نہیں تھا ،مویشی مالکان نہایت پریشان تھے، اس دوران مولوی اللہ وسایا نے جمعہ کے خطبے میں یقین کے ساتھ یہ بات بتائی کہ اگر اللہ کا نام لے کر یعنی بسم اللہ پڑھ کر دریا کو حکم دیا جائے تو وہ بھی لاج رکھ لیتا ہے، وہیں خطبے  میں ایک بکروال  مولوی اللہ وسایا کی باتیں بڑے غور سے سن رہا  تھا ، مولوی صاحب کی بات اس کے دل میں گھر کر گئی، اس نے واپس آ کر اپنی بکریاں کھولیں اور سیدھا دریا کی طرف چل پڑا،

    بکروال نے دریا کے پاس پہنچ کر اونچی آواز میں اللہ کا نام لیا اور بکریوں کو دریا کی طرف ہانک دیا۔بکروال اور اس کی بکریاں خیرو عافیت سے دریا کے اس پار پہنچ گئے۔چنانچہ دریا کے پار اب تک کوئی نہیں جا سکا تھا تو اس لیے وہاں  ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا۔ بکروال بہت خوش تھا کیوں کہ اس کی بہت بڑی پریشانی دور ہو گئی تھی۔ ، اب تو یہ اس کا معمول بن گیا کہ وہ بکریاں پار چھوڑ کر خود واپس آ جاتا اور شام کو جا کر واپس لے آتا،۔

    اس کی بکریوں کا وزن دگنا چوگنا ہو گیا تو لوگ چونکے اوراس سے پوچھا کہ وہ اپنی بکریوں کو کیا کھلاتا ہے، وہ سیدھا سادہ صاف دل انسان تھا، صاف صاف بات بتا دی کہ جناب ہم تو دریا پار اپنی بکریاں چرانے جاتے ہیں، یہ بات پورے علاقے میں پھیل گئی۔جب  بات مولوی اللہ وسایا تک پہنچی تو وہ اس بکروال کے پاس آیا اور اس سے قصہ کی حقیقت کے بارے میں پوچھا جو وہ گاؤں والوں سے سن کر آیا تھا۔

    بکروال نے مولوی صاحب سے کہا کہ یہ سب آپ کی وجہ سے ممکن ہو پایا ہے ، میں آپ کا شکر ادا کرنے کے لیے آنے ہی والا تھا کہ آپ نے جو جمعہ کے خطبے میں بتایا تھا میں نے وہی کیا اور اللہ کا نام لے کے بکریوں کے ساتھ دریا پار کر گیا۔مولوی اللہ وسایا حیران ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے اور ایسی باتیں تو وہ ہر جمعے لوگوں کا ایمان مضبوط کرنے کے لیے کرتا ہے۔

    مولوی اللہ وسایا کو بکروال کی بات پر یقین نہ آیا  اس لیے کل صبح اس نے خود تجربہ کرنے کا سوچا۔ صبح علاقے کے لوگ اور بکروال بھی دریا کے پاس پہنچ گئے۔ایک  دو دفعہ اللہ وسایا نےدل ہی دل میں تجربہ نہ کرنے کا سوچا پر اب پورا  گاؤں مولوی صاحب کا کرشمہ دیکھنے کو پہنچ چکے تھے  اس لیے مولونااللہ وسایا کے لیے پیچھے ہٹ جانا ممکن نہ تھا۔علاقے کے لوگ مولانا اللہ وسایا کے حق میں تعریفی موشگافیاں کر رہے تھے۔

    آخر کار مولوی صاحب نے رسہ منگوایا اور اُس رسے سے خود کو درخت سے باندھ لیااور پھر ڈرتے ڈرتے ڈھیلا ڈھالا سا بسم اللہ پڑھا اور دریا پر چلنا شروع ہو گئے، مولانا کا پہلا قدم ہی دریا کے پانی کے اندر چلا گیا،مولوی اللہ وسایا لڑکھڑانے لگا اور وہ ہڑبڑاہٹ میں یہ بھی بھول گیا کہ اس نے خود کی حفاظت کے لیے رسہ باندھ رکھا ہے۔بہہ جانے کے خوف کی وجہ سے مولوی اللہ وسایا اپنے  حواس میں نہ رہا ، اور علاقے کے لوگوں نے رسہ کھینچ کر مولاناصاحب کو دریا سے باہر نکال لیا۔

    یہ منظر دیکھ کر بکروال حیران تھا ،لہٰذا اس کے اپنے یقین پر اس منظر کا کوئی اثر  نہ پڑا، کیونکہ اس کا اللہ پر یقین کامل تھا۔ اس نے بسم اللہ کہہ کر بکریوں کو پانی کی طرف اشارہ کیا اور دریا پار کر گیا، لوگ اسے ولی اللہ سمجھ رہے تھے اور اس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ مگر وہ سیدھا مولوی اللہ وسایا کے پاس آیا اور کہا کہ مولوی صاحب مجھے آپ کی بسم اللہ کی بیماری کا پتہ چل گیا،

    بکروال نے کہا کہ مولوی صاحب یہ جو رسہ آپ کی کمر کے ساتھ بندھا ہوا ہے یہ آپ کی بسم اللہ کی بیماری ہے، آپ کو اللہ  کے نام سے زیادہ اس رسے پر یقین تھا ، میرے اللہ نے میرے یقین کی لاج رکھ لی مگر آپ نے بسم اللہ پر یقین نہیں کیا اس لیےاللہ نے آپ کو رسوا کر دیا۔ یہی کچھ حال ہمارا بھی ہے، ہر ایک نماز ،ہر ایک دعا یقین سے خالی ہے۔

    اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں صرف اللہ پر توکل اور یقین بنائے رکھنا چاہیے۔اگر اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسہ کیا تو سوائے رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اپنے ایمان کی پختگی کے لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔اللہ نگہبان
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • سابق امریکی صدر ٹرمپ باکسنگ میچ کی میزبانی کریں گے

    سابق امریکی صدر ٹرمپ باکسنگ میچ کی میزبانی کریں گے

    انتخابات میں ہارنے کے بعد سابق امریکی صدر باکسنگ میچ کی میزبانی کریں گے-

    باغی ٹی وی : "سکائے نیوز” کے مطابق 9/11 حملوں کی 20 ویں برسی پر 11 ستمبر کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئرباکسنگ کمنٹری کی میزبانی کریں گے –

    امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 11 ستمبر کو فلوریڈا میں ہولی فیلڈ بمقابلہ بیلفورٹ باکسنگ میچ کی میزبانی کریں گےسابق سینئر باکسنگ پروموٹر ٹرمپ سینئر نے کہا کہ میں عظیم جنگجوؤں اور عظیم لڑائیوں سے محبت کرتا ہوں اور وہ ہفتے کی رات لڑائی دیکھنے اور اپنے خیالات شئیر کرنے کے منتظر ہیں۔

    سابق صدر کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بھی ایونٹ کا حصہ بنیں گے، باکسنگ میچ سال کی سب سے بڑی ہیوی ویٹ فائٹ قرار دی جارہی ہے میچ ہفتہ کو سیمینول ہارڈ راک کیسینو میں ہوگا، ٹرمپ اس سے قبل یو ایف سی کے لیے دیگر لائیو فائٹنگ ایونٹس کی میزبانی کرچکے ہیں۔

    سابق امریکی صدر اس وقت فلوریڈا میں موجود ہیں ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے فائٹرز کو پسند کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے مداحوں سے کہا کہ وہ اس دلچسپ مقابلے میں ان کا انتظار کریں اور وہ اسے مس نہیں کر سکتے۔

  • بابر اعظم کو یہ سیکھنا پڑے گا کہ دوستی یاری کواہمیت نا دیں    وسیم اختر

    بابر اعظم کو یہ سیکھنا پڑے گا کہ دوستی یاری کواہمیت نا دیں وسیم اختر

    قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم اچھی ہے، مگر بابر اعظم کو یہ سیکھنا پڑے گا کہ دوستی یاری کواہمیت نا دیں اگر کوئی ایوریج ممبر ہے اور کپتان کو لگتا ہے کہ وہ جتا سکتا ہے تو اسے موقع دینا چاہیے۔


    باغی ٹی وی : نجی چینل کے پروگرام میں وسیم بادامی کو انٹرویو دیتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد دو مزید ورلڈ کپ بھی آرہے ہیں، ہمارے ملک میں کھلاڑیوں پر عجب تنقید کی جاتی ہے، لڑکے سلیکٹ کرلیے گئے اب ان کو سپورٹ کرنا چاہیے۔


    انہوں نے کہا کہ لوگوں کے کہنے پر ٹیم کا انتخاب نہیں کرسکتے، سرفراز 2 سال سے ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن اچھا نہیں کھیل رہے ان کے مقابلے میں رضوان کی پرفارمنس اچھی ہے۔


    سابق کپتان نے کہا کہ شعیب ملک کا بہترین کرکٹ مائنڈ ہے لیکن ہر چیز کا وقت ہوتا ہے، مڈل آرڈر ہمارا مسئلہ تھا ہمارے پاس پاور ہٹر نہیں تھا، اعظم خان اور آصف علی پاور ہٹر کی صورت میں ٹیم میں موجود ہیں۔


    وسیم اکرم نے کہا کہ انہیں بہت لوگ یہ کہتے ہیں آپ کوچ کیوں نہیں بنتے، چھوٹے چھوٹے بچے ہمارے کوچز کو ایڈوائس دے رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی بھی ایسا بندہ موجود نہیں جو اچھی کوچنگ کر سکے۔


    انہوں نے کہا کہ جاوید میاں داد کا موجودہ کرکٹ سے کوئی ڈائریکٹ واسطہ نہیں اس لیے وہ بطور ٹیم کنسلٹنٹ یا ڈائیریکٹر پی سی بی آسکتے ہیں، تاہم بطور کوچ ایسا کرکٹر چاہیے جو دس سال سے کرکٹ سے جڑا ہو۔
    https://twitter.com/newspakistan_/status/1435350102529433601?s=20
    معین خان کے بیٹے اعظم خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ اس پر اتنی تنقید کی جاتی ہے وزن کا مزاق اڑایا جاتا ہے، وہ 22 سال کا لڑکا ہے، قرنطینہ میں اس کی اننگز دیکھی ہیں اس کو چانس دینا تو بنتا ہے۔

  • نیوزی لینڈ سیریز کے لئے ثقلین مشتاق ہیڈ کوچ،عبدالرزاق اسسٹنٹ کوچ مقرر

    نیوزی لینڈ سیریز کے لئے ثقلین مشتاق ہیڈ کوچ،عبدالرزاق اسسٹنٹ کوچ مقرر

    نیوزی لینڈ سیریز کے لئے قومی کرکٹ ٹیم کے اسپورٹ اسٹاف کا اعلان کردیا گیا جس کے مطابق منصور رانا ٹیم منیجر، ثقلین مشتاق ہیڈ کوچ اور شاہد اسلم اسسٹنٹ ٹو ہیڈ کوچ مقرر کیے گئے۔ عبدالرزاق اسسٹنٹ کوچ، عبدالمجید فیلڈنگ کوچ اور کلف ڈیکن فزیوتھراپسٹ مقرر کر دیے گئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈرائکس سائمن اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ، طلحہ اعجاز ٹیم اینالسٹ ہوں گے کرنل عمران ڈار سیکورٹی منیجر، ابراہیم بادیس ٹیم میڈیا منیجر اور ملنگ علی مساجر کی ذمہ داریاں ادا کریں گےعبدالرزاق کی جگہ اکرم رضا سینٹرل پنجاب کے کوچنگ اسٹاف کی سربراہی کریں گے۔

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کی راولپنڈی میں ٹریننگ، میڈیا کانفرنسز کی تفصیلات

    اس سے قبل ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم کا اعلان کیا گیا تھا یہی ٹیم نیوزی لینڈ سیریز میں بھی شرکت کرے گی۔

    اسکواڈ میں کپتان بابراعظم، نائب کپتان شاداب خان اور آصف علی شامل ہیں۔اعظم خان، حارث رؤف، حسن علی، عماد وسیم، خوشدل شاہ اور محمد حفیظ بھی ٹیم کا حصہ ہیں ۔محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر، شاہین شاہ آفریدی اور صہیب مقصود بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

    مصباح الحق اور وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار

    ریزرو کھلاڑیوں میں فخر زمان، شاہنواز دھانی اور عثمان قادر کو رکھا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے 11 ستمبر کو پاکستان پہنچنا ہے، دونوں ٹیموں کے درمیان 3 ون ڈے اور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلی جائیں گی اس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پاکستان آئے گی اور 13 اور 14 اکتوبر کو راولپنڈی میں دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔